﻿



خواب کنارے





ڈاکٹر راشد فضلی





نعت

اے رسولِ خدا
وصفِ انساں کی تو، ایسی معراج ہے
جس میں کونین کی نعمتیں بھی سمٹ کر
تیری پلکوں کے نیچے ہیں سایہ فگن
تو نبی آخری، ساری ارض و سماوات کا
تو شہادت خدا کے ان اوصاف کی
جس کو انساں کی تخیل چھوتے ہوئے
مدتوں اپنے پر کو جلاتی رہی
اے رسول خدا،
امّتی ہوں ترا
تو نے پلکوں پہ اپنی اٹھایا ہے ارض و سماوات کو
ایک ذرہ ہوں میں
یا کہ اس سے بھی کم
خود پہ اپنے گناہوں کا اک بوجھ لادے ہوئے
کتنا حیران ہوں،
تو مجھے اپنی پلکوں کا سایہ نہ دے
اپنے پیروں میں لپٹی ہوئی خاک کا
ایک ذرہ بنا،
مجھ کو معلوم ہے تیرے پیروں کی مٹی بھی
انساں کے سارے گناہوں کو،
سر پر اٹھانے کے جذبے سے معمور ہے 
٭٭٭



حمد 

میں تیرے اعلمِ ہست کا
ایک بے نام ذرہ سہی
یا کہ وہ بھی نہیں،
تو مری لکنتِ نطق کو
کچھ تو الفاظ دے
جسم اپنا نہیں
قلب اپنا نہیں
یہ زباں بھی نہیں
تُو تو آقا ہے سارے جہاں کا
تُو مجھے، اک ثنائے مجسم کا کوئی بھی ذرہ بنا لے،
حمد میں تاکہ میں تیری شامل رہوں
حمد تیری کروں،
مجھ میں طاقت نہیں......
لفظ اپنا نہیں،
جان اپنی نہیں.....
یہ زباں بھی نہیں
کچھ بھی اپنا نہیں
٭٭٭



اپنے آپ میں پاگل رہنا، جیسے ہم اور تم
دیواروں کا اندھا رشتہ جیسے ہم اور تم

اپنے آپ کناروں کا احساس مٹائے کون
بیچ میں ہے اک بہتا دریا جیسے ہم اور تم

دوری، قربت دونوں کا دکھ لیکر جیتے ہیں
پیڑ تلے ہے پیڑ کا سایہ جیسے ہم اور تم

ہنس کر، رو کر ساتھ سفر میں چلتے رہنا ہے
آپس میں یوں ڈرتے رہنا جیسے ہم اور تم

اتنے دنوں کا ساتھ ہمارا، پھر کیوں لگتا ہے
سپنوں میں ان دیکھا سپنا جیسے ہم اور تم

درد کا رشتہ ایک ہے لیکن، کون سمجھتا ہے
دونوں میں ہے ایک اکیلا جیسے ہم اور تم

گھر بھی اپنا، تم بھی اپنے پھر بھی لگتا ہے
زیست ہے اپنی جنس کا سودا جیسے ہم اور تم
٭٭٭



ہے اندھیری شب سحر رکھتے ہیں لوگ
زرد ٹہنی پر ثمر رکھتے ہیں لوگ

جی رہے ہیں دوسروں سے بے خبر
کِس قدر اپنی خبر رکھتے ہیں لوگ

بند پلکوں میں ہے خوابِ نارسا
دور رس کیسی نظر رکھتے ہیں لوگ

پڑھتے رہئے اور حیرت کیجئے
ایسا چہرہ جسم پر رکھتے ہیں لوگ

تیغِ سایہ بھی جسے کر دے الگ
اپنے شانے پہ وہ سر رکھتے ہیں لوگ

کون سنتا ہے کسی کی آج کل
اب زباں بھی بے اثر رکھتے ہیں لوگ

رات ہو جاتی ہے عریاں صبح تک
روشنی کا وہ ہُنر رکھتے ہیں لوگ

کانپتی ہے رہگزارِ عشق بھی
سر پہ اپنے جب سفر رکھتے ہیں لوگ

ہو کہاں محفوظ راشد اپنے گھر
ہر مکاں میں اپنا در رکھتے ہیں لوگ
٭٭٭



درد پھیلے تو سمندر دیکھو
حوصلہ ہو تو یہ منظر دیکھو

آہٹیں پھرتی ہیں کشکول لئے
کوئی سائل نہ ہو در پر دیکھو

اب تو چہروں کی حدوں سے نکلو
کوئی ہنستا ہو تو اندر دیکھو

پھول سے ہاتھ نے پھینکا تھا جسے
عمر رفتہ کا وہ کنکر دیکھو

توڑ دیتی ہے یہ دنیا کیسے
اپنے خوابوں سے نکل کر دیکھو

اپنی یادوں کا عجب سنگم ہے
رنگ بکھرے تو پکڑ کر دیکھو

اتنے چہروں میں کسی کو ڈھونڈو
کوئی لگ جائے جو بہتر دیکھو

اپنے ویرانے میں لوٹو تو کبھی
گھر کی دیوار گرا کر دیکھو
٭٭٭



ساتھ دیوار کے ہے در تنہا
اپنا یہ گھر ہے کس قدر تنہا

جس پہ سارا زمانہ چلتا ہے
آج بھی ہے وہ رہگزر تنہا

اپنے سائے کے ساتھ رہ رہ کر
ہو چکا ہے ہر اک شجر تنہا

لوگ سنتے ہیں شورِ یکتائی
کوئی رہتا نہیں مگر تنہا

ان پہاڑوں کی سبزوادی میں
جلتا بجھتا ہوا سا گھر تنہا

ہے نزاکت کا کاروبار غزل
اس کا اپنا ہے اک ہنر تنہا

اس قیامت کی بھیڑ میں راشد
اپنی چھوٹی سی اک نظر تنہا
٭٭٭


ایک شعر

اب لاؤ کسی دھوپ کو لے جا کے لٹا دو
سائے کے لئے پتیاں باقی ہیں شجر میں
٭٭


پھولوں پھولوں مہکے لیکن شبنم شبنم روئے تو
کوئی کسی کی خاطر پہلے اپنے آپ کو کھوئے تو

لوگ بہت تھے جب آئ تھی تنہائی کی کالی رات
اپنے آپ سے لپٹے لیکن گہری نیند بھی سوئے تو

اوسر بنجر کھیتوں میں سب رنگ کی کھیتی اگتی ہے
ایک سنہرا خواب آنکھوں میں لاکر کوئی بوئے تو

کن لوگوں کا دل پگھلا اور کن لوگوں پر آنچ آئ
دھوپ کے آنگن کے بچے سب خون کے آنسوروئے تو

کیسے کیسے کھیل تماشے دنیا میں اب ہوتے ہیں
دیکھنے والا خون میں لیکن اپنی آنکھ ڈبوئے تو
٭٭٭



نہ کسی کے خواب و خیال میں، نہ کسی کے دستِ دعا میں ہوں
مجھے مل چکی ہیں بشارتیں، میں متاعِ چاکِ قبا میں ہوں

مجھے دشت، دشت صدا نہ دو مجھے لہر لہر ہوا نہ دو
مرا شہر شہر پتہ نہ لو، میں کسی کے عہدِ وفا میں ہوں

مجھے لوٹتے ہیں یہ لوگ کیوں، میں کسی کا زادِ سفر نہیں
میں خیال ہوں کسی شعر کا کسی آرزوئے بقا میں ہوں

مجھے شام شام نہ سوچنا، مجھے رات رات نہ جاگنا
وہ جو ایک چہرہٴ صبح ہے، میں اسی کی قیدِ ضیا میں ہوں

مجھے ڈال ڈال نہ دیکھنا، مجھے پات پات نہ ڈھونڈنا
میں کلی کے کھلنے کا راز ہوں یوں نگاہِ باد صبا میں ہوں

مجھے آنکھ آنکھ نہ کھوجنا جہاں دردِ دل کا پتہ نہ ہو
وہ جو گرد سے ہیں اٹے ہوئے انہیں آئینوں کی جلا میں ہوں

مجھے لوگ کہتے ہیں زندگی مجھے دیکھتا نہیں کوئی بھی
میں نظر نظر کا فریب ہوں مگر آئینوں کی ضیا میں ہوں

میں وہ خاموشی جو دلوں میں ہے، وہی بے کسی جو لبوں پہ ہے
نہ میں لفظ ہوں، نہ میں شعر ہیں، نہ کسی کی طرزِ ادا میں ہوں

جو شفق سے رنگ میں ہو کہیں، انہیں لب سے جا کے یہ پوچھنا
میں کسی کی گردِ جبیں میں ہوں یا کسی کے رنگِ حنا میں ہوں

کبھی پر لگا کے اڑا نہیں، میں ہوس کی کوئی صدا نہیں
مرا پاؤں بھی ہے زمین پر، مگر میں کہ جیسے ہوا میں ہوں
٭٭٭


چلتے رہو سفر پہ مقدر سی دھوپ میں
ہجرت نے اوڑھ رکھی ہے چادر سی دھوپ میں

تھا آئینوں میں درد کے سورج کا ایک نقش
آنکھیں ہماری ہو گئیں پتھر سی دھوپ میں

وہ بھی مرے گماں کی حدوں سے گزر گیا
تتلی کا جیسے سایہ سمندر سی دھوپ میں

ہے آج ایک شیشے کی دیوار درمیاں
بینائی اپنی ہو گئی بے گھر سی دھوپ میں

محسوس یہ ہوا ہمیں اندر کی آگ سے
جلتے رہے ہیں ہم بھی سمندر سی دھوپ میں

حسنِ خیالِ یار کا اعجاز دیکھئے......
پرچھائیاں بھی بن گئیں پیکر سی دھوپ میں

جذبات کے پگھلنے کا راشد سماں بندھے
لاؤ کوئی غزل ذرا بہتر سی دھوپ میں
٭٭٭


تین شعر

اپنے ویرانے سے کیوں آج کٹے ہے بارش
جاکے کہسار کے دامن میں سجے ہے بارش

جن ہواؤں پہ لکھا تھا یہ مقدر اپنا
ان ہواؤں سے بہت دور چلے ہے بارش

جب سے بچھڑے ہو، رُتوں کا بھی چلن دیکھ لیا
ایک جوگن کی طرح جیسے جلے ہے بارش
٭٭٭



کالی گھنی تھی مگر روشنی کی آس پر رات بسر ہو گئی
پلکوں تلے خواب تھے چنتے رہے جن کو ہم اور سحر ہو گئی

عکس کو پہنے ہوئے آئینوں کے درمیاں قید رہا عمر بھر
اور مری زندگی دھند کی یلغار میں صرفِ نظر ہو گئی

تجھ سے بچھڑ کر مری آرزوئے زندگی بن کے کٹی تشنگی
اور مری شاعری ڈھل کے اسی درد میں، رشکِ ہُنر ہو گئی

آنسوؤں کے ساز پر، ہجر کی مضراب سے گیت کوئی بن گیا
مری رہِ زیست پر اس کی حسیں نغمگی، رختِ سفر ہو گئی

اپنے شب و روز پر تیرۂ تقدیر کا ابر تھا پھیلا ہوا
عرش کو دیکھا کئے خاک نشیں تھے جو ہم یوں بھی بسر ہو گئی

دشت سفر میں فقط ایک اپنی ذات ہے، زادِ سفر کچھ نہیں
اب تو یہی ہے میاں اوڑھ لو پرچھائیاں دھوپ اگر ہو گئی

بات چلی رات کی، میں نے کہا چاند ہو میری شبِ زیست کا
میری اِسی بات سے اُن کو ہر اک رات میں فکرِ سحر ہو گئی
٭٭٭



ملا تھا خواب کی صورت وہ میرا خواب رہا
کہ جنگلوں میں کِھلا تھا مگر گلاب رہا

مثالِ اشک اُسے میں نے آنکھ میں رکھا
صدف بنا بھی وہ ایسا کہ زیرِ آب رہا

وہ ایک لمحہ جو خوشبو کا اُس نے ہم کو دیا
ہماری جاں پہ اُسی قرض کا عذاب رہا

حسین لفظوں کی پوشاک میں تھا پوشیدہ
میری غزل میں وہ آیا تو بے نقاب رہا

سمیٹتی رہیں یادیں تک اُس کو بانہوں میں
بھنور کی گود میں رہ کر بھی وہ حُباب رہا

نہ جانے جسم پہ میرے یہ کس کا چہرا تھا
کہ آئینے سے بھی اکثر مجھے حجاب رہا

بہاؤ خون کا رَگ رَگ میں ہو، کہ بڑھتے قدم
سفر میں ساتھ سدا میرے اک سراب رہا
٭٭٭


اِسی اک بات کا مجھ کو نشہ ہے
مرے خوابوں میں کوئی جاگتا ہے

مرے بیتے دنوں کی یاد لے کر
چلے آؤ کہ دروازہ کھلا ہے

میں اب ہر اجنبی کو جانتا ہوں
کہ شہرِ جاں میں ہر چہرہ نیا ہے

ہر اک ہجرت کدے کی ہے علامت
وہی اک شخص جو تنہا کھڑا ہے

زباں کا ذائقہ اپنا لہو ہے
سمندر اپنا پانی پی رہا ہے

میں وہ ہوں جو تمہیں دِکھتا نہیں ہوں
مرے اندر تو کوئی دوسرا ہے

بصارت اپنی آنکھوں سے ہٹا لو،
کہ جو دیکھو گے وہ دیکھا ہوا ہے

یہاں شیشے کے دل ڈھلنے لگے ہیں
حقیقت جس کی پتھر جانتا ہے
٭٭٭



شہرِ سنگ و ریگ میں یونہی کب تک عمر گنواؤ گے
اک دن ایسا آئے گا کہ تم پتھر ہو جاؤ گے

ایک تھا طوطا، ایک تھی مینا، دونوں میں تھا پیار بہت
ایسی کہانی سوچ کے کب تک دل اپنا بہلاؤ گے

ساری امنگیں، آس، محبت مٹی کے ہیں کھیل میاں
کچے گھڑے پر بیٹھ کے کیسے دریا پار لگاؤ گے

کچے گھروندے بچپن کے کچھ اور وہ سایہ پیپل کا
تم کو سہارا دیتے رہیں گے دھوپ سے جب گھبراؤ گے

اپنے اندر بسنے والے غیروں کی کچھ فکر کرو
اپنے اندر جینے سے تو، خود کو تم جھٹلاؤ گے

قید میں رکھ لو چاہے خود کو شیشے کی دیواروں میں
پتھر سے ہی ٹکرانا ہے، جب تم باہر آؤ گے

چاٹ لہو کی لگ جائے گی سارے بجھتے چراغوں کو
اپنے رِستے خون سے جب تم کوئی شمع جلاؤ گے

پھول سی غزلیں لے کر راشد کیوں جاتے ہو محفل میں
زخم کا رشتہ پھول سے کیا ہے کس کس کو سمجھاؤ گے
٭٭٭



ایک شعر

شاید کہ یہ بھی اب کوئی کارِ تواب ہے
رکھتے ہیں سارے لوگ گنہگار پر نظر
٭٭٭


میں وہ درد ہوں کہ جس کی کوئی اک صدا نہیں ہے
مجھے ٹوٹتا جو دیکھے کوئی آئینہ نہیں ہے

یہی پتھروں کی راہیں مرے پاؤں کو ملی ہیں
ابھی سخت راستوں کا مجھے کچھ پتا نہیں ہے

مری سوچ کی دھنک پر کئی رنگ میں ہے رقصاں
مرے خوابِ زندگی سے تو کہیں جدا نہیں ہے

جو بہت سفر کیا تو یہ پتا چلا ہے مجھ کو
تری رہگزر سے ہٹ کر کوئی راستہ نہیں ہے

کوئی ایک حدِّ فاصل میرے تیرے درمیاں ہے
مرے درد کی صدا پر تو کبھی ملا نہیں ہے

وہاں کیا پہنچنا مشکل جو فلک بھی درمیاں ہو
یہ دعا کا راستہ ہے یہاں فاصلہ نہیں ہے

ترے آئینوں میں اب تک مری جاں لیز رہی ہے
انھیں آئینوں کو دیکھوں مرا حوصلہ نہیں ہے
٭٭٭



چشم حیرت میں مری یوں تو وہ ٹھہرا بھی نہیں
دیکھنا تھا جسے دم بھر اُسے دیکھا بھی نہیں

سارے چہروں پہ وہی ایک سی حیرانی ہے
زندگی جیسا کوئی اور تماشا بھی نہیں.......

آکے ٹھہرا وہی حسرت بھرا لمحہ مجھ پر،
زندگی میں جسے شاید کبھی سوچا بھی نہیں

دل تو بھنورا تھا ہر اک پھول پہ مچلا لیکن
تجھ کو چاہا تو کسی اور کو چاہا بھی نہیں

اپنے احساسِ مقابل سے ہراساں بھی وہی
کتنا تنہا ہے وہی شخص جو تنہا بھی نہیں

غیر کے درد میں خود اپنا زیاں کرتے رہے
خود کو کھویا تو کسی اور کو پایا بھی نہیں

خود ہی بنتا ہوں بگڑتا ہوں بکھر جاتا ہوں
میں کسی اور کا گویا کہ تقاضا بھی نہیں

ڈوب جاتا ترے آنسو میں کنارا بن کر
ہے روانی پہ مگر آج یہ دریا بھی نہیں
٭٭٭



بدن سارا ہی اُس کا جاگتا ہے
مری آنکھوں میں جو بھی سو رہا ہے

چمن میں آج جو نغمہ سرا ہے
یہ اک غمگین موسم کی ہوا ہے

مجھے رشتے کی ڈوری سے نہ جوڑو
مجھے ٹوٹے ہوئے عرصہ ہوا ہے

کسے آواز دیتے ہو یہاں تم.....
یہ انسانوں کا شہرِ بے صدا ہے

جسے سایہ سمجھتا تھا میں اپنا
وہ میرے سامنےآ کر کھڑا ہے

ابھی تک تیرے میرے درمیاں بھی
تری حدّ ِ نظر کا فاصلہ ہے

مرے جذبات کا سارا تلاطم
مرے دل کا سمندر کھا گیا ہے

محبت ریت کا کچا مکاں ہے
گری دیوار تو سب نے کہا ہے

بہت ہی شور و غل کے درمیاں ہے
اسی ڈر سے وہ تنہا ہو گیا ہے

یہ راشد فاصلوں کا درد لے کر
بہت سی قربتوں میں جی رہا ہے
٭٭٭



ہماری صدا سب ہوا لے گئی
سماعت سے تم کو بچا لے گئی

پہاڑوں کے سینے پہ کم بوجھ ہے
ندی کتنے پتھر اٹھا لے گئی

نظر میں فریبِ نظر بھی نہیں
محبت اِن آنکھوں سے کیا لے گئی

کسی در پہ بیٹھی ہوئی آرزو
ہتھیلی سے رنگِ حنا لے گئی

مرے دل کی ایماں فریبی ہوس
مرے لب سے ساری دعا لے گئی

ابھی کھیل ہی کھیل میں اک نظر
مرے دل کو اپنا بنا لے گئی

وہ صورت جو دل میں تھی بیٹھی ہوئی
مرے دل کی آہٹ چرا لے گئی

سخن ور تو راشد بھی کچھ کم نہیں
غزل جس کی طرزِ ادا لے گئی
٭٭٭



سولی پر اب لٹکا ہوں
زورِ ازل سے سچا ہوں

تم کو کیوں کر جھٹلاؤں
کہتے ہو تو اچھا ہوں

ڈوری کٹتے دیکھا ہے
تیرے درد کا رشتہ ہوں

تیری چاہت میں اب تک
اپنی آنکھ کا دریا ہوں

تیز ہوا سے سہما ہوا
کچی ڈال کا پتا ہوں

تم کیا جانو خوش ہوں یا
اپنی خوشی کا سایا ہوں

اِن کا اُن کا دل پر میں
رَوگ لگائے پھرتا ہوں

تیری پُتلی میں رہ کر
تیری نظر کا دھوکا ہوں

اپنے آپ سے ڈر کر میں
سایا سایا چلتا ہوں
٭٭٭



تھی نظر میں مری کمال کی شکل
گھٹ کے جو رہ گئی ملال کی شکل

لفظ اپنے تھے، جسم تیرا تھا
بن گئی یوں ترے جمال کی شکل

زخم ہنس ہنس کے مجھ سے کہتا ہے
کوئی نکلے گی اندمال کی شکل

حسن آیا پگھل کے آنکھوں میں
کس نے دیدی اسے خیال کی شکل

جانے دنیا کہاں لے آئی ہے
آج ہر شخص ہے سوال کی شکل

گردِ آئینہ صاف کر لے تو
دیکھ ماضی میں اپنے حال کی شکل

آرزوئیں، دھنک سے رنگوں میں
لمس کہ اب ہے یہی محال کی شکل
٭٭٭



ہے صاف و سادہ وہ آب جیسی
مگر ابھی تک ہے خواب جیسی

نہ فاصلہ ہے نہ قربتیں ہیں
ہے بے رخی بھی حجاب جیسی

نہ اس قدر دل میں ولولے ہیں
نہ آگہی ہے جناب جیسی

یہ سر پرستی بھی آپ کی اب
ہمیں لگے ہے حساب جیسی

حیات دریا سے کہہ گئی ہے
ہر ایک شے ہے حجاب جیسی

یہ تشنگی کا کھلا سا منظر
ہر ایک شے ہے سراب جیسی

خوشی نہ دے تو خوشی کی خاطر
کوئی پلا دے شراب جیسی

ہے سادہ رنگوں میں سرخ کتنی
ہے سادگی بھی عتاب جیسی
٭٭٭



دریا دریا آنکھ تری اور ایک ترستا صحرا میں
تیرے درد کو لیکر جب بھی ہوا چلی تو بِکھرا میں

یوں تو اپنا ظاہر باطن جو کچھ بھی ہے ظاہر ہے
جانے کن کن آنکھوں کا ہوں آج بھی پہلا دھوکا میں

اپنی ذات کے اندر باہر سیلِ طرب ہے دنیا کا
بہتے ہوئے اک دریا میں ہوں پھر بھی پیاسا پیاسا میں

گھر کے یاس زدہ چہروں پر گرد جمی تھی صدیوں کی
دشت سفر کی دھوپ کو لیکر جب بھی گھر کو لوٹا میں

اپنے دکھوں کے سیل رواں میں پتھر بن کر بیٹھا ہوں
رات اندھیری آنکھ میں رکھ کر جاگ رہا ہوں تنہا میں

آتے جاتے مسافر دل کے دھوپ جلن اور تنہائی
اپنے شہر کے سونے پن کا چلتا ہوا اک رستہ میں

دل کے اندر گھر ہے میرا، بھس بدل کر رہتا ہوں
چاہت میری وہ کیا جانے، جس کی نظر کا دھوکا میں
٭٭٭



سیاہ رات کبھی آنکھ میں اُترتی ہے
تو سونے والے سے پوچھو کہ کیا گزرتی ہے

اندھیرے گھر میں اندھیرا ہی آج رہنے دو
سنہری دھوپ مری، روشنی سے ڈرتی ہے

بِکو کہ تم بھی خریدے ہی جاؤ گے اک دن
ہر ایک شخص کا سودا یہ دنیا کرتی ہے

میں بے کسی کو گلے سے لگائے پھرتا ہوں
سنا ہے موت بھی اب بے کسی سے ڈرتی ہے

تھکن سے چور مسافر ٹھہر تو جاتا ہے
مگر یہ نیند کہاں آنکھ میں ٹھہرتی ہے

دھنک کا کھل ہے یہ روشنی کے سنگم پر
اداس آنکھوں کی کالی گھٹا بکھرتی ہے
٭٭٭



مجھ کو ہنستا دیکھ کر، دل کی اُداسی رو گئی
ایک امیدِ فریبِ خوشدلی بھی کھو گئی

رات نے میرے بدن میں جھانک کر دیکھا تھا گھر
زندگی بھر کے لئے آ کر وہیں پر سو گئی

اپنے جسم و جاں کی کھیتی دھوپ کی زد میں رہی
سبز رنگوں میں اگی تھی آج پیلی ہو گئی....

ظلمتِ دل آج بھی اندھے کنویں کی ہے مکیں
روشنی چہرے کی ساری گرد کیونکر دھو گئی

دیکھ کر احساس کی زرخیز سی پھیلی زمیں
بیج زخموں کے، ہماری زیست لا کر بو گئی

بوجھ تھا مجھ پر گناہِ آرزوئے یار کا......
اپنا سامانِ سفر یہ زندگی خود ڈھو گئی

میں سمندر کی طرح پھیلا ہوا تھا لہر لہر
میری وسعت اس جبیں کی سلوٹوں میں کھو گئی
٭٭٭



؂جو اپنے آپ میں اک گھر دکھائی دیتا ہے
حصارِ ذات کے باہر دکھائی دیتا ہے

ہے آئینے کا بدن سامنے کہ جس میں مجھے
کٹا پھٹا ہوا، اندر دکھائی دیتا ہے

شعورِ ذات کا اک مکر ہے ان آنکھوں پر
سراب ہے، جو سمندر دکھائی دیتا ہے

عجیب شخص ہے ہنستا ہوا سا چہرہ لئے
اجاڑ گاؤں کا منظر دکھائی دیتا ہے

عمل میں سیلِ مسلسل کے تند و تیزی کا
شعور ہو تو مقدر دکھائی دیتا ہے

یہ کون آتا ہے چپکے سے میرے خوابوں میں
مجھے تو گھر میں کھلا در دکھائی دیتا ہے

تھکن سے چور مسافر کا اپنا سایہ بھی
کڑی ہو دھوپ تو بہتر دکھائی دیتا ہے

ہوا میں اڑتے ہوئے شخص کی یہ قسمت ہے
ہوا رکی تو زمیں پر دکھائی دیتا ہے
٭٭٭



تنہائی کی ہو دھوپ تو سایہ نہیں ہوتا
ہر تشنہ نظر آنکھ میں دریا نہیں ہوتا

ہوتی ہے کڑی دھوپ تو کیا کیا نہیں ہوتا
دیوار پر خود اپنا بھی سایا نہیں ہوتا

جب دور سے دیکھو تو ہر اک شخص ہے پورا
آتا ہے ذرا پاس تو آدھا نہیں ہوتا

بٹ جاتا ہوں خود اپنے ہی اندر بھی بہت میں
مجھ جیسا کوئی شخص ادھورا نہیں ہوتا

ظالم کی خدائی ہو تو دنیائے ہوس میں
ہوتا ہے بہت کچھ مگر اچھا نہیں ہوتا

حیرت میں پڑا آئینہ اب سوچ رہا ہے
کیوں سارے بدن پر کوئی چہرا نہیں ہوتا

تصویر کے رنگوں میں بکھر جاتا ہے کوئی
منظر بھی مرے خواب کا پورا نہیں ہوتا

خود اپنے ہی اندر کو سفر کرتا ہے راشد
جب سامنے اس کے کوئی رستہ نہیں ہوتا
٭٭٭



تو ہے میرا نغمہ کوئی اور نہیں ہے
اشکوں میں یوں ڈھلتا کوئی اور نہیں ہے

دشتِ سفر کا تھکا تھکا سا منظر ہے
مجھ میں جاگنے والا کوئی اور نہیں ہے

بادل، بارش، برق، گھٹا سب تجھ میں ہے
آج ہوا کا چہرا کوئی اور نہیں ہے

جلتی دھوپ میں سب سے اچھا خواب تمہارا
دیکھا بھالا سا یہ کوئی اور نہیں ہے

تیری پیاس کا جسم و جاں میں سیلِ رواں
مجھ میں بہتا دریا کوئی اور نہیں ہے

تجھ کو میں نے خواب کی صورت دیکھا تھا
آنکھ میں تیرے جیسا کوئی اور نہیں ہے

تیری باتیں دیواروں سے کرتا ہوں
دل کی باتیں سنتا کوئی اور نہیں ہے

آنکھ سے چھپ کر خواب میں میرے آئیگا
تیرے سامنے رستہ کوئی اور نہیں ہے
٭٭٭



تھے موم سے وہ لوگ جو پتھر ہوئے نہیں
اتنی لچک کے بعد بھی پیکر ہوئے نہیں

خود کے محاصرے میں گزاری تمام عمر
اور بحرِ ذات کے بھی شناور ہوئے نہیں

کیا دیکھتے جو آنکھ سے آگے بڑھے نہیں
کیا جانتے وہ دل کو جو اندر ہوئے نہیں

ہاتھوں سے چھوٹتا رہا جو کچھ ملا ہمیں
ہم اپنی بخت کے بھی سکندر ہوئے نہیں

آگاہ تھے جو اپنے رموزِ حیات سے
خود اپنے آپ کے بھی برابر ہوئے نہیں

تھا جنکا ظرف گہرے سمندر کی طرز کا
وہ لوگ اپنی ذات کے باہر ہوئے نہیں

کیا جھیلتے وہ تیز ہواؤں کی کاٹ کو
جو پیڑ اپنے آپ تناور ہوئے نہیں

کیوں ٹھوکروں کا اپنی جبیں پر نشان ہے
ہم تو کسی کی راہ کا پتھر ہوئے نہیں
٭٭٭



کہنے کو زندگی میں تو بیباک تھے بہت
لب سِی لئے کہ دل میں لگے چاک تھے بہت

مٹی سے کھیلنے کا سلیقہ رہا ہمیں
خاک ہم نے اوڑھ رکھی تھی پوشاک تھے بہت

سورج کو اپنی آنکھ میں رکھ کر وہ سو گئے
بستی کے سارے لوگ ہی چالاک تھے بہت

نشتر لگا تو حسن اُجاگر ہوا کہیں
پھولوں کی ہر قبا میں جڑے چاک تھے بہت

تنہائیاں بھی جل گئیں پرچھائیوں کے ساتھ
جنگل تھا آدمی کا تو خاشاک تھے بہت

سایہ پکڑ رہا تھا کوئی دھوپ میں کھڑا
اِس حادثے پہ لوگ بھی غمناک تھے بہت

اُن کو عذابِ زیست کا کرنا پڑا حساب
اپنے حسابِ زیست میں جو پاک تھے بہت
٭٭٭



سر پہ ہے فلک اس کا یقین ہے کہ نہیں ہے
ہاں پاؤں تلے کوئی زمیں ہے کہ نہیں ہے

پھرتی ہے رگ و پے میں تری، موج لہو کی
چاہت بھی مری اس میں کہیں ہے کہ نہیں ہے

جھکتا ہے فلک چومنے جس شخص کی عظمت
دیکھو کہ وہی خاک نشیں ہے کہ نہیں ہے

اُس نقش ِ مرقع کا وہ جادو ہے نظر میں
پوچھو کہ کوئی اور حسیں ہے کہ نہیں ہے

اب خلوتِ دل میں کوئی آہٹ نہیں ملتی
وہ جب سے ہوا پردہ نشیں ہے کہ نہیں ہے

ڈھونڈو کہ میری جاں میں کوئی نقش ہے اسکا
چھوڑا تھا جسے میں نے یہیں ہے کہ نہیں ہے

چمکے جو میری آنکھ میں دلدار کی صورت
پتھر میں کوئی ایسا نگیں ہے کہ نہیں ہے
٭٭٭



تمام عمر اُسے مجھ سے کچھ گِلا سا رہا
میں اُس کے ہونٹ پہ گویا کہ اک دعا سا رہا

اُسی کا خواب مجھے رات بھر جگاتا ہے
وہ ایک شخص جو مجھ سے سدا خفا سا رہا

یہ اور بات تھی اپنا لیا تھا غیروں نے
میں اپنے آپ سے کتنا جُدا جُدا سا رہا

کہاں کا درد سمیٹا تھا جھیل آنکھوں نے
وہ چاند چہرہ بھی اکثر بجھا بجھا سا رہا

جگا رہا ہوں اُسی خواب کو اب آنکھوں میں
جو میری زیست کے جنگل میں اک صدا سا رہا

وہ آئنے جو مرے گِرد جال بُنتے تھے
میں اُن سے دور نہ تھا پھر بھی فاصلہ سا رہا

رُتوں کے چہرے بدلتے ہوئے تو دیکھے تھے
مگر یہ رنگ جو خوشبو کا تھا اُڑا سا رہا

میں سونپتا اُسے کس کو کہ میرا قاتل تھا
جو درد بن کے مرے دل میں بھی چھپا سا رہا
٭٭٭



اندر اندر ٹوٹ رہا ہے صورت گر بھی کیسا ہے
چہرہ مہرہ صاف سلونا ایسا پیکر جس کا ہے

اِن آنکھوں میں رات گئے تک درد جگائے رکھتا ہے
ہجر کی صورت سایا سایا جانے کون سا چہرہ ہے

اس کی نظر سے گر جانے کی خواہش دل میں اُبھری ہے
اپنے نام کا آنسو جب بھی اس کی آنکھ میں دیکھا ہے

اپنے قدم کی ہر جنبش سے اکثر ڈرتا رہتا ہوں
مجھ سے آگے چلنے والا، مرے درد کا سایا ہے

اکثر وہ بھی زندہ ہو کر تنہائی میں ملتے ہیں
جن لمحوں کی لاش کو ہم نے اپنے سر پر ڈھویا ہے

گھر لوٹے تو اس کی خوشبو پھر سانسوں سے لپٹی ہے
جس بستی میں جا کر ہم نے اپنا سب کچھ کھویا ہے

اپنے لہو کی موج سے کٹنا، پھر بھی راشد چپ رہنا
اپنے پانی سے کٹتا ہے آخر جو بھی دریا ہے
٭٭٭



ہے اور بھلا کیا جو قیامت میں بچا ہے
ہر شخص خود اپنی ہی طرف بھاگ رہا ہے

دَشنام نہیں، لب پہ ہنسی مکر ہے دل میں
اب دل کے دُکھانے کا بھی انداز نیا ہے

وہ بھی تو طلب گارِ عنایت ہے کسی کا
اک پیڑ جو بے برگ و ثمر دور کھڑا ہے

پھرتی ہے رگوں میں مری "دنیا" کہ لہو کا
یہ دُکھ بھی مجھے خود مرے اپنوں نے دیا ہے

ویرانئ ہستی میں تیری یاد کی خوشبو
بس یوں ہے کسی دشت میں اک پھول کھلا ہے

لے جاؤ کہ جذبات کے کچھ رنگ ہیں اسمیں
اس دل کے سوا اور مرے پاس بھی کیا ہے

انداز محبت کے سمجھتا ہے جو دل سے
قربت میں وہی شخص بڑی دور گیا ہے

لکھ دیتا ہوں میں آج یہ چہرے پہ ہوا کے
راشد کو کوئی زخم ِ ہُنر خاص لگا ہے
٭٭٭



آخر کو پھیلتا گیا بوئے وصال کا سفر
اس نے مجھے جو دے دیا حسن ِ خیال کا سفر

کون ہو تم؟ کہاں کے ہو؟ کون ہے جانتا تمہیں؟
کرنا ہے طے سبھی کو اب ایسے سوال کا سفر

خوش ہیں سبھی فریب پر، کس کو پڑی کہ طے کرے
جھوٹ سے سچ کے بیچ ہے کتنے وبال کا سفر

خوابوں کو دیکھتے رہو، خوابوں کو سوچتے رہو
آنکھوں میں جاگتا ہو جب شوق ِ جمال کا سفر

جذبے نہ گرم ہو سکے، برف تھی ایسی ہر طرف
سارے طیور کر گئے پھر سے شمال کا سفر

ہجر سے یوں وصال تک، لمحے کا فاصلہ نہیں
پھر بھی یہ زندگی ہے کم، اتنے کمال کا سفر

لکھنا تھا زندگی کو کچھ میرا یہ ظرف دیکھ کر
میری جبیں پہ لکھ دیا گردِ ملال کا سفر

اُس سے جدا ہوئے تواب کھلتے گئے ہیں راستے
کرتے رہو بس عمر بھر اسپِ خیال کا سفر

راشد اڑان بھر گیا لفظوں کے پر پہ بیٹھ کر
نظروں میں اس کے تھا کہیں اوج ِ کمال کا سفر
٭٭٭



اُسی کے ساتھ رہِ لذتِ سحر بھی گئی
وہ خواب دیکھا تھا جس سے مری نظر بھی گئی

تھی آس جیسی وہ نازک سی کانچ کی مورت
کسی خیال سے ٹکرا کے جو بکھر بھی گئی

میں دیکھتا رہا دریا کے گہرے پانی کو
وہ کشتیِ دل و جاں سے مری اتر بھی گئی

ہے دھوپ جیسی یہ شہرت بھی آدمی کی میاں
چڑھی تھی صبح مگر شام کو اُتر بھی گئی

جو چھو کے تجھ کو چلی تھی وہ مست روسی ہوا
چرا کے اپنا بدن مجھ سے یوں گزر بھی گئی

مرے دماغ میں باہر کا حشر اتنا ہے
بلا کے شور میں اپنی صدائے گھر بھی گئی

کشش تھی اتنی بلا کی ہرے سمندر میں
کہ سطح ِ آب پہ جا کر نظر ٹھہر بھی گئی
٭٭٭



ہے جسم یہ اپنا تو رگِ جاں ہے کوئی اور
میں درد ہوں جس شخص کا درماں ہے کوئی اور

اس لذتِ آزاد کا رشتہ نہیں ملتا
کانٹا ہے مرے دل میں پریشاں ہے کوئی اور

ذی حس ہے تو اس دور میں دشوار ہے جینا
جیتا ہے جو اس دور میں انساں ہے کوئی اور

دیکھو کہ یہی میری بصارت کا ہنر ہے
ہے دشت مرے دل کا یہ، ویراں ہے کوئی اور

اُس خالق ِ صد ناز کا جلوہ ہے یہ دنیا
ہے آئینہ اس کا مگر حیراں ہے کوئی اور

یہ راز ابھی تک تو نہیں مجھ پہ کھلا ہے
کرتا ہے گنہ کوئی پشیماں ہے کوئی اور

سمجھا دو ذرا جا کے اُسی ننگِ نظر کو
کپڑے تو پھٹے میرے ہیں عریاں ہے کوئی اور

سوچا کہ کہوں تجھ کو "کوئی اور" غزل میں
اب میرے خیالوں سے گریزاں ہے کوئی اور

ہر لمحہ مرے ساتھ مرا نقش دوئی ہے
کہتا ہوں غزل میں تو غزل خواں ہے کوئی اور

ہیں خار ہی راشد تیرے دامن کا مقدر
گرتے ہیں جہاں پھول وہ داماں ہے کوئی اور
٭٭٭



ہم جو اہل نظر نہیں ہوتے
اس قدر دربدر نہیں ہوتے

میری سانسوں کے ساتھ چلتے ہو
تم کہاں ہمسفر نہیں ہوتے

دل پہ جتنا سکوت طاری ہے
اتنے ویران گھر نہیں ہوتے

خاک ہوتے تری گلی کی ہم
قصۂ مختصر نہیں ہوتے

کوئی شاہد ضرور ہوتا ہے
لوگ خود معتبر نہیں ہوتے

قربتوں میں بھی ہم نے دیکھا ہے
فاصلے مختصر نہیں ہوتے

تم سے یوں گر بچھڑ نہیں جاتے
آج ہم رہگزر نہیں ہوتے
٭٭٭



کتنی یادوں کا پیکر لئے نام ہیں جو کھدے ہیں شجر تا شجر دور تک
اک کہانی ہر اک نام کہتا رہا جب کیا جنگلوں کا سفر دور تک

اِس کڑی دھوپ میں ہم سفر کون ہے میرا سایہ ہے یا خواب ہے رات کا
اے ہوا، مرے احساس کی توُ بتا ساتھ چلنا ہے کس کو مگر دور تک

سرمئی شام تھی اک تری یاد کی جس میں بادل تھا، بارش، ہوا، دھوپ بھی
مرے جذبات میں جو دھنک رنگ تھا اس کا پھیلا ہوا تھا اثر دور تک

وہ گلی جس میں تم بھی کبھی ساتھ تھے اب تو خوابوں کی دہلیز پر رہ گئی
میرے شانے کا ہجرت نے بوسہ لیا ساتھ پھر کیوں رہا اپنا گھر دور تک

ہر قدم روکتی خواہشوں کا سفر، آنکھ میں حیرتوں کا وہی سلسلہ
یوں تو مشکل تھی راہِ طلب زیست کی، لے گئی مجھ کو میری نظر دور تک

میرے اندر کے سارے ہنسیں رنگ تو تیرے چہرے کے پھولوں کی زینت بنے
اب تو موسم کی رعنائیوں میں تری، میرا بکھرا ہوا ہے ہنر دور تک

زندگی میں مری یوں بھی اکثر ہوا، تازہ دم اک ہوا ہجر کی رات میں
مجھ کو لیکر چلی رفعتوں کی طرف آسمانوں میں بکھرے گہر دور تک
٭٭٭



میری تشنگی کے عذاب کا کوئی ایک رنگ نیا نہ ہو
یہ جو ٹوٹ کر ہے بکھر گئی کسی آرزو کی صدا نہ ہو

مرے جذبۂ غمِ یار کو بھی سفر میں ساتھ لئے پھری
کسی در پہ آ کے جو رُک گئی وہ تھکی تھکی سی ہوا نہ ہو

تری آرزو کی دھنک بھی ہے ترے جسم و جاں کی مہک بھی ہے
یہ جو خواب ہے مری آنکھ میں کہیں ایک سیل ِ بلا نہ ہو

کبھی قربتوں میں نہ مل سکی، کبھی فاصلوں سے گزر گئی
وہی ایک حدِّ نظر تری جو کہ مستجابِ دعا نہ ہو

کسی نیلی جھیل سی آنکھ میں مرا نام تیرتا ہے ابھی
ذرا غور سے اسے دیکھنا کہ سرابِ جاں پہ لکھا نہ ہو

مجھے چھوڑ کر بھی وہ یوں گیا، یہیں دشت، دشت میں بو گیا
یہ اُگی ہوئی سی مسافتیں مری حسرتوں کو بقا نہ ہو

وہ نگاہِ ناز تھی اک تری، رگ و پئے میں میرے اتر گئی
کہ غزل بھی جس سے مہک اٹھی کہیں زخم ایسا لگا نہ ہو

اِنہیں آندھیوں میں گِھرا ہوا میں ہوں ایک ٹیلہ سا ریت کا
اُسے کاٹنی بھلا کیا ہوا جو ہوا کی زد پہ رہا نہ ہو
٭٭٭



کسی کو کچھ نہیں معلوم کیا ہے
یہ اپنی زندگی ہے یا ہوا ہے

اگر آواز دو سُنتا نہیں ہے
جسے دیکھو وہی کم دیکھتا ہے

نظر کو ہے ضرورت آگہی کی
مکاں اندر سے خالی ہو چکا ہے

سمجھ لو کہ نہیں ملتا ہے جو کچھ
وہی تو زندگی کا حوصلہ ہے

محبت کی کہانی اب یہی ہے
جسے چاہو وہی کچھ چاہتا ہے

غرض ہم نے بھی سیکھا ہے تمہیں سے
ملو اس سے کہ جس سے کچھ ملا ہے

کسی کے ساتھ کیوں کوئی چلے گا
ہر اک کا اپنا اپنا راستہ ہے

یقیناً شہر اب زندہ نہیں ہے
وہی خاموشیوں کا سلسلہ ہے

یہی ہے کرب قربت کا کہ راشد
ہر اک سے مل کے تنہا ہو گیا ہے
٭٭٭



تین شعر

یہ تو تیرا خواب نہیں ہے
اِن آنکھوں میں بند ہیں آنکھیں

جس پتھر کو ہم نے اٹھایا
اس پہ دیکھا کند ہیں آنکھیں

شہرت کا بازار سجا ہے
اپنی لیکن بند ہیں آنکھیں
٭٭٭



میں شاید بد دعا ہوں اک شجر کی
کھڑی ہے دھوپ سر پر دوپہر کی

مجھے نابینا آنکھیں گھورتی ہیں
یہ قیمت دے رہا ہوں میں نظر کی

شرافت ہے ابھی دنیا میں باقی
ذرا تصدیق کر لوں اس خبر کی

دُکھایا دل مرا تم نے بھی اتنا
محبت میں نے تم سے جس قدر کی

مری رگ رگ میں آ کر چل رہی ہے
تھی دنیا کو ضرورت رہ گزر کی

ابھر آیا غبار آلود منظر
کبھی تصویر جو کھینچی سفر کی
٭٭٭


تین شعر


نظر کو دھوکا سراب کیا دے
فریب خوردہ جواب کیا دے

ہو کرب جس کا جواز جینا
وہ زندگی کا حساب کیا دے

نہ دل کی قیمت، نہ آدمی کی
کسی کو کوئی جناب کیا دے
٭٭٭


ان سرابوں میں ہم اجنبی سے رہے
ملتے جلتے مگر ہر کسی سے رہے

زندگی کی جہاں کوئی صورت نہ تھی
ایسے لمحوں میں ہم اک صدی سے رہے

شہر ِ دل اپنا سارا ہے خالی پڑا
جو بھی چاہے یہاں اب خوشی سے رہے

ہم تو چہروں کی اس بھیڑ میں کھو گئے
آئینہ آئینہ حیرتی سے رہے

تیری چاہت کا ہم کو صلہ یہ ملا
اپنے ہونٹوں پہ ہم تشنگی سے رہے
٭٭٭


٭٭٭
ماخذ
http//rashidfazli.blogspot.in/
تدوین اور ای بک کی تشکیل اعجاز عبید
