﻿


خواب کے تازہ موسم



الیاس بابر اعوان

جمع و ترتیب: اعجاز عبید






حمد


مجھ میں پھیلے ہوئے ہر درد کا درماں ہو جائے

میں جو آیات مقدس کے مظاہر میں چلوں
آنکھ جس سمت سے گزرے تو وہ حیراں ہو جائے

ایک احساس بھٹکنے نہیں دیتا ہے مجھے
ہے یہ مالک کی عطا راہ کی پہچاں ہو جائے...

اے خدا دل مرا دنیا کی سیاست سے نکال
بس ترا نام جپے اور مسلماں ہو جائے

میں کہ پامال ہوا سیل جنوں خیز کے ہاتھ
تری رحمت سے مری زیست درخشاں ہو جائے

میں ترے رحم کے سیلاب میں ڈوبا ہی رہوں
آنکھ ہو ذکر مرا سینہ بھی قرآں ہو جائے

مرے مالک ہے عجب گھور اندھیرا مری اور
اس خرابے میں مری آنکھ نہ ویراں ہو جائے
٭٭٭


نعت

آنکھوں میں بسا ہے رخِ زیبائے محمد ﷺ
دل سے ہے قریں صورتِ رعنائے محمد ﷺ

دیتی ہے رہائی مجھے زمانے کے غموں سے
یارب مجھے دے اور تمنائے محمد ﷺ

توحید کی ہر لے پہ دھڑکتا ہے مرا دل
اور دل سے لگاتار صدا آئے محمد ﷺ

کیا اس میں جگہ پائے گی دنیا کی محبت
جس قلب کی وسعت میں سماجائے محمدﷺ

یہ چاند ستارے تو فقط گردِ سفر ہیں
منزل ہے مری نقشِ کفِ پائے محمد ﷺ
٭٭٭

نعت پاک

گنبدِ سبز ہو ، اور روضے کی جالی ، اور میں
کاش ہو ان کی نظر دیکھنے والی ، اور میں 

قریہ قریہ نہ پھروں میں تو مری کج بختی
آبلہ پائی ہو اور شہرِ مثالی ، اور میں 

صاحبو ! کیجیئے تصویر ذرا یہ منظر
رُوبرو آپ ہوں اور چشمِ سوالی ، اور میں 

مالکِ ارض و سما اور ہوں عشاقِ نبی
آپ ہوں ، نعت ہو اور سوزِ بلالی اور میں 

یہ انہی کا ہے کرم مجھ کو ملی ہے جنت
ورنہ بھٹکے ہیں بہت خام خیالی اور میں
٭٭٭


نعت شریف

ایک ہی خواب ہے اے کاش پذیرائی ہو
گنبد سبز ہو اور چشم تمنائی ہو

اک خیال ترو تازہ ہے فروزاں دل میں
اُن کی بستی میں رہوں اور سخن آرائی ہو

اور پھر یوں ہو کہ میں خواب سفر سے جاگوں
پھر اسی خاک مدینہ سے شناسائی ہو

میں نے جب ذکر کیا اُن کا تو پلکوں پلکوں
جس طرح رونق انجم ہی اُتر آئی ہو

کیف ملتا ہے مجھے، درد بھی تھم جاتا ہے
نعت تو جیسے کوئی دست مسیحائی ہو
٭٭٭

نعت مصطفیٰ

ہے مرا عرض ہنر، نعت نبی لکھی ہے
ہے یہی زاد سفر، نعت نبی لکھی ہے

مجھ کو دکھنے لگا اس پار کا منظر صاحب
کیوں نہ کھل جائے نظر، نعت نبی لکھی ہے

جب کبھی چاہوں میں فردوس میں جا سکتا ہوں
یہی جنت کا ہے در، نعت نبی لکھی ہے

میں جو الفاظ کو ترتیب سے رکھ لیتا تھا
دیکھیئے اوج ہنر، نعت نبی لکھی ہے!

گنبد سبز پہ پھیلے ہوئے انواروں کا
مجھ پہ ہو جائے اثر، نعت نبی لکھی ہے

ایک ہی خواب ہے سرکار کا روضہ دیکھوں
خواب کی ہو وے سحر، نعت نبی لکھی ہے

بس مجھے ان کے حوالے سے ہی جانا جائے
تا ابد چمکے ہنر، نعت نبی لکھی ہے

لے چلو ساتھ ہی الیاس کو طیبہ والو
ہے گنہ گار مگر نعت نبی لکھی ہے
٭٭٭


سچ یہی ہے کہ پلٹتا نہیں وارا ہوا دل
میں کسی اور کا ہوں پھر بھی تمہارا ہوا دل

اک زمانہ تھا ستاروں سی ضیا تھی مجھ میں 
میں ہوا راکھ تو اک ٹوٹا ستارا ہوا دل 

اُس کے ہاتھوں پہ جو مہندی تھی کسی اور کی تھی
اُس کی پلکوں پہ دھڑکتا تھا نتھارا ہوا دل

ہے فقیرانہ محبت کے سوا کیا مجھ میں 
مجھ میں ہے حجرہ نشیں درد کا مارا ہوا دل

آؤ یادوں کی گھنی چھاؤں میں بیٹھیں کچھ دیر
لے جاؤ گے کہاں تم بھی یہ ہارا ہوا دل

اور پھر یوں ہوا اعصاب میں طاقت نہ رہی 
اور پھر جسم مرا سارے کا سارا ہوا دل
٭٭٭


کون یہ مجھ میں چلنے لگا ہے ، دیکھوں تو!
نقشِ دل یا نقشِ پا ہے ، دیکھوں تو!

تنہائی کا سارا ترکہ میرا تھا
کون یہ سانسیں بانٹ رہا ہے ، دیکھوں تو!

کیسے سبز کناروں والے پتے ہیں
ہائے کس کا خواب پڑا ہے ، دیکھوں تو!

اندر کا ہے شور یا باہر گلیوں کا
میرے علاوہ کس نے سُنا ہے ، دیکھوں تو!

دل سے ہاتھ لپکتے ہیں ویرانے میں
شاید ایک کواڑ کھلا ہے ، دیکھوں تو!

نیلی جھیل رگوں میں آ کر بیٹھی ہے
پھر بھی کتنا خون بچا ہے ، دیکھوں تو!
٭٭٭


ہم اک عمر پسِ زنگِ گفتگو ہوئے ہیں
پھر اس کے بعد زمانوں کی جستجو ہوئے ہیں

یہی نہیں در و دیوار ٹوٹ پھوٹ گئے
تعلقات بھی کچھ قابلِ رفو ہوئے ہیں

یونہی نہیں یہ مری نیند کامیاب ہوئی
ہزار خواب ہیں جو پہلے بے نمو ہوئے ہیں

یہی ہوا ہے کسی اور نے تراش دیا
تُو جیسا چاہتا تھا دیکھ ہُو بہ ہُو ہوئے ہیں

ہوا تو کچھ بھی نہیں تیری دسترس کے بعد
ہمارے خواب ہیں کچھ جو لہو لہو ہوئے ہیں

ذرا سا خواب چمکتا ہے جاگ اٹھتے ہیں
اب ایک عمر ہوئی ترکِ آرزو ہوئے ہیں
٭٭٭


نظر کا راستہ ہموار کرنے والا ہوں 
خلا کو میں بدن آثار کرنے والا ہوں 

مری طرح نہ کہیں راستے میں رہ جائیں
جو لوگ سوئے ہیں بیدار کرنے والا ہوں 

ہواؤ کشتی بہرحال پار لے جانا
میں اپنےجسم کو پتوار کرنے والا ہوں 

یہی نہیں مجھے تلوار ہی اٹھانی ہے
محبتوں کا بھی پرچار کرنے والا ہوں

بڑوں کی جنگ میں بچے نہ میرے کام آئیں
میں اپنے گھر کو ہی مسمار کرنے والا ہوں

نجانے کتنے زمانوں کا بوجھ ہے بابر
وہ ایک اشک جسے پار کرنے والا ہوں
٭٭٭


تعلقات تھے باہم تجارتیں نہیں تھیں
ہمارے عہد میں چہرے بجھارتیں نہیں تھیں

میں خشک آنکھوں سے پہلو بدل کے چل پڑا تھا
کہ میری جیب میں اتنی بشارتیں نہیں تھیں

ہمارے لوگ ہی سرحد کی اس طرف کھڑے تھے
ہمارے پاس بھی اتنی سفارتیں نہیں تھیں

ہمارے عہد کے لوگوں میں رکھ رکھاؤ تو تھا
اگرچہ رشتوں میں پہلی حرارتیں نہیں تھیں

پرانا وقت تھا رستوں میں اور مکمل تھا
اجاڑ راستے ، ٹوٹی عمارتیں نہیں تھیں

میں ماں کی قبر کو بس ڈھونڈتا ہی رہ گیا تھا
یہاں تو قبریں تھیں اونچی زیارتیں نہیں تھیں
٭٭٭


وقت جب خواب تھا تو ذکر ترا تھا تب بھی
وقت کی آخری حد تک بھی ہے چرچا تیرا

سب کا سب تجھ سے ہے خالق کی محبت کا ثبوت
سب کا سب عالمِ تخلیق ہے صدقہ تیرا

بس یہی بات ہے جو زادِ سفر رکھی ہے
بے سہاروں کو میسر ہے سہارا تیرا

پھیلتی جاتی ہے موجود کی وسعت ، کیونکہ
پھیلتا جاتا ہے ہر سمت اجالا تیرا

آنکھ میں تاب کہاں حسنِ مکمل دیکھے
دل سے دیکھا ہے زمانوں نے اجالا تیرا

سانس دریا کی کوئی لہر کہیں لے جاتی
ہم ہیں خوش بخت ، میسر ہے کنارا تیرا

تیری امت سے ہیں سو بخش دیے جائیں گے
ہم گنہ گاروں کو کافی ہے حوالہ تیرا

سب کا سب تیرا ہے موجود بھی اور نا موجود
رب ترا ہم بھی ترے اور زمانہ تیرا

زندگی ایک سفر اور سفر بھی مشکل
میں تو مر جاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا
٭٭٭





ایک دیوار ہے سایہ ہے چراغِ شب ہے 
جس نے یہ خواب سنایا ہے چراغِ شب ہے

دہر کی آنکھ میں پھیلے ہوئے پاتال سے جو
روشنی ڈھونڈ کے لایا ہے چراغِ شب ہے

تُم نے جو بات بتائی تھی گھنی رات تھی وہ
میں نے جو اشک بہایا ہے چراغِ شب ہے

رات نے چاند ستاروں کی سجا کر محفل
میرے بارے یہ بتایا ہے ، چراغِ شب ہے

کتنے بھنوروں کو نظر آنے لگے ہیں رستے
شاخ پر پھول جو آیا ہے چراغِ شب ہے

بانسری جس نے بجائی ہے وہ دریا زادہ
اور کھڑکی میں جو آیا ہے چراغِ شب ہے

میرے اطراف میں اک نور ہے رقصاں بابر
شعر جو اس نے سنایا ہے چراغِ شب ہے
٭٭٭


سروں پہ آن کے اترے وبال آخری رات
چراغ کھانے لگے اشتعال آخری رات

ابھی تو حبس میں تجھ کو پکار لیتا ہوں
پھر ایک چپ میں ہزاروں سوال آخری رات

وہ پھول پھول میں معدومیت کا پھیلاؤ
وہ شاخ شاخ تمہارا خیال آخری رات

جو اک شعاعِ تب و تاب کھو گئی ہم سے
اُسی سے ہو گا ہمارا وصال آخری رات

ابھی تو دن کا اجالا ہے خیریت ہو گی
بہت ستائے گا تجھ کو ملال آخری رات

تُو ایک پیڑ ہے اتنا نہ سبز ہو بابر
جھڑیں گے جسم سے یہ ماہ و سال آخری رات
٭٭٭


اتنی ٹھہری ہوئی خاموشی میں جھنکار نہ بن
درد چپ رہ مری تنہائی کا آزار نہ بن

عشق میں رائگاں یوں ہوں کہ بھرم رہ جائے
میں کہانی نہ بنوں تُو کوئی کردار نہ بن

مجھے راس آنے لگی ہے بیابانی تیری
وسعتِ دشت مرے واسطے گھر بار نہ بن

دل دھڑک بھی مجھے ہونے کا یقیں آ جائے
کر نمو یاب مجھے سینے کا زنگار نہ بن

یہی بہتر ہے پڑے گھر میں رہیں خالی ہاتھ
اب وہ پہلے سے رہے ہیں ترے ، بازار نہ بن

ایک لافانی عنایت نے بلایا ہے مجھے
اے مرے جسم مرے راہ کی دیوار نہ بن
٭٭٭


زمیں کی حد پہ کفِ آسمان سا کیا ہے؟
مکین پوچھتے ہیں لامکان سا کیا ہے؟

مرا دماغ مجھے اور ہی بتاتا ہے
اگر کچھ اور ہُوں تو جسم و جان سا کیا ہے؟

میں اپنے رُوبرُو ہوتا ہوں اور یہ سوچتا ہوں
یہ آب و گل ہے عجب استخوان سا کیا ہے؟

اگر کوئی بھی نہیں ہے تو پھر کوئی بھی نہیں
تو پھر روایتوں میں داستان سا کیا ہے؟

وہ ایک بات جسے محو کر دیا گیا تھا
طلوعِ شامِ فسوں اس کا دھیان سا کیا ہے؟

یہ سچ نہ مانو تو پھر دائرہ نہیں بنتا
خدا نہیں ہے تو وہ مہربان سا کیا ہے!
٭٭٭


زمیں کے چاک سے پہلے بنائے جا چکے تھے 
ہمارے جسم کہیں آزمائے جا چکے تھے

تمہارے شہر کی دیواریں نام لیتی تھیں
ہمارے نام اگرچہ مٹائے جا چکے تھے

گزار آئے تھے ہم لوگ ضبط کا موسم
ہمارے اشک ہمی کو پلائے جا چکے تھے

اجاڑ دی گئی تھیں بستیاں محبت کی
مکان بننے سے پہلے ہی ڈھائے جا چکے تھے

ندی کے پار دکھائی گئی ہمیں منزل
اور اُس پہ نقشِ قدم بھی مٹائے جا چکے تھے

کبھی کبھی یہ تاثر بھی سر ابھارتا ہے
ہم اپنے ہونے سے پہلے بھی پائے جا چکے تھے
٭٭٭


سانس میں یہ جو اک خلا سا ہے
اصل میں تجھ سے رابطہ سا ہے

اس سے میں اختلاف کرتا ہوں
زندگی ایک سانحہ سا ہے

اصل میں ہے وہی خدا میرا
میری سوچوں میں جو خدا سا ہے

اُس کے چہرے پہ گرد ہے لیکن
نام اس کا مگر سنا سا ہے

لڑتا رہتا ہے بس ہواؤں سے
میرا بابر بھی اک دیا سا ہے
٭٭٭



شہرِ دلگیر کی عظمت کے حوالے ہوئے ہیں 
وہ جو کچھ لوگ ترے دل سے نکالے ہوئے ہیں 

کتنی راتوں کو پس انداز کیا ہے ہم نے
تب کہیں جا کے تری شب کے اجالے ہوئے ہیں 

ہم نے اس طور سے طے ہجر کا صحرا کیا ہے
اب کے پیروں میں نہیں اشک میں چھالے ہوئے ہیں 

اس خرابے میں بھلا کون وفا کرتا ہے
یہ روایت تو فقط ہم ہی سنبھالے ہوئے ہیں 

شہر کا حال بتاتا ہے کھنڈر ہوتی شام
اور بھی لوگ ترے چاہنے والے ہوئے ہیں
٭٭٭


دھوپ کو چھاؤں کیا خاک کو چھتنار کیا
دل نے تب جا کے مجھے صاحبِ اسرار کیا

شام دہلیز نہ کی ، خواب بھی روزن نہ کیے
وقت دروازہ کیا ، جسم کو دیوار کیا

اُس نے یوں ہی نہیں ہاتھوں سے بنائی کشتی
اُس نے طوفاں کو مرے واسطے ہموار کیا

آج بھر رات کی رانی سے الجھ کر اُس نے
جھیل سے بات نہ کی چاند کو بیزار کیا

ہم کہ تنہا ہی رہے ، رختِ سفر بھی نہ رہا
ہمسفر راستوں کو ہم نے کئی بار کیا
٭٭٭


مجھے طوفان سے تھوڑی محبت ہو گئی ہے
درختوں نے سنائی ہے مجھے رُوداد ایسی

میں ترجیحات میں ان کی نہیں شامل رہا اب
کہاں سوچا تھا نکلے گی مری اولاد ایسی

میں اپنے مرکزی کردار سے بھی ہٹ گیا ہوں 
حکایت ہو گئی مجھ سے مری برباد ایسی

یہ میں ہی ان دنوں تجھ کو زیادہ سوچتا ہوں 
نہ تیرا درد ایسا تھا ، نہ تیری یاد ایسی

ہم اپنے ہی گھروں میں اجنبی ہونے لگے ہیں
در و دیوار پر اُتری ہے اب اُفتاد ایسی
٭٭٭



کچھ لوگ ستاروں سی تنویر نہیں بنتے
بن جائیں اگر دل کی ،جاگیر نہیں بنتے

کچھ کرب میں پلتے ہیں کچھ اشک میں ڈھلتے ہیں
سب درد تو شعروں کی تاثیر نہیں بنتے

رُت نے بھی بدلنا تھا ،تم نے بھی بچھڑنا تھا 
یہ عہد تو پیروں کی زنجیر نہیں بنتے

ہر روپ بسایا ہے رنگوں کی حویلی میں
کچھ لوگ ہیں کاغذ پر ، تصویر نہیں بنتے

بنتے ہیں مقدر لوگ ،اک عمر پگھلنے سے
دوچار قدم چل کر ، تقدیر نہیں بنتے
٭٭٭



وقت دریا ہے اُسے جھیل بنا دیتے ہو
دیکھتے ہو جسے تمثیل بنا دیتے ہو

چاک در چاک ترے لمس کی لو بولتی ہے
خاک چھوتے ہو تو قندیل بنا دیتے ہو

یہ ترا حسن کئی بار تو یوں کھلتا ہے
جسم برفاب ، لہُو نیل بنا دیتے ہو

خواب سا ہے کہ ہے پتھر جیسا
وقت ہے گرد سے منظر جیسا
٭٭٭



یہ تو کچھ رنگ ہیں کچھ موسم ہے
میں کہ باہر نہیں اندر جیسا

در و دیوار ہیں جیسے نئیں ہیں
گھر نہیں کوئی مرے گھر جیسا

آسماں اس بدل ڈالا تھا
شخص اب وہ نہیں اختر جیسا



بندہ مٹی ہو جاتا ہے  راتوں رات
خاک کو اوڑھ کے سو جاتا ہے ، راتوں رات

ہم اشکوں میں اور دعاؤں میں رکھتے ہیں
کھونے والا کھو جاتا ہے راتوں رات

دل کی حالت راتوں رات بدل جاتی ہے
کوئی درد سمو جاتا ہے راتوں رات

میری پلکیں اکثر بوجھل سی رہتی ہیں
کوئی اشک پرو جاتا ہے ، راتوں رات

عمریں لگ جاتے ہیں منظر بُنتے، لیکن
کرچی کرچی بو جاتا ہے ، راتوں رات
٭٭٭


نظر نمو کے مرحلے گزار کر
پلٹ کے سنگ سے مجھے غبار کر

مرے نصیب کی ریاضتیں تو دے
مرا چراغ مجھ پہ آشکار کر

فقیرِ اپنی روح کے گداز میں
چلا ہےِ جسم خاک پر اتار کر

تمہیں سکھائیں گے زیاں کا لطف ہم
ہمارے ساتھ آ کے کاروبار کر

ستارے ٹوٹنے میں تھوڑا وقت ہے
شب درازِ تھوڑا انتظار کر

حروفِ التفات کی نظر میں رہ
چراغ سے کلام استوار کر 

فلک تمہارا پوچھنے کو آئے گا
ہمارے ساتھ خاک اختیار کر
٭٭٭

دن کبھی کارِ  ہنر ہوتا تھا
جن دنوں رات سفر ہوتا تھا

شہر میں ہوتے تھے قصے میرے
میں کبھی رزقِ  خبر ہوتا تھا

روشنی ہوتی تھی پلکوں پلکوں
چشم جب برگِ  سحر ہوتا تھا

لوگ حلقے میں چلے آتے تھے
میری باتوں میں اثر ہوتا تھا

بس تجھے دیکھ لیا کرتے تھے
بس یونہی رنج بسر ہوتا تھا

میں بھی ہوتا تھا ترے ترکے میں
بس پسِ  راہگزر ہوتا تھا

میری بھی بات سنی جاتی تھی
میرا بھی نقطہ نظر ہوتا تھا
٭٭٭


چاک پہ گیلی مٹی کو ایمان کیا تھا
میں نے ایک زمانے کو حیران کیا تھا

دکھنے میں تو سارا ٹوٹ گیا تھا، لیکن
میں نے اپنے ہونے کا سامان کیا تھا

یہ جو میں نے چھوڑ دیا تھا تجھ کو صاحب
میں نے تیری مشکل کو آسان کیا تھا

اس بستی پر صدیوں سے ہے رات مسلط
اس بستی نے سورج کا اپمان کیا تھا

گاؤں والے تو ناحق بدنام ہوئے ہیں
شہر تو ، رہنے والوں نے ویران کیا تھا
٭٭٭



یعنی اک خواب کی مہلت ہے مجھے
تجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے

روز اک خواب میں ڈھل جاتا ہوں
درد کی کتنی سہولت ہے مجھے

اپنی تنہائی سے ڈر جاتا ہوں 
رفتگاں تیری ضرورت ہے مجھے

راہ میں سنگ بنا بیٹھا ہوں
ان دنوں سانس سے فرصت ہے مجھے

آئنہ جسم بنا لیتا ہوں
خواب اس درجہ حقیقت ہے مجھے

میں نہیں دشت سے جانے والا
موسمِ گل کی بشارت ہے مجھے

موت سے بات نہیں ہو پاتی
زندگی جیسے حراست ہے مجھے

تم مری یاد میں تازہ رہنا
بھول جانے کی بھی عادت ہے مجھے
٭٭٭


کتنی صدیوں کا استعارا تھا
پیڑ جو ٹوٹنے ہی والا تھا

دور تک ہجر تھا ، مسافت تھی
اور دریا کا اک کنارا تھا

آخری سانس تک رفاقت کی
تیرا غم کتنا دیکھا بھالا تھا

اب کوئی اور عکس ہے اُس میں
میں نے جس آئنے کو چاہا تھا

میں نے سمجھا کہ دشت کی حد ہے
وہ مری آنکھ کا کنارا تھا

بس ذرا دیر زندگی کی تھی
بس ذرا دیر اُس کو دیکھا تھا

جھیل ! اک شام تیری آنکھوں میں
خواب کے ساتھ میں بھی ٹھہرا تھا

ٹھیک سے یاد بھی نہیں وہ شخص
بھول جاتا اسے تو اچھا تھا

جو گلی بند تھی کھلی دیکھی
میں نے جس زاویے سے دیکھا تھا

ہم کہ جس شخص کے نہیں ، صاحب 
اک وہی شخص تو ہمارا تھا

میری پہچان مر گئی بابر
میرا دشمن مرا حوالہ تھا
٭٭٭


آئنے کی راکھ میں صحرا نہ ہو
جسم تُو سمجھا جسے سایہ نہ ہو

کیا کریں گے پھر نمو ، سیلِ جنوں
سامنے دیوار ہو ، رستہ نہ ہو

کب کہاں دیکھا کناروں کا ملاپ
ہو بھی سکتا ہے کبھی ایسا نہ ہو

روشنی تو ہے طلسمِ آگہی
یہ اندھیرا بھی کہیں ہوتا نہ ہو

سب سفر پھر رائگاں ہو جائیں گے
سازِ ہستی ہو ، مگر بجتا نہ ہو

لفظ تو اک عارضی مفہوم ہیں
یہ جو ہونا ہے، کہیں ہونا نہ ہو
٭٭٭



دل کے اندر ٹوٹے پھوٹے پیڑ کی شاخ گرا دینے سے
عشق پرندہ لوٹ‌ نئیں‌آتا ہے اک بار اڑا دینے سے

شہر کے رہنے والوں میں میرے کردار کی عزت دیکھو
تیرا قد ہی کم ہو گا میری دستار گرا دینے سے

تھوڑے تھوڑے کرب کی صاحب اپنی ہی لذت ہوتی ہے
درد ادھورا رہ جاتا ہے دل کی بات بتا دینے سے

یہ تو صاحب ایسا کرنے سے دل ہلکا ہو جاتا ہے
باغ کا حسن تو کم نئیں‌ہوتا شاخ سے پھول گرا دینے سے

مجھ میں جتنی رونق ہے یہ اس کے درد کے کارن سے ہے
دل آباد کہاں رہ پائے اُس کی یاد بھلا دینے سے
٭٭٭


صحبتِ  غم سے ہے بہتر، پسِ  زنداں ہو رہو
یہ بھی کیا بات ہوئی دیدہ ء ویراں ہو رہو 

درد آئینہ کرو وحشتیں تمثیل کرو
ٌ خاک کی خاک اڑاؤ سو درخشاں ہو رہو

مثلِ  آدرش رہو رسمِ  مروت میں تو کیا؟
خواب تجسیم کرو قریہ ء تاباں ہو رہو

ہم نے تو کارِ  تنفس سے یہ سیکھا ہے ، حضور
بس کوئی خواب بنو دشت و بیاباں ہو رہو 

لوگ کہتے ہیں مری آنکھیں نہیں آئینہ ہیں
اتنا ٹھہراؤ ہے پانی میں کہ ، حیراں ہو رہو
٭٭٭


کتنے موسم کٹ جاتے ہیں اس کی یاد بھلانے میں
خود سے لڑنا پڑ تا ہے پھر خواب سے باہر آنے میں

آبلہ پائی دیکھ کے میری منزل مجھ تک آئی تھی
لیکن میں مصروف رہا اس دل کا بار اٹھانے میں

تم کو اپنی کشتی کی خستہ حالی کا رونا ہے
میرے بازو کام آئے ہیں کشتی پار لگانے میں

جانے کتنے رنگ ہیں اس کے جانے کتنے لہجے ہیں 
لفظ ادھورے پڑ جاتے ہیں اس کی بات بتانے میں

ہم دونوں نے شاید کوئی اور محبت کرنا تھی
تم نے ساری عمر لگا دی اتنی بات بتانے میں

یہ بھی سچ ہے عشق کا رستہ خاصا مشکل ہوتا ہے
پر اس نے دانستہ بدلا اور میں نے انجانے میں
٭٭٭



کبھی کبھی کوئی وحشت قیام کرتی ہے
تو دل میں سوئی ہوئی شب کلام کرتی ہے

حیات پہلے کوئی راستہ نہیں دیتی
پھر اس کے بعد یہ حجت تمام کرتی ہے

مری رسائی کا اب خود ہی کر لو اندازہ
فلک کے ساتھ نظر اختتام کرتی ہے

بس اپنا اپنا تعلق ہے راستوں سے حضور
مجھے تو راہگزر بھی سلام کرتی ہے

حیات اتنی ہی مشکل ہے کوئی بتلائے
یا خاص میرے لیے اہتمام کرتی ہے
٭٭٭

 ·

نظر سے گر کے کچھ ایسی دراڑیں پڑ گئی ہیں
میں اتنا تھا نہیں جتنی دراڑیں پڑ گئی ہیں

میں پتھر ہوں نہیں پتھر کے جیسا دِکھ رہا ہوں
میں آئینہ ہوں بس تھوڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں

گھروں میں لوگ شب بھر جاگتے رہتے ہیں اب تو
در و دیوار میں اتنی دراڑیں پڑ گئی ہیں

دراڑیں پڑ گئیں مجھ میں تو میرا کیا بنے گا
بس اتنا سوچنے سے ہی دراڑیں پڑ گئی ہیں

ہم اک کمرے میں سارے لوگ تنہا رہ رہے ہیں
مراسم میں جو تہذیبی دراڑیں پڑ گئی ہیں

میں پُورا ہی چٹخ جاؤں گا اک دن دیکھ لینا
مرے سر میں بھی چمکیلی دراڑیں پڑ گئی ہیں
٭٭٭


مہر بہ لب ہوں شبیں تو چراغ بولتے ہیں
کہ جیسے چاند کے چہرے پہ داغ بولتے ہیں

وہ کج کلاہی ہماری ، وہ داستانِ  عروج
ہمارے ہاتھ پہ رکھے ایاغ بولتے ہیں

بے مہر شہر ہے پر درد میرا جانتا ہے
میں چپ رہوں بھی تو سینے کے داغ بولتے ہیں 

سنبھل سکے گا نہ تم سے ہنروری کا جلال
ہمارے شہر کے اہلِ  دماغ بولتے ہیں

نجانے کون زمانوں کا تذکرہ ہیں یہ پھول
نجانے کون کتھائیں یہ باغ بولتے ہیں

وہ میہماں کی روایت ہی ہو گئی متروک
اگرچہ روز بنیروں پہ زاغ بولتے ہیں
٭٭٭

ذات کا کباڑ


یہ ڈھیر جو لگا ہوا ہے خستہ حال پیڑ سے 
سخن سرائے سے پرے، کمین گاہ حشر سے 
خیال آفرینیاں بگھارتے چلے تھے جو
سفر کے ساربان سے الجھ پڑے 
کنار شام زرد زرد داشتاؤں کا لباس
جیسے سطح آب پر تھکن کسی پرند کی
کسی فصیل پر دھرا چراغ جس کی لو سے اٹھ رہی ہے باس وقت کی
پگھل پگھل کے آئینہ ء چشم پر
بنا رہے منظر سیاہ کا حسیں بدن
یہ لفظ لفظ کرچیاں، یہ حرف حرف خار ہیں 
سخن سرائے سے پرائے 
بڑے حسیں دیار ہیں، جہاں فقط سکوت ہے 
تمام رات سوچنے میں اس طرح گزر گئی
میں کس کو حرف میں رکھوں 
میں کس کو لفظ میں بُنوں 
یہ کار گاہ ہست ہے، بڑا حسین خواب ہے 
یہ دور تک سراب ہے 
یہ ڈھیر جو لگا ہوا ہے خستہ حال پیڑ سے 
خیال نو میں قید میری ذات کا کباڑ ہے 
٭٭٭



کبھی کبھار ملو مہربان، لوگوں سے 
خدا بچا کے رکھے بدگمان لوگوں سے 

نبھا رہا تھا میں تنہا، زمین سے نسبت
بھرا ہوا تھا مگر آسمان لوگوں سے 

میں اب کے خاک سے کچھ لفظ لکھنے والا ہوں 
کہ بھر گیا ہے مرا خاکدان لوگوں سے 

میں ایک پیڑ ہزاروں کی دھوپ سہتا تھا
جھلس رہا ہے مرا سائبان لوگوں سے 

میں ایک سادہ روایت پسند بنجارہ
پڑا ہے پالا مرا نو زمان لوگوں سے 

میں اپنے نطق کو نیلام کرنے والا ہوں 
مجھے نبھانا ہے ان بے زبان لوگوں سے 

نہ ساحلوں سے کبھی کشتیوں نے چلنا ہے 
نہ بن سکے گا کبھی بادبان لوگوں سے 

یہ خستہ تیر نہیں ہیں، جواز ہیں میرا
میں چھین لاؤں گا اک دن کمان لوگوں سے 
٭٭٭



کاش یہ بحر طلسمات کٹیں 
رہن رکھے ہوئے دن رات کٹیں 

اپنا اک خواب مرے نام کرو
مجھ سے بگڑے ہوئے حالات کٹیں 

خود بخود سنگ تراشے ہے تجھے 
میں تراشوں تو مرے ہاتھ کٹیں 

ایک ہی عکس ہے جو کاٹتا ہوں 
کتنے آئینے پس ذات کٹیں 

زلزلے میں، فقط اک میں ہوں بچا
کوئی آئے مرے صدمات کٹیں 

تیری تصویر، تری راہگزر
جو بھی ہیں درد کے آلات کٹیں 

کوئی دکھ بانٹنے آئے تو سہی
شہر والوں سے فسادات کٹیں 

پہلے گردن کو مری کاٹیے گا
اور پھر دست کمالات کٹیں 
٭٭٭



بیت جائے نا کہیں رات کوئی بات کرو
جانے پھر کب ہو ملاقات کوئی بات کرو

بے وفا مجھ کو کہو یا کوئی شکوہ ہی کرو
ہے گوارا تیری ہر بات کوئی بات کرو

روٹھ جاؤ ہر بار تمہیں منا لوں گا
کچھ تو سمجھو میری بات کوئی بات کرو

تجھ کو دیکھا ہے تو تھمنے لگی زخموں کی جلن
دو نا درد کی سوغات کوئی بات کرو

موسمِ ہجر میں ویراں ہے میرے دل کی زمیں 
پل میں ہو جائے گی برسات کوئی بات کرو
٭٭٭




طوفاں کے محشر میں عمر گزاری ہے 
گویا ایک شجر میں عمر گزاری ہے 

صحن میں وحشت ڈیرہ ڈال کے بیٹھی تھی
گھر والوں نے در میں عمر گزاری ہے 

پیروں میں ہیں آبلے، خاک آلودہ سر
یوں تو میں نے گھر میں عمر گزاری ہے 

اک انجانی آنکھ کا قیدی بن بیٹھا
پھر اُس کے تیور میں عمر گزاری ہے 

میں سائے میں ہو جاتا ہوں اب تحلیل
میں نے عکس نگر میں عمر گزاری ہے 

ہر منظر پس منظر بنتا جاتا ہے 
یعنی ایک سفر میں عمر گزاری ہے 
٭٭٭




آئنہ شہر کا سماں بکواس
ہے فریبِ نظر جہاں بکواس

میں شکاری کی قید میں ہوں ، تو
تیر بکواس ہے کماں بکواس

چل خرابے میں دشت ڈھونڈنے چل
شہرِ ناپید کا گماں بکواس

جل کے بھی شعلگی نہیں ٹھہری
راکھ بکواس ہے دھواں بکواس

صاحبو! ڈھونڈیے تو میں جانوں
ہے غزل میں کہاں کہاں بکواس
٭٭٭




چراغ ، خونِ جگر تھا میرا ، شرر سے پہلے
زمیں سے اُگتے تھے خواب میرے ، شجر سے پہلے

وہاں پہ اک آفتاب رقصاں ہے مدتوں سے
جہاں مسافر بچھڑ گئے تھے ، سحر سے پلے

اگر یہ منزل ہے میری ، مجھ کو صدائیں دے گی
میں اپنی آنکھیں لُٹا کے آیا ہوں ، گھر سے پہلے

وہ ایک خوابیدہ گفتگو تھی ، جو خامشی تھی
کلام کرتی ، فلک پہ اُٹھتی نظر سے پہلے

تمہارے ہاتھوں میں ، میں رہا ہوں بگڑتا بنتا
نجانے کتنے سفر کیے ہیں ، سفر سے پہلے

یہ ساری تخلیق صرف اُس کی ہی وسعتیں ہیں
جو خوابِ اول بنا تھا خوابِ دگر سے پہلے
٭٭٭



دشت ہے ، شامِ غریباں ہے ، تھکن ہے صاحب!
سر مرا تیر ہے  تلوار بدن ہے ، صاحب !

میرا چہرہ  مری پہچان میں  آتا ہی نہیں
آئنے میں مجھے لگتا ہے شکن ہے صاحب !

میں تو دانستہ ! اُسے بھول گیا تھا  لیکن
بس ذرا ہلکی سی سینے میں چبھن ہے، صاحب !

شان و شوکت سے  سروکار ،کہاں ہے ہم کو
ہم فقیروں  کو تو دستار کفن ہے ، صاحب !

اس خرابے میں  گزرگاہ  بنائی گئی ہے
پاؤں میں ہاتھ ہیں ، ہاتھوں میں بدن ہے ، صاحب!
٭٭٭



اک دیا سطح  آب چل پڑا ہے
وقت اوقات سے نکل پڑا ہے

اُس کے چھونے سے جم گئی ہے سانس
آئنہ دیکھنے سے جل پڑا ہے

کتنی آسانیوں میں ہے مشکل
کس خرابے میں اس کا حل پڑا ہے

آئنے میں پڑی ہوئی ہے شکن
دل کی چُٹیا میں جیسے بل پڑا ہے

آج اُس کو بھی میری یاد آئی
آج وہ شخص بھی اُبل پڑا ہے

آمنے سامنے پرندے ہیں
اور رستے میں ایک تھل پڑا ہے
٭٭٭



شاعر دل کا درد ، بڑھانے آ جاتے ہیں
اپنی اپنی چول سنانے آ جاتے ہیں

بکری جیسی واج میں سُر اور لے کے ساتھ
بابے شابے شعر سنانے آ جاتے ہیں

کڑیاں شُڑیاں ہاسا ہُوسا کر لیتی ہیں
منڈے اکھ نل اکھ ملانے آ جاتے ہیں

پیسے دے کر غزلیں لکھنے والے لوگ
کونجاں دے وچ کاگ رلانے آ جاتے ہیں
٭٭٭



یہاں کُتے ، وہاں کُتے
تمہارے درمیاں کُتے

یہ انسانوں کی بستی ہے
ہیں ان میں بھی نہاں کُتے

یہ کُت خانہ ہے مغرب کا
جواں "کتیاں  " جواں کُتے

کہاں لُومڑ ، کہاں کھوتا
کہاں بلی ، کہاں کُتے

ہے جعلی آئی ڈی جن کی
نہاں کُتے ، عیاں کُتے

بڑی چالاک بلیاں ہیں
بڑے ہیں بدگماں کُتے
٭٭٭



ضبط کے مرحلے سے گزرے ہیں
ہم ترے راستے سے گزرے ہیں

اب جہاں دھول کی چٹانیں ہیں
ہم اسی آئنے سے گزرے ہیں

شہر بھر میں ہے تذکرہ جس کا
ہم اُسی سانحے سے گزرے ہیں

ہم سے تُو ہوں ہی بدگمان نہ ہو
ہم یونہی فاصلے سے گزرے ہیں

زندگی ہارنے سے گزری ہے
سانحے ٹوٹنے سے گزرے ہیں
٭٭٭



کشتیوں کی راکھ میں رہ جائیں گے
خواب اک دن خاک میں رہ جائیں گے

جائیں گے ٹوٹے ستارے دیکھنے
اور کہیں افلاک میں رہ جائیں گے

کوئی کوئی منزلوں کو پائے گا
کچھ ستارے خاک میں رہ جائیں گے

سسکیاں بن جائیں گے اک روز ہم
دیدہ ء نمناک میں رہ جائیں گے

ہم دیوں پر گرد پڑ جائے گی اور
بن جلے ہی طاق میں رہ جائیں گے

میں نے منزل پر پہنچ جانا ہے ، اور
لوگ میری تاک میں ، رہ جائیں گے
٭٭٭






خواب جھوٹے ہیں ، خواب گر جھوٹے!
لوگ جھوٹے ہیں ، راہبر جھوٹے!

بعد تیرے بدل گیا سب کچھ
پھول اگتے ہیں شاخ پر ، جھوٹے !

میں کسی اور راستے پر تھا
ساتھ میرے تھے ہم سفر جھوٹے!

خاک اُڑتے سبھی نے دیکھی تھی
آپ اور اتنے بے خبر؟ جھوٹے!

آندھیاں سچ سے ہار جاتی ہیں
ٹوٹ جاتے ہیں سب شجر جھوٹے!

ان کو منزل کبھی نہیں ملتی
پھرتے رہتے ہیں در بدر ، جھوٹے!

اور گماں سچ کا ہونے لگتا ہے
لوگ ہوتے ہیں اس قدر ، جھوٹے؟
٭٭٭




تیرے لبوں پہ حرفِ ملامت نہیں بنے
صد شکر ہے کہ تیری ضرورت نہیں بنے

اچھا ہوا کہ راہ میں دیوار آ گئی
بہتر ہوا کہ صیدِ رفاقت نہیں بنے

مشکل ہوئی تو ترکِ تعلق ہی کر لیا
اک دوسرے کے واسطے زحمت نہیں بنے

چپ چاپ ڈھل گئے تھے فسانے اور ہم
تا عمر یوں رہے کہ حقیقت نہیں بنے
٭٭٭



وقت کا انہدام ہونے سے
تُو کھلا مجھ پہ شام ہونے سے

عقدہ ء ہست و بود کھلتا ہے
خاک سے ہمکلام ہونے سے

سرخوشی کا یقین آیا ہے
درد کا اہتمام ہونے سے

وقت معدوم ہو گیا آخر
تیری گلیوں میں شام ہونے سے

دل کی صورت نہیں رہی باقی
دل کی حجت تمام ہونے سے
٭٭٭




آنکھ میں نقشِ تب و تاب بنایا نہ گیا
درد کو اطلس و کمخواب بنایا نہ گیا

کوئی بتلائے سمندر کے حوالے کر کے
کیوں ہمیں موجِ ظفر یاب بنایا نہ گیا

خون اک خواب کا گلیوں میں فروزاں ہوا تھا
پھر بھی تعبیر کو زریاب بنایا نہ گیا

کیوں نکالا گیا امکان سے صورت دیکر
کیوں تیقن سے مجھے خواب بنایا نہ گیا

کیوں ہمیں سورہ ء احزاب سنائی نہ گئی
کیوں ہمیں موجِ ظفر یاب بنایا نہ گیا
٭٭٭



رانو

میرے ابو صاحب جی کی گاڑی لے کر جاتے ہیں
صبح سویرے چاندی جیسی وردی پہنے
، سر پر چھجے والی ٹوپی
ہاتھ میں ٹیں ٹیں والی چابی ، چہرے پر مسکان سجانے
میرے ابو صاحب جی کی گاڑی لے کر جاتے ہیں

صاحب جی کی بیٹی پنکی، لال گلابی ربن پہنے
روز اسکول کو جاتی ہے ، شام کو واپس آتی ہے
میں بھی صبح سویرے بستہ لیکر باہر جاتی ہوں
پر واپس آ جاتی ہوں
میری امی کہتی ہیں کہ اگلی بار کمیٹی نکلے گی تو
رانو بیٹا کو بھی لال گلابی ربن والے مدرسے میں ڈالیں گے
٭٭٭




بات بڑھ جائے گی سرکار ، چلو جانے دو!
ہم بھلے ، آپ تھے عیار ، چلو جانے دو!

ہاں ! کھلا تھا تو سہی ہم پہ عدم کا رستہ
پر کسی ساعتِ سیار ، چلو جانے دو!

یہ محبت کسی کشتی کی طرح ہوتی ہے
جس کے ہوتے نہیں پتوار ، چلو جانے دو

زندگی ! اتنی بھی قیمت نہیں کم تھی میری
یہ کوئی اور ہے بازار ! چلو جانے دو

خواب سے قطعِ تعلق بھی نہیں ہو پاتا
ساتھ چلنا بھی ہے دشوار ، چلو جانے دو
٭٭٭

گواہ!


قفس دریچے میں دھرنے والے کدھر گئے ہیں 
سکوت دہلیز میں پڑا ہے نجانے کب سے 
یہ رسمِ تازہ تو باغ میں چہچہاتی چڑیاں بھی جانتی ہیں
کہ دیپ بجھنے کی ساعتوں کو نظر میں رکھنا بڑا کٹھن ہے
قفس دریچے میں جس نے رکھا
وہ جانتا تھا کہ راستوں کا طلسم مٹی میں مل گیا ہے
پرندے حیران ہو گئے تھے
فضا میں کتنی مسافتوں کا صعوبتوں کا 
اساوری بُوم بولتا تھا
کچھ اس طرح سے یہاں ہوا تھا
سنہری گندم کے طاقچوں میں
پرانے موسم کا بھس بھرا تھا 
مسافرانِ عدم رُکے تو ، درخت پھولوں سے بھر گئے تھے
لہو زدہ ریشمی دعائیں ، چراغ بجھنے سے جل اٹھی تھیں
یہیں کہیں صحبتِ قفس میں
گداز رکھا ہوا تھا دل کا
کلام کرتی ہوئی محبت ، سلام کرتا ہوا تبسم
نئے نویلے گلاب اندر دھڑک رہا تھا
پرندے سہمی ہوئی محبت کو جانتے تھے
انہیں خبر تھی کہ دو گھڑی میں 
یہ خواب ٹوٹے گا چار جانب
کوئی صدا گھنگروں کے بستی سے آ گئی تھی
افق دیارِ نظر سے پہلے گلاب چہرے میں ڈھل چکا تھا
کسی نے گھوڑے کو ایڑ دی اور
کسی کے دامن پہ داغ آیا
فقس دریچے میں رکھنے والا چلا گیا ہے
مگر پرندے! یہیں پڑے ہیں گواہ بن کر
٭٭٭






اپنے من کی آگ میں جلنا پڑتا ہے
جسم کو یوں اک روز پگھلنا پڑتا ہے

میں اور سایہ سو جاتے ہیں بستر پر
صبح سویرے کام پہ چلنا پڑتا ہے

چاہے جتنی تیز ہو کاٹ شعاعوں کی
دھوپ کو تو دیوار سے ڈھلنا پڑتا ہے

جیسے میں ہر صبح کو دفتر جاتا ہوں
سورج کو بھی روز نکلنا پڑتا ہے

آڑے آ جاتی ہے کوئی مجبوری
خوابوں کو ہر روز کچلنا پڑتا ہے

اول اول لوگ منافق لگتے ہیں
پھر ایسے ماحول میں ڈھلنا پڑتا ہے

کب تک میٹھا رکھ سکتے ہیں لہجے کو
آخر اک دن زہر اگلنا پڑتا ہے
٭٭٭



ہار جاؤں گا جو اُس پار نظر آئے تو
تیرے لشکر میں مرے یار نظر آئے تو

شکر صد شکر کہ دُکھ بانٹنے آئیں چڑیاں
قید میں اور بھی کردار نظر آئے تو !

بیچنے آیا ہوں میں خواب کے تازہ موسم
دشت میں کوئی خریدار نظر آئے تو !

کُود جاؤں گا میں اس دھند بھرے منظر میں
کچھ مگر خواب کے اُس پار نظر آئے تو

حکم دیوار گرانے کا ملا ہے، لیکن
کوئی اپنا پس دیوار نظر آئے تو !

طشت میں رکھ کے اُسے پیش کروں گا بابر
سر کوئی قابل دستار نظر آئے تو !
٭٭٭



راکھ سے تتلیاں بناتا ہوں
میں ہنر کو زباں بناتا ہوں 

جسم کو ڈھالتا ہوں تیروں میں
میں لہو سے کماں بناتا ہوں

انگلیاں صرف ہوتی جاتی ہیں
عکس کو رائگاں بناتا ہوں

اسم لکھتا ہوں کملی والے کا
اس سے پھر دو جہاں بناتا ہوں

بس چراغوں میں اشک ڈالتا ہوں
روشنی میں کہاں بناتا ہوں !

خود تو رہتا ہوں آسمان تلے
دوسروں کے مکاں بناتا ہوں

جمع کرتا ہوں لفظ لفظ میں خواب
شہر آئیندگاں بناتا ہوں

بیچتا ہوں سمندروں کے سفر
کشتی  و بادباں بناتا ہوں

سائے سے روشنی بنا لی ہے
دھوپ سے سائباں بناتا ہوں

تجھ کو تصویرتا ہوں میں خوں سے
اپنے شایان شاں بناتا ہوں

وہ مجھے سوچ کر بناتا ہے
میں اسے ناگہاں بناتا ہوں

ٹوٹے گملے سجا کے کھڑکی میں
یادوں کا گلستاں بناتا ہوں

لوٹ لیتا ہے وہ خزانے کو
میں جسے نگہباں بناتا ہوں

تو مجھے بس خبر بناتا ہے
میں تجھے داستاں بناتا ہوں

یہ جو بوڑھی زمین ہے بابر
ہل چلا کر جواں بناتا ہوں
٭٭٭



وزن کو بے وزن کرنے جا رہا ہوں
شاعروں کے ہاتھ مرنے جا رہا ہوں

شعر کرنے جا رہا ہوں شیر کو میں
لومڑی کے پر کترنے جا رہا ہوں

دشت میں پکنک کا موسم آ گیا ہے
دشت کی لہروں پہ ترنے جا رہا ہوں

جا رہا ہوں باغ میں انگڑائی لینے
گھاس کے ایف سی میں چرنے جا رہا ہوں

جا رہا ہوں جنگلوں کے پار میں بھی
فورموں کے زخم جرنے جا رہا ہوں
٭٭٭



کچھ لفظ جو زبان پہ لائے نہیں گئے
ہم سے تمام عمر چھپائے نہیں گئے

رشتوں کا ذائقہ بھی ذرا تلخ ہو گیا
وعدے بھی اس طرح سے نبھائے نہیں گئے

تو نے تو میرے نام پہ لکھی ہے اک کتاب
مجھ سے بھی تیرے درد بھلائے نہیں گئے

شاید ہمارا مول تجارت میں گھٹ گیا
ہم لوگ پھر دکان پہ لائے نہیں گئے

مجھ میں چلا ہے دور تلک سانحہ کوئی
خود مٹ گیا ہوں نقش مٹائے نہیں گئے

دانستہ اس نے رات کو رستہ بدل لیا
غم اس قدر تھا اشک بہائے نہیں گئے

میں نے کسی کا سوگ منانا تھا رات بھر
بستی میں کیوں چراغ جلائے نہیں گئے

رستہ بھی تھا کٹھن اسے جانا بھی دور تھا
ہم کیا گرے کہ اس سے اٹھائے نہیں گئے

تجدید عہد کی ہمیں مہلت نہیں ملی
دوبارہ اس مقام پہ لائے نہیں گئے

ہم نے تمہاری شان پہ دے دی ہے اپنی جاں
تم سے ہمارے گھر بھی بچائے نہیں گئے
٭٭٭






محفل میں وحشت کا تری ہوتا رہا چرچا ترا
آتا نہیں جانب مری اے دشت کیوں رستا ترا

اے دل یہاں سے کوچ کر، اوروں کی باری آ گئی
سنگ مقدر سے بھی اب مٹنے لگا لکھا ترا

زخم جگر، خون ہنر، عزم سفر، اور آبلے
رہتا ہے میرے خون سے مہکا یہ گلدستہ ترا

میں نے بھی تیرے ساتھ ہی، دیکھا ستارہ ٹوٹتے
شانے ہیں کیوں ڈھلکے ترے چہرہ ہے کیوں اترا ترا

کہنے کو ہم جاں سے گئے، عزت تمہاری بچ گئی
کرنے لگے تھے رات کو کچھ منچلے سودا ترا

سچ میں تمہاری دشمنی میں اک سہانا لطف تھا
کھاتے رہے پھر عمر بھر اوروں سے بھی دھوکا ترا

کل رات میں نے خواب کی، تصویر کاغذ پر بُنی
’کچھ نے کہا ہے یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا ترا‘
٭٭٭



ہم ترستے رہے، دیوار کی در کی صورت
تُم ہی آئے نہیں رستے میں نگر کی صورت

ایک لمحے کو بھی رستے سے بھٹکنے نہ دیا
آبلے ساتھ رہے میر سفر کی صورت

تُو نے منزل پہ پہنچ کر مجھے خیرات کیا
میں ترے ساتھ رہا بار دگر کی صورت

اب یہاں میں ہوں پرندوں کا بسیرا ہے فقط
میں نے کر دی ہے ترے بعد یہ گھر کی صورت

ہم تو دانستہ تری رات سے وابستہ ہیں
لوگ ملتے بھی رہے بن کے سحر کی صورت

تُو مجھے ڈھونڈنے آئے گا تو کھو جائے گا
مٹ گئی دشت سے اب راہگزر کی صورت

شہر میں لے گیا تجھ کو تو ہوا کا جھونکا
گاؤں میں رہ گئے ہم سوک ہے شجر کی صورت

لوگ تو عکس کے پیکر میں ہی کھو جائیں گے
کون دیکھے گا یہاں آئنہ گر کی صورت

شعر میں ڈھال دیا میں نے تری یادوں کو
اور تجسیم کیا خواب دگر کی صورت
٭٭٭



کبھی چراغ، کبھی راستہ نہیں دیتے
گریں تو لوگ یہاں آسرا نہیں دیتے

ہزار ظلم کرو، بے دیار لوگوں پر
فقیر لوگ ہیں ہم، بددعا نہیں دیتے

ہمارے گھر کے دریچے ہمارے ساتھ نہیں
ہمارے حصے کی ہم کو ہوا نہیں دیتے

مسافروں کو نئے زخم آزمانے تھے
یہ راستے تو کسی کو صدا نہیں دیتے

ذرا سی بات پہ کیا کوئی چھوڑ جاتا ہے؟
کسی کو اتنی کڑی تو سزا نہیں دیتے

اٹھا کے رکھے ہیں کچھ پھول خار آلودہ
جو درد دیتے ہیں پر فائدہ نہیں دیتے

ہمارے دل کی طرح روشنی سے عاری ہوئے
چراغ جلتے ہیں لیکن ضیا نہیں دیتے

مجھے بس اپنے بزرگوں سے یہ شکایت ہے
دعا تو دیتے ہیں پر حوصلہ نہیں دیتے
٭٭٭



جزیرہ کس طرف ہے اور کنارا کس طرف ہے
سمندر تُو بتا تیرا اشارا کس طرف ہے

فلک کی دوسری جانب گرا ہوں کہکشاں سے
ذرا دیکھو مقدر آ کے ہارا کس طرف ہے

گرا تھا آئینہ لیکن میں ٹُکڑے ہو گیا ہوں
کہاں پر خشت دل ہے اور گارا کس طرف ہے

بڑے کم ظرف نکلے ہیں، مسافر قافلے کے
چلے تھے ساتھ لیکن آ کے مارا کس طرف ہے

اٹھا رکھا تھا مدت سے دھواں سا ایک منظر
مجھے بتلا نظر تُو نے اُتارا کس طرف ہے

بلا کی گرد ہے بستی کا نقشہ بھول بیٹھے
تمہارا گھر ہے کس جانب، ہمارا کس طرف ہے

ذرا سی دھند چھٹنے دے تو مُڑ کے دیکھ لینا
محبت کس طرف ہے اور خسارا کس طرف ہے

یہ کیا دریا کنارے پر کھڑا نیلا سمندر
مجھے ملاح نے آ کر اتارا کس طرف ہے
٭٭٭




چراغ اور قافلہ، دیکھا نہ جائے
دھوئیں میں راستہ، دیکھا نہ جائے

دریچوں سے برے دن چھٹ گئے ہیں
سفر اور آبلہ، دیکھا نہ جائے

میں اپنے دل سے ہجرت کر رہا ہوں
دھواں اٹھتا ہوا، دیکھا نہ جائے

مجھے تحلیل ہو جانا ہے اک دن
تمہارا دیکھنا، دیکھا نہ جائے

دیا آ کر ہتھیلی پر انڈیلو
پس دست دعا، دیکھا نہ جائے

مری دیوار آندھی نے گرائی
چمن کا سانحہ، دیکھا نہ جائے

تمہارے بعد کا پہلا ہے ساون
شجر پر جھولنا، دیکھا نہ جائے

چلو صحرا سے لے کر آئیں اُس کو
تذبذب میں کھڑا، دیکھا نہ جائے
٭٭٭



تمہارا نقش پا، دیکھا نہ جائے
سو گھر کا راستہ، دیکھا نہ جائے

اُسے جُز آنکھ، دل سے دیکھتا ہوں
سمندر ڈولتا، دیکھا نہ جائے

میں گھر کی راکھ میں اب کیا تلاشوں
مقدر کا لکھا دیکھا، نہ جائے

تمہیں میں چھوڑ کر جانے لگا ہوں ‌
تمہیں کم حوصلہ، دیکھا نہ جائے

مری کشتی میں لاکھوں چھید ہیں، پر
اسے یوں ڈوبتا، دیکھا نہ جائے

مجھے بس روشنی کا سامنا ہے
وہ بت ہے یا خدا، دیکھا نہ جائے

بھلے میں ڈوب جاؤں دوستو، پر
کنارہ ڈوبتا، دیکھا نہ جائے

میں اپنے آپ سے ملتا ہوں کم کم
شکستہ آئنہ، دیکھا نہ جائے

نظر کو دان کرنے جا رہا ہوں
بگڑتا زاویہ، دیکھا نہ جائے

کہاں ہے تاب سورج کو میں دیکھوں
چراغوں کا خدا، دیکھا نہ جائے
٭٭٭


ایک نظم

ر ہوئی ہے مجھ میں ایک جہان بنائے بیٹھے ہیں
کتنے خوش امکان حوالے سانسوں میں در آئے ہیں
کتنی تصویریں ایزل سے اٹھ کر رقصاں رقصاں ہیں
نیل گگن، آواہ پنچھی، تنہا رستے، پاگل دل
ایک حوالہ، ایک مسافت، اور موسم کی کٹھنائیں
ایسے میں دوچار گھڑی برگد کی میٹھی چھاؤں میں
چپکے سے اک سایہ آ کر مجھ سے باتیں کرتا ہے
اور پھر سندر نیلے پیلے سبز پرندے گاتے ہیں
بات ذرا سی بڑھتی ہے تو سورج غصہ کرتا ہے
میری چاروں اور زمانہ دیواریں بن جاتا ہے
ایک قدم کی دوری میں عمریں کرنا پڑ جاتی ہیں
یہ جو سارا پھیلاؤ ہے ایک مسافر خانہ ہے
لوگ تو آتے جاتے ہیں، پر اپنا آپ نہیں ملتا
وہ جو اپنا آپ ہے پیارے، ملنا مشکل ہوتا ہے
دیواروں کا بوجھ اٹھانا، میرے بس کی بات نہیں
٭٭٭






تو کسی نقش کی تجسیم کے قابل ہوتا
ایک ہی شخص تری آنکھ کا کاجل ہوتا

زندگی تیرے طلسمات کھلے ہی کب ہیں
مجھ پہ ہوتا، تُو مری زیست کا حاصل ہوتا

ساتھ ہوتا ترا احساس کی صورت جاناں
دور تک پھیلا ہوا شام کا ساحل ہوتا

بک نہ پاتے اگر انصاف کے داعی سستے
یوں نہ پھر رقص کناں شہر میں قاتل ہوتا

طشت میں رکھ کے اسے جان عطا کر دیتا
مرا دشمن جو کبھی میرے مقابل ہوتا

تجھ کو اسباق محبت کے جو ازبر ہوتے
ان دریچوں سے کوئی شخص نہ گھائل ہوتا

زندگی ہوتی بھلے کیف میں ڈوبی بابر
ایک دل ہوتا مگر درد کے قابل ہوتا
٭٭٭

شاعر کی کتاب چہرہ کے نوٹس اور گروپس سے ماخوذ
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
