﻿
بسم اللہ الرحمن الرحیم 

خواب کی گود میں

عمر کی لمبی لکیر اس کی کلائی تک تھی
کل وڈیرے نے جسے مار دیا گاؤں میں



نقاش عابدی



خواب کی گود میں


تزئین و اہتمام: 
	 شاہد یعقوب میو







انتساب 


نہایت شفیق اور عظیم دوست
سرور ارمان
 کی محبتوں کی نذر جن کے ایک جملے نے مجھے عملی طور پر شعر گوئی کے میدان میں داخل ہونے پر مائل کیا اور جنہوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی…میں ہمیشہ محترم سرور ارمان کی عظمتوں کا ممنون رہوں گا




نقاش عابدی… ایک سلیقہ مند شاعر



کلام معنی خیز ہو، تشبیہات و استعارات کا استعمال فن کارانہ مہارت اور چابک دستی سے کیا گیا ہو تو اشعار کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ اشعار کی خوبصورتی الفاظ کی خلاقانہ در و بست کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ سید ابرار عسکری عابدی جو کہ نقاش عابدی کے قلمی نام سے جانے جاتے ہیں کا تعلق نارووال کے علمی و ادبی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد گرامی سید انتظار حسین وامق عابدی (مرحوم) ایک با صلاحیت اور کہنہ مشق شاعر تھے۔ ان کا شعری مجموعہ ’’جب گلستاں تھے قتل گاہوں میں‘‘ زیورِ طباعت سے آراستہ ہو چکا ہے۔ نقاش عابدی کے تایا سید جواد حسین کلیم عابدی مدرس، عالم اور قادر الکلام شاعر تھے۔ سعودی عرب میں مقیم ان کے برادر خورد زوار قمر عابدی بڑے ہونہار اور زود گو شاعر ہیں۔ نقاش عابدی کی اہلیہ فاطمہ ابرار بہت ذہین اور ہنرمند شاعرہ ہیں۔ گویا انہیں قدرتی طور پر ایسا ماحول میسر رہا ہے جس میں نقاش عابدی کی شعر گوئی کا سفر تا دمِ تحریر جاری ہے۔ ان کے کلام میں جذبات و احساسات کا سمندر موجزن ہے۔ ان کے اشعار شعور و فکر کے دروازوں پر دستک دیتے ہوئے لگتے ہیں۔ ان کا کلام ان کی شخصیت کی طرح خودپسندی اور ذاتی مفادات و ترجیحات سے بالاتر ہے۔ وہ انسانی قدروں کے ظالمانہ طریقے سے مسلے جانے کے دور میں سچائی کے علمبردار ہیں۔ رومانوی پہلو سے دیکھا جائے تو ان کی غزل ان کی وارداتِ قلبی کی تصویر کشی لگتی ہے۔ لیکن درحقیقت ان کے دکھ ذاتی نہیں بلکہ عالمگیر ہیں۔ 
ان کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے ادب اور حلقۂ ادب سے علیحدگی اختیار کر لی تھی لیکن اللہ بھلا کرے سرور ارمان صاحب کا جو علمی و ادبی محفلوں کے روحِ رواں ہیں۔ انہوں نے نقاش عابدی کو ادبی کارواں میںپھر سے شریک سفر ہونے پر مائل کر لیا اور اس بار اظہار کے بند کچھ اس طرح ٹوٹے کہ خوبصورت اور معیاری غزلوں کا انبار لگ گیا ان کا اولین مجموعہ غزل اس بات کا ثبوت ہے کہ نقاش عابدی کی شاعری میں جدت اور کلاسیکیت کا حسین اور دلآویز امتزاج پایا جاتا ہے یقیناً یہ پختگی اور مہارت یونہی حاصل نہیں ہو جاتی اس کے لیے دنوں کا چین اور راتوں کا سکون قربان کرنا پڑتا ہے۔ بقولِ شاہد میر
خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب کہیں ہوتی ہے اک لقمۂ تر کی صورت
نقاش عابدی کی شاعری بوجھل پن اور بے جا مشکل پسندی کی حامل نہیں بلکہ اس میں سادگی، سلاست اور سلیقہ مندی پائی جاتی ہے۔ ان کی غزل دل میں اتر جانے والی تاثیر سے متصف ہے ان کی تمام شاعری میں ایک خاص فضا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کی تمام تر شاعری ایک ہی کیفیت اور ماحول میں ان پر اتری ہو کیونکہ ان کا اکثر کلام ایک ہی محور کے گرد گردش کرتا ہوا لگتا ہے۔ استاد قمر جلالوی کہتے ہیں:
مرکز سے دائرے کا وہی فاصلہ رہا 
سر پر تھا آسمان گئے جس دیار میں
نقاش عابدی کا مجموعۂ غزل اس حبس زدہ ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ ان کی شاعری میں ان کے مشاہدات کی عکاسی بھی ہے اور ذاتی شب و روز کی تصویر کشی بھی۔ میرے نزدیک یہ اوصاف کسی شاعری کو قبولیت اور شہرت سے ہمکنار کرتے ہیں۔ میں یہ ضرور کہوں گا کہ وہ ایک شاعر کی حیثیت سے ادب کا قابل ذکر حصہ بھی ہیں اور اپنے اسلوب اور زبان و بیان کے حوالے سے انفرادیت بھی رکھتے ہیں اور یہ انفرادیت خوش آئند بھی ہے اور لائق تحسین بھی۔ 
سید محمود حیدر زیدی
چیف آفیسر
میونسپل کمیٹی نارنگ منڈی


اظہاریہ 



شاعری چونکہ قدرت کی عطا کردہ صلاحیت ہے اس لحاظ سے میرا شاعر ہونا میرے کمال کا حصہ نہیں لیکن اس میں میرے ماحول کا کمال ضرور شامل ہے کہ جہاں مجھے نہایت پختہ گو اور منجھے ہوئے شاعر میسر آئے جنہوں نے مجھے بہت متاثر کیا اور مجھ میں موجود شاعر کو زندہ رکھا۔ اسی ماحول میں مجھے ایک ایسی شخصیت میسر آئی جس نے مجھ میں موجود سوئے ہوئے شاعر کو محسوس کیا اور اسے جگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنے ذوق کی تسکین اور شاعری سے ایک روحانی ربط ہونے کے باعث قریبی ماحول کے جن شعراء سے میں متاثر تھا ان میں ایک شخصیت محترم سرور ارمان کی بھی تھی جن کے شعری مضامین اسلوب اور انداز بیان سے میں بہت متاثر تھا۔ ان کی یہی خوبی مجھے ان کے قریب لانے میں معاون ثابت ہوئی۔ رفتہ رفتہ سرور ارمان سے میرا تعلق بے تکلف دوستی میں بدل گیا۔ شاید سرور ارمان اسی موقع کی تلاش میں تھے۔ ایک روز سرور ارمان نے ایک جملہ کہہ کر مجھے چونکا دیا وہ جملہ آج بھی میری سماعتوں میں گونج رہا ہے۔ وہ جملہ تھا 
’’صاحب! اگر ہمارے ساتھ بیٹھنا ہے تو شعر کہنا ہوگا‘‘
میں نے اردگرد نظر دوڑائی تو وہاں میرے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ میں نے ایک بار غور سے سرور ارمان کی طرف استفہامیہ انداز میں دیکھا تو انہوں نے جملہ ایک بار پھر دہرایا ’’ابرار صاحب ہمارے ساتھ بیٹھنا ہے تو شعر کہنا ہوگا‘‘ شاید اسی لمحے مجھ میں موجود قدرت کا ودیعت کردہ سویا ہوا شاعر جاگ اٹھا مگر اس نے انگڑائی لینے میں تساہل کا مظاہرہ کیا جسے سرور ارمان کی حوصلہ افزائی نے رفتار عطا کی۔ سرور ارمان کی قربت کا میری نادار صلاحیتوں کو اپنی سخاوت سے نواز کر ایک شاعر کا روپ دینے میں اہم کردار ہے۔ ممکن ہے کہ سرور ارمان کی عدم دستیابی کے باوجود میں شاعر ہوتا لیکن میں آج جس بھی مقام پر ہوں شاید کہ اس مقام پر نہ ہوتا۔ (مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ے کہ میرے تخلص کا انتخاب سرور ارمان نے کیا)
جہاں تک شاعری کا تعلق ہے تو یہ میرے نزدیک جزوقتی نہیں بلکہ ایک شاعر ہمہ وقت شاعر ہوتا ہے۔ تجربہ و مشاہدہ میں ہر شخص کا اپنا پیمانہ اور اپنا زاویہ نگاہ ہوتا ہے لیکن شاعری کے حوالے سے میرا مجموعی تاثر یہ ہے کہ اسے جمالیاتی رعنائیوں کے ساتھ زندگی اور اس کی جزئیات سے مربوط ہونا چاہیے اسے کائنات کی ان مٹ سچائیوں کی عکاس ہونا چاہیے اور اسے آرزوؤں، امنگوں، جذبوں، امیدوں کے جلو میں اپنا ارتقائی اور تخلیقی سفر جاری رکھنا چاہیے۔ شاعری بے عقیدہ اور بے منزل نہیں ہونی چاہیے۔ 
میرا یہ پیش لفظ اس وقت تک نامکمل رہے گا جب تک میں ان تمام ہم سفروں کی محبتوں اور خلوص و مروت کا اعتراف نہ کروں۔ جن میں پروفیسر محمد عباس مرزا، پروفیسر عبدالعزیز پرواز، سعید شہزاد، طاہر جاوید، دلشاد انجم ہاشمی، لیاقت نفیس، شوکت آہو، ڈاکٹر غلام غوث شہوار، جاوید قادری، محمد افضل شہاب، شفیق چغتائی، عمران علی حیدر اور سرور ارمان کے صاحبزادگان ساحر ارمان اور ازور ارمان شامل ہیں۔ 
نقاش عابدی
نائیسٹی وَن امپوریم
اُپل مارکیٹ ریلوے روڈ نارووال
0343-4371388



نعت شریف

بحضورِمحسنِ انسانیت فخرِ انبیاء، ختم الرسل حضرت محمد مصطفیٰؐ


آقاؐ یہ نوازش کا خزانہ ہی بہت ہے
بخشش کے لیے تیرا گھرانہ ہی بہت ہے
جینے کے لیے تیرا سہارا ہو میسّر
مر جاؤں تو پھر دین کا شانہ ہی بہت ہے
دنیا کو ترے نور سے کرنے کو منوّر
مولا تیری رحمت کا زمانہ ہی بہت ہے
ہر صبح ترے نام کی کرتی ہیں عبادت
چڑیوں کا درختوں پہ ترانہ ہی بہت ہے
سینے میں جو ہو اسمِ محمدؐ کی شجاعت
باطل کے لیے ایک نشانہ ہی بہت ہے
آنکھوں میں ترے نور کا اعجاز ہے کافی
جو تیرا تبرک ہے وہ دانہ ہی بہت ہے
مل جائے ترے نام کی سانسوں کو حمایت
جینے کے لیے ایک بہانہ ہی بہت ہے
رکھنے کے لیے روح کو دن رات منوّر
دل میں ترے احساس کا خانہ ہی بہت ہے
٭٭٭


سلام

منکر سے وہی ہے مرے شبیرؑ کا رشتہ
جو گردنِ اصغرؑ سے بنا تیر کا رشتہ
رہنے دو مری آنکھ میں اشکوں کی روانی
یہ آلِ محمدؐ کی ہے تاثیر کا رشتہ
بس میں نے علیؑ حیدرِ کرار پکارا
اس نام سے پھر ہو گیا تقدیر کا رشتہ
یوں حُر کے مقدر کو ملی اوجِ سعادت
جیسے کہ سیہ رات سے تنویر کا رشتہ
دکھلایا گیا نوکِ سناں پر سرِ اقدس
سوچا ہی نہیں زینبِؑ دلگیر کا رشتہ
یہ دل تو فقط ان کی محبت کی ہے جاگیر
ہے جن سے جڑا عرش کی جاگیر کا رشتہ
اللہ نبیؐ کا بھی تعلق ہے وہی جو
قرآن کے صفحات سے تحریر کا رشتہ
پانی نے بھی کب یاد دلایا ہے سکینہؑ
ننھے علی اصغرؑ سے تجھے شِیر کا رشتہ	٭٭٭




کتنے عنوان اک باب کی گود میں
کر رہے ہیں سفر خواب کی گود میں
حسرتیں کچھ نگاہوں میں بکھری ہوئی 
کچھ تمنائیں گرداب کی گود میں
٭٭٭



اب وقت کا انداز بدلنا نہیں ممکن
جب تیرا مرے ساتھ ہی چلنا نہیں ممکن
مایوس نگاہوں میں کوئی آس نہیں ہے 
آنکھوں میں کسی دیپ کا جلنا نہیں ممکن
سب خواب بہت دیر ہوئی ٹوٹ چکے ہیں
سپنوں میں کسی اور کا ڈھلنا نہیں ممکن
اب خشک نگاہوں میں کوئی اشک نہیں ہے
دل میں کسی طوفان کا پلنا نہیں ممکن
اب موت کو، کوئی بھی نہیں ٹال سکے گا
تنہائی میں اب اور سنبھلنا نہیں ممکن
اب دم ہی نہیں دل کے سمندر میں کہیں بھی
اب سوچ کی لہروں کا مچلنا نہیں ممکن
سب تار بھی، سر تال بھی، اب روٹھ چکے ہیں
آواز کوئی دل سے نکلنا نہیں ممکن
٭٭٭




لمحہ کوئی اب دل کے، بھانے کو نہیں بچتا
اس کوہِ اذیت کے، ڈھانے کو نہیں بچتا
ہم لوگ ہیں وہ جن کا، اتنا سا ہے سرمایہ
رہنے کی جو دیں قیمت، کھانے کو نہیں بچتا
جب بھوک الجھتی ہے، احساس کے تاروں سے
پھر کوئی ترانہ بھی، گانے کو نہیں بچتا
جب خواب سسکتے ہوں، ویران نگاہوں میں 
آنکھوں میں کوئی سپنا، آنے کو نہیں بچتا
خاموش ہواؤں سے، تکرار تو میں کر لوں
پیغام کوئی تیرا، لانے کو نہیں بچتا
گر تیری تمنا کو، میں دل سے جدا کر دوں
پھر کوئی حسیں لمحہ، پانے کو نہیں بچتا
جو بھول ہی جاتے ہوں، ماضی کے سبھی منظر
رستہ کوئی پھر واپس جانے کو نہیں بچتا
٭٭٭




رہنماؤں کی بات کرتے ہو
پارساؤں کی بات کرتے ہو
جو اُڑا لیں سروں سے آنچل بھی
اُن ہواؤں کی بات کرتے ہو
جل رہی ہے زمیں کی کوکھ مگر
تم خلاؤں کی بات کرتے ہو
مجھ کو محنت کا بھی صلہ نہ ملا
تم دعاؤں کی بات کرتے ہو
پہلے انساں کو زہر دیتے ہو
پھر دواؤں کی بات کرتے ہو
میری بستی میں بھوک پلتی ہے
تم بلاؤں کی بات کرتے ہو
مار ڈالا وفا شعاروں نے
بے وفاؤں کی بات کرتے ہو
کتنے فرعون مٹ گئے آ کر
کن خداؤں کی بات کرتے ہو
٭٭٭




آؤ جو ٹوٹے ہوئے خواب ہیں تقسیم کریں
جس کی قسمت میں جو گرداب ہیں تقسیم کریں
تم مرے نام پہ جی لینا، میں تم پر مر کر
جینے مرنے کے جو آداب ہیں تقسیم کریں
خشک آنکھوں میں جو مرجھا گئے ان کی کلیاں
آس کے پھول جو شاداب ہیں تقسیم کریں
وہ نگاہیں بھی جو نمناک تھیں وقتِ رخصت
منتظر اور جو بے آب ہیں تقسیم کریں
دستِ حالات پہ مکتوب سجا کر سارے
عہدِ ماضی کے حسیں باب ہیں تقسیم کریں
٭٭٭



ہمسفر چھوڑ گئے ساتھ جو صحراؤں میں
آبلے پھوٹ کے روئے تھے مرے پاؤں میں
تن کی دیوار کو یوں میں نے سنبھالے رکھا
تیری دنیا بھی تو آباد ہے اس چھاؤں میں
ڈوبنے والے تری کھوج میں میری آنکھیں
سیپیاں بن کے بہا کرتی ہیں دریاؤں میں
عمر کی لمبی لکیر اس کی کلائی تک تھی
کل وڈیرے نے جسے مار دیا گاؤں میں
آج کس نے درِ احساس پہ دستک دی ہے
بج اٹھیں گھنٹیاں ویران کلیساؤں میں
٭٭٭



حق جو مانگا تو مرے ہاتھ میں کشکول دیا
آج اس نے مرے احساس کا در کھول دیا
میرے ہونٹوں کو سخاوت کے قصیدے دے کر
ہر گلی جا کے بجانے کو مجھے ڈھول دیا
چن کے ہر ایک وفا اور مروّت میری
مجھ کو تحقیر کی میزان میں کیوں تول دیا
میرے لقمے پہ نظر ایسے پڑی تھی اس کی
زہر سا اک مرے احساس میں بس گھول دیا
اس گھڑی اس نے مری ذات سے مانگی ہے نجات
میری ہستی کی ہر اک شان کو جب رول دیا
ایک لمحے میں بدل ڈالی ہے دل کی دنیا
جانے کیا اس کی نگاہوں نے مجھے بول دیا
جسم میں روح کی مانند سما کر اس نے
عہدِ ہجراں کا مجھے تحفۂ انمول دیا
٭٭٭




دل کی دیوار میں جڑی آنکھیں
خوبصورت بڑی بڑی آنکھیں
دل کے دیوار و در ہلا ڈالے
اس قدر زور سے لڑی آنکھیں
تیرے وعدے میں ڈھونڈتی ہیں ابھی
اک ملاقات کی گھڑی آنکھیں
جب بھی برسات میں بدن سلگا
دے گئیں مستقل جھڑی آنکھیں
گن رہی ہیں فراق کی گھڑیاں
راہِ امید میں کھڑی آنکھیں
جس جگہ ہم جدا ہوئے تھے، اُدھر
دیکھتی ہیں گھڑی گھڑی آنکھیں
تیرے قدموں کو دے رہی ہیں صدا
راہ میں جا بجا پڑی آنکھیں
٭٭٭




زندہ ہے جب تو روح سے انکار کیوں کرے
یہ جسم اپنی موت کا اقرار کیوں کرے
موجود ان سُروں نے جو رہنا ہے عمر بھر
خاموشیوں کا سامنا ہر تار کیوں کرے
محوِ سفر ہو تم مری سانسوں کے ساتھ ساتھ
پھر دل مجھے حیات سے بے زار کیوں کرے
جب تو نہیں تو کوئی حسینہ مرے لیے
آنکھوں میں رقص، ذہن میں جھنکار کیوں کرے
ہیں مرتعش جو دل کے سبھی تار تو کوئی
ترکِ تعلقات کا اصرار کیوں کرے
وہ جانتا ہے خواب میں اس کے قریب ہوں
پھر مجھ کو میری نیند سے بیدار کیوں کرے
اس آہ کو نجانے بھٹکنا ہے کب تلک
دل ابتداء میں راہ کو دشوار کیوں کرے
٭٭٭




یاد رکھنا ایک دن تیری زباں تک آؤں گا
خامشی کی قید سے حرفِ بیاں تک آؤں گا
تُو یقیں کے آئینے میں دیکھنا چاہے گا اور
میں فقط خوش فہمیِ حدِّ گماں تک آؤں گا
چھُو کے تیرے ذہن کے خاموش تاروں کو کبھی
لے کے اک طوفاں ترے دل کے مکاں تک آؤں گا
پھر ترے احساس کے شعلوں میں ڈھل جائے گی رات
میں ابھر کر جس گھڑی اشکِ رواں تک آؤں گا
دسترس سے تیر بن کر بھی نکل جاؤں گا پھر
جب کبھی میں تیرے ابرو کی کماں تک آؤں گا
سرد آہوں میں سمٹ کر شدّتِ احساس سے
قلب کی نازک رگوں کے درمیاں تک آؤں گا
اتنا مت سوچو کہ یہ نازک رگیں پھٹ جائیں گی
میں تمھارے ذہن میں آخر کہاں تک آؤں گا
٭٭٭




تم مناظر کے تعاقب میں نکل کر دیکھنا
آرزو کی تنگ پگڈنڈی پہ چل کر دیکھنا
کیسا ہوتا ہے ڈگر سے ہٹ کے چلنے کا مزہ
اپنی دیرینہ روایت کو بدل کر دیکھنا
جب سے آنکھوں میں بسا ہوں اس کا یہ معمول ہے
آئینے کے سامنے آنکھوں کو مل کر دیکھنا
میں تو ہوں مزدور میرا کرب کیا جانو گے تم
اپنے بچوں کی تمنائیں مسل کر دیکھنا
آج پھر شاید کسی شہکار کی تخلیق ہو
آج پھر نقّاشؔ رنگوں کو کچل کر دیکھنا
٭٭٭




ہجر میں میرا خیالوں میں گزر کیسا لگا
یہ تو بتلاؤ کہ میرے بعد گھر کیسا لگا
آنسوؤں کے ساتھ ہونٹوں کا لرزنا یاد ہے
وقتِ رخصت میں تمھیں با چشمِ تر کیسا لگا
خواب میں مجھ سے لپٹ کر آنکھ کھل جانے کے بعد
جب میں پہلو میں نہ تھا وقتِ سحر کیسا لگا
تم شریکِ زندگی ہو اور تنہائی نصیب
ہمسفر سے دور رہ کر یہ سفر کیسا لگا
میں نے اک تصویر بھیجی ہے تمہیں برسوں کے بعد
اپنے خوابوں کی عمارت کا کھنڈر کیسا لگا
دوریاں ہیں روزگارِ زندگی کی بخششیں
بیٹھ رہنا یوں درِ امید پر کیسا لگا
٭٭٭



ہمسفر یاد ہیں اس کے جو سفر ختم ہوا 
جانے کب کون سی سازش ہو یہ ڈر ختم ہوا 
بے سبب سب کو ہی سبقت کے جنوں نے مارا
ایسے بکھرے ہیں کہ رشتوں کا اثر ختم ہوا
اعتبار اٹھتے ہی یہ کیسا تغیر آیا
دل کا ویران مکاں رہ گیا، گھر ختم ہوا
شاخ ہی شاخ کی دشمن تھی ثمر کیا دیتا
پھولنے پھلنے سے پہلے ہی شجر ختم ہوا
جانتا تھا کہ مرے گیت بھی کھو جائیں گے
تیرا مجھ سے جو تعلق تھا اگر ختم ہوا
ہم تو مائل تھے بہرحال لہو دینے پر
اک تری طرزِ تغافل سے جگر ختم ہوا
اس کو بس مجھ کو ڈبونے ہی کی ضد تھی شاید
میں جو ڈوبا تو مرے ساتھ بھنور ختم ہوا
٭٭٭




ہاتھ خالی سرِ بازار لیے پھرتی ہے 
روح میں سینکڑوں آزار لیے پھرتی ہے 
بے خبر ہے کہ نہیں ہاتھ میں پھوٹی کوڑی
ماں جسے گود میں بیمار لیے پھرتی ہے
ایک دو شیزہ نمائش کا سہارا لے کر
کتنے بے شکل خریدار لیے پھرتی ہے
نوچ کر اپنی حیا، اوڑھ کے چہرے پہ فریب
ایک گمراہ سا کردار لیے پھرتی ہے 
حسرت و یاس کو لڑیوں میں پرو کر بڑھیا
میرے بچپن سے وہی ہار لیے پھرتی ہے
کھل گیا راز ستارے ہیں بغاوت کے نشاں
رات کیوں خوف کے آثار لیے پھرتی ہے
ضبط شیوہ ہے بہرحال ہمارا ورنہ
ہر زباں نوک پہ تلوار لیے پھرتی ہے
٭٭٭




الفاظ میں آرائشِ اعراب، بہت خوب
تحریر مچل جانے کو بے تاب، بہت خوب
گہرائی میں لے جاتے ہیں سوچوں کی تہوں تک
لفظوں میں مضامین کے گرداب بہت خوب
آتی ہے بہت یاد تمھاری وہ نوازش
ہر بات پہ وہ کہنا کہ آداب، بہت خوب
کس ضبط سے روکے تھے دمِ ہجر وہ تم نے
آنکھوں میں امڈتے ہوئے سیلاب بہت خوب
ہے یاد کہ جب رات کو کھڑکی کے مقابل
بے ساختہ بولا تھا وہ مہتاب بہت خوب
کس درجہ نزاکت سے مری آنکھ میں رکھ کر
بھیجے ہیں مرے ساتھ حسیں خواب بہت خوب
ہیں دامن تحریر میں سمٹے ہوئے محشر
نقّاشؔ یہ مضبوطیِ اعصاب بہت خوب
٭٭٭




رات کے سفر میں ہے، اک اداس خاموشی 
تم خیال میں تنہا، اور پاس خاموشی
زندگی گزاری ہے کن عجیب راہوں پر
تا حیات امیدیں، تاقیاس خاموشی
رات کی سیاہی ہے اور ایک سناٹا
میرے ساتھ ہے میری، غم شناس خاموشی
زندگی کے میلے میں، خواہشوں کے ریلے میں
چشم و لب پہ رقصاں ہے، بن کے پیاس خاموشی
حسرتیں مچلتی ہیں آنکھ کے سمندر میں
بے بسی کو آئی ہے، صرف راس خاموشی
خواہشوں کی راہیں ہیں، سسکیاں ہیں آہیں ہیں
ساتھ ساتھ چلتی ہے، بے لباس خاموشی
اس گھڑی کا سوچو تو آرزو تڑپتی ہو
اور ہونٹ رکھتے ہوں، جب اساس خاموشی
ایک شور برپا ہے ہر طرف ضرورت کا
اور ہے سماعت کی، التماس خاموشی
٭٭٭




کتنے عنوان اک باب کی گود میں
کر رہے ہیں سفر خواب کی گود میں
حسرتیں کچھ نگاہوں میں بکھری ہوئی 
کچھ تمنائیں گرداب کی گود میں
خواب ٹھہرے ہوئے راہِ امید پر
اور ارمان سیلاب کی گود میں 
سطح لہرائی کیوں چھن گیا کیا سکوں
آؤ جھانکیں ذرا، آب کی گود میں
تیرے آنے سے پھولوں کے رخسار و لب
کھل اٹھے فصلِ شاداب کی گود میں
بس پڑی تھی نظر پھر نہیں ہے خبر
کب تلک سوئے مہتاب کی گود میں
ڈھونڈتا پھر رہا ہوں وہی بچپنا
اور چاہت وہ احباب کی گود میں
٭٭٭




تم اپنی تاریک راستوں کی مسافتوں کا عذاب لکھنا
مرے بغیر ایک ایک پل کی اذیتوں کا حساب لکھنا
گئے دنوں کی حسین یادیں کبھی سپردِ قلم جو کرنا
بدن کے اجڑے ہوئے کھنڈر سے تلاش کر کے شباب لکھنا
تم ایسا کرنا، تھکی تھکی سی تمام صبحیں اداس شامیں
سجا کے آنکھوں میں رتجگوں کو فراق راتوں کا باب لکھنا
کھڑا ہے آنگن میں جو شجر اس کے پات پیلے بھی ہو چکے ہیں
تم اپنے سپنوں کے رنگ لکھنا، وہ رائیگاں سارے خواب لکھنا
مرے پلٹنے کی آس میں کتنی آرزوؤں کا خوں ہوا ہے 
اگر ہو ممکن تو سر سے چاندی کے تار چن کر جواب لکھنا
بہار موسم میں آس کے پھول اور ساون کی تشنہ راتیں
وہ سب کے سب میرے نام کر کے مرے ملن کو سراب لکھنا
سلگتی آنکھوں میں جو بھی ساکت کھڑی ہوئی منتظر ہے حسرت
تمھارے سینے میں بوجھ سہنے کی اور کتنی ہے تاب لکھنا
٭٭٭




تیر جب اپنی کمانوں سے نکل جاتے ہیں
کچھ پرندے بھی اڑانوں سے نکل جاتے ہیں
جانے کس راہ پہ کچھ بھوک سے سہمے بچّے
رات کو اپنے مکانوں سے نکل جاتے ہیں 
ظرف کی بات نہ کر، پھوٹ پڑیں تو لاوے
خود پہاڑوں کے دہانوں سے نکل جاتے ہیں
ہم بھی کیا لوگ ہیں اک گھر کو بنانے کے لیے 
کس قدر دور گھرانوں سے نکل جاتے ہیں
ضبط مٹ جائے تو الفاظ بغاوت بن کر
کتنی خاموش زبانوں سے نکل جاتے ہیں 
وہ تو ہوتے ہیں فقط وقت گزاری کے لیے
لوگ جو یاد کے خانوں سے نکل جاتے ہیں
کتنے نادان ہیں جو لوگ نظر سے گر کر
دل کے محفوظ خزانوں سے نکل جاتے ہیں
٭٭٭




تمھارا نام زباں سے نکل گیا آخر
زمانہ میرے گماں سے نکل گیا آخر
سنبھال کر جسے رکھا ہوا تھا مدت سے 
وہ تیر تیری کماں سے نکل گیا آخر
تمام اپنے سوال و جواب بھول گئے
حساب سود و زیاں سے نکل گیا آخر
ہر ایک شخص میں تجھ کو تلاش کرتا ہوا
ہجومِ نکتہ وراں سے نکل گیا آخر
جو لازمی تھا ترے سامنے ادا ہونا
وہ ایک لفظ بیاں سے نکل گیا آخر
تمھارے سامنے کب تک خرد وفا کرتی
مکینِ ہوش مکاں سے نکل گیا آخر
مری تلاش میں حد ہی عبور کر ڈالی
مرے لیے وہ جہاں سے نکل گیا آخر
٭٭٭




غم کی آبشاریں ہیں، ضبط کے کنارے ہیں
پوچھ مت یہ دن ہم نے کس طرح گزارے ہیں
جیتنا ہمیں اُن کا، کس قدر مقدّم تھا
جیت تھی جہاں اپنی، ہم وہیں پہ ہارے ہیں
آرزو کی بستی سے، جو بھی نقش چنتا ہوں
عکس ایک جیسے ہیں اور سب تمھارے ہیں
کاش یوں بھی ہو جائے، خواب ایک جیسے ہوں
ہم انہیں کہیں اپنا، وہ کہیں ہمارے ہیں
ہاتھ تھام کر اس نے مجھ کو جان کہہ ڈالا
لرزشوں نے ہونٹوں کے زاویے سنوارے ہیں
بجلیاں کڑکتی ہیں، آسماں برستا ہے
جھونپڑے اجڑنے کے پھر کہیں اشارے ہیں
خوشنما پرندوں نے تیرے سر پہ منڈلا کر
تیری ذات کے صدقے کس طرح اتارے ہیں 
٭٭٭




وہ ٹوٹتی سانسوں سے وفا مانگ رہا ہے 
رستے ہوئے زخموں کی بقا مانگ رہا ہے 
حالات کے زنداں میں سسکتا ہوا مظلوم
خاموش نگاہوں سے یہ کیا مانگ رہا ہے 
کب ہوگی ثمر بار، یہ حالات کا مارا
لرزیدہ لبوں سے جو دعا مانگ رہا ہے 
چوپال میں، دہقان کی بیٹی کا کھلا سر
دستار کی عظمت سے ردا مانگ رہا ہے 
ہر پاؤں سلاسل سے نکلنے کو ہے بے تاب
ہر دل ہی بھڑکنے کی ادا مانگ رہا ہے 
راہوں میں پڑا رات کی ہیبت کا اندھیرا
ماحول سے جرأت کا دیا مانگ رہا ہے
مامور رہا میری حفاظت پہ جو برسوں
اس سے ہی مجھے میرا خدا مانگ رہا ہے 
٭٭٭




چھڑا جو ذکر تمھارا، بہت مزہ آیا
دیے کی سمت اشارہ، بہت مزہ آیا
مگس نے پھول کی پتّی کو چوم کر جس دم 
تمھارا نام اتارا بہت مزہ آیا
کبھی بھی جیت کا اتنا مزہ نہیں آیا
تمھارے سامنے ہارا بہت مزہ آیا
ہوا نے رخ پہ تمھارے بکھیر کر زلفیں
تمھیں کچھ اور نکھارا، بہت مزہ آیا
قدم قدم پہ تمھارے خرامِ ناز نے یوں
روِش روِش کو سنوارا بہت مزہ آیا
تمھارا نام تھا لینا کہ پھر پہاڑوں نے
پلٹ پلٹ کے پکارا بہت مزہ آیا
بس اتفاق سے انجم نکل گیا لب سے
ٹھہر گیا وہ ستارہ بہت مزہ آیا
٭٭٭




کاش یوں نہ ہو جائے، راستے بدل جائیں
اس قدر وہ تڑپائے، راستے بدل جائیں
بلبلا رہے ہیں کیوں زیرِ آسماں انساں
کوئی ان کو سمجھائے، راستے بدل جائیں
اب ذرا سنبھل رہنا، یہ نہ ہو کہ آنکھوں میں
نیند یوں تو در آئے، راستے بدل جائیں
کیا عجب کہ گھبرا کر، تلخیوں کی شدت سے 
زندگی کے سرمائے، راستے بدل جائیں
امتحان ہے کیسا، دھوپ کی تمازت میں
ہمسفر ہیں جو سائے، راستے بدل جائیں
التجا ہے اتنی سی، جب ہمیں بچھڑنا ہے
یاد ساتھ رہ جائے، راستے بدل جائیں
پھر یہی مناسب ہے، احترام سے دونوں
مختلف ہے جب رائے، راستے بدل جائیں
٭٭٭




اک چھلکتی سی آس ہیں آنکھیں
جانے کس کی یہ پیاس ہیں آنکھیں
اب تصوّر میں ساتھ رہتی ہو
اب تخیل کے پاس ہیں آنکھیں
تیرگی کا سیاہ پردہ ہے
پھر بھی چہرہ شناس ہیں آنکھیں
ساحلِ دید سے تہِ دل تک
رابطے کی اساس ہیں آنکھیں
اک نظر سے مہک اٹھا ہے چمن
خوشبوؤں کا لباس ہیں آنکھیں
دل میں الفت کدہ سجانے کو
مجھ کو تیری ہی راس ہیں آنکھیں
حسرتِ دید میں نہ تڑپانا
پیکرِ التماس ہیں آنکھیں
جانتا ہوں کہ کل تلک ہو یہیں
کیوں ابھی سے اداس ہیں آنکھیں
٭٭٭




امید کا آنکھوں میں اجالا تو نہیں ہے
وہ شخص مگر بھولنے والا تو نہیں ہے 
بس یونہی نکل آئے تھے جذبات میں آ کر
تم نے میرے اشکوں کو سنبھالا تو نہیں ہے
احساس کی گہرائی سے نکلے ہیں اُمڈ کر
جاناں، مرے الفاظ کو ٹالا تو نہیں ہے
جپتی ہو جسے رات کی تنہائی میں اکثر
اے جان! مرے نام کی مالا تو نہیں ہے
نکلا ہوں تری یاد کی بارات کو لے کر
بتلا مجھے قسمت سے نکالا تو نہیں ہے
اترائے ہوئے پھرتی ہیں مخمور ہوائیں
تو نے کوئی سنگیت اچھالا تو نہیں ہے
تڑپی ہے جو برسات میں بجلی کی چمک یوں
تو نے مجھے تصویر میں ڈھالا تو نہیں ہے
٭٭٭




جھیل سی آنکھ میں اظہار کبھی تو ہوگا
کوئی طوفاں، کوئی منجدھار کبھی تو ہوگا
ضبط کا سنگِ گراں دل پہ ہے رکھا لیکن
عشق آمادۂ تکرار کبھی تو ہوگا
ٹمٹماتا ہوا اک آس کا ننھا سا دیا
تیری آنکھوں میں نمودار کبھی تو ہوگا
ایک جذبہ ہی تو ہے تھک کے اگر سو بھی گیا
دل دھڑکتا ہے تو بیدار کبھی تو ہوگا
غم کا دریا جو نگاہوں میں چھپا رکھا ہے 
روک لینا اسے دشوار کبھی تو ہوگا
ضبط تو ضبط ہے گر حد سے بڑھا تو سوچو
اک تماشا پسِ دیوار کبھی تو ہوگا
دیکھتے ہیں کہ غمِ ہجر سہو گے کب تک
اب پلٹ آؤ یہ اصرار کبھی تو ہوگا
٭٭٭




بہت سلگائے رکھتے ہیں ترے اشعار ہونٹوں کو
بچانا ہو گیا مشکل مجھے اب دل کے چھالوں کو
بہت نازک، بہت مضبوط سی اک بات کہنا ہے
اگر تیری رضا مل جائے ان بے تاب ہونٹوں کو
لبوں کی سرحدوں کے بیچ اک طوفان اٹھتا ہے
بہت مشکل ہوا ہے روکنا خاموش لفظوں کو
وہ کتنی منہمک ہو کر خلا میں محوِ رقصاں ہے
ابھی تک آس ہے آنکھوں کے ان بیمار سپنوں کو
سجا کر ہم دلِ ویران کی دیوارِ خستہ پر
لیے پھرتے ہیں ارمانوں کی بے توقیر لاشوں کو
ترے الفاظ کی کانوں میں بجتی گھنٹیاں رکھ کر
دلاسہ روز دے لیتا ہوں میں ویران شاموں کو
سبھی سنگیت دہراتے رہو نقّاشؔ تم پیہم
ابھی مجھ کو جگانا ہے سبھی رنگین لمحوں کو
٭٭٭




سوچ کے تاروں میں یہ اعجازِ دستک خوب ہے
بن کسی آواز کے یہ سازِ دستک خوب ہے
تیرے آ جانے سے پہلے آ گئی تیری مہک
دستِ خوشبو سے ترا اندازِ دستک خوب ہے
من میں بیٹھی ساری چڑیوں کو دیا جس نے جگا
یہ نگاہوں کی تری آوازِ دستک خوب ہے
ہاتھ رکھا تھا ابھی در پر کہ تو آئی نظر
یہ کرم فرمائی کا اعزازِ دستک خوب ہے
اپنی آنکھوں کی اداؤں سے مجھے دے کر فریب
اور پھر دل گدگدانا، نازِ دستک خوب ہے
رات بھر آنکھوں میں رکھ کر پھر جگانا ہے مجھے
مجھ کو بتلانے کو تیرا رازِ دستک خوب ہے
فکر کی دہلیز پر دروازۂ احساس پر
طائرِ تخئیل یہ پروازِ دستک خوب ہے
٭٭٭




روح میری الگ ہے، جان الگ
ذات کا ناتواں مکان الگ
ہر طرف پھیلتی ہوئی کرنیں
اک اندھیرے کا خاندان الگ
ایک ذرّہ ہوں اور کچھ بھی نہیں
ہوں بہت کچھ ہے یہ گمان الگ
قید ہیں آنکھ میں کئی سپنے
اور ہے فکر کی اڑان الگ
اک طرف شور خانۂ دل میں
عقل رہتی ہے بے زبان الگ
کر رہا ہے نصیب کی باتیں
اور تدبیر پر ہے مان الگ
ڈوبتے تیرتے ہوئے قصے
اور حیرت کی داستان الگ
٭٭٭




اے میرے خدا وقت کی آواز بدل دے
یا پھر مری تقدیر کا انداز بدل دے
تو مجھ کو عطا کر مری منزل کا اشارہ
یا پھر مرے افکار کی پرواز بدل دے 
میں پھر سے پلٹ آؤں گا اک بار اگر تُو
میرے لیے احساس کا آغاز بدل دے
حاضر ہوں مجھے آج مقدر میں سجا لے
ایسا نہ ہو قسمت نگہِ ناز بدل دے
بدلے گی نہیں آنکھ میں تصویر تمھاری
یہ ایک الگ بات کہ اعجاز بدل دے
بخشی جو مجھے پھول کی پتّی تھی لبوں سی
اے کاش وہ اس بار یہ اعزاز بدل دے
ماحول تڑپ جائے، مجھے اس سے غرض کیا
نغمے، یہ دھنیں اور سبھی ساز بدل دے
٭٭٭




یوں تجھے بلانے کا اہتمام کرنا ہے
آج شب ستاروں کا انتظام کرنا ہے
آنکھ میں پرونے ہیں صبح تک کئی سپنے
اور پھر تجھے ان کا زیرِ دام کرنا ہے
صبح و شام تیرے ہیں اور دوپہر تیری
رات کو بھی اب ہم نے تیرے نام کرنا ہے
آ رہی ہے ساتھ اپنے، لے کے وہ بہاروں کو
اب ہمیں بہاروں کا احترام کرنا ہے
کچھ ہمیں بتاؤ تم، کچھ تمھیں بتائیں ہم
وضع زندگانی کا اک نظام کرنا ہے
اک جہاں مقید ہے اس حسیں کہانی میں
نام بس ترا لکھ کر اب تمام کرنا ہے
کھل اٹھیں گے ہر جانب گلستاں محبت کے
بس تجھے نگاہوں سے اک سلام کرنا ہے 
٭٭٭




حلقۂ بے وقار سے نکلیں
جبر کے اس حصار سے نکلیں
اپنی منزل تلاش کرنے کو
راہ کے اس غبار سے نکلیں
اس سے پہلے کہ مسخ ہو صورت
محفلِ داغ دار سے نکلیں
ہم ہیں جس کے نظام کا حصّہ
آج اس کے شمار سے نکلیں
آؤ خوش فہمیاں مٹا ڈالیں
وقت کے انتظار سے نکلیں
موڑ کر توسنِ خیال کا رخ
وقت کے اعتبار سے نکلیں
جس نے محدود کر دیا ہے ہمیں
آؤ اس اختیار سے نکلیں
٭٭٭




مجھ کو حق بات کے اقرار پہ اکساتی ہے
زندگی لمحۂ بیدار پہ اکساتی ہے
مل تو سکتی ہے ضرورت کی ہر اک شے مجھ کو
ہے کوئی چیز جو انکار پہ اکساتی ہے
جھوٹ ہیں، جھوٹ ہیں، سب جھوٹ تمھارے وعدے
اب بغاوت مجھے اظہار پہ اکساتی ہے
ہر صعوبت ہی مجھے راہِ جفا میں اکثر
اپنے اجداد کے معیار پہ اکساتی ہے
اپنے مضبوط مؤقف پہ ڈٹے رہنے کو
میری غیرت مجھے اصرار پہ اکساتی ہے
بیٹھ جاؤں بھی تو ان آخری لمحوں کی تھکن
پھر مجھے آخری اک وار پہ اکساتی ہے
زندگی موت کی دہلیز پہ لے آئی ہے
اور اب موت مجھے پیار پہ اکساتی ہے
٭٭٭




تم نے اب سیکھ لیا مجھ کو ستائے رکھنا
ایک محشر سا مرے دل میں اٹھائے رکھنا
ایسا کرنا کہ مرے نام کو دل پر لکھ کر
پردۂ ذہن کو توقیر دلائے رکھنا
میں بھی رکھوّں گا تمھیں سوچ کے شانوں پہ سوار
تم بھی سینے سے مری آس لگائے رکھنا
پھر اترنا ہے مجھے خواب کی گہرائی میں
تم نگاہوں میں کوئی راہ بنائے رکھنا
منتظر آنکھ کو مایوس نہ ہونے دینا
خود کو امید کے رستے پہ بٹھائے رکھنا
جانے کب پھر سے پلٹ آؤں تمھاری خاطر
پھول احساس کے گلشن میں کھلائے رکھنا
اپنی آنکھوں کا دیا میری جبیں پر رکھ کر
نام اپنا مری قسمت میں جگائے رکھنا
٭٭٭




دشمنِ جان ہو گیا ہے مرا
وقت مہمان ہو گیا ہے مرا
دل کسی اور کا نہیں ہوگا
تجھ سے پیمان ہو گیا ہے مرا
تیری خوشبو ہے میری سانسوں میں
آج ایمان ہو گیا ہے مرا
یاد کے دلنشیں کھلونے سے 
وقت آسان ہو گیا ہے مرا
اے مری جان جلد لوٹ آؤ
جسم بے جان ہو گیا ہے مرا
موت بھی اب نہ کر سکے گی جدا
کس قدر مان ہو گیا ہے مرا
جان ہے کس عذاب میں میری
جسم زندان ہو گیا ہے مرا
٭٭٭




اس کا فرمان بھی نہیں آیا
کوئی مہمان بھی نہیں آیا
آہ رستے میں رہ گئی ہوگی 
کوئی طوفان بھی نہیں آیا
یوں کہانی الجھ گئی اپنی
یاد عنوان بھی نہیں آیا
راس آئی نہ ہم کو آزادی
اور زندان بھی نہیں آیا
بے رخی دیکھ کر نہیں چونکا
اور حیران بھی نہیں آیا
کیوں جھلکتا ہے دکھ نگاہوں میں
ہجر کا دھیان بھی نہیں آیا
یاد ان جاں نثار یاروں کو 
کوئی پیمان بھی نہیں آیا
اس سفر میں ہجومِ گل تو کجا
شہرِ ویران بھی نہیں آیا
٭٭٭




مجھے اب تیرے استفسار سے ڈر کر نہیں جینا
کہ رستے کی کسی دیوار سے ڈر کر نہیں جینا
ذرا یہ سوچ لینا سر بکف نکلے ہیں دیوانے
انہیں اب ظلم کی تلوار سے ڈر کر نہیں جینا
اٹھائیں کب تلک ہم آرزوؤں کے جنازوں کو
نہیں اب تو صلیب و دار سے ڈر کر نہیں جینا
ہمارے ضبط کے بندھن اگر اب توڑ ڈالے ہیں
خلافِ جبر اب اظہار سے ڈر کر نہیں جینا
جفا کی آندھیوں کو ساتھ لے کر سامنے آؤ
کہ اب ہم نے تمھارے وار سے ڈر کر نہیں جینا
مخالف سمت کا ہم نے تعیّن کر لیا ہے اب
تمھارے قہر کی رفتار سے ڈر کر نہیں جینا
نہیں رکھنے تمھارے راستے میں خواب اب اپنے
تمھاری ذات کے پندار سے ڈر کر نہیں جینا
٭٭٭




نظر میں آج تمھاری خمار کس کا ہے
دھڑک رہا ہے جو دل میں وہ پیار کس کا ہے
چمک تمھاری جبیں پر عجیب سی کیا ہے
تمھاری آنکھ میں یہ اعتبار کس کا ہے
جھلک رہا ہے رخِ گل پہ داستاں بن کر
یہ ٹہنیوں پہ لہکتا وقار کس کا ہے
مری وفاؤں کے مدفن کے پاس دُود فشاں
یہ آرزو کا فسردہ مزار کس کا ہے
جو ڈس رہی ہیں تمھیں وہ وفائیں کس کی ہیں
جو ہو رہا ہے لبوں پر شمار کس کا ہے
تمھارے گرد ہے کس کی دعاؤں کا ہالہ
پناہ جس میں لیے ہو حصار کس کا ہے
کیا ہوا ہے کسے قید خانۂ دل میں
تمھاری سوچ پہ یہ اقتدار کس کا ہے
٭٭٭




دل کے ارمان ہی بے تاب نہیں ہیں کافی
بحرِ جذبات میں سیلاب نہیں ہیں کافی
ان کی محنت کے عوض آس زدہ بچّوں کو
آنکھ میں روز نئے خواب نہیں ہیں کافی
کچھ ملے اور اشاروں کے سوا بھی ہم کو
بِن کسی لفظ کے اعراب نہیں ہیں کافی
آرزوؤں کے سفینے کو ڈبونے کے لیے
ساگرِ غم ترے گرداب نہیں ہیں کافی
اور بھی کچھ ہیں تقاضے مرے جینے کے لیے
اک تری بزم کے آداب نہیں ہیں کافی
میرے عنوان کا احسان بھی کر دو ان پر
عہدِ ماضی کے حسیں باب نہیں ہیں کافی
ہم کو درکار ہیں اَب تیری ادا کے موسم
آس کے پھول ہی شاداب نہیں ہیں کافی
٭٭٭




اب تو روٹھ جانے کا وقت ہی نہیں ملتا
تجھ کو آزمانے کا وقت ہی نہیں ملتا
سو چکے ہیں جو ارماں یاس کے شبستاں میں 
اب انہیں جگانے کا وقت ہی نہیں ملتا
کس طرح بلائیں اب تجھ کو دید کی خاطر
راستہ سجانے کا وقت ہی نہیں ملتا
آرزو کی جو دنیا کھو گئی ہے راہوں میں
اس کو ڈھونڈ لانے کا وقت ہی نہیں ملتا
یوں ترس گئیں آنکھیں خود کو دیکھ لینے کو
آئنہ دکھانے کا وقت ہی نہیں ملتا
وقت کے تقاضے ہیں، میرے خشک ہونٹوں کو
گیت گنگنانے کا وقت ہی نہیں ملتا
ان تمھاری یادوں کی روشنی غنیمت ہے
اب دیے جلانے کا وقت ہی نہیں ملتا
٭٭٭




دل و دماغ میں اپنا خیال چھوڑ گیا
چلا گیا وہ مگر خدّوخال چھوڑ گیا
کھلے نہ ہونٹ تو، وہ آبگیں نگاہوں سے
مری نظر میں ہزاروں سوال چھوڑ گیا
سمیٹ کر وہ نگاہوں سے شوخیاں ساری
اداس آنکھ میں سپنے نڈھال چھوڑ گیا
مرے غرور کے ہاتھوں میں آئینہ دے کر
مری جبیں پر مرا ہی زوال چھوڑ گیا
پلٹ کے اس کو پکاروں اس انتظار کے بعد
ہر ایک سمت امڈتا ملال چھوڑ گیا
کوئی نگاہ بھی اب دل تلک نہیں جاتی
میانِ راہ مروّت کی ڈھال چھوڑ گیا
ہر ایک پھول کی پتّی کو بانٹ کر خوشبو
سبک خرام ہوا میں کمال چھوڑ گیا
دل و نگاہ میں سوزِ تلاشِ رزق لیے
خدا کو سونپ کے اپنے عیال چھوڑ گیا
٭٭٭




بیٹھی ہوئی ہے راہ میں نادان زندگی
اجڑی ہوئی، نڈھال، پریشان زندگی
یہ کس کی آس اور نگاہوں کا نور ہے
دستِ سوال دیکھ کے پہچان زندگی
لائی گئی ہے ایک کٹہرے میں آج پھر
انصاف مانگتی ہوئی ویران زندگی
سانسوں کی تیز دھار کا مارا ہوا ہوں میں
ورنہ تھی کس قدر مری آسان زندگی
مجھ کو سزائے موت پہ حیرت نہیں مگر
اس فیصلے پہ درج تھا عنوان زندگی
لگتا ہے یوں کہ موت میں جان آ گئی بہت
دیکھی گئی ہے دہر میں بے جان زندگی
ہے تیرے آسمان کے نیچے لیے ہوئے
تیری توجہات کا ارمان زندگی
٭٭٭




ویرانیاں لیے ہوئے سنسان راستے
ہیں میرے انتظار کی پہچان راستے
وہ جا کے جانے کون سی دلدل میں دھنس گئے
نکلے تھے ڈھونڈنے کو جو آسان راستے
چلنا ہے لے کے تیری جدائی کے بوجھ کو
لمبا سفر ہے اور ہیں انجان راستے
جو چل رہے ہیں موجِ حوادث کے دوش پر
کھو دیں نہ ایک روز وہ نادان، راستے
وہ جن پہ ہم نے ساری جوانی گزار دی
کتنے کٹھن ہیں آج مری جان راستے
سہمے ہوئے ہیں آج مسافت میں لوگ کیوں
شاید لیے ہیں گود میں طوفان راستے
قدموں کا تیرے آج بھی اعجاز یاد ہے
بھولے نہیں ہیں آج بھی احسان راستے
جس سمت بھی چلا ہوں بہاروں کی کھوج میں
وہ کر دئیے گئے مرے ویران راستے
٭٭٭




پیغامِ انقلاب مجھے لا دیا گیا
یعنی مقامِ قتل پہ پہنچا دیا گیا
جب بھی ترے خیال سے نکلا ہوں ٹوٹ کر
میں پھر غمِ حیات میں الجھا دیا گیا
بچّوں کو میرے جب بھی پھلوں کی طلب ہوئی
تصویر دے کے نام سے بہلا دیا گیا
اس کی نظر میں جو تھے معزز وہ چن لیے
میری حقیر ذات کو ٹھکرا دیا گیا
اُس وقت کیوں بدن سے مرے سر قلم ہوا
جب پرچمِ حیات کو لہرا دیا گیا
سچ کی سزا کو عام دکھانے کے واسطے
بستی کے بیچ خون میں نہلا دیا گیا
مانگی پناہ، اس نے تحفظ پہ رکھ لیا
میرا نصیب ہاتھ میں پکڑا دیا گیا
٭٭٭




جلوہ گر کون ہے جذبات کے آئینے میں
عکس کس کا ہے تری ذات کے آئینے میں
بات کرتے ہوئے آئی جو زباں میں لغزش
کوئی جھلکا ہے تری بات کے آئینے میں
اپنی تصویر کو میں ڈھونڈ رہا ہوں اب تک
تیری آنکھوں کی کرامات کے آئینے میں
پردۂ ذہن پہ کوئی بھی نہیں تھا تجھ بن
خوب دیدار ہوا رات کے آئینے میں
کس قدر ہے مجھے احساسِ تفاخر جب سے
خود کو دیکھا تیری عادات کے آئینے میں
تیری تصویر ہے رقصاں مری بینائی میں
تیرا پیکر ہے خیالات کے آئینے میں
کتنے بے کل ہیں مری آنکھ میں تیرے سپنے
جھانک کر دیکھ سوالات کے آئینے میں
٭٭٭




دل الگ راہ پر، دماغ الگ
روشنی ہے الگ، چراغ الگ
پھول کی دید کی تمنا ہے
اور خوشبو کا ہے سراغ الگ
صدمۂ ہجر میں جھلکتا ہے
بے وفائی کا ایک داغ الگ
اک طرف ڈولتی ہوئی سوچیں
لڑکھڑاتا ہوا ایاغ الگ
آنکھ سے موسمِ خزاں ہے عیاں
دل میں امید کا ہے باغ الگ
ڈس رہی ہیں الگ تری یادیں
اور ہر کام سے فراغ الگ
بھوکے بیٹھے ہیں صحن میں بچّے
چھت پہ چِلّا رہا ہے زاغ الگ
٭٭٭



ایک وہ صاحبِ فراش الگ
اور سوچوں میں ارتعاش الگ
روٹھ بیٹھی الگ مسیحائی
فکرِ بد حالیِ معاش الگ
اک طرف بین زندگانی کے 
اور انسانیت کی لاش الگ
آرزوئیں الگ تڑپتی ہیں
خواب ہوتے ہیں پاش پاش الگ
ظلم کا مختلف تقاضا ہے
میرے اجداد کا قماش الگ
کچھ نگاہوں میں بدگمانی ہے
اس پہ لہجے کی ہے خراش الگ
٭٭٭



اک عجب کیفیت سی طاری ہے
جب سے اک جیت مجھ سے ہاری ہے
میری آنکھوں سے جھانکتی وحشت
تیری ہر اک خوشی سے بھاری ہے
ہے بھکارن جو ہاتھ پھیلائے
کیا کہا یہ ابھی کنواری ہے
میری آنکھوں میں رنج لکھیّ ہیں
زندگی کیا فقط تمھاری ہے
ہیں شبستاں وہ کس قدر دل کش
درج جن پر سیاہ کاری ہے
ہم نے اس کے خلاف کچھ نہ کہا
ایک ٹھوکر ضرور ماری ہے
٭٭٭




جسم کا بوجھ الگ، روح کا آزار الگ
حسرت و یاس میں خاموش سی تکرار الگ
اک طرف ذہن پہ ہے بوجھ گراں سوچوں کا
سانس لینا ہے ترے شہر میں دشوار الگ
پاؤں میں تلخیِ حالات کی زنجیر الگ
گود میں ماں کی بلکتا ہوا بیمار الگ
مان لیتا ہوں تجھے ہوگی محبت لیکن
موت کو بھی ہے مری جان سے اک پیار الگ
دکھ تو یہ ہے کہ میں اس دیس کا باسی ٹھہرا
جس کی تہذیب الگ وقت کی رفتار الگ
اس سے اک روز تصادم تو مرا ہونا تھا
اس کا منشور الگ تھا، مرے افکار الگ
طور کی اپنی بلندی ہے مگر میرے لیے
تیری دہلیز کا معیار ہے اے یار الگ
٭٭٭




ایک ہے جسم و جان کی قیمت
کیا لگے بے زبان کی قیمت
چند سِکّوں کی ایک گولی پر
ہم نے لکھ دی بیان کی قیمت
ہمت و حوصلہ پہاڑوں کا
جانتا ہے چٹان کی قیمت
نوچ ڈالے گئے ہوں پر جن کے
ان سے پوچھو اڑان کی قیمت
سارے ارمان چن دئیے اس میں
دے سکو گے مکان کی قیمت؟
دل گرفتہ نہ ہو بلالؓ کہ لوگ
جان لیں گے اذان کی قیمت
جاں بھی دے کر ادا نہیں ہوگی
ہم سے اس مہربان کی قیمت
٭٭٭




بچ نکلنے کی راہ بھی تو نہیں
آج تیری پناہ بھی تو نہیں
کھو گیا ہے مرا سکون اگر
کوئی آرام گاہ بھی تو نہیں
بے گناہی اگر نہیں ثابت
اعترافِ گناہ بھی تو نہیں
اک تأسّف سے لوگ ذکر کریں
اس قدر ہم تباہ بھی تو نہیں
سو رہی ہے غریب کی قسمت
اور بیدار شاہ بھی تو نہیں
کتنا تنہا ہے بے بسی کا سفر
کوئی ہونٹوں پہ آہ بھی تو نہیں
موت ہی مہربان ہو جائے
اب کوئی اور چاہ بھی تو نہیں
٭٭٭




اپنی ہی کائنات کی خاموشیوں کے نام
یہ رات تیری ذات کی خاموشیوں کے نام
قربان کر دئیے جو تمھارے خیال پر
سب صبح و شام، رات کی خاموشیوں کے نام
جذبوں کا شور، بولتی آنکھوں کی گفتگو
دل کے معاملات کی خاموشیوں کے نام
پلکوں کی جھالروں سے ڈھلکتے ہوئے جواب
تیری حسین مات کی خاموشیوں کے نام
سجتی ہیں رات بھر جو ستاروں کی محفلیں
ساری شبِ برات کی خاموشیوں کے نام
ہاری ہے میرے سامنے تو نے جو زندگی
ہر پل تری حیات کی خاموشیوں کے نام
آنکھوں کی چلمنوں میں دمکتے ہوئے سبھی
ہیرے جواہرات کی خاموشیوں کے نام
٭٭٭




درد بیدار ہی نہیں ہوتا
عشق بیمار ہی نہیں ہوتا
عقل کا حالتِ جنوں میں کبھی
کوئی کردار ہی نہیں ہوتا
اپنا سب کچھ نثار کر ڈالا
پیار نادار ہی نہیں ہوتا
ڈھونڈتا ہوں پیام ہونٹوں پر
وقتِ اظہار ہی نہیں ہوتا
بھول جانے کا جرم کرنے کو
ذہن تیّار ہی نہیں ہوتا
لائے جاتے ہیں جس گھڑی مجرم
تختۂ دار ہی نہیں ہوتا
حسن کوئی ترے مقابل ہو
دل طلب گار ہی نہیں ہوتا
جس کی تخلیق بول ہی نہ سکے
وہ تو فنکار ہی نہیں ہوتا
٭٭٭


آج دل کا پیام آنکھوں سے 
مل گیا ہے تمام آنکھوں سے
بزمِ یاراں میں بیٹھ کر اس نے
لکھ دیا میرا نام آنکھوں سے
اس کے جذبوں کو چھیڑنے کے لیے
آج لینا ہے کام آنکھوں سے
جیتنا ہے تو پھر بدل ڈالو
میرے دل کا نظام آنکھوں سے
جھک گئی ہے نگاہ کیوں تیری
گر گیا کیا مقام آنکھوں سے
خود کو اس کی نگاہ میں جڑ کر
لے لیا انتقام آنکھوں سے
تم گئے ہو تو جیسے روٹھ گیا
شوخیوں کا قیام آنکھوں سے
وعدۂ وصل آج ہے شاید
یوں جھلکتی ہے شام آنکھوں سے
دل نے بھیجا ہے پیار کا تحفہ
اس لطافت کو تھام آنکھوں سے
٭٭٭




روح جب ساتھ چھوڑ جائے گی
جان بھی تو نجات پائے گی
راستے میں بغاوتوں کے تجھے
حکمرانی بھی آزمائے گی
فکر ان بے امان راہوں میں
کوئی تو راستہ بنائے گی
دیکھ غربت میں کھیل کود نہ کر
بھوک ورنہ بہت ستائے گی
مفلسی میں نہ روٹھنا ماں سے
وہ تجھے کس طرح منائے گی
سوچ لینا کہ سیر ہے یہ شکم
نیند آنکھوں میں در ہی آئے گی
آس کو چھیڑنا نہیں اچھا
بے بسی تجھ پہ مسکرائے گی
٭٭٭




اپنی منزل بدل نہیں سکتا
تیرے رستے پہ چل نہیں سکتا
اب کسی مصلحت کے سانچے میں
کوئی ارمان ڈھل نہیں سکتا
ہر طرف ہیں َعلَم بغاوت کے
اب یہ طوفاں ٹل نہیں سکتا
تو نے سمجھا تھا ناتواں کا لہو
جبر سہہ کر ابل نہیں سکتا
اٹھ گیا خوف اب زبانوں سے
ظلم اب اور پل نہیں سکتا
جانتا ہوں کوئی بھی دیپ ترا
اب ہواؤں میں جل نہیں سکتا
خوف کا اک حصار ہے جس سے
بچ کے ظالم نکل نہیں سکتا
٭٭٭




گماں سا ہے یہ ملاقات آخری ہی نہ ہو
تمھارے ساتھ مری بات آخری ہی نہ ہو
جو انگ انگ سے جذبوں کا زور ابھرا ہے
تمھارے پیار کی بہتات آخری ہی نہ ہو
یہ سوچ کر ہی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں
تمھاری آنکھ کی برسات آخری ہی نہ ہو
مجھے یہ ڈر ہے کہیں میرے نام سے پہلے
ترے لبوں پہ مناجات آخری ہی نہ ہو
عطا ہوئی ہے مجھے فصلِ گل کی رعنائی
یہ تیرے لطف کی سوغات آخری ہی نہ ہو
ملے ہیں ہم تو نہیں اور کوئی بھی خواہش
میں سوچتا ہوں کہ یہ رات آخری ہی نہ ہو
ابھی تو مجھ کو کئی بار جنگ کرنا ہے
مرے حریف تری مات آخری ہی نہ ہو
٭٭٭




سوچ کے سمندر میں خلفشار جاری ہے
معرکہ محبت کا زور دار جاری ہے
سوگوار زخموں میں، کون جاگ اٹھا ہے
سوز دل کے سازوں میں تار تار جاری ہے
ہجر کی اداسی ہے آج بھی نگاہوں میں
اک سفر محبت کا سوگوار جاری ہے
بارشوں کے موسم میں کون یاد آیا ہے
کیوں مری نگاہوں سے آبشار جاری ہے
بخش دو نگاہوں کو آج دید کا منظر
کس قدر نگاہوں میں انتظار جاری ہے
فکر سے مرے دل کے راستے نہیں ملتے
کس قدر اصولوں میں انتشار جاری ہے
آج بھی کوئی قیمت پنکھڑی پہ لکھی ہے
آج بھی وہ حرمت کا کاروبار جاری ہے
٭٭٭




سوچتا ہوں یہ اگر بات، عجب ہی کیا ہے
روح سے جان کے رشتے کا سبب ہی کیا ہے
موت کے فتوے کا ڈر بھی ہے مگر سوچتا ہوں
جو خطاؤں کہ نہ بخشے گا وہ ربّ ہی کیا ہے
جب ہمیں عالمِ ارواح میں بھی ملنا ہے
دیکھ لے گا کوئی ہم کو تو غضب ہی کیا ہے
کیا خبر، کل یہ ہمیں وقت ملے یا نہ ملے
جب تمھیں بات ہی کہنا ہے تو اب ہی کیا ہے
قلب و جاں جس سے نہ مہکیں وہ محبت ہی نہیں
جو نگاہوں سے نہ ابھرے وہ طلب ہی کیا ہے
ہم کو جب ساتھ ہی رہنا ہے بچھڑ کر سب سے
چھو کے بھی دیکھ ہی لیں گے تجھے جب ہی، کیا ہے
بس کسی شخص کی تسکین کی خاطر ہو فقط
دل نہ تسلیم کرے جس کو، ادب ہی کیا ہے
٭٭٭



دن تو الگ ہے، رات بھی جاگی مرے لیے
سپنوں کی کائنات بھی جاگی مرے لیے
خود کو بٹھا کے رات کی تاریک گود میں
اک منتظر حیات بھی جاگی مرے لیے
تو نے تو خیر مجھ کو لبوں پر سجا لیا
تیری ہر ایک بات بھی جاگی مرے لیے
جاگا ہوں رات بھر جو ترے ہی خیال میں
آنکھوں میں تیری ذات بھی جاگی مرے لیے
مجھ کو خوشی نے جیت کی سونے نہیں دیا
تیری حسین مات بھی جاگی مرے لیے
تجھ کو بٹھا کے چاند ستاروں کے درمیاں
بزمِ تصوّرات بھی جاگی مرے لیے
٭٭٭



خوف، انعام ہے کمزوری کا
بس یہی کام ہے کمزوری کا
بے بسی کھینچ کے لے جاتی ہے
قبر، انجام ہے کمزوری کا
میرے بچوں کی نگاہوں سے عیاں
ایک پیغام ہے کمزوری کا
دل میں اٹھتے ہیں تونگر جذبے
نام بدنام ہے کمزوری کا
تجھ کو آزاد نہ ہونے دے گا
یہ جو اک دام ہے کمزوری کا
٭٭٭




یادوں کو تری دل سے نکالا نہیں جاتا
یہ بوجھ مگر اور سنبھالا نہیں جاتا
آنکھوں میں ہے کس ذات کی تصویر منوّر
ہے رات مگر دل سے اجالا نہیں جاتا
جو وقتِ سفر آنکھ میں تم چھوڑ گئے تھے
اب تک وہ مری آنکھ کا چھالا نہیں جاتا
آتا نہیں پڑھنا جنھیں آنکھوں سے کہانی
دریائے محبت کو کھنگالا نہیں جاتا
میں نے بھی تری یاد کو کھونا نہیں چاہا
یہ روگ بھی ایسا ہے نرالا، نہیں جاتا
آ جاتی ہے جب میرے تخیل میں جوانی
پھر تیرے خیالات کو ٹالا نہیں جاتا
بیتابیِ دل ہے کہ محبت کا جنازہ
کہتے ہو کہ اب اور یہ پالا نہیں جاتا
٭٭٭
تشکر: عمران شناور جنہوں نے ان پیج فائل فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
