﻿

خود کشی اور دوسری کہانیاں 


عارف نقوی


جمع و ترتیب: اعجاز عبید






خود کشی۔۔۔!

شاکر نے خود کشی کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ وہ شہر سے کچھ دور لکھنؤ سے کانپور جانے والی ریل کی پٹری پر چلا جا رہا تھا۔
آس پاس سے کئی ٹرینیں گزر چکی تھیں۔  کُو،  چھِک چھِک کی آوازیں گونج رہی تھیں۔  بچپن میں یہ آوازیں اسے بہت پسند تھیں۔ 
وہ اپنے ساتھی لڑکوں کے ساتھ ٹولیاں بنا کر کُو چھک چھک کرتا ہوا ایک لائن سے دوڑا کرتا تھا۔ کبھی دھڑم دھڑم کی آوازیں ایسے نکالتا جیسے ریل پیل پر سے گزر رہی ہے، کبھی اتنی تیزی سے چھِک چھِک کرتا جیسے گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی ہے اور پھر اتنی لمبی چھیک چھیک چھاک چھاک کرتا جیسے پلیٹ فارم قریب آ رہا ہے۔ اور پھر اپنے ساتھی لڑکوں کے ساتھ مل کر پان بیڑی سگریٹ اور چائے گرم کی آوازیں نکالنے لگتا۔نوجوانی کی منزل میں داخل ہونے کے بعد بھی اسے ریل کے سفر میں خاص لطف آتا تھا۔ خصوصاً جب وہ ’شتابدی‘ سے سفر کرتا تھا، جو دلی اور لکھنؤ کے درمیان بہت ہی تیز اور صاف ستھری ٹرین مانی جاتی ہے اور جس میں اخبار اور منرل پانی سے لیکر ناشتہ اور کھانا تک فراہم کیا جاتا ہے اور لاؤڈ اسپیکر پر لکھنؤ کی تاریخ اور تہذیب کے
گن گائے جاتے ہیں۔۔ ۔لیکن آج وہ اسی’ شتابدی‘ کے سامنے لیٹ جائے گا۔کٹ جائے گا۔
کو چھک چھک اور دھڑ دھڑ کرتی ہوئی ایک اور ٹرین دوسری پٹری پر سے گزر گئی۔ سرمئی بادلوں نے سورج کو اپنے آنچل میں چھپا لیا۔ ہو ا کے جھونکے جسم کو سہلا رہے تھے۔ دور تک ریل کی پٹریوں کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ درختوں کی قطاریں اور ان کے عقب میں کھیتوں کی جھولتی ہوئی بالیاں اور اکا دُکا جانور نظر آرہے تھے۔ انسانوں کا کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔
وہ آج اپنی زندگی کو ختم کر دینا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شتابدی ٹرین سہہ پہر کو ٹھیک تین بجے چار باغ اسٹیشن سے چلے گی اور پھر تھوڑی دیر میں اس پٹری پر سے گزرے گی اور وہ اس پٹری پر لیٹ جائے گا تا کہ ٹرین کے پہیے اس کے جسم کو کاٹتے ہوئے، چھکِ چھکِ کرتے گزر جائیں اور ان پٹریوں اور ان کے بیچ میں پڑے کنکڑوں کو لہو لہان کر دیں اور دوسرے دن اخبارات میں شائع ہو کہ ایک عاشق نے اپنی وفا شعاری کا ثبوت دیا ہے اور اس کی محبت کی داستان لا فانی ہو جائے۔
شاکر لکھنؤ کے ایک نواب سید آغا جانی کا بیٹا تھا۔ جن کے والد کے گھر کے دروازہ پر،  کہا جاتا ہے، کہ کبھی ہاتھی بندھتا تھا۔ ۱۸۵۷ء کے انقلاب میں وہ انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ اور ان کی ساری جائداد انگریزوں نے ضبط کر کے کسی دوسرے کو دیدی تھی۔ بس ایک حویلی کے کھنڈر ان کے خاندان کے رہنے کے لئے بچے تھے، جنمیں اب نواب آغا جانی اپنی بیگم اور بیٹے کے ساتھ رہتے تھے۔ نواب صاحب پرانے رکھ رکھاؤ کے انسان تھے۔ خاندانی عزت و شرافت پر فخر تھا۔ مگر کوئی قاعدہ کا کارو بار کرنے کی صلاحیت اور تجربہ نہیں تھا۔ مالی تنگیوں کا شکار رہتے تھے۔ مگر تنگ دستی کا اظہار کسی سے نہیں کرتے تھے۔ اہلیہ پر پردہ کی سخت پابندی تھی۔ ان کی نو اولادیں ہوئیں تھیں مگر شاکر کے علاوہ سب بچپن میں ہی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔  لوگوں کا خیال تھا کہ ان کے گھر میں جنات بسے ہوئے ہیں،  جو بچّوں کو اٹھا لے جاتے ہیں۔  بعض لوگوں نے تو کئی کالی کالی بلیاں بھی آنگن میں گھومتی ہوئی دیکھی تھیں یا میاؤں میاؤں کی آوازیں سنی تھیں اور نواب صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس حویلی کو ان کی حفاظت میں چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔ 
نواب صاحب کی اولادوں میں بس شاکر ہی صحتمند پیدا ہوا تھا اور وہ بھی منتوں و دعا تعویذوں کا کرم تھا، اس لئے اس کے گال پر ہمیشہ ایک کالا تِل ہوتا اور گلے میں گنڈا اور بازوؤں پر تعویذ بندھے رہتے۔اور اس بات کا خیال رکھا جاتا کہ وہ زیادہ محنت نہ کرنے پائے اور زیادہ پڑھائی سے بھی اس کی صحت پر برا اثر نہ پڑے۔ محلے ٹولے کے لڑکوں کے ساتھ کرکٹ اور فٹ بال کھیلنے سے بھی اسے منع کیا جاتا۔ بس لُوڈو،  کیرم اور تاش وغیرہ کھیلوں کی اجازت تھی۔ حالانکہ شاکر کو جب بھی موقع ملتا محلے کے لڑکوں کے ساتھ دھما چوکڑی کے لئے پہنچ جایا کرتا اور لٹو نچاتا،  کنچے کھیلتا اور پتنگوں کی ڈوریں لوٹتا۔
شاکر کو لاڈ پیار سے نزاکت کے ساتھ پالنے کے باوجود ایک انگریزی اسکول میں داخل کیا گیا اور دو پرائیویٹ ٹیچر رکھے گئے۔ ایک انگریزی پڑھانے کے لئے عیسائی ٹیچر اور ایک مولوی صاحب قران شریف پڑھانے کے لئے۔ مگر دونوں پر پابندی تھی کہ شاکر کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ نہ کریں۔  اسکول میں بھی اگر کوئی ٹیچر پیٹ دیتا تو نواب صاحب جا کر ہیڈ ماسٹر سے شکایت کرتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ کہ شاکر کلاس میں بار بار فیل ہوا اور انٹر میں تب پہنچا جب اس کے بعض ہم عمر ساتھی بی اے اور ایم اے پاس کر چکے تھے۔
زیادہ تعلیم نہ حاصل کر سکنے کے باوجود محلّے میں شاکر کی عزت تھی۔ وہ نواب صاحب کا بیٹا تھا،  جو ایماندار، متقی اور پرہیزگار سمجھے جاتے تھے۔ بڑی سی حویلی میں رہتا تھا۔ دیکھنے میں خوبرو اور صحتمند تھا۔ اس لئے محلہ کی لڑکیاں اکثر کنکھیوں سے اسے دیکھا کرتی تھیں۔  خوش مزاج اور ملنسار تھا اور دوسروں کا احترام کرتا تھا اس لئے پڑوسی بھی شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے۔ خصوصاً لالہ بنواری لال تو اس پر بہت ہی مہربان تھے۔
لالہ بنواری لال ایک بڑے مہاجن تھے اور اس کے پڑوس میں رہتے تھے۔ وہ سود پر قرضے دیا کرتے تھے۔
نواب صاحب کی بیگم کے بہت سے جواہرات گرویں رکھ کر اپنے قبضے میں کر چکے تھے اور اب حویلی کو گرویں رکھ کراس پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ اس لئے شاکر سے بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ کبھی کبھی اپنی بیٹھک میں بلا کر دیر تک اس سے ہمدردی جتاتے اور خاندانی حالات پوچھا کرتے۔  ان کی بیٹی روپا اکثر مسکراتی اور اٹھلاتی ہوئی اس کے قریب سے گزرتی اور وہ اپنے سینے میں ایک میٹھا سا درد محسوس کیا کرتا۔
۔۳۔شاکر اب نوجوانی کی منزل سے گزر رہا تھا۔ روپا بھی اب سیانی ہو گئی تھی۔ عنفوانِ شباب کی علامتیں اور خد و خال ابھرنے لگے تھے۔ اسکرٹ کی جگہ اب وہ ساری پہننے لگی تھی۔  اس کی شربتی آنکھوں کی کشش، گالوں کی سرخی، سینے کے مدو جزر، سڈول مرمریں جسم کا جادو اور آواز کا ترنم شاکر کو مسحور کر رہے تھے۔
کبھی کبھی وہ اپنی کیاری میں سے کوئی پھول توڑ کر چپکے سے روپا کو پکڑا دیتا اور وہ اسے لے کر ہنستی ہوئی گھر کے اندر چلی جاتی یا ہولی اور دیوالی پر جب وہ لالہ جی کو بدھائی دینے کے لئے جاتا تو وہ آس پاس دیکھ کر برفی یا قلاقند کا کوئی ٹکڑا چپکے سے اس کے منہ میں ٹھونس دیتی اور ہنستی ہوئی بھاگ جاتی۔
آخر ایک دن جب وہ لالہ جی کو دیوالی کی بدھائی دینے کے لئے گیا تو وہ گھر پر نہیں تھے۔ دروازہ روپا نے ہی کھولا اور برفی کا ایک ٹکڑا لا کر اس کے منہ میں ڈال دیا۔ پھر جیسے ہی وہ دروازہ بند کرنے لگی شاکر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک گلاب کا پھول اسے تھما دیا اور بولا :
’’ رُوپا، تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔‘‘
’’ دھت!‘‘ اتنا کہہ کر روپا نے دروازہ بند کر لیا اور گھر کے اندر چلی گئی۔
پھر اس نے کبھی لالہ جی کے گھر کا رخ نہ کیا۔ نا ہی روپا اس کے گھر کے قریب سے گزری۔ شاکر کے والد نے
گرویں پر حویلی کو دے کر لالہ سے جو قرضہ لیا تھا اس کا سود بھی اب بہت بڑھ گیا تھا اور حویلی میں اداسی چھائی رہتی تھی۔
پھر بھی نواب صاحب نے بیٹے کو کسی طرح سے انٹرمیڈیٹ کروا کر اسے یونی ورسٹی میں بھرتی کروا دیا۔ شاکر نے ہسٹری کے شعبے میں داخلہ لیا کیونکہ روپا بھی اب یو نی ورسٹی میں یہی مضمون پڑھ رہی تھی۔اس کے حسن اور کشش میں اور اضافہ ہو گیا تھا بچپن کے الھڑ پن کی جگہ جوانی کی شوخیاں انگڑائیاں لے رہی تھیں۔ 
پرانی یادیں تازہ ہوئیں،  پھر دوستی بڑھی اور پھر وہ محبت میں تبدیل ہو گئی اور پھر چھپ چھپ کر ملاقاتیں ہونے لگیں۔ 
’’روپا میں تمھارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔‘‘ شاکر نے اس سے کہا۔
’’ میں بھی تمھیں بہت چاہتی ہوں۔  مگر شاکر میرے پتا جی ہم دونوں کا ساتھ گوارہ نہیں کریں گے۔ وہ خود کشی کر لیں گے۔ میں بھی انھیں بہت چاہتی ہوں۔  بچپن میں جب میری ماتا جی کی مرتیو ہو گئی تو اس کے بعد سے انھوں نے مجھے ماں کی طرح پالا ہے۔‘‘ روپا نے اداس لہجے میں کہا۔ ’’ مگر میں تمھیں بھی نہیں چھوڑ سکتی۔ میں پاگل ہو جاؤں گی۔ تم میرا جیون ہو۔‘‘
’’ تم بھی میری زندگی ہو۔ ‘‘ شاکر نے یقین دلایا۔ ’’ میں بھی لالہ جی کی بہت عزت کرتا ہوں۔  انھیں کیسے منہ
دکھاؤں گا۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں۔ ‘‘
پھر ایک دن روپا نے بتایا : ’’ پتا جی میرے لئے لڑکا ڈھونڈھ رہے ہیں،  کیا کروں شاکر؟‘‘
’’ تو چلو،  میں چلتا ہوں ان کے پاس۔  میں بھی تو لڑکا ہی ہوں۔ ‘‘
’’ مذاق نہ کرو شاکر۔ میں سچ کہہ رہی ہوں۔  وہ میرا رشتہ اپنی برادری میں کریں گے۔ اور پھر تمھارا تو مذہب ہی دوسرا ہے‘‘
’’ پریم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا روپا۔ پریمیوں کا دھرم پریم ہوتا ہے۔‘‘
’’ مگر دنیا اس سب کو نہیں مانتی۔ ہمارا سماج بہت کنزرویٹو ہے۔ مگر میں تمھارے بنا نہیں رہ سکتی۔ ‘‘
روپا کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو جاری تھے۔
’’ میری نظروں میں بس اچھا انسان ہونا ضروری ہے۔ اچھے برے تو سب دھرموں میں ہوتے ہیں۔  دھرتی جب دھان اگاتی ہے تو یہ نہیں کہتی کہ یہ کسی ایک خاص دھرم کے لوگوں کے لئے ہے۔ بھونرا جب پھول پر نچھاور ہوتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس پودے کو کس دھرم کے مالی نے لگایا ہے۔ بلبل کے گیت، کوئل کی کوک اور پپیہے کی پی کہاں اور بلبل کے نغمے کسی ایک دھرم کے لئے نہیں ہوتے۔ کوئی دھرم یہ نہیں کہتا کہ پیاسے کو پانی پلانے سے پہلے اس کا نام اور دھرم پوچھ لو۔ انسان کو جب تڑپتا ہوا دل دیا گیا ہے تو یہ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ حسن کے لئے نہ تڑپے۔‘‘
’’ فلاسفی نہ بگھارو،  شاکر، میں سنجیدہ ہوں۔  یہاں جان کا سوال ہے۔‘‘
’’ تو پھر کیا کروں روپا؟‘‘
’’ میں کچھ نہیں جانتی۔ ‘‘ روپا اپنے آنسو پونچھ کر چلی گئی۔
شاکر دیر تک خلاء میں گھورتا رہا جیسے پوچھ رہا ہو:
’’کیا کسی دوسرے مذہب کی لڑکی یا لڑکے سے پریم کرنا سچ مچ جرم ہے؟ کیا ہمارے دھرم واقعی اتنے بے رحم ہیں ؟
پھر اللہ تعلی نے دل کیوں دیا ہے؟ دل میں محبت کیوں پیدا کی ہے؟ کیا دو مختلف دھرموں کے ماننے والوں کے سنگم سے انسانیت کا بھلا نہیں ؟ کیا پیار رنگ و نسل، مذہب و ملت، ذات پات، برادری تک محدود ہونا چاہئے؟ اور اگر ایسا ہی ہے تو اس کی حد کیا ہو گی؟ دوسرے مذہب میں نہ کرو۔ دوسری ذات میں نہ کرو۔دوسرے قبیلے اور دوسرے پیشے کے لوگوں میں نہ کرو۔ آخر یہ اختلافات ختم کیوں نہیں ہوتے؟‘‘

روپا کئی دن تک یونیورسٹی میں نہیں آئی۔ شاید بیمار تھی۔ شاکر کا دل پڑھائی میں نہیں لگتا تھا۔ اس نے کئی بار سوچا کہ روپا کے گھر جا کر خیریت معلوم کرے۔  مگر ہمت نہ پڑی۔

پھر ایک دن جب روپا یونی ورسٹی میں آئی تو بہت پریشان تھی:
’’ شاکر، پتا جی نے میرے لئے لڑکا دیکھ لیا ہے۔ وہ رشتہ طے کر رہے ہیں۔  دلی کا رہنے والا ہے۔ وہاں بزنس
کرتا ہے۔ میں آتم ہتیا کر لوں گی‘‘
’’ ایسا نہیں کہتے روپا!‘‘ شاکر نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’ تو چلو ہم یہاں سے بھاگ نکلیں۔  میں بالغ ہوں شاکر!‘‘
’’ نہیں !‘‘ شاکر کے منہ سے ایک گھٹی سی چیخ نکل گئی۔ دونوں پیپل کے پیڑ کے نیچے بیٹھے دیر تک روتے رہے۔
سورج شرم سے بادلوں کی اوٹ میں چھپنے لگا۔ زرد پتے پیڑ سے گرتے رہے۔

روپا اور شاکر کسی کو بتائے بغیر کانپور چلے گئے۔ وہاں انھوں نے عدالت میں سِوِل میرج کی درخواست دینے کی کوشش کی۔مگر انھیں کسی وکیل کی ضرورت تھی اور وہ فوراً فراہم نہ تھا۔ دوسرے دن وہ عدالت میں جانے کے لئے ہوٹل سے نکل ہی رہے تھے کہ پولیس نے شاکر کو گرفتار کر لیا۔ اس پر روپا کے اغوا کا الزام تھا۔ اس نے قسمیں کھائیں کہ روپا اپنی مرضی سے آئی ہے۔ وہ بالغ ہے۔ روپا نے بھی تصدیق کی۔ مگر پولیس نے کوئی اعتبار نہیں کیا۔ شاکر کی ہر دلیل کا جواب پولیس کی لاٹھی اور گھونسے تھے اور لالہ جی کی دائر کی ہوئی رپورٹ تھی۔

آج کئی مہینوں کے بعد اسے جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ روپا نے بیان دیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ گئی تھی۔مگر اب اس کے ساتھ نہیں جائے گی۔ اپنے پتا جی کی مرضی پر چلے گی۔ اور اس کے پتا نے مقدمہ واپس لے لیا تھا۔
جیل میں اسے صرف اتنا بتایا گیا کہ لالہ جی نے مقدمہ واپس لے لیا ہے اس لئے اسے رہا کیا جا رہا ہے۔
شاید اس کی محبت جیت گئی ہے۔ اس نے سوچا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ جیل کی سختیوں کو بھول
گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ فوراً اپنے باپ کے سامنے سر جھکا کر ان کو جو تکلیفیں ہوئی ہیں ان کے لئے معافی مانگ لے
اور ماں کے سینے سے چمٹ جائے۔لالہ جی کی ڈیوڑھی پر جا کر انھیں نمسکا ر کرے اور کہے کہ چھما کیجئے، مجھے پہلے آپ سے اجازت مانگنی چاہئے تھی۔ اور پھر روپا کو بازوؤں میں لے کر اتنا پیار کرے کہ اس کے دونوں گال سرخ ہو جائیں۔ 
لیکن جب شاکر اپنے باپ کی حویلی پر پہنچا تو پھاٹک پر تالا پڑا ہوا تھا۔ اس کے ماں باپ کہیں اور چلے گئے تھے۔اور
ان کی خاندانی حویلی اب لالہ بنواری لال کی ملکیت تھی۔لالہ جی کے گھر کے سامنے شہنائی کی سریلی آواز گونج رہی تھی۔ ان کا گھر رنگ برنگی جھنڈیوں اور قمقموں سے سجا ہوا تھا۔ مہمانوں کے قہقہے گونج رہے تھے۔گھر کے سامنے گلی میں دور تک لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔
’’یہ کیسا جشن ہے؟‘‘ اس نے ایک لڑکے سے پوچھا۔
’’ لالہ جی کی بیٹی کا بیاہ ہے۔ منڈپ میں پھیرے لے رہی ہے۔ برات کل تیسرے پہر کو ’ شتابدی‘ سے دلی واپس جائے گی۔‘‘ اسے بتایا گیا۔
شاکر کچھ کہے بغیر آگے بڑھ گیا اور خیالات میں گم آوارہ گھومتا رہا۔ وہ رات اس نے ایک پارک کی بنچ پر گزاری۔
اور دوسرے دن ’چار باغ‘ ریلوے اسٹیشن پر بھٹکتا رہا۔
اس کی روپا اس سے چھین لی گئی تھی۔ والدین بچھڑ گئے تھے۔ خاندانی حویلی چھین لی گئی تھی۔ کئی مہینے جیل میں گزارنے کے بعد نام پر کالا دھبّہ لگ گیا تھا۔ اب نہ کسی نوکری کی امید تھی نہ عزت و وقعت کی۔ زندگی تاریک تھی۔
اب وہ جی کر کیا کرے گا۔ اس نے گھڑی دیکھی۔ شتابدی کے آنے کا وقت ہو رہا تھا۔ اب اسے اسی ریل کی پٹری پر لیٹ جانا چاہئے۔
دور سے ٹرین آتی ہوئی نظر آئی۔ یہ ضرور شتابدی ہے۔ اس نے سوچا۔ سیٹی کی آواز، چھِک چھِک، پتوں کی سرسراہٹ اور گھڑگھڑاہٹ۔ اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی گئیں۔  ’’ روپا، روپا،  روپا۔‘‘ اس کی آواز جنونی ہونے لگی۔ وہ ریل کی
پٹری پر ساکت کھڑا روپا کو پکار رہا تھا۔ ٹرین قریب آتی جا رہی تھی۔

اچانک اس نے دیکھا ایک بکری کا بچہ بھاگتا ہوا ریل کی پٹریوں کے بیچ میں آ گیا ہے اور ’ میں،  میں ‘ کر رہا ہے۔
ٹرین قریب آتی جا رہی تھی۔ انجن اور بکری کے بچّہ میں فاصلہ زیادہ نہیں رہ گیا تھا۔ اس نے جست لگائی اور بکری کے بچّے کو گود میں لے کر دور تک لڑھکتا ہوا چلا گیا۔ شتابدی کو چھِک چھِک،  دھڑ دھڑ کرتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔ اور پھر نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

بکری کا بچّہ ابھی بھی اس کی گود میں دبا ہوا ’میں،  میں ‘ کر رہا تھا۔ شاکر کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔  ریل کی فولادی سیاہ پٹریاں چمک رہی تھیں۔  پیڑوں پر جیسے ہریالی چھا گئی تھی اور پتوں سے مدھر سرگم پھوٹ رہے تھے۔  سورج ابھی بھی بادلوں سے اٹکھیلیاں کر رہا تھا اور دور کھڑے کچھ کسان اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
شاکر نے بکری کے بچّے کے ماتھے پر ہاتھ پھیر کر پیار کیا اور اسے گود سے اتار کر زمین پر چھوڑ دیا، بغیر یہ سوچے کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟ اس کا مالک کون ہے؟ کیا نام ہے؟
بکری کا بچّہ میں،  میں کرتا ایک کھیت میں غائب ہو گیا۔
٭٭٭



سوئے فردوس زمیں 



توسی بڑے پَیڑے ہو!‘‘
اس کی آنکھوں سے کئی آنسو نکل کر گالوں پر پھیل گئے۔ آواز بھرّا گئی۔اس کا جی چاہا ہیرا کا گریبان پھاڑ کر اس کا سینا
اپنی دونوں مٹھیوں سے کوٹ دے۔
’’تو سی بڑے پیڑے ہو۔ ظالم ہو۔‘‘
ہیرا ہنس دیا:
’’ اری پگلی میں تجھے چھوڑ کر تھوڑے ہی جا رہا ہوں۔  جرمنی میں جب مجھے کام مل جائے گا تو تجھے بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔
اور رانی بنا کر رکھوں گا۔ دیکھ مرلی دھن کے بیٹے کو۔۔۔رجوندر۔۔بڑا سا ریستوراں کھول رکھا ہے اس نے جرمنی میں۔ 
لاکھوں کماتا ہے۔ کروڑپتی بن گیا ہے۔ کہتے ہیں ’مرسیڈیس ‘ کار میں بیٹھ کر گھومتا ہے۔ شاندار بنگلہ میں رہتا ہے۔ اری کشمیر سے
اخروٹ کا فرنیچر لے کر گیا ہے۔دیکھا نہیں پچھلے سال جب یہاں آیا تھا تو سارا گاؤں ٹوٹ پڑا تھا اسے دیکھنے کو۔ بادشاہوں کی
طرح استقبال کیا تھا اس کا۔جدھر جاتا تھا لڑکیاں گھروں سے باہر نکل پڑتی تھیں۔ ‘‘
ہیرا نے سرجیت کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر اس کے آنسو نہ تھمے۔
’’بھاڑ میں جائے۔۔۔‘‘ اس کے منہ سے دبی سی آواز نکلی۔ آنسوؤں نے اس کے کاجل کو پھیلا دیا تھا۔
وہ ہیرا کے عشق میں پاگل ہو رہی تھی۔ ہیرا ہی اس کی آرزوؤں،  اس کی کامناؤں،  اس کے خیالات کا محور تھا، اس کی زندگی کا جز تھا۔
اس کی خوشیوں کا مرکز۔وہ ہیرا کے بغیر اب زندگی کا تصور کر ہی نہیں سکتی تھی۔ ہیرا بھی اسے بہت چاہتا تھا۔ سرجیت کے بغیر اسے ایک پل چین نہیں پڑتا تھا۔ دوست احباب سے ملنا بھی اس نے کم کر دیا تھا۔ دونوں بچپن سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور اب چھپ چھپ کر جوار کے کھیتوں میں یا آم کے باغوں میں ملتے تھے۔ دونوں کے والدین نے بھی رضامندی دیدی تھی اور ان کی منگنی کر دی تھی۔ منگنی کے روز زوردار دعوت ہوئی تھی، سارے گاؤں نے جمع ہو کر بھانگڑا کا رقص کیا تھا اور طرح طرح کے شربتوں کے ساتھ ٹھرّے کا دور چلا تھا۔ اور اب وہ اس دن کا انتظار کر رہے تھے جب ہیرا کا رزلٹ آ جائے گا اور وہ دونوں ہمیشہ کے لئے ازدواجی رشتہ میں جڑ جائیں گے۔اسی خوشی میں وہ دن رات سپنے دیکھتی رہتی تھی اور خود کو گاؤں کی سب سے خوش قسمت دوشیزہ سمجھتی تھی۔

۔۲۔
آج بھی وہ بن سنور کر، ستو اور لڈّو لیکر،  چوکڑیاں بھرتی ہوئی آموں کے باغ میں ہیرا سے ملنے آئی تھی۔ چودھویں رات کا چاند اپنی آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ اور اس کی روشنی اس کے گالوں کی سرخی کو اور اجاگر کر رہی تھی۔ ستارے نیلگوں آسمان پر جگمگا رہے تھے اور دور کوئی پرندہ اپنے ساتھی کو خوش کرنے کے لئے گا رہا تھا۔ پتوں سے اٹھکھیلاں کرتی ہوئی ہوا کی سرسراہٹ کے راگ نے ماحول کو پر کیف بنا دیا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ ہیرا کی مضبوط بانہوں مین خود کو سمو دے، آنکھیں بند کر لے اور رنگین خوابوں میں ڈوب جائے۔لیکن اب ہیرا نے اس کے سارے ارمانوں کو چکنا چور کر دیا تھا۔ اس کی ہنسی اور الفاظ نشتر بن کر سرجیت کے خوابوں کو چیر رہے تھے، کویل کی تانیں،  بلبل کے گیت اور پپیہے کی ُپی کہاں ‘ سانپ کی پھنکاریں بن کر اس کے کانوں کو ڈس رہے تھے۔
’ توسی بڑے پَیڑے ہو!‘
سرجیت نے ایک بار پھر کہا اور اس کے بازوؤں سے نکل کر دوڑتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

دوسرے دن ہیرا کے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔ ہری سنگھ غصّہ میں بھرا،  چوکھٹ پر بیٹھا کھانس رہا تھا اور غرّا رہا تھا۔ ماں رجنی کور ایک کونے میں بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔ سارے گھر پر اداسی کا ماحول طاری تھا۔ ہیرا نے انہیں بتایا تھا کہ وہ جرمنی جانا چاہتا ہے اور اسے چھ لاکھ روپیوں کی ضرورت ہے۔ ہیرا کا باپ کبھی اپنے بیلوں کو دیکھتا، کبھی اپنے آنگن کے درختوں کو اور پھر غراہٹ کو تیز کر دیتا۔اور ماں  بار بار بکسا کھول کر اپنے زیوروں کو دیکھتی اور بند کر دیتی۔ اس کے آنسوؤں کی دھار تیز ہو جاتی۔ چھ لاکھ روپئے، اس کے شوہر کی ساری زندگی کا اثاثہ اور بیٹے کی جدائی۔ اسے ایسا لگتا تھا جیسے سینہ پھٹ جائے گا۔
’’ بابا، میں پائی، پائی چکا دوں گا۔ جرمنی میں بہت کماؤں گا۔ تمہیں اور ماں کو بھی اپنے پاس بلا لوں گا۔ وہاں ایک مزدور کو بھی مہینے میں دو ہزار ایورو ملتے ہیں،  سوا لاکھ روپئے۔ تم بھی چین سے رہو گے۔‘‘
’’ چپ رہ، حرام زادے۔ اسی دن کے لئے پیدا کیا تھا تجھے تیری ماں نے۔‘‘
ہری سنگھ غصّہ میں کانپ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔  غراہٹ تیز ہو گئی تھی۔ ہیرا نے کچھ نہ کہا، سر جھکائے ایک کونے میں کھڑا رہا۔ دور کہیں کوئی کوّا پیڑ کی ڈال پر بیٹھا کائیں کائین کرتا رہا۔

کچھ دنوں کے بعد وہ امرتسر کے ایک ڈھابے میں بیٹھا مرغ کی ٹانگ نوچ رہا تھا۔اس کے سامنے ایک سن دراز آدمی بغیر ڈاڑھی مونچھوں کے پگڑی باندھے، موٹا سا ہرا چشمہ لگائے بیٹھا بیر کے گھونٹ حلق سے نیچے اتار رہا تھا۔ ہیرا کے فوٹو اس کے ہاتھ میں  دبے تھے۔  آس پاس کی میزوں کے سامنے بیٹھے بہت سے لوگ ان دونوں سے بے نیاز مرغوں کی ٹانگیں نوچنے میں مصروف تھے۔ 
دیوار کے ایک کونے میں ٹنگے ریڈیو سے گانے کی آواز گونج رہی تھی۔

۔۳۔
’’ بڑی مشکل سے ملتا ہے پاسپورٹ۔ ایک لاکھ تو افسر کو دینا پڑتے ہیں۔  جدّا یا دوبئی کا سفر نہیں ہے۔ جرمنی کا معاملہ ہے۔  ایک لاکھ پاسپورٹ بننے کے لئے افسروں کو دینا ہوں گے۔ دو لاکھ ٹریولنگ ایجنٹ کو۔ ویزا بھی بنوانا ہے۔  اور بھی کئی جگہ دینا ہوں گے۔ چھ لاکھ سے کم میں نہیں بنے گا کام، ٹکٹ بھی سستا نہیں ہے۔ میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا،
چھ لاکھ سے کم میں نہیں ہو گا۔‘‘ آدمی کا لہجہ روکھا تھا اور اس کے چشمے کے پیچھے سے تیز نظریں ہیرا کے چہرہ پر گڑی ہوئی تھیں۔ 
’’پراجی۔۔۔‘‘ ہیرا کے گلے سے آواز نہیں نکلی۔ اس وقت تو میرے پاس بس یہی ہے‘‘ اس نے ایک لفافہ سامنے کرتے ہوئے کہا۔ ’’ایک لاکھ۔ باقی میں جلدی دیدوں گا۔ وعدہ کرتا ہوں۔ ‘‘
’’ پریشان مت ہو۔ پاسپورٹ اور ویزا بننے میں کچھ مہینے لگیں گے۔ تب تک بندوبست کر لینا۔‘‘ آدمی کا لہجہ نرم پڑ گیا۔
’’لو، بیر پیو یوروپ جا رہے ہو،  وہاں لسی نہیں ملے گی۔ بئیر اور شراب سے اشنان کرو گے۔ بھاگوان ہو۔ ٹھاٹھ کرو گے۔ ‘‘
پھر اس نے خود ہی ویٹر کو بلا کر بل ادا کیا اور ہیرا کو وہاں چھوڑ کر ڈھابے سے باہر نکل گیا۔
ہیرا نے اس آدمی کو پہلی بار ایک سال قبل گاؤں میں دیکھا تھا،  جب اس کو پرانا ساتھی رجوندر سنگھ جرمنی سے وہاں آیا تھا
اور دور دور سے لوگ اس کو ’ست سریکال‘ کہنے کے لئے آتے تھے۔ اسوقت یہ آدمی بھی اکثر  رجوندر سے ملنے کے لئے آتا تھا اور گاؤں کے
نوجوانوں میں بیٹھ کر طرح طرح کے البم دکھاتا اور جرمنی کے قصّے سناتا تھا۔ اور پھر ایک دن اس نے ہیرا کو جرمنی جا کر قسمت آزمائی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر وہ شخص کون تھا؟ کہاں رہتا تھا؟ یہ پوچھنے کی ہیرا کو کبھی ہمت نہیں پڑی تھی۔ وہ صرف اتنا جانتا تھا کہ یہ بوٹا سنگھ ہے،  رجوندر کا دوست ہے اور کسی ٹریولنگ فرم سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وقت بھی اسے ایک لاکھ روپیوں کا لفافہ پکڑاتے ہوئے ہیرا کو رسید مانگنے کی ہمت نہیں پڑی۔  اس کے پاس اس کا پتہ اور فون نمبر بھی نہیں تھا۔ مگر ہیرا کو یقین تھا کہ وہ اسے دھوکا نہیں دے گا۔
اس کے دل میں ہلچل مچ گئی تھی۔ جرمنی کی تصویریں نظروں کے سامنے گھوم رہی تھیں۔  ایسا لگتا تھا جیسے مرسیڈیس اور فوکس واگنیں  اس کے چاروں طرف دوڑ رہی ہیں۔ 

کچھ دنوں میں ہیرا کی ماں کا بکسا زیورات سے خالی ہو گیا۔بیلوں کی جوڑیاں غائب ہو گئیں۔  اس کے باپ کا گھر گرھویں  پر رکھ دیا گیا۔ سرجیت اب بھی آموں کے باغ میں اس سے ملنے آتی،  مگر اس کی شوخی اور چنچل پن ختم ہو گئے تھے، آنکھیں سوجھی سوجھی سی رہتی تھیں۔ اب نہ ستاروں کی جگمگاہٹ سے اسے دلچسپی تھی نہ چاندنی کے نور سے۔ اس کے من کی تاریکی بڑھتی جا رہی تھی۔

پھر ایک دن ہیرا نئی دلّی کی ایک پاش کالونی میں ایک خوبصورت ریستوراں میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔ بوٹا سنگھ اس کے قریب بیٹھا تھا۔ سامنے ایک ناٹے قد کا اجنبی بیٹھا ہوا سگریٹ کے مرغولے ہوا میں اچھال رہا تھا۔ ہیرا سنگھ نے زندگی میں 
پہلی بار کافی پی تھی۔ اس کی کڑواہٹ سے اس کا جی متلا رہا تھا۔ مگر وہ خوش تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا جس میں اس کا پاسپورٹ اور ہوائی جہاز کا ٹکٹ تھا۔ ایک دوسرا لفافہ اجنبی کے ہاتھ میں دبا تھا جس میں تین لاکھ کے نوٹ تھے۔دونوں کی نظریں اپنے اپنے لفافوں پر جمی تھیں۔  دونوں کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ ہیرا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی، تجسس بڑھ گیا تھا، وہ بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے سوالات مرتب کر سکے، اجنبی اپنی جگہ سے اٹھا، اس کے کندھے کو تھپتھپایا، ہاتھ پکڑ کر ہلایا اور ریستوراں سے باہر نکل گیا۔
’’ کچھ کھاؤ گے؟‘‘ بوٹا سنگھ نے کھا نے کا آرڈر دیتے ہوئے ہیرا سے پوچھا۔ ’’صاحب تم سے بہت خوش ہے۔ تمکو لائک کرتا ہے۔ باقی رقم جب تم جرمنی پہنچ جاؤ گے تو تمھارا باپ یہاں ادا کر دے گا۔‘‘ پھر وہ سفر کے بارے میں ضروری ہدایات دینے لگا۔
’’ تم پہلے روس جاؤ گے،  وہاں سے پولینڈ، پھر جرمنی اور پھر جرمنی میں۔۔ ۔‘‘

چند دنوں کے بعد ہیرا اپنے گاؤں،  اپنے جوار کے کھیتوں اور آموں کے باغوں،  اپنے ٹوٹے ہوئے باپ، بلکتی ہوئی ماں  اور تڑپتی ہوئی محبوبہ کو چھوڑ کر ’سوئے فردوسِ زمیں ‘ روانہ ہو گیا۔

زندگی میں پہلی بار اسے برف باری کا تجربہ ہوا تھا۔ گاؤں میں اکثر اس نے اولہ باری کا لطف اٹھایا تھا کبھی کبھی آسمان سے گرتے ہوئے موٹے موٹے اولے سمیٹے تھے۔ جاڑوں میں پودوں پر جمے ہوئے پالے کی اپنے باپ سے شکایتیں سنیں تھیں۔  پتّوں پر شبنم کے رقیق موتی دیکھے تھے۔ مگر ایسی برف باری کا تصور بھی کبھی نہیں کیا تھا۔لگتا تھا آسمان سے کروڑوں ٹن افشاں انڈیلی جا رہی ہے۔ پیڑوں پر روئی کے گالے جمے تھے۔ سارا جنگل برّاق میدان میں تبدیل ہو گیا تھا۔برف جوتوں اور دستانوں میں  گھس کر پگھل گئی تھی اور نشتر کی طرح انھیں چیر رہی تھی۔ہونٹ جمے جا رہے تھے اور منہ کھولنے میں دقت ہو رہی تھی۔ اس میں اتنی قوت نہیں رہی تھی کہ اپنے منہ پر سے برف ٹھیک سے جھاڑ سکے۔ اس کے قافلے میں سات آدمی تھے۔ وہ خود، اس کے گاؤں کا ایک دوسرا نوجوان اجے سنگھ، جسکے بارے میں اسے دلّی کے انٹرنیشنل ہوائی ادّے پر پہنچنے کے بعد معلوم ہوا تھا کہ وہ بھی جرمنی جا رہا ہے۔ اچکن اور ٹوپی میں ملبوس، گلے میں چاندی کا تعویض ڈالے اور بانہہ پر ہرا امام ضامن باندھے،باقر علی، جو بریلی میں کسی اسکول کا ٹیچر تھا اور ہوائی جہاز میں ہیرا سنگھ کی بغل میں بیٹھے سارا وقت تسبیح پڑھتے بدبداتا رہا تھا اور اب اس کا دوست بن گیا تھا۔ تین نوجوان اور تھے۔ جن میں سے ایک کوئی مدراسی اور دو پنجابی لگتے تھے، حالانکہ ان کے سروں پر پگڑیاں نہیں تھیں مگر ہاتھوں کے کڑے ان کی شناخت کر رہے تھے۔ان تینوں کو اس نے ہوائی جہاز میں دیکھا تھا مگر انھیں کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔  ان سب کی رہنمائی سر سے پیر تک اونی کپڑوں سے ڈھکا ایک گورا چٹا، ہٹا کٹا پولش نوجوان کر رہا تھا اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ہدایتیں دے رہا تھا۔
اس پولش نوجوان کو اس نے پہلی بار وارسا کے ہوائی اڈّے سے باہر نکلنے کے بعد دیکھا تھا، جب اس نے خود بڑھ کر تپاک سے ہیرا اور اس کے ساتھیوں کا خیرمقدم کیا تھا اور بتایا تھا کہ اب وہی ان کا میرِ کارواں ہے۔ان سب کے پاسپورٹ اس نے اپنے پاس رکھ لئے تھے اور اب یہ چھ ہندوستانی اس کی قیادت میں کئی دنوں سے پولینڈ کے برفیلے جنگلوں میں بھٹک رہے تھے۔
آدھی رات کو جب سیاروں کی آوازیں تیز ہو گئیں،  تو وہ ایک بوسیدہ ویران مکان کے سامنے پہنچے، جس کے چاروں طرف موٹے موٹے تاروں کی باڑ تنی تھی اور باہری گیٹ کا ایک حصّہ برف سے ڈھک گیا تھا۔پولش نوجوان نے جیب سے چابیوں کا گچھا  نکالا، گیٹ کھولا، پھر دالان میں جا کر گھر کا دروازہ کھولا اور سب کو اندر چلنے کی دعوت دی۔ پھر وہ انھیں ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گیا،  جہاں ایک بوسیدہ سوفہ سیٹ اور کئی گدّے پڑے تھے۔
’’آج تم لوگ یہیں آرام کرو گے۔ کل بہت چلنا ہے۔‘‘
پھر اس نے الماری سے برانڈی کی ایک بوتل نکالی: لو گلا گرم کر لو!‘‘ پھر وہ دوسرے کمرہ سے ایک موٹی سی جو کی ڈبل روٹی اور کچھ سینڈوچ لیکر آیا اور سامنے رکھ دئے: ’’ دیکھو شور مت کرنا۔ گھر سے باہر مت نکلنا۔ اوپر والی بتّی مت جلانا۔ ورنہ اگر پولیس کو پتہ چل گیا تو مصیبت آج ائے گی۔ پکڑے جاؤ گے۔ یہیں خاموش پڑے رہو۔ میں بغل کے کمرے میں ہوں۔ ‘‘کسی میں کچھ پوچھنے یا کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔  کمرہ کی بتّی بجھا دی گئی۔ جو جہاں تھا وہیں لیٹ گیا۔
کئی خوبصورت لڑکیاں ہیرا کو اپنی مرمریں بانہوں میں لئے رقص کر رہی تھیں۔  ان کی بڑی بڑی نیلگوں آنکھوں میں سمندر کے تلاطم مچل رہے تھے۔ سینے کے مدّ و جزر میں ارمانوں کی ہلچل تھی۔طرح طرح کے ڈیزائنوں کے سنہری بال اس کے سر کو اپنی آغوش میں لئے اس کے گالوں کو سہلا رہے تھے۔ ہال میں پاپ سنگیت اور قہقہے گونج رہے تھے۔ رنگ برنگے قمقمے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔جسم سے جسم ٹکرا رہے تھے۔ پھر اس کے سامنے طرح طرح کے کھانے سجا دئے گئے۔ہندوستانی، جرمن، ہنگیرین، روسی، امریکی،اطالوی، مرغ، مچھی، کیکڑے، طرح طرح کے گوشت اور سبزیاں،  پھل، پڈنگیں،  کیک اور آئس کریمیں،  رنگ برنگی شرابیں۔  گلاس کھنکھنانے لگے، ہونٹ ٹکرانے لگے۔ گلاسوں کا ترنم سنگیت میں جذب ہو گیا۔ پھر وہ ایک خوبصورت سنہری مرسیڈیس کار میں بیٹھا جرمنی کے ایک بڑے شہر میں گھوم رہا تھا۔ اس کی بغل میں ایک کمسن خوبصورت دوشیزہ بیٹھی تھی۔ جھوم جھوم کر اس کے گلے میں بانہیں ڈالنے کی کوششیں کر رہی تھی۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھی کچھ لڑکیاں آپس میں چہلیں کر رہی تھیں اور وہ لال اور پیلی بتیوں کو نظرانداز کرتا ہوا گاڑی کو بھگا رہا تھا۔ اچانک بغل میں بیٹھی ہوئی لڑکی نے اسے قریب گھسیٹ کر اس کے ہونٹ پر اپنے سرخ جلتے ہوئے ہونٹ ثبت کر دئے۔ کار لیمپ پوسٹ سے ٹکرا گئی۔ ایک ٹریفک کانسٹبل اس کی طرف جھپٹا، پھر وہ  سرجیت کے پیکر میں تبدیل ہو گیا۔
’’ اگر کسی گوری کو لائے، تو کھال کھینچ لوں گی اس کی۔۔۔‘‘
ہیرا نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔  سیاروں کی آوازیں قریب آ گئی تھیں۔  بغل میں لیٹا ایک لڑکا رو رہا تھا، دوسرا لڑکا زور زور سے خرّاٹیں لے رہا تھا۔تیسرا لڑکا اپنے گدّے پر پڑا درد سے پچھاڑیں کھا رہا تھا، باقر علی ایک کونے میں قالین پر بیٹھا بُدبُدا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ سرد ہوا کی تیز دھار کھڑکی کی درازوں سے گزر کر کمرہ میں داخل ہو رہی تھی اور تلوار کی دھار بن کر جسموں کو تراش رہی تھی۔
اسے اپنا بوڑھا باپ یاد آیا، جس نے اس کے کرایہ کے لئے اپنا گھر گرہویں رکھ دیا تھا۔ ماں جس نے اپنے زیور بیچ دئے تھے اور روتے ہوئے وِداع کیا تھا۔اس کی محبوبہ جس نے آخری بار آموں کے پیڑوں کی چھاؤں میں اس کے گال کو چوم کر کہا تھا۔
’’ تو سی بڑے پَیڑے ہو۔ اگر کسی گوری کو پکڑ کر لائے تو منہ نوچ لوں گی اس کا!‘‘ جوار کے لہلہاتے کھیت جن میں چھپ چھپ کر وہ سرجیت سے ملتا تھا اور ان کی بالیوں کی خوشبو سے مست ہو کر چوکڑیاں بھرتا تھا اور پیڑوں پر چڑھ کر آم، جامن اور نارنگیوں  کے ڈھیر اس کے قدموں میں لگا دیتا تھا۔ لیکن اب وہ پولینڈ کے برف پوش جنگلوں میں ایک چھوٹے سے قافلے کے ساتھ بھٹک رہا تھا، کسی جنت کی تلاش میں۔ اس وقت نہ ان کے پاس مرسیڈیس تھی، نہ فولکس واگن، بس ایک پرانا بوسیدہ ویران مکان تھا جس میں  ایک رات نباہ لینے کے لئے وہ پہنچے تھے اور سردی سے ٹھٹھر رہے تھے۔
صبح کب ہوئی یہ انہیں پتہ نہ لگا۔ کھڑکیوں پر پردے ٹنگے ہوئے تھے اور انھیں ہٹانے کی اجازت نہیں تھی۔
پولش نوجوان ایک ٹرے میں کافی کا تھرماس اور کچھ پلاسٹک کے گلاس لئے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔ ’’گُڈ مارننگ‘‘ اس نے خوش مزاجی سے سلام کیا اور ٹرے سامنے میز پر رکھ کر چلا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ کچھ سینڈوچ اور چنے کا دلیہ لیکر پھر ان کے پاس آیا:
’’ لو کھا لو، آج رات بہت چلنا ہے۔ دیکھو تم لوگوں کے پاس پاسپورٹ نہیں ہیں۔  اگر پولیس نے دیکھ لیا تو مارے جاؤ گے۔ مجھے بھی پھنسواؤ گے۔ ہمیں بہت احتیاط کرنا ہے۔ جرمنی کی سرحد ابھی کافی دور ہے۔‘‘
پھر وہ ہیرا سے مخاطب ہوا: ’’ تمہارے باپ نے پوری رقم نہیں ادا کی ہے۔ دو لاکھ ابھی باقی ہیں۔۔ ۔  اتنے بڑے ملک میں جانا ہے۔ بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ یوروپ کا سب سے مالدار ملک ہے۔دھرتی کا سورگ ہے۔۔۔تمھارے باپ نے پورے پیسے نہیں دئے تو جان سے ہاتھ دھو گے۔‘‘

دوسرے کونے سے ایک نوجوان کی تیز کھانسی اور کانکھنے کی آواز آ رہی تھی۔ پولش نوجوان نے اسے ایک ٹیبلیٹ دیتے ہوئے کہا: ’’یہ کھا لو ٹھیک ہو جاؤ گے۔‘‘
’’اسے بخار ہے، سر !‘‘ کسی نے آہستہ سے کہا۔
’’ تو ہم کیا کریں ؟ یہاں ڈاکٹر نہیں ہے۔‘‘ پولش نوجوان چڑ گیا۔ کسی کو کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔

رات کے اندھیرے میں انہوں نے اپنا سفر پھر شروع کر دیا۔تین ہفتوں سے وہ یہی کر رہے تھے۔ دن کو کسی سنسان جنگل یا ویران جگہ پر پڑاؤ کرتے اور اندھیرا ہونے پر سفر پھر شروع کر دیتے۔ جوگندر سنگھ کی کھانسی اور بخار تیز ہو گیا تھا۔ اس سے اب چلا نہیں جاتا تھا۔ دوسرے ساتھی اسے سہارا دیتے اور کبھی کبھی گھسیٹتے تھے۔باقر علی بھی لڑکھڑا رہا تھا، چلتے چلتے بیٹھ جاتا تھا۔ ہیرا کے پیروں میں بھی طاقت نہیں رہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا جیسے اب وہ پولینڈ کے جنگل میں دم توڑ دے گا اور سیار اس کی لاش کو نوچیں گے۔
اچانک پولش نوجوان نے سرگوشی کی: ’’ وہ رہی جرمنی کی سرحد۔سیدھے چلتے جاؤ۔ ڈرو نہیں !‘‘
پھر وہ رات کے اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ ہیرا نے مڑ کر دیکھا۔ اس کے قافلے میں دو فرد کم تھے۔ جوگیندر سنگھ جس نے راستے میں دم توڑ دیا تھا اور اس کے ساتھی اسے جنگل میں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے تھے۔اور بلبیر سنگھ جس کے جوتے پھٹ گئے تھے، پیر خون سے تر تھے اور وہ لنگڑاتا ہوا پیچھے پیچھے چلنے کی کوشش میں دور بچھڑ گیا تھا۔اور گیدڑوں کی آوازیں اس کے قریب آتی جا رہی تھیں۔ 
پھر جیسے ہی وہ آگے بڑھے پولش سپاہی نے انہیں دیکھ کر پیٹھ ان کی طرف موڑ لی اور پہرا دیتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
ہیرا اور اس کے ساتھی بھی آگے بڑھ گئے۔ جنگل سے گزرتے ہوئے ایک ندی کے قریب پہنچے۔ دو سپاہی بندوقیں لئے پہرہ دے رہے تھے۔ جرمن لگتے ہیں۔  اس نے سوچا۔ ان سپاہیوں نے بھی پیٹھ ان کی طرف کر لی۔ جیسے وہ انسان ہیں ہی نہیں۔ 
ہیرا اور اس کے ساتھی بھی اندھیرے میں غائب ہو گئے۔اس امید میں کہ کوئی فرشتہ آئے گا اور انہیں ’سوئے فردوسِ زمیں ‘ لے جائے گا اور جرمنی کے کسی بڑے شہر میں اچھا سا کام دلوا دے گا۔ ان کے پاس بھی شاندار بنگلہ ہو جائے گا،  نئی نئی مرسیڈیس کار ہو گی اور جیبوں میں نوٹوں کی موٹی موٹی گڈیاں ہوں گی۔

کچھ ہفتوں کے بعد ہیرا سنگھ جرمنی کی ایک عدالت میں کھڑا تھا۔ پو لیس اس کو اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ کر لائی تھی۔
ایک ہندوستانی ترجمان، جسے پنجابی ٹھیک سے نہیں آتی تھی اس کے بیان کے ترجمہ کے لئے عدالت میں بلایا گیا تھا: ایک درمیانی عمر کی خاتون، جو جج کی کرسی پر بیٹھی تھی، بار بار اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھ رہی تھی:
’’ آپ یہاں کیسے آئے؟‘‘
’’ معلوم نہیں۔ ‘‘ ہیرا کا مختصر جواب تھا۔
’’آپ کو کون لایا؟‘‘
’’معلوم نہیں۔ ‘‘
’’کس ہوائی اڈے سے آئے؟‘‘
’’معلوم نہیں۔ ‘‘
’’ٹرین سے آئے یا بس سے؟ کیسے؟‘‘
’’پتہ نہیں۔ ‘‘
’’پاسپورٹ کہاں ہے؟‘‘
’’پتہ نہیں۔ ‘‘
’’آپکو کچھ تو معلوم ہے؟‘‘
’’نہیں سمجھے۔ ہمیں ہندی نہیں آتی۔‘‘ ہیرا نے پنجابی میں کہا۔
’’انھیں اپنی قومی زبان نہیں آتی۔ ان سے کہئے اگر یہ بیان نہیں دین گے تو انہیں فوراً انڈیا بھیج دیا جائے گا۔‘‘
’’تو سی کچھ تو بولو، جج کو ناراض نہ کرو!‘‘ ترجمان نے سمجھانے کی کوشش کی۔ ’’فیصلہ اُلٹ جائے گا۔‘‘
’’تو سی ہیلپ کرو، بتا ہو کیا کہیں ؟‘‘
ہیرا نے بتایا کہ گاؤں میں اس کی زندگی خطرے میں ہے۔ ٹیررسٹ آتے ہیں،  مارتے ہیں کہتے ہیں کھانا کھلاؤ۔
خالصتان کے لئے نعرے لگاؤ،  پیسے دو۔  پھر جب وہ چلے جاتے ہیں تو پولیس آتی ہے۔ مارتی ہے۔کہتی ہے تم ٹررسٹوں  کی مدد کرتے ہو۔گاؤں میں اس کی جان خطرے میں ہے۔ اس لئے یہاں آیا ہے۔
وہ ایک سانس میں بہت کچھ کہتا چلا گیا۔ اچانک اس کی زبان میں بجلی لگ گئی تھی۔
ایک ایک کر کے سب کی پیشی ہوئی۔ سب کے بیان لئے گئے۔ سب نے اپنی مجبوریاں بتائیں۔  مگر جرمنی کی سرحد تک کون ان کو لیکر آیا تھا، کس ایجنٹ نے ان کو پاسپورٹ اور ٹکٹ دیا یہ وہ نہ بتا سکے۔ان کو کچھ پتا نہیں تھا۔
آج پھر وہ بوئنگ ہوائی جہاز میں بیٹھے ہیں۔  ایر ہوسٹس ان کے سامنے کھانے رکھ کر چلی گئی ہے اور اب ڈرنکس کی ٹرالی لیکر آ رہی ہے۔ہوائی جہاز دنیا کی سب سے بلند برفیلی پہاڑی چوٹیوں کے قریب سے گزرتا ہوا بادلوں سے آنکھ مچولیاں کر رہا ہے۔ہیرا سنگھ خیالات میں کھویا ہوا ہے۔ اس کے جوار کے کھیتوں میں جھاڑ جھنکاڑ اگے ہوئے ہیں۔  آموں کی ڈالیاں  سوکھ گئی ہیں،  پتے زرد ہو گئے ہیں۔ اس کا باپ ایک چھوٹے سے جھونپڑے میں بیٹھا کھانس رہا ہے اور غرا رہا ہے۔ ماں کی آنکھیں سوکھ گئی ہیں ان میں جالے پڑ گئے ہیں وہ پھٹی شلوار اور کرتہ پہنے سر کو سفید دوپٹے سے ڈھکے ایک کھرّے کھاٹ پر بیٹھی پان کھا رہی ہے۔ اور سرجیت رنگ برنگے لباس میں ملبوس، زیور پہنے،  اپنی مانگ میں سیندور لگائے کسی نوجوان کے ساتھ آموں کے باغ میں ڈال پر جھولا جھول رہی ہے۔ اور قرضدار ہیرا کو دیکھ کر اس کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ 
ہیرا کے روئیں کھڑے ہو گئے۔آنسوؤں کی کئی بوندیں اس کے گالوں پر پھیل گئیں۔  اس کا ہوائی جہاز ابھی بھی بادلوں سے اٹھکھیلیاں کر رہا تھا۔ نیچے برفیلے پہاڑوں کی فلک بوس چوٹیاں طنز سے ہنس رہی تھیں۔  اس نے نظریں اٹھا کر ہوائی جہاز کی چھت سے گاڑ دیں،  جیسے وہ اسے چیر کر اوپر نکل جانا چاہتا تھا تاکہ کہہ سکے:
’’ واہے گورو۔۔۔ یہ ہوائی جہاز یونہی بادلوں سے اٹھکھیلیاں کرتا رہے یا ان براق برفیلے پہاڑوں میں سے کسی فردوسِ بریں پر مجھے چھوڑ دے۔  تاکہ میں اس کا حصّہ بن جاؤں اور گاؤں کے سامنے شرمندگی سے بچ جاؤں۔ 
٭٭٭



ایک سے چار



اسّی برس کے بوڑھے نے نا بالغ لڑکی سے شادی کر لی۔
منشی تلا رام نے نیا دیس کی ایک خبر سناتے ہوئے کہا۔
بوڑھے کے دانت ہل رہے تھے اور تین جوان بیٹے موجو د تھے۔ دوشیزہ چندے آفتاب چندے ماہتاب تھی۔ شادی کے تیسرے روز بوڑھے کے جوان بیٹے کو بھگا لے گئی۔۔
سیٹھ جی کی دونوں ایڑیاں اچھل کر فرش پر آ گئیں اور موٹی موٹی پنڈلیاں ہلنے لگیں۔  وہ ایک آرام کرسی پر دراز تھے۔ دھوتی اور شلوکے کے درمیان ناف کا حصّہ صاف نظر آ رہا تھا۔ میز پر اخبارات کا ڈھیر لگا ہُوا تھا۔ بغل کے کمرہ میں سیٹھ جی کی چہیتی دختر شیلا سنگھار کر رہی تھی اور گنگنا رہی تھی۔
منشی تلا رام اپنے جسم کا سارا بوجھ پنجوں پر ڈالتے ہوئے اخبارات کی اہم خبریں سنا رہے تھے۔
روہتک کے ایک گاؤں میں عجیب و غریب بچّہ پیدا ہُوا ہے۔
کیا ہُوا ہے، منشی جی؟
شیلا نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔
اوہ، ریلی ونڈرفُل really wonderful)) ڈیڈی پھر تو دیس کی باگ ڈ ور اسی کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔ چار سر ہیں تو چار دماغ بھی ہوں گے۔ ایک دماغ ہو گا اتّر دماغ، دوسرا دکھن، تیسرا پورب، چوتھا پچھم دماغ۔ اور ان سے وہ سارے دیش کو چاروں طرف نچائے گا۔۔اور ڈیڈی چار ہاتھوں سے چار قسم کے کام کرے گا۔ چار ٹانگوں سے چومکھی چال چلے گا اور چار زبانوں سے ایک ساتھ چار طرح کی تقریریں  کر سکے گا۔
شیلا اپنی ہنسی برداشت نہ کر سکی۔
میں تو کہتی ہوں ڈیڈی دیش کا کلیان (کلیانڑ) یہی بالک کرے گا۔ کیوں منشی جی ؟۔۔۔
منشی جی کا چہرہ پچک گیا۔ دانت باہر نکل آئے۔
ہاں بٹیا، اپنے چھیتر سے ٹکٹ بھی اسی کو ملنا چاہئے۔
انہوں نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔
سیٹھ جی کو ایسا لگا، جیسے کسی نے گالی دیدی ہو۔ غصّہ میں منہ پھاڑ کر رہ گئے۔ پیشانی پر ایک موٹی سی شِکن نمودار ہو گئی۔ شکن پہلے ایک ہوئی، پھر دو، پھر تین اور پھر چار شکنیں۔ 
منشی جی کے لئے یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ وہ سیٹھ مانک رام کے عادات و اطوار سے اچّھی طرح واقف ہیں۔  یہ شکنیں روز نمودار ہوتی ہیں۔  پہلے ایک، پھر دو، پھر تین اور پھر چار۔ اور پھر آپ ہی آپ ساری شکنیں غائب ہو جاتی ہیں۔  ان شکنوں کی تکمیل میں پورا آدھا گھنٹہ صرف ہوتا ہے، لیکن غائب ہونے میں صرف ایک لمحہ۔۔۔ان شکنوں ہی میں  کائنات کے راز پنہاں ہیں۔۔ ۔شکن اگر دولتمند کی ہو تو راز اور بھی زیادہ پراسرار اور اہم ہوتے ہیں۔ 
ویسے سرکار اس بار چناؤ میں ٹکٹ تو صرف آپ ہی کو ملنا چاہئے۔
منشی تلا رام نے بات پلٹ دی۔ اور سیٹھ مانک رام کے ماتھے کی ایک شکن کم ہو گئی۔ شیلا کے نقرئی قہقہوں کی آواز اب دوسرے کمرے سے آ رہی تھی۔
اور سرکار! گنگا میں باڑھ آ گئی۔ کانپور ڈوب رہا ہے۔
سیٹھ جی گھبرا کر کھڑے ہو گئے۔
پیلی بھیت میں گومتی نے خطرہ کا نشان پار کر لیا۔ منشی تلا رام نے اگلی سرخی پڑھتے ہوئے کہا۔
سیٹھ جی ٹہلنے لگے۔ چہرہ پر زردی چھا گئی تھی۔ وہ سوچ رہے تھے:
اب ان کے دروازہ پر چندہ مانگنے والوں کا تانتا بندھ جائے گا۔ خون پسینے کی کمائی لٹنے لگے گی۔ ایک سے ایک مسٹنڈا آئے گا اور کہے گا:
چندہ دے دو۔۔ ۔ عورتوں بچّوں کے نام پر چندہ دے دو۔
ہونہہ، چندہ، چندہ، چندہ۔۔۔ دولت جیسے صرف بانٹنے کے لئے جمع کی  جاتی ہے۔
سیٹھ جی کی ڈیوڑھی سے روز فقیروں کو بھیک دی جاتی ہے۔
لیکن انہیں چندہ مانگنے والوں سے چڑھ ہے۔ بھکاری ایک نئے پیسےکے بدلے دعائیں دیتے ہیں۔  مگر چندہ مانگنے والے صرف باتیں  بناتے ہیں اور رقمیں لے جاتے ہیں۔  اس وقت بھی سیٹھ جی کو یہی فکر تھی۔ انہیں ایسا لگ رہا تھا، جیسے چاروں طرف سے چندہ خور ٹوٹ پڑے ہوں۔ 
منشی جی کہہ رہے تھے:
حضور،  یہی سمے ہے ! پیلی بھیت میں باڑھ آئی ہے،  تو کل اپنے نگر میں بھی آئے گی۔
یہی تو رانا ہے تلا رام! اپنے نگر کے لوگ پیڑِت ہوں گے تو آ کر ہماری جان کھائیں گے۔
نہیں سرکار۔۔۔ منشی جی نے سمجھانا شروع کیا۔ اس سمے آپ نے چندہ دے دیا تو ووٹ سدا کے لئے پکّے سمجھئے۔ جتنی رقم آپ چناؤ پر خرچ کرنے والے ہیں،  اس کا کچھ حصّہ چندے میں  دے دیجئے گا۔۔۔اور بس پھر دیکھئے گا۔۔۔
سیٹھ جی کا ذہن واقعی کام کرنے لگا۔ وہ سوچ رہے تھے:
سیلاب آئے گا،  تو بیماری پھیلے گی۔ اور بیماری پھیلے گی تو ان کے کارخانے کی بنی ہوئی دوائیں مہنگی ہو جائیں گی۔۔۔ قیمتیں پہلے دوگنی ہوں گی، پھر تگنی اور پھر چوگنی اور دس گنی ہو جائیں گی۔ انسان مرتے رہیں گے۔  تجوریاں بھرتی رہیں گی۔
سیٹھ مانک رام کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اچانک دنیا کے سب سے بڑے انسان بن گئے ہوں۔  ان کے چاروں طرف سونے چاندی کا انبار لگ گیا ہو۔ ہر طرف دولت کی بارش ہونے لگی ہو اور انسانی لاشوں پر ناچتی ہوئی سرمائے کی قلو پطرہ کے حسن سے آنکھیں چکا چوند ہو گئی ہوں۔ 
لیکن خیالات کا یہ سلسلہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ رمولا شیلا کو لینے آئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی گردن میں بانہیں ڈالے ہنستی ہوئی کالج جا رہی تھیں۔  سیٹھ جی کہہ رہے تھے:
منشی جی شیلا میرا جیون ہے۔ یہ دولت میں اسی کے لئے تو جمع کر رہا ہوں۔ 
اور منشی تلا رام نے اپنی تیز آنکھوں میں چمک پیدا کرتے ہوئے تعریف شروع کر دی تھی:
لکشمی کا روپ ہے ہماری شیلا بٹیا۔ کتنا خوش قسمت ہو گا وہ جس کے گھر یہ دیوی بن کر جائے گی۔
عام طور سے کسی لڑکی کے باپ کو خوش کرنے کے لئے یہی نسخہ سب سے کارگر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سیٹھ جی خوش نہ ہوئے۔ ان کے ماتھے کی تیوریاں پھر اجاگر ہو گئیں۔ 
شیلا کی ماں کو مرے ہوئے تیرہ برس ہو چکے تھے۔ تب سے سیٹھ جی نے ہی اسے پالا تھا۔ اس کی خاطر انہوں نے دوسری شادی نہیں کی۔ اس کی ذرا سی تکلیف پر کتنی ہی راتیں آنکھوں میں کاٹ دیں۔۔ ۔ وہ شیلا کے پتا ہی نہیں،  اس کی ماں بھی تھے۔ پھر وہ شیلا سے جدائی کا تصور کیسے کر سکتے تھے۔ شیلا جس کے لئے ان کی ساری محبّت وقف ہے۔شیلا جو ان کی لاڈلی بیٹی ہے۔ شیلا جو حسین ہے۔ خوبصورت ہے۔ جس نے زندگی کی صرف سترہ بہاریں دیکھی ہیں۔  جو اپنے کالج کی ایک ہو نہار طالبہ ہے اور جس کی جدائی کا تصور سیٹھ جی کے لئے ناقابلِ برداشت ہے۔
اور پھر واقعی گومتی نے اپنے غیض و غضب کا مظاہرہ کیا۔
شہر اور اس کے چاروں طرف تباہی اور بربادی کا راج قائم ہو گیا۔
سرسبز و شاداب کھیت بہہ گئے۔ فلک بوس تاریخی عمارتیں ڈھا گئیں۔ 
ہزاروں مکانات ادنی تنکوں کی طرح انسانی خون کی پیاسی مو جوں  کے رحم و کرم پر تیرنے لگے۔ علم و تدریس کے مرکز تباہ ہو گئے۔
صدیوں پرانی تہذیب غلاظت میں ڈوب گئی۔ تمد ن مٹ گیا۔
صاف و شفّاف جسموں پر غلاظت کی تہیں جم گئیں۔  ان کا گداز ختم ہو گیا۔
اور پھر لوگ سکون سے سانس لینے بھی نہ پائے تھے،  کہ ایک اور آفت نازل ہو گئی۔ بیماریاں پھوٹ نکلیں۔  ہیضے نے سارے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہسپتال کم پڑ گئے۔لاشیں  سڑنے لگیں۔  خوبصورت شاہراہیں اور گلی کوچے، شاعر جن کی قصیدہ خوانی کرتے تھے، تعفن سے بس گئے۔ نہ لاشوں کی گاڑیاں،  نہ کفن کا کپڑا، نہ دفنانے کو گورکن۔ صرف موت تھی جو ہر طرف منڈلا رہی تھی۔
دوائیں آج بھی سیٹھ جی کے کارخانے میں تیار ہوتیں،  لیکن مارکیٹ میں آنے کے بجائے خفیہ گوداموں میں پہونچ جاتیں۔  اور پھر جب مارکیٹ میں آتیں تو ان کی قیمتیں کئی گنا زیادہ ہوتیں۔  البتّہ سیٹھ جی کو اس بات کا رنج تھا، کہ سیٹھ چوکھرمَل، سیٹھ للو داس، لالہ کلو رام اور شیخ نبی اللہ ان سے زیادہ منافع کما رہے تھے ا ور باہر سے آئی ہوئی ساری دوائیں پہلے ہی ان کے خفیہ گو داموں میں پہونچ رہی تھیں۔  تاہم سیٹھ جی کا اپنا منافع بھی کم نہ تھا۔

قیمتیں پہلے دوگنی ہوئیں،  پھر تگنی اور پھر چوگنی۔ اور پھر چیزوں میں ملاوٹ ہونے لگی۔ لیکن اتنا ہی کافی نہ تھا۔  اس لئے اصلی دواؤں کی جگہ نقلی دواؤں نے لے لی۔ انسانیت مرتی رہی صرف سیٹھ چوکھر مل، سیٹھ للو داس، لالہ کلو رام،  شیخ نبی اللہ اور سیٹھ مانک رام کی تجوریاں بھرتی رہیں۔  اور انگریزی، ہندی اور اردو کے تمام اخبارات میں جلی حروف میں شائع ہوا:
مشہور سماج سیوک سیٹھ مانک رام نے انسانیت کو بچانے کے لئے ایک اور دوا سازی کا کارخانہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

زندگی میں پہلی بار اس نے غم کو اتنے قریب سے دیکھا تھا۔
ہوش سنبھالنے کے بعد سے پہلی بار شیلا کی خوبصورت آنکھوں سے نکل کر آنسوؤں نے اتنی بے رحمی سے اس کے آتشی رخساروں کو چوما تھا۔ اس کی سب سے پیاری سہیلی رمولا کا باپ بسترِ مرگ پر پڑا ہوا  تھا۔ رمولا کی ہچکیوں اور اس کی ماں کے گریوں سے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔
تھوڑی دیر قبل شیلا بہت خوش تھی۔ سیٹھ جی نے اس کے کہنے سے کالج ریلیف فنڈ میں تین ہزار کا چیک دیا تھا۔ آج کالج میں اس کی دھوم مچنے والی تھی۔ پرنسپل بھرے جلسے میں اس کی اور اس کے پِتا جی کی تعریف کرنے والی تھیں۔  سہیلیاں اسے مبارکباد دینے والی تھیں۔ 
اسی خوشی میں اس نے طرح طرح کے پروگرام بنائے تھے۔ اس نے سوچا تھا رمولا کے گھر جائے گی۔ اسے تین ہزار کا یہ چیک دکھائے ٍ گی۔ پھر وہ دونوں کالج میں پہونچ کر سب کو حیرت میں ڈال دیں گی۔
لیکن رمولا کے گھر پہونچ کر وہ یہ سب کچھ نہ کر سکی۔ رمولا کے پتا جی بسترِ مرگ پر پڑے ہوئے تھے۔ رات انہیں قے دست شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے موت ہیضے کی شکل میں منڈلانے لگی۔
رمولا شیلا کے سینے سے لگی ہوئی بچّوں کی طرح بلک رہی تھی اور شیلا کی اپنی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔
رمولا اس کی سب سے پیاری سہیلی تھی۔ دونوں نے اکٹھے ہائی اسکول کیا تھا اور اب ایف اے کی تیاری کر رہی تھیں۔ 
ڈاکٹر کبیر کے چہرہ پر مایوسی کی زردی اور مریض کے جسم پر موت کی سیاہی چھاتی چلی گئی۔ دوائیں،  انجکشن، رمولا کی فریاد، اس کی ماں کے نالے سب بیکار ہو گئے۔ یتیمی کا سایہ رمولا کے سر پر چھا چکا تھا۔ شیلا کا دم گھٹا جا رہا تھا۔ لاش کی ڈراؤنی آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔ اس رات وہ کافی دیر سے گھر واپس آئی اور سیٹھ جی کے سینے سے لپٹ کر دیر تک روتی رہی۔

دوسری صبح سیٹھ مانک رام کہہ رہے تھے:
ڈاکٹر میری ساری دولت لے لو، مگر میری بچّی کو بچا لو۔ اسے بچا لو ڈاکٹر، بھگوان کے لئے۔سیٹھ جی کے بنوائے ہوئے تمام مندروں میں شیلا کی صحت کے لئے دعائیں مانگی جا رہی تھیں۔  بھکاریوں میں کھانا تقسیم کیا جا رہا تھا۔ چار نامور ڈاکٹر شیلا کی مسہری کے گرد جمع تھے۔ میز پر دواؤں اور انجکشنوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر قبل شہر کے سب سے بڑے طبیب ڈاکٹر شرما نے کہا تھا، کہ معمولی ہیضے کا حملہ ہے۔  جلد ٹھیک ہو جائے گی۔ لیکن شیلا کی قے دست میں اضافہ ہوتا گیا۔
ڈاکٹر بڑھتے گئے۔ ایک سے دو، دو سے تین اور تین سے چار ہو گئے۔
موت قریب آتی گئی۔ سیٹھ جی کی زندگی تاریک ہوتی گئی۔ ان کی پیاری شیلا ہمیشہ کے لئے بچھڑ رہی تھی۔ ان کی نگاہوں کی روشنی گل ہو رہی تھی۔ شیلا جو ان کی زندگی کا حاصل تھی۔ جس کے لئے انہوں نے کائنات کی ساری خوشیاں سمیٹی تھیں۔  جو ان کی ساری دولت کی اکیلی وارث تھی۔
بھگوان کے لئے میری بچی کو بچا لو ڈاکٹر! بچا لو ! میں اس کے بغیر زندہ نہ رہ سکوں گا۔ میری ساری دولت لے لو،  مگر اسے بچا لو۔۔ ۔۔
سیٹھ جی نے ڈاکٹر شرما کو پاگلوں کی طرح جھنجھوڑ دیا۔
ڈاکٹر شرما کے ہاتھ سے شیشی گرتے گرتے بچی۔ انہوں نے اپنی ویران آنکھوں سے شیلا کے بے جان جسم کو دیکھا۔ ڈاکٹر مبین نے آہستہ سے کان میں کچھ کہا۔ ڈاکٹر شرما نے دوا کی شیشی پر نظر ڈالی اور اسے دیر تک گھورتے رہے۔ چاروں ڈاکٹروں نے ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں نے دیکھا۔۔۔ اور ڈاکٹر شرما نے شیشی سیٹھ جی کی طرف بڑھا دی۔
یہ نقلی ہیں سیٹھ جی۔ ہم مجبور ہیں۔ 
ڈاکٹر نریندر نے مریضہ کی نبض چھوڑ دی۔ ڈاکٹر مبین نے آلہ سینے پر سے ہٹا لیا۔ ڈاکٹر سنتوک نے چہرہ کو چادر سے ڈھانپ دیا۔۔۔چاروں ڈاکٹر سر جھکائے واپس چلے گئے۔
سیٹھ مانک رام پر سکتہ کا عالم طاری تھا۔ سامنے میز پر دواؤں اور انجکشنوں کا انبار لگا ہوا تھا۔۔۔ ۔ انجکشن جو نقلی تھے۔۔  ۔دوائیں جن میں ملاوٹ تھی۔۔۔ جن سے سیٹھ جی نے لاکھوں روپئے کمائے تھے۔
کمرہ میں موت کا سکوت تھا۔ جس میں کبھی کبھی نوکروں کی گھٹی گھٹی سسکیاں بلند ہو جاتیں اور ماحول کو اور زیادہ اداس بنا جاتیں۔ 
شیلا کو مرے ہوئے چھ ماہ گزر چکے ہیں۔  سیٹھ جی کی زندگی کی ساری خوشیاں ختم ہو گئی ہیں۔  اکثر سوتے میں شیلا ان کے سرہانے  آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ سیٹھ جی اسے سینے سے لگانے کے لئے جھپٹتے ہیں،  مگر آنکھ کھل جاتی ہے اور تکیہ آنسوؤں سے تر ہوتا ہے۔
ان چھ مہینوں میں سیٹھ جی نے اپنی پیاری کے نام پر تین عالیشان مندر تعمیر کروائے ہیں۔۔ ۔ اور چوتھا مندر زیرِ تعمیر ہے۔ لیکن آج بھی ان کی دواؤں میں ملاوٹ ہوتی ہے۔ ۔۔۔ آج بھی ان کے کارخانے میں نقلی انجکشن تیار ہوتے ہیں۔۔ ۔ ہاں ایک فرق ضرور ہے۔ پہلے وہ صرف سیٹھ مانک رام تھے۔ اب مانک رام ایم پی ہیں اور وزارتِ صحت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ 
٭٭٭



وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘


’’ٹور، ٹور (گول، گول)، جرمنی، جرمنی۔۔۔‘‘
وہ زور سے چلایا اور پھر اس طرح سے اچھلنے لگا جیسے اسے قارون کا خزانہ مل گیا ہو۔ سامنے لگے ہوئے ایک
بڑے سے اسکرین پر فٹ بال میچ آ رہا تھا۔ جیتی ہوئی جرمن ٹیم کے کھلاڑی خوشی سے اچھل رہے تھے، گلے مل رہے تھے، ایک دوسرے پر کود رہے تھے اور ہاری ہوئی ترکی کی ٹیم کے کھلاڑیوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اسکرین کے سامنے پانچ لاکھ مرد عورتوں،  بوڑھے بچوں کا سمندر جوار بھاٹا میں بدل گیا تھا۔ لوگ پاگلوں کی طرح خوشی سے اچھل رہے اور ناچ گا رہے تھے، ایک دوسرے کو گود میں لے کر ہوا میں اچھال رہے تھے۔ان کے بازوؤں،  گالوں  اور ماتھوں پر جرمنی کے قومی جھنڈے بنے ہوئے تھے، گلے میں کالے، لال اور سنہرے رنگ کے نقلی پھولوں کے ہار لٹکے تھے، قومی رنگ کی ٹی شرٹس پہنے، کنٹوپ لگائے اور جھنڈوں کو پینٹ کے اوپر لنگیوں کی طرح کسے،  باجے تاشے لئے،  سیٹیاں بجاتے، گانے گاتے اور نعرے لگاتے ہوئے جشن منا رہے تھے اور آسمان آتش بازیوں سے جگمگا اٹھا تھا، لگتا تھا  سارے ستارے پارہ پارہ ہو کر زمین پر آرہے ہیں۔ 
’’ٹور،  ٹور، گول گول، ڈائچلانڈ، ڈائچلانڈ (جرمنی جرمنی) کے کورس نے آسمان کو سر پر اٹھا لیا تھا۔ ہر طرف کالی، لال، سنہری پٹّی والے جھنڈے اور تیزی سے لہرانے لگے جیسے کسی جنگل میں طوفان آنے پر پیڑوں  کی شاخیں جھومتی ہیں۔  کہیں کہیں پر ستارے بنے ہوئے ترکی کے سرخ جھنڈے بھی نظر آرہے تھے، لیکن ایسا لگتا تھا جیسے اداسی میں ڈوب گئے ہیں۔ انھوں نے لہرانا کم کر دیا تھا۔
پیٹر نے خوشی سے ماریا کو اپنی گود میں لیا اور پھر اپنے چوڑے شانوں پر بٹھا کر دوڑنے کی کوشش کی مگر جمع غفیر میں  ٹس سے مس ہونے کی جگہ نہ ملی۔ اس نے ماریا کو اتار کر اس کے ساتھ ناچنا شروع کر دیا۔
پیٹر کئی ہفتوں سے فٹ بال کی یوروپین چیمپین شپ کے میچ دیکھتا رہا تھا۔ شروع میں اسے اپنی قومی ٹیم سے بہت مایوسی ہوئی تھی۔ بعض جرمن کھلاڑیوں کے لئے اس کے منہ سے موٹی موٹی گالیاں تک نکل گئی تھیں۔  وہ اپنے گروپ میں پہلا میچ پولینڈ سے جیت گئی تھی۔ جب جرمن ٹیم کے کھلاڑی ’پوڈوسکی‘ نے جو خود پہلے پولش تھا، اپنی ہم وطن ٹیم کے خلاف جرمنی کی طرف سے دو گول کئے تھے تو اس کا سینہ اپنی ٹیم کے لئے فخر سے پھول گیا تھا۔ا ور اسے یقین ہو گیا تھا کہ اس کی ٹیم ضرور یوروپین چیمپین بنے گی۔ مگر دوسرے میچ میں اس کی ٹیم ’کروایشیا‘ جیسی نا تجربہ کار ٹیم سے بری طرح ہار گئی تھی اور اس کی زبان پر اپنی ٹیم کے لئے ’شائسے‘ اور ’آرش لوخ‘ جیسی موٹی موٹی گالیاں آ گئی تھیں۔  پھر جب وہ آسٹریا جیسی کمزور ٹیم سے برابر کھیل کر اگلے راؤنڈ میں آ گئی تھی تو اس کی جان میں جان آئی تھی۔ مگر جب جرمن ٹیم نے پرتگال کی ٹیم کو جو اپنے گروپ میں سب سے کامیاب رہی تھی دو کے مقابلے میں تین گول بنا کر ہرا دیا، تو اسے یقین ہو گیا تھا کہ جرمنی نے اپنی طاقت کو پھر سے حاصل کر لیا ہے اور اب اسے کوئی ہرا نہیں پائے گا۔ اس کا سینہ خوشی سے پھول گیا تھا۔ اسے اپنی قومی عظمت پر فخر ہو رہا تھا اور اس کی کار پر اب ایک کی جگہ چار قومی جھنڈیاں نصب تھیں۔  اور فلیٹ کی بالکونی پر ایک بڑا سا قومی پرچم لہرا رہا تھا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ کسی طرح سے اڑ کر آسٹریا کی راجدھانی ویانا یا سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں پہنچ جائے، جہاں اگلے میچ ہونے والے تھے اور اپنی آنکھوں سے اپنے کھلاڑیوں ’بالاخ‘، ’ پوڈوسکی‘، ’ شوائن برگر‘ اور کلوزے  لیہمان اور فلپ لام کے کارنامے دیکھے۔
لیکن اس کی ماں سخت بیمار تھی۔ اور کسی وقت بھی سانس بند ہو سکتی تھی۔ باپ کا سایہ اسے بچپن سے ہی نصیب نہیں ہوا تھا۔ وہ اس کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا تھا اور پھر مڑ کر کبھی خبر نہیں لی تھی۔ اس کی ماں نے اسے دن رات محنت کر کے اکیلے پالا پوسا تھا اور اپنی لاتعداد خواہشیں قربان کر کے اسے اس قابل بنایا تھا کہ اب وہ پڑھ لکھ کر ایک بڑی جرمن فرم سی مینس میں انجینئر کی حیثیت سے ملازم تھا۔اور اچھی تنخواہ پا رہا تھا۔ وہ اپنی زندگی پر بہت خوش تھا۔ آج کے زمانے میں جبکہ جرمنی بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ کئی ملین لوگ بے روزگار ہیں یا کم اجرتوں پر کام کر رہے ہیں،  اور ضروریات کی چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں،  سیمینس جیسی عالمی شہرت کی فرم میں کام ملنا آسان نہیں ہے۔وہ خوش قسمت تھا کہ اس کے لئے چین و سکون کے دروازے کھل گئے تھے۔ اس کی گرل فرینڈ بھی نہایت خوبصورت اور ہونہار تھی اور ایک جمنازیم میں انٹر میڈیٹ کا کورس کر رہی تھی اور پڑھائی پوری کرنے کے بعد پیٹر ہی کی فرم میں ملازمت کے خواب دیکھ رہی تھی۔
پیٹر کی ماں برلن کے ایک اسپتال ’چیریٹی‘ میں بھرتی تھی۔ اس کے دماغ میں ٹیومر تھا اور سوائے آپریشن کے کوئی دوسرا راستہ نہیں رہ گیا تھا۔ ابتداء میں وہ آپریشن کے لئے اپنی رضامندی دینے پر تیار نہیں تھا۔ مگر جب ڈاکٹروں نے یقین دلا یا کہ اس کو بچانے کے لئے اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، تو اس نے مجبوراً کاغذات پر دستخط کر دئے تھے۔ وہ دن بھر اسپتال میں بیٹھ کر آپریشن کے نتیجے کا انتظار کرتا رہا۔ مگر تیسرے پہر کو جب اسے بتایا گیا کہ ’ آپریشن میں وقت لگے گا،  شاید رات کو یا اگلے دن کیا جائے۔  اسے وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ کسی کو اس مریضہ کے پاس جانے کی اجازت نہیں ہے ‘، تو وہ مایوس ہو کر اپنی منگیتر کے گھر چلا گیا تھا اور پھر وہاں سے وہ دونوں مقامی ٹرین سے شہر کے مرکز میں قائم تاریخی دروازے ’برانڈن بُرگر گیٹ‘ کی طرف چل دئے تھے، جہاں رنگ برنگی جھنڈیوں اور غباروں سے سجی ہوئی ایک بہت ہی چوڑی اور لمبی سڑک پر بڑے بڑے دیو قامت اسکرینوں کے سامنے لاکھوں لوگ فٹ بال کی یوروپین چیمپین شپ کا سیمی فائنل میچ دیکھنے کے لئے جمع تھے،  جو جرمنی اور تُرکی کے بیچ ہو رہا تھا۔ اور کیونکہ برلن میں تقریباً دو لاکھ ترک بھی رہتے ہیں،  اس لئے یہ میچ دونوں کے بیچ اور بھی سنسنی خیز ہو گیا تھا۔ پھر بھی دونوں قومیتوں کے لوگ ایک ہی جگہ پر جمع ہو کر کھیل کا مزہ لے رہے تھے اور اپنی اپنی ٹیموں کے لئے نعرے لگا رہے تھے۔ جیوں جیوں کھلاڑیوں کے دوڑنے اور گیند کے اچھلنے کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی پیٹر کے دل کی دھڑکن میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ جب جرمنی کے خلاف پہلا گول ترکی کے کھلاڑی اُگارؔنے کیا تو پیٹر نے اپنا سر پیٹ لیا۔ ’شائسے‘، ’آرش لوخ‘۔۔۔نہ جانے کتنے گندے الفاظ اس کی زبان سے نکل گئے۔ سامنے لہراتے ہوئے بہت سے ہلال جھنڈے دیکھ کر اس کا دل بیٹھ گیا۔ اچانک ایسا لگا جیسے پانچ لاکھ کی بھیڑ کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ مگر پھر چند منٹ کے بعد وہ اچھل پڑا۔  اس نے اپنی منگیتر کو بازوؤں میں بھینچ کر اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔ جرمنی کے شوائن اسٹائگر نے گول کر کے حساب برابر کر دیا تھا۔ اور لوگ پاگلوں کی طرح شور مچانے اور جھومنے لگے تھے۔ اور پھر ایسا لگا جیسے آسمان پھٹ پڑے گا جرمن کھلاڑی کلوزے نے۷۹ ویں منٹ پر ایک گول کر کے اپنی ٹیم کو آگے کر دیا تھا۔
’’ دیکھا،  میں نے کہا تھا ہم جیتیں گے۔  وی آر گریٹ۔۔۔‘‘ اس نے اپنی منگیتر کو خوشی سے جھنجھوڑ دیا۔ مگر جلد ہی وہ آسمان سے زمین پر آ گیا۔ سات منٹ بعد ترکی کے سمیع نے ایک گول کر کے اپنی ٹیم کو ہارنے سے بچا لیا تھا اور اب پلہ پھر برابر تھا۔
’’ ہائے اب کیا ہو گا۔ ‘‘ ماریہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا۔ ’’ او گاڈ مدد کر۔۔۔‘‘
’’ شائسے،  ہمارے ڈیفنس کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔  ترکی کے کھلاڑی اچھا کھیل رہے ہیں۔  دیکھو کمبخت صابری نے پھر ڈاش دے دیا، یہ بہت خطرناک پاس ہے۔ اب مشکل ہے وقت ختم ہو رہا ہے،  آخری منٹ بچا ہے۔‘‘
’’ بس تین منٹ ایکسٹرا ملیں گے۔ ‘‘ اناؤنسر نے اسکرین پر کہا۔
’’ ایکسٹرا ٹائم ہمارے کھلاڑیوں کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔‘‘ ماریہ نے کہا۔
’’ ہاں مگر اگر پنالٹی شارٹس کی نوبت آ گئی تو ہم اس میں بہت اچھے ہیں۔ ‘‘ پیٹر نے ڈھارس بڑھائی۔ ’’ شاید بالک، شوائناسٹائگر، کلوزے اور پوڈوسکی کچھ کر سکیں۔  ‘‘
’’ بالک نے آسٹریہ کے خلاف بہت شاندار گول کیا تھا۔ پتہ نہیں آج اسے کیا ہو گیا ہے۔‘‘ ایک دوسرے نو جوان نے جو ان کے قریب کھڑا باتوں کو سن رہا تھا گفتگو میں دخل دیا۔
’’ کچھ ہو میچ تو اب ترکی والے لے گئے۔‘‘ ایک ترکی نوجوان نے جملہ کسا اور پھر کھلکھلا کر ہنس پڑا۔’’یار کوئی جیتے۔ اپنے تو دونوں میٹھے۔‘‘
’’گول، گول، جرمنی زندہ باد، جرمنی جرمنی۔‘‘ زبردست نعرے گونجے اور ترک نوجوان کی آواز ان میں دب کر رہ گئی۔
اور اس کے ساتھ ہی ایسا لگا جیسے زبردست زلزلہ آ گیا ہو، پہاڑ پھٹ رہے ہوں۔ آتش فشاں کے دہانے کھل گئے ہوں،  لاوے آسمان پر پھیل گئے ہوں اور ستارے ٹوٹ کر آسمان سے زمین کی طرف آ رہے ہوں۔  جرمنی کے فلپ لام نے خوبصورتی سے گیند کو گول میں ڈال کر اپنی ٹیم کو ۲ :۳ کے اسکور سے فتحیاب کر دیا تھا۔
’’ دیکھا دیکھا،  میں نے کہا تھا،  وی آر گریٹ۔ ہمیں کوئی نہیں ہرا سکتا۔‘‘ پیٹر نے ماریہ کو فاتح کی طرح گود میں اٹھا لیا۔
لاکھوں جھنڈے اس کے ارد گرد لہرا رہے تھے۔ مرد عورتیں بوڑھے بچے خوشی سے جھوم رہے تھے ناچ رہے تھے،  گا رہے تھے اور طغیانی کی لہروں میں بدل گئے تھے۔ کچھ دیر بعد پیٹر اور ماریہ وہاں سے نکل کر دوستوں کے ساتھ ایک بڑے سے کھلے پَب میں چلے گئے اور اور کھیل پر رائے زنی کرتے اور بیئر کے گلاس ٹکراتے رہے۔ کبھی کسی کھلاڑی کے لئے موٹی سی گالی نکالتے، کبھی تعریف کرتے اور جام سے جام اور لب سے لب ملاتے اور گانے لگتے ’’ جرمنی از گریٹ، وی آر گریٹ۔‘‘
صبح تین بجے کے قریب پیٹر گھر پہنچا۔ ماریہ بھی اس کے ساتھ تھی۔
’’ میں بہت خوش ہوں ماریہ‘‘ اس نے نشے کی حالت میں کہا: ’’ ہم جیت گئے۔‘‘
’’ ہم فائنل میں بھی جیتیں گے۔‘‘ ماریہ نے بھی جھومتے ہوئے کہا۔
’’ ضرور جیتیں گے بھر کس نکال دیں گے۔ جرمنی از گریٹ۔ اس نے نشے کی حالت میں گنگناتے ہوئے کہا اور ماریہ کو بازوؤں  میں لے لیا۔ اس کے گھر کے پاس سے گاتے اور نعرے لگاتے ہوئے لوگوں کی آوازیں اور کاروں کے ہارن سنائی دیتے رہے۔ کھڑکی کے باہر آسمان پر آتش بازیاں چمکتی رہیں۔  مگر اب وہ اس سب سے بے نیاز خرّاٹے لے رہا تھا اور فٹ بال کے خواب دیکھ رہا تھا۔
تقریباً گیارہ بجے دن کو دونوں کی آنکھ کھلی۔ اس کا ایک دوست فون پر انھیں کامیابی کی مبارکباد دے رہا تھا۔ سورج کی تیز کرنیں کھڑکی سے چھن کر کمرہ میں آ رہی تھی اور گرمی اور گھٹن کا احساس ہو رہا تھا۔ باہر سڑک پر ابھی بھی بہت سے لوگ فتح کے گیت گا رہے تھے۔پیڑوں پر ہریالی چھائی ہوئی تھی۔ بالکونی پر گملوں میں سجے ہوئے پودوں کے رنگ برنگے خوشبو دار پھول مسکرا رہے تھے۔
ناشتہ کرتے ہوئے اس نے ٹی وی آن کیا تو اس میں بھی کل کے فٹ بال میچ پر تبصرے ہو رہے تھے اور فائنل میں جیت کی پیشین گوئیاں کی جا رہی تھیں۔  تھوڑی دیر کے بعد اس نے گراؤنڈ فلور پر جا کر اپنے لیٹر بکس سے تازہ اخبار ’مارگن پوسٹ‘ نکالا اور واپس آ کر بالکونی میں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ اخبار کی شاہ سرخی تھی : ’ جرمنی نے ترکی کو ہرا دیا۔‘ اس کا سینہ ایک بار پھر فخر سے پھول گیا، رگ و پے میں فتح مندی کی برق دوڑ گئی۔ ’وی آر گریٹ ‘ کے احساس نے اس کے جسم میں بے پناہ قوت بھر دی۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اس کی نظر ایک اور خبر کی سرخی پر پڑی :
’ سیمینس اپنے ملازمین کی تعداد میں کمی کرے گی۔‘
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔  لکھا تھا: ’’ سیمینس میں ملازمتوں کی کمی توقع سے بھی زیادہ ہو گی۔’IG Metal کے اندیشے کے مطابق عالمی پیمانے پر دس ہزار لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھوئیں گے۔ قیاس ہے کہ بیس ہزار ملازمین تک اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ‘‘
پیٹر کا دل دھک سے ہو گیا’۔ سیمینس جیسی عالمی شہرت کی اتنی بڑی فرم ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے الگ کر دے گی۔ ان کو لا وارث کر دے گی۔ وہ بے روزگار ہو کر در بدر کی ٹھوکریں کھا ئیں گے۔ کہیں وہ بھی تو اس کا شکار نہیں ہو نے والا ہے؟‘
اچانک ماریہ نے اس کے خیالات کو توڑ دیا:
’’ پیٹر تمھاری ماں۔۔ ۔‘‘ اور وہ ہر چیز کو بھول گیا۔ جرمنی اور ترکی کے میچ کو، سیمینس کی کہانی کو، کھڑکی کے باہر جیت کے نعرے لگاتے ہوئے لوگوں کو اور کاروں کے شور کو۔
’’ یا اللہ میری ماں کی مدد کر۔ اس نے ایک وارڈ میں داخل ہوتے ہوئے دعا مانگی۔ اسپتال میں کام کرنے والے کئی لوگ اپنے سینے پر جرمن ٹیم کے بلّے لگائے ہوئے قریب سے گزر گئے۔ اس نے ایک کمرے میں جا کر نرس سے اپنی ماں کے بارے میں  دریافت کیا تو بولی: ’’ آپ ادھر،  ویزیٹرس کے رُوم میں بیٹھ جائیے، ڈاکٹر صاحب آپ کو خود بتائیں گے۔‘‘
’’ یا اللہ میری ماں کی مدد کر!‘‘ اس کے موٹے موٹے ہونٹ تیزی سے ہل رہے تھے۔ ماں کا چہرہ نظروں کے سامنے گھوم رہا تھا۔ ایک خوبصورت درمیانی قد کی عورت، سنہرے بال بڑی بڑی جھیل کی مانند پرکشش نیلی آنکھیں،  جو اب کچھ موٹی ہو گئی تھی چہرہ پر کچھ جھرّیاں نمایا ہو گئی تھیں مگر پھر بھی اس میں بلا کی کشش تھی۔نہایت ہی ملنسار اور ہمدرد تھی۔ پیٹر کے دوستوں کی خاص طور سے خاطر کرتی تھی اور ماریہ پر تو اپنی بیٹی کی طرح مہربان تھی۔
اسے یاد آیا،  جب وہ بچہ تھا تو کتنی محبت سے کہانیاں اور لوریاں سنا کر ماں اسے سلاتی تھی۔اپنے ساتھ باغوں اور جھیلوں میں  لے جاتی تھی۔ روز صبح اپنے ہاتھوں سے کپڑے پہناتی اور کنڈرگارٹن لے جاتی تھی اور پھر شام کو اسے گھر لا کر ممتا کے سارے دروازے کھول دیتی تھی۔ اس کی ماں جو اس کی پرورش کے لئے ایک بڑے دفتر میں فرش کی صفائی کرتی تھی لیکن اسے کوئی تکلیف نہیں ہونے دیتی تھی۔اور اپنی تمام خواہشیں قربان کر کے اسے اس قابل بنا دیا تھا کہ اب وہ سیمینس جیسی بڑی فرم میں ایک انجینئر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا اور اچھی تنخواہ کما رہا تھا۔
ڈاکٹر ابھی بھی اس کے پاس نہیں آیا تھا نا ہی اس نے اسے اپنے کمرے میں طلب کیا تھا۔ کچھ فاصلے پر بیٹھا ہوا ایک مریض اخبار میں گم تھا۔ فٹ بال میچ سے بھری شاہ سرخیاں دور سے نظر آ رہی تھیں۔  پیٹر نے منت بھری نظروں سے ڈاکٹر کے کمرہ کے دروازے کی طرف اور پھر اپنی سیٹ پر بیٹھی ہوئی نرس کی طرف دیکھا۔ مگر کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔
’’ اوہ گاڈ، میری ماں کی مدد کر۔۔۔‘‘ اس نے ایک بار پھر نظریں اٹھا کر چھت کی طرف دیکھا۔اسے یاد آیا۔

دسمبر کی ایک شام تھی۔  سڑکوں،  پارکوں اور پیڑوں پر برف جمی ہوئی تھی۔ ہر طرف کرسمس کا جشن منایا جا رہا تھا۔گھروں اور سڑکوں پر قمقموں کی قطاریں جگمگا رہی تھیں۔  لیکن اس کے گھر میں کرسمس کا کوئی پیڑ نہیں تھا۔
’’ ماں ہمارے وہاں کوئی ’ٹنین باؤم‘ (کرسمس پیڑ) نہیں ہے۔‘‘
’’ ہاں بیٹا۔۔ ۔‘‘ ماں نے اداس لہجہ میں جواب دیا۔
’’لے آؤ ماں۔  سب کے وہاں ’ ٹنین باؤم ‘ ہیں۔  کنڈر گارٹن میں،  رالف کے وہاں،  اُووے کے وہاں، 
سب کے وہاں۔۔ ۔‘‘
’’ ان کے پاس دھن ہے بیٹے۔  ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم غریب ہیں۔ ‘‘
’’ ہم کیوں غریب ہیں ماں ؟ غریب کیا ہوتا ہے؟‘‘ پیٹر روہانسا ہو کر بولا۔
’’ بیٹے مجھے مہینے میں بہت کم تنخواہ ملتی ہے۔ ہم اس قابل نہیں ہیں کہ ٹنین باؤم خرید سکیں اور اس کو سجا سکیں۔  ہمارا فلیٹ بھی بہت چھوٹا ہے۔‘‘
’’ ہم کیوں اس قابل نہیں ہیں ماں ؟ ہم بھی اپنے گھر میں ٹنین باؤم لگائیں گے۔‘‘ وہ رونے لگا۔
’’ تو میں اپنی جان دے دوں تیرے کرسمس پیڑ کے لئے۔‘‘ ماں نے اس کے گال پر طمانچہ مارا اور پھر سینے سے چمٹا کر دیر تک روتی رہی۔ پھر اس نے کچھ نہ کہا،  کوئی ضد نہ کی۔ ماں کے سینے سے چمٹا رہا۔  ایک عجیب سے پیار کا لمس اسے مل رہا تھا۔ ماں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔  اس کے سر کو سہلا رہی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں تھیں اور رنگ برنگے قمقموں سے سجے کرسمس کے پیڑوں کے باغوں کی سیر کر رہا تھا۔
دوسرے دن اسے کنڈر گارٹن میں پہنچانے کے بعد ماں کام پر چلی گئی۔ اولیور نے بتایا کہ اس کے باپ نے ایک بہت بڑا،  خوبصورت ’ٹنین باؤم‘ لا کر ڈرائنگ روم میں لگایا ہے اور کرسمس کے دن اسے سجائے گا۔اوشی گا رہی تھی: ’ او ٹنین باؤم۔۔۔او ٹنین باؤم (اے کرسمس کے پیڑ تیرے پتّے کتنے خوبصورت ہیں )۔‘
ریڈیو پر کرسمس کے گانوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ لیکن پیٹر کو اب ان میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
’’ ہم غریب ہیں بیٹے۔ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ ‘‘
ماں کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ اور گال پر ماں کا طمانچہ اور پھر محبت سے سینے سے چمٹا کر پھوٹ پھوٹ کر رونا یاد آ رہا تھا۔
تیسرے پہر کو جب ماں پیٹر کو لینے کے لئے کنڈر گارٹن پہنچی تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ پیٹر نے دوڑ کر اس کے گال کو چوما اور اس کی بانہوں میں سما گیا۔ پھر اس نے اپنا کوٹ پہنا۔ بیگ کو پیٹھ پر لادا او ر اچھلتا ہو ہنسی خوشی ماں کے ساتھ گھر کو چل دیا۔
فلیٹ میں داخل ہو تے ہی اس نے اپنے جوتے اتار کر ایک کونے میں رکھے، بیگ کو کوری ڈور میں ایک طرف ڈالا اور کوٹ کو ہینگر پر لٹکا دیا۔ پھر جیسے ہی وہ کمرہ میں داخل ہوا اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔  ایک چھوٹا سا ٹنین باؤم (کرسمس کا پیڑ ) کونے میں کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔
’’ یہ ہمارا ہے ماں ؟‘‘ فرط مسرت سے اس کی زبان سے نکلا۔
’’ ہاں بیٹا، یہ تیرا ہے۔‘‘ ماں نے فخر سے جواب دیا اور پھر اس کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو نکلے اور گالوں پر پھیلنے لگے۔پیٹر کی کچھ سمجھ میں نہ آیا اور کیا کہے،  کیا پوچھے۔ ماں نے تو کہا تھا ہم غریب ہیں۔  ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔  ہمارا فلیٹ بہت چھوٹا ہے۔صرف ایک کمرے، کچن اور باتھ روم کا۔ اور اب یہ سب۔ اسے پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس نے ماں کے سینے سے لپٹ کر اس کے گالوں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے ننھے ہاتھوں سے پونچھنا شروع کر دیا۔
دوسرے دن اس نے اپنی ماں کے ساتھ مل کر کرسمس پیڑ کو سنہرے اور روپہلے شیشے کے گولوں اور رنگ برنگے ستاروں سے سجایا۔ اس کی شاخوں پر پر سیب لٹکائے، چاکلیٹ کی ٹکیاں ٹانگیں،  موم بتیاں نصب کیں اور سارے پیڑ کو ابرق سے دُلہن کی طرح سجا دیا۔ اس کے بعد تیسرے پہر کو دونوں نے ایک قریبی گرجا گھر میں جا کر ایک پادری کا واعظ سنا اور عیسی مسیح کی پیدائش کے بارے میں بچوں کا ایک ڈرامہ دیکھا اور پھر گھر لوٹ کر ’ ٹنین باؤم ‘ (کرسمس پیڑ) کو روشن کر دیا۔

’’ ہیر مایر! ہیر پیٹر مایر۔۔۔‘‘ ایک ڈاکٹر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مخاطب کیا۔
’’ ہمیں افسوس ہے۔ ہم آپ کی ماں کو نہیں بچا سکے۔ آپریشن کامیاب نہیں ہوا۔۔۔‘‘
پیٹر نے منہ کھولا،  مگر الفاظ زبان سے نہ نکل سکے۔آنسوؤں کی جھڑی جاری ہو گئی۔
اسے اپنے آپ سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ ماں کی محبت اور قربانیوں کی بے شمار مثالیں یاد آ رہی تھیں۔  لیکن اب وہ ہمیشہ کے لئے بچھڑ چکی تھی۔ وہ فٹ بال کے نشے میں اندھا ہو کر آپریشن کے وقت بھی اسپتال میں موجود نہیں تھا۔
آس پاس بیٹھے ہوئے کچھ مریض اب اس کی طرف دیکھ رہے تھے ان میں سے کچھ کے سینوں پر قومی فٹ بال ٹیم کے نشان چسپاں  تھے۔ وارڈ کے باہر بنچوں پر بیٹھے کچھ مریض کل کے کھیل پر تبصرے کر رہے تھے۔ اور اسپتال کے باہر سڑک پر دوڑتی ہوئی بہت سی کاروں پر جرمنی کے قومی جھنڈے لہرا رہے تھے اور دیواروں پر لگے بڑے بڑے پوسٹروں پر فٹ بال کے کھلاڑی نظر آ رہے تھے۔

دن بھر اس نے اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو اطلاع دینے اور ان سے مشورے لینے میں صرف کیا۔ تجہیز و تکفین کا بندوبست کرنا تھا، ایک دفنانے والے دفتر سے رجوع کرنا تھا، قبر کی زمین کو ریزرو کرنا تھا، سنگ مرمر کی پلیٹ اس پر لگوانی تھی۔ بہت سے لوگوں کو کارڈ بھیجنے تھے اور دفنانے کے بعد وہاں پر آئے ہوئے لوگوں کو قبرستان کے قریب ہی ایک ریستوراں میں لے جا کر ماں کے نام پر کھانا کھلانا اور شراب پلانی تھی۔ اور اس سب کے لئے بنک سے قرض لینا تھا۔
وہ کئی دن بھاگ دوڑ کرتا رہا۔ سوچتے سوچتے اس کا سر چکرانے لگتا تھا۔ آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔ دل کسی چیز میں نہیں لگتا تھا۔ نہ کھانا، نہ بئیر، نہ ریڈیو اور ٹی وی۔ اسے رہ رہ کر بس اپنی ماں یاد آتی تھی۔
لیکن آج پھر وہ اپنے سینے پر کالی لال، اور سنہری پٹّی والا بیج لگائے ’ برانڈن برگر‘ پھاٹک پر موجود ہے۔ ماریہ اس کے ساتھ ہے۔ اس کے گال لال کالے اور سنہری دھاریوں کے میکپ سے مزین ہیں،  گلے میں کاغذی پھولوں کا ترنگا ہار پڑا ہوا ہے۔
’ برانڈن برگر گیٹ‘ کے سامنے لاکھوں ہنستے گاتے، نعرے لگاتے جھومتے انسانوں کا سیلاب موجزن ہے، جو فٹ بال کی یوروپین چیمپین شپ کا فائنل میچ ایک بڑے سے اسکرین پر دیکھنے کے لئے جمع ہوئے ہیں،  جو جرمنی اور اسپین کی ٹیموں کے درمیان ہونے جا رہا ہے۔
سب کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے ’وی آر گریٹ‘۔ پیٹر اور ماریہ بھی اس نعرے میں شامل ہو گئے ہیں 
٭٭٭

ماخذ:  
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=arifnaqvi
تدوین  اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
