﻿

خوشبو کا جنگل



صفدر ہمدانی

جمع و ترتیب: اعجاز عبید








حمدِ خالقِ لوح و قلم


تو ہے ہر سو مگر کدھر ہے تو
یوں تو مجھ سے قریب تر ہے تو

تو زمان و مکاں سے عاری ہے
تو جو ظاہر نہیں مگر ہے تو

کیا کہوں کس طرح کہوں یارب
میری حالت سے باخبر ہے تو

آسماں سے زمیں کی وسعت تک
ذرے ذرے میں جلوہ گر ہے تو

تیرا احسان ہے جو لکھتا ہوں
میرے افکار کا سفر ہے تو

خالق و مالکِ قلم یارب
میرے الفاظ کا اثر ہے تو

دستِ صفدر میں ہے قلم بیشک
اس قلم کی ضیا مگر ہے تو
٭٭٭



نعت فخرِ رسولاں

اُن کے دربار میں مقبول ہے لکھنا میرا
آسمانوں پہ ملائک میں ہے چرچا میرا

کس قدر کرب میں تھا اُن کی محبت کے بغیر
یاد ہے اب بھی مجھے دھوپ میں جلنا میرا

میرے ہونٹوں پہ کھلے اسمِ محمد کے گلاب
نعت کے نور سے روشن ہوا چہرہ میرا

دولتِ دنیا مری نظروں میں اب جچتی نہیں
بھر گیا اُن کی عنایات سے کاسہ میرا

ایک جنت تھی رواں میرے بدن کے اندر
مَس ہوا روضے کے سائے سے جو سایہ میرا

گنُبدِ سبز کے سائے میں کھڑا تھا تنہا
کس بلندی پہ تھا اُس لمحے ستارہ میرا

سامنے تھا مری آنکھوں کے نبی کا روضہ
اور خوشبو سے معطر تھا سراپا میرا

شہرِ محبوبِ خُدا تھا مری آنکھوں میں بسا
آبِ زم زم کی طرح سرد تھا لہجہ میرا

کیسا اعزاز ملا اُن کی غلامی کا مجھے
چھین سکتی نہیں اعزاز یہ دنیا میرا

خوشبوئیں بانٹتا پھرتا ہوں زمانے بھر میں
گُلشنِ آلِ محمد سے ہے رشتہ میرا

دولتِ عشقِ محمد پہ ہوں نازاں صفدر
مدحتِ شاہِ مدینہ ہے وظیفہ میرا
٭٭٭



تاج نہ تخت نہ سلطنت چاہیئے
تیرے دستِ مبارک کی چھت چاہیئے

مجھ کو درکار کچھ بھی نہیں ہے حضور
آپکے در سے اک منقبت چاہیئے

جس میں ہر سانس جیسے ہو اک امتحاں
ایسی دنیا سے کیا منفعت چاہیئے

جو ترے نامِ نامی سے منسوب ہو
میرے افکار کو وہ صفت چاہیئے

کب ہے جنت کی لالچ مجھے سچ کہوں
تیرے عشاق کی عاقبت چاہیئے

جو بصیری کو مولا نصیب ہو گئی
ہم فقیروں کو وہ معرفت چاہیئے

چار جانب جو سیلاب کی آگ ہے
تیرے بندوں کو بس عافیت چاہیے

سچ کہیں ایسی دنیا سے بیزار ہیں
ہم کو دنیا نہیں آخرت چاہیئے

اور کچھ بھی نہیں چاہیئے ہے ہمیں
میرے آقا تری مغفرت چاہیئے

اقتدار و حکومت کی خاطر جو ہو
ایسی توصیف سے معذرت چاہیئے

عشقِ آلِ محمد کی حد کیا کہوں
ہاں پرَت در پرَت در پرَت چاہیئے

خواب میں کوئی چادر عطا ہو مجھے
نعت لکھنے پہ وہ منزلت چاہیئے

جاہ و  حشمت سے صفدر غرض ہی نہیں
ان کے دربار میں اہمیت چاہیئے
٭٭٭



جنازہ عدل کا نکلا ہے اک بیمار کے ہاتھوں
عدالت بِک گئی اک بار پھر زر دار کے ہاتھوں

ابھی پھر وار اُس نے کر دیا دن کے اُجالے میں
ابھی اک زخم کھایا تھا اسی تلوار کے ہاتھوں

بھروسہ تھا سہارے کا ہمیں دیوار پہ لیکن
ہماری چھت گری گھرکی اسی دیوار کے ہاتھوں

نہ جانے نام کیا رکھیں دلاسہ دینے والے کا
غموں پہ غم ملے صاحب ہمیں غمخوار کے ہاتھوں

کسی صورت خبر چھپنے سے رکوائیں عدالت کی
حکومت خوف میں ہے شہر کے اخبار کے ہاتھوں

بنی ہے شہر کی خلقت نشانہ تیرِ ظالم کا
سیاست طوقِ ذلت بن گئی اس وار کے ہاتھوں

کوئی اپنا مخالف مملکت میں رہ نہیں سکتا
ہوئے ہیں شہر ویراں اِک اسی آزار کے ہاتھوں

ہدف اک بار پھر اسکا بنوں گا ہے خبر مجھ کو
میں پہلے بھی بہت مطعون تھا اظہار کے ہاتھوں

یہی کردار تو انسان کو انساں بناتا ہے
بشر ہوتا بھی ہے رسوا اسی کردار کے ہاتھوں

سنبھالو سر پہ جو دستار ہے کارِ فضلیت کی
کٹے ہیں سر بہت سُن لو اسی دستار کے ہاتھوں

اسی اک خوف نے صفدر مری آنکھیں جلا ڈالیں
مرَض پھر جائے گا یہ فوج کے سالار کے ہاتھوں
٭٭٭





میں اس دل میں اترنا جانتا ہوں
ہواؤں میں بکھرنا جانتا ہوں

وہ جتنی ہے مری باہر سے واقف
اسے اندر سے اتنا جانتا ہوں

ہوں اس کے جسم کی حدت میں پنہاں
اسے پھر بھی میں کتنا جانتا ہوں

بس اتنا ہی پڑھا لکھا ہوں یارو
کہ اس کا نام لکھنا جانتا ہوں

ہر اک پہلو سے ہے وہ اک حقیقت
میں جس کو ایک سپنا جانتا ہوں

میں جن آنکھوں سے خود کو دیکھتا ہوں
انہیں آنکھوں کو اپنا جانتا ہوں

اسے معلوم ہے یہ وصف میرا
میں جی جی کر بھی مرنا جانتا ہوں

سنور کر جو بگڑ جاتا ہوں اکثر
بگڑ کر پھر سنورنا جانتا ہوں

وہ اتنا خود سے  کیسے آشنا ہے
میں صفدر اسکو جتنا جانتا ہوں
٭٭٭





یہاں بھی ہو وہاں بھی ہو
تمہی منزل نشاں بھی ہو

عجب سی اک حقیقت ہے
یقین بھی تم گماں بھی ہو

مری آنکھوں سے دیکھو تو
معمر بھی جواں بھی ہو

یقینِ جاں سے کہتا ہوں
ہو منظر بھی سماں بھی ہو

مرا دل خود سے کہتا ہے
نماز ہو تم  اذاں بھی ہو

مجھے صفدر یوں لگتا ہے
وہاں میں ، تم جہاں بھی ہو
٭٭٭





اندھی رفاقتوں کا ثمر کیا ملا مجھے
کرنا پڑا ہے اپنے سے صفدر گلہ مجھے

اب روز میری ذات کو کرتا ہے منقسم
کرتا نہیں تھا وہ جو کبھی بھی خفا مجھے

پل بھر میں تن سے سانس کا رشتہ ہو منقطع
ہونٹوں سے ایسا زہرِ محبت پلا مجھے

اس جرمِ آشنائی کی ملتی ہے کیا سزا
کرتا ہے کس طرح سے معاف اب خدا مجھے

تو نے کنارِ جھیل پہ جو گنگنایا تھا
تنہائیوں کا گیت وہی پھر سنا مجھے

کرنا نہیں ہے اب کوئی ایثار کا سفر
کرنی نہیں ہے جینے کی اب التجا مجھے

صفدر بہار میں بھی رہوں گا خزاؤں میں
راس آ گئی ہے دوست تری بد دعا مجھے
٭٭٭






ہمارے دنیا بھر کے مسئلے ہیں
سمندر کو بھنور کے مسئلے ہیں

کوئی صورت نہیں ملتی کسی سے
یہی آئینہ گر کے مسئلے ہیں

اِنہی سے ذات ہے تقسیم میری
یہ جو دیوار و در کے مسئلے ہیں

شعور و فکر،احساسِ محبت
یہی اہلِ نظر کے مسئلے ہیں؟

تمہیں تو فکر اپنے حال کی ہے
مجھے اگلے سفر کے مسئلے ہیں

کوئی تو ہو جو میری بات سمجھے
یہی مجھ در بدر کے مسئلے ہیں

مرا ہر مسئلہ بس فکر کا ہے
جو باقی ہیں وہ زر کے مسئلے ہیں

سکوں میں ہے بہت جو بے خبر ہے
وگرنہ سب خبر کے مسئلے ہیں

سیاست بن گئے محراب و منبر
ادھر بھی اب اُدھر کے مسئلے ہیں

کروڑوں لوگ جو سوتے ہیں بھوکے
یہ سب تقسیمِ زر کے مسئلے ہیں

مجھے موجود لمحے کا تردد
تمہیں شام و سحر کے مسئلے ہیں

بہت ہے فکر اسکو میرے گھر کی
کچھ اس کے اپنے گھر کے مسئلے ہیں

اُسے دستار کی ہے فکر صفدر
مجھے در پیش سر کے مسئلے ہیں
٭٭٭


عمرِ وارفتہ نے دکھلائے وہ منظر مجھ کو
جانے لے جائے کہاں اب یہ مقدر مجھ کو

تم ہی بتلاؤ انہیں کیسی ہے رنجش مجھ سے
گھورتے رہتے ہیں کیونکر مہ و اختر مجھ کو

میں نے جس روز سمندر پہ پکارا تھا وہ نام
ڈھونڈتا پھرتا ہے اُس دن سے سمندر مجھ کو

جس پری وش کے لیئے لکھتا ہوں ہر روز غزل
اُس نے بھی بھول کے لکھا نہیں شاعر مجھ کو

ایک صحرا ہے یا خاموشی کا اک جنگل ہے
روز دیتا ہے صدائیں میرا اندر مجھ کو

ایک مدت ہوئی بچھڑا ہے وہ خود اپنے سے
ڈھونڈھ کر لا دو خدارا میرا صفدر مجھ کو
٭٭٭



وسوسوں میں الجھ مت کسی کی طرح
سانس رک جائے گا بے بسی کی طرح

کیا خبر کس طرح جاگزیں ہو گئیں
گھر میں تاریکیاں روشنی کی طرح

زندگی کی طرح وہ جدا ہو گیا
ساتھ تھا جو مرے زندگی کی طرح

رہ رہے ہیں وہ دونوں ہی عقرب صفت
ایک چھت کے تلے اجنبی کی طرح

کج ادائی کا اسکی سبب کیا کہوں
تنگ نظر وہ بھی ہے ہر کسی کی طرح

ساتھ اسکے گزارا ہر اک،ایک پل
دل میں مدفون ہے خامشی کی طرح

کیا خبر تھی مجھے کرنا پڑ جائے گا
ہجرتوں کا سفر بے بسی کی طرح

کاٹنا ہے ہمیں فیصلہ ہو گیا
دوستی کا سفر دشمنی کی طرح

دشتِ دل میں ہواؤں کی مانند چل
آنگنوں میں اتر چاندنی کی طرح

خود ہی صفدر وہ حرفِ غلط بن گیا
مجھ میں تھا جو مری شاعری کی طرح
٭٭٭


غم کی گہرائی میں خوش رہتا ہوں
میں کہ تنہائی میں خوش رہتا ہوں

منتخب کرتا ہوں دشمن اپنے
اپنی رسوائی میں خوش رہتا ہوں

دیکھتا ہوں میں گریبان تلک
حدِ بینائی میں خوش رہتا ہوں

جو شناسائی،شناسائی نہ ہو
اس شناسائی میں خوش رہتا ہوں

کوئی خواہش نہیں ایوانوں کی
گھر کی انگنائی میں خوش رہتا ہوں

شہر سے خوف ہے صفدر مجھ کو
بزمِ صحرائی میں خوش رہتا ہوں
٭٭٭



خواب جزیرے سوچو کیوں
گونگے لفظ کو لکھو کیوں

گھر جب دل کے اندر ہو
گھر سے باہر نکلو کیوں

جو  منظر ہوں  خوابیدہ !
جاگتی آنکھ سے دیکھو کیوں

جس نے لوٹ نہ آنا ہو
ایسے شخص کو روکو کیوں

جس کی قسمت ریت کی پیاس
ایسے تھل پہ برسو کیوں

جس در میں دیوار نہ ہو
ایسے در کو کھولو کیوں

جس دریا میں موج نہیں
اُس دریا میں اترو کیوں

صفدر پیار کی خواہش میں
اپنے اندر بکھرو کیوں
٭٭٭


میں کیا کروں کہ قَلَم کی قَسَم اٹھائی تھی

مرے وطن میں قلم کی قَسَم اٹھاتا ہوں
کہ جب تلک مری سانسوں کا آنا جانا ہے
قلم رہے گا یہ شمشیر بن کے گردن پر
ترے ہر ایک ستم آشنا عدو کے لیئے
ترے عدو کو نہیں ہے
مرے قلم کے شکوہ کا ابھی بھی اندازہ
بکھیر دوں گا بساطِ ستم کا شیرازہ
ترے عدو کو بھگتنا پڑے گا خمیازہ
یہ کیا کہ ہر کوئی اک مردہ خور گدھ کی طرح
ترے وجود پہ نظریں جمائے بیٹھا ہے
یہ کیا کہ تیرے وجودِ حیات کو ظالم
نگاہِ بد سے نشانہ بنائے بیٹھا ہے
سروں پہ کوہِ ملامت اُٹھائے بیٹھا ہے
ترے عدو کو خبر ہی نہیں ہے کہ تاریخ
ہر ایک عہد میں اپنا سبق سکھاتی ہے
ہر ایک آمرِ مطلق کا سر اڑاتی ہے
ترے عدو کو یہ ادراک ہی نہیں ہے کہ وہ
کسی بھی شکل میں آئے
وہ چھُپ نہیں سکتا
ترے عدو کو خبر ہی نہیں کہ اسکا وجود
قبا سجائے ہوئے ہے بدن پہ اپنے مگر
یہ زرنگار قبا سر تا پا ملامت ہے
یہ سر پہ رکھی جو دستار ہے ندامت ہے
فصیل شہر کے باہر کھڑی قیامت ہے
کسے یہ زعم کہ جمہوریت کے پردے میں
وہ اپنی ساری سیاہ کاریاں حلال کرے
غریب کے لیئے اک سانس بھی وبال کرے
پھر ایک بار یہ دھرتی مری عذاب میں ہے
پھر عدل اہلِ ہوس کے لکھے نصاب میں ہے
وفا کا درس بھی زر دار کی کتاب میں ہے
وہ فکرِ شمرِ لعیں عرصۂ شباب میں ہے
پھر حاکموں نے لگایا ہے مصر کا بازار
پھر اقتدار کا نشہ ہے تخت کا ہے خمار
پھر ایک مجمعِ اہلِ ہوس ہے اور دربار
پھر اہلِ حکمت و دانش کی جہل ہے سردار
غریبِ شہر کا مختار پھر ہوا زر دار
منافقت کی ہوا ہے سنو چمن میں مرے
اُتر گیا ہے جوں خنجر کوئی بدن میں مرے
پھر آمروں نے اٹھایا ہے سر وطن میں مرے
مگر یہ کیا ہے کہ اس بار یہ حصارِ ستم
بنا رہے ہیں وہی سب
جنہیں ہے دعویِ جمہوریت زمانے سے
جنہیں ہے فخر کہ اعزاز یہ شہادت کا
انہیں کے گھر کے لیئے جس طرح وراثت ہے
انہیں کے واسطے لکھی گئی قیادت ہے
میں کیا کروں کہ قَلَم کی قَسَم اٹھائی تھی
تو اس قَسَم کی مجھے اب بھی لاج رکھنی ہے
تو پھر سنو کہ نہ غاصب کو اب وکیل کرو
خود اپنے سر کو بچانے کی بھی سبیل کرو
تم اقتدار کی خواہش مگر قلیل کرو
جو کرنا چاہو تو پھر بیعتِ عدیل کرو
مت اس طرح سے یہ جمہوریت ذلیل کرو
٭٭٭



سمندر مرے پاؤں سے لپٹ جاتا ہے


سنو
میں نے دل کی طرح ایک کمرہ گھر میں بنایا ہے
جس کی صندلی چوکھٹ پر تمہارا نام بھی لکھوایا ہے
تمہیں علم ہے نا کہ
میرے دل کی طرح تم یہاں بھی میرے ساتھ  رہتی ہو
اپنی خوشبو سے مجھے مہکائے رکھتی ہو
اپنے آنچل کے سائے میں مجھے چھپائے پھرتی ہو
اور ایسے میں
میں تمھاری سانسوں کی برسات میں نہایا رہتا ہوں
ہر لمحہ تمہیں اوڑھے پھرتا ہوں
اور تمھاری سانسوں سے لپٹا خواب دیکھتا ہوں
جیسے
ہر شام اک شمع جلتی ہے
روشنی تم سے ہوتی ہے
اور
میں سوچتا ہوں
اسی طرح ایک دن میں پورا اس سمندر میں اتر جاؤں گا
٭٭٭


حقیقتاً وہ اشارے اجل کے دیکھتے ہیں
اُسے جو درد کے مارے ازل کے دیکھتے ہیں

ہمیں جلائے گی کیا گرمی بدن  اُس کی
چلو ہم آگ میں اپنی ہی جل کے دیکھتے ہیں

ذرا  پتہ تو چلے  کس طرح وہ سوچتا ہے
مزاجِ یار میں لمحے کو ڈھل کے دیکھتے ہیں

ہم اُس کو دیکھ رہے ہیں نہیں پتہ کب سے
بس ایک بار اب آنکھیں بدل کے دیکھتے ہیں

طواف کرتے ہیں جس کے خیال کا دن رات
اُسی کے پہلو میں پل بھر مچل کے دیکھتے ہیں
 
لکھیں خزاں تو بہاروں کی خوشبوئیں پھیلیں
چلو یہ  معجزے صفدر غزل کے دیکھتے ہیں
٭٭٭



جو بات کہنی ہے تم سے کہو کہوں کیسے
  فضا میں زہر ہے جاناں کہو جیوں کیسے

میں آسمان ہوں تم آسمان سے بھی بلند
میں سوچتا ہوں کہ تم کو میں چھو سکوں کیسے

میں اپنے آپ میں محدود ہوں یہ جانتا ہوں
 جو تم کو چاہیئے جاناں میں وہ بنوں کیسے

یہ ایک لہر نے ساحل کو کر دیا گیلا
 تمہارے نام کو اب ریت پر لکھوں کیسے

یہ مسئلہ بھی تو مجھ جیسے سرو قد کا ہی ہے
 میں آسمان ہوں زیر زمیں رہوں کیسے

زمین والوں میں ہوتا تو پر سکوں ہوتا
اُفق تمہارا ہے تم ہی کہو اُڑوں کیسے

ساتھ میں جو دن بسر نہیں ہوتا
 بیاضِ دل میں اسے دن بھلا لکھوں کیسے

 ابھی سے سوچتا ہوں مر کر یہ کیسے ممکن ہے
 تری صدا کو بھلا قبر میں سنوں کیسے

 یہ سوچ کر کہ مری انگلیاں بھی آتش ہیں
 میں تیرے ہاتھ پہ اس ہاتھ کو رکھوں کیسے

ہوا کے کان میں سرگوشیوں کا مطلب ہے
 میں گیلی لکڑی ہوں تم ہی کہو جلوں کیسے

جو رات تو نے مجھے پہلے دن ہی دے دی تھی
 وہ رات ہجر کی صفدر بسر کروں کیسے
٭٭٭



اس کی یادوں سے صنم خود کو جواں رکھتے ہیں
شب کی تنہائی میں بھی حکمِ اذاں رکھتے ہیں

ہم سے بھی پوچھو کبھی تذکرۂ شامِ وفا
ہم بھی اے جانِ سخن منہ میں زباں رکھتے ہیں

اُس کو مطلب ہے فقط اپنی ہی دلداری سے
یہ عیاں اُس پہ نہیں زخمِ نہاں رکھتے ہیں

اس گماں پر ہی تو ہے اسکی محبت کا یقیں
ہم یقیں والے بھی اتنا سا گماں رکھتے ہیں

اس زیاں نے ہی تو رکھا ہے مرے سر کو بلند
ورنہ ہم لوگ بھی احساسِ زیاں رکھتے ہیں

جن کے ہونٹوں پہ تبسم کا سمندر ہے رواں
اپنے پہلو میں وہ اک قلبِ تپاں رکھتے ہیں

ہم کیسی میر کسی درد کی پرچھائیں نہیں
ہم بھی غالب سا مگر طرزِ بیاں رکھتے ہیں

درد گر ایک ہو صفدر تو ہمیں یاد رہے
بھول جاتے ہیں کہ ہم درد کہاں رکھتے ہیں
٭٭٭


وصال کی راہ ختم ہوئی

سنو
 سفر شاید کہ اب باقی نہیں ہے
وصال کی راہ ختم ہوئی اور ہجر کا موسم آن پہنچا
اداس شاموں میں پھر سے وہ ہی
عجب سی تنہائی اُگ رہی ہے
یہ زندگی ایک دائرے کی مانند
ایک کونے سے دوسرے تک
سسک رہی ہے
تمام موسم بدل گئے ہیں
مگر یہ قلب حزیں کا موسم
اداس شاموں میں ایسے بدلا کہ اب کسی کو یقیں نہیں کہ
یہ ہجرتوں کا ہر ایک قصہ تمام ہے اب
٭٭٭



مجھے افسوس نہیں ہو گا


 بہت ہی اچھے میرے اپنے یارم
حیران ہوں کہ کیسے یہ سب لکھ رہا ہوں
لیکن تم کہتے ہونا کہ انسان ہر کام زندگی میں کبھی پہلی بار کرتا ہی ہے
 سو کر رہا ہوں 
لفظوں کی حرمت بھی جانتا ہوں
اور سچائیوں سے واقف بھی ہوں
 شاید لفظ ہی میری کیفیت لکھ سکیں
 او اب اگر یہ بھی وہ نہ کہہ پائے جو مجھے کہنا ہے
 تو مجھے خود ہی اپنی راہ پر آپ خود ہی  اکیلے لوٹا دینا
۔مجھے بالکل کبھی افسوس نہیں ہو گا ۔۔
٭٭٭



جیسے کہیں کوئی ہے!

نہ جانے کیوں مجھے ہمیشہ ہی لگا
جیسے کہیں کوئی ہے
 جو میری زبان جانتا ہے
 کوئی ہے 
جس کو میری کسی تفسیر سے کوئی مطلب
کوئی سروکار نہیں ہے
 کوئی کہیں ہے جس کی مجھ سے ہم شناسی ہے
 جو پل بھر میں سارے سفر طے کر کے مجھ تک آ سکتا ہے
 مجھے ہمیشہ ہی لگا
جیسے میں اسے محسوس کر سکتا ہوں
 اس کی خوشبو میرے اپنے بدن کی ہے
جو مجھے اپنی پہچان میں جکڑ لے گا
 مجھ میں ایسے اتر جائے گا کہ مجھے خود کو پتہ نہیں ہو گا
کوئی ہے جس کا کلام مجھ  جیسا ہو گا
جو مجھے ڈھونڈ لے گا
 میں نے بڑا انتظار کیا تھا یارم اِس دن کا
اُس پل کا جب مجھ سے میرا جامن ملے گا
میں نے کہا تھا نہ تم سے
کہ  مجھے یاد کرانا 
میں تم کو بتاؤں گا کہ جامن کون ہے؟
٭٭٭




‘‘جامن‘‘ جو سب پر اپنا رنگ چڑھا دے



تم کو شاید یقین نہ آئے
میں جب اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر تکتا ہوں
تو سامنے جو اونچا سا درخت نظر آتا ہے
وہ جامن کا ہے
جس سے میری دوستی ہے اور جو میری ہر کہانی میں ہے
یاد ہے تم کو؟
تم نے بھی مجھ سے یہ ہی پوچھا تھا کہ
تمہاری اتنی کہانیوں میں جامن کا درخت ہر جگہ کیوں آ جاتا ہے ؟
تو سنو
یہ جامن کا درخت میرا  آیڈیل ہے
اب بھی جیسے
 وہ مجھ سے باتیں کر رہا ہو
ہاں میرا محبوب ہونے کے لیئے بھی تمہیں جامن کے درخت جیسا  بننا ہو گا 
اپنی فکر کے ذاتی پکے رنگوں والا
جو خود دھوپ میں رہے
اور لوگوں کو چھاؤں دینے والا
اور ہر موسم میں مسکرانے والا
 کوئی بے دھیانی سے بھی پاس سے گزر جائے تو ٹپ سے اس کے پاس بیٹھ جائے
 اور
اس سے ایسی باتیں کہہ دے جس سے وہ بھی جامنی رنگ میں رنگ جائے
 جو کبھی اترے ہی نا
بس سکون اور طاقت کی علامت
یارم عمر گزر گئی
نہیں ملا کوئی بھی جو ساری باتوں پر پورا آنے والا ہوتا
ہاں میرے اس سرد اور خشک  رویئے سے بہت سے لوگ دلبرداشتہ ہوئے
جو جانے انجانے میں مجھ سے محبت کرتے تھے
 جن میں  کچھ مجھ سے  کہہ ہی نا سکے
 اور جو کہہ بھی  پائے تو  انہیں بھی کیا ہی ملا
میرا معیارِ محبت مجھ سے بھی کہیں اونچا تھا
میرا محبوب مجھ سے ملنے کے لیئے  بھی اپنے تخت سے زمین پر نہیں  اترتا تھا
 اور سچی بات مجھے کوئی غم بھی نہیں تھا
اور نا ہی قلق کہ مجھے ہی آخر کیوں نہیں ملتا
 کہ میں جانتا تھا کہ اس کی وجہ بھی میں ہی ہوں
لیکن پیچھے ہٹنا سیکھا نہیں تھا
یارم کہہ دیا جو جی میں آیا اور صحیح لگا
میرا جامن نہیں ملا مجھے کبھی بھی
 پر میرا یقین مجھے کہتا تھا
 کہ ایک دن کوئی کہیں ہو گا جس کو میں جامن کہہ ہی لوں گا
اور اب آج جو تم نے جامن کہا تو میں جیسے جی اٹھا
 میرا وہ خواب جو میں نے سوتے جاگتے دیکھا تھا
سچ ہو گیا
 کیسے بتاؤں کہ میرا جامن  میرا انتظار،۔ میرا صبر ہے ، میرے اپنے ہونے کا ثبوت ہے
جس کو میری علاوہ کوئی نہیں جانتا
 وہ  واقعی میری  اندر باہر سب رازوں سے واقف ہے
اسے سب پتہ ہے کہ میرے جسم کی ہر پیاس اسے ہی کشید کرتی ہے
اور میرے دل پر لکھا ہر کتبہ اسی کی کہانی کہتا ہے
 اس میں اور مجھ میں کبھی حجاب نہیں رہا
 مجھے وہ کبھی اپنے سے الگ دٍکھا ہی نہیں
  میں اپنے جامن  کو جیسے اسکی تخلیق سے پہلے سے جانتا ہوں
میرے ارد گرد والے خاموشی کی زبان میں کہتے ہیں
تم کو جامن مل گیا ہے
پکے رنگ والا
جس پر کوئی رنگ نہیں چڑھتا اور
جو سب پر اپنا رنگ چڑھا دیتا ہے
٭٭٭


رازِ کن

رازِ کُن یہی تو ہے
سوچ کر ذرا دیکھو
ایک سانس کا رشتہ
موت زندگی ہی ہے
٭٭٭


خیال کے پھول


میری سانسیں ترے خیال کے پھول
قربتوں میں کھلے وصال کے پھُول
میری آنکھوں میں کس نے عکس کیئے
مسکراتے ہوئے ملال کے پھول
٭٭٭




کیا یہ بڑی بات نہیں؟

عشق کے کھیل میں کوئی بھی حرف آخر نہیں
عقل کو اس میں کہتے ہیں عاقل متاعِ جنوں
ہر بساطِ محبت پہ ہم اپنی ہار مان کر جو اٹھے
کیا اسے تم بڑی بات کہتے نہیں؟
٭٭٭


بھیگتا رہا شب بھر چاہتوں کی بارش میں
مات کھائی ہے ہم نے جیتنے کی خواہش میں

جسکے بعد ہر رُخ سے ہر قدم اندھیرا ہو
کتنی دیر لگتی ہے ایسی ایک لرزش میں

یہ یقین ہے میرا ڈوب کر میں ابھروں گا
جتنا چاہو ڈالو اب جیسی آزمائش میں

صندلی بدن اس کا پیراہن سے عاری ہے
اس کو لطف آتا ہے جسم کی  نمائش میں

حد سے بڑھ کے عزت بھی ڈھونگ لگنے لگتی ہے
نفرتوں کی دنیا ہے اس قدر ستائش میں

تم سے کیا گلہ صفدر تم سے کیا شکایت اب
تم بھی اب جو شامل ہو دوستوں کی سازش میں
٭٭٭



قرب کا زہر مری روح میں زندہ ہے ابھی
چند دن اور مجھے تم نے تو سمجھا ہے ابھی

ان چمکتے ہوئے رستوں پہ بھی چل لیں گے مگر
راستہ چلتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے ابھی

آئینہ ٹوٹ کے بکھرا تو خدا رونے لگا
کون روئے گا یہ انسان جو بکھرا ہے ابھی

چاندنی چہرے پہ احساس سجا کر نکلی
مجھ کو چہرے پہ لہو رکھ کے نکلنا ہے ابھی

گوشت کی آنکھ میں بینائی کا دھوکہ تو نہ دے
یہ چمکتا ہوا پتھر بھی پگھلنا ہے ابھی

سِل گئے ہونٹ لرزتی ہوئی دیواروں کے
کل کا دن اور ترے شہر میں رہنا ہے ابھی

تم جسے کہتے ہو انساں کی مکمل صورت
وہ تو انسان کا ڈھلتا ہوا سایہ ہے ابھی

ڈوب نہ جاؤں میں آواز کی دنیا میں کہیں
جسم اس شور کی دنیا سے تو نکلا ہے ابھی

ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا صفدر
کیا خبر شہر میں اب اور کیا ہونا ہے ابھی
٭٭٭





اپنی آنکھوں میں ترا عکس دکھانا چاہوں
میں تجھے تیرے خیالات بتانا چاہوں

رنگ بکھریں تو خیالات بکھر جاتے ہیں
انگلیاں ٹوٹیں تو تصویر بنانا چاہوں

دھُند میں لپٹے ہوئے پیڑ کا سایہ بن کر
تجھ سے تیری ہی ملاقات کرانا چاہوں

ناگنیں زہر لیئے بیٹھی ہیں شریانوں میں
اور میں اپنا لہو آپ بہانا چاہوں

چاہتیں اور بھی ہوں گی مجھے انکار نہیں
ساتھ جب ہے تو ترا ساتھ نبھانا چاہوں

چاند کی کرنوں کے بھالوں سے چٹانیں کھودوں
دھوپ کی لاش زمینوں میں اُگانا چاہوں

کیسی خواہش نے مرے جسم میں کروٹ لی ہے
آئینہ مٹی کے دانتوں سے چبانا چاہوں

ان نئے شہروں سے نفرت سی ہوئی ہے صفدر
میں وہی شخص وہی شہر پُرانا چاہوں
٭٭٭





حالتِ خواب میں ہوں یا پھر میں؟



دل کی بستی میں اک عجب ہے سماں
کوئی دستک دیئے بنا ایسے
ہو گیا ہے مرے بدن میں مکیں
آسماں پاؤں کی بنا ہے زمیں
لمس اسکے بدن کا اس طرح
میری سانسوں کے راستے اُترا 
خانۂ دل میں روشنی بن کر
مجھ کو معلوم ہی نہیں کیسے
دن گزارا ہے رات کی مانند
رات جو جاگ کر گزاری ہے
تیرے آنے کے انتظار میں کل
میں نے ان سارے زندہ لمحوں کو
اپنی سانسوں میں کر لیا پابند
پھر بھی خود سے سوال کرتا ہوں
حالتِ خواب میں ہوں یا پھر میں
جاگتے میں فلک کی گود میں ہوں؟
٭٭٭


کھلے سمندر کا ہر کنارا ہے نام میرے
عجب مقدر کا استعارہ ہے نام میرے

محبتوں کے سبھی جزیرے تمہاری قسمت
عداوتوں کا یہ شہر سارا ہے نام میرے

میں روز اپنا ہی زہر پی پی کے مر رہا ہوں
یہ کیا اذیت نشاں ستارہ ہے نام میرے

مرے لہو کی حرارتوں میں بسا ہوا ہے
وہ ایک دن تم نے جو گزارا ہے نام میرے

نہ لکھنے والے کا نام لکھا ہے کوئی صفدر
کہاں سے آیا یہ خط تمہارا ہے نام میرے
٭٭٭





بجھ چکی تھی آگ لیکن پتیاں چُنتا رہا
اپنی مرقد سے میں پنی ہڈیاں چُنتا رہا
 
موجِ دریا ریت کے گھر کو بہا کر لے گئی
میں مگر ساحل پہ بکھری سیپیاں چُنتا رہا
 
ریزہ ریزہ خواب تھے بکھرے ہوئے چاروں طرف
اپنی پلکوں سے میں ساری کرچیاں چُنتا رہا
 
یاد ہے اب تک مجھے بچپن کا وہ اک زلزلہ
ڈھیر سے ملبے کے زندہ تتلیاں چُنتا رہا
 
ہو چکا تھا اس قدر مانوس اسکے ظلم سے
گھر میں رہ کر بھی قفس کی تیلیاں چُنتا رہا
 
خود کو دینے کی اذیت ایسی عادت ہے مجھے
بادلوں کے شہر میں بھی بجلیاں چُنتا رہا
 
جن پہ لکھ کے اُس نے بھیجے تھے مجھے صفدر خطوط
راکھ کے اک ڈھیر سے وہ پرچیاں چُنتا رہا
٭٭٭





اک صدائے بے نوا داروغہ زنداں کی خیر
نعرہ  بادِ صبا داروغہ زنداں کی خیر

پر تو ہیں پرواز کی باقی نہیں حاجت رہی
کہہ رہی ہے فاختہ داروغہ زنداں کی خیر
‎‫
پوچھتی ہے وہ بتا کیسا رہا یہ تجربہ
مسکرا کر کہہ دیا داروغہ زنداں کی خیر

شعر میں بتلاؤ تو  کیسے بیاں کوئی کرے
اس اسیری کا مزا داروغہ زنداں کی خیر

نیم شب کی خامشی یہ ہے طوافِ جاں مرا
فجر میں  میری دعا داروغہ زنداں کی خیر

‎‫جب کہا جلاد نے تم آخری خواہش کہو
‎‫میں نے کاغذ پر لکھا  داروغہ زنداں کی خیر

‎‪  زخم پر اس نے لگایا زخم اور میرا کمال
‎‫اس پہ بھی کہتا رہا داروغہ زنداں کی خیر

‎‫شعر گوئی بھی تو اک اخلاص کی تفہیم ہے
‎‫فکر کو کیا رُخ ملا داروغہ زنداں کی خیر

‎‫اب بھی ہے محفوظ میری یاد کی زنبیل میں
‎‫ قید کا فقرہ سنا داروغہ زنداں کی خیر

‎‫اس قدر صفدر ہے اسکے قرب کی عادت مجھے
‎‫ظلم سہہ کر بھی کہا داروغہ زنداں کی خیر
٭٭٭


 
ٹکڑوں کو دل کے چنتا رہا ہوں تمام رات
کانٹوں پہ جیسے چلتا رہا ہوں تمام رات

جاتے ہوئے وہ کہہ نہ سکی مجھکو الوداع
یہ سوچ کے میں روتا رہا ہوں تمام رات

 کس جرم کی سزا ہمیں لمحے میں مل گئی
جیتا رہا ہوں مرتا رہا ہوں تمام رات

اس خوف سے کہ وہ مجھے تنہا نہ چھوڑ دے
سائے سے اپنے ڈرتا رہا ہوں تمام رات

 باہر تمام رات رہیں تیز بارشیں
اس ڈر سے گھر میں جلتا رہا ہوں تمام رات

جس حادثے نے توڑا ہے اس شخص کا بھرم
اُس حادثے کو لکھتا رہا ہوں تمام رات

 بے شک وہ جا چکی تھی ہواؤں کے دوش پر
آواز اس کی سنتا رہا ہوں تمام رات

روئے گی میرے مرنے پہ کیا کہہ کے وہ مجھے
میں کیسے خواب بُنتا رہا ہوں تمام رات

اک شب میں جھُک گیا ہوں ندامت کے بوجھ سے
گر گر کے میں سنبھلتا رہا ہوں تمام رات

صفدر رہوں میں اسکی نگاہوں میں سرخرو
رب سے دعا یہ کرتا رہا ہوں تمام رات
٭٭٭




خوشبو کا جنگل


گھنے درختوں کی چھاؤں میں
تیری گود میں سر کو رکھ کر
سوچ رہا ہوں
سارے خواب جو جاگتی آنکھوں دیکھے تھے
سب سچے تھے
سچی تھیں وہ ساری باتیں جو تم نے مجھ سے کہی نہیں تھیں
سچے تھے وہ سارے لمحے فاصلوں میں جو لکھے تھے
سچے تھے احساس وہ سارے
جن کو میں نے
اپنے خالی کمرے میں محسوس کیا تھا
لیکن اب جو گھنے درختوں کی چھاؤں میں
ندی کنارے
تیز ہوا کے جھونکوں کے سنگ تیری گود میں سر کو رکھ کر
سوچ رہا ہوں
جسم کے سارے زاویے کتنی مدت پہلے سے ہی
میری نیلی آنکھوں میں تصویر ہوئے تھے
اور وہ صندل کی خوشبو بھی چاروں جانب چیخ رہی تھی
اسکے بدن کی ساری حدت
میرے ہاتھوں کی پوروں میں اُتری تو محسوس ہوا
جسم کی خوشبو پھولوں کی خوشبو سے روح میں اُتری ہے
٭٭٭

ماخذ:
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=hamadani
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید



