﻿



خوشبو کی دھوپ



نصیر الدین ناصر


ترتیب: اعجاز عبید









جب پرندہ سفر پہ نکلا تھا
آسمانوں کا رنگ بھورا تھا

تھی ہواؤں سے دوستی اس کی
ریت پر جس کا نام لکھا تھا

جس جگہ وہ بچھڑ گیا مجھ سے 
راستہ ۔ راستے سے ملتا تھا

منجمد موسموں کی تختی پر
کوئی خوشبو کی دھوپ لکھتا تھا

پھر مجھے تیرگی نے ڈھانپ لیا
میں نے سورج کا خواب دیکھا تھا

اس کی آنکھوں سے میرے خوابوں تک
خواہشوں کا بسیط صحرا تھا

چاند تاروں کے شہر میں ناصر
آبنوسی گھٹا کا پہرا تھا
٭٭٭


خلا کے درمیانی موسموں میں 
زمیں ہے آسمانی موسموں میں 

ملیں گے خاک زادے روشنی سے 
ابد کے کہکشانی موسموں میں 

ہوائیں، پھول، خوشبو، دھوپ، بارش
کسی کی ہر نشانی موسموں میں 

محبت کے ٹھکانے ڈھونڈتی ہے 
بدن کی لا مکانی، موسموں میں 

انوکھے ذائقے سلگا رہی ہے 
لہو کی آگ، پانی موسموں میں 

سمندر اور ہوا کے بھید ناصر
کھلیں گے بادبانی موسموں میں ﻿
٭٭٭



درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی
جاگتی آنکھوں میں خوابوں کی تھکن باقی رہی

پانیوں کا جسم سہلاتی رہی پروا مگر 
ٹوٹتے بنتے حبابوں کی تھکن باقی رہی

دید کی آسودگی میں کون، کیسے دیکھتا
درمیاں کتنے حجابوں کی تھکن باقی رہی

فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے 
درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی

بارشیں ہوتی رہیں ناصر سمندر کی طرف
ریگ زاروں میں سرابوں کی تھکن باقی رہی
٭٭٭



دور ہی دور سے اک خواب دکھائی دے گا
کوئی جاگا ہوا عمروں کا دھائی دے گا

نسل در نسل یہی آس چلی آتی ہے 
کوئی آئے گا ہمیں دکھ سے ریائی دے گا

شام جب تھک کے در و بام پہ سو جائے گی
اک ستارہ مری پلکوں پہ دکھائی دے گا

رت جگے اونگھتے رہتے ہیں مری آنکھوں میں 
کب زمانہ مری نیندوں کو چٹائی دے گا !

وہ عجب عکس ہے صورت نہیں رکھتا ناصر
آئنہ توڑ کے دیکھو تو دکھائی دے گا
٭٭٭



بام و در کے نشان چلتے ہیں 
دشت میں بھی مکان چلتے ہیں 

خواب زیر زمین بہتے ہیں 
یا پس آسمان چلتے ہیں 

اک خلائے بسیط کے اندر
لا زمان و مکان چلتے ہیں 

اک صدائے عجیب کی جانب
بستیوں کے جوان چلتے ہیں 

کشتیاں رک گئی ہیں ساحل پر
ادھ کھلے بادبان چلتے ہیں 

منزل بے نشان کی جانب
راستے بے تکان چلتے ہیں 

پر تیقن ہے زندگی کا سفر
کیسے کیسے گمان چلتے ہیں 

خواہشوں کی غلام گردش میں 
ہم ملازم سمان چلتے ہیں 

لمحہ بھر کے قیام کی خاطر
کتنی صدیوں کے دان چلتے ہیں 

تم کو رکنا یہاں مبارک ہو
ہم تو اے مہربان، چلتے ہیں ﻿
٭٭٭



اس سے بچھڑے، اسے بھلایا بھی
زندگی بھر وہ یاد آیا بھی

وہ اندھیرے میں چاند لگتا تھا
کتنا روشن تھا اس کا سایا بھی 

اس محبت کے باغ میں دیکھو
بے شجر دھوپ بھی ہے چھایا بھی

اس مرکب کو کون سمجھے گا
آدمی روح بھی ہے کایا بھی

اپنی اپنی ضرورتیں سب کی
جسم موہن ہے اور مایا بھی

ہم ہی ٹھہرے نہ بادباں سمٹے 
اک جزیرہ سفر میں آیا بھی

سر سے جس کے بھی اب ہما گزرے 
شاہ بن تنگ ہے رعایا بھی

بات ساری ہے دل کشائی کی
درد اپنا بھی ہے پرایا بھی

پھر خیالوں میں کھو گیا ناصر
ایک چہرا سا ہاتھ آیا بھی
٭٭٭


ان سے ملنے کی، بات کی صورت
کچھ تو ہو التفات کی صورت

روشنی ہو تو کچھ دکھائی دے 
کیسی ہوتی ہے رات کی صورت

گہری خاکستری اداسی ہے 
ایک لمبی قنات کی صورت 

روشنائی بکھیرنے والے 
اب ہیں خالی دوات کی صورت

راستے چل پڑے تھے ساتھ اپنے 
وقت رخصت برات کی صورت

اپنی بے چہرگی پہ ہنستا ہے 
آئنہ میری ذات کی صورت

آپ اپنے مقابلے میں ہوں 
میں ہی جیتوں گا مات کی صورت

دل میں کرب و بلا کا عالم ہے 
اور آنکھیں فرات کی صورت

کھویا کھویا، بجھا بجھا ناصر
چاند خالی پرات کی صورت
٭٭٭


﻿
جاتے جاتے یہ کرامت بھی دکھاتے جاتے 
شب کی دیوار میں روزن ہی بناتے جاتے 

ہم کو سائے کی اداسی کا خیال آتا ہے 
ورنہ رستے کی یہ دیوار گراتے جاتے 

ہم کو یہ عمر بتانے کی بڑی جلدی تھی
ورنہ اک عمر ترے ساتھ بتاتے جاتے 

ایک دن ہم بھی نکلتے کسی جانب یارو
اور جادو کا کوئی اسپ بھگاتے جاتے 

خوب ہم پھرتے کسی روز زمینوں سے پرے 
آسمانوں کو بھی ساتھ اپنے اڑاتے جاتے 

اپنے ہی ہاتھ سے بنیاد بھی رکھتے اپنی
اپنی مٹی سے در و بام بناتے جاتے 

خانۂ زیست کی تعمیر سدا جاری ہے 
اپنے حصے کی کوئی اینٹ لگاتے جاتے 

لیکتے رہتے مکینوں کو مکاں سے باہر
اور زمانوں میں زماں اور بناتے جاتے 

شور مچ جاتا گماں خانۂ خاموشی میں 
کسی آواز میں آواز ملاتے جاتے 

کوئی ساحل کی طرح ساتھ ہمارے رہتا
ہم سمندر کی طرح شوکتے، گاتے جاتے 

آب دوزوں کو تہہ آب اتارا کرتے 
سطح پر دائرے موجوں کے بناتے جاتے 

خوب کرتے کسی ہم زاد سے جھگڑا ناصر
اپنے ہونے کا تماشا بھی دکھاتے جاتے 
٭٭٭






توڑ کر شاخ مہک دار سے جاتے جاتے 
میرے کالر میں کوئی پھول سجاتے جاتے 

تتلیاں خواب کی آنکھوں میں سجا کر رکھتے 
پھول بستوں میں، کتابوں میں چھپاتے جاتے 

چاند تارے ہیں، چراغوں کا تصور بھی ہے 
شب کی تصویر میں سورج بھی بناتے جاتے 

اتنے تاریک زمانوں کی جھلک ٹھیک نہیں 
روشنی کی بھی کرن کوئی دکھاتے جاتے 

روشنی اتنی تو ہوتی کہ سویرا ہوتا
رات بھر رات کا جنگل ہی جلاتے جاتے 

تم نکلتے تو سہی خانۂ شب سے باہر
ہم چراغوں کو سر آب جلاتے جاتے 

تیری آمد پہ فروزاں کئی سورج کرتے 
سایۂ ابر بھی رستے میں بچھاتے جاتے 

ایک اک موڑ، گلی، راستہ ازبر ہے ہمیں 
عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے 

ہم بھی تاریخ کے اوراق میں ہیرو ہوتے 
ہم بھی کشتوں کے اگر پشتے لگاتے جاتے 

سوچ بن کر تو کبھی خواب، گزر ہی جاتے 
پس دیوار بھی دیوار اٹھاتے جاتے 

منتظر ہوں کسی تعبیر کی حیرانی کا
سوئی آنکھوں میں کوئی خواب جگاتے جاتے 

کوئی حسرت تو نہ رہ جاتی ستم کوشی کی
جاتے جاتے بھی کوئی زخم لگاتے جاتے 

ہم ہیں دریائے محبت کے شناور ناصر
ناؤ کاغذ کی سہی، پار لگاتے جاتے 
٭٭٭



دیکھنے ہوں تو نظارے ہیں بہت
اس زمیں پر بھی ستارے ہیں بہت

رونقیں ہیں شہر کے ہر پارک میں 
پھول، بچے اور غبارے ہیں بہت

ہے محبت کی انوکھی سمفنی
وائلن اور ایک تارے ہیں بہت

جانے کس جانب بہا لے جائے گا
عشق دریا کے کنارے ہیں بہت

لمس کو محسوس کرنا شرط ہے 
پانیوں میں بھی شرارے ہیں بہت

اس محبت کے قدیمی کھیل میں 
جیتنے والے بھی ہارے ہیں بہت

ایک تو ہی درد سے نالاں نہیں 
زندگی میں غم کے مارے ہیں بہت

دور جانے کا بہانہ چاہیئے 
پاس آنے کے اشارے ہیں بہت

دل کا سودا سوچ کر کریو میاں 
نقد کم کم ہیں ادھارے ہیں بہت

جانتا ہوں کاروبار عشق میں 
فائدہ کم ہے خسارے ہیں بہت

خندہ لب، شیریں سخن کمیاب ہیں 
ترش رو، نمکین، کھارے ہیں بہت

شہر کا جنگل عجب ہے دوستو
پیڑ اس میں کم ہیں، آرے ہیں بہت ﻿
٭٭٭



ایک لمحہ نظر اٹھاتا ہوں 
پھر خیالوں میں ڈوب جاتا ہوں 

دیکھ لیتا ہوں بے بدن خود کو
اپنے سائے میں جب سماتا ہوں 

شب کی ڈائن مجھے ڈراتی ہے 
لو چراغوں کی جب بڑھاتا ہوں 

وہ کسی خواب کی حقیقت ہے 
میں جسے دیکھتا ہی جاتا ہوں 

وہ کسی حسن کی ہے پرچھائیں 
میں جسے چھو کے جگمگاتا ہوں 

یہ تو میرا ہی دوسرا رخ ہے 
میں کسے آئنہ دکھاتا ہوں؟

یہ جو چکر ہے کائناتی ہے 
ایک لٹو ہے جو گھماتا ہوں 

بے خیالی سی بے خیالی ہے 
بات کرتا ہوں بھول جاتا ہوں 

اک پرندے میں جان ہے اس کی
اس لئے میں اسے بچاتا ہوں 

جب مجھے نیند آنے لگتی ہے 
ایک سپنے میں جاگ جاتا ہوں 

میں ہوا کو سمیٹ سکتا ہوں 
ڈھیر پتوں کے بھی لگاتا ہوں 

دھول ملتا ہوں، خوب ملتا ہوں 
بارش سنگ میں نہاتا ہوں 

کھود لیتا ہوں اپنی مٹی کو
اپنے پانی میں ڈوب جاتا ہوں 

جو کسی کو نظر نہیں آتا
دیکھ کر اس کو مسکراتا ہوں 

ان پرندوں کو کون سمجھائے 
میں انہیں زیر دام لاتا ہوں 

اتنی عمروں کے بعد آئے ہو
اب رکو در پہ میں بھی آتا ہوں 

تم زمینوں پہ وائلن چھیڑو
میں خلاؤں میں گنگناتا ہوں 

چھوڑ دیتا ہوں بکریاں چرنے 
اور پتھر پہ بیٹھ جاتا ہوں 


وہ مجھے منزلوں سے بھٹکائیں 
میں جنہیں راستہ دکھاتا ہوں 

ڈاک بنگلے میں رات ٹھہری ہے 
چاند کو جھیل پر بلاتا ہوں 

مجھ کو ناصر نہ آزمانا تم
میں جو کہتا ہوں کر دکھاتا ہوں 
٭٭٭



خواب شرمندۂ تعبیر ہوا میرے بعد
سر پہ بیٹھا ہے مرے آ کے ہما، میرے بعد

میں اسی غم میں شب و روز گھلا جاتا ہوں 
کون ڈھونڈے گا مجھے میرے سوا، میرے بعد

ایک جیسا ہے یہاں اور وہاں کا منظر
کوئی اس پار نہ اس پار بچا میرے بعد

ڈھونڈتی رہتی ہیں سورج کی شعاعیں اس کو
ایک سایا پس دیوار چھپا میرے بعد

میرے دم سے تھا طلسم اور تماشا سارا
آئنہ خانہ بھی بے عکس ہوا میرے بعد

گھاس اگ آئی ہے، قدموں کے نشاں ختم ہوئے 
کوئی اس راہ پہ آیا نہ گیا میرے بعد

ایک پتہ بھی کسی پیڑ پہ باقی نہ بچا
موسم گل کا عجب حال ہوا میرے بعد

میں زمینوں کی طرف لوٹ کے آتا نہ کبھی
اس نے حسرت سے مرا نام لیا میرے بعد

ہر طرف شہر میں اک عالم ہو طاری ہے 
بولتے بولتے خاموش ہوا میرے بعد

اب کوئی چاند، نہ دیپک، نہ ہیولا ناصر
کتنی ویران ہوئی خواب سرا میرے بعد
٭٭٭





منزلیں دھول، راستے پتھر
چلتے چلتے قدم ہوئے پتھر

بند ذہنوں کو کھولنا تھا مگر
ہم نے سڑکوں پہ رکھ دیئے پتھر

بدگمانی کے عکس بے چہرہ
بے یقینی کے آئنے پتھر

کانچ کھیتوں میں لہلہاتے ہیں 
سرخ، نیلے، ہرے بھرے پتھر

دکھ کے آثار سب قدیمی ہیں 
گم زمانوں کے رابطے پتھر

ایسے لوگوں کو ڈوبنا ہی تھا
کیسے پانی میں تیرتے پتھر

لوگ ہنستے تھے، سیم و زر کی جگہ
میں نے تھیلے میں جب بھرے پتھر

اک عجب گونج سی سنائی دی
پھر پہاڑی سے گر پڑے پتھر

دیکھ کر پھول میرے ہاتھوں میں 
وہ مجھے مارنے لگے پتھر

جس قدر پھل لگے درختوں پر
اس قدر صحن میں گرے پتھر

یہ کھلونے پلاسٹک کے تھے 
کیسے جادو سے ہو گئے پتھر


کچھ تو گہرائی کا پتہ چلتا
پھینک کر دل میں دیکھتے پتھر

کور چشموں کو اذن دید ملا
دیکھنے والے ہو گئے پتھر

میں نے سپنے میں آئنہ دیکھا 
مجھ کو تعبیر میں ملے پتھر

دنیا خواہش کا سنگ ریزہ ہے 
تم نے دیکھے نہیں بڑے پتھر

تتلیوں کے پروں کی حدت سے 
میں نے دیکھے ہیں ٹوٹتے پتھر

اک مسلسل طلسم ہے گویا
یہ پہاڑی، یہ راستے، پتھر


کھینچ لیتے ہیں روشنی اندر
یہ ستارے، یہ نور کے پتھر

مجھ کو شیشہ مثال لگتے ہیں 
گھر کی دیوار میں لگے پتھر

باغ جاں میں عجب پرندے تھے 
دم نکلتے ہی ہو گئے پتھر

مجھ کو پھر بھوک نے ستایا ہے 
ماں ! مجھے پھر ابال دے پتھر

میں چٹانوں سے بات کرتا ہوں 
میں نے دیکھے ہیں بولتے پتھر

اس کی آنکھوں نے کر دیئے ناصر 
میرے خوابوں کے سلسلے پتھر
٭٭٭



جاگے ہوئے تھے خواب مگر سو رہا تھا میں 
ہاتھوں میں تھی کتاب مگر سو رہا تھا میں 

جب رات اپنے رقص کی دیوانگی میں تھی
نکلا وہ ماہتاب مگر سو رہا تھا میں 

جلتی تھی لالٹین کہیں دور گاؤں میں 
روشن تھا کوئی باب مگر سو رہا تھا میں 

اک خواب گوں سی دھند تھی آنکھوں کی جھیل میں 
سورج تھا زیر آب مگر سو رہا تھا میں 

مجھ کو پکارتے رہے ناصر تمام رات
خوشبو، ہوا، گلاب مگر سو رہا تھا میں 
٭٭٭



دل سے میرے وہ ستم گر نکلا
آئنہ توڑ کے پتھر نکلا

اس کی آنکھوں میں کنارہ تھا کوئی
ڈھونڈنے جس کو سمندر نکلا

تو اگر خواب تھا میرا تو بتا!
کیوں مری نیند سے باہر نکلا

منزلیں ہاتھ کی دوری پہ رہیں 
راستہ پاؤں کا چکر نکلا

پھر ہوئی قید کوئی شہزادی
پھر حویلی سے کبوتر نکلا

ایک دل تھا کہ سر شام بجھا
ایک آنسو تھا کہ جل کر نکلا

زلزلے مجھ میں کچھ ایسے آئے 
اک جزیرہ مرے اندر نکلا

دیکھتی رہ گئیں آنکھیں ناصر
ایسا منظر پس منظر نکلا
٭٭٭






ظلم و نفرت کے جال میں گم ہے 
شہر اپنے زوال میں گم ہے 

دکھ سے مخلوق آبدیدہ ہے 
خالق اپنے کمال میں گم ہے 

کیسی کیسی عجیب شکلیں ہیں 
آئنہ کس وبال میں گم ہے 

ناچتا ہے فقیر میلے میں 
بھیڑ اس کی دھمال میں گم ہے 

اس کے قدموں کی دھول ہے منزل
راستہ اس کی چال میں گم ہے 

پر تیقن ہے زندگی لیکن 
ساعت احتمال میں گم ہے 

ایک آتش مزاج بجلی سا
پانیوں کے وصال میں گم ہے 

سر جھکائے کھڑے ہیں درباری
شہ غنیمت کے مال میں گم ہے 

پھینکنے والا جا چکا کب کا
بال اب تک "اچھال" میں گم ہے 

آئنہ دیکھتا ہے حیرت سے 
صورت اپنے جمال میں گم ہے 

اب کسی کو کسی کی فکر نہیں 
ہر کوئی اپنے حال میں گم ہے 

کیا خبر اس ہجوم میں ناصر
کون کس کے خیال میں گم ہے 

اس سے ملنے کا ایک دن ناصر
گردش ماہ و سال میں گم ہے 
٭٭٭






عکس ٹوٹا ہے بارہا میرا
ایک پتھر ہے آئنہ میرا

ساری دنیا مری مخالف ہے 
ایک بچہ ہے ہم نوا میرا

تیز بارش کا میں پرندہ ہوں 
بادلوں میں ہے گھونسلا میرا

پوچھ لینا کسی پرندے سے 
سب کو معلوم ہے پتہ میرا

گھر میں مہماں ہوئی ہے تنہائی
بھر گیا ہے برآمدہ میرا

دو چراغوں سے رات روشن ہے 
ایک تیرا ہے دوسرا میرا

اوپر اوپر سے ٹھیک لگتا ہے 
زخم اندر سے ہے ہرا میرا

میری ترکیب میں ہے سچائی
کون چک ہے گا ذائقہ میرا

ہونے لگتی ہے بات جب خود سے 
ٹوٹ جاتا ہے رابطہ میرا

کونے کھدرے بھی خوب روشن ہیں 
حجرۂ ذات ہے کھلا میرا

تیری جانب ہی پاؤں اٹھتے ہیں 
جب بھی چلتا ہے نقش پا میرا

مجھ پہ دیوار گر پڑی اپنی
سایہ سائے پہ آ گرا میرا

ایک پرکار کے سمٹتے ہی
پھیل جاتا ہے دائرہ میرا

ایک ٹھوکر سے ٹوٹ جائے گا
جسم فانی ہے بھربھرا میرا

تم زمینوں کو ناپتے رہنا
کائناتی ہے فاصلہ میرا

تھک کے واپس چلا گیا ناصر
عین منزل سے راستہ میرا
٭٭٭




ہم سمندر میں گم ہوئے سچ مچ
اور صحرا میں تم ہوئے سچ مچ

اپنی تاریخ سے بچھڑ کر ہم
راہ میں نقش سم ہوئے سچ مچ

گردش خواب کے مناظر میں 
سرخ چڑیا کی دم ہوئے سچ مچ

جتنے الفاظ تھے، ہوئے تاریک
رنگ عیسی کا خم ہوئے سچ مچ

اس کو بدلے میں قتل ہونا پڑا
جس کے کہنے پہ "قم" ہوئے سچ مچ
٭٭٭






یہ جسم نہیں بدلا، سایا بھی نہیں بدلا
درویش ہوئے ایسے چولا بھی نہیں بدلا

غم خانۂ ہستی میں ہر چیز پرانی ہے 
آنکھیں بھی وہی اپنی، سپنا بھی نہیں بدلا

گھر بار بدل ڈالا تعمیر کے نشے میں 
کھڑکی نہیں بدلی دروازہ بھی نہیں بدلا

یادوں کے دریچے میں ہے چاند وہی روشن
منظر بھی نہیں بدلا، چہرہ بھی نہیں بدلا

کیوں عشق کے قصے میں شیریں نہ رہی باقی
فرہاد نہیں بدلا، تیشہ بھی نہیں بدلا

بازار محبت میں یوسف کی وہی قیمت
دھاگے کی وہی انٹی، چرخہ بھی نہیں بدلا

عمروں کے منا جاتی ہم بھی ہیں وہی پاپی
میدان قیامت کا نقشہ بھی نہیں بدلا

اک ہجر مسلسل میں یہ وقت بھی جامد ہے 
صدیاں بھی نہیں گزریں، لمحہ بھی نہیں بدلا

کس طرح بدلتے ہیں کچھ لوگ تعلق کو
ہم نے تو محبت میں کمرہ بھی نہیں بدلا

منصور بھی زندہ ہے، سقراط بھی زندہ ہے 
اس مئے صداقت کا نشہ بھی نہیں بدلا

ما بعد قیامت بھی ہر چیز سلامت ہے 
اللہ کی قدرت ہے ذرہ بھی نہیں بدلا

ہر نسل کا اپنا ہی انداز ہے جینے کا
بچے بھی نہیں بدلے، پاپا بھی نہیں بدلا

کہنہ ہے بہاؤ بھی، کشتی بھی، کنارہ بھی
دریا نے روانی میں رستہ بھی نہیں بدلا

دنیا میں ہمیشہ سے دونوں چلے آتے ہیں 
جھوٹا بھی نہیں بدلا، سچا بھی نہیں بدلا

تاریخ کا پہیہ بھی حرکت میں سدا سے ہے 
انہونی کے ہونے کا دھڑکا بھی نہیں بدلا

اک عمر فرشتوں کو حیران کئے رکھا
زندہ بھی وہی ناصر، مردہ بھی نہیں بدلا
٭٭٭




بادباں کھلتے ہی ٹھہرے پانیوں پر ایک انجانے سفر کا سلسلہ تحریر تھا
الوداعی ہاتھ لہرانے سے آنکھوں کے پگھلنے تک کا منظر کرب کی تصویر تھا

جن کی بینائی کا سورج بجھ چکا تھا وہ ہیولوں کے نگر میں بے تماشا رہ گئے 
دیکھنے والوں نے دیکھا عکس کوئی آئنوں اور حیرتوں کے درمیاں زنجیر تھا
٭٭٭




کائناتی ہیں سلسلے سارے 
یک نقاطی ہیں مرکزے سارے 

ایک کونے میں جا کے ملتے ہیں 
لامکانوں کے زاویے سارے 

ایک منزل پہ آ کے رکتے ہیں 
ہر طرف سے یہ راستے سارے 

ایک جیسی ہے روشنی سب کی
ایک جیسے ہیں یہ دیئے سارے 

ایک مٹی ہے ایک پانی ہے 
نقش فانی ہیں ایک سے سارے 

ایک مرکز ہے ہر گھماؤ کا
ایک مرکز میں دائرے سارے 

ایک چہرے کی ضو فشانی میں 
عکس و معکوس گم ہوئے سارے 

ایک بے چہرگی کا عالم ہے 
ایک حیرت میں آئنے سارے 

ایک پنگھٹ ہے، اک مسافر ہے 
ایک گوری کے ہیں گھڑے سارے 

ایک دریا ہے دو کنارے ہیں 
ایک کشتی میں بھر گئے سارے 

ایک جگنو ہے ایک جھاڑی ہے 
ایک شعلے کے ترمرے سارے 

کتنے سادھو، مہاتما، یوگی
ایک جنگل میں آ بسے سارے 

اک حقیقت کا سامنا ہے مجھے 
اک حقیقت کو پا چکے سارے 

ایک ٹھوکر پہ ساری دنیا تھی
ایک کھڈے میں جا گرے سارے 

ایک خواہش کے سب اسیر ہوئے 
ایک دھوکے میں آ گئے سارے 

ایک جادو سے آ گئے واپس
ایک منتر سے چھو ہوئے سارے 

اک گرہ اور گنجلک اتنی
ایک ڈوری کے ہیں سرے سارے 

ایک پتھر کی مہربانی ہے 
پا فگاروں کے آبلے سارے 

ایک کٹیا ہے اور شہزادہ
اک محبت نے دکھ دیے سارے 

اک محبت کی آبیاری ہے 
ایک پھل کے ہیں ذائقے سارے 

ایک دوزخ ہے پیٹ بھی ناصر
ایک لقمے پہ لڑ پڑے سارے ‬
٭٭٭



ایک صورت ہے سب زمانوں کی
شکل بدلی ہے بس مکانوں کی

شور کرتی، اچھلتی دنیا میں 
کون سنتا ہے بے زبانوں کی

فکر رہتی ہے تیز بارش میں 
خستہ حالت ہے کچھ مکانوں کی

قصۂ زیست مختصر ہے مگر
بات لمبی ہے کچھ فسانوں کی

دکھ اٹھائے عظیم لوگوں نے 
دکھ میں عظمت ہے دو جہانوں کی

دل کی دنیا عجیب دنیا ہے 
ایک حیرت ہے داستانوں کی

کائناتوں سے ہم نہیں ڈرتے 
قید مشکل ہے خاکدانوں کی

اب زمانہ ہے آبدوزوں کا
کیا ضرورت ہے بادبانوں کی

اجنبی ہے مسافروں کے لئے 
اجنبیت ۔ جہاز رانوں کی

ایک "یوٹوپیے " پہ اڑ جانا
خو پرانی ہے نوجوانوں کی

اس حقیقت کو کون سمجھے گا
ساری دنیا ہے خوش گمانوں کی

تخت خاکی پہ بیٹھ کر ناصر
سیر کرتے ہیں آسمانوں کی
٭٭٭


رات کی آنکھیں نیند سے بوجھل، خواب کہاں تک جاگیں گے 
سوئے شہر، ٹھکانے، جنگل، خواب کہاں تک جاگیں گے 

برسوں کی تنہائی میں تو یادیں بھی تھک جاتی ہیں 
کھیل، کتابیں، گلیاں، پیپل، خواب کہاں تک جاگیں گے 

ایک اک کر کے جگنو، تارے، دیپ، پتنگے راکھ ہوئے 
رات کی رانی، خوشبو، صندل خواب کہاں تک جاگیں گے 

اک دن ہم دونوں بھی گہری نیند کے غش میں اتریں گے 
اور ہمارے ساتھ یہ نرپھل خواب کہاں تک جاگیں گے 

دھوپ نے سارے رنگ مٹا کر پیلی سیج سجائی ہے 
اس ماحول میں سندر، کومل خواب کہاں تک جاگیں گے 

عمروں کے جگراتے ناصر کب آنسو بن جائیں گے 
کب پگھلے گا دکھ کا پیتل، خواب کہاں تک جاگیں گے
٭٭٭




کون سی آنکھ ٹھکانہ ہے ترا 
کون سی نیند بہانہ ہے ترا

کون سے دل میں اترنا ہے تجھے 
کون سا زخم نشانہ ہے ترا

کون سا جسم ترا مرقد ہے 
کون سا لمس خزانہ ہے ترا

خواہش مرگ کے سناٹے میں 
کون سا اسم ترانہ ہے ترا

کس مداوے کی ہے ارداس تجھے 
کون سا روگ پرانا ہے ترا

کون سی سطر کہانی ہے تری
کون سا باب فسانہ ہے ترا

کون سی صبح تری منطق ہے 
کون سا علم شبانہ ہے ترا

کون سی نسل تجھے دیکھے گی
کون سا عہد زمانہ ہے ترا
٭٭٭



ستارہ شام سے نکلا ہوا ہے 
دیا بھی طاق میں رکھا ہوا ہے 

کہیں وہ رات بھی مہکی ہو ئی ہے 
کہیں وہ چاند بھی چمکا ہوا ہے 

ابھی وہ آنکھ بھی سوئی نہیں ہے 
ابھی وہ خواب بھی جاگا ہوا ہے 

کسی بادل کو چھو کر آ رہی ہے 
ہوا کا پیرہن بھیگا ہوا ہے 

زمیں بے عکس ہو کر رہ گئی ہے 
فلک کا آئنہ دھندلا ہوا ہے 

خموشی جھانکتی ہے کھڑکیوں سے 
گلی میں شور سا پھیلا ہوا ہے 

ہوا گم صم کھڑی ہے راستے میں 
مسافر سوچ میں ڈوبا ہوا ہے 

کوئی نیندوں میں خوشبو گھولتا ہے 
دریچہ خواب کا مہکا ہوا ہے 

کسی گزرے برس کی ڈائری میں 
تمہارا نام بھی لکھا ہوا ہے 

چراغ شام کی آنکھیں بجھی ہیں 
ستارہ خواب کا ٹوٹا ہوا ہے 

سفر کی رات ہے ناصر، دلوں میں 
عجب اک درد سا ٹھہرا ہوا ہے ‬
٭٭٭



ہجر کا چاند منور ہو گا
کوئی دور سفر پر ہو گا

سب دروازے باہر ہوں گے
ایک دریچہ اندر ہو گا

پیلی پتھریلی آنکھوں میں
نیلا کانچ سمندر ہو گا

خوابوں کی تنہائی ہو گی
سورج عین سروں پر ہو گا

دیپ جلیں یا جگنو چمکیں
شب کا رقص برابر ہو گا

خواب پگھل کر جم جائیں گے
کمرہ برف دسمبر ہو گا

کوئی کنارا ڈھونڈ رہا ہے
دریا پار سمندر ہو گا

خاموشی کی آڑ میں ناصر
آوازوں کا لشکر ہو گا
٭٭٭





میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جو
وہ کون سا ہے پھول کہ باغوں میں نہیں جو

پانی میں، زمینوں پہ، ہوا میں اسے کھو جا
وہ کیسا نشاں ہے کہ سراغوں میں نہیں جو

ہوتی ہے کسی دیدۂ نمناک کی لو سے
وہ روشنی کیسی ہے چراغوں میں نہیں جو

اس محفل احباب کی سرشاری عجب ہے
وہ مے بھی چھلک جائے ایاغوں میں نہیں جو

رنگت ہی نہیں، آب و ہوا کو بھی تو دیکھو
بگلوں میں کوئی بات ہے زاغوں میں نہیں جو

اک کار مسلسل ہے اسے چاہتے رہنا
لطف اس کا لگاتار ہے ناغوں میں نہیں جو

دیکھو نہ مرا جسم، مری روح جلی تھی
یہ داغ ہے وہ جلد کے داغوں میں نہیں جو

ناصر ہیں عجب بولیاں طاؤس زماں کی
اشجار کے پر غول کلاغوں میں نہیں جو
٭٭٭


زندگانی میں بہے جاتے ہیں
رائگانی میں بہے جاتے ہیں

موجۂ غم سے گزر آئے ہیں
شادمانی میں بہے جاتے ہیں

درد کی آگ جلا لیتے ہیں
اور پانی میں بہے جاتے ہیں

پہلے بچپن لیے جاتا ہے ہمیں
پھر جوانی میں بہے جاتے ہیں

عرصۂ عمر گزار آئے ہیں
بے زمانی میں بہے جاتے ہیں

عمر فانی سے لگا کر شرطیں
جاودانی میں بہے جاتے ہیں

ساحلوں اور جزیروں سے پرے
گہرے پانی میں بہے جاتے ہیں

اس کو لفظوں کی ادا سے مطلب
ہم معانی میں بہے جاتے ہیں

خیر سوکھے ہوئے دریاؤں کی
کس روانی میں بہے جاتے ہیں

آسماں تان کے سر پر، بادل
بے کرانی میں بہے جاتے ہیں

ہم کو معلوم نہیں راہ مگر
اک نشانی میں بہے جاتے ہیں

اصل کردار سے ہٹ کر ناصر
سب کہانی میں بہے جاتے ہیں
٭٭٭






وعدہ رہا مابعد سفر آؤں گا میں بھی
تم چھوڑ کے جانا نہ نگر، آؤں گا میں بھی

سبزے سے بھرے کھیت ملاقات پہ لانا
پھولوں سے بھرا لے کے شجر آؤں گا میں بھی

جس روز کناروں نے مجھے رو کے پکارا
تم دیکھنا دریاؤں میں بھر آؤں گا میں بھی

جس روز اتارے گا مجھے میرا قبیلہ
اس روز پہاڑوں سے اتر آؤں گا میں بھی

ہر بار سمندر میں ڈبوئیں گے مجھے وہ
ہر بار جزیروں میں ابھر آؤں گا میں بھی

میں بھی تو ترے ساتھ کسی خواب میں ہوں گا
تعبیر سے پہلے ہی بکھر جاؤں گا میں بھی

میں تیرے تعاقب میں لگا رہتا ہوں ناصر
جس راہ سے گزرے گا، گزر آؤں گا میں بھی
٭٭٭


شاخ، ہریالی، ثمر موجود ہے
ہر پرندے میں شجر موجود ہے

گھومتا رہتا ہوں اپنے آپ میں
میری مٹی میں بھنور موجود ہے

آئنے میں عکس ہے نادید کا
عکس میں اس کی نظر موجود ہے

روح دائم ہے مگر قائم نہیں
جسم فانی ہے مگر موجود ہے

پیش پا ہے اک مقام لاپتا
راستہ غائب سفر موجود ہے

مٹ گئی تصویر اس کے ظلم کی
کینوس پر اس کا ڈر موجود ہے

رفتہ رفتہ گر گیا سارا مکاں
اک دریچہ، ایک در موجود ہے

سب گئے، دربار خالی ہو گیا
طشتری میں ایک سر موجود ہے

بھیگ جاتا ہے بدن کا آسماں
بادلوں میں چشم تر موجود ہے

بارشوں میں جل رہے ہیں بے دھواں
پانیوں میں بھی شرر موجود ہے

ڈوبتا جاتا ہے کشتی میں بدن
ہو نہ ہو کوئی حجر موجود ہے

ہے بظاہر بے نشان و بے صدا
ہر ڈگر میں اک نگر موجود ہے

وہ تو جانے اب کہاں ہو گا مگر
راستے میں اس کا گھر موجود ہے

ہر طرف ہیں حادثات و واقعات
جس طرف جائیں خبر موجود ہے

موت سے بدتر ہوئی ہے زندگی
پھر بھی جینے کا ہنر موجود ہے

بوتلوں میں جسم ناصر قید ہیں
ہم پہ جادو کا اثر موجود ہے
٭٭٭





بے نام و بے نشان ہیں پیچھے پڑے ہوئے
کچھ لوگ، میری جان! ہیں پیچھے پڑے ہوئے

بیٹھا ہوں جب سے ایک ستارے کے روبرو
روشن سے دو جہان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

آگے ہیں لازمان مجھے گھورتے ہوئے
پیچھے بھی کچھ زمان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

لفظوں کو توڑ تاڑ کے کرتا ہوں شاعری
اور ماہر زبان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

منزل تو راستے میں کہیں دور تک نہیں
قدموں کے کچھ نشان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

فرصت ملے تو فکر بہشت بریں کروں
دنیا میں امتحان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

اک دن لباس جسم سے پیچھا چھڑا بھی لو
کپڑوں کے کتنے تھان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

اس سنگ بے مثال سے خطرہ نہیں مجھے
کچھ آئنہ دہان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

اتنے بڑے ہجوم تیقن میں " خواہ مخواہ "
دو چار بدگمان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

لا سمت کائنات میں کب تک بچے کوئی
ہر سمت خاکدان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

سب کو وہ گھیر گھار کے لائے گا سامنے
جتنے بھی دیدبان ہیں پیچھے پڑے ہوئے


مجھ کو سمندروں کے سفر کا نہیں ہے شوق
لیکن جہاز ران ہیں پیچھے پڑے ہوئے

ساحل پہ لہریں آ کے پکڑتی ہیں پاؤں کو
کشتی میں بادبان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

یادوں کے سبزہ زار میں آئی ہے کیا بہار
چہروں کے پھولدان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

نکلی نہیں ہے دھوپ بھی بادل کی اوٹ سے
جب سے یہ سائبان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

ممکن ہے آ ہی جاؤں نشانے کی زد پہ اب
جنگل کے سب مچان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

صدیوں کی تیرگی ہے تو صدیوں میں جائے گی
صدیوں سے کچھ گمان ہیں پیچھے پڑے ہوئے


کوہ ندا کا راستہ، کاہن، دکھا بھی دے
بستی کے نوجوان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

جو اصل گفتگو ہے وہ سنتا نہیں کوئی
بے ربط سے بیان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

وہ شور ہے کہ کچھ بھی سنائی نہ دے مجھے
خاموش، بے زبان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

اب تک کسی خیال کی تجسیم بھی تو ہو
صدیوں سے گیان دھیان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

آغاز کی ہے فکر نہ انجام کی مجھے
لیکن جو درمیان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

اک جھونپڑی مری خس و خاشاک کی مگر
اینٹوں کے کچھ مکان ہیں پیچھے پڑے ہوئے


آیا ہوں بچ بچا کے ترے شہر سے مگر
یادوں کے تابدان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

ہے قوت خرید مری صفر سے بھی کم
اور مالک دکان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

کہتے ہیں آسمان کی چھت پر چڑھائیں گے
خوش فہم نردبان ہیں پیچھے پڑے ہوئے

ناصر مکان جاں سے نکلنا پڑے گا اب
سب اہل خاندان ہیں پیچھے پڑے ہوئے
٭٭٭



مضمحل خواب دیکھنے والے
تیرہ بل خواب دیکھنے والے

ہم ہیں عادی طویل راتوں کے
"مستقل خواب دیکھنے والے"

رینگتے ہیں زمیں پہ گل خورے
تو بھی ہل خواب دیکھنے والے

جان لیتے ہیں آنکھوں آنکھوں میں
راز دل خواب دیکھنے والے

ہر عدالت میں ہار جاتے ہیں
بے سجل خواب دیکھنے والے

آسمانوں پہ اڑتے رہتے ہیں
زیر گل خواب دیکھنے والے

سوچتا ہے دماغ تعبیریں
چشم و دل خواب دیکھنے والے

پیس ڈالے گی زندگی تجھ کو
زیر سل خواب دیکھنے والے

دیکھنے والے سو نہیں سکتے
رخ پہ تل خواب دیکھنے والے

اب تو ہر وقت ساتھ رکھتے ہیں
تیر و شل، خواب دیکھنے والے

جاگ جائیں گے، چپ رہو ناصر
سن کے چل، خواب دیکھنے والے
٭٭٭



خواب بچپن میں لے گیا مجھ کو
ایک بوڑھا وہاں ملا مجھ کو
 
دیکھ آیا ہوں آئنے سارے
کوئی چہرہ بھی اب دکھا مجھ کو
 
کیوں گرایا تھا آسمانوں سے
آ نشیبوں سے اب اٹھا مجھ کو
 
اے پرندے! بڑا تجسس ہے
ساتھ اپنے کبھی اڑا مجھ کو
 
پرزے پرزے تو کر دیئے میرے
مثل تصویر، اب جلا مجھ کو
 
اس نے خوشبو بنا کے چھوڑ دیا
اب اڑاتی پھرے ہوا مجھ کو
 
دیکھ مجھ میں شرار کتنے ہیں
پانیوں میں کبھی ملا مجھ کو
 
آپ ہی اپنا ہو گیا دشمن
راس آیا نہ ارتقا مجھ کو
 
مجھ میں زندہ ہزار روحیں تھیں
کھا گیا جسم کا خلا مجھ کو
 
سارے اسباق کر لیے ازبر
ابجد عشق بھی پڑھا مجھ کو
 
جسم کی اوٹ سے نکلتے ہی
اک ہیولے نے آ لیا مجھ کو
 
راز ڈوبے ہوئے جزیروں کے
اے سمندر! کبھی بتا مجھ کو
 
بھول جاتا ہوں غم جہانوں کے
کوئی دیتا ہے جب دعا مجھ کو
 
دھوپ شدت کی تھی جہاں ناصر
سایہ اپنا وہاں ملا مجھ کو
٭٭٭



پس تصویر ہی دکھا مجھ کو
کارنس پر مگر سجا مجھ کو
 
کیوں بنایا تھا مجھ کو مٹی سے
چاک ہستی پہ اب گھما مجھ کو
 
سرمئی بارشوں کو کھڑکی سے
اچھا لگتا ہے دیکھنا مجھ کو
 
کوئی دیوار ہے نہ دروازہ
گھر ملا کس قدر کھلا مجھ کو
 
اک شگوفے کا میں نے سوچا تھا
اس نے پھولوں سے بھر دیا مجھ کو
 
پینٹ سے آسماں کے کینوس پر
بادلوں کی طرح بنا مجھ کو
 
پھوٹ نکلا ہوں خواب کے اندر
اپنی آنکھوں سے اب بہا مجھ کو  
 
دیو زادے کی جان ہے جس میں
وہ پرندا کبھی دکھا مجھ کو
 
سارا جنگل تھا گھات میں لیکن
اک درندے نے کھا لیا مجھ کو
 
پہلے کہتا تھا یاد رکھنا سدا
اب وہ کہتا ہے بھول جا مجھ کو
 
خود نمائی کی اس کو عادت ہے
منہ دکھاتا ہے آئنہ مجھ کو
 
میں زمانوں کا خواب ہوں ناصر
جب نہ ہوں گا تو دیکھنا مجھ کو
٭٭٭



پہلے سر پر ردا سنبھالتی ہے
پھر وہ ناری گھڑا سنبھالتی ہے
 
لفظ لکھا ہوا سنبھالتی ہے
ڈائری دکھ مرا سنبھالتی ہے
 
اڑنے لگ جاؤں ایک بار اگر
پھر تو مجھ کو ہوا سنبھالتی ہے
 
اپنی فطرت ہی معجزاتی ہے
پانیوں پر دیا سنبھالتی ہے
 
عکس محفوظ ہیں کناروں پر
آبجو آئنہ سنبھالتی ہے
 
روتی آنکھوں سے پوچھ لے کوئی
کتنا پانی گھٹا سنبھالتی ہے
 
ٹوٹ کر جب بکھرنے لگتا ہوں
میری مٹی ہوا سنبھالتی ہے
 
یوں سنبھل کر زمین چلتی ہے
جیسے سر پر خلا سنبھالتی ہے
 
مجھ سے اچھی تو ایک چیونٹی ہے
میرا چھوڑا ہوا سنبھالتی ہے
 
سوچتا ہوں کہ بھیگی آنکھوں میں
وقت رخصت وہ کیا سنبھالتی ہے
 
اک دریچے کو بیل تھامے ہے
اک دریچہ ہوا سنبھالتی ہے
 
زندگی کے حقیر لمحوں میں
آدمی کو انا سنبھالتی ہے
 
گرنے لگتا ہوں چپ کی کھو میں جب
مجھ کو میری صدا سنبھالتی ہے
 
روشنی کی عجیب منطق ہے
تیرگی میں دیا سنبھالتی ہے
 
خواب رکھتی ہے یا دعائیں، ماں
جانے گٹھڑی میں کیا سنبھالتی ہے
٭٭٭






زندگانی میں بہے جاتے ہیں
کس گرانی میں بہے جاتے ہیں
 
تھام کر ہاتھ ندی نالوں کا
رائیگانی میں بہے جاتے ہیں
 
موجۂ غم سے گزر آئے ہیں
شادمانی میں بہے جاتے ہیں
 
درد کی آگ جلا لیتے ہیں
اور پانی میں بہے جاتے ہیں
 
پہلے بچپن لیے جاتا ہے ہمیں
پھر جوانی میں بہے جاتے ہیں
 
عرصۂ عمر گزار آئے ہیں
بے زمانی میں بہے جاتے ہیں
 
عمر فانی سے لگا کر شرطیں
جاودانی میں بہے جاتے ہیں
٭٭٭




پھولوں کا پیغام عجب تھا
تتلی کا انجام عجب تھا  
 
جن پر اپنے نام کھدے تھے
ان پیڑوں کا نام عجب تھا
 
خاموشی سر پیٹ رہی تھی
گلیوں میں کہرام عجب تھا
 
آتی جاتی لہریں گننا
قید انوکھی، کام عجب تھا
 
چاند جہاں پر جھک جاتا تھا
دور کہیں وہ بام عجب تھا
 
دیواروں پر خود رو بیلیں
آنگن میں اک پام عجب تھا
 
چاند نگر کا رستہ ناصر
پوچھ رہی تھی شام، عجب تھا
٭٭٭





گہری خاموشیوں میں اتری تھی
اک صدا گنبدوں میں اتری تھی
 
سب گھروں میں چراغ روشن تھے
رات جب بستیوں میں اتری تھی
 
ایک سیدھی لکیر سی خواہش
ان گنت دائروں میں اتری تھی
 
آنکھ یادوں کی ریل گاڑی سے
بھاگتے منظروں میں اتری تھی
 
پھر نہ دیکھا گیا کوئی منظر
اک کرن آئنوں میں اتری تھی
 
وقت کی آخری شناسائی
اجنبی ساعتوں میں اتری تھی
 
کاغذی کشتیاں لیے ناصر
زندگی پانیوں میں اتری تھی
٭٭٭


دور ہی دور سے اک خواب دکھائی دے گا
کوئی جاگا ہوا عمروں کا دہائی دے گا
 
نسل در نسل یہی آس چلی آتی ہے
کوئی آئے گا ہمیں دکھ سے رہائی دے گا
 
شام جب تھک کے در و بام پہ سو جائے گی
اک ستارا مری پلکوں پہ دکھائی دے گا
 
رت جگے اونگھتے رہتے ہیں مری آنکھوں میں
کب زمانہ مری نیندوں کو چٹائی دے گا
 
وہ عجب عکس ہے صورت نہیں رکھتا ناصر
آئنہ توڑ کے دیکھو تو دکھائی دے گا
٭٭٭




فاصلوں کے حصار میں رہنا
عمر بھر رہگزار میں رہنا
 
یا دلوں میں گمان کی صورت
یا کسی اعتبار میں رہنا
 
چاروں جانب ہوا کے پہرے ہیں
اے پرندو! قطار میں رہنا
 
میں کسی شام لوٹ آؤں گا
تم مرے انتظار میں رہنا
 
دن گھنے پاپلر کی چھاؤں میں
شام جلتے چنار میں رہنا
 
پی کے ہر شام زہر خوابوں کا
رت جگوں کے خمار میں رہنا
 
دکھ کے قصے طویل ہیں ناصر
بات کے اختصار میں رہنا
٭٭٭


رنگ اس کے تھے، گلاب اس کے تھے
میرے دیکھے ہوئے خواب اس کے تھے
 
میرا تو کام فقط لکھنا تھا
لفظ اس کے تھے نصاب اس کے تھے
 
منزلیں اس کے تعاقب میں تھیں
راستے اس کے، سراب اس کے تھے
 
جس کی چاہت میں مجھے پیاس ملی
بارشیں اس کی، سحاب اس کے تھے
 
وہ ہر اک عکس میں اترا ناصر
آئنے زیر عتاب اس کے تھے
٭٭٭






نہ آسماں نہ زمیں پر، کہاں گرا آخر
مرے وجود کا پتھر کہاں گرا آخر
 
افق کے پار تو کچھ بھی دکھائی دیتا نہیں
نظر سے ٹوٹ کے منظر کہاں گرا آخر
 
میں ابر خواب تھا آنکھوں میں جا بسا اس کی
وہ اشک تر، وہ سمندر کہاں گرا آخر
 
بچھڑ کے خود سے میں خود کو کہاں تلاش کروں
میں اپنے آپ سے باہر کہاں گرا آخر
 
لہو کی دھار ہے، مقتول بھی ہے، قاتل بھی
رگوں کو کاٹ کے خنجر کہاں گرا آخر
 
فرشتے ڈھونڈتے پھرتے ہیں جسم آدم کو
کہ آب و خاک کا پیکر کہاں گرا آخر
 
میں بھول جاتا ہوں ٹھوکر کہاں لگی مجھ کو
میں بھول جاتا ہوں اکثر کہاں گرا آخر
 
یہ کائنات مسلسل اسی تلاش میں ہے
محیط چھوڑ کے محور کہاں گرا آخر
 
کوئی نہ دیکھ سکا رات کے اندھیرے میں
وہ ماہتاب منور کہاں گرا آخر
 
تمام شہر کی آنکھیں تلاش کرتی ہیں
میں ایک خواب کے اندر کہاں گرا آخر
 
مکاں تو مل گیا ملبے کے ڈھیر میں ناصر
مگر جو دل میں تھا وہ گھر کہاں گرا آخر
٭٭٭



اپنا ہر ایک خواب پرندہ لگے مجھے 
کھڑکی کے پار دیکھنا اچھا لگے مجھے 

اندر کی بارشوں نے ڈبویا ہے اس طرح
اب ہاتھ کی لکیر بھی دریا لگے مجھے 

مجھ کو محبتوں نے سمندر بنا دیا
اب وہ اداسیوں کا جزیرہ لگے مجھے 

ہر شام سرخرو ہے کسی زخم کے طفیل
ہر اشک ٹوٹتا ہوا تارا لگے مجھے 

اس کی نظر میں اگلے زمانوں کا عکس ہے 
وہ بھی ہجوم شہر میں تنہا لگے مجھے ‬
٭٭٭

ماخذ:
http://www.facebook.com/profile.php?id=100001544169182&sk=notes
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
