﻿

   

داغ داغ اُجالے


ڈاکٹر ابنِ فریدؔ  کے  منتخب افسانے 

 



 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیٰم
حرفِ چند              

                  اللہ سبحانہ تعالیٰ نے  انسان کو بے  شمار نعمتوں  سے  سرفراز کیا ہے!  ان میں  بلا شبہ ماں  باپ سے  افضل نعمت کوئی نہیں۔ مگر ساس سسُر کی شکل میں  ماں  باپ کی جیسی محبت مل جائے  تو سمجھئے  کہ گویا زندگی نے  آپ پر دہرا احسان کیا ہے۔ مجھے  اس اعتبار سے  دوہری خوشی کا شرف حاصل رہا۔ حالانکہ ہمارا ساتھ بہت کم وقت کا تھا۔ ڈھائی سال کے  اس مختصر عرصے  میں  بلا شبہ ان کی صحبت میں بہت کچھ سیکھنے  اور پڑھنے  کا موقعہ ملا۔ 
              ان کے  انتقال مئی ۲۰۰۳ءنے  ہمیں  بہت سی آزمائشوں  میں  ڈال دیا۔ جن میں  سب سے  بڑی آزمائش یہ تھی کہ ابو ّ مرحوم کی تقریباً ۹ کتابیں  جو براہِ راست انہوں نے اپنے  کمپیوٹر پر خود کمپوز کی تھیں۔ اس کمپیوٹر سمیت غارت ہو گئیں  جس پر وہ لکھی گئی تھیں۔ جن دوستوں  کو اتنی اہم ذمہ داری سونپی تھی کہ ایک ایک کر کے  انہیں  شائع کروا دیں۔ انہوں  نے  اسے  لا پرواہی کی نظر کر دیا؟اور ابو ّ کی دن رات کی محنت اور انکی زندگی بھر کے  ادبی تجربوں  پر پانی پھیر دیا۔ انا ّ للہ وانا ّ۔ ۔ ۔ ۔  
            جن کتابوں  کے  بارے  میں  ابو ّ نے  مجھ سے  بات کی تھی اور جو  تقریباً مکمل تھیں  اور اشاعت کے  لئے  بھیجی جانا تھیں۔ ان میں ’’مراسلاتِ مہدی حسن‘‘۔ ۔ ’’ اعترافِ جذبیؔ ‘‘  اور ’’ مغربی نو مسلم خواتین‘‘ وغیرہ شامل تھیں۔ اس نقصان کی تلافی ممکن نہیں۔ 
           سرِ دست جو کچھ مواد یہاں  وہاں  سے  کاغذوں  اور ڈسک وغیرہ سے  بر آمد ہو سکا وہ آپ قارئین کی خدمت میں  حاضر ہے۔ ان میں  سے  بعض افسانے  ابو ّ کے  شائع شدہ افسانوی مجموعوں ’’ میں  کا تعاقب‘‘۔ ۔ ’’خوں  آ شام‘‘ ( فسادات پر یک موضوعی افسانے )۔ ۔ اور ’’یہ جہاں  اور ہے  ‘‘میں  شامل ہیں، باقی نئے  ہیں۔ کچھ ادھورے  بھی ہیں۔ وہ محض ان کے  آخری وقت کے  احساسات کی ترجمانی کرتے  ہیں  اسلئے  انہیں  اسی شکل میں  شامل کر لیا ہے۔ ایک افسانے  کا ذکر ضرور کرنا چاہتی ہوں  ابو ّ اس پر انتقال کے  وقت بہت سوچ رہے  تھے  بلکہ ان دنوں  وہ دن رات اسی افسانے  کے  ساتھ بسر کر رہے  تھے۔ مجھے  اس کا نام ’’ آخری نیند‘‘ بتا کر معلوم کرنے  لگے  کیسا ہے ؟۔ ۔ ۔ میں  نے  کہا ’’ بہت اچھا ہے  ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ مجھے  اس کے  متعلق اور کچھ نہیں  کہا، لیکن میں  جانتی ہوں  کہ اگر زندگی نے  انہیں  مہلت دی ہوتی تو یقیناً یہ امی ّ جنھیں  وہ ہمیشہ ’’مدّو‘‘ کہتے  تھے  کے ’’ انتقال کے  بعد کے  احساسات‘‘ پر مبنی ہوتا۔ 
            ۴۲، اکتوبر ۲۰۰۷ء میں  جب ابو ّ کی یاد اور ان کی تخلیقات کو قارئین تک پہنچانے  کے  لئے ’’ علی گڑھ اردو کلب ‘‘کا قیام عمل میں  آیا تب اندازہ نہیں  تھا کہ اس کا کام اتنا پھیل جائے  گا۔ اکثر خطوط ہمیں  ابنِ فرید ؔ کے  حوالے  سے  موصول ہوتے  ہیں۔ اس کلب کی بنیاد رکھنے  کی وجہ ان کی تخلیقات کو قارئین کے  سامنے  رکھنا تھا، مگر ان کا نام کلب کی پہچان بن گیا ہے۔ کچھ شکر گزاری سی شکر گزاری ہے۔ ’’ دیدہ ور‘‘ سہہ ماہی رسالہ ایسی کلب کا حصہ ہے۔ 
          اس کلب پر اکثر ادبی مباحثوں  کے  درمیان ایسا ہوا ہے  کہ ابوّ مرحوم کی یاد نے  آنکھ نم کر دی ہے۔ کتنی مرتبہ بے  اختیار دل چاہا کہ ’’ اس بات کی تصدیق ابو ّ سے  کر لوں ‘‘۔ اس شعر کا مطلب‘‘ ’’اس صنف کی تاریخ‘‘۔ ۔ یا۔ ۔ ’’اس ادبی واقعہ کا پس منظر ‘‘۔ ۔ ۔ ’’ادیبوں  کے  بیچ کا تعلق‘‘۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ ’’ان کی تخلیقات کی فہرست‘‘اور ایسے  بے  شمار سوال؟ مگر اس دیس جانے  والے  پلٹ کر کب آتے  ہیں ؟
          اللہ حافظ، اللہ نگہبان
                                                                  رضیہ مشکور          
 

ایک ادنیٰ سا حادثہ 


چیونٹی تیز بھاگتی ہوئی آئی، مُردہ پتنگے  کے  گرد تین چار چکّر لگائے۔ کئی جگہ سے  پکڑ کر اُٹھانے  کے  لئے  آزمایا اور چھوڑ دیا۔ 
مارچ کے  پہلے  ہفتہ میں سردی قریب قریب رخصت ہو چکی تھی، فضا میں  خمار آلود غنودگی پیدا ہو چلی تھی۔ راتوں کے  مقابلے  میں  دن وقت کے  عرصے  پر پھیلنے  لگے  تھے  اور سورج کی تمازت کے  ساتھ ساتھ طبیعت میں بھی کسلمندی پیدا ہونے  لگی تھی۔ کونپلیں تازہ تازہ چٹخنے  تو لگی تھیں لیکن ان کے  ساتھ ساتھ کیڑے  مکوڑوں کی مصروفیات بھی بڑھ گئی تھیں۔ 
چیونٹی نے  پتنگے  کو دو ایک جگہ سے  پکڑ کر کھینچنے  کی کوشش کی لیکن چھوڑ دیا۔ شاید جہاں سے  اس نے  پکڑا تھا وہ مناسب جگہ نہیں  تھی۔ شایداس طرح پکڑنے  سے  صحیح توازن نہیں  بن رہا تھا۔ مُردہ پتنگے  کو اس وقت کیا کرنا چاہیئے  تھا؟ بے  جان جسم کیا جانے!
چیونٹی نے  پتنگے  کو چھوڑ دیا۔ (اس سے  کیا ہوتا ہے، پتنگا تو زندگی سے  آزاد ہو چکا تھا) پھر بے  قرار ہو کراُس نے  اُس کے  گرد تیز تیز تین چار چکّر لگائے۔ ہر چکّر میں دو چار بار وہ پتنگے  سے  ٹکرائی۔ شاید وہ گرفت کا صحیح رُخ تلاش کر رہی تھی۔ اُس کی بے  چینی کا  اظہاراُس کی  بے  تابی سے  ہو رہا تھا۔ 
اگر پتنگا زندہ ہوتا اور چیونٹی سے  پوچھ سکتاتوضرورپوچھتاکہ آخر تم اِس قدر بے  صبری کیوں ہو رہی ہو۔ مَیں تو بے  بس مُردہ لاش تمہارے  سامنے  پڑا ہوں۔ مگر شاید چیونٹی پھر بھی کچھ سُن نہ پاتی۔ 
مارچ کے  آتے  ہی پتنگوں  کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی تو لکھنا پڑھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ طبیعت جھنجھلا جاتی ہے  کہ خیالات کے  سلسلے  ٹوٹ جاتے  ہیں۔ معمولی حیثیت کے  لوگ بے  بسی کے  عالم میں روشنی کے  ساتھ کیڑوں کو بھی برداشت کر لیتے  ہیں۔ اگر برداشت نہ کریں تو کر بھی کیا سکتے  ہیں ؟لیکن ذرا بہتر مالی حالت والے  دواؤں  کے  ذریعہ کیڑوں کا خاتمہ کر دیتے  ہیں۔ کمرے  کی فضا مصنوعی ہو جاتی ہے  لیکن سکون نصیب ہو جاتا ہے۔ بدبُو دار مصنوعی سکون!
وہ کیڑے  پتنگے  جو رات کو مر جاتے  ہیں اُن کی لاشوں کو دوسرے  دن سورج نکلنے  کے  بعد چیونٹیاں  ڈھوتی رہتی ہیں۔ ان مرنے  والوں کو اپنے  لاش ڈھونے  والے  بھی میسّر نہیں  آتے۔ 
وہ کیڑا کہیں  اِدھر اُدھر پڑا رہ گیا تھا اور ایک راہ چلتی چیونٹی کو نظر آ  گیا جو اُسے  ذرا بھی دیر کیے  بغیر اُٹھا لے  جانا چاہتی تھی۔ شاید اتنی دیر میں کوئی چیونٹی یا کچھ چیونٹیاں آ کراُس کی  کمائی میں  بادھا ڈال دیں۔ چیونٹی نے  ایک بار پھر پتنگے  کو اپنے  زنبورسے  پکڑا اور کھینچنا شروع کر دیا۔ بے  قراری کے  ساتھ!
رات ہی وہ پتنگا مطالعہ کے  کمرے  میں  داخل ہوا تھا۔ پہلے  وہ اِدھر اُدھر اُڑتا رہا۔ کمرے  میں  کسی قسم کی ناگوار زہریلی بدبو نہیں تھی، پتنگے  نے  اپنے  اندر بڑی فرصت اور کشادگی محسوس کی۔ چنانچہ وہ لمبی لمبی اُڑانیں لے  کر کمرے  کے  ایک کونے  سے  دوسرے  کونے  تک اُڑتا رہا۔ اُس کی یہ اُڑانیں  اتنی بے  ضر ر تھیں  کہ اُن کی طرف کمرے  کی کسی چیز نے  بھی توجّہ نہ دی۔ ۔ ۔ اُس نے  بھی نہیں  جو بجلی کا لیمپ سامنے  میز پر رکھے  بڑی دیرسے  لکھنے  میں  مصروف تھا۔ 
پتنگے  نے  خود بھی میز پر رکھے  ہوئے  لیمپ کی طرف کوئی توجّہ نہ دی۔ اُس کے  مشغلے  کے  لئے  دیوار میں  لگی ہوئی ٹیوب لائٹ کافی تھی۔ پتنگے  نے  اپنے  نرم لجلجے  بدن سے  ٹیوب راڈ کو  چھُونے  کی کوشش کی۔  وہ کچھ ایسا گرم تو نہ تھا لیکن  پھر بھی گرم تھا پتنگے  نے  ناگواری محسوس کی اور اُڑ کر پیچھے  ہٹ گیا، لیکن کچھ لمحے  ٹیوب لائٹ کے  سامنے  ایک ہی نقطہ پر اُڑتا رہا۔ 
وہ کاغذ پر نظریں  جمائے  اور قلم کے  دوسرے  سرے  کو منہ میں  دبائے  نہ معلوم کیا سوچتا رہا۔ وہ جو کچھ سوچ رہا تھا۔ اور الفاظ جو صورت اختیار کر کے  اُس کے  ذہن میں  اُبھر رہے  تھے  اُن میں  وہ تال میل پیدا نہیں ہو رہا تھا جو وہ چاہتا تھا، لیکن اُس پر خود یہ بھی تو نہیں  کھلتا تھا کہ آخر وہ اصل تال میل کیا ہے  جس کے  لئے  وہ اپنے  ذہن پر اس قدر زور ڈال رہا ہے۔ اس بے  بسی کا نتیجہ یہ تھا کہ سامنے  سادہ کاغذ تھا اور ہاتھ میں  قلم، اور خیال رات کے  پُراسراراندھیرے  میں  کہیں  گُم ہو گیا تھا۔ اگراُس کی پرواز کی ہلکی سی تھرتھراہٹ بھی وہ محسوس کر سکتاتو اُسے  پہلے  کچّے  پکّے  الفاظ میں گرفتار کر لیتا۔ لیکن اُس وقت یہ بھی تو ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ 
اُس نے  اکتائے  ہوئے  انداز میں ایک گہری سانس لی، کُرسی پر تھوڑاسا کسمسایا اور پھر کاغذ پر نظر جما  کر خیال کی دنیا میں  کہیں اور کچھ اور تلاش کرنے  لگا۔ نہ معلوم کیا تھا کہ ذہن میں  ایک گرہ سی پڑ گئی تھی اور کھُلنے  کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ عجیب گھُٹن سی محسوس ہو رہی تھی۔ مگراس کے  باوجود کمرے  میں  بڑی بے  جان خاموشی سی چھائی ہوئی تھی۔ کسی چیز کو کسی چیزسے  کوئی تعلّق نہیں  تھا۔ سب کچھ سب سے  بے  نیاز!
پتنگا برابر اِدھر اُدھر چھت کے  پاس اُڑتا رہا۔ بس یوں  ہی بے  مقصد آوارہ سا!
اچانک اُس کے  دماغ میں  ایک کونداسالپکا۔ اور اُس نے  عجلت کے  ساتھ اُسے  کاغذ پر لفظوں میں  قید کر لینا چاہا، لیکن اس سے  قبل کہ وہ قلم کاغذ پر رکھے، ذہن میں آئی ہوئی بات دھندلا گئی۔ بددلی کی کیفیت میں  اور اضافہ ہو گیا۔ اُس نے  اور زیادہ توجّہ کے  ساتھ سوچنا شروع کر دیا۔ ممکن ہے  اِس طرح کھوئی ہوئی بات دو بارہ ہاتھ آ جائے۔ ایک موہوم سی آرزو!
پتنگا بہت دیر سے  اُوپر ہی اُوپر اڑتا رہا تھا۔ اب اُس نے  اپنے  پَر ٹھہرا کر اپنے  میں وزن پیدا کیا اور غوطہ لگا کر نیچے  آ گیا۔ لیکن بالکل ہی نیچے  آنے  سے  پہلے  اُس نے  اپنے  پَروں  کو کھول کر حرکت دی۔ شاید اُسے  خطرہ تھا کہ وہ زمین پر ہی نہ گر پڑے۔ اُڑتا ہوا پتنگا کبھی زمین پر گرنا پسند نہیں کرتا۔ 
اُس نے  اپنے  قلم کو پاس رکھے  ہوئے  ڈاک کے  استعمال شدہ لفافے  پر یوں  ہی چلایا۔ چند سطریں  ٹیڑھی میڑھی سی بنائیں، لبوں پر بے  معنی سی مسکراہٹ آئی اور پھر وہ لفافے  کی سادہ جگہوں  پر اپنے  دستخط بنانے  لگا۔ یہ سب وہ کیوں کر رہا تھا؟اُسے  خود بھی معلوم نہ تھا کیوں کہ اس سارے  عمل کو اس کی سوچ کی اصل اُلجھن سے  کوئی تعلّق نہ تھا۔ پھر بھی اگر وہ یہ نہ کرتا تو مطالعہ کی میزسے  اُٹھ کر چلا جاتا اور بسترپرلیٹ جاتا۔ لیکن یہ ضروری نہیں  تھا کہ بسترپر لیٹ کر اُسے  آرام نصیب ہوتا۔ ہو سکتا تھا کہ وہاں  بھی وہ کوئی فضول سا کام کرتا۔ مثلاً کوئی فکشن کی کتاب ہی پڑھنے  لگتا۔ 
وہ اپنے  آپ پر خود ہی  طنز کے  ساتھ مُسکرادیا۔ 
وہ خود بھی تو اس وقت فکشن ہی لکھنے  کی کوشش کر رہا تھا۔ یعنی کوئی ایسی کہانی جس کی پہچان وہ خود ہو۔ 
اُس نے  جب بھی لگن کے  ساتھ کچھ لکھنے  کی کوشش کی تو اپنی تخلیق کے  مقابلے  میں  اچّھی سے  اچّھی تحریر بے  رنگ اور پھیکی پھیکی سی لگی۔ یہ  فنکار کی انا ہوتی ہے۔ اور اس کی تسکین کے  لیے  وہ خود کو ہی اپنے  لیے  مثالی نمونہ بناتا ہے۔ 
لیکن اُس وقت اِس طرح سوچنے  کے  معنی تو یہ تھے  کہ اصل بات ذہن میں اور بھی زیادہ دھندلی پڑتی جائے۔ اس لئے  اُس نے  سوچنے  کے  اس  بوجھل اندازکوسرسے  بیکار بوجھے  کی طرح جھٹک دیا اور کاغذ قلم کی طرف مستعدی سے  متوجّہ ہو گیا۔ 
شاید یہ آمادگی اُسے  تازہ دم کر دے۔ 
جب پتنگے  نے  اپنے  پروں کو کھول کر حرکت دی اور اُوپر اُٹھنا چاہا تو اُسے  لیمپ میں  ساکت و جامد روشن بلب نظر آ گیا۔ اُس نے  اپنے  پروں  کو مسرّت بھری جنبش دی اور ٹھیک اُس بے  حس روشنی کے  سامنے  منڈلانے  لگا۔ اُس کا سایہ کاغذپرمسلسل جھلملا رہا تھا۔ مگر وہ اِس عمل سے  بے  خبر تھا۔ 
پتنگے  کے  جھلملاتے  ہوئے  سائے  نے  اُس کے  قلم کے  سامنے  اَن گنت دھُندلاتی مٹتی ہوئی لکیریں  کھینچ دیں  اور اس کے  ذہن میں آیا ہوا خیال کٹ پھٹ گیا۔ اُس نے  کچھ اُلجھن سی محسوس کی اور پتنگے  کی طرف ناگواری کے  ساتھ دیکھا لیکن پتنگا پرواز کی کمان بناتا ہوا  اُوپر اُٹھ چکا تھا۔ پتنگے  نے  یقیناً اُس کی ناگواری کی طرف کوئی دھیان نہ دیا۔ 
اُس نے  اپنی توجّہ کو دوبارہ ایک مرکز پر سمیٹا اور کاغذ قلم کی طرف متوجّہ ہو۔ خیال کا ریلا تیزی کے  ساتھ آیا اور اس نے  تیز رفتاری کے  ساتھ  لکھنا شروع کر دیا۔ اُسے  ایسا محسوس ہوا کہ جیسے  اُس کے  سینے  میں  بہت بڑا بوجھ سما گیا ہے  اور وہ اپنی جگہ سے  ہٹنے  کی راہ نہیں  پا رہا ہے۔ اس بوجھ کو ہلکا کرنے  کے  لئے  وہ برابر لکھے  جا رہا تھا۔ 
پتنگا اب لیمپ کی روشنی سے  مانوس ہو چکا تھاس۔ اس لئے  اس نے  دوبارہ غوطہ لگایا اور بلب کے  شیشے  پر بیٹھنے  کے  لئے  پروں  کو لہرا کر توازن قائم کرنے  لگا۔ لیکن شیشہ اتنا چکنا تھا کہ وہ اپنی کوشش میں  کامیاب نہ ہو سکا۔ اُسے  بہرحال اُس کی بالکل کوئی خبر نہ تھی کہ اُس کے  اِس طرح پنکھ لہرانے  سے کسی کے  خیال پربھی سایہ پڑ رہا ہے۔ 
پتنگے  کے  بے  چین سے  لرزتے  ہوئے  سائے  نے  اُس کے  خیال کو پھر جھٹکا دیا۔ اُس نے  قلم کے  پچھلے  سرے  سے  پتنگے  کو اُڑانا چاہا، لیکن وہ پہلے  ہی اُڑ کر دوسری طرف نکل گیا تھا۔ پتنگے  نے  اس بار بھی جان بوجھ کر ایسا نہیں  کیا تھا۔ 
اُس نے  پھر لکھنا شروع کر دیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اب خیال کا سلسلہ ٹوٹ نہیں رہا تھا۔ 
پتنگا پھر نیچے  آیا اور بلب کے  سامنے  منڈلانے  لگا۔ 
اُس نے  پھر پتنگے  کو اُڑانا چاہا۔ 
پتنگا پہلے  ہی اُڑ چکا تھا۔ اُس نے  اِس بار بھی سوچ کر ایسا نہیں  کیا تھا۔ 
اُس نے  پھر لکھنا شروع کر دیا۔ 
پتنگا پھر نیچے  آیا اور روشنی کے  سکوت میں  سایہ کی حرکت پیدا کرنے  لگا۔ 
اُس کے  خیال کی رَو میں پھر رکاوٹ پیدا ہونے  لگی۔ 
پتنگا اب بلب کے  سامنے  ایک ہی نقطہ پر دیوانہ وار رقص کر رہا تھا۔ 
اُس نے  قلم کے  بالائی سرے  سے  پتنگے  پر چوٹ لگائی۔ اور پتنگا عین اُس جگہ گرا اور مر گیا جہاں اُس کا نامکمّل جُملہ قلم کا انتظار کر رہا تھا۔ اُس نے  قلم کی اُسی نوک سے  پتنگے  کی لاش کو اچھال دیا، اور وہ لاش میز کے  نیچے  فرش پر جا گری مگر کوئی آواز نہ ہوتی۔ 
اور وہ دوبارہ اُسی انہماک کے  ساتھ لکھنے  لگا۔ 
کمرے  میں  کسی طرح کی کوئی حرکت نہیں  تھی، صرف بے  صدا الفاظ کاغذ پر اُگتے  چلے  جا رہے  تھے  اور سطریں  گنجان ہوتی جا رہی تھیں۔ 
اِس سکوت میں  وہ بڑی دیر تک لکھتا رہا۔ پھراُس نے  روشنی بند کی اور بسترپرجا کر لیٹ رہا۔ مگر خیالات کا ریلا بہت دیر تک اُس کی نیند کے  ساتھ کشمکش کرتا رہا۔ 
صبح جب وہ سوکراُٹھاتواُس نے  بڑی بے  قراری محسوس کی۔ 
ناشتہ کے  فوراً بعد وہ لکھنے  بیٹھ گیا۔ اُسے  حیرت اس بات پرتھی کہ جہاں  سے  اُس نے  لکھنا چھوڑا تھا وہیں سے  اُس کی صبح کی تحریر پر مربوط ہو گئی تھی۔ اِس کامیابی نے  اُسے  خوشی سے  بے  چین کر دیا۔ اور وہ اور زیادہ لگن کے  ساتھ لکھنے  لگا۔ 
چیونٹی پتنگے  کی لاش کو فرش پر کھینچ کر جب لے  چلی تو راہ میں میز کا پایہ آ گیا۔ اِس رکاوٹ نے  اُس کا راستہ کھوٹا کرنا چاہا لیکن وہ ایک ذرا سی کوشش کے  بعد پتنگے  کو لے  کر پایہ پر چڑھنے  میں  کامیاب ہو گئی۔ پایہ کا فاصلہ ختم ہوتے  ہی میز کا بالائی تختہ آ گیا۔ اُس تھوڑے  سے  فاصلے  کو اُسے  اِس طرح طے  کرنا تھا کہ اُس کے  پیر اُوپر ہوں اور دھڑ نیچے  اور زنبور میں  پتنگے  کی لاش! چیونٹی نے  کوشش کی لیکن پتنگے  کے  بوجھ کی وجہ سے  وہ مُردہ لاش کے  ساتھ فرش پر گر پڑی۔ 
وہ برابر لکھے  جا رہا تھا، مبادا خیالات کی آمد ختم ہو جائے۔ 
چیونٹی کے  زنبورسے  پتنگا چھوٹ کر الگ گرا تھا، بے  قراری کے  ساتھ چیونٹی نے  اُسے  تلاش کیا اور زنبور میں  جکڑ کر لے  چلی۔ اس بار اُس کی رفتار قدرے  تیز تھی۔ اُس نے پایہ کی مسافت جلد ہی طے  کر لی۔ لیکن جب بالائی تختے  کے  نچلے  رُخ پر آئی تو پھر وہ اپنا بوجھ سہارنہ سکی اور پتنگے  کے  ساتھ ہی نیچے  گر گئی۔ 
جو ورق بھر جاتا تھا اُسے  وہ اپنے  سامنے  سے  ہٹا نہیں  رہا تھا بلکہ اُسی پر سادہ ورق رکھ کر لکھتا جا رہا تھا۔ اُس وقت وہ چاہتا تھا کہ اُس کا خیال کسی اور طرف بھٹکنے  نہ پائے۔ وہ برابر لکھتا رہا تاکہ جو کچھ ذہن میں ہے  وہ سب کاغذ پر آ جائے۔ 
اِس بار چیونٹی نے  اور زیادہ بے  قراری کے  ساتھ پتنگے  کو تلاش کیا اور اسے  اُٹھا کراُسی راستے  پر لے  چلی جس پر اُسے  بار بار ناکامی کا سامنا ہوا تھا، اور ایک بار پھر اُسی دُشوار گزار مرحلے  پر پہنچ کر پتنگے  سمیت نیچے  ٹپک پڑی۔ 
کافی دیرسے  لکھتے  لکھتے  اُس کے  بدن میں  اکڑن سی پیدا ہو گئی تھی مگر اپنی  تخلیق کی خاطر وہ اُس بے  آرامی کو برداشت کئے  ہوئے  تھا۔ 
چیونٹی پتنگے  کو ڈھونڈکرپھراُسی راستے  پرلے  چلی۔ 
وہ اپنے  گرد و پیش سے  بے  خبر ہو کر لکھے  جا رہا تھا۔ 
چیونٹی کا اشتعال اس کی ناکامی کے  ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا تھا۔ 
الفاظ کے  انبار میں  اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ سطروں  کا جنگل پھیلتا جا رہا تھا۔ 
اچانک چیونٹی مُردہ پتنگے  کو لیے  ہوئے  میز کے  کونے  پر نمودار ہوئی اور عجلت کے  ساتھ اپنا بوجھ کھینچتے  ہوئے  لے  چلی۔ اُسے  نہیں  معلوم تھا کہ وہ کتنی کوششوں  کے  بعد کامیاب ہوئی ہے۔ بس وہ تو اپنی مہم میں  کامیابی پر خوشی  سے  بے  قابو ضرور ہو رہی ہو گی۔ 
وہ لکھنے  میں  اس حد تک منہمک تھا کہ اُس کو چیونٹی نظر نہیں آئی۔ 
چیونٹی تیزی کے  ساتھ ایک سیدھ میں  مُردہ پتنگے  کو کھینچتی ہوئی اُلٹی بھاگ رہی تھی یہاں تک کہ وہ اس کاغذ پر چڑھی جس پروہ لکھ رہا تھا۔ چیونٹی  الفاظ کے  وجود کو اپنے  پیروں  تلے  روندتی اور سطروں  کی صفیں  پامال کرتی پتنگے  کی لاش کھینچے  لیے  جا رہی تھی۔ جب سطروں کی فصیلیں  ختم ہو گئیں  تو وہ نوکِ قلم سے  ٹکرا گئی۔ یہ رکاوٹ چیونٹی کے  لیے  غیر متوقّع ہی نہیں ناپسندیدہ بھی تھی۔ 
اُس کی سوچ اُس کے  ذہن سے   گری اور ماضی کے  فرش پر کھوٹے  سکّے  کی طرح لڑھک گئی۔ پھر وہ ہی پتنگا اور یہ چیونٹی!
اُس نے  ناگواری کے  ساتھ اُن پر ہاتھ مارا۔ 
چیونٹی مر گئی۔ 
پتنگا تو رات ہی ایک بار مر چکا تھا، اب دوبارہ کیسے  مرتا۔ 
اُس نے  بے  دلی کے  ساتھ کاغذ اُٹھایا اور دونوں  لاشیں  کمرے  کے  باہر پھینک آیا۔ واپس آ کروہ پھر لکھنے  لگا۔ 
باہر ہلکی ہلکی ہوا ان دونوں  کو چھوتی ہوئی گزر رہی تھی۔ پتنگے  کے  پَر ہوا میں  ہل رہے  تھے، چیونٹی بے  حِس تھی۔ شاید پتنگے  کے  پَر بکھرنے  والے  تھے۔ مگر پھر وہاں کیا تھا؟کیا ہو رہا تھا؟اِس کی خبر نہ پتنگے  کو تھی اور نہ چیونٹی کو!
خود اُس کے  ذہن میں  بھی وہ سارا واقعہ ماند پڑ گیا تھا۔ اتنی معمولی سی بات بھی کون سی اہم تھی؟ حشرات  الارض تو روز ہی مرتے  رہتے  ہیں!
						(۱۹۸۳ء)
 
ایک دن وہ بھی!

ایک طویل عرصہ کے  بعد وہ اسے  ملی۔ زمانہ کی بے  رحم رفتار کے  آثار اس کے  چہرے  سے  نمایاں  تھے۔ وہ بہت توجہ سے  کچھ ریڈی میڈ کپڑے  دیکھ رہی تھی۔ لیکن محسوس ایسا ہو رہا تھا کہ جیسے  وہ سکتہ کا لمحہ ہو۔ کاؤنٹر کی دوسری طرف نوعمر سیلز گرل صبر آزما انتظار میں  اس کے  سامنے  کھڑی تھی۔ وہ ذرا ہٹ کر، بے  کار محض، سامنے  اسٹَیک میں  آراستہ چیزوں  کو دیکھنے  لگا، لیکن اس کی پتلیاں  بے  ارادہ آنکھ کی داہنی کور کی طرف کھسک آ ئی تھیں۔ پھر ایک بار اکتا کر اس نے  گہری سانس لی اور گردن گھما کر داہنی طرف دیکھا۔ وہ اچانک اس طرح مڑی کہ پشت اس کی طرف کر کے  تیزی سے  باہر چلی گئی۔ ایک جھونکا تھا ہوا کا جو آیا اور گزر گیا۔ تیز و تند گرد باد اٹھے  اور فضا میں  تحلیل ہو گئے۔ وقت کے  بے  شمار تھپیڑے  تھے  جو اپنی چوٹ لگا کر بے  نیازانہ معدوم ہو گئے، لیکن دل جو تھا وہ ماضی کے  سمندر میں  غرق ہوتا چلا گیا۔ کیا دن تھے  وہ جو فراموشگاری میں  تحلیل ہونے  لگے۔ اس نے  خود کو سنبھالنا چاہا لیکن دل اس کے  لئے  آمادہ نہ ہوا۔ کاش کوئی اس طرح مندمل ہوتی ہوئی خراشوں  کے  نشانوں  کو کریدا نہ کرے، لیکن جو کچھ ہوا وہ اچانک اور بے  قصد و ارادہ ہوا۔ اس نے  اپنے  آپ کو سمجھانا چاہا، لیکن الجھی ہوئی ڈور کا کوئی سرا نہ تھا، ہوتا تو ہاتھ آتا۔ 
	سیلز گرل نے  اسے  سوالیہ نظروں  سے  دیکھا۔ اسے  گمان ہوا کہ شاید وہ اِس گاہک کے  اچانک چلے  جانے  کا سبب تلاش کر رہی تھی، مگر وہ خاموش رہا۔ چاہتا تو بتا دیتا، لیکن اس کی اس نے  ضرورت محسوس نہ کی۔ بس، بددلی کے  ساتھ وہ بھی وہاں  سے  چلا آیا، اپنے  سینے  کے  بوجھ کو خود اٹھائے  ہوئے۔ اسے  کوئی اور محسوس بھی تو نہیں  کر سکتا۔ 
	ایک دن اور ایسا ہی ہوا کہ ایک جنرل اسٹور میں  ان دونوں  کا آمنا سامنا ہو گیا۔ اس نے  اس کے  چہرے  میں نظریں  پیوست کر کے  دیکھا، مگر اس نے  جلدی سے  منھ پھیر لیا اور سرعت کے  ساتھ اسٹور سے  باہر نکل گئی۔ وہ اسے  محویت کے  عالم میں  دیکھتا رہا لیکن اس کی نظریں اس کی پشت سے  ٹکرا کرواپس آتی رہیں۔ کچھ تھا جو دھندلا گیا تھا، اسے  وہ واضح کرنا چاہتا تھا مگر وہ ہو نہیں  رہا تھا۔ بیچ میں  ایک پردے  کی پشت جو آ گئی تھی۔ ایک درد تھا جسے  وہ کھول کر رکھ دینا چاہتا تھا، لیکن بے  اعتنا پشت کی دیوار کو وہ ہٹا نہیں  سکتا تھا۔ 
	 ایسا لگتا تھا کہ وہ اب اسی شہر میں  اور اس کے  جوار میں  کہیں  آ گئی ہے۔ اسی لئے  یہ اچانک ملاقات بار بار ہونے  لگی ہے۔ مگر اس نے  اس سے  زیادہ کوئی فکر نہ کی۔ زندگی معمول کے  مطابق چلتی رہی، البتہ اب ذہن کے  پچھلے  ورق الٹ پلٹ کر کھل جایا کرتے  تھے  اور درد آگینی طاری ہو جایا کرتی تھی۔ لیکن وہ سب کچھ پُر گداز گہری سانس میں  ڈبو دیا کرتا۔ جب راکھ ٹھنڈی پڑ چکی ہو تو پھر کیوں اسے  کریدا جائے۔ مندمل ہوتی ہوئی پگڈنڈیوں  پر واپس جانے  سے  کیا فائدہ ؟ اپنے  آپ سے  الجھ کر ایک بار پھر وہ حال میں  واپس آ جاتا اور زندگی معمول پر آ جاتی۔ لیکن اسی عالم میں  پھر کہیں  کسی جگہ اس سے  ملاقات ہو جایا کرتی اور دل ڈوبنے  لگتا۔ 
	ایک چھٹی کے  دن وہ اپنے  ایک دوست کے  یہاں  بیٹھا ہوا تھا۔ گپ شپ ہو رہی تھی۔ اسی دوران ایک لڑکی آئی، دونوں  کو بڑے  ادب کے  ساتھ سلام کیا اور اندر چلی گئی۔ وہ اسے  دیکھ کر چونک گیا۔ سادہ سوتی لباس، بغیر میک اپ کا چہرہ، بے  تصنع چال، بے  ریا آداب و اطوار! یہ سب تو ممکن ہے، لیکن چونکا وہ اس بات پر تھا کہ وہ چہرہ جانا پہچانا سا لگتا تھا۔ اِسے  کہیں  دیکھا ہے۔ کہاں  دیکھا ہے ؟ بہت غور کرنے  کے  بعد بھی کچھ سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا۔ سفید بادلوں  کے  پیچھے  چاند ڈوبتا ابھرتا رہا اور چاندنی اور اندھیرے  کو آپس میں  خلط ملط کرتا رہا۔ شفاف چاندنی اور دھندلے  اندھیرے  کے  کس لمحے  میں  کون کہاں  ٹھہرے ؟ساری بے  قیام منزلوں  میں  سے  کون اپنی ہے ؟ کوئی فیصلہ نہیں  کرپا رہا تھا۔ بس وہ حیرانی سے  تیرتے  ہوئے  ناقابلِ اعتبار لمحوں  کو شمار کرتا رہا۔  
	 تب سے  وہ اس خلجان میں  مبتلا ہو گیا: آخر اس لڑکی کا چہرہ جانا پہچانا ساکیوں  لگا تھا؟کوئی بات تو تھی۔ کیا بات تھی؟ دونوں  باتیں  ایک دوسری سے  ٹکرا جاتیں۔ اس کے  تصور میں  بہت شدید تصادم ہوتا اور وہ شل ہو جاتا۔ ایسا کبھی کیوں  ہو جایا کرتا ہے ؟بے  وجہ کا ایک دکھ پیدا ہو تا ہے  اور برابر ستایا کرتا ہے۔ جھنجھلا کر وہ اس کشمکش کو فراموش کر دیتا، لیکن اچانک پھر کسی جگہ وہ اس کے  سامنے  آ جاتی، اسے  بہت احترام سے  سلام کرتی اور نظر نیچی کر کے  آگے  بڑھ جاتی۔ یہ کون ہے ؟ کون ہو سکتی ہے ؟ نہ جانتے  ہوئے  بھی یہ اتنی مانوس کیوں  لگ رہی تھی؟لیکن یہ معمّہ حل نہیں  ہو رہا تھا۔ اس کے  حل ہونے  کی ضرورت بھی کیا تھی؟ زچ ہو کر وہ ذہن کا بوجھ جھٹک کر پھینک دیتا۔ بڑا سکون محسوس ہوتا اسے  اس عالم میں!  
	بچوں  کا کوئی فنکشن تھا۔ وہ بہت غور سے  دیکھ رہا تھا۔ پاس بیٹھی ہوئی دس بارہ سال کی بچی انعام لے  کر ابھی دوبارہ اس کی بغل کی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اس نے  جیب سے  چاکلیٹ کا بار نکالا اور بچی کی طرف بڑھا دیا۔ بچی کی بغل میں  بیٹھی میڈم نے  بچی کو کھینچ کر سیٹ پر سے  اٹھا لیا اور اپنی بغل میں  بیٹھی ہوئی بڑی لڑکی کو اس سیٹ پر بٹھا دیا۔ بڑی لڑکی نے  اسے  بڑے  احترام سے  سلام کیا اور چاکلیٹ لے  لی۔ میڈم نے  اپنی انتہائی ناگواری کا اظہار اس طرح کیا کہ وہ ان دونوں  لڑکیوں  کو لے  کر آڈیٹوریم سے  باہر چلی گئیں۔ جاتے  جاتے  اسے  نظر آیا کہ یہ تو وہی ہیں۔ اس نے  اطمینان کی ٹھنڈی سانس لی۔ اچھا، تو یہ اُنسیت اس وجہ سے  تھی۔ 
	ایک شام، ایک پارٹی میں شرکت کے  لئے  وہ گیا ہوا تھا۔ ایک میز کے  پاس سے  گزرا تو اس لڑکی نے  اسے  بڑے  ادب سے  سلام کیا۔ اس نے  بہت شفقت سے  جواب دیا۔ اس کی ماں  تلملا گئی۔ وہ خاموشی سے  آگے  بڑھ گیا۔ کیا وہ اتنا قابلِ نفرین ہے ؟ اسے  بددلی ہوئی، مگر اس نے  کسی رد عمل کا اظہار نہ کیا اور آگے  بڑھ گیا۔ اگلی میز پر اس کا دوست بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اس کے  پاس بیٹھ گیا۔ اس کے  بد حظ چہرے  نے  دوست کو متوجہ کر لیا۔ 
	’’کیا بات ہے ؟کیوں ؟ کیا ہوا؟‘‘
	’’یہ فیملی کون ہے ؟‘‘
	’’میرے  پڑوسی ہیں۔ یہ حضرت ابھی ٹرانسفر ہو کر آئے  ہیں۔ یہ انھیں  کی فیملی ہے ‘‘۔ 
	اس نے  کچھ اور نہ پوچھا اور خاموش ہو گیا۔ 
	’’کیوں  کیا بات ہے ؟ کیوں  پوچھا تم نے ؟‘‘
	’’بس یوں  ہی!‘‘
	’’چلو میں  تمہیں  ان سے  ملواتا ہوں ‘‘۔ 
	’’نہیں  کوئی ضرورت نہیں ‘‘۔ 
	’’عجیب بات ہے۔ ان کے  بارے  میں  پوچھتے  بھی ہو اور ملنا بھی نہیں  چاہتے۔ آخر کیوں ؟‘‘
	’’چھوڑو، کچھ اور بات کرو‘‘۔ 
	لیکن اس دن جب وہ اپنے  دوست کے  یہاں  گیا تو وہ بڑی لڑکی اور اس کے  والد دونوں  وہاں  بیٹھے  ہوئے  تھے۔ لڑکی اس کو دیکھتے  ہی کھڑی ہو گئی، ادب سے  سلام کیا اور اندر چلی گئی۔ دونوں  اجنبیوں  کا تعارف ہوا تو لڑکی کے  والد چونکے۔ 
	’’آپ وہ تو نہیں  ہیں  جو کبھی ہمارے  شہر میں  تھے ؟‘‘
	’’جی، آپ نے  صحیح پہچانا۔ میں  بالکل وہی ہوں ‘‘۔ 
	’’پھر آپ یہاں  کیوں  چلے  آئے ؟‘‘ 
	’’یہاں  میں  خوش اور مطمئن ہوں۔ اسی کی تلاش میں  یہاں  آ گیا تھا‘‘۔ 
	 ان سوالوں  کے  وہ کیا جواب دے  جواس سے  آج تک کئے  ہی نہ گئے، لیکن وہ سوال اس کے  ماضی کے  ویرانے  میں  مسلسل بھٹکتے  رہے۔ کبھی کبھی وہ ماضی کے  بند دروازوں  پر دستک دینے  لگتے  تھے، لیکن وہ ان کے  جواب میں  بہرا ہو جایا کرتا تھا۔ پھر بھی اگر وہ یاد کی دہلیز پر سے  رینگ کر سامنے  آ جاتے  تو جواب میں وہ گونگا ہو جایا کرتا۔ کوئی ایک صحرا تھا، بے  ہنگم، بے  ترتیب پیڑوں  اور جھاڑیوں  سے  بھرا ہوا! پھول مرجھا کر بے  رنگ ہو چکے  تھے، ٹہنیاں  اور پتیاں  دھول گرد سے  اٹ کر بے  رونق ہو چکی تھیں۔ انھیں  دوبارہ تازگی کون عطا کرے ؟اس نے  گھبرا کر ان سوالوں  سے  منھ موڑنا چاہا، لیکن وہ سَمت کون سی تھی جس طرف کوئی منھ پھیرے ؟ 
	اسے  پورا شعور تھا کہ وہ زمین پر ہے  اور سفید بادل کے  گالے  اس سے  بہت ہی زیادہ بلندی پر اڑ رہے  ہیں۔ وہ ان کو پکڑنے  کی کوشش کرے  گا تواس کے  قدم اس کی اپنی زمین سے  اکھڑ جائیں  گے۔ بادلوں  تک تو شاید وہ پہنچ نہ سکے، لیکن اپنی زمین سے  اس کا رشتہ ضرور ٹوٹ جائے  گا۔ اس نے  رشتہ سے  انکار کر دیا تھا، مجھے  ہمیشہ نظریں  اٹھا کر دیکھنا پڑے  گا۔ ہر وقت دستار سنبھالتے  رہنا، یہ کس کے  بس کی بات تھی۔ تھک جاتا وہ اس عمل سے! قدم سے  قدم ملا کر وہ چل ہی نہ پاتا۔ 
	’’لیکن اب کیا وہ کمی باقی نہیں  رہی ہے ؟‘‘
	’’نہیں، اب مجھے  وہ احساسِ کمتری نہیں  رہا ہے ‘‘۔ 
	’’اخّاہ، تو یہ پیمانہ احساس کا تھا!‘‘
	’’جو بھی سمجھ لیجیے ‘‘۔ 
	’’آپ کو معلوم ہے  کہ آپ کے  احساس نے  ہمیں  کتنی بڑی آزمائش میں  ڈال دیا تھا؟‘‘
	وہ متحیر ہو کر اسے  دیکھنے  لگا، دیکھتا رہ گیا۔ 
	’’میں  اس لئے  ٹھکرائی جاتی رہی کہ مجھے  پہلے  ہی رشتہ میں  ٹھکرا دیا گیا تھا۔ ریگزار سے  گزرتے  ہوئے  معدوم راستہ کے  کنارے  کھڑی ہوئی میں  ہر کاروان کی طرف پُر امید نظروں  سے  دیکھتی رہی اور ہر ساربان مجھ سے  بے  اعتنا تیز گامی کی حدی الاپتا ہوا آگے  بڑھتا رہا۔ میرے  ہونٹ خشک ہو گئے، میری آنکھیں  پتھرا گئیں، میری سانس کمزور پڑ گئی اور میرے  پیر کھڑے  رہنے  کی طاقت کھو چکے  تو ایک آخری قافلہ سالارآیا اور اس نے  مجھ پر ترس کھا کر اٹھا لیا اور اپنے  محمل میں  جگہ دے  دی۔ کیا میں  اتنی گئی گزری تھی؟ وہ بے  اعتنا تھا، بے  نیاز تھا، لیکن وہ کیا کرتی؟ اسے  تو امان چاہیے  تھی۔ لیکن کبھی کبھی اس کے  سینے  میں  ایک ٹیس اٹھتی: کیا میں  اتنی بے  وقعت تھی؟ مجھے  سفر پر ساتھ لے  چلنے  پر آمادہ ہوا جائے  تو میری اپنی ذات کی وجہ سے  نہیں، مجھے  قابلِ رحم سمجھ کرترس کھایا جائے۔ کس نے  بنائی تھی میری یہ حالت؟‘‘
	’’قصور وار میں  ہوں۔ یہی سمجھتی ہیں  نا آپ؟لیکن تب میرے  پاس کوئی ناقہ نہ تھی، کوئی محمل نہ تھا۔ بے  قافلہ حدی خوانی کرتا بھی تو کون ؟ زندگی کے  ریگ زاروں  میں میں  آپ کو اپنے  ساتھ بھٹکانا نہیں  چاہتا تھا۔ یہ انکار میں  نے  آپ کو لامتناہی آزمائشوں  سے  بچانے  کی وجہ سے  کیا تھا، اپنی اِنا کے  لئے  نہیں ‘‘۔ 
	بڑی لڑکی نے  آ کر اسے  ادب سے  سلام کیا اور ماں  کے  پاس بیٹھ گئی۔ کاش اتنی پیاری بچی اس کی گود میں  پروان چڑھی ہوتی۔ وہ ارمان اس کے  دل میں  برابر گدگدی کرتا رہا۔ اس آرزو کے  ساتھ اس نے  آنکھیں  بند کر لیں۔ وہاں  ایک وسیع مرغزار تھا۔ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ، جگہ جگہ پھولوں  کے  تختے  اپنے  رنگوں  میں  مستانہ وار جھوم رہے  تھے۔ خوشبوئیں  ہر مشامِ جاں  کو معطر کر رہی تھیں۔ پھر وہاں  ایک دنبال کھلا۔ ایک تبسم ایک معصوم ہیولے  میں  ڈھل گیا۔ اس نے  چاہا کہ وہ اسے  مس کرے، لیکن وہ اتنی دور تھا کہ دل کی حسرت دل میں لئے  افسردہ ہو گیا۔ 
	دور سے  اس لڑکی نے  اسے  دیکھا اور دوڑنے  کے  انداز میں  تیز قدم اس کی طرف آئی۔ اس نے  اسے  دیکھا اور محسوس کیا۔ وہ لڑکی آ کر اس کے  پاس کھڑی ہو گئی، لیکن اس نے  اس کی طرف توجہ نہ دی۔ ایک درد تھا جس میں  وہ کھویا ہوا تھا اور وہ درداسے  اس طرح اذیت دے  رہا تھا کہ وہ، مجہول سا، شل ہو رہا تھا۔ لڑکی کچھ دیر تک چپ کھڑی رہی، پھر اکتا کر اس نے  پوچھا:
	’’انکل، آپ اس طرح کیوں  بیٹھے  ہوئے  ہیں ؟‘‘
اس نے  اس کے  سوال کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔ 
’’اداس، گم سم!‘‘
اس نے  ایک گہری سانس لی، لیکن کچھ بولا نہیں۔ 
’’انکل آپ کچھ چھپا رہے  ہیں ‘‘۔ 
’’نہیں، ایسا نہیں  ہے  میری بیٹی، میرے  اندر جو ایک درد ہے، وہ میں  کیسے  بیان کروں ؟ میں  خودسمجھ نہیں  پا رہا ہوں ‘‘۔ 
وہ لڑکی اس کے  سامنے  لان پر بیٹھ گئی اور ٹکٹکی باندھے  اسے  دیکھتی رہی۔ پھر وہ مسکرائی، اس کی آنکھوں  میں  جھانک کر دیکھا اور بولی، ’’انکل، آپ کی آنکھوں  میں کوئی سایہ تیر رہا ہے ‘‘۔ 
وہ ایک دم چونک گیا۔ کوئی چھپی ہوئی بات کا سراغ لگا لے  تو آدمی چونکتا تو ہے  ہی۔ پھر بھی وہ خاموش رہا، اس سایہ کو آنکھوں  میں  بسائے  مستور رکھنے  کی سعی کرتا رہا۔ دل ہی دل میں  اس نے  کہا، اس سایہ کو پیکر میں  نہ تراشو۔ یہ زندگی بھر میرے  لئے  راحت بنا رہا ہے۔ میں  جب بھی زندگی کی کڑی دھوپ میں  جھلسنے  لگا تو اس نے  مجھے  اپنی آغوش میں  لے  لیا۔ راستہ ناہموار تھا لیکن اس سایہ نے  میری پیشانی پر پسینہ نہ جھلکنے  دیا۔ میں  جب بھی ہمت ہارنے  لگا تو اس سحاب کے  سیمیائی حاشیے  سے  تبسم جھلکنے  لگا۔ یوں  ساتھ ساتھ چلو کہ زندگی ہمیشہ آباد رہے، کوئی رکاوٹ ہمتیں  توڑ نہ سکے، کوئی آزمائش صبر وسکون کومسمارنہ کر سکے۔ 
لیکن اس لڑکی نے  اندر بہتے  ہوئے  دھارے  کاتسلسل توڑ دیا، ’’انکل، آپ میری بات کا جواب کیوں  نہیں  دے  رہے  ہیں ؟‘‘ 
اس دوران وہ دُور لان میں  بیٹھے  ہوئے  جوڑے  کو گھورتا رہا، بالکل خاموش! لڑکی کو جب اس بار بھی اپنے  سوال کا جواب نہ ملا تو اس نے  اس کی نظر کے  رخ کو دیکھا اور اطمینان کی ٹھنڈی سانس لی۔ اس ردِ عمل پر اس نے  محسوس کیا کہ اس کا چور پکڑا گیا ہے۔ وہ مسکرا دیا۔ دل کے  نیم وا دروازے  سے  تازہ ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ 
’’دیکھو، وہ لوگ کس قدر بے  فکر ہو کر بیٹھے  ہوئے  ہیں ‘‘۔ 
لڑکی نے  اس پرتر س کھاتے  ہوئے  دیکھا اور پوچھا، ’’ کیا یاد آ رہا ہے  آپ کو؟‘‘
زندگی کا وہ لامتناہی سلسلہ جو اچانک ختم ہو جایا کرتا ہے  اور ہم سوچ بھی نہیں  پاتے  کہ کیا ہو گیا، کیوں  ہو گیا۔ اب تو میں  ان دنوں  کی طرح بے  فکرا نہیں  ہو سکتا۔ ہر لحظہ ایک بوجھل پتھر کی طرح راہ میں  آ گیا ہے  اور میں  اکیلا اسے  ہٹا بھی نہیں  پا رہا ہوں۔ جیسے  میں  سر سے  پیر تک جامد ہو گیا ہوں۔ میں  انتظار کے  وقفے  میں  گرفتار ہوں  اور جس کا میں  منتظر ہوں  وہ آ ہی نہیں  چکتا۔ اس کا دل پگھلنے  لگا۔ 
جس طرح اچانک وہ چھوڑ کر چلی گئی بالکل اسی طرح وہ اس کی زندگی میں  بھی اچانک آ گئی تھی، اور آئی تو بھرپور آئی، سارا سب کچھ ساتھ لے  کر۔ ایک سفر تھا جو وہاں  سے  نئے  سرے  سے  شروع ہوا تھا۔ یہ طمانیت اور اعتماد زندگی بھر قائم و باقی رہا۔ ہم جب بھی ایک دوسرے  کی طرف دیکھتے  تو مسکرا دیتے۔ ایک دوسرے  پریہ انحصار و امتنان، ایک مرغزار تھا جو دور تک پھیلا ہوا تھا اور اس سرسبزی و شادابی کے  بیچ میں  وہ اُس کے  ساتھ اُس جوڑے  کی طرح بیٹھا ہوا تھا جو گرد و پیش کو بھول کر اپنے  آپ میں  گم تھا۔ 
اس نے  یہ سب کچھ اس لڑکی کو سمجھانا چاہا، لیکن بیچ میں  ہی اس نے  سوال کر دیا، ’’انکل، کیا آپ کو یہ سب کچھ کہیں  اور نہیں  مل سکتا تھا؟‘‘
’’ہم نے  ہمیشہ ایک دوسرے  کی آنکھوں  میں  جھانک کر دیکھا اور دور تک ایک دوسرے  کی ذات میں اترتے  چلے  گئے، لیکن جن کو تم نے  بیچ میں  کھڑا کر دیا ہے  وہ ایسی بلندی پر تھیں  کہ میں  تب ان آنکھوں  میں جھانک نہیں  سکتا تھا۔ دیکھتا تو نظریں  اجنبی ہی رہتیں۔ اندر باطن تک اتر نہ سکتیں ‘‘۔ 
یہ سب کچھ وہ کیسے  باور کر لے ؟ لڑکی سوچ میں  پڑ گئی۔ 
دور ایک تختۂ سبز پر چھوٹے  چھوٹے  بچے  کھیل کود رہے  تھے، دوڑ بھاگ رہے  تھے۔ 
جب پھل پک جایا کرتے  ہیں  تو  پیڑ کا ساتھ چھوڑ دیتے  ہیں  اور کہیں  اور کونپل پھوڑ کر اپنا پیڑ خود اگا لیتے  ہیں  اور درخت تنہا رہ جاتا ہے۔ اس کی شاخیں  اجاڑ ہو جاتی ہیں۔ 
’’میں  آپ کا درد سمجھتی ہوں  انکل!‘‘
’’نہیں، ابھی تمہاری یہ عمر نہیں  ہے، تم میرے  درد کو سمجھنے  کی کوشش نہ کرو‘‘۔ 
وہ جانے  کے  لئے  اٹھ کھڑا ہوا۔ لڑکی نے  ملتجیانہ نظر سے  اسے  دیکھا، ’’انکل!‘‘
اسے  لڑکی پر پیار آ گیا، ’’کیا بات ہے  بیٹی؟‘‘
’’میں  جب بھی آپ کے  پاس ہوتی ہوں  تو مجھے  ایسا محسوس ہوتا ہے  کہ جیسے  آپ مجھ سے  دور ہی دور ہیں۔ آپ میرے  پاس کیوں  نہیں ہو پاتے ؟‘‘
’’میں  سمجھتا ہوں  بیٹی، تم نے  میرے  بارے  میں  اتنا بہت سنا ہو گا کہ میں  ایک مانوس ہستی بن کر تمہاری یاد میں  بس گیا ہوں، لیکن تمہیں  کیا معلوم کہ خیال کو اس طرح حقیقت نہیں  بنایا کرتے۔ اس طرح ہم آوارہ گرد باد کی طرح بھٹکتے  رہتے  ہیں  اور ہمارے  ہاتھ کچھ نہیں  آتا۔ ہم جو کچھ ہیں  وہ حقیقت ہے۔ اس سے  آگے  جانے  کی ضرورت نہیں۔ وہ سب خلا ہے ‘‘۔ 
’’لیکن انکل، کچھ اپنے  پن کا تعلق تو ہے ؟‘‘
’’ہاں  ہے!‘‘ یہ کہتا ہوا وہ چلا گیا۔ 
اور جاتے  ہوئے  لڑکی نے  محسوس کیا کہ وہ بالکل اکیلا ہو گیا ہے۔ اس کا ہر اٹھتا ہوا قدم بوجھل ہو رہا تھا اور آگے  کی سمت میں  اس کا وجود سمٹتے  سمٹتے  معدوم ہو گیا۔ 
اس نے  اپنا چراغ اپنی دہلیز پر روشن کر کے  رکھ دیا، جو اس کی دہلیز پر خاموش و پر سکون لَو کے  ساتھ جلتا رہا۔ شایداسے  کسی کا انتظار تھا، اسی لئے  وہ مسلسل جامد و ساکت رہا۔ بس کبھی کبھی ہوا کے  کسی غیر محسوس جھونکے  سے  اس کی لَو لہرا جاتی تھی، لیکن وہ خود اپنی روشنی کے  ساتھ مستحکم رہا۔ پھر ایک دن اس کے  بزرگوں  نے  اس کے  چراغ کے  بالکل برابر ایک اور چراغ رکھ دیا۔ اس کی لَو سے  دل کش رنگ برنگے  ستارے  چٹخ کر بکھر جایا کرتے  اور روشنی اور بھی زیادہ دل کش ہو جایا کرتی۔ وہ چراغ اس کے  بالکل برابر روشن رہا۔ دونوں  لَویں  یکساں  روشن رہیں، روشنی بڑھ گئی۔ گھر کا کونہ کونہ آباد ہو گیا۔ سنّاٹا نغمہ بار چہل پہل سے  معمور ہو گیا۔ اگر کبھی ہوا کا کوئی غیر محسوس جھونکا ایک شعلہ کو لرزا دیتا تو دوسرا اس کی محافظت کے  لئے  اس پر جھک جایا کرتا۔ ان دونوں  میں  اتنا انس پیدا ہو گیا تھا کہ کسی کو کسی طرح کا کوئی امتیاز محسوس ہی نہ ہوتا تھا۔ زندگی بے  رس اور سپاٹ نہیں  تھی۔ ان کی لَویں  ایک دوسری میں  کبھی الجھ بھی جایا کرتی تھیں تو فوراً اپنی گرہیں  گرہیں  سلجھا کر وہ ایک دوسرے  کے  شانہ بہ شانہ استواری کے  ساتھ مستحکم ہو جاتیں۔ زندگی اپنی پوری حرارت کے  ساتھ رواں  دواں  تھی۔ انھوں  نے  ہمیشہ کوشش کی کہ ان کی باتیں  ان کی دیواروں  سے  باہر نہ جانے  پائیں۔ اس کوشش میں  انھیں  امکانی حد تک کامیابی ہوئی اور وہ صابر و شا کر رہے۔    
ایک تنہا رات میں وہ اپنی زندگی کے  بیتے  دنوں  کا شمار کرنے  کے  عذاب میں  مبتلا ہو کر کچھ حاصل نہیں  کر پا رہا تھا، لیکن وہ دن تھے  کہ ایک خلش دل کی گہرائی میں  پیدا کر رہے  تھے۔ ان دنوں، جب وہ ساری زندگی کے  لئے  ایک رشتہ میں  بندھ گئے  تھے، وہ اکثر سوچاکرتاکہ کیا میں  اس ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا بھی کر سکوں  گا؟
’’یہ آپ کیوں سوچتے  ہیں ؟ کچھ ذمہ داری میری بھی تو ہو گی، میں  کوئی بے  حس پتھر تو نہیں  ہوں ‘‘۔ 
’’لیکن بوجھ تو مجھے  ہی اٹھانا ہے ‘‘۔ 
’’یہ بوجھ اٹھانے  میں  میں  آپ کی مدد کروں  گی‘‘، اس کے  لبوں  پر تبسم تھا اور چہرے  پر شگفتگی۔ 
وہ بھی مسکرا دیا۔ زندگی میں  کلیاں  کھل اٹھیں۔ چاروں  طرف بہار ہی بہار، مسرت ہی مسرت، شکستِ رنگ میں  الوان ہی الوان۔ ہر خار شاخِ گل میں  سج جایا کرتا اور بے  ضر ر محسوس ہونے  لگتا۔ پھول اور بھی زیادہ نرم و نازک محسوس ہونے  لگتا۔ معطر فضا قہقہہ زار بن جاتی اور وہ اس بہجت آمیز موسم میں  خوشبوؤں  سے  سرشار ہو جاتے۔ کوئی تھا جو ان کے  اندر زندہ تھا، آنے  والے  کل کی آغوش میں  کروٹیں  لے  رہا تھا۔ وہ آیاتواس نے  اسے  محبت کی آغوش میں  بھر لیا۔ اس کی آنکھوں  میں  نور تھا اور اس کے  چہرے  پرسایہ فگن ہستی کی معصومیت! لیکن پھر وہ اچانک بیمار پڑ گئی، وہ بھی اس حد تک کہ زندگی اور موت کی کشمکش خطرناک بن گئی۔ دوپہر کو جب وہ دوا لے  کر شہر سے  واپس ہوتا تو دھوپ کی تمازت سے  سلگ جاتا۔ بل کھا کر سڑک کے  پاس سے  گزرتی ہوئی ندی اپنے  ٹھنڈے  پانی کی حرص پیدا کر دیتی۔ وہ اس کے  کنارے  تک جاتا، اپنے  منھ پر چلو بھر بھر کر چَھپکّے  مارتا، کُلّیاں  کرتا، کچھ اندر کی آگ بجھتی تو وہیں  ندی کے  کنارے  بیٹھ جاتا اور خم کھا کر بہتے  ہوئے  دھارے  کو محو ہو کر دیکھنے  لگتا۔ اس میں  ایک زندگی تھی اور اپنی زندگی کے  لئے  ہی پر امید ہو کر وہ پھر چٹختی دھوپ میں  اپنا وجود لے  کر آ جاتا اور اپنا سفرپھر شروع کر دیتا۔ پُرتبسم پیکراس کا اس طرح استقبال کرتی کہ جیسے  وہ دوبارہ مژدۂ حیات لے  کر واپس آئی ہو۔ یہ امید تھی جو زندگی کو واپس لے  آئی۔ 
بات یہیں  ختم نہیں  ہوتی۔ اس کے  کنبہ میں  پہلا وجود ایک بیٹی کی صورت میں  آیا اور اس نے  ان کی ویران زندگی میں بہار کی خوشبو بکھیر دی۔ ہر طرف مسرتیں  ہی مسرتیں، نور ہی نور! یہ تو وہ دولت تھی جو تمام دولتوں  میں  سب سے  اعلیٰ تھی۔ اس کے  علاوہ انھیں  اور کیا چاہیے  تھا۔ اس ایک معصوم ہستی نے  انھیں  سرشار کر دیا۔ انھیں  تو سب کچھ مل گیا تھا۔ لیکن ابھی اس نعمت کو ملے  دوسال بھی نہیں  ہوئے  تھے  کہ ایک مہلک بخار نے  اس معصوم اور بے  حد خوبصورت کلی کے  وجود کومسخ کر دیا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے  ذہناً معذور ہو گئی۔ اس نے  اس ابتلا پر بھی صبر کیا۔ یہ تو اس کی طرف سے  ہے  جس نے  اسے  بنایا ہے۔ ہمیں  تو اس حال میں  بھی راضی رہنا ہے۔ زندگی بھر اس نے  صبر وسکون سے  کام لیا اور کبھی کوئی حرفِ شکایت زبان پر نہیں  آیا۔ 
اس نے  گھبرا کر اس کے  چہرے  کی طرف دیکھا۔ اوپر سے  پرسکون پانی کی تہہ میں  کتنے  خوفناک طوفان کروٹیں  لے  رہے  ہیں۔ وہ انھیں  روکنا چاہتی تھی، لیکن باطن کی ان گہرائیوں  کو چھیڑنے  کی اس میں  ہمت نہ ہو ئی۔ 
’’جانتی ہو، اب وہ بچی کتنی بڑی ہے ؟‘‘
’’کتنی بڑی؟‘‘
’’تم سے  بڑی ہی ہے  وہ! اور اس کو سنبھالے  رکھنے  پراس کی ماں  کو قدرت حاصل ہے۔ لیکن اس کے  دل کا اطمینان اور چہرے  کا سکون کبھی بھی متاثر نہیں  ہوتا‘‘۔ 
اوہ! وہ اندر سے  کانپ گئی۔ ایک بھیانک خدشہ اس کے  دل میں پھن کاڑھ کے  کھڑا ہو گیا۔ اگر وہ میری ممی ہوتیں  اور وہ میں  ہوتی، تو کیا سب کچھ اسی طرح مستور و مخفی رہتا؟
’’بیٹی، تمہارا چہرہ تمہاری دلی کیفیت کی چغلی کھا رہا ہے۔ مجھے  اندازہ ہے  کہ تم کیا سوچ رہی ہو۔ صبر و برداشت اسی میں  ہوتی ہے  جس میں  اس کی صلاحیت ہو۔ خطرہ تم نے  کیوں  محسوس کیا؟‘‘
وہ خاموش ہو کر اپنے  خیالوں  میں  گم ہو گیا۔ غنچہ مسکرایا اور مرجھا کر بکھر گیا۔ موت منڈلاتی رہی، زندگی امید و بیم کے  درمیان ڈولتی رہی۔ وہ خود بھی مایوس ہو چکی تھی، زندگی کی ڈور اس کے  ہاتھ سے  چھوٹتی جا رہی تھی۔ آنکھوں  میں  حسرت تھی، پھر بھی وہ اپنی روشن آنکھوں  سے  اس کی آنکھوں  میں جھانکتی رہی، کچھ تلاش کرتی رہی۔ 
’’کیا بات ہے ؟ تم اس طرح کیا دیکھتی رہتی ہو؟‘‘
’’میرے  بعد آپ دوسری شادی کر لیجیے  گا‘‘۔ 
وہ چپ ہو گیا، نم دیدہ ہو کر اس نے  چھوٹتے  ہوئے  دامن کو مضبوطی سے  تھام لیا۔ اس کے  ہونٹ کپکپا گئے، ’’ضرور کروں  گا، ضرور! بشرطے  کہ وہ دوسری بھی تم ہی ہو‘‘۔ اس نے  بہت چاہا لیکن روکنے  کے  باوجود آنسوؤں  کے  دو قطرے  اس کے  سینے  پر ٹپک پڑے۔ 
’’حوصلہ رکھیے، ابھی میں زندہ ہوں ‘‘۔ 
’’میں  کیا کروں، یہ زہریلے  لفظ جب بھی میری طرف پھینکے  جاتے  ہیں  تو میرا سینہ چیر کے  رکھ دیتے  ہیں ‘‘۔ 
	وہ چپ ہو گئی اور بہت بھروسہ کے  ساتھ اس کا ہاتھ سہلانے  لگی۔ 
	اب اس کی بیماری کو ساڑھے  تین مہینے  سے  زیادہ عرصہ ہو رہا تھا۔ بسترسے  وہ اٹھ نہیں  سکتی تھی۔ دن رات مسلسل پڑے  پڑے  جیسے  وقت بھی کاٹے  نہیں  کٹتا تھا۔ بعض وقت جب یہ کس مپرسی کی حالت ناقابل برداشت ہو جاتی تواس کی آنکھوں کے  گوشے  بھیگ جاتے۔ اس کی ٹھوڑی لرزنے  لگتی اور وہ تکیہ میں  منھ چھپا کر سسکیاں بھرنے  لگتی۔ ایسے  وقت اس سے  بھی اس کی یہ کیفیت دیکھی نہ جاتی اور اس کے  سینے  میں  جیسے  دکھ کے  بادل رندھنے  لگتے  اور وہ بے  چارگی کے  ساتھ اس کی طرف دیکھنے  لگتا۔ یہی عورت جواب تک ہر مرحلے  پراس سے  زیادہ با ہمت ثابت ہوئی ہے  آج کس طرح مجبور محض ہو کر رہ گئی ہے۔ زندگی کے  ساتھ کشمکش نے  اسے  جہاں چٹان کی طرح مستحکم رکھا اب ریت کے  تودہ کی طرح ریزہ ریزہ ہو گئی ہے۔ پھر وہ  اپنی اندرونی حالت پر قابو پانے  کی ناکام کوشش کرتے  ہوئے  اسے  دلاسا دینے  کی کوشش کرتا۔  	’’دیکھو، مدّو، یہ کیا تم بچوں کی طرح جی چھوڑ رہی ہو۔ خدا پر بھروسہ رکھو، جلد ہی اچھی ہو جاؤ گی‘‘۔ 
	اور وہ بے  بسی کے  ساتھ اپنی ہتھیلیوں سے  آنسو خشک کرنے  لگتی۔ 
	’’کیا تم اس قدر مایوس ہو چکی ہو، اپنی صحت سے ؟‘‘
	’’نہیں میں  مایوس نہیں ہوں مگر اس طرح  بسترپرکب تک پڑی رہوں گی؟‘‘
	’’جب تک خدا کی مرضی ہو۔ اس میں  کسی کو کیا دخل ہو سکتا ہے ‘‘۔ 
	اورپھراس کی آنکھوں سے  بے  اختیارآنسووں  کا سیلاب امنڈ پڑتا۔ 
	’’مدّو، جب تم جیسی عورت کا یہ حال ہو گاتوسوچوکہ میں اپنے  آپ پرکیسے  قابوپاسکوں گا‘‘۔ 
	’’مجھے  اپنی ذات سے  زیادہ اِس کی فکر ہے ‘‘، اس نے  نومولود بچے  کی طرف اشارہ کر کے  کہا۔ 
	’’ٹھیک ہے  تمہاری بیماری کا اثر بچے  کی صحت پر ضرور پڑے  گا، لیکن تم ذرا اپنے  دل کو مضبوط کرو، جلدی سے  اچھی ہو جاؤ تو بچہ بھی سنبھل جائے  گا‘‘۔ 
	اور وہ بچے  کو مامتا بھری نظروں سے  دیکھنے  لگی۔ 
	’’تمہاری صحت پر ہی بچے  کی صحت کا انحصار ہے ‘‘۔ 
	وہ کچھ اس طرح خاموش ہو جاتی کہ جیسے  وہ کسی گہری فکر میں کھو گئی ہو، اور دل ہی دل میں  مصمم ارادہ کر رہی ہو کہ اسے  صحت یاب ہونا ہے۔ 
	اس کی یہی ادا اسے  سب سے  زیادہ پسندتھی، اوراسی ادا نے  آج شادی کے  بارہ سال بعد بھی اس کے  اندر محبت کی کلیوں کواسی طرح تازہ اور خوشبودار بنائے  رکھا تھا جس طرح وہ پہلے  دن اور پہلی چاندنی راتوں میں تھیں۔ وہ جب ہمت چھوڑ دیتا تھاتواس کی طرف پُر امید نظروں  سے  دیکھتا جیسے  اس کے  سہارے  کی تلاش میں ہو۔ اس کی آغوش میں سر رکھ کر جب وہ آنکھیں بند کر لیتا اور وہ اپنی انگلیوں سے  پیار بھرے  انداز میں اس کے  بالوں میں کنگھی سی کرنے  لگتی اور عزم و یقین سے  بھری ہوئی دھیمی آواز میں  سمجھانے  لگتی، اور حالات کا مقابلہ کرنے  کی ہمت دلاتی تو وہ اپنے  آپ کواس کی آغوش کے  اس طرح سپردکر دیتا کہ جیسے  اسے  ساری کامرانیاں ایک ساتھ نصیب ہو گئی ہیں، اور اب اس کے  سامنے  کوئی مشکل نہیں  رہی ہے، اسے  کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے، وہ گویا ایک ایسے  آرام دہ گہوارہ میں لیٹا ہوا ہے  جس میں  اسے  پپوٹے  بند کرتے  ہی نیند آ گئی ہو اور حسین خواب اس کی غنودگی میں  بسیرا کر چکے  ہوں  اور یہ خواب کبھی نہ ٹوٹیں گے۔ یہ لذت اس کے  لئے  اتنی بے  پناہ ہوتی کہ وہ اس کی کلائیوں کو پکڑ لیتا، اور جذبات سے  لرزتی ہوئی آواز میں کہتا:
	’’مدّو!‘‘
	’’جی!‘‘
	اس ’’جی‘‘ میں  مٹھاس کی کتنی گھلاوٹ ہوتی، وہ بیان نہیں کر سکتا تھا۔ 
	’’مسکرادو۔ ۔ ۔!‘‘
	’’نہیں!۔ ‘‘
	اس ’’نہیں ‘‘میں شوخی بھی ہوتی اور مسکراہٹ بھی!
	ایک کلی چٹختی اور وہ اسے  بری طرح گدگدا دیتا۔ وہ گدگدی سے  بے  حال ہو جاتی۔ 
	’’اف، اﷲ! یہ کیا مصیبت ہے ‘‘۔ 
	لیکن اب یہ خوشگوار لمحات جیسے  خواب و خیال سے  معلوم ہوتے  تھے، وہ پہروں  اس کے  پلنگ کی پٹی پر بیٹھا رہتا۔ اس کے  چہرے  کو ٹکٹکی باندھے  دیکھا کرتا اور ماضی کی یادیں اس کے  مضمحل سے  چہرے  پر ناچتی ہوئی نظر آتیں  اور ہریاداُسی طرح شوخ ہوتی جس طرح اپنے  کردار کے   مختلف رنگوں سے  اس نے  زندگی کو شوخ بنا رکھا تھا۔ 
	اس کی آنتوں میں پھنسیاں پڑ گئی تھیں، ان پھنسیوں میں پیپ پڑ گئی تھی اور ہر وقت ناقابل برداشت ٹیس اٹھتی رہتی۔ اس تکلیف کو برداشت کر لینا اسی کے  بس کی بات تھی۔ بھرابھراجسم سوکھ کر ہڈیوں کا پنجر ہو گیا تھا، آنکھوں کے  گرد گہرے  سیاہ حلقے  پڑ چکے  تھے، اور چہرے  پرسفیدی کھنڈ آئی تھی۔ ایسے  عالم میں جب وہ دردسے  بے  تاب ہو جاتی اور دانتوں سے  ہونٹ چبانے  لگتی تو دیکھنے   والا یوں  محسو س کرتا کہ جیسے  سارا درد اس کے  اندر منتقل ہو گیا ہے۔ اور پھر یہ حالت دیکھے  نہ دیکھی جاتی۔ کلیجہ پانی ہوتا ہوا محسوس ہوتا اور وہ اپنی آنکھوں کی نمی کو چھپانے  کی کوشش کرتا۔ 
	وہ اس وقت بھی اس کے  پلنگ کی پٹی پر بیٹھا ہوا تھا اور وہ درد  کو ضبط کرنے  کی ناکام کوشش کر رہی تھی، پھراس نے  کروٹ لی اور منھ دوسری طرف کر لیا۔ اسے  فوراً شبہ ہوا کہ وہ اپنے  آنسو چھپانے  کی کوشش کر رہی ہے۔ اس نے  آہستہ سے  اس کے  شانے  پر ہاتھ رکھا اور اس کے  چہرے  کو اپنی طرف پھیرنا چاہا۔ اس نے  بغیرکسی مزاحمت کے  اپنا رخ اس کی طرف کر لیا۔ اس کی آنکھیں  نم تھیں  اور ناک سرخ ہو چکی تھی، نتھنے  آہستہ آہستہ لرز رہے  تھے۔ 
	’’مدّو‘‘، وہ اپنی آواز کی لرزش پر قابو نہ پاسکا۔ 
	’’پانی!‘‘
	 اس نے  سرعت کے  ساتھ اپنے  آنسو پونچھ لئے، اس کے  حلق میں تین چار چمچے  پانی ٹپکایا اور پھر تولیہ سے  اس کے  ہونٹوں  اور آنکھوں کو خشک کیا۔ 
	’’کیا بات ہے ؟‘‘
	’’کچھ نہیں ‘‘۔ 
	’’کچھ تو ضرور ہے ‘‘۔ 
	’’اس بیماری سے  اب طبیعت گھبرا چکی ہے ‘‘۔ 
	’’ٹھیک ہے، لیکن حوصلہ نہ ہارو۔ خدا نے  چاہا تو اب تم اچھی ہو جاؤ گی‘‘۔ 
	وہ بالکل خاموش رہی۔ 
	’’دیکھتی نہیں ہو۔ اب پہلے  سے  تم کتنی بہتر ہو، تمہاری تکلیف میں بھی کمی ہونے  لگی ہے  اور اب پیپ کا اخراج بھی کم ہو رہا ہے ‘‘۔ 
	پھر بھی وہ خاموش رہی اور نہ معلوم کس سوچ میں  ڈوب گئی۔ 
	اس نے  اس کی توجہ بٹانے  کے  لئے  بچے  کو اس کے  پہلو میں لٹا دیا۔ اس نے  پہلے  ایک بے  توجہی کی نظر بچے  پر ڈالی پھر سینے  میں  مامتا نے  کروٹ لی اور بے  چینی کے  ساتھ بچے  کوسینے  سے  چمٹا لیا۔ اس کی آنکھوں سے  بے  اختیارآنسو چھلکنے  لگے، بڑی دیر تک وہ اسی طرح روتی رہی اور اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ کیا کرے۔ 
	’’مجھے  بٹھا دیجئے!‘‘اس نے  خود ہی اپنی کیفیت پر قابو پاتے  ہوئے  کہا۔ 
	اس نے  سہارادے  کراسے  بٹھایا اور خوداس کی پیٹھ کے  پیچھے  سہار ا بن کر بیٹھ گیا۔ اس نے  بچے  کو اپنی گود میں  لٹانے  کے  لئے  کہا۔ شایداس طرح اس کی مامتا جاگ اٹھے  جس کے  جوش میں  وہ بچے  کو لاڈ پیار کرے  اور اس کی ڈوبتی نبض میں  حرکت آ جائے۔ اس نے  مامتا بھری گود میں بچہ کو لٹا دیا۔ بڑی دیر تک وہ اس کے  چہرے  کو اپنی نرم ہتھیلیوں سے  سہلاتی رہی، پھراس نے  پاؤڈر، سرمہ، پانی اور تولیہ مانگا۔ اس نے  ساری چیزیں  پاس کی میزپرسے  اٹھا کراسے  دے  دیں، اس نے  بڑے  انہماک کے  ساتھ بچے  کوسنوارا اور ٹکٹکی باندھے  دیکھتی رہی۔ اسے  یہ احساس تھا کہ یہ محنت اسے  بری طرح تھکا دے  گی، اس کا اثراس کی اَلسر سے  داغ داغ آنتوں پربھی پڑے  گا۔ لیکن اس نے  اس کے  انہماک میں خلل ڈالنامناسب نہ سمجھا تاکہ وہ تھوڑی دیر کے  لئے  اپنی تکلیف کو بھولی رہے۔ 
	’’مدّو، لاؤ میں بچے  کو تمہارے  بسترپرلٹادوں۔ تم بھی اس کے  پاس لیٹ جاؤ‘‘۔ 
	اس نے  آہستہ سے  بچے  کواس کی گود سے  اٹھا کربسترپرلٹادیا اور وہ بھی قدرے  مطمئن سی اس کے  پاس ہی لیٹ گئی۔ پھر اس کی آنتوں میں شدید درد اٹھا اور وہ بے  حال ہو کر تڑپنے  لگی۔ 
	یہ کیفیت مسلسل ساڑھے  تین مہینے  سے  چل رہی تھی۔ اس کی علالت کی شدت کی وجہ سے  بے  چارہ بچہ توجہ سے  محروم ہو رہا تھا، نہ وقت پر دودھ ملتا تھا اور نہ اس کی ضروریات کی بروقت تکمیل ہو پاتی تھی۔ نتیجہ ظاہر تھا کہ اس کی صحت بھی متاثر ہوئی اور بچہ بھی بیمار رہنے  لگا۔ رفتہ رفتہ اس کی کمزوری اس قدر بڑھی کہ زندگی کو خطرہ لاحق ہو گیا، اس کے  لئے  یہ ایک نئی آزمائش تھی۔ صرف اسی کے  لئے  کیا، گھرکا ہر فرد  دو گونہ پریشانیوں میں مبتلا ہو گیا۔ وہ جب بھی بچے  کی اس حالت کو دیکھتی تو اپنی بیماری بھول کر بچے  کے  لئے  فکرمند ہو جاتی اور رہ رہ کر آنکھوں  میں  سیلاب امنڈنے  لگتا۔ 
	’’مدّو، دل تھوڑا نہ کرو۔ بچہ اچھا ہو جائے  گا‘‘۔ 
	مگراس کی غم زدہ آنکھوں کی نمی کم نہ ہوتی۔ 
	’’دیکھو نا، اگر تم رو رو کر ہلکان ہو گی تو بڑی مشکل ہو جائے  گی۔ تم کو تو صرف اپنی صحت کی فکر کرنی چاہیے  تاکہ جلد سے  جلد اچھی ہو جاؤ اور دوبارہ تم خود بچے  کی طرف توجہ دے  سکو‘‘۔ 
	وہ اس کی نصیحت کو کچھ اس طرح سنتی جیسے  وہ صرف دل بہلاوے  کی بات ہو، کیونکہ اس کی سانس دن میں  چار پانچ بار اکھڑ جایا  کرتی تھی اور سب ہی اس کی زندگی سے  مایوس ہو جایا کرتے  تھے۔ زندگی کے  کگار پانچ مہینے  تک اسی طرح ٹوٹتے  رہے  اور وہ سب دریا کے  بڑھتے  ہوئے  پاٹ کو حسرت و مایوسی کی حالت میں  دیکھتے  رہے، اپنی کیفیت کو اپنے  سینے  میں  دبائے  وہ اسے  دلاسا دیتا رہا۔ 
	’’جتنی جلد تم اچھی ہو گی، بس سمجھو، اتنی ہی جلد بچے  کو صحت نصیب ہو گی۔ ماں سے  بڑھ کر کون تیمار دار ہوتا ہے ‘‘۔ 
	وہ یہی سمجھتا رہا کہ میرے  ان دل بہلاووں  کا اس پر کوئی بھی اثر نہیں  ہو رہا ہے، لیکن ایک ہفتہ کے  اندر ہی اسے  احساس ہوا کہ اس کے  مرض میں  کمی ہو رہی ہے، اور وہ محض بچے  کے  لئے  کافی دیر تک اپنے  بسترپراس کے  سہارے  بیٹھی رہتی اور بچے  کی تیمار داری کرتی رہتی، لیکن وہ ایک خوبصورت ننھا پرندہ تھا اڑ جانے  کے  لئے، اس لئے  وہ اُڑ گیا۔ 
پھر ایک دن اسے  ایک بہت ضروری کام سے  باہر جانا پڑا۔ اس بیچ اس بیمار عورت نے  خواب دیکھا کہ وہ گود میں  بچہ کو لئے  بیٹھی ہے  اور اس کے  گرد بہت سی عورتیں  بیٹھی ہوئی ہیں۔ اس نے  ان عورتوں  کے  سامنے  بچے  کے  ڈھانچے  کو رکھتے  ہوئے  کہا، ’’لیجیے، یہ تو ختم ہو گیا‘‘۔ 
دوسرے  دن کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ خواب تھا یا کہ حقیقت کی پیشن گوئی۔ 
 وہ جب کام سے  لوٹا تو بچے  کو ختم ہوئے  چار دن ہو چکے  تھے۔ 
’’یہ کیا ہو گیا؟‘‘ اس کا گلا رندھ گیا اور آنکھیں  اشک بار ہو گئیں۔ 
’’جس کی امانت تھی اس نے  واپس لے  لی ‘‘، کمزوری اور بیماری کے  باوجود اس کے  چہرے  پر غیر معمولی طمانیت تھی۔ 
لڑکی اس کا منھ دیکھنے  لگی۔ اسے  ایسا محسو س ہوا کہ جیسے  اس کی اصلی ماں  وہ تھی اور اسے  گود کوئی دوسری ملی ہے۔ اس ماں  کے  درد کواس نے  اپنے  سینے  میں  محسوس کیا جواس کے  دل سے  اُبل کراس کی پلکوں  سے  چھلک پڑا۔   

کئی سال بعد ایک بار پھر وہ موت کے  دہانے  تک پہنچ گئی۔ ہمیں  جب معلوم ہوا تو اتنی تاخیر ہو چکی تھی کہ زندگی کا آخری لمحہ اس کی آنکھوں  میں  دھندلانے  لگا تھا۔ آپریشن کے  بعد جب وہ باہر لائی گئی تو اس کے  ہونٹ لرز رہے  تھے  اور اپنے  والد کو تھوڑی تھوڑی دیر کے  بعد پکار رہی تھی۔ اس کا گلا رندھ گیا، لیکن اس کی سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا کہ وہ اس میں  اپنے  وجود کا شعور کیسے  جگائے۔ کئی گھنٹوں  کے  بعد جب وہ ہوش میں  آئی تو اسے  دیکھ کر مسکرا دی۔ روشنی، خوشبوئیں، ترنم، ساز و آواز، سب نت نئے  انداز میں  رقص میں  آ گئے۔ اس نے  چاہا کہ وہ اس کرب کو اپنی ہتھیلیوں  پر رکھ کر دکھائے  اور شکوہ کرے، لیکن اس تبسم نے  ہر درد کو پھول بنا کر شگفتہ کر دیا۔ 
جب نرسنگ ہوم سے  وہ اسے  گھر لے  کر آیا تو اس میں  بڑا رجائی اعتماد جاگ اٹھا۔ ایک بار پھر وہ اسے  زندگی کی آخری دہلیز سے  واپس  بیچ منجدھار میں  لے  آیا تھا۔ زندگی وہ ایسی تنگ دامانی کے  ساتھ گزار رہے  تھے  کہ اگر کوئی ناگہانی بار ان پر پڑ جاتا تو ان سے  اٹھائے  نہ اٹھتا، وہ نڈھال ہو جاتے  اور بے  بسی میں  دل مسوس کر رہ جاتے۔ دستِ سوال اٹھتا نہ تھا، حاجت روائی ہوتی نہ تھی، ہاں  بس دستِ دعا ضرور اٹھ جایا کرتا، التجاؤں  کے  ساتھ گلا رُندھ جاتا اور دل بوجھل ہو کر اداس گہرائیوں  میں  ڈوبنے  لگتا۔ وہ اپنی آنکھوں  کی نمی کو بستہ لبوں  میں  چھپا لیا کرتا اور اپنے  غم کو اپنے  باطن میں  ہی مستور رکھتا۔ وہ بھی ایک پُرسکون جھیل تھی کہ بالائی سطح بے  حرکت اور باطن میں  ہزاروں  اضطراب چھپائے  ہوئے  تھی۔ اس نے  کہا تھا کہ وہ ہر حال میں  اس کا ساتھ دے  گی۔ خاموشی سے  وہ اس کا مشاہدہ کرتی رہتی اور پھر ایک دن وہ اس کے  کندھے  سے  کندھا ملا کر کھڑی ہو جاتی۔ 
وہ ہنس دیتا، ’’تم ابھی میرے  کندھے  تک نہیں  پہنچ سکی ہو‘‘۔ 
’’میں  نے  کوئی دعویٰ تو نہیں  کیا ہے، بس اپنی ایڑیوں  پر کھڑی ہونے  کی کوشش کی ہے ‘‘۔ 
اس کوشش کے  ذریعہ اس نے  وہ کچھ حاصل کیا جو اس سے  پہلے  اس کے  پاس نہیں  تھا۔ پھر اس نے  اپنے  نور کو پھیلانا شروع کیا۔ اس کی شعاعیں  دور دور تک پھیلنے  لگیں۔ خوبصورت ملکوتی پرندے  اپنے  انواع و اقسام کے  رنگوں  والے  پروں  سے  آراستہ اس کے  گرد جمع ہو جاتے  اور ایک ملکوتی دھندلکا اس کے  گرد چھا جاتا۔ وہ رشک سے  اسے  دیکھتا اور مسرتوں  کی پہنائیوں  میں  گم ہو جاتا۔ زندگی معمول پر ہوتی تو اس کی مصروفیتوں  سے  صبح و شام میں  ولولہ پیدا ہو جاتا۔ یہی کیفیت تھی جس کے  اعتماد و طمانیت کی ہمہ رنگی میں وہ غرق ہو جاتا اور محسوس کرتا کہ وہ ایک دنیا تھی جس نے  اسے  ایسی بہجت عطا کر دی تھی کہ وہ ہر لحظہ شادمان رہتا تھا اور یہ بھول جاتا تھا کہ خواہشوں  اور ارمانوں  کے  امکانات اور بھی ہو سکتے  ہیں۔ اس نے  زر و جواہر کے  منقش دروازے  کبھی کسی تجسس کے  تحت کھولنے  کی آرزو نہ کی۔  
اس کی علالت کے  دوران ایک دن اس لڑکی کی ماں  اور چھوٹی بہن تینوں  اس کے  یہاں  آئیں۔ بہت دیر تک وہ اس سے  باتیں  کرتی رہیں۔ بہت سی باتیں  ایسی تھیں  جن کے  باطن سے  جستجو جھانک رہی تھی۔ لیکن ان باتوں  میں  لگاؤ ایسا تھا جیسے  وہ ایک دوسری سے  ایک زمانہ سے  مانوس ہوں۔ بڑی لڑکی سب کچھ بڑے  انہماک سے  سنتی رہی جیسے  وہ کسی ایسے  ماضی کی باتیں  ہوں  جو اس کا اپنا ماضی رہا ہویا اس کے  گرد و پیش کا ماضی! لیکن وہ تو ایک اُنس تھا جو اُس کے  جذبات نے  پیدا کر دیا تھا۔ وہ جو کچھ کسی وجہ سے  وابستہ ہو جاتا ہے  وہ بڑا مانوس ہو جایا کرتا ہے۔ 
چلتے  چلتے  پرانی یادوں  نے  کہا، ’’تمہارا انتخاب درست تھا، بالکل درست!‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنی بچیوں  کو ساتھ لے  کر چلی گئی۔ 
ان سب کے  جانے  کے  بعد جب وہ اس کے  پاس واپس آیا تو وہ بے  حد خوش نظر آئی اور اس کے  کچھ پوچھنے  سے  پہلے  اپنے  تاثرات کا اظہار کرنے  لگی، ’’بہت اچھی خاتون ہیں ‘‘۔ 
وہ مسکرا دیا، ’’تمہیں  تو ہر ایک میں  خوبیاں  ہی خوبیاں  نظر آتی ہیں ‘‘۔ 
وہ سنجیدہ ہو گئی، ’’مجھے  تو خوشبو اچھی لگتی ہے، اس لئے  خوشبو ہی تلاش کرتی ہوں ‘‘۔ 
وہ مسکراتا ہی رہا۔ اس کا مقصد چھیڑنے  کے  سوا اور کچھ نہ تھا۔ 
’’کاش میں  اس بڑی لڑکی کو اپنے  گھر لاسکتی‘‘۔ 
لیکن اس کا اکلوتا بیٹا تو دورسات سمندر پار جا بسا تھا، اور وہ حسرتوں  بھرے  خوابوں  میں  ہی اسے  دیکھ سکتی تھی۔ پھر اس کے  آگے  ایک دھند تھی جو چھائی ہوئی نظر آتی۔ وہ اپنی آغوش میں  غمگین ہو کر جھانکتی، لیکن سنسان فاصلوں  کے  سوا کچھ نظر نہ آتا۔ وہ اپنے  شریکِ حیات کی طرف مایوس ہو کر دیکھتی اور پلکیں  بھیگ جاتیں۔ وہ احساسِ جرم میں  مبتلا ہو جاتا، لیکن پھر اپنے  آپ سے  پوچھتا، آخر میرا قصور کیا ہے ؟ میں  نے  اس سے  کب کہا تھا کہ تم دیارِ غیر میں  جابسو؟لیکن وہ نہیں  مانتی تھی کہ اس کے  بیٹے  نے  جو فیصلہ بھی کیا ہے  اپنی مرضی سے  کیا ہے۔ وہ کیسے  یقین کر لے  کہ اس کے  بیٹے  میں اپنی ماں  کے  لئے  کوئی محبت نہیں  ہے۔ اپنی آغوش سے  اپنا لعل اچھل دور جا گرے  اور پھر ہاتھ نہ آئے، کیسی محرومی اور مایوسی! بے  مایا کر دیا تھا اس کی مامتا کو۔ کوئی دلاسا، کوئی عذر، کوئی تاویل، کچھ بھی اثر انداز نہ ہوتا تھا۔  
اس نے  قیاس کر لیا کہ وہ لڑکی کیا سوچ رہی ہے، ’’ٹھیک ہے، میں  نے  اُس رشتہ سے  انکار کر دیا تھا، لیکن تم نے  یہ نہیں  سوچا کہ اتنی بلندی کی طرف دیکھتے  ہوئے  اپنی دستار گر جایا کرتی ہے ؟‘‘
وہ کہنا کیا چاہتا ہے، لڑکی سمجھ گئی تھی۔ اس نے  کچھ کہنا چاہا لیکن کہا نہیں۔ اور  وہ اپنی شمعِ خاموش وہیں  چھوڑ کر آگے  چلی گئی۔  
وہ سب خواب تھے  جو ایک طویل علالت تک پہنچ کر ایک تسلسل کی صورت اختیار کر گئے۔ زندگی کی کتنی گہری گہری گھاٹیاں  تھیں  جن کی عمیق تاریکیوں  میں  وہ بار بار اترتی رہی، یہاں  تک کہ انھیں  میں  گم ہو گئی۔ ڈوبتے  دل کے  ساتھ وہ سوچ رہا تھا کہ وہاں  وہ تنہا ہو گی اور سب کچھ اتنا غیر واضح کہ اس کی سوچ سمجھ کچھ کام نہیں  کر رہی ہو گی، لیکن وہ اپنے  نور کے  سہارے  اس گہرے  اندھیرے  کو پار کرتی چلی گئی۔ وہ خود اس قدر بے  بس تھا کہ اس کی التجا ان عمیق تاریکیوں  کو پار کرنے  سے  پہلے  ہی بے  صدا ہو جاتی تھی۔ وہ ہزیمت خوردہ، اسے  آواز دیتا رہا، لیکن اس کی آواز ماندگی کی گم نام وادی کے  دہانے  پر نارسائی کی حالت میں  منڈلاتی رہی۔ وہ تو مہکتی ہوئی وہاں  پہنچ گئی تھی جہاں  کسی فریاد کی بازگشت بھی سنائی نہیں  دیتی۔ اپنی ذات کو بہت کچھ آراستہ کر کے  وہ اپنے  ساتھ لے  گئی تھی۔ سب اس کا ذکر کرنے  لگے، اس کی خوبیوں  کا ذکر، اس کے  اوصاف کا شمار۔ لیکن وہ ان کے  درمیان نہیں  تھی۔ ایک خلاء تھا جو اس کی وجہ سے  پیدا ہو گیا تھا۔ اس کے  اپنے  راستے  تھے  جو اس کے  پیچھے  معدوم ہوتے  چلے  گئے  تھے۔ اب اسے  مڑ کر پیچھے  نہیں  دیکھنا تھا۔ آگے  کے  سفر کے  لئے  وہ بیٹھی انتظار کر رہی ہو گی۔ اور اب یہ ماندگی کا عرصہ کتنا طویل ہو گا؟ کوئی قیاس نہیں  کر سکتا۔ 
اس الم انگیزسانحہ پر اظہارِ ہمدردی کرنے  کے  لئے  وہ آئی، اس کے  ساتھ اس کی دونوں  لڑکیاں  بھی تھیں۔ بہت دیر تک وہ وسیع گھر کاسناٹا محسوس کرتی رہی۔ پھر جب اس پر ہول طاری ہونے  لگا تو بے  چین ہو گئی۔ وہ ایک دل دارہستی وہاں  نہیں  تھی، مگر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے  وہ وہیں  کہیں  موجود ہو۔ اس نے  چاروں  طرف دیکھا لیکن پژمردہ ویرانی کے  سوا کسی طرف کچھ نہیں  تھا۔ 
 افسردگی کے  عالم میں  کھویا ہوا جب وہ ہمت ہارنے  لگتا تو وہ اس کے  شانے  پر ہاتھ رکھ کر اسے  دلاسا دیتی، ’’کیوں  پریشان ہوتے  ہیں، جو کچھ ہمارا ہے  وہ ہمیں  ضرور ملے  گا‘‘۔ 
’’جو کچھ ہمارے  ہاتھ سے  چلا گیا وہ ہمارا نہیں  تھا ‘‘۔ 
’’کوئی کسی کا کچھ بگاڑ نہیں  سکتا۔ ہم کامیاب نہیں  ہو سکے  تو اس میں  ہمارے  لئے  کوئی بہتری ہو گی‘‘۔ 
کوئی سا بھی دکھ ہوتا تو اس کے  حوصلہ اور عزم کے  پہاڑسے  ٹکراتا اور پاش پاش ہو جاتا۔ بڑی سے  بڑی آزمائش یوں  ہنستے  کھیلتے  بیت جاتی تو پھر ایک بار ہموار زندگی سیلِ رواں  کی طرح بہنا شروع ہو جاتی۔ کتنے  ہی نشیب آئے، کتنے  ہی فراز رکاوٹ بنے، لیکن وہ صبر و شکر کی عظیم تمثیل تھی جو ہر پہلو سے  روشن و منور تھی۔ کبھی اسے  ٹھوکر لگتی تو وہ سنبھال لیتی، کبھی حوصلہ پست ہونے  لگتا تو وہ ہمت بندھاتی۔ کبھی کوئی ناگواری ہوتی تو گھر کی دیواریں  گونج اٹھتیں، لیکن وہ دیواریں  اتنی جاذبِ صدا تھیں  کہ آواز ان سے  چھن کر باہر نہ نکل پاتی۔  
اس نے  اسے  ٹٹولنا چاہا، لیکن اس کی انگلیاں  اس کا لمس محسوس نہ کر سکیں۔ تم وجود سے  عدم کا تجربہ کیسے  کر سکتے  ہو۔ تمہارے  بیچ تو ایک ایسا لامتناہی فاصلہ ہے  جس کا اندازہ کسی کو نہیں۔ ہم سب اِس کنارے  بیٹھے  ہوئے  ایک ایسے  خلاء کے  بارے  میں  قیاس آرائیاں  کرتے  رہتے  ہیں جس کے  بعد جو کچھ ہے  اس کے  بارے  میں  ہمیں  کچھ بھی علم نہیں۔ یہ تاریک وادیاں  اتنی گہری اور طویل ہیں  کہ ان کی بے  پناہی کسی کے  قیاس میں نہیں  آتیں۔ لیکن دل نہیں  مانتا، ہم کچھ سوچتے  ہیں  لیکن کوئی ارمان حقیقت نہیں  بن پاتا۔ پھر بھی ہم جو آس لگائے  بیٹھے  رہتے  ہیں  وہ آس ٹوٹتی نہیں۔ 
پھر وہ اٹھ کر چلی گئی۔ ماضی کی ڈور ٹوٹ گئی، اس کی اپنی شریکِ حیات دوبارہ نکھر کر اس کے  سامنے  آ گئی۔ سبز پوشاک میں  جوانی کے  شاداب چہرے  پر تبسم لئے  اسے  انوکھی لگاوٹ کے  ساتھ دیکھتی رہی اور پھر نظروں  سے  اوجھل ہو گئی۔ 
’’انکل، کیا میں  کبھی کبھی آپ کے  پاس آ سکتی ہوں ‘‘، اس لڑکی نے  اسے  مخاطب کرتے  ہوئے  ماں  کی طرف دیکھا۔ 
’’کیوں  نہیں، کیوں  نہیں! تم دونوں  ملکوتی پرندو جب چا ہو آ جایا کرنا۔ تم دونوں  سے  سونا گھر آباد ہو جایا کرے  گا‘‘۔ 
ایک رشتہ پھر قائم ہوتا نظر آنے  لگا۔ لیکن بیچ کے  فاصلے  تو پھر بھی باقی رہیں  گے۔ جب بھی وہ سامنے  آئیں  گے  تو کچھ اجنبیت تو پھر بھی محسوس ہوتی رہے  گی۔ تسبیح اگر ٹوٹ جائے  تو دانے  بکھر جاتے  ہیں۔ اگر ان دانوں  کو سمیٹنے  کی کوشش کی جائے  تو سب دانے  تو ہاتھ آ جاتے  ہیں، لیکن صرف ایک دانہ وہ ہوتا ہے  جو لاکھ ڈھونڈنے  پر بھی ہاتھ نہیں  آتا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا دانہ پرویا جائے  تو وہ میل نہیں  کھاتا، انمل بے  جوڑ ہی رہتا ہے۔   
					 ( ۲۰۰۱ء)     
 

ایک جہاں 

سامنے  میز پر خالی پیالی رکّھی ہوئی تھی اور وہ کہنی  ٹیکے  سگرِٹ کے  دھوئیں  کے   مرغولے   بنا بنا کر چھوڑ رہا تھا اور  گراموفون کی آواز کے  ساتھ تخیّلات کی خلاؤں  میں   پرواز کرنے   کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن وہ خالی پیالی  برابر اس کے  ذہن میں  کھنک پیدا کرتی رہی اور خیالات کا سیلِ بے  پناہ  سگرِٹ کے  دُودِ پریشاں  کی طرح اُس کے  بوجھل  ذہن  سے  اٹھتا رہا۔ آج کئی دنوں  سے  وہ عجب خلجان میں  پھنس گیا تھا۔ جو اس کے  تفکّرات میں  رفتہ رفتہ  پرورش پا کر اتنا تنومند ہو چکا تھا کہ وہ اسے  کسی طرح زائل نہیں  کر سکتا تھا اور اب شعوری طور پر اس کا  مقابلہ کئے  بغیر اس کے  لئے  کوئی مضر بھی نہ تھا۔ مگر اس وقت ایک دماغی انتشار  اسے  بیکل کر رہا تھا اور اس کے  ساتھی ارشد کے  جملے  اس کے  تفکّراتی وجود سے  ٹکرا رہے  تھے۔ ۔ ۔  ’’بشیر!۔ میرا کہنا مانو، ذرا اپنی زندگی کا جائزہ لو، اور پھر اپنے  دل سے  پوچھو کیا یہی زندگی ہے  جس کے  لئے  ہم تگ و دو کرتے  ہیں ؟ کیا ہمیں بے  مصرف  ہی زندہ رہنا ہے ؟ کیا  اس طرح  جینا  حیوانیت سے  کسی طرح  افضل ہے ؟
اس سے  پہلے  بھی ان جملوں  نے  اس کے  یکساں  افعال کی راہ میں   کھڑے  ہو کر اسے  جھنجھوڑا تھا۔ اسے  چونکایا تھا، اسے  بیدار کرنے  کی کوشش کی تھی۔  مگر اس وقت اس کی ذرا سے  بے  توجہی نے  انھیں  بے  اثر کر دیا تھا۔ لیکن جیسے  رفتہ رفتہ اب وہ اس کی  قوّتِ استدلال میں  گھر کرتے  چلے  جا رہے  تھے۔ یہاں  تک کہ اس  وقت وہ اُس کے  لئے  بہت  بڑے   ذہنی  قرار کی وجہ بن گئے  تھے۔ معاً ریکارڈ کے  اختتامی  ساز نے   اُس  میں  اضطرار سا پیدا کر دیا اور اس نے  دوسری  پیالی چائے  کی لئے   آرڈر  دیدیا اور سامنے  رکھی ہوئی خالی پیالی کے  خلاء میں  جھانکنے   لگا۔ وہ کھنک جو وہ  خالی پیالی اس کے  ذہن میں  پیدا کر رہی تھی کم ہوتی نظر نہیں  آ رہی تھی۔ اس نے  پھر اجتناب کی کوشش کرتے  ہوئے  کاؤنٹر کی طرف دیکھا جہاں  لوگوں  میں  حیوانیت ابھارنے  کے  لئے  مغربی لباس میں  ملبوس لڑکی کھڑی ہوئی ایک اور فحش فلمی ریکارڈ بجانے  لگی تھی۔ اور اپنی طرف اٹھتی ہوئی  ہر نظر کے  جواب میں   پُرہوس مسکراہٹ بکھیر رہی تھی۔ جس میں  وہ اس وقت بھی  تصنّع، فریب اور ایک خفی تجارتی انداز کو نمایاں  طور پر دیکھ رہا تھا۔ اس نے  کراہت سے  نظریں  پھیر لیں۔ زنانہ مغربی لباس نے  جیسے  اس کو زنانہ  ہسپتال کے  جنرل وارڈ میں  لے  جا کر کھڑا کر دیا۔ دواؤں  میں  ملی جُلی  صفائی اور سسکتی ہوئی مریضاؤں  کی کراہتی ہوئی بھنبھناہٹ میں  ہم آہنگ قدموں  کی آواز اس کے  کانوں  میں  ٹپکنے  لگی۔ اسے  محسوس ہوا کہ کوئی اپنی ملامت سے   زیادہ صاف پوشاک میں  نرس اُس کے  پاس  سے  گزر رہی ہے  اور اُس کے  نپے  تُلے  قدموں  کی آواز جیسے  یہ تقاضا  کر رہی ہے  کہ کوئی  ہاتھ بڑھا کر  اس کا راستہ روک دے  اور اس کے  غلیظ باطن میں  اور  زیادہ غلاظت  اتار دے۔ اُس نے  اس وقت  اپنی تصوّر پر  بُری  طرح   جھنجھلاہٹ محسوس کی۔ معاً اس کی نظروں  کے  سامنے   بوسیدہ  ٹاٹ کا پردہ   لرزنے  لگا جس کے  بارے  میں   اُسے  یقین تھا کہ وہ برابر اُسی  طرح  بڑی بڑی دراروں  والے   دروازے  پر لٹکتا رہتا تھا۔ اور جو اگر ہلتا تھا تو صرف تیز ہواؤں  کے  تھپیڑوں  سے  یا پھر  جب وہ صبح دفتر جاتے  وقت  اُسے  جھنجھلاہٹ کے  ساتھ جھٹک دیا کرتا تھا۔ اور بڑبڑاتا ہوا چلا جایا کرتا تھا۔ اور پردہ اس کے  خیال کے  مطابق  اس کے  پیچھے  اُس کے  تفکّرات کے  ایک ہجوم کو ڈھک لیتا تھا، مگر کون جانے  اُسے  کبھی ’’لہو رنگ‘‘ ناخنوں  والی انگلیاں  ہٹا دیتی ہوں  کچھ نیم بیباک  چہرے  پردے   کے  اُس پار سے  پردے  کے  اِس  پار آنے  کی  سہمی سی کوشش کرتے  ہوں۔ اور پھر کچھ سوچے  بغیر پردے  کے  پیچھے  چلے  جاتے  ہوں۔ بہرحال وہ کسی دن بھی تو  اپنے  ہونٹوں  پر کھلتی ہوئی مسکراہٹ کو لے  کر اُس پردے  کے  عقب سے  نمودار نہ ہوا۔ اکثر اس نے  سوچا کیا اس پردے  کے  پیچھے  صرف جہنّم ہے ؟۔ کیا اسی وجہ سے  جب وہ اندر داخل ہوتا ہے  تو ساری مسرّت سمٹ کر  رُوح کے  کسی نا معلوم گوشے  میں   چھُپ رہتی ہے۔ کیا پردے  کے  تاروں  میں  کربناک الجھنیں  بُنی ہوئی ہیں۔ ایسے  لمحہ اس کا دل چاہتا کہ پردے  کو نوچ کر پھینک دے۔  مگر وہ سہم جاتا۔ دروازے  کی پُر استہزاء دراریں  اُس کا تمسخر اُڑانے  لگتیں۔ ہر طرف سے  گھیر کر  جکڑ لیتیں  اور وہ گھبرا کر اس جہنّم میں  قدم رکھ دیتا۔ جہاں  کی فضا میں  ہسپتال سے  بھی زیادہ کرب انگیز خاموشی تھی اور جہاں  وہی ہسپتال کی سی مریضانہ فضا  چاروں  طرف محیط تھی۔ بس دو چار چلتے  پھرتے  ڈھانچے  تھے  جو حالانکہ  نحیف نہ تھے۔ لیکن ان کی روح چیسے  کھوکھلی تھی۔ اُن میں  کچھ آرزوئیں  تھیں  جن کی مطابقت کے  لئے  ان میں  ہمّت نہیں  تھی۔ ان میں  چند ایک خواہشات تھیں  جن کو وہ کمالِ جسارت سے  بھی زبان پر نہیں  لا سکتی تھیں۔ شاید ان کو لاشعوری طور پر  خدشہ  سا پیدا ہو جاتا ہو کہ ان کی  تمنّائیں، آرزوئیں  خلاؤں  میں  تیر رہی ہیں، اُن کے  آگے  کوئی متعیّن راہ نہیں  ہے۔ اور وہ حقیقت کی کسی نہ معلوم چٹّان سے  ٹکرا کر پاش پاش ہو سکتی ہیں۔ 
کم از کم  اگر وہ اپنے  بارے  میں  یہ نہ سوچتے  ہوں  تو وہ ان کے  بارے  میں  ضرور اب تک یہ سوچتا رہا تھا۔ اسی وجہ سے  اس کو ان سب سے   ہمدردی  تھی جن میں   اس کی بہنیں  تھیں، اس کی بیوی تھی اور چند ایک اور ویسی ہی رشتہ دار تھیں  جو اپنے  ماحول کے  دھندلکے  میں   بے  وجہ کچھ  تلاش کرنا چاہتی تھیں۔ اور شاید وہ اس وقت تک اپنی اسی تلاش و جستجو میں  منہمک  ہیں  اور اس وقت تک منہمک رہیں  گی جب تک ان کو یہ یقین نہ ہو جائے  کہ وہاں  تو اندر باہر ہر جگہ  خلاء ہی خلاء ہے، وہاں  کسی حقیقت کا  وجود نہیں، کوئی طلوع نہیں، کوئی سحر نہیں، کوئی روشنی کی کرن نہیں، سوائے  مہیب  تاریکی کے، گہری ظلمت کے!۔ یہ خیال کر کے  وہ ایک سیمابی کیفیت میں  مبتلا ہو جاتا تھا اور عجب طرح کی پشیمانی مسلّط ہو جاتی تھی۔ وہ اپنی عزیزوں  میں  سے   کسی سے  بھی نظریں  نہ ملا سکتا تھا، اور یوں  ایک جھنجھلاہٹ پیدا ہو جاتی تھی۔ وہ بے  طرح تُرش مزاج ہو جاتا۔ 
اور اب نہ معلوم کیوں  اس کو ایسے  ماحول سے  چڑ ہوتی چلی جا رہی تھی۔ وہ کبھی ان بے  کیف مصروفیات کو دیکھ کر اپنے  دماغی توازن کو  قائم نہ رکھ سکتا تھا۔ شاید  اس  خجالت ہی کی وجہ سے  وہ گھر میں  قدم رکھتے  ہی خود سے  بیزار ہو جاتا اور گھبرایا ہوا ہر بات کا جواب چڑ کر دیتا تھا۔ جیسے  اگر وہ یہ نہ کرتا تو بات کرنے   والے  کی تکّا بوٹی کر ڈالتا۔ مگر  اُس  نے  کبھی ایسی مذموم حرکت نہ کی۔ وہ تو اس سرد فضاء میں  حرارت پیدا کرنے  کا  کوئی طریقہ مہیّا کرنا چاہتا تھا نہ کہ  خود اس کو تباہ کر کے  اپنی بزدلی کا ثبوت دے  اور اپنی بلند ہمّتي کا گلا گھونٹ دے۔ اسی طرح ارشد کے  جملوں  کے  ذہن میں  گونجنے  سے  پہلے  اُس نے  بارہا کوئی موہوم سی خواہش کی۔ مگر جب بھی  ایسے  خیالات کا  جواب اس کے  دماغ میں  اٹھا تو محدود آمدنی نے  شریر بچّے  کی طرح اس حباب کو چھو لیا اور وہ پھر دماغ کی پراگندہ سطح ٹوٹ کر وہیں  پر غائب ہو گیا۔ وہ باور کرتا رہا کہ وہ حباب نہیں  بلکہ اس کے  روشن مستقبل کے   قصر و ایوان کے  سیمیائی گنبد ہیں۔ پھر وہ اب تک ان  سیمیائی  گنبدوں  کے  خوب میں  کھویا رہا۔ اور اس وقت ان خوابوں  کا سحر ٹوٹتا جا رہا تھا۔ 
ریکارڈ پھر ختم ہونے  والا تھا۔ وہ فوراً بڑبڑاتا ہوا اور دوسری میزوں  پر بیٹھے  ہوئے  لوگوں  کے  استعجاب کو نظر انداز کرتا ہوا رستوران کے  مالک سے   CREDIT کہتا ہوا نکل آیا اور وہ پُرہوس پیکر جو اُس میں   بے  پناہ کراہیت اور ذہنی طوفان برپا کر چکا تھا اس کے  تخیّلی دائرے  سے  رینگتا ہوا  کسی نا معلوم گوشے   میں  چھپ گیا۔ ذہن برابر اسی انتشاری ہیجان میں  ہچکولے  کھا رہا تھا۔ بے  بس سا۔ جیسے  کسی جھمیلے  میں  پھنس کر ہر طرف کے  دباؤ سے  پستا چلا جا رہا ہو۔ اور اپنی  انتہائی کوشش کے  باوجود بھی مجبور ہو۔ اُس نے  اپنے  ہونٹوں  کو  زور سے  بھینچ لیا۔ اس کی نسوں  میں  چنگاریاں  سی چٹخنے  لگیں، اور وہ تیز تیز چلنے  لگا لیکن ایک دم اس کے  قدم دھیمے  پڑ گئے  اور جسم ڈھیلا پڑ گیا۔ وہ سوچنے  لگا، مجھے  کہاں  جانا ہے ؟ دماغ پر کافی زور دینے  کے  بعد بھی جب وہ کوئی فیصلہ نہ کر سکا تو بے  ارادہ  کتاب کی دوکان میں  گھُس گیا۔ دوکان دار نے  اسے  معنی خیز نظروں  سے  دیکھا اور مسکرا کر اپنی رسیدوں  اور رجسٹروں  کو اُلٹنے  پلٹنے  لگا۔ وہ ہر رسالے  کی فہرست مضامین کو اس طرح دیکھنے  لگا جیسے  اُن کے  معیار کا اندازہ لگانا چاہتا ہو۔ حالانکہ وہ اچّھی طرح جانتا تھا کہ کاغذ اور روشنائی اور رنگوں  کا  یہ بھاری انبار  دیکھنے  ہی میں  خوشنما معلوم ہوتا ہے  ورنہ اس کی پہنائیوں  میں  ہزاروں   غلیظ اور رکیک جذبات اس طرح سڑرہے  ہیں  کہ ان کا تعلّق دماغ کے  احساسِ جمال کو  ایک ہی  بھپکے  میں  زائل کر دیتا ہے۔ اور پھر ان غلاظتوں  میں   خواہ کوئی کتنے  ہی عرصے  لوٹتا رہے  وہاں   کسی قسم کی اعلیٰ و ارفع حیّاتی تحریک نہ ہو گی۔ 
اُسے  اس وقت نہ معلوم کیوں  بے  اختیار بساندے   کے   پھول یاد آ رہے  تھے  جن کے   ایک ہی گچھّے  میں  گلابی، پیازی، سفید، سُرخ اور متنوّع رنگ کے   چھوٹے  چھوٹے   پھول ہوتے  ہیں  اور جن کو بچپن میں  کسی بے  کاشت زمین پر  کھِلے  ہوئے  دیکھ کر  وہ بے  طرح  للچا اٹھتا تھا۔ اور اس کا دل چاہنے  لگتا تھا کہ وہ ان کے   بہت سے  گچھّے  جمع کر لے  اور پیروں  ان سے  کھیلتا رہے۔ اسے  وہ کتنے  بھلے  معلوم ہوتے  تھے۔ بالکل چھوٹے  چھوٹے  سے  متنّوع رنگ کے  پھول ایک ہی  گچھّے   میں۔ مگر جب ایک بار اس  نے  اس کی خاردار ٹہنیوں  میں  گھُس کر  ان پھولوں  کو توڑا اور اس کی روئیں  دار پتّیوں  نے  اُس کے  چہرے  پر خراش پیدا کر دی  تو جھنجھلاہٹ کے  باوجود اُس نے  انھیں  سونگھ لینا چاہا۔ لیکن ناک تک لے  جاتے  ہی اُسے  یہ محسوس ہوا کہ چیسے  لاتعداد بدبو دار برساتی کیڑے  اُس کے  دماغ  میں  مسل دیئے  گئے  ہوں۔ اس  کا  جی متلانے  لگا۔ اُس نے  وہیں ان رنگین  خوبصورت  چھوٹے  چھوٹے  پھولوں  کو گھاس پر نفرت کے  ساتھ پٹخ دیا اور اپنی با ہوں  اور چہرے  کو  سہلاتا ہوا گھر چلا  آیا۔ اور اس دن سے  جب بھی وہ بساندے   کے  پھولوں   کو دیکھتا تو اس کا دماغ پھٹنے  لگتا اور اس کے  دل  میں  یہ خواہش کروٹیں  لینے  لگتی کہ اے  کاش ان خوش وضع گچھّوں  میں  ایسی  مکروہ بدبو نہ ہوتی۔ 
اس وقت ان کتابوں  سے  بھی اسے  ویسے  ہی جی متلا دینے  والی بدبو نکلتی محسوس ہو رہی تھی جو متوجہ  کن انداز میں  آراستہ کی گئی تھیں۔ اس کے  دل میں  ایک ویسی ہی خواہش ابھرنے  لگی تھی کہ اے  کاش ان خوش وضع صفحات میں  سفلی جذبات کی کریہہ بدبو محلول کر کے نہ پیش کی جاتی۔ لیکن پھر بھی وہ رسالے  الٹتا پلٹتا رہا۔ نہ معلوم اُن سُرابوں  میں  کیا تلاش کرتا رہا اور کتابوں  کی شکل و صورت دیکھ دیکھ کر اپنے  چہرے  پر  طرح طرح کے  نقوش پیدا کرتا رہا اور یہ سب کچھ محض اس وجہ سے  کہ وہ شام کے  بے  مصرف وقت کو کسی نہ کسی طرح کاٹ دے  تاکہ گھر کی مردہ فضا میں  غنودگی طاری ہونے  سے  قبل قدم  نہ رکھے۔ 
وہ گھر کی فضا کو مردہ ہی سمجھنے  پر مجبور ہو گیا تھا۔ اس نے  اپنے  اس ذہنی ہیجان سے  پہلے  بھی اُسے  ایسا ہی سمجھا تھا۔ کیونکہ وہ اب تک یہ سوچتا چلا آیا تھا کہ وہاں  علاوہ مادّی فکروں  کے  کچھ بھی تو نہ تھا۔ اس نے  چاہا تھا کہ اُن بھوری بھوری دیواروں  پر دھُندلکے  چھا جائیں۔ اور وہ دیواریں، وہ دروازے، وہ دریچے، وہ کمرے، وہ دالان اور وہ پورا ماحول اس دھندلکے  میں  چھپ جائے۔ اسے  یہ معلوم ہی نہ ہو سکے  کہ وہ ایک ایسے  قبرستان میں  کھڑا ہے  جہاں  مردہ ڈھانچے  چل پھر رہے  ہیں۔ بلکہ وہ چاہتا تھا کہ ہر طرف متبسّم ہو۔ نغمے   ہوں  اور  ایسا کچھ ہو کہ وہ اپنی کم مائیگی کا کبھی احساس بھی نہ کر سکے  لیکن یہ کیسے  ممکن ہو سکتا تھا؟۔ وہ مسکراتا اور حقارت سے  گردن کو خم کر دیتا اور قلم کی سنہری چمکتی ہوئی کلپ کو اس طرح دیکھنے  لگتا جیسے  اس نے  ہی اُسے  زندہ رکھا ہو، اور زندہ رکھ رہی ہو۔ اوہ اس کی گرفت کو  اپنے  سینے  کی تہوں  میں  دھڑکتے  ہوئے  محسوس کرنے  لگتا۔ مگر اب جیسے  اُس کو اس تصوّر پر ہنسی آ رہی تھی جو اپنی تکنیک تک  پہونچنے  کے  بعد فنا ہو جانے  کے  سوا کچھ بھی نہ کر سکتی تھی۔ اور پھر ان تبسّموں  اور نغموں کے  پیچھے  جو کراہیں  اور چیخیں  گھٹتیں  وہ اسے  اور بھی مریض بنا دیتیں۔ اس نے  اس خلجان میں  بھی اطمینان محسوس کیا کہ اس کی اس آرزو نے  شرمندہ تعبیر نہ ہو کر اسے  ایک فریب تک پہونچنے  سے  بچا لیا ہے۔ 
اس نے  کتنی بڑی غلطی کی تھی کہ وہ اب تک ایسی تمنّاؤں  اور آرزوؤں  کے   سہارے  جیتا رہا تھا جنھوں  نے  اسے   ناکارہ کر دیا تھا۔ اسے  خود احساس تھا کہ اس نے  گزرتے  ہوئے  وقت کے  ساتھ ہمیشہ اپنے  اندر خوف سا محسوس کیا تھا اور آنے  والے  دور کا  استقبال کرتے  ہوئے  جھجکتا تھا۔ اس میں  اتنی ہمّت نہیں  تھی کہ وہ اپنے  قدموں  پر اعتماد کر سکے۔ بلکہ جب کوئی قوّت اس کو سہارا دیتی اور وہ  وحشت زدہ  سا کھڑا ہونے  کی کوشش کرتا تو اس کے  گھٹنے  کانپنے  لگتے  اور غیر مانوس لطیف فضاؤں  کے  جھونکوں  سے  کپکپی سی محسوس کرنے  لگتا۔ پھر وہ کسی طرح بھی نہ کھڑا ہو سکتا اور دھڑام سے  مردہ لاش کی طرح اسی سطح پر آ گرتا جہاں  وہ  کچھ نہ کر سکتا تھا بلکہ ماحول اس سے  کراتا تھا پھر وہ خجل سا سوچنے  لگتا کیا  میں  بُزدل ہوں ؟ کیا میری رگوں  میں  خون نہیں  دوڑ رہا ہے ؟ جب وہ ایسے  ہی افتادہ پا لوگوں  کو دیکھتا تو ایک گہری سانس لیتا کہ یہ ان کی فطرت ہے  وہ دنیا میں  کچھ کرنے  کے  لئے  نہیں  بلکہ بوجھ گھسیٹنے  کے   لئے  پیدا کئے  گئے  ہیں۔ 
اُس نے  شدّت کے  ساتھ ایک اذیت سی محسوس کی۔ اور وہاں  کتابوں  کی دوکان میں  رسالوں  کے  ورق الٹتے  پلٹتے، کتابوں  کو  گھورتے  گھورتے  اور سوچتے  سوچتے  اس پر بوجھل پن سا  سوار ہو گیا تھا۔ اس لئے  وہ وہاں  سے   فوراً نکل آیا اور کچھ سوچے  بغیر  دریا کے  کنارے  کی طرف  چلنا شروع کر دیا۔ مگر  وہ بساندے  کے  پھولوں  کی سی بدبو اور ماحول کی اندھی تگ و دو چکّی کے  پاٹوں   کی طرح اس کے  گرد  گھر گھرانے  لگی۔ اور وہ محسوس کرنے  لگا  کہ جیسے  وہ ان میں   پستا چلا جا رہا ہے۔ اس کے  ریزے  ریزے  ہو گئے  ہیں  اور وہ آٹے  کے  ڈھیر کی طرح زمین پر بکھر جانے  ہی والا ہے۔ اس نے  اپنے  شانوں  کو اس طرح جھٹکا دیا کہ جیسے  وہ پاٹ اس کے  کندھوں  پر  ہی رکھے  ہوں  اور ایک جھٹکے  میں  ہی پکّی سڑک پر گر کر پاش پاش ہو جائیں  گے۔ لیکن وہ شانوں  سے  کچھ اُبھر گئے  اور پھر اسی طرح  چلنے  لگے  اور اس نے اس لمحہ اسی میں  عافیت سمجھی کہ وہ ان کی طرف سے  بے  پرواہ ہو جائے۔ کیوں  کہ وہ اس کے  بس کے  نہیں  ہیں۔ 
لیکن دریا کے  کنارے  پہنچ کر بھی اس کے  ذہنی انتشار  نے  اس کا ساتھ نہ چھوڑا۔ بہت ممکن تھا  کہ وہ چیخ چیخ کر رونے  لگتا، اور ضدّی بچّوں  کی طرح خاک پر ایڑیاں   رگڑنی لگتا۔ لیکن اس نے  محسوس کیا کہ یہ تو  وہ اس وقت سے  کرتا چلا آیا ہے  جب  سے  اس نے  خود کو غیر ارادی طور پر خواہشات  اور جذبات کی تند رو کے  سپرد کر کے  بے  بس تصوّر کر لیا ہے۔ اس کی روح پستی کے  اسی لمحہ  سے  روتی چیختی چلی آئی ہے۔ مگر نہ وہ خود  اس کو دلاسا دی سکا اور نہ وہ  تمنّائیں  جن کے  سہارے  اس نے نہ معلوم کتنی ہی حسین بستیاں  اپنے  تخیّل میں  بسا رکھی تھیں۔ مگر جب وہ لمحے  گزر جاتے  تو اسے  احساس ہوتا کہ یہ اپنی بے  بسی کو  اٹل ثابت کرنے  کی تاویل تھی اور اس کی حقیقت کچھ بھی نہ تھی۔ بس شاید یہ احساس اس وقت اس کے  اندر قبل از وقت پیدا ہو گیا تھا اور اس نے اپنی دماغ  کو سہارا دیتے  ہوئے  ایک سنسان بنچ کا رخ کیا جو شاید اپنی گوشہ نشینی ہی کی وجہ سے  خالی رہ گئی تھی۔ 
وہاں  بنچ پر بیٹھ کر اس نے  اپنی اعضاء  کو ڈھیلا  چھوڑ دیا تاکہ تھکن  کچھ کم ہو۔ مگر  اس وقت  بھی اس کے  ذہن  میں  طرح طرح کی دھندلی تصویریں   ناچ رہی تھیں۔ اور وہ ان کو نمایاں   دیکھنے  کے  بجائے  دریا کے  کنارے   بیٹھے  ہوئے  انسانی پیکروں  کی نقل و حرکت  میں  گم ہو جانے  کی کوشش کرنے  لگا۔ 
وہاں  بھی  مغربی  ملبوسات مشرقی پوشاکوں  پر غالب تھے۔ انھیں  کی کثرت تھی۔ اور پھر اس کے  سامنے  رستوران کی لڑکی کا  پیکر رقص  کرنے  لگا۔ وہی تجارتی مسکراہٹ، وہی تصنّع، وہی فریب۔ وہ سوچنے  لگا کیا مغرب میں  تجارت، تصنّع، اور  فریب بھی کوئی لباس ہے ؟ اور جتنا وہ غور کرتا گیا وہ لباس زیورات بنتے  چلے  گئے۔ معاً وہ کوٹ اور پتلون جو وہ زیب تن کئے  تھا اسے  بھی اس کے  تصنّع، فریب اور تجارت کا احساس دلانے لگے۔ دل میں  آیا کہ وہ انھیں  اسی وقت پھاڑ کر پھینک دے  مگر اس نے  اپنی کالر کی گرفتوں  کو ڈھیلا کر دیا اور ہاتھ تھکے  ہوئے  مسافروں  کی طرح جھُول گئے۔ ہم ایک فریب، ایک تصنّع اور تجارت ہی کے  ذریعہ تو اس  کاروانِ بے  منزل کو  بڑھائے  لئے  چلے  جا رہے  ہیں  ورنہ ہم اس طرح  بے  بس نہ ہوتے  کہ ہمارا ایک بازو خواہشات اور جذبات کے  کندھے  پر ہوتا اور دوسرا  بے  نام آرزوؤں  اور تمنّاؤں  کے  کندھے  پر!  پھر وہ ہم کو جہاں  چاہتے  گھسیٹ لے  جاتے  اور جہاں  چاہتے  چھوڑ دیتے۔ اب جو مشکوک اطمینان  ہم کو اپنے  سہاروں  پر ہے  تو کیا یہ تصنّع نہیں، فریب نہیں ؟ کیا یہ ایک ایسی تجارت نہیں  جس کی سہارے  ہم بے  دست و پا  چلنا  چاہتے  ہیں  لیکن سب کچھ قیمتاً قربان کرنے کے۔ ؟ اب بھی اس کے  ہونٹوں  پر شکنیں  تھیں  مگر ان میں  سے  مسکراہٹ جھانک رہی تھی۔ ایک ایسی مسکراہٹ جس میں  طنز و تمسخر کا  امتزاج زیادہ ہو۔ 
شام تاریکیوں  کے  شگافوں  میں   بیٹھتی چلی جا رہی تھی۔ برقی قمقمے  روشن ہو گئے  تھے  اور کنارے  پر کافی چہل پہل ہونے  کے  بعد سکوت چھاتا چلا جا رہا تھا۔ اس نے  بھی ایک  الجھی ہوئی سانس کے   ساتھ گھر کی طرف چلنا شروع کیا۔ جس کے  لئے   اس کو اس  ارادے  کی ضرورت نہ تھی کہ اسے  گھر جانا ہی۔ وہ فٹ پاتھ پر خود میں  کھویا ہوا چلا جا رہا تھا۔ ممکن ہے  کہ وہ یہ بھی سمجھ رہا ہو کہ اس کے  گرد و پیش کوئی انسان نہیں  ہے، کوئی وجود نہیں  ہے، کوئی عمارت نہیں  ہے۔ علاوہ مہیب سایوں  کے  اور لایعنی شور کے۔ اس نے  جب اپنے  دروازے  پر لٹکتے  ہوئے  پردے  کو ہٹایا تو وہاں  وہی خاموشی، وہی اداسی چھائی ہوئی تھی جس میں  جسم تو زندہ رہتے  ہیں  لیکن روح مر جاتی ہے۔ اس نے  اسی طرح بیزاری سے  اپنے  کمرے  کا رخ کیا اور دروازہ کو دھکّا دے  کر کھولتے  ہوئے  داخل تو گیا۔ کوٹ اتار کر کرسی کے  بازو پر پھینکا۔ خود کو بستر پر بے  قابو سا گرا دیا۔ دیر تک وہ پراگندہ سا پہلو بدلتا رہا اور سوچتا رہا کہ وہ اس پستی سے  ابھر کر وہ اوپر کیسے  آ سکے  گا۔ مگر اس وقت تو جیسے  اس میں  کسی  قسم کی  بھی صلاحیّت نہ تھی وہ عجب طرح کا مٹّی کا ڈھیر سا ہو گیا تھا۔ اور اس کے  چاروں  طرف  بساندے  کے  پھولوں  کی سی بدبو بے   ہنگم شور اور چیخیں  اور چکّی کے  پاٹوں  کی سی گھرگھراہٹ پھیلتی چلی جا رہی تھی۔ وہ بڑی بے  بسی محسوس کرنے  لگا۔ کمرے  کی تاریکی بھیانک ہوتی چلی جا رہی تھی۔ وہ اور بھی زیادہ  ہراساں  ہو گیا تھا۔ اس نے  بے  اختیار چاہا کہ اپنا گلا گھونٹ لے۔ مگر اس پر  خِفّت کا لرزہ سا طاری ہو گیا۔ اور اسی لمحے  کسی کے  قدموں  کی چاپ اس کے  کانوں  میں  ٹپکنے  لگی اور کوئی کمرے  کے  اندر رینگ آیا۔ اس نے  ماچس جلائی اور پوچھا  ’’کون؟‘‘۔ مگر کسی جواب کی بجائے  ماچس کی زرد ڈوبتی ہوئی روشنی میں  اس کی شریکِ حیات کا چہرہ ابھر آیا۔ اس چہرے  پر  تصنّعات کی جھلک نے   اس میں  نفرت سی پیدا کر دی۔ اس نے  ہاتھ جھٹک کر ماچس بجھا دی۔ 
’’بجلی جلادو‘‘۔ اور خود اپنی پراگندگی میں  ڈوبا ہوا  بے  حس و حرکت  لیٹا رہا۔ 
بجلی کا بلب ایک ’’کلک‘‘ کے  ساتھ روشن ہو گیا۔ اور اس کی اُداس اُداس روشنی کے  ساتھ کہیں  دور سے   مُترنّم آواز گونج اٹھی۔ 
 اُس سے  بڑھ کر   گمراہ کون ہو گا جس نے  خدا کی ہدایت کے  بجائے  اپنے  نفس کی  خواہش کی پیروی کی۔ ایسے  ظالم لوگوں کو خدا  ہدایت نہیں  دیتا۔ 
ایک دم جیسے  بجلی کی روشنی میں  ایک فرحت بخش رمق پیدا ہو گئی اور اس کی روح ایک اطمینان کے  ساتھ مسرّت سی محسوس کرنے  لگی۔ اس نے  اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو اس کے  سامنے  کرسی پر بیٹھی ہوئی اس کے  چہرے  کی بدلتی ہوئی  کیفیتوں  کو نہ معلوم کب سے  بڑے  غور سے  تک رہی تھی اور مسکرا رہی تھی اور پھر وہ سارا ماحول اس سے  اجنبی ہوتے  ہوئے  بھی اس کے  بالکل قریب آ گیا تھا۔ 

			(۱۹۴۹ء)
 
بے چارے لوگ 

دیوان چندن گڑھ کے  پوتے  صاحب آنکھیں بند کر لیجئے، وقت درد انگیزی کے  ساتھ آگے  بڑھ گیا ہے۔ اور آپ کو گزرتی شام کے  اندھیرے  میں  خنکی محسوس ہو رہی ہے۔ 
حضور آپ آنکھیں بند کر لیجئے۔ یہ روز میری ہال کی فضا کتنی پر تصنّع ہے۔ یہ اَیرکنڈیشننگ نہیں اَیر کولنگ ہے۔ یہ آپ کے  لیے  اجنبی ہے۔ گذشتہ پینتس (۳۵) سال میں  ’’مغرب کے  ملکوں میں ‘‘یہ تصنّع فضا آپ کو کہاں  ملی تھی۔ 
یہاں  چاروں  طرف سب ہی لوگ آپ کے  لئے  اجنبی ہیں۔ کوئی بھی تو آپ کو نہیں  پہچانتا۔ جو بھی آپ کے  پاس سے  گزرتا ہے۔ یوں  گزر جاتا ہے  کہ جیسے  آپ کچھ بھی نہیں  ہیں۔ 
دیوان چندن گڑھ کے  پوتے  صاحب، کیا آپ اس قدر بے  حقیقت ہو چکے  ہیں ؟
تیز ڈسکو میوزک ان کے  سینے  میں  خنجر کی طرح پیوست ہو گئی اور انہوں نے  بے  بسی کے  ساتھ آنکھیں  بند کر لیں۔ کافی کی پیالی ہاتھ میں  ہلکی سی لرزی اور ٹھہر گئی۔ انہوں  نے  اسی عالم میں اپنا سر کرسی پر ٹکا لیا۔ 
بند آنکھوں کے  سامنے  پھیلی تاریکی میں  ایک لکیر روشن ہوئی۔ 
وہ کمسن لڑکا کانوینٹ کی یونیفارم میں، چھوٹی کوٹھی کے  سامنے  کے  برآمدے  میں  نمودار ہوا۔ اس کے  پیچھے  خدمت گار بڑے  احترام کے  ساتھ اُس کا بستہ لیے  ہوئے  تھا۔ اس کے  باہر آتے  ہی اردلی نے  جھک کر فرشی سلام کیا۔ شوفر نے  پورٹیکو میں  کھڑکی کا دروازہ  کھولا اور تعظیم کے  ساتھ سرجھکادیا۔ وہ بڑی تمکنت کے  ساتھ کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ 
انھیں  ایسا محسوس ہوا کہ جیسے  کوئی ان  کے  پاس ہی بیٹھ گیا ہے۔ انھوں نے  بے  یقینی کے  ساتھآہستہ آہستہ آنکھیں  کھولیں۔ 
روز میری ہال کی بے  اعتنا فضا ان کے  دل کو پھرمسوسنے  لگی۔ 
وہ  جو اُن کے  پاس بیٹھ گیا تھا وہ کسی فرم کا ایگزیکیوٹیو تھا۔ لیکن اُس نے  کسی طرح کے  ادب آداب کا خیال نہ کیا۔ اس کے  سگریٹ کا دھواں   دیوان چندن گڑھ کے  پوتے  کے  چہرے  کو رگڑتا ہوا پھیل رہا تھا، لیکن وہ خاموش رہے، ضبط کیے  رہے۔ ایگزیکیوٹیو نے  ان کی طرف قطعاً کوئی دھیان نہ دیا اور اپنی انگلیوں میں امپورٹڈ سگریٹ کو گھُماتا رہا۔ 
ان کی  ناک نے  ان کا تھوڑا سا ساتھ دیا۔ 
’’آپ شاید کوئی  برطانوی سگریٹ پی رہے  ہیں۔ ‘‘
ایگزیکیوٹیو نے  ان کی طرف قدرے  تعجّب سے  دیکھا، اور منھ پھیر لیا۔ 
انھوں  نے  اس کی بے  رخی کو نظر انداز کر دیا۔ 
’’ایک زمانہ تھا کہ ان کے  علاوہ کوئی سگریٹ چلتا ہی نہ تھا۔ ‘‘
’’ہان جی!ہان جی!‘‘ایگزیکیوٹیو نے  بس یوں  ہی کہہ دیا۔ 
’’مجھے  اِس اَیرکولنگ میں  سردی لگ رہی ہے۔ ‘‘
’’آپ کافی اور لے   لیویں جی؟‘‘
’’اُپالا میں اتنی سردی پڑتی ہے، پھر بھی کسی عمارت میں آپ کو سردی کا احساس نہ ہو گا۔ یہاں تو ہوا بھی ناگوار گزر رہی ہے۔ ‘‘
’’اوہ، ایگزیکیوٹیو نے  محسوس کیا کہ وہ کسی سے  بھی بات نہیں کر رہے  ہیں۔ ‘‘
وہ تو خود اپنی دنیا میں  سفر کر رہے  ہیں۔ 
وہ تو ایک خواب ہے  جس کا کردار وہ خود ہیں۔ 
دیوان صاحب چندن گڑھ کے  پوتے  تھکے  ہوئے  سے  اپنی  جگہ سے  اٹھے  اور ہال میں  لوگوں  کی بھیڑ میں  گُم ہو گئے۔ 
چاروں  طرف دیسی کوسمیٹکس کی مصنوعی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ مردوں نے  انمل بے  جوڑ پوشاکیں  پہن رکھی تھیں۔ عورتوں نے  اپنے  چہروں  کو اس طرح بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے  نہیں لگ رہے  تھے۔ سب ہی لوگ اپنے  اپنے  ہاتھوں میں اپنی اپنی پلیٹیں  لیے  ہوئے  یوں  ٹہل رہے  تھے  کہ جیسے  کوئی بھیڑ لگ گئی ہو۔ 
دیوان صاحب چندن گڑھ کے  پوتے  اپنے  خاص بالا قامت مشکی گھوڑے  پر سوارچندن گڑھ کے  بازار سے  گزر رہے  تھے۔ ان کی دستار بیش قیمت جواہر اور موتیوں  کی کلغی سے  مزیّن تھی۔ نقیب آگے  تھا، محافظ دائیں  بائیں، اور پیادے  پیچھے!۔ بازار میں  بھیڑیوں چھٹتی جاتی تھی جیسے  شیر کے  گزرنے  سے  کھڑی فصل پھٹ جائے۔ 
لیکن اچانک چھن سے  سب کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا۔ 
کوئی ان کے  شانے  کو دھکّا دیتا ہوا ان کے  پاس اے  گزر رہا تھا۔ 
اسٹیریوپربجتی ہوئی دھن جانجھ کی تھرّائی ہوئی آواز کے  ساتھ ختم ہو گئی۔ 
اوہ، لوگ اب مجھے  کندھے  سے  دھکّا دیتے  ہوئے  گزریں گے۔ 
انھوں نے  یہ بھی برداشت کر لیا۔ 
عورتیں  الگ الگ جھنڈ بنائے  ہوئے  کھڑی ہوئی تھیں۔ مرد ان کے  حاشیوں  کے  پاس سے  گزر کر پھر اپنے  حلقوں میں  آ جاتے  تھے۔ اس کے  علاوہ اور کچھ بھی نہیں  ہو رہا تھا۔ 
جب مہاراج ادھیراج کو نائٹ ہُڈ  کا بڑا خطاب ملا تھا تو پلیس کے  وسیع ڈائننگ ہال میں  ڈنر کا  انتظام کیا گیا تھا۔ چھت سے  بھاری بھرکم بلجین فانوس جگ مگ جگ مگ لٹک رہے  تھے۔ کارنس سے   مخفی روشنی کا اپسرائی عکس چاروں  طرف  پھیلا ہوا تھا۔ ہال کے  ایک سرے  سے  دوسرے  سرے  تک بچھی ہوئی کھانے  کی میز ولایتی کرا کری سے  سجی ہوئی تھی۔ 
جب مہمان ڈنرسوٹ پہنے  ہوئے  کرسیوں کی طرف بڑھے  تو ان کے  قدموں میں وقار تھا۔ انھوں نے  اپنے  پاس کی کرسیوں کو بڑے  چاؤ سے  پیچھے  کھینچا اور خواتین کو پیش کیا۔ 
شکر گزاری  کی مسکراہٹ اور فرانسیسی کوسمیٹکس کی لطیف خوشبو!
دیوان صاحب چندن گڑھ کے  پوتے  نے  بڑے  تجسّس سے  دیکھا۔ ۔ ۔ 
یہ کون ہیں ؟
’’اگر میں غلطی نہیں  کر رہا ہوں تو آپ مادام علمدار ہیں۔ ‘‘
’’شکریہ۔ لیکن آپ نے   کیسے  پہچانا؟۔ ‘‘
’’شاید آپ کو یاد ہو، جب آپ کے  والد راجکمار کے  اتالیق تھے  تو میرے  دادا مہاراجا دھیراج کے  دیوان تھے۔ ‘‘
’’اوہ!‘‘ مادام علمدار نے  بڑی حسرت سے  سانس لی۔ 
’’آپ کو میں نے  کبھی دیکھا نہیں۔ ‘‘
’’جی ہاں میں  پینتس سال مغربی ممالک میں  گزارنے  کے  بعد واپس آیا ہوں۔ ‘‘
’’گذشتہ نئے  سال کا عشائیہ جب ہم نے  لندن میں  شیراٹن میں  منایا تھا تو شہزادہ صاحب کا  صدر دروازہ پر میں نے  ہی استقبال کیا تھا۔ ‘‘
دیوان زادہ  صاحب نے  بڑے  افتخار کے  ساتھ یاد دلایا۔ 
’’اگر آپ اُس رات وہاں  رہی ہوں گی تو آپ نے  بھی دیکھا ہو گا مجھے!۔ ‘‘
مادام علمدار دُکھ بھری خاموشی میں  کھو گئیں۔ 
پھر وہ دونوں  آہستہ آہستہ چلتے  ہوئے  شیشے  کے  پینل کے  پاس جا کر کھڑے  ہو گئے۔ 
’’دیوان زادہ صاحب!کیا پینتس سال بعد آپ نے  یہ محسوس نہیں کیا کہ یہاں  ہمارے  لئے  اب صرف خواب ہی خواب رہ  گئے  ہیں ؟‘‘
’’مادام میرے  لئے  تو یہ دنیا ہی بڑی عجیب سی ہو گئی ہے۔ ‘‘
دونوں  پھرافسردہ ہو گئے۔ 
ہوٹل پاروتی کی پانچویں  منزل کے  روز میری ہال کے  شیشے  کے  پینل سے  سڑک کی دوسری طرف  مہاراجہ کوشل دیو کی شکستہ حویلی نظر آ رہی تھی۔ اُس کی ڈیوڑھی جس میں  کبھی نوبت بجا کرتی تھی، جس کے  پھاٹک سے  مرصّع ہو دج اور چھتر کے  ساتھ ہاتھی گزر جایا کرتے  تھے۔ ان کے  ساتھ روشن چوکیاں، ماہی مراتب، وردیاں، سواریاں، پیادے، تماشائی۔ ۔ ۔! پوری فضا سازوں  اور آوازوں  سے  بھر جایا کرتی تھی۔ 
مگر کان کے  پردوں  کو چیرتی ہوئی فاسٹ پاپ میوزک نے  وہ سحرتوڑ دیا۔ 
دیوان چندن گڑھ کے  پوتے  صاحب نے  مڑ کر دیکھا، مادام علمدار بوفے  کی بھیڑ میں  تحلیل ہو چکی تھیں۔ 
وہاں  مہاراجہ کوشل دیو کی ڈیوڑھی کی اینٹیں  اُکھڑ چکی تھیں، جگہ جگہ گھاس اُگی ہوئی تھی، اور اُس کی محراب ہوٹل پاروتی کے  صدر دروازہ کے  پائیدان سے  بھی پست نظر آ رہی تھی۔ 
اوہ!یہ کیا ہوا۔ ۔ ۔ ؟!‘‘
دیوان چندن گڑھ کے  پوتے  صاحب لِفٹ میں  داخل ہوئے  اور لِفٹ انھیں  چوبیسویں  منزل کی طرف لے  چلی۔ جہاں  ان کا  کمرہ تھا۔ 
انھوں نے  آنکھیں  بند کر لیں۔ 
لِفٹ اوپر اٹھتی رہی۔ 
انھوں نے  ایسا محسوس کیا کہ جیسے  وہ مہان تال کی تہہ سے  اُٹھ کر اس کی سطح تک آنے  کی کوشش کر رہے  ہوں۔ 
لیکن وہ سطح تھی کہ آ ہی نہ چکتی تھی۔ 

				(۱۹۸۴) 

 
ڈھلتے  سائے 

سورج کی نوخیز کرنیں  اونچی فصیل کو  پھلانگ کر اُس کی صحن میں  سے  ہوتی  ہوئی برآمدہ میں  داخل ہو رہی تھیں  اور وقت گھڑی کی سُوئیوں  کے  ساتھ لیٹتا  چلا جا رہا تھا۔ اُس نے  ایک گہری سانس لی اور دفتر کی تیّاری کرنے  لگا۔ سامنے   صبّو اپنے   چینی کے  کھلونے   سے  کھیل رہا تھا۔ اس کے  بالوں  کی  ایک تھوڑی سی ملائم لٹ پیشانی پر لٹک آئی تھی اور اس کی آنکھوں   میں   انہماک اس طرح  رچا ہوا تھا کہ جیسے  وہ نہ معلوم  کہاں  ہو۔ وہ اپنے  چینی کے  چھوٹی سے  کھلونے  کو تسلہ میں  بھرے  ہوئے  پانی سے   نہلا کر کپڑے   سے  پوچھنا چاہتا تھا  لیکن وہ ہر بار پھسل کر پھر پانی میں  گر پڑتا تھا۔ اب اس کی سنجیدگی میں   جھنجھلاہٹ کی آمیزش ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اس نے  پھر ایک بار غصّہ میں   کھلونے  کو پانی سے  نکالا اور زور سے  کپڑے  پر رکھ کر جیسے  ہی دوسرا سرا اُس  پر ڈھکنا چاہا۔ وہ غڑاپ سے  پانی میں  آ رہا۔ اس بار اس کو  اپنی جھنجھلاہٹ  پر قابو نہ رہا اور اس نے  اپنے  ہونٹوں   کو بسورتے  ہوئے   انداز میں  لٹکاتے  ہوئے  کھلونے  کو فرش پر پٹخ دیا۔ چینی کے  سفید ریزے  چاروں  طرف پھیل گئے۔ 
 اس شکست  و ریخت کی آواز نے   اس کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور وہ تادیبی لہجہ میں  بے  اختیار صُبّو پر چیخ پڑا۔ ’’ہائیں، یہ کیا کیا تو نے ؟‘‘ اور  صبّو نے  فوراً اُس مداخلت  بے  جا کے  خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ وہ صُبّو کے  اس احتجاج کے  خلاف کبھی بھی نہیں  ٹِک سکا تھا۔ اس لئے   اس وقت بھی وہ اپنی ناگواریِ خاطر سے   فوراً دست بردار ہو گیا۔ اس نے  مچلتے  ہوئے  بچّے  کو  گود میں  اٹھا لیا اور بہلانے  پھسلانے  لگا لیکن  وہ بچّہ بھی  جیسے  بڑا  ہوش مند تھا، اس آسانی سے   ہتھیار ڈالنے  پر تیّار نہ تھا۔ اُس نے  جھنجھلا کر اُسے  پھر ڈانٹا، ’’چُپ ہو جاؤ ورنہ پٹخ دوں گا‘‘۔ اور صُبّو نے  اپنے  احتجاج کی  تجدید  کر دی۔ تب اس کو احساس ہوا کہ بات یُوں   آسانی سے  بننے  کی نہیں  اور دفتر کا  وقت  بھی سر پر آتا چلا جا رہا ہے۔ اُس نے  جلدی جلدی اپنے  ذہن میں  اُسے  خاموش کرنے  کی تدبیر سوچی۔ 
’’صبّو چپ ہو جاؤ۔ دیکھو ہم کشتی بنا کر اس تسلہ میں  ابھی  چلاتے  ہیں ‘‘۔ 
اور صُبّو اپنے   اس محبوب مشغلہ کا نام سن کر خاموش ہو گیا۔ 
اس نے  ایک پرانے  اخبار کے  ٹکڑے   کی چھوٹی سی کشتی  بنائی اور صُبّو کو پانی کے  تسلہ کے  پاس بٹھا کر کشتی کو پانی میں  تیرانے  لگا۔  صُبّو کے  ہونٹوں  پر  خفیف سی مسکراہٹ نمودار ہوئی لیکن اس میں  برہمی کا  بے  انتہا امتزاج تھا اس نے  مخصوص توجہ کے  ساتھ صُبّو  کی طرف دیکھا جیسے  اُسے  یہ خطرہ لاحق ہو رہا تھا کہ کہیں  وہ ایک بار  پھر اپنے  رونے  کو  یاد کر کے  چیخنے  نہ لگے۔ مگر صُبّو کنکھیوں  سے  اپنے  چینی کے  کھلونے  کے  ٹکڑوں  کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے   موقع مناسب سمجھ کر  اس ٹوٹے  ہوئے  کھلونے  کے  بارے  میں  نصیحت کرنا شروع کر دی۔ 
’’صُبّو دیکھو تم نے  اپنے  بے  چارے  کھلونے  کو توڑ ڈالا ہا ۓ۔ ۔ ۔ ‘‘
صُبّو نے  تاسّف کے  ساتھ کھلونے  کے  بڑے  بڑے  ٹکڑے  چننے  شروع کر دیے۔ جیسے  وہ ریت میں  سے  آنسوٗ  کے  قطرے  چن رہا ہو۔ 
’’بولو، اب کہاں  ملے  گا تم کو کھلونا۔ ؟‘‘
’’آپ لادیں  گے!۔ ۔ ۔  ’’ صُبّو نے  بڑی پُر امّید بشاشت کے  ساتھ کہا۔ 
’’میں  کہاں  سے  لا دوں  گا؟‘‘۔ 
’’بازار سے!‘‘
وہ صُبّو کے  سامنے  ایک اور سوال رکھنا چاہتا تھا، لیکن اس آخری جواب نے  اسے  ایک طرح کی بصیرت  دے  دی اور وہ صرف مسکرا کر رہ گیا۔ معصوم بچّے  تم سوچنا ہی نہیں  چاہتے  کہ آنے  والے  لمحوں  میں  کیا ہو گا۔ اس نے  بڑے  پیار سے  اس کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور صُبّو نے  استفہامیہ انداز میں  اس کی طرف  دیکھا۔ اس کی نیلگوں  آنکھوں  میں  بڑی وسعت سی نظر آ رہی تھی اور وہ بڑا پیارا لگ رہا تھا۔ اسے  معاً دفتر کا خیال آ گیا اور وہ اسے  کاغذ کی ناؤ کے  ساتھ کھیلتا ہوا  چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ 
اس کی بیوی  ان دونوں  کے  کھیل کو بڑی سرپرستی کے  انداز سے  دیکھ رہی تھی۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور پھر اپنی عجلت  کا احساس دلایا مگر پھر اُسے  خیال آیا  کہ وہ اپنی کاہلی کی وجہ سے   گھر کی مختلف ضرورت کی چیزیں   آج تک نہیں  لایا تھا۔ اور اس کی بیوی چند ایک تقاضے  کرنے  کے  بعد خاموش  ہو گئی تھی۔ اس نے  اپنی اس بے  پروائی کا ازالہ کرنے  کے  لئے   اُس سے   خود ہی پُوچھ لیا:
’’ہاں  ذرا لانا تو، وہ تمہاری فہرست کہاں  ہے ؟‘‘
’’کیسی فہرست؟۔ ۔ ۔ ‘‘
’’ارے  وہی؟۔ ۔ ۔  کیا کیا منگا رہی تھیں  تم؟ لاؤ وہ کاغذ پر لکھ کر دے  دو۔ میں  واپسی پر لے  آؤں  گا۔ ‘‘
’’ہو گا رہنے  بھی دیجئے، آپ کو فرصت کہاں  ہو گی۔ شام تو ہو جاتی ہے، گھر آتے  آتے۔ ‘‘
’’لاؤ بھی تم! میں  لیتا آؤں  گا‘‘۔ 
اس نے  جلدی سے  کاغذوں  کا  پلندہ  بغل میں  دبایا اور ضروری اشیاء کی فہرست لے  کر بس اسٹاپ کی طرف چل دیا۔ دفتر کا وقت ہونے  کی وجہ سے  عام طور پر اُس وقت بس کے  انتظار میں  ایک بھیڑ کھڑی رہتی ہے۔ چنانچہ اس وقت بھی اُمّیدواروں  کی ایک لائن لگی ہوئی تھی۔ وہ بھی آخر میں  جا کر شامل ہو گیا۔ مگر جیسے  الجھن سی سوار ہو رہی تھی اس پر تو اس  قطار کو  دیکھ کر اُسے  خطرہ تھا کہ کہیں  اُس کی باری آنے  تک دفتر کے  لئے  زیادہ دیر نہ ہو جائے۔ مگر اس وقت ایک اُمّید لگائے  رکھنی کی سا چارہ نہ تھا۔ 
اُس کے  سامنے  ایک ادھیڑ عمر کی  عورت  قطار میں   کھڑی ہو کر بھی سُوئٹر بننے   کی کوشش کر رہی تھی اور وہ اس اُمور خانہ داری کی نمائش سے  بڑی چِڑسی محسوس کر رہا تھا۔ آخر کیا اس دکھاوے  کے  بغیر زندگی کی مصروفیت اور وقت کی اہمیت کا اندازہ نہیں  لگایا جا سکتا تھا۔ حالانکہ اگر ان کے  اندر جھانک کر دیکھا جائے  تو وہاں  کتنے  ہی بیکار لمحے  ایسے  نظر آ جائیں  گے  جن کو اہمیت ہی نہ دی گئی ہو گی۔ وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کسی نے  پیچھے  سے  دھکّا دیا۔ اُس نے  مڑ کر دیکھا ایک صاحب عجب بی ہنگم سے، منھ میں  سگریٹ دبائے  اخبار کے  مطالعہ میں  کھوئے  ہوئے  تھے  اور لوگ اُنھیں   دھکّا  دے  کر چھیڑ رہے  تھے۔ اُس نے  اُن کی اس  مضحکہ انگیزی پر کچھ تمسخرآمیز لہجہ میں  دریافت کیا۔ 
’’کیا تیسری عالمی جنگ چھڑ گئی۔ ۔ ۔ ؟۔ ‘‘
اور وہ اخبار مین  عجب  بدحواسی میں  اخبار بند کر کے  پہلے  صفحہ کو غور سے  دیکھنے  لگا جیسے  اتنی اہم خبر اُس کی نظر سے   اوجھل ہو گئی ہے۔ مگر  پھر خفیف ہو کر اخبار  تہہ کر کے  خاموش کھڑا ہو گیا۔ ایک بس آئی اور قطار  آگے  سے  چھوٹی اور پیچھے  سا طویل ہو گئی۔ اب اس کی جان میں  جان آئی کہ وہ آئندہ بس  میں  جگہ پا سکے  گا۔ مگر آئندہ بس کا انتظار بھی  طولِ شبِ ہجراں  سے   کم نہ تھا۔ اور یہاں  بس والوں  کا انتظار اور ان کی بے  قراری عجب پست ذہنیت کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ جیسے  ان کی زندگیاں  بھیڑوں  کے  گلّے  کی طرح  تاریک کھڈ کی طرف بڑھتی چلی جا رہی تھیں، اور وہ اس بے  نگاہی پر پوری طرح مطمئن تھے۔ اُسے  اس وقت اپنے  چاروں  طرف  پھیلے  ہوئے  انسان غلاظت میں   رینگتے  بجبجاتے  ہوئے  کیڑوں  کی طرح  نظر آ رہے  تھے  جن کو ضمیر کے  زندہ ہونے  یا نہ ہونے  کا احساس ہی نہ ہو۔ اور اس کا مظاہرہ وہاں  بس اسٹاپ پر  پوری طرح ہو رہا تھا کہ یہ نظم و ترتیب اور یہ اشتراکِ باہمی اُن کے   مزاجوں  پر گراں  گزر رہا تھا۔ 
دوسری بس بوجھل  جھکولا لے  کر  اُس کے  سامنے  رک گئی اور رکی تھمی ہوئی انسانی قطار میں  پھر حرکت پیدا ہو گئی۔ اور وہ اپنے  خیالات سے  چونک کر فائلوں  کا  گٹّھا سنبھالتا ہوا  بس میں  داخل ہو گیا۔ بس بھر گئی اور چل دی۔ اس نے  ایک خالی نشست  دیکھ کر خود کو  اس طرح اس پر جما دیا جیسے  اُسے  اپنی کوتاہ دستی کا خطرہ لاحق ہو رہا تھا۔ 
بس آہستہ آہستہ رینگی اور عمارتوں   اور دوکانوں  کی قطاریں  پیچھے  چھوڑ کر آگے  بڑھنے  لگی۔ اس نے  پیسے  نکال کر کنڈکٹر کے  ہاتھ پر رکھ دیے  اور ایک سکریٹریٹ کہہ کر  بے  توجہی کے  ساتھ اپنے  گرد و پیش کا جائزہ لینے  لگا۔ اس کے  سامنے  بیٹھا ہوا  نوجوان بار بار اپنے   کالروں   کو کھینچ کر درست کر رہا تھا جیسے  اس کو یہ شک تھا کہ وہ مل دل گئے  ہیں۔ کہ یہ احساسِ کمتری نہیں  جو اس نوجوان کو  بے  آرام کئے  ہوئے  تھا، اس نے  سوچا لیکن فوراً اس کو ٹکٹ کا خیال آ گیا۔ اس نے  مڑ کر دیکھا کنڈکٹر اُس کو چھوڑ کر آگے  بڑھ چکا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ بس کنڈکٹر کا مقصد کیا ہے۔ 
’’اے  مسٹر!۔ ۔ ۔  میرا ٹکٹ؟۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نے   تحکمانہ لہجہ میں  کہا۔ 
’’اوہ، یہ لیجئے ‘‘۔ بس کنڈکٹر نے  بڑے  خجل سے  لہجے  میں  کہا، مگر وہ ایسی بودی رعایت کے  لئے  تیّار نہیں  تھا۔ اِس لئے  اُس نے   بے  پروائی سے  اپنی توجہ دوسری طرف مبذول کر لی۔ 
اس کے  سامنے  بیٹھا ہوا  نوجوان اب بھی اپنی کوشش میں  مصروف تھا، وہ بار بار کالروں  کو کھینچ کر درست کر رہا تھا، اُسے  اس کی اس حرکت پر  بے  حد ترس آیا۔ اُس نے  اپنے  بازو کی مقابل سیٹ کی طرف بِلا ارادہ دیکھا، ایک بھونڈی سی نوجوان سی لڑکی اپنے  بالوں  کے   ترشے  ہوئے  گچھّوں   کو  اس طرح  ٹھیک کر رہی تھی جیسے  وہ اُن کو محسوس  بھی کرنا چاہ رہی ہو۔ اُسے  ایک بار پھر بڑا تاسّف سا ہوا۔ 
اس نے  ڈرائیور کے  سامنے   لگے  ہوئے  شیشے  میں  سے  گردن اٹھا کر سامنے  سمٹتی ہوئی  سڑک کو دیکھنا چاہا مگر بے خواہش و ارادہ اس کی نظر اس آئینہ پر پڑ گئی جو ڈرائیور کے  لئے  پشت کی طرف دیکھنے   کے  واسطے  لگا رہتا ہے۔ اُسے  کچھ ایسا محسوس ہوا کہ وہاں  کچھ حریص نظریں  ایک دوسرے  سے  اُلجھ رہی ہیں۔ اُس نے  بڑی نفرت اور کراہیت کے  ساتھ اپنے  سامنے  بیٹھے  ہوئے  نوجوان کی طرف دیکھا جس کی پشت اس کی طرف تھی اور اس لڑکی  کی طرف دیکھا جس کی  سیٹ اس کے  مقابل بازو میں  تھی۔ اس عرصہ میں  بس ایک اسٹاپ پر رک چکی تھی۔ لڑکی اپنی سیٹ چھوڑ چکی تھی اور اس کے  ساتھ ہی وہ نوجوان بھی  اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے  اطمینان کا سانس لیا۔ 
ان اتر جانے  والوں  کی جگہ پر  کچھ نئے  داخل ہونے  والوں  نے  قبضہ کر لیا اور  بس دوبارہ چل دی۔ اگلا اسٹاپ  سکریٹریٹ کا تھا۔ ۔ اس کی منزل آ چکی تھی۔ اس  نے  فائلوں  کے  پلندہ کو بغل میں  دبایا اور فٹ بورڈ پر کھڑا ہو گیا۔ دفتر کے  وقت میں  صرف تین منٹ باقی تھے  اُسے  فوراً ہی چاردیواری عبور کر کے  پہونچنا تھا اور  اس کے  لئے  اتنا  وقت بے  انتہا قلیل تھا۔ لیکن جب بس رُکی تو منتظروں  کا جمِّ غفیر بدحواسی کے  ساتھ بس پر ٹوٹ پڑا اور وہ بڑی  کش مکش کے  بعد ان سے  چھٹکارا پا کر دفتر کی حدود میں  داخل ہو سکا۔ 
دفتر میں  دو منٹ تاخیر سے  داخل ہوا تھا اور یہ تاخیر اُس وقت  ہیڈ کلرک کی آنکھوں  میں  شعلہ بن کر  چمک رہی تھی جیسے   اب تک  جو وہ معمول سے   زیادہ  محنت سے  کام کرتا رہا تھا وہ قابلِ تحسین نہ تھا۔ البتّہ یہ دو منٹ بے  پناہ عتاب کا موُجب تھے۔ وہ اس وقت  ایسی  دنیا میں  سانس لے  رہا تھا، جہاں  پر  جانفشانی لائق بے  اعتنائی اور ہر ناقابل توجہ کوتاہی لائق سرزنش تھی۔ جیسے  جذبات احساسات اور بصیرت ایک سخت فرمے  میں  کستے  چلے  جا رہے  تھے۔ جیسے  روح گھُٹ رہی تھی اور سانس اکھڑ رہی تھی۔ وہ خاموشی سے   اپنی میز کی طرف  بڑھ گیا۔ جس پر فائلوں  کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا۔ اور اس کی بغل کا پلندہ اس آرام کے  مقابلے  میں   محض مشتے  نمونہ از خروارے  تھا۔ اس نے  اپنے  پلندہ کو ایک طرف رکھ دیا اور ان فائلوں  کے  ڈھیر میں  محو ہو گیا۔ 
وہ نہ معلوم کیوں  ہمیشہ ان فائلوں  کو بولتا ہوا محسوس کیا کرتا تھا، وہ اس کے  تصوّر میں  طرح طرح کے  نقش  ابھار دیا کرتی تھیں  اور یہ نقوش اس کے  لئے  بڑے  کریہہ المنظر ہوا کرتے  تھے، ان میں  نہ معلوم کتنی گھناؤنے  راز پوشیدہ ہوتے  تھے۔ اور وہ ان اوراق کے  الٹتے  ہی اس کے  سامنے  عیاں  ہو جایا کرتے  تھے، وہ اچّھی طرح جانتا تھا کہ کتنے  صفحوں  کے  محض الفاظ تبدیل کرنی کے  لئے  تجوریوں  کے  منہ کھول دیے  گئے۔ پھر یہی نہیں  ہوا کہ کچھ کاغذات نئے  آ گئے، کچھ پرانے  ہٹ گئے۔ کچھ کی ہیئت بدل گئی اور کچھ محض ظاہری تراش خراش سے  مناسب حال ہو گئے  بلکہ کتنے  ہی صفحات ایسسے  بھی تھے  جن کو محض اس لئے  ہٹایا گیا اور ان میں  سے  کچھ کو محض اس لئے  داخل کیا گیا کہ بند تجوریوں  کے  منھ صرف سم سم کھل جا کے  بول پر واشگاف ہو جائیں۔ اور پھر ایسا  ہی ہوا اور شاید  ان بنیادوں  پر  ہمیشہ ہی ایسا ہوتا رہے، اس لمحہ  وہ ان حریص چہروں  اور نمائشی  لباسوں  کے  باطن میں  نہ معلوم کیا تلاش کرتا۔ مگر ایسا لگتا تھا کہ جیسے  ہر وجود بڑا ہراساں  سا ہے۔ اور وہ ہر حرکت محض خوف کے  تحت کر رہا ہے  کہ کاش ایسا ہو جائے، کاش ایسا نہ ہو جائے۔ کتنی بے  چارگی اور پسماندگی اس کے  چاروں  طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اور پھر جب ان کو  جھنجھوڑا جاتا ہے  تو وہ اپنی بوجھل چپچپاتی ہوئی آنکھوں   کو ہلکا سا کھول کر  کہتے  ہیں  کہ اگر ہمارے   ذمّہ جاگنا ہو گا تو ہم جاگ ہی پڑیں  گے۔ 
خیالات کے  اس سیلِ بے پناہ میں  بہتے  بہتے  اس کو ایک دم یہ شک گزرا کہ اس کے  چاروں  طرف کلرکوں  پر ایک غیر معمولی خاموشی مسلّط ہے  اس نے  ایک اچٹتی سی نگاہ سے  ہر ایک چہرہ کا جائزہ لیا وہاں  نہ معلوم کیوں  ایک نامانوسیت  سی چھائی ہوئی تھی اور اس اجنبیت میں  جیسے  ہر نظر  اُسی کو اجنبی  ٹھرا رہی تھی، اس نے  اس کیفیت کی تہوں  میں   اُترنے  کی کوشش کی مگر  وہ کچھ بھی نہ سمجھ سکا۔ اس نے  لاکھ غور کیا مگر بات اس کو لایعنی سی معلوم ہوئی۔ 
’’قیصر صاحب کہیے  کیسے  مزاج ہیں ؟‘‘
اس نے  سلسلۂ کلام  شروع کرنا چاہتا کہ وہ راز یونہی فاش ہو۔ 
’’اچّھے  ہی ہیں!۔ ‘‘
قیصر کی آواز میں   کچھ ایسی پژمردگی سی تھی کہ جیسے  کسی خالی ٹین کو بجا دیا گیا ہو۔ اور اس کے  ساتھ ہی  اُسے  کچھ ایسابھی محسوس  ہوا کہ قیصر  کچھ کشیدہ  خاطر  بھی ہے، گرہ  اور بھی اُلجھ کر رہ گئی! اور وہ اور بھی سنجیدگی کے  ساتھ سوچنے  لگا کہ آخر آج اُن سوقیانہ قہقہوں  کے  بجائے  خاموشی کیوں  طاری ہے ؟
’’بابو جی، آپ کو بڑے  بابو نے  بلایا ہے۔ ‘‘
’’اچّھا۔ ۔ ۔ ‘‘
وہ ایک کرسی کھینچ کر بڑے  بابو کے  سامنے  بیٹھ گیا۔ 
’’یہ آپ کے  لئے  آرڈر ہے!‘‘ بڑے  بابو کی نگاہ میں   بڑا  شک و  شبہ جھلکتا ہوا  محسوس ہو رہا تھا۔ 
اس نے  آرڈر کو اُٹھا کر پڑھا۔ اُسے  چوبیس گھنٹہ کے  اندر دفتر  چھوڑ دینا  ہے  کیونکہ اس کا تعلّق  دشمن  پرست  تخریبی عناصر  سی ہے۔ ایک زہر خند اس  کے  ہونٹوں  پر کھیل گیا۔ دشمن پرست؟۔ ۔ ۔  تخریبی عناصر؟۔ ۔ ۔  اور وہ؟۔ ۔ ۔ 
’’دیکھئے  آخر اس میں  آپ کا ہرج ہی کیا تھا اگر آپ یہ لکھ دیتے  کہ میں  اس  تحریک کا کارکن نہیں   ہوں  اور واقعی  آپ نہیں  ہیں!۔ ‘‘
بڑے  بابو نے   بڑے   رازدارانہ انداز میں کہا۔ اور  واقعتاً جیسے  وہ بے  چارے  اپنے  پورے  خلوص کے  ساتھ اس  وار سے  اس کو بچانا چاہتے  تھے   جس کی وجہ سے   اس پر  رزق  کے  سارے   دروازے  بند کئے  جا رہے  تھے۔ 
’’آپ کچھ نہیں  تو پھر بھی کم از کم  اپنے  تھے، اب نہ معلوم کون آپ کی  جگہ پر آئے  اور کیسا ہو؟۔ ۔ ۔ ‘‘ ایک وقفہ دے  کر انھوں  نے   کہا۔ ’’اور پھر  یہاں  سے  لوگوں   کو فائدہ  بھی پہنچا سکتے  تھے  باہر سے  آپ کیا کر سکیں  گے ؟‘‘
’’بابو جی آپ  تو ادب دوست ہیں۔ آپ کو  اگر ادبی  جواب دیا جائے  تو کیسا رہے ؟۔ ‘‘
اس نے  بڑے  فاتحانہ انداز میں  کہا۔ 
’’لیکن یہ موقع و محل اِس کا نہیں ؟۔ ‘‘ بڑے  بابو نے  انتہائی اضطراب اور کبیدگی کے  ساتھ کہا جیسے  ان کے  مشورے  کا وہ مذاق اڑا رہا ہو۔ 
’’پھر بھی میرے  پاس  اس کے  سا کچھ اور کہنے  کو نہیں۔ ‘‘
’’کہیئے۔ ‘‘ بڑے  بابو نے  سارے  تاثرات کو یکسر ختم کرتے  ہوئے  کہا۔ 
      ؂	 آئینِ جواں  مرداں  حق گوئی بیباکی
	اﷲ کے  شیروں  کو آتی نہیں  روباہی۔ 
بڑے  بابو نے  بڑی بدمزگی کے  ساتھ کہا۔ ’’اچّھا تو آپ قیصر صاحب کو چارج دے  دیجئے۔ میرا خیال ہے  آپ ایک گھنٹہ کے  اندر فارغ ہو جائیں  گے۔ ‘‘
اس نے  برخاستگی کے  اس آرڈر کو  اس طرح توڑ مروڑ کر جیب میں  رکھ لیا جیسے  وہ بس کا ردّی ٹکٹ ہو اور اس کو اس نے  صرف اس لئے  جیب میں  ڈال لیا ہو کہ اُس سے  چند منٹ کھیل کر بیل جائے  گا ورنہ شاید وہ اُسے  فٹ پاتھ کے  کنارے  بہتي ہوئی نالی میں   پھینک  دیتا۔ پھر وہ بڑے  بابو کے  پاس سے  چارج دینے  کے  لئے  اُٹھ آیا۔ 
’’قیصر صاحب آئیے  میں  آپ کو چارج دے  دوں۔ ‘‘
’’آں ؟۔ ۔ ۔  قیصر کا انتہائے  استعجاب میں  رنگ فق ہو گیا تھا۔ 
اور  بڑی پژ مُردگی کے  ساتھ اُس کے  پاس آ گیا تاکہ کاغذات اپنی تحویل میں  لے  لے۔ دفتر میں  اس کے   سلسلۂ ملازمت کے  ختم ہونے  کی خبر بکھرے  ہوئے  کاغذ کے  ٹکڑوں  کی طرح پھیل گئی۔ کلرکوں  کے  چہروں  پر جیسے  ایک سراسیمگی سی چھائی ہوئی تھی، جیسے  ان کے  لئے  یہ ایک بہت بڑا  حادثہ تھا۔ وہ توقع کر رہے  تھے  کہ وہ اپنی میز پر اپنا سر پٹخ دے  گا اور بڑی بے  چارگی کے  ساتھ سسکیاں  بھرنے  لگے  گا اور بڑے  موٹے  موٹے  آنسو ڈھلک کر  اس کے  رخساروں  پر سے  بہتے  ہوئے   کاغذوں  پر گریں  گے، اور بڑے  بدنما دھبّے  بنائیں  گے۔ پھر وہ اُسے  تسلّی دیں  گے  اور اپنے  مخصوص انداز میں  زمانہ کو کوسیں  گے، تقدیر کو صلواتیں  سنائیں  گے  اور بڑی اوچھی جذباتیت کے  ساتھ رِقّت آمیز ہو کر  ہمدردی کا اظہار کریں  گے۔ پھر یہ سب سن کر اُس کی سِسکیاں  پھُوٹ پڑیں  گی، اور وہ زار زار رونے  لگے  گا۔ یہاں  تک کہ ان کی آنکھوں  میں  بھی میلے  میلے  سے  آنسو جھلکنے  لگیں  گے۔ مگر اُسے  غم بھی نہ تھا۔ خوشی بھی نہ تھی، عجیب شخص تھا وہ۔ ۔ ۔!۔ اس میں  کوئی تاثر ہی نہ تھا، کوئی تحریک ہی نہ تھی، کوئی ردّ عمل ہی نہ تھا، جیسے  یہ ایک بڑی عام سی بات تھی جو روز ہی ہوتی ہے۔ اُس کی اس بے  حسی نے  دفتر کے  تمام بابو لوگوں   کو بے  طرح  تحیّر  میں  ڈال دیا تھا۔ اُن کی ساری توقعات باطل ہو کر رہ گئی تھیں۔ وہ ان کے  سکوت کو اس  طرح انگیز کر رہا تھا جیسے  وہ کوئی اہم بات نہ تھی اور بابو لوگ کچھ ایسے  ہراس زدہ سے  تھے  کہ جیسے   یہ ہی ستم کل اُن پر بھی ٹوٹ پڑے  گا۔ وہ اُسے  بڑی عبرت کے  ساتھ پھٹی پھٹی آنکھوں  سے  دیکھ رہے  تھے  اور وہ کمالِ بے  اعتنائی کے  ساتھ چارج دینے  کی تیّاری کر رہا تھا۔ 
’’آیئے  قیصر صاحب، یہ رہیں  فائلیں ‘‘۔ اُس نے  بڑے  شگفتہ لہجے  میں  کہا۔ اور قیصر نو گرفتہ پرند کی طرح   عجیب سہما سمٹا خوف زدہ سا اُس کی طرف  متوجّہ ہو گیا، جیسے  اِس عتاب نے  اُسے  انتہائی خطرناک بنا دیا تھا اور کسی شخص کا اس سے  مَس ہو جانا اس شخص کے  لئے  بھی اُسی پاداش کا باعث ہو گا۔ 
اس نے  قیصر کی طرف ترس بھری نظر سے  دیکھا اور اپنی ذمّہ داریوں  سے  دست بردار ہونے  لگا۔ قیصر نے  بدحواسی کے  ساتھ سب کچھ اپنے  قبضہ میں  لے  لیا۔ اور اس نے  انتہائی اطمینان کے  ساتھ اپنی کرسی خالی کر دی۔ پھر اس نے  مسکرا کر  تمام بابو لوگوں  سے  ہاتھ ملایا اور وہاں  سے  آخری بار رخصت  ہو گیا۔ جب وہ گیٹ کے  باہر نکل آیا تو سب لوگوں  نے  تاسف بھری اطمینان کی سانس لی اور اپنے  کاغذات کے   بوسیدہ انبار میں  دفن ہو گئے۔ 
وہ فٹ پاتھ پر سے  ہوتا ہوا  بس اسٹاپ کے  پاس ٹھہر گیا۔ پیڑوں  کے  چھدرے  چھدرے  سائے   چاروں  طرف پھیلے  ہوئے  تھے  اور دھوپ کی جھنجھریاں  اُن کے  درمیان برص کے  داغوں  کی طرح  نظر آ رہی تھیں۔ چاروں  طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اور بس اسٹاپ پر  اس کے  اور ایک ادھیڑ عمر کے  شخص  کے  سوا کوئی نہ تھا۔ اس وقت اس پر عجلت اور جھنجھلاہٹ طاری نہیں  تھی، بے  پایاں  اطمینان سا تھا۔ جیسے  اُس کے  پاس  بہت سا فاضل ع وقت تھا۔ اور وہ کافی دیر تک بس کا انتظار کر سکتا تھا۔ اُس نے  اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔ جیسے  وہ اپنے  گرد و پیش کا جائزہ لے  رہا ہو۔ سڑک کی دوسری طرف فٹ پاتھ پر ایک سوٗر غلاظتوں  کو سُونگھتا پھر رہا تھا اُس کا جی بُری طرح  گھِن کھانے  لگا اور اس نے  بڑی تیزی کے  ساتھ نظر سڑک کی انتہائی وسعت  کی طرف پھیر دی جو خم کھاتی ہوئی  عمارتوں   کی بھیڑ میں  گُم ہو گئی تھی۔ اُسی طرف سے  بس آنے  والی تھی۔ 
شاید وہ بس اس کی نگاہ اُٹھ جانے  کی منتظر تھی۔ کیونکہ اُس کے  دیکھتے  ہی بس ایک موڑسے  نمودار ہوئی اور چند سیکنڈوں  میں   اس کے  سامنی آ کر ٹھہر گئی۔ بے  حد مصروف وقت گزر جانے   کی وجہ سے  بس بالکل خالی تھی۔ شاید تین سیٹوں  پر صرف تین افراد بیٹھے  تھے۔ اور دونوں  نے  مل کر  تین کی تعداد میں  دو تہائی کا اضافہ کر دیا۔ خالی بس میں  جیسے  دماغ فکر و خیال کے  تار و پود بننے   لگتا ہے۔ مگر وہ خود کو عجیب بے  فکرا سا پا رہا تھا۔ جیسے  وہ اپنے  پیچھے  تمام پستیاں  چھوڑ آیا تھا اور خود غرضانہ و خود پرستانہ ماحول کو  دریا بُرد کر آیا تھا۔ اُسے  رہ رہ کر نہ معلوم کیوں  یہ خیال آ رہا تھا کہ وہ اس نظام کے  لئے  مناسب بھی نہ تھا۔ وہ یقیناً دشمن دوست تھا کیونکہ وہ لوگوں  کی جیبیں  کتر کر اپنی  تنگ دستی کو  دور کرنے  کے  لئے  بہانہ نہیں  بنا سکتا تھا، وہ کینہ و مکر کے  جال پھیلا کر نِت نئے  شکار نہیں  کر سکتا تھا۔ وہ مکّار لومڑی کی طرح گڑ گڑا نہیں  سکتا تھا، خوشامد نہیں  کر سکتا تھا۔ کیونکہ اس  کا ضمیر اتنا مسخ  نہیں  ہوا تھا۔ 
بس ریڈیو اسٹیشن کے  سامنے  ٹھہر گئی۔ دو خواتین داخل ہوئی۔ انھوں  نے  شاید اس لئے  پرکشش پوشاک پہن رکھی تھی کہ خود اُن میں  کوئی کشش نہیں  تھی۔ مگر پھر بھی دو  (۲) اُنھیں  جیسے  مرد ان کے  تعاقب میں  بس میں  سوار ہو گئے  اور بس چل دی۔ وہ دونوں  عورتیں  قدرے  ڈگمگاتی سی ایک سیٹ پر بیٹھ گئیں  اور وہ دونوں  مرد بھی ان کے  پیچھے  والی سیٹ پر قابض ہو گئے۔ وہ بس کی کھڑکی میں  سے  گزرتی ہوئی عمارتوں، گلیوں، سڑکوں  اور دوکانوں  کو دیکھنے  لگا۔ 
وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ چکا تھا، اس لئے  اتر پڑا اور گھر کی طرف  روانہ ہو گیا۔ مگر  اب وہ  کچھ کچھ اس انداز سے  سوچنے  لگا تھا کہ کیا اس کی راہیں  مسدود ہو چکی ہیں۔ اس کے  ضعیف والدین فقر و فاقہ کی  نذر ہو چکے  ہیں۔ اس کا بچّہ اور بیوی کس مپرسی کی خندق میں  گِر چکے  ہیں ؟ پھر ایک انجانا عزم اس کے  اندر سے  بول اُٹھتا کہ وہ بودے  وسوسے  کیوں  اپنے  اندر پیدا  ہونے  دے  رہا ہے ؟ اُس نے  بڑے  تحمّل کے  ساتھ اس مایوسی کو  خود سے  دور کر دیا۔ 
اس نے  گھر کے  دروازے  پر دستک دی۔ بیوی نے  اس غیر متوقع وقت پر آنے   پر ایک سراسیمہ استعجاب کا اظہار کیا۔ اس نے اس کی نگاہوں  میں  بڑی محبّت سے  دیکھا، ایک پُر خلوص استفہام  جھلک رہا تھا۔ 
’’آؤ تم کو بتلا دوں  میں  کیوں  آ گیا۔ ؟‘‘ اُس نے  مسکراتے  ہوئے  کہا۔ 
اس کی بیوی خاموشی کے  ساتھ برآمدہ میں  آ گئی۔ 
صُبّو اسٹول پر اپنے  ٹوٹے  ہوئے  کھلونے  کے  ٹکڑوں  کو اس طرح ترتیب دے  رہا تھا جیسے  وہ کچھ نئی تعمیر کر رہا ہو، اُس نے  اُسے  دیکھا تو ایک طفلانہ مسرّت ابھرتے  ہوئے   سورج کی طرح  اُس کے  چہرے  پر پھیل گئی۔ اور وہ دوڑ کر اس کے  پاس آ گیا۔ 
’’ابّو، آ گئے۔ ۔ ۔ ‘‘ اس کے  اس فقرے  میں  بڑا معصوم ترنّم تھا۔ 
اس نے  بس کا ٹکٹ اور آرڈر جیب سے  بڑی طمانیت کے  ساتھ نکالے  اور پھر اُسے  کھول کر اس طرح دیکھا جیسے  وہ یقین کرنا چاہتا ہو کہ کیا یہ وار واقعی کاری تھا۔ مگر نہ معلوم کیوں  اُسے  یقین نہیں  آ رہا تھا۔ 
اُس نے  بس کا ٹکٹ  صُبّو کو دے  دیا اور وہ اُسے  توڑ مروڑ کر نہ معلوم کیا  بنانے  کی کوشش کرنے  لگا اور وہ اس آرڈر کا  مفہوم اپنی بیوی کو بتلانے  لگا۔ پھر اُس نے  اُس کو  تہہ کیا، اور سرے  موڑے  اور یونہی غیر ارادی طور پر اُسے  کئی بار موڑا اور پھر وہ کونے  کھینچ دیئے۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے  دیکھا کہ وہ حکم نامہ خود ایک کاغذ کی ناؤ بن گیا ہے۔ 
’’ارے۔ ۔ ۔!۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ بے  اختیار کہہ اُٹھا۔ 
صُبّو اس کی طرف متوجّہ ہو گیا۔ 
’’آہاہا کشتی، کشتی!۔ ۔ ۔ ‘‘ وہ خوشی سے  چہکنے  لگا اور اُسے  لے  کر بھاگ گیا۔ 
اُس نے  نیم خفی مسکراہٹ کے  ساتھ بیوی کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرادی، اور اُس نے  محسوس کیا کہ ابھی اس سمندر میں   اور بھی بہت  سے  ساحل نصیب  ہونے  ہیں۔   
(۱۹۵۳ء)
 

حمدا 

چاندنی چھٹکی ہوئی تھی، فضا خاموش تھی۔ 
حمدا نے  چاند پر ہاتھ سے  اوٹ کرتے  ہوئے  اپنی بوڑھی  آنکھوں   کو سکوڑ کر دیکھا۔ ارے  یہ کھیت میں   کوئی  پڑا ہے۔ ‘‘ وہ اسی طرح  اپنے  جسم کو  خم دیتے  ہوئے  آگے  بڑھا۔ ارہر کی ٹھونٹھیاں  قدموں  کو ہموار نہیں   پڑنے  دیتی تھیں۔ لیکن وہ انہیں  ٹھیلتا ہوا وہاں  تک پہنچ گیا۔ 
فتّے!۔ ۔ ۔ 
وہ ایک دم چونک پڑا۔ آج ضرور کوئی واردات ہوئی ہے۔ یہ شخص  اپنی حرکتوں  سے  باز نہ آئے  گا۔ جھنجھلاہٹ سے  اس کی نسیں  تن گئیں  اور مٹّھیاں  کس گئیں۔ لیکن ارہر کی ٹھونٹھیاں  اس کے  جسم میں   سوراخ کئے  دے  رہی ہوں  گی۔ یہ سوچتے  ہی جیسے  وہ مضطرب ہو گیا۔ اس نے  فتّے  کے   بے  حس و حرکت جسم کو اٹھانے  کی کوشش کی لیکن جلدی ہی اسے  محسوس ہو گیا کہ اس بھاری بھرکم کو بوڑھے  بازوؤں   میں  اٹھا لینا آسان  نہیں۔ تھوڑی دیر  کھڑا وہ کچھ سوچتا رہا۔ پھر اس نے   کچھ اس طرح عجلت کے  ساتھ اِدھر اُدھر  دیکھا جیسے  اسے  کوئی  بات  سوجھ گئی ہو۔ وہ پاس بہتی ہوئی ندی کی طرف  بھاگا۔ بدحواسی میں  اس نے  دو تین بار ندی سے  چُلّو میں  پانی بھر کر فتّے   تک لے  جانے  کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں  ہوئی۔ پھر کچھ اور سوچ کر اس نے  اپنی کھدّر کی پگڑی کو ندی میں  ڈبویا اور بغیر نچوڑے  ہوئے  فتّے   کی طرف لپکا۔ فتّے  اب تک  ارہر کی ٹھونٹھیوں  پر  بے  حس و حرکت پڑا ہوا تھا۔ اس نے  پگڑی کو آہستہ آہستہ فتّے  کے  چہرے  پر نچوڑنا شروع کیا اور دو تین قطرے  پانی  اس کے  منہ میں   ٹپکانے   کی کوشش کی۔ بے  حس و حرکت جسم  میں  جنبش سی پیدا ہوئی۔ ایک کرب انگیز  کراہ لے  حمدا  کے  دل میں   امّید کی  رمق پیدا کر دی۔ اس نے  فتّے   کو جھنجھوڑا اور اونچی آواز میں  کئی بار پکارا۔ فتّے  نے   نہ دقّت تمام آنکھوں   کو تھوڑا  سا کھولا اور بے  ہنگم  سی آواز میں   چیخ اٹھا، اور پھر بیہوش ہو گیا۔ 
حمدا کی سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا کہ اب کیا کرے ؟ لیکن پھر اس نے  اپنے    حواسمجتمع کئے  اور دوبارہ  بھاگتا ہوا ندی سے  اپنی پگڑی بھگو لایا۔ ایک بار اور پانی کے  چھینٹوں  سے   فتّے   کو ہوش میں  لانے   کی کوشش کرنے  لگا۔ 
فتّے  نے  ہوش میں  آتے  ہی اپنے  سامنے  ایک اور دشمن کو دیکھا۔ جو اس کی بے  بسی سے  پورا پورا فائدہ  اٹھا سکتا تھا۔ فتّے  نے  اپنی ساری قوّت کو  مجتمع کرنے  کی کوشش کی۔ کاش اس وقت وہ اس بوڑھے  کھوسٹ کو مزہ چکھاتا جو اس کی معذوری کو اپنی فتح کا ذریعہ سمجھ کر اس کے  سر پر مسلّط ہو گیا تھا۔ لیکن  لاکھ کوشش کے  باوجود  وہ اپنی  مٹّھیوں   کو بھی اچھّی  طرح نہ کس سکا۔ 
فتّے  کے  جسم میں  حرکت دیکھ کر  حمدا کی بوڑھی   سلوٹوں   میں   مسرّتوں  کی لہریں   دوڑنے  لگیں  اور بے  قابو ہر کر وہ پکارنے  لگا۔ ’’فتّے! فتّے ‘‘۔ 
اور فتّے  بے  بس و مجبور منتظر تھا کہ حمدا  اس کے  ساتھ اب  کیا کرے  گا۔ وہ ٹکٹکی  باندھے   ہوئے  گھور رہا تھا۔ اور اس کے  سینے  میں   پچھتاوے  کا  الاؤ بھڑک رہا تھا۔ 
فتّے!۔ ہمّت  کر، اٹھ بیٹھ، دیکھ یہ ٹھنٹھیاں  تیرے  بدن کو  چھیدے  دے  رہی ہوں  گی۔ ‘‘
حمدا نے   فتّے   کو سہارا دینے  کی کوشش کی۔ 
اور فتّے  اشاروں  پر  ناچنے  والی کٹھ پتلی کی طرح  اٹھنے  کی کوشش، کرنے  لگا۔ وہ خود کو  مجبور  سا پا رہا تھا۔ 
حمدا نے  فتّے   کے  ایک بازو کو اپنے  شانوں  پر سے  گزرتے  ہوئے  دوسرے  ہاتھ سے  تھام لیا۔ اور پہلے  ہاتھ کو  اس کی کمر میں  ڈال کر اسے   مضبوطی سے  پکڑ لیا۔ تاکہ فتّے   کے  بھاری جسم  کا زیادہ سے  زیادہ بوجھ اس کے  جسم پر آ جائے۔ 
’’فتّے  ہمّت کر، گاؤں  یہاں  سے  میل بھر ہی ہے۔ میں  تجھے  اٹھا نہیں  سکتا ورنہ گود  ہی میں  لے  جاتا۔ پر اب تو کسی نہ کسی طرح  چلنے  کی کوشش کر‘‘۔ 
فتّے  کا خون کھولنے  لگا۔ اس کے   زخم دکھنے  لگے۔ یہ شخص میری بے  بسی سے  کتنا  فائدہ اٹھانا  چاہتا ہے۔ اگر یہ اٹھا سکتا تو گود میں   لے  جاتا۔ اور پھر  کیا کرتا؟۔ اور اب کیا کرے  گا؟۔ 
لیکن اس کے  لہجے  میں  اس قدر نرمی کیوں  ہے ؟ کیا یہ وہ حمدا  نہیں   جو میرے  مقابلے  میں   لٹھ لے  کر آ کھڑا ہوا تھا۔ جب جوئے  میں  سب کچھ ہارنے  والے  نتّھو  تیلی کا مریل بیل میں  زبردستی کھولے  لئے  جا رہا تھا نا کہ قصائی کے  ہاتھ اونے  پونے  بیچ کر اگلی پھڑکا  انتظام کر سکوں ؟ کیا یہ وہی منحوس نہیں  جس نے  کہا تھا کہ فتّے  تو کسی کی روزی پر ہاتھ ڈال کر  میرے  جیتے  جی عیش نہیں  اڑا سکتا؟۔ کیا یہ وہ ہی پاجی نہیں  جس کو میں  نے  بڈّھا سمجھ کر  طرح دے  دی تھی۔ اور آج یہ میرا کیا کرے  گا؟۔ کاش مجھ میں  اتنی قوّت واپس آ جاتی کہ میں  اس کی مکّاری کا مزہ  اس کو چکھا سکتا۔ 
اس نے  اپنے  اعصاب کو ایک بار پھر آزمانا چاہا۔ 
’’فتّے  تو اپنے  چہرے  کو میرے  اوپر ہی رہنے  دے ‘‘۔ حمدا نے   فتّے  کے  جسم میں   کھنچاؤ سا محسوس کرتے  ہوئے  کہا۔ ‘‘ تو فکر نہ کر میں  بوڑھا ہوں  تو کیا۔ ابھی اتنی سکت مجھ میں  ہے  کہ تھے  گاؤں   تک پہنچا دوں ‘‘۔ 
اور فتّے  کے  تمام اعضاء ڈھیلے  پڑ گئے۔ آخر آج اس کے  لہجے  میں   اس قدر نرمی کیوں  ہے ؟ وہ مسلسل سوچ رہا تھا۔ چوٹوں  کے  درد سے   اس کے  اعضاء دکھ رہے  تھے  اور خیالات  کے  الجھاوے   سے  اس کے  ذہن  میں  چنگاریاں   چھوٹ رہی تھیں۔ وہ اپنی بوجھل آنکھوں  سے   فضا میں  گھور رہا تھا۔ اور انجانے  انجام کے  بارے  میں   غور کر رہا تھا۔ آخر  اس کا حشر  کیا  ہونے  والا ہے؟۔ 
’’فتّے  مجھے  معلوم ہوتا ہے  آج تو نے  پھر کوئی واردات کر ڈالی ہے ‘‘ حمدا نے  سکوت توڑا۔ 
فتّے  کچھ نہیں  بولا۔ وہ اندرونی  تکلیف  کی شدّت سے  مجبور تھا۔ بس وہ چاندنی سے  چمکتی ہوئی روپہلی بل کھاتی پگڈنڈی پر  چلتا رہا۔ 
’’لیکن  فتّے، تو آخر کب تک  اسی طرح اپنی جوانی  برباد کرتا  رہے  گا؟‘‘
اور فتّے  اس دردمندانہ  لہجے  پر  جھنجھلا اٹھا۔ وہ اپنی جوانی برباد کر رہا تھا یا نہیں، یہ اُس کا اپنا معاملہ تھا۔ لیکن اب اس کی جوانی کا جو حشر ہونے  والا تھا اس کی خود اسے  بھی خبر نہ تھی۔ اس نے  چاہا کہ وہ حمدا کے  شانوں  پر  رکھے  ہوئے  اپنے  بازو کو اس طرح  سمیٹ لے  کہ وہ بوڑھی گردن  اس کے  درمیان  چرمرا کر رہ جائے۔ لیکن آج اس کی ہڈّیوں  میں  اور اس کے  پٹّھوں  میں  اتنی توانائی بھی باقی نہیں  رہ گئی تھی۔ وہ محض گوشت پوست کا ایک ڈھیر سا ہو کر رہ گیا تھا۔ 
’’فتّے، معلوم ہوتا ہے  تو تھک گیا ہے۔ ‘‘ حمدا نے  غم انگیز لہجے  میں  کہا۔ ’’لیکن  بچّے  میں  کیا کر سکتا ہوں۔ مجھ میں  اتنی طاقت کہاں  کہ میں  تجھے  اس سے  زیادہ آرام پہنچا سکوں۔ ‘‘
یہ مجھ سے  کیا چاہتا ہے ؟ فتّے  نے  سوچا۔ یہ اتنی ہمدردی کیوں  جتا رہا ہے۔ ضرور اس میں  اس کی کوئی چال ہے۔ اس لئے  ایک بار اور بڈّھے  کو شکست دینے  کی کوشش کی۔ اگر وہ اپنے  آپ کو حمدا کے  اوپر گرا ہی دے  تو وہ دب کر چپاتی ہو جائے  گا۔ اس نے  حمدا پر گرنے  کی کوشش کی۔ لیکن  نقاہت کی وجہ سے  صرف لڑکھڑا کر رہ گیا۔ 
’’فتّے  تیرے  قدم ڈگمگا رہے  ہیں۔ ‘‘ حمدا نے  پھر ہمدردی کا اظہار کیا۔ ’’مگر ذرا اور ہمّت سے  کام لے۔ اب ہم گاؤں   کے  پاس ہی۔ آ گئے  ہیں۔ ‘‘
اور فتّے  کے  ذہن میں  مسلسل گتّھیاں  پڑتی چلی جا رہی تھیں۔ اس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔ اس کے  زخم دکھ رہے  تھے۔ اس کی آنکھیں  بوجھل ہو رہی تھیں۔ 
’’فتّے  ذرا ٹھنڈے  دل سے  سوچ۔ تجھ میں  کتنی قوّت ہے۔ کتنی ہمّت ہے، اور کتنا نڈر ہے  تو! لیکن ان سب کا کیا فائدہ؟۔ آج گاؤں  میں  کوئی بھی تیرا نام پیار، محبّت سے  نہیں  لیتا۔ تو نے  اپنی ذات سے  کسی کو فائدہ پہنچانے  کی کوشش نہیں  کی، الٹا سب کو دکھ ہی دیتا رہا ہے۔ ہر ایک کی آنکھوں  میں  تیرا  نام  سن کر  آنسو آ جاتے  ہیں۔ جیسے  اگر ان سے  بن پڑتا تو وہ تیرے  ساتھ کیا کچھ نہ کر ڈالتے ‘‘۔ 
فتّے  اس کی کمزوری اور لاچاری کے  باوجود  غصّے  سے   بپھر اٹھا۔ اس نے  بولنے  کی کوشش کی:
’’حمدا، تو۔ ۔ ۔ آخر۔ ۔ ۔ چاہتا کیا ہے۔ ۔ ۔ ؟‘‘
حمدا نے  فتّے  کو  پر امّید نگاہوں  سے  دیکھا۔ 
’’میں  کیا چاہتا ہوں۔ انسان ہونے  کے  ناتے  میں  تیرا  بھلا ہی چاہتا ہوں۔ ‘‘
’’تو میرا۔ ۔ ۔  بھلا۔ ۔ ۔   چاہتا ہے ؟‘‘
فتّے  نے  اپنی اکھڑی ہوئی آواز میں   غضبناکی پیدا کرتے  ہوئے  کہا:
’’جس نے۔ ۔ ۔ میرے  مقابلے۔ ۔ ۔  میں لٹھ۔ ۔ ۔ اٹھایا تھا؟‘‘
’’فتّے  مدد مظلوم کی کی جاتی ہے، ظالم کی نہیں ؟‘‘
’’تو کیا۔ ۔ ۔ اب میں۔ ۔ ۔ مظلوم ہوں ؟‘‘
’’نہیں! ظالم تو، تو اب بھی ہے۔ لیکن ایسی حالت میں  تجھے  دیکھ کر مجھے  ترس آ گیا‘‘۔ 
فتّے، نہ جانے  کیا سوچنے  لگا۔ پیڑوں  کے  جھنڈ پر چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ سائے  گہرے  ہو رہے  تھے، اور چاروں  طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ جھینگروں  کی آواز  میں  صرف دونوں  کے  قدموں  کی آواز ابھر رہی تھی۔ اور اس آواز کے  زیر و بم میں  فتّے  کے  ساتھی گاؤں  کے  کسی کونے  میں  چھپے  ہوئے  اس کا منہ چڑا رہے  تھے، جو اس کے  ساتھ جان دینے  آئے  تھے  لیکن اپنی جانیں  بچا کر  بھاگ گئے  اور اسے  گیدڑوں  اور بھیڑیوں  کی خوراک بننے  کے  لئے  چھوڑ گئے  تھے۔ فتّے   اپنی مٹّھیاں  بھینچ کر رہ گیا۔ 
’’فتّے  تو خود سوچ۔ کیا بھلا ایسا ہو سکتا ہے   کہ بچّھو تجھے  ڈنک مارے  اور تو اسے  پیار کرے۔ سانپ  تجھے  ڈس لے  اور تو اسے  دودھ پلائے ؟‘‘
فتّے  روپہلی چاندنی کے  سناٹے  میں  اپنے  بی ہنگم سائے  کو دیکھنے  لگا۔ 
اس کے  سائے  کا سر نفی میں  ہل گیا۔ شاید حمدا کے  سوال پر!
’’بس یہ ہی حال تیرا ہے۔ تو دوسروں  کو ڈنک مار رہا ہے۔ دوسروں  کو  ڈس رہا ہے۔ پھر  وہ تجھے   کیوں   خوش  رہنے  دیں  گے۔ فتّے  مجھ بوڑھے  کی بات  یاد رکھ! دوسروں  کو سُکھ  دیئے  بغیر سُکھ نہیں   ملتا۔ ‘‘
فتّے  اندر سے  ٹوٹ پھوٹ کر  ریزہ ریزہ ہو گیا۔ شاہ میر احمد! میں  نے  تمہیں  نہیں   پہچانا۔ بے  حد شرمندہ ہوں  اپنی نادانی پر!
وہ اب گاؤں  کے  اندر داخل ہو چکے  تھے۔ چاندنی میں   چھپّروں   کے  بیچ سے  اٹھتا ہوا نیلا  دھواں   بڑا دلکش  لگ رہا تھا، کچّی دیواروں  کی سیلی سیلی بو، دماغ کو ایک طرح کے  اس کا احساس  دلا رہی تھی۔ اور پیڑوں  اور چھپّروں  کے  نیچے  بیٹھے  ہوئے  ناریل کا حقّہ  پیتے  ہوئے  کسان  اور چاندنی  میں   کبڈّی کھیلتے  ہوئے   بچّے  بڑے  معصوم  لگ رہے  تھے۔ آج جیسے  وہ پہلی بار بالکل نئی اور پر خلوص دنیا میں  قدم رکھ رہا تھا۔ جہاں  چاندنی آج پہلی بار کسی  نامعلوم  سمت سے  رحمتوں  کی بارش کرتی معلوم ہو رہی تھی۔ 
’’حمدا  چاچے۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نے  پھر بولنے  کی کوشش کی:
’’تو مجھے  اپنے  ہی گھر لئے  چل۔ میں  تیرے  چھپّر کے  نیچے  ہی پڑ رہوں  گا۔ میں  ان کے  پاس اب واپس نہیں  جاؤں  گا‘‘۔ 
اس نے  دور کھڑے  ہوئے   اپنے  ساتھیوں  کی طرف حقارت سے  دیکھتے  ہوئے  کہا۔ اور حمدا تعجّب اور مسرّت سے  بھونچکّا سا  ہو گیا۔ 
اور جب فتّے، حمدا کے  ساتھ، اپنے   ساتھیوں  کے  درمیان  سے  گزرنے  لگا تو وہ پھٹی پھٹی آنکھوں  سے  اس کی طرف دیکھنے  لگے۔ 
                                                      (  ۱۹۵۵ء)
          
 

آئی وَری ٹاور

جانے  کیا دیوانوں  کی طرح وہ اوٹ پٹانگ   سوچتی چلی جا رہی تھا، جیسے  جیسے۔ ۔ ۔ 
زندگی کی رعنائیاں  آہستہ آہستہ، قدم قدم دور ہوتی جا رہی تھیں، دور، دور۔ ۔ ۔  افق کی سرحدوں  سے  بھی دور! ایک بھیانک سنّاٹا چاروں  طرف چھاتا چلا جا رہا تھا۔ ویرانیوں  میں   کبھی ہولناک بازگشت کی آواز  سنائی دے  جاتی تھی۔ اور کچھ نہیں! اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ رو دے۔ ایک بھرپور چیخ کے  ساتھ، تاکہ وہ جو ہر دم ایک گھٹی گھٹی سی کیفیت اس پر طاری رہتی ہے۔ اس نالہ و فریاد کے  سیلاب میں  بہہ جائے۔ مگر، بس وہ ہاتھ مسوس کر رہ جاتی، یہ بھی تو ممکن نہ تھا، کون سنے  گا اس کی آہ و زاری؟ اس ویرانے  میں  یہ آوازِ گریہ بھی تو حیران و پریشان، سرگرداں  رہے  گی۔ دل کے  ارمان دل ہی مین رہتے  ہیں۔ اور جی کڑھتا رہتا ہے۔ 
اس پر اپنی جان سے  اجیرن ہونے  والی  کیفیت طاری تھی۔ اور لان کے  ایک کونے  میں   وہ بڑی فکرمند سی صورت بنائے  ہوئے  بیٹھی تھی۔ اس سے  کچھ فاصلے  پر نجمہ  اون اور سلائی لئے  ہوئے  نہ جانے  کیا بڑی تیزی کے  ساتھ بن رہی تھی۔ اس کے  چہرے  پر شگفتگی تھی، بالوں  کی ایک لٹ چہرے  پر لٹک رہی تھی اور سرد ہوا کے  ہلکے  ہلکے  جھونکے  سے  لہرا رہی تھی۔ مگر وہ اپنے  تبسّم زیرِ لب کے  ساتھ اپنے  کام میں  مگن تھی۔ اسے  بالوں  کی اس لٹ کی بے  ترتیبی کی بالکل فکر نہیں  تھی۔ 
نجمہ!۔ ۔ ۔  ایک احساس نے   اسے  مضطرب کر دیا۔ یہ بالوں  کی لٹ کتنی دیر سے  یونہی جھول رہی ہے۔ اور اسے  کوئی فکر نہیں!۔ بدسلیقہ!۔ کوئی دیکھے  گا تو کیا کہے  گا۔ بے  ہنگم لڑکی!۔ اُس  کے  دل میں  آیا کہ وہ نجمہ کو آواز دے، اُسے  تنبیہ کرے۔ مگر نجمہ کے  مسکراتے  ہوئے  چہرے  نے  اس کے  لبوں  کو سی دیا۔ اور دل گھٹنے  لگا۔ اس نے  اپنے  پالش کئے  ہوئے  ناخنوں   کی طرف دیکھا۔ جگہ جگہ سے  رنگ کی پپڑیاں  اکھڑ گئی تھیں، اور ناخنوں  کی سطح پر  برس کے  دھبّے  سے  نمودار ہو رہے  تھے۔ اس نے  بڑی بے  چینی سی محسوس کی۔ ناخنوں  پر تازہ پالش فوراً کر لینی چاہیئے۔ کسی کی نظر پڑ گئی تو کیا ہو گا؟ اسے  ایک جھجھک سی محسوس ہوئی۔ مگر پھر اس نے  اپنے  ہونٹ دانتوں  سے  کاٹ لئے۔ اپنے  ناخنوں  کو ہتھیلیوں  پر رگڑ ڈالا۔ کوئی دیکھ لے  گا، کسی کی نظر پڑ جائے  گی!۔ آخر کہاں  تک دوسروں  کی پسند کے  لئے  میں  یونہی جیتی رہوں  گی؟ جینے  کے  لئے  میری اپنی کوئی پسند نہیں، میری اپنی کوئی خوشی نہیں ؟۔ 
اور ایک نجمہ تھی جسے  ایسی کوئی فکر نہیں  تھی۔ نجمہ کی زندگی نے  جیسے   اس کی زندگی کے  درد کو  ایک کراہ میں  تبدیل  کر دیا تھا۔ اسے  نجمہ کے  ذہنی  اطمینان پر رشک  آتا تھا۔ لیکن  جب اس کو یہ سب فراہم نہیں  ہوتا تھا تو وہ اپنے  آپ سے  نفرت کرنے  لگتی تھی۔ نجمہ سے  نفرت کرنے  لگتی تھی۔ جو اسے  ان زندگی کے  بندھنوں  میں  باندھے  ہوئے  تھے۔ اس نے  غیر ارادی طور پر نجمہ کی طرف دیکھا اور پھر وہی رشک کا احساس ابھرنے  لگا اور اس نے  نفرت  کے  ساتھ اپنی نظریں  پھیر لیں۔ اسے  نجمہ کی طرف نہیں  دیکھنا چاہیئے۔ اس کی طرف توجّہ نہیں  دینا چاہیئے۔ ہو گی نجمہ، اور اس کی زندگی! اُس  کی اپنی زندگی میں  کس چیز کی کمی ہے ؟ ذہن میں  دو متضاد  خیالات برابر ٹکرا رہے  تھے  اور وہ اس پراگندگی سے  نجات پانا چاہتی تھی لیکن زندگی کا ایک ایک لمحہ فریاد و فغاں  کرتا ہوا  اس کے  تصوّر میں   ایک مجسّم سوال کی شکل میں  سامنے  آ کر کھڑا ہوتا تھا۔ اس کے  اپنے  پاس کوئی ایسا جواب نہیں  تھا جو ان سوالوں  کو پھر گردن نہ اٹھانے  دے۔ مگر، مگر ایسا جواب کہاں ؟ اُس  کی کس مپرسی کی کیفیت میں  اور اضافہ ہو گیا۔ 
’’شمّی، کیا سوچ رہی ہو؟۔ ‘‘
اس نے  بڑی بے  زاری کے  ساتھ نجمہ کی طرف دیکھا۔ 
نجمہ مسکرا رہی تھی، اس کے  بالوں  کی جھولتی ہوئی لٹ لہرا رہی تھی۔ 
’’کیا بات ہے  شمّی؟۔ ‘‘
’’مجھے  ذرا نِشّو کے  یہاں  جانا ہے۔ ‘‘
’’اچھّا اتنی سی بات!‘‘۔ 
وہ وہاں  سے  اٹھ کر چلی آئی۔ 
یہ اتنی سی بات نہیں  تھی۔ یہ کوئی بات ہی نہیں  تھی۔ یہ تو ایک  بہانہ تھا۔ وہاں  سے  ہٹ آنے  کا۔ مگر یہ بات ضرور تھی کہ اسے  نِشّو کے  یہاں  جانا تھا۔ وہ انتہائی کسل مندی کے  ساتھ اپنے  کمرے  میں  چلی گئی۔ سوچا شاید  نِشّو کے  یہاں  جانے  سے  ہی طبیعت کا غبّار صاف ہو جائے۔ آئینہ کے  سامنے  کھڑے  ہو کر اس نے  دیکھا تو اندازہ ہوا کہ جانے  کے  لئے  اسے  کافی  تیّاری کرنی پڑے  گی۔ بال سوکھی ہوئی گھاس کی طرح وحشت اثر تھے۔ ہونٹوں  پر بھی  سرخ چنّیاں  اور بادامی لکیریں  اُبھر آئی تھیں، اور آنکھوں   کے  حلقوں   میں   دھوئیں  کا سا سرمئی رنگ نمایاں  ہو گیا تھا۔ گویا میک اپ کرنے  میں  اچھّی خاصی جدوجہد کرنی پڑے  گی۔ اور بہت سا وقت  صرف کرنا پڑے  گا۔ وہ بڑی بددلی کے  ساتھ ڈریسنگ ٹیبل کے  سامنے  بیٹھ گئی۔ پہلے  اس نے   چہرے  کو ہلکے  ہلکے  نم تولئیے  سے  صاف کیا اور پوڈر کی ایک تہہ جمانے  کی کوشش کی۔ مگر سفید پھپھوندی سی اُبھرتی ہوئی اسے  انتہائی  مصنوعی معلوم ہوئی۔ اس نے  صدّی بچّے  کی طرح دونوں  ہتھیلیوں  سے  اپنے  چہرے  کو رگڑ ڈالا۔ اور پھر دوسری تہہ جمائی۔ اور یونہی نہ جانے  وہ کتنی دیر تک خود کو سنوارنے  میں  مشغول رہی۔ 
میک اپ کرنے  کے  بعد اس نے  اپنے  کپڑوں   پر نظر ڈالی تو  اسے  سخت جھنجھلاہٹ ہوئی۔ آخر یہ آج اسے  کیا ہو گیا ہے ؟ کپڑے  بدلنے  سے  پہلے  میک اپ کر لینا تو حماقت ہو گئی۔ اب کپڑے  بدلنے  کے  بعد اسے  دوبارہ میک اپ کرنا پڑے  گا۔ کپڑوں  کی الماری اور کیبنٹ کھول کر وہ کافی دیر تک جمپر، شلوار اور  دوپٹّوں  کو الٹتی پلٹتی رہی۔ لیکن اس کی سمجھ میں   نہ آیا کہ وہ رنگوں  کے   کس امتزاج و تناسب کو  منتخب کرے۔ اس کی طبیعت جھنجھلا گئی۔ ایک ذرا کی ذرا نِشّو کے  یہاں  ہو آنے  کے  لئے  بھی اُسے  اتنے  سوانگ  کرنے  پڑ رہے  تھے۔ کیا وہ اپنے  آپ کو نِشّو کو دکھانے  جا رہی تھی؟ نِشّو کو نہیں، تو پھر  کون ہے ؟ کسے  دکھانا  ہے  اپنے  آپ کو؟ اس نے  ان دلیلوں  سے  اکتا کر بغیر سوچے  سمجھے  ایک  سوٹ نکال لیا۔ کپڑے  بدلنے  کے  بعد وہ پھر ڈریسنگ ٹیبل کے  سامنے  بیٹھ گئی۔ آئینے  میں  اپنے  چہرے  کو غور سے  دیکھتی رہی۔ ویران ویران سی شکل پر نہ معلوم کتنی اداسی کی تہیں   جمی ہوئی تھیں۔ وہ اپنی ہی آنکھوں   میں، آئینے  میں   گھورتی رہی۔ جیسے  وہ کسی فکر میں  کھو گئی تھی۔ وہ اس دنیا میں  نہیں  تھی، اس کے  ارد گرد کچھ نہیں  تھا۔ اس کے   سامنے   کچھ  نہیں  تھا۔ صرف اپنی شکل!۔ وہ بھی  اسی طرح  بالکل  گُم سُم!۔ 
نجمہ نے   اُس کے  شانے  پر آہستگی سے  ہاتھ رکھ دیا تو وہ چونک  پڑی، نجمہ اب بھی مسکرا رہی تھی۔ نہیں!۔ اُسے  ایسا محسوس ہوا جیسے   نجمہ اُس کا منہ چڑا رہی تھی۔ اس نے  ایک لمبی سانس لی، اور پوشاک تبدیل کرنے  میں  کپڑے  کی رگڑسے  پوڈر کی مٹی ہوئی تہہ کو  سلیقے  سے  برابر کرنے  لگی۔ وہ نجمہ سے  اس وقت بالکل بولنا ہی نہیں  چاہتی تھی۔ اسی لئے  اس نے  اس کا ہاتھ بھی اپنے  شانے  پر سے  نہیں  ہٹایا۔ نجمہ  نے  ایک ذرا آہستگی  کے  ساتھ اس کے  شانے  کو دبایا۔ 
’’شمّی اب اٹھ بھی چکو!‘‘
’’کیوں ؟‘‘
اسے  نجمہ کے  اس تقاضے  پر شدید تعجّب ہوا۔ آخر اس سے  کیا مطلب؟‘‘۔ 
’’نِشّو کے  یہاں  چلو گی نہیں  کیا؟‘‘۔ 
’’کیا تم بھی جا رہی ہو‘‘۔ 
اس نے  انتہائی لا تعلقی کے  ساتھ کہا۔ پوچھا نہیں!۔ 
’’ہاں !۔ میں  نے  سوچا تمہارے  ساتھ میرا بھی نِشّو سے   تعارّف ہو جائے  گا‘‘۔ 
’’ذرا اپنی شکل تو درست کر لو!۔ ‘‘
اس نے  بپھری ہوئی ناگن کی طرح ڈسنا چاہا۔ 
’’کیا میرے  درست کرنے  سے   بدل جائے  گی میری شکل؟‘‘
نجمہ نے   بڑے  اچنبھے  کا اظہار کیا اور شرارت آمیز مسکراہٹ کے  ساتھ  اس کے  شانے  پر  جھک کر  آئینے  میں  جھانکنے  لگی۔ جیسے  کچھ ڈھونڈھ  رہی ہو۔ 
وہ تلملا اٹھی۔ اس نے  نجمہ کے   بالوں  کی لٹکتی ہوئی لٹ کو زور سے  کھینچ لیا۔ 
’’اوئی!۔ ارے  ہاں  ان کو تو ٹھیک کر لوں  گی، لیکن!‘‘۔ اور اس نے  شمّی کے  گالوں  کو ہتھیلیوں  سے  رگڑ دیا۔ 
’’شریر!۔ چڑیل!۔ ‘‘
شمّی نے  نجمہ کے  منہ پر کُشن پھینک کر مار دیا۔ 
لیکن نجمہ کی مسکراہٹ بدستور قائم رہی، اور شمّی کو ایک بار پھر اتنی ہی محنت کرنی پڑی جتنی وہ اتنی دیر پہلے  سے  کرتی رہی تھی۔ 
جب وہ دونوں  تیّار ہو کر نِشّو سے  ملنے  کے  لئے  روانہ ہوئیں  تب بھی شمّی مستقل خاموش رہی اور  اکتاہٹ سی محسوس کرتی رہی۔ نجمہ نے  لاکھ اُسے  کریدنے  کی کوشش کی لیکن اُس کے  لئے  اپنے  اضطراب کا راز فاش کر دینا  کسی طرح ممکن نہ تھا۔ 
پھر جب وہ دونوں  نِشّو کے  مکان کی چاردیواری میں  داخل ہوئیں  تو لان کو پار کرنے  سے  پہلے  پہلے  اُس نے  جبراً اپنے  چہرے  پر شگفتگی کے  آثار پیدا کرنے  کی کوشش کی۔ اندر سے  اس کا دل گریاں  تھا لیکن اس کے  لب خنداں  تھے۔ اس کے  لئے  وہ مجبور تھی۔ دوسروں  کے  یہاں  محرّمی  چہرہ لے  کر جائے  گی تو کیا کہیں  گے  لوگ؟ لیکن اس کے  دل و دماغ پر کیا بیت رہی ہے ؟ کوئی پوچھنے  والا نہیں۔ سب یہی چاہتے  ہیں  کہ ان کے  زندگی کے  پیمانوں  میں  کوئی تلخی نہ گھولے۔ ایک نجمہ ہے  جو نہ جانے  کب سے  اس کو بہلانے  کی کوشش کر رہی ہے۔ مگر (اُس نے  چلتے  چلتے  نجمہ کے  چہرے  پر ایک نظر ڈالی) نہ اس کے  چہرے  پر غازہ ہے، نہ اس کے  ہونٹوں  پر لپ اسٹک، نہ اس کی پوشاک میں  کشش! اس ماحول سے  اس کا تو قریب کا بھی واسطہ نہیں۔ 
اُسے  پھر اپنے  آپ سے  وحشت ہونے  لگی۔ یہ کیوں  وہ دیوانوں  کی طرح  پراگندہ خیالی کا  شکار ہوئی جا رہی ہے۔ اس نے  تمام خیالات  کو اپنے  ذہن سے   نکال دینے  کی کوشش کی۔ سامنے  نِشّو کھڑی اُسے  گھور رہی تھی۔ اس نے  سفید سوٹ پر بڑی شوخ سیاہ مخملی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ 
’’ میں  تو بڑی دیر سے  تمہارا انتظار کر رہی تھی‘‘۔ 
’’ہاں! ذرا نجمہ کی وجہ سے  دیر ہو گئی‘‘۔ 
’’اوہ آپ!۔ بھئی تعارف تو کراؤ ‘‘۔ 
’’ یہ میری سہیلی ہیں، ابھی پچھلے  ہفتے  آئی ہیں  چھٹّیاں  منانے  ‘‘۔ 
’’مگر نہ میری بغل میں  پامسٹری کی کتاب ہے، اور نہ میرے  گھر میں  پوسی ہے ‘‘۔ 
’’کیوں ؟‘‘۔ 
نِشّو نے  بے  جانے  بوجھے  سوال کر دیا۔ 
’’نہ مستقبل کا دھڑکا ہے، اور نہ بے  وجہ بور ہوتی رہتی ہوں ‘‘۔ 
’’ اچّھا!۔ ‘‘
نِشّو نے  فرمائشی قہقہہ لگایا۔ اور شمّی کو یہ قہقہہ کھل گیا۔ 
آخر یہ کون سا مذاق ہے  اور یہ کیا وقت ہے  مذاق کا؟ مگر پھر بھی اسے  مسکرانا پڑا۔ اس  لئے  کہ جب دوسرے   ہنس رہے  ہوں  تو اخلاقاً کم از کم مسکرانا پڑتا ہے، چاہے  آنکھوں  سے  آنسوؤں  کے  سیلاب اُمنڈ آنے  کے  لئے  بے  قرار ہوں۔ اسے  اس وقت یہ الجھن بری طرح ستا رہی تھی کہ نجمہ  کو آخر وہ کون سا اطمینان میسّر تھا جو اسے  رنجیدہ نہیں  ہونے  دیتا۔ اور ایک وہ ہے، اس کا ماحول ہے  کہ روح کی ہر چیخ کو دنیا جہان کے  ہنگاموں  میں  دبا دینے   کی کوشش  کے  باوجود ایک درد انگیز دھواں، سا اٹھتا ہوا  محسوس ہوتا رہتا ہے۔ 
نجمہ نے  نِشّو کو کچھ اس طرح اپنی دلچسپ باتوں   میں   محو کر لیا کہ وہ عافیت سی محسوس کرنے  لگی تھی۔ وہ نِشّو کے  یہاں  آئی تھی تاکہ اپنے  خلجان سے  کچھ دیر  کے  لئے  تو نجات پا سکے۔ مگر یہاں  آنے  پر اسے  معلوم ہوا کہ اس کا خیال غلط تھا۔ وہ بری دیر تک اپنے  آپ میں  کھوئی رہی، اور جب اس کیفیت سے  بھی اُکتا گئی تو وہ چلنے  کے  لئے  اُٹھ کھڑی ہوئی۔ 
’’ارے  بس؟ اتنی جلدی؟‘‘۔ 
’’ہاں  نِشّو، آج شام چچی آنے  والی ہیں۔ کچھ تیّاری کرنی ہے۔ ‘‘
’’کس کے  لئے ؟ چچی کے  لئے  یا چچی کے  بیٹے  کے  لئے ؟‘‘۔ 
نِشّو نے  بڑا بھونڈا مذاق کیا۔ 
’’صرف ممّی کی وجہ سے!‘‘
اس نے  انتہائی رکھائی سے  جواب دیا اور اُٹھ کر چلی آئی۔ 
واپسی پر بھی شمّی اسی طرح کھوئی کھوئی رہی۔ نجمہ  اس طرح ایک  مرمریں  مجسّمے  کے  ساتھ چلنے  کے  لئے   تیّار نہیں  تھی۔ وہ بے  وجہ کی سوگواری کی عادی نہیں  تھی۔ 
’’شمّی تمہیں  کیا ہو گیا ہے ؟ اس قدر خاموش کیوں  ہو؟‘‘
’’میں  خود بھی سمجھنے  سے  قاصر ہوں۔ نہ معلوم کیوں  میں  اپنی طبیعت اندر سے  بجھی بجھی سی محسوس کر رہی ہوں ؟‘‘۔ 
’’پھر بھی آخر کوئی بات تو ہو گی؟‘‘
’’اگر یہی معلوم ہوتا تو بتا نہ دیتی‘‘۔ 
نجمہ اس جواب سے  اکتا گئی۔ 
اور پھر جب وہ دونوں  اپنی کوٹھی میں  داخل ہوئیں  تو نجمہ خاموشی کے  ساتھ اپنے  کمرے  میں  چلی گئی۔ اور وہ اپنے  پلنگ پر بیماروں  کی طرح  پڑ رہی۔ اس نے  اپنے  چاروں  طرف بے  کسی سے  نظر ڈالی۔ اسے  کیا کرنا چاہیئے ؟ کیوں  کر وہ اپنے  آپ کو مشغول کرے  تاکہ یہ ذہنی تشّنج دور ہو جائے۔ مگر اس لمحے  نہ کتابوں  میں  زندگی  محسوس ہو رہی تھی اور نہ ریڈیو گرام میں۔ خبروں  کا وقت ہے، گانوں  کا وقت ہے، ریکارڈوں  کا ایک انبار لگا ہوا ہے، مگر ان سب میں  وہ خود کہاں  ہے ؟۔ صرف  باہر باہر!
نہ معلوم کب تک وہ اس طرح  اپنے  آپ سے  الجھتی رہتی کہ کسی نے  دوسرے  کمرے  میں  ریڈیو  لگا دیا۔ فلمی گانی کی اونچی دھن اس کے  کانوں   سے  ٹکرانے  لگی۔ پہلے  اسے  کچھ سکون سا محسوس ہوا پھر اضطراب کی  کیفیت بڑھ گئی۔ دل بہلانے  کا  یہ بھی کیسا عجیب طریقہ ہے، وقت کا  گلا گھونٹ دو دل بہل جائے  گا!۔ کیسی کم عقلی ہے، اسے  گانے  سے  نفرت سی ہو گئی۔ اس نے  لیٹے  ہی لیٹے  چیخ کر آواز دی۔ 
’’بند کر دو یہ ریڈیو!۔ ‘‘
ممّی اور شاد دونوں  ایک ساتھ اس کے  کمرے  میں  داخل ہوئے۔ 
’’کیا ہو گیا ہے  تم کو شمّی‘‘۔ ممّی نے  تعجّب سے  کہا۔ 
’’آج کئی دن سے  باجی میں  تمہاری یہی کیفیت دیکھ رہا ہوں۔ کیسی ہوتی جا رہی ہو تم؟‘‘
مگر اس نے  ان دونوں  کو جواب دینے  کے  بجائے  کروٹ بدل کر تکیہ میں  چہرہ چھپا لیا اور سسکیاں  بھرنے  لگی۔ ممّی نے  بڑے  پیار کے  ساتھ  اس کے  بالوں  پر ہاتھ پھیرا۔ 
’’شمّی کیا بات ہے ؟‘‘
’’ممّی دیکھو میں  نجمہ سے  پوچھتا ہوں ؟‘‘۔ 
’’نہیں!۔ ۔ ۔ 
اس نے  تکیہ میں  ہی منہ  چھپائے  ہوئے  چیخ کر منع کیا۔ لیکن شاد باہر جا چکا تھا۔ 
اس نے  نجمہ کے  آنے  سے  پہلے  ہی اپنے  آنسوؤں  کو  پلّو سے  خشک کیا، اور اٹھ کر باورچی خانے  کی طرف چلی گئی۔ چچی کی آمد کے  سلسلے  میں   اسے  شام کے  کھانے  کا  اہتمام کرنا تھا۔ وہ بغیر کسی سے  بولے  ہوئے  اپنے  کام میں  لگی رہی، ممّی فکرمند سی اس کا منہ تکتی رہیں۔ ان کی سمجھ میں  یہ معمّہ نہیں  آ رہا تھا، نجمہ بھی کچھ بتانے  سے  قاصر تھی۔ 
’’بیٹیاس طرح بے  وجہ دل دکھانے  سے  فائدہ؟۔ ۔ ۔  ہنسو، بولو، خوش رہو، یہی زندگی ہے ‘‘۔ 
’’اتنی حقیر ہے  زندگی؟ ممّی اور کچھ نہیں  زندگی میں ‘‘۔ 
’’پاگل ہو گئی ہو! اور کیا ہے  زندگی؟
’’مجھے  تو یہ سب ایک ڈھونگ معلوم ہوتا ہے ‘‘۔ 
’’کیسا ڈھونگ؟‘‘
’’یہی جب ہم زندگی کی قدر نہ کر سکیں، تو نادان بچّے  کی طرح اسے  ضائع کرنا شروع کر دیں ‘‘۔ 
’’اونھ، تم تو خبطی ہوتی جا رہی ہو نری!‘‘۔ 
ممّی نے  جھنجھلا کر کہا۔ اور اس نے  خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا، ممّی اس کے  دل کی آواز پر کان نہیں  رکھ رہی تھیں۔ وہ اس کے  جملوں  کی پہنائیوں  کو نہیں  پا سکتی تھیں۔ البتّہ ان کو اتنا احسا س ضرور ہو گیا تھا کہ یہ شمّی کچھ بے  چین سی رہنے  لگی ہے۔ مگر پھر ان کو خیال آیا کہ شاید جب بھاوج اور ان کا لڑکا شاہد آ جائے  گا تو اس گھر کی یکسانیت میں  بھی تبدیل ہو گی اور کچھ نئے  رشتے  کی بات اس کے  سوچنے  کے  ڈھنگ کو  بدل دے  گی۔ 
مگر شمّی کے  لئے   ان سب کا آنا بھی کچھ کم پریشان کن نہیں  تھا۔ چچی کے  آتے  ہی جیسے  اس کے  گھر کی چار دیواریاں  بھی زندان میں  تبدیل  ہو گئی تھیں۔ ہر وقت نِک سُک سے  تیّار رہنا، پوشاک کا خیال رکھنا، میک اپ پر دھیان رکھنا، گویا یہ سب اتنی پابندیاں  تھیں  جن سے  وہ پوری طرح اکتا چکی تھی۔ مگر وہ کیا کر سکتی تھی؟۔ ان میں  سے  کسی چیز کی طرف سے  بھی تو وہ غافل نہیں  ہو سکتی تھی۔ اسے  یہ سب اپنے  لئے  نہیں  کرنا تھا۔ اس کی اپنی  ذات کے  لئے  ان سب کی کوئی اہمیت نہیں  تھی۔ اس کے  لئے  اپنے  ظاہر کے  فریب میں   مبتلا  ہونی کی ضرورت تھی؟ وہ تو اپنے  باطن سے  بھی خوب اچھّی طرح واقف تھی۔ پھر آخر کس کے  لئے ؟۔ اس کا دل دھک دھک کرنے  لگا، ہاں! صرف دوسروں  کے  لئے۔ دوسرے  دیکھیں  گے  نا، تو انہیں  اپر سے  یہی سب کچھ تو نظر آئے  گا۔ اس لئے  ان کی نظریں  خیرہ ہو جائیں  گی۔ اس کا  خیال یہی تھا۔ اور امّی کی ہدایت بھی یہی تھی کہ شاہد کی بارے  میں  انھوں  نے  جو کچھ سوچ رکھا تھا وہ اس مرتبہ پکّا ہو جائے۔ 
مگر ممّی کی آنکھیں  وہ سب کچھ دیکھنے  سے  قاصر تھیں  جو شاہد کی آنکھیں   دیکھنا چاہتی تھیں۔ شاہد  جن نا تجربہ کار اور  متحیّر آنکھوں  کو  پہلے  لے  کر آیا تھا وہ اب ویسی نہیں  رہی تھیں۔ ان میں  کچھ ایسی تبدیلی ہو چکی تھی جن کو دیکھنے  کے  لئے  بھی ایک نظر  چاہیئے۔ وہ اس بات کو بہت اچھّی طرح محسوس کر رہی تھی۔ مگر وہ کیا کر سکتی تھی۔ اس نے  کئی بار چاہا کہ وہ تہذیب کے  اس  مینار سے  باہر نکل آئے۔ جس میں   روما کی محصور شہزادی کی طرح مقیّد ہے۔ مگر جب بھی اس نے  قدم بڑھایا، ممّی نے  وہیں  ٹوک دیا۔ 
’’ شمّی کچھ تو ہماری عزّت کا  خیال کرو!‘‘۔ 
’’دوسرے  کیا ہماری اوقات پر تھوکیں  گے ‘‘۔ 
اور وہ مجبور ہو جاتی کہ اُس شیشہ خانے  میں  واپس  چلی جائے، جہاں  سے  وہ بڑے  جرأت کے  ساتھ باہر آئی تھی۔ اس کا دل روتا، مگر آنکھوں  سے  آنسوؤں  کے  چھلکنے  کی اجازت نہ تھی۔ یہ کیسی پابندی تھی؟ وہ اپنے  آپ سے  عاجزی سے  پوچھتی مگر ایک گھٹی گھٹی خاموشی کے  سوا  وہاں  بھی اسے  کوئی جواب  نہ ملتا۔ ممّی کو اس کیفیت کا بھی اندازہ نہ تھا۔ ان کو اطمینان تھا  کہ سمّی  اُن کا کہنا کس قدر  سعادت مندی سے  مانتی ہے۔ اور بھاوج پر کس قدر اعتماد تھا کہ وہ شمّی کے  لئے  وعدہ کر چکی ہیں۔ 
مگر ان سب کو کیا خبر تھی کہ ان بنیادوں  میں  نیچے  نیچے  کوئی نوخیز بیل بھی اگتی چلی آ رہی ہے۔ کوئی عشقِ پیچاں  ان کے  قلعوں  کی عقبی دیواروں   سے  لپٹی ہوئی  اوپر بھی چڑھتی چلی آ رہی ہے۔ پھر جب سب کو اس کا علم ہوا  تو سب چونک پڑے۔ ممّی حیران رہ گئیں، چچی خجل ہو کر شاہد پر برس پڑیں۔ 
’’آخر یہ کیا بے  ہودگی ہے  شاہد؟‘‘
’’کیسی بے  ہودگی ؟ امّی!‘‘۔ 
’’تم نے  شمّی کے  لئے  انکار کس بات پر کیا ہے ؟‘‘
’’امّی مجھے  تو ایک ایسی عورت چاہیئے  جو ہم سب کی جیسی ہو ہم سب میں  ہماری ہی طرح رہ سکے، ایسی عورت کا کیا مصرف جس کے  لئے  اپنا  آپ سنبھالنا بھی خلجان ہو؟۔ ‘‘
’’مگر شمّی۔ ۔ ۔  شمّی تو!‘‘۔ 
’’کچھ نہیں  امّی! شمّی  بے  چاری تو صرف اپنی سنگارمیز میں   جڑی ہوئی ہے  وہ صرف اسی سے  محبّت کرتی ہے۔ دنیا میں  اس کے  لئے  صرف اس چہرے   کا وجود ہے  جو اسے   اپنی سنگارمیز کے  آئینے  میں  نظر آتا ہے ‘‘۔ 
جیسے  سب کے  ارمانوں  پر اوس پڑ گئی۔ اس کا دل چاہا کہ وہ اپنی سنگارمیز سے  سے ٹکرا دے۔ ممّی کا راستہ روک لے  اور پوچھے۔ ۔ ۔ ’’ممّی کیا اسی کے  لئے  آپ مجھے  ٹوکتی رہتی تھیں۔ اور یہ دیکھئے، یہاں  اس چہرے  پر کوئی تھوک کر چلا گیا ہے!۔ ‘‘
مگر ممّی  بے  چاری خود  اتنی سوگوار تھیں  کہ اسے  ان کی حالت پر ترس آنے  لگا۔ اس نے  چاہا کہ  وہ اب اپنے  دل کی بات کہے۔ مگر اس نے  خاموش رہنا  ہی مناسب سمجھا۔ وہ اس کے  سوا کر بھی کیا سکتی تھی؟۔ وہ تو بالکل روما کی اس محصور شہزادی کی طرح  تھی جو اپنے  مینار سے  جھانک کر  نیچے  دیکھتی ہے۔ دریا کا موّاج پانی لہریں  مارتا ہوا  فصیلوں  کو  چومتا ہوا بہہ رہا ہے۔ دریا کے  اس  پار خود رو جھاڑیاں  اُگی ہوئیں  ہیں اور ہوا کے  نرم نرم جھونکوں  سے  لہرا رہی ہیں۔ اور جنگلی پرندے  اس آزاد فضا میں   چہک رہے  ہیں۔ ایک شاخ سے  اُڑ کر  دوسری شاخ پر بیٹھ رہے  ہیں  پوری فضا پر  ایک  سرور طاری ہے۔ اور اس کا دل مسوس رہا ہے۔ کاش  وہ بھی  اس مینارِ زنداں  سے  نکل کر  آزاد فضا میں  ایک  بار  سانس لے  سکتی، صرف ایک بار!
                                         (۱۹۵۹)
 

  کوئی اُمّید کوئی تمنّا


سینٹ کینٹربری(St. Canturbury)کے  آہنی جسم میں  اُتر کر میں نے  اپنے  شانوں پرسے  سامان اُتار کر فرش پر پٹخ دیا۔ جہاز کے  اس وسطی عرشے  پر بڑی قنوط انگیز تاریکی چھائی ہوئی تھی، دیواروں میں  کافی فاصلہ پر لگے  ہوئے  برقی قمقموں کی ٹمٹماتی ہوئی روشنی رو رہی تھی اور اندھیرا اور بھی بھیانک ہوتا چلا جا رہا تھا۔ میرے  شانے  اپنا پورا فوجی سامان اتنی دور تک لے  کر چڑھنے  اُترنے  کی وجہ سے  دُکھنے  لگے  تھے، اور میرے  لئے  وہاں کی گھٹی ہوئی فضاء میں سانس لینا تک دُوبھر ہو رہا تھا۔ دوسرے  فوجی اپنے  لئے  نشستیں بنانے  کے  لئے  جلدی جلدی اِدھر اُدھر برتھوں پرسامان پھینک رہے  تھے۔ ایک عجب ہڑبونگ مچی ہوئی تھی۔ میرا دل الجھ رہا تھا۔ وسطی عرشہ بڑا گرم محسوس ہو رہا تھا۔ جہازاُسی وقت چلنے  والا نہیں تھا۔ یہ اور ایک کوفت تھی۔ تاریکی میں  وہ کسی نامعلوم وقت میں  ساحل کو خیر باد کہے  گا۔ تب جا کر کہیں  ہمیں اُوپر کے  عرشہ پر جانا نصیب ہو گا۔ اُس وقت تک یہیں  گھٹتے  رہنا پڑے  گا۔ جس اور تاریکی، تاریکی اور یاس، یاس اور تشنّج۔ اور ایسی ہی نہ معلوم کتنی کیفیتیں  مجھ پر طاری ہو رہی تھیں۔ میں نے  اپنی بے  چارگی کو دور کرنے  کے  لئے  اپنے  کندھوں کو چند ایک بار سہلایا اور پھر اپنے  سامان کی طرف متوجّہ ہوا۔ لیکن اس سے  قبل کہ میں اپنی مدد آپ کرتا۔ سینٹ کینٹربری میں  میرا ساتھی ملِک آن پہنچا۔ اور آتے  ہی اُس نے  میراسامان اپنے  ہاتھ میں  لے  لیا۔ 
’’ظفری۔ جلدی کرو۔ ورنہ کوئی اور قبضہ کر لے  گا۔ ‘‘
اور میں  بغیر کچھ غور کئے  اس کے  ساتھ ہولیا۔ کیسا قبضہ اور کیسی جلدی؟ میں اُس وقت اس کی وضاحت چاہنے  کے  لئے  بالکل تیّار نہ تھا۔ تاریکی، یاسیت اور تشنّج کی تثلیث میں  جکڑا ہوا میں بالکل  محبوس اور مجبورسا ہو کر رہ گیا تھا۔ ملِک نے  ایک اوپری برتھ پرمیرا بسترپھینک دیا اور سب سے  نچلی برتھ کے  پاس سامان رکھ دیا۔ اور میں  یہ سب کچھ اس طرح دیکھتا رہاجیسے  میری سمجھ میں  کچھ بھی نہیں آ رہا تھا۔ 
’’ظفری، تمہارے  لئے  یہ اُوپری برتھ بڑی مناسب رہے  گی۔ تم وہاں روشنی کی وجہ سے  پڑھ بھی سکو گے۔ ‘‘
اور میں نے  پہلی بار روشنی کی طرف پُر امّید ہو کر دیکھا، یہاں یاس اور قنوط میں  بھی مجھے  اتنی روشنی مل سکتی تھی کہ میں  اپنے  نہ معلوم کب کے  پُرانے  رسالوں  کا مطالعہ کر سکتا تھا۔ اور اُس وقت کو جو سمندری سفرمیں  الجھن اور اضطراب میں  گزرنے  والا تھا کسی قدردوسری مصروفیت میں  گزرسکتا تھا۔ میں نے  برتھ پر چڑھ کر اپنا بستر لگانا شروع کر دیا اور ایک اضمحلال انداز میں  کچھ نہ کچھ سوچنے  لگا۔ مجھے  یاد نہیں  میں  کیا سوچ رہا تھا، البتّہ اتنا احساس ضرور باقی رہ گیا تھا کہ دھوئیں  کے  لچّھوں اور دائروں  کی طرح  چند خیالات اور تاثرات ضرور میرے  اندر کروٹیں  لے  رہے  تھے۔ اور میں  کسی قدر اکتا رہا تھا۔ چند جھنجھلاہٹیں  مجھ پر طاری ہو رہی تھیں  اور میں اپنی بھوؤں  کو سکیڑ کر پیشانی پر متعدّد شکنیں  پیدا کر رہا تھا۔ میرے  ہاتھ غیر ارادی طور پر کچھ کر رہے  تھے  اور میں  اس میں مصروف تھا۔ 
’’ظفری آؤ۔ لو، چاء پی لو۔ ‘‘
ملِک نے  مجھ کو آواز دی اور میں اپنی برتھ کونادرست چھوڑ کر اُتر آیا۔ اور اُس سے  مگ (MUG)لے  کر پھیکی اور بدمزہ چاء کے  چھوٹے  چھوٹے  گھونٹ حلق کے  نیچے  اتارنے  لگا۔ میری نظریں  تمام گرد و پیش سے  بے  نیاز نہ معلوم کیا دیکھ رہی تھیں اور میں  عجب بددلی  کے  ساتھ سوچتاچلا جا رہا تھا۔ 
’’عجب مصیبت ہے!اِس حبس اور گرمی میں رات کیسے  کٹے  گی۔ ‘‘ ملِک نے  کہا۔ میری سوچ کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ 
’’کمبخت جہاز بھی جانے  کب چلے  گا۔ ‘‘وہ بڑبڑائے  جا رہا تھا۔ 
’’ہاں  شاید پچھلے  پہر سے  پہلے  ہم بالائی عرشہ پر نا جاسکیں۔ ‘‘ میں  نے  کھوئے  کھوئے  انداز میں  اس کو مطمئن کرنا چاہا۔ لیکن میرا چہرہ خود ایک بے  اطمینانی کی چغلی کھا رہا تھا۔ 
’’اتنی دیر تک اس بھٹّی میں  کیسے  رہا جا سکے  گا۔ ‘‘ وہ عجب بے  زار سا نظر آ رہا تھا۔ 
میری چائے  ختم ہو چکی تھی۔ میں  ملِک کے  روتے  بسورتے  ہوئے  جملوں  سے  اپنے  ذہن کو اور زیادہ کوفت میں  مبتلا کرنا نہیں  چاہتا تھا۔ اس لئے  میں پھر اپنی برتھ پر چڑھ گیا اور اپنا سامان درست کرنے  لگا۔ 
’’ملِک، اپنا بستر درست کر لو، اب سونے  کا وقت ہو رہا ہے۔ ‘‘
’’اچّھا۔ ‘‘اس کا لہجہ بڑا بے  کسی کا تھا۔ 
میرے  سرہانے  دیوار میں  لگا ہوا بلب ٹمٹما رہا تھا۔ اور اس کی زرد روشنی دم توڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ وسطی عرشہ کی تاریکی اُس میں  مل کر اور بھی حُزن پیدا کر رہی تھی۔ اور یہ حُزن مجھ  میں غمگینی کو اس قدر اُبھار رہا تھا کہ میں بھی ملِک کی طرح رو دینے  کے  لئے  مجبور ہوا جا رہا تھا۔ اس روشنی میں  جیسے  ایک روکھا پن سا تھا، ایک بے  کیفی سی تھی، بالکل مردہ  مردہ سی، بے  جان سی۔ میں  چند لمحے  تک اس کمزور روشنی کے  منبع کو گھورتا رہا۔ اُس پر ایک بھی پروانہ نہیں  تھا۔ کوئی ادنیٰ سا بھونڈا سا کیڑا بھی اُس کے  شیشے  سے  چمٹا ہوا نہیں  تھا۔ اور آخر وہ کیوں آتا۔ اس کے  لئے  کوئی پابندی اور مجبوری تو نہ تھی۔ یہ روشنی تو ان فوجیوں  کو اپنی برتھوں میں  ٹٹول ٹٹول کرگھس رہنے  کے  لئے  بڑی ہلکی سی دھند میں  سہارادینے  کے  لئے  لگائی گئی تھی۔ یہ تو ان جانوروں  کے  لئے  لگائی گئی تھی جنھیں  مجبوراً اپنی جانیں  بیچ دینی پڑی تھیں۔ اور ان جانوروں  میں  سی ایک میں  بھی تھا۔ میں، جو اس ٹمٹماتی ہوئی روشنی کی طرف ٹکٹکی لگائے  کچھ ڈھونڈھ رہا تھا۔ وہ کیا تھا جسے  پانے  کے  لئے  میں  اس تحت الثریٰ(Hades)میں   اُتر آیا۔ 
چند نقوش ماضی کے  اس عرصہ میں  میرے  تصوّر میں  تازہ ہو گئے۔ وہ منظر کتنا پُر کشش ہوتا تھا جب شام کے  وقت گاؤں  کے  کچّے  مکانوں  سے  دھواں  اُٹھ اُٹھ کر فضاء میں  تیرنے  لگتا تھا اور دور تک پھیلتا بڑھتا چلا جاتا تھا۔ اور اُفق پر ڈوبتے  سورج کی  شفق دور تک پھیلتی ہوتی تھی۔ پھراُس ہلکی سُرخی میں  چراگاہوں  سے  واپس آنے  والے  جانوروں  کی گھنٹیوں  کی گونج پیدا ہوتی رہتی تھی۔ ان کے  قدموں  سے  اٹھتی ہوئی گرد بڑی ہی پیاری سی دھند میں  تبدیل ہو جاتی تھی جو ان ڈوبتی ہوئی کرنوں کی سرخی سے  رنگین بھی ہو جاتی تھی۔ میں ایسے  وقت چراگاہوں کی طرف بھاگ جایا کرتا تھا اور سب سے  آخر میں آنے  والے  ریوڑ کے  ساتھ واپس آیا کرتا تھا۔ میری جیبیں  کچّی پکّی جھر بیریوں  اور جنگلی کروندوں  سے   بھری ہوتی تھیں۔ پھر جب میں  گاؤں  میں  داخل ہوتا اور جانور اپنے  کھونٹوں  پر باندھ دیے  جاتے۔ تو مجھ پر والد کا  خوف طاری ہونے  لگتا۔ میرا دل اس انوکھی چہل قدمی سے  انتہائی مسرّت محسوس کرتا۔ اور ساتھ ہی ساتھ پیش آنے  والی خفگی ڈنک کی طرح چبھتی رہتی، سورج ڈوب چکتا۔ چمپئی روشنی  تاریکی میں  تبدیل ہو جاتی اور تاریکی گاڑھی پڑ جاتی۔ تب میں  چوروں  کی طرح پنجوں  کے  بل مکان میں  داخل ہوتا اور اچانک والد صاحب سے  مڈبھیڑ ہو جاتی۔ ان کی آنکھوں  سے  ناگواری کا اظہار ہوتا اور وہ مجھ سے  ترش لہجہ میں  پوچھتے :
’’کہاں  تھے  تم؟‘‘۔ 
میں  اس وقت بالکل گُم صُم ہو جاتا۔ میری سمجھ میں  کچھ نہ آتا۔ کیا جواب دوں ؟بس، خاموشی کے  ساتھ ان کے  سامنے  سے  ہٹ جاتا۔ 
اور جب ہم کھانا کھا کر اپنے  بستروں میں گھُس جاتے  تو والد صاحب اپنی لائبریری سے  کوئی ضخیم سی کتاب نکال لاتے  اور لالٹین کی زرد روشنی میں پڑھتے  رہتے۔ ان کا یہ مطالعہ کافی دیر تک جاری رہتا۔ ہمیں  اس کی بالکل خبر نہ تھی کہ وہ کب تک پڑھتے  رہتے  تھے۔ ہاں وہ خواہش جو اُس وقت میرے  اندر پیدا ہو جاتی۔ وہ اب تک ذہن میں  تازہ ہے۔ میں بڑے  اشتیاق سے  ان کو مطالعہ کرتے  ہوئے  دیکھا کرتا اور آپ ہی آپ تمنّا کرنے  لگتا کہ کاش میں بھی اُن موٹی موٹی کتابوں کا مطالعہ کر سکتا۔ لیکن یہ تمنّا صرف اُن موٹی موٹی کتابوں کے  لئے  ہوتی تھی، اپنی درسی کتابوں کوتوبس دفن کر دینے  ہی کو دل چاہتا تھا۔ جن کے  تصوّرسے  ہی چاروں طرف چھوٹی بری لال پیلی آنکھیں  رقص کرنے  لگتی تھیں اور ہم ان ابتدائی درسی کتابوں  کو اس طرح کس مپرسی کی حالت میں  چھوڑ کراسکول سے  بھاگ جاتے  جیسے  نعمت خانے  کی طرف بڑھتے  ہوئے  چوہے  کو ایک دم بلّی کا خیال آ جائے۔ 
میری یہ حرکتیں  کتنی طفلانہ ہوتی تھیں۔ میں  اُنھیں  اس وقت سوچ سوچ کر ہی اس بے  کیفی میں  مسکرا رہا تھا۔ اکثراس اشتیاق ہی کی وجہ سے  میں  والد صاحب کا سردبایا کرتا تھا اور وہ بڑی اچّھی اچّھی کہانیاں  اور نظمیں  سنایا کرتے  تھے۔ وہ نظم کتنی پیاری تھی جس میں  ایک چھوٹی سی لڑکی کا تذکرہ تھا جو میدانِ جنگ میں  زخمیوں کو پانی پلاتے  ہوئے  ماری گئی تھی۔ وہ نظم تو مجھے  اتنی پسندتھی کہ جب والد صاحب مجھ سے  خوش ہوتے  تھے  تو پوچھتے۔ ’’کہو آج کیا سنو گے ؟‘‘ اور میں اسی نظم کا تقاضہ کر دیا کرتا تھا۔ مجھے  رات کا وقت خاص طورسے  بہت پسند تھا۔ اُس وقت تاریکی بھی  بھلی معلوم ہوتی تھی اور لالٹین کی زرد روشنی تو میری نیند میں  گھل مل کر بڑا لطف دیتی تھی۔ 
مگراُس زرد روشنی میں  بڑی بے  کیفی تھی۔ وسطی عرشہ کی گرمی سے  طبیعت الجھ رہی تھی۔ نیندسے  میری آنکھیں  بالکل محروم ہو چکی تھیں۔ کون ہے  وہ معصوم بچّی جس کا انتظار میں  اس گھٹے  دل کے  ساتھ یہاں کر رہا ہوں ؟۔ میں نے  اپنی جیب سے  اردو کا ایک پرانا رسالہ نکالا اور اُسی زرد دھندلی روشنی میں  اُس سے  خود کو بہلانے  لگا۔ اُس وقت مجھے  الفاظ کتنے  یاس آمیز سے  محسوس ہو رہے  تھے۔ جیسے  اُن کے  کوئی معنی مطلب ہی نہ ہوں۔ بڑی دیر تک میں  یوں  ہی ورق الٹتا رہا اور پھر بد دل ہو کر رسالہ بند کر کے  رکھ دیا اور برتھ پر کروٹیں  بدلتے  بدلتے  سو گیا۔ 
صبح جب آنکھ کھلی توایسا محسوس ہوا کہ جیسے  برتھ بہت ہی خفیف سے  جھکولے  لے  رہی ہے۔ بس اتنے  ہلکے  کہ صرف ان کا احساس ہی ہو سکے۔ میں  بڑی دیر تک برتھ پر لیٹا ہی لیٹا ان جھکولوں  کا احساس کرتا رہا لیکن اس گھٹن جو میں  سینٹ کینٹربری میں  داخل ہوتے  ہی محسوس کرنے  لگا تھا۔ میرے  اندر پھر عود کرنے  لگی۔ میں  نے  نیچے  جھانک کر ملِک کی برتھ کا جائزہ لیا۔ وہ اُٹھ کر جا چکا تھا۔ شاید بالائی عرشے  کی بوجھل تاریکی صبح ہونے  کے  باوجود دور نہیں  ہوئی تھی اور نہ ہی وہ زرد اداس روشنی ہی گُل ہوئی تھی۔ اُس تاریکی کو چوبیس گھنٹے  مسلّط رہنا تھا اور اُس روشنی کو بھی مسلسل جلتے  رہنا تھا۔ اور میں  ان دونوں  سے  بیزار ہو چکا تھا، اس لئے  میں بھی بالائی عرشے  پر چلا گیا۔ جہاز دریا کے  مشرقی چوڑے  دہانے  میں  آہستہ آہستہ حرکت کر رہا تھا۔ دریا کا پانی کافی مٹیالا سا تھا۔ اور اس میں  جہاز کی حرکت سے  بڑی بڑی لہریں  اٹھ کر دستی کشتیوں  اور ڈونگوں  کو جھنجھوڑے  دے  رہی تھیں۔ لیکن اُن کے  مانجھیوں   پر ذرا بھی خوف و ہراس طاری نہیں  ہو رہا تھا۔ وہ جہاز کو دیکھ کر چیخ رہے  تھے  اور اشارے  کر رہے  تھے  اور جہاز کے  کناروں پر جھکے  ہوئے  فوجی ان کو بڑے  اشتیاق سے  دیکھ  رہے  تھے۔ پیچھے  چھوٹتے  ہوئے  خشکی کے  حصّے  کو وہ بڑی حسرت بھری نظروں  سے  دیکھ رہے  تھے۔ بچھڑتے  ساحلوں کو دیکھ کر میرے  اندر کوئی آبدیدہ ہو گیا۔ ہماری جڑیں  اپنی زمین کو چھوڑ رہی تھیں۔ کیسی یاس انگیز مایوسی تھی!
 میں  نے  چاہا کہ میں  ملِک کو تلاش کر لوں۔ اسی دوران مجھے  پاس ہی سے  دواؤں کی سی کیمیائی بو محسوس ہوئی اور میں نے  ناگواری کے  ساتھ پیچھے  مڑ کر دیکھا۔ 
’’لِزا۔ ۔ ۔ ؟‘‘
’’ظفری؟۔ کیا تم بھی اسی جہاز سے  چل رہے  ہو۔ ‘‘
’’ہاں!اور تم بھی؟‘‘
’’ہاں، ہاں!‘‘
لیکن ہم میں  سے  کوئی بھی ایک دوسرے  سے  یہ نہیں  پوچھ سکتا تھا کہ کہاں جا رہے  ہو۔ کیونکہ ہمیں  خود یہ بھی تو معلوم نہ تھا کہ ہم جانے  پر تیّار کیوں  ہو گئے ؟۔ البتّہ اس اتّفاقی ملاقات سے  طبیعت کا روکھاپن کچھ کم ضرور ہوا۔ اس لئے  میں  نے  اس سے  کینٹین چلنے  کا مطالبہ کیا۔ فوجی جہاز پر اس سے  بڑھ کر تفریح کی جگہ اور کیا ہو سکتی ہے ؟ ہم دونوں  کینٹین کے  کیبن کی طرف مُڑ گئے۔ ملِک کاؤنٹر سے  ٹیک لگائے  کھڑا چائے  پی رہا تھا۔ اور ہمیں دیکھتے  ہی وہ فرطِ مسرّت سے  چیخ اُٹھا:
’’ملّو!۔ ۔ ۔ لزا تم بھی موجود ہو؟۔ ۔ ۔ ‘‘
’’ہاں  میری کور بھی چل رہی ہے۔ ‘‘ لزا نے  ایک سرسری سا جواب دیا۔ اور پھر ہم لوگ چائے  پینے  میں  مشغول ہو گئے۔ 
اب ہم سینٹ کینٹربری میں  تین ایسے  افراد جمع ہو گئے  تھے  جو ایک دوسرے  سے  بہت زیادہ مانوس تھے۔ تینوں  ایک دوسرے  کے  لئے  قابلِ رحم!
جہاز دریا کی پانی کو عبور کر چکا تھا اور سمندرکے  کاہی رنگ کے  پانی میں زیادہ تیز رفتاری سے  چلنے  لگا تھا۔ ہمارے  لئے  تفریح کے  واسطے  صرف تین جگہیں  تھیں۔ ایک کینٹین، دوسرے  تفریحی کمرہ اور تیسرے  عرشہ جہاں سمندرکی ٹھنڈی نمکین ہوا میں  بیٹھ کر ہم پہروں  ساکت و صامت مشتعل پانی کو دیکھتے  رہتے  تھے۔ سمندر کا گہرا نیلا پن  تا حذِّ نگاہ پھیلا ہوا تھا۔ صرف مختلف منازل سی گزرتے  ہوئے  اس کے  مختلف رنگوں  کا تجربہ ہو رہا تھا اور سینٹ کینٹربری کے  چلنے  سے  شور میں اور بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ ہم جنگلے  کے  کنارے  کھڑے  ہوئے  پانی کو بے  مقصد گھورا کرتے  تھے، اُسے  بغور دیکھا کرتے  تھے  جیسے  ہم اس میں  کچھ تلاش کر رہے  ہوں۔ یا شاید یہ بھی نہیں  بلکہ ہمیں  کوئی اور کام نہیں  تھا۔ سطی عرشہ کا  حبس اُس کی تاریکی اور زرد  اُداس روشنی کسی طرح وہاں  ٹکنے  نہیں  دیتی تھی۔ اس لئے  ہم بالائی عرشہ پراہنا وقت بس  یوں  ہی گزار رہے  تھے۔ شاید کوئی اشد ضرورت ہی ہمیں  اپنی برتھ تک لے  جاتی ہو ورنہ آفتاب کی تمازت کے  باوجود ٹھنڈی نمکین بحری ہوا کو چھوڑنے  کے  لئے  ہم تیّار نہ تھے۔ ہمارے  چہروں  کی کھال اس تمازت سے  جھلس چکی تھی اور مُردہ کھال کی پپڑیاں تازہ کھال کے  لئے  اپنی جگہ چھوڑ رہی تھیں لیکن پھر بھی یہ ہمارے  لئے  احتیاط اور تشویش کی بات نہ تھی۔ ہمیں  تشویش ہوتی بھی توکس بات کی؟ ہم اب کہیں  بھی تو نہ تھے۔ ہماری کوئی سمت نہیں  تھی۔ کوئی فرش کوئی عرش نہ تھا۔ بس صرف تا حدِّ نگاہ نیلا پانی اور نیلی فضاء! سورج نکلتا تو اُس سے  کوئی سایہ بھی نہ بنتا!سب کچھ لا وجود!
پورا دن میں نے  عرشے  ہی پرکاٹ دیا۔ صرف کھانا کھانے  میں  (MESS)میں  گیا اور بس پھرآہستہ آہستہ شام آنی شروع ہو گئی۔ مگر یہاں  چمپئی گرد اور دھند کہاں  تھی جو روح کی گہرائیوں  میں  بے  پایاں  فرحت بھر دیتی تھی۔ صرف دور پانی کے  کناروں پر ایک زردی سی نظر آتی رہی اور کچھ عرصے  کے  بعد وہ بھی فنا ہو گئی۔ سورج ایک بے  نام سی شام بنا کر سمندرمیں غرق ہو گیا۔ تاریکی چاروں  طرف چھا گئی۔ بالائی عرشے  پر کسی طرح کی بھی کوئی روشنی نہ کی گئی۔ تمام (Light Posts)میں  سے  برقی قمقمے  نکال لئے  گئے  تھے  اور دشمن کے  خطرہ کی وجہ سے  سگریٹ تک جلانے  کی اجازت نہ تھی۔ اور اس پُراسرار تاریکی میں  جہاز آہنی عفریت کی طرح تیز رفتاری سے  بڑھتا جا رہا تھا۔ اس پُر شور سنّاٹے  نے  مجھ پر اکتاہٹ طاری کر دی اور میں جنگلے  کے  قریب ٹہلتا رہا۔ ملِک نہ معلوم کہاں تھا۔ اور لِزا بھی شاید اپنی کور میں  ہو۔ مجھے  زینے  کے  نزدیک کوئی سایہ محسوس ہوا۔ شاید کوئی کھڑا ہو۔ 
’’کون ہے ؟‘‘ میں  نے  سوال کیا۔ 
’’میں ہوں۔ آ جاؤ!‘‘
’’کون لِزا۔ ؟‘‘
’’ہاں، ہاں، آؤ۔ ‘‘
ہم دونوں  جنگلے  کے  قریب چلے  گئے۔ یہ معلوم ہوتے  ہوئے  بھی کہ تاریکی کی وجہ سے  ہاتھ کو ہاتھ دکھلائی نہیں  دیتا۔ پھر بھی ہم دونوں  تاریکی میں  دیکھنے  لگے۔ دوسرے  فوجی بھی ہماری ہی طرح اکتائے  ہوئے  پاس سے  گزر رہے  تھے۔ لِزا جنگلے  پر لٹک کر جہاز کے  زیریں  ترین حصّہ کو دیکھنے  لگی۔ 
’’ذرا نیچے  دیکھو ظفری!‘‘
’’کیا ہے ؟‘‘۔ میں  نے  نیچے  جھانکتے  ہوئے  سوال کیا۔ 
’’دیکھتے  ہو پانی کیسا چمک رہا ہے۔ ‘‘
’’جیسے  بہت سے  جگنو تیر رہے  ہوں۔ ‘‘
کھاری پانی کے  شورائی ذرات بے  انتہا رگڑ کی وجہ سے  چمکنے  لگے  تھے۔ ہم انھیں  بڑی دیر تک گھورتے  رہے۔ کیسی چمک تھی! بالکل ہماری بھولی بسری یادوں  کی جیسی۔ 
’’لِزا تمہیں  اپنا گھر نہیں یاد آتا؟‘‘
’’اور اگر یاد بھی آئے  تو کیا ہو سکتا ہے ؟‘‘  اُس کے  لہجے  میں  بڑی پژمردگی تھی!
کوئی ہم دونوں  کے  درمیان  ہمارے   شانوں  کو تھپک کر کھڑا ہو گیا۔ 
’’اوہ!۔ ملِک!۔ ‘‘
’’چلو چائے  ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ میں  تم کو کب سے  تلاش کر رہا ہوں۔ لیزا تم بھی چلو۔ ‘‘
وہ ساری رات میں نے  تقریباً آنکھوں  ہی آنکھوں  میں  کاٹ دی۔ مضطرب نیلے  پانی پر فاسفورس کے  ذرّے  جل کر چمکتے  رہے، بجھتے  رہے۔ برابر گھر کی اور اعزّاء کی یاد آتی رہی۔ میں  نے  انھیں  اس لئے  چھوڑ دیا تھا کہ میں اپنی معاش کا  کوئی حل چاہتا تھا۔ لِزا بھی یہی چاہتی تھی۔ ملِک بھی اسی وجہ سے  ہمارے  ساتھ اور ہم محض اتنے  سے  مقصد کے  لئے  اپنے  آقاؤں  کی خشونت کی آگ روشنی رکھنے  کے  لئے  اپنی جانیں  بیچ آئے  تھے۔ 
ہر وقت ایک عجب بے  کلی اور بے  اطمینانی میں  میں  بالائی عرشے  پر گھوما کرتا۔ پھر خدا خدا کر کے  ایک صبح چند جزیرے  نظر آ گئے  اور جہاز کے  تمام فوجیوں  میں ایک مسرّر ت کی لہر دوڑ گئی۔ ہم لوگ ایک عجیب طفلانہ سی مسرّت کے  ساتھ انھیں  دیکھتے  رہے  اور ساحل پر اترنے  کی جلدی جلدی تیّاریاں  شروع کر دیں۔ میں  نے  اپنی میلی کثیف وردی اتار کر صاف وردی  پہن لی۔ لزا اور ملِک بھی صاف بے  شکن وردی پہن کر آ گئے  تھے۔ لزا کی وردی پر بنی ہوئی آخری  صلیب (RED CROSS) ان کتابوں  کی یاد دلا رہی تھی جو فوجی ہسپتال میں  لِزا ہماری وقت گزاری کے  لئے  لایا کرتی تھی۔ میں  نے  اپنی جیبوں  میں  ٹھنسی ہوئی کتابوں  کو ہراسانی میں  اپنے  ہاتھوں  سے  چھپا لیا۔ کہیں  ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی یہ نشان اُبھر آئے۔ میرا دل خوف سے  بے  طرح دھڑکنے  لگا۔ 
شاید وہ آخری دن تھا جب ہم عرشے  پر یک جا کھڑے  ہوئے  تھے۔ کیونکہ جلد ہی ہمیں   اپنے  نہ معلوم محاذ پر پہنچنا تھا اور اپنے  فرض کو ادا کرنا تھا۔ لیکن  اُس وقت میں  گزرے  ہوئے  اُس دن کے  بارے  میں  سوچ رہا تھا۔ جب ہم اسی طرح یک جا کھڑے  ہوئے  تھے  اور ہمارے  چہرے  خوف و ہراس کے  ہر تاثر سے  بالکل عاری تھے۔ لِزا کی وردی صاف نہیں  تھی۔ اُس کے  ہاتھوں  سے  دواؤں  کی بو آ رہی تھی اور ملِک کی قمیص کے  بٹن کھلے  ہوئے  تھے  اور لِزا کے  جوتے  کے  بٹن بھی کھلے  ہوئے  تھے۔ میرے  ہاتھ میں  پرانے  رسالے  کے  چند بوسیدہ اوراق تھے  اور فوجی قمیص کی بڑی جیب میں  چند ایک اور پُرانے  رسالے  ٹھنسے  ہوئے  تھے۔ ملِک کا ایک ہاتھ پتلون کی جیب میں  تھا اور دوسرا ہاتھ جنگلے  پر ٹیکے  ہوئے  تھا جس میں  وہ سگریٹ پکڑے  ہوئے  تھا۔ لیکن سگریٹ شاید بجھ چکی تھی۔ چند سرحدی پٹھان دُور بحری سرنگ (Sea Mine) پر نشانہ لگا رہے  تھے۔ ہمارے  دل  منجمد سے  ہو رہے  تھے  اور ہم ٹکٹکی لگائے   ہوئے  اُسی طرف دیکھ رہے  تھے۔ 
’’اﷲ حفیظ۔!‘‘ میں  نے  ایک گہری سانس لیتے  ہوئے  غیر ارادی طور پر کہہ دیا۔ شاید میرا لاشعور ابھی زندگی  کا متمنی تھا۔ مگر ملِک نے  ایک پُر زور  قہقہہ لگایا۔ 
’’ظفری۔ ہما ری محافظ تو پٹھانوں  کی نہ بندوقیں  ہیں۔ ‘‘ اُس کے  پُرتمسخر لہجے  میں  کہا۔ 
لزا نے  بڑے  تعجّب کے  ساتھ  ملِک کی طرف دیکھا اور پھر پٹھانوں  کی گولیوں  کی آواز میں  محو ہو گئی۔ لیکن ملَک کے  اسِ تمسخر کے  مجھے   اس منظر سے  متنفّر کر دیا اور میں  وہاں  سے  چلا آیا۔ 
جہاز ساحل سے  لگ چکا تھا۔ اور سمندری علالت جو ایک حد تک ہر ایک کو لاحق ہو گئی تھی اب ختم ہوتی جا رہی تھی۔ ۔ البتّہ  میں  ضرور ایک اور اضطراب میں  مبتلا ہو گیا تھا۔ اور وہ تھا محاذ پر پہنچ کر لاشوں  کو روندنا، ان کے  ڈھیر لگانا، اور خود بھی ایک وقت انھیں  لاشوں  میں  شریک ہو جانا۔ مجھے  ساحل کے  آ جانے  سے  کوئی خوشی نہ تھی۔ ہمارے  اس سفر کی کوئی منزل نہ تھی۔ سب کچھ ایک دن اچانک ختم ہو جانا ہے۔ رخصت ہوتے  ہوئے  ہم نے  ایک دوسرے  سے  ہاتھ ملایا اور بے  اتّفاقی کے  ساتھ ایک دوسرے  سے  جدا ہو گئے۔ 
میرے  ذہن میں  اُس سفر کے  اثرات اب بھی باقی تھے  اور اس عرصہ کی پیدا شدہ قنوطی کیفیت مجھ میں  اب بھی زندہ تھی۔ جو کچھ تھا وہ سب کچھ خود بہ خود ہوتا چلا جا رہا تھا۔ موت آتی کسی نہ کسی کو اپنے  آغوش میں  لیتی اور رخصت ہو جاتی۔ میں  اس کا کہاں  انتظار کرتا؟ تباہ و مسمار بستیوں، جنگلوں، ویرانوں  کو عبور کرتا ہوا میں  آگے  بڑھتا رہا۔ یہاں  تک کہ موت کے  قاصد نے  مجھ سے  ہاتھ ملایا۔ اور میرے  بازو کو بازو کا زہریلا زخم دے  کر چلا گیا۔ مجھے  محاذ سے  واپس ہو کر مرکزی فوجی ہسپتال میں  داخل ہونا پڑا۔ 
مختلف دواؤں  کی ملی جلی بُو میں  اپنے  ہاتھ کو  سنبھالے  ہوئے  حرارت میں  تپتا ہوا مرکزی فوجی ہسپتال کے  دوا خانہ میں  بیٹھا ہوا تھا۔ ایک نرس میرے  سامنے  سے  گزر کر کاؤنٹر تک گئی اور کسی مریض کے  بارے  میں  کمپاؤڈر سے  گفتگو کرنے  لگی۔ مجھے  اس کی آواز کچھ جانی پہچانی سی محسوس ہوئی۔ لیکن میں  نے  کوئی توجّہ نہ دی۔ مجھے  زہر باد کی تکلیف اور بخار کی تپش نے  ہر چیز سے  بیزار کر دیا تھا۔ مجھے  کسی چیز میں  کوئی دلچسپی نہیں  محسوس ہو رہی تھی۔ 
’’ظفری؟۔ ۔ ۔ ‘‘
میں  نے  گھوم کر دیکھا۔ یہ تو لِزا تھی۔ اس کے  گال پچک گئے  تھے۔ اس کی تازگی  اُس سے  رخصت ہو چکی تھی۔ کاروان کے  گزر جانے  کے  بعد گردِ کارواں  بنی اب وہ بھٹک رہی تھی۔ 
’’اوہ لِزا۔ تمہاری صورت تو اتنی بدل چکی ہے  کہ میں  پہچان بھی نہ سکا۔ ‘‘ میں  نے  خفیف ہو کر کہا۔ 
مگر وہ خاموش رہی۔ وہ سمجھتی تھی اُسے  کچھ کہنا نہیں  ہے۔ اس کی صورت سب کچھ خود کہے  دے  رہی تھی۔ 
’’ملِک بھی یہیں  ہے۔ ‘‘اُس نے  کچھ دیر خاموش رہنے  کے  بعد کہا۔ 
’’کیسا ہے  وہ؟۔ ۔ ۔ ‘‘  بجھے  دل سے  میں  نے  پوچھا۔ 
’’چلو آؤ مل لو‘‘۔ لِزا نے  طنز آمیز مسکراہٹ کے  ساتھ کہا۔ 
میں  بے  ارادہ اس کے  ساتھ ہولیا اور مریضوں  سے  بھرے  ہوئے  وارڈوں  کے  درمیان سے  گزرنے  لگا۔ ایک عجیب کیفیت مجھ پر  طاری تھی۔ نہ امّید افزا اور نہ اطمینان بخش! کچھ عجب بے  معنی سی بے  بسی!
’’وہ ہے  ملِک‘‘۔ لِزا نے  ایک وارڈ میں  داخل ہوتے  ہوئے  ایک مریض کی طرف اشارہ کیا۔ میں  تیزی کے  ساتھ بے  قرار ہو کر اُس تک گیا۔ 
’’ملِک۔ ۔ ۔ ؟‘‘
اس نے  بڑی کوششوں  سے  آنکھیں  کھولیں۔ 
’’میرے  لئے  دعا کرنا ظفری۔ ۔ ۔ ‘‘اور اس نے  پھر آنکھیں  بند کر لیں۔ 
میں  نے  خود اپنا حوصلہ کھو دیا اور بے  حد متاسّف ہو کر  اس کے  پاس سے   اُٹھ کر چلا  آیا۔ میری آنکھوں  کے  سامنے  اُس ملِک کا پیکر رقص کر رہا تھا جس نے  کبھی  ہار نہ مانی تھی اور جس کے  ساتھ میں نے  بھی جنگ عظیم ثانی کے  بعد مستقبل کے  بڑے  حسین خواب دیکھے  تھے۔ 
میں  نے  اپنے  زہر آلود بازو کی طرف  دیکھا، شاید اُسے  کاٹ دیا جانا ہے۔ لِزا کا چہرہ بھی بالکل سپاٹ تھا۔ ہم ملے  بھی تو کہاں ملے!

				(۱۹۵۳ء)
 

معمولی سی بات


اے  کاش وہ اچانک آ جاتا اور میرے  سامنی  ان نوٹوں  کو رکھ دیتا، یا پھر میں  اسے  پہچان  ہی لیتا کہ وہ کون ہے! پھر، پھر تو میں  اس کی گردن دبوچ کر  وہ سو کے  نو نوٹ رکھوا لیتا۔ لیکن ؟ یہ کیسے  ممکن تھا؟ مجھے   کوئی جادو، کوئی عمل بھی تو نہیں  معلوم ہے۔ اور یہ کوفت، یہ خلجان کسی طرح ختم نہیں  ہو رہا ہے۔ اتنی  بڑی  رقم! نو سو روپے! میں  ایک سال میں  بھی ادا نہیں  کر سکتا، کیا ہو گا اب؟ میری ملازمت، میری روزی!
اس کی آنکھوں  کے  نیچے  اندھیرا چھا گیا۔ اس نے  دونوں  ہاتھوں  سے  اپنا سر تھام لیا۔ اور کاؤنٹر پر جھک گیا۔ اسے  ساری دنیا ناچتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ کل رات سے  اس کی یہ ہی کیفیت تھی۔ اس کا سر چکرا رہا تھا اور اس کے  قدم  ڈگمگا  جاتے  تھے۔ اس کے  سینے  کے  اندر ایک آگ سی پھُنک رہی تھی۔ اس کی نس نس چٹخ رہی تھی۔ اور وہ نہ معلوم کیا کچھ ہو گیا تھا۔ آج تک اس نے  اتنا برا صدمہ برداشت نہیں  کیا تھا۔ اتنی بڑی زک نہیں  اٹھائی تھی، مگر اب کیا کرے  وہ؟ دوکان بند کرنے  سے  پہلے  جب وہ اپنے  حسابات کی آخری بار جانچ کر رہا تھا تو نہ معلوم کس خریدار نے  اس کے  ہاتھ میں   سو روپے  کا نوٹ تھما دیا اور اس نے  عجلت میں   اور بے  خیالی میں   دس کی گڈّی  اٹھانے  کے  بجائے  سو کی گڈّی  اٹھا لی اور پھر اس میں  سے  ہی نو نوٹ اور ریزگاری اسے  دیدی، اور اس کا دیا ہوا نوٹ گڈّی میں  لگا دیا۔ دیر زیادہ ہو جانے  کی وجہ سے  اس پر عجلت کا بھوت کچھ اس طرح  سوار تھا کہ اس نے  خریدار کی صورت بھی نہ دیکھی، اور وہ چلا گیا۔ 
اس حادثہ  کی  یاد کل سے  ہی جب اس نے  دوبارہ رقم جوڑی، گولی  کی طرح سنسناتی  اور برماتی ہوئی کتنی ہی بار اس کے  سینے  کو پار کر چکی تھی۔ لیکن نہ تو اسے  کوئی ایسا زخم کاری لگا تھا کہ وہ وہیں  کا وہیں  ختم ہو جاتا، یا اس کا ہارٹ فیل ہو جاتا۔ اگر ایسا ہو گیا ہوتا تو وہ اپنے  آپ کو بڑا ہی خوش قسمت تصوّر کرتا، مگر وہ تو اب تک زندہ تھا اور وہ رہ کر گذشتہ رات کی ذرا سی چوک دل میں  ٹیس پیدا کر رہی تھی۔ اور اس کے  سینے  سے  ہوک اٹھ رہی تھی۔ وہ کیا کرے ؟۔ جانے  کیا کرے ؟
بس ایسے  ہی کچھ نہ کچھ کرنے  کو اس کا دل چاہتا تھا۔ جس سے  گزرا ہوا  حادثہ خوش بختي میں  تبدیل ہو جائے۔ مگر اس کی سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا کہ یہ کیوں  کر ہو سکے  گا۔ اس نے  سوچا لاؤ بھاگ جاؤں  کون پتہ پائیگا میں  کدھر گیا، کہاں  ہوں ؟ لیکن  بیوی، بچّے، والدین؟ اور اس کے  پیروں  میں  بیڑیاں  پڑ گئیں۔ میں  چلا جاؤں  گا تو ان کا  کیا ہو گا؟ اور پھر اگر  کسی نے  کہیں  سے   مجھے  ڈھونڈ ہی نکالا تو پھر اس کے  بعد کیا ہو گا؟۔ وہ تھرتھرا اٹھا۔ اس کے  گھٹنے  لرزنے  لگے۔ اس نے  سوچا  لاؤ دریا میں  چھلانگ لگا کر جان دے  دوں۔ تیرنا تو مجھے  آتا نہیں، ڈوب بہر حال جاؤں  گا۔ اس خیال نے  دل میں  ایک ذرا سی طمانیت پیدا کر دی اور وہ مکان سے  نکل کر گلی میں  آ گیا۔ میونسپلٹی  کے  بجلی کے  کھمبے  کی روشنی گل ہونے  کی وجہ سے  اندھیرا تھا۔ بس ایسا ہی سکون اسے  محسوس ہوا جیسا کہ گل شدہ بجلی کا بلب محسوس کر رہا ہو گا۔ خودکشی کے  بعد  تمام دکھ ماضی کے  اندھیرے  میں  گم ہو جائیں  گے۔ اور پھر کچھ بھی باقی نہ رہے  گا۔ کچھ بھی نہیں! اسے  ایسا لگا جیسے   سینے  کے  اندر کی خلش یکایک گہرائیوں  میں   ڈوبنے  لگی ہو۔ ہاں  ایسے  ہی اس کی لاش بھی دریا کے  گہرے  اور  آہستہ  رو پانی  میں  ڈوبتي چلی جائے  گی۔ اور کوئی اس سے  نو سو روپے  وصول نہ کر سکے  گا۔ وہ بڑی طمانیت کے  ساتھ گلی سے  نکل کر سڑک پر آیا۔ جگمگاتی ہوئی روشنی نے  اس کی آنکھوں  میں  چکا چوند کر دی۔ اس نے  اپنی آنکھوں  کو  ہتھیلیوں  سے  رگڑا۔ پیچھے  بالکل ہی قریب کسی موٹر نے  ہارن دی، وہ اچھل پڑا، اس کا دل تیز رفتاری سے   دھڑکنے  لگا۔ اُف کود کر وہ فٹ پاتھ پر ہو رہا، روشنی کے   دو تیز بہتے  ہوئے  دھارے  اس کے  سامنے  سے  نکل گئے  اور وہ اپنے  تیز دھڑکتے  ہوئے  دل کو تھامے  کھڑا رہ گیا۔ زندگی، موت، خودکشی، دریا، موجیں  اور دھڑکتا ہوا دل:۔ دریا کا آہنی پل، اندھیرا اور سنّاٹا اور سنّاٹے  میں  ہیبتناک لہریں  مارتا ہوا  پانی! اس کی پیشانی پر پسینے  کے  قطرے  چیونٹی کی طرح رینگنے  لگے۔ اس نے  گھبراہٹ میں  مڑ کر دیکھا۔ پان والا بڑے  انہماک کے  ساتھ پانوں  پر کتھّا چونا لگا رہا تھا۔ اس نے  بڑی عافیت سی محسوس کی، بڑھ کر ایک سِگرٹ خریدا۔ اور ایک پان منہ میں  رکھا۔ لیکن سِگرٹ کا کش لگاتے  اور پان کی پیک نگلتے  ہی جیسے   وہ نو سو روپوں  کی گمشدگی کا دکھ کسی بند فوّارے  کی طرح  دوبارہ  اُبلنے  لگا اور زندگی  کے  خاتمہ کا خیال ترک کر کے  ایک بار پھر  حسرت و یاس  میں  غرق ہو گیا۔ اور ہاں، اسے  اپنے  بیوی، بچّوں  اور والدین کا بھی تو خیال آ گیا تھا۔ اور وہ غم کے  عالم میں  سر جھکائے  ہوئے   گھر واپس آ گیا۔ 
یہ گزری رات کا واقعہ تھا اور اس واقعہ کے  بعد سے  (جو درحقیقت کوئی واقعہ نہیں  بن سکا تھا) اس نے  کتنی ہی بار گڑ گڑا کر دل سے  دعا مانگی کہ اے  اﷲ میاں، اے  میرے  پروردگار (جسے  یاد کرنے  کی مہلت اسے  کبھی نہیں  ملی تھی) تو ہی کسی نہ کسی طرح اس گھڑی کو ٹال دے۔ رات بھر کتنی ہی بار  عجب مسکینی سے  تارے  گنتے  گنتے  وہ  بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا اور تکئے  پر سجدے  کر کے  اس نے  التجا کی۔ لیکن  نہ کوئی شعلہ لپکا، اور نہ کوئی معجزہ ہوا۔ اس کے  ضمیر نے   اس کی اس خود غرضی پر اس کا تمسخر بھی  اڑایا۔ لیکن وہ عجب عجب حرکتیں  کرتا رہا۔ کتنی ہی بار اس نے  اپنی تکیہ کے  نیچے  یوں  ہی کسی ایسی چیز کو ٹٹولنا بھی چاہا جو نو کاغذ کے  کھڑکھڑاتے  ہوئے  ٹکڑوں  کی شکل میں  ہو۔ مگر مایوسی کے  سوا کچھ بھی میسّر نہ آیا۔ ساری رات اس نے  بڑے  اضطراب میں  کاٹی، اور اب  یہ سارا دن بھی انتہائی میں  گزر رہا تھا۔ 
جتنے  بھی خریدار  صبح سے  آئے، اس نے  ہر ایک کی صورت کو بڑے  غور سے  دیکھا۔ شاید کسی کی کسی ادا سے   وہ پہچان سکے  کہ نو سو روپوں  کا غاصب وہی ہے، یا پھر شاید کسی کی جیب سے  وہ نو  نوٹ جھانکتے  ہوئے  نظر آ جائیں۔ لیکن اسے  کامیابی نہ ہوئی۔ اس نے  ہر نوٹ کے  نمبر اور شکنیں  غور سے  دیکھیں  کہ شاید  ان سے  ہی کوئی سراغ مل  جائے۔ لیکن اس طرح  بھی  کوئی امّید کی کرن  نہ پھوٹی۔ اس نے  اب تک نوٹوں  کی گم شدگی کا راز فاش نہیں  کیا تھا، کیونکہ غلطی اس کی ہی تھی، اور پھر دوسری حماقت اس سے  یہ بھی ہو گئی تھی کہ اس نے  نوٹوں  کے  نمبر بھی  درج نہیں  کئے  تھے۔ 
جیسے  جیسے  دن گزرتا جا رہا تھا اسے  اپنے  دکھ کے  ساتھ اپنی  حرکتیں  بھی یاد آتی جا رہی تھیں۔ اور وہ عجب شش و پنج کے  عالم میں   گرفتار ہوتا  چلا جا رہا تھا۔ اس نے  بھی تو کتنی ہی بار اسی طرح کی کتنی ہی رقمیں  اپنے   ڈب میں  کر لی تھیں، اور پھر جب کوئی اس تک پوچھتا ہوا آیا تو اس نے  صاف انکار کر دیا اور لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ کتنی ہی بار اس نے  ذرا سے  حساب کے  ہیر پھیر سے  دوچار روپے  اپنے  لئے  بنا لئے، مگر یہ چوٹ جو اسے  پڑی تھی یہ تو بہت بڑی تھی۔ کبھی اس کے  اندر سے  کوئی کہتا: کہ پا گیا تو اپنے  کئے  کا بدلہ! اور کبھی وہ خود کو سمجھاتا! اب آئندہ کے  لئے  توبہ!۔ اس  نے  خیال ہی خیال میں  کئی بار اپنے  کانوں  کو بھی  مروڑا مگر وہ نو سو روپے  اسے  نہ مل سکے۔ پھر وہ تصوّرات کے 
 تیز دھارے   میں  بہنے  لگا۔ کبھی اس کے  ہاتھ میں  تیز قینچی ہوتی اور وہ کسی بھاری سی جیب کو  کتر رہا ہوتا۔ کبھی وہ ریوالور لئے  ہوئے  کسی کو لوٹ رہا ہوتا۔ کبھی  وہ کسی کے  ہاتھ سے   موٹا سا پرس چھین کر پر  بیچ گلیوں  میں   بھاگ رہا ہوتا۔ مگر اس کے  پیچھے  خدشات، خطرات، ناکامی اور بدنامی کا خوف بھی تالیاں  پیٹتا ہوا دیوانے  کی طرح  دوڑائے  پھر رہا ہوتا۔ اور  اس افراتفری، اس خیالی حماقت اور ناممکن آرزو نے   بھی اس کے  غم کا مداوا نہ کیا۔ 
ہر طرح کے  خیالات  اور حسرتوں  سے  اکتا کر وہ بالکل نا امّید ہو چکا تھا، بار بار وہ اپنی انگلیوں  کو چٹخا رہا تھا، اپنے  خشک ہونٹوں   کو چاٹ رہا تھا، اپنی دھندلائی  ہوئی  آنکھوں   کو جھپکا رہا تھا، کہ  اس کے  ہونٹ  کپکپانے  لگے، روزی کا خطرہ بھیانک دیو کی طرح اس کی گردن دبوچ رہا تھا۔ اس نے  چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رونی  لگے، اس نے  اپنا سر کاؤنٹر پر رکھ دیا، اور ہلکی ہلکی  سسکیاں   بھرنے   لگا۔ 
’’اے  منشی کیا کرتا، گاہک نہیں  دیکھتا‘‘۔ سیٹھ غرّایا۔ 
اس نے   پیچ و تاب  کھا کر سر اٹھایا، سامنے   گاہک کھڑا ہوا تھا، لیکن  وہ اپنی جذباتی کیفیت کی وجہ سے   اس کی شکل  بھی دیکھنا نہیں  چاہتا تھا۔ اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ وہ اس  کا منہ نوچ لے۔ بڑا آیا ہے  وہاں  سے  گاہک بن کر! ایسا ہی تو وہ بھی تھا جس نے  ا اس کو اتنے   بڑے  عذاب میں  مبتلا کر دیا تھا۔ وہ بھی تو ایک گاہک تھا جس نے  ہر حال میں  اس کی روزی کے   دروازے  اس پر بند کر دیے۔ اس کے  سینے  میں  بخار سا اٹھنے  لگا۔ اس کی نسوں  میں  تشنّج سا ہونے  لگا، اس کی آنکھوں  میں  سُرخی سی دوڑنے  لگی۔ 
’’کیا چاہئیے  ؟‘‘ اس نے  پاگل کتّے  کی طرح  تقریباً چیخ کر کہا۔ 
’’کچھ نہیں! بس یہ دینا ہے!‘‘
گاہک نے  مٹّھی کھول کر  کاؤنٹر پر رکھ دی اور مسکرانے  لگا۔ اس کی آنکھیں  حیرت سے  پھٹی رہ گئیں، اور اس کا دل وفورِ مسرّت سے  دھڑکنے لگا۔ 
سو سو  روپے  کے  نو نوٹ!۔ اس نے  جھپٹ کر نوٹ اٹھا لئے  اور گننے  لگا پورے  نو تھے۔ 
۔ ۔ ’’کل رات میں  نے  نوٹ لے  کر جیب میں  رکھ لئے  اور غور ہی نہیں  کیا۔ آج دن بھر مجھے  ضرورت ہی نہیں  پڑی۔ مگر اس وقت جب جیب میں  ہاتھ ڈالا تو یہ نوٹ نکلے۔ بڑی الجھن ہوئی مجھے! پہلی بس سے  بھاگ کر آیا ہوں  کہ آپ کی چیز آپ کو واپس کر دوں۔ معاف کیجئے  بری زحمت  ہوئی آپ کو!‘‘۔ 
کیا اس نے  بھی کبھی ایسا کیا تھا؟ کوئی اس کے  باطن  میں   قہقہے  لگا رہا تھا۔ 
’’میرے  باقی پیسے  واپس کر دیجئے ‘‘۔ گاہک بولا۔ ‘‘
’’اوہ معاف کیجئے، وہ جلدی جلدی  دس کے  نو نوٹ گننے  لگا۔ لیکن پھر اس کے  دل میں  کچھ خلش ہوئی۔ کسی بات نے  اسے  گدگدایا، اس نے  مسکرا کر گاہک کی طرف دیکھا۔ 
’’آپ اگر یہ نوٹ واپس نہ کرتے  تو کون پکڑ پاتا آپ کو؟‘‘
گاہک نے  اپنی شہادت کی انگلی اٹھا کر اوپر اشارہ کیا۔ 
’’وہ، وہ سب  کو پکڑ لیتا ہے!‘‘ گاہک بدستور مسکرا رہا تھا۔ 
اس نے  چاہا  وہ گاہک کا ہاتھ چوم لے  اور آنکھوں   سے  لگا لے، کہے  ؟ ’’تمہارا خدا کتنا اچھّا ہے۔ اس نے  تمھیں  انسان بنا دیا۔ 
گاہک ریزگاری اور نوٹ لے  کر مسکراتا ہوا  چلا گیا، اور وہ حیرت اور اشتیاق کے  عالم میں   اسی رُخ  ٹکٹکی باندھے  احمق سا تکتا رہا جدھر گاہک گیا تھا۔ 
                                      (۱۹۵۶ء)
 


مَدفون زندہ مٹّی 

اس نے  کھڑکی کھولی تو چاندنی فرش پر بچھ گئی۔ بسترپراپنی دودھیائی چادر تان کر سورہی۔ اس نے  کھڑکی کی دہلیز سے  اپنی کمر ٹکا کر، اپنے  بازوؤں  کا سہارالے  کر چاندنی کی منجمد فضا میں  دیکھا۔ دیکھنا چاہا، روپہلی کرنیں  پُراسرار خاموشی کے  ساتھ  اس کی پشت سے  ہو کر کمرہ میں  حیرت زدہ سی  داخل ہو رہی تھیں۔ اور ان کرنوں  میں وہ ایک معصوم سا بچّہ اپنے  فرشتہ والے  نازک پروں  کے  سہاری رقص کرنے  لگا۔ اس نے  اپنی چٹکی میں  کچھ پکڑنا چاہا۔ شاید وہ کوئی لمحہ ہو!۔ بچّہ ٹھٹھری سہمی ہوئی چاندنی میں   تحلیل ہونے  لگا اور ٹھنڈی کرنیں  سیمیائے  دھند میں  تبدیل ہونے  لگیں۔ 
اس نے  بچّے  کو اپنے  بازوؤں  میں  اُٹھا لیا۔ سب کچھ بے  شناخت سا تحلیل ہونے  لگا۔ سیمیائی غبّار گہرا ہونے  لگا اور گہرا ہو کر پھر چھٹنے  لگا۔ ایک نوعمربھولابھالالڑکاہنسوں  کے  جوڑے  کے  پیچھے  دوڑا۔ ہنسوں کاجوڑاسُست رفتاری کے  ساتھ اڑنے  لگا۔ وہ ان کا پیچھا کرتا رہا۔ ہنسوں کا جوڑا بے  پروا اڑتا رہا۔ بھوُڑی کی سفید بالیاں اور دوب کے  پیلے  پھول اس کے  پیروں  تلے  دبتے  مچلتے  اور لہراتے  رہے۔ لیکن وہ آسمان کے  نیلے  سمندرمیں بازوؤں کے  بادبان پھیلاتے  ہوئے   اڑتے  ہنسوں کے  جوڑے  پر اپنی نظریں  جمائے  بھاگتا رہا۔ وہ دونوں اب ندی پار کر کے  دوسرے  کنارے  کے  آسمان میں بے  فکری کے  ساتھ پرواز کر رہے  تھے۔ 
ندی کے  بیچ میں آ جانے  کی وجہ سے  وہ ٹھہر گیا۔ وہاں ببول کا خمیدہ درخت پانی میں  اپنی شاخوں کی انگلیاں  ڈبوئے  ہوئے  نہ معلوم وقت کے  کن خزانوں کو ٹٹول  رہا تھا۔ اور ہلکی ہلکی لہریں، بے  نیازی، اپنی زلفوں میں  شانہ کراتی  ہوئی ان بھیگی ہوئی شاخوں کے  درمیان سے  گزرتی جا رہی تھیں۔ ندی کے  پانی میں  اسے  اپنا لہراتا ہوا عکس نظر آیا۔ شرم سے  اس نے  اپنی نظریں  جھکا لیں۔ اس کے  گالوں  میں  گدگدی سی ہونے  لگی۔ وہ کچھ اور جھینپ گیا۔ 
اگر وہ اپنے  عکس سے  نظریں  ملاسکتاتو وہاں بھی نرگس(نہیں  نیلوفر) کے  پھول کھلتے۔ لیکن بہتے  پانی میں  کنول نہیں  کھلا کرتے۔ 
اس بھولے  بھالے  لڑکے  نے  مڑ  کر اپنے  چاروں طرف دیکھا۔ وہ ڈھلتی دھوپ بھی بڑی پُراسرارتھی۔ 
اس نے  پھر مڑ کر ندی کی طرف دیکھا۔ 
اس کا عکس پھر جھینپ کر مسکرایا۔ 
اس نے  پھر جھجھک کر نظریں  نیچی کر لیں۔ 
پھر کوئی پھول نہ کھِلا۔ نہ نرگس نہ نیلوفر!
چاندنی کی بے  شکن دودھیائی چادر پھیلی رہی۔ رات نے  دھُندلی روشنی میں سفرکیا اور پھیکی پڑتی چلی گئی۔ اور پھر تھک کر ٹھہر گئی، سُستانے  لگی۔ شاید اس کے  بعد پھر کوئی نیاسفرشروع ہو۔ 
اموا کی ڈال پے۔ ۔ ۔ 
کوئلیا کوکت رے۔ ۔ ۔ 
جیرٔامرا دھڑکت رے۔ ۔ ۔ 
بے  فکرسی گدگدی ہریالے  پیڑوں میں الجھ کر بج اٹھی، اُس نے  ہاتھ بڑھایا، شاخ لچک گئی وہ پھراُس شاخ تک گیا، وہ پھر لچک گئی۔ اس نے  پھر پیچھا کیا۔ شاخ لچکی، قہقہہ بے  قرار ہو کرگھاس کے  فرش پر اپنے  ترنّم کے  ساتھ لڑھکتا چلا گیا۔ اس نے  اس خوشبو کو سمیٹنا چاہا۔ لیکن چاندنی تحلیل ہو گئی اور کرنیں  سیمیائی دھُند میں  تبدیل ہو گئیں۔ 
پھر وہ دھُوپ میں آ گیا۔ ہر چیز بے  حد روشن تھی۔ اس نے  اپنے  لبوں  کو سمیٹ لیا(یہاں مَیں ہون، اور میرے  سامنے  چمکتی دھُوپ، مجھے  اپنا راستہ صاف نظر آ رہا ہے )۔ اور وہ پورے  اعتماد کے  ساتھ قدم بڑھاتا ہوا چلتا رہا۔ (اورتمہاراسایہ؟ نہیں وہ میرے  آگے  نہیں ہے!میں نے  اسے  اپنے  پیچھے  چھوڑ رکھا ہے )۔ وہ راستہ تو بالکل صاف سیدھا تھا۔ وہ بڑے  سکون کے  ساتھ لبوں پرہلکاساتبسّم لیے  قدم قدم آگے  بڑھتا رہا۔ 
لیکن۔ ۔ ۔ 
کیا یہ راستہ مڑسکتا ہے ؟
اور راستہ الجھ گیا۔ چھوٹی چھوٹی بہت سی پگڈنڈیاں اُبھر کر راستہ سے  الجھ گئیں۔ خاردار جھاڑیوں نے  راستہ کو تنگ کر دیا۔ اس نے  انھیں  ہٹا کر راستہ بنانا چاہا۔ انگلیاں  لہولہان ہو گئیں۔ 
تب، جب وہ شام کے  غم دیدہ جھٹپٹے  کو عبور کر کے  اپنے  گھر پہنچا تو جھینگروں  نے  خوش آمدیدکاسازبجایا، لیکن اس کے  پاس آتے  ہی، نہ جانے  کس خوف سے، خاموش ہو گئے، ایک دم خاموش!چاندنی نے  ڈیوڑھی میں  داخل ہونا چاہا(شاید اس کے  لیے  اندھیرا دور کرنے  کی خاطر) لیکن ایک قدم آگے  بڑھ کر سہم کر ٹھہر گئی۔ پھر جب وہ ڈیوڑھی کا اندھیرا پار کر کے  گھرکے  اندر آیا۔ اپنے  ہی گھرکے  اندر!۔ ۔ ۔ توسب نے  بڑے  اچنبھے  کے  ساتھ اس کی طرف دیکھا۔ وہ چپ تھا۔ سب ہی چپ تھے!ان سب کی آنکھوں میں کوئی سوال تھا۔ وہ سوال بہت اچّھی طرح سمجھتا تھا۔ لیکن اس کا جواب اسے  نہیں  مل رہا تھا۔ 
وہ جواب کہاں ہے ؟
چاندنی نے  کہا۔ ’’آؤ تم ساتھ میرے  چلو۔ 
چل کے  ہم!
زندگی کے  نشیب و فراز اپنی آنکھوں  سے  دیکھیں۔ ‘‘
اس کے  خشک لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ 
اچّھا!تم میں بھی یہ امنگ ہے ؟
وہ سوئے  ہوئے  درختوں، پھوس کی غافِل جھاڑیوں کے  درمیان سے  گزرتا رہا۔ کچّے  مکان اپنے  دروازوں  کے  پپوٹے  بند کئے  ہوئے  بڑی گہری نیند میں کھوئے  ہوئے  تھے۔ ان کے  درمیان لپٹی ہوئی کچّی گدرائی ہوئی گلیاں (انگڑائی نہیں!) کروٹ بھی نہیں  لے  رہی
 تھیں۔ اونگھتے  ہوئے  کتّوں نے  اس کے  وجود کی تصدیق کی۔ لیکن اس کے  بے  منزل قدموں نے  انھیں  نہیں  پہچانا۔ 
خاصی منزل طے  کرنے  کے  بعد وہ کھلے  آسمان کے  نیچے  خودرَوگھاس پر لیٹ گیا۔ اس نے  دونوں  ہتھیلیوں کوسرکے  نیچے   رکھ کران کا تکیہ بنا لیا۔ چاند اوپر وہاں ہنس پڑا۔ 
اچّھا تو تم یہاں پڑے  ہو!
لیکن میں  اب بھی/پھر بھی معلّق نہیں ہوں۔ 
چاندنی ان دونوں کے  بیچ میں آ گئی، اسے  سیمیائی چادر اُڑھا دی اور اس کے  پاس ہی بیٹھ گئی۔ پھر وہ ٹکٹکی باندھے  ہوئے  خلاء میں  تکنے  لگا۔ چاندنی نے  اس کی آنکھوں کو اپنی ہتھیلی سے  ڈھک دیا۔ لیکن وہ آنکھوں کے  سہارے  کے  بغیر بھی دیکھتا رہا۔ 
وہ نوجوان مجسّم سوال بن کرسامنے  کھڑا ہو گیا۔ آخر میرا قصور کیا تھا؟۔ ۔ ۔  جلے  ہوئے  مکانات، جھلسی ہوئی گلیاں، جلی ہوئی لاشیں اور ہیبتناک سنّاٹا!۔ وہ اجڑے   لٹے  ہوئے  ملبے  میں برابر کچھ تلاش کرتا رہا؟ہونٹوں پر خشک پپڑیاں  چٹخنے  لگی تھیں۔ تھکن سے  عضو عضو دکھ رہا تھا۔ اور اندر دل شکستہ سفینے  کی طرح ڈوبتا جا رہا تھا۔ اچانک وہ مجھے  مل گیا۔ وہ جسے  وہ ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ بیلے  کے  سفید خوشبودار پھولوں کے  درمیان سبزپتّیوں کے  سائے  میں پڑا ہوا تھا۔ اس نے  اطمینان کے  ساتھ آنکھیں  بند کر رکھی تھیں۔ اس کے  لبوں کے  داہنے  گوشے  پر خون کا ایک قطرہ لرز کر جم گیا تھا۔ وہ فرشتوں والے  نازک پروں  کا معصوم بچّہ اس سوال کا جواب تھا۔ 
تو اے  میرے   بے  قصور فرشتے۔ تم اتنے  معصوم کیوں ہو؟
(کیا یہ  پھر کوئی سوال تھا؟)
بھیڑیے  اپنے  خون سے  لتھڑے  ہوئے  جبڑوں کو چاٹتے  ہوئے  دہکتے  شعلوں  کو بھڑکاتے  ہوئے۔ اگلی آبادی کی طرف بڑھ گئے  تھے۔ وہاں بھی وہی بچّے، وہی مائیں، وہی الّھڑ جوانیاں۔ اور ڈوبتے  بڑھاپے  وہی سوال لیے  منتظر تھے۔ شاید انھیں  جواب چاہئیے  تھا۔ یا شاید وہ مجسّم سوال بننا چاہتے  تھے۔ ہوا کا ایک تیز جھونکا چاندنی رات کے  سکوت کو درہم برہم کرتا ہوا اس کی سانسوں سے  الجھ گیا۔ (اوہ، جلتے  ہوئے  گوشت کی تیز بو نا قابلِ برداشت ہو گئی ہے ) لیکن وہ اس ہواکیدست رس سے  دور ہونے  میں  کامیاب نہیں  ہو رہا تھا۔ (تو کیا تم بھاگ کر پناہ چا ہو گے )۔ اس کا دم گھٹنے  لگا۔ بے  تاب ہو کروہ اٹھ بیٹھا، چیخیں، بین، فریاد کی صدائیں بلند تر ہوتی جا رہی تھیں۔ (تو کیا تم اپنے  دل کو منجمد نہیں کر سکتے ؟) کنول، کنول!خون کے  دریا میں کنول نہیں  کھِلا کرتے۔ (تو کیا تم اپنی  رگوں میں خون کا بہاؤ روک نہیں سکتے ؟)
اس نے  چاندنی کا ہاتھ اپنی آنکھوں پرسے  ہٹا دیا۔ اور اس سمت چل دیاجدھرسے  جلے  ہوئے  گوشت کی بو فریاد بن کر آ رہی تھی۔ دیواریں  زمین بوس ہو چکی تھیں۔ دروازے  کو ر دیدہ، آتش زدہ، اجڑے  ہوئے  کھڑے  تھے۔ زندگی مختلف پیکروں میں  بکھری ہوئی کٹی پھٹی، جلی جھلسی، ملبے  میں  دبی، آسمان کے  سامنے  عریاں اور فگار پڑی ہوئی تھی۔ اس نے  وہاں بہت تلاش کیا مگر آم کی شاخوں پر بور نہیں  تھے۔ 
تو کیا تم سمجھتے  ہو کہ تمہاری شناخت اب بھی باقی ہے ؟
اس نے  پلٹ کر بے  رُخی سے  جواب دیا:
نہیں!میں اپنی شناخت کبھی بھی ختم نہ ہونے  دوں گا!
تب آم کے  اجڑے  ہوئے  درخت نے  کہا:
تو کیا تم بستی میں  سے  ہو کر نہیں آئے  ہو؟وہ سب شناخت کے  شکار تھے!
(روشنی شہر کے  بام  و در کو جگاتی رہی۔ 
سایہ تاریک گلیوں میں  سہما ہواسو گیا۔ )
نہیں، میں سایہ کی طرح سونا نہیں  چاہتا۔ 
اور وہاں سب کو ان کی شناخت کے  ساتھ جگانے  اور دوبارہ اپنی مسرّت کے  ساتھ اپنے  گیت گانے  پراکسانے  لگا۔ 
دیکھو، وہ ہمارا پیارا پیارا چاند نمودار ہوا۔ 
ان وادیوں کے  عقب سے۔ 
جہاں تاریکیاں بستی تھیں۔ 
ہمارا چاند ہمارے  لئے  روشن ہوا۔ 
آؤ ہم شکر ادا کریں!
تاریکیاں ایک دن چھٹ کر رہیں  گی۔ 
’’تو کیا تم کو مُجھ سے  محبّت ہے ؟‘‘ان سب نے  ایک آواز ہو کر کہا: ’’کیوں  نہیں، کیوں نہیں!‘‘۔ ۔ ۔ ’’تو پھر مجھے  بھی تم سے  محبّت ہے!‘‘ درختوں کی ڈالیاں مست ہو کر جھومنے  لگیں۔ بلبل نے  جھُک کر گلاب کو بوسہ دیا۔ وہ کِھل اُٹھا۔ اور بلبل بسیط فِضا میں رقص کرتی ہوئی پرواز کرنے  لگی۔ مختلف اور متنوع زاویے  غیرمحسوس طور پر فِضا پر بنتے  چلے  گئے۔ 
لیکن محبّت میں اور ان میں  اتنا فاصلہ حائل ہو گیا کہ وہ بس دائرے  کے  حاشیے  پر اپنے  نام کی شناخت کے  ساتھ چکّر کاٹتے  رہے۔ اسے  اُن کی کم ہمّتی اور بے  شعوری پر بے  حد ترس آیا۔ لیکن انھوں نے  اسے  اپنوں میں  سے  نہ جانا۔ (تم اس طرح بے  بسی کے  لہجے  میں کیوں بات کرتے  ہو!) اس نے  ایک گہری سانس لی تاکہ دل کا بوجھ ہلکا ہو۔ اور ان کے  پاس سے  آگے  بڑھ گیا۔ 
اس نے  چاندنی کی چادر اپنے  سینے  تک کھینچ لی اور تکیہ سے  ٹیک لگا کر اپنے  خیالوں میں کھویا رہا۔ وہ سیمیائی دھند اب  کثیف غبار میں تبدیل ہو چکی تھی۔ عجب دم گھٹا دینے  والا ماحول تھا۔ ہر شکل مسخ سی، دھندلائی ہوئی، نظر آ رہی تھی۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا لیکن پھر بھی کچھ دکھائی نہیں  دے  رہا تھا۔ 
چاندنی آنکھوں میں  چبھنے  لگی۔ اس نے  جھنجھلا کر، اٹھ کر، کھڑکی بند کر دی۔ چاندنی بجھے  دل کے  ساتھ رخصت ہو گئی اور تاریکی نے  اپنے  ہول کو کمرے  کے  محبوس خلاء میں اُچھال دیا۔ خلاء اور بھی زیادہ بوجھل ہو گیا۔ گھٹتا ہوا اندھیرا افسردگی اور مایوسی کو پروان چڑھانے  لگا۔ کتنی بھیانک شکلیں  تھیں وہ جن کی کالونچ کے  بڑھنے  سے  دِل ڈوبنے  لگتا تھا۔ 
پھر وہ دروازہ بھی بند ہو گیا۔ اور منزلوں اوپرسے  سیڑھیاں  اُسے  لڑھکاتی ہوئی لائیں  اور زمین کے  فرش پر پٹخ گئیں۔ ۔ ۔ اپنی شناخت کے  ساتھ تم ہماری بلندیوں  پر نہیں ٹھہرسکتے!
ایک اور دروازہ اس کی پشت پر دھڑاکے  کے  ساتھ بند ہو گیا۔ حقارت اور نفرت سے  دہکتی ہوئی آنکھیں  اور گرجتی ہوئی آوازیں  اسے  زخمی کر گئیں۔ تم اندر تب ہی آؤ گے  جب تم اپنی شناخت مٹا دو گے!
اس نے  برآمدے  میں  قدم رکھا ہی تھا کہ تمسخرآمیزقہقہوں نے  اس کے  قدم اکھاڑ دیے۔ ان میں  سے  کوئی بھی اسے  گوارا کرنے  کے  لئے  تیّار نہیں  تھا۔ تم اور اس شناخت کے   ساتھ؟تم نے  یہاں آنے  کی جرأت کیسے  کی؟
وہ ایسے  بہت سے  ایوانوں سے  نکل کرسڑک پر آ گیا۔ لوگ اس کے  پاس سے  گزر رہے  تھے، اس کے  سامنے  سے  آ رہے  تھے۔ اس کے  پیچھے  بھی چل رہے  تھے۔ لیکن ان کی سانسوں  کی گرمی اس نے  نہیں  محسوس کی، وہ اسے  دیکھتے  تھے  اور گزر جاتے  تھے۔ وہ سب ایک دوسرے  کے  پاس سے  یوں  ہی گزر رہے  تھے۔ 
صبیح و ملیح و حسیں  چہرے  اب
کرخت آہنی سے  نقاب اوڑھ کر
معاً اجنبی بن گئے  ہیں۔ 
کسی سے  اگر پوچھ لو نام اُس کا۔ 
تو پھر وہ شکن در جبیں، پُر حقارت نظر سے 
تمھیں  دیکھتا ہے۔ 
وہ ان کے  درمیان چلتے  چلتے  تھک گیا تھا۔ دوپہر کی چلچلاتی دھوپ ان سب کے  چہروں کے  نقوش جھلسا کر رخصت ہو چکی تھی۔ اور رات کی تاریکی میں چاندنی پھر ایک بارمسکراتی ہوئی  طلوع ہو رہی تھی۔ ۔ ۔ (پھر ہمارا چاند ہمارے  لئے  روشن ہوا)۔ ۔ ۔  لیکن بجلی کی روشنی خشونت زدہ اپنی کرنوں کی برچھیاں  بھالے  لہراتی ہوئی  اس پر ٹوٹ پڑی۔ چاند کی روشنی شہید ہو گئی۔ اور بجلی کی روشنی شل ہو کر پگھل گئی۔ سُرخ خون کے  دھبّے  کی طرح، چوٹ کھائے  ہوئے  جسم کی نیل کی طرح، بیوگی کے  زرد سہاگ کی طرح، بس اسی طرح/ہر طرح وہ تھک کر چور ہو کر گلیوں، سڑکوں، محلّوں  اور بازاروں میں گر پڑی تھی۔ ڈھیر ہو گئی تھی۔ 
اس مصنوعی روشنی میں چلتے  چلتے  وہ تھک کر پست ہو چکا تھا۔ جوتوں کے  اندراس کے  تلوؤں  میں آبلے  پڑ چکے  تھے۔ لیکن تارکول کی سنگلاخ سڑک پر کوئی کانٹا بھی تو نہ تھا جو انھیں  پھوڑتا اور ٹھنڈک پہنچاتا۔ وہاں تو ہر طرف ہارن کا شور، بریک کی چیخ۔ انجنوں  کی گھرگھراہٹ اور آوازوں کی ناگوار بھنبھناہٹ نے  ایسے  عذاب کو جنم دے  رکھا تھا کہ اس کے  اعصاب بھی جواب دینے  لگے  تھے۔ شاید یہاں  اس جہنّم میں وہ
 بکھر کر ٹوٹ جائے۔ 
اس نے  اپنے  آپ کو سمیٹنا چاہا تو روشنی کے  دو دہانوں  نے  اسے  اپنی زد پر لے  لیا۔ ہارن گرجا، بریک چیخے  اور اس کے  اپنے  آپ کے  اسے  اُچھال کر ایک کنارے  کر دیا۔ بے  بسی کے  ساتھ اس کے  اندر ایک آہ گھٹ کر رہ گئی۔ تارکول کی سخت سیاہ جیکٹ کے  اندرسوندھی مٹّی نے  کروٹ لینی چاہی، لیکن شاید وہ بھی کراہ کر رہ گئی۔ رات کی تاریکی میں  بجلی کی روشنی کے  نیزے  اب بھی بلند تھے۔ وہ سڑک کے  کنارے  مبہوت سا حیران کھڑا تھا۔ 
اس نے  ایک بار پھر اٹھ کر کھڑکی کھول دی تاکہ چاندنی کی بے  شکن چادر اسے  لاڈ کے  ساتھ لپیٹ لے  اور ٹھنڈی میٹھی نیند سلادے  تاکہ صبح جب وہ سوکراٹھے  تو تازہ دم ہو۔ 
						(۱۹۸۴ء)
 



دَاغ داغ اُجالے 


کئی دنوں  سے   ہو اپنے  کمرے  کے  دریچہ سے  کیتھڈرل کے  گھڑیال کی  منجمد  سوئیوں  کو گھورتے   گھورتے  جھنجھلاہٹ سی محسوس کرنے  لگی تھی۔ اُسے  اُس  دریچہ سے  جھانکتے  ہوئے   گھڑیال سے  نفرت  سی  ہو گئی تھی۔ جب بھی وہ تازہ ہوا کے  لئے   دریچہ  کھولتی تو وہ ساکت، جامد کھڑا ہوا گھڑیال اُسے  یوں   نظر آتا جیسے  وہ اس کا منھ  چڑا رہا ہو۔ اور اس کی سُست رفتار  سوئیاں  اس کے  اس احساس پر کچوکے   لگایا کرتیں  کہ کاش وقت کا چکّر اس تیز رفتاری سے   گھوم جاتا کہ صبح اور شام، اور رات اور دن آپس میں  خلط ملط ہو کر رہ جاتے  اور تمام عالم مبہوت ہو کر  اپنا سر اپنے  ہاتھوں  میں  تھام لیتا۔ اور اس بھونڈی سی امّید پر اُس نے   کیتھڈرل کے  گھڑیال کو  پہروں  گھورا تھا اُسے  ٹکٹکی لگا کر  دیکھا تھا۔ مگر اس پتلی سی لمبی سوئی نے   اسے  اس کا بھی  ادراک نہیں  ہونے  دیا تھا کہ وہ منٹ کا فاصلہ کب طے  کر پاتی ہے۔ اس کے  اس ٹھہراؤ نے   اسے  اکتا دیا تھا اور وہ ایک دم  بجھ کر رہ گئی تھی جیسے   برسوں   سے  دوپہر کی تمازت کے  بعد شام کی  سنہری کرنیں  نہیں  آئی ہیں  اور اس کی آنکھیں  اس تیز روشنی کا سامنا  کرتے  کرتے  دکھنے  سی لگی ہیں۔ اور اس کے  گرد و پیش اور  اس کے  اپنے  اندر ایک اجاڑ پن سا چھا گیا تھا۔ 
یہ دن رات کب نہیں  آئے  تھے۔ گرمیوں  کی تعطیلات ہمیشہ ہی آتی تھیں  اور وہ  پورے  پورے  دن بھی بیکاری ہی کے  ہوتے  تھے  لیکن پھر بھی وہ اس سرعت  سے   گزرتے  تھے  کہ بارہا اس نے  چاہا تھا کہ وہ کیتھڈرل کے  مخروطی منارے  پر چڑھ کر  ان سوئیوں  کو باندھ دے  اور کچھ ایسا کرے  کہ وقت اپنی جگہ پر تھم کر  رہ جائے  مگر وہ زمانہ  ہی اور تھا۔ کئی ایک بے  فکری  لڑکیاں  جمع ہو جایا کرتی تھیں  اور گھر کی چاردیواری کتنے  ہی بچکانے  کھیلوں  سے  بھر جاتی تھی۔ تیز تیز پر مسرّت  آوازیں  اطراف و جوانب سے  ٹکرانے  لگتی تھیں۔ اور اس کی ماں  اس اُودھم  پر اس طرح بگڑتی تھی کہ جیسے  وہ چاہ رہی ہو کہ اسے  ختم نہ کیا جائے۔ اور وقت بھاگتا چلا جاتا تھا۔ مگر اب اس احساس نے  کہ وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے  گی۔ اس کو بے  انتہا مضمحل کر دیا تھا۔ وہ بے  فکری لڑکیاں  اس بار بھی آئی تھیں  اور انھوں  نے  گھر کی چاردیواری میں  اس بار بھی ایک گہماگہمی  سی پیدا  کر دینی چاہی تھی مگر اس بجھے  بجھے  ماحول نے  انہیں  بہت جلد اکتا دیا اور وہ سب تِتر بِتر ہو گئیں۔ اور وہ ایک دم باؤلی سی ڈیڈی اور ممّی کے  سے  سنجیدہ افراد کے  درمیان اکتائی اکتائی سی رہنے  کے  لئے  مجبور ہو گئی تھی۔ 
اس نے  سستے  ایڈیشنوں  کے  انگریزی ناولوں  اور افسانوں  کی کتابوں  میں  اپنے  وقت کو دفن کر دینا چاہا۔ مگر کیتھڈرل کی وہ بے  ہنگم سی دقیانوسی سوئیاں  برابر اس کا مذاق اڑاتی رہیں۔ اور ایک دن اکتا کر وہ مجبور ہو گئی کہ وہ ڈیڈی کی تپائی پر سے  تازہ اخبار اٹھا لایا کرے۔ اور اس میں  ’’ضرورت ہے ‘‘ کے  اشتہاروں  کو  لالچ بھری نظروں  سے  دیکھا کرے۔ 
جب پہلی بار اس نے   انہی اشتہاروں  کی رہنمائی  میں  ایک ملازمت کے  لئے   درخواست دینے  کا  فیصلہ کیا  تو بے  اختیار  اس کی آنکھوں  میں  آنسوٗ آ گئے۔ اور اس کے  لبوں  کے  گوشے  اور تھوڑی رقّت کی وجہ سے  کپکپا نے  لگے۔ اور یہ خیال ایک  تپتے  ہوئے   بگولے  کی طرح اس کی پسلیوں  کے  درمیان  منڈلانے  لگا کہ اب تک  اس نے اخبار  کو صرف  پیکٹ باندھنے  کے  لئے  ہی استعمال کیا تھا اور اب وہ مجبور ہو گئی تھی کہ وہ ان کی ورق گردانی بھی کرے۔ 
اس دن کے  بعد سے  وہ مستقلاً اُداس رہنے  لگی تھی اور عجب پھیکاپن اس پر مسلّط ہو گیا تھا۔ جیسے  وہ اب برابر سنجیدہ ہوتی  چلی جا رہی تھی اور وقت سے  پہلے  بڑھاپے  میں  داخل ہو رہی تھی۔ اس نے  بار بار اس احساس کو  خود سے  نوچ کر پھینک دینا چاہا مگر جیسے  یہ سب کچھ اس سے  اور بھی  زیادہ چمٹتا چلا جا رہا تھا۔ یہاں  تک کہ ایک دن  اس کی درخواست  کا جواب آ گیا اور وہ ملازم ہو گئی۔ مگر اس خبر نے  اسے  طمانیت بخشنے  یا اسے  خوش کرنے  کے  بجائے  اسے  اور پژمردہ کر دیا۔ اب جیسے  اسے  یقین ہو گیا تھا کہ وہ لاکھ تمنّا، خواہش اور شوق کے  باوجود آئندہ تعلیم سے  محروم ہو گئی ہے۔ اُس کی آنکھیں  ایک بار  پھر  آنسوؤں   کی لڑیاں   پرونی لگیں  اور وہ بڑی حسرت کے  ساتھ اپنی  حالت پر غور کرنے  لگی کہ اسے  ڈیڈی کی مالی تنگ دامانی کی وجہ سے  یونیورسٹی کی جیتی جاگتی  فضاؤں   کو خیرباد  کہہ دینا پڑ رہا ہے۔ 
کتنی بجلیاں  تھیں  جو اس کے  حسین خوابوں  پر  ایک ساتھ ٹوٹ پڑی تھیں۔ اور یہ غیر متوقع بات ہوتے  ہوئے  وہ یوں  دیکھ رہی تھی جیسے  کسی کے  ہاتھ سے   نوگرفتار پرند  چھوٹ جائے  اوہ وہ کھڑا دیکھتا رہ جائے۔ بالکل یوں  ہی  وہ اپنے  آپ کو یونیورسٹی  کے  عزیز ماحول  سے  دور ہوتے  ہوئے  دیکھ رہی تھی اور بے  بس تھی۔ وہ ڈیڈی کو مجبور نہیں  کر سکتی تھی۔ پہلے  کی طرح ضد نہیں  کر سکتی تھی، مچل نہیں  سکتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ایک آفس سپرنٹنڈنٹ کی بساط اس سے  زیادہ کیا ہو سکتی تھی کہ وہ اپنی اولاد کو۔ ۔ ۔ ا اور وہ بھی لڑکی۔ ۔ ۔ زیادہ سے  زیادہ  بی۔ اے  تک تعلیم  دلائے۔ اتنے   ہی کے  لئے  کیا کم پاپڑ بیلنے  پڑے  تھے  جو وہ اس سے  بھی زیادہ  کا مطالبہ کرے۔ مگر وہ کیا کر سکتی تھی؟۔ ۔ ۔  یونیورسٹی کی زندگی کے  واقعات اور اس کا ماحول اس کے  تصوّر میں   بالکل  تر و تازہ تھا۔ وہ یونین ہال سے  لے  کر اسپورٹس پویلین تک سایہ دار گھنی درخت  اب بھی  اس کے  آنکھوں   کے  لئے  سامانِ فرحت  لئے  ہوئے  تھے۔ اور اتنے   فاصلے  کو طے  کرتے  ہوئے  وہ کتنی مسرّت محسوس کیا کرتی تھی۔ کتنی نگاہیں  اس کے  گروپ کی طرف  اٹھتی تھیں  اور کتنی سرگوشیاں  قدموں  پر دم توڑتی رہتی تھیں  کہ وہ ایک  مخصوص استغناء کے  ساتھ دور  وسعتوں  میں  دیکھنے  لگتی تھی۔ اور اسی طرح  پھولوں  کے  قطعوں  کو پار  کرتے  ہوئے  لائبریری میں  داخل ہوتے  ہوئے  وہ کتنا پسند کرتی تھی۔ لائبریری میں  کسی  لڑکی  کا داخل ہو جانا  گویا  ساری نگاہوں  کو  اپنے  آپ پر  مرکوز کر لینا تھا۔ ایسے  لمحہ اپنی اہمیت کا احساس  کتنا لطیف ہوتا تھا۔ اُسے  اپنی اس  چھچوری  حرکت پر کتنی ہی بار ہنسی آئی تھی کہ وہ ریڈنگ روم  محض اس احساس سے   لطف اندوز ہونے  کے  لئے  ہی جایا کرتی تھی۔ مگر ا اس  لطیف لذّت کے  ساتھ ایک کانٹا تھا جو برابر اس کے   ذہن میں  کھٹکا کرتا تھا۔ وہ اس واقعہ کو اب تک  بھلا نہیں  سکی تھی جب وہ ایک دن ریڈنگ روم میں  داخل ہوئی تو تمام نگاہیں  اس کی طرف اٹھ گئیں  اور چند سیکنڈ کے  لئے  ایک بھنبھناہٹ پورے  ہال میں  گونج  گئی۔ اور وہ ایک امریکن رسالے  کو لے  کر  یوں  ہی ورق الٹنے  پلٹنے  لگی۔ اس وقت شاید وہ کچھ سوچ بھی رہی تھی کہ دوسری میز کی کرسیوں  پر بیٹھے  ہوئے  گرم گرم مباحثہ کرنے  والے  لڑکوں  کی آواز اس کے  کانوں  سے  ٹکرائی۔ 
’’میں  تو وثوق کے  ساتھ کہہ سکتا ہوں  کہ یہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے  والی لڑکیاں  تعلیم کے  معاملے  میں  سنجیدہ نہیں  ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد صرف اپنی  قیمت میں  اضافہ کرنا ہوتا ہے ‘‘۔ 
’’یہ تمہاری ہٹ دھرمی ہے ‘‘۔ 
’’نہیں  ہٹ دھرمی نہیں۔ تمہیں  بتاؤ  کہ ایک بی اے  پاس لڑکی کبھی کسی کلرک یا مزدور کے  ساتھ  زندگی نباہنے  کے  لئے  تیّار ہو گی یا ہوئی ہے ؟ تم ہندوستان کیا غیر ملک کی بھی کوئی مثال دے  کر  ثابت کر دو۔ ‘‘
’’خاموش رہیئے۔ ورنہ  میں  پراکٹر سے  شکایت کر دوں گی۔ ‘‘ اس نے  جھنجھلا کر کہا۔ 
اُس لڑکے  نے  تیکھی نظروں   سے  اس کی طرف دیکھا جیسے  وہ اسے  انتہائی ذلیل سمجھ رہا ہو۔ اور پھر وہ ریڈنگ روم  سے  باہر چلا گیا۔ 
اور اب بھی  یونیورسٹی   کو خیرباد  کہہ دینے  کے  بعد اسے  اس لڑکے  پر  غصّہ آ گیا اور اس کی انگلیوں  میں   تشنّج پیدا ہو گیا۔ اُس نے  اپنے  ہاتھوں  کی کتاب کو میز پر  ڈال دیا اور دریچے  کے  باہر  دیکھنے  لگی۔ سامنے   کیتھڈرل  کا منجمد سوئیوں  والا گھڑیال اس کا منھ چڑا رہا تھا۔ اور وہ جھنجھلا کر اٹھ کر باہر چلی گئی۔ ڈیڈی مختلف پھولوں  کے  پودوں  کو پانی دے  رہے  تھے۔ وہ بھی دل بہلانے  کے  لئے  ان کے  ساتھ لگ گئی۔ اسی اثناء میں  میریا بھولی بھٹکی آن پہنچی۔ اسے  دیکھ کر جیسے  اسے  اپنے  اندر ایک مسرّت کی کرن پھوٹتی ہوئی محسوس ہوئی اور اس کے  تصوّر میں  یونیورسٹی کے  خاکے  ابھرنے  لگے۔ وہ دوڑ کر  میریا  سے  لپٹ گئی اور برآمدہ ہی میں بید کی کرسیوں  پر دونوں  بیٹھ گئیں۔ 
’’ابھی صبح ہی میں  نے  شیلا سے  سنا تھا کہ تم کو کوئی ملازمت مل گئی ہے۔ بڑی  خوشی ہوئی سن کر۔ میں  نے  کہا چلو میں  بھی مبارکباد دے  آؤں۔ ‘‘
’’ہاں! آئندہ ہفتہ سے  کام پر چلے  جانا ہے۔ ‘‘ اس نے  ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔ 
’’چلو اچھّا ہے۔ بیکار پڑے  رہنے  سے  دل تو نہیں  گھبرائے  گا۔ ‘‘ میریا  جیسے  اس کو دلاسا دے  رہی تھی۔ 
اور اس کے  بعد بھی جتنی دیر تک  میریا  اس سے  گفتگو کرتی رہی اسے   یہی محسوس ہوتا رہا کہ جیسے  وہ ان بے  فکری لڑکیوں  کے  گروپ سے  دور ہوتی جا رہی ہے۔ اور میریا  اسے  کافی بزرگ  تصوّر کر رہی ہے، جیسے  ا ب وہ قہقہے  اور وہ چہلیں  اس کا حصّہ نہیں  رہی ہیں۔ اور جیسے  جیسے  یہ احساس  اس کے   اندر پرورش پاتا جا رہا تھا وہ اور بھی زیادہ مضمحل ہوتی جا رہی تھی۔ اس کا  دل  بیٹھتا چلا جا رہا تھا۔ اور وہ یہ تمنّا  کرنے  لگی تھی کہ میریا  اس کے  پاس سے   اٹھ کر چلی جائے  ورنہ وہ پاگل ہو جائے  گی۔ 
پھر وہ جلد ہی دفتر کے  کام میں  مشغول ہو گئی۔ اور اس کا سارا  دن کم از کم وہاں   کی مصروفیتوں  میں  گزرنے  لگا۔ وہاں   بھی  نگاہیں  اس کی طرف اٹھتی تھیں۔ وہاں  بھی سرگاشیاں  ہوتی تھیں۔ مگر ان میں   ایک تھکن تھی۔ بوسیدگی تھی اور زندگی  کے  بھاری بوجھ کی کراہیں   تھیں۔ اسے  ان کھسیائی ہوئی حریص  نگاہوں   سے  گھِن سی آنے  لگی اور پھر دفتر کا کام ایک اور بوجھ  بن کر  اس پر مسلّط ہو گیا۔ جس کے  نیچے   اس کی اپنی پچھلی  خیال  آرائیاں   سسکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ 
فائلوں  کے  ارم جب اس کے  سامنے   لگ جاتے  تھے  اور وہ ان میں  مشغول ہو جاتی تھی تو وہ ایک اونچا  اٹھتا ہوا پہاڑسا معلوم ہونے  لگتی تھیں۔ جیسے   کوئی  ڈگمگاتا سا بوسیدہ بے  ہنگم منارہ بنا کر اس کے  سامنے  کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اور وہ  اپنے  قلم کے  قدموں   سے  اس پر چڑھنے  کے  لئے  مجبور ہو رہی ہے  اور جب وہ کوئی قدم رکھتی ہے  تو منارہ اور بلند ہو جاتا ہے  وہ ایک قدم اور رکھتی ہے  اور منارہ  اور بلند ہو جاتا ہے۔ منارہ بلند ہوتا جا رہا ہے  وہ قدم رکھتی جا رہی ہے۔ اس کے  قدم تھک جاتے  ہیں۔ قلم کراہنے  لگتا ہے  اور روشنائی بد ہیئت خون  کے  دھبّوں   کی طرح پھیلنے  لگتی ہے  اور منارہ  ڈگمگانے  لگتا ہی اور ایک تمسخرانگیز قہقہے  کی گونج  اٹھتی ہے۔ بڑی پُر ہول۔ بڑی تکلیف دہ!۔ ۔ ۔  اور وہ پھر خوف زدہ سی اپنے  کام میں  مشغول ہو جاتی ہے۔ 
دن کا یہ وقت  گزر تو ضرور جاتا تھا لیکن جب شکنجہ سے  آزاد  ہو کر وہ گھر واپس  لوٹتی تھی تو اس کی ہڈّی ہڈّی  چٹخ رہی ہوتی تھی۔ اس کی نس نس ٹوٹ رہی ہوتی تھی اور اس کا  اپنا وجود  ایک اور بوجھ بن جاتا تھا، پھر گھر کا خاموش  وحشت  انگیز ماحول اسے  اور بھی کاٹ کھانے  کو دوڑتا تھا۔ دن بھر کی محنت کے  بعد  جو تھکن اس پر سوار  ہو جاتی تھی اس میں  اس خاموش گھر کی وجہ سے  ذرا بھی کمی نہیں  ہوتی تھی اور دوسرے  دن جب وہ پھر دفتر جاتی تھی تو  اضمحلال پوری طرح طاری رہتا تھا اور اس کا دل  قطعاً نہ چاہتا تھا کہ وہ ایک قدم بھی اس طرف اٹھائے۔ مگر اس طرح ایک عرصہ  گزر چکا تھا۔ ۔ اور وہ اس اتوار کے  روز ہمیشہ کی طرح پوری طرح سستا لینا چاہتی تھی کہ صبح ہی صبح ایک  دستی  دعوت نامہ  اس کے  نام آن پہنچا اور وہ مجبور ہو گئی کہ وہ شام  اس پارٹی میں  گزارے۔ اس نے  دو تین بار دعوت نامہ کو پڑھا اور اپنے  فیصلہ پر مزید غور کیا مگر اس نے  اسی کو بہتر سمجھا کہ بیکار وقت گزارنے  سے  بہتر یہی ہے  کہ ایک شام ’’ایمبیسڈر میں  گزاری جائے۔ کچھ تبدیلی ماحول سہی!۔ ‘‘
ایمبیسڈر کے  باہر ہی اس کی چند ایک پرانی سہیلیاں  کھڑی ہوئی تھیں۔ انھیں  دیکھ کر اس کی پرانی یادیں  پھر تازہ ہو گئیں  اور پھر یہ تمنّا ایک کسک کے  ساتھ اس کے  اندر کروٹیں  لینے  لگی کہ کاش وہ بھی یونیورسٹی میں ایک بے  فکری کا زمانہ گزار سکتی۔ وہ ان سہیلیوں کے  ساتھ ایمبیسڈر کے  اندر تو چلی گئی مگر چیسے  وہ اپنے  اور ان کے  درمیان ایک خلیج سی حائل دیکھ رہی تھی۔ وہ اپنے  آپ میں  اور ان میں  بڑا  بُعد محسوس  کر رہی تھی اور اس احساس نے  اس  کے  ہونٹوں  پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ کے  پیچھے  سے   مسرّت  کا عنصر چوس لیا تھا۔ ۔ ۔ 
ایمبیسڈر کے  اندر اب بھی وہ وہی پرانی فضا محسوس کر رہی تھی۔ کار نسوں  کے  پیچھے   لگے  ہوئے   برقی  قمقموں  کی کرنیں   چھت پر اس طرح  الجھ رہی  تھیں  کہ ان کے  انعکاس سے  پورا ہال جگمگا رہا تھا۔ وہی نور کی دھند وہی آرکسٹرا کا پس منظر اور وہی مخصوص بھنبھناہٹیں  جیسے  اسے   دوبارہ  مجبور کرتی رہیں  کہ وہ فائلوں  کے  ڈگمگاتے، بوسیدہ اور بے  ہنگم مینار سے  اپنی جان چھڑانے  کے  بعد یہیں  پناہ لیا کرے۔ 
یہ خیال برابر  بجلی کی طرح  اس کے  ذہن میں  کوندا کیا۔ اور وہ آرکسٹرا کی آواز سے  ایک سرورانگیز کیف حاصل کرتی رہی۔ اس کی سہیلیوں  نے  مختلف ناچوں  میں  حصّہ لیا اور ان کی قہقہے  اور پُر مذاق فقرے   اس کے  دل پر چھائی ہوئی تھکن کے  بوجھ کو ہلکا کرتے  رہے۔ اُس نے  ناچ میں  حصّہ نہیں  لیا۔ اُس کو  اِس سے  اتنی دلچسپی نہیں  تھی۔ اُس نے  کبھی بھی ناچ میں  حصّہ نہیں  لیا تھا۔ البتّہ وہ اس وقت تک ان کے  ساتھ رہی جب تک ایمبیسڈرکی بھیڑ ہلکی نہ پڑ گئی اور پھر وہ میریا  کے  ساتھ ہی گھر کے  لئے   روانہ ہو گئی۔ دونوں  خاموشی کے  ساتھ برقی قمقموں   سے  منوّر، ویران ہوتی ہوئی سڑک پر چلی جا رہی تھیں۔ لیکن اس وقت وہ بڑا ہلکا پن محسوس کر رہی تھی۔ 
’’دفتر کے  کام سے  تم اکتا تو نا جاتی ہو گی؟‘‘۔ میریا  نے  سکوت توڑتے  ہوئے  کہا۔ 
’’اکتانا تو ایک طرف، میں  تو پاگل ہو جاتی ہوں ‘‘۔ اس نے  دوبارہ بوجھ محسوس کرتے  ہوئے  کہا۔ 
’’نجمہ! میرا کہا مانو تو شام  کو یہیں  چلی آیا کرو، کچھ  نہ کچھ وقت تو ہنسی خوشی کٹ جایا کرے  گا۔ ‘‘ میریا  نے  کہا۔ 
۔ ۔ ’’ہاں  میں  بھی یہی سوچ رہی ہوں۔ ‘‘
اُس نے  اپنے  فیصلہ کو  قطعیّت بخش دی۔ 
پھر اُس کی ہر شام  ایمبیسڈر  میں  گزرنے  لگی اور ایک عرصہ تک وہ اپنے  بوجھ کو ہلکا  محسوس  کرتی رہی۔ مگر  جلد ہی اس کی طبیعت اکتانے  لگی تھی۔ وہ روز ہی دیکھتی تھی کہ لوگ آتے  تھے  لڑکیوں  کی طرف  ہاتھ بڑھاتے  تھے  وہ ان کے  ساتھ  ہال کے  فرش پر آرکسٹرا کے  آہنگ کے  ساتھ ناچ میں  مشغول ہو جاتی تھیں۔ اور وہ ان ادھیڑ عمر عورتوں   کے  ساتھ گیلری  میں  بیٹھی اکتایا کرتی تھی، اونگھا کرتی تھی، جو اپنی گزری ہوئی زندگی  کو ان پیکروں  میں  حسرت کے  ساتھ دیکھا کرتی تھیں۔ اس صف میں  خود کو  دیکھ کر وہ یہ سوچنے  کے  لئے  مجبور ہو گئی تھی کہ کیا اس کو دن بھر کی مشقّت اس قدر بوڑھا کر دیتی ہے۔  
دوسری شام اس نے  اپنا فیصلہ بدل دیا۔ آئینہ کی مدد سے  اپنے  خدوخال کو سنوارا۔ اور ایمبیسڈر کی حدود میں  داخل ہو گئی۔ وہ بے  چینی کے  ساتھ ناچ کے  عرشہ کے  کنارے  چکّر  کاٹتی رہی۔ آرکسٹرا کے  باکس تک  کئی بار گئی۔ لیکن ہر آنے  والا اُس سے  کترا کر کسی اور کی طرف بڑھ جاتا تھا اور وہ اپنی ناکامی پر جھنجھلا کر رہ جاتی تھی۔ اُس نے  گیلری پر ایک  چھچھلتي  ہوئی نظر ڈالی اور پھر  اور دوسرے  باکسوں  کی طرف دیکھا  اور اس کے  سینے  پر سانپ لوٹ گیا۔ اب وہ اکیلی رہ گئی تھی۔ ناچ برابر ہو رہا تھا اور وہ  اکیلی کھڑی تھی۔ پھر ایک ادھیڑ عمر کا شخص داخل ہوا۔ اُس نے  چاروں  طرف نظر دوڑائی۔ اُسے  کوئی بھی ناچ میں  حصّہ  لینے  والا نظر نہ آیا۔ اب اس نے  جھجھکتے  ہوئے  اُس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اُسے  شاید خوف تھا کہ آج بھی وہ ہمیشہ کی طرح صاف انکار کر دے  گی، مگر وہ سرعت کے  ساتھ اس کے  ساتھ ناچ کے  عرشہ میں  اتر گئی اور پھر جس جوڑے  کے  پاس سے  وہ گزرتی رہی وہ تعجّب سے   اس کی طرف دیکھتا رہا اور مسکراتا رہا۔ پھر اس نے  کئی پھیروں  میں  حصّہ لیا اور جب کسے  ہوئے  جوتوں  میں  اس کا پنجہ دکھنے  لگا تو وہ واپس چلی آئی۔ اس روز اسے  بڑی مسرّت سی محسوس ہو رہی تھی۔ 
صبح جب اس نے   آئینہ میں  منہ دیکھا تو پاؤڈر اور سرخی کے  دھبّے  بڑے  ڈراؤنے  نظر آ رہے  تھے۔ اس نے  صابن سے  رگڑ رگڑ کر  انھیں  چھڑا ڈالا اور پھر آئینہ میں  دیکھا مگر  اب اسے  وہ بات نظر نہیں  آ رہی تھی۔ اس نے  دوبارہ میک اپ کیا اور دفتر کی تیّاریوں  میں  مشغول ہو گئی۔ 
جب وہ دفتر پہنچی تو اس نے  اُٹھنے  والی نگاہوں  میں  بڑا استعجاب دیکھا اور ہونے  والی مخصوص بھنبھناہٹ بھی کافی بلند ہو چکی تھی۔ مگر اس نے  کوئی پرواہ نہ کی اور اپنے  کام میں  لگ گئی، مگر بار بار کے  افسر کے  بلاوے  کی وجہ سے  وہ روز کے  مقابلے  میں  کچھ بھی کام نہ کر سکی۔ 
اس طرح صبح و شام کی  متضاد زندگیاں   گزارتے  ہوئے  جیسے  اب وہ بالکل اکتا چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ بہت جلد  اس کی یہ گاڑی کسی بہت بڑے  حادثے  کا شکار ہو جائے  گی اور پھر کسی کے  بس کا نہ ہو گا کہ اسے  اس خطرہ  سے  بچا سکے۔ اس لئے  اس نے  ڈیڈی کی بات مان لی اور گھر گرہستی  کی زندگی  گزارنے  کے  لئے  تیّار ہو گئی۔ 
یہ زندگی اس کے  لئے  بالکل نئی تھی۔ دفتر سے  اس نے  طویل  چھٹّي لے  لی تھی اور ڈیڈی  کے  گھر سے  اُٹھ کر  اپنے  شوہر کے  گھر چلی گئی تھی۔ دن بھر کئی ایک کام اپنے  ہاتھ سے  کرنے  میں   اسے  بڑا لطف  آتا تھا۔ مگر دس پندرہ دن کے  بعد ہی اس کی طبیعت اس سے  بھر گئی۔ وہ سوچنے  لگی تھی کہ میں  ایسے  ذلیل کام کروں۔ مجھے  ان کاموں  سے  کیا نسبت۔ 
اس کی طویل چھٹّیاں  ختم ہو رہی تھیں۔ صرف دو چار دنوں  میں  ہی اسے  دفتر میں  حاضری دینی تھی۔ شادی سے  پہلے  وہ اس تذبذب میں  مبتلا ہو گئی تھی کہ  میں  ملازمت کروں  یا نہ کروں  لیکن ان چند دنوں  کی مصروفیات نے  اس پر  یہ ظاہر کر دیا تھا کہ شوہر کے  چلے  جانے  کے  بعد دن بھر وہ بیکار ہی رہا کرے  گی اور پھر اس کی طبیعت اکتایا کرے  گی۔ اس لئے  اس نے  اپنی ملازمت جاری  رکھنا ہی پسند کیا۔ 
اس کے  شوہر نے  بہت اصرار کیا۔ 
’’تم کو اب چاکری کرنے  سے  فائدہ بھی کیا ہے۔ میں  غریب نہیں  کھانے  پینے  بھر کا  میں  ہی کیا کم پیدا کر  لیتا ہوں۔ چھوڑو مارو گولی اس ملازمت کو۔ تمہاری وجہ سے  کسی بے  روزگار ہی کا بھلا ہو جائے  گا۔ ‘‘
’’میں  تنخواہ کے  لئے  ملازمت کب کرنا چاہتی ہوں، مجھے  تو دن بھر بیکار پڑے  رہنا عذاب ہو جائے  گا۔ اس واسطے   وہیں  مشغول رہوں  تو کیا برا ہے۔ ‘‘
اُس نے  اور بھی زور دے  کر سمجھایا۔ 
’’تو کوئی اور مشغلہ تلاش کر لو۔ کیا ضروری ہے  کہ دفتر ہی کی خاک چھانو۔ ‘‘
مگر وہ  اس کی  بات پر دھیان دینے  کے  لئے  تیّار نہ تھی۔ 
’’میں  کہتی ہوں  اس میں  ہرج ہی کیا ہے۔ ‘‘
اور اس کا شوہر مجبوراً خاموش ہو گیا۔ 
اور وہ شادی کے  بعد دوبارہ فائلوں  کے   ڈگمگاتے، بوسیدہ، بے  ہنگم، مینار کو اپنے  قلم کے  قدموں   سے  ناپنے  کی مشق کرنے  لگی۔ پہلے  وہ اکتا جاتی تھی۔ وہ یہاں  بھی دلچسپیاں  تلاش کرنے  کی کوشش کیا کرتی تھی۔ اسے  یہاں  کے  ماحول  میں  بھی  یونین ہال سے  لے  کر  اسپورٹس پویلین تک  کے  گھنے   درختوں  کے  فرحت بخش سایہ کی تلاش  رہا کرتی تھی۔ مگر اب وہ پہلے  سے  بھی زیادہ  دن کے  ایک طویل عرصہ کو  اس مصروفیت میں  گزارنا چاہتی تھی۔ البتّہ شام کے  وقت ایمبیسڈر کا چکّر اس کے  لئے  کچھ نا گزیر سا تھا۔ وہاں  کا وہ جانا پہچانا ماحول اور ڈانس ہال کے  آرکسٹرا کی گونج نظر انداز  کرنے  کے  لئے  تیّار نہیں  تھی۔ گھر کی چار دیواریوں  میں  وہ شاید  ایک طرح کی قید  محسوس کرتی تھی، اس لئے  وہ اپنے  شوہر کو بھی اپنے  ساتھ کھینچ لے  جایا کرتی تھی۔ اور اگر وہ جانے  کے  لئے  تیّار نہ ہوتا تھا تو وہ اکیلی ہی چلی جاتی تھی۔ 
پھر بہت جلد  وہ اپنی ازدواجی زندگی کی اس منزل کو طے  کر گئی۔ جب ایک بیوی ماں  بن جاتی ہے۔ مگر یہ ماں  بننا اُسے  کچھ زیادہ پسند نہیں  تھا۔ کتنے  ہی دن اسے  دفتر سے  چھٹّي لینی پڑی تھی اور کتنے  ہی دن وہ ایمبیسڈر  جانے  سے  بھی محروم رہی تھی۔ اسے  صرف گھر کی چار دیواریوں  میں  پڑے  ہوئے  چھوٹے  موٹے  کام کرنے  پڑے  تھے۔ انھیں  میں  اپنے  آپ کو  مشغول رکھنا پڑا تھا۔ بیکار ایک الجھن اور 
 اکتاہٹ اس پر مسلّط رہتی تھی۔ اور اب جب وہ اس بوجھ سے  ہلکی ہوئی تھی تو ایک طرف مامتا تھی اور دوسری طرف دفتر اور ایمبیسڈر!۔ ۔ ۔  مامتا وہ سمجھ رہی تھی کہ کسی وقت بھی پوری کی جا سکتی ہے  لیکن ان دلچسپیوں  کو ترک کر دینا گویا اپنے  آپ کو بالکل بوڑھا  ثابت کر دینے   کے  مترادف تھا۔ اور وہ اس کے  لئے   قطعاً  تیّار نہیں  تھی۔ اس فرض کی ادائیگی کے  بعد اس نے  دوبارہ شوہر سے  ضد کر کے  اپنی ملازمت کے  سلسلہ کو جاری رکھنا مناسب سمجھا اور بچّہ کو ملازمہ کے  سپرد کر دینے  میں  کوئی قباحت محسوس نہ کی۔ 
لیکن اب اس کو یہ احساس ہونے  لگا تھا کہ اس کی مصروفیات دن  بہ دب بڑھتی چلی جا رہی ہیں  اور اس کے  تمام افعال اتنے  مشینی  ہوتے  چلے  جا رہے  ہیں  کہ وہ ایک سیکنڈ کے  لئے  بھی  خالی نہیں  رہ پاتی تھی۔ دفتر، کلب، گھر، شوہر اور بچّہ! یہ سب مصروفیات اس کے  لئے  اتنی ناگزیر تھیں  کہ وہ ان میں  سے  کسی ایک کی طرف سے  بھی  بے  پرواہ نہیں  ہو سکتی تھی۔ مگر وہ دیکھ رہی تھی یہ کڑیاں  کافی عرصہ تک ایک میں  پروئی نہیں  رہ سکتی ہیں  ان کا کھنچاؤ دن بہ دب بڑھتا چلا جا رہا ہے  اور وہ وقت جلد آنے  والا ہے  جب یہ سب منتشر ہو جائیں  گی۔ 
اور آخرکار اس کے  شوہر نے  ایک دن اس کو ٹوک دیا۔ 
’’آخر کچھ گھر کی بھی فکر کرو۔ بچّہ کی طرف بھی توّجہ  دو۔ نہ معلوم کیسے  پل رہا ہے، کیسے  لوگوں  کی عادتیں  سیکھے  گا۔ رہ گیا میں  تو میرا کیا ہے۔ میری طرف سے   تو تم اوّل دن سے  ہی بے  اعتنا ہو۔ ‘‘
یہ وار کچھ  اتنا کاری پڑا کہ وہ تلملا اُٹھی اور دل سے  قائل ہوتے  ہوئے  بھی اس سے  الجھ پڑی۔ 
’’نہ معلوم آپ مجھ سے  کیا چاہتے  ہیں ؟ کہئے  تو میں  بھی ان ملازماؤں  کی سی بن کر رہوں۔ ‘‘
’’میں  کب کہتا ہوں  تم ملازمہ  بن کر رہو۔ تم خود ہی غیروں  تک کی ملازمہ بنی پھر رہی ہو۔ ۔ ۔ ‘‘
یہ کہہ کر وہ جھنجھلایا ہوا سا چلا گیا۔ 
اور وہ اپنے  تمام کاموں  میں  ایک کوفت سی محسوس کرتی رہی۔ عجب  چڑچڑا پن سا وہ اپنے  آپ میں   محسوس کرتی رہی اور ہر چیز اسے  بے  کیف سی نظر آتی رہی۔ شام کو ایمبیسڈر میں  بھی وہ کوئی لطف نہ حاصل کر سکی۔ اُسے  وہاں  بھی آرکسٹرا بڑی غم انگیزی نے  چھیڑتا ہوا محسوس ہوا، جیسے  آندھیوں  اور طوفانوں  کی سیٹیوں  کا امتزاج ہو۔ 
واپسی پر وہ اپنے  کمرے  میں  چلی گئی۔ اس کا بدن بڑا بوجھل سا ہو رہا تھا اور سارے  اعصاب جیسے  ٹوٹ رہے  تھے۔ اس نے  خود کو بستر  پر گرا دیا اور آنکھیں  بند کر لیں۔ لیکن اتنے  میں  ملازمہ روتے  ہوئے  بچّہ کو  لئے  ہوئے  کمرے  میں  داخل ہوئی اور اس پر بری طرح چیخ پڑی۔ 
’’پٹخ دو موذی کو، ایک منٹ بھی چین نصیب نہیں۔ لے  جاؤ، دور ہو جاؤ، میرے  پاس سے۔ ۔ ۔ ‘‘
اور ملازمہ سہمی ہوئی بچّہ کو لے  کر چلی گئی۔ 
صبح اس کی پیشانی بخار سے  تپ رہی تھی۔ جیسے  وہ ہریانی کیفیت میں  بک رہی تھی، چیخ رہی تھی۔ اس کے  شوہر نے  فوراً ڈاکٹر کو بلایا اور علاج شروع ہو گیا۔ 
مگر بیماری کا  سلسلہ بھی اتنا طویل ہوتا چلا گیا۔ اس کی ماں  بھی اس کی تیمار داری کے  لئے  چلی آئی تھی۔ اور وہ بستر پر پڑے  ہوئے  دیکھا کرتی تھی کہ اس کی ماں  کس طرح اس کے  لئے  پریشان رہا کرتی تھی۔ اس کے  چہرے  پر ہوائیاں  اڑتی رہتی تھیں  اور وہ دعا کرتی رہتی تھی کہ اس کی بچّی اچھّی ہو جائے۔ وہ رات رات بھر اس کی وجہ سے  جاگتی رہتی تھی اور ڈاکٹر کے  آنے  پر پہروں  اسے  پریشان کرتی رہتی تھی۔  اس سے  عجب لایعنی باتیں  پوچھا کرتی تھی۔ اُس نے  اس بیماری کے  زمانہ میں  کئی بار اپنی ماں  سے  ضد بھی کی تھی اس سے  روٹھی بھی تھی اور ایسا کرنے  میں  اسے  کتنا لطف حاصل ہوا تھا، بالکل طفلی کے  زمانے  کا سا۔ 
اب وہ رفتہ رفتہ اچھّی ہو رہی تھی۔ اور سب کے  منع  کرنے  کے  باوجود وہ بستر پر  پڑے  رہنا  پسند نہ کرتی تھی۔ اور جب وہ کچھ  اور سنبھل گئی تو وہ  اپنے  شوہر اور بچّہ کے  ساتھ اپنی ماں  کے  گھر چلی گئی۔ اُس نے  دیکھا وہاں   کی فضا  اب بھی  ویسی  ہی تھی جیسی  وہ کچھ سال  پہلے   چھوڑ کر آئی تھی۔ اُس کا کمرہ اب بھی  اُسی طرح  آراستہ تھا اور اس کی چیزیں  قرینہ سے  رکھی ہوئی تھیں۔ اس کے  شوہر نے  اُس کی ماں  سے  پوچھا۔ 
’’یہ کس کی چیزیں  ہیں  سب؟۔ ‘‘
’’میری بچّی کی، اس کی ماں  نے  بڑے  پیار سے  جواب دیا۔ 
اور وہ چونک اٹھی کیا اُس کی ماں کی کوئی بچّی اس کے  علاوہ بھی کوئی ہے ؟۔ 
صبح  جب وہ اپنے  شوہر کے  لئے   چائے  لے  کر داخل ہوئی تو کیتھڈرل کے  گھڑیال نے  سات بجائے۔ اُس نے  نظر اٹھا کر  دریچہ سے  گھڑیال کی طرف دیکھا اور پھر اس کے  ہونٹوں  پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ جیسے  جس آسودگی کی تلاش میں  وہ اب تک  سرگرداں  رہی تھی وہ خود ہی ایک تشنگی تھی۔ 
اب میں  نے  ملازمت کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ ‘‘
اس نے  اپنے  شوہر کو چائے  دیتے  ہوئے  کہا۔ 

  (۱۹۵۳ء)          
 


  پربت گھاٹی  

وہ چاروں  پانچوں  آتش دان کے  گرد ٹوٹ کر کرسیوں  پر بیٹھے  ہوئے  گپّیں  ہانک رہے  تھی۔ جاڑوں  کی سرد رات تھی۔ کمرے  کے  دروازے  بند تھے  اور آتش دان میں   موٹی موٹی لکڑیاں   چٹخ چٹخ کر جل  رہی تھیں۔ اس کے  باوجود سردی کی شدّت کا احساس  انھیں  گرم لبادے  اوڑھنے  چائے  پینے  اور آگ کے  قریب تر سرک آنے  کے  لئے  مجبور کر رہا تھا۔ ملازم پیالیاں صاف کر کے  ان کے  لئے  تیسری بار چائے  بنا رہا تھا۔ اور وہ بلند قہقہے  لگاتے  اور رانوں  پر ہاتھ مارتے  ہوئے  اپنی بے  فکری کا مظاہرہ کر رہے  تھے۔ 
’’ہاں  مرزا جی، پھر کیا ہوا؟‘‘ایک نے  لقمہ دیتے  ہوئے  کہا۔ 
’’ہوتا کیا یار، ظالم نے  اتنی عمدہ پانوں  کی ڈبیہ دکھا کر جیب میں رکھ لی تھی، کہ میں  کیا عرض کروں۔ اور پھر بد خلقی یہ کہ ایں جناب کو پوچھا تک نہیں۔ ‘‘
’’مرزا جی! اس نے  آپ کو اس لائق ہی نہ سمجھا ہو گا۔ ‘‘
قہقہوں  نے  چھت کو سرپر اُٹھا لیا۔ 
’’کچھ بھی سہی۔ ‘‘مرزا جی کھسیائی ہنسی ہنسے۔ ‘ لیکن میں  نے  بھی کہادوست اب تمہارے  پاس یہ ڈبیہ رہ ہی نہیں  سکتی۔ ‘‘
’’مگر مرزا جی یہ دیدہ دلیری کیسے  ممکن تھی۔ آخر گاڑی مسافروں سے  تو بھری ہی ہو گی۔ ‘‘
’’اس سے  کیا ہوتا ہے  جی۔ میں نے  صرف۲ آنے  میں  سارا کام بنا لیا۔ ‘‘
’’وہ کیسے ؟‘‘سب تعجّب سے  ایک دم بول اُٹھے۔ 
’’حضرت، ایک اسٹیشن پر جب گاڑی رُکی تو میں نے  اخبار پڑھنے  کی بد ذوق سے  بد ذوق آدمی بھی خواہش کرتا ہے  اور خاص طورسے  جب مفت کا ہو۔ چنانچہ جب جناب ان صاحب نے  بھی مطالعہ کیا۔ میں نے  فوراً بیچ کا ورق پیش کر دیا۔ وہ اخبار میں  منہمک ہو گئے  بس میں نے  دو انگلیوں کے  سہارے  آہستہ آہستہ ڈبیہ پار کر دی۔ اتنے  میں  گاڑی ایک اسٹیشن پر رُکی۔ میں جھٹ اتر گیا۔ ‘‘
’’کیا وہیں آپ کو اترنا تھا؟‘‘ایک نے  سوال کیا۔ 
’’نہیں، مگر کوئی حرج بھی تو نہ تھا۔ میرے  پاس ٹکٹ ہوتا تو ضائع جانے  کا خطرہ بھی ہوتا‘‘۔ 
’’واہ استادواہ۔ اچّھی حرکت فرمائی۔ خوب!‘‘
سب نے  پُر زور قہقہہ لگایا۔ ۔ ۔ 
ملازم آخری مرتبہ چائے  پلانے  کے  بعد کمرے  کے  باہر چلا گیا۔ وہ سب بکواس کرتے  رہے  لیکن نوکرسیدھا اپنے  ساتھیوں کے  درمیان بیٹھ گیا۔ الاؤ کی دھیمی دھیمی آنچ کھلی ہوا کی یخ بستگی میں کسی طرح کمی نہیں کرپا رہی تھی۔ ملازم کے  ہاتھ پیالیاں دھوتے  دھوتے  ٹھٹھر گئے  تھے۔ اس نے  اپلوں پر سے  راکھ کُریدی اور ہاتھ بڑھا کر تاپنے  لگا۔ اور پھر بولا۔ 
’’ہاں تو بھئی شیرا خاں۔ کچھ سناؤاپنی بیتي۔ ‘‘
’’واہ بھئی شیرے  واہ کیسے  انجان بنتے  ہو۔ ‘‘ملازم ٹھٹّھا مار کرہنسا۔ 
’’شیرا خاں!کل رات تم غائب کہاں  تھے ؟‘‘ دوسرے  نے  ٹوہ لی۔ 
’’اچّھا یہ بات ہے۔ ‘‘ تیسرے  نے  وار کیا۔ 
’’کیا بتاؤں یار۔ ‘‘بس نہ پوچھو۔ ‘‘شیرا خاں نے  خجالت کے  ساتھ کہا۔ 
’’پھر بھی کچھ تو پھوٹو۔ ‘‘ ملازم نے  حجّت کی۔ 
’’یار وہ تیلی اپنا بیل بیچ کرواپس آیا تھا۔ اپنے  کو روپے  کی ضرورت تھی۔ بس اسی فراق میں تھا۔ ‘‘
’’پھرکیسی گزری؟‘‘
’’شیرا کا ہاتھ بھی کبھی خالی گیا ہے۔ ‘‘
’’ہی ہی ہی۔ ‘‘سب دبی دبی ہنسی ہنسنے  لگے۔ ‘‘
اور کمرے  سے مرزا جی نے  گرجدار آواز میں  پکارا۔ ’’کوئی ہے ؟‘‘
’’جی سرکار!‘‘ نوکر نے  گھبرا کر جواب دیا۔ 
’’چلو یہاں آؤ!‘‘
اور وہ چلا گیا۔ ۔ ۔ شیرا خاموش ہو گیا اور کمرے  سے  قہقہے  بلند ہونے  لگے۔ ذکر دونوں  جگہ یکساں تھا اور کیفیت بھی یکساں تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ کمرے  کی دیواریں  بہت سے  راز اپنے  اندر چھُپائے  ہوئے  تھیں۔ 
				         (۱۹۵۹ء)
 

پھرفضامُسکرانے  لگی


تاریک اور پُرسکون رات سائیں  سائیں  کر رہی تھی۔ بوندا باندی کی وجہ سے  باہر کیچڑ ہو گئی تھی۔ اور بوٹوں  کے  ساتھ اندر آ جانے  سے  فرش پر پھسلن پیدا ہو گئی تھی۔ ہال میں  چاروں  طرف سگرٹوں  کا نیلا نیلا دھواں  پھیل رہا تھا۔ وہ ہال، وہ رات اور وہ کیچڑ تمام عمر اسے  یاد رہے  گی۔ خواب میں  بھی وہ انھیں  نہیں  بھول سکتا۔ اور اس لمحہ بھی جب کہ اس کی نگاہیں  ونڈاسکرین سے  گزرتی ہوئی۔ دو بادلوں کو چیرتی ہوئی گزر رہی تھیں اور اس کے  ذہن  میں  خیالات کی فراوانی اس کو اپنے  گرد و پیش سے  بے  نیاز کئے  دے  رہی تھی۔ گزری ہوئی رات کی پاد اس کے  ذہن میں  تازہ تھی۔ دریچوں  کے  چھجّوں پر ہلکی ہلکی بوندوں کی وجہ سے  آہنگ سے  محروم آواز مسلسل پیدا ہو رہی تھی۔ پردے  نم ہوا کے  جھونکوں  سے  ہل رہے  تھے  اور وہ ہوابازافسروں  کی  کینٹین میں  خلاف معمول ایک کونے  میں  بیٹھا ہوا تھا۔ اسکوئش کا گلاس اُس کے  سامنے  بھرا رکھا تھا، جس میں  گرتی ہوئی عمارت کے  شہتیر کی طرح سِپر (Sippar)ڈوبا ہوا تھا اور سفید بے  داغ میز پوش  عجب المیہ جذبہ کو اکسا رہا تھا۔ افسروں کی کثرت کی وجہ سے  پاس کی کرسیاں  دوسری میزوں   کے  گرد پہنچ چکی تھیں اور وہ اس تنہائی سے   قدرے  سکون محسوس کر رہا تھا۔ حالانکہ پورے  ہال میں   ایک بھنبھناہٹ سی گونج رہی تھی۔ جوتوں کی چرمراہٹ اور وردیوں  کی سرسراہٹ اور دبی آواز میں  سرگوشیاں  ایک ایسیاضطراب کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔ جو دوسری صبح ہونے  والے  کسی غیر معمولی واقعہ سے  متعلق تھیں اور جس کے  نتیجہ میں  وہ اس  وقت جہاز کے  بازوؤں  میں  بم نصب کئے  ہوئے  ایک ایسے  مقام کی طرف اڑتا ہوا چلا جا رہا تھا جس کا تصوّر ہی اُسے  بے  چین کئے  دے  رہا تھا۔ 
وہ رات بڑی ہی افسردہ سی تھی۔ لیکن ہوا باز اپنے  ان غموں کو ان دکھوں  کو قہقہوں  میں  گُم کر دینا چاہتے  تھے، ان کی زندگی مختصر تھی، زندگی کا کیا اعتبار؟صرف ایک رات اور وہ ہی ایک رات جو اس صبح سے  پہلے  گزر گئی ان کے  لئے  یقینی تھی۔ صرف اسی رات وہ جس قدر اپنے  آپ کو شاد کام رکھنا چاہتے  رکھ سکتے  تھے۔ صرف اُسی ایک رات موت کے  تاریک بازوؤں کو اپنے  سروں پر پھڑپھڑاتے  ہوئے  محسوس کرنے  کے  باوجود وہ اپنی خواہشوں کی آسودگی کا سامان کر سکتے  تھے، کل آنے  والے  دن جب وہ بمباری کے  لئے  روانہ ہوں گے۔ وزنی بم ان کے  جہازوں  کے  پہروں  میں  لاتعداد موتوں  کا  پیغام  بنے  ہوئے  لٹک رہے  ہوں گے۔ تو کیا معلوم ان میں  سے  کون ان بموں  کی  تباہ کاری کے  ساتھ خود بھی تباہ ہو جائے۔ آنے  والا یہ ہی خطرہ ان کے  دلوں میں  کانٹے  کی طرح چُبھ رہا تھا۔ تمام مسرتّیں، تمام قہقہے، تمام خوش گپّیاں، تمام بے  اعتنائیاں جیسے  اسی ایک خدشہ کی وجہ سے  بیکارسی، پھیکی سی، دکھاوامحسوس ہو رہی تھیں۔ صرف یہی ایک خدشہ جو ان کی اپنی ذات سے  تعلّق رکھتا ان کی حرماں نصیبی کی وجہ تھا۔ 
ادھیڑعمراسکویڈرن لیڈرگلوسٹراپنی گھنی بھوری مونچھوں  کو گدیلیوں  سے  رخساروں  پر چپکاتے  ہوئے  مضطرب سا اِدھر اُدھر ٹہل رہا تھا، بیرے  اس کے  پاس سے  کسی قدر ادب کے  ساتھ گزر جاتے  تھے  اور وہ اس وقت تک نہ معلوم کتنے  نوجوان افسرزکے  ساتھ بیٹھ چکا تھا۔ ان کے  ساتھ کتنے  جلسوں میں شریک ہو چکا تھا۔ اس کے  ہونٹوں پرمسکراہٹ تھی۔ لیکن اس کی آنکھوں  میں  جو یاس سا  گھلا ہوا تھا وہ نہ معلوم کس خدشہ کی غمّازی کر رہا تھا؟اسکویڈرن لیڈرگلوسٹر!۔ ۔ ۔ بادلوں  کے  ٹکڑے  ہوائی جہاز کے  نیچے  سے  تیرتے  ہوئے  گزر رہے  تھے  اوپر نیلا اور شفّاف آسمان چمک رہا تھا۔ انجن کی تیز آواز کانوں  میں  گونج رہی تھی، ۔ ۔ ۔ وہ مسکرایا، اس عمر میں بھی وہ تشنہ ہی ہے ؟گلوسٹرکنٹین میں اس وقت بھی جذبات کی آسودگی کے  لئے  دیوانہ ہو رہا تھا۔ ہر نوجوان افسرسے  وہ بڑی جذباتی گفتگو کر رہا تھا، جیسے  وہ اس وقت اپنے  سارے  ارمان نکال لینا چاہتا تھا۔ وہ کنٹین میں  داخل ہونے  والی ویلفز (Waalfs)کو بڑی حریص نگاہوں سے  دیکھ رہا تھا۔ 
’’پیارے  دوستوں، آؤ آج کی رات ہم جی بھر کر عیش منا لیں، کیا معلوم کل ہم میں  سے  کس کو آنے  والی رات نصیب نہ ہو!‘‘ اسکویڈرن لیڈرگلوسٹرنے  کسی کو مخاطب کئے  بغیر کہا، اور تمام افسرمسکرادئے۔ ان کی مسکراہٹ  میں  کھوکھلا پن تھا۔ ان کی مسرّت ایک ٹریجڈی تھی۔ ان کے  سامنے  دنیا اپنے  بازو پھیلائے  کھڑی تھی۔ لیکن ان کی زندگی کی مہلت بہت مختصر تھی۔ وہ کچھ کرنا چاہتے  تھے، کچھ ایسا کچھ کہ اُن کے  دل میں  کوئی حسرت نہ رہ جائے، لیکن جیسے  اُن کے  اندر تشنگی بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی اور ان کی روحیں  محروم بچّوں  کی طرح رو رہی تھیں، جس کا اظہار ان کے  چہروں  پر چھائی ہوئی بدحواسی سے  ہو رہا تھا جس کو بڑی کوشش سے  دبانا چاہتے  تھے۔ لیکن  وہ ماند نہیں  پڑ رہی تھی۔ 
رات پُرسکون تھی لیکن ایک دوسرے  سے  طویل گفتگوئیں کر رہے  تھے، اور ویلفز کے  ساتھ زیادہ بے  تکلّفی برت رہے  تھے۔ قہقہوں  سے  ہال گونج جایا کرتا تھا۔ لیکن باہر ہلکی ہلکی بارش جیسے  بین کر رہی تھی۔ نم آلود پردے  جب ہوا کے  جھونکوں  سے   ہلتے  تھے  تو دل کو تھکاوٹ کا احساس ہونے  لگتا تھا۔ مگر وہ سب یہ سوچنا نہیں  چاہتے  تھے۔ وہ آج زندگی سے  نہیں  دنیا سے  بہت قریب ہونا چاہتے  تھے۔ دنیا، دنیا، دنیا!۔ ۔ ۔ دور دور سے  یہی آواز ان کو اپنے  کانوں  تک آتی ہوئی محسوس  ہو رہی تھی۔ 
پائلٹ افسرنپٹّو گھبرایا ہوا سا بار بار بیرے  کو بلا رہا تھا۔ اُس کے  ہاتھوں  کا  اضطراب بالکل نمایاں  نظر آریا تھا۔ نپٹٔو کے  تصوّر سے  ہی جیسے  اس کے  ہونٹوں  پر ایک مسکراہٹ کھیل گئی۔ اس نے  تھراٹل کنٹرول کو  ذرا اور آگے  کر دیا، بوسٹ کے  ڈائل پر  سوئی کچھ اور آگے  گھوم گئی۔ انجن کے  ارتعاش میں  تیز رفتاری نے   دباؤ سا پیدا کر دیا۔ ونڈاسکرین سے  دور پھیلے  ہوئے  زمین کے  غیر واضح ٹکڑے  تیزی کے  ساتھ دوسری طرف سرکنے  لگے  اور وہ پائلٹ افسر نپٹّو کے  تصوّر میں  گُم ہو گیا۔ بے  چارہ اب پھر کسی  ہوائی حادثہ سے  دوچار ہو گا اور افسر کمانڈنگ اظہارِ ہمدردی کرنے  کے  بجائے  پھر اسے  جھڑکیاں  سنائے  گا، اور وہ منہ لٹکائے  ہوئے  کینٹین کے  کسی گوشہ میں  میزپرسرڈال کر بیٹھ جائے  گا۔ بیرا اس کے  سامنے  مشروبات اور دوسری اشیاء رکھ دے  گا۔ لیکن اس کا دل خوف سے  اس قدر دھڑک رہا ہو گا کہ وہ اسی طرح منہ چھپائے  پڑا رہے  گا۔ وہ آج تک اپنی کسی پرواز میں  کامیاب نہیں  ہوا۔ زندگی میں  کسی پرواز میں  نہیں!۔ وہ مکمل ناکامی تھا۔ جو اپنے  احساسِ کمتری کے  ہاتھوں  ہمیشہ مات کھاتا رہا اور دوسرے  اس کا مذاق اڑاتے  رہے۔ وہ دوسروں  کے  لئے  تفریح کا  سامان بنتا رہا۔ مگراسکویڈرن لیڈرگلوسٹر اس وقت اس کو بھی زندگی کی مسرّتوں  سے  ہمکنار کرنا چاہتا تھا۔ 
فلائٹ لفٹنٹ اور فلائنگ افسرکی ایک ٹولی جو اپنے  حلقے  میں   تین ویلفز کو لئے  ہوئے  تھی ہال کے  ایک کونے  میں  بیٹھی ہوئی بڑے  عریاں  مذاق کر رہی تھی۔ ان کے  قہقہے  بار بار ہال میں  گونج رہے  تھے  اور گلوسٹراپنی گھنی بھوری مونچھوں  کو گدیلیوں  سے  رخساروں  پر چپکاتے  ہوئے  اس طرف نظر چرا کر یوں  حسرت سے  دیکھ لیتا تھا۔ جیسے  وہاں اس کی ان تمنّاؤں  کی تکمیل ہو رہی تھی جن سے  وہ خود بھی محروم تھا۔ ہال میں  ایک ہنگامہ سا برپا تھا۔ لیکن زیادہ پر شور نہیں!وہ افسرتھے۔ اگر وہ اودھم مچانے  لگیں گے  تو گراؤنڈسروس کے  عام ایرمین کیا کہیں گے ؟ان کی نگاہ میں  اُن افسرز کی کیا وقعت رہ جائے  گی؟پھر بھی دنیا چھوٹ رہی تھی، آخری بار بالکل آخری بار!وہ اسے  کیسے  برداشت کر سکتے  تھے ؟
اس نے  تصوّرات میں  گم ہو جانے  کے  باوجود محسوس   کیا کہ جیسے  ہوا کے   ثقل کے  کم ہونے  کی وجہ سے  جہاز گر رہا ہے   اس نے  راڈر کنٹرول کو اپنی طرف کسی قدر کھینچ لیا جہاز بلندیوں پر چڑھنے  لگا۔ اور پھر ایک بار جہاز بادلوں سے  کافی اوپر پرواز کرنے لگا اور کانوں میں  ’’ڈاں، ڈ ڈ، ڈاں ‘‘کے  وائرلیس سگنل گونجنے  لگے۔ ایک بارپھراس نے  راڈر کنٹرول کو جنبش دی اور گزری ہوئی رات کی یاد کو ذہن میں تازہ کرنے  لگا۔ اس وقت کتنے  ہی آفیسرز کے  دلوں میں ایک بے  نام سی خواہش پیدا ہو رہی تھی۔ کاش بارش  نہ تھمے، مطلع صاف نہ ہو، اور محکمۂ موسمیات پرواز کو ممنوع قرار دے  دے۔ ۔ ۔ لیکن صبح جو کچھ ہوا وہ ان کے  سامنے  تھا۔ اور خود انھیں بھی یقین تھا کہ ان کی تمنّا کا  بر آنا یقینی نہیں!اس لئے  جیسے  جیسے  رات گزرتی گئی۔ بیرے  مشروبات کے  یخ بستہ بوتل میزوں پرسجانے  لگے  اور خمار کی وجہ سے  ہال میں  شور بڑھنے  لگا اور فرش پرپھسلن کی وجہ سے  قدم لڑکھڑانے  لگے۔ اور اسمارٹ وردیوں میں بے  سلیقگی پیدا ہونے  لگی۔ 
فلائنگ آفیسر فرڈیننڈ ایک بیرے  سے  الجھ پڑا اس نے  اپنا بوتل اٹھا کر فرش پر پٹخ دیا اور زورزورسے  چیخنے  لگا۔ اسکویڈرن لیڈرگلوسٹرنے  لپک کر فرڈیننڈ کو اپنے  بازوؤں میں  تھام لیا اور تھپتھپاتا ہوا ایک طرف لے  گیا۔ لیکن فلائنگ آفیسرفرڈیننڈ چیخ رہا تھا:۔ ’’سر، آپ نہ بولیں۔ میں تو ان لوگوں کے  لئے  جان دینے  جا رہا ہوں اور میرا مذاق اڑا رہے  ہیں ؟اگر میں کل زندہ نہ بچا تو یہ لوگ مجھے  یاد کریں  گے۔ ‘‘اور بیرے  مسکرا رہے  تھے، یہاں کوئی کسی کو یاد نہیں رکھتا۔ بیکار زندگیاں ٹوٹی ہوئی بوتل کی طرح ہیں جسے  کوڑے  میں  پھینک دیا جاتا ہے۔ 
فلائنگ آفیسرفرڈیننڈجس چھپی ہوئی مسرّت کا اظہار کر رہا تھا، وہ اس کے  ذہن میں چبھن سی پیدا کرنے  لگی۔ اُف ہم محروم بچّوں کی طرح  بسور رہے  ہیں اور واقعی پائلٹ آفیسرٹائردل ویف روزنٹائن کے  کندھے  پرسر رکھے  ہوئے  بچّوں کی طرح رو رہا تھا اور نشے  کی حالت میں اسے  بالکل خیال نہیں  تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ 
اس وقت جبکہ وہ زمین سے  بہت بلند اُڑ رہا تھا نیچے  پیڑ پودے  سبز نقطوں کی شکل میں  نظر آ رہے  تھے  میدان مٹھائی کے  ٹکڑوں کی طرح، دریا دودھیائی لکیروں  کی طرح اور پہاڑیاں  چھوٹے  چھوٹے  بھورے  بھورے  ڈھیروں کی طرح، تواس کے  دل میں وہ ہراس نہیں تھاجواس وقت وہ کینٹین ہال میں  محسوس کر رہا تھا۔ اور جب ہال بالکل خالی ہو گیا تھا اور دوچا رہی آفیسرباقی رہ گئے  تھے  تو فلائنگ آفیسربیوفورٹ اس کے  قریب آ گیا۔ لیکن اس نے  اس سے  کوئی بات چیت نہ کی، فلائنگ آفیسر پہلے  تو اپنے  بالوں میں اپنی انگلیوں سے  کنگھی کرتا رہا، پھراس نے  اپنی کرسی کو جنبش دی اور گلا صاف کرتے  ہوئے  بولا:’’سر، ہماری زندگیاں  کتنی نا آسودہ ہیں۔ ‘‘
لیکن اس نے  کوئی جواب نہ دیا۔ 
بیوفورٹ تھوڑی دیر خاموش رہنے  کے  بعد پھر بولا:
’’سر، ہم بھی کتنے  نادان ہیں۔ ہمیں امن بھی تباہی و بربادی کے  بغیر قائم کرنا نہیں  آتا۔ ‘‘
وہ اکتا کر کھڑا ہو گیا:۔ ’’بیوفورٹ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ ‘‘
لیکن بیوفورٹ اس وقت اس کے  ساتھ خرابیِ دماغ کے  باوجود کسی جہاز پر  پرواز کر رہا ہو گا۔ اور اس کی باتیں اس کے  ذہن میں  بازگشت کر رہی تھیں۔ وہ ابھی جائے  گا متواتر بم گرائے  گا، آبادیوں  کی آبادیاں  تباہ و برباد ہو جائیں  گی۔ لیکن اس سے  کیا حاصل ہو گا؟ تباہی، تباہی!۔ ۔ ۔ ساری رات اپنی تباہی کے  ماتم میں گزر گئی۔ اور اب امن کے  نام پر پھر تباہی برپا ہونے  والی ہے۔ ایک الجھن، ایک اضطراب، ایک ہراس مسلسل روح پرچھایا ہوا ہے۔ صرف اس کی روح پر نہیں، تمام انسانیت کی روح پر۔ اس نے  بوسٹ کنٹرول کو بالکل ہی آخری حد پر لگا دیا۔ انجن بڑی تیزی سے  بھرّانے  لگا اور بوسٹ کی ڈائل پرسوئی ایک دم گھوم گئی۔ نیچے  زمین کے  کھلونوں  کیسے  چھوٹے  چھوٹے  قطعے  پیچھے  سرکنے  لگے۔ بادل روئی کے  گالوں کی طرح پھیلنے  لگے۔ زندگی میں  مسرّت نہیں!زندگی میں  آسودگی نہیں!لیکن انسان ترقّی کر رہا ہے۔ وہ ونڈاسکرین میں  سے  سامنے  فضا میں  گھورنے  لگاجیسے  اس کا دل ڈوب رہا ہو، بلندی پر خنکی میں زیادتی کے  باوجود وہ  پسینہ سا نکلتا ہوا محسوس کرنے  لگا۔ زمین کے  ان سرکتے  ہوئے  چھوٹے  چھوٹے  قطعوں  کی طرف دیکھتے  ہوئے  جیسے  اسے  شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ زمین کے  ایسے  ہی کچھ قطعے  ہوں گے  جن کو وہ تباہ کر دے  گا۔ جہاں  سے  شادابی اور زندگی کا وجود ختم ہو جائے  گا۔ اور پھر یہ ہی عمل دوسری طرف سے  دہرایا جائے  گا۔ سکون، امن اور آسودگی کے  نام پرانسانیت تباہ ہوتی رہے  گی۔ اور اس تباہی کی نذر وہ نہ ہوں گے  جو اس کے  ذمّہ دار ہیں بلکہ نشانہ وہ بنیں  گے  جنہوں نے  کسی کا کچھ نہیں  بگاڑا ہے۔ 
بوڑھی عورتیں، بوڑھے  مرد اپنے  ماضی کے  سنہرے  دنوں میں  جینے  کی کوشش کر رہے  ہوں گے۔ اُن کے  بعد کی نسل آنے  والے  کل کی ضرورتوں  کے  لئے  فکرمند ہوں  گے۔ اُن کے  معصوم بچّے  گھروں، گلیوں، باغوں، کھیتوں، جنگلوں  میں  اپنی آج کی  زندگی کی خوشبوئیں  محسوس کر کے  کھیل رہے  ہوں گے، کلکاریاں  بھر رہے  ہوں گے، ایک دوسرے  کے  پیچھے  دوڑ رہے  ہوں گے۔ یہ سب جوکسی کے  دشمن نہیں  تھے، ان کے  سروں پر موت کے  مشینی پرندے  اپنے  بازوؤں میں  ہلاکت خیزی سمیٹے  گرج رہے  تھے۔ 
جہاز پھر ہوا کے  ثقل کی کمی کی وجہ سے  نیچے  گرنے  لگا۔ بادل امنڈنے  لگے۔ سامنے  ہر ڈائل پر سوئیاں  غیر معمولی حرارت، اسراف اور قوّت کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔ اس نے  جلدی جلدی جہاز کو سنبھالا اور اپنے  دماغ کو تمام خیالات سے  پاک کر دینا چاہا۔ مگر فرڈیننڈ کی حسرت، ٹائرل کی گریہ و زاری اور گلوسٹر کی تشنگی اس کے  ذہن کو الجھانے  لگی۔ انسان رو رہا ہے  اپنی ناکامی پر!اپنی ناآسودگی پر۔ ۔ ۔ اور بیوفورٹ کے  سوالات نے  گتّھیاں  پیدا کرنی شروع کر دیں۔ اس نے  راڈر کنٹرول کو پھر جنبش دینا چاہا۔ تاکہ جہاز بلندیوں کا رخ کری مگر جیسے  کسی نے  اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ایرکنٹرول آفس کے  وائرلیس سگنل اس کے  کانوں میں  گونج رہے  تھے۔ ڈاں، ڈاں، ڈاں، ڈ ڈ، اور وہ سوچ رہا تھا۔ انسان ترقّی کر رہا ہے۔ اور تباہی بڑھتی جا رہی ہے ؟کاش کوئی اسے  اس آہنی پرندے  کے  چنگل سے  چھڑاسکتا۔ بچا لیتا۔ کوئی؟کون؟ وہ ایک دم چونک پڑا۔ پھراس نے  بڑے  سکون کے  ساتھ سوچا۔ گزری ہوئی رات کی دنیا ا اسے  اپنی طرف استعجاب بھری نظروں سے  دیکھتی ہوئی معلوم ہونے  لگی۔ وہ غیر اختیاری طور پر مسکرادیا۔ پھراس نے  ناگہانی ضرورت کے  دریچہ کو کھول دیا۔ اس کے  قدموں  کے  نیچے  زمین کا وسیع خطّہ تیزی سے  پیچھے  کھسک رہا تھا۔ کبھی کبھی بادل کا کوئی ٹکڑا بھی گاڑھی بھاپ کی طرح بیچ میں  حائل ہو جایا کرتا تھا۔ 
اس نے  حفاظتی تسموں  کے  تالے  کو نصف گھما کر دبا دیا۔ اور جہاز سے  چھلانگ لگا دی۔ چھلانگ لگاتے  ہی اُس نے  پیراشوٹ کھول دیا۔ وہ بڑی تیز رفتاری کے  ساتھ گرنے  لگا۔ لیکن فوراً ہی پیراشوٹ کے  غبّارہ نے  اس پر سایہ کر لیا۔ جہاز کچھ دور ہوا میں  بڑھا اور پھر اس کی نظروں کے  سامنے  اس سے  بھی زیادہ تیز رفتاری کے  ساتھ پرشکستہ پرندے  کی طرح ناچتا ہوا  پستیوں  میں  گر گیا۔ 
وہ جیسے  جیسے  نیچے  اُتر رہا تھا۔ زمین اس سے  نزدیک ہو رہی تھی، یہاں  تک کہ سبز و شاداب فرشِ زمین کو اس کے  قدموں  نے  مَس کر لیا، اور وہ دو تین قلابازی کھانے  کے  بعد کھڑا ہو گیا۔ غبّارہ پچک کر بیٹھ گیا اونچے  اونچے  پیڑوں کی چوٹیوں سے  بھی کافی بلندی پر اجلے  اجلے  بادل  اُڑتے  چلے  جا رہے  تھے۔ نیلا نیلا آسمان مسکرا رہا تھا اور پرندوں  کی چہکار اُس کے  دل میں  گدگدی کر رہی تھی۔ 
اس نے  اپنے  گرد و پیش کا  بڑے  اطمینان کے  ساتھ جائزہ لیا اور پھر آبادی کی تلاش میں  نکل کھڑا ہوا۔ مصنوعی انسانوں  کی آبادی کی تلاش میں   نہیں!
				                     (۱۹۵۶ء)
   
 


سانتا کلاز

شام کے   دھندلکے  چاروں  طرف  چھانے  شروع ہو گئے۔ دسمبر کے  آخری ہفتوں  کی کہر آلود  سشاموں  میں  تاریک پڑنے  والے  سائے  اور گہرے  ہو گئے۔ کالونی کی باؤنڈری کے  اندر  اپنی گھنی شاخوں  کو پھیلائے  ہوئے  درختوں  کے  نیچے  بچّے  اور بچّیاں  حلقے  بنائے  کھیل رہے  تھے۔ ناچ رہے  تھے۔ چھوٹی چھوٹی مناجاتیں  گائی جا رہی تھیں۔ ان کے  شور  اور قہقہوں  سے   ساری فضا گونج رہی تھی۔ چاروں  طرف  سرشاری چھائی ہوئی تھی۔ یہ خوشی اور مسرّت کے  جذبات میں  ڈوبے  ہوئے  بچّے  اس ماحول کو بڑا ہی پاکیزہ اور دل خوش کن بنا رہے  تھے۔ 
کرسمس کے  یہ دن بڑے  مصروف سے  تھے  اپنی تمام مصروفیتوں  کا جیسے  وہ اس وقت  کھڑی ہوئی جائزہ لے  رہی تھی۔ کھڑکی پر اس کی پرانی ساڑی کے  پردے  ہلکی ہلکی جنبشوں  کے  ساتھ ہل رہے  تھے، یہ ہفتہ، یہ شام، یہ رات اور آنے  والا دن اس کالونی کے  لئے  خوشیوں  کا زمانہ تھا پھر یہ سارا ماحول سنسان اور  خاموش ہو جائے  گا۔ پھر ایک سکوت اور ایک اداسی چاروں  طرف چھا جائے  گی، آج کی اس فضا میں  کچھ ویسا ہی تقدّس تھا جیسا  تقدّس اسے  کلیسا میں  یسوع کے  مجسّمے   کے  سامنے  دعا پڑھتے  ہوئے  محسوس ہوتا تھا۔ 
کلیسا کا تصوّر آتے  ہی وہ اپنے  اندر ایک کسک سی محسوس کرنی لگی صبح صبح جب ابھی  چاروں  طرف کہر سی چھائی ہوئی تھی اور دھوپ بڑی اپرائی اور بے  اثر سی لگ رہی تھی۔ اس نے  بچّوں  کو  تیّار کرنا شروع کر دیا۔ بچّے  چہک رہے  تھے  اور وہ ایک اندرونی  طمانیت محسوس کرتے  ہوئے  انہیں  بار بار ٹھیک ہونے  کی تاکید کر رہی تھی۔ لیکن بچّے  اس کی ہدایتوں  میں   بے  انتہا  محبّت اور خلوص محسوس کرتے  ہوئے  بھی اس کی باتوں  پر کان نہیں  دھر رہے  تھے۔ باہر کالونی کے  بچّے  ارغنوں  بجاتے  ہوئے  دوڑ رہے  تھے  اور ان کے   پر مسرّت شور کی آواز پوری کالونی میں  گونج رہی تھی۔ اسے  وہ منظر بڑا پیارا لگ رہا تھا۔ کاش زندگی کا لمحہ لمحہ اسی خوشی اور مسرّت کے  لئے  وقف ہو جائے۔ کاش یہ مسرّت ابدی ہو جائے۔ 
اور اس مسرّت میں  کھوئی ہوئی   اس نے   اپنے  بچّوں  کو معمولی پاپلین اور گبردین کی قمیص اور پتلونیں  پہنائیں  اور اوپر سے   سستے  اون کے  پُل او وَر پہنا دئے۔ بچّوں  نے  اپنے  ہاتھوں  اپنے  بالوں  کو سنوارا اور اپنے  پالش کئے  ہوئے  جوتے  پرانے  دھلے  ہوئے  موزوں  کے  ساتھ پہن لئے۔ اس وقت ایک ہڑبونگ مچی ہوئی تھی لیکن یہ سب اس کو  اس وقت  گوارا تھا۔ وہ مقدّس ہفتے  کا ایک دن تھا۔ وہ برے  دن کی نوید  دینے  والا دن تھا۔ وہ کرسمس کا زمانہ تھا۔ 
لیکن بچّے  جیسے  ہی تیّار ہوئے  اپنی پوشاک کی نمائش کے  لئے  کوارٹر کے  باہر نکل گئے  اور ایک دم شور کے  بعد  کامل  سکوت چھا گیا۔ اس نے  اب خود بھی تیّاری  کرنی شروع کر دی۔ اُس کا شوہر بازار سے  پھولوں  کے  گلدستے  لینے  چلا گیا تھا۔ اس نے  اس کے  کپڑے  بھی  بکس سے  نکال کر رکھ دیئے۔ پھر خود باورچی خانہ میں، جو ٹین کا شیڈ ڈال کر بنایا گیا تھا۔ چلی گئی۔ اس نے  پلیٹوں  میں   آش جو کا دودھ میں  ابلا ہوا دلیا نکالا۔ ڈبل روٹی کے  قتلے  کاٹے  اور آگ پر ہلکا ہلکا سینک کر  مکھّن کی بڑی ہی باریک پرت ان پر چڑھانے  لگی۔ 
 آج وہ بڑی شگفتگی محسوس کر رہی تھی اور سارے  کام بڑے  انہماک اور بڑی دلچسپی سے   کر رہی تھی۔ اس کا شوہر بچّوں  کے  ساتھ کوارٹر میں  داخل ہوا۔ اس کے  ایک ہاتھ میں  پھولوں  گلدستے  تھے  اور دوسرا ہاتھ وہ ٹام کی پشت پر  رکھے  ہوئے  تھا، اور ٹام، جم اور پنٹو مرجھائے  مرجھائے  سے  اس کے  سا تھ تھے۔ وہ چونک پڑی، آخر یہ کیا ہوا۔ 
اس سے  پہلے  کہ وہ بولتی اس کا شوہر اس سے  پوچھ بیٹھا!
یہ بچّوں  کو کیا ہوا؟ یہ باہر کیوں  کھوئے  کھوئے  سے  کھڑے  تھے ؟‘‘
’’میں  کیا بتا سکتی ہوں ؟ ابھی تو یہ ہنستے  کھیلتے  باہر گئے  تھے۔ ‘‘ اور اس نے  پھر تمام بچّوں  سے  پوچھا لیکن سب خاموش رہے۔ کوئی کچھ بھی نہ بولا۔ اس نے  جلدی جلدی تمام ناشتہ سائبان کے  نیچے  بچھی ہوئے  میز پر لگا دیا اور پھر باری باری ایک ایک بچّے  سے   پوچھنے  لگی۔ بالاآخر  پنٹو نے  بسورتے  ہوئے  لہجے  میں  حقیقت حال  کھول دی۔ 
’’فلٹن ہماری ہنسی اڑا رہا تھا۔ ہمارے  کپڑے  خراب ہیں  اور ہم بُرے  ہیں  اور ہم سے  اس کی ممّی اور پاپا بات کرنا پسند نہ کریں  گے  اور وہ ایسے  لڑکوں  کو  اپنے  ساتھ نہیں  کھلانا چاہتا۔ ‘‘
اوہ۔ یہ مسرّت کے  دنوں  کا زمانہ اس دنیا میں  گزر رہا ہے۔ وہ کہاں  کس خیالی دنیا میں  پرواز کر رہی تھی۔ وہ کیسی جھوٹی مسرّتوں  میں  کھوئی تھی۔ فلٹن کے  جملے  اس کے  سینے  کو برماتے  ہوئے  پار ہو گئے  لیکن فلٹن ابھی بچّہ ہے  اس کی بات کا خیال کیا کرنا، البتّہ یہ الفاظ جو فلٹن کی زبان سے  نکلے  تھے  کسی  اور ہی کے  تھے  ایک ایسی ذہنیت کے  جو سال بھر  اس کو اوس اس کے  شوہر کو پسماندگی میں  مبتلا رکھتی تھی اور جس کو وہ کرسمس کے  مقدّس ہفتے  میں  بھلا دینے  کی کوشش  کرتی تھی۔ اس نے  ایک ٹھنڈی سانس لی اور اس کے  اندر کی مسرّت دیر سے  رکھی ہوئی آئس کریم کی طرح گھلنے  لگی۔ اس نے  دیکھا کہ اس کے  بچّوں  کے  بال  کچھ الجھ گئے  ہیں  اور ان کے  کپڑوں   پر مٹّي کے  ہلکے  ہلکے   سے  دھبّے  آ گئے  ہیں۔ اس نے  یوں  ہی افسردہ سے  انداز میں ان کے  کپڑوں  سے  گرد کو جھاڑ دیا۔ ان کے  بالوں  کو درست کر دیا اور پھر اس  غم آگیں  تاثّر کو فنا کرنے  کے  لئے  سب سے  ناشتہ کرنے  کے  لئے  کہا۔ 
’’ہو گا تم فلٹن کی بات کی پرواہ نہ کرو جلدی سے  ناشتہ کرو۔ چرچ چلنے  کا وقت ہو رہا ہے۔ ۔ ‘‘
کلیسا کا نام سن کر بچّوں  میں  پھر ایک اشتیاق جاگ اٹھا اور وہ اپنے  ناشتے  میں  منہمک ہو گئے۔ وہ تھکے  تھکے  انداز میں  خلاؤں  میں   تکتی رہی اور نہ معلوم کیا سوچتی رہی۔ 
کلیسا میں   داخل ہو کر اس نے  یسوع کے  مجسّمہ کے  سامنے  گھٹنے  ٹیک دیئے   اور غم انگیز سی، سر جھکائے  مؤدب بیٹھی رہی۔ اس وقت اس کے  دل سے  لاکھوں  صدائیں  اٹھ رہی تھیں۔ کتنی ہی التجائیں  اور آرزوئیں! وہ تمنّا کر رہی تھی۔ کاش یسوع کا یہ  مجسّمہ اس کی سن سکے۔ پھر وہ وہاں  سے  اٹھ کر چلی آئی اور  چیپل کے  لئے   اگلی نشستوں  کے   پاس سے  گزرتی ہوئی پچھلی بنچوں  میں  اپنی خاوند کے  پاس بیٹھ گئی جو اس کے  بچّوں  کے  ساتھ اس سے  پہلے  وہاں  بیٹھ چکا تھا۔ اس وقت چیپل میں  شرکت کے  لئے  کتنے  ہی لوگ کلیسا میں  داخل ہو چکے  تھے  اور چاروں  طرف ایک موّدبانہ بھنبھناہٹ گونج رہی تھی۔ اگلی نشستوں  پر زرق برق کپڑوں  میں  ملبوس عورتیں  اور مرد  بیٹھنے  شروع ہو گئے  ان کے  بچّے  بھی قیمتی کپڑوں  اور اعلیٰ آرائشوں  کے   کے  ساتھ  ان کے  پاس خاموش بیٹھے  ہوئے  تھے۔ جیسے  وہ اس  وقت اپنی ساری شرارتوں  کے  طوفان کو سینے  میں  دبائے  بیٹھے  ہوں  پچھلی بنچ کے  بچّے  کئی بار گردنیں  اونچی کر کے  انھیں  دیکھنے  کی کوشش کر چکے  تھے  اور مقدّس باپ نے  ایسا کرنے  سے  انہیں  کئی بار منع بھی کیا تھا۔ وہ کھوئی کھوئی سی، مقدّس شمعوں  اور پردوں  کو تکتی رہی، جیسے  وہ اس وقت  اس مقدّس کلیسا سے  بہت دور ہو۔ بڑے  فاصلے  سے  اس کے  ایک ایک منظر کو دیکھ رہی ہو، دھندلائے  ہوئے  سے، غیر واضح سے۔ 
پھر مارگرٹ اپنے  ولایتی سرج کے  سکرٹ اور ریشم کی طرح چمکتے  ہوئے   گاؤن اور  سمور کے  بالوں  کے  کالر کے  درمیان بہترین میک اپ کے  ساتھ آ کر پیانو کے  سامنے  بیٹھ گئی۔ اس کی انگلیاں  پیانو سے  مناجات کی دھن پیدا کرنے  لگیں  اور تمام لوگ کھڑے  ہو گئے۔ سب نے  اپنے  سروں  کو جھکا لیا اور بڑی تقدّس آمیز دھیمی لے  میں  مناجات  گاتے   رہے۔ مارگرٹ نے  پیانو بند کر دیا۔ مناجات ختم ہو چکی تھی۔ تمام لوگ خاموش بیٹھ گئے۔ ۔ مقدّس باپ نے  وعظ کہا اور پھر سب لوگ کھڑے  ہوئے۔ مناجات پڑھی گئی، مارگرٹ نے  پھر پیانو کو چھیڑا اور پھر تمام لوگ چہروں  پر ایک مسکراہٹ لئے  ہوئے  رخصت ہونے  لگے۔ وہ کچھ دیر چیپل کے  بعد رکی رہی۔ چند ایک لوگوں  سے  ملاقات کی۔ وہی لذّتیں، وہی مسکراہٹیں، وہی مقدّس ہفتہ کی مبارکبادیں! ان سب چیزوں  نے  جیسے   اس کے  غم کو  ایک حد تک  ہلکا کر دیا۔ وہ  اب پھر اپنے  سینے  پر سے  ایک بوجھ کو ہٹتے  ہوئے  محسوس کر رہی تھی۔ جب  مارگرٹ اپنے  بچّے  کو لئے  ہوئے  اس کے  سامنے  سے  گزرنے  لگی تو اس نے  اس کو رشک کے  ساتھ دیکھتے  ہوئے   مقدّس ہفتہ کی مبارکباد پیش کی۔ 
’’شکریہ مرتھا! مبارک مبارک۔ ‘‘
مارگرٹ بھی  اس کو دیکھ کر مسکرانے  لگی۔ اور اس وقت اس کو  باوجود  اس ظاہری تفاوت کے، وہ اسے  اپنے  سے  بہت نزدیک  محسوس ہوئی۔ جیسے  یہ قیمتی ملبوسات اس کے  غرور اور بڑے  پن کو نہیں  اس کی خوش مزاجی اور بھولی طبیعت کا مظاہرہ کر رہے  تھے۔ اس کو نہ جانے  کیوں، اس وقت مارگرٹ پر پیار آنے  لگا اور اس پیار کے  جذبہ کے  تحت ہی اس نے  اپنے  ہاتھ کا پھولوں  کا گلدستہ بڑی شفقّت کے  ساتھ مارگرٹ کے  بچّے  کے  ہاتھ میں  تھما دیا۔ اسے  اس وقت بڑا سکون سا محسوس ہونے  لگا۔ 
لیکن مارگرٹ کے  بچّے  نے  اس کے  سامنے  ہی پھولوں  کی پتّیاں  نوچنا شروع کر دیں  ذرا سی دیر میں  وہ نیچی ہوئی۔ ٹہنیوں  کا ایک چھوٹا سا گھٹّا لگنے  لگا اور جب مارگرٹ کلیسا  کے  پورٹیکو سے  نکل کر  روش پر آ گئی تو اس نے  بچّے  کے  ہاتھ سے  بغیر پھولوں  کا گلدستہ لے  کر ایک جھاڑی میں  پھینک دیا۔ 
وہ اب تک کھڑی ہوئی مارگرٹ کو بڑی  پر امّید نظروں  سے   جاتے  ہوئے  دیکھ رہی تھی۔ لیکن یہ دیکھتے  ہی اس کا دل مسوس کر رہ گیا۔ جیسے  وہ اور اس کے  بچّے   اور اس کا شوہر، سب  بغیر پھولوں  کا ایک گلدستہ تھے  جو کالونی کی باؤنڈری کے  ایک کونے میں  اسی طرح پھینک  دیئے  گئے  تھے، وہ بالکل اسی طرح  ناقابلِ التفات تھے  جیسے  یہ سارے  ڈنٹھل پنکھڑیوں  کے  نوچ لئے  جانے  کے  بعد! اس کی دل گرفتگی اور  بڑھتی گئی، وہ اور زیادہ اضمحلال محسوس کرنے  لگی۔ اور اس  کے  ارد گرد گونجتی ہوئی مبارکباد کی آوازیں   بڑی  ہی بی اثر سی ہو گئیں۔ وہ ان سے  بہت دور تھی، بہت دور! جہاں  ان میں  ایک مبارکبادی بھی اس کے  لئے  نہ تھی۔ 
وہ اپنے  بچّوں  کو لئے  ہوئے  بازار چلی گئی جو کالونی کے  ایک حصّہ میں  کرسمس کے  لئے  لگایا گیا تھا۔ یہ مبارک ہفتہ تھا، یہ مقدّس ہفتہ تھا، آج رات سانتا کلاز اپنی بے  پہیّوں  کی گاڑی پر سوار  رینڈیر کو ہانکتا ہوا، فضا میں  پرواز کرتا ہوا آئے  گا۔ اس کے  سرخ و سفید، مضحکہ خیز کپڑے  اور اس کی سفید لمبی داڑھی اور سفید بال سرد برفانی جھونکوں  سے   لہرا رہے  ہوں  گے، اس کی گاڑی کھلونوں، چاکلیٹوں  اور ٹافیوں  سے  بھری ہو گی اور وہ دریچوں  میں  جھلملاتی جگمگاتی ہوئی  شمعوں  کو دیکھ کر چھت پر اتر آئے  گا اور بچّوں  کے  ہاتھوں، آتش دان کی کارنس میں  لٹکاتی ہوئی جرّابوں  میں  تحفے  تحائف بھر کر شجرِ کرسمس کے  پاس رکھ دے  گا اور صبح اٹھ کر بچّے  اپنی جرّابوں  کو تحفوں  سے   بھری ہوئی دیکھ کر خوش ہو جائیں  گے۔ بھاگے  بھاگے  پھریں  گے  اور دوسروں  کو دکھائیں  گے۔ 
لیکن اس تصوّر کے  پیدا ہوتے  ہی اس کے  ہونٹوں   پر ایک  زہر خند پھیل گیا۔ وہ جانتی تھی کہ سانتا کلاز کے  یہ تحفے  اس کو  کتنے  مہنگے  پڑتے  تھے، اور ہیرس کی کتنے  دنوں  کی مشقّت محض سانتا کلاز کی اس فیاضی کی نذر ہو جاتی تھی۔ 
بازار میں  گوٹہ کناری کی دکان کے  سامنے  سے  گزرتے  ہوئے  بچّے  ٹھہر گئے۔ اس نے  چاہا کہ وہ آگے  بڑھ جائے  لیکن بچّوں  نے  بڑے   ملتجیانہ لہجے  میں  اس کے  قدموں  کو آگے  بڑھنے  سے  روک دیا۔ 
’’ممّی گوٹہ کناری لیں  گے ‘‘۔ 
’’کیوں ؟ کیا ضرورت ہے ؟‘‘ اس نے  انجان بنتے  ہوئے  پوچھا۔ 
اس کا لہجہ چغلی کھا رہا تھا کہ اس کا خریدنا تو پیسے  خراب کرنا ہے۔ 
’’ممّی کرسمس ٹِری کے  لئے!‘‘
’’لیکن گھر پر تو بہت سا رکھا ہے۔ اب اور لینے  کی کیا ضرورت ہے ؟‘‘۔ 
اور بچّے   روہانسی صورت بنا کر چپ ہو گئے۔ جیسے  وہ کہہ رہے  ہوں، سانتا کلاز کو یوں  ٹالا نہیں  جا سکتا ورنہ وہ بھی ہمیں  نظر انداز کر جائے  گا۔ وہ حسرت سے  کھڑے  ہوئے  گوٹے  کناری کو  دور سے  دیکھتے  رہے۔ اس کا دل پسیج گیا اور اس نے  اپنے  آپ پر جبر کرتے  ہوئے  دو ایک روپے  کا سامان لے  ہی لیا، بچّوں  کے  چہرے  ایک بار پھر کھل اٹھے  اور وہ آگے  بڑھ گئے۔ 
تمام دوکانیں، جھنڈیوں، مالاؤں  اور پھولوں  سے  سجی ہوئی تھیں۔ جگہ جگہ  سازوں  پر  مناجات کی دھنیں  بجائی جا رہی تھیں  وہ آہستہ آہستہ دکانوں  کے  سامنے  سے  گزرتی رہی۔ معمولی پلاسٹک اور ربر کے  کھلونے  خریدتی رہی۔ پھر اس نے  ٹافیوں   اور  چاکلیٹوں  کے  سستے  پیکٹ خریدے  اور بچّے  ایک بار پھر موم بتّیوں  کے  خریدنے  پر مچل گئے۔ 
’’ممّی یہ بتّیاں  بہت باریک ہیں۔ بہت جلد بجھ جائیں گی‘‘۔ 
جم منمنانے  لگا۔ 
’’ہاں  ممّی یہ بجھ جائیں  گی تو سانتا کلاز ہمارا دریچہ کیسے  دیکھے  گا‘‘۔ پنٹو بھی مچلا۔ 
لیکن وہ جانتی تھی کہ ان پہیوں  پر  سانتا کلاز کا آنا  منحصر نہیں! انھیں  جو کچھ سانتا کلاز سے  ملنا ہے  وہ تو پہلے  ہی سے  مقدّر ہو چکا
 ہے۔ وہ سانتا کلاز کی بے  پہیّوں  کی گاڑی میں  نہیں، اس وقت اس کے  تھیلے  ہی میں  ہے۔ لیکن پھر بھی اس نے  بچّوں  کے  تصوّر کو مجروح کرنا پسند نہیں  کیا:
’’نہیں  یہ ٹھیک ہیں، یہ بجھیں  گی نہیں۔ ہم انہیں  سوتے  وقت جلائیں  گے۔ پھر تو یہ دیر تک جلتی رہیں  گی۔ ‘‘
’’لیکن ممّی اگر سانتا کلاز پہلے  ہی گزر گیا تو؟‘‘
اور وہ ایک دم ٹھٹھک کر رہ گئی۔ وہ کر بھی کیا سکتی ہے ؟ سانتا کلاز تو گزر بھی چکا! یہ  بے  چارے  بچّے  کیا جانیں۔ انھیں  کیا خبر کہ وہ سانتا کلاز کے  لئے  خواہ  کتنا ہی اہتمام کریں  لیکن سانتا کلاز  ان  کو اس سے  زیادہ  نہیں  دے  سکتا جتنا اس کے  والدین سہارا دے  سکتے  ہیں۔ 
’’نہیں   ایسا نہیں  ہے ‘‘۔ اس نے  ایک بار پھر  بچّوں  کو دلاسا دیا:
’’سانتا کلاز تمہارے  سونے  سے  پہلے  کیسے  گزر جائے  گا؟‘‘
لیکن یہ ایک اور جراحت تھی جس نے  اس کو اور بھی زیادہ  پژمردہ کر دیا تھا۔ دوسرے  بچّے  ہنستے  اور شور کرتے  ہوئے  فٹ پاتھ  پر سے  گزر رہے  تھے  اور ان کے  والدین اچھّے  اچھّے  کھلونے  خرید رہے  تھے  لیکن جب بھی اس کے   بچّوں  نے  کسی اچّھے  کھلونے  کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے  فوراً ان کو  بہلا دیا۔ 
’’دیکھو، یہ اچّھا نہیں  ہے، یہ بہت مہنگا ہے، یہ بہت جلد  ٹوٹ جاتا ہے، بس ہاتھ میں  لیتے  ہی لیتے ‘‘۔ 
اور بچّے  اس کی باتوں  پر یقین نہ کرتے  ہوئے  بھی مان جاتے  تھے، کیوں  کہ وہ ابھی پنٹو اور ٹام  اور جم تھے۔ مرتھا اور ہیرس  نہ تھے۔ وہ حسرت سے  کھلونوں  کی طرف تکتے  رہ جاتے  تھے، اور اس کے  دماغ میں   چنگاریاں   سی چھوٹنے  لگتی تھیں۔ بھلا وہ مسرّت بھی کیا جو دولت سے  خریدی جائے ؟۔ وہ انبساط اور خوشی بھی کیا جو بغیر داموں  دستیاب نہ ہو سکے ؟ وہ خوش رہنا چاہتی ہے۔ غم کی، مایوسی کی، ہلکی سی سیاہی بھی دلوں  کے  تقدّس پر طاری ہوتے  دیکھنا نہیں  چاہتی تھی۔ لیکن اس کا مداوا کیا ہے ؟ کچھ بھی نہیں ؟ وہ اس طرح بازار میں  گھومتے   گھومتے  اکتا چکی تھی!
۔ ۔ ’’ہیرس، اب چلنا چاہیئے۔ وقت کافی ہو چکا ہے ‘‘۔ 
’’ہاں  چلو، اب ہم کچھ خریدیں  گے  بھی تو نہیں ‘‘۔ 
ہیرس نے  کچھ ایسے  انداز میں  کہا جیسے  کچھ خریدتا اب اس کے  بس میں  بھی نہیں  رہا تھا۔ وہ خود  یہی سمجھ رہی تھی۔ وہ دونوں  واپس ہونے  لگے  لیکن بچّے  بضد ہو گئے۔ وہ ابھی کچھ دیر اور گھومنا چاہتے  تھے۔ 
’’مگر دیکھو نا، ابھی تو کنسرٹ بھی دیکھنا ہے۔ وہاں  نہ چلو گے  کیا؟‘‘
اور بچّے  ایک بار پھر  بہلاوے  میں  آ گئے۔ اور سب گھر واپس آ گئے  لیکن بچّے  کیا وہ خود بھی یہ محسوس کر رہی تھی کہ گھر اب پہلے  کے  مقابلے  میں  اور بھی سنسان ہو گیا ہے، ایک عجب بے  کیفی چاروں  طرف چھا گئی ہے۔ کرسمس بازار کے  ہنگامے، اور پھر ہنگامے  کے  مقابلے  میں  یہ کامل سکوت! یہ ناقابل برداشت تھا۔ اس لئے  سب نے   ہی جلدی جلدی دوپہر کا لنچ  کھایا اور کنسرٹ کے  لئے   کلیسا کی طرف  چل دیے۔ راستہ بھر وہ عجیب کیفیت محسوس کرتی رہی۔ جیسے    وہ افسردہ بھی تھی اور نہیں  بھی تھی  جیسے  اس کا دل گھبرا بھی ریا تھا اور جیسے  دل میں  کوئی خواہش  اور کوئی تمنّا بھی نہ تھی۔ 
کنسرٹ کے  لئے   کلیسا  کے   کمپاؤنڈ میں   شامیانوں   کو خوب  سجایا گیا تھا۔ سہ  پہر کی سنہری پڑتی ہوئی دھوپ  اپنی لطیف  تمازت سے  محروم ہوتی جا رہی تھی۔ کالونی کے  بسنے  والے   بے  پایاں   مسرّت میں   ڈوبے  ہوئے   کلیسا  کے  سامنے   چہل قدمی کر رہے  تھے  اور غیر مسیحی مہمان، مسیحیوں  کے  ساتھ  بڑے  محبّت آمیز  لہجے  میں  گفتگو کر رہے  تھے۔ کنسرٹ کے  شروع ہونے  میں  کافی دیر تھی۔ ابھی  پورے  مہمان نہیں  آئے  تھے۔ ٹام، جم اور پنٹو اس کے  پاس سے  جا کر دوسرے  بچّوں  کے  ساتھ کھیلنے  لگے  تھی۔ لیکن اس  وقت بھی اس کا دل دکھ رہا تھا۔ وہ  بچّے  کھیل نہیں  رہے  تھی، بس استعجاب کے  ساتھ کھڑے  ہوئے  دوسروں  کو  کھیلتے  اور شرارتیں  کرتے  دیکھ رہے  تھے، انہیں  کھیلنے  کا موقع کہاں  ملتا۔ ان کے  پاپلین اور گبردن کے  ارزاں  کپڑوں  میں   اتنی  جاذبیت کہاں  تھی کہ وہ خوش پوش سجے  سجائے  بچّوں  کو  اپنی طرف  متوجہ  کر سکے۔ 
’’ہیرس! یہاں  کھڑے  رہنے  سے   بہتر ہے  کہ ہم اندر چل کر  بیٹھیں۔ ‘‘ اس نے  ناقابل برداشت اذیت کے  ساتھ اپنے  شوہر کو مخاطب کرتے  ہوئے  کہا۔ 
’’ہاں  تم بچّوں  کو پکار لو۔ ‘‘ ہیرس نے  کچھ اس  طرح جواب دیا جیسے   اس  ماحول میں   دولت  اس کا منہ چڑا رہی ہو۔ 
اس نے  بچّوں  کو بلا لیا اور وہ سب پچھلی بنچوں  پر  جا کر بیٹھ گئے  اگلی بنچیں  ان کے  لئے  نہیں  تھیں۔ ان پر ناموں  کی چٹیں  چسپاں  تھیں۔ معزز مسیحیوں   کے  لئے! جو چمکتی ہوئی کاروں  میں، بہترین ملبوسات میں  آئیں  گے  اور ان مہمانوں  کے  لئے  جنہیں  ان مسیحیوں  نے  مدعو کیا ہو گا البتّہ وہ مہمان  جن کو مرتھا کے  جیسے  خاندانوں  نے  مدعو کیا ہو گا وہ ان کی اپنی ہی صفوں  میں  بیٹھیں  گے۔ بہ قاعدہ وہ اپنی عمر کے  اس سال تک  دیکھتی آئی تھی لیکن یہ آج ہی کیوں  اس کی آنکھوں   میں  کھٹک رہا تھا، وہ  یہ سمجھنے  سے   قاصر تھی۔ بس یہ ایک گتھّي ذہن میں  لئے  وہ بے  آرام سی بیٹھی رہی۔ 
کنسرٹ شروع ہونے  سے  پہلے  اس نے  کئی بار سوچا کہ وہ واپس چلی جائے، یہاں  آنے  سے  اس کی بے  کیفی اور خلش میں  کوئی کمی نہیں  ہوئی ہے۔  بلکہ اذیت کا احساس اور بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے  اور خود کو اور بھی زیادہ پستی میں  گرا ہوا محسوس کر رہی ہے۔ مگر ٹام، جم اور پنٹو کی دلچسپی کی خاطر وہ اپنی مرضی کے  مطابق ایسا نہ کر سکی۔ بس اسی وجہ سے  وہ خود کو بنچ میں  مقیّد کئے  رہی۔ یہاں  تک کہ آہستہ آہستہ آرکسٹرا کا ترنّم فضا میں  گونجنے  لگا۔ اس کا ذہنی کھنچاؤ کسی حد تک کم ہو گیا اب وہ خود کو قدرے  پر سکون محسوس کرنے  لگی۔ پھر بھی اسے  یہ پتہ نہ چلا کہ کنسرٹ کب شروع ہوا۔ وہ اس وقت چونکی جب تالیوں  کا شور بُری طرح گونج اٹھا  یا وہ  یہ فینسی ڈریس کی نمائش تھی! کیرول کی بچّی انجیلا ایک مفلوک الحال گداگری کے  لباس میں  اسٹیج پر کھڑی تھی۔ اس کے  ہاتھ میں  ایک بڑا بد ہیئت کاسہ تھا۔ اس کے  ناخنوں  پر قیمتی پالش دور سے  چمکتی ہوئی نظر آ رہی تھی اور ہونٹوں  پر لپ اسٹک کی سرخی اس روپ کا  اور بھی زیادہ مذاق اڑا رہی تھی۔ اس کے  ہونٹوں  پر  بڑی ہی تلخ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس کے  ذہن میں  کسی نے  چٹکی لے  لی۔ زردسیم کے  ڈھیروں  سے  کھیلنے  والی انجیلا کے  جسم پر یہ لباس اس قدر تحسین کا مستحق ہے  اور خود کالونی کے  ناقابل  التفات کونوں  میں  کو واٹروں  میں  پڑے  ہوئے  انسان  معمولی سے  التفات کے  حقدار بھی  نہیں ؟ ان کا افاسنوی بہروپ  بھی تمام نظروں  میں  کھب  جاتا ہے  اور حقیقی پیکر کسی کو بھی متوجّہ نہیں  کر پاتے ؟
اُف۔ دنیا حقیقت سے  نظریں  چرا کر کس نہ معلوم  رخ پر، کس نہ معلوم  منزل کی طرف بھاگی چلی جا رہی ہے ؟ آخر اس طرح ایک چیز کو اس کے  اس کے  مقام سے  ہٹا کر کسی ناموزوں  جگہ پر رکھ دینے  سے  کیا حاصل؟ پالش لگے   ناخنوں  اور مرمریں  سفید انگلیوں  میں  یہ کاسہ کیوں  پکڑا دیا گیا ہے ؟ اس کے  ذہن میں  پنٹو کے  جملے  بازگشت کرنے  لگے۔ ’’فلٹن ہماری ہنسی اڑا رہا تھا۔ کہتا تھا ہمارے  کپڑے  خراب ہیں  اور ہم برے  ہیں  اور ہم سے  اس کی ممّی اور پایا بات کرنا بھی پسند نہ کریں  گے  اور وہ ایسے  لڑکوں  کو اپنے  ساتھ کھلانا نہیں  چاہتا۔ ‘‘ ہاں  ٹھیک ہے  وہ کیرول کی بچّی  انجیلا تو نہیں۔ تمام خوشیاں  اور تمام  مسرّتیں  اور تمام توجّہات کا صرف ایک مرکز؟ یہ دولت؟ یہی جسے  انسان کے  اپنے  ہاتھوں  نے  جنم دیا تھا۔ مگر یہ تو آج خود انسانوں  کو جنم دے  رہی ہے۔ ایسے  بڑے  انسانوں  کو جو انجیلا  کے  باپ اور چچا جن کے  لئے  چرچ کی نشستوں  میں کارڈ لگتے  ہیں۔ یہ کیسا صنم ہے  جو انسانی ہاتھوں  سے  تراشا گیا اور انسانی  پرستش کا  واحد حقدار بن گیا۔ کیا انسان خود اپنے  ہی ہاتھوں  مجبور ہے۔ اوہ خداوند!
وہ کچھ اسی طرح سوچ رہی تھی کہ اسٹیج پر مارگرٹ کا بچّہ ہیپر  سانتا کلاز کے  روپ میں   نمودار ہوا۔ ایک بار پھر تالیوں  کے  شور سے  فضا گونج اٹھی لیکن اس کا خون پھر کھول اٹھا۔ یہ کیا مذاق ہے ؟ کیا یہ ہماری خوشیوں  کے  ٹھیکے  دار بن بیٹھے  ہیں ؟ کیا سانتا کلاز بھی ہماری تحقیر کرنے  پر اتر آیا ہے۔ سانتا کلاز  کیا تم یہ احساس دلا رہے  ہو؟ اسی لئے  نا کہ ہم تمہارے  سیم و زر سے  خریدنے  کے  لائق نہیں ؟ بڑی بے  کلی کے  ساتھ پہلو بدلتی رہی۔ وہاں  بیٹھا رہنا  اب آزمائش بن گیا تھا۔ ہر مظاہرہ اسے  منہ چڑاتا تھا لیکن پھر جلد ہی وہ مختصر سی تمثیل شروع ہو گئی  جس میں  یسوع کا بچپن اور ان کی تبلیغ دکھائی گئی تھی۔ 
اس نے  اطمینان کا سانس لیا کم از کم اب ہی وہ ان تفاوتوں  سے  چھٹکارا پا سکے  گی جن سے  اب تک وہ اپنا پیچھا چھڑا نہ سکی تھی۔ لیکن یہ کیا؟ یسوع کے  حواری فلٹن، انجیلا رابرٹ اور پیٹر؟ اور یسوع کے  دشمن، کواٹروں  میں  بسنے  والے  ڈنکن، جونی، ہیلی، اسپیرو! کیا اس دنیا کی وسعتوں  سے  پرے  بھی یہ اپنی دولت کا جال پھینکنے  سے  باز نہ رہے۔ کیا انسان کے  قالب کے  اندر کوئی بھی جھانک کر دیکھنے  والا نہیں ؟ یہ اندھیر ہے، یہ بے  انصافی ہے، یہ ظلم ہے۔ اس کے  اندر نفرت کا  ایک مہیب جوالا مکھی پھوٹ پڑا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ وہاں  سے  نکل کر بھاگ جائے۔ لیکن ٹام، جم اور پنٹو  کی دلچسپیاں  بھاری بیڑیاں  بن کر  اس کے  پیروں  میں  پڑ گئیں۔ وہ اپنے  آپ پر جبر کئے  بیٹھی رہی اور اس کی شر باتوں  میں  خون کھولتا رہا۔ 
کنسرٹ ختم ہونے  کے  بعد  جب وہ وہاں  سے  اٹھی تو ایک  اضطراب کے  عالم میں  اس کی نس نس اس طرح دکھ رہی تھی جیسے  وہ برسوں  کی بیماری کے  بعد بستر علالت سے  اٹھی ہو۔ اس کی آنکھیں  جل رہی تھیں  اور شام کی خنکی کے  باوجود اس کے  ہونٹ خشک پڑ چکے  تھے۔ 
جب وہ گھر میں  داخل ہوئی تو سورج قریب قریب ڈوب چکا تھا۔ اس نے  جلدی جلدی  چائے  بنا کر سب کو پلائی۔ بچّے  باہر کھیلنے  چلے  گئے  اور ہیرس پاس کے  کوارٹر میں  جونی کے  باپ سے  خوش گپّي کرنے  چلا گیا۔ لیکن وہ سامنے  باؤنڈری کے  اندر کھلنے  والی کھڑکی کے  پاس کھڑی ہو گئی۔ اس کی پرانی ساری کے  پردے  اب بھی ہلکے  ہلکے  ہل رہے  تھے۔ مگر ہوا بے  کیف تھی۔ بچّے  شام کے  دھندلکوں  میں  دن بھر کے  تمام واقعات سے  بے  پرواہ ہو کر کھیل رہے  تھے، چیخ رہے  تھے  اور ہنس رہے  تھے۔ ان کی زبانوں  سے  مناجاتوں  کے  ٹکڑے  ادا ہو رہے  تھے۔ وہ ان کو دیکھتے  ہوئے  بھی نہ معلوم کہاں  گم تھی۔ ان کے  ان مشغلوں   کا اسے  ذرا بھی پتہ نہ تھا۔ 
تاریکی جب کافی بڑھ گئی تو اسے  کوارٹر میں  اندھیرے  کا احساس ہوا۔ اس نے  لیمپ روشن کیا اور پھر دریچے  میں  کھڑی ہو گئی۔ آج دن بھر کے  واقعات اس کے  دماغ کو بری طرح جھنجھوڑ رہے  تھے۔ معاً اسے  خیال آیا یہ رات سانتا کلاز کی آمد کی رات ہے۔ اس نے  آتشدان کی کارنس کی طرف مڑ کر دیکھا۔ بچّے  اپنے  موزے  لٹکا چکے  تھے۔ اس کے  ہونٹوں  پر ایک  زہر خند پھر پھیل گیا۔ اس نے  ہیرس کا ایک بڑا موزہ اٹھایا اور ایک کیل سے  آتش دان میں، بالکل غیر ارادی طور پر لٹکانا ہی چاہا تھا کہ ہیرس کمرے  میں  داخل ہوا اور استعجاب سے  اس کی طرف دیکھنے  لگا۔ 
’’مرتھا۔ تمہیں  سانتا کلاز سے  تحفہ چاہیئے  کیا؟‘‘
وہ مڑ کر چپ چاپ خالی خالی نظروں  سے  اسے  دیکھنے  لگی۔ لیکن وہ تو بس صرف کھلونوں  سے  بہلاتا ہے، سچّی خوشی سے  نہیں!‘‘ ہیرس مسکرانے  لگا مگر اس کے  چہرے  کا پھیکا پن اس مسکراہٹ کو  دھندلا کر رہا تھا۔ مرتھا کے  ہاتھ سے  موزہ گر گیا۔ اس کی آنکھیں  بے  مقصد اسے  تکتی رہیں۔ سچّی خوشی؟ سچّی خوشی! سچّی خوشی کہاں  میسّر ہو گی؟ کہاں  آخر؟ اے  خدا۔ ۔ !

                                                         ( ۱۹۵۶ء  )  
 

یادوں  کے  سائے  

اس تاریکی میں، جس میں  سب کچھ کھو جاتا ہے۔ آنکھیں  پپوٹوں کا دریچہ کھول کر کچھ تلاش کرتی ہیں، لیکن اندھیرے  میں  سنسناتا ہوا سنّاٹا وسوسوں کے  دبیز پردے  چھوڑ دیتا ہے۔ خیال بوجھل سا یوں  ہی بھٹکنے  لگتا ہے  مگر یہاں کچھ دکھائی نہیں  دیتا۔ نظریں واپس پلٹ آتی ہیں۔ ۔ نظریں  مایوس نہیں  ہوتیں۔ وہ ٹھہرتیں  نہیں۔ برابرسفر کرتی رہتی ہیں۔ باہر کی طرف نہیں۔ تو اندر کی طرف!یہاں بھی اندھیرا ہے، تاریک گلیاں  ہیں، بھول بھلیّاں ہیں، خطرناک موڑ ہیں۔ لیکن اندر کے  اندھیرے  میں کوئی دیوار، کوئی پردہ، نظروں  کی راہ میں  حائل نہیں  ہوتا۔ یہاں  کہیں  نہ کہیں کسی نہ کسی سے  اچانک  مڈبھیڑ ہو ہی جاتی ہے۔ 
’’اچّھا تم!؟۔ ۔ ۔ تم کو میں نے  پہلے  بھی کہیں  دیکھا ہے۔ ‘‘
’’مجھے  بالکل یاد نہیں!‘‘
’’تم جھوٹ بول رہی ہو۔ مجھے  اچّھی طرح یاد ہے۔ ‘‘
’’بکواس بند کرو۔ ‘‘
’’خوب!اب اِس طرح آنکھ چراؤ گی۔ ‘‘
’’تم کون ہو؟میں بالکل نہیں جانتی۔ ‘‘
’’اچّھا چھوڑو جانے  دو۔ ‘‘
پھر وہ کچھ نہ بولی۔ خاموش ہی رہی۔ اگر وہ کچھ بولتی تو اس کا اپنا ماضی بازگشت بن کر گونج اُٹھتا۔ 
اندھیرے  میں  سے  بڑے  پُراسراراندازسے  ہوا کا ایک سردجھونکاآگے  بڑھ کر اس کی آوارہ زلف کو چھیڑ دیتا ہے۔ ۔ ۔  موئے  مشک بو کچھ اور نقش سنواردے۔ شعلے  جو اندر دہک رہے  ہیں اور دہک اُٹھتے  ہیں۔ سردہوا سے  جسم کپکپا اُٹھتا ہے  لیکن اندر ہی اندر کچھ جھُلسنے  لگتا ہے۔ تپش چاروں  طرف پھیل جاتی ہے۔ یہاں کون ہے ؟۔ کوئی نہیں!۔ صرف نظروں کا سفرجوزندگی کی افتادہ راہ پر برابر جاری ہے۔ لیکن وہ زندگی اب نہیں  رہی۔ سفر اب بھی ختم نہیں  ہوا ہے۔ سب خاموش سے، کھوئے  کھوئے  سے، اجنبی سے  بڑھ رہے  ہیں۔ کہاں ؟کس سمت؟۔ 
’’دیکھو میں نے  تم سے  کہا تھا۔ خلوص کی قدر کرو۔ ‘‘
’’بیکار، بیکار باتیں مت کرو۔ ‘‘
’’ایک بارپھرسوچ لو۔ صرف ٹھوکروں سے  زندگی کی راہ ہموار نہیں  کی جاتی۔ ‘‘
’’میں کچھ سُننا نہیں چاہتی۔ چپ رہو۔ ‘‘
’’کیا تم کچھ دیکھنا بھی نہیں  چاہتیں ؟‘‘
’’نہیں میں  کچھ دیکھنا نہیں  چاہتی؟‘‘
’’اور شاید تم کچھ محسوس کرنا بھی نہیں  چاہتی ہو۔ ‘‘
’’نہیں، نہیں، میں  کچھ بھی محسوس کرنا نہیں  چاہتی۔ ‘‘
’’روزی تم کو معلوم ہے  کہ میں  نے  تمہارے  لیے  کیا کچھ کھویا ہے ؟۔ ‘‘
’’کمینے! تم احسان جتانا چاہتے  ہو؟ تم کو شرم نہیں  آتی۔ ‘‘
تم نے  مجھ کو غلط سمجھا ہے  روزی!اچّھا خیر میں جاتا ہوں!‘‘
اندر سے  ایک تبسّم مچلتا ہوا آیا اور ہونٹوں پر پھیل گیا، لیکن وہ بہت پھیکا پھیکا سا تھا۔ بہت سے  خزاں  زدہ پتّے  شاخوں  سے  ٹوٹے  اور ہوا کے  دوش پر  ڈگمگاتے  ہوئے  دور دور تک بکھر گئے۔ اب ان لبوں کو اُس طرح سجانا بھی تو ممکن نہ تھا جس طرح کبھی اِنہیں  بھیگے  بھیگے  ہونٹوں سے  دلکشی کا جادو جاگ جایا کرتا تھا، بہت سے  منتر اتنے  عام ہو جاتے  ہیں  کہ ان کا اثر زائل ہو جاتا ہے  اور تب جادوگر پر شکستہ فرشتہ کی طرح وہ پستیوں  میں  ڈوب جاتا ہے۔ شام کو کلب کی دودھیا روشنی میں  کھردرے  خدوخال بھی جھلملانے  لگتے  ہیں۔ 
’’آپ کو جاز پسندہے ؟‘‘
’’نہیں  میں  اسٹیریو پر ریڈ انڈین بنجاروں کی کوئی دھُن سُننا چاہتا ہوں۔ ‘‘
’’الموڑہ کے  پہاڑی علاقوں  میں  پتھورا دھنیں  کچھ ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ‘‘
’’ممکن ہے  ہوتی ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے  کہ نہ ہوتی ہوں۔ میں  نے  کبھی غور نہیں  کیا۔ ‘‘
’’آپ کافی پئیں گے ؟‘‘
’’نہیں۔ شکریہ!میں ابھی ابھی اسکویش پی چکا ہوں۔ ‘‘
’’کل شام آپ میرے  یہاں  آئیں۔ ۔ ۔ ‘‘
’’اچّھا اجازت دیجئے۔ میں ایک دو سیٹ برج کھیل لوں۔ مُجھ پر بہت سے  پوائنٹ چڑھے  ہوئے  ہیں۔ ‘‘
’’دیکھئے  آئیے  گا ضرور، میں انتظار کروں گی۔ ‘‘
کون کس کا انتظار کرتا ہے۔ وقت ایسے  بہت سے  مغروروں کو اپنے  پیروں  تلے  روند ڈالتا ہے۔ رات کی تاریکی میں  دزدیدہ مدّھم برقی روشنی میں  جذبات کے  دہکتے  ہوئے  ابخارات ضمیر کے  ایک ایک ذرّہ کو پگھلا کر رکھ دیتے  ہیں۔ پورا انسان کھوکھلے  تنے  کی طرح یوں  ڈھے  جاتا ہے  جیسے  پرانی دیوار ہوا اور بارش کے  جھکّڑ میں چکرا کر گر پڑتی ہے۔ ملبے  کے  ڈھیرکوسینت سنوار کر رکھا نہیں جاتا۔ کہیں  کسی سڑتے  ہوئے  کھڈ میں  پھینک دیا جاتا ہے۔ 
’’اچّھا ہوا یہ لاش بھی دفن ہو گئی۔ ‘‘
آنکھوں تک آنسوآئے  اور لرز کر رہ گئے۔ انھیں  پلکوں  کی دھارا پر ابھی کرتب دکھانے  کی ضرورت نہیں  ہے۔ معلوم نہیں  ان کے  اشتعال کی کب ضرورت پڑ جائے، بے  مصرف کچھ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔ خواہ وہ آنسوٗ ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ ہوا کتنی بُری ہے، آنکھوں میں اِس طرح چُبھ رہی ہے  کہ پانی آ گیا۔ خیر کوئی بات نہیں۔ آنسو بھی تو پانی ہیں۔ لیکن کچھ بار بار حلق میں  اٹکتا ہوا ساکیوں  محسوس ہو رہا ہے ؟
’’روزی اس طرح بات بات میں  روٹھ جانے  سے  کیا فائدہ۔ ‘‘
ایک ہی پوشاک میں، ایک ہی کمرہ میں، ایک ہی صوفہ پر بیٹھے  ہوئے  ایک ہی رسالہ کوئی کب تک پڑھتا رہے!طبیعت اُوب جاتی ہے۔ ہر رسالہ ہر مہینے  نئے  مواد، نئے  مضامین اور نئے  گٹ اَپ کے  ساتھ شائع ہوتا رہتا ہے۔ آج شام پھر ایک نیا لوک ناچ ہے۔ روز روز وہی مغربی اودھم بازی یا مشرقی ٹھسّے  بھی تو اچّھے  نہیں  لگتے۔ ہلکے  گندمی رنگ کی سیال آگ۔ پیمانہ لئے  ہوئے  وہ اس کے  قریب آیا۔ 
’’میں  کل آپ کی طرف گئی تھی۔ ‘‘
’’معاف کیجئے۔ مُجھے  پہلے  سے  معلوم نہ تھا ورنہ میں  گھر پر ہی ملتا۔ ‘‘
’’غلطی میری تھی۔ بس یوں ہی دل چاہا۔ چلی گئی۔ ‘‘
’’خیر، آج رات میرے  ساتھ چلئے۔ ‘‘
’’بہت اچّھا۔ ‘‘
’’کوئی خاص کام تھا؟‘‘
’’جی ہاں!‘‘
’’کیا کام تھا؟‘‘
’’گھر پر ہی بتاؤں گی۔ ‘‘
’’سناآپ سرخ ساری میں  بری گلنارسی لگ رہی تھیں۔ ‘‘
نظریں  اُٹھا کر اُس نے  جھکا لیں۔ اس انداز پر بہت سے  دل اپنی بستیاں  اُجاڑ دیتے  ہیں۔ وہ زیرِ لب مسکرائی۔ یہ مسکراہٹ پیار کی ایسی تھپکی ہوتی ہے  جسے  جذبات کی آغوش ہی پناہ دیتی ہے۔ لیکن اس میٹھے  لمحے  جب کسی موڑ پر وہی ہیولا پھر اُبھرتا ہے  تو اعصاب حقارت سے  تن جاتے  ہیں۔ نفرت کے  ساتھ پیشانی پر شکنیں اُبھر آتی ہیں۔ چنگاریاں  چھوٹتی ہیں۔ خرمن جل جاتا ہے۔ اندھیرے  میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں  دیتا۔ 
’’آخراس طرح تم کیوں میری جان کو چپک گئے  ہو!‘‘
’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘
’’چھوڑ دو تم میرا پیچھا۔ ‘‘
پھر وہ ایک تاریک گلی میں  مڑ گیا، اور ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے  غائب ہو گیا۔ اُس وقت وہ بے  حد افسردہ تھا، اُس کی چال میں  مایوسی کی تھکن تھی۔ اس نے  مڑ کر بھی نہیں  دیکھا، بس صرف اس کے  خشک بال ہوا کے   بے  مہر جھونکوں  سے  منتشر ہو گئے  تھے۔ میز پر رکھے  ہوئے  گلاس اور پیمانے  جھنکار کے  ساتھ لرزے، ٹکرائے  اور گر کر ٹوٹ گئے۔ اس نے  طنز بھری مسکراہٹ کی لذّت محسوس کرتے  ہوئے  سوچا۔ 
’’تمہارا مصرف ختم ہو چکا۔ اب تمہاری ضرورت نہیں!‘‘
ہونٹوں کی سرخی پگھل کر رخساروں میں رچ گئی۔ 
اُس نے  ذرا گردن جھکا کر دیکھا۔ سینے  کے  فشار پر سیاہ تل اور بھی سیاہ ہو گیا تھا، اس نے  کہا تھا وہ اسے  اس کی ہمیشہ ہمیشہ قائم و باقی رہنے  والی یاد تصوّر کرے۔ لیکن ایک جامد اور بے  حس نقطہ میں وہ سربستہ مضامین پڑھنے  کی قائل نہ تھی۔ چنانچہ اس  نشانی پر اس نے  فراموش گاری کا پردہ ڈال دیا، اور ہمیشہ ہر نئی آنکھ کے  تل میں اپنی سحرانگیزتصویردیکھتی رہی۔ پھر یہ تصویر رقص کرتے  کرتے  دھندلانے  لگی۔ وقت کا مسافر اُس کے  صبیح و ملیح چہرے  پر لا تعداد پگڈنڈیاں بنا کر گزر گیا۔ ان پامال پگڈنڈیوں پر چلتے  چلتے  طبیعت اتنی اکتا چکی تھی کہ وہ آنکھیں جن کی پتلیوں  کے  تِل میں وہ اپنا دل فریب عکس دیکھا کرتی تھی۔ انھوں نے  اپنی راہ بدل دی اور نئی وادیوں میں کھو گئیں۔ وہی ایک نقطہ/نمو کے  تصوّر میں صامت/فرازِ تمنّاسے  چمٹا ہوا/فشارِسکوں میں ہے  گُم!۔ ۔ ۔ مگر اب اُسے  کوئی تلاش نہیں  کرتا۔ وہ کسی کی نشانی نہ رہا۔ اس کا مصرف ختم ہو گیا!۔ 
’’تواب مِس روزی تمہارا مصرف بھی کچھ نہ رہا۔ ‘‘
اس کا دل بیٹھنے  لگا۔ 
’’تمہاراجسم تھک چکا ہے، تم شل ہو چکی ہو۔ ‘‘
جیسے  کسی نے  عضو عضو سے  جان کھینچ لی ہو۔ 
وقت نے  اپنے  چہرے  پر سے  ایک اور نقاب اُتار دی۔ ویران چٹیل میدان، تپتی ہوئی پگڈنڈیاں، خاردار جھاڑیاں، چاروں   کھونٹ موت کاسا سکوت اور وہاں  اسے  دور دور تک بجھتی ہوئی آنکھوں سے  کسی کا بھی سایہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اب اس آخری منزل پر، اس بے  آب و گیاہ صحرا میں  وہ کیا ڈھونڈے  اور کیا پائے ؟ اس کی سمجھ میں  کچھ بھی نہیں  آ رہا تھا۔ 
’’یہ گلاس خالی ہو گیا؟‘‘
’’جی!‘‘
’’اسے  پھینک دو، اس میں  سے  کھٹّی کھٹّی بُو آ رہی ہے۔ ‘‘
اس کا گلا رندھ گیا۔ دل چاہا کہ وہ رو دے۔ 
’’کیاسوچ رہی ہو؟‘‘
پلکوں  سے  ٹپ ٹپ قطرے  ٹپکنے  لگے۔ پانی؟۔ نہیں آنس!۔ کاش انھیں  کسی طرح سنبھال کر ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے  محفوظ رکھاجاسکتا۔ لیکن یہ سب جذبات کی دہکتی ہوئی بھٹّی میں بھاپ بن کراڑ گئے  اور وقت کی چلچلاتی دھُوپ میں  بانجھ زندگی سراب بن کر رہ گئی۔ پھر وہ اندھیری گلیوں میں  کھو گیا۔ اس کے  خشک بال ہوا کے  جھونکوں سے  منتشر ہو رہے  تھے۔ اس نے  مڑ کر نہیں  دیکھا۔ مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ نہیں  دیکھا!۔ وہ پھپھک کر روپڑی۔ اس نے  اندھیرے  میں  اپنے  بازو پھیلا دیے۔ اچّھاتوپھراندرسے  باہر کی طرف واپس آ جاؤ۔ دیکھو یہاں بھی ہر طرف اندھیرا ہے۔ کچھ بھی تو نظر نہیں آتا۔ جو کچھ تم نے  خود کھو دیا اسے  تلاش بھی کرو تو کہاں  ملے  گا۔ کھڑکی بند کر دو۔ پردہ کھینچ دو۔ زندگی کا یہ باب بھی ختم ہو چکا۔ سوجاؤ!
						(۱۹۸۰ء)
 ()٭()٭()٭()٭()٭()
تشکر: رضیہ مشکور اور صہیب صدیقی، ’علی گڑھ اردو کلب‘ یاہو گروپ
جملہ حقوق محفوظ۔ مشروط اجازت کے ساتھ، اس کتاب کو اسی یا کسی اور شکل میں تقسیم نہ کیا جائے۔
ان پیج سے تبدیلی ، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید 