﻿
دربھنگے  کا جو ذکر کیا
زندگی کے  سفر کی ایک منزل
شکیل الرّحمن


DARBHANGE KA JO ZIKR KIYA
By
SHAKEELUR REHMAN
2004
 ©    جملہ حقوق بحق عصمت شکیل محفوظ
مدھوبن، A-267، ساؤتھ سٹی،گوڑگاؤں۔ 122001(ہریانہ)


 ’’میں  نے  اُس وقت اپنے  فرائض انجام دیے 
جب دوسرے 
اس راہ میں  قدم اُٹھانے  کا حوصلہ نہیں  رکھتے  تھے 
اُن میں  جرأت کب تھی!
میں  اُس وقت سر اُٹھائے  سامنے  آیا جب دوسرے  اِدھر اُدھر چھپے  ہوئے  تھے 
میں  نے  اُس وقت زبان کھولی جب سب کی زبان بند تھی
اگرچہ
میری آواز سب سے  دھیمی تھی
لیکن
آگے  چلنے  میں، میں  سب سے  آگے  تھا!!‘‘  
										۔۔۔۔۔۔ حضرت علیؓ


کسے  کہ کشتہ نہ شد از قبیلۂ مانیست
جس شخص نے  کہ جان نہیں  دی جو قتل نہ ہوا وہ ہمارے  قبیلہ کا نہیں  ہے!!
مشتاق احمد نوری
کے  
نام
تم نے  دباؤ ڈالا نہ ہوتا تو یہ صفحات 
لکھے  کب جاتے 
									۔۔۔۔۔ بابا سائیں 


 ’’جب بھی منصور کے  بارے  میں  سوچتا ہوں  آنکھوں  کے  سامنے  ایک تصویر آ جاتی ہے۔ منصور رقص کرتے  ہوئے  جانبِ دار بڑھ رہے  ہیں!
مجھے  اس تصویر یا متحرّک منظر سے  ہمیشہ مسرّت  اور  آسودگی حاصل ہوتی رہی ہے اور زندگی کا بنیادی سبق ملتا رہا ہے!‘‘  
میں  سرو (Cypress) کی طرح رہا ہوں، اُس درخت کی طرح جو ہمیشہ سرسبز رہتا ہے اور جس کے  پتے ّ خوبصورت ہوتے  ہیں۔ 
بڑھتا گیا ہوں اور ہوا، طوفان، سورج  اور  بادلوں  سے  بہت پریشان بھی رہا ہوں، بہت تکلیف اُٹھائی ہے 
لیکن اس سے  فائدہ بھی ہوا ہے 
تجربہ کار ہوتا گیا ہوں 
ہر قسم کے  موسم کو برداشت کرتے  کرتے  تجربوں  میں  اضافہ ہوتا گیا ہے 
مجھے  یقین ہے 
میری موت کے  بعد بھی اس درخت کے  جوہر کام آئیں  گے۔‘‘  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکیل الرحمن			


 ’’غالباً میری سب سے  بڑی کمزوری یہ ہے  کہ ذمہ دارانہ عہدوں  پر اکثر سقراط بن جاتا ہوں اور زہر کا پیالہ بخوشی پی جاتا ہوں۔‘‘  
 ’’میں  نے  سانڈوں  کی سینگوں  کو ہمیشہ سامنے  سے  پکڑا، کبھی شکست ہوئی بھی تو میری ہی فتح کا نقاّرہ بجا۔‘‘  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکیل الرحمن			


غالبؔ بہ عالمے  کہ توای خونِ دل بنوش
از بہرِ بارہ برگ و نوا بودہ است شرط
غالب تو جس عالم کیفیت میں  ہے  اس میں  اپنا خونِ دل پی، کیونکہ شراب پینے  کے  لیے  عیش و نشاط کا ہونا ہمیشہ ضروری رہا ہے۔ 
	میں  جس ’عالمِ کیف‘ میں  تھا اس میں  خونِ جگر ہی پیتا رہا ہے  شراب پینے  کے  لیے  جس سامانِ عیش و نشاط کی ضرورت تھی وہ کب موجود تھا!
۱۸ دسمبر ۱۹۸۷ء
	للت نارائن . یونیورسٹی کے  وائس چانسلر کی حیثیت سے  .کی سرزمین پر قدم رکھا، اس سے  قبل بہار یونیورسٹی کے  وائس چانسلر کی حیثیت سے  کام کر چکا تھا لہٰذا اس علاقے  سے  بھی بہت حد تک واقف تھا۔ .تصویر کا ری سے  دلچسپی تھی  اور  اس علاقے  کے  بعض عوامی قصوں اور لوک کہانیوں  سے  بھی واقف تھا، فرق صرف یہ تھا کہ میرا تعلق بھوجپوری علاقے  (چمپارن) سے  تھا  اور  یہ لوگ میتھلی بولتے  تھے، میتھلی بھی ایک پیاری زبان ہے  کہ جسے  بنگلہ کی بنیاد تصوّر کیا جاتا ہے، اس زبان میں  کئی اہم شعرا نے  جنم لیا ہے۔ 
	اُس وقت بہار میں  کانگریس کی حکومت تھی  اور  شری بندیشوری دوبے  وزیرِ اعلیٰ تھے۔ شری ونکٹ سبھیا گورنر تھے، میرے  چانسلر جن کے  بلاوے  پر میں  آیا تھا۔ 
	 جب بہار یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا تھا اُس وقت جنتا پارٹی کی حکومت تھی  اور  شری کرپوری ٹھا کر وزیر اعلیٰ تھے۔ ۱۹۸۰ء میں  جب بہار یونیورسٹی سے  استعفیٰ دیا تھا کانگریس کی حکومت بس آنے  والی تھی  اور  جگن ناتھ مشر وزیر اعلیٰ بننے  والے  تھے۔ اخلاق الرحمن قدوائی گورنر بن چکے  تھے اور کانگریس کی حکومت بننے  سے  قبل ہی وہ جگن ناتھ مشر  اور  کانگریس کی ہر بات مان کر کام کر نے  لگے  تھے۔ تعلیمی اقدار  اور  پاک صاف امتحانات پر تقریریں  کر نے  والے  قدوائی صاحب نظامِ تعلیم کو جیسے  قطعی بھول چکے  تھے۔ کانگریس کی حکومت کے  آنے  کے  بعد بھی گورنر کی حیثیت سے  رہنا چاہتے  تھے  لہٰذا کانگریس کی حکومت کی تشکیل سے  قبل سنجے  گاندھی کے  مشورے  پر عمل کر کے  سب سے  پہلے  بہار کی تمام یونیورسٹیوں  کے  وائس چانسلروں  کو ہٹا دیا جیسے  یہ وائس چانسلر کانگریس کے  دشمن تھے۔ کانگریس کی آمد آمد تھی  اور  یہ پہلا کارنامہ انجام دیا گیا۔ پہلا حملہ یونیورسٹیوں  پر ہوا یہ سمجھئے  نظامِ تعلیم پر ہوا، چونکہ مجھے  اس ناپاک سازش کی خبر پہلے  مل چکی تھی اس لیے  میں  نے  ایک دن قبل اپنا استعفیٰ چانسلر کو بھیج دیا تھا  اور  پریس کانفرنس کر کے  بتا دیا تھا کہ کیا ہونے  جا رہا ہے۔ دوسری صبح بچارے  وائس چانسلروں  کے  ساتھ بڑی زیادتی ہوئی۔ انھیں  استعفیٰ دینے  کو بھی نہیں  کہا گیا بلکہ ایک حکم کے  تحت انھیں  ہٹا کر علاقوں  کے  کمشنروں  کو وائس چانسلر بنا دیا گیا، دُکھ ہوا کہ یونیورسٹیوں  کے  چانسلر  اور  پروفیسر ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی نے  اخلاقی اقدار کو بھی پیشِ نظر نہ رکھا، علمی  اور  تعلیمی اقدار کا تقاضا تھا کہ ہر وائس چانسلر سے  استعفیٰ دینے  کو کہا جاتا۔ 
	کانگریس کی حکومت کے  آنے  سے  قبل سنجے  گاندھی پٹنہ آئے  تھے، جگن ناتھ مشر کے  اصرار پر اُنھوں  نے  گورنر قدوائی سے  یہ کہا تھا کہ آپ پہلے  یونیورسٹیوں  کے  وائس چانسلر ہٹا دیجیے، چانسلر نے  سنجے  گاندھی کے  حکم کی تعمیل کی (یہ بات خود اخلاق الرحمن قدوائی صاحب نے  مجھے  بتائی تھی) میں  سمجھتا ہوں  کہ جو ہوا وہ میری وجہ سے  ہوا، وائس چانسلر ہٹائے  جاتے  لیکن یہ نہ ہوتا کہ ابھی کانگریس کی حکومت آئی نہیں اور وائس چانسلروں  کو اس طرح ہٹا دیا جاتا، انھیں  استعفیٰ پیش کر نے  کا وقت بھی دیا نہ جاتا، میری نظر میں  یہ گورنر صاحب بہادر کے  ایڈمنسٹریشن کی بہت بڑی بد اخلاقی تھی، اخلاق الرحمن کانگریس کی حکومت میں  بھی گورنر بنے  رہنے  کی لالچ میں  ایسی ’’بد اخلاقی‘‘  کی سطح پر آ گئے، کہہ سکتے  تھے  ٹھیک ہے  کانگریس کی حکومت آ جائے  اس کے  بعد انھیں  ہٹا دوں  گا۔ اُن میں  یہ حوصلہ کب تھا، یہ جرأت کب تھی، پہلی بار محسوس ہوا گورنر تو گورنر ’چانسلر‘  بھی ’’کھیل‘‘  شروع ہونے  سے  قبل ’’کھلونا‘‘  بن سکتا ہے  (یہی وہ اخلاق الرحمن صاحب قدوائی ہیں  کہ جو دہلی میں  مجھ جیسے  سابق مرکزی وزیر کی رہائش گاہ موتی لال نہرو مارگ پر بار بار آئے  تاکہ میں  اُن کی گورنر شپ (دوسری بار) کے  لیے  نرسمہا راؤ سے  سفارش کر سکوں، میں  کانگریس میں  شامل ہو چکا تھا، نرسمہا راؤ وزیر اعظم بن چکے  تھے، اُن کی دوسری بار کی گورنر شپ کی سفارش میں  میں  ہی پیش پیش تھا)۔ 
	دراصل جگن ناتھ مشر مجھ سے  خفا تھے، وزیرِ اعلیٰ بننے  سے  قبل ہی مجھے  ہٹا دینا چاہتے  تھے، صرف مجھے  ہٹا دینا آسان نہ تھا اس لیے  کہ طلبہ  اور  عوام میں  میری مقبولیت بڑھی ہوئی تھی، کانگریس حکومت شروع کر نے  سے  قبل ہی بدنام ہو جاتی لہٰذا انھوں  نے  سازش یہ کی کہ تمام وائس چانسلروں  کو ایک ساتھ ہی ہٹا دیا جائے۔ 
	میں  نے  کہا ہے  کہ جگن ناتھ مشر مجھ سے  خفا تھے، سبب کیا تھا؟ وہ للت نارائن انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ مظفر پور کے  چیئرمین تھے، میں  نے  گرانٹ جاری کر نے  سے  قبل اُن کے  اس ادارے  کا معائنہ کیا تھا  اور  وہ کاغذات ضبط کر لیے  تھے  کہ جن سے  لاکھوں  روپوں  کی ہیرا پھیری کا صاف علم ہوتا تھا، افسوس ناک  اور  حیرت کی بات یہ تھی کہ ایسے  کاغذات پر کار روائی کر نے اور فیصلے  کر نے  کے  سارے  اختیارات بہار کی 
یونیورسٹیوں  کے  وائس چانسلر سے  لے  لیے  گئے  تھے، چانسلر ہی کار روائی کر سکتے  تھے  لہٰذا میں  نے  اپنے  مفصل خط کے  ساتھ یہ کاغذات اُسی شب راج بھون بھجوا دِیے  اس لیے  کہ یقین تھا کہ جگن ناتھ مشر کو اب تک میری کار روائی کی خبر مل چکی ہو گی  اور  وہ میرے  پاس یقیناً تشریف لائیں  گے۔۔۔  اور  وہ تشریف لے  آئے، رات کے  دو بجے  وائس چانسلر کی کوٹھی پر پہنچ گئے، میں  سو رہا تھا جگایا گیا، نیچے  آیا تو مشر جی پیار سے  لپٹ گئے، ہنستے  رہے، قہقہے  لگاتے  رہے، کہنے  لگے  وائس چانسلر صاحب معاف کیجیے  اتنی رات گئے  آپ کے  پاس پہنچ گیا، سیاستدانوں  کا کیا، اُن کی صبح کیا شام کیا، میں  نے  کہا مشر جی، پہلی بات تو یہ کہ میں  سیاستداں  نہیں  ہوں، دن بھر تھک جاتا ہوں  تو شب میں  سو لیتا ہوں، دوسری بات یہ کہ آپ بھی صرف سیاستداں  نہیں  ہیں، میری یونیورسٹی کے  ٹیچر ہیں، یہاں  سے  آپ نے  ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ہے، ابھی چند دوسرے  لکچرار کے  ساتھ آپ ریڈر بنے  ہیں، میں  بھی ایک ٹیچر ہوں  مشر جی، وائس چانسلر کی حیثیت سے  کام کر رہا ہوں، کام بہت ہے  تھک جاتا ہوں، فرمائیے  اتنی رات کو کس طرح آنا ہوا؟ خیر تو ہے؟جگن ناتھ مشر نے  کہا ’’مجھے  افسوس ہے  کہ آپ کو زحمت دی۔ میں  آپ کو اپنا دوست سمجھتا ہوں  انسٹی ٹیوٹ کے  کاغذات واپس کر دیجیے، غلطیاں  دور کر دی جائیں  گی۔‘‘  
	اُس وقت تک کافی آ چکی تھی، مشر جی کافی اُٹھانے  والے  ہی تھے  کہ میں  نے  اُنھیں  سچی بات بتا دی ’’مشر جی مجھے  افسوس ہے  کہ آپ کے  کاغذات درست نہ تھے، لاکھوں  روپوں  کی ہیرا پھیری ہوئی ہے، میں  با اختیار ہوتا تو اب تک کار روائی کر چکا ہوتا، وائس چانسلر کے  تمام اختیارات چانسلر کو سونپ دِیے  گئے  ہیں  لہٰذا ظاہر ہے  چانسلر ہی کار روائی کریں  گے۔ میں  نے  کاغذات راج بھون بھجوا دِیے  ہیں  معاملہ چانسلر کے  پاس ہے  میرے  پاس نہیں  ہے، معاف کیجیے، یہ معاملہ کرپشن کا ہے، آپ کو خود دیکھنا چاہیے  ایسا کیوں  ہوا۔‘‘  
	مشر جی کے  پاؤں  تلے  جیسے  زمین کھسک گئی ہو اُنھوں  نے  پیالی رکھ دی، ایک گھونٹ بھی کافی نہیں  پی، کھڑے  ہو گئے اور اپنی مسکراہٹوں اور قہقہوں  کو سمیٹے  اندھیرے  میں  گم ہو گئے۔ 
	راج بھون میں  کیا ہوا کچھ معلوم نہیں  البتہ اس بات کا علم ضرور ہے  کہ جگن ناتھ مشر قدوائی صاحب سے  ملے  تھے، کاغذات جو کرپشن کے  تھے  وہیں  راج بھون میں  دھنس گئے، کسی کو پتہ نہیں  وہ کاغذات میرے  خط کے  ساتھ کہاں  گئے، کوئی کار روائی ہوئی ہوتی تو خبر ملتی، ایک خبر یہ ملی کہ جگن ناتھ مشر وہ کاغذات لے  کر چلے  گئے  راج بھون کرپشن کے  ایسے  کاغذات سے  پاک صاف ہو گیا۔ 
	ایک بار چانسلر سے  ملنے  راج بھون گیا تو میٹنگ روم کے  ایک ٹیبل پر جگن ناتھ مشر کی تصویر سجی ہوئی تھی۔۔۔ اُس وقت تک جگن ناتھ وزیرِ اعلیٰ نہیں  ہوئے  تھے، ہونے  والے  تھے  کسی  اور  گورنر کے  کمرے  میں  ’’ہونے  والے  وزیرِ اعلیٰ‘‘  کی ایسی بڑی تصویر لگی ہو مجھے  اس کا علم نہیں۔ 
	چند دِنوں  بعد جگن ناتھ مشر اپنے  ایک جگری دوست  اور  بہار یونیورسٹی کے  ایک سابق وائس چانسلر شری منڈل کے  ساتھ اچانک بہار یونیورسٹی آئے، مجھے  خبر نہیں  دی  اور  یونیورسٹی کے  ملازمین کو اکٹھا کر کے  تقریر کی کہ کانگریس کی سرکار کو آنے  دیجیے  شکیل الرحمن وائس چانسلر نہیں  رہیں  گے۔ ۱؂
	ابھی کانگریس کی حکومت بنی نہ تھی کہ سنجے  گاندھی نے  یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ جگن ناتھ مشر ہی وزیرِ اعلیٰ ہوں  گے، سنجے  گاندھی پر دباؤ ڈالا گیا چانسلر سے  کہا گیا کہ شکیل الرحمن کو ہٹا دیا جائے، سنجے  گاندھی نے  اخلاق الرحمن قدوائی سے  بات کی  اور  فیصلہ یہ ہوا کہ تمام وائس چانسلروں  کو برطرف کر دیا جائے، برطرفی سے  قبل میرا استعفیٰ چانسلر کے  پاس پہنچ چکا تھا نیز صبح کے  اخباروں  میں  میرے  پریس کانفرنس کی رپورٹ شائع ہو چکی تھی لہٰذا دوسرے  وائس چانسلر برطرف ہوئے اور میں  عزّت کے  ساتھ علیحدہ ہو گیا، چانسلر نے  فون پر کہا ’’آپ ایک ماہ  اور  رہ جائیے، آپ اسی 
طرح رہیں  گے  کہ جس طرح آپ رہتے  تھے۔‘‘  میں  نے  انکار کر دیا  اور  مئی کے  مہینے  کی کڑکڑاتی دھوپ میں  کرایے  کا ایک شکستہ ’میٹا ڈور‘  لے  کر بیوی بچوّں  کے  ساتھ پٹنہ چلا آیا، کئی دِنوں  سے  مجھے  تیز بخار تھا، ’’بی کو لائی‘‘  کا علاج چل رہا تھا، پٹنہ پہنچ کر بخار  اور  بڑھ گیا، میری علالت سے  بیوی بچے ّ سب پریشان ہو گئے، پٹنہ میں  رہنے  کو کوئی جگہ نہ ملی تو ایک مہربان نے  رہنے  کے  لیے  ایک کوٹھری عنایت کر دی، ہم دو ماہ اس کوٹھری میں  رہے، اللہ کا شکر ادا کیا مالک نے  سر پر ایک چھت تو عنایت کی۔ 
	اب جو .یونیورسٹی آیا تو کانگریس کی حکومت تھی، شری بندیشوری دوبے  وزیرِ اعلیٰ تھے۔ آتے  ہی یونیورسٹی کے  کام میں  اُلجھ گیا، ملازمین ہڑتال پر تھے اور دوسرے  کئی اہم  اور  ضروری معاملات و مسائل سامنے  تھے، یہ محض اتفاق تھا کہ جب تک بندیشوری دوبے  وزیرِ اعلیٰ رہے  اُن سے  میری ملاقات نہ ہو سکی، للت نارائن .ا یونیورسٹی سے  میری آمد سے  جگن ناتھ مشر کو بڑی پریشانی تھی، وہ اس یونیورسٹی کو اپنی ملکیت یا زمینداری سمجھتے  تھے، اس بڑے  تعلیمی ادارے  کی بربادی میں  ابتداء سے  اُن کا ہاتھ زیادہ رہا ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ میری تقرری کے  معاملے  میں  چانسلر    پی۔ سی۔ ونکٹ سبھیا جی نے  پٹنہ میں  کسی سے  مشورہ نہیں  کیا تھا، وزیر اعلیٰ کو بھی یہ کہتے  ہوئے  سنا گیا کہ انھیں  اس تقرری کی خبر نہ تھی، مشر جی دُکھی  اور  پریشان  اور  بہت حد تک بے  چین تھے۔ انھوں  نے  کئی لوگوں  کو دلّی فون کیا، ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی سابق گورنر بہار سے  بھی فون پر بات کی، دریافت کیا شکیل الرحمن کا تقرر کس طرح ہوا۔ (یہ بات خود اخلاق الرحمن قدوائی صاحب نے  مجھے  بتائی تھی) . یونیورسٹی کو ایک جانب جگن ناتھ مشر  اور  دوسری جانب وزیرِ تعلیم ناگندر جھا اپنی ملکیت یا زمینداری سمجھ رہے  تھے۔ وزیرِ تعلیم بھی جھنجھلائے  ہوئے  تھے  کہ چانسلر نے  میری تقرری کے  سلسلے  میں  اُن سے  بات چیت کیوں  نہیں  کی۔ ایک وائس چانسلر کا تقرر ہو جائے اور حکومت  اور  حکومت کے  وزیرِ تعلیم کو خبر نہ ہو یہ اَنہونی بات کیسے  ہو گئی۔ واقعی یہ اب تک راز ہی ہے۔ 
	حکومت کی سفارش پر ہی چانسلر یونیورسٹیوں  میں  وائس چانسلر کا تقرر کرتے  ہیں، شری پی۔ سی۔ ونکٹ سبھیا گورنر تھے  چانسلر تھے۔ اُنھوں  نے  غالباً میرے  تعلق سے  حکومت سے  مشورہ نہیں  کیا تھا، میں  نے  صرف اُن کا نام ہی سنا تھا اُن سے  ملا نہ تھا، جب بہار آیا تب ہی اُن کا نیاز حاصل ہوا، میں  نے  اپنے  چانسلر سے  ایک رابطہ قائم کر رکھا تھا، چاہتا تھا کہ سیاسی عمل دخل سے  یونیورسٹی کا ماحول  اور  برباد نہ ہو، ماحول میں  جو سیاست موجود تھی وہی میرے  لیے  ایک مصیبت تھی، شری ونکٹ سبھیا جب تک رہے  مجھے  عزیز رکھا اُنھیں  مجھ پر بڑا بھروسہ تھا، بہار یونیورسٹی (مظفر پور) میں  وائس چانسلر کی حیثیت سے  میرے  کام کی کچھ خبر رکھے  تھے  مثلاً یہ کہ میں  نے  اپنے  دور میں  امتحانات سے  نقل نویسی ختم کر دی، یونیورسٹی میں  ذات پات کے  بھید بھاؤ ختم کیے، ہوسٹلوں  سے  غنڈہ گردی ختم کر کے  طلبہ  اور  اساتذہ کے  مفاد کو عزیز رکھا، اُس وقت کے  وزیرِ اعلیٰ کرپوری ٹھا کر کی بات نہ مان کر بی۔ اے  (آنرز)کے  امتحانات کا ایک ہی مرکز بنا دیا، دور دراز علاقوں  کے  طلبہ میری بات مان کر  اور  صاف ستھرے  امتحانات کی اہمیت کو سمجھتے  ہوئے  مظفر پور آئے، تکلیف اُٹھائی لیکن امتحانات میں  شریک ہوئے۔ نیشنل پریس نے  بھی میرے  کام کی بہت تعریف کی، اداریے  لکھے  گئے، بہار کے  ہر طبقے  کے  لوگ مجھ سے  خوش تھے، بہار یونیورسٹی میں  مجھے  ’’اتہاس  پرش‘‘  بھی کہا گیا  اور  ’’اتہاس رچیتا‘‘  بھی۔ جب تک چانسلر رہے  میں  نے  ایک آزاد فضا میں  کام کیا، چانسلر کی حیثیت سے  شری ونکٹ سبھیا نے  مجھ پر کسی قسم کی کوئی پابندی عاید نہ کی۔ جب چاہتا اُن سے  مل لیتا  اور  مشورے  کر لیتا، وہ . یونیورسٹی کے  حالات سے  واقف تھے  لہٰذا اُن کی خواہش تھی کہ بس میں  اس یونیورسٹی کو درست کر دوں، ایک مثالی یونیورسٹی بنا دوں۔ جب میں  پہلی بار ملا تو اُن کا شکریہ ادا کرتے  ہوئے  کہا ’’آپ کا شکریہ کہ آپ نے  مجھے  ایک بار پھر موقع دیا کہ بہار  اور  نظامِ تعلیم کی کچھ خدمت کر سکوں  لیکن ایسا تو نہیں  کہ خدانخواستہ اس بار بھی چانسلر سے  غلطی سرزد ہو گئی ہو۔‘‘  حیرت سے  پوچھا ’’کیسی غلطی؟‘‘  پھر میں  نے  اُنھیں  بہار یونیورسٹی میں  اپنے  دور کی کہانی سنائی، سنجے  گاندھی  اور  جگن ناتھ مشر کی باتیں  بھی سنائیں، میں  نے  کہا ’’بہار یونیورسٹی میں  وائس چانسلر حکومت کا بندھوا مزدور ہوتا ہے، آپ کے  رہتے  ہوئے  ممکن ہے  وائس چانسلر ٹکے  رہیں  لیکن آپ کے  جاتے  ہی سب چلے  جائیں  گے۔‘‘  میری باتیں  سن کر میرے  درد کو غالباً پہچان گئے  تھے، تروپتی کے  دیوتا کی ایک دیو قامت مورت کے  سامنے  صوفے  پر بیٹھتے  تھے اور ہر وقت اُس مورت پر نظر جمائے  رہتے  تھے  کہا: ’’شکیل الرحمن جو درد تمھارا ہے  وہ ہم سب کا ہے، دیس میں  ایک یونیورسٹی بھی بیمار ہو جائے  تو نقصان دیش کا ہوتا ہے، مالک پر بھروسہ رکھو، کام کرتے  رہو اس بار وہ تمھیں  ضائع ہونے  نہ دے  گا!‘‘  
	جب . یونیورسٹی میں  بھی امتحانات درست کیے اور میرے  انقلابی اقدام کی شہرت پھیلی تو میتھلی، اُردو  اور  ہندی زبانوں  میں  گیت لکھے  گئے۔ شکیل الرحمن کو ’’سیکولر رحمن‘‘  کہا جانے  لگا (مجھے  دربھنگہ کے  لوگوں  نے  ایک نام بخشا جو مجھے  بے  حد عزیز ہے ) تو چانسلر بے  حد خوش ہوئے اور میرے  سرپر ہاتھ رکھ کر مجھے  دُعائیں  دیں۔ 
	غالبؔ نے  کہا تھا:
ہَوا مخالف و شب تار و بحر طوفاں  خیز
 گسِستہ لنگرِ کشتی و ناخدا خفتہ ست
یعنی ہوا اُلٹی چل رہی ہے، رات تاریک ہے، سمندر میں  طوفانی لہریں  اُٹھ رہی ہیں۔ کشتی کا لنگر ٹوٹ چکا ہے اور ’’امیرالبحر‘‘  سو رہا ہے۔ 
	یہی حال تھا، ہوا مخالف تھی، رات اندھیری تھی، طوفانی لہریں  اُٹھ رہی تھیں، کشتی کا لنگر ہی جیسے  ٹوٹ گیا ہو  اور  امیرالبحر (حکومت) سو رہا تھا۔ 
	ایسی صورت میں  کشتی کو کنارے  پر لانا آسان نہ تھا لیکن مالک کا کرم دیکھئے  کشتی کو کنارے  پر لے  ہی آیا؟!
	فروری ۱۹۸۸ء میں  نئی دہلی میں  اچانک یہ فیصلہ ہوا کہ بھگوت جھا آزاد کو بہار کا وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔ آزاد مکھ منتری بنے، طنطنہ دکھایا، کرپشن کے  خلاف تن کر کھڑے  ہونے  کا اعلان کیا۔ ڈسپلن، دانشوری، بہتر نظامِ زندگی  اور  اعلیٰ تعلیمی معیار پر تقریریں  کر نے  لگے۔ میں  خوش تھا اس لیے  کہ یونیورسٹی میں  کرپشن کے  خلاف ایک لڑائی میں  بھی لڑرہا تھا، میں  بھی یونیورسٹی کو ایک صاف ستھرا انتظامیہ دینا چاہتا تھا، میری کوشش بھی تھی کہ تعلیم کا بہتر انتظام ہو، بچوّں  کی مناسب ذہنی تربیت ہو، شری آزاد کی تقریروں اور اُن کے  بیانات سے  یہ ظاہر ہوتا رہا کہ وہ صاف ستھرے  ذہن کے  شخص ہیں، مذہب  اور  ذات پات کا بھید بھاؤ پسند نہیں  کرتے، اُنھوں  نے  یہ ظاہر کیا کہ وہ سیاست، سماج، تعلیم سب کے  تعلق سے  واضح ’نظریہ‘  رکھتے  ہیں، بہار سے  ’’مافیاؤں‘‘  کو ختم کر کے  دَم لیں  گے، یونیورسٹیوں  کی آبرو بحال کریں  گے۔ ۱؂
	ہوا یہ کہ دیکھتے  ہی دیکھتے  وہ خود کئی ’’مافیاؤں‘‘  سے  وابستہ نظر آنے  لگے! اُن کے  آٹھ دس مکانوں، آٹھ دس گاڑیوں، زمین، جائداد وغیرہ کی تفصیلات آنے  لگیں۔ اُن کی جائداد  اور  دولت کا ذکر اسمبلی میں  بھی آیا  اور  پھر وہ ایسے  چپ ہوئے  کہ پتہ ہی نہ چلا سیاست، سماج  اور  تعلیم کے  نظریے  کہاں  گئے اور کرپشن  اور  یونیورسٹی کے  ’’مافیاؤں‘‘  کا معاملہ کہاں  گیا۔ کہتے  تھے  بہار کے  سیاست دانوں  کی جائداد کا حساب لیں  گے  دیکھئے  کیا ہوا خود اپنے  حساب کتاب کی پردہ پوشی کر نے  لگے، مجھے  یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ شخص خود ایک ’مافیا‘  کی صورت جانا پہچانا جا رہا ہے!
	جب بھاگوت جھا آزاد نے  ناگندر  جھا کو وزیر تعلیم کی حیثیت سے  اپنی کابینہ میں  شامل کیا تو بعض لوگوں  نے  مجھ سے  کہا آپ اُنھیں  مبارکباد دینے  پٹنہ نہیں  گئے۔ دوسرے  کئی وائس چانسلر ان کی کوٹھی پر حاضر تھے، میں  مسکرایا خاموش رہا لیکن جب اخباری نمائندے  نے  بار بار یہ سوال کیا تو میں  نے  یہ کہا ’’ناگندر جھا . یونیوسٹی کے  ٹیچر ہیں، مجھے  خوشی ہوئی کہ میری یونیورسٹی کا ایک اُستاد وزیر تعلیم بنا ہے  ’’میں  اُن کا وائس چانسلر ہوں  انھیں  دربھنگہ آنا چاہیے اور میرا آشیرواد لینا چاہیے۔‘‘  
	دوسری صبح یہ خبر ایک ساتھ کئی اخباروں  میں  آ گئی، یہ کہا گیا کہ مجھے  وائس چانسلر کے  عہدے اور منصب کا مکمل خیال ہے، میں  بہار کے  نظامِ تعلیم کی آبرو ہوں!
	وزارت کی تشکیل کے  بعد ممکن ہے  بھاگوت جھا آزاد نے  بہار کی یونیورسٹیوں  کے  متعلق کچھ معلومات حاصل کی 
ہوں، کچھ سنا پڑھا ہو، ایسا ہوا دہلی سے  ایک صاحب تشریف لائے، دربھنگہ کے  قریب ہی کسی گاؤں  کے  رہنے  والے  تھے، دلّی میں  کاروبار تھا اُن کا۔ دھرمندر برہمچاری کے  چیلے اور بھاگوت جھا آزاد کے  دوست تھے، اُن کے  مطابق آزاد سے  اُن کی باتیں  دل کھول کر ہوا کرتی تھیں، اپنے  ایک کام سے  آئے  تھے اور میری مدد چاہتے  تھے، میری وجہ سے  اُن کا کام ہو گیا، جب تک دربھنگہ میں  رہے  مجھ سے  ملتے  رہے اور یہ فرماتے  رہے۔ ’’شری بھاگوت جھا ’آ جاد‘  (آزاد) جی آپ سے  بہت ’کھوس‘  (خوش ہیں ) آپ کے  بارے  میں  اُن کی رائے  بہت ا چھی ہے، جب بھی ملتے  ہیں  آپ کے  بارے  میں  جرور (ضرور) پوچھتے  ہیں، ناگندرجھا سے  ’ناکھوس‘  (ناخوش) ہیں۔ اُنھیں  اپنی منسٹری سے  ہٹادیں  گے۔ آپ کے  معالے  کو لے  کر تو سرکار بدنام ہو رہی ہے۔ ناگندرجی کے  ’کرپسن‘  (کرپشن) کی بات بہت پھیل گئی ہے۔‘‘  ایسی باتوں  کی تصدیق  اور  بھی ایسے  لوگوں  سے  ہوئی کہ جو بھاگوت جھا آزاد سے  ملتے  رہتے  تھے، وائس چانسلر کی حیثیت سے  دو مہینوں  میں  جو کام کیا تھا اس کا ذکر ہر جانب ہو رہا تھا، ’میڈیا‘  نے  میرے  کام کی خبر دُور دُور تک پہنچائی، دلّی والے  صاحب کی باتیں  سن کر اطمینان ہوتا، سمجھنے  لگا کہ راج سرکار کی جانب سے  مجھ پر کسی قسم کا دباؤ نہیں  پڑے  گا، آزادی سے  کام کر سکوں  گا، وزیر تعلیم  اور  ان سے  وابستہ ’’شریف لوگوں‘‘  کے  تماشے  ختم ہو جائیں۔ آزاد صاحب کے  متعلق میری رائے  بننے  لگی تھی۔‘‘  
	شری ونکٹ سبھیا گورنر بہار کرناٹک چلے  گئے، مجھے  دُکھ ہوا، وہی مجھے  یہاں  لائے  تھے، یقین دلایا تھا کہ اس بار میرے  کام میں  رکاوٹ پیدا نہ ہو گی، کسی قسم کی نا انصافی نہیں  ہو گی، یونیورسٹی کو سیاسی دباؤ سے  دُور رکھا جائے  گا، مجھ پر ان کی بڑی شفقت رہی تھی، مجھے  عزیز رکھا، میری تعریف کرتے، اُن کی وجہ سے  مجھے  بڑا اطمینان تھا، شری گوند نارائن سنگھ گورنر بن کر آئے، بڑے  خوش رہے  میرے  کام سے، جو بھی اُن سے  ملتا اس سے  میری تعریف کرتے۔ ایک ذاتی خط لکھ کر بھی میری تعریف کی  اور  بہار میں  تعلیم کے  گرتے  معیار پر تبصرہ کیا۔ سیاست داں  تھے  اس لیے  رفتہ رفتہ اپنا رنگ دِکھانے  لگے اور پھر وہ وقت آ گیا جب وہ مجھے  ’سیاست داں ‘  کہنے  لگے، ایک بار ملاقات ہوئی تو کہا ’’تم بہت بڑے  سیاست داں  ہو، سیاست دانوں  کے  گرو ہو۔‘‘  میری سمجھ میں  کچھ نہ آیا، جب میں  مرکز میں  کابینہ درجے  کا وزیر بنا تو شری گوند نارائن سنگھ نے  مجھے  فون کیا، کہا ’’مبارک ہو میں  نے  تم سے  کہا نہ تھا کہ تم سیاست داں  ہو، سیاست دانوں  کے  گروہو۔‘‘  میں  نے  شکریہ ادا کرتے  ہوئے  کہا ’’اس تعریف سے  اِس بار جتنی خوشی ہوئی ہے  اُس وقت نہیں  ہوئی تھی جب میں  وائس چانسلر تھا  اور  آپ میرے  چانسلر تھے۔ دربھنگے  کے  لوک سبھا الیکشن میں  میری فتح  اور  ناگندر جھا کی شکست، بھاگوت جھا آزاد  اور  آپ کی سازشوں  سے  بھری سیاست کی زبردست شکست ہے  اس بات کو مان لیجیے۔‘‘  غصّے  میں  اُنھوں  نے  فون بند کر دیا۔ ۱؂
	وزیر اعلیٰ ہونے  کے  بعد بھاگوت جھا آزاد دربھنگہ آئے  تو اُن سے  ملاقات نہ ہوئی، میں  نے  ’روایت‘  توڑ دی، وہ سرکاری دورے  پر آئے  تھے  لہٰذا ہوائی اڈّے  پر استقبال کے  لیے  ایک وائس چانسلر کا جانا ا چھا نہ لگا، روایت یہ رہی ہے  کہ وزیر اعلیٰ ہو یا کوئی وزیر، اس کے  استقبال کے  لیے  وائس چانسلر کا ایئرپورٹ پر رہنا ضروری ہے۔ وہ آئے، چند گھنٹے  رہے، افسروں  سے  بات چیت کی  اور  مدھوبنی چلے  گئے۔ وائس چانسلر سے  ملنا چاہتے  تو خبر بھجواتے۔ ایک ملاقات میں  جب اس واقعہ کا ذکر آیا تو اُنھیں  اپنے  خیال سے  متفق پایا، کہا ’’میں  بھی یہ بات پسند نہیں  کرتا، وائس چانسلر، کمشنر یا ضلع مجسٹریٹ نہیں  ہے  جو ہم لوگوں  کے  سامنے  ہاتھ باندھے  کھڑا رہے۔ تم وائس چانسلر ہو  اور  پھر ’’ٹیچر وائس چانسلر میں  تمھاری عزّت کرتا ہوں۔‘‘  


	بھاگوت جھا آزاد دوسری بار دربھنگہ آئے  تو وزیر تعلیم ناگندر جھا  اور  اُن کے  بعض چہیتوں  نے  اُنھیں  ایک مقامی کالج میں  بلایا، کہا گیا ’’دانشوروں  کی محفل ہے‘‘  اُس وقت تک میں  نے  وزیر تعلیم کو پروفیسر بننے  سے  روک دیا تھا یا یہ کہیے  اُنھیں  پروفیسر سے  ریڈر  اور  پھر لکچر ر بنا دیا تھا۔ اُن کے  غلط تحریری بیان کے  پیشِ نظر اُن سے  جواب طلب کیا تھا، پوچھا تھا جب آپ مسلسل سیاست میں  رہے  ایک دن بھی کالج میں  پڑھایا نہیں  پھر آپ کا تجربہ پچیس سال کا کیسے  ہو گیا؟ ناگندر جھا  
میتھلی  زبان کے  ٹیچر تھے، خیر سے  ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کر لی تھی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ پورے  بہار میں  میتھلی زبان و ادب کا شعبہ صرف .یونیورسٹی میں  تھا  اور  حضور نے  اپنا بیش قیمت تحقیقی مقالہ بھاگلپور یونیورسٹی میں  داخل کیا تھا کہ جہاں  اس زبان کا شعبہ موجود ہی نہ تھا، ہر جگہ میرے  فیصلے  کی تعریف ہو رہی تھی، ہر جگہ اس بات کا ذکر ہو رہا تھا، بسوں اور ٹرینوں  میں  لوگ اس موضوع پر گفتگو کر رہے  تھے، گاؤں  گاؤں  خبر پہنچ چکی تھی، ’’ایجوکیشن مافیا‘‘  کا ذکر جتنا اُس وقت ہوا شاید ہی کبھی ہوا ہو۔ اُسی زمانے  میں  میتھلی زبان کا ایک گیت مشہور ہوا کہ جس میں  مجھے  کرشن کا بارہواں  اوتار کہا گیا (اتفاق ہی تھا کہ میں  . یونیورسٹی کا بارہواں  وائس چانسلر تھا) عجیب بات تھی کہ میری یونیورسٹی کے  ایک کالج (سائنس کالج) میں  ’’دانشوروں‘‘  کا جلسہ ہو رہا تھا۔ وزیر اعلیٰ مدعو تھے اور مجھے  اطلاع نہیں  دی گئی، مجھے  دعوت نامہ بھی بھیجا نہ گیا، صدارت کا معاملہ پہلے  سے  طے  ہو چکا تھا، ایک ’’پروفیسر‘‘  صدارت کر نے  کے  لیے  بلائے  گئے  تھے۔ یہ شخص اپنے  فرقہ پرست ذہن کی نمائش بار بار کرتا رہا تھا، اس جلسے  میں  بھی خاموش نہ رہا، بھاگوت جھا آزاد کی موجودگی میں  کہا ’’یہ یونیورسٹی برہمنوں  کی ہے اور یہاں  وائس چانسلر  اور  پرو وائس چانسلر دونوں  مسلمان ہیں، یہ ظلم ہے  ہم برہمنوں  پر۔‘‘  
آزاد صاحب اطمینان سے  سنتے  رہے۔ اپنی تقریر میں  بھی کوئی جواب نہ دیا، لوگوں  نے  ہی تاثر لیا کہ وہ اس پروفیسر کے  ہر خیال سے  متفق ہیں، جب پٹنہ میں  بھاگوت جھا آزاد سے  ملاقات ہوئی تو میں  نے  کہا ’’دُکھ کی بات ہے  کہ آپ اُس جلسے  میں  موجود تھے اور اس پروفیسر نے  اس بے  حیائی سے  فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا، آپ کو جواب دینا چاہیے  تھا، آپ وزیر اعلیٰ تھے، کیا یہ یونیورسٹی کہ جس کا میں  وائس چانسلر ہوں  برہمنوں  کی ہے اور صرف برہمنوں  کی ہے؟  اگر  اتفاق سے  وائس چانسلر  اور  پرو وائس چانسلر مسلمان ہیں  تو کیا کسی کو کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچا ہے؟  اور  پھر ہمیں  بنایا کس نے  وائس چانسلر  اور  پرو وائس چانسلر؟ اپنی یونیورسٹی میں  آزاد صاحب میں  اس رجحان کو ابھر نے  نہیں  دوں  گا اس کے  لیے  مجھے  ملازمت سے  سبکدوش ہی کیوں  نہ ہونا پڑے، آپ کی پارٹی (کانگریس)  اور  حکومت سیکولرازم کی بات کرتی ہے   اور  آپ کی موجودگی میں  طلبہ  اور  پروفیسر کے  سامنے  ہندو مسلمان، برہمن مسلمان کی باتیں  کر کے  نفرت پھیلائی جاتی ہے۔‘‘  
	بھاگوت جھا آزاد کو اُمید نہ تھی کہ میں  اُن سے  اس طرح باتیں  کروں  گا، کہنے  لگے  ’’پروفیسر صاحب مجھے  جواب دینا چاہیے  تھا یاد نہ رہا۔‘‘  اُن کے  ایسے  جواب سے  سیکولر ملک کے  کانگریسی وزیر اعلیٰ کا قد اچانک میرے  سامنے  چھوٹا ہو گیا۔ 
	جس دن کالج میں  ’’دانشوروں‘‘  کا جلسہ ہو رہا تھا اُس دن شہر بہت گرم تھا، لوگ میری کار روائی سے  بہت خوش تھے اور وزیر تعلیم ناگندر جھا کی جعل سازی کا ذکر ہر جانب ہو رہا تھا، کالج کے  سامنے  ہزاروں  لوگ جمع ہو گئے، طلبہ و طالبات کی تعداد بھی کم نہ تھی۔ 
	 ’’ناگندر جھا مردہ باد‘‘  وائس چانسلر زندہ باد ’’ناگندر جھا کو سرکار سے  نکالو‘‘  کے  نعرے  گونج رہے  تھے، وزیر تعلیم ناگندر جھا بہت پریشان ہوئے اور حکام کی غیر ت کو للکار کر لاٹھی چلوا دی، سنا بڑی بھگدڑ مچ گئی  اور  وزیر اعلیٰ یہ سب دیکھتے  سنتے  کالج سے  واپس چلے  گئے۔ راستے  میں  وکلا نے  سیاہ گاؤن پہن کر ناگندر جھا کے  خلاف مظاہرہ کیا، بھاگوت جھا آزاد کی کار روک لی کہا ایسے  جعل ساز منسٹر کو اپنی کابینہ سے  باہر کیجیے  ورنہ ہم آپ کے  ساتھ نہ ہوں  گے، ناگندر جھا اُس کار میں  دُبکے  بیٹھے  اپنے  شہر میں  یہ سب دیکھ رہے  تھے۔ 
	شری  بھاگوت جھا آزاد، وزیر اعلیٰ ریاست بہار سے  میری پہلی ملاقات راج بھون کی اُس میٹنگ میں  ہوئی کہ جہاں  وائس چانسلروں  کو یونیورسٹی کے  مسائل پر گفتگو کر نے  کے  لیے  مدعو کیا گیا تھا۔ نئے  چانسلر گووند نارائن سنگھ سے  بھی یہ میری پہلی ملاقات تھی، بہار کی یونیورسٹیوں  کے  بجٹ کی ایک کثیر رقم راج سرکار کے  پاس ہے، ایک ارب (۱۰۰کروڑ) کے  لگ بھگ! ظاہر ہے  ایسی صورت میں  یونیورسٹیوں  کا چلنا ممکن نہیں، وائس چانسلروں  نے  صاف صاف کہا اس طرح کوئی یونیورسٹی کام نہ کر سکے  گی، بجٹ میں  ہر سال کٹوتی ہوتی رہی ہے، منظور شدہ بجٹ کی رقم بھی نہیں  ملتی، ایک سال کے  بعد پچھلے  برس کی رقم کٹوتی کے  بعد ملتی ہے، ہر یونیورسٹی ’’او ور ڈرافٹ‘‘  (Over Draft) سے  چل رہی ہے اور ہر بار ایک بڑا بوجھ یونیورسٹی پر بڑھ رہا ہے، بھاگوت جھا آزاد جب بھی رقم کا ذکر سنتے  منہ بنا کر جانے  کیا کیا بڑبڑانے  لگتے، وائس چانسلروں  کی ایسی باتیں  اُنھیں  حد درجہ ناگوار گزر رہی تھیں، پچھلی حکومتوں  کی غلطیوں  پر بھی غور کر نے  کو تیاّر نہ تھے، سنجیدگی سے  مسائل کو حل کر نے  کا غالباً کوئی ارادہ نہ تھا، بجٹ، رقم، اساتذہ کی تنخواہیں، ان پر بات کرنا ہی نہیں  چاہتے  تھے۔ مجھے  اُن کی ذات میں  ایک عجیب اکھڑپن  اور  ٹیڑھے  پن کا احساس ہوا، آزاد نے  تعلیم  اور  تحقیق یا ریسرچ وغیرہ سے  کسی قسم کی دلچسپی کا اظہار نہیں  کیا، تعلیم  اور  ریسرچ کا ذکر کر کے  وہ مسلسل اساتذہ کے  خلاف بولتے  (اساتذہ کے  خلاف مختلف جلسوں  میں  بولنے  کی وجہ سے  ریاست کے  اساتذہ نے  اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا) اس میٹنگ میں  جب میں  نے  یونیورسٹی لائبریری کو موضوع بنایا تو لگا وہ  اور  چانسلر دونوں  سنجیدہ نہیں  ہیں، دونوں  نے  لائبریری کی جانب کوئی توجّہ نہیں  دی جیسے  یونیورسٹی میں  اس کی کوئی اہمیت ہی نہ تھی۔ میٹنگ سے  واپس آنے  کے  بعد . یونیورسٹی لائبریری کے  تعلق سے  ایک اہم خط چانسلر  اور  یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو لکھا یہ بتایا کس طرح سیکڑوں  قیمتی کتابیں اور نسخے  ضائع ہو رہے  ہیں، پریس نے  بھی اس خط کو اہمیت دی  اور  حکومت  اور  چانسلر سے  کہا کہ وائس چانسلر .یونیورسٹی کی سفارشات منظور کر لیں، حاصل کچھ نہ ہوا۔ 
	بھاگوت جھا آزاد کے  رویّہ ’’میں  نہ مانوں، میں  نہ مانوں‘‘  کی وجہ سے  اس میٹنگ کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا، میں  نے  صاف صاف باتیں  کیں اور اپنی یونیورسٹی کے  بنیادی مسائل سامنے  رکھے، چانسلر میرے  ہر خیال سے  اتفاق کر رہے  تھے، میٹنگ سے  قبل میں  نے  بہار کی یونیورسٹیوں  کے  مسائل کے  تعلق سے  چانسلر کو ایک طویل خط لکھا تھا اس کے  چند اقتباسات اخباروں  میں  بھی شائع ہوئے  تھے  اس لیے  چانسلر میرے  خیالات کو زیادہ آسانی سے  سمجھ رہے  تھے  مسائل کا تجزیہ  پسند کیا تھا  اور  وہ جو کچھ کرنا چاہتے  تھے  ان باتوں  کا ذکر بھی میرے  خط میں  موجود تھا۔ اس میٹنگ میں  مسائل کو سمجھنے  کے  باوجود بھاگوت جھا آزاد کے  سامنے  بے  بس نظر آ رہے  تھے، آزاد کا چہرہ بار بار مغرورانہ احساس کا مظاہرہ کر رہا تھا، اُن کے  متعلق جو تاثر قائم ہوا تھا آہستہ آہستہ زائل ہو رہا تھا، شدّت سے  محسوس کیا کہ اس شخص کے  ذہن میں  یونیورسٹی کا کوئی تصوّر ہی نہیں  ہے، وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے  بھی وہ کسی قسم کی ذمّہ داری قبول کرنا نہیں  چاہتے  جبکہ ریاستی حکومت نے  بہار کی یونیورسٹیوں  کو دبوچ رکھا ہے اور خود مختاری (آٹونوی) چھین لی ہے۔ 
           جب میں  نے  کم و بیش چالیس پروفیسروں  کو ایک بار پھر ریڈر بنا دیا (ناگندر جھا بھی ان میں  شامل تھے )  اور  یہ بتایا کہ یہ سب ڈگری  اور  تجربہ نہیں  رکھتے  پچھلے  دروازے  سے  پروفیسر بنے  ہیں، کم و بیش ۶۴ یونیورسٹیوں  کے  ایسے  کلرکوں  کو اُن کی مناسب کرسیوں  پر بیٹھا دیا کہ جو ڈپٹی رجسٹرار کے  گریڈ میں  تھے اور لکچر ر سے  زیادہ تنخواہیں  لے  رہے  تھے۔ اُس چپراسی کو ایک بار پھر چپراسی بنا دیا کہ جسے  جس دن ملازمت دی گئی تھی اُسی دن دوپہر میں  اُسے  کلرک بنا دیا گیا تھا  اور  دفتر کے  اوقات کے  ختم ہونے  سے  قبل ایک افسر بنا کر بٹھا دیا گیا تھا، جب بھاگوت جھا آزاد نے  یہ ’’دلخراش‘‘  خبریں  سنیں  تو اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے  ہوئے  کہا ’’شکیل الرحمن، یہ سب میرے  ’و وٹرس‘  ہیں، آپ اس قسم کی کار روائی کر کے  کانگریس کا نقصان کر رہے  ہیں۔‘‘  
	میں  انھیں  بس دیکھتا ہی رہ گیا!!
	انجمن ترقی اُردو پٹنہ کا ایک جلسہ تھا، اتفاق سے  میں  بھی موجود تھا  اور  ’’عظیم آباد ایکسپریس‘‘  کے  مدیر رضوان احمد کے  ساتھ پچھلی نشست پر بیٹھا تھا، بھاگوت جھا آزاد اپنے  وزیر تعلیم ناگندر جھا کے  ساتھ آئے، تقریر کرتے  ہوئے  اُن کی نظر مجھ پر پڑی تو موضوع سے  ہٹ کر تعلیمی  اور  علمی اداروں  کے  خلاف بولنے  لگے، میری جانب اشارہ کر کے  کہا، یہاں  وائس چانسلر ڈاکٹر شکیل الرحمن بھی بیٹھے  ہیں  وہ بھی اپنی یونیورسٹی کے  لیے  روپے  چاہتے  ہیں، آخر راج سرکار کیا کرے، کہاں  سے  لائے  روپے  وغیرہ وغیرہ۔ 
	جلسہ ختم ہوا تو باہر نکلتے  ہوئے  میرا ایک ہاتھ تھام لیا پوچھا ’’کیسے  ہو؟ کل آنا خوب باتیں  کریں  گے۔ ساڑھے  دس بجے  آ جاؤ۔‘‘  اُن لمحوں  میں  چہرہ دوسرا تھا، ایک  اور  ہی چہرہ لگا ہوا تھا جیسے۔ دوسری صبح وقت پر پہنچا تو مجھے  بڑی عزّت ملی، کمرے  سے  باہر نکل کر میرا استقبال کیا، بہت خوش تھے، دو گھنٹے  دل کھول کر باتیں  ہوئیں، کافی منگوائی، خوب قہقہے  لگاتے  رہے، چند ہی دنوں  میں  اُن کے  کئی چہرے  دیکھ لیے  تھے، اچانک موپاساں  کی ایک کہانی کے  چند جملے  یاد آئے۔ جانے  کیوں  اس کہانی کا انگریزی ترجمہ پڑھا تھا، جملے  یہ تھے:
"They gave me a rousing reception on my arrival, they fired guns, they kissed me and made such a fuss over me that I became suspicious, be careful, oldfox. I said to myself, there is something up." 
بھاگوت جھا آزاد کی چند باتیں  یاد آ رہی ہیں:
	 ’’دھرم یگ‘‘  (ہندی ہفتہ وار) میں  میں  نے  جو یہ کہا تھا کہ شکیل الرحمن جی بہت اچھا کام کر رہے  ہیں  لیکن ایک ’جاتی‘  (ذات) کے  لوگوں  کے  خلاف ہیں  اس ’جات‘  (ذات) کے  لوگ ہمارے  و وٹرس ہیں  تو دراصل اُس وقت مجھے  بہت سی باتوں  کی خبر نہ تھی، تم نے  تو ہر کام ’بڑی بلندی‘  سے  کیا ہے اور ہر کام ’بڑی بلندی‘  سے  کر رہے  ہیں، ’جات پات‘  (ذات پات)  اور  دھرم سے  اوپر اُٹھ کر ’سکشا‘  (تعلیم) کی ’کھدمت‘  (خدمت) کر رہے  ہیں، تمھارے  ہر کام سے  ’کھوش‘  (خوش) ہوں۔ 
	 ’’تم نے  بہت ا چھا کیا جو اُس دن سائنس کالج نہیں  آئے، اُنھیں  چاہیے  تھا تمھیں  ’سبھا پتی‘  (صدر مجلس) بناتے، اُس پنڈت کو لے  آئے  جس نے  اپنی ’پھرکہ پرستی‘ (فرقہ پرستی) کی ’نمائس‘  (نمائش) کی!‘‘  
	 ’’میں  تمھارے  کام سے  بہت ’’کھوس‘‘  (خوش) ہوں۔ ا چھا کیا جو ناگندر جھا کی ترقی روک دی، کیسے  پروفیسر بن جاتا، اُس نے  غلط بیان دیا تھا کہ اس کی سروس یونیورسٹی میں  پچیس سال کی ہو گئی ہے  ’’یہی بلندی کا کام ہے۔‘‘  
	 ’’تم ناگندر سے  ہر گز ملنے  نہ جاؤ، میں  نے  اُس سے  کہہ دیا ہے  کہ تم وائس چانسلر  اور  کھاس (خاص) کر شکیل الرحمن جی اجت (عزّت) کرنا نہیں  جانتے، میں  اسے  یہاں  بلاؤں  گا، تم بھی رہو گے  ہم ساتھ کھانا کھائیں  گے اور .یونیورسٹی کی ’’سمسیاؤں‘‘  (مسائل) کو حل کر دیں  گے۔‘‘  
	 ’’تم نے  بہت بڑا کام کیا ہے، بہت ہی بڑا۔ نیپالی لڑکوں  کی وجہ سے  ایک ’مافیا‘  پیدا ہو گیا تھا، بہار کے  لڑکوں  کا نقصان ہو رہا تھا، تم کہتے  ہو یہ گنڈے ‘  (غنڈے ) جعلی سرٹیفکیٹس ’ایسو‘  (ایشو) کرتے  تھے اور نیپالی لڑکوں  کو فرسٹ ڈیویژن دیا کرتے  تھے، تم نے  جعلی ’سرٹیفکیٹس‘  پکڑ کر ثابت کر دیا، کہ ’مافیا‘  خطرناک کام کر رہا تھا۔ یہ سماج دسمن (دشمن) لوگ ہیں۔ پچاس لاکھ سالانہ یہ سب مل کر کھاتے  تھے، میں  تمھیں  اس بڑے  کام پر دھنواد دیتا ہوں  ’ساباسی‘  (شاباشی) دیتا ہوں، یہی تو چاہتا ہوں، صاف ستھرا بہار۔ ’کرپسن‘  (کرپشن) نے  ہمیں  برباد کر دیا ہے، جہاں  دیکھتا ہوں  جس ’کاگز‘  (کاغذ) کو اُٹھاتا ہوں  ’کرپسن‘  (کرپشن) ملتا ہے۔‘‘  
	 ’’تم کو ’وسواس‘  (وشواس) دلاتا ہوں  ناگندر جھا کے  گنڈے  (غنڈے ) اب یونیورسٹی کے  کام میں  کبھی دخل نہیں  دیں  گے۔۔۔ (نام لے  کر) وہ خود تمھارے  پاس آئے  گا  اور  پاؤں پکڑ کر معافی مانگے  گا، ایک بار میرے  پاس آیا تو میں  نے  اُسے  نکال دیا، کہا تم دھندا کرتے  ہو، ناپاک کام کرتے  ہو، میرے  سامنے  سے  چلے  جاؤ، میں  وائس چانسلر کے  کسی ’ایکسن‘  (ایکشن) کے  خلاف کوئی بات سننا نہیں  چاہتا۔‘‘  
	 ’’آؤ ہم مل جل کر بہار کے  لیے  ا  چھا کام کریں۔‘‘  مجھے  بہار کے  مسلمانوں  کے  مسئلوں  کے  بارے  میں  لکھ کر دو تاکہ کوئی بڑا کام کر سکوں۔ 
	دو ماہ کے  اندر میں  نے  جو اہم کام کیے  تھے،چانسلر گووند نارائن سنگھ نے  اُن پر پابندی عائد کر دی!!یہ بہار کے  نظامِ تعلیم کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ ریاستی  اور  نیشنل پریس نے  اُسے  موضوع بنایا  اور  چانسلر  اور  ریاستی حکومت کے  سامنے  ایک بنیادی سوال رکھا ’’کیا اسی طرح یونیورسٹیوں  کے  حالات درست ہوں  گے؟‘‘  
	بنیادی معاملہ غالباً یہ تھا کہ اساتذہ کے  تبادلے  ہوئے  تھے۔ ناگندر جھا  اور  بھاگوت جھا آزاد نے  گو وند نارائن سنگھ کو یہ بتایا کہ یہ ان کے  و وٹرس ہیں اور اُن کی ناراضگی انھیں  پسند نہیں۔ اس یونیورسٹی میں  دلچسپ  اور  حیرت انگیز بات یہ ہوئی تھی کہ گاؤں اور دُور دراز علاقوں  کے  بہت سے  اساتذہ اپنی پوسٹ کو لیے  ہوئے  دربھنگہ کے  کالجوں  میں  آ گئے  تھے، گاؤں  کے  کالجوں  میں  اساتذہ کی بڑی کمی ہو گئی تھی، دربھنگہ کے  کالجوں  میں  اتنے  اساتذہ جمع ہو گئے  تھے  کہ اُن کے  پاس کام ہی نہ تھا۔ 
میں  نے  صرف یہ کیا تھا کہ ایسے  تمام اساتذہ کو اُن کی پوسٹ کے  ساتھ واپس بھیج دیا تھا، گاؤں اور دور دراز علاقوں  کے  طلبہ بہت خوش تھے، یہ اساتذہ اپنے  علاقوں  میں  بھی ’و وٹرس‘  تھے  دربھنگہ میں  رہیں  یا دربھنگہ سے  باہر، کوئی فرق نہیں  پڑتا تھا، معاملہ یہ تھا کہ یہ اساتذہ ’ناخوش‘  تھے۔ کہا جاتا ہے  کہ رشوت دے  کر وزیروں  کی سفارش سے  دربھنگہ آئے  تھے  اس طرح اُن کا ’مالی نقصان‘  ہوا تھا، میں  نے  پہلی بار چانسلر کی عقل پر ماتم کیا،کئی بہت اہم فیصلے  رُک گئے، پورے  بہار میں  احتجاج ہونے  لگا۔ اخباروں  نے  وائس چانسلر کی حمایت کی، اخباروں  میں  جانے  کتنے  خط شائع ہوئے۔ سب نے  حکومت  اور  چانسلر کے  فیصلے  کو غلط کہا، طلبہ کے  جلوس نکلنے  لگے  وزیر تعلیم کے  پتلے  جلنے  لگے۔ دربھنگہ  اور  ضلع کے  مختلف علاقوں  میں  احتجاجی جلوس نکلنے  لگے، جب میں  نے  بھاگوت جھا آزاد سے  بات کی تو اُنھوں  نے  کہا ’’چانسلر نے  تمھارے ’آڈرس‘  (احکامات) پر جو پابندی عائد کی ہے  انھیں  دیکھا ہے، یہ ناگندر جھا کی وجہ سے  ہوا ہے، وہی چانسلر کے  پاس گیا تھا، یہ پابندی اُٹھ جائے  گی، میں  نے  ناگندر جھا کو سختی سے  کہا ہے  کہ اس قسم کی حرکت بند کرو۔ وہ(ناگندر جھا) میرے  پاس آیا تھا، رو رہا تھا، کہہ رہا تھا۔ وائس چانسلر کو ہٹا دیجیے  میں  نے  کہا ٹھیک ابھی ہٹا دیتا ہوں  لیکن میں  تمھیں  بھی ہٹا دوں  گا، تم بھی منتری نہیں  رہو گے۔‘‘  
	ایک  اور  نیا چہرہ تھا میرے  سامنے!!
	میں  نے  بھاگوت جھا آزاد کو بتایا کہ آپ دربھنگہ میں  اپنی سیاسی پارٹی کے  و وٹرس کا رونا رو رہے  ہیں  دیکھئے  پورے  بہار کے  ’و وٹرس‘  پر کیا اثر ہوا ہے، اُن مقامات پر بھی احتجاج ہو رہا ہے  جو دربھنگہ سے  کوئی تعلق نہیں  رکھتے، کانگریس کے  ساتھ آپ کے  پتلے  بھی جل رہے  ہیں۔ چانسلر کے  پتلے  جل رہے  ہیں۔ خود غور کیجیے  آپ سب نے  کتنا غلط قدم اُٹھایا ہے۔ یہ کانگریس کے  لیے  آتش فشاں  نہ بن جائے۔ ( اور  پھر یہی ہوا، کانگریس کے  لیے  ایک آتش فشاں  پھٹ پڑا، اگلے  الیکشن میں  کانگریسوں  کی زبردست شکست ہوئی، یقیناً یہ شعلہ دربھنگہ ہی میں  بھڑکا تھا پہلے )۔ 
	جب اخباروں  نے  میرے  ہر حکم کو شائع کر کے  تبصرہ کرنا شروع کیا، طلبہ کے  جلوس نکلنے  لگے، پتلے  جلنے  لگے، اخباروں  میں  اداریے  آنے  لگے اور لوگوں  کے  خط شائع ہونے  لگے، دربھنگہ کے  ایک بزرگ برہمن سیاسی لیڈر نے  یہ دھمکی دی کہ ’’وائس چانسلر کے  احکامات پر جو پابندی عائد کی گئی ہے  وہ اٹھائی نہیں  گئی تو وہ خود کو نذر آتش کر دیں  گے۔‘‘  حکومت کو محسوس ہوا کہ چند و وٹروں  کی اتنی بڑی تعداد کو قربان کر دینا دانش مندی نہیں  ہے، حکومت کی تصویر بگڑرہی ہے  لہٰذا میرے  ’آڈرس‘  پر لگی پابندی اُٹھا دی گئی۔ 
	میرے  احکامات پر جب پابندی عائد ہوئی تو میں  بھاگوت جھا آزاد سے  ملا، ملتے  ہی وہ اپنی شاعری پر گفتگو کر نے  لگے، بتایا وہ ایک ’مہاکاویہ‘  لکھ رہے  ہیں۔ جب بھی اُٹھنا چاہا روک لیا۔ باہر کئی لوگ انتظار کر رہے  تھے  لیکن وہ مجھ سے  باتیں  کرتے  رہے۔ درمیان میں  اُن کے  سیکریٹری ٹھا کر صاحب کئی بار آئے، ٹھا کر نے  وزیر اعلیٰ سے  کہا ’’وائس چانسلر صاحب نے  کوئی کام غلط نہیں  کیا۔ یہ خواہ مخواہ کی پابندی ہے  اُن کے  آڈرس پر پابندی سے  سرکار کی بدنامی ہو رہی ہے، اخبار والوں  نے  ادھم مچا رکھا ہے۔ بھاگوت جھا آزاد نے  کہا ’’ٹھا کر وہ فائل لاؤ، میں  چانسلر کو لکھ دیتا ہوں  کہ پابندی فوراً اُٹھا لی جائے۔‘‘  
	جب اچانک میرے  احکامات پر چانسلر گو وندنارائن سنگھ نے  پابندی عائد کر دی تو میں  نے  چانسلر کو ایک خط لکھا:
	اس خط کا متن یہ تھا:
Letter-Patna-VC/1/88  Dated 22-4-88)
	 ’’۲۰ اپریل ۸۸ء کو ٹیلی پرنٹر ]نمبر ۱۱۰۹}(۱) GS { [ کے  ذریعے  پیغام موصول ہوا، شکریہ۔ آپ کے  حکم کی تعمیل ہو گی۔ اس سلسلے  میں  عرض کروں  گا کہ جو تبادلے  ہوئے  ہیں اور میرے  جو دوسرے  احکامات ہیں  وہ یونیورسٹی کے  قانون کے  مطابق ہیں، یونیورسٹی کے  حق میں  ایک وائس چانسلر نے  انصاف کیا۔ مجھے  اس کا موقع دیجیے  کہ میں  تمام ضروری کاغذات مسائل کے  ساتھ آپ کے  سامنے  پیش کر سکوں  تاکہ آپ غور کر کے  فیصلہ لیں۔ مجھے  یقین ہے  کہ کاغذات دیکھنے اور مجھ سے  مسائل سمجھنے  کے  بعد آپ وائس چانسلر کے  حق میں  فیصلہ دیں  گے۔ مجھے  علم نہیں  میرے  احکامات پر پابندی کا سبب کیا ہے، یہاں  معاملہ یہ ہے اور ایک بڑی سچائی یہ ہے  کہ ایم اے، ایم ایس سی، ایم کام، بی اے، بی ایس سی، بی کام، آنرز، انٹرمیڈیٹ، آئی ایس سی آئی کام وغیرہ کے  امتحانات ہو رہے  ہیں۔ ایک لاکھ سے  زیادہ طلبہ و طالبات شریک ہیں۔ میرے  احکامات کی تعمیل کرتے  ہوئے  ہر کالج میں  پرنسپل  اور  ٹیچرس پہنچ چکے  ہیں، اُنھوں  نے  اپنی ذمّہ داریاں  سنبھال لی ہیں،  اگر  میں  اُنھیں  واپس بلاتا ہوں  تو امتحانات ضائع ہو جائیں  گے۔ طلبہ خاموش نہ رہیں  گے  ان پر یہ بہت بڑا ظلم ہو گا، ان کے  مستقبل کا سوال ہے۔ ایک عرصہ بعد اپنے  اچھے  مستقبل کے  لیے  صاف ستھرے  امتحانات میں  شریک ہیں، انھیں  چھیڑا گیا تو نتائج بھیانک بھی ہو سکتے  ہیں۔ ایسی صورت میں  صرف یہ گزارش کرتا ہوں  کہ آپ اپنے  حکم کی تعمیل کی مدّت بڑھا دیں  تاکہ بچے ّ امتحانات دے  سکیں، یہ امتحانات جون ۱۹۸۸ء کے  پہلے  ہفتے  ہیں  ختم ہو جائیں  گے۔‘‘  
اس خط کا بھی جب اثر نہیں  ہوا تو میں  نے  وزیر اعلیٰ کو کہا ’’آپ کو بہار کے  مستقبل کی یہی فکر ہے  کہ آپ کا وزیر تعلیم  اور  میرا ایک لکچر ر جس کی بے  ایمانی ثابت ہو چکی ہے  چانسلر کو ایسے  حکم کو جاری کر نے  پر مجبور کرے۔ میں  استعفیٰ تو دوں  گا لیکن بہار کی نئی نسل کی پروا کیے  بغیر آپ لوگ جو کچھ کر رہے  ہیں  انھیں  میں  بے  نقاب کر دوں  گا۔ جانے  کیا ہوا، وزیر اعلیٰ بھاگوت جھا آزاد نرم  اور  ٹھنڈے  پڑ گئے، فائل طلب کی  اور  چانسلر کو نوٹ لکھا کہ وائس چانسلر کے  احکامات پر لگی پابندی اُٹھا لی جائے اور پھر یہ پابندی اُٹھ گئی! یونیورسٹی  اور  یونیورسٹی سے  باہر اخبار میں  ہر جانب خوشی کی لہر دوڑ گئی!!
	ہوا یہ کہ میرے  احکامات پر چانسلر کی لگائی ہوئی پابندی کے  ہٹ جانے  کے  باوجود مسلسل رُکاوٹیں  پیدا کی جاتی رہیں۔ سنا بھاگوت جھا آزاد کی حمایت حاصل رہی ورنہ یونیورسٹی کے  معاملات میں  ایسی رُکاوٹیں  کبھی پیدا نہیں  ہوتیں۔ 
	ایک بار پٹنہ آیا تو ٹھا کر صاحب (آزاد صاحب کے  سیکریٹری) نے  فون پر کہا ’’شام کو چھ بجے  آزاد صاحب سے  ملنے  آ جائیے۔‘‘  جب وزیر اعلیٰ کی کوٹھی پر پہنچا تو آزاد صاحب اُسی وقت کابینہ کی میٹنگ سے  واپس لوٹے  تھے اور بہت تھکے  ہوئے  تھے، یہ سنتے  ہی کہ میں  آ گیا ہوں  باہر آ گئے اور میرا ایک ہاتھ تھام کر اپنے  کمرے  میں  لے  گئے۔ دیر تک باتیں  ہوتی رہیں  کہنے  لگے  ’’تم سے  مل کر میری تھکن دور ہو گئی۔‘‘  
	اب گفتگو کا انداز یہ تھا:
	 ’’جس کالج میں  ایک ہی ’جاتی‘  (ذات) کے  لوگ زیادہ ہوں  تو ظاہر ہے  تبادلے  میں  اُن کی تعداد زیادہ ہو گی، تم نے  بہت ا  چھا کام کیا ہے، اب گاؤں اور دیہاتوں  کے  کالجوں  میں  ٹیچرس پہنچ جائیں  گے، آخر وہاں  بھی تو ٹیچرس کی ضرورت ہے۔‘‘  
	یہ عجیب بات ہے  کہ یہ ٹیچرس گاؤں  دیہاتوں  کے  کالجوں  سے  اپنی پوسٹ کے  ساتھ دربھنگہ کے  کالجوں  میں  جمع ہو گئے  تھے، یہ غلط بات ہے، ناگندر جھا اس قسم کا کام کیوں  کرتا رہا ہے، کہتا ہے  یہ ہمارے  ’و وٹرس ہیں ‘  (یہ بات آزاد نے  خود بھی کہی تھی) کیا صرف کالج کے  ٹیچرس ہی ہمارے  ’و وٹرس‘  ہیں؟ راج پال (گورنر) سے  کہہ دیا ہے  کہ وائس چانسلر نے  کوئی کام غلط نہیں  کیا ہے۔‘‘
  
	دیکھو نا جگن ناتھ مشر میرا دشمن ہے۔ اسی کو ختم کر نے  کے  لیے  میں  نے  .میں  ناگندر جھا کو رکھا ہے۔‘‘  اچانک بولے  ’’تمھارے  بارے  میں  سنا ہے  تم جگن ناتھ مشر کے  قریب ہو، اُن کے  آدمی ہو؟‘‘  
	مجھے  بے  اختیار ہنسی آ گئی، جواب دیا ’’آزاد صاحب، وہ مجھے  بہت دِنوں  سے  جانتے  ہیں، بہار یونیورسٹی میں  میرا نقصان بھی کر چکے  ہیں۔ ماضی کو معاف کر نے  کا عادی ہوں، ایسا نہ کروں  تو پھر آگے  کام کرنا ناممکن ہو جائے  گا۔ میں  نے  اپنے  ایک قول کا انگریزی ترجمہ کر کے  سنایا کہا:
 ’’ماضی کو معاف کر دینا معجزوں  کے  تجربوں  میں  داخل ہوتا ہے۔ میں  تو صرف اُس  محبت کو یاد رکھتا ہوں  جو مجھے  ملتی ہے، باقی سب بھول جاتا ہوں۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے  کہ اس بار وائس چانسلر کی حیثیت سے  میرا تقرر ہوا تو اُن پر بھی ایک بجلی گری تھی، دلّی میں  پروفیسر اخلاق الرحمن قدوائی  اور  سابق گورنر بہار شری ونکٹ سبھیا کے  سامنے  انتہائی احمقانہ طور پر احتجاج کیا تھا پھر بھی مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا،  اگر  آپ اس طرح دیکھیں  گے  کہ میں  کس کا آدمی ہوں اور کس کا آدمی نہیں  ہوں  تو میرا کوئی نقصان نہ ہو گا، نقصان ہو گا تو سوچنے  والے  کا۔ بہار میں  عام طور لوگ اسی طرح پہچانے  جاتے  ہیں۔ یہ جان لیجیے  مکھ منتری جی کہ میں  شکیل الرحمن اپنی ایک شناخت رکھتا ہوں، ہر اُس شخص کی عزّت کرتا ہوں  جو میری عزّت کرتا ہے۔ بہتر ہے   اگر  آپ ایک بار پھر غور کریں  ناگندر جھا جیسے  لوگوں  کی وقتی سیاست سے  دُور رہیں۔ آئیے  ہم سب مل کر ایک نئے  بہار کی تعمیر کریں۔ یہ فراموش نہ کریں  کہ جس طرح بہار آپ سیاست دانوں  کا ہے  اسی طرح میرا بھی ہے۔‘‘  
میری باتیں  غور سے  سنتے  رہے، چہرے  پر کئی رنگ آئے اور گئے، محسوس کیا ضبط بھی کر رہے  ہیں۔ کہا ’’دیکھو شکیل الرحمن کبھی کبھی ’گنڈوں ‘  (غنڈوں ) کی ضرورت پڑتی ہے، ہمیں  بھی ’گنڈے ‘  رکھنے  پڑتے  ہیں، ناگندر جھا نے  جن لوگوں  کو پال رکھا ہے  اُن سے  پھر کام بھی تو لیتا ہے، ہر مکھ منتری کو ہمیشہ کچھ سوچنا  اور  کرنا پڑتا ہے۔‘‘  
	میں  نے  کہا ’’آزاد صاحب، آپ کے  منہ سے  ایسی باتیں  سن کر زیادہ حیرت تو نہیں  ہوئی اس لیے  کہ سیاستداں  ایسا کرتے  رہے  ہیں  لیکن بہت افسوس  اور  دُکھ ہوا، آپ کو میں  ایک دانشور بھی سمجھ رہا تھا، دانشور سیاستداں  ایسی باتیں  تو نہیں  کرتا۔ آزاد صاحب، مجھ پر جس یونیورسٹی کی ذمّہ داری ہے  وہ اس لحاظ سے  ایشیا کی سب سے  بڑی یونیورسٹی ہے  (اب نہیں  رہی) کہ آٹھ ضلعوں  کے  ۶۲ کالج اس سے  وابستہ ہیں، یہ یونیورسٹی بہار  اور  ملک کی آبرو ہے، جب تک وائس چانسلر ہوں  غنڈوں اور کرپشن سے  اس یونیورسٹی کو بچاتا رہوں  گا۔‘‘  اُن کی آنکھوں  میں حیرت بھی تھی  اور  اُلجھن کی کیفیت بھی۔ غالباً وہ سوچ بھی نہیں  سکتے  تھے  کہ اُن کی یونیورسٹی کا کوئی وائس چانسلر (بندھوا مزدور؟) اُن سے  اس سطح پر باتیں  کرے  گا، اس طرح صاف صاف گفتگو سے  وہ یقیناً پریشان تھے۔ یونیورسٹی کے  مسائل پر خاک گفتگو ہوتی اُنھوں  نے  کہا ’’ہم یہ سوچ رہے  ہیں  کہ دو یونیورسٹیوں  کے  وائس چانسلروں  کو تبدیل کر دیں۔‘‘  میں  ان کے  تیور  اور  مزاج کو پہچان رہا تھا جانتا تھا اُن کے  دِل میں  کون سے  کانٹے  چبھ رہے  ہیں۔ 
	 ’’یہ خبر تو پہلے  ہی سے  گرم ہے  کہ آپ لوگ مجھے  ہٹا دینا چاہتے  ہیں۔‘‘  میں  نے  کہا۔ 
	گھبرا سے  گئے، کہا ’’ایسی بات نہیں  ہے۔‘‘  (مغرورانہ احساس اسی طرح اچانک کانپ جاتا ہے ) میں  نے  کہا ’’آزاد صاحب! کشمیر سے  بہار آنے  کو تیاّر نہ تھا، ایک تجربہ ہو چکا تھا بہار یونیورسٹی کا، شری ونکٹ سبھیا جی نے  مجھے  یقین دلایا تھا کہ کسی قسم کی پریشانی نہیں  ہو گی۔ میں آزادی سے  کام کروں  گا، چانسلر نے  کہا تھا تم .یونیورسٹی کو بس درست کر دو، آپ خود اعتراف کر رہے  ہیں  کہ . یونیورسٹی میں  ہر کام درست ہو رہا ہے، میں  نے  یونیورسٹی کو ایک وقار عطا کر نے  کی کوشش کی ہے، امتحانات وقت پر ہوئے  ہیں، کہیں  نقل نہیں  ہوئی، جہاں  بھی شکایت ہوئی امتحان کینسل ہو گیا، نو سے  زیادہ امتحانات لیے  جا چکے  ہیں، صاف ستھرے  امتحانات، نتائج بھی نکل رہے  ہیں، لوگ خوش ہیں  طلبہ خوش ہیں، ملک بھر کے  اخباروں  نے  اس یونیورسٹی کی سنورتی صورت کا ذکر کرنا شروع کر دیا ہے،  اگر  آپ مجھے  ہٹا دینا چاہتے  ہیں  تو پہلے  بتادیجیے  ابھی ریٹائرمنٹ کے  ساڑھے  تین سال ہیں، بہار کی حکومتوں  کے  ایسے  ڈرامے  سے  اب زیادہ نقصان برداشت کرنا نہیں  چاہتا۔‘‘  
	 ’’نہیں  بھائی، تم اپنے  بارے  میں  کیا کہنے  لگے۔ تم رہو گے، تمھیں   رہنا ہے، میں  تو دوسرے  وائس چانسلروں  کے  بارے  میں  کہہ رہا تھا، ہم نے  تو تمھاری تعریف کی ہے، اسمبلی میں  سرکار کی طرف سے  تمھاری  اور  تمھارے  کام کی تعریف کر نے  جا رہے  ہیں۔ (جولائی ۸۸ء میں  بھاگوت جھا آزاد نے  واقعی بڑی تعریف کی، یہ اسمبلی کے  ریکارڈ پر ہے )۔ 
	 ’’آزاد صاحب آپ سیاستداں  ہیں اور شاعر بھی، سیاستداں  پر یقین نہیں  کرتا لیکن شاعر آزاد پر مجھے  تھوڑا بھروسہ ہے۔‘‘  میں  نے  اُنھیں  کچھ بتا دینے  کی کوشش کی۔ یہ سنتے  ہی اُنھوں  نے  زور دار قہقہہ لگایا ’’تمھیں  ابھی بہت کچھ کرنا ہے، میں  تمھارے  بارے  میں  ہمیشہ ا چھا سوچتا ہوں۔‘‘  
	 ’’گستاخی معاف، ایک بات کہنا چاہتا ہوں  بُرا نہ مانیں  گے، سیاست نے  آپ کی شاعری کو گرفت میں  لے  لیا یا آپ کی سیاست آپ کی دانشورانہ سطح پر حاوی ہو گئی  اور  میرے  تعلق سے  آپ کی حکومت نے  کوئی غلط فیصلہ کیا تو آپ کا ’مہاکاویہ‘  رہ جائے  گا عوام آپ کی حکومت پر جو مہا کاویہ لکھیں  گے  وہی زندہ رہے  گا!‘‘  
	 اور  یہی ہوا، عوام کا مہاکاویہ اب بھی زندہ ہے، بھاگوت جھا آزاد کے  مہاکاویہ کی کسی کو خبر نہیں، اس بار آزاد صاحب سے  باتیں  کرتے  ہوئے  بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ اُنھوں  نے  مجھے اور رانچی یونیورسٹی کے  وائس چانسلر رام دیال منڈا کو ہٹانے  کا ارادہ کر لیا تھا۔
	جب میں  نے  اپنے  بیٹے  کی شادی کے  بعد دربھنگہ میں  استقبالیہ دیا تو بھاگوت جھا آزاد کو بھی دعوت نامہ بھیجا، اُنھوں  نے  فون پر اپنی مصروفیت کا ذکر کیا ساتھ ہی یہ بھی کہا جب تم اپنے  بیٹے اور بہو کے  ساتھ پٹنہ آؤ تو مجھ سے  ضرور ملو، جب ہم پٹنہ پہنچے  تو آزاد صاحب نے  ہمیں  صبح کے  ناشتے  پر بلایا، بیٹے اور بہو کو دعائیں  دیں، پھولوں  کے  گلدستے  دِیے۔ دلچسپ باتیں  کرتے  رہے، ناشتہ منگوایا، منیر شریف کے  لڈّو منگوائے، اپنے  فوٹو گرافر کو بلوا کر تصویریں  کھنچوائیں  بہت پیار دیا۔ 
	بہار میں  بھاگوت جھا آزاد سے  یہ میری آخری ملاقات تھی۔ 
	دوسری ملاقات اُس وقت ہوئی جب میں  پارلیمنٹ کے  سینٹرل ہال میں  بیٹھا کافی پی رہا تھا، دہلی کی یہ ملاقات بہت دلچسپ تھی اس لیے  کہ وہ میرے  پاس بیٹھے اور میرے اور راجیو گاندھی کے  تعلقات کا ذکر کرتے  ہوئے  یہ کہا ’’تم راجیو جی سے  کہہ دو تو وہ مجھے  یقیناً راجیہ سبھا میں  بھیج دیں  گے۔ میں  جانتا ہوں  وہ تمھاری بہت عزّت کرتے  ہیں۔‘‘  
	اللہ نے  اس شخص کو مجھے  کس طرح ملایا حیرت زدہ ہوں، میں  اس کے  چہرے  پر بے  بسی دیکھ رہا تھا، اسی نے  مجھے  بہار میں  ’ڈسمس‘  کیا تھا!
	آزاد راجیہ سبھا نہ جا سکے، بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے  پی میں  چلے  گئے، اُن کا بنیادی نظریہ ’’ہندوتو‘‘  ہی کا تھ
	میرے  خلاف وزیر تعلیم ناگندر جھا سازشیں  تیز کیے  ہوئے  تھے۔ ایک جانب وزیر اعلیٰ کے  کان بھر رہے  تھے اور دوسری جانب اپنے  ’’شریف لوگوں‘‘  سے  یونیورسٹی میں  کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا کر رہے  تھے، سنڈیکیٹ کے  ممبر کی حیثیت سے  ناگندر جھا نے  کئی موقعوں  پر یونیورسٹی  اور  گورنمنٹ دونوں  سے  ’’ٹی اے‘‘  ، ’’ڈی اے‘‘  لیے  تھے، بڑا نازک معاملہ تھا، اس میں  گرفتاری ہو جاتی۔ ثبوت کے  ساتھ جب کاغذات میرے  سامنے  رکھے  گئے  تو میں  نے  ایک جائزہ کمیٹی بنا دی۔ یہ خبر اخباروں  میں  آ گئی، لوگ حیرت زدہ تھے  کہ ایک وزیر معمول رقم (پٹنہ۔ دربھنگہ، دربھنگہ۔ پٹنہ) کے  بے  ایمانی کرتا رہا ہے۔ 
	سنا وزیر تعلیم، وزیر اعلیٰ کے  پاس گئے  کہا  اگر  آپ شکیل الرحمن کو نہیں  ہٹائیں  گے  تو میں  اسپیکر سے  مل جاؤں  گا۔ (اُس وقت وزیر اعلیٰ  اور  اسپیکر میں  ٹھنی ہوئی تھی) معلوم نہیں  اس بات میں  کتنی صداقت تھی، وزیر تعلیم نے  جائزہ کمیٹی (جو تین پروفیسروں  پر مشتمل تھی) پر دباؤ ڈالا کہ رپورٹ پیش نہ کی جائے اور میرے  رہتے  ہوئے  واقعی رپورٹ پیش نہیں  ہوئی۔ 
	اسمبلی کے  اجلاس میں  مجھے اور میری یونیورسٹی کو موضوع بنایا گیا  اور  میری تعریف کی گئی، وزیر تعلیم ناگندر جھا کی جانب سے  حکومت نے  یہ بیان دیا کہ شکیل الرحمن ایک ایماندار، چست، محنتی، تعلیم یافتہ مخلص وائس چانسلر ہیں، حکومت اُن کے  کام سے  خوش ہے، یہ بیان اسمبلی میں  ریکارڈ ہوا، یہ عوام کا خوف تھا یا سچائی نے  حکومت  اور  اس کے  وزیروں  کو گرفت میں  لے  لیا تھا؟
	بھاگوت جھا آزاد ناگندر جھا کی سازشوں  سے  واقف رہے  لیکن جھا اُن کے  حلق میں  ہڈّی کی طرح پھنسے  ہوئے  تھے، انھیں  نگل سکتے  تھے اور نہ اُگل سکتے  تھے۔ 
	یوں  بھی بھاگوت جھا کے  کئی چہرے  نظر آئے، اندر کا آدمی دیر تک اندر نہیں  رہتا، فرقہ پرستی  اور  تعصب کی پہچان بھی ہوئی  اور  ساتھ ہی یہ بھی محسوس ہوا کہ وہ ذات پات کے  مارے  ہوئے  ہیں، اندر بہت ہی بزدل آزاد بیٹھا ہے  باہر سے  جیسے  بھی نظر آئیں۔ اب وہ اپنی زندگی  اور  تاریخ کی اُس منزل پر آ چکے  تھے  کہ جہاں  سے  اُن کی ناکامیوں  کا سلسلہ شروع ہونے  والا تھا۔ 
	ایک اہم واقعہ یہ بھی ہے  کہ میں  نے  میڈیکل کے  امتحانات کا مرکز تبدیل کر دیا، عموماً یہ امتحانات میڈیکل کالج میں  ہوتے  تھے۔ ا چھے  طلبہ کے  نمائندے  مجھ سے  ملے  تھے اور یہ کہا تھا کہ میڈیکل کالج کے  مرکز پر نقل نویسی کا بازار گرم رہتا ہے، رشوت لے  کر نقل کر نے  کی اجازت دی جاتی ہے، ا  چھے  لڑکوں  کا نقصان ہوتا ہے، جب میں  نے  مرکز تبدیل کر دیا تو میرے  خلاف احتجاج ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ وزیر تعلیم ناگندر جھا کے  لڑکے  سنجے  جھا ایم بی بی ایس کے  فائنل میں  تھے اور وہ بھی امتحان میں  شریک ہونے  والے  تھے، کسی  اور  مرکز پر اُنھیں  VIPسلوک نہیں  ملتا، امتحان کا بائیکاٹ کیا گیا، لیکن میں  نے  دو ماہ کے  اندر صاف ستھرے  امتحانات دوسرے  مرکز پر لے  لیے، ناگندر جھا کے  صاحبزادے  شریک نہیں  ہوئے  (میرے  آنے  کے  بعد اُن کا امتحان کا خاص انتظام میڈیکل کالج میں  ہوا) ناگندر جھا  اور  اُن کے  شریف ساتھیوں  نے  میرے  خلاف سازش تیز کر دی۔ 
	۷!اگست ۱۹۸۸ء کو مجھے  اچانک برطرف کر دیا گیا، کوئی الزام نہیں، کوئی ’’چارج شیٹ‘‘  نہیں  کہا گیا میں  نے  چانسلر کی بلائی ہوئی میٹنگ میں  شرکت نہیں  کی تھی، میرے  ہٹنے  کے  بعد Association of Indian Universities نے  جو انکوائری کمیٹی بنائی تھی کہ جس کے  چیئرمین پروفیسر آر ایس پال تھے، اپنی رپورٹ میں  لکھا ہے:
"On August 5, 1988 the then Chancellor called a meeting of a the Vice - Chancellors in Bihar. The Vice - Chancellor of .N. Mithila University and Ranchi University did not attend it. This is said to have been used as a pretext for terminating the services of the Vice - Chancellor of .N. Mithila University on 7th August, 1988." (Report 6.3. Page 18)
مزید لکھا:
"The committee would also like to observe that the removal of head of an institution like the university for non-attendance of a meeting called by the Chancellor, if true, is not only extremely arrogant but completely unbecoming of truth high office." (Report 6.6. Page 19)
	بہار میں  یہ ’روایت‘  رہی ہے  کہ اِدھر حکومت تبدیل ہوئی یا وزیر اعلیٰ تبدیل ہوا اُدھر وائس چانسلر تبدیل ہو گئے، بھاگوت جھا آزاد کے  آتے  ہی یہ خبر پھیلنے  لگی تھی کہ اب تمام وائس چانسلر تبدیل ہو جائیں  گے۔ ۱۹۵۲ء سے  پٹنہ یونیورسٹی میں  اٹھارہ وائس چانسلر آئے اور گئے۔ ۱۹۷۸ء سے  للت نارائن .یونیورسٹی میں  گیارہ وائس چانسلر آئے اور گئے، میں  ’’بارہواں‘‘  وائس چانسلر تھا (غالباً اسی وجہ سے  دربھنگہ کے  عوام نے  مجھے  کرشن کا بارہواں  اوتار کہنا شروع کیا تھا) ۱۹۷۲ء، ۱۹۷۷ء، ۱۹۸۵ء، ۱۹۸۸ء  اور  ۱۹۹۰ء میں  حکومت کی تبدیلی یا وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے  بعد وائس چانسلر تبدیل ہوئے  ہیں، میں  نے  شدّت سے  محسوس کیا کہ بھاگوت جھا آزاد کے  آنے  کے  بعد ایسی افوا ہوں  سے  کہ وائس چانسلر تبدیل ہو رہے  ہیں، وائس چانسلر کے  وقار پر آنچ آ رہی ہے۔ ایسی فضا بن جائے  تو بھلا وائس چانسلر کیسے  کام کر سکتا ہے۔ کیا وائس چانسلر کا مرتبہ ایسا ہونا چاہیے  کہ وہ وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم  اور  پھر ان دونوں  کے  مشوروں  کو جھٹ قبول کر نے  والے  چانسلر کی ’’خواہش‘‘  پر فوراً ہٹا دیا جائے؟ راج بھون میں  بھاگوت جھا آزاد، ناگندر جھا  اور  چانسلر گو وند نارائن سنگھ کے  وائس چانسلروں  کو ہٹانے  کا جو فیصلہ کیا تھا اس کی خبر مجھے  مل چکی تھی  اور  میں  نے  بھاگوت جھا آزاد سے  دریافت بھی کیا تھا جس کا جواب اُنھوں  نے  یہ دیا تھا کہ تم ان میں  شامل نہیں  ہو، تم بہت ا  چھا کام کر رہے  ہو۔ چانسلر گو وند نارائن سنگھ نے  یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے  چیئرمین کو ایک خط بھی لکھا تھا کہ جس میں  اپنے  ارادے  کا ذکر کیا تھا  اور  یہ چاہا تھا کہ چیئرمین کی جانب سے  کچھ ایسے  نام مل جائیں  کہ جنھیں  وائس چانسلر بنایا جائے  (یہ واقعی حماقت تھی، بہار کے  لوگ کب پسند کرتے  کہ یونیورسٹیوں  کے  تمام وائس چانسلر باہر سے  آئیں )۔ 
	۷!اگست ۱۹۸۸ء کو مجھے  اچانک برطرف کر دیا گیا، کوئی الزام، کوئی چارج شیٹ نہیں، کہا گیا کہ میں  نے  چانسلر کی بلائی ہوئی میٹنگ میں  شرکت نہیں  کی تھی۔ Association of Indian Universities کی کمیٹی نے  سچائی کو اس طرح پیش کیا ہے:
"The Chancellor called a meeting of the Vice-Chancellor on August 5, 1998 as observed earlier. As the Vice-Chancellors attended the meeting except two. At this meeting the Chancellor suggested to the Vice-Chancellor to submit their resignation letter to him. He, at the same time, assured them that he was not going to see the letter and that there was no reason for them to fee that he was contemplating their removal." (Report 8.1 Page 21(
	یہ ڈراما کئی بار راج بھون میں  اسٹیج ہو چکا تھا، وائس چانسلروں  کو فون پر بھی کہہ دیا جاتا تو وہ اپنا استعفیٰ بھیج دیتے، میرے  علاوہ سب ’کاغذ‘  جمع کر دیتے  اس لیے  کہ میں  نے  کہہ دیا تھا کہ مجھ پر الزامات عائد کرو مجھے  چارج شیٹ کرو پھر میرے  خلاف کار روائی کرو، میں  استعفیٰ نہیں  دوں  گا، الزامات لگا کر مجھے  ’ڈسمس‘  کر دو۔ ہوا یہ تھا میری برطرفی کا کاغذ ایک دن پہلے  راج بھون میں  تیاّر ہو چکا تھا  اور  اس کی ایک کاپی مجھ تک پہنچ چکی تھی، اس کاپی پر راج بھون کے  آفیسر آن ڈیوٹی کے  دستخط نہیں  تھے اور کاپیاں  تیاّر ہو چکی تھیں، جب اس کا احساس ہوا یہ غلط ہوا ہے  تو ساری کاپیاں  ضائع کر دی گئیں اور دستخط کے  بعد دوسری کاپیاں  تیاّر ہوئیں!!
	مجھے  جو کاپی ’’دستیاب‘‘  ہوئی اُس پر آفسیر کے  دستخط نہیں  تھے۔ 
	ایسی صورت میں  جبکہ راج بھون پہنچ کر اپنی برطرفی کا وصول کرنا تھا  اور  جبکہ چانسلر کے  ساتھ بیٹھ کر یونیورسٹی کے  مسائل پر باتوں  کا کوئی ایجنڈا نہیں  تھا بھلا میں  راج بھون کیوں  جاتا؟ میں  نے  چانسلر کو خط لکھ کر بتا دیا تھا کہ شرکت کیوں  ممکن نہیں  ہے۔ اسی میٹنگ میں  شری گوری نارائن سنگھ گورنر بہار نے  یہ فرمایا تھا ’’شکیل الرحمن ہم سے  بڑا سیاستداں  ہے۔‘‘  
	میں  نے  طلبہ سے  کہا تھا کہ میں  استعفیٰ نہیں  دوں  گا برطرف ہو ناپسند کروں  گا اس لیے  کہ میں  نے  کوئی کام غلط نہیں  کیا ہے، مجھے  استعفیٰ دینے  کو کہا جا سکتا تھا  اگر  انکار کرتا تو مجھ پر جائز ناجائز چارج شیٹ کیا جا سکتا تھا پھر برطرفی کا سوال پیدا ہوتا وائس چانسلر نہ ہوا روزانہ اجرت پر کام کر نے  والا مزدور ہو گیا، سماج میں  اس کا کوئی مقام مرتبہ ہی نہیں  ہے  کوئی عزت نہیں  ہے، ایسے  کالے  قوانین ہیں  بہار میں  کہ اس کی مثال نہیں  ملے  گی۔ حکومت  اور  چانسلر دونوں  کی ڈکٹیٹر شپ ننگی ہو کر سڑک پر آ گئی  اور  عوام میں  بھاگوت جھا آزاد کی بنتی ہوئی ساکھ بھی ٹوٹ گئی، آزاد کے  چہرے  پر کالک پوت دی  اور  پھر بہار میں  اندرا کانگریس کا چہرہ ہی سیاہ ہو گیا!!
	میری برطرفی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی، طلبہ عوام سڑکوں  پر آگ، جلوس نکلنے  لگے، وزیروں  کے  پتلے  جلنے  لگے، ایک بزرگ برہمن لیڈر نے  خود کو جلا دینے  کا فیصلہ کیا۔ وقت پر میری گزارش پر ارادہ ملتوی کر دیا۔ ہاں! مجھے  ابھی تک راج بھون پٹنہ سے  اپنی برطرفی کا آڈر نہیں  ملا ہے!!
	دربھنگہ پہنچتے  ہی معلوم ہوا کہ یونیورسٹی کے  ملازمین ہڑتال پر ہیں، بتانے  والوں  نے  یونیورسٹی کی تاریخ کے  پیشِ نظر یہ بتایا کہ ملازمین اپنے  کچھ طالبات کے  ساتھ ایک بار اُس وقت ہڑتال کرتے  ہیں  جب کسی نئے  وائس چانسلر کو آنا ہوتا ہے، پھر اُس وقت جب امتحانات ہوتے  ہیں اور پھر اُس وقت جب وائس چانسلر سے  ’عاجز‘  آ جاتے  ہیں اور یہ چاہتے  ہیں کہ کسی طرح وائس چانسلر کو ہٹوا دیا جائے، انھیں  کبھی ایک  اور  کبھی ایک سے  زیادہ سیاسی پارٹیوں  کی حمایت حاصل رہتی ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ معلوم ہوئی کہ یونیورسٹی میں  ایک دوسرے  کے  رشتہ دار ملازمین زیادہ ہیں  جو چوہوں  کی طرح ایک دوسرے  کی دُم پکڑے  ہوئے  ہیں  لہٰذا کسی بھی معمولی سی بات پر بڑی آسانی سے  سب ہڑتال پر چلے  جاتے  ہیں، ہر یونیورسٹی آفیسر کے  پاس اُس آفیسر کی ’ذات‘  کا عملہ ہوتا ہے، ’ذات‘  یا ’کاسٹ‘  کا معاملہ حد سے  زیادہ نازک  اور  سنجیدہ ہے، ’بیک وارڈ‘   اور  ’فاروارڈ‘  کے  جھگڑے  کے  ساتھ بہار کی یونیورسٹیوں  کی تاریخ نے  سفر کیا ہے۔ 
	.یونیورسٹی کے  ملازمین کی یہ ہڑتال تین مہینے  سے  جاری تھی، یونیورسٹی کا سارا کام کاج ٹھپ تھا، جس شام دربھنگہ پہنچا اُس شام ملازمین سے  بات چیت کر کے  معاملہ طے  کر دیا  اور  وہ زندہ باد کے  نعرے  لگاتے  ہوئے  رخصت ہو گئے، دوسرے  ہی دن سے  یونیورسٹی کام کر نے  لگی، اخباروں  نے  اس خبر کو بہت اہمیت دی، اساتذہ، طلبہ  اور  اس پورے  علاقے  کے  لوگ خوش ہو گئے، ٹائمز آف انڈیا‘  نے  لکھا نئے  وائس چانسلر نے  جوائن کرتے  ہی ہڑتال ختم کرا دی۔ دیکھنا یہ ہے  کہ وہ دوسرے  مسائل کس طرح حل کرتے  ہیں۔ .پہنچتے  ہی اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ تجربے  زیادہ گہرے اور تہہ دار ہوں  گے  اس لیے  کہ بہار میں  نظامِ تعلیم کی صورت زیادہ بگڑ چکی ہے، جب بہار یونیورسٹی کا وائس چانسلر تھا تو تعلیمی ماحول کو درست کر نے  میں  بڑی محنت کرنا پڑی تھی، حالات قطعی اچھے ّ نہ تھے، میری واپسی کے  بعد حالات پھر بگڑے اور تب سے  بگڑتے  ہی چلے  گئے۔ سیاست نے  بہار کی تمام یونیورسٹیوں  کا حلیہ ہی بگاڑ دیا، بہار یونیورسٹی میں  ملازمین کی ہڑتال کا تجربہ ہو چکا تھا، سیاسی افراد  اور  اُن کی سیاسی ٹولیوں اور جماعتوں  کی وجہ سے  ملازموں  کی ہڑتال غنڈہ گردی تک پہنچ چکی تھی، گالی گلوج  اور  توڑ پھوڑ کے  بغیر تو ہڑتال ہڑتال ہی نہیں  ہوتی، مطالبے  ایسے  ہوتے  کہ انھیں  ماننا ممکن ہی نہ ہوتا۔ یونیورسٹی ملازموں  کی آل بہار جماعت ایک خاص منزل پر دخل انداز ہوتی، وائس چانسلر کے  ساتھ میٹنگ ہوتی، میٹنگ میں  جن باتوں  پر اتفاق ہوتا اُن کے  پیشِ نظر کاغذات تیاّر ہوتے، معاہدے  ایگریمنٹ ہوتے، رجسٹرار یونیورسٹی  اور  ملازمین کے  نمائندے  دستخط کرتے۔ میں  نے  شدّت سے  محسوس کیا کہ ۱۹۷۹ء  اور  ۱۹۸۰ء کے  بعد حالات  اور  بھی ابتر ہو چکے  ہیں۔ مجھے  بتایا گیا کہ مجھ سے  پہلے  .یونیورسٹی کے  جو وائس چانسلر تھے  اُنھیں  بُرا بھلا کہنے اور گالیاں  دینے  کے  لیے  یونیورسٹی کے  ملازمین کے  وائس چانسلر کی کوٹھی کے  دروازے  کے  پاس ایک درخت سے  لاؤڈ اسپیکر لگا رکھا تھا۔ اس کا جواب وائس چانسلر نے  اس طرح دیا تھا کہ انھوں  نے  بھی اپنے  کمرے  میں  مائیکرو فون لگا لیا تھا  اور  لاؤڈ اسپیکر کو باہر رکھا تھا، صبح ہوتے  ہی سوال جواب کا سلسلہ جاری ہوتا، دونوں  جانب کے  تیور ایک جیسے  تھے، اندازہ کیا جا سکتا ہے  کہ حالات کیسے  تھے، یونیورسٹی کیمپس میں  کس قسم کے  ڈرامے  ہو رہے  تھے، انتظامیہ کس طرح منہ تک رہی تھی، وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم  اور  چانسلر یہ سب کہاں  تھے اور یونیورسٹی کے  تعلق سے  کیا کر رہے  تھے اور کیا سوچ رہے  تھے، مجھے  ایک بار پھر ایک بگڑا ہوا ماحول ملا تھا دیکھتے  ہی دیکھتے  بہار کی یونیورسٹیاں  حکومت کے  ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی تحویل میں  چلی گئیں۔ سیکریٹری ایجوکیشن  اور  کمشنر ایجوکیشن وزیر تعلیم کے  ’نائب‘  بن گئے، یہ لوگ وائس چانسلر کے  رتبے  کو کچھ سمجھتے  ہی نہیں، وائس چانسلر بھی گرانٹس  اور  فنڈ  اور  دوسرے  معاملات  اور  مسائل کو لیے  ان کے  آگے  پیچھے  گھومنے  لگے۔ یونیورسٹیوں  کے  وائس چانسلر سکریٹریٹ میں  پائے  جانے  لگے، دونوں  یونیورسٹیوں  بہار  اور  .میں  رہتے  ہوئے  میں  نے  ایجوکیشن سیکریٹری  اور  کمشنر کو کبھی گھاس نہیں  ڈالی، بہار یونیورسٹی مظفر پور میں  رہتے  ہوئے  ایک بار سیکریٹری  اور  دوسری بار کمشنر ایجوکیشن نے  فون کیا۔ یہ بتایا کہ وزیر تعلیم ٹھا کر پرشاد سنگھ مظفر پور آ رہے  ہیں  وائس چانسلر سے  بھی ملیں  گے، میں  نے  ساتھ لنچ کر نے  کو کہا، وزیر تعلیم آئے اور ڈرائنگ روم میں  بیٹھے، اُن کے  ساتھ آٹھ دس افراد بھی تھے  جو انتہائی بدتمیزی کا ثبوت دے  رہے  تھے۔ چند لمحوں  تک اُن کے  غیر مہذّب عمل سے  پریشان رہا پھر میں  نے  کہا ’’آپ سب باہر جایئے، یہاں  صرف وزیر تعلیم بیٹھیں  گے  میرے  ساتھ،یہاں  سیاسی معاملہ نہیں  ہے  یونیورسٹی کا معاملہ ہے۔ سب چونک سے  گئے۔ میرے  اس حکم کا اثر وزیر پر بھی ا چھا نہ تھا، میرے  سیکریٹری نے  سب کو باہر کر دیا۔ ڈرائنگ رُوم میں  صرف ہم دو تھے، میں اور وزیر تعلیم! ایسا لگا جیسے  وزیر موصوف جلے  بھنے  بیٹھے  ہیں۔ کابینہ میں  وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (جن سنگھ) کی نمائندگی کر رہے  تھے، بولے  ’’یہ بتائیے  وائس چانسلر صاحب جب میں  آپ کے  پاس آ رہا تھا تو میرے  استقبال کے  لیے  آپ یونیورسٹی گیٹ پر کیوں  نہ تھے؟‘‘  میری آنکھیں  یقیناً سرخ ہو گئی ہوں  گی، مجھے  وہ شخص انتہائی احمق نظر آ رہا تھا، میں  نے  کہا ’’جو کہا ہے  اسے  دہرائیے  گا نہیں، مجھے  جانتے  ہیں  میں  کون ہوں، ہندوستان کی سب سے  بڑی یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہوں، مجھ سے  توقع کرتے  ہیں  کہ میں  استقبال کے  لیے  یونیورسٹی گیٹ پر کھڑا رہوں۔ میں  اسے  وائس چانسلر کی توہین سمجھتا ہوں۔ ریاستی حکومت کی جو کابینہ ہے  آپ اس کے  ایک وزیر ہیں  چونکہ تعلیم کا قلمدان آپ کے  پاس ہے  اس لیے  عزّت کرتا ہوں، ایسی توقع نہ رکھیے  مجھ سے  کہ جس سے  آپ کو مایوسی ہو، آپ یقیناً یونیورسٹی کے  مسائل پر گفتگو کر نے  آئے  ہیں، کھانا کھا لیجیے  پھر باتیں  کروں  گا۔‘‘  
	 ’’آپ کے  بارے  میں  مکھ منتری  اور  چانسلر سے  بات کروں  گا۔‘‘  وہ تلملا گئے۔ 
	 ’’دیکھئے  پہلے  یہ کیجیے  کہ اُٹھ کر میرے  پاؤں  چھوکر سلام کیجیے اور میرا آشرواد لیجیے۔‘‘  
	منتری جی بوکھلا گئے، دیوانے  سے  ہونے  لگے۔ 
	 ’’ہاں  ہاں، آپ میری یونیورسٹی کے  ایک کالج کے  ایک لیکچر ر ہیں، آپ کی ملازمت کالج میں  ہے، کل منتری نہ ہوں  گے  تو پھر اسی کالج میں  پڑھانے  آئیں  گے، میں  آپ کا وائس چانسلر ہوں  میرا آشرواد لیجیے  تاکہ آپ  اور  پھلیں  پھولیں  (کافی تندرست آدمی تھے ) بھوک لگی ہے  تو چلئے  کھانا تیاّر ہے  پھر یونیورسٹی کے  بارے  میں  بات کریں  گے۔‘‘  
	ڈانٹ سن کر جس طرح کوئی بچہ حکم کی تعمیل کرتا ہے  اسی طرح وہ فوراً کھانے  کے  ٹیبل پر آ گئے اور انتہائی بے  ڈھب  اور  غیر مہذّب انداز سے  کھانا کھانے  لگے۔ 
	یہ ہم دونوں  کی پہلی ملاقات تھی۔ 
	وزیر تعلیم ٹھا کر پرشاد سنگھ سے  میری دوسری  اور  آخری ملاقات دہلی میں  ہوئی، وہ بہار بھون میں  ٹھہرے  ہوئے  تھے، میں  وائس چانسلرز کانفرنس میں  آیا ہوا تھا  اور  میرا قیام بھی بہار بھون ہی میں  تھا، کانفرنس کے  بعد میں  نے  چند یونیورسٹیوں  کے  وائس چانسلروں  کو شب کے  کھانے  پر مدعو کیا، بہار کے  وزیر تعلیم کو بھی دعوت دی تشریف لائے، متعارف ہوئے، مہمان اُن سے  مل کر خوش ہوئے  تو مجھے  محسوس ہوا جیسے  وہ پٹنہ کے  سیکریٹریٹ میں  بیٹھے  بہار کے  وائس چانسلروں  کو ہدایتیں  دے  رہے  ہوں، اپنے  خاص انداز سے  تعلیم  اور  علم کی اہمیت سمجھا رہے  تھے، بعض وائس چانسلروں  کی انگریزی سن کر پریشان بھی تھے، تعلیمی مسائل پر بولنے  کی کوشش کرتے  پھر اچانک چپ ہو جاتے۔ اچانک حاضرین کو مخاطب کر کے  ایک عجیب و غریب کہانی سنانے  لگے، سب اُن کی جانب حیرت سے  دیکھ رہے  تھے، کہانی تھی کہ ختم ہی نہیں  ہو رہی تھی، کہانی سناتے  ہوئے  تھوڑی بہت اداکاری بھی کر رہے  تھے، کہانی کچھ اس طرح تھی، اُن کے  گاؤں  میں  ایک بڑا ناگ نمودار ہوا۔ اُس نے  اُن کے  ایک رشتہ دار کو نگل لیا، منتر پڑھے  گئے  پھر وہ رشتہ دار باہر نکل آیا، ناگ نے  اُسے  آشرواد دیا (حالانکہ شراپ دینا چاہیے  تھا)  اور  پھر وہ شخص جانے  کتنی بڑی زمین کا مالک بن گیا۔ ایک وائس چانسلر نے  کہا ’’منتری جی 
اب جب اُس ناگ سے  ملاقات ہو تو اُس سے  کہیے  مجھے  نگل لے  لیکن یاد رکھیے  منتر آپ پڑھیں  گے۔‘‘  منتری جی خوب ہنسے، بے  حد خوش ہوئے، سمجھے  دھونس جم گئی بات جم گئی۔ 
	میرے  بھائی جان محمد جمیل الرحمن صاحب ڈسٹرکٹ  اور  سیشن جج تھے، ریٹائر ہو گئے  تو چھپرہ سے  حاجی پور آ گئے، اپنی ایک عدد جرسی گائے  میرے  پاس بھجوا دی تاکہ میں  اسے  کچھ دن اپنے  پاس رکھوں، مناسب جگہ مل جائے  تو وہ واپس لے  لیں  گے۔ منتری جی جب مظفر پور آئے  تھے  تو انھوں  نے  وہ جرسی گائے  دیکھ لی تھی، غالباً اُن کے  منہ میں  پانی آ گیا تھا، مظفر پور سے  واپسی کے  بعد منتری جی ہر اُس شخص سے  کہ جو بہار یونیورسٹی میں  کسی سفارش کے  لیے  اُن کے  پاس جاتا یہی کہتے  یہ کل پتی (وائس چانسلر) پاگل ہے، مجھ سے  کہا پاؤں  چھوکر سلام کرو میں  تمھارا کل پتی ہوں۔‘‘  کبھی کہتے  ’’ایسے  پاگل کل پتی کے  پاس میں  سفارش نہیں  کر سکتا۔‘‘  جانے  کتنے  لوگوں  سے  کہہ چکے  تھے  کرپوری ٹھا کر (وزیر اعلیٰ) کشمیر سے  ایک پاگل کل پتی لائے  ہیں  جو ’بھومیاروں ‘  پر (بھومیار بہار کی ایک ذات ہے  جس کی تعداد مظفر پور میں  زیادہ تھی، بھومیار سمجھتے  تھے  کہ بہار یونیورسٹی پر صرف اُن کی ذات برادری ہی کا حق ہے ) ظلم کر رہا ہے۔ جرسی گائے  کے  سلسلے  میں  واقعہ یہ ہے  کہ اُن کے  ایک دوست آئے اور مجھ سے  رازدارانہ لہجے  میں  کہا ’’منتری جی کو آپ کی جرسی گائے  بہت پسند آ گئی ہے، پوچھ رہے  تھے  مجھے  دیں  گے  کل پتی جی۔‘‘  میں  نے اور بھی رازدارانہ لہجے  میں  جواب دیا ’’بھائی میں  تو یہ جرسی گائے  اسی وقت آپ کی کمر میں  باندھ کر بھیج دوں  لیکن بات یہی کہ اس کا دودھ پی کر ہی مجھ پر پاگل پن کا دورہ پڑتا ہے، ایسا نہ ہو منتری جی بھی۔۔۔  سمجھ گئے  نا!‘‘  
	 ’’سب سمجھ گیا۔ ضرور جادو ٹونا کر دیا ہے  کسی نے  اس پر، اب اس کا دودھ کبھی نہ پیجئے۔‘‘  اُن کے  دوست ہدایت دیتے  ہوئے  واپس چلے  گئے۔ 
	بڑے  نیک تھے  منتری ٹھا کر پرشاد سنگھ جی، زندہ کرداروں  میں  اُنھیں  بھی یاد رکھنا چاہتا ہوں۔ 
	دربھنگہ آنے  کے  بعد یونیورسٹی کے  تعلق سے  سچائیوں  کی پہچان ہونے  لگی، اندازہ ہوا کہ یونیورسٹی کے  بعض ایسے  مسائل ہیں  جو حد درجہ سنجیدہ، گمبھیر  اور  نازک ہیں، وائس چانسلر ان کے  سامنے  بے  بس ہے۔ انھیں  حل ہی نہیں  کر سکتا، ریاستی سرکار نے  مختلف دور میں  طرح طرح کے  مسائل پیدا کر دِیے  ہیں۔ حکومت انھیں  حل کر نے  سے  گریز کرتی ہے اور اس طرح ایسے  تمام مسائل وائس چانسلر کے  لیے  مصیبت کا سبب بن جاتے  ہیں۔ بہار کی تمام یونیورسٹیوں  کے  بنیادی مسائل یکساں  ہیں۔ وقت کے  ساتھ ہر مسئلہ پیچیدہ  اور  مشکل بنتا جا رہا ہے، سب سے  اہم مسئلہ گرانٹ  اور  رقم کا ہے۔ حکومت نے  یونیورسٹیوں  کے  ایک سو ساٹھ کروڑ روپے  روک رکھے  ہیں، جو خسارہ  اور  نقصان ہو رہا ہے  اس کا اندازہ ہی نہیں  کیا جا سکتا۔ ایک سال پہلے  کی منظور شدہ گرانٹ ’کٹوتی‘  کے  بعد ملتی ہے  جس سے  کوئی نئی ضرورت پوری نہیں  ہوتی، میں  بھی دوسرے  وائس چانسلروں  کی طرح بینک کی مدد سے  ’’او ور ڈرافٹ‘‘  پر یونیورسٹی چلانے  لگا۔ معلوم ہوا کہ تمام یونیورسٹیوں  کے  ’او ور ڈرافٹ‘  پر ہر سال نوکروڑ روپے  سود کے  چڑھ رہے  ہیں۔ اساتذہ  اور  کرمچاریوں  کی تنخواہوں  کا انتظام ہو جاتا تو مجھے  سکون ملتا۔ ایسی صورت میں  کوئی بھی وائس چانسلر بھلا کس قسم کی پلاننگ کر سکتا ہے۔ سوتیلی ماں  کے  سلوک کی بات کی جاتی رہی ہے  یہاں  تو حکومت لوگوں  میں  مقبولیت حاصل کر نے  کے  لیے  نت نئے  فیصلے  کرتی گئی ہے اور جان لیوا مسائل پیدا کر کے  یونیورسٹی کے  ساتھ دشمنی پر اُتر آئی ہے۔ 
	دوسرا اہم بنیادی مسئلہ یونیورسٹیوں  سے  وابستہ کالجوں  کا ہے، آئینی طور ملحق (Constituent) کالجوں  کے  علاوہ ریاست بہار میں  پانچ سو سے  زیادہ کالج ہیں  کہ جن میں  دو سو کے  قریب الحاقی (Affiliated) ہیں۔ یہ دیکھ سن کر سخت حیرت ہوئی کہ ان میں  بیس فی صد ایسے  کالج ہیں  جن کے  نام صرف کاغذ پر لکھے  ہوئے  ہیں  ان کا وجود ہی نہیں  ہے! دو سو ممبر اسمبلی  اور  بیس سے  زیادہ ممبر پارلیمنٹ کسی نہ کسی سطح پر ایسے  کالجوں  سے  وابستہ ہیں۔ کالجوں  کا یہ ’مافیا‘  بہار کے  ’ایجوکیشن مافیا‘  کا ایک   حصہ ہے۔ رام لکھن سنگھ یادو جو اس وقت نرسمہا راؤ کی حکومت میں  کابینہ درجے  کے  وزیر ہیں  ساٹھ سے  زیادہ کالجوں  کے  مالک  اور  اَن داتا ہیں۔ ساٹھ کالج ان کے  نام پر ہیں! اسی طرح جگن ناتھ مشر کا نام چالیس سے  زیادہ کالجوں  سے  وابستہ ہے! ایسے  کالجوں  کو کھولنے اور چلانے  کا صرف ایک ہی مقصد ہے  روپے  کمانا! Donations کے  نام پر بڑی بڑی رقم جمع کی جاتی ہے، کرمچاری بننا ہے  تو پانچ ہزار سے  پچاس ہزار دیجیے، بابو کلرک بننا ہے  تو پچاس ہزار سے  ایک لاکھ کی رقم مقرر ہے۔  اور  استاد بننا ہے  تو دس ہزار سے  پچاس ہزار روپے  کا انتظام کرنا ہو گا۔ برہمنوں  کے  کالجوں  کے  نام ہیں  اندرا گاندھی کالج، راجیو گاندھی کالج، سنجے  گاندھی کالج، جگن ناتھ مشر کالج، یادوؤں  کے  کالج کے  نام ہیں  رام لکھن سنگھ یادو کالج، بلرام بھگت کالج، راجپوتوں  نے  جو کالج کھول رکھے  ہیں  اُن کے  نام ہیں  ویر کنور سنگھ کالج، رانا پرتاپ سنگھ کالج، بھیشم نارائن سنگھ کالج، ستندر نارائن سنگھ کالج۔ بھومیاروں  نے  اپنے  کالج کے  نام دِیے  ہیں  ایل پی ساہی کالج، کرشتا ساہی کالج وغیرہ۔ ایک یونیورسٹی کے  ڈپٹی رجسٹرار نے  بھی اپنے  گاؤں  میں  اپنے  نام سے  ایک کالج کھول رکھا ہے، ضلع روہتاس کے  ایک بزرگ نے  بتایا کہ اُن کے  ضلع میں  باسٹھ کالج ہیں  جن میں  سترہ کالج ایسے  ہیں  کہ جن کا وجود ہی نہیں  ہے۔ جگن ناتھ مشر جب وزیر اعلیٰ تھے  تو اُنھوں  نے  غضب یہ کیا کہ۲۳۵ کالجوں  کو آئینی طور پر ملحق (Constituent) بنا کر یونیورسٹیوں  کے  حوالے  کر دیا۔ اب ایسے  کالجوں  کی تعداد تین سو پچاس تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں  بیشتر کالج زندہ سیاستدانوں اور لیڈروں  کے  نام پر ہیں۔ ستر کالج رام لکھن سنگھ یادو کے  نام پر ہیں  جن میں  ۴۷ آئینی طور یونیورسٹیوں  سے  ملحق ہیں اور ۲۳ الحاقی ہیں۔ یہ بھی دلچسپ سچائی ہے  کہ حکومت کے  پاس منظوری کے  لیے  اساتذہ کی جو فہرستیں  پہنچتی رہی ہیں  اُن میں  مسلسل نام کا اضافہ ہوتا رہا ہے، سرکار کے  دفاتر میں  بھی نام بڑھائے  جاتے  رہے  ہیں، اساتذہ کی تعداد بڑھتی رہی ہے۔ اکثر کالجوں  میں  طلبہ کی تعداد کم  اور  اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے۔ جب میں  بہار یونیورسٹی کا وائس چانسلر تھا تو چھپرہ کے  کالجوں  کا معائنہ کیا تھا، ان میں  ایک سائنس کالج بھی تھا کہ جس میں  طلبہ تھے  ہی نہیں، لیباریٹری نام کی کوئی چیز نہیں  تھی، کالج کے  پاس کتب خانہ بھی نہ تھا، چند بنچ  اور  ٹوٹی ہوئی کرسیاں  رکھی ہوئی تھیں، معلوم ہوا کہ جن طلبہ کو دوسرے  کالج رد کر دیتے  ہیں  وہ اس کالج میں  داخلہ لے  لیتے  ہیں، کلاس نہیں  ہوتے، امتحانات کے  وقت ان کے  نام بھیج دِیے  جاتے  ہیں، حاضری کے  رجسٹر مکمل کر لیے  جاتے  ہیں، پریکٹیکل کی حاضری دکھا دی جاتی ہے، اس کالج کی طرح بہار میں   اور  جانے  کتنے  کالج ہیں، اسکولوں  کی بعض ایسی شکستہ ’عمارتیں ‘  (دو تین کمروں  کے  کچے ّ مکانات) ہیں  کہ جن میں  کالجوں  کو چلتے  ہوئے  دکھایا جاتا ہے۔ ایسے  اساتذہ  اور  ایسے  کرمچاریوں  کے  نام بھی ملے  کہ جن کے  نام پر تنخواہیں  تو نکالی جاتی ہیں  لیکن اُن کا کہیں  وجود ہی نہیں  ہے۔ دو کالجوں  میں  ایسے  نابالغ بچوّں  کو دیکھا کہ جن کے  نام کا استعمال کلرکوں  کی تنخواہیں  نکالنے  کے  لیے  کیا جاتا ہے۔ چانسلر  اور  حکومت کے  پاس وائس چانسلر کی رپورٹوں  کی کبھی کوئی اہمیت نہیں  رہی، چانسلر نے  ایسے  مسائل کی جانب کبھی توجّہ نہیں  دی، بیوریو کریسی یہ کہتی رہی وائس چانسلر صاحب آپ کی رپورٹ درست ہے، ہم بھی حالات سے  واقف ہیں  لیکن کیا کریں، ایسے  کالج کے  مالک بھی تو سیاستداں، ایم ایل اے اور ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ ہم تو معاملے  کو آگے  بڑھاتے  ہوئے  گھبراتے  ہیں، ہم کیوں  کہیں  آ بیل ہمیں  مار!بہار کے  سیاستدانوں اور حکومت نے  مل جل کر دو بڑی حیرت انگیز  اور  دلخراش حرکتیں  کی ہیں، دو ایسے  تماشے  کیے  ہیں  جو یقیناً یونیورسٹی کے  لیے  مصیبت بن گئے  ہیں  ایک تماشا یہ کہ نئے  کالجوں  کے  الحاق (Affiliation) کے  لیے  یہ کہا گیا ’’الحاق بغیر مالی امداد کے  وعدہ کے!‘‘  یعنی حکومت وعدہ نہیں  کرتی کہ وہ ان کالجوں  کی مالی امداد کرے  گی  اگر چہ وہ انھیں  یونیورسٹی سے  وابستہ کر رہی ہے! سبحان اللہ، بس قربان جائیے۔ دوسرا تماشا یہ کہ ہم مختلف کالجوں  میں  مختلف شعبوں  کی تشکیل کر سکتے  ہیں، پوسٹ گریجویٹ سطح پر شعبے  بنا سکتے  ہیں  لیکن حکومت مالی امداد کا کوئی وعدہ نہیں  کرے  گی، یہ یونیورسٹی کی ذمّہ داری ہے  کہ وہ ان کی دیکھ بھال کرے! جب یونیورسٹی کی گرانٹس سال بھر بعد کٹوتی کے  بعد منظور ہوتی ہیں  تو بتائیے  وہ کن کالجوں اور کن شعبوں  کی دیکھ بھال کرے؟ وہ تو اپنے  اساتذہ  اور  ملازمین کو تنخواہ بھی وقت پر نہیں  دے  سکتی۔ اس اعلان کے  بعد  اور  نئے  کالج کھلنے  لگے، نئے  کالجوں  کا الحاق ہونے  لگا، کالجوں  میں  پوسٹ گریجویٹ کی سطح پر شعبے  نکلنے  لگے، ٹیچر، عملہ، عمارت، لیباریٹری، لائبریری ان کی جانب کبھی کوئی توجّہ نہیں  رہی۔ جو یونیورسٹی اپنے  اساتذہ  اور  اپنے  کرمچاریوں  کو وہ سب کچھ دینے  سے  مجبور ہے  جو اُن کے  حقوق میں  شامل ہیں، جو عمارتوں  کی مرّمت نہیں  کر سکتی، لائبریری میں  کتابوں  کا اضافہ نہیں  کر سکتی، طلبہ  اور  طالبات کے  ہوسٹلوں  کی مناسب دیکھ بھال نہیں  کر سکتی، لیباریٹریوں  کو چلا نہیں  سکتی، بھلا وہ کس طرح اتنا بوجھ برداشت کر سکتی ہے، نتیجہ صفر ہی ہے!
	 ’’بہار میں  یونیورسٹیاں  کہنے  کو آزاد  اور  خود مختار ہیں، بجٹ حکومت کے  ہاتھ میں  ہے، وائس چانسلروں  کو لانے اور نکالنے  کا کھیل جاری ہے اور آپ آزاد  اور  خود مختار کالجوں  (Autonomous Colleges) کے  بارے  میں  سوچ رہے  ہیں، اس سے  زیادہ مضحکہ خیز بات  اور  کیا ہو سکتی ہے‘‘  ۔۔۔ جب میں  نے  یہ بات چانسلر گووند نارائن سنگھ سے  کہی تھی تو وہ تلملا گئے  تھے۔ اُنھوں  نے  چند کالجوں  کو Autonomous بنانے  کی بابت میری رائے  طلب کی تھی، میں  نے  اس طرح جواب دیا تو وہ اپنی ’چوکی‘  سے  اُٹھ کھڑے  ہوئے  (وہ مجھے  عموماً ’چوکی‘  ہی پر بیٹھے  ملے ) کہا ’’تمھاری یونیورسٹی میں  یو جی سی کا کوئی ایسا سرکلر ہو کہ جس میں  Autonomous کالج کے  بارے  میں  بات کی گئی ہو تو اسے  راج بھون بھجوا دینا۔ راج بھون میں  کاغذ ملتے  نہیں  جانے  کہاں  چلے  جاتے  ہیں۔‘‘  
	میری دِلی تمنّا رہی کہ بہار کے  کالجوں اور یونیورسٹیوں  کے  طلبہ اپنی مایہ ناز تہذیبی روایات اپنی عوامی ادبی روایات، رقص، تمثیل، شاعری  اور  دوسرے  تخلیقی فنون سے  آشنا  اور  وابستہ رہیں، وہ ان کا مطالعہ کریں اور ان سے  ولولۂ حیات حاصل کریں۔ ایسا مطالعہ نہ صرف علاقائی عصبیت کے  امکان  اور  فرقہ واریت کو ختم کرے  گا بلکہ قومی وحدت کے  امکان کو بھی فروغ دے  گا، ایسے  موضوعات کالج  اور  یونیورسٹی کے  نصاب میں  شامل ہوں  تو ایک نئے  بہار کی تشکیل میں  مدد ملے  گی۔ 
	ہندوستان ایک بڑا زرعی ملک ہے، پچاس فیصد آبادی دیہی علاقوں  میں  رہتی ہے اور زراعت پر منحصر ہے۔ یہ لوگ سماجی، معاشی  اور  تعلیمی سطح پر آزادی کے  اتنے  دنوں  بعد بھی پسماندہ ہیں، ان کی اکثریت ناخواندہ ہے، ان کی حالت سدھارنا مرکزی  اور  ریاستی حکومت کی پالیسی کا ایک بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔ سماجی، معاشی  اور  تعلیمی پسماندگی دور کر نے  کے  لیے  پلاننگ کمیشن منصوبے  بناتے  رہتے  ہیں، اس سلسلے  میں  ہونے  والے  صرف کثیر کی فراہمی صوبے  یا ریاست  اور  مرکز سے  ہوتی رہتی ہے  لیکن یہ کاوشیں  ناکافی ہیں  جس کا کھلا ثبوت یہ ہے  کہ پسماندگی کے  مناظر اب تک نہیں  بدلے۔ 
	اس بحرانی دور میں  ہماری دانش گاہیں  زر کار محل بنے  رہنا گوارا نہیں  کر سکتیں، انھیں  زراعت، صنعت، تجارت کے  نظم و نسق، سرمایہ کاری  اور  دوسرے  اہم شعبوں  سے  معنی خیز رابطہ استوار کرنا ہو گا۔ ہمارے  اساتذہ  اور  طلبہ کو نصابی حیثیت سے  دیہی علاقوں  میں  کام کرنا ہو گا، اسرائیلی نمونوں  پر عملی تجربی کھیتیاں  ہماری دانش گا ہوں  کو بھی تیاّر کرنی چاہیے، اسرائیل میں  ہر تین سے  چار کیبوز کے  لیے  ایک کثیر الجہت ادارہ دو سے  تین میل کے  رقبہ میں  ہر گاؤں  میں  قائم کیا گیا ہے، عوام وہاں  سے  مشورے، بیج، ٹریکٹر  اور  کھاد وغیرہ حاصل کرتے  ہیں، ان کے  تمام مسائل یہاں  حل کیے  جاتے  ہیں۔ انھیں  کسی سرکاری شعبے  میں  اپنے  مسائل کے  حل کے  لیے  دوڑ لگانا نہیں  پڑتی، اس طرح اسرائیل نے  کم عرصے  میں  ترقی پذیر زرعی ملک کی حیثیت اختیار کر لی، ہم اس منصوبے  کو بہار میں  بھی بہ آسانی آزما سکتے  ہیں  کیونکہ دیہی علاقوں  میں  ایسے  کالجوں  کی کثیر تعداد موجود ہے  جو یونیورسٹیوں  سے  وابستہ ہیں، کالجوں  کی لیباریٹریاں  زرعی تحقیقات کے  کاموں  میں  لائی جا سکتی ہیں، فیزکس  اور  الکٹرونکس کے  شعبے  بھی صرف تحقیقات  اور  کلاس روم کی پڑھائی تک محدود نہ رہیں  انھیں  گاؤں  گاؤں  بجلی پہنچانے  کی ذمّہ داری سنبھالنی چاہیے  ہمارا نعرہ ’’ہر فرد کو روشنی  اور  کھیت کو بجلی‘‘  ہونا چاہیے، جب تک ایسا نہ ہوتا زرعی انقلاب کے  خواب کی تعبیر قیاس سے  بھی بعید رہے  گی۔ 
	مندرجہ بالا مقاصد کی تکمیل کے  لیے  دانش گا ہوں  کو ا چھے  منصوبے  بنانے  ہوں  گے، ہمارے  اساتذہ کو اپنی پوری حکیمانہ مہارت  اور  اخلاقی قوت کے  ساتھ طلبہ میں  محنت کشی کی عظمت کا احساس پیدا کرنا تاکہ وہ اپنی سماجی ذمّہ داریاں  سمجھتے  ہوئے  ایک صحت مند رویّہ سماج، معاش  اور  مذہب کے  مسائل میں  اپنا سکیں۔ انھیں  ہر گاؤں  میں  بجلی لے  کر جانا چاہیے۔ اس طرح ہماری دانش گاہیں  سچی آزادی کی مشعل بردار ہو جائیں  گی۔ آزادی کا تصوّر ہمیشہ جوابدہی کے  تصوّر سے  وابستہ رہا  اور  اس طرح انسانی تنظیم سے  براہِ راست اس کا ڈانڈا مل جاتا ہے، اس طرح یونیورسٹی کی ہر اکائی اپنی ذمّہ داری کو سمجھ سکے  گی  اور  اپنی مہارت اپنے  خلوص  اور  اپنے  علوم کا صحیح مصرف لے  سکے  گی، سربراہ کا فریضہ ان اکائیوں  میں  رابطہ قائم رکھنا ہے۔ ان اکائیوں  کی مشترکہ کاوش گاؤں  کی صورت تبدیل کر سکتی ہے اور ملک کو حقیقی ترقی پذیر شکل دے  سکتی ہے۔ 
	میں  نے  خلوص دل سے  محسوس کیا ہے  اس کی بنیاد پر میں  پلاننگ کمیشن، وزارتِ تعلیم، چانسلر  اور  وزیر اعلیٰ سے  بات کروں  گا۔ چا ہوں  گا کہ میری ان سفارشات پر غور کیا جائے:
		تعلیم		 درسی سربراہی کے  تحت تعلیم۔ 
		تعلیم +تہذیب	 یعنی تہذیبی میراثی سرمائے  کا داخل نصاب ہونا۔ 
		تعلیم +بجلی	یعنی ہر روح کو حیات کے  اعلیٰ اقدار سے  کر نے  میں اور ہر کھیت کو بجلی فراہم کر نے  میں اور ہر کوچے  کو  روشن کر نے  میں  تدریسی عملے  کی عملی شمولیت۔ 
	فلسفۂ تعلیم میں  کوئی خاطر خواہ تخلیقی ارتقاء واقع نہیں  ہو سکا، ہم کیا کر رہے  ہیں؟ اس سوال کا جواب ہمیں  خود اپنے  اندر تلاش کرنا ہو گا، اس سوال کا ہم جواب نہیں  دے  سکتے  کہ ہمارے  طلبہ نے  کس حد تک کائناتی  اور  ابدی اقدار سے  آشنائی حاصل کی ہے۔ کیا وہ فی الحقیقت مذہبی انتہا پسندی، بڑھتے  ہوئے  تشدّد پسندانہ رجحان، سماجی نا انصافی  اور  توہم پرستی کے  مقابلے  کے  لیے  کوئی تربیت پائی ہے؟ کیا وہ اس قابل ہو سکے  ہیں کہ قومی مقاصد ایکتا  اور  یکجہتی کی سمت میں  کوئی تعاون کر سکیں؟  اگر  جواب نفی میں  ہے اور ہم اہل دانش گاہ اس کے  ذمّہ دار ہیں، ہم سماج کے  سامنے اور آنے  والی نسل کے  سامنے  اس کے  لیے  جوابدہ ہیں۔ 
	موجودہ صورتِ حال کا ذمّہ دار کون ہے؟ مجھے  اس تلخ سچائی کے  اظہار میں  کوئی تامل نہیں  کہ ہم ہی جو یونیورسٹی سطح کی تعلیم کے  لیے  کرتا دھرتا ہیں  حقیقی  مجرم ہیں، ’ہم‘  سے  میری مراد اساتذہ  اور  اعلیٰ افسران علی الخصوص وائس چانسلر  اور  کسی حد تک طلبہ بھی۔ ہم دانشوروں  نے  اپنی آزادیِ فکر و عمل رہن رکھ دی ہے، ہم فکر و حیات کی داخلی تمناؤں  کی بنیادی پکار کو مہارت کے  ساتھ دبا دیتے  ہیں، ہم صرف ایک پکار سنتے  ہیں  ’’رہنما کی پیروی کرو‘‘  یہاں  تعلیمی دنیا کے  باسیوں  سے  ایک ہی سوال کرتا ہوں  کیا وہ صرف سیاستدانوں  کی اندھی تقلید پسند کریں  گے؟ یا وہ کورانہ تقلید کی سنہری قید سے  نکل کر نظام تعلیم کے  ڈھانچے  میں  خاموش مگر مثبت انقلاب لانا پسند کریں  گے، کیا وہ انسان میں  اس کی ذات کا بھروسہ اس کی روحانی عظمت کا عقیدہ بحال کر نے  میں  معاون ہوں  گے  یا محدود سیاسی گٹھ جوڑ کے  مادّی بہاؤ میں  کیڑوں  کی طرح بہہ جائیں  گے؟ مجھے  یقین ہے  کہ وہ خاموش لیکن مثبت انقلاب لانے  کے  عمل کو ترجیح دیں  گے  جس کے  نتیجے  میں  تعلیم سیاست کے  شکنجے  سے  آزاد ہو سکے  گی، بجائے  اس کے  کہ وہ سیاستدانوں  کی پیروی کریں  سیاستداں  ان کی پیروی کر کے  ملک و قوم کے  مستقبل کو سنوار سکیں  گے۔ سیاسی رہبری کی اہمیت تسلیم لیکن اس کا اپنا مقام ہے، اپنا دائرۂ عمل  اور  اس کی اپنی حدود ہیں، ہماری یونیورسٹیاں  ہی حرکی تعلیمی رہبری کے  لیے  مخصوص ہیں، یونیورسٹیوں  کے  مقدمات و فرائض، اغراض و مقاصد، سیاسی رہبری کے  اغراض و مقاصد سے  جدا ہیں، تعلیمی سربراہی اساتذہ میں  مقصدی یکجہتی پیدا کر کے  ان کے  اندر ہمکاری کا جذبہ اُبھارے  گی، طلبا میں  ایکتا پیدا کر کے  حیات کی اعلیٰ قدروں  کی سمت میں  انھیں  آگے  بڑھائے  گی، وہ ان کی عملی تو انائی کو منصوبہ بند کر کے  سیاسی بازی گری کے  امکانی مہلک میلان سے  محفوظ رکھے  گی۔ یہ اپنے  مختلف شعبوں  مثلاًNCC،NSS اور تعلیم بالغان  اور  تہذیبی شعبے  میں  ہمکاری پیدا کر کے  طالب علم تو انائی کو قومی فلاح کی طرف لگائے  گی، ایسی تعلیمی سربراہی قومی سیاسی سربراہی کے  لیے  بھی معاون ہو گی۔ 
	سائنس  اور  ٹیکنا لوجی کے  اس دور میں  ساری دنیا ایک جغرافیائی وحدت اختیار کر گئی ہے،  اگر چہ ادارہ جاتی طور پر یہ قومی، لسانی، مذہبی  اور  معاشی شعبوں  میں  بٹی ہوتی ہے، ہمارے  سماجی اداروں  کی حیثیت اس ادارہ جاتی نظام میں  عصری مادّی تہذیب  اور  تہذیبی اقدار کے  درمیان وسیلۂ ربط کی سی ہے  جو رابطہ دن بدن اپنی معنویت سے  محروم ہوتا جا رہا ہے  جس کا نتیجہ یہ ہے  کہ وہ تہذیبی اقدار جن سے  افراد معاشرہ رُوحانی تقویت، حریت، تسکین، جمالیاتی شعور، یکجہتی  اور  دوسری قدریں  حاصل کرتے  ہیں  بے  مول ہو گئے  ہیں، طبیعاتی  اور  سماجی علوم بلاشبہ انسانیت کے  ارتقاء کے  لیے  ضروری ہیں، ہم اعلیٰ تعلیم میں  ان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں  کر سکتے  لیکن انھوں  نے  بتدریج انھی بنیادی تہذیبی اداروں  کی بیخ کنی کر دی جو حیاتِ انسانی کے  اعلیٰ اقدار کے  ضامن  اور  محرک تھے، اس طرح حق گوئی و عمل خیر کے  محرکات گھٹ کر رہ گئے۔ سیاست کی بندگی میں  حیات کی اعلیٰ قدریں  جوئے  کم آب بن گئی ہیں  یہی صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے  کہ تعلیم کے  ڈانڈے  تہذیب سے  پیوستہ رکھے  جائیں۔ 
	ہمارا ملک علی العموم  اور  ہمارا بہار علی الخصوص سیاسی تہذیبی سفر کے  بحرانی دور سے  گزر رہا ہے، تہذیبی اقتدار، سماجی مساوات  اور  سیاسی مقاصد کے  درمیان محسوس خلیج پیدا ہو چکی تھی، طلبا، ان کے  سرپرست  اور  اساتذہ  اور  سماج کے  دوسرے  اعلیٰ طبقے  اپنا وہ اخلاقی تاثر کھو چکے  تھے  جو پہلے  اُن کا طرۂ امتیاز تھا۔ 
	اپنے  اِن خیالات کے  ساتھ جب بھی چانسلر سے  گفتگو کر نے  کی کوشش کی ناکامی ہوئی، اُن کے  پاس ایسی باتوں  کو سننے اور ان پر بات چیت کر نے  کا وقت نہیں  تھا، میں  نے  ایسا کیا اپنے  ان خیالات کو سمیٹا  اور  چانسلر کو لکھ بھیجا، اس کی ایک کاپی وزیر اعلیٰ کو بھیجی، گزارش کی مجھے  وقت دیا جائے  تاکہ کچھ باتیں  کر سکوں، بہار میں  بجلی کی فراہمی کے  سلسلے  میں  میں  نے  دہلی میں  دو اچھے  جانکاروں  سے  بات چیت کی تھی  اور  اُن سے  نوٹس بنوا کر وزیر اعلیٰ کو بھجوایا تھا، کوئی جواب موصول نہیں  ہوا، بہار میں  صنعتوں  کی نئی تشکیل  اور  ان کی ترقی کے  لیے  ٹاٹا سے  رابطہ قائم کر نے اور بات چیت کر نے  کی بھی تجویز رکھی تھی۔ ان باتوں  کو سمیٹ کر ایک مختصر مضمون کی صورت دی یہ مضمون ’’ہندوستان ٹائمز‘‘  پٹنہ میں  شائع ہوا۔ پسند ضرور کیا گیا چند خط بھی شائع ہوئے  لیکن کوئی بحث نہیں  ہوئی۔ کئی برس بعد سنا حکومت نے  ٹاٹا سے  رابطہ قائم کر نے  کی کوشش کی تھی۔ جانے  کیا ہوا۔ 
	۵!جنوری ۱۹۸۸ء کو چانسلر شری پی ونکٹ سبھیا کے  نام بیس صفحات کا ایک خط لکھا، یہ خط یونیورسٹی پریس میں  چھپا  اور  ایک کتابچے  کی صورت چانسلر کی خدمت میں  پیش کیا گیا، اس خط میں  میں  نے  یونیورسٹی کی مختصر تاریخ لکھی، یونیورسٹی سے  وابستہ تمام کالجوں  کے  حالات لکھے، یونیورسٹی کے  شعبوں  کی مشکلات کا ذکر کیا، انتظامیہ پر تبصرہ کیا، گرانٹس کی صورتِ حال پر اظہارِ خیال کیا، بتایا کہ ۸۲۔ ۱۹۸۱ء سے  ۸۷۔ ۱۹۸۶ء کے  بجٹ میں  نوے  کروڑ سے  زیادہ (Rs. 90,09,17,206/-) رقم کی سفارش کی گئی تھی، حکومت نے  چھیاسٹھ کروڑ سے  کچھ زیادہ (Rs, 66, 41,17,359/-) رقم منظور کی لیکن یونیورسٹی کو صرف سیتالیس کروڑ کی رقم (Rs. 47,19,55,976/-) موصول ہوئی، ایسی صورت میں  بھلا یونیورسٹی کس طرح چلے  گی؟ اگزامنیشن  اور  یونیورسٹی لائبریری کی مشکلات کو بھی پیش کیا۔ 
	چانسلر نے  یہ خط پڑھ کر کہا پہلی بار کسی بھی یونیورسٹی کے  بارے  میں  اتنی جانکاری ہوئی ہے، انھوں  نے  اس خط کی بنیاد پر ایک نوٹ ریاستی حکومت کو بھیجا  اور  خواہش ظاہر کی کہ وائس چانسلر کی بعض سفارشات پر جلد غور کر کے  کار روائی کی جائے۔ میں  نے  اس خط کی نقل وزیر اعلیٰ کو بھی بھیج دی تھی۔ انتظار کرتا رہا کسی قسم کی کوئی کار روائی نہیں  ہوئی، البتہ دباؤ ڈال کر ’’اوڈیٹرس‘‘  (Auditors)  بلوائے اور یونیورسٹی  اور  کالجوں  میں  ’اوڈیٹنگ‘  کا کام شروع ہو گیا، جب سے  یونیورسٹی کا قیام عمل میں  آیا تھا  اور  کالجوں  کی تشکیل ہوئی تھی ’اوڈیٹنگ‘  نہیں  ہوئی تھی!
	انتظامیہ کے  کام کو بہتر  اور  چست بنانا ضروری تھا لہٰذا یونیورسٹی کے  تمام شعبوں  کی نئی ترتیب کی جانب توجّہ دی۔ آفس کے  نام تبدیل کیے، بعض بڑے  آفس دو حصوں  میں  تقسیم کیے  تاکہ کام کر نے  میں  آسانی ہو، جو بھی کیا طلبہ  اور  اساتذہ کے  مفاد میں  کیا۔ چاہتا تھا یونیورسٹی کے  کسی آفس میں  کسی کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو۔ کم سے  کم وقت میں  لوگوں  کے  مسائل حل ہو جائیں۔ اس سلسلے  میں  بڑی کامیابی ہوئی، کام میں  تیزی آ گئی، چند تبدیلیاں  اس طرح کی تھیں:
(۱)	یونیورسٹی کا ’’جنرل سیکشن‘‘  دو حصوں  میں  تقسیم ہو گیا۔ ’’جنرل ایڈمنسٹریشن‘‘  (General Administration)  اور  ’’پرسنل برانچ‘‘  (Personal Branch)۔ ایک سینئر ڈپٹی رجسٹرار کو اس کا سربراہ بنا دیا۔ اس کے  چار ’یونٹس‘  (Units) بنے۔ ایک ’’یونیورسٹی ٹیچرس یونٹ‘‘   اور  دوسرے  کو ’’کالج ٹیچرس یونٹ‘‘  کہا گیا۔ دربھنگہ  اور  کوسی ڈیویژن کو الگ کر دیا۔ تیسرے  یونٹ کی ذمّہ داری یہ ہوئی کہ وہ ’’نان ٹیچرس‘‘  (Non-Te انراگا أ                                                                                                                      achers) کے  مسائل دیکھے۔ چوتھے  یونٹ کو ’’جنرل‘‘  یا عام یونٹ بنا دیا۔ اس کا کام پنشن  اور  پنشن یافتہ اساتذہ کے  مسائل کو دیکھنا ہوا۔ کارکنوں  کی   چھٹیوں  کے  معاملہ کو دیکھنے  کا پورا اختیار ڈپٹی رجسٹرار کو دے  دیا۔ 
(۲)	 ’’اکیڈمک برانچ‘‘  (Academic Branch) کی نئی تشکیل کی  اور  نصابات  اور  ریسرچ وغیرہ کے  معاملے  اس کے  حوالے  کیے۔ 
(۳)	 ’’ڈیولپمنٹ برانچ (Development Branch) کی تشکیل کی  اور  ایک آفیسر کو اس کا سربراہ بنا دیا۔ 
(۴)	ایک ’’کوآرڈی نیشن برانچ‘‘  (Co-Ordination Branch) کی بھی تشکیل کی۔ تمام ’’یونٹس‘‘  (Units) سے  ان کا تعلق قائم کیا نیز کچہری، کورٹ، مقدموں  کے  تمام معاملات اس کے  حوالے  کیے۔ انسپکٹر آف کالیجز کو اس کو سربراہ بنا دیا۔ 
(۵)	 ’’پبلک ریلیشن برانچ‘‘   اور  ’’استقبالیہ کے  کاؤنٹر‘‘  کی وجہ سے  عوام سے  رابطہ  اور  زیادہ مضبوط ہوتا گیا۔ 
(۶)	 ’’اسٹیٹ برانچ‘‘  ’ریکارڈ سیل‘  (Record Cell بات چانسلر گو                                                                                                                  ) ’انجینئر نگ سیل‘   اور  کئی دوسرے  برانچ  اور  یونٹس بنائے۔ 
	ایڈمنسٹریشن یا انتظامیہ میں  یہ انقلابی تبدیلی غیر معمولی نوعیت کی ثابت ہوئی، دیکھتے  ہی دیکھتے  یونیورسٹی تیزی سے  آگے  بڑھنے  لگی، ذمّہ دار افسروں  نے  واقعی اپنی ذمّہ داری نبھانے  کی کوشش کی ورنہ ہر گز اتنی کامیابی نہ ہوتی، جن لوگوں  کو یونیورسٹی انتظامیہ کا تلخ تجربہ تھا وہ حیرت زدہ تھے  کہ کام کس تیزی سے  ہو رہا ہے۔ والدین، اساتذہ، ملازمین، طلبہ خوش تھے، کسی مسئلے  پر بات چیت کر نے  کے  لیے  وائس چانسلر کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا۔ لہٰذا انھیں  کسی بات کی تکلیف نہیں  ہوتی۔ مختلف یونٹس،سیل  اور  شعبوں  کا بار بار اچانک معائنہ کرتا رہا اس کا بھی اچھا اثر تھا۔ امتحانات کے  شعبے  کی جانب بھی خاص توجّہ دی، صرف .یونیورسٹی ہی کا نہیں  بلکہ بہار کی ہر یونیورسٹی میں  امتحانات کا شعبہ ہی زیادہ بکھرا ہوا  اور  بگڑا ہوا تھا۔ کئی برسوں  سے  بعض امتحانات نہیں  ہوئے  تھے، کئی برس بیت جانے  کے  باوجود بعض امتحانات کے  نتائج شائع نہ ہوئے  تھے، طلبہ کی زندگی  اور  اُن کے  مستقبل سے  جیسے  کسی کو کسی قسم کی دلچسپی ہی نہ ہو۔ بہت دکھ ہوا یہ سب کچھ دیکھ کر، ہر ممکن کوشش کر کے  پچھلے  امتحانات کے  نتائج شائع کرائے، نیز کئی پچھلے  امتحانات کی تاریخیں  مقرر کر کے  طلبہ کو شامل کیا۔ اللہ کے  فضل و کرم سے  ہر معاملے  میں  کامیابی حاصل ہو رہی تھی  اور  پورے  علاقے  میں  ا چھا اثر ہو رہا تھا۔ کام کرتے  ہوئے  زیادہ وقت گزرا نہ تھا کہ محسوس کیا کہ .کے  طلبہ مجھے  اپنا روحانی باپ تصوّر کر نے  لگے  ہیں اور ان کے  والدین معلّمین ہیں۔ ایک بار کچھ شکایتیں  موصول ہوئیں  تو میں  نے  اچانک معائنہ کر کے  شعبۂ امتحانات کی اُن الماریوں  کو مہر بند کر دیا کہ جن میں  کانفیڈنشیل ریکارڈ  اور  رجسٹر موجود تھے، ایک کمیٹی بنا کر شکایات کی جانچ کی ذمّہ داری سونپ دی، کمیٹی کی رپورٹ کے  آنے  کے  بعد جو کار روائی کی اُس سے  پچھلی دھاندلیوں  کا راز بھی فاش ہو گیا، لوگ حیرت زدہ بھی تھے اور خوش بھی!
	ایک شام ایسا ہوا میں  شہر کے  مشہور ہومیوپیتھ ڈاکٹر حلیم صاحب سے  مل کر واپس آ رہا تھا، کچھ ہی دور چلا تھا کہ دو طلبہ نے  گاڑی روکنے  کو کہا، وہ ہاتھ جوڑے  رُک جانے  کی گزارش کر رہے  تھے، جب گاڑی رُکی تو اُنھوں  نے  کہا ہم آپ سے  ایک ضروری بات کرنا چاہتے  ہیں  لیکن یہاں  نہیں  وائس چانسلر کی کوٹھی پر، ہم آپ کے  ساتھ چلنے  کو بھی تیاّر ہیں، یوں  آپ حکم دیں  تو ہم رکشے  پر بیٹھ کر کوٹھی آ جائیں۔ دونوں  بہت سنجیدہ تھے، مخلص لگے، سیکورٹی گارڈ کے  احتجاج کے  باوجود میں  نے  دونوں  کو اپنے  ساتھ بیٹھا لیا  اور  کوٹھی پر آ گئے۔ کچھ دیر بات چیت ہوئی، سچائی کا علم ہوا تو مجھے  بڑی حیرت ہوئی، اُنھوں  نے  چند کاپیاں  میرے  حوالے  کیں، پاؤں  چھوکر سلام کیا  اور  چلے  گئے، اب جو میں  نے  کاپیوں  کا معائنہ کیا تو پتہ چلا یہ چند کاپیاں  نیپالی طلبہ کی ہیں، نیپالی طلبہ .یونیورسٹی سے  امتحان دیتے  ہیں اور رشوت دے  کر اچھے  نمبر حاصل کرتے  ہیں اور اس کے  بعد اُن کا داخلہ ہندوستان کے  کسی بھی علاقے  یا ریاست کے  میڈیکل کالج یا انجینئرنگ کالج میں  ہو جاتا ہے۔ یہ کروڑوں  کا کاروبار ہے۔ اس مافیا کی مجھے  خبر تھی لیکن اب تک میرے  پاس کوئی ثبوت نہ تھا۔ دوسرے  دن میں  نے  اپنی سطح پر تحقیق کی۔ ۱۹۸۶ء کے  انٹرمیڈیٹ امتحان میں  شامل ہوئے  اُنیس نیپالی طلبہ کے  نتائج رد کر دِیے۔ ان طلبہ نے  اپنے  غیر ملکی ہونے  کی بات پوشیدہ رکھ کر مارواڑی کالج دربھنگہ سے  امتحان دیا تھا۔ اس مافیا میں  یونیورسٹی  اور  بعض اہم کالجوں  کے  چند اساتذہ، پرنسپل، یونیورسٹی  اور  کالجوں  کے  اہل کار شریک تھے، نتائج کا رد ہونا تھا کہ ہر جانب کھلبلی سی مچ گئی، بعض نیپالی طلبہ جو اس یونیورسٹی سے  فرسٹ  اور  سیکنڈ ڈیویژن میں  انٹرمیڈیٹ پاس کر کے  ملک کے  بعض میڈیکل کالجوں  میں  داخلہ لے  چکے  تھے  واپس آئے۔ سنا وہ اُن لوگوں  پر ٹوٹ پڑے  کہ جنھوں  نے  اُن سے  بڑی رقمیں  وصول کی تھیں۔ میری اس کار روائی سے  ایک بڑے  مافیا کی پہچان ہو گئی  اور  جب تک وہاں  رہا یہ دھاندلی رُکی رہی، ایسی دھاندلی کر نے  والے  حد درجہ خوف زدہ ہو گئے  تھے۔ ایک نام نہاد ریڈر جو وزیر تعلیم کے  ’مفاد‘  کی دیکھ بھال کرتا تھا  اور  جس کی وجہ سے  رشوت حکومت کے  بعض اراکین تک پہنچی تھی اس ’مافیا‘  کا سرغنہ تھا، غلطی سے  میں  نے  اُسے  یونیورسٹی کی ایک بڑی ذمّہ داری سونپی تھی، اُسے  اُس پوسٹ سے  ہٹا دیا، میں  اُن دونوں  بچوں  کی تلاش میں  رہا لیکن وہ مجھے  نہیں  ملے، اُن کے  لیے  دل سے  دعائیں  نکلیں۔ 
	 ’’کولمبو پلان‘‘  کے  تحت نیپالی طلبہ کو اس بات کی اجازت تھی کہ وہ انٹرمیڈیٹ میں  اچھی پوزیشن حاصل کر کے  میڈیکل  اور  انجینئرنگ کالجوں  میں  داخلہ لے  سکتے  ہیں۔ داخلے  کے  لیے  کسی قسم کے  امتحان ’’یا ٹسٹ‘‘  کی ضرورت نہیں  ہے۔ ہندوستانی بچوں  کے  لیے  ضروری ہے  کہ وہ داخلے  کے  لیے  امتحان ’یاٹسٹ‘  میں  شریک ہوں۔ نیپالی طلبہ بیس ہزار سے  پچاس ہزار تک روپے  خرچ کرتے اور انٹرمیڈیٹ میں  فرسٹ ڈیویژن حاصل کر لیتے۔ یہ ایک بڑا ’مافیا‘  تھا، اس میں  وزیر تعلیم کا ایک ایجنٹ بھی شامل تھا، وہی سرغنہ تھا، اس کے  ساتھ یونیورسٹی کے  چند ملازمین بھی تھے۔ میں  نے  جو کار روائی کی اُس سے  اِن لوگوں  کے  ’کاروبار‘  کو بڑا نقصان پہنچا، لوگوں  کو بھی حالات کی پوری خبر ملی۔ میں  نے  سات تجربہ کار پروفیسروں  کی ایک کمیٹی بنائی، بڑی خاموشی سے  انھیں  دربھنگہ، مدھوبنی، سمستی پور، پورنیہ، کٹیہار وغیرہ بھیجا، یہ تاکید کی کہ وہ انٹرمیڈیٹ کے  امتحانات کے  تمام پرچوں  کو بند کر کے  مہرلگادیں۔ ہر جگہ یہ کام ایک ہی وقت میں  ہوا، ۱۹!مارچ ۱۹۸۸ء کو دن کے  گیارہ بجے!  اگر  اس عمل کی خبر پہلے  پہنچ جاتی تو ممکن تھا نیپالی طلبہ کی کاپیاں  آسانی سے  نکال لی جاتیں۔ یونیورسٹی کے  اس ایکشن کی تعریف ہر جگہ ہوئی۔ 
	اِس کے  بعد انٹرمیڈیٹ کے  جو امتحانات ہوئے  اُن میں  اس ’مافیا‘  کو کامیابی حاصل نہ ہو سکی  اور  میں  اسے  یونیورسٹی کا ایک کارنامہ تصوّر کرتا ہوں!!
	جب گو وندا نارائن سنگھ بہار کے  گورنر  اور  بہار کی یونیورسٹیوں  کے  چانسلر ہو کر آئے  تومیں نے  اُنھیں  کئی خط لکھے اور صرف اپنی یونیورسٹی نہیں  بلکہ بہار کی دیگر یونیورسٹیوں  کے  مسائل سے  بھی آگاہ کیا، اُمید یہ تھی کہ وہ اس طرح حالات کو بخوبی سمجھ کر بہار کے  گرتے  ہوئے  نظامِ تعلیم کو سنبھال لیں  گے۔ جب بھی ملاقات ہوئی باتیں  بڑی بڑی کرتے  رہے  لیکن جو بھی قدم اُٹھا یا وہ غلط سمت میں  اُٹھایا۔ وہ اپنے  ’’تجربوں‘‘  پر ہمیشہ فخر کرتے  لیکن تعلیمی ماحول  اور  علمی فضامیں  کوئی ’’یوگ دان‘‘  نہ کر سکے! میں  نے  یونیورسٹیوں  کے  مفاد میں  جو ایک خط لکھا تھا  اور  جسے  ٹائمز آف انڈیا  اور  ’’ہندوستان ٹائمز‘‘  کے  علاوہ ہندوستان کے  کئی انگریزی، ہندی  اور  اُردو اخباروں  نے  شائع کیا تھا یقیناً ایک تاریخی خط تھا، اس کی بنیاد پر نیشنل پریس نے  اداریے  بھی لکھے اور مختلف کمیٹیوں  نے  یونیورسٹیوں  کے  تعلق سے  اپنی سفارشات پیش کرتے  ہوئے  اس خط کی خاص خاص باتوں  کو ذہن میں  رکھا۔ اس خط سے  یہ بھی ہوا کہ پورے  ملک میں  بہار کی یونیورسٹیوں  کے  بنیادی مسائل  اور  بہار کی یونیورسٹیوں  کے  المیے  سے  آگاہی  اور  آشنائی ہوئی۔ اس کتاب میں  ’ٹائمز آف انڈیا‘  کا  تراشہ شامل ہے۔ "Varsity is Highlighted V.C. Writes to Governor" یہ اسی خط کے  پیش نظر لکھا گیا ہے۔ اس خط میں  میں  نے  مندرج ذیل چند اہم باتیں  تحریر کی تھیں:

و                                                                                                                              (۱)	بہار میں  اعلیٰ تعلیم کے  سلسلے  میں  کسی قسم کی پلاننگ نہیں  کی گئی ہے۔ لہٰذا اعلیٰ تعلیم پنپ نہیں  سکی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے  ادارے  بنتے  جا رہے  ہیں اور کسی نوعیت کا منصوبہ سامنے  نہیں  ہے۔ 
(۲)	آئے  دن نئے  کالج کھل رہے  ہیں، اِن کالجوں  سے  ذاتی مفادات وابستہ ہیں، زمینداری کے  ختم ہونے  کے  بعد ایسا لگ رہا ہے  جیسے  کالج نئی زمینداری کی صورت آ گئے  ہیں اور نئے  زمیندار پیدا ہو گئے  ہیں۔ جو لوگ اِن کالجوں  کی تشکیل کرتے  ہیں  وہی ان کے  مالک  اور  آقا ہیں، تقرریوں  کے  لیے  رقم مقرر ہیں، ذات پات کی بنیاد پر کالج بھی بنتے  ہیں اور تقرریاں  بھی ہوتی ہیں، ہر کالج میں  رشتہ داروں  کا قافلہ ہے۔ بعض کالجوں  میں  تنخواہیں  وصول کر نے  کے  لیے  لوگوں  کے  نام تو ہیں  وہ لوگ نہیں  ہیں  یعنی تنخواہیں  وصول کر نے  والے  افراد کا وجود ہی نہیں  ہے۔ کچھ عرصہ گزر جاتا ہے  تو ریاستی حکومت انھیں  Constituent Colleges کے  طور تسلیم کر لیتی ہے۔ ریاستی حکومت نے  یہ کبھی نہیں  دیکھا کہ کالج کی عمارت کیسی ہے، طلبہ  اور  اساتذہ کتنے اور کیسے  ہیں، کوئی لائبریری ہے  یا نہیں، لیباریٹریوں  کی حالت کیسی ہے، منیجنگ کمیٹی کیسی ہے اور اب تک کیا کچھ کرتی رہی ہے۔ دلچسپ  اور  حیرت انگیز بات یہ ہے  کہ یونیورسٹی سے  معائنہ کے  لیے  بھی کہا نہیں  جاتا۔ جب حکومت کسی کالج کو تسلیم کر لیتی ہے  تو پھر یہ بوجھ یونیورسٹی پر ڈال دیا جاتا ہے، یونیورسٹی اخراجات برداشت کرے اور حکومت یونیورسٹی کے  بجٹ میں  مسلسل کٹوتی کرتی رہے، یہ کتنا بڑا  اور  کتنا سنگین المیہ ہے۔ کیا ملک کی ترقی میں  بہار کو کوئی   حصہ نہیں  لینا ہے؟
(۳)	۱۹۷۶ء سے  ریاستی حکومت نے  ’ایکٹس‘   اور  ’’اسٹیچوز‘‘   میں  مسلسل بار بار تبدیلیاں  کی ہیں  جس کا سب سے  بڑا نقصان یہ ہوا ہے  کہ یونیورسٹیوں  کی آزادی ختم ہو گئی ہے  اس کی ’آٹونومی‘  چھن گئی ہے۔ یہ شرمناک بات تو ہے  ہی بہار کے  نظامِ تعلیم کا بہت بڑا المیہ بھی ہے  کہ یونیورسٹیاں  حکومت کے  ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے  علاقائی شعبوں  یا آفس کی طرح کام کر نے  لگی ہیں۔ نتائج؟ انتہائی دردناک ہیں  مثلاً تمام علمی  اور  تعلیمی قدریں  مجروح ہو گئی ہیں، تمام عمدہ  اور  اعلیٰ اصول ٹوٹ گئے  ہیں، منصوبہ بندی کی جانب کوئی توجّہ نہیں  ہے۔ نام نہاد تعلیمی ادارے  ہیں  جو پیدا ہوتے  جا رہے  ہیں۔ یونیورسٹیوں  کو مجبور کیا جا رہا ہے  کہ وہ انھیں  تسلیم کریں اور ان کے  اخراجات برداشت کریں  جبکہ حکومت ان کے  بجٹ میں  مسلسل کٹوتی ہی کرتی رہتی ہے، وائس چانسلر بے  سہارا ہو جاتا ہے، اُس میں  تمامتر توجّہ فنڈ کی جانب ہوتی ہے، علمی  اور  تعلیمی مسائل کی جانب توجّہ دینے  کی اُسے  فرصت ہی نہیں  ملتی، ایک ویلفیئر ریاست کے  لیے  اس سے  بھی زیادہ شرمناک بات ہو سکتی ہے  کہ یونیورسٹیوں  کے  وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے  دروازے  پر کاسے  لیے  بھیک مانگتے  نظر آئیں؟ جب میں  بہار یونیورسٹی کا وائس چانسلر تھا اُس وقت بھی کبھی سیکریٹریٹ نہیں  گیا  اور  صرف چانسلر سے  رابطہ رکھا  اور  اب بھی جب میں  .یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہوں  سیکریٹریٹ نہیں  جاتا، میں  نے  اپنی یونیورسٹی کا کاسہ جس طرح توڑا ہے اور اس کی آواز پورے  بہار  اور  بہار سے  باہر جس طرح گونجی ہے، سب کو پتہ ہے  میں  یونیورسٹی کا مطالبہ براہِ راست آپ کے  سامنے  رکھتا ہوں۔ 
(۴)	تعلیم کا معیار بڑی تیزی سے  گرا ہے اور گرتا جا رہا ہے، اسی طرح ریسرچ یا تحقیق کا کوئی معیار نہیں  رہا، بہار میں  پی ایم ڈی ڈگریوں  کے  لیے، وہ سائنس کے  لیے  ہوں  یا ہیومنٹیز کے  لیے  دُکانیں  کھل گئی ہیں، یہاں  تحقیقی مقالے  تیاّر کیے  جاتے  ہیں، جب میں  بہار یونیورسٹی  کا وائس چانسلر تھا تو پی ایچ ڈی  اور  ڈی۔ لٹ وغیرہ کے  ’’وائے  وا‘‘  (زبانی امتحان) میں  خود بھی بیٹھتا تھا، اسی طرح یہاں  .یونیورسٹی میں  کر رہا ہوں۔ دونوں  یونیورسٹیوں  کے  بعض تجربے  حد درجہ اذیت ناک ہیں، کوئی یہ کہے  کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں  میں  باقاعدہ کلاسز ہوتی ہیں  تو یقیناً اُس کا کہنا درست نہیں  ہے۔ بہار کی سیاست نے  اساتذہ کو اپنی مکمل گرفت میں  لے  رکھا ہے، ’ٹیٹوریل‘   اور  ’’پریکٹیکل کلاسیز‘‘  تو بس مذاق بن کر رہ گئے  ہیں۔ بعض شعبوں  میں  برسوں  سے  ’’پریکٹیکل کلاسیز‘‘  نہیں  ہوئے اور طلبہ امتحانات دے  رہے  ہیں۔ کہا جاتا ہے  روپے  کی کمی ہے، میں  نے  دور دراز علاقوں  کے  جن کالجوں  کا معائنہ کیا ہے  وہاں  ماحول دیکھ کر سخت تکلیف پہنچی ہے۔ ہوسٹل بہت بُرے  حال میں  ہیں۔ جب میں  بہار یونیورسٹی میں  تھا تو لنگٹ سنگھ کالج کے  ایک معروف ہوسٹل میں  بم بنا کرتے  تھے اور طلبہ کی ایک جماعت شب میں  جیپ پر سوار ہو کر لوٹ مار کر نے  جایا کرتی تھی، وہاں  ایک بار بم پھٹا  اور  ایک طالب علم کی ایک آنکھ جاتی رہی، میں  نے  اُس ہوسٹل پر دو بار پولیس کے  ’حملے ‘  کرائے اور بعض مجرم گرفتار ہوئے۔ اس کے  بعد وہاں  سکون رہا۔ ایک تجربہ کار سینئر پروفیسر ایسے  طلبہ کی سرپرستی کیا کرتے  تھے  ایک شب ایسا ہوا کہ خود اس سینئر پروفیسر کے  گھر میں  ان طلبہ کی وجہ سے  ڈکیتی ہو گئی، وائس چانسلر کی حیثیت سے  میں  بھی اظہارِ ہمدردی کے  لیے  گیا تھا، معلوم ہوا پروفیسر صاحب بخوبی جانتے  تھے  کہ اُن کے  کن شاگردوں  نے  اُن کے  گھر کو لوٹا ہے  لیکن اُن کی زبان بند تھی وہ کچھ کہتے  تو اُن کے  شاگرد بھی بہت سے  راز کھول دیتے۔ .یونیورسٹی کے  ہوسٹلوں  کے  مسائل ایسے  نہیں  ہیں، یہ ضرور ہے  کہ گرانٹس کی کمی کی وجہ سے  طلبہ سخت تکلیف میں  رہتے  ہیں، ہوسٹلوں  کا جو کلچر ہم لوگوں  کے  زمانے  میں  بنا تھا ختم ہو چکا ہے۔ 
(۵)	آپ بخوبی جانتے  ہیں  کہ ہم نے  امتحانوں  میں  نقل نویسی بند کر دی ہے، اس کا بہت ا چھا اثر ہوا ہے۔ اللہ کے  فضل سے  مجھے  یہ کامیابی اُس وقت بھی ہوئی تھی جب بہار یونیورسٹی کا وائس چانسلر تھا، یہاں  بھی زبردست کامیابی ہوئی ہے۔ طلبہ کے  اشتراک سے  بڑی مدد ملی ہے، اساتذہ نے  بھی اس سلسلے  میں  تاریخی کردار ادا کیا ہے  لیکن کیا کیجیے  بہار کی یونیورسٹیوں  کی ایک عجب روایت کو، جب امتحانات قریب آتے  ہیں  تو ملازمین ہڑتال پر چلے  جاتے  ہیں، جلوس نکالتے  ہیں، یونیورسٹی کالج کو طرح طرح سے  نقصان پہنچاتے  ہیں، آئے  دن نئے  مطالبات رکھتے  ہیں، امتحانات ہونے  نہیں  دیتے، یہاں  بھی ملازمین نے  یہ حرکت کی، میں  نے  اُن سے  کہا طلبہ کی وجہ سے  اساتذہ  اور  کالج  اور  یونیورسٹیاں  ہیں اور ان سب کی وجہ سے  تم لوگ ہو، میں  کسی قیمت پر طلبہ کا نقصان ہونے  نہ دوں  گا، مجھے  اُن کے  مستقبل کی فکر ہے، لہٰذا آپ کو معلوم ہے  کہ ملازمین کے  ہڑتال پر رہنے  کے  باوجود میں  نے  صاف ستھرے  امتحانات لیے  کہ جس کا ذکر ہر جانب ہے، نیشنل پریس نے  بھی تعریف کی ہے۔ 
(۶)	کئی کالجوں  میں  مختلف پوسٹ گریجویٹ شعبے  نکل گئے  ہیں، یہ نیا تماشا ہے، حکومت  اور  سیاستدانوں  نے  یہ تماشا دکھانا شروع کیا تو سب حیرت زدہ رہ گئے۔ غور فرمائیے۔ اساتذہ کی کمی ہے، اسٹاف نہیں  ہے، کتب خانے  نہیں ہیں، لیباریٹریاں  نہیں  ہیں، یہ کتنا بڑا لمیہ ہے  کہ یہ کالج جس یونیورسٹی سے  وابستہ اُس سے  کسی قسم کا مشورہ نہیں  کیا جاتا؟
	کوئی بھی وائس چانسلر اپنے  چانسلر کو اس سے  زیادہ  اور  کیا لکھ سکتا تھا؟ میرے  خط میں  تو ساری بنیادی باتیں  سمٹ آئی تھیں۔ چانسلر کے  کان پر جوں  تک نہ رینگی، کسی بھی چانسلر کے  لیے  بہار کی یونیورسٹیوں  کے  مسائل کو سمجھنے  کے  لیے  یہ خط کافی تھا، میں  نے  گزارش کی تھی کہ ہم سب مل کر ایک منصوبے  کے  تحت کام شروع کریں اور عوام کا اعتماد حاصل کریں۔ میں  نے  اِن بنیادی مسائل کے  پیشِ نظر وزیر اعلیٰ بھاگوت جھا آزاد سے  بھی مفصّل گفتگو کی تھی۔ وثوق سے  نہیں  کہہ سکتا کہ اُن کی سمجھ میں  ساری باتیں  آئی تھیں  یا نہیں، یوں  میرے  چانسلر بھی کھا نئی سیاستداں  تھے، یونیورسٹیوں  کے  مسائل ان کے  مسائل تھے  ہی نہیں، ہر وزیر اعلیٰ نے  یہ سمجھا، وہ بھاگوت جھا ہوں  یا جگن ناتھ مشر، کہ یونیورسٹیاں  بہار کی سماجی زندگی  اور  اس زندگی کے  ارتقاء میں  کوئی کردار ادا نہیں  کرتیں!
	 ’’یونیورسٹی ہیلتھ سنٹر‘‘  کو فعال بنانے  کے  لیے  کئی احکامات جاری کیے اور بار بار معائنہ کر کے  اسے  متحرک رکھا۔ کوشش کی کہ یونیورسٹی کے  طلبہ، اساتذہ  اور  ملازمین کو ہر ممکن سہولتیں  ملتی رہیں۔ اس سلسلے  میں  بھی کامیابی ہوئی، اس ’’ہیلتھ سینٹر‘‘  کا قیام یوں  تو مارچ ۱۹۸۲ء میں  عمل میں  آیا تھا لیکن اسٹاف کی کمی  اور  یونیورسٹی انتظامیہ کے  غلط رویوں  کی وجہ سے  کام کاج ٹھپ پڑا تھا، دوائیں  دستیاب نہ تھیں، ایمرجنسی میں  کسی نوعیت کی سہولت موجود نہیں  تھی، چند اسٹاف مہیّا کیے، دواؤں  کا بہتر انتظام کیا، لیڈی ڈاکٹر کا تقرر کیا، ’’پیتھولوجیکل ٹیکنیشین‘‘  (Pathological Technician) کی بحالی کی، کمپاؤنڈر رکھا، اوقات مقرر کیے، ہوسٹلوں  کے  طلبہ مطالبات کے  معائنے  کا انتظام کیا، ڈاکٹروں  کو تاکید کی کہ وہ ایسے  طلبہ کی رپورٹ تیاّر کریں  کہ جو خدانخواستہ کسی قسم کی نشیلی دوا استعمال کرتے  ہیں، جب تک وہاں  رہا ایسا کوئی کیس میرے  سامنے  نہیں  آیا  اور  اس بات سے  مجھے  بے  حد خوشی ہوئی، میں  نے  دیکھا ڈاکٹروں  نے  ہوسٹلوں  میں  طلبہ و طالبات کا معائنہ شروع کر دیا ہے۔ ’’ہیلتھ ایجوکیشن‘‘  کا بھی انتظام کیا۔ فیملی پلاننگ کے  تعلق سے  معلومات فراہم کر نے  کا کام بھی ’’یونیورسٹی ہیلتھ سینٹر‘‘  کے  سپرد کیا۔ طلبہ کے  ’بلڈ گروپ‘‘  کے  ریکارڈ کے  لیے  کارڈ بنوائے  جنھیں  طلبہ اپنی جیبوں  میں  رکھتے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے  گزارش کی کہ یونیورسٹی ’ہیلتھ سینٹر‘  کی علیحدہ عمارت کے  لیے  مناسب رقم منظور کرے اور ایک ’’ایکسرے  پلانٹ‘‘  کے  لیے  گرانٹ مہیّا کرے، اس سلسلے  میں  چیئرمین یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے  میری بات چیت ہوئی، اُنھوں  نے  یقین دلایا کہ گرانٹ فراہم کی جائے  گی۔ 
	یونیورسٹی کی تاریخ پرانی نہیں  ہے  اس کے  باوجود عمدہ علمی  اور  تعلیمی روایات کی تشکیل نہیں  ہو سکی تھی، ابتدا ہی سے  علاقائی سیاست نے  اس کے  وجود کو جھنجھوڑ رکھا، چند سیاستدانوں  نے  یہ سمجھ رکھا کہ ریاستی حکومت نے  اس علاقے  میں  اُن کے  لیے  کوئی بہت بڑی زمینداری عطا کی ہے، یونیورسٹی انتظامیہ پر حاوی ہونے  کے  لیے  رسّہ کشی شروع ہوئی تو اب تک جاری ہے۔ ’’بہار آرڈینس نمبر ۶۷،۱۹۷۲ء‘‘  کے  تحت اس یونیورسٹی کا وجود عمل میں  آیا، اس آرڈیننس کا عمل ۱۱!مئی ۱۹۷۲ء سے  شروع ہوا۔ اُس وقت بہار کے  گورنر تھے  شری ڈی کے  بروا جو بہار کی تمام یونیورسٹیوں  کے  چانسلر تھے۔ ۵!اگست ۱۹۷۲ء کو اس کا افتتاح ہوا، ڈاکٹر مدن میشور  مشر اس کے  پہلے  وائس چانسلر بنے۔ یہ یونیورسٹی پہلے  موہن پور ہاؤس میں  تھی جو شہر سے  چار کلو میٹر دور تھا۔ ۱۹۷۵ء میں  اس کا نام ’’للت نارائن . یونیورسٹی‘‘  ہوا  اور  اسے  نیا گھر ملا دربھنگہ راج سیکریٹریٹ! اس یونیورسٹی سے  ۶۵ کالج وابستہ تھے، دربھنگہ میڈیکل کالج کا بھی اُس سے  الحاق ہوا۔ بارہ پوسٹ گریجویٹ شعبے  تھے۔ اب۶۹Constituent  اور  ۵۰ Aff l                                                                                                                              iiated کالج ہیں۔ پوسٹ گریجویٹ شعبوں  کی تعداد ۱۹ ہے۔ ایک انجینئرنگ کالج بھی اس سے  وابستہ ہے۔ بزنس مینجمنٹ کا ایک کالج ہے اور تین ٹیچرس ٹریننگ کالج ہیں۔ یہ یونیورسٹی آٹھ ضلعوں  میں  پھیلی ہوئی ہے۔ بہار کی سب سے  بڑی یونیورسٹی ہے۔ دربھنگہ  اور  کوسی ڈیویژن میں  تقسیم ہے۔ پہلے  ڈیویژن میں  دربھنگہ، مدھوبنی، سمستی پور  اور  بیگوسرائے  ضلعے  ہیں اور دوسرے  ڈیویژن میں  پورنیا، کٹیہار، سہرسہ  اور  مدھ پورہ ضلعے  ہیں۔ مشرق میں  بنگلہ دیش ہے اور شمال میں  نیپال، اس وقت ڈیڑھ لاکھ سے  زیادہ طلبہ مختلف امتحانوں  میں  شریک ہوتے  ہیں۔ 
	آٹھ فیکلٹیاں  ہیں  کامرس، ایجوکیشن، ہیومنٹیز، قانون، میڈیسن، سائنس، سوشل سائنس  اور  انجینئرنگ۔ یہاں  میوزک  اور  ڈرامے  کا بھی ایک شعبہ ہے  جسے  آگے  بڑھانے  کی بڑی کوشش کی۔ بجٹ میں  مناسب رقم نہ ہونے  کی وجہ سے  زیادہ کامیابی نہ ہو سکی، اس کا مجھے  افسوس رہا۔ میں  نے  ۲۰!اپریل ۱۹۸۸ء کو ایک آرڈر کے  تحت (VCR/5576-616/88) ہر سبجیکٹ میں  آنرز کی تعلیم کی اجازت دے  دی۔ دُور                                                                                                                                 دراز سے  طلبہ آنرز کی تعلیم کے  لیے  دربھنگہ آتے  تھے۔ اب وہ اپنے  کالج میں  آنرز کی تعلیم حاصل کر نے  لگے، کوشش کی کہ کالجوں  کو ضروری سہولیات مہیّا ہوں۔ اس آرڈر کے  بعد پورے  علاقے  میں  خوشی کی لہر دوڑگئی، طلبہ  اور  اُن کے  سرپرست بہت خوش ہوئے۔ مختلف کالجوں  میں  آنرز کی تعلیم کے  انتظامات ہونے  لگے۔ جب میں  بہار یونیورسٹی مظفرپور پہنچا تو وائس چانسلر کی حیثیت سے  پہلا کام یہ کیا تھا کہ اُردو  اور  فارسی کو دو شعبوں  میں  تقسیم کر دیا تھا، اُردو والے  اس کی لڑائی جانے  کب سے  لڑرہے  تھے۔ دونوں  شعبوں  کو آج ترقی کرتے  دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے۔ .یونیورسٹی سے  وابستہ ملّت کالج میں  اُردو، فارسی  اور  عربی کے  تین شعبے  بنا دیے، تینوں  مل کر بس ایک شعبہ بنے  ہوئے  تھے۔ اِسی طرح ہندی  اور  میتھلی کے  شعبوں  کی تشکیل کی۔ (VCR/13169-45/88 dated 21-6-1988) دونوں  کا شعبہ بس ایک ہی تھا۔ بہتر تعلیم کے  لیے  یہ ضروری تھا، جانتا تھا اس کے  دُور رس اثرات ہوں  گے۔ ہر شعبے  کی اپنی انفرادیت پیدا ہو گی  اور  چند برسوں  بعد ان شعبوں  کی شخصیتیں  محسوس ہونے  لگیں  گی۔ 
	یونیورسٹی میں  تین ہوسٹل تھے، دو لڑکوں  کے  لیے اور ایک لڑکیوں  کے  لیے، میں  نے  ایک حکم (VCR/7610-7760: 09-04-98) کے  تحت ان تینوں  ہوسٹل کو نام دِیے۔ لڑکوں  کے  ہوسٹل جو ’’پی جی ہوسٹل ایک‘‘   اور  ’’پی جی ہوسٹل دو‘‘  کہے  جاتے  تھے  اُنھیں  ’کوسی‘   اور  ’باگمتی‘  نام ملے اور لڑکیوں  کے  ہوسٹل کا نام ’کملا‘  رکھا۔ یہ تینوں  .یونیورسٹی کے  حلقے  کی تین بڑی ندیاں  ہیں۔ کوسی، باگمتی  اور  کملا! ان ندیوں  کے  پاس رہنے  والے  طلبہ جانتے  ہیں  کہ ان کے اور اُن کے  علاقوں  کے  لوگوں  کی زندگی میں  اِن ندیوں  کی کیا اہمیت ہے۔ اپنی زمین  اور  اپنی ندیوں  سے  پیار کر نے  والے  طلبہ نے  ’نام کرن‘  کا جشن منایا  اور  مجھے  بھی اپنے  ہوسٹل میں  بلایا۔ گیت گائے، تقریریں  کیں، جب کوسی ہوسٹل کے  ایک طالب علم نے  تقریر کرتے  ہوئے  یہ کہا کہ کوسی ہمارے  گاؤں  سے  ہو کر بہتی ہے، آپ نے  اس ہوسٹل کا نام اس ندی کے  نام پر رکھا ہے، ہم جب بھی اپنی ندی کو دیکھیں  گے  آپ یاد آئیں  گے۔ اب جو طلبہ کا تیسرا ہوسٹل بنے  گا تو ہم اس کا نام ڈاکٹر شکیل الرحمن ہوسٹل رکھیں  گے  تو میری آنکھوں  میں  آنسو چھلک آئے اور میں  نے  اُس لڑکے  کو اپنے  سینے  سے  لگا لیا۔ 
	۱۹۳۴ء میں  جب شمالی بہار میں  زبردست زلزلہ آیا تھا گاندھی جی دربھنگہ کی حالت دیکھنے  بھی آئے  تھے، لوگوں  سے  ملے  تھے، اُنھیں  تسلّی  اور  ڈھارس دی تھی۔ دربھنگہ کے  مہاراج دھیراج کے  مہمان تھے  لہٰذا یوروپین گیسٹ ہاؤس میں  قیام کیا تھا۔ آج یہ مہمان خانہ .یونیورسٹی کا گیسٹ ہاؤس ہے۔ جس کمرے  میں  گاندھی جی نے  قیام کیا تھا اُس پر سنگ مرمر کی ایک تختی لگی ہوئی ہے  جس پر لکھا ہوا ہے:
"Mahatma Gandhi Father of the Nation stayed in this room on 30th and 31th March 1934 during his visit to Darbhanga after the earthquake of 1934."
	۲۶ جنوری ۱۹۸۸ء کو قومی پرچم لہرانے  کے  بعد میں  نے  یہ کمرہ قوم کے  نام منسوب کر دیا، گیسٹ ہاؤس کے  اس پورے  ’وِنگ‘  کو کہ جہاں  یہ کمرہ ہے  ’’گاندھی سدن‘‘  کا نام دیا۔ اسے  ایک چھوٹا خوبصورت میوزیم بنانے  کا پلان بنایا، قومی وحدت  اور  یکجہتی  اور  دوسرے  اہم موضوعات  اور  مسائل پر توسیعی خطبات  اور  سمپوزیم  اور  سیمینار کے  بھی پروگرام مرتب کیے۔ 
	"University of Choir And Orchestra" کے  لیے  کوشش کی۔ ’’ایسوسی ایشن آف انڈین یونیورسٹیز‘‘  (Association of Indian Universities) نے  اس کے  لیے  پچاس ہزار روپے  منظور کیے۔ موسیقی  اور  ڈرامے  کے  شعبے  کو یہ ذمّہ داری سونپی کہ وہ میرے  تیاّر کیے  ہوئے  پروجیکٹ پر کام شروع کرے۔ 
	کالجوں  کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو اس سلسلے  میں  کئی خط لکھے  جا چکے  تھے۔ اب تک کوئی کار روائی نہیں  ہوئی تھی۔ دِلّی جا کر چیئرمین یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے  بات چیت کی  اور  یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ کمیشن نے  ۵۵ کالجوں  کے  لیے  گرانٹ منظور کی۔ چار لاکھ سے  آٹھ لاکھ تک ایک کالج کو گرانٹ ملی۔ میں  نے  ہر کالج کے  لیے  ایک ترقیاتی منصوبہ بنایا تھا، تمام منصوبوں  کے  پیش نظر ہی رقم منظور ہوئی تھی۔ اس کامیابی پر بھی مجھے  ذاتی طور پر بڑی خوشی ہوئی تھی۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی ایک بڑی شکایت  یہ تھی کہ کالج  اور  یونیورسٹی کی جانب سے  سرٹیفکیٹس (Utilisation Certificates) نہیں  آتے۔ کالج کی رقم کالج کو چلی جاتی ہے، کیا کام ہوا، کتنا کام ہوا، کس نوعیت کا کام ہوا، کوئی نہیں  دیکھتا، اس سلسلے  میں  مختلف کالجوں  کا دورہ کیا، مختلف ترقیاتی منصوبوں  کے  پیش نظر منظور شدہ رقومات کے  خرچ کا جائزہ لیا تو اکثر حیرت زدہ رہ گیا۔ ایسے  تماشے  سامنے  آئے  کہ جن کا کبھی تصوّر نہیں  کر سکتا تھا۔ ’’ٹھیکیداری کا مافیا‘‘  اپنی نوعیت کا ایک عجیب و غریب مافیا ہے۔ کالجوں  کے  دادا قسم کے  لوگ، کلرکوں اور چپراسیوں  کے  نام پر عمارتوں  کی تعمیر کی ٹھیکیداری لیتے  رہے  ہیں، اب دادا قسم کے  نام نہاد طلبہ بھی اس مافیا میں  شریک ہو گئے  ہیں، جو کچھ دیکھا سنا بہت دُکھ ہوا۔ سوچا جانے  ان رقومات کا کیا حشر ہو گا، پرنسپل صاحبان نے  اپنے  اعلیٰ  اور  مستحکم اخلاقی کردار کا مظاہرہ نہ کیا تو تمام ترقیاتی منصوبوں  کا یہی حال ہو گا۔ سیاست دانوں  نے  بعض کالجوں  کے  کام کاج  اور  ایڈمنسٹریشن کو اپنی گرفت میں  لے  رکھا ہے، پرنسپل  اور  سیاست داں اور دادا قسم کے  لوگ یہ سمجھتے  ہیں  کہ وائس چانسلر آتا جاتا ہے، کتنے  دِن سختی کر سکتا ہے۔ بھلا وہ  اور  یہ درست بھی ہے۔ وائس چانسلر بہار کی کسی بھی یونیورسٹی میں  پانچ سال نہیں  رہتے۔ 
	میں  نے  Adult Education کے  لیے  کسی طرح چار لاکھ تیس ہزار کا انتظام کیا  اور  حکم دیا کہ اس رقم کو مختلف پروگراموں اور پروجیکٹس پر صرف کیا جائے۔ 
	یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے  سامنے  اسٹیڈیم کے  لیے  ایک پروگرام رکھا۔ اسپورٹس کمپلیکس بنانا چاہتا تھا، ایک اسٹیڈیم کے  ساتھ اسپورٹس کی تمام سہولیات مہیّا کر نے  کا ارادہ تھا۔ ایک کروڑ کا منصوبہ بنایا تو کمیشن نے  اُسے  منظور کر نے  کا وعدہ کیا۔ زمین کا نقشہ بھی کمیشن نے  منظور کر لیا تھا۔ 
	یونیورسٹی کا ایک اشاعتی پروگرام مرتب کیا، یونیورسٹی کے  چند تجربہ کار اساتذہ کی ایک کمیٹی بنائی، اس کے  لیے  ۸۱ ہزار رقم منظور کی۔ سب سے  پہلے  للت نرائن .یونیورسٹی نیوز لیٹر شائع ہوا کہ جسے  ہر حلقے  میں  پسند کیا گیا۔ 
	سیمینار، سمپوزیم، رقص، نغمہ، ڈراما، اسپورٹس خصوصاً کرکٹ، فٹ بال، ٹیبل ٹینس، شطرنج وغیرہ کے  مقابلوں  کی وجہ سے  یونیورسٹی کا ماحول یک بیک تبدیل ہوا۔ 
	.یونیورسٹی کی لائبریری کا نام ’’مہاراجا دھیراج کامیشور سنگھ لائبریری‘‘  ہے۔ اس کی بنیاد ۱۹۷۳ء میں  رکھی گئی تھی۔ جب یونیورسٹی موہن پور ہاؤس میں  تھی۔ ۱۹۷۵ء میں  جب دربھنگہ راج نے  اپنی لائبریری کا معائنہ کیا، یہ دیکھ کر دُکھ ہوا کہ سینکڑوں  قیمتی کتابیں  برباد ہو رہی ہیں، عمارت کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے، یونیورسٹی کے  پاس اتنی رقم نہیں  کہ مناسب مرّمت ہو، اس کی علیحدہ عمارت کے  معاملے  میں  بھی ریاستی حکومت یا یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے  آگے  بڑھ کر کوئی کام نہیں  کیا۔ میں  نے  یونیورسٹی لائبریری کے  پیش نظر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن  اور  ریاستی حکومت کو خط لکھے، گزارش کی اس طرف توجّہ دی جائے۔ یہ قومی سرمایہ ہے  جو تباہ ہو رہا ہے۔ جتنی نایاب کتابیں  یہاں  دیکھیں  ان کی تعداد نہیں  بتاسکتا۔ لاطینی، یونانی، عربی، ڈچ، جرمن، فرانسیسی، پرتگیزی، سنسکرت  اور  انگریزی میں  کم و بیش ایک لاکھ کتابیں  ہوں  گی۔ اسی طرح فارسی، اُردو، بنگلہ  اور  ہندی میں  بھی کتابوں  کی تعداد کم نہیں  ہے۔ مذہبیات  اور  مشرقی علوم و ادبیات پر جتنی کتابیں  نظر آئیں  اُن سے  اندازہ ہوا کہ کتابیں  جمع کر نے  والے  غیر معمولی فکر و نظر رکھتے  تھے۔ ہندوستان  اور  ہندوستان کے  علوم سے  دلچسپی تھی لہٰذا کئی بار یونیورسٹی لائبریری کو قریب سے  دیکھا، ان کے  تعلق سے  جو کتابیں  تھیں  اُنھیں  علیحدہ رکھوایا، کئی سیکشن بنائے  گئے، یہ دیکھ کر حیرت انگیز مسرّت ہوئی کہ ’انڈولوجی‘  کے  موضوع پر جو رسالے  شائع ہوتے  رہے  ہیں  اُن میں  بہت سے  پرانے  رسالے  یہاں  موجود ہیں۔ یہ تحقیقی رسالے  ہیں، ان میں  مشرق  اور  مشرقی علوم پر جانے  کتنے  مقالے اور مضامین ہیں۔ ۱۹۵۰ء تک کے  رسالے  نظر آئے، مجھے  افسوس ہے  کہ اپنی مصروفیات  اور  رفتار زندگی کی وجہ سے  اس لائبریری سے  فائدہ اُٹھا نہ سکا۔ 
	نپولین پر چار سو کتابیں  ہیں!
	سترہویں  صدی سے  اٹھارہویں  صدی تک کی تاریخ پر فرانسیسی، ڈچ  اور  پرتگیزی زبانوں  میں  کتابیں  ہیں۔ گاؤلڈ (Goud) نے  پرندوں  پر جو کتابیں  لکھی ہیں  اُن میں  بہت سی کتابیں  یہاں  موجود ہیں۔ ڈاکٹر سالم علی مرحوم نے  بھی یہاں  سے  ایک کتاب طلب کی تھی۔ 
	سترہویں  صدی کی پانچ سو کتابیں  ہیں، اٹھارہویں  صدی کی دس ہزار، اُنیسویں  صدی کی پچیس ہزار  اور  بیسویں  صدی کی دس ہزار۔ 
	تاریخ، تمدن  اور  تہذیب پر کتابوں  کا ایک بڑا ذخیرہ ہے۔ اسی طرح سفرنامے اور سوانح حیات وغیرہ کی تعداد بھی کم نہیں  ہے۔ سائنس کے  قیمتی رسالے  بھی اس لائبریری کی زینت ہیں، فلسفے  پر بھی کتابیں  کم نہیں  ہیں۔ 
	میں  نے  یونیورسٹی لائبریری پر ایک مفصل نوٹ تیاّر کیا  اور  چانسلر کو روانہ کیا، اُن سے  کہا اس بدنصیب یونیورسٹی کی سالانہ گرانٹ صرف دو لاکھ روپے  ہے؟ بہار کی سب سے  بڑی یونیورسٹی کی لائبریری کا یہ بہت بڑا المیہ ہے، ہندوستان کی کسی یونیورسٹی لائبریری کے  ساتھ ایسا برتاؤ نہیں  کیا گیا ہے۔ یہ لائبریری آنے  والی نسلوں  کی امانت ہے۔ دیمک  اور  کیڑوں  سے  کتابیں اور الماریاں  ضائع  اور  برباد ہو رہی ہیں، آپ بہار کی تمام یونیورسٹیوں  کے  چانسلر ہیں، اس لائبریری کو تباہی سے  بچاسکتے  ہیں۔ رقم کا انتظام یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کر سکتی ہے،  اگر  وہ راضی نہیں  ہوتی تو کیا ہم یونیسکو یا کسی ایسے  ادارے  سے  گزارش نہیں  کر سکتے  جو مدد کرے؟ میری گزارش ہے  کہ آپ ایک بار دربھنگہ تشریف لائیں اور اس قیمتی کتب خانے  کو خود دیکھیں۔ آپ کا استقبال کرتے  ہوئے  مجھے  ذاتی طور پر بھی بڑی خوشی ہو گی۔ 
	بہار کے  گورنر  اور  بہار کی تمام یونیورسٹیوں  کے  چانسلر بابوگو وندنارائن سنگھ خاموش رہے، کوئی جواب نہیں  دیا۔ معلوم ہوا انھوں  نے  خط  اور  رپورٹ پڑھا ہی نہیں، یہ بھی کتنا بڑا المیہ ہے  کہ یونیورسٹیوں  کے  چانسلر ایسے  لوگ بھی بنائے  جاتے  ہیں  کہ جن کا علم سے  کوئی تعلق نہیں  ہوتا  اور  جو ’’خالص سیاسی‘‘  نظر رکھتے  ہیں۔ ضروری نہیں  کہ سیاسی نظریہ بھی رکھتے  ہوں۔ بالغ سیاسی نظریہ تو مختلف علوم کی روشنی لیے  ہوتا ہے۔ سیاست بھی تو ایک علم  اور  اپنی مٹّی کی خوشبو کا تجربہ ہے۔ میرے  آنے  کے  بعد بہار کی تمام یونیورسٹیوں  کے  چانسلر بابو گو وند نارائن سنگھ دربھنگہ گئے، وائس چانسلر کی کوٹھی میں  قیام کیا، اپنے  ساتھ نصف راج بھون لے  گئے  تھے، لیکن یونیورسٹی کیمپس میں  رہتے  ہوئے  بھی یونیورسٹی لائبریری دیکھنے  نہیں  گئے۔ 
	سنا آم کھانے  دربھنگہ گئے  تھے! 
	اُس سال آم کی بہت ا  چھی فصل ہوئی تھی نا!
	 یونیورسٹی کیمپس میں  بھی آم کے  بہت سے  پیڑ تھے!
	اسکالر شپ کی جو رقم رُکی پڑی تھی اُس کی تقسیم کا حکم جاری کیا، کل رقم گیارہ لاکھ سے  زیادہ تھی۔ (Rs. 11,82,692/-) قومی سطح پر پہنچنے  والے  طلبہ کی تعداد ۳۲۱ تھی، اُن کے  لیے  تین لاکھ سے  زیادہ رقم تھی، اساتذہ کے بچوں  کے  لیے  کم و بیش چھ ہزار، ریاستی سطح پر پوزیشن پانے  والے  طلبہ کے  لیے  ڈیڑھ لاکھ، ا چھی صلاحیت رکھنے  والے  غریب طلبہ کے  لیے  دو لاکھ اُنسٹھ ہزار  اور  تعلیم کے  لیے  قرض پانے  والوں  کے  لیے  کم و بیش تین لاکھ!
	رقومات کے  چیک لے  کر کئی طلبہ مجھ سے  ملنے  آئے، اُن کے  چہروں  پر خوشی  اور  شادمانی دیکھ کر مجھے  بے  حد خوشی ہوئی۔ لگا میرے بچوں  کو اُن کا حق ملا ہے۔ 
	بہار یونیورسٹی میں  پی ایچ ڈی  اور  ڈی لٹ وغیرہ کی ڈگریوں  کے  لیے  جو زبانی امتحانات (Viva Voce) ہوتے  تھے  اُنھیں  عام کر دیا تھا یعنی جو چاہے  شریک ہو سکتا ہے۔ سوال و جواب کے  معیار کو دیکھ سکتا ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ زبانی امتحانات میں  وائس چانسلر کی شرکت بھی ہونے  لگی۔ میں  باقاعدہ بیٹھنے  لگا، اس کا بہت ا چھا اثر ہوا تھا، اُمیدوار تیاّر ہو کر آتے  تھے، ان کی صلاحیت  اور  ذہانت دونوں  کا امتحان ہوتا تھا، مختلف فیکلٹیوں  میں  اچھے ّ  اور  ذہین اسکالرز ملے۔ بعض تجربے  دلچسپ ہیں۔ ایک تجربہ بیان کرتا ہوں، ہوا یہ کہ تاریخ کے  شعبے  میں  زبانی امتحان تھا، میں  بھی شریک ہوا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ جو سوال کیا جاتا پی ایچ ڈی ڈگری کا امیدوار خاموش رہتا  اور  نگراں  پروفیسر جواب دیتے۔ کئی سوالوں  کے  جواب میں  نگراں  پروفیسر نے  اپنے  شاگرد  اور  ڈگری کے  امیدوار سے  یہ کہا اپنے  مقالے  کے  اِس صفحے  پر جواب ہے، اُس صفحے  پر جواب ہے اور شاگرد اپنے  تحقیقی مقالے  کے   اوراق بڑی تیزی سے  اُلٹتا تھا۔ یہ تماشا دیکھ کر ہنسی بھی آئی  اور  دُکھ بھی ہوا۔ صاف ظاہر تھا کہ مقالہ نگراں  پروفیسر ہی نے  تحریر فرمایا تھا۔ میں  نے  نگراں  پروفیسر سے  پوچھا ’’یہ تو بتائیے  آپ ہر سوال کا جواب کیوں  دے  رہے  ہیں؟ مقابلہ اُمیدوار نے  لکھا ہے  یا آپ نے؟‘‘  ہر طرف سناّٹا سا چھا گیا، میں  اُٹھ کر چلا آیا۔ 
	.یونیورسٹی میں  بھی ’’وائے  وا‘‘  کو عام کر کے  وائس چانسلر کی حیثیت سے  میں  خود بھی بیٹھنے  لگا۔ بنیادی مقصد ریسرچ کے  معیار کو دیکھنا  اور  خود اپنے  علم میں  اضافہ کرنا تھا۔ یہاں  بھی چند دلچسپ تجربے  ہوئے۔ یونیورسٹیوں  میں  ریسرچ کا حال بہت حد تک معلوم تھا، صرف ایک ٹھنڈی سانس ہی سے  لیا کرتا تھا!
	مسلسل کام کرتے  ہوئے  مجھے  سکون مل رہا تھا، یہ دیکھ کر بھی اطمینان ہوا کہ یونیورسٹی کا ماحول بہت حد تک بہتر ہو گیا ہے۔ میں  اکثر رات دیر تک آفس میں  کام کرتا، یونیورسٹی کے  بعض افسر بھی ساتھ رہتے، قدم قدم پر ان کا تعاون مل رہا تھا۔ چھوٹے  بڑے  بہت سے  کام ہوئے  جن کی تفصیل یونیورسٹی کے  ریکارڈ میں  موجود ہے۔ 
	ایک شام راج بھون سے  چانسلر کا پیغام ملا کہ میں  صبح تک ۱۸ دسمبر سے  اب تک کی ایک مختصر رپورٹ اُنھیں  بھیج دوں۔ یہ بتاؤں  کہ اتنے  دِنوں  میں  میں  نے  کیا کام کیا ہے، مقصد یہ تھا کہ بتاؤں  کیا میں  نے  کوئی کام بھی کیا ہے  یا نہیں۔ چانسلر سے  ایسی توقع نہیں  رکھتا تھا، میرا کام بھی کھلی کتاب کی طرح تھا، پریس نے  .یونیورسٹی کو ایک بنیادی موضوع بنا رکھا تھا، یونیورسٹی کے  بدلتے  ہوئے  ماحول پر عوام کی نظر بھی تھی  اور  پریس کی بھی۔ ایسا لگ رہا تھا .یونیورسٹی میں  آزادی کے  بعد پہلی بار کچھ تجربے  ہو رہے  ہیں۔ بعض دوسری یونیورسٹی بھی .یونیورسٹی کو مثال بنا کر کام کر رہی تھیں۔ آخر چانسلر نے  ایسی رپورٹ مجھ سے  کیوں  مانگی؟ کیا دوسری یونیورسٹیوں  کے  وائس چانسلروں  کو بھی اس قسم کا پیغام ملا ہے؟ معلوم ہوا نہیں! کسی بھی یونیورسٹی کے  وائس چانسلر کو چانسلر کا کوئی بھی ایسا پیغام نہیں  ملا ہے۔ شبہ ہی نہیں  یقین آ گیا کہ دال میں  کچھ کالا ہے۔ اعلیٰ سطح پر کوئی بات پکڑ لی جائے اور اُسے  مسئلہ بنایا جائے، چونکہ رپورٹ صبح روانہ کرنا تھا اس لیے  اپنے  دو افسروں  کے  ساتھ بیٹھ گیا، ڈرافٹ تیاّر کر کے  ٹائپ کیا گیا۔ دستخط کیے، لفافہ بند کیا  اور  اسے  رجسٹرار کے  حوالے  کر دیا، صبح سویرے  کسی خصوصی ایلچی کے  ذریعہ لفافے  کو راج بھون بھجوانا تھا۔ 
	رپورٹ میں  ہر بات لکھ دی۔ اپنے  ہر عمل کی جانب اشارہ کر دیا۔ رپورٹ اس انداز سے  لکھی جیسے  ہر جگہ وائس چانسلر، چانسلر بابوگو وند نارائن سنگھ سے  یہ پوچھ رہا ہو کیا یہ غلط کیا ہے؟یہ غلط تو نہیں  کیا؟ مجھے  اپنی رائے  سے  نوازیئے، آشیرواد دیجیے اور کوئی کام غلط ہو گیا ہو تو نشاندہی کر دیجیے  تاکہ آئندہ محتاط رہوں۔ میں  نے  اُنھیں  لکھا۔ ۱۸ دسمبر کو جب میں  یونیورسٹی کیمپس میں  آیا تو یونیورسٹی کے  ملازمین کی ہڑتال تھی، اُسی شام ہڑتال توڑ دی، وائس چانسلر کی کوٹھی ہر درجہ ناپاک تھی، گندگی کی وجہ سے  ہم میاں  بیوی مسلسل پانچ گھنٹے  بے  چین رہے، رات دیر تک صرف ایک کمرے  کی صفائی کسی حد تک ممکن ہو سکی  اور  ہم چند گھنٹے  سوسکے، صبح پورے  کیمپس میں  غنڈہ گردی کا ماحول دیکھا، نام نہاد طلبہ کی غنڈہ گردی، چند یونیورسٹی کے  دادا قسم کے  ملازمین کی غنڈہ گردی، شہر سے  بھیجے  گئے  چند غنڈوں  کی غنڈہ گردی، یہ سب وائس چانسلر کو خوفزدہ کر نے اور اسے  اپنی مکمل گرفت میں  رکھنے  کا روایتی طریقہ  اور  انداز تھے۔ جناب یہاں  سے  کہانی شروع ہوتی ہے۔ 
	پھر
	غنڈہ گردی رُک گئی!
	امتحانات میں  نقل نویسی بند ہو گئی!
	یونیورسٹی قوانین نافذ ہو گئے اور بڑی سختی سے  نافذ ہو گئے۔ 
	امتحانات کے  سیکشن میں  جواب تک دھاندلیاں  ہوتی رہی ہیں  وہ بند ہو گئیں۔ 
	جعلی سرٹیفکیٹ  اور  نمبروں  کے  جعلی ’’مراکس شیٹس‘‘  ہمیشہ کے  لیے  بند ہو گئے۔ 
	ٹیبولیشن رجسٹرز (Tabulation Registers) میں  جو دھاندلی ہوتی تھی اچانک رُک گئی۔ نیپالی طلبہ کے  امتحانات کے  سلسلے  میں  جو قانون بنے  تھے  وہ سختی سے  نافذ ہو گئے۔ اس طرح ’’کانچھا کانڈ‘‘  (Kancha Kand) کا صفایا ہو گیا، ایک بہت بڑا ’مافیا‘  ختم ہو گیا! بعض سیاست دانوں  کے  دلال جو یونیورسٹی کے  باہر بھی رہتے  ہیں اور یونیورسٹی کے  اندر بھی جن کی پیٹھ ٹھونک کر یہ سیاست داں  یونیورسٹی کے  ماحول کو خراب کرتے  رہے  ہیں  بالکل خاموش ہو گئے  ہیں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے اور میری یونیورسٹی کی بھی خوش قسمتی ہے  کہ اب لوگ یونیورسٹی کے  اندر  اور  یونیورسٹی کے  باہر،  اور  پورے  دربھنگہ ضلع  اور  دوسرے  تمام ضلعوں  میں  پچھلے  وائس چانسلروں  کی ناکامیوں اور میری کامیابیوں  کی کہانیاں  سنائی جا رہی ہیں۔ مجھ پر  اور  میری کامیابیوں  پر میتھلی زبان میں  جو چند گیت گاؤں  سے  نکل کر ہر جانب پھیلے  ہیں  اُن کی خبر یقیناً آپ کو بھی ہو گی اس لیے  کہ یہ گیت اخباروں  میں  بھی شائع ہوئے  ہیں۔ 
	جب سے  میں  آیا ہوں  کلاسیز ہو رہی ہیں، باقاعدہ ہو رہی ہیں، آپ کو اس کا علم ہے  کہ اس یونیورسٹی میں  کلاسیز ختم ہو چکے  تھے۔ اس سلسلے  میں  سب سے  بڑی مثال یہ ہے  کہ وہ اساتذہ جو سنڈیکیٹ کے  ممبر تھے  اُنھوں  نے  یہ سمجھ لیا تھا کہ کلاس میں  پڑھانا اب اُن کا کام نہیں  رہا، وہ تو اس یونیورسٹی کے  آقا ہیں، کلاس لینے  لگے  ہیں۔ 
	آپ کو لکھ چکا ہوں  کہ میں  نے  بہت سے  اساتذہ کے  تبادلے  کیے  ہیں، ان میں  اکثر نے  دیہی علاقوں  کے  کالجوں  سے  اپنے  پوسٹ کے  ساتھ دربھنگہ تبادلہ کرا لیا تھا، دیہی علاقوں  کے  طلبہ کے  حق میں  یہ قطعی مناسب نہ تھا، برسوں  سے  اُن کا نقصان ہو رہا تھا، میں  نے  جب ان علاقوں  کا دورہ کیا تو وہاں  کے  طلبہ کی مشکلات کا علم ہوا، اُنھیں  ٹیچرس کی ضرورت تھی، ان اساتذہ کی تقرری اس لیے  ہوئی تھی کہ وہ دیہی علاقوں  کے  کالجوں  میں  کام کریں  گے  لیکن سیاسی لیڈروں  کی سفارش سے  ان لوگوں  نے  اپنے  تبادلے  دربھنگہ کرا لیے اور یہ بہت بڑا ظلم تھا، ریکارڈ دیکھنے  سے  پتہ چلا کہ ان میں  اکثر تبادلے  وزیر تعلیم شری ناگندرجھا کی سفارش پر ہوئے  ہیں، پچھلے  وائس چانسلر ان کے  دباؤ میں  رہے، اُنھوں  نے  یہ بھی نہیں  سوچا کہ طلبہ کا کتنا نقصان ہو گا، یہ ظلم ہے، المیہ ہے۔ ان میں  چند اساتذہ ایسے  تھے  جو صرف ’’سیاست کر نے  کے  لیے‘‘  دربھنگہ لائے  گئے  تھے۔ بعض سیاست دانوں اور وزیروں  کے  الیکشن میں  بھی انھوں  نے     حصہ لیا تھا۔ 
	میں  جب بھی آپ سے  ملا  اور  وزیر اعلیٰ سے  ملاقات کی، براہِ کرم آپ دونوں  نے  مجھ سے  یہی کہا کہ تم وائس چانسلر ہو، تمھیں  آزادی ہے  اس یونیورسٹی کو درست کر دو، میں  آپ دونوں  کا ممنون  اور  شکرگزار ہوں۔ 
	آپ سے  پہلے  جو چانسلر تھے  اُنھیں  میں  نے  بتا دیا تھا کہ بہار کی سیاست کس طرح یونیورسٹی معاملات میں  دخل دے  رہی ہے، اسی مداخلت کی وجہ سے  اب تک اتنا نقصان ہو چکا ہے۔ میں  اپنی یونیورسٹی کے  متعلق صرف اتنا عرض کروں  گا کہ میں  نے  سیاست دانوں  کی دخل اندازی روک دی ہے۔ (ایک سیاست داں  جو پارلیمنٹ کے  ممبر ہیں  مجھ سے  ملنے  آئے، میں  نے  اُنھیں  وقت دیا، اُن سے  بات چیت کی، اُن کے  کام کا ہونا ناممکن تھا، میں  نے  انکار کر دیا، وہ باہر چلے  گئے، باہر نکلنے  کے  بعد اُنھوں  نے  مجھ سے  پھر ملنا چاہا تاکہ ایک بار  اور  دباؤ ڈال سکیں، میں  نے  اُن سے  ملنے  سے  انکار کر دیا، کہہ دیا آپ اب جو کچھ کہنا چاہتے  ہیں  یونیورسٹی کے  رجسٹرار سے  کہہ دیجیے، میں  صبح سن لوں  گا۔ رات کے  گیارہ بج چکے  تھے۔ وہ رات بھر وائس چانسلر کی کوٹھی سے  باہر رکشے  پر پڑے  رہے، میں  نے  اُن کی پروا نہیں  کی، صبح اُنھیں  یونیورسٹی کے  رجسٹرار کے  پاس جانا پڑا!)۔ 
	میں  جو کام کرتا ہوں  جمہوری طریقے  سے  کرتا ہوں، تجربہ کار پرنسپل، صدر شعبہ  اور  اساتذہ سے  مشورہ کر کے  کرتا ہوں، میرے  کسی کام کے  سلسلے  میں  ان کی جانب سے  اب تک کوئی اعتراض نہیں  ہوا ہے اور مجھے  بڑا اطمینان ہے۔ میں  بار بار ان کی میٹنگ بلاتا ہوں، ڈین کی تقرری کر چکا ہوں  لہٰذا ان سے  بھی مجھے  بڑی مدد مل رہی ہے۔ 
	بعض معاملات میں  عجیب مجبوریاں  ہیں، مثلاً اِگزامنیشن ڈپارٹمنٹ سے  بہت سی فائلیں  غائب ہیں۔ میں  کیا کر سکتا ہوں؟ جب میں  یہاں  آیا تو عجیب صورتِ حال تھی، بعض غنڈے  اِگزامنیشن سیکشن میں  کام کر رہے  تھے، اُن کا کوئی تعلق یونیورسٹی سے  نہیں  تھا، یونیورسٹی اُنھیں  تنخواہ بھی نہیں  دے  رہی تھی۔ وہ ’’روٹی پانی‘‘  کا انتظام خود کر لیتے  تھے، مجھے  ان غنڈوں  کو نکالنے  میں  دُشواریاں  پیدا ہوئیں  لیکن میں  نے  اُنھیں  نکال دیا  اور  یہ غیر معمولی کامیابی ہے۔ کنٹرولر آف اگزامنیشن ان غنڈوں  کی گرفت میں  تھا، مجھے  بہار یونیورسٹی کا ایک واقعہ یاد آیا، شرم آتی ہے  اس کا ذکر کرتے  ہوئے  لیکن چانسلر کو اس بات کی خبر ہونی چاہیے۔ بہار یونیورسٹی میں  غنڈے  لڑکوں  نے  کئی بار رجسٹرار کو ٹیبل پر کھڑا کیا تھا  اور  اُن کی دھوتی کھول دی تھی۔ میں  نے  وہاں  پہنچ کر اس تماشے  کو بند کیا تھا۔ کم و بیش وہی حالت میتھلا یونیورسٹی کے  اگزامنیشن سیکشن کی تھی۔ کنٹرول حد درجہ پریشان  اور  اُلجھا ہوا رہتا تھا۔ 
	میں  نے  درس و تدریس  اور  امتحانات کے  وقار کو بحال کیا  اور  مجھے  اس بات سے  بڑی خوشی ہے۔ آپ کو اس بات کی خبر ہو گی کہ انٹرمیڈیٹ کے  نتائج وقت سے  پہلے  شائع ہو گئے  ہیں۔ اس بڑی کامیابی پر میں  اُن اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں  کہ جنھوں  نے  اس سلسلے  میں  گہری دلچسپی لی۔ 
	آپ کو اس بات کی خبر ہے  کہ ایکٹ ۱۹۷۶ء کے  سیکشن ۳۵ کے  خلاف اس یونیورسٹی کے  ملازمین الاؤنس لے  رہے  تھے، ریاستی سرکار کی اجازت نہیں  لی گئی تھی، یہ پچھلے  وائس چانسلروں  کی غلطی تھی کہ وہ مٹھی بھر ملازمین کے  دباؤ میں  آ گئے  تھے اور اس طرح عوام کی رقم لوٹی جا رہی تھی۔ میں  نے  اس غیر قانونی الاؤنس کو بند کر دیا  اور  اس طرح ۷۵ لاکھ روپے  سالانہ بچ گیا۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہے  کہ میرے  اس عمل سے  ملازمین کی ہڑتال ہوئی  اور  اس ہڑتال میں  پیش پیش وہ ملازمین تھے  کہ جن سے  وزیر تعلیم کی رشتہ داری تھی  اور  جو وزیر تعلیم ناگندرجھا کی سفارش پر اس یونیورسٹی میں  کام کر رہے  ہیں۔ میں  نے  ان میں  سے  اکثر ملازمین کو معطل کر دیا۔ ان میں  وزیر تعلیم کا وہ بھائی بھی تھا کہ جس نے  یونیورسٹی میں  ہنگامہ کرانے  کا ٹھیکہ لے  رکھا ہو جیسے! سنا ہے  ہڑتال پر بیٹھے  لوگوں  کو وزیر تعلیم کی جانب سے  رقم تقسیم کرتا ہوا بھی دیکھا گیا ہے۔ میرے  سخت اقدام کی وجہ سے  سب کے  ہوش اُڑگئے اور یہ لوگ کام پر واپس آ گئے۔ 
	اندازہ کیجیے  حالت کیا تھی، یونیورسٹی ملازمین کو ہر پانچ سال بعد ترقی ملی تھی۔ ۶۴ ملازمین ایسے  تھے  جو ’’ترقی پاتے  پاتے‘‘  ڈپٹی رجسٹرار کے  گریڈ میں  پہنچ گئے  تھے۔ ریاستی حکومت یا سنڈیکیٹ کی کوئی منظوری نہیں  تھی۔ یہ ۱۹۷۶ء کے  ایکٹ سیکشن ۳۵ کی خلاف ورزی تھی۔ میں  نے  اُنھیں  ان کی اپنی جگہ پہنچا کر یونیورسٹی کی عزّت بحال کی، بڑی بدنامی ہو چکی تھی، حیدرآباد میں  وائس چانسلر کانفرنس میں  اس تماشے  کا مذاق اُڑایا گیا تھا، واقعی یہ حیرت کی بات تھی۔ 
	بعض کالجوں  میں  منظور شدہ پوسٹ سے  کہیں  زیادہ اساتذہ  اور  ملازمین تھے، میں  نے  ابھی صرف اتنا کیا ہے  کہ اُنھیں  اُن کالجوں  میں  بھیج دیا ہے  کہ جہاں  ان کی ضرورت ہے۔ 
	ایک کیس دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا، ایک شخص چپراسی بنا، صبح اس کی تقرری ہوئی، دوپہر میں  وہ کلرک (اسسٹنٹ) بن گیا  اور  شام تک اُس کا گریڈ ڈپٹی رجسٹرار کا ہو گیا!
	کیا دھاندلی نہیں  ہے؟  اگر  ایک وائس چانسلر ایسی دھاندلی روک دیتا ہے اور پچھلی دھاندلیوں  کو ختم کر دیتا ہے  تو اُس کے  خلاف تحریک چلائی جاتی ہے، وزیر تعلیم حوصلہ افزائی کرتے  ہیں۔ ایک کلرک ایم اے  پاس کرتا ہے، لکچر ر بن جاتا ہے  بہت خوب، لیکن وہ یہ دیکھتا ہے  کہ وہ کلرک کی حیثیت سے  زیادہ تنخواہ لے  رہا تھا۔ ’’تنخواہ کے  تحفظ‘‘  (Pay Protection) کے  لیے  درخواست دیتا ہے اور اُس کی درخواست اُسی وقت منظور ہو جاتی ہے۔ وہ لکچر ر ہے، کلرک کی وہ تنخواہ لے  رہا ہے  جو ایکٹ کے  خلاف ہے۔ وہ اُن ۶۴ ملازمین میں  ہے  کہ جو ’’شاندار ترقی پاتے  ہوئے‘‘  ڈپٹی رجسٹرار کے  گریڈ میں  پہنچ گئے  ہیں۔ اِس کے  خلاف آپ فرمائیں  میں  کیا کار روائی کروں؟ جو آپ کا حکم ہو گا کروں  گا۔ 
	آپ کو یہ معلوم ہے  کہ میں  نے  ویر تعلیم شری ناگندرجھا کی ترقی روک دی ہے، وہ چور دروازے  سے  پروفیسر ہو گئے  تھے۔ یہ قصّہ حاتم طائی کے  کسی خاص معرکے  کی طرح پورے  ملک میں  عام ہو چکا ہے۔ بی بی سی نے  بھی اس پر تبصرہ کیا ہے اور میری تعریف کی ہے۔ نیشنل پریس نے  اس معاملے  کو موضوع بنا رکھا ہے۔ میں  نے  غلط نہیں  کیا ہے  اس لیے  مجھے  کسی قسم کی شرمندگی نہیں  ہے، یہ انصاف کا تقاضا تھا۔ جب سے  یہ واقعہ ہوا ہے  وزیر تعلیم یونیورسٹی کے  معاملات میں  مسلسل دخل دے  رہے  ہیں، میرے  خلاف ملازمین کو بھڑکا رہے  ہیں، یہ چاہتے  ہیں  کہ میں  وائس چانسلر نہ رہوں، حقیقت یہ ہے  کہ بہار کے  ایجوکیشن مافیا کے  خلاف  اور  کرپشن کے  خلاف میری جنگ ایک تاریخ بنتی جا رہی ہے۔ 
	وزیر تعلیم شری ناگندر جھا کی ’’پروفیسر شپ‘‘  کے  متعلق آپ کو مکمل رپورٹ بھیج چکا ہوں، ان کے  تعلق سے  ایک  اور  دلچسپ بات سامنے  آئی ہے اور وہ یہ کہ وہ میتھلی زبان کے  استاد رہے اور اسی زبان میں  اُنھوں  نے  پی ایچ ڈی کی ڈگری لی، لیکن کہاں  سے؟ بھاگلپور یونیورسٹی سے  کہ جہاں  میتھلی کا شعبہ ہے اور نہ کوئی میتھلی کا پروفیسر ہے!!
	میں  نے  ۲۸ نیپالی طلبہ کے  نتائج کو رد کر دیا۔ انھوں  نے  آئی ایس سی میں  جو ’’نمبر‘‘  حاصل کیے  تھے  وہ نمبر اُن کے  نوٹ بکس پر نہیں  تھے، انھوں  نے  کسی بھی سوال کا درست جواب نہیں  دیا تھا، وہ بہار سے  باہر میڈیکل انجینئرنگ کالجوں  میں  داخلہ لے  چکے  تھے۔ یہ ایک بڑا کاروبار رہا ہے۔ میری کار روائی سے  ایک سناّٹا سا چھا گیا ہے، مجھے  اطمینان ہے  کہ ایک ا چھا کام ہوا، یہ مافیا بھی ختم ہوا  اور  اب علاقے  کے بچوں  کے  ساتھ نا انصافی نہیں  ہو گی۔ 
	اِس کار روائی کے  بعد مجھے  ٹیلی فون پر دھمکی ملتی رہی، مار دیا جائے  گا، ختم کر دیا جائے  گا۔ میں  نے  کمشنر  اور  ایس پی کو اس دھمکی کے  بارے  میں  بتا دیا ہے۔ کوئی شخص جب ا چھا  اور  بڑا کام کر رہا ہو تو اسے  ایسی باتوں  کی جانب توجّہ نہیں  دینی چاہیے۔ 
	ایک کار روائی  اور  کی، امتحانات کے  اچھے ّ معیار کے  لیے  ایسا قدم اُٹھانا پڑا۔ میں  نے  ایم بی بی ایس (M.B.B.S.) امتحانات کا مرکز تبدیل کر دیا اس لیے  کہ میڈیکل کالج میں  نقل نویسی کی وبا پھیلی ہوئی تھی۔ عجیب اتفاق، یہاں  بھی وزیر تعلیم سامنے  آ گئے اور وہ اس طرح کہ ان کا لڑکا سنجے  جھا امتحان میں  شریک ہونے  والا تھا، مرکز تبدیل ہونے  سے  غالباً اُس لڑکے  کا نقصان ہو رہا تھا، میرے  خلاف ایک چھوٹا سا جلوس بھی نکلا، میں  اپنے  فیصلے  پر اٹل رہا۔ امتحانات ہوئے، کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں  ملی، تمام طلبہ و طالبات شریک ہوئے، نہ شریک ہوا  مقالے  کے   اور                                                                                                                تو صرف وزیر تعلیم شری ناگندر جھا کا بیٹاسنجے  جھا! (میرے  آنے  کے  بعد ایک بار پھر میڈیکل کالج کو مرکز بنا دیا گیا، اس میں  سنجے  شامل ہوا  اور  پاس ہو گیا!)
	کالجوں  کے  ایسے  بیس اساتذہ کی ترقی روک دی جو یونیورسٹی قوانین کے  خلاف ہوئے  تھے۔ دلچسپ  اور  حیرت انگیز بات یہ ہے  کہ کاغذات پر ایکسپرٹس (Expert) کے  دستخط بھی جعلی تھے، اکثر ایکسپرٹس آتے  ہی نہ تھے!
	میں  نے اور بھی چھوٹے  بڑے  کام کیے  ہیں اور کام کرتا جا رہا ہوں۔ 


	
آپ چانسلر ہیں، مجھے  ہٹانے  کے  لیے  وزیر تعلیم ایڑی چوٹی کا زور لگائے  ہوئے  ہیں۔ اس سچائی کو سامنے  رکھئے، چانسلر کی حیثیت سے  آپ کو مجھے  تحفظ دینا ہے  اس لیے  کہ غالباً میرا کوئی کام غلط نہیں  ہے!
	میں  نے  وزارتِ تعلیم، حکومت ہند سے  گزارش کی تھی کہ . یونیورسٹی سے  وابستہ وی ایس جے  کالج راج نگر کے  کیمپس کو آرکیالوجی کے  مطالعے  کا ایک مرکز بنایا جائے اور یونیورسٹی میں  ایک میوزیم قائم کیا جائے۔ دربھنگہ راج کے  پاس ابھی بھی اتنا قیمتی سامان  اور  اتنی قیمتی پرانی اشیاء موجود ہیں  کہ ایک میوزیم کی بنیاد قائم کی جا سکتی ہے۔ دلّی میں  وزیر مملکت سے  ملا، اُن سے  باتیں  کیں، اُنھیں  اپنے  خیالات سے  متفق پایا۔ تمام تفصیلات  اور  سفارشات پیش کر دیں، ضلع مدھوبنی میں  وی ایس جے  کالج راج نگر کا کیمپس اس لیے  بھی قابلِ توجّہ ہے  کہ یہاں  بہت سی پرانی عمارتیں  ہیں، پرانے  مندر ہیں۔ ۱۹۳۴ء کے  زلزلے  میں  ان عمارتوں  کا بڑا نقصان ہوا تھا۔ آرکیالوجی کے  مطالعے  کے  لیے   اگر  کوئی ادارہ قائم ہوتا ہے  تو یہ اُس کے  لیے  بہت ہی عمدہ ماحول ثابت ہو گا۔ اِن پرانی عمارتوں  کو اس طرح ٹھیک ٹھیک کر دیا جائے  کہ ماضی کاحسن زندہ رہے  تو یہاں  سیّاح آنے  لگیں  گے۔ ہم سیاحت کا ڈپلوما کورس بھی شروع کرنا چاہتے  ہیں، میں  نے  ابتدائی کام کے  لیے  صرف پچاس لاکھ روپے  کی گزارش کی تھی۔ وزیر مملکت، وزارتِ تعلیم نے  دونوں  تجویزوں  پر گفتگو کر نے  کے  لیے  ایک بار پھر مجھے  دلّی بلایا، تاریخ مقرر کر دی  اور  ملنے  کا وقت بھی مقرر کر دیا، وقت بہت کم تھا، میں  نے  کاغذات لیے، فائلیں  تیاّر ہوئیں، چانسلر کو اپنے  پروگرام سے  آگاہ کر دیا  اور  دلّی روانہ ہو گیا۔ وزیر مملکت سے  ملا، بات چیت ہوئی، وزارتِ تعلیم کے  افسروں  نے  بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔ اُمید بندھ گئی کہ یہ دونوں  معاملے  طے  ہو جائیں  گے، حکومت ہند سے  مدد ملے  گی، تیسرے  دن واپس آ گیا۔ یہاں  پہنچتے  ہی چانسلر بابو گو وند نارائن سنگھ کی جانب سے  خط ملا، لکھا تھا آپ نے  اپنے  پروگرام کی خبر چانسلر کو ضرور دی لیکن اُن کی منظوری حاصل کیے  بغیر آپ دلّی چلے  گئے، آئندہ کوئی وائس چانسلر چانسلر کی منظوری پائے  بغیر کہیں  نہیں  جا سکتا! میتھلا یونیورسٹی کے  وائس چانسلر کو دلّی جانے اور واپس آنے  کا خرچ یونیورسٹی نہیں  دے  گی!
	یہ تھا میرے  کام کا صلہ! خرچ مجھے  برداشت کرنا پڑا۔ کبھی اس قسم کا حکم پہلے  جاری نہ ہوا تھا۔ چانسلر کو لکھ کر بھیج دینا ہی کافی تھا کہ وائس چانسلر یونیورسٹی کے  کسی کام سے  دلّی جا رہے  ہیں۔ بابو گو وندنارائن سنگھ کی ہر حرکت نازیبا  اور  تکلیف دہ بنتی جا رہی تھی۔ اس کے  بعد ایک بار راج بھون میں  اُن سے  ملاقات ہوئی  اور  دلّی جانے  کا ذکر آیا تو میں  نے  کہا ’’دلّی شکیل الرحمن کے  لیے  نعوذ باللہ مکہ مدینہ نہیں  ہے، سیاست دانوں  ہی کے  لیے  مکہ ہے  دلّی! بہت   برا مان گئے، سنا اپنے  ایک مسلمان جونیئر آفیسر سے  دریافت کر رہے  تھے  ’’نعوذ باللہ‘‘  کے  معنی کیا ہیں؟
	جو کچھ کر رہا تھا مطمئن تھا، اختیارات نہیں  تھے  اس لیے  زیادہ آگے  بڑھ کر کام نہیں  کر سکتا تھا۔ یونیورسٹی کے  پاس روپے  نہیں  تھے۔ ’’اوور ڈرافٹ‘‘  کی مدد سے  تنخواہیں  دی جا رہی تھیں۔ روپوں  کے  معاملے  میں  ریاستی سرکار کچھ بھی سننے  کو تیاّر نہیں  تھی، مجھے  آئے  ہوئے  صرف سات ماہ ہوئے  تھے۔ خوش تھا کہ اتنے  کم عرصے  میں  بہت سے  کام ہو گئے  ہیں۔ مجھے  کب معلوم تھا کہ آٹھواں  مہینہ مجھے  یہاں  دیکھنا ہی نہیں  ہے؟
	اچانک ایک شعبے  نے  فیصلہ کیا کہ وائس چانسلر کو بلایا جائے، چائے  پی جائے، باتیں  کی جائیں، ایک فوٹو سیشن ہو۔ مجھے  بلایا گیا تو میں  نے  طلبہ  اور  اساتذہ کی خواہش پوری کی۔ کچھ دیر وہاں  بیٹھا، چائے  پی، طلبہ  اور  اساتذہ نے  چند سوالات کیے۔ ہر سوال کا جواب دیا۔ مجھ سے  پوچھا گیا ’’ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں  آپ کسے  سب سے  بڑا سیکولر سمجھتے  ہیں؟‘‘  میں  نے  جواب دیا ’’مولانا ابوالکلام آزاد کو!‘‘  پوچھا ’’ اور  جواہر لال نہرو؟‘‘  میں  نے  کہا ’’اُنھیں  نمبر دو پر رکھتا ہوں!‘‘  پوچھا گیا ’’کشمیر یونیورسٹی کے  شعبۂ اُردو کے  متعلق کچھ بتائیے؟‘‘  (یہ جلسہ شعبۂ اُردو میں  نہیں  ہو رہا تھا) میں  نے  جواب میں  کہا ’’کشمیر یونیورسٹی میرا سب سے  بڑا تجربہ ہے۔ وہ میرا تجربہ گاہ بھی ہے اور تجربہ بھی۔ میں نے  اس شعبے  کی پہلی اینٹ رکھی تھی  اور  ابھی اُسے  Centre of Excellence بنا کر آیا ہوں۔ جب میں  نے  اس شعبے  کی پہلی اینٹ رکھی اُس وقت صرف تین طلبہ نے  داخلہ لیا تھا، ان میں  ایک بزرگ طالب علم بھی تھے، نام تھا اللہ داد خاں، ملٹری میں  کام کر کے  ریٹائر ہو چکے  تھے۔ اُس وقت میری عمر ۲۶۔ ۲۷ سال سے  زیادہ نہ تھی۔ (میں  ۱۸ فروری ۱۹۳۱ء کو پیدا ہوا تھا، ۸ اکتوبر ۱۹۵۸ء کو شعبۂ اُردو کی بنیاد رکھی تھی) ایک دن کلاس میں  کہنے  لگے  ’’سر، جس سال آپ کی پیدائش ہوئی تھی اُسی سال میں  نے  میٹرک پاس کیا تھا، میں  نے  یونیورسٹی آفس میں  آپ کا سرٹیفکیٹ دیکھا ہے۔ سوچئے  ٹیچر کی کیفیت کیا ہو گی، جناب آصف فیضی وائس چانسلر تھے، ایک بار شعبے  میں  تشریف لائے اور اللہ دادا خاں  کو دیکھا تو مجھ سے  مخاطب ہو کر دریافت کیا ’’شکیل الرحمن یہ بتائیے  آپ انھیں  پڑھائیں  گے  یا یہ آپ کو پڑھائیں  گے؟‘‘  میں  نے  حاضرین کو بتایا ’’کشمیر یونیورسٹی میری ماں  جیسی ہے، اس نے  میری پرورش کی ہے، ذہنی پرورش میں  بڑھ چڑھ کر  حصہ لیا ہے، اس یونیورسٹی میں  لکچر ر رہا، ریڈر بنا، صدر شعبہ  اور  پروفیسر ہوا، دو فیکلٹیوں  کا ڈین بنا  اور  پھر یہاں  آنے  سے  قبل وائس چانسلر کی حیثیت سے  بھی کام کیا۔ جب رٹائر ہو جاؤں  گا، تو پنشن بھی کشمیر یونیورسٹی سے  ملے  گی، اُس وقت بھی اُسی کا سہارا ہو گا!‘‘  
	بہت سی دلچسپ باتیں  ہوئیں، چائے  پی گئی، ہم فوٹو  کھنچوانے  آئے، یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ انتظام باہر نہیں  برآمدے  میں  ہے۔ درمیان کی کرسی پر مجھے  بیٹھایا گیا، اساتذہ بیٹھے، طلبہ بیٹھے، کچھ طلبہ پیچھے  کھڑے  ہو گئے، فوٹوگرافر بہت وقت لے  رہا تھا، بار بار کیمرے  کو ٹھیک کر رہا تھا، کچھ اس انداز سے  جیسے  کسی کا انتظار کر رہا ہو۔ بات سمجھ میں  نہیں  آ رہی تھی، کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ مہاراجہ دربھنگہ کی اس بڑی کوٹھی کے  برآمدے  میں  لگا لوہے اور شیشے  کا جھاڑ(Chandelier) تیزی سے  نیچے  گرا، یہ ٹھیک میرے  سر کے  اُوپر تھا، قدرت کو کچھ  اور  ہی منظور تھا، یہ زنگ آلود پرانے  لوہے  کا مضبوط جھاٍڑ میرے  بازو بیٹھے  ایک پروفیسر کے  سر پر آ گیا۔ اس کی تیز نوک اُن کے  سر میں  گھپ گئی  اور  وہ بیہوش ہو گئے۔ سر پھٹ گیا تھا۔ لہو اُبل رہا تھا، ایک ہنگامہ ہو گیا۔ پروفیسر کو اپنی گاڑی میں  ہسپتال بھجوایا  اور  کوٹھی پر واپس آ گیا۔ میں  بال بال بچ گیا تھا (غالباً اسی کو بال بال بچنا کہتے  ہیں ) مجھے  معلوم ہوا مجھے  ختم کر دینے  کی سازش تھی، لوہے  کے  اُس زنگ آلود نوکیلے  جھاڑ کو ڈھیلا کر کے  اٹکا دیا گیا تھا، ذرا سی جنبش سے  اس کا گر جانا لازمی تھا، سب کی توجّہ فوٹوگرافر کی جانب تھی جو عجیب حرکتیں  کر رہا تھا۔ میں  درمیان میں  بیٹھا تھا، یہ جھاڑ ٹھیک میرے  سر کے  اُوپر تھا اس لیے  ظاہر ہے  زخمی ہونا یا مرنا میرے  لیے  تھا۔ غلط جنبش سے  جھاڑپروفیسر کے  سر پر آن گرا۔ مجھ پر اللہ کی بڑی رحمت تھی، مالک نے  مجھے  بچا لیا۔ تحقیق ہوئی تو پتہ چلا اس شعبے  کے  طلبہ کے  پیچھے  دو تین اجنبی کھڑے  ہو گئے  تھے، فوٹوگرافر سے  غالباً اُن کا معاملہ طے  تھا، وہ ان ہی اجنبیوں  کا انتظار کر رہا تھا، فوٹوگرافر اُن کی آمد  اور  اُن کے  اشارے  کا انتظار کر رہا تھا۔ 
	دوسرے  دن یہ خبر اخباروں  میں  چھپی تو مجھ پر قاتلانہ حملے  کی مذّمت ہر حلقے  میں  کی گئی۔ میرے  خلاف گہری سازش یقیناً بہت تیز ہو گئی تھی!
	چانسلر نے  بھاگوت جھا آزاد  اور  ناگندرجھا کے  مشورے  پر پہلے  تو میرے  تمام اہم فیصلوں  پر پابندی عائد کی۔ جب پورے  بہار سے  احتجاج شروع ہوا  اور  اخباروں  میں  چانسلر کے  عمل کے  خلاف مضامین  اور  خط آنے  لگے  تو مجبوراً پابندی اُٹھا لی۔۔۔۔  اور  اس کے  بعد ایک میٹنگ میں  شریک نہ ہونے  کے  بہانے  کو لے  کر بغیر کسی چارج شیٹ کے  مجھے  ’ڈسمس‘  کر دیا۔ میں  نے  اپنے  طلبہ سے  یہ کہا تھا ’’چانسلر کی نیت ٹھیک نہیں ہے، وہ استعفیٰ چاہتے  ہیں، میں  استعفیٰ نہیں  دوں  گا،  اگر  میرا کوئی کام غلط ہے  تو چارج شیٹ دے  کر مجھے  ’ڈسمس‘  کر دیں۔‘‘  ڈسمس تو کر دیا لیکن اب تک ’چارج شیٹ‘  نہیں  بھیجا!
	 ’’ایسوسی ایشن آف انڈین یونیورسٹیز‘‘  (Association of Indian Universities)نے  اپنی رپورٹ (مطبوعہ جنوری ۱۹۹۱ء) میں  لکھا ہے:
		"The Committee finds that the removal from office of the Vice-Chancellor of .N. Mithila University was arbitrary, vindictive and therefore, illegal."
(Report Page 12)
38.4	"The Vice-Chancellor of .N. Mithila University attempted to introduce various reforms in university administration, consequently, he cause in conflict with the then Education Minister whose vested interest in .N. Mithila University Darbhanga were adversely affected. The promotion of the then Education Minister as University Professor was also cancelled."	(Reported Page 78)
38.4.2	"There is no evidences against the Vice-Chancellor either for adopting a communal attitude in university administration, or for having taken records to illegal or irregular practices or for any attempt to gain cheap populating with political ambitions in mind."	(Report Page 79(
38.4.3	"This removal was completely arbitrary, illegal and vindictive. Non- attendance of a meeting chaired by the Chancellor cannot be a ground for the dismissal of a high dignitary like the Vice-Chancellor. He was not even given an opportunity to explain the reason for not having been able to attend the meeting."
			)Report Page 79)
38.4.4	"The removal even under the 'Pleasure Cause' was not legal because it is our established law that pleasure by any functioning of the State including the President cannot be exercised arbitrarily."	(Report Page 79)
	شری امریک سنگھ نے  ’’ہندوستان ٹائمز‘‘  (مورخہ ۲!ستمبر ۱۹۸۸ء) میں  ایک مضمون لکھا The Issue at Mithila۔ اس میں اور بہت سی باتوں  کے  علاوہ یہ تحریر کیا:
		"According to Press Reports, Prof. Shakeelur Rehman, V.C. of Mithila University, was removed from Vice-Chancellor on the grounds that he did not attend a particular meeting summoned by the Chancellor. If this is correct, it is something unprecedented. Not attending a meeting cannot be a cause of dismissal."
	شری امریک سنگھ نے  ناگندرجھا کے  معاملے  پر بھی روشنی ڈالی، مثلاً یہ کہ وائس چانسلر نے  اُن کی ’پروفیسری‘  ختم کر دی۔ شری امریک سنگھ نے  آگے  چل کر تحریر کیا:
		"A reported, the V.C. chose to confront corruption, nepotism, casteism and various other is to which our university are subject. As may as 38 readers are said to have been demoted because of certain irregularities in regard to their appointments. Not only that 200 non-teaching employees who were found guilty of negligence had their services terminated. Clearly the V.C. had embarked upon cleaning the Augean stables."
(The Hindustan Times, Patna, Monday Sept. 12, 1988, Page 7)
"It is not intended to devalue the community of Vice-Chancellor as a whole. Most of them, as is usually acknowledged, are men of questionable ability and integrity. Shakeelur Rehman, who ever, is an exception. About a decade ago, he was V.C. of another University in Bihar. But he has to go out of office along with several others. His re-induction was, in a sense, attribute to his capability and uprightness. But then who wants these qualities these days."
(The Hindustan Times, Patna, Monday Sept. 12, 1988, Page 7)
	میں  نے  وائس چانسلر کی حیثیت سے  وزیر اعظم راجیو گاندھی کو ایک خط لکھا تھا جس میں  بتایا تھا کہ بہار کی یونیورسٹیوں  کی حالت کیا ہے، کانگریس کی حکومت کہ جس کے  آپ سربراہ ہیں  بہت بدنام ہو رہی ہے، بہار کی پسماندگی پر ماتم کیا جاتا ہے اور اس کے  تعلیمی نظام کی جانب کسی کا دھیان نہیں  ہے۔ میں  جانتا تھا کہ اب یہاں  رہنا نہیں  ہے۔ چانسلر بابو گووند نارائن سنگھ کی کوئی دلچسپی تعلیم  اور  نظامِ تعلیم سے  نہیں  ہے۔ بھاگوت جھا آزاد کی حکومت یونیورسٹیوں  کو بس گھروندہ سمجھتی ہے۔ مجھ پر اعتراض کیا گیا۔ وزیر اعظم کو خط کیوں  لکھا؟ یہ خط پریس میں  آ گیا  اور  اس پر بحث ہونے  لگی۔ دراصل میں  تھک چکا تھا حکومت  اور  چانسلر کو لکھتے  لکھتے، حالات بتاتے  بتاتے  یہ ضروری جانا کہ وزیر اعظم کو بھی حالات سے  آگاہ کر دیا جائے، کل وہ یہ نہ کہیں  کہ مجھے  کیوں  نہیں  لکھا (جب میں  بہار یونیورسٹی سے  ہٹا تھا  اور  کشمیر چلا گیا تھا تو گردھاری لال ڈوگرہ، ممبر پارلیمنٹ کے  ذریعے  شریمتی اندرا گاندھی نے  مجھے  دلّی بلوایا تھا۔ کئی باتوں  پر تبادلۂ خیالات کے  لیے  بنیادی مسئلہ کشمیر کا تھا۔ شیخ محمد عبداللہ اُس وقت وزیر اعلیٰ تھے۔ آر کے  دھون اُس وقت شریمتی گاندھی کے  سیکریٹری تھے۔ جب وزیر اعظم سے  رخصت ہو رہا تھا تو بہار یونیورسٹی کے  حالات کا ذکر آ گیا، مادام نے  کہا کاش اُس وقت آپ مجھ سے  ملے  ہوتے، آپ بہار یونیورسٹی ہی میں  ہوتے، مجھے  ہنسی آ گئی تھی۔ بھلا میں  اُن سے  کیوں  ملتا  اور  کیسے  ملتا۔ یوں  بہار یونیورسٹی سے  ہٹانے  والے  سنجے  گاندھی  اور  جگن ناتھ مشرا تھے۔ میں  کوئی سیاسی آدمی تو تھا نہیں  جو اُن کے  پیچھے  ہو لیتا  اور  آپ کے  پاس آ جاتا) ہاں  وزیر اعظم راجیو گاندھی کے  نام وائس چانسلر کی حیثیت سے  جو خط لکھا شری امریک سنگھ نے  اس کا بھی ذکر کیا  اور  کچھ اس طرح:
		"One particular fact, however, calls for notice. It has been reported that a short while belong he was removed from office (and he could see it coming), he addressed a letter to the Prime Minister. Nothing came out of it. Not does one know what happened to it. Perhaps it was filed or put away or something like that. these details are not important.
		What is important is to draw attention to the fact that the Prime Minister is not as power less as is made out. As things stand at present, education is a concurrent subject. In any case, as for as higher and professional education are concerned, the Centre has had, right from 1950, powers of a far-reaching kind. It is another .... .... . that those have not been exercised. the powers are there and they can be exercised provided, as they say, there is a political will to do so."	(The Issue At Mithila.
	 نیشنل پریس  اور  مختلف زبانوں  کے  اخبارات  اور  ’’انڈیا ٹوڈے‘‘  (انگریزی۔ ہندی) ’’سنڈے‘‘  ، ’’ویک‘‘   اور  ہندی عوامی رسالوں  نے  میری برطرفی کو موضوع بنایا۔ نیشنل پریس نے  کئی اداریے  لکھے۔ ہر طبقے  کے  لوگوں  نے  احتجاج کیا، جلوس نکلے،  اور  جانے  کیا کیا ہوا۔ میں  پٹنہ چلا آیا۔ میری واپسی کے  بعد دربھنگہ میں  زبردست زلزلہ آیا، پٹنہ میں  سیکریٹریٹ کی ایک دیوار میں  درار پیدا ہو گئی  اور  راج بھون کے  ایک کمرے  کو نقصان ہوا۔ 
	دربھنگہ جا کر میں  نے  لوگوں  سے  ہمدردی کا اظہار کیا، سائیں  اس سے  زیادہ  اور  کچھ نہیں  کر سکتا تھا! دربھنگہ کے  لوگوں  کی  محبتوں  کو سمیٹے، اُن کے  نغموں، گیتوں اور نظموں  کے  آہنگ کو لیے اور ’’سیکولر رحمن‘‘  کے  نام کو سنبھالے  گنگا پار کر کے  پٹنہ آ گیا!
	سائیں  اپنے  کام سے  خوش  اور  مطمئن تھا۔ 
	البتہ اس بھری دُنیا میں  سر چھپانے  کی کہیں  کوئی جگہ نہ تھی!!
کچھ تو ترے  موسم ہی مجھے  راس کم آئے 
 اور  کچھ مری مٹّی میں  بغاوت بھی بہت تھی
پھولوں  کا بکھرنا تو مقدر ہی تھا لیکن
کچھ اس میں  ہواؤں  کی سیاست بھی بہت تھی
												(پروین شاکر)
٭٭٭
مصنف کی اجازت اور تشکر کے ساتھ کہ انہوں نے اس کی فائل عطا کی۔ 
ان پیج سے تبدیلی، پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
