﻿

درد شمارہ



زکریا شاذ











جس کے ہونٹوں پہ بات اس کی ہے
دن ہے اس کا تو رات اس کی ہے

لکھتا رہتا ہے جو سخن اس کے
قلم اس کا دوات اس کی ہے

کوئی ٹھہرے گا اس کے آگے کیا
روبرو جس کے ذات اس کی ہے

جیتا مرتا ہے اس کی خاطر جو
موت اس کی حیات اس کی ہے

جو غلاموں میں اس کے شامل ہے
در حقیقت نجات اس کی ہے

بخش دیتا ہے جو مثالِ رسول
ہمت اس کی بساط اس کی ہے

کیوں نہ محفل میں ہو کا عالم ہو
شاذ ہونٹوں پہ نعت اس کی ہے
٭٭٭

کوئی صورت نہیں ہے جینے کی
آؤ باتیں کریں مدینے کی

میرے آقا بڑا تلاطم ہے
لاج رکھنا مرے سفینے کی

ہو قبول آنسوؤں کا نذرانہ
یہ کمائی ہے خوں پسینے کی

ذکر تیرا کروں تو کیسے کروں
تیری ہر بات ہے قرینے کی

سال بھر اس کا انتظار کریں
شان کتنی ہے اس مہینے کی

نام جپتے رہو محمد کا
یہی کنجی ہے ہر خزینے کی



کبھی یوں بھی مجھے اس کی محبت گھیر لیتی ہے
اچانک جیسے بچوں کو شرارت گھیر لیتی ہے

بہت سرشار رکھتا ہے اسے بھی گیت بارش کا
مجھے بھی ایک البیلی مسرت گھیر لیتی ہے

فسانہ ساز گلیوں کی بہت ہم سیر کرتے ہیں
مگر اک وقت آتا ہے حقیقت گھیر لیتی ہے

بہت افسوس غفلت کا مگر اس وقت ہوتا ہے
ہمیں حد سے زیادہ جب ضرورت گھیر لیتی ہے

کہ میں بھی شاذ زندہ ہوں کہ میں بھی سوچ لیتا ہوں
کبھی مجھ کو بھی خوابوں کی رفاقت گھیر لیتی ہے
٭٭٭



‫ماہیے

تم پھول سراپا ہو
رنگوں کی مسافت میں
خوشبو کا علاقہ ہو
٭٭

ٹھنڈک کا ذخیرہ ہو
تم دھوپ سمندر میں
چھاؤں کا جزیرہ ہو
٭٭

کومل کا تو ٹکڑا ہے
تو دھن ہو کوئی میٹھی
تو گیت کا مکھڑا ہے
٭٭


تصویر پرانی ہے
کیا تم کو سنائیں ہم
یہ لمبی کہانی ہے
٭٭

جلتی ہوئی شب کوئی
ہم جاگنے والوں کے
دکھ سمجھا ہے کب کوئی
٭٭٭



عجب حالات میں رکھا ہوا ہوں
نہ دن نے رات میں رکھا ہوا ہوں

تعلق ہی نہیں ہے جن سے میرا
میں ان صدمات میں رکھا ہوا ہوں

کبھی آتا نہیں تھا ہاتھ اپنے
اب اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہوں

ذرا بھی رہ نہیں سکتا ہوں جن میں
میں ان جذبات میں رکھا ہوا ہوں

جلائے کس طرح یہ دھوپ مجھکو
کہیں برسات میں رکھا ہوا ہوں

خموشی کہہ رہی ہے شاذ اس کی
میں اس کی بات میں رکھا ہوا ہوں
٭٭٭




صدائیں اتنی اونچی ہیں کہ مدھم سوچتے ہیں 
سو اب ہم سوچنے والے بھی کم کم سوچتے ہیں

کسی سے بات کیا کرنی،ٹھہرنا کس لیے پھر
جہاں پر زخم سے پہلے ہی مرہم سوچتے ہیں

بنائیں نقش تو اس کو مٹا دیتے ہیں خود ہی
اگر ہم سوچتے بھی ہیں تو برہم سوچتے ہیں

جو سچ پوچھو تو ہم کو بھی خبر اس کی نہیں ہے
جو دنیا ڈھونڈتے ہیں ہم جو عالم سوچتے ہیں

یہ ہم کیا دیکھتے اور سوچتے رہتے ہیں آخر
کہ پھر ہم دیکھتے ہیں کچھ نہ کچھ ہم سوچتے ہیں

جگہ یہ شاذ، لے کے دم نہیں ہے سوچنے کی
یہاں تو ہر قدم پر کھینچ کے دم سوچتے ہیں
٭٭٭


رستے تھے دھوپ میں بھی سحا بوں بھرے ہوئے
جانے وہ دن کہاں گئے خوابوں بھرے ہوئے

وہ لہر اب کہاں رہی وہ موج اب کہاں 
بس نین رہ گئے ہیں چنابوں بھرے ہوئے

خاموش اگر نہیں رہے تو کیا کرے کوئی
سارے سوال جب ہوئے جوابوں بھرے ہوئے

جو غم ملا ہے اس کا کبھی غم نہیں کیا 
چکھے نہیں پیا لے شرابوں بھرے ہوئے

تلخی گھلی ہوئی ہے مگر لفظ لفظ میں 
ہونٹوں کو دیکھیے تو عنابوں بھرے ہوئے

دستک پہ شاذ دل مرا دھڑکا ہے آج پھر
پھر آ گئے لفافے کتابوں بھرے ہوئے
٭٭٭





محبت ایک ایسا راستہ ہے
چلو جتنا یہ اُتنا راستہ ہے

ہوا ہے دھند ہے اور تیز بارش
پہاڑی ہے ذرا سا راستہ ہے

کبھی اکتا گیا ہوں خود ہی خود سے
کبھی اپنا ہی دیکھا راستہ ہے

زمانے ہو گئے ہیں چلتے چلتے
کہاں جاتا یہ دل کا راستہ ہے

ہیں سانسیں چڑھا دیتا یے میری
کہیں آہستہ چلتا راستہ ہے

یہ کیسے موڑ پر میں آگیا ہوں
کہ چلتا ہوں تو چلتا راستہ ہے

وہی اوڑھی ہوئی ہے دھول اب تک
وہی پیروں سے لپٹا راستہ ہے

سبھی کی اپنی اپنی منزلیں شاذ
سبھی کا اپنا اپنا راستہ ہے
٭٭٭




کیک سے کاٹی ہوئی ایک نظم


اے لڑکی

اے اور طرح کی باتوں والی
جھوٹ اور کھوٹ سے خالی 
لڑکی
تو نے 
کیسی سرشاری دلداری سے
ایک انوکھی من موہنی 
فرمائش کی ہے
سوچ رہا ہوں
میری تجھ سے 
           بس اتنی سی رسم و راہ ہے
کہ میں تیرے کان میں آ کر
چپکے چپکے چوری چوری
ویسی ہی سرشاری اور دلداری سے
بس اتنا کہہ دوں
اے لڑکی!
اے اور طرح کی باتوں
ٹھنڈی راتوں 
والی لڑکی 
گھر کے سارے 
کام کاج سے
 چھٹی لے لے
       آج تمہاری سال گرہ ہے
٭٭٭



کیوں لے کے سبھی تیرو تفنگ آنے لگے ہیں
کیا ہم کو بھی گفتار کے ڈھنگ آنے لگے ہیں

اک عمر سہی دھوپ، کِیا صبر تو ہم پر
اب جا کے یہ اشجار کے رنگ آ نے لگے ہیں

بولیں نہ اگر ہم تو یہ دنیا کہے پتھر
اب ہونٹ جو کھولے ہیں تو سنگ آنے لگے ہیں
٭٭٭



پھر وہ میرے دھیان میں دیر تک نہیں رہا
پھول پھول دان میں دیر تک نہیں رہا

وہ بھی موج موج کا سامنا نہ کر سکا 
میں بھی درمیان میں دیر تک نہیں رہا 

جانے کس خیال سے رابطہ ہوا نہیں 
جانے کس جہان میں دیر تک نہیں رہا

ناز اس قدر نہ کر جسم کے جمال پر
کوئی اس مکان میں دیر تک نہیں رہا

پھر نواحِ دل میں شاذ شام وہ ہوا چلی
ربط جسم و جان میں دیر تک نہیں رہا
٭٭٭



یہ جو رواں دواں ہوں میں اپنے لیے کہاں ہوں میں
 جیسا ہوں میں جہاں ہوں میں اپنے لیے کہاں ہوں میں 

جل کے بھی  ہوں بجھا ہوا بجھ کے بھی  ہوں جلا ہوا
آگ ہوں یا دھواں ہوں میں اپنے لیے کہاں ہوں میں 

جو بھی مرے قریں رہا میرے لیے نہیں رہا 
سب کے جو درمیاں ہوں میں اپنے لیے کہاں ہوں میں 

یہ جو ادھر ادھر ہیں لوگ کس کے یہ ہم سفر ہیں لوگ
اور جو یہاں وہاں ہوں میں اپنے لیے کہاں ہوں میں 

کتنا عیاں عیاں ہے تو میرے لیے کہاں ہے تو
خود میں اگر نہاں ہوں میں اپنے لیے کہاں ہوں میں 

کچھ بھی نہیں بچا ہوں شاذ جانے کہاں گیا ہوں شاذ
سب کے لیے تو ہاں ہوں میں اپنے لیے کہاں ہوں میں 
٭٭٭





پیارے اور دلارے دوست الیاس ملک کے نام


کب گلی محلے میں رونقیں نہیں ملتیں 
لیکن اب وہ پہلی سی صورتیں نہیں ملتیں 

جس طرف بھی جاتے ہیں جمگھٹے ہیں لوگوں کے 
جمگھٹے ہی ملتے ہیں محفلیں نہیں ملتیں 

کیسے ایک جیسے ہوں تجربے محبت میں 
سب کو ایک جیسی تو چاہتیں نہیں ملتیں 

اور بہت سی باتوں کا دھیان رکھنا پڑتا ہے 
صرف چلتے رہنے سے منزلیں نہیں ملتیں 

اِس سے ملنے جاتے تھے اُس سے ملنے جاتے تھے 
اب تو ہم کو خود سے ہی فرصتیں نہیں ملتیں 

ختم ہی نہیں ہوتا رونا اس محبت کا 
دل جو مل بھی جائیں تو قسمتیں نہیں ملتیں 

ٹکڑیوں میں خانوں میں شاذ بٹ گیا ہوں میں 
اب تو میری مجھ سے بھی عادتیں نہیں ملتیں 
٭٭٭




کتنے جتن اور کس مشکل سے ملتے تھے 
وہ بھی دن تھے جب ہم دل سے ملتے تھے 

سب منظر تھے اک منظر کے ہونے سے 
سارے رستے اک منزل سے ملتے تھے 

جتنے رنگ تھے روشن خواب چراغوں میں 
ان آنکھوں کی جھلمل سے ملتے تھے 

تنہائی میں تنہائی کب ہوتی تھی
رنگِ محفل کب محفل سے ملتے تھے 

شاذ ہمیں وہ پیچھے چھوڑ گیا آخر
دوڑ دوڑ کے جس کاہل سے ملتے تھے 
٭٭٭



مس فٹ 

نیل کٹر کی
ایک ذرا سی جنبش سے 
سرخ گلابی اور
چمکتے ناخن
کٹ کٹ کر
اس کے بھیگے دامن میں 
گرتے جاتے ہیں 

اور وہ
اپنا آپ سنبھالے 
جگمگ کرتے ریشم ایسے 
ہاتھوں سے 
ناخن ریزے 
چنتی جاتی ہے 

اس کمرے سے 
اس کمرے سے 
آنے والی
ناخن ایسی نوکیلی
کڑوی اور کسیلی
آوازیں بھی
 سنتی جاتی ہے 
٭٭٭




کچھ دنوں سے یہ حال دل کا ہے 
مجھ کو کم کم خیال دل کا ہے 

عشق وہ امتحان ہے جس میں 
سب سے پہلا سوال دل کا ہے 

یہ جو پل پل زوال ہے اپنا
اس میں سارا کمال دل کا ہے 

خوش بھی سارے ہوں جس سے ناخوش بھی
آدمی بے مثال دل کا ہے 

ہجر وہ حاصلِ محبت ہے 
جس میں دل سے وصال دل کا ہے 

آج موسم بھی دلفریب ہے اور
راستہ بھی بحال دل کا ہے 

عشق اک جنگِ پُر ہزیمت ہے 
اس میں بچنا محال دل کا ہے 

دوڑے آتے ہیں لوگ میری طرف
وہ زمانے میں کال دل کا ہے 

جس کی آہٹ پہ دل دھڑکتے تھے 
اب وہی پائمال دل کا ہے 

کون پوچھے گا شاذ تجھ کو جہاں 
تذکرہ خال خال دل کا ہے 
٭٭٭





ترے بارے میں تھوڑا سوچتا ہوں 
میں اب کتنا زیادہ سوچتا ہوں 

کوئی کیا سوچتا ہے کیوں میں سوچوں 
فقط میں اپنا حصہ سوچتا ہوں 

انہی میں زندگی ساری گزاری
میں جن باتوں سے بالا سوچتا ہوں 

جہاں سے راستہ اک اور نکلے 
میں اس منزل کا رستہ سوچتا ہوں 

وہ جب آئے سبھی کچھ بھول جاؤں 
نہیں آئے تو کیا کیا سوچتا ہوں 

یہ میرے ہاتھ میں میرا  قلم ہے 
خدا کا شکر اپنا سوچتا ہوں 

جو اتھلی پیتلی ہے شاذ دنیا
تو کیوں پھر اس کو گہرا سوچتا ہوں 

نوٹ ۔۔۔ پیتلی، بر وزن کیتلی ۔۔۔۔۔ اتھلی کا ہم معنی ۔۔۔۔۔۔ شاذ
٭٭٭



اک کمی سی دیکھتا ہوں ہر طرف
میں اکیلا پھر رہا ہوں ہر طرف

مجھ میں ایسا کون ہے بیٹھا ہوا
دوڑتا ہوں بھاگتا ہوں ہر طرف

پہلے اس کی دھیان لہروں پر بہوں 
اور پھر میں ڈوبتا ہوں ہر طرف

کیا یہاں کوئی نہیں میرے سوا
خود سے ہی ٹکرا رہا ہوں ہر طرف

اس کا مطلب ہے کہ منزل مل گئی
یہ جو رستہ ڈھونڈتا ہوں ہر طرف

ایک ہی سودا ہے اپنے سر میں شاذ
ایک ہی منظر میں چاہوں ہر طرف
٭٭٭







 کیسے دکھائی دے گا کنارہ کسی طرف
رخ ٹھیک ہی نہیں ہے ہمارا کسی طرف

چاروں طرف ہی کوئی یہاں بس رہا ہے اور
ہوتا نہیں کسی کا گزارا کسی طرف

اک روز موڑ آئے گا ایسا بھی راہ میں 
سامان رہ ہی جائے گا سارا کسی طرف

آنکھیں جو چاہتی ہیں نہیں دل کو وہ قبول
نظریں کسی طرف ہیں نظارہ کسی طرف

ہم لوگ اس طرح کے ہیں ظلمت نصیب لوگ
اک بھی نہیں امید کا تارا کسی طرف

اس کی بھی بات بات تھی بے ربط و بے مقام
اپنا بھی آج دھیان تھا سارا کسی طرف

یہ فائدے پہ فائدہ یوں ہی نہیں ہے شاذ
نقصان ہو رہا ہے ہمارا کسی طرف
٭٭٭




کاسنی خواب بنا کرتے تھے 
ہم کبھی ساتھ رہا کرتے تھے 

 کوئی خوشبو سی لگی رہتی تھی
شاخ در شاخ اڑا کرتے تھے 

شمع جلتی تھی سحر ہونے تک
اور ہم ساتھ دیا کرتے تھے 

شاخِ امکان جو ہلتی تھی ذرا
پھول ہی پھول گرا کرتے تھے 

 سب کو رہتی تھی شکایت ہم سے 
ہم کسی کا نہ گلہ کرتے تھے 

بند کر دیتے تھے دروازے لوگ
ہم ہواؤں سے ملا کرتے تھے 

جانے کیا دل میں چھپا تھا،دن بھر
سنگِ خوش رنگ چنا کرتے تھے 

بیٹھ جاتے تھے لبِ جوئے خیال
ایک اک لہر گنا کرتے تھے 

کیا ہوئی ہے وہ خموشی جس میں 
اپنی آواز سنا کرتے تھے 

یاد ہے شاذ تجھے سوچ ذرا
لوگ اک بات کہا کرتے تھے 
٭٭٭







ہمارے عہد نے کیا کیا کمال کر ڈالا
جواب دینا تھا جس نے سوال کر ڈالا

سنبھل سنبھل کے چلے بھی تو ڈگمگا کے چلے
کبھی نہ پاؤں میں رستہ سنبھال کر ڈالا

خیال و خواب کی دنیا کے نقش گر تھے ہم
سو اپنے آپ کو خواب و خیال کر ڈالا

کبھی ہنسا کے بھی کوئی ہنسا نہیں پایا
کبھی رلا کے کسی نے نہال کر ڈالا 

ذرا سی بات سہی اس کا دیکھنا نہ اِدھر
ذرا سی بات پہ اپنا وہ حال کر ڈالا

زار خوف تھے لیکن وہ جب ملا تو کھلا
جدائی نے تو اسے خوش وصال کر ڈالا

ہمارے واسطے کیا جانے شاذ لائی ہے
فلک کو رات نے تو مالا مال کر ڈالا
٭٭٭





کچھ تو ہوا برفیلی ہے
کچھ لکڑی بھی گیلی ہے

دنیا سے کیا جُڑ کے رہیں 
سانس گرہ جب ڈھیلی ہے
 
بند میں کر دوں بس جو چلے
یہ جو چھتری نیلی ہے

باتوں کی کنجوس بہت 
نظروں کی خرچیلی ہے

سر پر سرخ دوپٹا ہے
رنگت رنگت پیلی پیلی ہے

جانے کتنی ہے باقی
جانے کتنی جی لی ہے

سب سے بڑا سپیرا وہ 
دنیا جس نے کیلی ہے

شاذ اس پیار کے پنگھٹ سے
کس کی بھری پتیلی ہے
٭٭٭



جب

                        جب 
جسم شاخ میں
جوبن کا رس ہوتا ہے
                       نا 
                 آنکھوں میں 
                 کسی میٹھے
 اور انجانے خواب کی
پرچھائیں لہراتی ہے
                      جب
                      اپنا دل 
بس اپنے لیے ہی
                  دھڑکتا ہے
                     جب 
آنکھ میں آنسو
آتے ہی بہہ جاتے ہیں
                    جب 
     لفظ لبوں پر
    بنتے بنتے
    رہ جاتے ہیں
    ان لمحوں میں
    میرے دل میں
    پھول کھلے تھے
    تیری لگن کے
٭٭٭



جب بھی گھر کے اندر دیکھنے لگتا ہوں
کھڑکی کھول کے باہر دیکھنے لگتا ہوں

تنہائی میں ایسا بھی کبھی ہوتا ہے
خود کو بھی میں چھو کر دیکھنے لگتا ہوں

ہاتھ کوئی جب آنکھوں پر آ رکھتا ہے
کیسے کیسے منظر دیکھنے لگتا ہوں

پہلے دیکھتا ہوں میں کمک خیالوں کی
پھر لفظوں کے لشکر دیکھنے لگتا ہوں

یکھ دیکھ کے اس کو جی نہیں بھرتا تو
بانہوں میں پھر بھر کر دیکھنے لگتا ہوں

دن بجھ جائے تو پھر تارے تارے میں
خود کو شاذ منور دیکھنے لگتا ہوں
٭٭٭




یہ سماں اور یہ نظارہ نہیں دیکھا جاتا
زندگی بھر کا خسارہ نہیں دیکھا جاتا

وہ بہا ؤ ہے کہ ناؤ نہیں تھامی جاتی
وہ کٹاؤ ہے کنارہ نہیں دیکھا جاتا

خامشی بسترِ خالی کی لہو چاٹتی ہے
بند کمرے کا نظارہ نہیں دیکھا جاتا

حاصلِ دید رہا جس کا سراپا وہی اب
تختہ ء مرگ پہ سارا نہیں دیکھا جاتا

ستہ ء گل کی طرح جس نے بہم رکھا ہمیں
پتی پتی وہ سہارا نہیں دیکھا جاتا

سرِ میدانِ غم ہست جو جیتا ہر دم
سرحدِ مرگ پہ ہارا نہیں دیکھا جاتا

دم بدم ٹوٹتا جائے مرے بیمار کا دم
چارہ سازوں کا یہ چارہ نہیں دیکھا جاتا

کیسی نظروں سے یہ دیکھا دمِ آخر تو نے
کہ تری سمت دوبارہ نہیں دیکھا جاتا

خونچکاں شاذ کہانی تو مری تھی لیکن
یہ نیا درد شمارہ نہیں دیکھا جاتا
٭٭٭




جہاں بھی میرے زمانے کا ذکر آئے گا
دعا کو ہاتھ اٹھانے کا ذکر آئے گا

یونہی رہا تو سنو پھر کتابِ ہستی میں
کہیں نہ ہنسنے ہنسانے کا ذکر آئے گا

چلے گی بات جہاں بھی سیہ اندھیروں کی
وہیں دیا بھی جلانے کا ذکر آئے گا

نہیں بتاؤں حقیقت میں اس لیے اپنی
کہ اس میں تیرے فسانے کا ذکر آئے گا

ہمیشہ دھیان میں رکھنا سنو سفر والو
قدم قدم پہ ٹھکانے کا ذکر آئے گا

بنا طلب کے جو مل جائے دینے والے سے
بتاؤ کس کے خزانے کا ذکر آئے گا؟

ابھی تو تذکرے ہونے ہیں عشق والوں کے
ابھی تو اگلے زمانے کا ذکر آئے گا

ابھی تو بستہ دروں کے گھروں کا ہو گا بیاں
ابھی تو لڑنے لڑانے کا ذکر آئے گا

ابھی کہانی سنانی ہے ہنسنے والوں کی
ابھی تو رونے رلانے کا ذکر آئے گا

وصال و ہجر کی جب داستاں رقم ہو گی
تمہارے آنے کا جانے کا ذکر آئے گا

سنانے والے بہت دیر چپ رہیں گے جب
تو شاذ میرے گھرانے کا ذکر آئے گا
٭٭٭







کیا نظارہ تھا میری آنکھوں میں
جب وہ سارا تھا میری آنکھوں میں

ایک طوفان تھا کہیں برپا
اور دھارا تھا میری آنکھوں میں

حال کیسا یہ تو نے کر ڈالا
کتنا پیارا تھا میری آنکھوں میں

کچھ بھی دیکھا نہیں تھا میں نے جب
ہر نظارہ تھا میری آنکھوں میں

چاند جب تک نظر نہ آیا تھا
تارا تارا تھا میری آنکھوں میں

ُُ"جب کِیا عشق کا سفر آغاز"
کب کنارہ تھا میری آنکھوں میں

کتنی آنکھوں سے شاذ بچتے ہوئے
کوئی ہارا تھا میری آنکھوں میں
٭٭٭






ہے خاکِ محبت میں اثر اور طرح کا
پیڑ اور طرح کے ہیں ثمر اور طرح کا

اب سانس بھی لینے کی نہیں ملتی ہے فرصت
درپیش ہے ہر وقت سفر اور طرح کا

اک آتشِ بے نام میں ہر روز جلیں ہم
ہر روز اٹھے جس سے شرر اور طرح کا

دیواریں نکل آئی ہیں ہر سمت کہاں سے
ہم نے تو بنایا تھا یہ گھر اور طرح کا

رہ جائیں گے سنسان یہ رستے یہ فضائیں
اک روز بلا لے گا نگر اور طرح کا

اک اور بھی رستہ ہے کہ کٹتا ہی نہیں جو
گر پاس نہ ہو رختِ سفر اور طرح کا

اک اور بھی گھر شاذ ہے اس گھر کے علاوہ
چھت اور طرح کی ہے تو در اور طرح کا
٭٭٭


نہ کوئی دن نہ کوئی رات ہونے والی ہے
تو پھر ضرور کوئی بات ہونے والی ہے

کہیں بھی کھُل نہیں پائے گئی چھاؤں کی چھتری
یہاں وہ دھوپ کی برسات ہونے والی ہے

قدم قدم پہ نمایاں ہیں نصرتوں کے علم
قدم قدم پہ جہاں مات ہونے والی ہے

جسے بھی دیکھیے کہتا ہے. انتہا ہے بس
یہ کس طرح کی شروعات ہونے والی ہے

دکھوں غموں سے تواضع تو ہو چکی اپنی
اب آنسوؤں سے مدارات ہونے والی ہے

ہماری جان بدن سے نکلتی جاتی ہے
یہ شاذ کس سے ملاقات ہونے والی ہے
٭٭٭



ہیں رواں اور طرف ہم تو کبھی اور طرف
جی میں آتا ہے نکل جائیں کسی اور طرف

اس لیے حد سے کبھی پیاس کو بڑھنے نہ دیا
لے ہی جائے نہ ہمیں تشنہ لبی اور طرف

کیسے بھولے کوئی اس وادیِ پر پیچ کی سیر
جس طرف آنکھ اٹھی ہم پہ کھلی اور طرف

دو قدم کی یہ رفاقت ہی غنیمت جانو
کیا خبر کس گھڑی مڑ جائے کوئی اور طرف

فیصلہ ایک ہی ٹھوکر سے ہوا دونوں کا
کہ گرے اور طرف ہم تو خوشی اور طرف

شاذ منظر ہی کچھ ایسا تھا کہ ہر بار نگاہ
ہم نے ڈالی جو کہیں اور گئی اور طرف
٭٭٭


اندر سے بن گئے تو بظاہر نہ بن سکے
دنیا جو چاہتی تھی ہم آ خر نہ بن سکے

چھورا کسی نے اس طرح سب کچھ ہی چھُٹ گیا
توڑا کسی نے یوں کہ کبھی پھر نہ بن سکے

تیرے لیے تو بنتے رہے ٹوٹ ٹوٹ کر
اپنے لیے کبھی تری خاطر نہ بن سکے

لمحوں کے سرد و گرم کا سب پر کہاں اثر
پتھر تو سارے لعل و جواہر نہ بن سکے

مٹی سے اپنی شاذ جو کر دیں ہمیں جدا
ایسی ہواؤں کے کبھی طائر نہ بن سکے
٭٭٭






دل کی باتوں میں یوں ہی ہوتا ہے
تنہا راتوں میں یوں ہی ہوتا ہے

پکڑے جاتے ہیں سب محبت کی
وارداتوں میں یوں ہی ہوتا ہے

آدمی منہ کے بل گرے اکثر
احتیاطوں میں یوں ہی ہوتا ہے

پہلے ملتے نہیں تھے ہم کسی دن
اب ساتوں میں یوں ہی ہوتا ہے

زہر تھوکیں گے دودھ پی کر
سانپ ذاتوں میں یوں ہی ہوتا ہے

مانتا ہی نہیں ہے ہار کوئی
پہلی ماتوں میں یوں ہی ہوتا ہے

پہلے پہلے تو شاذ سب کا ہی
ہاتھ ہاتھوں میں یوں ہی ہوتا ہے
٭٭٭






زیادہ کب کوئی منظر نظر میں رہتا ہے
جہاں کہیں بھی رہوں گھر نظر میں رہتا ہے

کوئی تو ہے جو دکھاتا ہے راستہ مجھ کو
کوئی تو روشنی بن کر نظر میں رہتا ہے

میں اک ندی ہی سہی ایک آبجو ہی سہی
مگر ہمیشہ سمندر نظر میں رہتا ہے

اب اس سے بڑھ کے محبت کا معجزہ کیا ہو
جو اک نظر میں رہے ہر نظر میں رہتا ہے

کسی خیال سے ہاروں تو کس طرح ہاروں
تمہارے دھیان کا لشکر نظر میں رہتا ہے

یہ ٹھیک ہے کہ گھڑی بھر دکھائی دے وہ مجھے
مگر کہاں وہ گھڑی بھر نظر میں رہتا ہے

کوئی بھی کام کروں میں کہیں بھی جاؤں میں شاذ
جو شخص ہے مرے اندر نظر رہتا ہے
٭٭٭



غم چھپانے میں دیر لگتی ہے
مسکرانے میں دیر لگتی ہے

چند گھڑیاں ہی گھر ٹھہرتا ہوں
آنے جانے میں دیر لگتی ہے

یاد کیوں ہم کسی کو کرتے ہیں
کیوں بھلانے میں دیر لگتی ہے

جلد آؤں گا میں مگر اُس کو
یہ بتانے میں دیر لگتی ہے

سوچ لینا یہ دور ہوتے ہوئے
پاس آنے میں دیر لگتی ہے

شاذ خط تو میں لکھ ہی دیتا ہوں
دل بنانے میں دیر لگتی ہے
٭٭٭






سفر تو کم ہے سفر کا بیاں زیادہ ہے
وہی رہے گا یہاں جو یہاں زیادہ ہے

ابھی تو کھُل کے اڑا بھی نہیں فضاؤں میں
سمجھ رہا تھا میں یہ آسماں زیادہ ہے

نئے سرے سے کوئی ہو رہا ہے خیمہ زن
کہیں پہ کھینچی کسی نے کماں زیادہ

یہ دل ہے درد کی طغیانوں کے گھیرے میں
یہ آنکھ ان دنوں گوہر فشاں زیادہ ہے

ذرا بچے نہیں ہم ایک دوسرے کے لیے 
کوئی تو تیرے مرے درمیاں زیادہ ہے

نہ شور ہے نہ کوئی چیز ہے ادھر سے ادھر
یہ گھر تو کم ہے میاں یہ مکاں زیادہ ہے

ہجوم دشمناں دیتا ہے یہ گواہی شاذ
ہمارا سلسلۂ دوستاں زیادہ ہے
٭٭٭



*****
زکریا شاذ کے کتاب چہرہ (فیس بک) نوٹس/ پوسٹس سے مرتب
ترتیب و تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
