﻿

درد دِل میں ہے






فوقؔ کریمی













سب کی نگاہیں پہچانے ہے سب کا اشارہ جانے ہے
کون ہے اپنا کون پرایا وقت کا مارا جانے ہے

اپنی محبت راز تھی لیکن خوشبو بن کر پھیل گئی
ہم نے کسی سے بات نہ کی اور عالم سارا جانے ہے

کروٹ کروٹ انگارے تھے بستر پر اے شعلہ رو
’’رات بسر کی ہم نے کیسے صبح کا تارا جانے ہے‘‘

کون ہے قاتل؟ کون ہے ظالم؟ کون ہوا مقتول یہاں 
لوگ حقیقت لاکھ چھپائیں عالم سارا جانے ہے

کتنے ہمارے نام کے سورج تیرے اُفق پر نکلے ہیں 
پیرِ فلک دنیا کو بتا تو حال ہمارا جانے ہے

لُوٹے ہے دل رہگیروں کا اپنی ناز و ادا سے وہ
نایاب اور انمول ہے کیا شے خوب دِل آرا جانے ہے

چاہ میں تیری فوقؔ کا تیرے تو نے سنا کیا حال ہوا؟
کوئی غریبِ شہر کہے ہے کوئی بے چارہ جانے ہے
٭٭٭



’’زمانہ چاہے تو اب یوں بھی آزمائے ہمیں ‘‘
صلیب و دار پہ لے جا کے پھر سجائے ہمیں 

ہمارے عہد کی تصویر مٹتی جاتی ہے
کہو یہ وقت سے آئینہ اب دکھائے ہمیں 

سروں سے دھوپ بھی آ کر گزر چکی کب کی
خدا کے واسطے اب تو کوئی جگائے ہمیں 

بہ طرزِ امن و محبت ہو یا کہ جنگ و جدال
زمانہ جیسے بھی چاہے اب آزمائے ہمیں 

ہمیں تو تلخیِ صہبائے غم ہی کافی ہے
کہو نہ جامِ مسرّت کوئی پلائے ہمیں 

مقامِ اہلِ جنوں تو رہے گا پھر بھی بلند
ہزار بار نظر سے کوئی گِرائے ہمیں 

ہر اک سزا کو ہم اُن کی قبول کر لیں گے
قصور کیا ہے ہمارا؟ کوئی بتائے ہمیں 

گزر چکے ہیں نیاز و وفا کی منزل سے
کہو یہ روٹھنے والے سے اب منائے ہمیں 

بنامِ عجزِ تمنّا، بنامِ پاسِ وفا
کبھی تو فوقؔ گلے سے کوئی لگائے ہمیں 
٭٭٭






کسی نے مجھ کو پکارا ہے دیکھئے کیا ہو
تمام شہر میں چرچا ہے دیکھئے کیا ہو

یہ اِنقلابِ زمانہ ہے دیکھئے کیا ہو
اُنہیں بھی میری تمنّا ہے دیکھئے کیا ہو

اندھیرے شب کے اجالوں میں ڈھل گئے لیکن
’’بہت ہی سرخ سویرا ہے دیکھئے کیا ہو‘‘

یہ دِل ہے عظمتِ کعبہ کا معترف لیکن
نظر میں حُسنِ کلیسا ہے دیکھئے کیا ہو

اندھیری رات ہے، طوفاں ہے، ناخدا بد ظن
نظر سے دور کنارا ہے دیکھئے کیا ہو

یہ کس مقام پر لے آئے رہنما مجھ کو
نہ روشنی نہ اندھیرا ہے دیکھئے کیا ہو

کہانیوں کا فسانوں کا ذکر ہی کیا ہے
حقیقتوں میں بھی دھوکا ہے دیکھئے کیا ہو

بنام مہرو وفا دِل تو اُن کو دے ہی دیا 
کچھ اور اُن کا تقاضہ ہے دیکھئے کیا ہو

متاعِ ہوش کا دشمن تھا دِل کا رہزن تھا
نظر میں پھر وہی جلوہ ہے دیکھئے کیا ہو

ابھی سے ترکِ تعلق کی فکر ہے اُن کو
ابھی تو صرف ارادہ ہے دیکھئے کیا ہو

ہوس کی نذر ہے پھر فوقؔ دامنِ یوسف
دراز دستِ زلیخا ہے دیکھئے کیا ہو 
٭٭٭






یوں تو ہیں سکھ، ہندو، مسلمان شہر میں 
لیکن ہیں خال خال ہی انسان شہر میں 

کس سے مِلوں ، میں کس کو بتاؤں کہ میں ہوں کون؟
ملتا ہے ہر کوئی مجھے انجان شہر میں 

چہروں پہ کتنے چہرے لگائے ہوئے ہیں لوگ
ممکن نہیں کسی کی بھی پہچان شہر میں 

منصب کے ساتھ خُلق بھی ہو آدمی کے پاس
انسانیت کی ہے یہی پہچان شہر میں 

چہروں کے رنگ و نور سے دھوکا نہ کھائیے
انساں کے روپ میں بھی ہیں شیطان شہر میں 

چھوڑا ہے جب سے دشت جنوں کا یہ حال ہے
ہیں بے وقار جیب و گریبان شہر میں 

ہر باپ کو ہے فکر کہ بیٹا مرا بچے
آیا ہوا ہے نوح کا طوفان شہر میں 

سب کچھ ہے پاس پھر بھی نہیں مطمئن کوئی
’’ہر آدمی ہے بے سروسامان شہر میں ‘‘

پھر بھی متاعِ عزت و عظمت کا خوف ہے
چاروں طرف ہیں یوں تو نگہبان شہر میں 

اک مجھ پہ اور تم پہ نہیں اِس کا انحصار
دیکھا ہے ہم نے سب کو پریشان شہر میں 

اے فوقؔ جستجو ہے تو پھر چل کے دیکھ لو
کوئی تو ہوگا صاحبِ ایمان شہر میں 
٭٭٭






وہ مل گئے تو ہمیں اپنا کچھ پتا نہ ملا
دعا تو کی تھی مگر حاصلِ دعا نہ ملا

قمار خانے میں دو چار تو ملے لیکن
’’حرم میں ایک بھی ہم کو تو پارسا نہ ملا‘‘

وہ زندہ کیسے ہے اپنوں میں ؟ غور اِس پہ کرو
تمام عمر جسے کوئی آسرا نہ ملا

مزہ تو جب ہے اُسے زیبِ داستاں کر لو
وہ ایک لفظ جو اب تک کہیں لکھا نہ ملا

خوشی سے ترکِ تعلق تو کیجئے لیکن
ہمارے جیسا اگر کوئی دوسرا نہ ملا

رواں دواں ہے بڑے عزم سے سوئے منزل
وہ قافلہ کہ جسے کوئی رہنما نہ ملا

ہمارے زخم تو ہر شخص نے کُریدے ہیں 
مگر جہاں میں کوئی درد آشنا نہ ملا 

شمیمِ زلف تو پہلے ہی ہم سے برہم تھی
مزاج تیرا بھی برسوں سے اے صبا نہ ملا

ہمارے عکس بھی جس میں ہمیں نظر آتے
ہمیں تو فوقؔ کوئی ایسا آئینا نہ ملا
٭٭٭






آنکھوں میں لئے شام کبھی کیفِ سحرآ
اے جانِ حیا، نازِ وفا، سوزِ جگر آ

مرجھانے لگے پھول مرے دیدہ و دِل کے 
گلشن سے باندازِ شمیمِ گلِ تر آ

باقی ابھی لوگوں میں ہے کچھ ذوقِ نظارہ
اے حُسنِ جہاں سوز باندازِ دگر آ

مدت سے ہے محروم یہ دِل شام و سحر سے
تو گیسو و عارض میں لئے شام و سحر آ

میں بڑھ کے تجھے چوم لوں سینے سے لگا لوں 
قاصد کوئی ایسی تو خبر لے کے اِدھر آ

بھیگی ہوئی راتوں میں قیامت ہے تری یاد
’’اے کیفِ غزل نغمگیِ قلب و جگر آ‘‘

ہنستے ہوئے کٹ جائے گی ہر رات سفر کی
منزل ہے بہت دور تو اے جانِ سفرآ

کب تک یہ شب و روز کی ظلمت کا تسلّط 
پہلو میں کبھی جلوۂ خورشید و  قمر آ

ہر غم کے لئے فوقؔ کی آغوش کھلی ہے
ہر غم سے کوئی کہہ دے کہ آ اور اِدھر آ
٭٭٭






حرفِ شیریں کو مرے تلخ نوا سمجھے ہیں 
کیا سمجھنا تھا اُنہیں اور وہ کیا سمجھے ہیں 

ہم ستم سمجھے ہیں اُن کے نہ جفا سمجھے ہیں 
ہم تو لے دے کے فقط اُن کی ادا سمجھے ہیں 

اُن کو کیا ہوگا بھلا قتل پہ میرے افسوس
خون کو میرے جو ہاتھوں کی حِنا سمجھے ہیں 

شہرِ آشوب میں غربت کے تقاضوں کے سبب
لوگ اربابِ کرم کو بھی خدا سمجھے ہیں 

چاند ہو، پھول ہو، سبزہ ہو کہ ہو قوسِ قزح
ہم تو اُن سب میں تمہاری ہی ادا سمجھے ہیں 

ایسے لوگوں کو کہیں اہلِ بصیرت کیسے
’’بند دَروازوں کو جو لوگ کُھلا سمجھے ہیں ‘‘

ہاتھ پھیلاتے ہیں بے ساختہ جو لوگ اپنے
وہ دعا سمجھے نہ مفہومِ دعا سمجھے ہیں 

وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے خدا کی عظمت
اپنے ہی عکس کو جو لوگ خدا سمجھے ہیں 

کیسے عرفانِ اِلٰہی اِنہیں ہوگا اے فوقؔ
جو فقط اپنی انا ہی کو خدا سمجھے ہیں 
٭٭٭






اُس کو کیا بھائے بھلا سرو و سمن کی خوشبو
جس نے سونگھی ہو کبھی تیرے بدن کی خوشبو

تیرے انفاس کی خوشبو کا ہوا ہے احساس
جب بھی محسوس ہوئی عہدِ کہن کی خوشبو

نکہتِ گل ہے فضاؤں میں کہ عنبر اے دوست
یا چرا لائی صبا تیرے بدن کی خوشبو

بات تشنہ تھی ابھی اُن کے لبوں پر لیکن
بزم میں پھیل گئی پھر بھی سخن کی خوشبو

حق نوائی کی کسے جرأتِ بے مثل ملے
’’کس کی تقدیر میں ہے دار و رسن کی خوشبو‘‘

آہ مت پوچھ کہ کیا اہلِ قفس پر گزری
اُڑ کے آ پہونچی قفس تک جو چمن کی خوشبو

نکہتِ پاک پہ سو جان سے قربان اے فوقؔ
ہے مگر اور ہی کچھ اپنے وطن کی خوشبو 
٭٭٭



جس قدر جلد ہو حالات کو تقسیم کرو
بات کو طول نہ دو بات کو تقسیم کرو

چاند تو چاند ہے تم چاند پہ ڈالو نہ نقاب
مہ رخو ! آؤ حجابات کو تقسیم کرو

حاملِ رسم و روایات رہو گے کب تک
معجزوں اور کرامات کو تقسیم کرو

نفرت انگیز کتابوں کو جلا دو فوراً
اور محبت کے نصابات کو تقسیم کرو

ہم فقیروں کو خطابات سے مطلب نہ غرض
تم امیروں میں خطابات کو تقسیم کرو

درد آپس میں ہی تم بانٹ لو اپنا اپنا
’’رات لمبی ہے بہت، رات کو تقسیم کرو‘‘

بے عمل ہو کے جیو گے تو جیو گے کب تک
ہاتھ کو ہاتھ میں دو، ہاتھ کو تقسیم کرو

ذہن و اَفکار پہ آ جائیں نہ غالب ہو کر
اپنے سمٹے ہوئے جذبات کو تقسیم کرو

وسعتِ دہر کو اپنے میں سمو کر سوچا
ذات محدود نہیں ذات کو تقسیم کرو

دِل کی ہر بات کو اے فوقؔ زباں پر لا کر
گفتگو بانٹ دو اور بات کو تقسیم کرو
٭٭٭




جو آج سنتے ہیں مجھ کو فقط خبر کی طرح
وہ کل پڑھیں مجھے لفظِ سیم و زر کی طرح

برائیوں میں بھی خوبی کوئی نِکل آتی
ہمیں بھی کوئی پرکھتا جو دیدہ ور کی طرح

ہمارے زخموں کو ہر شخص نے کُریدا ہے 
ہر ایک شخص ملا ہم کو چارہ گر کی طرح

سمجھ سکے وہ مجھے اور نہ میری منزل کو
رہے جو برسوں مرے ساتھ ہمسفر کی طرح

سمجھ کے راکھ کُریدو نہ گوشۂ دل کو
’’بجھا بجھا سا یہ دِل اب بھی ہے شرر کی طرح‘‘

اندھیری رات چراغوں میں روشنی بھی نہیں 
اُفق پہ زیست کے اُبھرے کوئی سحر کی طرح

تھی جن کی وسعتِ کونین سے سوا پرواز
سمٹ گئے ہیں وہ بازو شکستہ پر کی طرح

کسی کے طرزِ تکلم کا واہ کیا کہنا
ادا جو لفظ ہوا منھ سے وہ گہر کی طرح

ہر ایک حادثۂ دِل پہ مسکراتے رہو
کہاں تک آہ و بُکا فوقؔ نوحہ گر کی طرح
٭٭٭



مسٔلہ حل ہو ہی جاتا کب تھا پیچیدہ بہت
آپ ہی مجھ کو نظر آئے، نہ سنجیدہ بہت

مٹ چکے ہیں ذہن سے سب عہدِ ماضی کے نقوش
’’پھر بھی آنکھوں میں مری جلوے ہیں خوابیدہ بہت‘‘

سامنے کس کے بیاں کرتا میں اپنے دِل کا حال
بزم میں جس کو بھی دیکھا، تھا وہ رنجیدہ بہت

وہ تو چشمِ ناز سے مفہوم ظاہر ہو گیا
اُن کا طرزِ گفتگو گرچہ تھا پیچیدہ بہت

دوسروں کو چھوڑئیے اور فکر اپنی کیجئے
ہو گئی دیوار اپنے گھر کی بوسیدہ بہت

بات کیا ہے آج کیوں ہے بہکی بہکی گفتگو
کیوں زباں پر آج ہیں الفاظ لغزیدہ بہت

وہ بھی اب ہم سے خفا ہیں یہ تغیّر دیکھئے
بارہا پایا تھا جن کو اپنا گرویدہ بہت

زندگی بھر جو رہا ایمان و دِل کا راہزن
ہے وہ جانِ آرزو میرا پسندیدہ بہت

اُن کو دیکھا ہے ہر اک رُخ سے مری آنکھوں نے فوقؔ
رکھ  رہے ہیں اب جو مجھ سے خود کو پوشیدہ بہت
٭٭٭




لب پر ہے فُغاں طرزِ فُغاں کوئی نہیں ہے
مظلوم کے نالوں کی زباں کوئی نہیں ہے

احساس کے مطلع پہ دھواں کوئی نہیں ہے
اب دِل پہ مرے بارِ گراں کوئی نہیں ہے

ہر گام پہ سو سنگِ گراں تھے جہاں کل تک
اِس راہ میں اب سنگِ گراں کوئی نہیں ہے

احساس کی گہرائی ہو یا فکر کی پرواز
اب میں ہوں وہاں دوست جہاں کوئی نہیں ہے

آخر ہے یہ کیا بات لہو تھمتا نہیں کیوں ؟
جب تیر کلیجے میں نہاں کوئی نہیں ہے

قاتل بھی ہے، مقتل بھی ہے، مقتول بھی لیکن
حیرت ہے کہ خنجر پہ نشاں کوئی نہیں ہے

ہر در پہ پکارا کہ یہاں کوئی تو ہوگا
’’ہر در سے صدا آئی یہاں کوئی نہیں ہے‘‘

جب ہم تھے جواں بزم میں ہر شخص جواں تھا
جب پیر ہوئے ہم تو جواں کوئی نہیں ہے

یوں جیتے ہیں کچھ لوگ تو اِس دور میں اے فوقؔ
جیسے کہ اِنہیں کارِ جہاں کوئی نہیں ہے
٭٭٭



جب ہم کسی سے آج بچا کر نظر چلے
قاصد چلے، پیام چلے، نامہ بر چلے

اچھا تھا اجتناب مے و جام سے مگر
جب دور چل چکا ہے تو شب تا سحر چلے

وہ بے قرار ہو کے یہ پوچھیں کہ کیا ہوا
’’ایسی بھی کوئی بزم سے یارو خبر چلے‘‘

منزل پہ آ کے بھی ہمیں منزل نہ مل سکی
چلنے کو راہِ شوق میں ہم عمر بھر چلے

ہم رہروانِ شوق پہ گزری ہے کیا کہیں 
ہر ہر قدم پہ چال نئی راہ بر چلے

جب کچھ ہوا چلی تو قفس کی مرے خبر
اہلِ چمن کو دینے مرے بال و پر چلے

وہ کیا اُٹھے کہ نقشہ ہی گھر کا بدل گیا
وہ کیا چلے کہ ساتھ میں دیوار و در چلے


اہلِ خُرد کی سوچ نہ پہونچی جہاں کبھی
دیوانے اُس مقام سے بھی تو گزر چلے

کل تک جو منتظر تھے نگاہِ کرم کے فوقؔ
لو وہ بھی آج ہم سے بچا کر نظر چلے
٭٭٭


اُن سے ملنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی
وہ کہاں ہیں کس طرح ہیں کچھ خبر آتی نہیں 

راستہ سورج کا ظلمت نے بدل ڈالا ہے کیا؟
روشنی کی اک کرن بھی میرے گھر آتی نہیں 

گفتگو کے درمیاں کیوں اشک نکلے آنکھ سے
بات کرنی بھی تجھے اے چشمِ تر آتی نہیں 

آئینے میں دیکھ صورت دیکھنی ہے گر تجھے
آئینے کے عکس میں صورت نظر آتی نہیں 

اُن کے بارے میں کسی کو کیا بتائیں آج ہم؟
ہم کہاں ہیں کچھ ہمیں اپنی خبر آتی نہیں 

دوسروں کی خامیوں پر تو نظر جاتی ہے فوقؔ
’’آدمی کو اپنی کمزوری نظر آتی نہیں ‘‘
٭٭٭






ٹھوکرو میں مژدۂ ختمِ سفر بھی آئے گا
اِن اندھیروں ہی میں پیغامِ سحر بھی آئے گا

اے اسیرو! جب مرتب ہوگی تاریخِ چمن
کچھ قفس کے ساتھ ذِکرِ بال و پر بھی آئے گا

جنس کم مایہ سمجھ کر اِس قدر ارزاں نہ بیچ
کچھ توقف کر، کوئی صاحبِ نظر بھی آئے گا

اہلِ ساحل رُخ پہ طوفاں کے نہ ہو تم خندہ زن
’’آج طوفاں ہے اِدھر تو کل اُدھر بھی آئے گا‘‘

تم نشانہ تو لگاؤ اپنے تیرِ ناز سے
زد پہ دِل بھی آئے گا میرا جگر بھی آئے گا

تبصرہ ہوگا مری دیوانگی پر جب کبھی
رہزنوں ہی میں سے کوئی راہبر بھی آئے گا

ایک ہی رُخ دیکھ کر نازاں نہ ہو اے چشمِ شوق
یہ تو جلوہ ہے باندازِ دگر بھی آئے گا

ظلمتِ ماحول سے گھبرا نہ اِس میں ایک دن
پرتوِ خورشید اور نورِسحر بھی آئے گا

خود بخود چومے گی منزل جس جگہ میرے قدم
فوقؔ ایسا اک مقامِ معتبر بھی آئے گا
٭٭٭




ضبط ہر تکلیف کر جائیں گے ہنستے کھیلتے
ہم بنامِ عشق مر جائیں گے ہنستے کھیلتے

فکر ہے مجھ کو تمہاری اپنے زخموں کی نہیں 
زخم تو کچھ دن میں بھر جائیں گے ہنستے کھیلتے

وہ بچا کر اپنے گیسو میرے شانے سے رکھیں 
رات ہوتے ہی بکھر جائیں گے ہنستے کھیلتے

اک طرف ہوگی گھٹا اور اک طرف نکلے گا چاند
بال جب سر تا کمر جائیں گے ہنستے کھیلتے

آج اُن کی بزم سے با چشمِ تر آئے تو کیا
کل باندازِ دگر جائیں گے ہنستے کھیلتے

کم قیامت سے نہ ہوگا اُن کا بھی عہدِ شباب
رفتہ رفتہ وہ سنور جائیں گے ہنستے کھیلتے

ہم تھے خوش وعدے پہ لیکن یہ نہیں آیا خیال
وعدہ کر کے وہ مکر جائیں گے ہنستے کھیلتے

راستہ دشوار ہے اور دور منزل ہے تو کیا
آ تو جاؤ ہم گزر جائیں گے ہنستے کھیلتے

اب نتیجہ کچھ بھی نکلے کچھ بھی ہو انجام فوقؔ 
’’بزمِ قاتل میں مگر جائیں گے ہنستے کھیلتے‘‘
٭٭٭



کیا بات ہے اے غازیِ گفتار ابھی تک
آسان ہر اک بات ہے دشوار ابھی تک

شرمندہ نظر آتی ہے نیّر کی تمازت
شبنم کا ہر اک قطرہ ہے خوددار ابھی تک

کہنے کو تو اک بات ہے دعوائے ’ان الحق‘
’’پہنچے ہیں فقط ہم ہی سرِ دار ابھی تک‘‘

محسوس لبوں کو ابھی جنبش ہی ہوئی تھی
تابندہ نظر آتے ہیں رخسار ابھی تک

نبضیں تو بہت دیر ہوئی ڈوب چکی ہیں 
آنکھوں کو ہے کھولے ہوئے بیمار ابھی تک

افسانے ہزاروں ہوئے اے فوقؔ مرتب
باقی ہے مگر عِشق کا اظہار ابھی تک
٭٭٭




حملہ آور ہو کہیں سے کوئی لشکر پہلے
وار کرنا ہے مگر سوچ سمجھ کر پہلے

لوگ تو مجھ سے بھی بڑھ کر ہیں گنہ گار یہاں 
کون مارے گا بتاؤ مرے پتھر پہلے

بھائی اور دوست تھے دونوں ہی مگر یاد نہیں 
’’کس نے گھونپا تھا مری پیٹھ میں خنجر پہلے‘‘

’اَنّ داتا‘ وہ بنے بیٹھے ہیں اِس دم افسوس
خود جو ٹکڑوں کے لئے پھرتے تھے در د ر پہلے

تیز جھونکوں سے ہوا کے پھر اُلجھ لینا تم
پیڑ سے توڑ لو پھل ہاتھ بڑھا کر پہلے

نام بھی اُس پہ مرا بعد میں خود لکھ دینا
تم اُٹھا لاؤ کہیں سے کوئی پتھر پہلے

قتل پھر شوق سے وہ مجھ کو مرے فن کو کریں 
وہ مرے قد کے تو آ جائیں برابر پہلے

اتنا آسان نہیں ہے درِ جاناں کا طواف
فوقؔ دو چار تو کھا لے یہاں ٹھوکر پہلے
٭٭٭




اللہ یہ کیا دورِ بہاراں ہے ابھی سے
مائل بہ خزاں رنگِ گلستاں ہے ابھی سے

دو چار ہی باتیں ابھی آئی ہیں زباں پر
دنیا ہے کہ انگشت بہ دنداں ہے ابھی سے

کیا دیکھیں گزرتی ہے بہاروں میں جنوں پر
دیوانوں کے ہاتھوں میں گریباں ہے ابھی سے

ساقی نے فقط جام اُٹھایا ہے سنبھل کر
’’گھبرائی ہوئی گردشِ دوراں ہے ابھی سے‘‘

یہ کس نے بڑھائے ہیں قدم جانبِ صحرا
ویرانہ بھی صد رشکِ گلسِتاں ہے ابھی سے

حالانکہ مکمل نہیں افسانۂ الفت
اور صفحۂ قرطاس پہ عنواں ہے ابھی سے

خورشید جسے بننے کو درکار تھی مدّت
وہ ذرّۂ ناچیز درخشاں ہے ابھی سے

گزرے گا جو کل حادثہ دیکھیں گے اُسے بھی
دِل کیوں غمِ فردا سے پریشاں ہے ابھی سے

کیا عرضِ تمنّا کی سزا ہم کو ملے فوقؔ
دِل اپنی خطاؤں پہ پشیماں ہے ابھی سے
٭٭٭



تماشہ اُن کا خود جلوہ ہوا ہے
مرا ذوقِ نظر رُسوا ہوا ہے

اُنہیں سے پھر ہے رسم و راہ اپنی
کہ جن سے بارہا دھوکا ہوا ہے

نوازش اور پھر پیہم نوازش
یہ آخر آج تم کو کیا ہوا ہے

بس اک دن اُس نے مجھ کو چھو لیا تھا
’’بدن اب تک مرا مہکا ہوا ہے‘‘

اِدھر بہکا نہیں ہے صرف میخوار
یہاں ساقی بھی خود بہکا ہوا ہے

مرا خط پڑھ کے وہ بولے اچانک
نہ جانے اِس میں کیا لکھا ہوا ہے

کہاں میں اور کہاں چاہت تمہاری
مجھے بیٹھے بٹھائے کیا ہوا ہے

نہ چھیڑو ذکر اُن کا اب خدارا
اُنہیں دِل آج کل بھولا ہوا ہے

سنبھل کر فوقؔ اُس سے بات کرنا
مزاجِ یار کچھ بدلا ہوا ہے
٭٭٭






ٹھیک سے بیٹھ نہ پائے تھے کہ معتوب ہوئے
سرخرو آ کے تری بزم میں ہم خوب ہوئے

جن فسانوں میں ترے جورو ستم تھے شامل
’’وہ فسانے بھی مرے نام سے منسوب ہوئے‘‘

کتنے منصور چڑھے دار پہ تیری خاطر
کتنے عیسیٰؑ ترے اِس دور میں مصلوب ہوئے

کیا طبیعت ہے کہ نفرت ہوئی پھولوں سے کبھی
اور کانٹے کبھی دِل کو مرے مرغوب ہوئے

جن کو لکھّا تھا بڑے شوق سے اخلاص کے ساتھ
میری رسوائی کا باعث وہی مکتوب ہوئے

بے حجابانہ مرے سامنے آئے اکثر
جانے کیا بات ہوئی آج وہ محجوب ہوئے

فتح و نصرت نے قدم چومے تھے خود جن کے کبھی
فوقؔ اِس دور میں آ کر وہی مغلوب ہوئے
٭٭٭



جب کہیں میں نے سکوں پایا ہے اُٹھتے بیٹھتے
نام وحشت نے مرا پوچھا ہے اُٹھتے بیٹھتے

اور کیا کرتے سکونِ قلبِ مضطر کا علاج
’’آپ کی تصویر کو چوما ہے اُٹھتے بیٹھتے‘‘

تم نگاہوں سے مری اوجھل ہوئے تو دیر تک
یہ نہ پوچھو کس طرح تڑپا ہوں اُٹھتے بیٹھتے

لالہ و گل کو نہ دیکھا اور نہ دیکھے مہر و ماہ
تم ہی تم تھے جس طرف دیکھا ہے اُٹھتے بیٹھتے

ڈال دی ہے بزمِ عالم پر گھٹاؤں نے نقاب
چاند جب میرے قریں دیکھا ہے اُٹھتے بیٹھتے

چھوڑ کر اے فوقؔ سارا کاروبارِ زندگی
اب تو شغل و ساغر و مینا ہے اُٹھتے بیٹھتے 
٭٭٭






تھم گئے اشک مگر آہ ابھی باقی ہے
دل میں چنگاری کوئی اور دبی باقی ہے

فیضِ ساقی بھی ہے گردش میں ہے پیمانہ بھی
پھر بھی اک کیفیتِ تشنہ لبی باقی ہے

ہم نے اک عمر ترے ساتھ گزاری ہے مگر
’’ہائے اب تک تری بیگانہ وشی باقی ہے‘‘

آپ نے رازِ محبت کو چھپایا تو بہت
پھر بھی رخسار پہ ہلکی سی نمی باقی ہے

دوستور شمع بہر گام جلاؤ کہ ابھی
دور تک سلسلۂ تیرہ شبی باقی ہے

صبح کو دور نہ کر دے یہ خموشی کا طلسم
اور کچھ فکر کرو رات ابھی باقی ہے

یوں تو ہر چند سئے جیب و گریباں اے فوقؔ
پھر بھی دامن کی مرے بخیہ گری باقی ہے
٭٭٭






رہتا ہے جنہیں ہوش نہ کچھ اپنی رِدا کا
رکھتے ہیں بھرم آج وہی اپنی حیا کا

ایمان سبھی کا تو نہیں اُن میں خدا پر
لینے کو تو لیتے ہیں سبھی نام خدا کا

دروازے کی آہٹ پہ گماں گزرا کہ ہیں وہ
’’دیکھا جو وہاں جا کے تو جھونکا تھا ہوا کا‘‘

اب تیرِ ستم کیوں مری جانب نہیں آتے
احساس اُنہیں ہو گیا کیا اپنی جفا کا

مجھ سے وہ مرا حالِ جنوں پوچھ رہے ہیں 
اور اُن کو پتا کچھ بھی نہیں اپنی رِدا کا

اِس رنگ میں ہے خونِ وفا بھی مرا شامل
ہاتھوں سے مٹاؤ نہ ابھی رنگ حِنا کا

ہاتھوں کو اُٹھانے کی جگہ پاؤں بڑھا دوست 
گر دیکھنا ہے تجھ کو اثر اپنی دُعا کا

شعلوں سے بدن جس کا ہے جُھلسا ہوا اب تک
احساس کہاں ہوگا اُسے بادِ صبا کا

مجھ کو تو ملا کوئی نہ اے فوقؔ وفادار
تاریخ میں ہے ذِکر بہت اہلِ وفا کا
٭٭٭







آشیاں ہے نہ گل و سر و سمن باقی ہے
پھر بھی جینے کی ہوس اہلِ چمن باقی ہے

اب قرینہ کوئی باقی نہ چمن باقی ہے
صرف اک نام رِوایاتِ کہن باقی ہے

ایک عرصہ ہوا تاراجِ چمن کو لیکن
آج تک ذہن میں تصویرِ چمن باقی ہے

عشق طے کر چکا ہر جادۂ ہستی اے دوست
صرف اک مرحلۂ دار و رسن باقی ہے

چھپ گیا وقت کا خورشید تو ماتم کیسا
’’صبحِ فردا کی تصوّر میں کرن باقی ہے‘‘

اب تعلق ہے کسی سے نہ محبت پھر بھی
دِل میں احساس کی ہلکی سی کرن باقی ہے

برہمی دہر کی بے وجہ نہیں ہے اے فوقؔ
اُن کے ماتھے پر ابھی کوئی شکن باقی ہے 
 ٭٭٭




اُس نے ہم کو کوئی سندیسہ بھیجا ہے تو لاؤ جی
کیسا ہے وہ یار ہمارا کچھ تو ہمیں سناؤجی

لگتی ہے اک ٹھیس سی دِل پر آنکھیں بھر بھر آتی ہیں 
بیتی باتیں بیتے لمحے اب کیوں یاد دلاؤ جی

جیون میں ہر ایک کے دکھ سکھ آتے ہیں اور جاتے ہیں 
دکھ سکھ ہی جب جیون ٹھہرا کیوں اُس سے گھبراؤ جی

وعدہ کرتے کرتے تم کو ایک زمانہ بیت گیا
جاناں قسم ہے تم کو تمہاری اب تو کسی دن آؤ جی

جانے کون مصیبت آئے دھرتی پر اندھیارے میں 
سانجھ ہوئی ہے دیپ جلے ہیں ، تم اب تو گھر آؤ جی

گھونگھٹ کھولو، نظر ملاؤ، بات کرو ہنس کر ہم سے
’’ہم ہیں تمہارے اپنے ہم سے کاہے کو شرماؤ جی‘‘

میں نے خط میں اب کے تم کو جانے کیا کیا لکھا ہے
ایسا نہ ہو تم میرے خط کو ہر اک کو دکھلاؤ جی

مانگے سے کوئی بھیک نہ دے گا بِن مانگے موتی مل جائیں 
اچھا یہی ہے ہاتھ کسی کے آگے کیوں پھیلاؤ جی

فوقؔ نہ جانے بات کہاں تک رفتہ رفتہ جا پہونچے
بزم میں اپنی ہمری زباں کو چھوڑو نہ اب کھُلواؤ جی
٭٭٭






تعظیم کے لائق بزم میں جب ہر رُخ سے ہمیں معلوم ہوئے
اتنی سی خطا پر اے ساقی پھر لطف سے ہم محروم ہوئے

ہر زخم کو ہم نے خود ہی سیا ہر درد کو ہم نے خود ہی پیا
’’داغوں کو جگہ دی سینے میں اور پھر بھی نہ ہم مغموم ہوئے‘‘

حالاتِ زمانہ کیا کہئیے مظلوم بنے ہیں اب ظالم
جو ظلم و ستم کے پیکر تھے دیکھا تو وہی مظلوم ہوئے

تاریخ ہے شاہد اِس سچ کی خدمت سے ہی ملتی ہے عظمت
جو لوگ سراپا خادم تھے دنیا میں وہی مخدوم ہوئے

گلشن میں قدم اک ساتھ رکھا لیکن ہے یہ بخت اپنا اپنا
کانٹوں نے مرا دامن تھاما اور پھول اُنہیں مقسوم ہوئے

اُس پر تو کوئی الزام نہیں اُسنے تو فقط انگڑائی لی
آلودۂ عِصیاں ناحق ہی کچھ ہم جیسے معصوم ہوئے

رشتہ ہے کسی سے اب نہ کوئی دِل میں نہ کسی کی چاہت ہی
جو نقش تھے دِل پر اُلفت کے اے فوقؔ وہ سب معدوم ہوئے
٭٭٭



ہر ایک شخص کا تم احترام مت کرنا
کوئی ہو وقت کا قاروں سلام مت کرنا

اگر ہو دھوپ کی شدّت بھی راستے میں کہیں 
بلند پیڑ کے نیچے قیام مت کرنا

پلٹ کے آ سکو تو سیدھے آنا اپنے گھر
کسی دوراہے پہ ٹھہرو تو شام مت کرنا

ہزار تشنہ لبی ہو ہزار مجبوری
مگر طلب کسی ساقی سے جام مت کرنا

تمہارا نام نئی نسل لے کے شرمائے
’’تم ایسا کوئی زمانے میں کام مت کرنا‘‘

ہزار دعوتِ خوابِ نشاط دیں کلیاں 
چمن میں رات کو پھر بھی خرام مت کرنا

یہ ایک صبح بھی اور شام بھی گوارا ہے
اب اِس کے بعد کوئی صبح و شام مت کرنا

تمہیں شرافت و غیرت ملی جو ورثے میں 
تم اِس شرافت و غیرت کو خام مت کرنا

ازل سے فطرتِ آدم رہی ہے آزادی
کسی کو عہد میں اپنے غلام مت کرنا

سحر بھی دور ہے اے فوقؔ رات بھی لمبی
جو چھڑ چکا ہے وہ قصّہ تمام مت کرنا
٭٭٭



کچھ اِس طرح بھی بسر ہم نے زندگی کی ہے
کہ جس سے دوستی کی اُس نے دشمنی کی ہے

ملی ہے تم سے محبت میں جو اذیّت بھی
تو ہم نے وہ بھی گوارا ہنسی خوشی کی ہے 

جہاں جہاں بھی ہٹا ہوں ترے خیال سے میں 
وہیں وہیں مری غیرت نے خود کشی کی ہے

لرز اُٹھا ہے یکایک نظر میں عہدِ وفا
مری نگاہ نے جس وقت بے رُخی کی ہے

کبھی چراغ جلایا کبھی بجھایا گیا
شبِ فراق میں ایسے بھی روشنی کی ہے

سرورِ بادۂ و لطفِ جمال کیا کہنا
ترے خیال سے آنکھوں نے مے کشی کی ہے

خدا پرستوں نے اِس دور کے نہ جانے کیوں 
خدا کو چھوڑ کے بندوں کی بندگی کی ہے

بھٹک گیا ہے جہاں کاروانِ ہوش و خرد
مرے جنوں نے وہاں سب کی رہبری کی ہے

قدم قدم پہ الجھتا رہا ہے دامن فوقؔ
’’مری حیات نے کانٹوں سے دوستی کی ہے‘‘
٭٭٭

 




زخمِ دلِ تازہ ہوئے تو اُن کی یاد آئی بہت
کچھ دنوں سے چل رہی ہے مست پُروائی بہت

آپ کو اپنا سمجھ کر کر لیا تھا اعتبار
اِس ذرا سی بھول کی ہم نے سزا پائی بہت

اب تو کانٹے بن گئے ہیں زندگانی کے رفیق
تھی کبھی پھولوں سے اپنی بھی شناسائی بہت

ایک نے بھی بڑھ کے قاتل کو نہ روکا جانے کیوں 
بھیڑ میں تھے یوں تو میرے بھی شناسائی بہت

اب وہ مانیں یا نہ مانیں ہے یہ اُن کو اختیار
’’بات سمجھانے کی حد تک ہم نے سمجھائی بہت‘‘

ہم تکلّف اُن سے ملنے میں کریں تو کیوں کریں 
اب تو گھر گھر ہو چکی ہے اپنی رسوائی بہت

جب تصور میں دریچے کھل گئے ماضی کے فوقؔ
یاد اُن کی آئی بھی تو آ کے شرمائی بہت
٭٭٭






سرِمحفل زباں پر جب کسی کی میرا نام آیا
نگاہیں بار بار اُٹھیں سلام آیا پیام آیا

مشیّت مسکرا اُٹھی فرشتوں نے کئے سجدے
گزرگاہِ محبت میں اک ایسا بھی مقام آیا

تری پرواز کو تو وسعتِ کونین بھی کم تھی
تو پھر اے طائرِ بامِ حرم کیوں زیرِ دام آیا

جسے تو عمر بھر دیکھا کیا چشمِ حِقارت سے
وہی اک ذرّۂ ناچیز آخر ترے کام آیا

مذاقِ تشنگی سے کس قدر ہے باخبر ساقی
’’اِدھر دستِ طلب اُٹّھا اُدھر گردِش میں جام آیا‘‘

یکایک ٹیس اُٹّھی دِل میں اور آنسو نِکل آئے
زباں پر بارہا کچھ اِس طرح بھی اُن کا نام آیا

بشر کیوں کر نہ ہو اے فوقؔ نازاں اپنی ہستی پر
ہزاروں بار جب اُس پر مشیّت کا سلام آیا 
٭٭٭






موسمِ سرما کی شب میں ڈس گئی ہے چاندنی
اِس طرح میرے لئے ناگن بنی ہے چاندنی

میرے غم میں چاند بھی ہے اِن دِنوں میرا شریک
’’زرد ہو کر دور تک پھیلی ہوئی ہے چاندنی‘‘

نیم شب مل کر گلے تم مجھ سے رخصت کیا ہوئے
صبح تک خود سر پٹختی رہ گئی ہے چاندنی

چاندنی میں اُن کا چہرا دیکھ کر بتلائیے
دیدنی چہرہ ہے یا پھر دیدنی ہے چاندنی

ناامیدی اور امیدی کو کسی کی دیکھ کر
رات بھر روتی رہی ہنستی رہی ہے چاندنی

چاندنی کا نور کیا اک جلوۂ صد رنگ ہے
یاد کس کس کی دلا کر رہ گئی ہے چاندنی

چاندنی میں فوقؔ اُن کا جب کرم مجھ پر ہوا
چاندنی پھر زندگی ہے زندگی ہے چاندنی
٭٭٭







کیا فیضِ بہاراں جوش پہ ہے ویرانے بدلتے جاتے ہیں 
کیا ذکر ہو اب دیوانوں کا فرزانے بدلتے جاتے ہیں 

بادہ بھی وہی مینا بھی وہی نظریں وہ نہیں ہیں پہلی سی
اے ساقی ٔ محفل خیر تو ہے پیمانے بدلتے جاتے ہیں 

گو شام سے لے کر تا بہ سحر اک شمع تو جلتی رہتی ہے
ہاں فرق اگر ہے تو اِتنا پروانے بدلتے جاتے ہیں 

عنوانِ محبت ایک سہی نیرنگِ جہاں کو کیا کہیے
’’اندازِ بیاں تو بدلے تھے افسانے بدلتے جاتے ہیں ‘‘

کیا جوشِ جنوں اب ختم ہوا کیا وسعتِ صحرا تنگ ہوئی؟
کیوں آج لِباسِ وحشت کو دیوانے بدلتے جاتے ہیں 

کیا بات برہمن میں دیکھی کیوں شیخ تبسُّم بر لب ہے
اک شور حرم میں برپا ہے بت خانے بدلتے جاتے ہیں 

راحت کی کِرن تو پھوٹ چکی اب غم کا مداوا ہونا ہے
اے فوقؔ مبارک ہو یہ سحر غم خانے بدلتے جاتے ہیں 
٭٭٭






گِر گِر کے بار بار سنبھلتا رہا سدا
عنواں میں زندگی کے بدلتا رہا سدا

سانپوں کے اِرد گِرد میں چلتا رہا سدا
ہر اژدہے کے سر کو کچلتا رہا سدا

وہ بھی تو میرے قتل کی سازش میں تھا شریک
جو میرے زیرِ سایہ ہی پلتا رہا سدا

راہوں میں پتھروں سے بھی ٹکرایا بار بار
گو مثل موم کے میں پگھلتا رہا سدا

اُس کو جلا کے آپ کریں گے بھی کیا میاں 
جو آپ اپنی آگ میں جلتا رہا سدا

روشن وہی چراغ رہے گا جہان میں 
جو آندھیوں کی زد میں بھی جلتا رہا سدا

یہ حادثے عزیز مجھے اِس لئے ہیں فوقؔ
’’میں حادثوں کی گود میں پلتا رہا سدا‘‘
٭٭٭






یہ کس کی نظر نے بدلا ہے، اندازِ نظام ِ مے خانہ
مینا کے لبوں پر لرزش ہے اور کانپ رہا ہے پیمانہ

بدلا ہے نظامِ خار و گل، اربابِ بصیرت خنداں ہیں 
ویرانہ برنگِ گلشن ہے، گلشن ہے برنگِ ویرانہ

اِس آخری شب کے لمحوں کو، کچھ اور فروزاں ہونے دو
’’ممکن ہے مکمّل ہو جائے دنیا کے لئے اک افسانہ‘‘

تو حوصلہ اپنا پست نہ کر، منزل تو یقیناً آئے گی
دو گام کی زحمت اور سہی، اے جرأتِ عزمِ میخانہ

کچھ بات تو ہے جو اہلِ خرد، مجبورِ توجہ ہوتے ہیں 
صحرا کی طرف جاتے جاتے، کیا کہہ کے گیا ہے دیوانہ

تھے دونوں طرف وہ جلوہ نما، منزل کا تعیُّن ہو نہ سکا
اِک سمت نظر میں کعبہ تھا، اک سمت نظر میں مے خانہ

اِس بزمِ نظامِ عالم میں ، یہ کیسا تغیر آیا ہے
فرزانہ بنا ہے دیوانہ، دیوانہ ہوا ہے فرزانہ
٭٭٭






دیکھئے آج وقت کا کیسا کمال ہو گیا
ذرّے سے آنکھ ملتے ہی سورج نڈھال ہو گیا

ظلمتِ شب کو چیر کر راز سحر بتا گئی
’’کس کو عروج مل گیا کس کا زوال ہو گیا‘‘

اب نہ وہ سوزِ عشق ہے، اب نہ وہ درد دِل میں ہے
ذہن سے کتنا دور آج، اُن کا خیال ہو گیا

اُن سے میں دور دور تھا جب وہ مرے قریب تھے
دور وہ مجھ سے جب ہوئے اُن کا وصال ہو گیا

رُخ سے نقاب کیا ہٹا اُنگلیاں کٹ کے رہ گئیں 
بزم میں جو بھی تھا وہی محوِ جمال ہو گیا

لب تو بہت کھلے مگر کوئی نہ دے سکا جواب
وقت کے قاتلوں سے جب کوئی سوال ہو گیا

کوئی نہ فیصلہ ہوا کوئی نہ بڑھ سکا قدم
اب کے بھی سوچتے ہوئے فوقؔ یہ سال ہو گیا
٭٭٭



اے گردشِ دوراں فکر ہی کیا گر تو بھی مقابل آ جائے
ہمّت ہے جواں تو کیسا غم، مشکل پسِ مشکل آ جائے

اے عزمِ سفر اے راہِ طلب منزل کا تجسّس کیا معنی
دِل میں ہو تصوّر منزل کا اور سامنے منزل آ جائے

اے نیّرِ اعظم تو ہی بتا اُس وقت یہ عظمت کیا ہوگی؟
’’ناچیزسا اک خاکی ذرّہ جب تیرے مقابل آ جائے‘‘

خود پر نہ بھروسہ ہو جن کو طوفاں میں ہے بہتر موت اُن کی
اور جس کو بھروسہ ہو، اُس کی آغوش میں ساحل آ جائے

خم ہونگی نہ نظریں اے ساقی اب بزم کی آنکھیں کچھ بھی کہیں 
جب تک نہ عروجی نقطے پر افسانۂ محفل آ جائے

وہ بات کہاں ، وہ پہلے سے اندازِ جنونِ عشق کہاں 
وحشت میں اُٹھے اے فوقؔ نظر اور سامنے منزل آ جائے
٭٭٭



جو اپنے سائے ہی سے زمانے میں ڈر گئے
زندہ رہے وہ برسوں ضمیر اُن کے مر گئے

حاصل جو کر سکے ہیں زمانے میں امتیاز
در اصل زندگی میں وہ اپنی سنور گئے

صدیوں کا کرب جن میں تھا پنہاں ہمارے نام
’’ایسے بھی لمحے سر سے ہمارے گزر گئے‘‘

کس سے کریں نباہ کریں کس پہ اعتبار
جب آپ وعدہ کر کے بھی ہم سے مکر گئے

ملتے ہیں اجنبی کی طرح مجھے سے اقرباء
ہمدرد و غمگسار نہ جانے کدھر گئے

مشکل بہت ہے اُن کو دوبارہ پِرونا فوقؔ
مالا کے ٹوٹنے سے جو موتی بکھر گئے
٭٭٭



٭٭٭
کمپوزنگ: شجاع الدین،  فائل کے لئے بھی ان کا تشکر
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
