﻿



دسمبر کے بعد بھی



شہزاد قیس








سکوتِ شب سے کسی شب کلام کر تو سہی
جواب دِل تجھے دے گا، سلام کر تو سہی

خدا کا ہاتھ ترے سر کو چھو رہا ہو گا
تو اُس کی راہ میں کچھ اہتمام کر تو سہی

حیاتِ ثانی میں بھر دے گا جاوداں خوشیاں 
حیاتِ فانی ذرا اُس کے نام کر تو سہی

ہر ایک ذرے کی تسبیح سن سکے گا حبیب!
خیالِ غیر کو خود پر حرام کر تو سہی

او بادشاہوں کے آگے اَدب کی اعلیٰ مثال!
حضورِ ربیّ کا ’’کچھ‘‘ احترام کر تو سہی

تری مدد کو فرشتے بھی آئیں گے لیکن
جو تجھ سے ہو سکے وہ انتظام کر تو سہی

فقط نگاہ سے دامن کو، دِل کو بھر دیں گے
درِ فقیر پہ جھک کر سلام کر تو سہی

فشارِ غم میں گھرے دوست، گھپ اندھیری جگہ
اکیلے بیٹھ کے دل کو اِمام کر تو سہی

فرشتہ ہے ناں ! تیرا جسم دُودھیا ہے تبھی
بدن کی دھُوپ میں اِک شب قیام کر تو سہی

پرندگانِ چمن سرُ میں عشق کُوکیں گے
سرودِ قیس کی تعلیم عام کر تو سہی
٭٭٭




شکنجے ٹُوٹ گئے، ’’زخم‘‘ بدحواس ہوئے
ستم کی حد ہے کہ اہلِ ستم اُداس ہوئے

عدو نے ایسا بہایا لہو کا سونامی
سفینے زندہ دِلوں کے بھی غرقِ یاس ہوئے

حساب کیجیے کتنا ستم ہوا ہو گا
کفن دریدہ بدن، زندگی کی آس ہوئے

کچھ ایسا مارا ہے شب خون، ابنِ صحرا نے
سمندروں کے سَبُو پیاس، پیاس، پیاس ہوئے

نجانے شیر کے بچے اُٹھا لیے کس نے
یہ موئے شہر جو جنگل کے آس پاس ہوئے

خدا پناہ! وہ کڑوا خطاب رات سنا
کریلے نیم چڑھے، باعثِ مٹھاس ہوئے

ہر ایک فیصلہ محفوظ کرنے والو سنو!
جھکے ترازو شبِ ظلم کی اَساس ہوئے

گلابی غنچوں کا موسم اُداس کرتا ہے
کچھ ایسے دن تھے جب اُس گل سے رُوشناس ہوئے

ہر ایک شخص کا سمجھوتہ اپنے حال سے ہے
خوشی سے سانس اُکھڑنا تھا غم جو راس ہوئے

قبائے زخمِ بدن اوڑھ کر ہم اُٹھے قیس  
جو شاد کام تھے، محشر میں بے لباس ہوئے
٭٭٭



سنگلاخ چٹانوں کی گھٹا دیکھ رہا ہوں 
دھرتی پہ خشم گین خدا دیکھ رہا ہوں 

یہ زلزلے کا جھٹکا ہے یا رب نے کہا ہے
اِس شہر میں جو کچھ بھی ہوا، دیکھ رہا ہوں 

اِقرا کے مبلغ نے سرِ عرش یہ سوچا
اب تک میں جہالت کی فضا دیکھ رہا ہوں 

اِکراہ نہیں دین میں ، نہ جبر روا ہے
تلواروں پہ یہ صاف لکھا دیکھ رہا ہوں 

اَوروں کی ہدایت کی دُعا مانگ رہے ہیں 
کر سکتی ہے کیا کچھ یہ اَنا دیکھ رہا ہوں 

تعمیرِ محلات میں کملا گئے سہرے
جھلسی ہوئی ہاتھوں کی حنا دیکھ رہا ہوں 

راس آ گئی دنیا تو بہت کچھ میں کروں گا
اب تک تو فقط آب و ہوا دیکھ رہا ہوں 

جو لفظ ابھی آپ کے منہ سے نہیں نکلا
میں آپ کے چہرے پہ لکھا دیکھ رہا ہوں 

کب تک کریں گے فیصلے بوسیدہ پرندے
بیداری کی اِک تند ہوا دیکھ رہا ہوں 

قیس  آخری وقتوں کا خطرناک زمانہ!
جیسا تھا بزرگوں سے سنا، دیکھ رہا ہوں 
٭٭٭



ہجر کے درد کو پلکوں پہ بٹھا کر رکھنا
دیپ اشکوں کا سرِ شام جلا کر رکھنا

چند لوگ آنکھوں کو پڑھنے میں بڑے ماہر ہیں 
مجھ کو سوچو تو نگاہوں کو جھکا کر رکھنا

اب تو لوگوں کو سہارا یہ کھٹکتا ہے بہت
آخری خط کو کلیجے سے لگا کر رکھنا

کانچ کی گڑیا! تجھے درد کے ریلے کی قسم
خون روتے ہوئے فانوس بجھا کر رکھنا

اشکوں پہ پہرہ بٹھا دیں جو زمانے والے
رات، دن کمرے میں اِک ’’شمع‘‘ جلا کر رکھنا

چاند کو دیکھ کے ملنے کی دُعا نہ چھوٹے
ہاتھ گر نیچے کریں ’’پلکیں ‘‘ اُٹھا کر رکھنا

جانے ہو جائے دُعا کون سی ساعت میں قبول
آس کا تاج محل روز بنا کر رکھنا

لفظ لازم نہیں ، تم وقتِ دُعا یوں کرنا
اُس کی تصویر کو ہاتھوں پہ اُٹھا کر رکھنا

ہاتھ خوشبو کے میں بھیجوں گا محبت کا سلام
زُلف میں تازہ کلی روز سجا کر رکھنا

سارے زخموں کو نہ شعروں میں اُڑا دینا قیس !
دِل کی دھڑکن کو بھی کچھ زخم بچا کر رکھنا
٭٭٭




سو کر اٹھے پرندوں کو حیران کر دیا
شب بھر میں شہر برف نے ویران کر دیا

اک ننھا پنچھی، ’’پتوں ‘‘ کے وعدے پہ رک گیا!
ٹھنڈی ہوا نے پیڑ ہی سنسان کر دیا

محشر سی سرد رات میں ، گھر کی تلاش نے
نازک ترین تتلی کو ہلکان کر دیا

خدمت میں اس کی عمر گزاری، نصیب نے
برفانی شخص کا مجھے مہمان کر دیا

دل کا شجر بہار کی ’’قم‘‘ کا تھا منتظر
اس نے مری بہار کو بے جان کر دیا

شاخوں کی چیخ، سرد ہوا نے نہ جب سنی
اس نے تب اک درخت کو انسان کر دیا

اس کو دلیل مل گئی سجدے کی بات کی
میں نے کسی فرشتے پہ احسان کر دیا!

ننھے جزیروں سے ملے، خط اشک شوئی کے
مجھ کو مرے عروج نے حیران کر دیا

احسان زندگی کا اٹھاؤں کہ چھوڑ دوں !
زخمِ جگر نے فیصلہ آسان کر دیا

طوفانِ درد، دل میں سلا ہی چکے تھے قیس 
موسم نے پھر سے رونے کا سامان کر دیا
٭٭٭



موت حیران کن پہیلی ہے
اور یہ زندگی نے کھیلی ہے

ایک تنہائی، دوسری دھڑکن
شاعری، تیسری سہیلی ہے

صرف دِل داؤ پر لگایا تھا
آپ نے جان ساتھ لے لی ہے

سانس ہی اُن کی زعفرانی نہیں 
زلف بھی عنبریں چنبیلی ہے

مسکراؤں تو ’’طعنے‘‘ دیتا ہے
رنج، بچپن سے یار بیلی ہے

رِہ سکوں خود، نہ بیچ سکتا ہوں 
جسم، اَجداد کی حویلی ہے

ایک پہیے کی گاڑی کیا چلتی!
قبر تک زندگی دھکیلی ہے

موت کا بہترین وقت ہے یہ
سر تلے لیلیٰ کی ہتھیلی ہے

راستہ چھوڑ پاسبانِ اِرم!
 ’’ہاویہ‘‘ دھڑکنوں کی جھیلی ہے

قیس میں اور زندہ رِہ لیتا
آسمانوں پہ وہ اکیلی ہے
٭٭٭



زخم کی بات نہ کر زخم تو بھر جاتا ہے
تیر لہجے کا کلیجے میں اُتر جاتا ہے

موج کی موت ہے ساحل کا نظر آ جانا
شوق کترا کے کنارے سے گزر جاتا ہے

شعبدہ کیسا دِکھایا ہے مسیحائی نے 
سانس چلتی ہے، بھلے آدمی مر جاتا ہے

آنکھ نہ جھپکوں تو سب ناگ سمجھتے ہیں مجھے
گر جھپک لوں تو یہ جیون یوں گزر جاتا ہے

مندروں میں بھی دُعائیں تو سنی جاتی ہیں !
اشک بہہ جائیں جدھر، مولا اُدھر جاتا ہے

حسن اَفزا ہوئی اشکوں کی سنہری برکھا
پھول برسات میں جس طرح نکھر جاتا ہے

غالباً تخت پہ جنات کا سایہ ہو گا!
کچھ تو ہے ہر کوئی آتے ہی مکر جاتا ہے

 ’’ایسی‘‘ باتیں جو ’’اکیلے‘‘ میں نہ ’’دیوانہ‘‘ کرے
بادشہ وہ بھرے دربار میں کر جاتا ہے

گر نہ لکھوں میں قصیدہ تو ہے تلوار اَقرب
سر بچا لوں تو مرا ذوقِ ہنر جاتا ہے

قیس!  گر آج ہیں زندہ تو جنوں زندہ باد!
سوچنے والا تو اِس دور میں مر جاتا ہے
٭٭٭

نوٹ: یہ اتنی ہی کتاب ہے جتنی شہزاد قیس کی ویب سائٹ پر ہے۔ مکمل کتاب کے لئے وہیں سے پی ڈی ایف فائل ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔
ماخذ:
http: //www.sqais.com/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

