﻿




دشتِ مژگاں




طاہر عدیم


جمع و ترتیب: اعجاز عبید









حُسنِ شعار میں مجھے ڈھلنے نہیں دیا
اُس نے کسی بھی گام سنبھلے نہیں دیا

حائل رہِ حیات میں حسّاسیت رہی
اِس دِل نے دو قدم مجھے چلنے نہیں دیا

رکھا بصد خلُوص رگ و پے میں مستقل
لمحہ کوئی بھی درد کا ٹلنے نہیں دیا

کچھ وہ بھی چاہتا تھا یہاں مستقل قیام
میں نے بھی اُس کو دِل سے نکلنے نہیں دیا

محفل کو جو دیا ترے اندازِ داد نے
ایسا مزہ تو میری غزل نے نہیں دیا

اِک بار اعترافِ محبت پہ عمر بھر
ہم نے اُسے بیان بدلنے نہیں دیا

دریا ہزار دِل میں بپھرتے رہے مگر
آنکھوں میں کوئی اشک مچلنے نہیں دیا

طاہر عدیم، اپنا دِیا کیا جلائے گا؟
جس نے مرا چراغ بھی جلنے نہیں دیا
٭٭٭





بقائے ذات کے اِک دورِ لازوال میں ہوں
مجھے نہ چھیڑ ، کہ میں لمحۂ  وصال میں ہوں

مقدروں میں تری زینتِ بیاض کہاں؟
یہی بہت ہے کہ شیرازۂ  خیال میں ہوں

سبک روی کا تصور ، نہ رنگِ سست روی
مثالِ موجِ رواں مست اپنے حال میں ہوں

خراج دے کے گزرتے ہیں نفرتوں کے ہجوم
پلا ہوا میں محبت کے ماہ و سال میں ہوں

کنارِ فرشِ سخن ، بھیڑ استعاروں کی
بہ کشتِ رمزِ ہنر ، لہجۂ  کمال میں ہوں

ترا خیال مجھے جب سے چھو کے گزرا ہے
میں تب سے رقص کناں دھڑکنوں کی تال میں ہوں

وہ چال ڈھال میں مثلِ غزال ہے اور میں
کسی غریب کے سرمایۂ  زوال میں ہوں

مری فنا ہے ترے حسن کی بقا کا جواز
مَیں بن کے وجہِ کشش تیرے خدوخال میں ہوں

کھلی فضا کا تصنع مجھے گوارہ نہیں
میں روم روم تری سادگی کے جال میں ہوں

مری شکست ہے طاہر عدیم فتح مری
میں ہنس رہا ہوں اگرچہ بہت ملال میں ہوں
٭٭٭





یہ گھڑی ہی زندگی بھر کا ہے حاصل دیکھنا
وار ہلکا ہو نہ کانپیں ہاتھ قاتل دیکھنا!

ڈوبنے کا لطف یارو! بے مزہ رہ جائے گا
چل کے آتا ہے مری جانب یہ ساحل۔۔۔ دیکھنا

جو بھی دِل میں ہے وہ کہنے کو تو کہہ دُوں میں مگر
جراتِ دِل پر دہل جائے نہ یہ دِل دیکھنا

یوں نہ ہو کہ چاٹ ڈالے چاندنی کو تیرگی
رُوٹھ جائے مہر نہ اے ماہِ کامل دیکھنا

جھانکنا اُس پار سے اِس پار کا بحرِ کراں
اور پھر اس ’عمرِ لاحاصل کا حاصل‘ دیکھنا

دیکھنا جو حال میرا ہے تمہارا بھی نہ ہو
آ نہ جائیں تم پہ بھی ایسے مراحل دیکھنا

میں بھی طاہر سانس لیتا ہوں جب اوروں کی طرح
کٹ رہی ہے کیوں ’مرے‘ سینے کی یہ سل دیکھنا
٭٭٭





مصیبت سر سے ٹلتی جا رہی ہے
ہماری عمر ڈھلتی جا رہی ہے

کہاں ہے زندگی اب زندگی میں
فقط اِک نبض چلتی جا رہی ہے

مسلسل بھاپ بن کر اُڑ رہا ہوں
مسلسل آگ جلتی جا رہی ہے

عجب ہے سانحہ ، جینے کی خواہش
مرے دِل سے نکلتی جا رہی ہے

خفا کیوں ہیں مرے حالات مجھ سے
ہوا کیوں رُخ بدلتی جا رہی ہے

ہے پکنے کو مرے سینے کی ہنڈیا
کچھ عرصے سے اُبلتی جا رہی ہے

یہ سانسیں معجزے میں ڈھل رہی ہیں
کرامت خوں میں چلتی جا رہی ہے

نمایاں ہو رہے ہیں سارے چہرے
کتابِ دِل سنبھلتی جا رہی ہے

سوا نیزے پہ سورج آ رہا ہے
مری ہر سمت گلتی جا رہی ہے

مجھے دھر کر میرے بے در مکاں میں
وہ گھر کو ہاتھ ملتی جا رہی ہے

یہ کسے ڈنک ہیں سینے میں طاہر
حلق میں جاں اُچھلتی جا رہی ہے
٭٭٭





ساقیا ! اک لمحۂ  بھرپور نشۂ  وِلا
تھوڑی وقفِ جام کر اور تھوڑی آنکھوں سے پلا

پھر پڑی خیرات آنکھوں میں کسی کی دید کی
خشک شاخِ فکر پر پھر سے گلِ مطلع کھلا

ذہن کے خوش رنگ منظر پھر عجب ہونے لگے
ارتعاشِ لمس سے سوچوں کا پھر پردہ ہلا

خامشی ، پر ہول آسیبی بلاؤں کے سوا
زندگی!! تجھ کو مرے تن میں بھٹک کر کیا ملا؟

تار جب دامن کے خود سے ہی سنبھالے نہ گئے
کیا کریں یارو کسی سے بے لباسی کا گلا

بعد مدت کے مری جانب وہ ہنس کر پھر بڑھا
پھر ہوئیں غزلوں پہ غزلیں چاک سوچوں کا سلا

عمر کاٹی ہے طوافِ یار میں طاہر عدیم
دے نہیں پایا اُسے میں ایک لمحے کا صلا
٭٭٭





اُس نے بخشے ہیں مجھے راہ نوردی کے چراغ
اب میں ڈھونڈوں گا مری اپنی اکائی کے چراغ

سَر میں چھاتا ہے کہیں روز اندھیرا ہر سُو
گھر میں روشن ہیں مرے تن کا لہو پی کے چراغ

 مری آنکھوں کو ہنسی دے کہ سُنا ہے میں نے
رونقِ قبر ہوا کرتے ہیں مٹی کے چراغ

راہِ ظلمت میں وہ کرتا ہے چراغاں ہر سُو
 مری آنکھوں میں وہ رکھتا ہے تسلی کے چراغ

روشنی اُس کی لکیروں میں سدا پلتی رہے
اے خدا جلتے رہیں اُس کی ہتھیلی کے چراغ

جس کی ہر اور بچھائے تھے اُجالے میں نے
آج اُس نے ہی بجھائے مری ہستی کے چراغ

ایک لمحے کو جو ٹھہرے وہ مریے گھر میں کبھی
سالہا سال جلاؤں میں یہاں گھی کے چراغ

میری مرقد پہ جلیں گے ، نہ ڈریں گے طاہر
مجھ کو تاروں پہ مقدم مری بستی کے چراغ
٭٭٭





گزرا جدھر سے راہ کو رنگین کر گیا
جگنو ، اِک ماہتاب کی توہین کر گیا

کس نے بٹھایا مجھ کو سرِ مسندِ سناں
یہ کون میرے جسم کی تزئین کر گیا

اشکوں نے زخم زخم کو اندر سے دھو دیا
یہ غم ترا تو رُوح کی تسکین کر گیا

یہ کس کی خامشی سے ہے نبضِ جہاں رُکی
یہ کون کائنات کو غمگین کر گیا

آیا تھا لے کے زیست میں دولت سکون کی
جاتے ہوئے قرار مرا چھین کر گیا

یہ گام گام آئینے کس نے بچھا دیئے
یہ کون گام گام کو خود بین کر گیا

تہمت مرے وجود کو چھو کر پلٹ گئی
سمجھا تھا وہ کہ ذات کی تسکین کر گیا

اے کشتگانِ عشق بھرم ہیں یہ عشق کا
رکھنا یہ جیب چاک وہ تلقین کر گیا

طاہر ہر ایک بات میں جس کی مٹھاس تھی
بچھڑا تو زندگی کو وہ نمکین کر گیا
٭٭٭



کسی خاموش چہرے پر وہ اطمینان کا منظر
کہ جیسے دُور صحراؤں میں نخلستان کا منظر

عذابِ شدتِ کربِ جدائی کو وہ کیا جانے؟
کہ دیکھا ہی نہ ہو جس نے وداعِ جان کا منظر

اُٹھی کرسی ، کٹا سبزہ ، گرے پتے ، اُڑی چڑیاں
تمہارے بعد کیا سے کیا ہوا دالان کا منظر

کہاں ہوں ، کون ہوں یہ پوچھتا پھرتا ہوں اپنوں سے
کہ مجھ سے کھو گیا شاید مری پہچان کا منظر

دریدہ نقش ، زخمی لفظ ، لرزیدہ قطاروں میں
لہو میں کس نے رنگا ہے مرے دیوان کا منظر

ہمارے قتل پر چشمِ فلک میں خون اُترے گا
فضاؤں میں سجے گا احمریں طوفان کا منظر

نہا کے پیار کی بارش میں اُس نے دھوپ جب پہنی
نظر میں گھل گیا قوسِ قزح کے تھان کا منظر

درونِ ذہن جب زیبائشِ افکار ہی نہ ہو
گھروں میں کیا ہے پھر آرائشِ سامان کا منظر

وہ جتنے دِیپ اندر ہیں وہ آنکھوں میں ہی جلتے ہیں
اور آنکھیں ہی دِکھاتی ہیں دلِ ویران کا منظر

سمجھتا ہوں تری ساری کہانی مَیں___کہ کیا ہو گی
ہے دِکھنے میں اگر ایسا ترے عنوان کا منظر

بھری دُنیا کا طاہر چپہ چپہ چھان مارا ہے
نہیں پایا کہیں بھی شہرِ پاکستان کا منظر
٭٭٭


یوں نہ ہو کہ ایک دن ہوں یہ ستارے درمیاں
فاصلے بڑھتے ہی جاتے ہیں ہمارے درمیاں

عزم کرتا ہے نئے انداز سے ہر مرتبہ
ٹوٹ جاتے ہیں نہ جانے کیوں سہارے درمیاں

صلح کچھ اب کے مری جانب سے بھی مشروط تھی
اس نے بھی کچھ شرط کے مہرے اُتارے درمیاں

رنجشیں پہلے بھی ہوتی تھیں مگر ایسی نہ تھیں
کون حائل ہو گیا آخر ہمارے درمیاں

خود ہی کرتا ہے وہ طوفانِ بلا کے رُوبرو
خود ہی کرتا ہے سمندر میں کنارے درمیاں

ساری ترکیبیں ، کنائے ، رمزِ فن طاہر عدیم
آگے پیچھے ، دائیں بائیں ، استعارے درمیاں
٭٭٭





مری جاں ! راز و اسرارِ نگر کچھ کھول ! کیسے ہیں
وہاں کے لوگ عقلاً اور مزاجاً بول ! کیسے ہیں

بتا ! میلے ہیں یا شفاف ، پورے یا ادھورے ہیں
بسیرا جن میں اُن روحوں کا ہے وہ خول کیسے ہیں

وہاں بھی میلۂ افکار میں بکتے ہیں شہ پارے؟
چلن کیسا ہے فنکاروں کا فن کے مول کیسے ہیں

محلے پیار کے محدود ہیں یا بے کنارا ہیں
بدن میں چوکِ دِل چوکور ہیں یا گول ، کیسے ہیں

کسی کے درد پر کیا سب تڑپتے ہیں ، سسکتے ہیں
ادا کرتے مصیبت میں ہیں سب جو رول کیسے ہیں

اثر آثارِ بازارِ دِلاں مثبت ہے یا منفی
گلی میں سوچ کی ڈھلتے ہوئے ماحول کیسے ہیں

جو ممکن ہو جواب خط میں لکھنا یہ بھی طاہر کو
خد و خالِ غزالاں اور رُخِ انمول کیسے ہیں
٭٭٭





جہاں وحشتیں ہوں اِدھر اُدھر ، جہاں نفرتوں کے سحاب ہوں
وہاں سانس لیں بھی تو کس طرح؟ جہاں چاہتوں پہ عذاب ہوں

جنہیں دیکھ کر مری زندگی کا ہر ایک باب ہو سرخرو
اے مرے خدا مری آنکھ میں کبھی اِس طرح کے بھی خواب ہوں

تو چلے اگر تو یہ کائنات سمٹ کے تیری نظر بنے
تو رُکے جہاں فقط ایک پل وہاں حیرتوں کے شہاب ہوں

تری بات جیسے رواں رگوں میں نئی رُتوں کے ہوں ذائقے
ترے لفظ جیسے گہر لیے کئی سیپیاں تہہِ آب ہوں

تری چاہ سے مری دھڑکنوں میں عجب سوال دھڑک اُٹھیں
تری چشمِ مست میں جا بجا انہی دھڑکنوں کے جواب ہوں

ترے خال و خد سے ملے مجھے مرے اپنے ’ہونے‘ کا حوصلہ
تجھے سوچ کر میں لکھوں اگر تو تمام لفظ گلاب ہوں

کوئی ایسا خطۂ  سرزمیں ، مری بستیوں میں نہ ہو کہیں
جہاں ہر قدم ہو عذابِ جاں ، جہاں لمحہ لمحہ سراب ہوں

تجھے کھو کے گردشِ روز و شب میں کھڑا ہوں کیسے وقار سے
مجھے مت پکار مرے سجن ، مری محنتیں نہ خراب ہوں
٭٭٭



یہ مسکراتے تمام سائے ہوئے پرائے تو کیا کرو گے
ہوا نے جب بھی مرے بدن کے دِیے بجھائے تو کیا کرو گے

تمہاری خواہش پہ عمر بھر کی جدائیاں بھی قبول کر لوں
مگر بتاؤ ! بغیر میرے جو رہ نہ پائے تو کیا کرو گے

وہ جن میں میرے عذاب تیرے ، سراب اُبھرے یا خواب ڈوبے
وہ سارے لمحے تمہاری جانب پلٹ کے آئے تو کیا کرو گے

بغیر در کے کسی بھی گھر میں گھرے ہوئے ہو یہ فرض کر لو
اور ایسے عالم میں مِل سکے نہ جو میری رائے تو کیا کرو گے

ابھی تو میرے غلاف ہاتھوں میں مطمئن ہیں پہ بعد میرے
جو آندھیوں میں چراغ اپنے یہ تھرتھرائے تو کیا کرو گے

تمہاری آنکھوں میں عکس میرا اگر نہ ہو گا تو کیسا ہو گا
سماعتوں کے شجر پہ پنچھی نہ چہچہائے تو کیا کرو گے

کرو گے کیا جو مرے بدن سے دھوئیں کی اِک دِن لکیر اُٹھی
لکیر سے پھر ہزار چہرے نکل کے آئے تو کیا کرو گے

وہ جن خیالوں میں رہ کے تم سے مری بھی پہچان کھو گئی ہے
انھی خیالوں کے سب مسافر ہوئے پرائے تو کیا کرو گے

یہ سوچتے ہو__چلا گیا وہ تو چھت پہ جاؤ گے کس لیے تم
کہ اب کے ساون کی بارشوں میں جو سب نہائے تو کیا کرو گے

ہے دسترس میں ابھی بھی طاہر اُٹھا کے اب اس کو پی بھی ڈالو
مشاہدوں میں ہی ہو گئی گر یہ ٹھنڈی چائے تو کیا کرو گے
٭٭٭



شکستہ دِل ، پلک پر بحر و بر کس نے اُتارے ہیں
ذرا سی جان میں اتنے ہنر کس نے اُتارے ہیں

اِک اَن دیکھی جگہ سے ہیں اک اَن دیکھی جگہ کو ہم
ہمارے پاؤں میں اتنے سفر کس نے اُتارے ہیں

مری پتھر نظر میں گھومتی چھت کس نے ٹانکی ہے
سروں پر تیرتے دیوار و در کس نے اُتارے ہیں

ہزاروں فیصلے یہ فاصلوں میں قافلے باندھے
ہیں اُترے تو مرے گھر میں مگر کس نے اُتارے ہیں

ہماری قسمتوں میں خشک سالی کس نے لکھی ہے
شجر گلشن میں طاہر بے ثمر کس نے اُتارے ہیں
٭٭٭



موجِ تقدیس ہے ، صبا سا ہے
اُس کا چہرہ کھلا کھلا سا ہے

بات کرتا ہے پھول جھڑتے ہیں
خوشبوؤں سے بھرا بھرا سا ہے

مکتبِ عشق میں وہ بادِ بہار
سب وفاؤں کی اِنتہا سا ہے

عہدِ وضعِ ستم میں اُس کا مزاج
چاہتوں سے بنا بنا سا ہے

زخم خوردہ ہے کتنے عہدوں کا
پھر بھی لب پر عجب دِلاسا ہے

میری تیرہ نوشتِ زیست میں وہ
ایک جلتا ہوا دِیا سا ہے

روشنی گھل رہی ہے آنکھوں میں
میرے ہاتھوں میں وہ دُعا سا ہے

میری سوچوں کی چار دیواری
میری غزلوں کا آسرا سا ہے

سو گئے ہیں تمام لوگ مگر
شب کے دِل میں وہ جاگتا سا ہے

واقفِ رمزِ عقدۂ  مشکل
بحرِ علم و گرہ کشا سا ہے

وہ کہ طاہر عدیم دُنیا میں
تازگی جان کی ، ہوا سا ہے
٭٭٭





رقصِ سراب و حیف مسلسل نگاہ میں
اِک خار زارِ عمر ہے دشتِ نباہ میں

خونِ جگر سے سینچ کر ٹانکے ہیں چند اشک
رنگِ الم ہے زینتِ تارِ کلاہ میں

ظلمت کدۂ سینۂ  شب میں ترا خیال
جلتا سا اِک دِیا ہے مکانِ تباہ میں

گزرے گا کب وہ بخت مسافر مری گلی
بیٹھا ہوں رختِ جان سجا ، طشتِ راہ میں

احساس در گرفت نہ پاؤں کے زاویے
عالم شراب و کیف تری جلوہ گاہ میں

آج اِنتہائے رسمِ ستم تو بھی آزما!
بیٹھا ہوں آج یار کی میں بھی پناہ میں

پیتا ہوں ساغرِ زدِ پائے ستم گراں
چڑھتا ہے زخم زخم نشہ تیری چاہ میں

طاہر عدیم اُس کو اُٹھانا پڑیں نہ ہاتھ
بیٹھا اِسی لیے ہوں درِ خانقاہ میں
٭٭٭





یوں تو روکا ہے پلک پر مرا اندر میں نے
بال سے باندھ کے رکھا ہے سمندر میں نے

اُس کا اِک بار کبھی ناز اُٹھایا تھا ، مگر
عمر بھر دل میں اُٹھائے کئی محشر میں نے

جو تھا کرنا نہ کیا ، اور جو کرنا ہی نہ تھا
تِرے کہنے پہ کیا وہ بھی ستم گر میں نے

دستکیں جھڑ گئیں سوئے تھے یا بہرے تھے سبھی
کاٹ کر ہاتھ یہ بھجوائے تھے گھر گھر میں نے

اے خدا اب تو وہ آ کر انہیں رنگوں سے بھرے
صفحۂ  دِل پہ بنائے ہیں جو منظر میں نے

جانے کیوں ایک علیحدہ ہی قرینے سے رکھے
اپنے گلدستۂ  دل میں ترے پتھر میں نے

بامِ تخئیل پہ طاہر وہ کہاں رُکتا ہے
اِک ہیولا سا تو دیکھا ہے پر اکثر مَیں نے
٭٭٭





بھٹک رہا ہوں میں صحرا میں سائباں کے لیے
کوئی تو ابرِ کرم مجھ سے بے اماں کے لیے

الٰہی خیر! لپکتی ہیں بجلیاں ہر سُو
یہ ’اہتمام‘ ہے پھر کس کے آشیاں کے لیے

ہم اہلِ ہجر کو رہنے دے مضطرب کہ یہاں
کرے گا کون کرم شاخِ رائیگاں کے لیے

ہر ایک شخص سخنور تھا تیری محفل میں
ہمارے حرف ترستے رہے زباں کے لیے

کبھی ہجومِ غمِ دوستاں اِدھر سے گزر
کہ دِل کا دشت ترستا ہے کارواں کے لیے

گناہگارِ غمِ رفتگاں ہوں اے منصف!
یہ چار لفظ ہیں کافی مرے بیاں کے لیے

کہاں کی برق کہ کافی تھی ایک چنگاری
یہ کیا کہ اِتنا تکلف مرے مکاں کے لیے

ہم اہلِ عشق کا یارو ! یہی تو شیوہ ہے
لہو زمیں کے لیے ہے تو سر سناں کے لیے

مٹا چکی ہیں تو طاہر عدیم دشت میں کیوں؟
بھٹک رہی ہیں َہوائیں مرے نشاں کے لیے
٭٭٭





وہ ہو خدا یا کوئی فرشتہ یا حور اُترے
جسے اُترنا ہے تختِ دِل پر ضرور اُترے

ہر ایک شاخِ بدن تو پھولوں سے لد گئی ہے
الٰہی سوچوں کی ٹہنیوں پر بھی بور اُترے

وہ نظم ہو یا غزل ، کسی پر میں جب بھی لکھوں
فقط تمہارا ہی عکس بین السطور اُترے

میں آج پھر اپنی چھت سے مایوس لوٹ آیا
کہ امن کے جو بھی قافلے تھے وہ دُور اُترے

جو با وفا ہوں اگر__ سجے تو دلیل کوئی
ہے گر کہیں پر کوئی تو میرا قصور اُترے

میں صبح جاگا تو روشنی سے بھرا ہوا تھا
کہ میرے خوابوں میں رات میرے حضور اُترے

وہ چاند دِل میں بسا ہے طاہر عدیم جب سے
لکھوں تو نوکِ قلم سے کاغذ پہ نور اُترے
٭٭٭

 

خود جاتے ہیں الفاظ میں ڈھل،ترے نین کنول
 میں لکھتا نہیں،لکھتے ہیں غزل، ترے نین کنول
 
 شاداب، شفیق، شگفتہ ہیں،شبنم بھی ہیں
 سچل ، سچے ، سچے ، ہیں سجل ، ترے نین کنول
 
نادان ، کنارِ وصل گریزاں رہتے ہیں
اور ہجر میں کرتے ہیں جل تھل ترے نین کنول
 
اس دنیا میں ہے جھیل سے گہری ذات مری
اور جھیل میں ہیں بس دو ہی کنول، ترے نین کنول
 
مسحور جب ہونے لگتا ہوں میں باتوں سے
تب جاتے ہیں یہ بات بدل ، ترے نین کنول
 
بیتاب سا ہو کر ان کو چھونا چاہوں تو
مجھے کہتے ہیں ابھی اور مچل ،ترے نین کنول
 
 ہر بھید ہے میرے دل کا اِن سے وابستہ
ہیں میری ہر مشکل کا حل ، ترے نین کنول
 
ہو ہجر کی تلخی کا یا وصل کے ریشم کا
ہر موسم میں ہیں جان اٹل ، ترے نین کنول
 
ہر دھوپ میں مجھ پر سایا ہے تری پلکوں کا
مرے ساتھ سفر میں ہیں پل پل ترے نین کنول
 
ہر زخم پہ طاہر پیار کا مرہم رکھتے ہیں
جب جسم مرا ہوتا ہے شل،ترے نین کنول
٭٭٭


بن کے ہر عقدۂ مشکل کا وہ حل بھی ٹھہرے
دِل میں گر آج رُکا ہے تو وہ کَل بھی ٹھہرے

اُس کی آنکھوں کو اگر جھیل بنایا ہے تو پھر
اے خدا ! اُس میں کوئی شوخ کنول بھی ٹھہرے

ہاتھ اُٹھتے ہی ترے ، سینکڑوں مصرعے اُٹھے
تیری انگڑائی جو ٹھہرے تو غزل بھی ٹھہرے

بن کے جھومر ترے ماتھے پہ ہمیں تھے جھومے
اور پھر ہم ہی ترے ماتھے کا بل بھی ٹھہرے

بے بدل جو مری غزلوں کو کہا کرتا ہے
ہے تعجب وہی غزلوں کا بدل بھی ٹھہرے

جاگزیں تختِ خرد پر بھی رہے ہیں طاہر
رونقِ مسندِ عشاقِ اٹل بھی ٹھہرے
٭٭٭





آنکھ برسی تری فرقت کی گھٹاؤں کے طفیل
اُجلا اُجلا ہوں ترے غم کی فضاؤں کے طفیل

کوئی طاقت بھی جدا کر نہیں پائے گی ہمیں
جب بھی ہم بچھڑے تو بچھڑیں گے اناؤں کے طفیل

تیرے آنے سے لگا صحن میں چاند اُترا ہے
گھر میں ہر سمت اُجالا ترے پاؤں کے طفیل

دِل کی دھڑکن ہے کہ تسبیح ترے نام کی ہے
سانس چلتی ہے مری تیری وفاؤں کے طفیل

کھو کے پہچان__ مِلا کرتی ہے پہچان یہاں
بیج بنتا ہے شجر کتنی فناؤں کے طفیل

اب یہ دیوار گرا دے کہ کروں گا کب تک
تیرا دیدار فقیروں کی صداؤں کے طفیل

وجہِ رحمت تو کوئی شخص بھی ہو سکتا ہے
جانے قائم ہو وطن کون سے گاؤں کے طفیل

رونقِ تختِ سخن ، بختِ ہنر آج ہوں گر
اے مری جان! فقط تیری دُعاؤں کے طفیل

تیرے ہونے سے ہے ثابت مرا ہونا طاہر
میرے ہر فن میں ادا تیری اداؤں کے طفیل
٭٭٭



چاندنی کا ہے بدن یا ہے بدن میں چاندنی
جب اُترتا ہے اُترتی ہے چمن میں چاندنی

تیرگی جب پاؤں پھیلائے تو پھر سننا اُسے
باندھ کر رکھتا ہے وہ اپنے سخن میں چاندنی

جب بھی لکھتا ہوں ، قلم سے پھوٹتی ہے روشنی
گھول دی ہے کس نے دشتِ فکر و فن میں چاندنی

یار کی شہرِ بتاں میں اِک نشانی یہ بھی ہے
چاند سا چہرہ ہے اُس کا اور من میں چاندنی

وہ سنورتا جا رہا ہے سامنے طاہر عدیم
اور برستی جا رہی ہے دِل کے بن میں چاندنی
٭٭٭



اسیرِ بحر و بر کوئی نہیں ہے
جہاں میں مختصر کوئی نہیں ہے

ہے دھڑکا سا مرے سینے میں لیکن
درِ اُمید پر کوئی نہیں ہے

مرا سایا سمٹ آیا ہے مجھ میں
مرا اب ہم سفر کوئی نہیں ہے

حوادث بھی وہی ،ہم بھی وہی ہیں
مگر اب چشمِ تر کوئی نہیں ہے

نظر ہی بام پر میری نہیں___ یا
نظر کے بام پر کوئی نہیں ہے

بجز ’میرے‘ یہاں میری وفا کا
حوالہ معتبر کوئی نہیں ہے

سمجھ کر سوچ کر دِل میں اُترنا
یہ گھر ہے جس میں در کوئی نہیں ہے

خرد کے لاکھ قاصد ہیں تو ہوں گے
جنوں کا نامہ بر کوئی نہیں ہے

مجھے اپنانے والے لوگ یارو!
بہت سے ہیں مگر کوئی نہیں ہے
٭٭٭




اب تو ہی اُتر اِس پہ ، کسی شکل میں دھڑکا
اے میرے خدا دل یہ مرا اصل میں دھڑکا

کرتا تھا ہر اِک وار بہت سوچ سمجھ کر
قاتل کے لیے یوں تھا مرے قتل میں دھڑکا

پلتے ہوں ہر اِک آن جہاں درد کسی کے
ایسا ہی کوئی دِل تو مری نسل میں دھڑکا

پھر سبز فضاؤں پہ بچھیں زرد ردائیں
پھر ہجر کسی کا ہے کسی وصل میں دھڑکا

صد شکر مرے اصل کو کوئی بھی نہ پہنچا
صد شکر مرا اصل کسی نقل میں دھڑکا

یہ بیج مرے اپنے ہی ہاتھوں نے تھا بویا
تانے ہوئے سینہ جو مری فصل میں دھڑکا

سینے میں بچھی شامِ غریباں کی اُداسی
ماتم کا سا اِک شور مرے طبل میں دھڑکا

طاہر کہ جنوں کی کوئی حد ہے نہ فضا ہے
رہتا ہے ہر اِک گام مگر عقل میں دھڑکا
٭٭٭




گزرا جدھر سے راہ کو رنگین کر گیا
جگنو ، اِک ماہتاب کی توہین کر گیا

کس نے بٹھایا مجھ کو سرِ مسندِ سناں
یہ کون میرے جسم کی تزئین کر گیا

اشکوں نے زخم زخم کو اندر سے دھو دیا
یہ غم ترا تو رُوح کی تسکین کر گیا

یہ کس کی خامشی سے ہے نبضِ جہاں رُکی
یہ کون کائنات کو غمگین کر گیا

آیا تھا لے کے زیست میں دولت سکون کی
جاتے ہوئے قرار مرا چھین کر گیا

یہ گام گام آئینے کس نے بچھا دیئے
یہ کون گام گام کو خود بین کر گیا

تہمت مرے وجود کو چھو کر پلٹ گئی
سمجھا تھا وہ کہ ذات کی تسکین کر گیا

اے کشتگانِ عشق بھرم ہیں یہ عشق کا
رکھنا یہ جیب چاک وہ تلقین کر گیا

طاہر ہر ایک بات میں جس کی مٹھاس تھی
بچھڑا تو زندگی کو وہ نمکین کر گیا
٭٭٭


جاں دیتا بصد شوق مجھے عار نہیں تھا
لیکن مرا قاتل تھا کہ فنکار نہیں تھا

دیتا تھا ہمیں رنج سا ، دامانِ وفا میں
حالانکہ ثمر تھا ، کوئی آزار نہیں تھا

صد حیف ، سرِ رفعتِ ایوانِ مظاہر
سَر جس کا سجا، صاحبِ دستار نہیں تھا

میں طشتِ محبت میں سجائے ہوئے نکلا
کوئی بھی وفاؤں کا خریدار نہیں تھا

کچھ میں بھی نہ تھا یوسفِ صد بخت مسافر
کچھ یوں بھی یہاں مصر کا بازار نہیں تھا

تھا ہمدم و ہمدوشِ سلیماں ، نہ پیمبر
کچھ سلسلۂ شوخیِ رفتار نہیں تھا

کچھ محوِ کنارہ کشِ اظہار تھا میں بھی
کچھ ساتھ نبھانے پہ وہ تیار نہیں تھا

کب میں نہ تھا رسوا سرِ اظہارِ تمنا
کب زینتِ موضوعِ سرِ دار نہیں تھا

تھے اور بھی کتنے ہی یہاں درد کے تاجر
اِک میں ہی جہاں بھر میں گنہ گار نہیں تھا

کل رات بڑے چین سے سویا تھا زمانہ
کل رات مِرے دل پہ کوئی بار نہیں تھا

کل حال عجب سطحِ سمندر کا تھا طاہر
کشتی تھی ، مسافر تھے، پہ منجدھار نہیں تھا
٭٭٭





گھیرتے ہیں جب بھی طوفانِ بلا کے دائرے
گھیرتے ہیں جب بھی طوفانِ بلا کے دائرے

پھر سکوتِ سطحِ سینہ پر نیا کنکر پڑا
پھر بنے دریائے دل میں انتہا کے دائرے

گاؤں در گاؤں یہ بڑھتے کربلا کے کارواں
پاؤں در پاؤں لپٹتے التجا کے دائرے

کیا کشش کھینچے چلی جاتی ہے ہر اِک شخص کو
ہیں حصارِ ایک دنیا اُس قبا کے دائرے

اب بھی بڑھ کر ہیں مجھے وہ خوش نویسی سے کہیں
آڑے ترچھے تختیوں پر ابتدا کے دائرے

مَیں نے پوچھا ’کربِ ہجراں کی کہیں ہے انتہا؟‘
ایک کاغذ پر دِیے اس نے بنا کے دائرے

اس بتِ صد رنگ کا اک رنگ یہ بھی ہے کہ وہ
راستوں میں چھوڑ جاتا ہے بچھا کے دائرے

جا رہا تھا دُور کشتِ دِل سے وہ طاہر عدیم
پھیلتے جاتے تھے رگ رگ میں قضا کے دائرے
٭٭٭



ماہر الفاظ ، اُس پہ راز دارِ گفتگو
جانتا ہے خوب آداب و وقارِ گفتگو

اُس کے ہونے سے مزین ہیں سبھی سرو و سمن
اُس کی باتوں سے چمن میں ہے ، بہارِ گفتگو

پھر ہیں بازاروں میں چسپاں اشتہارِ انتخاب
پھر سے چمکا ہے وطن میں کاروبارِ گفتگو

بات کرنے میں ہمارا بھی کوئی ثانی نہیں
ہر طرح سے جانتا ہے وہ بھی کارِ گفتگو

کچھ تو اُس کے حسن سے بے ساختہ مرعوب ہوں
کچھ دبا جاتا ہوں یارو زیرِ بارِ گفتگو

میں بھی اپنے قول میں پہلے سا وہ پکا نہیں
اُس نے بھی کچھ کھو دیا ہے اعتبارِ گفتگو

آنکھ سے وہ آگ برساتا ہے ظالم اور پھر
پتھروں کو وہ پروتا ہے بہ تارِ گفتگو

بیٹھ جانا جب بھی آئے سر کی ہانڈی میں اُبال
سَر جھکانا ، سَر اُٹھائے جب فشارِ گفتگو

بول کچھ تو۔۔۔ ہر شجر ہے یار!! بے تابِ شباب
ہر کلی شاخوں پہ محوِ انتظارِ گفتگو

تیری ’ناں‘ کو سو دفعہ تشریح میں پہناؤں گا
تیری ’ہاں‘ پر انحصارِ اختصارِ گفتگو

ہم تو اپنی بات کہہ کر مستیوں میں چل دیئے
ڈھونڈتی ہی رہ گئی محفل کنارِ گفتگو

پھر چڑھائے گا نئی چادر مرے موضوع پر
پھر کیا ہے گرم اُس نے کارزارِ گفتگو

کب سحر ہو گی دلوں میں ، ہو گا کب وقت عمل
کب چھٹے گا ان فضاؤں سے غبارِ گفتگو

جان و دل طشتِ طلسمِ بے خودی میں سج گئے
اس طرح کھینچا تھا ظالم نے حصارِ گفتگو

پھول سے تشبیہہ دینا سوچ کر طاہر عدیم
دِل کے بخیئے کھول نہ دیں اُس کے خارِ گفتگو
٭٭٭






گنگ دیوار ہے تو دَر خاموش
اُس کے جانے سے سارا گھر خاموش

چاندنی کا مزاج کہتا ہے
ہے کہیں پر کوئی قمر خاموش

ہم بھی چپ چاپ سے مسافر تھے
وہ بھی کرتا رہا سفر خاموش

وقتِ رخصت بدن ہوا پتھر
رہ نہ پائی یہ چشمِ تر خاموش

اے عزیز گریز پا ! دِل میں
آنکھ کے راستے اُتر خاموش

حرکتِ نبضِ وقت رک جائے
وہ جو ہو جائے لمحہ بھر خاموش

دِل کا دیپک جلائے جا جب تک
ظلمتِ شب کی ہے سحر خاموش

اِک پرندے کے قتلِ ناحق پر
اب بھی روتے ہیں کچھ شجر خاموش

اِن کے دم سے دوام دُنیا کو
یہ جو پھرتے ہیں دَربدر خاموش

اِک قیامت کا شور تھا لیکن
سج رہا تھا اَنی پہ سر خاموش

ایک تو ہم گناہگار سے ہیں
کچھ دعا کا بھی ہے اثر خاموش

اب بھی یارانِ شہر کے تن میں
دوڑتا ہے لہو ، مگر خاموش

ہے تقاضائے مصلحت طاہر
زندگی کو تمام کر خاموش
٭٭٭





نہ دیواریں ہیں اور نہ در پرانا
ابھی تک پھر بھی ہے یہ گھر پرانا

ڈرا دیتا ، جگا دیتا ہے مجھ کو
درونِ ذہن بیٹھا ڈر پرانا

مراحل آخری تعلیم کے ہیں
مری ماں نے نکالا زر پرانا

تماشا پھر وہی امسال ہو گا
وہی دستار ہو گی ، سر پرانا

سجا ماتم کنارِ دشتِ مژگاں
سنا قصہ وہ چشمِ تر پرانا

اگر ہے دسترس ، دستِ سخاوت
مِلا دے یار لمحہ بھر پرانا

اگر آ ہی گیا ہے وہ تو طاہر
شکایت کر نہ شکوہ کر پرانا
٭٭٭


ماخذ:
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=TahirAmdeem
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
