﻿


دعویٰ سلفیت اور سلفیت سے انحراف

اردو ترجمہ
فتنۃ ادعیاء السلفیۃ وانحرافاتھم

تالیف : ڈاکٹر طارق عبدالحلیمؒ 
مترجم :  مدثر احمد ابن ا رشد لودھی


مرکز دار ال ارقم








دورِ حاضر میں سلفیت کے دعویدار فرقے میں موجود ’’حکم بماانزل اللہ ‘‘ یعنی ’’اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق حکم کرنے ‘‘ کے عنوان سے متعلق انحراف صرف ایک لغزش نہیں بلکہ ارکان توحید کے ایک بنیادی رکن کو گرانے کی ایک بنیادی غلطی ہے اور رکن بھی وہ جو اللہ کے احکامات کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کے قائم مقام ہے اور جس کا نقصان ارجاء تقلیدی کے خطرات سے متجاوز ہے اور رسول اللہﷺ کی اس رسالت اسلامی سے معارض ہے جس کے حاملین یکے بعد دیگرے اہل السنۃ و الجماعۃ رہے ہیں اور وہ امت کے اللہ سبحانہ کی مطلوبہ منزل تک پہنچنے میں رکاوٹ ہے وہ منزل جو بشری قیادت میں امن اور بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔
میں اللہ کے فضل و کرم سے اس کتاب کے 112صفحات پر مشتمل انگریزی ترجمے سے 1424ہجری کے ماہِ رمضان میں فارغ ہوا مجھے اس کام پر ابھارنے والے چند اسباب ہیں کہ موجودہ اسلامی تحریکوں اور مختلف اسلامی فرقوں سے متعلق لٹریچر بالکل مفقود ہے (حالانکہ مغرب میں جو مسلمان اس حوالے سے تنقید کا نشانہ ہیں انہیں اس طرف متوجہ ہونا چاہیئے )اور اس کمیابی کی بناء پر جس کی ذمہ دار اہل بدعت کی کثیر تعداد ہے بہت سے مغربی مسلم نوجوان بدعتی افکار اختیار کر  لیتے ہیں جیسے اس گمراہ فرقہ کے پیروکار جو سلفیت کا دعویدار ہے حالانکہ وہ عربی زبان سے ناواقف نوجوانوں کو حق و باطل سے مخلوط اور غلط مفاہیم میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں خود تو گمراہ ہیں دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔
میں ایک عرصے سے مغرب میں قیام پذیر ہوں اور اللہ سے دعاگو ہوں کہ جلد ہی یہ مرحلہ ختم ہو جائے وہاں میں نے بہت سی اسلامی کمیونٹی کی مشکلات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے اور سلفیت کے دعویدار اس فرقے کے جال میں پھنسے ہوئے بہت سے نوجوانوں کو دیکھا ہے جنہیں وہ پٹیاں پڑھاتے ہیں کہ وہ ہی امت کے خیر خواہ ہیں اور جو لوگ ان کے سوا ہیں وہ گمراہ ہیں مارقہ اور خارجی ہیں یہاں تک کہ بہت سے مسلمان ائمہ کو ان برے اوصاف سے متصف کرتے ہوئے کوئی خوف یا ڈر محسوس نہیں کرتے نوجوانوں کے اس طرح کے گروپس سے متعلق میری ان معلومات کا مجھے یہ فائدہ ہوا کہ مجھے سلفیت کے دعویدار اس فرقے کا طریقہ واردات معلوم ہو گیا کہ کس طرح یہ لوگوں کو اپنے جال میں پھانستے ہیں اور انہیں دھوکے میں رکھتے ہیں اور کس طرح اپنی کتابوں میں جعلسازی سے کام لیتے ہیں اور میں اس دھوکے اور سنت صحیحہ سے اعراض کے نتائج ان مریض شخصیات میں دیکھ رہا ہوں جو اپنے پیروکاروں سے بندھے پڑے ہیں۔
یہ کتاب ایک تنبیہ،پھر ایک مقدمہ، چھ فصول، ایک خاتمہ اور پھر دو لاحقوں پر مشتمل ہے۔
٭	فصل اوّل میں سلفیت اور سلفی اور اہل السنۃ و الجماعۃ اور ارجائیت اور خروج سے متعلق چند تعریفات ہیں۔
٭	دوسری فصل میں سلفیت کی طرف منسوب جماعتوں پر گفتگو ہے خواہ وہ اس انتساب میں حق حق بجانب ہوں یا باطل پر یہ کل آٹھ جماعتیں ہیں ہر جماعت کے مخصوص نظریات سے متعلق بحث ہے جیسے جمہوریت،سیکولر ریاستوں میں سیاسی پارلیمانی عمل کی مشروعیت،حاکم 	کا شریعت مخالف حکومت کرنا اور سید قطب شہیدؒ کی کتب سے متعلق نظریات وغیرہ ان مضامین پر ان کے نظریات۔
٭	تیسری فصل میں سلفیت کے دعویدار فرقے ’’جامیہ مدخلیہ ‘‘ سے متعلق کلام ہے اس میں تین امور ہیں جو ان کے اصول،دھوکے کے ذرائع اور ان کے اور ان پیروکاروں کے اعمال کے نتائج کے متعلق ہیں۔
٭	چوتھی فصل ان کے اصول کے اجراء اور اہل السنۃ و الجماعۃ کے اصول کے بیان میں ہے اور ایمان کے مفہوم سے متعلق اہل السنۃ کے مذہب اور اس بارے میں ان کے مخالف حنفیہ کے  مذہب سے متعلق اور پھر ایمان کے بارے میں اہل السنۃ اور خوارج کے مابین فرق اور سورۃ المائدہ کی چند آیات کی تفسیر اور ابن عباسؓ کے قول ’’کفر دون کفر‘‘ اور اس بارے میں متقدمین و متاخرین علماء کے اقوال سے متعلق بحث و گفتگو ہے۔
٭	پانچویں فصل میں ’’اجتہاد اور تقلید ‘‘ سے متعلق ان کی غلط بیانی اور آیت:{فَسْئَلُوْآ اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ(النحل)} یعنی اہل علم سے معلوم کر لو اگر تمہیں علم نہ ہو۔کی تفسیر اور ’’جرح و تعدیل‘‘ کے مفہوم میں ان کی کج روی اور بد خواہی سے متعلق گفتگو ہے۔
٭	چھٹی فصل میں نوجوانان کو سنت سے خارج اس فرقے سے ڈرایا گیا ہے۔
٭	پھر{وَ اِنَّ اَوْہَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوْتِ} کہ سب گھروں میں کمزور ترین مکڑی کا گھر ہے‘‘ کے عنوان کے تحت ایک لاحقہ ہے جس میں ان کے ایک نام نہاد عالم ’’معاذ قریشی‘‘ کی تعلیقات کا تعاقب ہے جن میں امام محمد بن ابراہیم اور امام ابن القیم کے اقوال میں ہیرا پھیری سے کام لیا گیا ہے اور ایمان کے مفہوم میں غلط بیانی کی گئی ہے۔
٭	دوسرے لاحقے میں بندر بن نایف العتیبی کی کتاب ’’الحکم بغیر ماانزل اللہ‘‘ کا ردّ ہے اس  کتاب میں حلبی،مراد شگری اور مدخلی کے نظریات کا پرچار و تکرار ہے میں نے اس کتاب کے ضعف کو بیان کیا ہے اور یہ کہ وہ علماء اصول کے طریقہ کار پر ردّ کرنے میں ایک جدید منہج پر چلا ہے حالانکہ وہ ان کے منہج حق سے بہت بعید ہے۔
٭	تیسرے لاحقے میں ان کے بنیادی کر دار ربیع المدخلی کی غلط بیانیوں کا پول کھولا گیا ہے کہ وہ جرح و تعدیل کے پردوں میں چھپ کر کس طرح اپنے سے قدر و منزلت اور علم میں بڑھ  کر اہل علم پر حملے کرتا ہے یہ بحث دیگر مباحث سے نسبتاً طویل ہے۔
التنبیہ : ہم یہ واضح کر دیں کہ اس کتاب کا بنیادی مقصد کسی حاکم یا حکومت یا کسی بھی فرد کی تکفیر نہیں بلکہ کلمہ ’’لاالٰہ الااللّٰہ‘‘ کی تعریفات و شروط اور معانی کی درست تعیین ہے جو بلاد اسلامیہ کی دور حاضر سے متعلق صورت حال کو واضح کرتی ہے اس تعیین و توضیح کو جانے سمجھے بغیر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی کی امید نہیں کی جا سکتی۔یقیناً ہم کسی بھی ایسے پر تشدد جاہلانہ عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے بلکہ ایسے حملوں کا ردّ کرتے ہیں اور زمین اور گلوب کو ان سے محفوظ بنانا چاہتے ہیں اور ہم ایسی تمام محدودو وسیع کوششوں کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں جو معنی توحید اور اسلام کے مفہوم کو بدلنے کے لئے کی جائیں جیسا کہ سلفیت کے دعویدار اس بدعتی ٹولے کا طریقہ کار ہے اس امت کی ترقی اسی صورت میں ممکن ہے جب محمدﷺ پر نازل کردہ توحید کے صحیح مفہوم کو لوگوں کی زندگی میں مکمل طور پر داخل کر دیا جائے۔
٭٭٭



مقدمہ

ان الحمد للّٰہ نحمدہ و نستعینہ ونستغفرہ ونستھدیہ ونعوذ باللّٰہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھداللّٰہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی و نصلی ونسلم علی سیدنا محمد و علی آلہ و صحبہ …وبعد،
یہ مقدمہ بیسویں صدی میں عالم اسلام کو پیش آنے والے سقوط خلافت کے متعلق ہے جب مسلمان ایک مرکزی حکومت سے محروم ہو گئے جو امت کی کوششوں کاوشوں سے قائم تھی جس سے امت اسلامیہ اپنی پوری تاریخ میں کبھی محروم نہ رہی سوائے ان چند ایام کے جب عالم اسلام پر تاتاریوں نے حملے کئے (اس مرکزی حکومت کے مختلف ادوار کے لئے ملاحظہ ہو کتاب ’’صراع الحضارات‘‘ از سموئیل ہانتجتون‘‘ ص:207)اس حادثے اور امت پر اس کے اثرات کی تفصیل سے قطع نظر اس کا نتیجہ اور ردّ عمل یہ ہوا کہ شرعی اصول امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ایک نئی تحریک ملی جبکہ وہ مرکزی حکومت بھی نہ رہی جو اسے قائم کرتی اور اس کی حمایت کرتی چنانچہ بہت سی اسلامی جماعتیں وجود میں آئیں جنہوں نے کچھ تحریکوں کی یاد تازہ کر دی جیسے بغداد میں امین عباسی کے قتل کی شام اور مامون عباسی کے عہد خلافت میں خالد دریوش اور صالح بن سلامہ انصاریٰ کی تحریک(ملاحظہ ہوتاریخ الدولۃ العباسیہ ص:191از شیخ خضری)انہی جماعتوں میں سے ’’اخوان المسلمون‘‘ مصر میں اور ’’جماعت اسلامی‘‘ پاکستان میں بھی ہے۔
یہ تحریکیں یا ان کے اثرات کس قدر تیزی سے ظاہر ہوئے (ملاحظہ ہو:ہمارا مقالہ :’’الاخوان المسلمون فی نصف قرن‘‘)جن سے واضح ہو گیا کہ خلل صرف مرکزی حکومت یا بقول فقہاء امامت عظمیٰ کا عدم وجود ہی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ اسلامی ممالک بتدریج لادین اور سیکولر نظام حکومت کے ماتحت ہو گئے جس نے لوگوں کے امور میں اللہ کی شریعت کی حاکمیت کو ختم کر ڈالا جس کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ مغربی ثقافتی جنگ کو قبول عام حاصل ہوا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں پر فقہی احکامات خصوصاً حالات حاضرہ سے متعلق فقہی احکام خلط ملط ہو گئے۔یہاں سیاسی صورت حال سے متعلق نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے جس سے مصنفین اور تجزیہ نگار غفلت کا شکار ہیں کہ انہوں نے سیاسی عمل کو مختلف ادوار میں خلفاء کی حکومت اور دور جدید کے انداز حکومت کے مماثل قرار دے دیا یہ نکتہ ان دونوں طرز حکومت میں ایسا فرق کر دے گا کہ ان میں مماثلت کی کوئی صورت باقی نہ رہے اسی نکتے نے سقوط خلافت سے پہلے تمام ادوار میں نفوذ شریعت کو ممکن بنایا وہ نکتہ یہ ہے کہ فقہاء،مجتہدین اور علماء کے فتاویٰ و فیصلہ جات کو عملی طور پر تسلیم کیا جائے یہاں ایسا کوئی قانون مدون نہیں رہا ایسا کوئی دستورنہیں جو یہ صراحت کرتا ہو کہ احکام کا واحد مرجع و ماخذ شریعت اسلامی اور توحید کا وہ فہم اور تعریف و اصول ہی ہیں جو خلیفہ اور مسلمان جماعتوں کو پابند کرتے ہوں کہ وہ شریعت اسلامی کے حکم کو اسی طرح تسلیم کریں جس طرح وہ فقہاء اور علماء سے منقول ہو یہی وجہ ہے کہ جب کوئی حاکم کسی شرعی حکم کو روندنا چاہتا ہے تو وہ تجویز دیتا ہے جسے اس کی مراد و منشاء کے مطابق نافذ کر دیا جاتا ہے اگرچہ اس عمل کے لئے فقہاء اور علماء سے منظور شدہ قانونی دستاویز سے کوئی سند نہ ہو تو اس کے حکم کو قانون کا درجہ دیا جاتا ہے اگرچہ اس پر لفظ قانون کا اطلاق نہیں ہوتا مگر اس کی خلاف ورزی قانون کی خلاف ورزی ہی تصور کی جاتی ہے۔اس نکتے کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لئے ان مدونہ قوانین کی ترقی کی اور غلبے کی طرف غور کیا جائے کہ مصر میں نابلیوں کی جنگ موجودہ سیاست کی بنیاد بنی اور یہ ان مشیروں کی درآمدگی سے ہوا جن کی اکثریت مستشرقین کی تھی اور یہ ہر میدان میں کیا گیا تاکہ مملکت کو ان قوانین کے مطابق ڈھالا جائے بہت سے ممالک نے ان قانونی ماہرین کو بزور قوت بلوا کر اپنے باشندوں پر یہ لازم کر دیا کہ وہ مصری شرعی قوانین کی پابندی نہ کریں چنانچہ مخلوط عدالتیں وجود میں آئیں اور مجلہ ’’الاحکام العدلیہ‘‘ جاری ہوا جس میں فوجداری اور سول قوانین وغیرہ بنائے گئے جو دراصل یورپی قوانین کے مطابق تھے پھر پہلی جنگ عظیم کے اختتام اور سقوط خلافت کے ساتھ ہی ملکی قوانین انتہائی کمزور پڑ گئے اور لوگ مخلوط عدالتوں میں اپنے مقدمے دائر کرنے پر مجبور ہو گئے اور پھر بیسیوں صدی کے وسط میں یہ مخلوط عدالتیں مسلمانوں کے امور میں با اختیار ہو گئیں اور شرعی عدالتیں بالکل ناکارہ ہو کر رہ گئیں (سوائے مملکت سعودیہ کے میرے خیال میں وہاں اب تک شرعی عدالتیں قائم ہیں )۔
یہ بات بڑی واضح ہے کہ مسلمانوں کی زندگی میں خواہ وہ حاکم ہو یا محکوم اللہ کی شریعت ہی اصل حاکم ہے اگرچہ بعض حکام نے اپنے انحرافات کو اس میں داخل کرنا شروع کر دیا مگر بطور تجویز نہ کہ بطور قانون یا شریعت کے اور علماء نے اسے معاصی اور گناہوں کی قبیل سے قرار دیا جو ملت سے خارج نہیں کرتے تو یہ اس امر (زوال امت)کا تاریخی ارتقاء ہی تھاجس نے اسلامی شرعی قوانین کو مسلمانوں کی ترقی کا ضامن ماننے سے انکار کر دیا اور یہ اس سے پہلے کی صورت حال سے بالکل مختلف صورت حال ہے ان دونوں میں فرق نہ کرسکنے کی وجہ سے ہی سابقہ حالات کی حقیقت منظر عام پر نہ آسکی۔
بیسیویں صدی کے اوائل میں جو اسلامی تحریکیں بنیں وہ بھی اس حقیقت کا ادراک نہ کرسکیں اور نہ ہی اس کی وجوہات جان سکیں اور نہ ان دونوں میں فرق کرسکیں پھر بھی انہوں نے اس سرکشی اور فساد کے خلاف بھرپور مزاحمت کی (ملاحظہ ہو:ہمارا مقالہ ’’الاخوان المسلمون فی نصف قرن‘‘ )کچھ ایسے گروہ بھی ظاہر ہوئے جنہوں نے خود کو سلفیت کی طرف منسوب کیا اور سلف کے منہج اور ان کے متعین کردہ راہ عمل کو بھی اختیار بھی کیا اس کے باوجود بھی وہ سلف کی طرح علمی تحقیق اور تقویٰ اختیار نہ کرسکے پھر عراق کی کویت کے ساتھ جنگ کے بعد 90کی دہائی میں انہی میں سے ایک گروہ نے گمراہی کا راستہ اختیار کر لیا اور ان کے بڑوں نے دور حاضر کے اصل حقائق میں صرف دھوکہ دہی سے کام لیا اور سلف صالحین کی زندگی کے دوسرے تمام پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف ان کی عابدانہ زندگی کے پہلو کو اختیار کر لیا  اور اپنے مخالف تصورات کے حامل ہر شخص کے خلاف ایک محاذ کھول لیا انہیں بدعتی اور فاسق قرار دینے لگے جو ان کی آراء سے اختلاف کرتا اور ان کی بدعت و فریب کی مخالفت کرتا اسے زیر کرنے کے لئے ہرراستہ اختیار کرتے حتی کہ علماء حق کو بھی مرعوب کر لیا وہ بھی دلائل و براہین کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے اختیارات و مناصب اور قوت کے ذریعے خوفزدہ کر کے سید قطب شہیدؒ بھی اس اندھی دشمنی کا شکار بنے انہوں نے ان کے بارے میں ایسی بیہودہ باتیں تک کہہ دیں جو امام مالک شراب کے بارے میں کہا کرتے تھے (یعنی انہیں اس تمام صورت حال کا ذمہ دار قرار دیا جس طرح شراب کو ام الخبائث کہا جاتا ہے)حتی کہ اپنے بڑے کی شہہ پر جس نے انہیں یہ سب و شتم سکھایا انہوں نے سید قطب کو یہود و نصاریٰ سے بھی بدتر قرار دیا پھر ان کی اپنے پیروکاروں کی اس بدترین تربیت کا یہ برا نتیجہ نکلا کہ انہوں نے مسلمانوں کی چغلیاں لگانے اور ان کی جاسوسی کرنے کو دینداری اور اللہ کے قرب کا ذریعہ سمجھ لیا(ہم نے بھی اسلامی تحریک کو اس وقت چھوڑ دیا تھا جب وہ اسی طرح کی حرکات پر ابھارنے لگی تھی)میں کہتا ہوں کہ ہم یہی سمجھتے تھے کہ عالم اسلام اب اس بھاری بوجھ سے بلا مشقت آزاد ہو چکا ہے اور گویا کہ امت شیاطین اور اس کے تابعداروں اور مددگاروں کے ساتھ اپنی اس جنگ کو اسی طرح جیت سکتی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے۔ہمارے لئے اللہ کافی ہے وہی بہترین کارساز ہے۔
سلفیت کی طرف جھوٹی نسبت کرنے والے اس گروہ کو عراق کی کویت کے ساتھ اور موجودہ امریکی صلیبی جنگ کے بعد جو سیاسی حمایت حاصل ہے وہ ڈھکی چھپی بات نہیں جبکہ باضابطہ طور پر اسے جائز قرار دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اس طرح کے منحرف مظاہرے زمانے کی رفتار کے ساتھ ہی ختم ہوتے رہتے ہیں کیونکہ ان کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہوتی اس بارے میں علامہ امام بکر ابوزید نے کیا خوب فرمایا کہ :اطمینان بخش بات یہ ہے کہ یہ جنگ جلد ہی ختم ہو جائے گی اور حماقت کی یہ آگ عنقریب بجھ جائے گی اور لوگ پھر سے مسلمانوں کی جماعت کی طرف پلٹ آئیں گے جو جانتے ہیں کہ یہ ظالمانہ اقتدار افراد پر ہے اتباع پر نہیں اللہ نے سچ فرمایا:{وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ}یعنی :ظالموں کی کوئی مدد نہیں کرتا۔اور یہ افراد کسی جذبے واحساس کے بغیر چلے جا رہے ہیں ……اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی گھبراہٹ کے یہ ادوار ہی انہیں کھڑا کریں گے اسی لئے ان میں سختی ہے اور میل ملاپ کی کمی ہے اللہ کے حکم سے اس حماقت کی آگ کا بجھ جانا اور اس کے سایوں کا سمٹ جانا اور اس کی سانسوں کا رک جانا اور علیحدگی پسندوں کا مسلمانوں کی صف میں پلٹ آنا یقینی ہے جیسا کہ فرمایا:{رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰالِمِیْنَ}اے میرے پروردگار مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔(عجیب و غریب بات یہ ہے کہ مجھے ان لوگوں کے نرغے میں پھنسے ہوئے ایک نوجوان نے بتایا کہ اس کے بڑے بتاتے ہیں کہ شیخ بکر ابوزیدؒ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا  ہے اور انہیں ان کی اس امر سے لاعلمی کی بناء پر ’’ہیئت علماء السعودیہ ‘‘ کے منصب سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے)ہر حد سے گزر جانے والے ان لوگوں کے حقیقی سلف زاہد کوثری اور ابوغدۃ جیسے لوگ ہی ہوسکتے ہیں جن پر ابن تیمیہؒ کی سلفیت اور محمد بن عبدالوہابؒ کی سلفیت بڑی گراں گزرتی تھی ان دونوں سے یہ لوگ صوفی اشعریہ کی بنسبت جو ان کے پہلوؤں میں چھپے بیٹھے ہیں بڑے خوش نظر آتے ہیں۔
 ٭٭٭


پہلی فصل
چند ضروری تعریفات

السلفیۃ

لفظ سلفیہ ’’سلف‘‘ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے ’’جو پہلے گزر چکا ہو‘‘ یہ اس کی عام شکل ہے جبکہ علماء اسلام کی اصطلاح کے مطابق قرون ثلاثہ کے جید افراد پر ’’سلف صالح‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے کسی قسم کی لغوی تفاصیل میں پڑے بغیر قابل توجہ امر یہ ہے کہ صفت ’’سَلَفِی‘‘ کا لفظ سلف سے مشتق ہونا ایک نئی اصطلاح ہے جس کا بیسویں صدی سے قبل وجود نہیں تھا اس بات کی ایک خاص دلیل یہ ہے کہ عام طور پر علمائے اسلام اپنی کتب میں سلف صالح کے متعلق تو گفتگو کرتے ہیں ایسے ہی ان کے مناہج کی اتباع بھی کرتے ہیں مگر لغوی اعتبار سے خود کو ان کی طرف منسوب نہیں کرتے اور نہ ہی اس نسبت کے ساتھ خود کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اہل السنۃ و الجماعۃ کہلوانا پسند کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے اسلاف کی کتب میں یہ بات عام ہے۔
مدبر و محقق کے لئے اس باریک فرق کو سمجھنا ناممکن ہے کہ ایک جماعت کا اپنے آپ کو سلفی کہلوانا یہ کچھ ہی عرصے سے ہے جبکہ اہل السنۃ و الجماعۃ کا وصف عام ہے اور عرصہ دراز سے ہے کیونکہ اس میں نسبت سنت مطہرہ اور اس جماعت کی طرف ہے جس کا رسول اللہﷺ نے اپنی بہت سی صحیح احادیث میں تذکرہ کیا ہے خلاصہ یہ ہے کہ اہل السنۃ و الجماعۃ کا وصف زیادہ درست اور سنت سے قریب تر ہے اس کے مقابل سلفی کی نسبت ایک نئی صفت ہے اگرچہ ناموں کے اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہ ان کے معنی معروف ہوں۔

السلفیون

ان حالات میں ایک جماعت معرض وجود میں آئی جس نے اپنے لئے ’’سَلَفِی‘‘ کا وصف اختیار کیا حدیث کی تحقیق اور اس کے ساتھ مشغولیت کی بناء پر ان میں محمد بن اسماعیل المصری اور مقبل بن ھادی الوادعی بھی شامل ہیں یہ دونوں شیخ ناصر الدین البانی کے تلامذہ میں سے ہیں کچھ اور جماعتیں بھی ہیں جو سنت کو عام اور حدیث کو خاص مذہب کے طور پر لیتے ہیں یہ خود کو سلفی اس لئے نہیں کہلاتے کہ عمومی طور پر حدیث کا اہتمام نہیں کرتے البتہ خود کو اہل السنۃ و الجماعۃ کہلوانا پسند کرتے ہیں۔

اھل السنۃ و الجماعۃ

یہ وصف عام طور پر ان لوگوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جو توحید کے ربوبیت و عبادت وغیرہ تمام پہلوؤں پر نظر کرتے ہیں ایسے ہی رافضہ اور اہل السنۃ میں فرق کرنے کے لئے بھی یہ وصف بولا جاتا ہے خاص طور پر صفات باری تعالیٰ کے مسئلے میں تو اہل السنۃ و الجماعۃ کی نسبت کا معنی یہ ہوا کہ یہ ان لوگوں میں ممتاز ہیں جن کا مذہب صفات میں تاویل کا ہے جیسے اشاعرہ،معتزلہ وغیرہما اور یہ کتاب اللہ اور سنت صحیحہ اور ان دونوں پر مبنی اجتہادی شرعی جس کی تفصیل اصول فقہ کی کتابوں میں موجود ہے کو بس ان تینوں کو ہی مصادر شریعت قرار دے کر ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں ان لوگوں میں امام احمد بن حنبل (عجیب بات یہ ہے کہ امام احمد کو پوری تاریخ اسلام میں ’’امام اہل السنۃ ‘‘ تو کہا جاتا رہا ہے لیکن کبھی بھی انہیں ’’امام السلفیین‘‘ نہیں کہا گیا؟)کے پیروکار اور بقیہ ائمہ اعلام جیسے امام شافعی،امام مالک، امام ابوحنیفہ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے تلامذہ جیسے ابن قیم،ابن رجب اور ابن عبدالہادی حتی کہ شوکانی،صنعانی اور محمد بن عبدالوہاب شامل ہیں۔رحمۃ واسعۃ۔

المرجئہ 

یہ فرقہ اس وقت وجود میں آیا جب مسلمانوں پر نعمتوں اور اموال کی بہتات ہو گئی اور مسلمان حکام یہ ضرورت محسوس کرنے لگے کہ عوام الناس کو ریاست کے سیاسی امور سے الگ رکھنا چاہیئے اس طرح کہ انہیں لذات اور معاصی میں مصروف کر دیا جائے۔یہاں اس قدر گنجائش نہیں کہ مرجئہ کے متعلق تفصیلی گفتگو کی جائے (ملاحظہ ہو ہماری کتاب ’’حقیقۃ الایمان ‘‘ اس میں ایمان اور اس کے تمام پہلوؤں سے متعلق اہل السنۃ و الجماعۃ اور مرجئہ و خوارج کے مابین فرق کو اچھی طرح بیان کیا گیا ہے )البتہ اتنا ضرور ہے کہ ان کے عقائد کی اصل خرابی ایمان کی تعریف اور اس کے پہلوؤں سے متعلق غلط فہم کی بناء پر تھی یہ [من قال لاالٰہ الااﷲ دخل الجنۃ]یعنی جس نے لاالٰہ الااللہ کہہ دیا وہ جنتی ہے۔اس جیسی احادیث کو ان کے عموم پر رکھتے ہیں اور انہیں اہل السنۃ و الجماعۃ کی طرح ان کی شروط و لوازمات کے ساتھ مقید نہیں کرتے اور حقیقت توحید کو شہادتین کے نطق تک محدود سمجھتے اور اس فرق سے غافل رہے کہ اسلام جہنم سے نجات اس وقت دلاتا ہے اور شہادتین کا اقرار جان کو اس وقت محفوظ  بناتا ہے جب ان دونوں کے مدلولات بھی ثابت ہوں وگرنہ ایمان تو محض قول کا نام رہ گیا اور قول میں کمی زیادتی ممکن نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لئے ثابت ہو جاتا ہے جو شہادتین کا تلفظ کر لے۔اس طرح انہوں نے کلیات کو جزئیات پر دے مارا اور عمومات اور مطلقات کو مخصّصات اور مقیدات کے ساتھ مختلط کر دیا اور متشابہات کے پیچھے پڑ گئے جیسا کہ ہر دور میں اہل بدعت کا یہی طریقہ رہا ہے۔

الخوارج

اس فرقے نے سب سے پہلے امیر ا لمومنین علی بن ابی طالبؓ کے خلاف خروج کیا اور انہیں اس بناء پر کافر قرار دیا کہ انہوں نے مسئلہ تحکیم کو قبول کیا تھا ایسے ہی معاویہ بن ابی سفیانؓ کو علیؓ کے خلاف جنگ کرنے کی بناء پر کافر قرار دیا ان کا اپنا ایک عقیدہ تھا کہ معصیت کی بناء پر بھی مسلمان کی تکفیر جائز ہے اِلَّا یہ کہ وہ توبہ کر لیے اور اسلام میں معصیت کی گنجائش نہیں اور یا تو ایمان رہتا ہے یا کفر ان دونوں کے بیچ میں کوئی درجہ نہیں اس طرح انہوں نے پوری امت کی تکفیر کر دی اور مرجئہ کے مقابل جا کھڑے ہوئے۔اللہ ان سب کو ذلیل ورسوا کرے۔ان کے نزدیک ایمان قول و عمل دونوں کا نام ہے لیکن ہر قول اور ہر عمل اگر کوئی ایک قول یا عمل بھی رہ جائے تو ان کے نزدیک ایمان مکمل طور پر ساقط ہو جاتا ہے اس لحاظ سے یہ مرجئہ کی مانند ہی ہوئے ان کے نزدیک بھی ایمان میں نہ کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔مولف پہلے اسی مسئلے کو ذکر کر رہا ہے تاکہ سلفیت کے جھوٹے دعویداروں اور اہل السنۃ و الجماعۃ کے مابین اختلاف کی تحقیق کی جا سکے اس اختلاف کا تعلق دومسئلوں سے ہے :

1	ایمان کا صحیح مفہوم: ادعیاء السلفیہ یعنی سلفیت کے دعویداروں کے نزدیک ایمان صرف قول کا نام ہے جبکہ عمل کا تعلق کمالِ ایمان سے ہے(آگے چل کر ہم احناف اور سلفیت کے دعویداروں کے مابین ایمان سے متعلق اختلاف بھی پوری طرح واضح کریں گے)۔
2	لوگوں پر حکومت کرنے میں شریعت کو بالکل ترک کر دینا اور انہیں برین واش کرنا اور پٹیاں پڑھانا اور رب العالمین کے حکم کے برخلاف ان پر اپنے احکام مسلط کرنا اور انہیں ان کا پابند کرنا کیا یہ بھی دیگر معاصی کی طرح ایک معصیت ہی ہے جس کے مرتکب کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کیا جائے گا جیسا چور اور نشے باز کے ساتھ کیا جاتا ہے یا اس مسئلے کا تعلق توحید کی اصل بنیاد اور جوہر اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت سے ہے ؟یہ دوسرا مسئلہ پہلے مسئلے کی فرع ہے پھر بھی ہم اسے مستقلاً ذکر کریں گے کیونکہ یہی وہ مسئلہ ہے جس کے ذریعے ادعیاء السلفیہ یعنی سلفیت کے دعویدار ایک طرف تو نوجوانوں کی عقلوں میں اپنی علمیت کا رعب جھاڑتے ہیں تو دوسری طرف اس مخصوص طبقے میں اپنا اثر ورسوخ پیدا کرتے ہیں جن کے لئے اس مسئلے کی نشر  و اشاعت بڑی مفید اور اہمیت کی حامل ہے۔

چند ضروری مفاہیم

یہاں چند ایسے مسلمات کا ذکر ہے جن کی روشنی میں مولف اپنی آئندہ فصول میں چلے گا :
1	اگرکسی فرقے کے مخصوص نظریات سے متعلق کسی شخص کے اقوال مختلف طرح کے ہوں تو  اسے اس فرقے کا پیرو قرار دینا درست نہیں کیونکہ امام شاطبی کی اپنی تالیف ’’الاعتصام‘‘ میں ذکر کردہ ضابطے کے مطابق فرقہ وہ ہے کہ کسی بھی شخص کا قول اپنے فرقے کے اختلافی امور  سے قطع نظر اتفاقی امور سے مکمل طور پر متفق ہو۔
2	ضروری نہیں کہ اتباع سنت کا ہر دعویدار حقیقتاً ایسا ہی ہو کیونکہ ہر ایک ہی کتاب وسنت کی اتباع کا دعویدار ہے حتی کے روافض بھی اس کی کسوٹی اہل السنۃ و الجماعۃ کے نظر واستدلال  سے متعلق ضابطے ہیں چنانچہ صوفیہ اور اشاعرہ اہل السنۃ و الجماعۃ میں شامل نہیں ان کی مثال سلفیت کے دعویداران کی طرح ہے (اس بارے میں مختلف آراء ہیں کہ کیا اشاعرہ اہل السنۃ میں شامل ہیں یا نہیں ؟مولف کے نزدیک عام کے اعتبار سے یہ اہل السنۃ میں شامل ہیں خاص کے اعتبار سے نہیں ) 
3	شرعی رائے میں اختلاف یا تو بنیاد میں اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوئے جیسے ایمان کے فہم اور اس کے مرکبات میں اختلاف۔
4	مغرب میں موجود چھوٹی جماعتیں مشرق میں موجود اپنی بڑی جماعتوں کے تابع ہیں اسی بناء پر مولف صرف مغرب کی چھوٹی جماعتوں سے تعرض نہیں کرے گا بلکہ مشرق میں موجود ان کی اصل جماعتوں سے بھی تعرض کرے گا۔
5	وہ نئے مسلمان یا اسلام کی طرف منسوب افراد جو مغرب میں پیدا ہوئے وہ ابتداءً صوفیہ کے ماتحت رہے جو اسلام کو ان کے سامنے اس روحانیت کے متبادل کے طور پر پیش کرتے رہے  جو مغربی نصرانیت و مادیت میں مکمل طور پر موجود نہیں بس یہی وہ نکتہ ہے جس کے راستے وہ  نوجوانوں کی عقلوں میں اترتے ہیں جبکہ اسے شریعت اور اہل السنۃ و الجماعۃ کے نظر واستدلال کے قواعد کا علم بھی نہیں ہوتا اور اس کی فطرت صوفیہ کی بے عقلی کو تسلیم بھی نہیں کر پاتی خاص کر جب سلفیت کے جھوٹے دعویدار ان کے سامنے چند درست تعلیمات رکھتے ہیں مثلاً اجتہاد وہی کرسکتا ہے جو اس کا اہل ہو اس سے ان کی مراد اپنے بڑے ہوتے  ہیں اور یہ کہ کفر و بدعت کے الفاظ کو عام استعمال کرنے سے بچنا چاہیئے البتہ جب ان کے بڑے اپنے سے افضل و برتر علماء اسلام پر ان کا اطلاق کریں پھر ایسا کیا جا سکتا ہے۔

آخری بات

مولف کا کلام اس کتاب کی تالیف سے یہ مقصد نہیں کہ بعض اشخاص یا ناموں کے خلاف ایک محاذ قائم کیا جائے اگرچہ بعض مقامات پر فکر و نظر کے اختلاف کی بناء پر ایسا محسوس ہو گا پھر بھی اس کتاب کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اس فرقے کے انحرافات کا پردہ چاک کیا جائے جو نواجوانان امت کی عقل کو کھلونا سمجھتے ہیں اور انہیں ان کے حقیقی نصب العین جو اس امت کا اعزاز ہے سے دور کرنا چاہتے ہیں یعنی یہ کہ سیاست و اقتصادیات اور اجتماعیت و قوانین اور عرف ورسم رواج میں غرض ہر امر میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کیا جائے۔اور اسلامی نقشے اور موجودہ جماعتوں سے تعارف ہو جائے اور جو لوگ خود کو’’ سلفی ‘‘ باور کراتے ہیں ان کی درست نشان دہی ہو جائے اور ان دعویداروں کے بجائے جو اصل وفادار ہیں وہ معلوم ہو جائیں ان اغراض و مقاصد کے پیش نظر مولف نے آئندہ فصل میں کل آٹھ جماعتوں کی تقسیم کی ہے۔
اس تقسیم کی بنیاد مندرجہ ذیل نکات سے متعلق ہر جماعت کے مخصوص نظریات ہیں وہ نکات مندرجہ ذیل ہیں :
1	وہ حکومتیں جن کی بنیاد شریعت مخالف وضعی قوانین ہیں۔
2	ان قوانین کے ماتحت جمہوری اور مشترک سیاسی اور پارلیمانی زندگی کی شرعی حیثیت۔
3	اجتہاد، تقلید اور ان کی تعریفات کا مسئلہ۔
4	سید قطب شہیدؒ اور ان کی تصنیفات۔
مولف نے ان امور سے متعلق ہر جماعت کے نظریات کو حتی الامکان واضح کیا ہے (کتاب میں ان مختلف جماعتوں کے ہر نظریے کی الگ سے دلیل نہیں پیش کی گئی جبکہ کچھ وجوہات ہیں ایک وجہ یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں ان کے میلانات عام ہیں البتہ کسی اور کتاب میں یہ چیز بھی تفصیل سے مل جائے گی ان شاء اللہ)یہ بات بتانا ضروری ہے کہ کچھ لوگ جن کا نظریہ سب سے الگ ہے وہ بسا اوقات اپنے نظریے کے اعتبار سے ان جماعتوں میں سے کسی ایک میں از خود شامل ہو جائیں حالانکہ ان کے لئے اگر الگ تقسیم کی ضرورت ہے تو اس کوتاہی پر معذرت خواہ ہیں اور اللہ سے آسانی کے طالب ہیں نیت بہرحال احقاق حق اور ابطال باطل کی ہی ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ اس تقسیم کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس کے دائرے سے کسی بھی صورت میں باہر نہیں نکلا جا سکتا۔
٭٭٭



دوسری فصل

اہل السنۃ اور سلف صالحین کی طرف منسوب جماعتوں کی تعریف


اس فصل میں مولف نے ان جماعتوں کو مقدم ذکر کیا ہے جو بقول خود سلفیت یا اہل السنۃ کی طرف عام معنی کے اعتبار سے منسوب ہیں مولف کا مقصد یہ نہیں کہ اس بحث میں مذکور چند شخصیات کی ذاتی تفصیلات ذکر کی جائیں کیونکہ وہ لوگوں میں اپنے فضل یا بعض اوقات اپنی کسی غلطی کی بناء پر مشہور و معروف ہیں بہرحال ہم سب ہی بشر ہیں غلطی کرتے بھی اور نہیں بھی۔

1	الجامیہ المدخلیہ

اس جماعت کے سربراہ محمد بن ربیع المدخلی الیمنی (بہت سے اہل السنہ نے اس کے عقائد و اخلاق سے متعلق انحرافات کو بیان کیا ہے خاص کر جرح و تعدیل سے متعلق حقائق سے چشم پوشی کے بارے میں جو ہم بھی آگے چل کر بیان کریں گے اس نے اپنی ایک کتاب میں سید قطبؒ کے متعلق مبغضانہ اور مکروہ انداز اختیار کیا ہے جو ایسا مریض نفس ہی اختیار کرسکتا ہے جس کاسینہ اپنے سے افضل و برتر علماء کے متعلق بغض و عناد سے بھرا ہوشیخ امام بکر ابوزیدؒ اس پر ردّ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :جب میں نے اس کی کتاب کی فہرست کا مطالعہ کیا تو وہاں سید قطب سے متعلق بہت سے عنوانات قائم کئے گئے تھے مثلاً:کفر و الحاد اور زندقہ کے اصول، وحدت الوجود کا اثبات،خلق قرآن کا اثبات۔غیر اللہ کے لئے شریعت سازی جائز ہے،اللہ تعالیٰ کی صفات کی تعظیم میں اس (سید قطب شہیدؒ)کا غلو سے کام لینا،احادیث متواترہ ناقابل قبول ہیں ،عقیدے کے بعض یقینی امور میں اس کا شک کرنا،اس کا جماعتوں کو کافر  قرار دینا…ایسے ہی دیگر عنوانات جنہیں پڑھ سن کر مومنوں کے جسم کانپنے لگیں …عالم میں پھیلے ہوئے ان علمائے اسلام پر مجھے افسوس ہے جنہوں نے اس تباہ کن کتاب کا نوٹس نہیں لیا …اس مذموم جسارت اور اطراف عالم میں سورج کی روشنی کی طرح پھیلی ہوئی ان (سید قطبؒ)کی کتب کے مابین کیا تعلق ممکن ہے جب عوام الناس ان سے مستفید ہو رہے ہیں حتی کہ خود آپ (محمد ربیع المدخلی)بھی اپنی بعض تحریروں میں جب آپ نے اپنے عنوان اور موضوع میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے ان کی کتب کو اٹھایا تو یہ محسوس کر لیا  کہ یہ تو آپ کی تکذیب کرتی ہیں بالآخر صرف مشتعل عناوین پر ہی اکتفاء کیا جو سید قطبؒ کی شان میں عادی گستاخ قاری کو مزید جذباتی کر دیں۔میں اپنے لئے اور تمہارے لئے اور ہر مسلمان کے لئے اس گناہ و حرج کو ناپسند کرتا ہوں یہ بغض و عناد نیکیوں کو اس شخص کے کھاتے میں منتقل کر دیتے ہیں جس سے یہ بغض و عناد رکھا جائے۔میں نے یہ کتاب پڑھی تو اسے علمی اصولی مباحث،علمی میدانوں ،تنقید کے درست منہج، علمی اور حوالہ نقل کرنے کی دیانت اور قبول حق سے محروم پایا اور انداز بیان و اختلاف اور عمدہ اسلوب اس کتاب میں بہت ہی کم ہے اس کی دلیل یہ ہے (پھر تفصیل ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں )میں کہتا ہوں :اے محبوب آپ نے سیدؒتعالیٰ کے فیصلہ جات کو چھپانے کی ناکام کوشش کی ہے جو توحید کے اثرات،تقاضوں اور لوازمات سے متعلق ہیں جن کی روشن کرنیں ان کی زندگی میں ہی دیکھی جاتی رہی ہیں آپ کی ساری گفتگو ایک ہی جملے سے ردّ ہو جاتی ہے وہ یہ کہ حکومت اور قانون سازی میں اللہ کی توحید کلمہ توحید کے تقاضوں میں سے ایک ہے اور سیدؒ نے جب یہ دیکھا کہ کس قدر آزادی سے اللہ کے حکم اور قانون کو روند کر اس کے بدلے وضعی قوانین لائے جا رہے ہیں تو انہوں نے توحید کی اس نوع کو اپنی تمام تر سرگرمیوں کا مرکز  بنا لیا اور بلاشبہ 1342ھ سے قبل جب سے امت اپنے طویل دورانیے میں اس حقیقت سے آگاہ ہوئی ہے یہ ایک عظیم جرأت ہے۔
اس کتاب کے متعلق میرے تاثرات یہ درج ذیل ہیں :
1	یہ کتاب 161صفحات کے مخطوطے پر مشتمل ہے جس کے خطوط مختلف ہیں ایک ہاتھ کے نہیں اور میرے اندازے کے مطابق ایک صفحہ بھی آپ کے ہاتھ کا لکھا ہوا نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ آپ کا رسم الخط الگ ہو یا میں نہ جان سکا ہوں یا یہ آپ کی ماتحتی میں طلاب نے سید قطبؒ کی کتابیں کھنگال کر جو ملااسے جمع کر دیا یا خود آپ نے اسے ان سے املاء کروایا ہے لہٰذا میں اسے آپ کی تالیف نہیں سمجھتا تھا مگر جب اس کے ٹائٹل پر آپ نے اپنا نام لکھ دیا پھر میں اس کتاب کو آپ کی معزز شخصیت کی طرف منسوب کرنے میں حق بجانب ہوں۔
2	رسم الخط کے اختلاف کے باوجود کتاب شروع سے آخر تک ایک ہی انداز واسلوب پر ہے یعنی اشتعال انگیزی اور بسا اوقات اچانک موضوع بدل جاتا ہے جس کی وجہ سے متن میں بڑی غلطیاں پیدا ہو گئی ہیں کہ وہ جہاں احتمال و اشتباہ ہوتا ہے وہاں قطعیت نظر آتی ہے جو جدل سے مناسبت نہیں رکھتی اور یہ تنقید کے درست منہج اور علمیت کے خلاف ہے۔
3	الفاظ کے انتخاب کے اعتبار سے قاری جب اس کتاب اور سیدؒ کے انداز تحریر میں تقابل کرے گا تو لامحالہ سیدؒ کو بلند مقام پرفائز پائے گا اور اگر ہم اس کتاب کو آپ کی معزز شخصیت کی تحریر سمجھ لیں تب بھی اس کا انداز اس قدر ابتدائی ہے جو درجہ عالمیہ عالیہ میں پڑھنے والے طالب علم کے شایان شان نہیں ہوسکتا ادبی ذوق کے لئے کچھ صلاحیتیں ہونی چاہئیں اور بلاغت وبیان پر قدرت اور انداز میں حسن ہونا چاہیئے وگرنہ قلم توڑ دینا چاہیئے۔
4	مشتعل اور جارحانہ انداز علمی انداز تنقید کے خلاف ہے …اسی لئے احسن انداز میں ردّ اس کتاب میں مفقود ہے۔
5	کتاب شروع سے آخر تک تنگ نظری،گند،اور عبارات میں گالم گلوچ پر مشتمل ہے آخر اس کی کیا وجہ ہے۔
6	یہ کتاب ایک ایسی حزبیت کو جلا بخشے گی جو نوجوان نفوس میں پراگندہ افکار کو وجود بخشے جس کے سبب وہ کبھی تحریم کبھی نقض کے فتوے جھاڑیں اور کہیں کہ یہ بدعت وہ بدعت یہ گمراہ وہ گمراہ …اور وہ بھی دلیل کے بغیر اور پھر اس دھوکے میں مبتلا ہو جائیں کہ یہی دینداری ہے اور بہت بڑا کارنامہ ہے اور ایسا کرتے وقت ایسا محسوس کریں کہ انہوں نے اپنی پیٹھ سے ایک بھاری بوجھ اتار دیا ہے اس طرح امت کو تباہی سے دوچار کر دیں کچھ لوگ اسے دینی غیرت و حمیت سمجھیں گے جبکہ درحقیقت یہ تباہی ہے اس کی کتنی ہی اونچی بنیاد رکھ دی جائے بالآخر یہ گر کر رہے گی اور اب یہ تند و تیز ہواؤں کے دوش پر ہے۔
جہاں تک میں نے غور کیا تو اس کے مطابق یہ کتاب انہی بے فائدہ اور مضر امور سے اٹی پڑی ہے البتہ جواب میں تاخیر پر معذرت خواہ ہوں کیونکہ اس سے قبل میں اس شخص کی کتابیں نہیں پڑھتا تھا اگرچہ وہ لوگوں میں معروف ہیں لیکن جب سے آپ نے اس امر کا مجھ سے تذکرہ کیا میں نے اس کی کتب پڑھنا شروع کر دیں اور میں نے اس کی کتب میں خیر کثیر اور مضبوط ایمان اور واضح حق کو محسوس کیا اور تشریحات دیکھیں جو جو دشمنان اسلام کو رسوا کر کے رکھ دیں مگر دوسری طرف ایسی باتیں بھی دیکھیں جو اس کے قول حق سے ٹکرا رہی تھیں یہ شخص بڑا ہی ادیب اور نقاد تھا پھر کتاب وسنت کے ذریعے خدمت اور سیرت نبوی کی طرف متوجہ ہو گیا اپنے وقت میں اس کے جو نظریات تھے وہ تو تھے ہی پھر اللہ تعالیٰ کے راستے میں یہ اپنے موقف پر قائم رہا اور اپنی برگشتہ تحریروں سے رجوع کر لیا  اس سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ معذرت کے کلمات لکھ دیں تو اس نے ایک بڑی مشہور بات کہی کہ وہ انگلی جسے میں توحید کی گواہی کے لئے اٹھاتا ہوں اس سے ہرگز ایسا کلمہ نہیں لکھوں گا جو اس کے لئے مضر ہو۔لہٰذا اس کے لئے دعا مغفرت کرنا اور اس کے علم سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے)اور محمد امان الجامی الاثیوبی ہیں اور ان دونوں سے پہلے  مقبل بن ھادی الوادعی نے بھی اسی طرح کی تحریک کی بنیاد ڈالنا چاہی مگر اسے مقبولیت حاصل نہ ہوئی )(اگر ہم یہ کہتے تو زیادہ مناسب ہوتا کہ پوری طرح ناکام نہیں ہوئی)جو مقبولیت اسے مدخلی اور جامی کے ہاتھوں ملی اور اس جماعت کے حاشیہ برداروں میں حلبی اردنی اور محمد بناء المصری شامل ہیں۔شمالی امریکہ میں اس طرح کی کچھ اور جماعتیں بھی ہیں جن کا دائرہ اثر محدود ہے جیسے کنیڈا میں ’’جماعت القرآن والسنۃ‘‘ کچھ ایسی ویب سائٹس بھی ہیں جیسے ’’سحاب‘‘ عربی اور ’’ تروید‘‘ انگلش میں ہے۔

اس پہلی جماعت کے مرکزی نظریات

x	ایمان فقط قول کا نام ہے عمل کا نہیں البتہ عمل ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے رکن نہیں۔
x	اور حکم بغیر ماانزل اللہ یعنی اللہ کے نازل کردہ حکم کے بغیر حکم کرنا عمل سے متعلق ہے عقیدے سے نہیں لہٰذا یہ ایمان میں داخل نہیں (ابن تیمیہؒ کی تعبیر کے مطابق ایمان مجمل)لہٰذا یہ گناہ ہوا جیسے نشہ کرنا،ریشم پہننا۔
x	حاکم کا مسئلہ حکم سے متعلق کوئی بھی نظریہ ہو اور وہ شریعت کو کلی طور پر ردّ کر کے وضعی قوانین نافذ کر دے اور لوگوں کو ان کا پابند کر دے اور جو اس کی مخالفت کرے اسے قتل کر دے اور کتنے ہی عرصے تک ایسا کرتا رہے وہ امام،ولی الامر،واجب الاتباع ہی رہے گا اور جو اسے علانیہ طور پر وعظ و نصیحت کرے وہ خارجی،بدعتی اور ان لوگوں میں سے ہے جو معصیت کی بنا پر تکفیر کر دیتے ہیں۔
x	اللہ اور اس حاکم جو اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکومت کرتا ہو ان کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ یہ بھی ہے کہ جس جماعت کے پیروکار تبدیلی چاہتے ہوں یا حکومت سے کچھ خاص مطالبہ کرتے ہوں اور حکومت کو دین سے خارج یا بدعتی قرار دیتے ہوں ان کی شکایات لگائی جائیں اس طرح ان کے پیروکار باقاعدہ جاسوسی کی تربیت حاصل کرنے کے بعد سیکولر نظام حکومت کے لئے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف جاسوس بن گئے ہیں۔جاسوسی کرے اور اس کے لئے باقاعدہ ٹریننگ بھی حاصل کرے۔
x	کسی بھی صورت میں عوام کے لئے سیاسی امور میں مداخلت کرنا درست نہیں کیونکہ یہ صرف حاکم کے ساتھ خاص ہے مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ تدریس اور عبادت میں ہی مشغول رہیں اللہ کی شریعت کو حاکم بنانا اور اسے زمین پر نافذ کرنا یہ حاکم کی ذمہ داری ہے۔
x	اس سے ہم یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ جماعت جمہوریت کو نہیں مانتی کیونکہ اس میں حاکم کی مخالفت کی جا سکتی ہے البتہ جمہوریت کی حرمت میں دلائل موجود ہیں۔
x	اجتہاد و تقلید کے متعلق ان کا مذہب وہی ہے جو اہل السنۃ و الجماعۃ کا ہے کہ اجتہاد صرف وہی کرسکتا ہے جو اس کا اہل ہو البتہ جو ان کے منہج کو تسلیم نہیں کرتے ان علماء کو یہ اجتہاد کا اہل نہیں سمجھتے ہیں بلکہ ان علماء اور داعیان کو سننا تک جائز نہیں سمجھتے اور پہلی مخالفت میں ہی انہیں ردّ کر دیتے ہیں گویا امت اسلام اور حدیث رسول کا ان سے بڑھ کر کوئی خیر خواہ نہیں ہوسکتا اور علماء اور دعاۃ کے خلاف ایسے ایسے گندے اور تکلیف دہ الفاظ استعمال کرتے ہیں جنہیں کتاب وسنت ہرگز روا نہیں رکھ سکتیں (مثلاً شیخ صلاح الصاوی کا نام غاوی یعنی سرکش اور شیخ قرضاوی کا نام ’’الکلب العاوی‘‘ یعنی بھونکنے والا کتا رکھتے ہیں قرضاوی کے بے شمار فتاویٰ سے ہم بھی اختلاف رکھتے ہیں اور ان میں اسے حق بجانب نہیں سمجھتے لیکن جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا نام لیتا ہو اس کا نام کسی ذلیل جانور کے نام پر رکھنا ہر گز جائز نہیں ہوسکتا)اور اپنے پیروکاروں کے لئے بھی اس طرح کی زبان جائز قرار دیتے ہیں۔
x	اس جماعت کی سب سے منفرد خاصیت یہ ہے کہ یہ سید قطبؒ کو کافر اور بدعتی قرار دیتے ہیں بلکہ اس جماعت کے بڑے مدخلی جس نے اپنے پیرو کاروں کو سب و شتم سکھائی وہ تو ان کے بارے میں یہاں تک کہتا ہے کہ وہ اسلام کے لئے یہود و نصاریٰ سے زیادہ مضر ہیں پوری تاریخ اسلام میں ہمیں اس طرح کی بیمار ذہنیت کہیں نہیں ملتی سوائے مدخلی کے اسلاف تاج الدین السبکی اور اس کے بعد زاہد کوثری اور ابوغدہ کے یہ ابن تیمیہؒ کے متعلق اس طرح کی زبان درازی کرتے تھے اہل السنۃ میں سے ابن تیمیہؒ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہیں ان بدعتیوں کے سب و شتم اور ایذاؤں کا اس قدر سامنا کرنا پڑا۔
x	یہ ایک فکری نظم ہے جس میں جہاد کا عمل دخل نہیں نہ توکسی بیرونی حملے کے دفاع کی خاطر اور نہ ہی دعوت تبلیغ کے لئے۔ہمارے بیان کردہ یہ نکات اس جماعت کے نظریات کا اجمالی خاکہ ہے علاوہ ازیں یہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتے اور اپنی بدعات پر پردے ڈالتے اور اقوال اور احادیث میں ہیر پھیر سے کام لیتے اور ان کی باطل تاویلات کرتے ہیں جیسا کہ آگے وضاحت آ جائے گی ان شاء اللہ اور جیسا کہ واضح ہے ایک کا کوئی ایک متعین نظریہ نہیں ہے بلکہ حسب ضرورت ان کے نظریات بدلتے رہتے ہیں حاکم کے مسئلے میں مرجئہ بن جاتے ہیں اور ائمہ مسلمین اور داعیان اسلام کے مسئلے میں خوارج بن جاتے ہیں اپنے بودے محرف دلائل کے ذریعے ان کا درجہ گھٹاتے ہیں اور انہیں کافر و بدعتی قرار دے کر ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو اللہ کے دین اور اس کے احکام و قوانین سے دور نکل جائے۔ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔اور اپنے ہی پیروکاروں کی تربیت میں صوفیاء بن جاتے ہیں انہیں خوفزدہ کرتے ہیں کہ وہ کسی اور کی بات سنیں اور ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مشکوک بنا دیتے ہیں حتی کہ بڑے واضح اور کھلے امور میں بھی انہیں بالکل مفلوج کر دیتے ہیں چھٹی فصل میں ہم اس کے متعلق تفصیلی گفتگو کریں گے ان شاء اللہ۔اور لادین سیکولر طبقے کی طرح سیاست اور دین کو الگ الگ قرار دیکر ان کے ہم خیال بن جاتے ہیں۔اس خبط اور اختلاط سے بڑھ کر سنت سے دوری اور کیا ہوسکتی ہے ؟

2	البانیین

اسے شیخ محدث ناصر الدین البانیؒ کی طرف منسوب کرنا ہی مناسب ہے ان کے سوا کوئی اور ایسی شخصیت نظر میں نہیں جن کی طرف اسے منسوب کیا جائے۔مقبل الوادعی ان کے تلامذہ میں سے ہے اسے پہلی جماعت کی طرف منسوب کیا گیا ہے کچھ اور جماعتیں بھی ہیں جو البانی کی طرف منسوب ہوتی ہیں اور خود کو سلفی کہلاتی ہیں خواہ یہ سلفیت شرعی ہو یا بدعی جھوٹی۔ اس طریقے کے پیروکاروں کے بارے میں یہ کہنادرست ہو گا کہ یہ اس شبہے میں مبتلا ہیں جس میں کبھی مرجئہ مبتلا رہے کہ پختہ ارادہ اور قدرت تامہ وجود میں آئے جیسا کہ ابن تیمیہؒ نے ان کی تعریف کی اس طرح تعبیر کی ہے۔

اس جماعت کے مرکزی نظریات

x	اس جماعت کے پیروکار پہلی جماعت کی طرح اس بات سے متفق ہیں کہ عمل ایمان سے الگ ہے جیسا البانی نے اپنے بہت سے لیکچرز میں اس بات کی صراحت کی ہے ان احناف کی مانند جنہیں اہل السنۃ و الجماعۃ اس بناء پر ’’مرجئہ الفقہاء‘‘ قرار دیتے ہیں البتہ احناف نے شریعت کو حاکم ماننے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو رتبہ اعمال سے گرا دینے کے معتبر ہونے کے مسائل میں ان لوگوں کا مذہب اختیار نہیں کیا اور کہا کہ مسلمان اسلام سے اسی وقت خارج ہوتا ہے جب کفر کی صراحت کر دے اور کفر کی دلیل صرف کفر ہی ہوسکتا ہے۔
x	والی یعنی حاکم کی اتباع کے موضوع میں اس جماعت کے پیروکار البانی سے متفق ہیں کہ قول و فعل میں کسی بھی طرح اس کے خلاف خروج جائز نہیں ہے البتہ یہ پہلی جماعت سے اس اعتبار سے ممتاز ہیں کہ حاکم کو خیرخواہی اور اصلاح اور سنت سے موافقت کی نصیحت کرتے رہیں۔
x	پہلی جماعت سے یہ جماعت اس امر میں مختلف ہے کہ یہ علماء اور داعیان اسلام کے خلاف محاذ نہیں کھولتے بلکہ اختلاف و تنقید کے وہ اصول اختیار کرتے ہیں جو مقبول ہیں۔
x	سیاسی اور پارلیمانی عملی انتخابی زندگی اور جمہوریت کی دعوت کو جائز ودرست قرار دیتی ہے۔
x	اجتہاد و تقلید کے مسئلے میں یہ جماعت اہل السنۃ و الجماعۃ سے متفق ہیں۔
x	مسئلہ حاکمیت سے متعلق سید قطبؒ کی فکر اور صفات میں تاویل سے متعلق بعض امور میں اختلاف رکھتی ہے البتہ سید قطبؒ کی اس طرح مذمت نہیں کرتی جس طرح مدخلی اور اس کے پیروکار کرتے ہیں۔
x	نظریاتی طور پر جہاد کو تسلیم کرتی ہیں البتہ عملی جہاد کے اعتبارسے یہ پہلی جماعت سے قریب تر معلوم ہوتی ہے۔

3	اکیڈمک سلفی 

(میں نے انٹرنیٹ کی ایک ویب سائٹ پر ایک شخص کو دیکھا جو اس جماعت کی طرف منسوب افراد کی دعوت کو علمی سلفیت سے تعبیر کر رہا تھا میں اس سائٹ کو دوبارہ ملاحظہ نہیں کرسکا مگر جو اسے تلاش کرنا چاہے وہ اسے بطور حوالہ تلاش نہ کرے)یہ جماعت مسئلہ ایمان میں سابقہ دونوں جماعتوں سے منفرد ہے اب جتنی جماعتوں کا تذکرہ ہو گاان کے نزدیک ایمان قول و عمل کا نام ہے جو گھٹتا بھی ہے انہیں اکیڈمک سلفی اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ دیگر کی طرح صرف نظریات نہیں رکھتے بلکہ عمل بھی کرتے ہیں۔ان میں عبدالرحمان عبدالخالق،عبدالرزاق الشادیجی اور حامد العلی وغیرہ شامل ہیں۔مصر میں موجود جمعیۃ انصار السنۃ بھی عام طور پر ان کی طرف منسو ب کی جاتی ہے۔

اس جماعت کے مرکزی نظریات

 یہ نظم و ضبط اور افکار و آراء کی تحدید و تعیین میں سابقہ دونوں جماعتوں سے آگے ہیں ایسے ہی موجودہ سیاست اور اس کے نقوش سے بھی یہ ان کی بنسبت زیادہ واقف ہیں۔
x	اس امر یعنی ’’اللہ کے نازل کردہ حکم کے بجائے متبادل اور وضعی قوانین کے ذریعے حکومت کرنے والا ‘‘ میں ان کا نظریہ بھی وہی ہے جو سابقہ دو جماعتوں کا ہے یعنی یہ معصیت ہے البتہ اسے وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ کرنا واجب ہے تاکہ اپنی اصلاح کرسکے ان میں سے بعض اس امر کو کفر اکبر قرار دیتے ہیں جو دین سے خارج کر دے لیکن اس دور کی نئی صورتحال میں عملی اقدام سے گریز کرتے ہیں۔
x	موجودہ عملی سیاست میں شرکت کو مصالح مرسلہ کی قبیل سے قرار دیتے ہیں تاکہ لوگوں کے لئے بھلائیاں حاصل کی جائیں اور ان سے نقصانات کو دور کیا جائے۔
x	اجتہاد اور تقلید کے متعلق اہل السنہ کی رائے سے متفق ہیں کہ جو اداوات اجتہاد سے پوری طرح واقف نہ ہو اس کے لئے دین میں فتویٰ دینا جائز نہیں ہے مگر اپنے مخالفین کے فتاویٰ و اقوال کو ردّ کر دیتے ہیں۔
x	سید قطبؒ اور ان کتب کا احترام کرتے ہیں البتہ اسماء و صفات میں دور حاضر کو دور جاہلیت قرار دینے کے مسائل میں ان مخالفت کرتے ہیں۔
x	کہتے ہیں کہ جہاد روز قیامت تک جاری رہے گا مگر یہ غور و فکر اور نظریہ کے دائرے سے خارج نہیں ہے۔

4	سنی سلفیہ کے مشائخ

مثلاً فضیلۃ الشیخ الجلیل عبدالعزیز بن باز اور الشیخ المحدث صالح العثیمین اور ان جیسے دیگر مشائخ۔

اس چوتھی جماعت کے مرکزی نظریات

x	یہ جماعت توحید کے فہم دقیق اور سلف صالحین کی حسن اتباع کے ساتھ ممتاز ہے۔
x	مگر یہ موجودہ حالات اور ان کی وجوہات سے مکمل طور پر واقف نہیں ہے حتی کہ بعض بزرگ ہستیاں ان کے متعلق اس طرح کے کلمات ادا کرتے ہیں جو وہم میں ڈال دیں اور انہیں کوئی ایسا بیمار ذہن ہی استعمال کرسکتا ہے جو اپنی بدعت کو رواج دینا چاہتا ہو جبکہ یہ ہستیاں بدعت سے بیزار ہیں۔
x	یہ اپنے اقوال میں اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے بغیر حکم دینا یا قانون بنانا یا اختیار کرنا کفر ہے ملت سے خروج ہے اور اپنے فتاویٰ میں سلف صالحین کے نافرمان حکام جو غیر اللہ کے قانون کو نہیں مانتے تھے کے متعلق بعض مخصوص اقوال نقل کرتے ہیں یہ اس وقت کی بات ہے جب کچھ نوجوانوں نے ان سے خلیج کی بعض حکومتوں کے حق میں فتویٰ طلب کیا جو اب تک شریعت کے مطابق حکومت کی دعویدار ہیں اگرچہ ان کی قانونی خلاف ورزیاں بہت بڑھی ہوئی ہیں (ان ممالک کے علاوہ کسی اور ملک کے باشندے اس بارے میں خاموش رہتے ہیں البتہ اہل مکہ اس سے پوری طرح واقف ہیں )۔
x	اجتہاد و تقلید کی تعریفات میں اہل السنہ کے تابع ہیں۔
x	ان میں سے بعض سے اس قسم کے اقوال ملتے ہیں جن سے سید قطبؒ کی مخالفت ہوتی ہے اور ان کی شان گھٹتی ہے لیکن حقیقت پسند اس قسم کے اقوال کے بارے میں بخوبی جانتا ہے کہ یہ سید قطبؒ کی بعض لغزشوں کی وجہ سے ہیں یا اس طرح کے اقوال ان سے اس وقت صادر ہوئے جب ایک خاص ٹولے نے سید قطب کے بعض اقوال ان کے سامنے توڑ مروڑ کر رکھے اور ان کے متعلق سوال کیا تو ان اقوال کے تعاقب میں یہ اقوال صادر ہوئے جیسے شیخ بن بازؒ کے ساتھ ایسا کیا گیا اور پھر یہ بات  پورے عالم میں پھیلا دی گئی کہ شیخ بن باز سید قطبؒ کو بدعتی قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ دھوکہ اور جہالت اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔
x	مغربی جمہوریت کو تسلیم نہیں کرتے جو اکثریت پر فیصلے کرتی ہے اگرچہ یہ اکثریت اللہ کے حکم کے خلاف ہو۔
x	ان کے نزدیک جہاد روز قیامت تک فرض ہے اگرچہ ان کے خیال میں موجودہ دور میں کوئی بھی اسے صحیح طور پر نہیں کر رہا۔

5	سلفی اخوان المسلمین

جیسے شیخ عمرالاشقر،شیخ عصام البشیر،شیخ عبدالمجید الزندانی اور شیخ محمد سرو زین العابدین اور ان کے دیگر رفقاء وغیرہ۔

اس پانچویں جماعت کے مرکزی نظریات 

یہ سابقہ جماعت جیسے نظریات کی حامل ہے البتہ جمہوریت کے مسئلے میں اخوان المسلمین کے حامی ہیں جو جمہوریت اور سیاسی اتحاد کے بہت بڑے داعی ہیں اگرچہ ان کی یہ تحریک گذشتہ صدی کے تین چوتھائی عرصے میں بھی کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ہم ان سلفیوں کو عملی سیاست میں بہت آگے سمجھتے ہیں البتہ توحید اور بدعت سے متعلق فہم میں مقلد اخوانیوں سے بہت دور ہیں۔

6	سلفی اہل السنۃ والجماعۃ

اس جماعت کو سلفی اور اہل السنۃ و الجماعۃ کے الفاظ کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جماعت سلفیت اور اہل السنۃ و الجماعۃ دونوں صفات کے حامل ہیں اس طرح کے موجودہ حالات میں اصل سلفی اور عقیدے کی پختگی میں اہل السنۃ و الجماعۃ درحقیقت یہی ہیں ان افراد کو اس جماعت کے تحت درج کرنا ہی مناسب ہے اگرچہ بہت سے امور میں اتفاق ہے کہ قاری انہیں ایک ہی جماعت تصور کرتا ہے ایسے بہت سے امور میں یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں کہ قاری کچھ اور سوچنے لگتا ہے لیکن ہمارے بیان کردہ نقاط کے مطابق یہ سب اس جماعت کے تحت مندرج ہونے کے اہل ہیں۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت ومدد سے جنت کے باغوں میں جمع کر دے۔

اس جماعت کے مرکزی نظریات 

تنظیموں سے دور رہتے ہیں اور اسلامی ماحول کے بارے میں عقائد اور کتب عام کرتے ہیں اور موجودہ حالات سے مکمل واقفیت رکھتے ہیں۔
x	اسلامی اتحاد کو ہی مسلمانوں کی تمام تر مشکلات ختم کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
x	البتہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکومت کرنے والوں کے متعلق ان کی آراء مبنی بر احتیاط ہیں اور ان میں ان حکام تکفیر کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔
x	مصلحت کے پیش نظر سیاسی عمل کو چند پہلوؤں تک محدود کرنے کو جائز نہیں سمجھتے بلکہ ان میں سے بعض نے ان نظاموں کے ماتحت رہ کر جو شریعت کے بغیر حکم کو قبول کرتے ہیں ایک سیاسی جماعت تشکیل دینے کی کوشش کی جس کا مقصد مسلمانوں کے گرد کھینچے گئے حصار کو ختم کرنا تھا۔ایسے ہی ان میں سے بعض باضابطہ طور پر اس سیاسی عمل کو قبول کرتے ہیں اور اس کا اعلان بھی کرتے ہیں اور بسا اوقات ان حالات میں سیاسی عمل کو دہشت گردی اور مطلق العنانی قرار دیتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔
x	اجتہاد و تقلید کی تعریفات میں اہل السنۃ و الجماعۃ سے متفق ہیں۔
x	سید قطبؒ کا احترام اور ان کی قدر کرتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ و ہ ایک بشر ہی تھے ان میں غلطی کا امکان ہے چنانچہ صفات سے متعلق بعض مسائل میں ان کے نظریات کو سنت کے مخالف قرار دیتے ہیں۔
x	جہاد کو درست مانتے ہیں اگرچہ موجودہ حالات میں مسلمان اس پر قادر نہیں ہیں۔

7	درمیانے اہل السنۃ والجماعۃ

یہ اہل السنۃ و الجماعۃ کے منہج سے سب سے زیادہ قریب ہیں اور سلف کے طریق پر کاربند ہیں اگرچہ بشری تقاضوں سے کچھ غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں۔ان محدثین میں محترم استاذ محمد قطب اللہ ان کی زندگی میں برکت دے،استاذ عبدالمجید الشاذلی اللہ ان کی زندگی میں برکت دے،استاذ غازی التوبۃ،محترم علامہ محمود شاکرؒ،امام محدث احمد شاکرؒ،محترم امام محمد بن ابراہیم سابق مفتی اعظم سعودیہ،محترم امام عبدالرحمن الدوسریؒ،علامہ مودودیؒ وغیرہم ایسے دیگر محدثین و علماء کرام جو اہل السنہ کی شکل میں ماضی میں بھی تھے اور مستقبل میں بھی رہیں گے اور یہی سواد اعظم ہیں اگرچہ اکثریت میں باطل پرست ہیں۔

اس جماعت کے مرکزی نظریات

x	توحید الوہیت،ربوبیت اور اسماء وٖصفات میں ان کی آراء بڑی واضح ہیں جن پر کوئی غبار یا مطابقت کا ڈھونگ نہیں ہے۔اللہ ہی حاکم ہے اس کے سوا کوئی حاکم نہیں اس کی مخالفت کفر اکبر ہے جو دین سے خارج کر دیتا ہے اس میں اختلاف نہیں اور یہ جائز نہیں کہ کوئی حاکم اللہ کی شریعت کے مقابل کسی اور قانون کو نافذ کرے اور لوگوں کو اس کا پابند بنائے زندگی کے تمام پہلوؤں میں جسے بعض لوگ جو مرجئہ کے شبہات میں پڑے ہیں اور ناقابل قبول اختلاطات سے کام لیتے ہیں وہ اسے جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
x	یہ جماعت اس بات پر متفق ہے کہ جو حکومتیں اللہ کے نازل کردہ کے بغیر اپنے بنائے ہوئے قوانین سے حکومت کرتی ہیں وہ جاہلانہ اور شریعت اسلامیہ اور دین سے خارج ہیں البتہ ان کی اکثریت اس طرح کی حکومتوں کی نشان دہی اور تخصیص کر کے ان پر علی الاعلان یہ حکم نہیں لگاتی۔
x	اس طرح کی حکومتوں کے ماتحت جو نظام قائم ہیں ان کی مسلمانوں کی سرزمین پر کوئی گنجائش نہیں اور یہ مسلمانوں پر اپنے حسب طاقت تمام وسائل بروئے کار لا کر ان نظاموں کو تبدیل کرنا واجب ہے۔
x	ولاء یعنی دوستی کا مفہوم ان کے نزدیک کتاب وسنت کے مطابق ہے کہ ولاء یعنی دوستی کا جذبہ یہ صرف مومنوں اور مسلمانوں کے مابین محصور البتہ کفار کے ساتھ زندگی گزارنے اور ان کے ساتھ نرم برتاؤ کرنے اور ان کے کمزوروں کی مدد کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ وہ مسلمانوں کے خلاف مصروف جنگ نہ ہوں۔
x	دیگر جماعتیں جو توحید میں ناقص ہیں اور مرجئہ کے پیش کردہ شبہات کی بناء پر اللہ کی حاکمیت کو توحید میں شامل نہیں سمجھتیں حالانکہ اس بارے میں کوئی ایک صحیح دلیل ثابت نہیں ہوسکی ان جماعتوں کو یہ جماعت دعوت دیتی ہے کہ ان نظریات کو ترک کر دیں اور ان کے مخالفین جو انہیں خوارج،تکفیری،متشدد وغیرہ قرار دیتے ہیں انہیں بھی یہ دعوت دیتے ہیں کہ ان نظریات کو تر ک کر دیں کیونکہ ان اوصاف کی صحت پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔
x	اس جماعت کے مفکرین اہل السنۃ و الجماعۃ کے مذاہب میں بڑی گہری نظر رکھتے ہیں اور ان سے نتائج نکالتے ہیں۔
x	سیاسی اور پارلیمانی انتخاب کے عمل کی شرعی اعتبار سے مخالفت کرتے ہیں اور اسے توحید کے منافی قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والا حکومتی نظام مسلمانوں کو اس قابل نہیں چھوڑتا کہ وہ اسلام کے متعلق آزاد فیصلے کرسکیں یا اسے ترجیح ہی دے سکیں چنانچہ اس بے فائدہ عمل میں وقت اور محنت برباد ہو گا کیونکہ یہ حکومت صرف موجودہ سیاسی عمل کو ہی قانون مانتی ہے۔
x	یہ جہاد کو اس کی دونوں صورتوں میں دفاعی اور اقدامی کے ساتھ درست مانتے ہیں البتہ دعوتِ اتباع کو ہی بہتر اور امت کے لئے کم نقصان دہ راستہ قرار دیتے ہیں اِلَّا یہ کہ دعوت سے کام نہ بن پائے یا دشمن مسلمانوں کی سرزمین پر حملے کر کے تباہی مچانے لگے۔

8	مجاہدین اہل السنۃ والجماعۃ

نظریات میں جماعت سابقہ جماعت سے متفق ہے البتہ موجودہ صور ت میں یہ مسلح جدوجہد اور عملی جہاد کے اعتبار سے ان سے ممتاز ہیں ان کا نظریہ یہ ہے کہ یہ سیکولر حکومتیں ہیں اور سیکولر اور مغربی حکمرانوں کے دوست ہیں دین کو برضا و خوشی چھوڑ کر صہیونی اور صلیبی ٹولے میں شمار ہو چکے ہیں تاکہ دنیاوی مال و جاہ اور اقتدار حاصل کرسکیں اور یہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات کی تبدیلی میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے کسی تاخیر کے بغیر مسلمانوں پر اسلحہ اٹھانا واجب ہے۔اور جو لوگ اس منہج کی مخالفت کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر حالات کی نزاکت اور حقیقت سے واقف نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ دشمن کے لئے یہ کہاں مضبوط اور کہاں کمزور ہیں ،جبکہ دشمن مسلمانوں کو مختلف جنگوں اور معرکوں میں الجھا کر ان کی قوت کو کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ یہ آئندہ حالات کے لئے خود کو تیار نہ رکھ سکیں۔
اس فصل کے اختتام پر ہم ایک بار پھر تاکید کر دیں کہ ہماری یہ تقسیم اس کتاب تک محدود ہے اس سے باہر کا اعتبار نہیں ایسے ہی یہ تقسیم کوئی کلی ضابطہ نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ بعض شخصیات جنہیں مختلف جماعتوں میں تقسیم کیا گیا ہے انہیں دیگر مختلف نظریات کی بناء پر کسی اور جماعت میں شامل کرنا چاہیئے تھا البتہ مختلف جماعتوں اور نظریات کے ظاہر سے ہر محقق شخص اسی نتیجے پر پہنچے گا اس تقسیم کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اہل السنہ سے سلفیت کے دعویداروں کو الگ کیا جائے کیونکہ گزشتہ کلام سے یہ بات واضح ہے یہ اسلامی صورتحال میں متاثر کن نہیں ہیں اور ان کے حجم سے زیادہ ماننا بھی ضروری نہیں ہے بلکہ یہ تو ہوا کا ایک جھونکا ہیں جو آتے رہتے ہیں اور ناکام و نا مراد لوٹ جاتے ہیں یا امت کے جسم میں ایک بخار ہے جس سے عنقریب اس کی جان چھوٹنے والی ہے {فَاَمَّاَالزَّبَدُ فَیِذْھَبُ جُفَآءً وَاَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ}یعنی :جھاگ تو ناکام و نا مراد بیٹھ ہی جاتا ہے لیکن لوگوں کے لئے نفع بخش زمین پر ہی  باقی رہتے ہیں۔
آئندہ فصل میں ہم ان شاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ جامیہ مدخلیہ کے پیرو سلفیت کے دعویداران کے بنیادی نظریات کا محاسبہ کریں گے آئندہ فصول میں مذکور ان کی جعلسازیوں کی تمہید کے طور پر۔
٭٭٭



تیسری فصل

سلفیت کے دعویدار خوارج اور صوفیہ کے درمیان ہیں 

سابقہ دو فصلوں میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ کس طرح سلفیت کے ان دعویداروں نے خود کو سلف کا جانشین باور کرانا شروع کیا ہم اس میں حق یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی فرد یا جماعت سلف کی جانشینی کا دعویٰ کرے یا خود کو سلفی کہلانا شروع کر دے اس کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ اعتبار اس بات کا ہے کہ وہ جماعت درج ذیل امور قبول کرتی ہے یا نہیں :
1	وہ جماعت ’’اہل السنۃ و الجماعۃ ‘‘ کے ہاں مقبول اصول فقہ،قواعد لغت اور اصول تفسیر سے قولاً و عملاً متفق ہو۔
2	ان کے پیش کردہ ادلہ دعویٰ کے مطابق ہوں ان میں تحریف اور پیر پھیر نہ ہو اور اہل السنہ کے نزدیک معتبر ہوں کہ نص معنی کا احتمال رکھتا ہو اور محل قبول کرتا ہو۔
3	ان کے اقوال معتبر متقدمین اور متاخرین علماء کے اقوال کو فروغ دیتے ہوں البتہ جس عالم کی بدعت معروف ہو اس کے قول کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہیئے خاص کر وہ اقوال جو اس کی بدعت یا سنت سے انحراف کے متعلق ہوں مثلاً جو عالم صفات میں تاویل کا قائل ہو اگرچہ دیگر امور میں صحیح ہواس کے قول کو دلیل بنانا درست نہیں ہے۔
4	علماء اصول کے بیان کردہ مقاصد شریعت سے متفق ہوں۔
5	یہ جماعت اپنی کلیات و جزئیات سب میں ادلہ شرعیہ کو ایسی کلی مانتی ہو جو اجزاء میں منقسم نہیں ہوتی جیسا کہ امام شاطبیؒ نے کتاب الاعتصام میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اہل السنۃ و الجماعۃ کا یہی موقف ہے کیونکہ ادلہ کو جزئی بنانا یا کلیات کو جزئیات کے مطابق بنانا یا جزئیات کو کلیات سے ٹکرانا اہل بدعت کا طریقہ ہے جو وہ اپنی بدعت کو ثابت کرنے کے لئے اختیار کرتے ہیں۔ (الموافقات)
یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب اس معاملے کا تعلق توحید سے ہے تو اس میں اختلاف کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی جیسا کہ فقہی اختلاف میں ہوتا ہے کیونکہ توحید روز اول سے ہی انسان کی طرف اللہ کا ایسا پیغام ہے جس میں تغیر و تبدل یا کمی یا زیادتی نہیں ہوئی ہر نبی کی یہی دعوت تھی کہ:
 {أَنِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرُہُ}
یعنی کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے دلوں کو سمجھادیں کہ توحید میں تقلید کی گنجائش نہیں ہے البتہ فروعات میں چند شروط کے ساتھ تقلید جائز ہے کیونکہ یہ فروعات قطعی نہیں ہوتیں اور بسا اوقات قطعی دلائل پر مبنی نہیں ہوتیں (بشرطیکہ ہم اجمال،عموم،اطلاق وغیرہ ظنیات کو معتبر مانیں جو مخصصات،مقیدات اور مبنیات کی محتاج ہوتی ہیں تاکہ ظنیت رفع ہوسکے۔جیسا کہ اصول فقہ میں واضح ہے )اور یہ بھی اس شخص کے لئے جائز ہے جو اتباع کا طریق اختیار کرے نہ کہ جمود،تعصب اور جہالت کا جیساکہ علم الاصول سے ثابت ہے۔
ہم قاری کو یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ فتویٰ کی دو بنیادیں ہوتی ہیں :
1	حکم شرعی
2	صورت حال (وجہ،بنیاد)
اس کی مثال یہ ہے کہ جب سائل کسی مفتی شرعی کے پاس کسی پی جا سکنے والی شئے کا پیالہ لے کر جائے تاکہ وہ اس شئے کی حلت و حرمت کی وضاحت کرسکے تو اگر مفتی یہ کہے کہ شراب حرام ہے تو اس نے حکم شرعی کا ذکر کیا نہ کہ شرعی فتویٰ پھر مفتی پر لازم ہے کہ وہ شئے کو لیبارٹری میں بھیجے تاکہ اس میں موجود نشئی مادہ کی تصدیق کرسکے پھر اگر یہ شئے ایسی ہو کہ عام عادت سے زیادہ استعمال کرنے پر نشہ کرتی ہو تو اس بناء پر اور حکم شرعی کی بناء پر اس شئے کی صورت حال کی بناء پر مفتی کے لئے یہ ممکن ہوسکے گا کہ وہ شئے کی حلت یا حرمت کا تعیین کرے۔

الجامیہ المدخلیہ

دوسری فصل میں ہم سلفیت کی طرف خود کو منسوب کرنے والی (خواہ وہ نسبت حق ہو یا باطل )جماعتوں اور مشہور شخصیات کا تذکرہ کر آئے ہیں جن میں ایک جماعت یہ بھی ہے جو کتاب وسنت کی اتباع اور مذہب صحابہ و تابعین کا دعویٰ کرتی ہے اور نظر واستدلال میں انہی کی پیروی کرتی ہے۔یہ جماعت یعنی جامیہ مدخلیہ اور اس کے برابر والی جماعت جو اس سے ذرا کم خطرناک ہے یعنی البانیین یہ دونوں آٹھ جماعتوں میں شامل ہیں اور اس کتاب کا اصل موضوع ہیں خاص کہ پہلی جماعت کہ اس کے اصول بڑے سنگین ہیں اور وہ انہیں سلفیت کا لبادہ اوڑھانا چاہتے ہیں حالانکہ یہ بودے اور قلیل الاتباع ہیں۔
یہ بات ہم ایک پھر دہرا دیں کہ اس عمل کے ذریعے ہم ایک جماعت کو دوسری پر خواہش یا تعصب کی وجہ سے فضیلت نہیں دیں گے بلکہ قاری پر چھوڑ دیں گے کہ وہ دین اور عقل کے اصولوں اور ہدایات کی روشنی میں ایک رائے اختیار کرسکے۔
یہ جماعت بھی جامیہ مدخلیہ جس منہج پر ہے اپنے پیروکاروں کی تربیت کرتی ہے اور عالم اسلام سے متعلق جو صورت حال پیش کرتی ہے وہ انتہائی سنگین ہے کہ نوجوانوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے انہیں نفسیاتی شکست دی جاتی ہے حالات کی سنگینی اس سے چھپائی جاتی ہے اور انہیں ظلم پر راضی رہنے والا اور سہولت پسند بنایا جاتا ہے۔ان دعاوی پر ہم ان کے ایسے دلائل پیش کرتے ہیں جن سے صرف دشمنان اسلام ہی فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور جو ایک طرف صوفیہ تو دوسری طرف سیکولر افراد کے مطابق ہیں۔

بنیادی اصول

1	ایمان توحید کی معرفت اور رسول اللہﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق کا نام ہے یہ ایمان کے لئے شرط صحت ہیں اور اعمال شرط کمال ہیں۔
2	اس بنیاد پر کفر صرف استحلال یا تکذیب یا اعتقاد کے ذریعے ہی ممکن ہے عمل کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور کسی عمل کی بناء پر کسی شخص کو اسی وقت کافر قرار دیا جائے گا جب اس کا وہ عمل عدم اعتقاد یا کفریہ اعتقاد کے ساتھ مربوط ہو مرجئہ کا بھی ابتداء سے یہی نظریہ ہے۔
3	اس کے برعکس اس طرف منسوب اکثریت ان اقوال سے لاتعلق ہے ان کے عقائد کا ماحصل وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے(اس بارے میں خالد العنبری کی کتاب ’’الحکم بغیر ماانزل اﷲ واصول التکفیر‘‘ کے سیاہ اور اق اور ’’لجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء‘‘ کا شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد آل شیخ اور شیخ صالح الفوزان اور عبداللہ بن عبداللہ العدیان کی رکنیت میں جاری کردہ بیان ملاحظہ ہو جس میں انہوں نے لکھا کہ یہ کتاب ’’علماء اہل السنۃ و الجماعۃ سے نقل کردہ اقوال میں امانت علمی سے خالی ہے‘‘ اور انہوں نے اس کی نشر و اشاعت پر پابندی لگا دی ہے ایسے ہی بندر بن نایف العتیبی کی کتاب ’’الحکم بغیر ماانزل اللہ‘‘ کے سیاہ اور اق ملاحظہ ہوں ہم نے اپنی اسی کتاب کے دوسرے حصے میں اس کا ردّ کیا ہے )
4	جو یہ بات کہتا ہو کہ بعض اعمال کا ارتکاب کفر ہے اگرچہ اس کا تعلق اعتقاد سے نہ ہو تو وہ خارجی ہے۔
5	سورۃ المائدہ کی آیت مذکور میں کفر سے کفر اصغر مراد ہے جیسا کہ ابن عباس کہتے ہیں کہ کفر دون کفر۔
6	اس بناء پر تمام مسلمان سرزمینوں کے حکام اور حکومتیں مسلمان ہیں اور ان کا نظام اسلامی ہے چنانچہ وہ شرعی امیر ہوئے۔
7	اسی بناء پر اور ان احادیث کی بناء پر جو امراء کی اتباع کو فرض قرار دیتی ہیں اگرچہ وہ کیسی ہی نافرمانی کریں ان کے خلاف خروج بلکہ احادیث کی رو سے ان کے خلاف تنقید کرنا بھی غیر شرعی ہے۔
8	اس تصور کی بناء پر اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکومت کرنے کا موضوع بلکہ اللہ کی عام اطاعت ان کا تعلق توحیدسے نہیں ہے بلکہ واجبات سے ہے جنہیں کلی طور پر ترک کر دینا بلکہ اللہ کے بغیر مطلق قانون سازی کرنا اور لوگوں کو ایسے حکام کا پابند و تابع بنانا معاصی اور نافرمانی ہے جس کے مرتکب کی بخشش اس کی نیکیوں و گناہوں کو مٹانے والے دیگر امور کے ذریعے ہو جاتی ہے۔(ملاحظہ ہو عنبری کی کتاب کا صفحہ نمبر 35)
9	جو حکام کی سیاست اور دیگر امور میں دخل اندازی کرے وہ سیاسی اسلام رائج کرنے والا ہے۔
0	چنانچہ مسلمان کا یہ کام نہیں کہ وہ سیاست سے متعلق گفتگو کرے بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ یہ معاملہ شرعی امراء کے سپرد کر دے اور ان معاہدات کا احترام کرے جو وہ مغربی ممالک کے ساتھ کریں اور ان ممالک کے سیاسی امور پر تنقید نہ کرے اگرچہ وہ مسلمانوں کی جان،مال،عزت کو مباح قرار دیں کیونکہ ہمارے حکام ہمارے مصالح کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں چنانچہ ہم پران کی سمع و طاعت واجب ہے خواہ دل سے ہو یا بادل نخواستہ اگرچہ وہ ہماری پیٹھ پر ماریں اور ہمارے اموال چھین لیں۔
یہ پر فریب بدعت کس طرح خوشنما دکھتی ہے اور کس کے سہارے قائم ہے؟ان لوگوں نے استدلال کا ایک نیا انداز اختیار کیا ہے جو عام آدمی کو اسی طرف لے جاتا ہے جس طرف وہ جانا چاہتے ہوں جیسا کہ درج ذیل ہے:
1	اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{فَسْئَلُوْآ اَہْلَالذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ۔(النحل:۴۳)}
اگر تمہیں علم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھ لیا کرو۔
اس آیت کی رو سے مسلمان پر اہل علم کی طرف اپنے بھلے پرے کی معرفت کے لئے رجوع کرنا واجب ہے ایسے ہی توحید اور اس کے لوازم و قواعد کی معرفت کے لئے تاکہ ان لوگوں کی شرکیات میں واقع نہ ہو جنہیں علم نہیں۔
2	وہ اصحاب علم جن کی بات پر خاموش ہو جانا اور ان کی رائے پر توجہ دینا واجب ہے وہ ہیں جو ان کے معتبر ترین ائمہ ثلاثہ یعنی ’’البانی‘‘،ابن بازؒ،عثیمینؒ کے درس و آراء اور علم حدیث کی تحقیق کرتے ہوں (اللہ گواہ ہے کہ امام ابن بازؒ اور امام عثیمینؒ ان کے خبط اور اندھے پن سے لاتعلق ہیں )اور افضل وہ ہے جو حرمین کے جامعات سے فارغ التحصیل ہو اور البانی ؒ کا بلاواسطہ یا بالواسطہ شاگرد ہو اگرچہ کچھ ہی عرصے کے لئے رہا ہو(ان کے شمالی امریکی اور یورپی غیر عربی مسلمان پیروکاروں کی نسبت سے ایک مفید بات یہ بھی ہے کہ ان کا عالم بڑے بڑے لمبے چوغوں اور قباؤں سے آراستہ ہوتا ہے۔و لاحول ولاقوۃ الاباللہ)
3	جدید مرجئہ کے ذریعے یہ لوگ علماء کو غالباً لاعلم نوجوانوں کے ذریعے نقصان پہنچاتے ہیں یہ پہلے سے پالش شدہ اور تیار عقلوں کو لیتے ہیں پھر انہیں یہ وہم دیتے ہیں کہ اصل علم علم حدیث اور علم رجال ہے اور جو ان دونوں میدانوں میں محقق ہو وہ واجب الاتباع ہے تاکہ ہم اتباع سنت میں مضبوط ہوسکیں اور تابعدار کو کچھ سوچنے سمجھنے کی زحمت نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ وہ حدیث کے مراتب اور صحت و ضعف اور سند میں عالی نازل وغیرہ احادیث کی اصطلاحات کا علم نہیں رکھتا ان کے ذریعے یہ وہم پیدا کرتے ہیں کہ جس کی وہ اتباع کر رہا ہے وہ بلند مرتبے پر فائز ہے اس طرح ایک اعتبار سے اسے اپنے متبوع کے مقابلے میں گمراہ قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف جو اس منہج کا پیرو نہ ہو اس کے مقابلے میں اسے فائق اور افضل قرار دیتے ہیں۔
4	مخالف علماء کے اقوال کو رد کرنے کے لئے یہ علم جرح و تعدیل کا سہارا لیتے ہیں کتنے ہی علماء اور ائمہ کو گرے پڑے ناموں اور برے القابات سے پکارتے ہیں اور اپنے مقلد پیروکاروں میں اپنا پر فریب سامان عام کر کے انہیں مبارک باد دیتے ہیں کہ اس دور میں وہ ہی علم جرح و تعدیل کے حامل ہیں اور علی بن مدینی،یحییٰ بن معین،یحییٰ بن سعید القطان کے حقیقی وارث ہیں اس سارے عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ نوجوان علماء سے کتراتے ہیں اور علمی تحقیق کے بجائے اپنی ذاتی تحقیق کو بہتر سمجھتے ہیں اور علماء کے مقابل خود کو بہتر سمجھتے ہیں لیکن اس طرح کہ وہ عالم کو خوب چبائے یا اس کا مرتبہ گھٹائے تاکہ عالم اسے یہ مبارک دے کہ وہ بھی علماء کے برابر ہے دھوکے اور فریب میں مبتلاء یہ نوجوان صرف اپنے مشائخ کو معتبر جانتا ہے۔
5	اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اپنے نزدیک مسترد علماء کی فہرستیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں اپنے پیروکاروں میں تقسیم کرتے ہیں اور انہیں ان کی کتب پڑھنے سے روکتے ہیں ایسے ان کے اپنے نزدیک کچھ معتبر علماء کی فہرستیں بنا رکھی ہیں جو عقیدے اور حدیث میں ان کی ارجائیت اور اختلاطات و انحرافات سے متفق ہوں۔
6	ان لوگوں کی جرأت یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ یہ اپنے پیروکاروں کے لئے مسلمانوں کی جاسوسی اور انہیں گورنمنٹ کے حوالے کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں جیسا کہ ان کے ایک حقیر شخص علی بن حسن الحلبی نے اس بارے میں باقاعدہ فتویٰ جاری کیا ہے(چند اہل السنۃ و الجماعۃ نے ان مرجئہ کا بھرپور تعاقب کیا ہے اور ان کی نقاب کشائی کی ہے مثلاً ڈاکٹر ابورحیم نے اپنی کتاب ’’تحذیر الامۃ من تعلیقات الحلبی علی الاقوال الائمۃ‘‘ اور ’’الکشف المثالی عن سرقات سلیم الھلالی‘‘ ایسے ہی دیگر علمائے امت نے حلبی مرجئہ کا فاسد عقیدہ پوری طرح واضح کیا ہے اسے ہم فائدے کی غرض سے مکمل طور پر درج کر رہے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان، فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ الراجحی،فضیلۃ الشیخ سعد بن عبداللہ بن عبدالعزیز آل حمید کی تقدیمات اور شیخ محمد سالم الدوسری کی تالیف۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للّٰہ و الصلاۃ والسلام علی رسول اﷲ وعلیٰ آلہ وصحبہ من والاہ وبعد،
مرجئہ کے عنوان پر اللجنۃ الدائمہ کے پیش کردہ فتویٰ پر شیخ علی بن حسن الحلبی کے اعتراضات پر شیخ محمد بن سالم الدوسری کا ردّ ملاحظہ کیا جس کے متعلق کہوں گا:
Î	 شیخ محمد نے بہترین رد کیا ہے اور جن اہل علم کے اقوال پر اس کا اعتماد تھا ان کے جو اقوال اس نے نقل نہیں کئے ان کا بھی احاطہ کیا ہے اور جہاں تک اللجنۃ الدائمہ کے فتویٰ کو مشکوک قرار دینے والی بات ہے تو اس کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ فتویٰ تمام ارکان کے اتفاق اور ان کے دستخطوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔
2	شیخ علی حسن اور اس کے دیگر ہم خیال پریہ لازم ہے کہ وہ خود کو مسئلہ ایمان میں سلف کی طرف منسوب کرتے ہیں تو اس مسئلے میں سلف کی کتب پر اعتماد کریں یہی کافی ہے جدید کتب جو ذہنوں کو منتشر کرتی ہیں ان کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہیں تو لیا بھی جا سکتا ہے اور ردّ بھی کیا جا سکتا ہے خاص کر اس عظیم مسئلے میں تو جو فتنہ سوچکا ہو اسے جگانا تاکہ شرپسند اس کے ذریعے اہل السنہ کے مابین فساد کو ہوا دیں کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔
3	شیخ علی حسن پریہ بھی لازم ہے کہ وہ جب اہل علم کے اقوال نقل کریں تو مکمل طور پر نقل کریں ایسا نہ کریں کہ قول کا شروع حصہ نقل کر دیا اور آخر چھوڑدیا اس سے اس عالم کا مقصود پوری طرح سامنے نہیں آسکتا اور یہ اس پر افتراء متصور ہو گا بلکہ کسی بھی عالم کے قول کو نقل کرتے وقت اس کی تمام کتب کو ملاحظہ کرنا چاہیئے تاکہ اس کی اصل مراد سامنے آسکے اور اسے اس کے دیگر اقوال سے بھی تائید مل جائے۔
آخر میں ہر ایک کے لئے علم نافع اور عمل صالح کی دعا کرتا ہوں وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ۔
کتبہ صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان۔
٭	بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمد ﷲ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین نبینا محمد وعلی آلہ و صحبہ والتابعین۔امابعد،
شیخ محمد سالم الدوسری کی تحریر المسمیٰ ’’رفع اللائمۃ عن فتویٰ اللجنۃ الدائمۃ‘‘ کامطالعہ کیا اللہ انہیں توفیق دے اس کا عنوان شیخ علی حسن عبدالحمید مرجئہ کے متعلق لجنۃ الدائمہ کے فتویٰ پر اپنی کتاب ’’صیحۃ نذیر‘‘ اور ’’‘التحذیر من فتنۃ التکفیر‘‘ میں کئے جانے والے اعتراضات پر ردّ ہے لجنۃ دائمہ نے ان دونوں کتب میں موجو مسئلہ ایمان اور تکفیر سے متعلق غلطیوں اور اہل علم کے اقوال نقل کرنے سے متعلق ہیرا پھیرا کا اجمالی جواب دے دیا ہے اس نے ایسا اس لئے کیا تاکہ اپنے نظریے کے مطابق صرف ایمان کو دل اور کفر کو استحلال،تکذیب اور اعتقاد کے ساتھ مقید کر دے شیخ محمد الدوسری نے علی حسن عبدالحمید کی غلطیوں کا تعاقب کیا ہے اور مسئلہ ایمان و کفر کے متعلق اہل السنۃ و الجماعۃ کے موقف کو اچھی طرح واضح کیا ہے کہ ایمان دل،زبان اور جوارح یعنی اعضاء بدنیہ سے متعلق ہے اور کفر قول،فعل، اعتقاد اور شک ہر ایک کے ذریعے ممکن ہے شیخ علی حسن عبدالحمید نے علماء کے اقوال کو کاٹ پیٹ کر نقل کرنے کے بعد ان سے مرجئہ کا مذہب ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ ایمان اور کفر دونوں کا تعلق صرف دل سے ہے یہ مذہب باطل ہے کتاب وسنت کے نصوص اور ائمہ و اہل علم کے اقوال کے خلاف ہے۔علی حسن عبدالحمید پر اب لازم ہے کہ حق کو قبول کرے اور ایک اور کتاب لکھ کر اپنے اہل السنۃ و الجماعۃ کے موقف کی طرف رجوع کی وضاحت کرتے یہ افضل ہے(حق کہو خواہ اپنی ذات کے خلاف ہو خواہ کڑوا ہو)باطل میں رہنے سے حق قبول کرنا بہتر ہے متقدمین و متاخرین علماء کا یہ طرز عمل رہا ہے کہ وہ فوراً حق قبول کرتے تھے یہی ان کی سیرتوں کا اعجاز ہے عمر بن خطابؓ نے ابوموسیٰ اشعریؓ  کو جو خط لکھا تھا اس میں فرمایا کہ :’’تم جو فیصلہ صادر کر چکے ہو پھر تم اس میں اپنی رائے تبدیل کر لیتے ہو اور صحیح موقف جان لیتے ہو تو وہ فیصلہ تمہیں حق کی طرف رجوع کرنے سے نہ روکے کیونکہ حق تو ہمیشہ سے ہے اسے کوئی چیز باطل نہ کرسکی باطل میں رہنے سے حق اختیار کر لینا زیادہ بہتر ہے‘‘۔اگر علی حسن عبدالحمید مسئلہ ایمان و کفر میں اہل السنۃ و الجماعۃ کے مذہب کہ یہ دونوں اعتقاد،قول اور فعل سے متعلق ہیں کی طرف رجوع کر لیتے ہیں تو یہ ان کی فضیلت،علمیت،اللہ کے خوف،قبول حق کی دلیل اور ائمہ و علماء کی اقتداء ہو گی اور ان کے اس رجوع سے فتنہ ارجاء کی بیخ کنی ہو جائے گی کہ جس کے ضرر کو لے کر انہوں نے اسے نوجوانوں کے درمیان پھیلا دیا اور ان کی اکثریت کے ذہنوں میں انتشار اور ان کے عقائد میں شبہات پیدا کر دیئے میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ بھائی علی حسن عبدالحمید کو حق کی طرف رجوع،قبولیت حق کی توفیق دے اور اللہ نے انہیں جس صفات و بلاغت اور موثر انداز تحریر سے نوازا ہے اس کے ذریعے انہیں مسئلہ ایمان و کفر میں اہل السنۃ و الجماعۃ کے عقیدے کی نشر و اشاعت کی توفیق عطاء فرمائے اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ بھائی محمد بن سالم الدوسری کو توفیق واستقامت عطا فرمائے اور ان کی اس کتاب کو نافع بنائے ایسے ہی ان کی دیگر کتب اور ردود کو اور اسے مبارک بنائے اور اس مسئلے میں لوگوں کے ذہن میں جو کر چکے ہیں انہیں زائل فرمائے۔اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ میرے طلباء علم و دین بھائیوں کو علم نافع اور عمل صالح اور استقامت اور دین،ایمان،اسلام کو چھوٹے بڑے تمام مسائل میں اہل السنۃ و الجماعۃ کے موقف کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو اسلام پر موت دے وہ اس قادر ہے۔وصلی اللّٰہ وبارک علی عبداللہ ورسولہ محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ بأحسان الی یوم الدین۔
قالہ وکتبہ: عبدالعزیز بن عبداللّٰہ الراجحی(صدر مدرس جامعۃ امام محمد بن سعود الاسلامیہ)۔ 1422/5/20ہجری۔
٭	بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمد ﷲ وکفی وصلوات اﷲ وسلامہ علی عبدہ المصطفیٰ نبینا محمد و علیٰ آلہ وصحبہ اھل الوفاء اما بعد،
اللہ لجنۃ الدائمہ کو مزید توفیق و ہدایت سے نوازے اس نے علی بن حسن بن عبدالحمید الحلبی کی کتب ’’التحذیر من فتنۃ التکفیر‘‘ اور ’’صیحۃ نذیر‘‘ کی مذمت میں مورخہ 1421/6/14ھ کو ایک فتویٰ جاری کیا جس کا نمبر 21517ہے اس فتوے میں مختصر طور پر مذکورہ کتب میں موجود اغلاط کی نشان دہی کی گئی ہے اور تفصیل سے اس لئے احتراز کیا گیا کہ یہ فتویٰ ہے مفصل ردّ نہیں۔مناسب یہی تھا کہ حق کو اچھی طرح واضح کیا جاتا جیسا کہ اس نے باطل کو واضح کیا ہے وہ جانتا ہے کہ جن حضرات نے یہ فتویٰ جاری کیا ہے وہ بزرگان اس سے بڑھ کر علم والے، عمر رسیدہ،اور عقیدے کو جاننے والے ہیں اگر انہوں نے اس کے بارے میں کچھ لکھ دیا ہے تو اسے ان کا شکرگزار ہونا چاہیئے اور ان کے حق میں دعا کرنی چاہیئے اور ان اغلاط سے رجوع کا اعلان کر دینا چاہیئے تاکہ فتنے کی بیخ کنی ہو کیونکہ یہ موقف چھوٹے بڑے سب پر بڑا شاق ہے لیکن بجائے ماننے کے الٹا مخالفت کرنے لگا اور لجنۃ دائمہ پر ردّ کرنے لگا اور اپنی غلطیوں کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینے لگا اور اپنی دونوں کتابوں میں موجود عبارات وغیرہ کے انجام سے منکر ہونے لگا۔یہ فلاں کا کلام ہے اس میں میرا معمولی ساکلام بھی نہیں ،میری دونوں کتابوں میں اس مسئلے پر بالکل بحث نہیں ہے،کو نسی بات قابل اعتراض و تنقید ہے؟!،کہاں حصر ہے؟! کیا قابل تنقید ہے؟! کہاں ہے حصر اور کیسے ہے ؟! کہاں ہے تحریف؟! ان نصوص سے کیا سمجھ میں آتا ہے اور میری ان کتابوں میں موجود تعلیق میں شیخ الاسلام پر کہاں جھوٹ بولا گیا ہے یہ تو صرف ان کے اقوال کا اختصار ہے اور ان کے اصولوں کا انضباط ہے ؟! کہاں ہے افتراء اور جرح جو جرح کہلائی جا سکے ؟! اگر وہاں کوئی مناقشہ یا مواخذہ ہے تو انہی کے خلاف ہوا نہ کہ ناقل کے ؟! درحقیقت یہ میرا کلام ہے ہی نہیں ؟! کہاں ہے تعلیق کہاں ہے تحمیل،کہاں ہے سہولت پسندی کہاں ہے ہلکا پن ؟! …اس میں اسی طرح جھوٹ سے مزین عبارات ہیں جن کے آخر میں سوالیہ نشانات ہیں عجیب بات یہ ہے کہ وہ اپنی کتابوں کو اس طرح کی علامات سے بھر دیتا ہے یہ اس کے نزدیک علم ہیں میں نے کسی اور مولف کو یہ علامات اس قدر استعمال کرتے نہیں دیکھا یہ علامات مولفین اور محققین اشتعال دلانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ حقیقت سے ناواقف جو شخص اس کے اس ردّ کو پڑھے گا وہ اس کے اس انداز ردّ اور لفاظی،ملمع سازی سے دھوکہ کھا کر لجنہ کے فتویٰ کی صداقت کے متعلق شکوک کا شکار ہو جائے گا اور لجنہ کو ہی جھوٹا ظالم اور قصور وار قرار دے گا اور وہ بھی اپنی اس کتاب سے یہی تاثر دیتا ہے کہ ’’ہم نے کسی قابل ذکر شخصیت سے سنا ہے کہ فتویٰ لجنہ کے کسی ایک رکن نے جاری کیا اور بقیہ ارکان نے جانے دیکھے بنا ہی اس کی تصدیق کر دی‘‘ آپ اس کے مددگاروں اور ہم خیالوں سے دور رہیں بعض بزرگان دین اور اس شہر کے بعض اہل علم کے نزدیک یہ معاملہ اہم ہے !جب لوگ اپنے علماء کے متعلق اس حد تک عدم اعتماد کا شکار ہو جائیں گے پھر کس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟! اگر کوئی منصف مزاج اس فساد میں معمولی سا بھی غور کر لیے تونفس پرستی سے باز آ جائے اور اگر وہ پھر بھی خود کو حق پر سمجھتا رہے تو پھر اجتماعی مصلحت کے پیش نظر انفرادی مصلحت کو رد ّکر دیا جاتا ہے اور ہمارے فاضل بھائی شیخ محمد سالم الدوسری dکا یہ رسالہ ’’رفع الائمۃ عن فتویٰ اللجنۃ الدائمۃ‘‘ جھوٹی چمک دمک کا پول کھولنے اور اصل حقیقت واضح کرنے میں موثر ترین ہے خاص کر اس شخص کے لئے جو علی حسن کے متعلق حسن ظن رکھتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ لجنہ نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے اور اس کی کتاب سے متاثر ہو بطور مثال اس نے بعض ائمہ کے اقوال کاٹ پیٹ کر نقل کرنے کے بعد یہ دھوکہ دینا چاہا کہ کفر اعتقاد میں منحصر ہے تورسالہ مذکور اس کی ان حرکات کی نشاندہی کر کے ان کا ردّ کرتا ہے جس میں اس نے صرف اپنے مطلب کی عبارت پر تعلیق لکھی اور باقی عبارت کو ہضم کر گیا ایسے ہی ہر وہ کلمہ یا عبارت جس میں اعتقاد یا جحود وغیرہ کا ذکر ہو ان سے عموماً یہ استدلال کرنے کی کوشش کی کہ کفر صرف جحود یا ا عتقاد کے ذریعے ہی ممکن ہے اور پھر اسے بعض ائمہ کی طرف منسوب کرنے کی کوشش کی جب عمل کا تذکرہ آتا ہے تو اسے موٹے اور جلی حروف میں لکھتا ہے ایسا ائمہ کی ان عبارتوں میں کرتا ہے جن میں وہ عمل،اعتقاد اور جحود کے ذریعے کفر کے متعلق بحث کر رہے ہوں قاری اس کے اس انداز تحریر سے متاثر ہو جاتا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس نے صرف امام کے اقوال کو نقل کیا ہے اس میں خود اس کا کوئی قول نہیں ہے اگر یہی بات ہے تو ائمہ کے اقوال کی من و عن اسی طرح نقل کیوں نہیں کرتا اور مکمل کیوں نقل نہیں کرتا کاٹ پیٹ کیوں کرتا ہے ؟عبدالرحمن مہدیؒ فرماتے ہیں :’’اہل السنۃ ہر بات لکھتے ہیں جو ان کے حق میں ہو یا ان کی مخالفت میں جبکہ بندگان خواہش صرف اپنے مطلب کی بات لکھتے ہیں ‘‘۔علی الحلبی کی مسئلہ ایمان میں اہل السنۃ و الجماعۃ کی مخالفت اس وقت سے ہی معروف ہے جب اس نے مراد شکری کی کتاب ’’احکام التقریر لاحکام مسئلۃ التکفیر‘‘ کی طبع و نشر  و اشاعت کی بھرپور کوششیں کیں اگرچہ اس نے لجنۃ الدائمہ کی طرف سے اس کی مذمت میں فیصلہ آ جانے کے بعد اس الزام سے بچنے کی کوشش بھی کی اور اس وقت میں نے بھی دوستوں کی ایک مجلس میں جو اس سے اس کی کتاب کی وضاحت چاہ رہے اس پر واضح کیا کہ وہ اس کی کتاب میں مذکور مسائل کے متعلق اپنی رائے واضح کرے اور لوگوں کو دھوکہ دینا چھوڑ دے اس نے وعدہ کیا مگر وفا نہ کیا۔
عزیز قاری میں آپ کے اور اس رسالے کے درمیان حائل نہیں ہونا چاہوں گا جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ لجنۃ الدائمہ نے اپنے فتوے میں حلبی کی کتاب میں موجود مواد کے متعلق ہی گفتگو کی ہے جو سمجھ گیا وہ سمجھ گیا اور جو ناواقف رہا وہ ناواقف رہا۔
واﷲ الموفق والھادی الی سواء السبیل، وصلی اﷲ علی نبینا محمد۔
کتبہ : سعد بن عبداﷲ بن عبدالعزیز آل حمید
اور اس میں جو مسلمانوں کے مابین ’’عقیدہ الولاء‘‘ کی مخالفت اور مکروہ جرأت  اور مسلمانوں کے مابین دوستی کے رشتے کو ناپید کرنے کی سازش ہے وہ مخفی نہیں۔ان کے اس فہم کی بنیاد سورۃ النحل کی یہ آیت:
{فَسْئَلُوْآ اَہْلَالذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ(النحل:۴۳)}
یعنی اگر تمہیں علم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھ لو۔
ہے ان کی منطق یہ ہے کہ جس شخص کے پاس علم شرعی نہ ہو تو وہ عوام الناس میں سے ہوا لہٰذا اس پر فرض ہے ان اہل علم سے اپنا مذہب معلوم کر لیے جو مدخلی کے طرز پر علم حدیث کے محقق ہوں۔انہیں اس بات کا شعور نہیں کہ انہوں نے اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے میں غلطی کی ہے کیونکہ اس آیت میں لفظ ’’اِنْ‘‘ (اگر)کی شرط ہے جو یہ وضاحت کرتی ہے کہ اس سے وہ علم مراد ہے جس کا حاصل کرنا مسلمان پر پہلے ہی واجب ہے اس سے بھی پہلے کہ وہ کسی کی تقلید کرے پھر اگر اس کا علم اس کے متبوع کے علم کی مانند نہ ہو تو اس پر یہ واجب ہے کہ علم حاصل کرے اور کسی کی صرف اس دعویٰ کی بناء پر اندھی تقلید نہ کرے کہ وہ ’’اہل الحدیث‘‘ یعنی حدیث کا عالم ہے سلفیت کے دعویداروں اور ان کے مقلدین نے اس اصطلاح کو ایک نیا معنی دیا ہے۔
7	یہ بات ذکر کرنا ضروری ہے کہ یہ فرقہ بدعتی فرقوں سے بہت مشابہ ہے بلکہ اس میں ان کے تمام اوصاف جمع ہیں اس بات کی تائید کے لئے چند نکات درج ذیل ہیں :
1	اپنے پیروکاروں اور مریدوں کی تربیت میں یہ صوفیہ سے مشابہ ہیں اس طرح کہ صوفیہ جیسے شیخ اور ولی کہتے ہیں مدخلی اسے امام اور شیخ کہتے ہیں جس کی وہ بلاسوچے سمجھے اتباع کئے جاتے ہیں اور وہ انہیں اپنے مفروضہ ائمہ اور اپنے ہم خیال علماء کے علاوہ کسی کی بھی کتب پڑھنے سے روکتے ہیں جیسا کہ صوفیہ اپنے اصول ’’جس نے اعراض کیا وہ الگ ہو گیا‘‘ کے مطابق اپنے پیروکاروں کو اپنے شیخ کے طریقے کا پابند قرار دیتے ہیں۔
2	دین کو سیاست سے لاتعلق کرنے میں یہ سیکولر افراد کی طرح ہیں اپنے پیروکاروں کو یہی جھانسہ دیتے ہیں کہ سیاست کو با اختیار امراء تک محدود کرنا واجب ہے اور تابعداروں کے لئے ان سے اختلاف کرنا یا ان پر تنقید یا ردّ کرنا قطعاً جائز نہیں (حلبی نے اپنے ایک قول میں مغربی نتائج کے بائیکاٹ کے متعلق گفتگو کی ہے اس معاملے کی طرف کسی بھی عربی حکومت نے اپنی جماعتوں کو دعوت دینے کی جرأت  نہیں کی حلبی نے ہی یہ عذر تراشا ہے کہ عوام الناس مصلحت اور مفسدہ کے مفہوم کو نہیں جانتے وہ جانوروں کی مانند ہیں اگر معاملے کا تعلق سیاست سے تو کہتا ہے ’’پہلا نقطہ یہ ہے کہ ہم پر واجب ہے کہ ہم سیاسی بنیاد پر کئے جانے والے بائیکاٹ اور عقیدے اور دین کی بنیاد پر کئے جانے والے بائیکاٹ میں فرق کریں سیاسی بائیکاٹ سیاستدانوں کا کام ہے کیونکہ سیاسی معاملہ دشمنان دین کے ہاتھ میں ہے جسے وہ اٹھاتے جھکاتے رہتے ہیں اللہ ہی ان کو گھیرے گا تو سیاسی بائیکاٹ کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد مصالح ومفاسد ہیں اور یہ امراء کی ذمے داری ہے جو مسائل سے خوب واقف ہوتے ہیں جبکہ عوام الناس اس بارے میں کچھ نہیں جانتے نہ زیادہ نہ کم‘‘ لاحول ولاقوۃ الاباﷲ
3	یہ ان خوارج کے مانند بھی ہیں جنہوں نے اہل السنۃ کے خلاف تلواریں بے نیام کیں اور کفار و منافقین کی حمایت کی جیسا کہ معلوم ہے یہ لوگ بھی داعیان حق کو کافر،ملحد،بدعتی،گئے گزرے لوگ اور نہ جانے کیا کیا قرار دیتے ہیں اور یہ حرام قرار دیتے ہیں کہ کسی حاکم کا ذکر برائی کے ساتھ کیا جائے یا اس پر کسی بھی طرح تنقید کی جائے اگرچہ وہ اللہ کے قوانین کے بدلے اس کے مخالف قوانین بنا کر لوگوں کو اس کا پابند کر دے جو اس کے مطابق چلے اسے انعام اور جو مخالفت کرے اسے قتل کر دے یہ محض تنگ نظری اور ناقص مذہب ہے جس کے ذریعے وہ کلام اللہ کی مخالفت حقیقتاً بلا اختلاف جائز سمجھتے ہیں۔

کڑوا پھل

اس طریق کار کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے ہاتھوں ایک ایسی نسل نے جنم لیا جن کی فکر ناقص اور دل منحرف ہیں جو سنت کے دیگر متبعین کی قوت کو بھی گناہوں ،نافرمانیوں اور کفر بواح کی جھاگ کے اس سیلابی ریلے میں داخل کر کے کمزور کر رہے ہیں اور ان چھوٹے بڑے مرجئہ کے ساتھ ٹکرانے کے ان کے عزم کو توڑ رہے ہیں چہ جائیکہ وہ اللہ کی دین کی نشر و اشاعت کا عزم کریں اور توحید کی اصل حقیقت اور دین خالص پر مسلمانوں کی تربیت کریں اس مدخلی نسل کی چند صفات درج ذیل ہیں :
1	صوفیانہ تربیت پر اعتماد اور ولی اور مرشد کی تقلید پر اعتماد کر کے تربیت دینے کی بناء پر یہ کسی بھی موضوع پر مستقل غور و فکر نہیں کرسکتے۔
2	یہ حق اور باطل میں فرق نہیں کرسکتے کیونکہ فطرت سلیمہ سے ہٹ چکے ہیں اور ان نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بیج بو دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مشائخ کے فیصلہ جات سے بندھے رہیں انہوں نے ان کی عقلوں کو معطل کر دیا اور انہیں بدل کر صوفی اور مقلد بنا دیا۔
3	ایک مستقل احساس کے غیر کی پیروی کرنی ہے اسی کا سہارا لینا ہے اور وہ عقل جسے استعمال کرنے کی طرف اللہ نے متوجہ کیا اور مسلمانوں کو ’’اولی الالباب‘‘ عقلمند اور ’’ذی حجر‘‘،’’عقل والے ‘‘ اور جو اللہ کے کلام کو نہ سمجھ سکیں انہیں افلایعقلون یعنی بے عقل قرار دیا اس عقل کو استعمال نہیں کرنا ان لوگوں نے اپنی اس مدخلی نسل کے نزدیک عقل کی اہمیت کو ختم کر کے انہیں کسی دلیل  و حجت کے بغیر ہی مشائخ کے اقوال کا غلام بنا دیا اور مخالف قول کی طرف متوجہ ہونے سے بھی منع کر دیا۔
4	اطراف عالم میں مسلمانوں کی مشکلات کے احساس کو ختم کر دینا چھین لینا کیونکہ ان مشکلات کا حل توسیاسی عمل سے ممکن ہے جو انہوں نے امراء اور حکام کے ساتھ خاص کر دیا ان پر یہ واجب نہیں کہ اطراف عالم میں جو مسلمانوں کو قتل کریں یا سرزمین اسلام کو صبح و شام روندتے رہیں خواہ فلسطین ہو یاافغانستان،صومال ہو یا عراق اور مغربی مسلمان دار فور سوڈان میں اور اطراف عالم کے وہ تمام مقامات جہاں داعیان حق سرگرم ہیں ان سے کچھ بھی تعرض کریں گویا وہ حدیث جس میں رسولﷺ نے فرمایا تھا کہ :
اذا اشتکی منہ عفو تداعت لی 		سائر الاعضاء بالسھر والحمی۔
یعنی جب کوئی ایک عضو تکلیف میں ہو تو سارا جسم بیدار اور بخار زدہ رہتا ہے۔
یہ حدیث ان سنتوں میں سے نہیں جن کے مطابق مسلمان اپنی سیرتیں بناتے ہیں یہ بات بڑی واضح ہے کہ یہ سمت مسلمانوں کے مابین دوستی کے منافی ہے اور شارع کی اس دعوت کے خلاف ہے جس میں مومنوں سے دوستی اور ان کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی طرف دعوت ہے لیکن یہ مدخلی لوگ ان شرعی مقاصد کو قائم نہیں کرسکتے ان کی محدود نظر چند نصوص شرعیہ تک محدود ہے جن سے وہ کوئی نتیجہ نہیں نکالتے جس کی روشنی میں وہ اس ولاء (دوستی )کو کلی طور پر ردّ کر دیں۔
5	یہ مدخلی نسل شریعت اسلامیہ سے خارج حکومت کو راہیں اور وسائل مہیا کرتی ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں لگی رہے اور اللہ کے احکامات اور قوانین کی جگہ وضعی قوانین پر عمل پیرا رہے جب وہ حکومت میں ہیں تو وہی حاکم ہوئے اور جب وہ حاکم ہوئے تو ان کی اطاعت بھی واجب ہوئی خواہ اللہ کے قانون کے مقابل قانون بنائیں خواہ ظلم،نافرمانی،چوری کریں لوٹ مچائیں۔
6	یہ سرگرمیاں جو علم الرجال یا علم الجرح والتعدیل کے نام پر کی جاتی ہیں (جن سے درحقیقت ان کا کوئی تعلق نہیں ہے)ان سرگرمیوں نے اس مدخلی نسل کو ایسا بنا دیا ہے کہ وہ علماء کے ساتھ ذلت اور تحقیر آمیز رویے اختیار کرتے ہیں البتہ ان کے اپنے شیوخ اس سے مستثنیٰ ہیں اور داعیان حق کو بڑی دیدہ دلیری سے گالیاں دیتے ہیں خود کو ان سے برتر سمجھتے ہیں شاید اسی لئے اپنے مخالفین کو گالیاں دینا ان کے لئے معمولی کام ہے گالی دینے والا جسے گالی دے لامحالہ خود کو اس سے برتر ہی سمجھتا ہے اگر کوئی لاشعور بچہ گالی دے تو اس کے پاس علم نہیں ہوتا لیکن عالم جس نے اپنی زندگی دعوت و علم میں گزار دی وہ تو شعور و تجربہ رکھتا ہے اسی بناء پر تو عالم کے منصب پر فائز ہوتا ہے کیا وہ جرح و تعدیل نہیں کرتا ؟کیا وہ یحییٰ بن معین اور ابن قطان کا وارث نہیں ؟کیااسے اس کے مشائخ نہیں اکساتے کہ وہ سید قطبؒ اور مودودیؒ وغیرہ داعیان حق کو گالیاں دے مدخلی فکر کا نتیجہ یہ بگڑی ہوئی نسل جسد اسلام میں ایک کانٹا چبھ کر رہ گئی ہے جو سیکولر جراثیم اور صوفیہ کے امراض حاکم کی حمایت اہل کتاب کے سرکش سے مدد حاصل کر رہا ہے۔
اہل علم نے جو کبار بدعتیوں کی توبہ کا عذر پیش کیا ہے ہم اسے تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کتاب میں موجود وضاحتوں سے ہم امید کرتے ہیں کہ ان کے ذریعے ہم ان کے اثرات گھٹا دیں گے ان کے مضرات محدود کر دیں گے اور اللہ کے دربار میں یہ عذر پیش کرسکیں گے کہ ہم نے ان کے اور ان کے متبعین کے سامنے حق کا پرچار کر دیا تھا۔اللہ تعالیٰ مومنوں کا مددگار ہے۔
٭٭٭


چوتھی فصل

بنیادی قواعد سے اختلاف

1	ایمان کے متعلق نظریہ اہل السنۃ

یہ بات معروف و متعین ہے کہ ایمان قول و عمل دونوں کا نام ہے جو بڑھتا گھٹتا ہے ایسے ہی قول دل اور زبان دونوں کا ہوتا ہے نیز عمل بھی دل اور زبان اور دیگر اعضاء کا ہوتا ہے اور یہ بات بھی متعین ہے کہ کمی و زیادتی قول و فعل کی ان تمام اقسام میں واقع ہوتی ہے اور عمل ایمان کے لئے شرط صحت ہے نہ کہ شرط کمال عمل ایمان کے ارکان میں نہ کہ شروط میں سے احناف نے اہل السنۃ کی اس سلسلے میں مخالفت کی اور کہا کہ عمل شرط کمال ہے اور عمل کے بغیر بھی ایمان مطلقاً مکمل ہو جاتا ہے (ہم نے اپنی کتاب’’ حقیقۃ الایمان ‘‘ میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے اسے ملاحظہ کر لیا  جائے )ایمان کو اس زاویہ نگاہ سے دیکھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمل یاجنس عمل کو بالکل ہی چھوڑ دیا گیا اور اس سے ایمان میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی کیونکہ جب عمل کا حقیقت ایمان سے کوئی تعلق ہی نہیں رہا تو عمل کو بالکل ترک کر دینے سے ایمان کا ترک کس طرح لازم آئے گا شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی کتب اس کی مخالفت میں بھری پڑی ہیں (عمل کے ترک سے ایمان میں کیا فرق آتا ہے اس کے لئے ابن تیمیہؒ کی کتاب’’ الایمان الاوسط‘‘ ملاحظہ ہو)یہاں ہمارا یہ مقصد نہیں کہ ہم ان نکات کا ردّ کریں جو مدخلیوں نے مسئلہ ایمان کے متعلق پیش کئے ہیں بلکہ صرف ان مقامات کو بیان کرنا ہے جس میں اہل السنۃ و الجماعۃ کے مخالف ہیں جب انہوں نے یہ دیکھا کہ اہل السنۃ کا یہ عقیدہ معروف ہے کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے جو کہ زیادہ ہوتا ہے توجھوٹ بولنے لگے اور یہ گمان کرنے لگے کہ بنیاد تو اسی قول کو بنا لیں مگر استدلال البانیؒ کے اقوال سے کریں جبکہ اہل علم جانتے ہیں کہ درحقیقت اس بارے میں البانی کا قول وہی ہے جو احناف کا ہے (ملاحظہ ہو’’ حقیقۃ الایمان عندالشیخ الالبانی‘‘ از ڈاکٹر محمد ابورحیم نیز ’’ظاہرۃ الارجائ‘‘ از سفر الحوالی)اس بات کا مجرد دعویٰ کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے کم زیادہ ہوتا ہے یہ اہل السنۃ و الجماعۃ کی موافقت نہیں کہلائے گا بلکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اصل مقصود یہ ہے کہ کمی زیادتی ہوتی ہے اور عمل صحت ایمان کے لئے شرط ہے اور یہ شرط دل زبان اور دیگر اعضاء تمام کے عمل پر برابر جاری ہوتی ہے۔

2	احناف اور عقیدہ ایمان 

احناف کے اس عقیدے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے علماء نے بہت سے ایسے اعمال میں تشدد اختیار کیا جس کے مرتکب کو وہ کافر سمجھتے تھے اور تکفیر کے باب میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا یہ ان کے ایک عمل سے متعلق اس موقف کا ردّ عمل ہے جس کی بناء پر ان کو بہت سے اہل السنۃ نے ’’مرجئہ اہل السنۃ‘‘ قرار دیا اس بارے میں ایمان اور عمل کے مابین فرق کرنے کے نتائج جاننے کے لئے ملا علی القاری الحنفی کی کتاب ’’الفقہ الاکبر‘‘ ملاحظہ ہو انہوں نے عید نوروز کے موقع پر کسی مجوسی کو بطور تحفہ انڈہ دینے کو بھی کفر قرار دیا ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ مدخلیہ احناف کے مخالف ہیں پھر بھی مدخلیہ پر احناف کا مرجئہ کے عقیدے کے متعلق موقف اثر انداز نہیں ہوسکا وہ ارجائیت میں بلا تحقیق داخل ہو گئے اور اس کے نتائج کی کچھ پرواہ نہ کی بعد میں مدخلی مرجئی کا ایک مقالہ اس کی ویب سائٹ پر شائع ہوا جس کا عنوان تھا کہ ’’جو کہتا ہو کہ ایمان اصل اور فرع کا نام ہے اسے مرجئہ قرار دینا جائز نہیں ‘‘ لیکن تعریف کے لائق ہے وہ ذات جس نے مدخلی سے ایسی بات کہلوا دی جس بات نے اس کے اپنے شاگردوں کو مجبور کر دیا کہ وہ اس سے اور خود سے اس قول کی نفی کریں کہ ’’ایمان میں عمل داخل نہیں بلکہ یہ ایمان کو مکمل کرتا ہے ایمان کی اصل نہیں ہے‘‘ یہ مضمون توہم نے اس کے خلاف ثابت ہوتے دیکھ لیا اس مریض نے بعض ائمہ اہل السنہ جیسے ابن مندہ اور منذری کے قول کہ ’’ایمان اصل اور فرع کا نام ہے‘‘ پر تعلیق لکھی ہے اور فرع کو عمل اور اصل کو ایمان پر محمول کیا ہے لیکن اس بات سے اندھا ہے کہ ان ائمہ کا مقصد یہ ہے کہ ایمان دل اور عمل دونوں کا نام ہے اور اصل اور فرع ایمان کی تعریف میں داخل ہیں تو لفظ فرع یہاں لغوی معنی میں ہے یعنی عمل کی بنیاد وہ ہے جو دل میں ہے یعنی ایمان لیکن ہیں یہ دونوں ہی ایمان شریعت کی اصطلاح کے مطابق لیکن کیا کیا جائے یہ شخص علم اصول و دیگر شرعی علوم سے کوسوں دور ہے البتہ بعض اصطلاحات حدیث سے کچھ تعلق رکھتا ہے لیکن اس کے علمی رتبے اور سند فراغت سے دھوکہ نہ کھائیں اس کے ان عیوب کی حقیقت کو بھی ہم عنقریب بیان کر دیں گے۔

3	کفریہ عمل یا کفر عملی 

(اس موضوع کی تفصیل میں ہماری کتاب ’’حقیقۃ الایمان ‘‘ ملاحظہ ہو)۔ان مدخلیہ پر ’کفریہ عمل اور کفر عملی‘‘ کے مابین فرق کرنا دشوار ہو گیا ہے یہاں ہم اس نکتے میں تفصیل سے نہیں لکھیں گے اس کی تفصیل ہم اپنی کتاب ’’حقیقۃ الایمان‘‘ میں کر چکے ہیں البتہ یہ اشارہ کرنا پسند کریں گے کہ کفریہ عمل سے مراد ہے کہ محض عمل سے ہی کفر ہو جائے جحود یا تکذیب کے بغیر جبکہ کفر عملی سے کفر اصغر مراد ہے جس کے مرتکب کا نام سنت میں کافر ہے جیسے بھاگا ہوا غلام،شوہر کی ناشکری کا کفر اور مسلمان کا مسلمان سے لڑنا،اس کے کفرا کبر ہونے لئے اہل السنۃ جحود یا استحلال کی شرط لگاتے ہیں۔کفریہ عمل کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
{ وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ قُلْ اَبِاﷲِ وَاٰٰیتِہٖ وَ رَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِئُ وْْنَ، لاَ تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ}(التوبۃ:۶۵)
یعنی اور اگر آپ ان سے پوچھ لیں تو یقیناً یہی کہیں گے کہ ہم تو محض موج مستی کر رہے تھے کہہ دیجئے کیا تم اللہ،اس کی آیات،اس کے رسول کے ساتھ استہزاء کرتے ہو کوئی عذر نہ تراشو تم ایمان لانے کے بعد کفر کر چکے ہو۔
اس واقعے میں اللہ تعالیٰ نے صراحت کر دی کہ ان تین افراد کا عمل یعنی موج مستی ہی کفر کا ذریعہ بن گیا حالانکہ وہ قسم اٹھا کر کہہ رہے تھے کہ اس سے ان کا مقصد شر یا استحلال یا جحود نہ تھا لیکن اللہ نے اسے ردّ کر دیا اور نفس عمل کو ہی کفر اکبر قرار دیا جس نے ایمان کو ساقط کر دیا یعنی کفریہ عمل (واقعہ کی تفصیل،تفسیر طبری،تفسیر ابن کثیر،تفسیر اضواء البیان للشنقیطی وغیرہ تفاسیر میں ملاحظہ کریں )

عقیدے سے متعلق ایک سوال اور اس کا جواب 

٭	جب ہم سے یہ کہا جائے کہ بت کو سجدہ کرنا،قرآن کی توہین کرنا،رسول اللہﷺ کو گالی دینا،دین کا مذاق اڑانا ایسے ہی دیگر اعمال یہ سب بظاہر کفر عملی ہیں دین سے خارج نہیں کرتے اور تم بھی اس کفر اصغر کو عملی ہی جانتے ہو؟
٭	جان لیجئے کہ چاروں اعمال اور ان جیسے دیگر اعمال کفر اصغر نہیں ہیں سوائے اس کے کہ ان کا صدور بظاہر اعضاء کے ذریعے ہی ہوتا ہے لیکن یہ دل کے اعمال یعنی نیت،اخلاص،محبت،اطاعت وغیرہ کو بالکل ہی ختم کر دیتے ہیں اس کے ساتھ ان میں سے کچھ باقی نہیں رہتا چنانچہ یہ اگر بظاہر عمل ہیں لیکن لامحالہ کفر اعتقادی کو متضمن ہیں اور یہ اعمال منافق بے دین اور معاند ہٹ دھرم کے علاوہ کسی اور سے صادر نہیں ہوسکتے یہی وجہ ہے غزوہ تبوک میں منافقین کے ایسے اعمال کے متعلق کہا گیا:
{وَ لَقَدْ قَالُوْا کَلِمَۃَ الْکُفْرِ وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلاَمِہِمْ وَہَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا}(التوبۃ:۷۴)
یقیناً انہوں نے کلمہ کہا اور اسلام لانے کے بعد کفر کیا اور اس کا م کا قصد کیا جو پورا نہ کرسکے۔
حالانکہ جب ان سے استفسار کیا گیا  تو انہوں نے کہا ’’‘‘ یعنی ہم تو موج مستی کر رہے تھے۔
اس کے ردّ میں اللہ نے فرمایا:
{ قُلْ اَبِاﷲِ وَاٰٰیتِہٖ وَ رَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِئُ وْْنَ، لاَ تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ}(التوبۃ:۶۵)
کہہ دیں کیا تم اللہ،اس کی آیات،اس کے رسول کے ساتھ استہزاء کرتے ہو کوئی عذر پیش نہ کرو یقیناً تم ایمان لانے کے بعد کفر کر چکے ہو۔
نیز ہم کفر اصغر کو مطلقاً عملی نہیں کہتے بلکہ صرف اسے عملی کہتے ہیں جو اعتقاد کو مستلزم نہ ہو یا دل کے قول و عمل کا اعتبار ختم کرنے والانہ ہو۔نیز ملاحظہ ہو ’’درالفتنۃ عن اھل السنۃ از علامہ فضیلۃ الشیخ بکر ابوزیدؒ‘‘ ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:
{ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ ٰامَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّہُمْ ضَلٰلاً بَعِیْدًا}(النساء:۶۰)
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لا چکے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور آپ سے پہلے کی طرف نازل کیا گیا وہ چاہتے ہیں کہ طاغوت کے پاس فیصلہ کروائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کفر کریں اور شیطان انہیں دور کی گمراہی میں لا پھینکنا چاہتا ہے۔
اس آیت میں اللہ نے صراحت فرما دی کہ جو قرآن وسنت کے علاوہ کسی اور کے پاس حکم کے لئے جائے اور اس وقت اس کا یہ زعم ہو کہ اس کے دل میں اللہ پر ایمان موجود ہے مگر اللہ نے فیصلہ فرما دیا کہ یہ صرف زعم ہی ہے حقیقت حال اس کی تائید نہیں کرتی بلکہ اس کی مخالفت کرتی ہے چنانچہ اگر کوئی کہے کہ :لیکن جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے بغیر کسی اور قانون،دستور،اصول کے ذریعے حکومت کرے اس کا پابند رہے وہ اپنی زبان سے اقرار تو کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہے تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے یہ زعم کر رہا ہے کہ جو شہادت اللہ کے لئے دینی چاہیئے وہ غیر اللہ کے لئے دے رہا ہے۔اس آیت میں ایسی کوئی دلالت نہیں ہے جواس عمل کو اعتقاد کے ساتھ مربوط کرتی ہو نہ اجمالاً نہ تفصیلاً۔علامہ امام الشیخ محمد بن ابراہیم سابق مفتی اعظم سعودیہ اپنے فتاویٰ کے مجموعہ میں فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ’’یزعمون‘‘ یعنی وہ زعم کر رہے ہیں ‘‘ ان کے دعویٰ ایمان کی تردید ہے کیونکہ نبیﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے علاوہ کسی اور سے حکم کروانا یہ عمل کسی بھی حالت میں بندے کے دل میں ایمان کے ساتھ یکجا ہو ہی نہیں سکتا بلکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کی نفی کرتا ہے۔اور طاغوت طغیان یعنی سرکشی سے مشتق ہے یعنی حد سے تجاوز کرنا تو ہر وہ شخص جو اللہ کے نبیﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے علاوہ کسی کو بھی حاکم بنائے یا اس کی طرف حکم لے کر جائے اس نے طاغوت کو حاکم بنایا یا اس کی طرف حکم لے کر گیا…‘‘ 

4	اہل السنۃ اور خوارج کے مابین فرق

ہم یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ بدعتی لوگ نوجوانوں کو یہ دھوکہ دے رہے ہیں کہ یہ خوارج کا قول و عقیدہ ہے وہ گناہ کی بناء پر تکفیر کرتے ہیں واللہ ان کے اس دعوے میں رتی برابر بھی سچائی نہیں ہے خوارج متفق علیہ معصیت کے مرتکب کو کافر کہتے ہیں جیسے زنا،چوری،قتل،شراب نوشی،اجنبی عورت کو دیکھنا جبکہ اہل السنۃ و الجماعۃ متفق ہیں کہ یہ معاصی یعنی نافرمانیاں ہیں البتہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے علاوہ کو قانون،دستور بنانا اسک ا پابند ہونا اس بارے میں اہل السنۃ و الجماعۃ اور سلفیت کے دعویداروں کے مابین اختلاف ہے سلفیت کے دعویداروں کا اسے ابتداءً ان کے (مبتدعین)تمام دلائل معصیت ہی ہوتے ہیں پھر یہ ثابت ہوتا ہے کہ معصیت کا ارتکاب کفر نہیں ملت سے خارج نہیں کرتا یہ ایسا غلط قاعدہ،ٹیڑھی منطق ہے جو شریعت سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والے کی عقل میں کبھی نہیں سماسکتی۔
5	سورۃ المائدہ کی بحث {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ}یعنی جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ کریں تو یہی لوگ کافر ہیں 
توحید کی بنیاد اللہ کے آگے سرتسلیم خم کر لینے،اس کی اطاعت کرنے اور اس کے اوامر و مناہی کو قبول کرنا ہے لا الٰہ الا اللہ کا بھی یہی تقاضا ہے کوئی بھی مسلمان حالت اسلام میں اس کی مخالفت نہیں کرسکتا توحید عبادت اور توحید الوہیت کا تقاضا یہی ہے کیونکہ جس نے پیدا کیا وہ حکم کرتا ہے :
{أَلَا لَہُ الْخَلْقَُ وَالْاَمْرُ}
یعنی :خبردار مخلوق اور حکم اس کے ہیں۔
اور جو حکم ماننا بالکل ہی چھوڑ دے بالکل اس طرح ہے جس طرح یہ اعتقاد چھوڑ دے کہ وہ مخلوق ہے اور قرآن میں حکم کو اللہ کی طرف لوٹانے کے بے شمار دلائل ہیں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں توحید عبادت (حکم،دوستی،عبادات)کی بنیادیں مقرر کرتے ہوئے فرماتا ہے :
{اَفَغَیْرَ اﷲِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا}(الانعام:۴۳)
یعنی:کیا میں اللہ کے سوا کوئی حاکم ڈھونڈ لوں۔
{قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا}(الانعام:۴۳)
یعنی :کہہ دیجئے کیا میں اللہ کے سو ا دوست بنا لوں۔
{ قُلْ اَغَیْرَ اﷲِ اَبْغِیْ رَبًّا}(الانعام:۱۶۴)
یعنی:کہہ دیجئے کیا میں اللہ کے علاوہ کو رب مان لوں۔
{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْن}(المائدہ:۴۴)
یعنی :جو اللہ کے نازل کردہ کے ذریعے حکم نہ کریں تو یہی لوگ ہی کافر ہیں۔
{ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ}(المائدہ:۴۵)
یعنی:جو لوگ اللہ کے نازل کردہ کو حاکم نہ بنائیں تو یہ لوگ ہی ظالم ہیں۔
{وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ}(المائدہ:۴۷)
یعنی:جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو یہی لوگ فاسق ہیں۔
{ وَ اَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ وَ لاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ ہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْم بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اﷲُ اِلَیْکَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اﷲُ اَنْ یُّصِیْبَہُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِہِمْ وَ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ}(المائدہ:۴۹)
یعنی:ان کے درمیان اللہ کے نازل کردہ کے ذریعے فیصلہ کر اور ان کی خواہشات پر مت چل ان سے بچ کر رہ کہ وہ تجھے اللہ کے تیری طرف نازل کردہ کے کچھ حصے کے متعلق فتنے میں ڈال دیں پھر اگر وہ پلٹ جائیں تو یقین کر لیے کہ درحقیقت اللہ انہیں ان کے گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے اور لوگوں کی اکثریت فاسق ہے۔
{ اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اﷲِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ}(المائدہ:۵۰)
یعنی :کیا وہ جاہلیت کا حکم ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ یقین کرنے والوں کے لئے اللہ سے بڑھ کر حکم میں کون اچھا ہوسکتا ہے؟
{ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ ٰامَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّہُمْ ضَلٰلاً بَعِیْدًا}(النساء:۶۰)
یعنی :کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ ایمان لا چکے ہیں اس پر جو تیری طرف نازل کیا گیا اور تجھ سے پہلے نازل کیا گیا چاہتے ہیں کہ طاغوت کے پاس فیصلہ لے کر جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اس کے ساتھ کفر کریں اور شیطان انہیں دور کی گمراہی میں لا پھینکنا چاہتا ہے۔
{اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلَّاآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ ٰلکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ}(یوسف:۴۰)
یعنی :حکم صرف اللہ ہی کا ہے اس نے حکم دیا کہ تم صرف اس کی ہی عبادت کرو یہی درست دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
{اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ تَبَارَکَ اﷲُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ}(الاعراف:۵۴)
یعنی:خبردار اس کے لئے ہے مخلوق اور حکم بابرکت ہے اللہ جہانوں کا رب۔
{ فَلاَ وَ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا}(نساء:۶۵)
یعنی:آپ کے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپ کو اپنے اختلاف میں حاکم نہ مان لیں پھر اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں اور پوری طرح قبول کر  لیں۔
{اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَہُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَآ اُمِرُوْآ اِلَّا لِیَعْبُدُوْآ اِٰلہًا وَّاحِدًا لَآ اِٰلہَ اِلَّا ہُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ}(توبۃ:۳۱)
یعنی :انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ انہیں حکم دیا گیا کہ ایک ہی معبود کی عبادت کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔
یہ تین طرح کی بنیادیں ہوئیں :
1	اللہ کی شریعت کو حاکم بنانا۔
2	دوستی صرف اللہ کے لئے۔
3	عبادات اور شعائر صرف اللہ کے لئے(جیسے نماز،روزہ وغیرہ شعائر)
یہی وہ توحید ہے جس کے دلائل قرآن میں اول تا آخر پھیلے ہوئے ہیں اور کوئی یہ نہ کہے کہ تم یہ تقسیم کہاں سے لے آئے جبکہ اللہ نے اس کی کوئی دلیل نہیں اتاری ہم کہیں گے کہ معاملہ صرف تقسیم کا نہیں ہے احاطے اور شامل کرنے کا ہے ان تینوں معانی کا عموم اور دلالت توحید کے منافی نہیں ہے اور مسلّم اور سالم ہیں اور تمام قواعد کے بنیادی قاعدے اور اصل الاصول (یعنی توحید)کے ذریعے مقبول اور فیصل ہیں اور قواعد عامہ دو طرح ثابت ہوتے ہیں جیسا کہ شاطبیؒ نے وضاحت فرمائی ہے:
٭	جب نصوص درج ذیل طریقوں سے وارد ہوں :
1	معرف باللام ہو مثلاً فرمان باری تعالیٰ :{وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَہُ فَاقْطَعُوْا أَیْدیْھُمَا جَزَاءٍ بِمَا کَسَبَانَکٰلًا مِّنَ اللّٰہِ}یعنی :چور اور چورنی دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ان کے کئے کی سزا ہے اللہ کی طرف سے عبرت ہے۔
2	معرف بالاضافہ ہو جیسے فرمایا:{لِلذَّکَرِ مَثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ}یعنی:ایک مرد کے لئے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔
3	شرط کے الفاظ ہوں جیسے فرمایا:{فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ}یعنی:تم سے جو اس مہینے میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے۔
4	اسماء موصولہ آئیں جیسے فرمایا:{وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذْرُوْنَ أَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِھِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْھُرٍ وَعَشْرًا}یعنی :تم سے جو مرد فوت کر دیئے جائیں اور بیویاں چھوڑیں وہ چار ماہ دس دن اپنے نفسوں کو روکے رہیں۔
5	نفی کے سیاق میں نکرہ آئے جیسے فرمایا:{لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ}یعنی:کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ بنائے۔
6	شرط کے سیاق میں نکرہ آئے جیسے فرمایا:{یٰاَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنْ جَائَ کُم فَاسِقٌ بِنِبَاٍ فَتَبَیَّنُوْا}یعنی :اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو تحقیق کر لو۔
7	جس سے پہلے لفظ کُلّ آئے جیسے فرمایا:{کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَہِیْنَۃ}یعنی :ہر شخص اپنے کئے کے ساتھ بندھا ہے۔یا رسول اللہﷺ نے فرمایا:کل المسلم علی المسلم حرام۔یعنی ہرمسلمان ہرمسلمان پر حرام ہے۔ایسے ہی دیگر مثالیں جس میں مذکورہ صیغے اسی طرح آئیں۔
بقول جمہور عموم کے کچھ معتبر صیغے ہیں اور آپ لفظ معین سے عام معنی مراد لے سکتے ہیں مرجئہ اور اکثر اشاعرہ اس کے خلاف ہیں وہ عموم کے صیغے نہیں قرائن مانتے ہیں اور لغت و شرع کے ذریعے ان کے خلاف حجت قائم ہے جیسے آپﷺ نے عمرو بن عاص کو تیمم کے موضوع پر فرمایا:{وَلَا تَقْتُُلُوْا أَنْفُسَکُمْ}یعنی اپنی جانیں قتل نہ کرو(یعنی جب جان کا خوف ہو تو تیمم کر لو)۔
معنی کے مختلف استعمالات کو تلاش کرنا یہاں تک کہ ایک ایساکلی عام معنی حاصل ہو جائے جو عموم میں کئی صیغوں کے قائم مقام ہودرست وہی ہے جس کی وضاحت شاطبی نے کی ہے کہ عموم کے اثبات کا یہ طریقہ مختلف صیغہ واردہ سے ایک معنی حاصل کرنے کی بنسبت بہتر ہے جبکہ کوتاہ نظر ایسا نہیں سمجھتی کیونکہ بہت سے مقامات اور مکرر جزئیات سے ایک معنی حاصل کرنا اس معنی کے کسی ایک صیغے میں یا جزئی میں وارد ہونے کی بنسبت زیادہ قوی ہے اسی طرح اجماع اور تواتر ہوتا ہے اسی لئے علماء اسے تواتر معنی کہتے ہیں اور یہ معنی سلفیت کے ان دعویداروں پر مخفی ہے جو شریعت کو مختلف غیر مربوط جزئیات قرار دیتے ہیں یہ ایک کے بعد ایک دلیل پر چڑھتے ہیں اور ادلہ جس کو غلط قرار دیں اسے صحیح سمجھ لیتے ہیں اور ادلہ کے تواتر میں جو ایک معنی قوی ہے اس کی طرف نظر نہیں کرتے اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے کے مسئلے میں بھی یہی طرز عمل دلیل ہے ایسی آیات متواتر ہیں جن میں یہ ہے کہ حکم صرف اکیلے اللہ کا ہے،دوستی صرف اکیلے اللہ کے لئے ہے،عبادات صرف اکیلے اللہ کی ہیں۔یہی طرز ان امور کو اصل الاصول بنا کر تواتر معنوی کے رتبے پر فائز کر دیتا ہے خواہ کوئی سبب نزول اور لغوی اختلافات کی بناء پر اس معنی عام کو محال بنانے کی کتنی ہی کوشش کر لیے۔
اب ہم چند نقاط بیان کریں گے کہ اہل السنۃ و الجماعۃ سورہ مائدہ کی آیت کس طرح لیتے ہیں :
1	عموم اپنے لفظ پر باقی رہتا ہے اگرچہ مقرر آئے اور متعین ہو جائے۔شاطبیؒ فرماتے ہیں :دوسرا اصول علمیہ میں ثابت ہے کہ کوئی بھی قاعدہ کلیہ یا دلیل شرعی کلی اگر کئی مقامات پر مکرر آئے اور اس کے اصولی یا فروع معانی پر شواہد ہوں اور کوئی قید یا تخصیص اس کے تکرار اور تعین کے اعادے کے باوجود اس کے ساتھ ملی نہ ہو تو یہ اس کے لفظ کے مقتضی عموم پر دلیل ہے جیسا کہ فرمایا:
{وَلَا تَزُرُوْا وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَیٰ}
یعنی کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھانے کا۔
نیز
{وَأَنَّ لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعَیٰ}
یعنی انسان کے لئے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرے۔وغیرہ امثلہ۔(الاعتصام)
2	’’مَنْ‘‘ (کون،جو)سیاق نفی میں عموم کا فائدہ دیتا ہے،جیسا کہ اس آیت میں ہے:
{وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ}
یعنی جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ کریں۔
یہاں ’’مَنْ‘‘ مطلق عموم کا فائدہ دے رہا ہے اور اس سے کوئی مستثنیٰ بھی نہیں ہے جیسا کہ استثناء سورۃ البقرہ کی اس آیت میں موجود ہے فرمایا:
{فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ…اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃً بِیَدِہِ}
یعنی :جس نے اسے پی لیا وہ مجھ سے نہیں سوائے اس کے جو اپنے ہاتھ سے چلو بھر لے۔
یعنی جو سیر ہو کر پیئے گا وہ موسیٰ کا ساتھی نہیں پھر اس سے اس شخص کو مستثنیٰ کر دیا جو چلو بھر لے لے جیسا کہ لغوی شواہد سے ثابت ہے مقصد یہ ہے کہ قرآن میں آیت مائدہ استثناء نہ متصلاً ثابت ہے نہ منفصلاً بلکہ مقرر اور متعین عمومات سے اس کے برعکس ثابت ہے۔
3	قرآن میں لفظ ’’یحکم‘‘ (حکم (نہ)کرے)اس کا مصدر ’’حکم‘‘ ہے اور علم اصول میں حکم کہتے ہیں :’’شارع کا خطاب تمام مکلفین سے اقتضاء،تخییر،وضع کے ساتھ‘‘ یا دوسری تعریف کے مطابق :’’شارع کا خطاب تمام مکلفین کے لئے احکام شرعیہ،تکلیفیہ،وضعیہ کے مجموعے کے ساتھ ‘‘۔
اور یہ بات معروف ہے کہ احکام تکلیفی پانچ ہیں :واجب،مندوب،مباح،مکروہ،حرام۔احکام وضعی بھی پانچ ہیں :سب،شرط،مانع،رخصت،عزیمت و صحت وب طلان۔ان کی تفصیلی شرح علم اصول میں دیکھی جائے۔یہاں محل استشہاد کے معنی میں نہیں بلکہ وہ مکمل قانونی وضع ہے جو احکام شرعیہ کے مفہوم کو اپنی دونوں شقوں (فصل،تنفیذ)کے ذریعے پس پردہ لا پھینکتی ہے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مخالف ہے اور وضعی قوانین کی بنیاد کیونکہ یہ بالکل اسی طرح قانون سازی ہے جس طرح شریعت الٰہی اگرچہ بشر اسے محض قوانین ہی سمجھتا ہے مثلاً مصری سول قانون کی دفعہ (174)میں ہے:’’اگر خاوند اپنے گھر میں بیوی کو زنا کرتے ہوئے پائے تو اس کے خلاف زنا کا دعویٰ کرسکتا ہے لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ خود اس سے قبل اسی گھر میں جرم زنا کر چکا ہے تو بیوی کے خلاف اس کا دعویٰ سماعت کے قابل نہیں رہے گا‘‘۔اس قانون نے شوہر کے زنا کو دعویٰ کے لئے مانع قرار دے دیا جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے موانع کا اعتبار نہیں کیا ایسے شراب کی خرید و فروخت اور شراب نوشی جسے اللہ نے حرام کیا ہے ان وضعی قوانین نے چند شروط کے ساتھ اسے جائز قرار دے دیا جبکہ ان شروط کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری جیسے یہ شرط کہ خریدار دو برس سے زیادہ ہو یہ قوانین بصراحت اس کی خرید و فروخت اور لین دین کو جائز قرار دیتے ہیں یہ سب قانون سازی اور احکام تکلیفیہ کے مراتب میں تحریف ہے کہ حرام کو مباح اور مباح کو حرام کر دیا اور ایسے اسباب،شروط اور موانع کو قانونی حیثیت دی جس کا شارع نے اعتبار نہیں کیا یہی آیت مائدہ میں موجود حکم کا اصل معنی ہے یعنی قانون سازی نہ کہ محض اقامت احکام یا آیات بینات کو کھیل بنا لینا یا حدود اللہ پر ظلم و زیادتی کرنا جیسا کہ مرجئہ کے شبہات اور اس کے جراثیم کے شکار لوگ گمان کرتے ہیں۔
4	قرآن میں لفظ ’’الکافرون‘‘ :ضروری ہے کہ قرآن فہمی کے قواعد میں سے ایک اہم قاعدہ بیان کر دیں امام شاطبی الموافقات میں فرماتے ہیں :’’احوال اور اوقات کے تقاضوں کے مطابق قرآن غایات بطور نص لاتا ہے اور ان کے دونوں پہلوؤں کے دائرے کو بیان کرتا ہے حتی کہ عقل اس دائرے کو شریعت کے مطابق دیکھنے لگتی ہے ‘‘۔شاطبی نے یہ مفہوم ابوبکرؓ  کی اپنی مو ت کے وقت عمرؓ کو کی گئی نصیحت سے اخذ کیا ہے جس میں انہوں نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نے اہل نار کا ان کے برے اعمال کے ساتھ تذکرہ کیا ہے کیونکہ اس نے ان کی نیکیوں کو ان پر رد ّکر دیا ‘‘ 
اس سے یہ معلوم ہوا کہ قرآنی قاعدہ غایت کے اطراف کو ذکر کرتا ہے اور ان اطراف کے مابین کی وضاحت سنت پر چھوڑ دیتا ہے جو ان کی تشریح و توضیح کرتی ہے اسی بناء پر یہ ممکن نہیں کہ لفظ ’’الکافرون‘‘ یہاں کفر اصغر کے معنی میں ہو کیونکہ یہ چیز قرآن میں نہیں بلکہ سنت میں واقع ہوتی ہے وگرنہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کی غائی (غایت)صورت کیا ہو گی؟اس کے لئے یہاں عدم ایمان کی شرط لگانا درست نہیں کیونکہ یہ آیت ایمان یا جحود کے متعلق نہیں بلکہ حکم کو مطلق قانون سازی کے معنی میں داخل کر دینے کی بات کر رہی ہے۔
5	سلفیت کے دعویداروں وغیرہ جن کی عقل و قلب میں ارجائیت گھر کر چکی ہے انہوں نے ابن عباسؓ  کے ان عطاء و دیگر تلامذہ سے مروی اس قول ’’کفر دون کفر‘‘ کو شریعت الٰہی کو حاکم بنانے کے مرتبے کو گھٹانے اور طاغوت کے وضعی حکم کی طرف رجوع کے معدوم ہونے کا ذریعہ بنا لیا ہے اور یہ دعویٰ کیا کہ ابن عباسؓ نے عام قانون سازی اور اللہ کی شریعت کے غیر کو قانون مان کر اس کا پابند ہو جانے کو کفر اصغر قرار دیا جیساکہ بیوی اپنے خاوند کی ناشکری کا کفر کرتی ہے عنقریب ہم اس بے کار دعویٰ کو باطل ثابت کر دیں گے اور ابن عباسؓ کے اس قول کے متعلق نو(9)نکات بیان کریں گے۔جن کا اعتبار کرنا ناظر کے لئے ضروری ہے۔
ابومجلز اور عطاء سے مروی ہے ابن عباسؓ کا یہ قول ہمارے غور و فکر کے مطابق خوارج کے ردّ میں تھا جنہوں نے بنوامیہ کے خلاف خروج کرنا چاہا۔اور یہ لوگ ابن عباسؓ ،ابومجلز،عطاء تابعی کے اس قول کی آڑ میں اس خروج کو جواز کا رنگ دینا چاہتے ہیں جبکہ ہماری رائے کے مطابق بنی امیہ کے حالات میں اس خروج کو جائز قرار دینے کی کوئی بنیاد نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے نازل کردہ کے علاوہ کو شریعت یا قانون نہیں قرار دیا جس کو لوگ حاکم مانتے یہی وہ فرق ہے جسے پوری طرح سمجھنے سے مرجئہ کے شبہات میں گرفتار یہ لوگ عاجز ہیں خواہ ان کے علماء ہوں جیسے علم حدیث میں مہارت کے باوجود علامہ البانی یا ان کے وہ عام علماء ہوں جنہیں وہ بڑا بزرگ سمجھتے ہیں اور ہر خطاء سے بری قرار دے کر بناسوچے سمجھے ان کی تقلید میں لگ جاتے ہیں یا وہ لوگ جو اخوان المسلمین کی قیادت کے تابعدار ہیں۔
علامہ محدث شیخ البانی کا معاملہ ہم شیخ احمد شاکر اور ان کے بھائی شیخ محمود شاکر پر چھوڑتے ہیں شیخ احمد شاکر فرماتے ہیں :
1	(ابن عباسؓ)سے مروی آثار جن کے ذریعے ہمارے دور کے کچھ علم سے منسوب گمراہ لوگ کھیلتے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے دین پر اس قدر جرأت  کی کہ انہوں نے ان آثار کو بہانہ بنا لیا وہ ان کے ذریعے اسلامی ممالک پر مسلط کردہ طاغوتی وضعی قوانین کو جائز قرار دیتے ہیں۔ابو مجلز سے ایک اثر مروی ہے جو اباضیہ خوارج کے اسی اختلاف کے متعلق ہے کہ بعض امراء نے ظلم کرتے ہوئے بعض معاملات میں نفس پرستی اور حکم سے جہالت کی بناء پر خلاف شریعت فیصلے دے دیئے اور خوارج کا مذہب یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب بھی کافر ہے تو وہ ابومجلز کے پاس آ کر جھگڑا کرنے لگے اور یہ مطالبہ کرنے لگے کہ وہ ان امراء کو کافر قرار دینے میں ان کے موافق ہو جائیں تاکہ ا ن کے خلاف مسلح خروج کے لئے ان کے ہاتھ بہانہ آ جائے یہ دونوں آثار امام طبری نے روایت کئے ہیں اور ان پر میرے بھائی سید محمود شاکر نے بڑی ہی نفیس تعلیق لکھی ہے میرا خیال ہے کہ میں طبری کی پہلی روایت اور اس پر اپنے بھائی کی تعلیق نقل کر دوں۔
طبری نے عمران بن حیدر سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ :ابومجلز کے پاس بنو عمرو بن سدوسی کے کچھ لوگ آ کر کہنے لگے سے ابومجلز آپ اللہ کے اس فرمان کے متعلق کیا کہتے ہیں :
{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْن}(المائدہ:۴۴)
جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ کرے نہ کریں تو یہی لوگ کافر ہیں۔
کیا یہ حق ہے ؟فرمانے لگے :ہاں۔وہ کہنے لگے :
{ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ}(المائدہ:۴۵)
جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ کریں تو یہی لوگ ظالم ہیں۔
کیا یہ حق ہے ؟فرمانے لگے :ہاں۔وہ کہنے لگے :
{وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ}(المائدہ:۴۷)
جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ دیں تو یہی لوگ فاسق ہیں۔
کیا یہ حق ہے ؟پھر وہ کہنے لگے ابومجلز کیا یہ لوگ (یعنی بنوامیہ کے ظالم امراء)اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم کرتے ہیں فرمانے لگے :یہ ان کا دین ہے وہ اسے دین مانتے ہیں اور اسی کے مطابق کہتے ہیں اور اسی کی طرف بلاتے ہیں پھر اگر اس میں سے کچھ چھوڑ دیں تو اسے گناہ سمجھتے ہیں۔وہ کہنے لگے ایسا نہیں ہے اللہ کی قسم تم فرق کر رہے ہو۔فرمانے لگے :تم مجھ سے زیادہ اس کے حق دار ہو(یعنی میں خارجی نہیں بلکہ تم خارجی ہو)میرا یہ خیال نہیں تمہارا یہ خیال ہے اور تم کوئی حرج بھی محسوس نہیں کرتے۔
میرے بھائی سید محمود ان دونوں نصوص کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’یا اللہ میں اس گمراہی سے تیری طرف اظہار برأت کرتا ہوں وبعد،ہمارے اس دور کے شک گزیدہ اور فتنہ پرور لوگ جو بڑی باتیں بناتے ہیں اور حاکموں کے لئے اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم کو چھوڑ دینے،اموال،دماء،اعراض میں اللہ کی اپنی کتاب میں نازل کردہ شریعت کے بغیر فیصلے کرنے،کافر کے قانون کو اسلامی ممالک میں نافذ کرنے ان کو جواز کا رنگ دینے کے لئے عذر تراشتے ہیں پھر جب انہیں ان دو احادیث کا پتہ چلتا ہے تو اسے ابومجلز کی رائے قرار دیتے ہیں کہ ان کے نزدیک اللہ کے نازل کردہ کے بغیر دماء اور اموال اور اعراض میں فیصلے کرنا درست ہے اور عام فیصلے میں شریعت کی مخالفت اسے کافر قرار نہیں دیتی جو اس پر راضی یا عامل ہو۔حالانکہ غور و فکر کرنے والے کے نزدیک ان دونوں حدیثوں میں سائل اور مسئول کی اس معرفت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔(ابومجلز لاحق بن حمید الشیبانی السدوسی)ثقہ تابعی ہیں علیؓ سے محبت کرتے تھے اور ان کی قوم بنو شیبان جنگ جمل اور صفین کے دن شیعان علی میں شامل تھی پھر جب صفین کے دن حَکَموں (یعنی دونوں جانب سے ایک ایک حَکَم فیصلہ کرنے والا)والا معاملہ ہوا اور خوارج الگ ہو گئے تو علیؓ کے خلاف خروج کرنے والوں میں بنوشیبان اور بنوسدوس بن شیبان بن ذھل کے کچھ لوگ شامل ہو گئے۔وہ لوگ جنہوں نے ابومجلز سے سوالات کئے وہ بنو عمرو بن سدوس سے ہیں جو اباضیہ خوارج کا حصہ ہیں اور عبداللہ بن اباض حروری خارجی کے پیروکار ہیں اس کا کہنا تھا کہ جو خوارج کی مخالفت کرے وہ کافر ہے نہ کہ مشرک اس طرح اس نے اپنے اصحاب کی مخالفت کی۔یہ واضح ہے کہ جن لوگوں نے ابومجلز سے سوالات کئے وہ اباضیہ تھے اور حکام کی تکفیر کے سلسلے میں ان پر حجت قائم کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ (حکام)سلکان کے معسکرمیں تھے اور بسا اوقات اللہ کی نافرمانی کر گزرتے اور جن امور سے اللہ نے منع فرمایا ہے ان کا ارتکاب کر بیٹھتے۔اسی لئے ابومجلز نے جواب دیتے وقت کہا کہ :’’اگر وہ اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیں تو اسے گناہ سمجھتے ہیں ‘‘ (پہلی روایت کے مطابق)اور (دوسر ی روایت کے مطابق )وہ جو بھی عمل کریں انہیں علم ہے کہ وہ گناہ کر رہے ہیں تو اس صورت میں ان کاسوال اس کے متعلق نہیں تھا کہ جس سے ہمارے دور کے بدعتی حجت پکڑتے ہیں یعنی دماء،اموال اور اعراض میں شریعت اسلامیہ کے بغیر اس کے مخالف قانون کے ذریعے فیصلہ کرنا اور نہ ہی وہ کسی ایسے قانون کے اجراء کے متعلق تھا جو اہل اسلام کو اللہ کے اپنی کتاب اور اپنے نبیﷺ کی زبانی بیان کردہ شریعت کے علاوہ حکم کا پابند کرتا ہو یہ فعل اللہ کے حکم اور دین سے اعراض ہے اور احکام کفر کو اللہ کے حکم پر ترجیح دینا ہے اور یہ کفر ہے اہل قبلہ اس کے قائل اور داعی کی تکفیر میں اختلاف کے باوجود اس میں شک نہیں کرسکتے۔اور ہم جن حالات میں ہیں ان میں اللہ کے احکام کو کسی استثناء یا احکام پراس کے غیر کے احکام کو ترجیح دیئے بنا ہی عموماً چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ کی شریعت کو ناکارہ کر دیا جاتا ہے پوری تاریخ اسلام میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی حاکم نے ایسا حکم جاری کیا ہو جو پابند کرتا ہو کہ اسی کے مطابق فیصلے کئے جائیں۔ ابومجلز کا زمانہ ہو یا اس سے پہلے یا بعد کا کبھی کوئی ایسا حاکم نہیں آیا جس نے اللہ کے حکم کا انکار کر کے یا اہل کفر کے احکام کو اہل اسلام کے احکام پر ترجیح دے کر (جیسا کہ موجودہ حالات میں احکام کفر کو احکام اسلام پر ترجیح دی جاتی ہے )کوئی فیصلہ کیاہوایسا کبھی نہیں ہوا لہٰذا ابومجلز اور اباضیوں کے مابین گفتگو سے یہ سمجھنا کسی طرح درست نہیں تو جو ان آثار یا  ان جیسے دیگر آثار سے حجت پکڑے اور ان کے غلط معانی لے تاکہ ان کے ذریعے حاکم کی مدد کرے اور اللہ کے نازل کردہ اور اپنے بندوں پر فرض کردہ شریعت کے ذریعے حکم کے جواز کو محال بناسکے تو شریعت میں یہ منکر کے حکم میں ہوا جو اللہ کے احکام کا انکار کرتا ہے اس سے توبہ کرائی جائے پھر بھی اگر مصر رہا اور خود کودرست سمجھتا رہا اور اللہ کے حکم کو ٹھکرا کر اس کے متبادل احکام پر راضی رہا توایسے ڈھیٹ کافر کا حکم اہل اسلام جانتے ہی ہیں (یعنی اس پر حد ارتداد قائم کی جائے گی‘‘۔
احمد اور محمود شاکرؒ کا کلام ختم ہوا۔ اللہ ان دونوں کو جزائے خیر دے۔جاہل پر لازم ہے کہ وہ ان کے متعلق معلومات کرے یہ علم حدیث،لغت وتفسیر کے درخشندہ ستارے ہیں دور حاضر میں کوئی ان کا ہم پلہ نہیں علامہ قرضاوی بھی نہیں۔
غور کریں یہ ان اہل علم سے توبہ کروانے کی بات کر رہے ہیں جو ان آثار کو حاکم کی حمایت میں لے (جیسے بعض اسلامی جماعتیں دیکھئے کتاب ’’دعاۃ لاقضاۃ‘‘ اور سلفیت کے وہ دعویدار جو سید قطبؒ وغیرہ کی تکفیر کو ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہیں اور ان آثار سے اسی طرح حجت پکڑتے ہیں جس کی شیخ محمود شاکرؒ نے تردید کی ہے)حاکم سے توبہ کروانے کی بات نہیں کر رہے کیونکہ اس سے توبہ کروانے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ہر عقلمند اس کا حکم جانتا ہے۔
6	ابن عباسؓ کی یہ تفسیر اجتہاد ہے حکماً مرفوع کے قبیل سے نہیں 
ابن عباسؓ کی تفسیر نہیں کہ اسے مرفوع مانا جائے بلکہ محض اجتہاد ہے جس سے دیگر مختلف قرائن کی بناء پر اختلاف کیا جا سکتا ہے جبکہ ابن عباسؓ نے نکاح متعہ کی حلت سے رجوع کر لیا  تھا۔
7	صحابی کا قول اور ادلہ شرعیہ میں اس کا مقام
جب ہم نے یہ مان لیا کہ یہ ابن عباسؓ کی رائے ہے تو علم الاصول کی روشنی میں یہ بات معلوم ہے کہ صحابی کا قول قرآن کے عمومات کی تخصیص نہیں کرتا حنفیہ کے نزدیک مخصصات متصل ہوتے ہیں اس کا ہمارے زیر بحث عنوان سے تعلق نہیں جمہور کے نزدیک تخصیص متصل اور منفصل دونوں طرح کا قول نہیں ہے۔(الفروق للقرافی واصول الفقہ ابوزھرۃ)
8	اس قول کے متعلق اہل علم کے غلط اقوال
یہ بات معروف ہے کہ البانی ان لوگوں میں بڑے ممتاز ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکومت کرنے والا کافر نہیں اس کی وجہ ان کا یہ نظریہ ہے ایمان قول اور اعتقاد کا نام ہے اور اعمال کمال ایمان سے ہیں جیسا کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ کا مشہور مذہب بھی یہی ہے۔البانی اس بارے میں ابن حجر سے متاثر ہیں اور ابن حجرؒ عقیدے میں اشعری تھے اور اس مسئلے میں بہت سے علماء اہل السنہ کے خلاف تھے ایسے ہی ان کا یہ نظریہ بھی بنیاد بنا کہ کفر صرف جحود سے ہوتا ہے نہ کہ جوارح سے یہ محض عقیدے کی خرابی ہے۔پاک ہے وہ ذات جو غلطی نہیں کرتی اور عیب تو ان لوگوں پر ہے جو البانی کی اس طرح پیروی کرتے ہیں جیسے معبود کی کی جاتی ہے اس کے باوجود بھی تقلید کا انکار کرتے ہیں اور سلفیت کا دعویٰ درحقیقت یہ سلفیت اور حدیث سے کوسوں دور ہیں اگرچہ سند کے علو اور نزول کے متعلق کھل کر بات کرسکتے ہیں (البانی کے عقیدے کے متعلق ملاحظہ ہو ’’حقیقۃ الایمان عندالشیخ الالبانی ‘‘ از محمد ابو رحیم)اور ان کے علاوہ دیگر اسلامی جماعتوں کے سرکردہ لوگ جیسے اخوانی یہ اس لائق نہیں کہ ان کے ردّ میں معروف ہوا جائے ان کی علمی کم مائیگی اور علم شرعی کے میدان میں ان کی حقیقت نہ ہونے کی بناء پر۔
9	ان علماء اور محدثین کے اقوال جو مذہب اہل السنۃ کے حامی ہیں 
یہ بے شمار ہیں جیسے دور حاضر میں :شیخ محمد ابراہیم،فاضل محدث احمد شاکر اور ان کے بھائی محمود شاکر،شیخ عبدالرحمن بن عبدالخالق،امام دوسری،امام مودودی،امام عبدالعزیز بن باز،علاوہ ازیں علماء متقدمین جیسے ابن تیمیہ،ابن کثیر وغیرہ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ

ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں :حاکم اگر دیندار ہو لیکن علم کے بغیر حکم کرے تو جہنمی ہے اور اگر عالم ہو لیکن اس کے خلاف فیصلہ دے جسے وہ اپنے علم کے مطابق حق جانتا ہے یہ بھی جہنمی ہے اور اگر انصاف اور علم دونوں کے بغیر ہی فیصلہ کر دے تو یہ بالاولیٰ جہنمی ہے یہ اس وقت ہے جب کسی شخص کے مقدمے کا فیصلہ کرے اور جب مسلمانوں کے دین میں عام حکم کرے اور حق کو باطل،باطل کو حق،سنت کو بدعت،بدعت کو سنت،معروف کو منکر،منکر کو معروف بنا دے اور جن سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ان کا حکم دے اور جن کا حکم الٰہ المرسلین،مالک یوم الدین اور دنیا و آخرت میں حمد کے سزاوار ہی کرے گا :
’’وَلَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ۔
یعنی حکم اسی کا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
نیز۔
{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُداٰای وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ}(توبۃ:۳۳)
وہ ذات ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے سارے دین پر غالب کر دے اور اللہ کافی گواہ ہے۔

حافظ ابن کثیرؒ

ابن کثیر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:
{اَفَحُکْمُ الْجَاھِلِیَۃِ یَبْغُوْنَ}
یعنی :کیا وہ جاہلیت کا حکم ڈھونڈتے ہیں۔
کی تفسیر میں فرماتے ہیں :’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر ردّ کرتے ہوئے کہ جو اس کے محکم اور ہر خیر پر مشتمل اور ہر شر سے روکنے والے حکم سے نکل کر ان آراء اور خواہشات اور اصطلاحات کے پیچھے پڑ جائے جنہیں لوگوں نے اللہ کی شریعت کی دلیل کے بغیر بنایا ہویا جیسے تاتار اپنے بادشاہ چنگیز خان کے وضع کردہ قانون یاسق کے مطابق اپنی ملکی سیاسیات کا فیصلہ کرتے تھے یہ کتاب احکام کا مجموعہ ہے جنہیں اس نے مختلف ادیان سے اخذ کیا جیسے یہودیت،نصرانیت،دین اسلام وغیرہ اس کے اکثر احکام اس کی اپنی رائے اور خواہش کے مطابق ہیں تو اس کی قوم کے لئے یہ ایک قابل اتباع شریعت قرار پائی جسے وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسولﷺ پر مقدم کرتے ہیں تو جو بھی ایسا کرے وہ کافر ہے اس کے خلاف قتال فرض ہے حتی کہ ہر چھوٹی بات میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی طرف پلٹ آئے اور اس کے سوا کسی کا حکم نہ مانے ‘‘ ایسے ہی ابن کثیر نے اپنی تاریخ کی کتاب میں یاسق اور اس جیسے دیگر قوانین کو حاکم بنانے کے متعلق اسی طرح کی گفتگو کی ہے فرماتے ہیں :جو اللہ کی اپنے نبی محمد بن عبداللہ خاتم الانبیاء پر نازل کردہ محکم شریعت کو چھوڑ کر دیگر منسوخ شرائع کو حاکم بنا لے وہ کافر ہے تو جو یاسق کو حاکم بنا کر اسے اس پر مقدم کر دے وہ کیا ہوا؟جو ایسا کرے گا مسلمان اس کے کفر پر متفق ہیں۔

علامہ امام محدث احمد شاکرؒ

شیخ احمد شاکر ’’عمدۃ التفسیر‘‘ کی تعلیق میں فرماتے ہیں میں کہتا ہوں ـ:اس کے باوجود بھی کیا اللہ کی شریعت میں یہ جائز ہے کہ مسلمان اپنے شہروں میں بت پرست ملحد یورپ کے قوانین کے مطابق فیصلے کریں ؟بلکہ ایسے قانون کے مطابق جو باطل خواہشات اور آراء پر مبنی ہو وہ جس طرح چاہیں تغیر و تبدل کر دیں جس کا بانی یہ نہیں سوچتاکہ یہ دین اسلام کے مطابق ہیں یا مخالف ؟مسلمانوں کے ساتھ یہ صورت پوری تاریخ اسلامی میں صرف عہد تاتار میں پیش آئی یہ ظلم اور اندھیرے کے ادوار میں سب سے برا دور تھا اس کے باوجود بھی وہ اس کے آگے نہیں جھکے اور اسلام تاتار پر غالب رہا پھر انہیں اللہ کے دین میں داخل کر دیا اور مسلمان کے دین و شریعت پر استقامت کے ساتھ انہوں نے جو کچھ کیا اس کا اثر زائل ہو گیا اس وقت اس برے اور ظالم حکم کا مصدر حکام کا ایک مخصوص گروہ تھا محکوم امت اسلامیہ کے افراد میں سے کوئی بھی شامل نہ تھا اور نہ ہی انہوں نے سیکھا نہ اپنی اولاد کو سکھایا لہٰذا بہت جلد اس کا اثر زائل ہو گیا۔
کیا تم دیکھتے نہیں کہ حافظ ابن کثیرؒ نے آٹھویں صدی ہجری کے اس قانون جسے دشمن اسلام چنگیز خان نے وضع کیا اس کی جو صور ت انہوں نے بیان کی ہے وہی صورت آج کے دور چودہویں صدی ہجری کے مسلمانوں کی ہے صرف ایک فرق ہے جس کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ صورت اس وقت حکام کے ایک خاص طبقے میں تھی جو وقتاً فوقتاً امت اسلامیہ میں شامل ہو گیا اور ان آثار بھی زائل ہو گئے۔ان کی بنسبت آج کے مسلمان انتہائی برے حال اور ظلم اور اندھیرے میں ہیں کیونکہ آج اکثر اسلامی امتیں شریعت مخالف اور یاسق سے ملتے جلتے قوانین میں شامل ہو چکی ہیں جس کا بنانے والا پکا کافر تھا۔یہ قوانین جنہیں کچھ نام نہاد مسلمان بنا کر اسلام کے بیٹوں کو سکھا کر اس پر باپ اور بیٹے دونوں فخر کرتے ہیں پھر اس کی بنیاد ان لوگوں کو قرار دیتے ہیں جو آج کے یاسق کو تھامے ہوئے ہیں اور جو ان کی مخالفت کرے اس کو حقیر سمجھتے ہیں اور جو انہیں دین و شریعت کی پابندی کی دعوت دے انہیں ’’رجعت پسند‘‘ اور ’’تنگ نظر‘‘ وغیرہ برے القابا ت سے پکارتے ہیں (بلکہ یہود و نصاریٰ کی اہل السنہ مسلمانوں کے لئے بنائی گئی اصطلاحات کو رواج دیتے ہیں جیسے دہشت گرد انتہاء پسند)بلکہ جو دوچار اسلامی قوانین باقی بچے ہیں انہیں بھی آج کے یاسق کے مطابق بنانے کے لئے پوری طرح سرگرم ہیں کبھی سہولت اور نرمی کا نام لے کر اور کبھی مکر و فریب اختیار کر کے اور یہ صراحت کر چکے ہیں کہ وہ اپنے مختلف اختیارات استعمال کر کے دین کو ریاست سے الگ کر دیں گے اور اس کے لئے مناسب وقت کے منتظر ہیں۔تو کیا اس صورت میں کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ اس نئے دین یعنی نئے قانون کو لازم پکڑے یا کوئی باپ خواہ عالم ہو یا جاہل اپنی اولاد کو اس کی تعلیم اور اسے لازم پکڑنے اور اس کے مطابق عقیدہ و عمل بنانے کی طرف راغب کرے؟یاکسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ اس آج کے یاسق کے ماتحت فیصلہ کروائے اس پر عمل کرے اور واضح شریعت سے اعراض کرے میں نہیں سمجھتا کہ مسلمان جو دین کو جانتا ہو اس پر اجمالاً و تفصیلاً ایمان رکھتا ہو اور یہ ایمان رکھتا ہو کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جسے اس نے اپنے رسول پر نازل کیا محکم ہے اس میں باطل نہ آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے اور اطاعت اور اس رسول کی اطاعت جو اسے لے کر آئے وہ واجب ہے قطعی واجب ہر حال میں (بلکہ یہ تو توحید  و کفر کامسئلہ ہے اس کا واجب ہونا ایسا ہے جیسے ایمان و توحید کا واجب ہونا نہ کہ فروعات کا وجوب )میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کوئی صاحب استطاعت مسلمان کسی تردد و تاویل کے بغیر پوری تاکید سے یہ صراحت نہ کرتا ہو کہ اس صور ت حال میں فیصلہ کروانا (مقدمہ پیش کرنا )باطل ہے اصل باطل جس کے صحیح یا جائز ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ان وضعی قوانین کا کفر بواح ہونا سورج کی طرح روشن ہے جس پر کوئی غبار یا دائرہ نہ ہو کسی مسلمان کے لئے خواہ کوئی بھی ہو اس پر عمل کرنے اسے قبول کرنے اس کے مطابق فیصلہ کرنے میں کوئی عذر قابل قبول نہیں ہر ایک اپنے آپ کو اس سے بچائے اور ہر شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔
علماء کسی سے مرعوب ہوئے بغیر حق کا پرچار کریں اور کمی کوتاہی کئے بغیر حق کی تبلیغ کریں عنقریب مجھ سے اس آج کے یاسق کے غلام اور حامی یہ کہیں گے کہ میں تنگ نظر اور قدامت پسند وغیرہ ہوں وہ جو چاہیں کہتے رہیں میں نے کبھی اس کی پرواہ نہیں کی لیکن میں وہی کہوں گا جس کا کہنا مجھ پر واجب ہے۔
						(عمدۃ التفاسیر لاحمد شاکر)

امام علامہ مفتی دیار سعودیہ شیخ محمد بن ابراہیمؒ

شیخ محمد ابراہیمؒ فرماتے ہیں :جسے کفر دون کفر کہا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ اس اعتقاد کی نافرمانی کر رہا ہے اور اللہ کا قانون ہی حق ہے کے باوجود ایک غیر اللہ کو حاکم بنائے یا اسی طرح کچھ کرے لیکن ان قوانین کو مرتب کرنا اور ان کے آگے جھکنا کفر ہے اگرچہ وہ یہ کہیں کہ ہم نے غلطی کی اور شریعت کا حکم ہی مبنی بر انصاف ہے تو یہ کفر ہے ملت سے خارج کر دیتا ہے۔(مجموع الفتاویٰ الشیخ محمد بن ابراہیم، از محمد بن عبدالرحمن القاسم)

شیخ علامہ صالح الفوزان

یہ جزئی غیر متکرر حکم اور اس عام حکم کے مابین فرق کرتے ہیں جو تمام یا اکثر احکام کا مرجع ہو اور یہ فیصلہ دیتے ہیں کہ یہ مطلقاً کفر ہے ملت سے خارج کر دیتا ہے یہ اس لئے کہ جو شریعت اسلامیہ سے کنارہ کش ہو کر وضعی قوانین کو اس کا متبادل بنائے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ قانون کو شریعت سے بڑھ کر اچھا اور خیر خواہ سمجھتا ہے تو اس کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ اس نے کفر اکبر کا ارتکاب کیا جو ملت سے نکال دے اور توحید کو ڈھا دے۔(کتاب التوحید صالح الفوزان)

علامہ شیخ عبدالعزیز بن بازؒ

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :جو اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکومت کرتے ہیں ان حکام کی چند اقسام ہیں جن کے احکام ان کے اعتقادات اور اعمال کے حساب سے مختلف ہیں تو جو اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرے اسے اللہ کے قانون سے بہتر سمجھ کر تو یہ تمام مسلمانوں کے نزدیک کافر ہے اور ایسے ہی وہ شخص ہے جو وضعی قوانین کو اللہ کے قانون کا متبادل قرار دے اور اسے جائز سمجھے خواہ اس طرح کہے کہ شریعت کو حاکم بنانا ہی افضل ہے یہ بھی کافر ہے کیونکہ جسے اللہ نے حرام کیا اسے حلال سمجھ رہا ہے یعنی جو اللہ کے نازل کردہ کے علاوہ وضعی قوانین سے حکومت کرنے کو جائز قرار دے اگرچہ یوں کہے کہ شریعت کو حاکم بنانا ہی افضل ہے (یہ اس کی ہی طرح ہے جس کا ہم نے ابھی تذکرہ کیا)جیسے کوئی کہے کہ ’’میں جانتا ہوں کہ دین محمد مخلوق کے تمام ادیان سے بہتر دین ہے‘‘۔نیز فرماتے ہیں :اگرچہ کوئی کہے کہ شریعت کو حاکم بنانا ہی افضل ہے یہ کافر ہے کیونکہ جسے اللہ نے حرام کیا اسے حلال سمجھ رہا ہے البتہ جو نفس پرستی یا رشوت یا اپنی رعایا سے بغض کی بناء پر اللہ کے نازل کردہ کے بغیر فیصلہ دے یا دیگر اسباب کی بناء پر اور وہ یہ جانتا ہو کہ وہ اس طرح نافرمانی کر رہا ہے اور اس پر واجب یہی ہے کہ اللہ کے قانون کو حاکم بنائے تو یہ معصیت اور کبیرہ کا مرتکب ہو گا۔(مجلۃ الدعوۃ شمارہ نمبر 963مورخہ 1405/2/5ہجری)

علامہ شیخ عبدالقادر عودۃؒ

یہ اخوانی تحریک کے امام اور اس کی نظریاتی کونسل کے بڑے اور مصر اور عالم اسلام کے بڑے قانون دانوں میں سے ہیں یہ توحید اور اس کے معانی کو صحیح معنوں میں جان سکے اسی لئے مصر میں قاضی اور قانونی مشیر رہے ہیں یہ وضعی قوانین سے اچھی طرح واقف ہیں اپنی عظیم کتاب ’’الاسلام واوضاعنا القانونیہ‘‘ میں فرماتے ہیں :جب قرآن وسنت کے مخالف یا شریعت کی عام بنیادوں اور شریعت کی قانونی اساس سے خارج قوانین آئیں تو یہ مطلقاً باطل ہیں کسی کے لئے ان کی اطاعت جائز نہیں بلکہ اس کے برعکس ان کے خلاف جنگ کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے (ص:6طباعت المختار الاسلامی)۔نیز فرماتے ہیں :اسلام کا یہی حکم ہے یہی مومنوں کی راہ ہے ہم پر آج ایسا دور سایہ فگن ہے جس میں برائی پھیل چکی ہے اور اکثر لوگ فساد کا شکار ہیں لوگ برائی سے روکتے نہیں اور نیکی کا حکم نہیں دیتے خود بھی نہیں کرتے اور حکام اور عوام اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اللہ کے حرام کردہ کو حلال کرتے ہیں اور حکومتیں مسلمانوں کے لئے ایسے قوانین بناتی ہیں جو انہیں اسلام سے ہٹا کر کفر پر گامزن کر دیں چنانچہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اس مشکل گھڑی میں اپنا حق ادا کرے کہ خلاف اسلام وضعی قوانین اور انہیں وضع کر کے اور ان کی حمایت کرنے والی اور اسلام مخالف نظریات کی حامی حکومتوں کے خلاف جنگ کرے (ص:18)۔اپنے اسی موقف اور ملحد شخص عبدالناصر اور اخوانیوں کے مابین ذاتی تنازعات کے تصفیے کی بناء پر 1954ء میں انہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑا اخوانیوں کی طرف منسوب آج کے مقلد اور جاہل لوگ اس سے عبرت حاصل کریں اور ان جیسی عالم اور شہید شخصیت سے نسبت کریں۔
٭٭٭


پانچویں فصل

دعویداروں کے دھوکوں کا بیان

سلفیت کے دعویدار اپنے نظریات کو ثابت کرنے کے لئے جو ٹیڑھی منطق استعمال کرتے ہیں جیسا کہ چوتھی فصل میں بیان ہوا ہم پہلے قاری کے سامنے وہ رکھنا چاہیں گے :
1	اللہ تعالیٰ نے سورۃ النمل آیت 43میں فرمایا:
{فَسْئَلُوْآ اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ}(النحل:۴۳)
یعنی:اگر تمہیں علم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھ لو۔
2	اسی آیت سے یہ قول اخذ کیا گیا کہ اللہ کے دین میں صرف وہی گفتگو کا حق رکھتا ہے جو معتمد علیہ مشائخ میں سے ہو۔
3	معتمد علیہ مشائخ سلفیت کے دعویداروں کے نزدیک وہ ہیں جنہیں وہ اس کا مستحق اور اپنے نظریات کے مطابق اس درجے کا حامل قرار دیں ایسے ہی وہ جوان مرجئی عقائد سے موافق ہو اور جامعہ مدینہ یا ام القری سے فارغ ہو۔
4	اپنے تمام مخالفین کو علم الجرح والتعدیل کے ذریعے مجروح قرار دے کر اپنے مشائخ کو ہی قابل اتباع قرار دیتے ہیں اور ان کے علاوہ ہر ایک کو پڑھنے سننے کو حرام قرار دیتے ہیں۔
5	اپنے نظریات ٹیلیفون اور ویب سائٹس ’’الیکٹرونک میڈیا‘‘ کے ذریعے جاری کرتے ہیں جس کی طرف آج کل کے پر فریب نوجوان اپنی عام و خاص زندگی میں میلان رکھتے ہیں۔
6	ان کی جرأتوں سے ایسی حالت وج د میں آئی جو علماء کو حقیر بنا کر رکھ دے سوائے ان علماء کے جو ان کے نظریات میں معتمد ہیں اور ان کے پیروکاروں میں ایسا رعب جاگزیں ہوا کہ وہ کسی اور کو نہ پڑھتے ہیں نہ سنتے ہیں اور علماء کو ساقط اور متروک جیسے القابات سے پکارتے ہیں جبکہ اہل الحدیث صرف راویان حدیث کو ان اوصاف سے موصوف کرتے ہیں اور یہ انہی کے ساتھ مختص ہیں جبکہ ان کے پاس اس جرح کی کوئی دلیل بھی نہیں ہوتی۔
7	اس راہ کا انجام یہ ہوا کہ ان پیروکاروں نے اپنے مخالف مسلمانوں کی جاسوسی کر کے اور ان کی مجالس مباحث حتی کہ ان کی ذاتی آراء کی رپورٹ متعلقہ محکمے کو پیش کرتے ہیں کیونکہ مخالف کو خارجی بدعتی اور حاکم کی اطاعت سے خارج تصور کرتے ہیں (اللہ ہی جانتا ہے کہ حاکم سے کون مراد ہے یہ تو وہ ہیں جن کے خلاف داعیان حق اور داعیان تحکیم شریعت خروج کرتے ہیں لیکن شاید وہ ہر اس شخص کو جس کے پاس حکومت کی کرسی ہو خواہ حق ہو یا باطل اور اپنے رائے سے کفریہ قوانین کے ذریعے حکومت کرسکتا ہو اسے حاکم اور واجب الاطاعت قرار دیتے ہیں )

دعویداران کی بدعات کا بطلان

٭	اہل علم سے سوال کرنا
ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ سلفیت کے دعویدارسورۃ النمل کی آیت 43کے ذریعے اپنے پیروکاروں کو فکری غلام بناتے ہیں اور انہیں اپنے مخالفین کے دلائل معلوم کرنے اور اختیار کرنے سے روکتے ہیں ان کے اس دعوے کی بیخ کنی کی خاطر ہم مکمل آیت ذکر کرتے ہیں تاکہ کسی قسم کا جوڑ توڑ یا ہیر پھیر کئے بغیر اس کا مکمل مفہوم صحیح طور پر معلوم کرسکیں ارشاد فرمایا:
{وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالاً نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ فَسْئَلُوْآ اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ}
اور آپ سے پہلے ہم نے مردوں کو ہی رسول بنایا ان کی طرف ہم وحی کرتے رہے پس اگر تمہیں علم نہ ہو تو اہل علم سے معلوم کر لو۔
1	اس آیت کے سیاق سے واضح ہے کہ اللہ اس حقیقت کی تاکید فرما رہا ہے جس سے رسول اللہﷺ سے پہلے کے تمام انبیاء ورسل اور ان کے اہل علم پیروکار پوری طرح آگاہ تھے کہ وہ سب کی سب عام بشر کی طرح ہی ہیں البتہ ان پر نازل ہونے والی وحی کی بناء پر انہیں یہ فضیلت حاصل ہوئی (عمدۃ التفاسیر:337/2)۔لیکن اس سے مراد یہ نہیں کہ تمام موضوعات کے متعلق کی استثناء کے بغیر سوال اور تقلید کی جائے جیسا کہ ابھی واضح ہو جائے گا۔
2	مقلد صاحب کہتے ہیں کہ :اس آیت کے الفاظ میں ایسی کوئی قید نہیں ہے بلکہ یہ مطلق ہے یعنی تمام موضوعات میں سوال کرنا اور اہل علم کی اتباع کرنا واجب ہے اس کا ردّ درج ذیل ہے:
1	اصول فقہ کا معلوم قاعدہ ہے کہ جس معنی کو بیان کرنے کے لئے آیت اصل میں آئے وہ نص کہلاتا ہے اور اس کے علاوہ دیگر معنی جن کی آیت محتمل ہو ظاہر کہلاتا ہے جس کا درجہ نص کے بعد ہے (اصول فقہ ص 110محمد ابوزھرۃ۔اس موقف کے معروف دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ایک صحابی نے شراب پی لی جب عمرؓنے ان سے اس کا سبب معلوم کیا تو کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْآ اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا وَ اﷲُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ}(المائدۃ:۹۳)
‘یعنی :ایسے لوگوں پر جو ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو وہ کھا پی چکے ہوں جبکہ وہ لوگ تقویٰ رکھتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں پھر پرہیز گاری کرتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں پھر پرہیز گاری کرتے ہوں اور خوب نیک عمل کرتے ہوں اللہ ایسے نیکوکاروں سے محبت رکھتا ہے۔
عمرؓ فرمانے لگے اگر تو پرہیز گار ہوتا تو کبھی شراب نہ پیتا پھر ان پر حد خمر قائم کر دی۔عمرؓ کا اشارہ سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 90کی طرف تھا جو شراب کی حرمت میں نص ہے فرمایا:
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ}
یعنی :اے ایمان والو،یقیناً شراب اور جوا اور تھان اور پانسے کے تیر ناپاک ہیں شیطانی کام ہیں اس سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
یہاں نص کی اتباع کو اس ظاہر کی اتباع سے اولیٰ قرار دیا گیا جس کے مطابق پرہیز گار کے لئے ہر طرح کا کھانا اور پینا حلال قرار پاتا ہے )اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ جس کے پاس علم نہ ہو وہ اہل علم سے پوچھ لے تو اہل علم سے پوچھنے کا اطلاق اس آیت کے نص کے ماتحت ہے اور وہ انبیاء ورسل کا بشر ہونا ہے لیکن اس آیت کے ظاہر سے مطلقاً یہ استدلال کرنا کہ اہل علم سے تمام امور کے متعلق سوال کرنا واجب ہے درست نہیں بصورت دیگر یہ آیت اصلاً مقید ہوئی اس بات کے ساتھ کہ اہل علم سے رسول اللہﷺ کے متبعین مراد ہوں اور ایسے ہی یہ توحید میں بھی مقید ہوئی جبکہ توحید ان تمام امور کی بنیاد ہے جن کی معرفت کے لئے اجتہاد کیا جاتا ہے اور ان کو اسی وقت معتبر مانا جاتا ہے جب ان پر امت کا بلا اختلاف اجماع ہو جائے۔
3	اب مقلد کہے گا کہ :میرے خیال کے مطابق آیت میں اہل علم سے تمام امور میں سوال کرنے کے متعلق اب بھی کوئی قید نہیں ہے ہم اس کا جواب یہ دیں گے کہ :
     1	اگر آپ آیت کے ظاہری معنی کی مطلقاً اتباع کرنا چاہتے ہیں تو واجب آتا ہے کہ پوری آیت کی اتباع کریں نہ کہ اس کے کسی ایک حصے کی یعنی اہل علم سے رسولوں کی بشریت کے متعلق سوال کریں نہ کہ کوئی اور سوال۔
     2	یااس آیت کے عموم کا مقصد جاننے کے لئے ائمہ اہل السنۃ و الجماعۃ کے مذاہب کی اتباع کریں تب یہ واجب آتا ہے کہ آپ توحید اور اس جیسے دیگر امور میں اس آیت کے مقید ہونے کا اعتبار کریں جو ہم بیان کریں گے۔

اجتہاد اور تقلید

اس کی حقیقت کا تعلق اجتہاد و تقلید کے موضوع سے ہے تقلید ایک جاہل شخص کو اس شخص کی اندھی اتباع کی طرف لے جاتی ہے جسے اہل علم میں شمار کیا جاتا ہو اور اسے اہل علم سے سوال کرنے کا محتاج بنا کر رکھ دیتی ہے اس سلسلے میں ہم ابن قیمؒ کے ایک علمی مباحثے کی طرف اشارہ کرنا مناسب سمجھتے ہیں جو ان کی عظیم کتاب اعلام الموقعین میں صفحہ 187تا 291موجود ہے جس میں انہوں نے بڑی وسعت نظری سے مقلدین کے تمام اہم دلائل ذکر کر کے ان کا سورج کی طرح روشن دلائل سے جامع ردّ کیا ہے فرماتے ہیں :
کوئی بھی بندہ اس وقت تک ہدایت یافتہ نہیں ہوسکتا جب تک وہ اللہ کے اپنے رسول پر نازل کردہ دین کا پیرو نہ بن جائے اور اگر مقلد اللہ کے اپنے رسول پر نازل کردہ دین کا علم رکھتا ہو تو مقلد نہیں رہا بلکہ ہدایت یافتہ ہے اور اگر اللہ کے اپنے رسول پر نازل کردہ دین کا علم نہیں رکھتا تو وہ جاہل ہے گمراہ ہے خود اپنے بارے میں اس کا اقرار کرتا ہے تو اسے یہ کہاں سے معلوم ہو گیا کہ تقلید کر کے ہو ہدایت یافتہ بن گیا یہ مقلدین کے اس موضوع پر پیش کردہ ہر سوال کا جواب ہے اور انہیں کس طرح معلوم ہو گیا کہ اگر وہ ہدایت یافتہ لوگوں کی تقلید کرتے ہیں تو وہ ان کی تقلید کرنے میں بھی ہدایت یافتہ (حق بجانب)ہیں … (اعلام الموقعین لابن قیم:189/2)
اس موضوع پر یہ ایک قول فیصل ہے اگر یہ لوگ اپنے دین کا چنداں علم نہیں رکھتے حتی کہ توحید و اطاعت کا بھی نہیں تو اس بات کا ادراک کیسے کرسکتے ہیں کہ کسی کی اتباع اولیٰ ہے اور کون اقتداء کا زیادہ حق دار ہے اور کون لوگ ہدایت یافتہ ہیں کہ ان کی ہدایت کو اختیار کریں اور یہ لوگ جبکہ ان کے قدم پھیل چکے ہیں اور یہ بدعات میں مبتلا ہو چکے ہیں کیا سنت اور سلف کی اتباع کھل کرسکتے ہیں اور کیا یہ خصائص یعنی علمی رتبہ،کسی مدرسے کی سند فراغت اور سلف کی کھلی اتباع کا محض دعویٰ رجال اور ان کے حقائق کی معرفت کے شواہد بن سکتے ہیں ؟پھر اگر کوئی کہے کہ تم بھی مانتے ہو کہ جن ائمہ کی دین میں تقلید کی جاتی ہے وہ ہدایت یافتہ تھے تو ان کے مقلدین بھی لامحالہ ہدایت یافتہ ہی ہوئے کیونکہ ان کے بعد انہی کی راہ پر گامزن ہیں تو اسے کہا جائے کہ ان کے راستے پر گامزن ہونا لامحالہ ان کی تقلید کو باطل کر دیتا ہے کیونکہ ان کا طریقہ حجت کی اتباع اور اپنی تقلید سے روکنا رہا ہے جیسا کہ ہم ان شاء اللہ ان کے متعلق ذکر کریں گے تو جو حجت چھوڑ کر وہ کام کرے جس نے انہوں نے اور ان سے بھی پہلے اللہ اور اس کے رسول نے روکا ہے تو وہ ان کے طریقے پر نہ ہوا بلکہ اس کا مخالف ہوا ان کے طریقے پر وہ ہے حجت کی پیروی کرے اور دلیل کی اقتداء کرے اور سوائے رسول کے سوا کسی ہستی کا دامن نہ پکڑے کہ کتاب وسنت پر اسے مقدم کر دے اور ان دونوں کو اس کے قول پر پیش کرے یہیں سے اس شخص کا بطلان واضح ہو جاتا ہے جو تقلید کو اتباع قرار دیتا ہے اور یہ وہم اور دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے یہ تو اتباع کے مخالف ہے اللہ اور اس کے رسول اور اہل علم نے ان دونوں کے مابین واضح واضح فرق بیان کیا ہے اور حقائق بھی یہ فرق بیان کرتے ہیں اتباع تو متبوع کے راستے پر چلنا اور وہی کرنا ہے جو اس نے کیا ہے۔ہماری گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ جب یہ لوگ حق اور باطل کی معرفت نہیں رکھتے تو یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ جن کی وہ تقلید کر رہے ہیں وہ ہدایت یافتہ اور قابل اتباع ہیں ؟پھر اگر یہ لوگ کہیں کہ ان کے بڑے ہمیشہ کتاب وسنت بیان کرتے رہے ہیں اور یہ بتاتے رہے ہیں کہ وہ عَلَم سلفیت کے حامل اور سنت نبوی کے حامی ہیں اور بندگان نفس یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہی علم نبوی اور سنت مطہرہ کے حقیق وارث ہیں۔بقول شاعر۔
وکلا یدعی وصلاً بلیلیٰ	ولیلی لا تقر لھم بذاک
ہر ایک لیلیٰ کے وصل کا مدعی ہے جبکہ لیلیٰ ان کے اس دعوے کو قبول ہی نہیں کرتی
ہر دعویٰ دلیل کی بناء پر قبول کیا جاتا ہے ہم بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لوگ حق سے منحرف ہدایت سے نابلد سلاطین کے خدام اور حکام کے پیروکار ہیں اور ہماری دلیل ان کی ظاہری حالت اور ان کے اقوال ہیں۔

تقلید مقبول کی حدود 

1	بلاشبہ تقلید کی تعریف میں توحید و ایمان کے مسائل شامل نہیں ہیں ہر مکلف پر ان کا بدون تقلید علم حاصل کرنا فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار کا یہی عیب بیان کیا کہ وہ اپنے آباء و اجداد اور بڑوں کی اتباع کا دعویٰ کرتے تھے۔ارشاد فرمایا:
{ وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اﷲُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ ٰابَآئَ نَا اَوَ لَوْ کَانَ ٰابَآؤُہُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لاَ یَہْتَدُوْنَ}(البقرہ:۱۷۰)
یعنی :جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے نازل کیا اس کی طرف آؤ تو کہتے ہیں بلکہ ہم اس کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء کو پایا اگرچہ ان کے آباء نہ تو عقل رکھتے ہوں اور نہ ہی ہدایت یافتہ ہوں۔
نیز فرمایا:
{وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اﷲُ وَ اِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ ٰابَآئَ نَا اَوَ لَوْ کَانَ ٰابَآؤُہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لاَ یَہْتَدُوْنَ}(مائدہ:۱۰۴)
یعنی :جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے نازل کیا اس کی اور رسول کی طرف آؤ تو کہتے ہیں ہمارے لئے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آباء کو پایا اگرچہ ان کے آباء نہ تو کچھ عقل رکھتے ہوں اور نہ ہی ہدایت یافتہ ہوں۔
بہت سی آیات اس معنی میں بطور نص موجود ہیں سورۃ النمل کی آیت نمبر 43کے ظاہر کے متعلق بات ہو چکی ہے اس کا انطباق فقہی امور پر تو کیا جا سکتا ہے لیکن توحید کے امور پر نہیں کہ یہ ہرمسلمان پر فرض اور واجب ہے کہ محنت کر کے توحید کی بنیادوں کی معرفت حاصل کرے اور اس بارے میں علماء کی کتب پڑھے انہیں کتاب اللہ اور رسول اللہﷺ کی سنت ثابتہ پر پیش کرنے کے بعد۔
2	اس کے بعد یہ بیان ہے کہ اہل ذکر سے کون لوگ مراد ہیں اس مقام پر یہ علماء ہیں اور علماء علی مراتب اور اپنی مخصوص علمی مہارتوں میں مختلف درجات پر فائز ہیں مجتہد علماء ان ادوار میں نادر ہیں ابن قیمؒ وغیرہ نے مجتہد کے یہ اوصاف بیان کئے ہیں کہ کتاب وسنت حدیث وتفسیر اور لغت عربی کا عالم ہو تقویٰ کی شرط نہیں لگائی۔(اعلام الموقعین:44/1،الموافقات:286/4)
علم اصول کے اجتہاد و تقلید کے ابواب میں یہ مسئلہ متواتر ہے اہمیت کے پیش نظر ہم جس کی تاکید کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ مجتہد عالم سے بڑھ کر ہوتا ہے کیونکہ عالم تو حدیث کا عالم ہو گا فقیہ یا لغوی نہ ہو گا اور اگر فقہ کا عالم ہو گا تو محدث اور حافظ حدیث نہ ہو گا اگرچہ عالم کے ایک معین درجے تک پہنچنے کے لئے ان تمام علوم کا عالم ہونا لازم ہے توہر مجتہد عالم ہوتا ہے لیکن ہر عالم مجتہد نہیں ہوتا یہاں یہ بات اہم ہے کہ حدیث کا عالم بالتبع فقیہ بھی ہوتا ہے اور فقیہ بالتبع محدث بھی ہوتا ہے اور مجتہد مطلق وہ ہوتا ہے جس میں اللہ کے انعام کردہ یہ تمام علوم عقل،تقوی،عزم جمع ہو جائیں جیسا کہ ابن تیمیہؒ کے متعلق مشہور ہے کہ ’’ایسی کوئی حدیث ہی نہیں جسے ابن تیمیہ نہ جانتے ہوں ‘‘ اس نسبت سے وہ فقیہ مجتہد فِرَق اور عقائد کے ماہر علم اصول اور لغت عربی اور تاریخ و منطق کے امام ہونے (اس کے ثبوت میں ان کی کتاب ’’الرد علی المنطقیین‘‘ ہی کافی ہے اس میں وہ خالص منطقی معلوم ہوتے ہیں جیسے غزالی ماہر فلسفی تھے پھر بھی اپنی دو کتابوں ’’مقاصد الفلاسفہ‘‘ اور ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ میں فلسفیوں کا بھرپور ردّ کیا ہے)تو جو علم حدیث میں متخصص ہو اور خود کو اس میں بڑا سمجھتا ہو پھر کسی علم شریف مثلاً علم جرح و تعدیل میں دھوکہ دینا شروع کر دے تاکہ پر فریب نوجوانان کی نگاہ میں علماء کے مقام و مرتبے کو گھٹاسکے یہ شخص عالم ہوسکتا ہے نہ مجتہد۔
3	بلاشبہ علمی درجہ اور علمی سند اس کے حامل کی علمی مکانت کی اس میں موجود درجے (پوزیشن)کے اعتبار سے شاہد ہے لیکن یہ محض شاہد ہی ہے اس کی حالت اور علمیت کے مطابق سچی بھی ہوسکتی ہے اور جھوٹی بھی ذرا بتائیے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ وغیرہ ائمہ اعلام کس جامعہ سے فارغ التحصیل تھے ؟انہوں نے علماء اور محققین سے علم حاصل کیا پھر مرتبہ علم تک پہنچنے کے لئے مباحثے و مناظرے کئے مثلاً عرب عالم کے لئے یہ کافی نہیں کہ اصول دین یا آداب کے کسی جامعہ سے فارغ التحصیل ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ بلکہ لغت کی ابتداء و تحقیق کے کس معاشرے سے بھی منسلک رہا ہو۔علامہ احمد شاکرؒ بیسویں صدی میں عربی لغت کے امام تھے ان کے زندہ کارنامے ’’المتنبی‘‘ اور ’’قضیۃ الشعر الجاہلی‘‘ کے صورت میں موجود ہیں اور علامہ محمود شاکرؒ کسی جامعہ سے باقاعدہ فارغ نہ تھے۔سلفیت کے یہ دعویدار لوگوں کو اس وہم میں مبتلا کرتے ہیں کہ ان کے پاس اسانید اور علمی سندیں موجود ہیں لہٰذا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو صوفیہ اور معتزلہ کے سرکش افراد جو جامعات میں اساتذہ ہیں اور عالی اسانید کے حامل ہیں انہیں کیا کہیں گے ؟بدعت کا کسی سند یا منصب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
4	لوگوں کو مستقل دھوکے میں رکھنے کے لئے ان کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے کسی معتبر عالم کی تحریر پیش کرتے ہیں جس میں ان کے متعلق یہ شہادت ہوتی ہے کہ یہ مقالہ یا بحث جو بھی ہودرست ہے اہل السنۃ و الجماعۃ کے منہج کے مطابق ہے اور اس کو پیش کرنے والے سلفیت کے خدام ہیں ایسے ہی دیگر اقدام جو یہ لوگوں کو مستقل دھوکے میں رکھنے کے لئے کرتے ہیں کہ وہی اللہ کے دین کے حقیقی وارث ہیں اور گویا کہ وہ تحریر کوئی تعویذ ہے جو انحراف سے روکے رکھتا ہے۔اللہ جانتا ہے کہ مقید عالم کی تحریر جسے وہ پیش کرتے ہیں اس کا تعلق ان کی پیشکش کی شروعات اور جسے وہ فروغ دینا چاہتے ہیں اس کے متعلق چند نصیحتوں سے ہوتا ہے مثلاً نایف العتیبی نے اپنی کتاب ’’الحکم بغیر ماانز ل اللہ ‘‘ کے شروع میں شیخ محمد بن حسن آل شیخ کی شہادت درج کی ہے کہ انہوں نے اس کتاب کا ایک جزء پڑھا ہے اور اسے درست منہج پر قرار دیا ہے۔اس طرح کی اکثر شہادتیں وہ ان مشائخ سے دھوکے فریب اور اہل السنۃ و الجماعۃ کے ساتھ چند ایک مسائل میں اتفاق کا دعویٰ کر کے وہ اپنے چند بدعتی اور ارجائی مذہب کو چھپا کر حاصل کرتے ہیں۔
5	بہت سے علماء اساتذہ نے سلفیت کے دعویداروں کی بدعات کا رد کیا ہے مثلاً ڈاکٹر عبدالرحمن بن صالح المحمود جو جامعہ ام القری میں عقیدے کے استاد ہیں نے اپنی کتاب ’’الحکم بغیر ماانزل اللہ‘‘ میں شہادت دیتے ہیں کہ سلفیت کے یہ دعویدار اہل السنۃ و الجماعۃ سے ٹکرانے کی اہلیت نہیں رکھتے ان کی یہ کتاب علمی منہج اور پاکیزہ زبان جو اہل السنۃ کا خاصہ ہے کے اوصاف کے ساتھ ممتاز ہے جبکہ یہ دعویدار اپنے مخالفین کے لئے کسی علمی شرعی یا عقلی دلیل کے بغیر ہی لوہے کی زبانیں رکھتے ہیں۔ایسے ہی استاد ڈاکٹر محمد ابورحیم،شیخ عبدالعزیز الشایجی وغیرہ ائمہ اہل السنۃ اور حقیقی شرعی سلفیوں نے ان کاردّ کیا ہے بہت کم لوگوں نے مدخلی کے تابعدار ان دعویداروں سے تنازع کیا ہے کیونکہ ان کے سروں پر ہر موڑ پر گورنمنٹ کا ہاتھ ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہی لوگ حکم بغیر ماانزل اللہ کے لئے بنیاد فراہم کرتے ہیں اور لوگوں کی زندگی میں اللہ کے قانون کی حاکمیت کا درجہ گھٹاتے ہیں گویا یہ شراب پینا یا اجنبی عورت کو دیکھنے کی مانند ہے اور جب یہ جان لیتے ہیں کہ معیار تحقیق اور دلیل کا جواب دلیل سے دینے میں قاصر ہیں تو ٹیڑھی ٹیڑھی منطقوں کے ذریعے اپنے تابعداروں کو ان علماء واساتذہ کی کتب پڑھنے سے روک دیتے ہیں اور اپنے ہی پیروکاروں کو عدم اطمینان اور اندیشوں میں مبتلا رکھتے ہیں کہ تم شرع سے جاہل ہو حق کو نہیں جان سکتے نہ اس کی تمیز رکھتے ہو۔
6	تم پر اہل علم کی اتباع واجب ہے جو کہ ہم ہیں کیونکہ ہم علم حدیث کے عالم حامی اور سلفیت متبع اور اس کے محافظ ہیں کیا ہم قواعد علم جرح و تعدیل کے حامل نہیں ہیں کیا ہم مجروح کو مجروح اور ساقط کو ساقط قرار نہیں دیتے اور لوگ ہماری بات پر اعتماد نہیں کرتے ؟
7	لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ اپنی عقل ایک طرف رکھو اور ناموں اور غیروں کی یہ فہرست اپنے پاس رکھو جب بھی زندگی کو درپیش مسائل میں اللہ کا حکم معلوم کرنا ہو رابطہ کرو۔
8	ہر وہ عالم جس کی توثیق ہمارے مشائخ نہ کریں و ہ متروک اور ساقط ہے اس کی اتباع یا اس کے اقوال کو سننا یا اس کی کتب پڑھنا درست نہیں خصوصاً جبکہ وہ کسی ’’معتبر‘‘ عالم کی کسی تحریر کا حامل بھی نہ ہو۔

علم جرح و تعدیل

ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ یہ دعویداران علم جرح و تعدیل سے سرسری تعلق رکھتے ہیں تاکہ اپنے دشمنوں اور مخالفین کو مجروح قرار دے سکیں اس مدخلی بدعت کی بنیاد ربیع المدخلی نے اپنی کتاب ’’منہج اہل السنۃ فی نقد الرجال والکتب والطوائف‘‘ میں ڈالی اس کی اس تحریر کے بعد بے شرمی اور بے ادبی کا ایک سیلاب امڈ آیا کہ عام افراد نے اس کی کتاب کو ہتھیار بنا لیا اس کے ذریعے علماء،ائمہ اور داعیان حق پر حملے کرنے لگے اس شخص مدخلی کا معاملہ بڑا عجیب ہے واللہ یہ اس دور کا فتنہ ہے حدیث و علوم رسولﷺ سنت کے ردّ میں استعمال کرتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ تنہا اس کا حامی ہے اور جو اس کے اس جھوٹ کا پردہ چاک کریں انہیں جاہل،خائن،سنت،حدیث اور محدثین کا دشمن قرار دیتا ہے(اس کی سائٹ دیکھنے سے اس کے خبیث تجریحی مذہب اور اہل السنۃ سے اس کی دشمنی اور اس کے واضح طور پر مرجئی ہونے کا اندازہ ہو جائے گا ہم نے صرف اتنا ہی ذکر کیا ہے کہ یہ قول و عمل میں فرق کرتا ہے اور عمل کو ایمان میں داخل نہیں مانتا بلکہ اس کی فرع قرار دیتا ہے )یہ بات معلوم ہے کہ علم جرح و تعدیل اسلام کے جزیرہ عرب کے حدود سے باہر پھیل جانے کے بعد دوسری صدی ہجری کے اوائل میں شروع ہوا جب اسلام میں کچھ ایسے لوگ داخل ہو گئے جو اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے اور انہوں نے رسول اللہﷺ پر جھوٹ بولنا اور حدیثیں بنانا شروع کر دیا اس وقت محدثین نے سند کی بنیاد ڈالی اور اسے غلبہ دے کر اس کا مطالبہ کرنے لگے کہ کون حدیث رسولﷺ کی روایت کا اہل ہے پھر انہوں نے علم جرح و تعدیل ایجاد کر لیا تاکہ جو حدیث رسول بیان کرتا ہو اس کا سچا ہونا،جھوٹا ہونا،ضعیف ہونا یا مجروح ہونا بیان کرسکیں اور سنت رسولﷺ کو تبدیلی کے امکان سے محفوظ بناسکیں علماء اور حاملین شریعت نے اس میں کوئی کراہت محسوس نہ کی جیسا کہ مدخلی اپنے پیروکاروں کو باور کراتا ہے کہ یہ علماء کی غیبت،چغل خوری،اور بے ادبی ہے اور جن علماء کو امت نے قبول کیا ان کے متعلق ناقص شعور ہے۔طبقات رجال کی کتابیں عام طور پر راویان حدیث،ناقدین اور حفاظ حدیث کے متعلق ہوتی ہیں ان میں سے بعض میں رجال کی سیرتیں بھی ہوتی ہیں جیسا کہ ذہبی کی ’’سیراعلام النبلاء‘‘ خلاصہ یہ ہے کہ یہ علم راوی حدیث کے مرتبے کی تحقیق کے لئے وجود میں آیا تاکہ سنت رسولﷺ کو محفوظ بنایا جا سکے جو علماء رسول اللہﷺ سے غلط روایت نہ کرتے ہوں ان کے خلاف یہ علم زیادتی کس طرح ہوسکتا ہے یہ تو مخالف سنت روایت کو دلیل و حجت کے ذریعے منکشف و معلوم کرنے کا ایک ذریعہ ہے جب ان دعویداروں کو یقین ہو گیا کہ وہ دلیل کا جواب دلیل سے دینے میں قاصر ہیں تو دوسری موزوں طریقہ اختیار کر لیا  کہ الفاظ جرح کے لے لئے گویا وہ قینچیاں ہیں جو کسی دلیل و حجت کے بغیر کسی بھی عالم کا مرتبہ کاٹ کر رکھ دیتی ہیں یہی حال ان کے دلائل کو پیش کرنے کا ہے جن سے یہ اپنے نظریات ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ ہم واضح کریں گے کہ مدخلی اور اس کے بغل بچے عتیبی نے اپنی کتابوں میں کیا ہے۔ان لوگوں نے اپنی نیٹ کی ویب سائٹس پر ان کے نظریات کے مطابق ان کے نزدیک مجروحین کی لسٹیں تیار کر رکھی ہیں اور پھر ایسی تنگ نظری کا مظاہرہ کرنے لگے جو امت کو کمزور کر دے اور جسے بندے کی بندگی اور وضعی قوانین پر راضی و خوش ہونا ہی کیا جا سکتا ہے جبکہ رسول اللہﷺ اس کمزوری اور غافل کر دینے والی خرابی سے ہرگز خوش نہ ہوں گے ایک اور بات جس کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ یہ دعویدار لوگ حکام کو ڈھال بناتے ہیں اس طرح کی لسٹیں جاری کرنے کا مقصد یہی ہے کہ داعیان حق اور علماء اہل السنۃ کو خوفزدہ کیا جائے اس کی زندہ مثال بلال فلپس ہے کہ ان ظالموں کے ساتھ کئے جانے والے اس کے مناظرے میں لوگ یہ اسے خارجی اور سروری قرار دیتے ہیں اس بناء پر کہ اس نے لندن میں واقع مجلس اسلامی کے مرکز میں لیکچر کی دعوت کو قبول کر لیا  تھا اور اگر وہ روم کے کسی کنیسے میں لیکچر کی دعوت قبول کر لیتا تو یہ اسے ہرگز ان القابات سے نہ نوازتے۔اسی لئے بلال کو توحید سے متعلق اپنی کتاب میں تبدیلی کرنی پڑی جب ان مدخلیوں نے اسے خوفزدہ اور دھمکانے کے لیے اس کا نام مجروحین (جو جرح اگر کوئی مخالفت میں کرے تو وہ اسے غیبت سمجھتے ہیں)کی لسٹ میں شامل کر دیا۔
٭٭٭



چھٹی فصل

نئی نسل کو اس نقاب پوش ارجائی فتنے سے خود کو دور رکھنے کی دعوت !

اگرمسئلہ دین اللہ کے قانون کے مرتبے اور توحید کے فہم میں محض غلطی تک ہوتا تو اہل السنہ کے ہاں رائج حدود کے تحت عموماً اسے قبول کر لیا  جاتا اس گروہ کے ساتھ معاشرت اس وقت تک جائز ہو جاتی جب تک اللہ تعالیٰ انہیں حق سے آشنا کر دیتا جیسا کہ اخوان المسلمون کے ساتھ عنقریب ہونے والا ہے۔
لیکن اس جماعت کا معاملہ بڑا دور رس اور خراب انجام ہونے والا ہے ان کے ان سالیب نے جو ہم نے بیان کئے مجبور کر دیا کہ نوجوانوں کو اس گروہ سے دور رکھا جائے اور ان کے باطل کو توڑ دیا جائے اور انہیں اس عظیم دین سے نسبت نہ ہونے کی بناء پر بے کار اور بے فائدہ قرار دیا جائے اس بدعتی تحریک نے ایک نسل تیار کی جس کی خصوصیات درج ذیل ہیں :

1	خود کو عاجز کر دینا،جھک جانا

ا س جماعت کے پیروکاروں کی یہ بنیادی صفت ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں کی تربیت اسی نہج پر کرتے ہیں کہ جو بھی حکومت میں شامل ہو اس کے آگے جھک جاؤ اس سے ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس وقت گورنمنٹ یا حاکم کے خلاف خروج کرنا واجب ہے تو یہ خروج ہی کریں بلکہ یہ لوگ اس کا انکار کر دیتے ہیں حتی کہ محفوظ تنقید بھی نہیں کرتے حالانکہ ان سے پہلے کے مرجئہ نے بھی ایسا نہیں کیا یہ مکمل طور پر اس ڈگر پر پہنچ چکے ہیں جو صوفیہ نے اپنے پیروکاروں کے ساتھ کیا ہے کہ شیخ کے منصب کو مطلقاً بزرگ مانا جائے اور اسلامی تشخص کے منفرد گھر کو تنگ کر دیا جائے حالانکہ مشائخ کی اس تقلید کو محفوظ عقل سلیم ہرگز قبول نہ کرے گی دراصل طریقے مختلف ہیں نتائج ایک ہی ہیں بالآخر یہ دونوں اہل السنۃ و الجماعۃ کے منہج کے آگے ڈھیر ہو جاتے ہیں۔

2	مسلمانوں کی مشکلات سے عدم دلچسپی و لاپرواہی

یہ سلفیت کے دعویداروں کے منکر خطوط کا فطری نتیجہ ہے اور نوجوانان امت کے نزدیک قابل قدر علماء ودعاۃ کے متعلق معیوب الفاظ اور جھوٹے الزامات ہی نوجوانان امت کے ان دونوں گروہوں کے مابین بُعد کا سبب ہیں علاوہ ازیں یہ علماء اور نوجوانان طاغوتی حکمرانوں اور بدعتیوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس عمل کو شریعت سے خارج قرار دیتے ہیں اس صورت میں ان کے لئے بہتر یہی تھا کہ ایسی سیاست سیاستدانوں کے لئے ہی چھوڑ رکھیں اس اعتبار سے وہ خوارج میں سے ہوئے۔

3	مرعوبیت اور ذہنی شکست

جو کچھ بیان کیا جا چکا ہے اس کا طبعی نتیجہ یہ مرعوبیت اور ذہنی شکست ہے جس پر دعویداروں کے پیروکاروں کی تربیت کی جاتی ہے چنانچہ یہ لاپرواہی ہی دراصل مرعوبیت کا اور حالات حاضرہ کی کڑواہٹ کو مان لینا اور اس کے آگے سرتسلیم خم کر لینا شکست کا سبب ہیں اور یہ بات تو واضح ہے کہ طاغوت کی حکمران ایسی ہی صفات پسند کرتے ہیں اس لئے ہمیشہ سے کہا جاتا رہا ہے کہ ارجائیت بادشاہوں کا پسندیدہ دین ہے کیونکہ یہ انہیں فساد کی اجازت دیتا ہے اور رعایا کو اسی فساد کے ذریعے ان کا مطیع بنا دیتا ہے لیکن سلفیت کے ان دعویداروں نے اپنے پیروکاروں کو اس فسادنہیں بلکہ علم جرح و تعدیل کے دھوکوں اور جہل سے مزین علمی اسانید ومراتب کے ذریعے فرمانبردار بنایا ہے۔

4	شریعت سے جہالت

ان دعویداروں کا اپنے پیروکاروں کو اپنے مخالفین کے نظریات جاننے اور ان کی کتب پڑھنے سے روکنے کا نتیجہ ہے یہ کسی کو بھی متروک قرار دیتے ہیں جس کا نتیجہ شریعت سے عمومی جہالت کی صورت میں نکلتا ہے جو پیروکاروں کو اندھیرے میں رکھتی ہے کیونکہ وہ صرف وہی پڑھتے ہیں جو انہیں پیش کیا جائے انہیں اختیار اور تحقیق کی آزادی ہی حاصل نہیں لہٰذا وہ جاہل ہی رہے اور ان پر اہل علم سے سوال کرنا واجب ہوا ایسے ہی دیگر دھوکے حیلے۔

5	خود کوبڑا سمجھنا اور بے ادب ہونا

یہ پیروکاروں کو اپنے بڑوں سے وراثت میں ملی ہوئی ایک عادت ہے جیسا کہ ہم ذکر کر آئے ہیں شریعت اور شرعی علوم سے جہالت اور کوتاہ نظری کے باوجود ان کے بڑے مصطلح حدیث کی مبادیات پر اکتفاء کرتے ہیں اور ہر وقت اپنے پیروکاروں پر اسی کا رعب جھارتے ہیں ان کے پیروکار دھوکے میں آ کر اپنے بڑوں کو علماء و ائمہ برحق سمجھ کر ان کی پیروی اور امت کے نزدیک مقبول ائمہ کی شان گھٹانے میں لگ جاتے ہیں حالانکہ کوئی بشر غلطی سے مبرا نہیں اس طرح بڑائی کے احساس میں مبتلا ہو کر یہ لوگ اپنے علم و دین اور عقل و شعور میں بڑھ کر علماء و ائمہ کی بے ادبی کرتے ہیں۔

خاتمہ

ہم اپنے اس کتابچے میں سلفیت کے دعویداروں کے بنیادی نظریات اور سلفیت کی حمایت اور علم نبوی کی وراثت کے حامل ہونے کے متعلق ان کے پروپیگنڈے کو بیان کیا ہے اور واللہ یہ باتیں کبھی ہنساتی ہیں اور رلاتی ہیں۔اس کا اکثر حصہ ہم نے ان کے پیروکاروں پران کے اثرات کے بیان میں رکھا ہے ہمارا ایمان ہے کہ اگر ان کے بیان کردہ اس فساد کی اصلاح کی کوئی امید ہے تو وہ صرف ان کے پیروکاروں کے بدعت سے سنت کی طرف آ جانے کی ہے خود ان کے بڑوں کے متعلق نہیں کیونکہ بدعتی سے توبہ کی امید نہیں کی جا سکتی جیسا کہ ہمارے سلف صالحین اپنے وقت کے گمراہوں کے متعلق فرماتے تھے اور پیروکار تو پھر پیروکار ہی ہیں ہم اللہ سے دعاگو ہیں کہ وہ حق کے حامی و مطیع بن جائیں نہ کہ باطل کا حصہ رہیں۔
ہم بڑے وثوق سے کہتے ہیں کہ یہ دعویداران:
1	مرجئہ ہیں :جبکہ مسئلے کا تعلق ان امراء و حکام سے ہو اللہ کے نازل کردہ کے بغیر قانون سازی کرتے ہیں۔
2	خوارج ہیں :اہل السنہ کے متعلق اپنے موقف کے تعلق سے یہ ایسے ہی ہیں جیسا خوارج کے متعلق کہا گیا کہ وہ بت پرستوں کی مسلمانوں کے قتل میں مدد کرتے ہیں۔
3	صوفیہ ہیں :اپنے پیروکاروں کی تربیت اور انہیں مشائخ کے اس منصب کے آگے جھکانے کے تعلق سے جو صوفیہ کے نزدیک اولیاء کا ہم معنی ہے۔
4	سیکولر ہیں :سیاست کو دین و شریعت سے الگ کرنے کے تعلق سے حالانکہ اللہ نے ہر مکلف کے لئے اسے لازم کیا ہے کیا یہ لوگ عمرؓ کا یہ فرمان بھول جاتے ہیں کہ :’’تم لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور اللہ نے جو مجھے تمہارا امیر بنایا ہے اس کے متعلق خیر خواہی کرنے پر میری مدد کرو‘‘ (الخراج از ابویوسف:ص 140)۔حاکم کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور خیرخواہی کرنا عمرؓ نے یہ فہم رسول اللہﷺ کی سنت سے حاصل کیا جسے یہ دعویدار نہ سمجھ سکے۔اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی اس حالت سے سوائے جہالت،اندھی تقلید،مشائخ کے آگے سرتسلیم خم کرنا اور جھکنے،معترض کو دھتکار دینے،لاپرواہی،مسلمانوں کے مقابل دشمنان دین کی صفوں میں کھڑے ہونے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا جیسا کہ ان کے عمل سے قطعاً ثابت ہے خواہ وہ کچھ بھی کہتے رہیں۔آخر میں ہم ان نوجوانوں سے جوان کے دھوکوں میں گرفتار ہیں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ :
٭	دعویداروں کے ان جھوٹے اور پر فریب کلمات کے دھوکے میں نہ آئیں جیسے ’’متروک‘‘ یا لیس بشیٔ(کچھ بھی نہیں )وغیرہ جو اپنے مقام تو حق ہیں مگر جس مقام کے لئے انہیں دعویدار استعمال کرتے ہیں وہ باطل ہیں۔
٭	ان کے ان خطرناک نظریات اور ان کے نتائج سے اپنے آپ کو بچائیں کیونکہ نتیجہ اس کے درست یا غلط ہونے پر شاہد ہے وہ مقدمات درست نہیں ہوسکتے جن کا نتیجہ علماء کو گالی دینا اور انہیں کمتر سمجھنا ہو یہ محض ایک اور فرقہ پروری ہے خواہ اس کی کچھ بھی دلیل دیں۔اور وہ مقدمات بھی درست نہیں ہوسکتے جن کا یہ نتیجہ یہ نکلے کہ دین و شریعت کی اتباع کرنے اور اسے قانون ماننے والوں سے دشمنی رکھی جائے اور جو ان داعیان حق کو قتل کریں اور اپنے لشکروں کو تیار رکھے دشمنان امت کی سرکوبی کے لئے نہیں بلکہ ان کے بقول اسلامی ریلے کو روکنے کے لئے گویا اسلامی ممالک میں بہت سے اسلامی ریلے موجود ہوں۔یہ مقدمات درست نہیں ہوسکتے خواہ اس کے کیسے ہی دلائل دیں۔جیسا کہ عمرؓ نے ابوموسیٰ اشعریؓ سے اپنے خطاب میں فرمایا تھا کہ :’’تمہارے پاس جو جھگڑا فیصلے کے لئے آئے اسے خوب اچھی طرح سمجھو اس میں خوب غور و فکر کرو‘‘ یہ فیصلہ کن خطاب ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ان دعویداروں کو محروم رکھا ہے جو خلیج کی پہلی جنگ کے بعد راتوں رات خاص منصوبے کی تکمیل کی خاطر ظاہر ہوئے۔
اے سلطنت کے بادشاہ تو ہمیں حق ہی دکھا اور اس کی اتباع کی توفیق دے اور باطل کو باطل ہی دکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق دے اور اس راستے کی ہدایت دے جس پر چل کر تیرے دین کی اتباع ہو تیرے داعیان اور علماء حق دوستوں کی اتباع ہو جو دعوت کے ذریعے تیرے دین کی مدد اور حاکم اور محکوم کی خیرخواہی کرتے رہے۔یقیناً تو سننے والا دیکھنے والا ہے۔
وآخر دعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین۔
				ڈاکٹر طارق عبدالحلیم


ملحقہ بحث 
عتیبی کی کتاب  ’’الحکم بغیر ماانزل اللہ ‘‘ کا ردّ

بسم اﷲ ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ۔ وَ اِنَّ اَوْہَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوْتِ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ
تمام گھروں میں سب سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش وہ جانتے ہوں۔(العنکبوت:۵۱)

مقدمہ 

ہر تعریف اللہ کے لئے جس نے حق ظاہر کیا اور اسے نور عطا کیا جسے ہر وہ شخص جان سکتا ہے جو رسول اللہﷺ کی سیرت کو راہنما بنائے اور اس کے دل پر خواہشات و بدعات کے اندھیروں کا راج نہ ہو اور اس کا فہم تحریف و ہیر پھیر کے جرثوموں سے آلودہ نہ ہو۔اس کے بعد،
ایسی بہت سی تالیفات ہیں جو اہل السنۃ و الجماعۃ کا نام استعمال کرتی ہیں جبکہ فی الحقیقت وہ اہل السنۃ و الجماعۃ کے منہج نظر واستدلال کے خلاف ہوتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مولفین اہل السنۃ کے چند مفاہیم و قواعد کو بنیاد بناتے ہیں جبکہ حقیقت میں اہل السنۃ و الجماعۃ کا منہج نظر اس سے کہیں بڑ کر ہوتا ہے محض قواعد و احوال کسی مذہب و تصور کی بنیاد نہیں بن سکتے بلکہ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان قواعد و اصول کو جاری اور مرتب کیا جائے کہ اس سے جو استنباط حاصل ہو وہ مقررہ اصولو ں ،فروع ثابتہ،کلیات عامہ اور جزئیات خاصہ کے مطابق ہو اگر اصول و قواعد میں اس زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ان سے بدعت کے صدور کا امکان نہیں رہتا جیسا کہ عتیبی ایسا نہیں کرتا ہماری زیر بحث عتیبی کی کتاب کے ابتدائی صفحات پڑھ کر قاری اس نتیجے پر پہنچ جائے گا کہ اس کا مولف ایسی ہی غلطی پر ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جیسا کہ ہم آئندہ ثابت کریں گے ان شاء اللہ ان تمام غلطیوں کی بنیاد اللہ کی نازل کردہ اور انبیاء کی بیان کردہ توحید کا غلط فہم ہے کہ جس توحید کی اساس و بنیاد اکیلے اللہ کے تمام احکام کی مطلقاً اطاعت (یعنی ہر شرط اور قید سے خالی اطاعت)ہے جبکہ ان لوگوں نے اس مطلق اطاعت اور عام اطاعت دونوں ہی کو برابر قرار دے دیا ایسی مطلق قانون سازی اور عام قانون سازی (جو عوام الناس اپنے معاملات کی انجام دہی کے لئے کرتے ہیں )ان دونوں کو برابر قرار دے دیا۔حالانکہ توحید کے معنی اور تعریف سے واقف شخص ان دونوں کے مابین فرق جانتا ہے ایسے ہی انہوں نے اللہ کی شریعت کو مطلقاً حاکم ماننے اور اس کے سوا ہر قانون کے مطلقاً معتبر نہ ہونے کو شریعت کی ان فروعات کی مانند قرار دے دیا جو ایک نبی سے دوسرے  نبی تک مختلف ہوتی رہتی ہیں پھر انہوں نے اسے احکام شرعی میں سے قرار دے دیا جبکہ یہ اپنی تعریف کے مطابق اپنی عام مطلق کلی کے تابع ہے اس طرح وہ درست منہج اور سیدھے رستے سے گمراہ ہو گئے۔
عتیبی کے موقف کا خلاصہ یہ ہے :
1	وہ کسی مسلمان کو صرف اعتقاد کی بناء پر ہی کافر قرار دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ کوئی مطلقاً کفر نہیں ہوسکتا اگرچہ اپنی کتاب میں اس کے علاوہ بھی دعویٰ کیا ہے۔
2	تمام افعال کا ایک ہی درجہ ہے خواہ عقیدے سے متعلق ہویا فرع سے۔
3	اعمال طاعت اور اعمال توحید ایک جیسے ہیں ان میں کوئی فرق نہیں۔
4	ظاہر میں صرف مکذّب یعنی جھٹلانے والے کی تکفیر کی جائے گی جاحد اور مستحل کا کفر اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ تصریح کر دیں۔
کتاب کے سرورق پر ایسی تدلیس موجود ہے جو کسی عالم شخص سے سرزد نہیں ہوسکتی وہ یہ ہے کہ جہاں درمیان میں مولف کا نام آنا چاہیئے تھا وہاں فضیلۃ الشیخ محمد بن حسن آل شیخ کا نام لکھا ہوا ہے تاکہ یہ دھوکہ اور وہم دیا جا سکے کہ اس کتاب کو شیخ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے پھر پہلے صفحے پر شیخ کی تفریط ہے جس میں انہوں نے صراحت سے لکھا ہے کہ ’’انہوں نے اس کتاب کا صرف ایک حصہ پڑھا ہے‘‘ اور ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ساحصہ ہے لیکن اتنا یقین ضرور ہے کہ یہ مختلف گوشے ہوں جو اس طرح مرتب ہوں گے جن سے یہ وہم پیدا ہو کہ یہ اہل السنہ کی حمایت میں ہیں پھر جب عتیبی نے اسے طبع کرنا چاہا ہو گا اس وقت شیخ نے اس کتاب کا مکمل رخ نہ دیکھا ہو گا۔
اس شخص کی چالاکی میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس نے مرجئہ اور ان کے مذہب کے شبہات کی خود سے نفی کی ہے (صفحہ 25ومابعد)اور ناقص اور کمزور غیر شافی و کافی طرز پر ان کی تردید کی ہے جو بعض اوقات اس کے اپنے ہی خلاف جاتی ہے نہ کہ حق میں جیسا کہ ہم بیان کریں گے ہم اس کتاب کی مباحث یکے بعد دیگرے بیان کریں گے اور ان میں جو باتیں اہل السنۃ و الجماعۃ کے نزدیک حق ہیں ان کی تائید کریں گے اور جو سلفیت کے دعویداروں کے نظریات کے متعلق ہیں جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں ان کا قلع قمع کریں گے (ملاحظہ ہو ’’ادعیاء السلفیۃ مذاھبھم وانحرافاتھم‘‘ از طارق عبدالحلیم یعنی کتاب کا انگلش ترجمہ بعنوان The Counterfiet of Salfisکنیڈا 2004ء)ان فقرات کا یہ مقصد نہیں کہ ہم ’’اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم کرنے ‘‘ کے خلاف دلیل قائم کریں گے کیونکہ سلف و خلف میں سے ہر اس شخص کے نزدیک جسے اللہ تعالیٰ نے نظر سدید سے نوازا ہو اس موضوع کا ایک خاص مقام ہے بلکہ یہ مقصد ہے کہ لوگوں کے مابین پھیلائے گئے اس کے دیگر پہلوؤں کی تردید کی جائے کیونکہ جو ایام ہم بسر کر رہے ہیں ان میں مقاصد و مفاہیم اختلاط و اضطراب کا شکار ہیں اور اعمال قصد و فہم کے اعتبار سے بے راہ روی میں مبتلا ہیں لیکن پھر بھی ہماری کوشش ہو گی کہ اہل السنۃ و الجماعۃ کے مذاہب کو مختصر طور پر ثابت کریں اور عتیبی کے بیان کردہ دعویٰ سلفیت کا پول کھولیں جس کی بنیاد گول مول دلائل اور من گھڑت اصول ہیں۔

بحث اوّل :قواعد جن کا جاننا ضروری ہے

اس میں عتیبی نے چھ قواعد سے بحث کی ہے جن کے ذریعے وہ توحید کے ستون گرا کر اپنے مذہب کو ثابت کرنا چاہتا ہے اور اس پر یہ عنوان کہ ’’جن قواعد کا جاننا واجب ہے‘‘ ڈال کر یہ وہم دینا چاہتا ہے کہ ان کا جاننا واجب ہے اور ابتداء ایسے کرتا ہے کہ ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ یہی اختلاف کی بنیاد ہیں۔
1	عتیبی اپنے پہلے قاعدے میں بیان کرتا ہے کہ:
 ’’اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم کرنا‘‘ ہر مسلمان پر فرض ہے اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ قاری کے دل میں اپنا گھر کر لیے اس سے پہلے کہ ’’اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے ‘‘ کی کفریہ صورت یعنی مطلق قانون سازی کو معمولی قرار دینے کی کوشش کرے چنانچہ پہلے ’’اللہ کے ناز ل کردہ کے مطابق حکم کرنے ‘‘ کی اہمیت کو ذکر کرتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس نے اسے شریعت کی فروعات کے برابر قرار دیا ہے خواہ سلبی ہو یا ایجابی نماز،زکاۃ،داڑھی رکھنا،پردہ کرنا یہ سب فرائض ہیں ایسے شراب نوشی،زنا،اجنبی عورت کو دیکھنا حرام ہیں اور انہیں چھوڑنا ہر مسلمان پر فرض ہے تو کیا وہ شخص جو اللہ کے نازل کردہ کے بغیر قانون سازی کرے اور لوگوں کواس کا غلام بنا دے اور وہ شخص جو داڑھی کاٹ ڈالے برابر ہوسکتے ہیں ؟اگر سچے ہو تو کوئی دلیل پیش کرو یہ اعتراض درست نہیں کہ فرائض کے مختلف درجات ہیں کیونکہ بہرحال فرض کے درجے سے الگ نہیں اور جو فرق کرتا ہے وہ اسے واضح کرے اس کی تعریف کرے۔
2	دوسرے قاعدے میں یہ بیان کرتا ہے کہ:
 ’’مکفرات یعنی کفریہ اعمال میں سے کسی کے ارتکاب سے کفر لازم نہیں آتا‘‘ یہ عام کلام ہے جس کی کفر اکبر کے امور کے ساتھ تخصیص ضروری ہے جن میں علم اور بلاغ (یعنی رسالت پہنچنے )کی شرط نہ لگائی گئی ہو بصورت دیگر رسول اللہﷺ کی بعثت سے قبل کفار قریش کافر نہ ہوئے (کیونکہ نہ انہیں علم تھا نہ ان تک رسالت پہنچی اور وہ کفر اکبر بھی کرتے تھے )یہ خلاف اجماع ہے پھر اگر اس کلام کو ظاہر پر حمل کیا جائے تواس پر کوئی غبار نہیں اِلَّا یہ کہ متکلم کا مذہب معروف ہو اور وہ مکفرات یعنی کفریہ اعمال جن کے مرتکب کی محض ارتکاب کی بناء پر تکفیر نہ کی جائے چند طرح کے ہیں :شریعت میں اس کفر کا اطلاق نہ کیا جائے یعنی وہ کفر عملی یا کفر اصغر کی قبیل سے ہوں جیسے سنت میں بھاگے ہوئے غلام اور شوہر کی ناشکری بیوی پر کفر کا اطلاق کیا گیا ہے یہ کفر اکبر اس وقت ہی کہلائے گا جب ایسا کرنے کو حلال سمجھ لیا جائے۔بعض کے کفر ہونے پر اجماع ہے مثلاً عام یا کلی قاعدے یا کسی متواتر یا ضروری علم دین کا انکار کر دینا ان کا منکر اسی وقت کافر ہو گا جب اسے علم ہو یا اس تک پہنچ جائے اس بحث کا مقام کفر جہل کی قبیل سے ہے (اس کی تفصیل کے لئے ہماری کتاب ’’الجواب المفید فی حکم جاہل التوحید‘‘ ملاحظہ ہو)جو مجموعۃ الموحدین کی جانب سے شائع کی گئی ہے )وہ مفکرات یعنی کفریہ اعمال جن کا مرتکب علم و بلاغ کی حجت کے بغیر ہی کافر ہو جاتا ہے وہ ہیں جن کا تعلق توحید سے ہو جو دین کی بنیاد اور رسالت کا ماحصل ہے ہم عتیبی سے پوچھتے ہیں کیا رسول اللہﷺ پر سب و شتم کرنا اس کے عام قاعدے کے تحت ہے (اس بارے میں ابن تیمیہ کی کتاب ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘ ملاحظہ ہو)یا اس سے سب و شتم مستثنیٰ ہے اور عموم میں اگر استثناء کر دیا جائے تو اس کا عموم باقی نہیں رہتا اس خاص ہونا ہی درست ہے۔
3	تیسرا قاعدہ کہ:
 ’’حاکم کے کفر سے اس کے خلاف خروج کا جواز لازم نہیں آتا‘‘ درست یہ تھا کہ یوں کہیں کہ ’’حاکم کے کفر سے اس کے خلاف خروج کا جواز ہر حال میں لازم نہیں آتا اِلَّا یہ کہ خروج کے جواز کی تمام معتبر شروط پائی جائیں جیسے قدرت وغیرہ‘‘ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ عتیبی ان کا مخالف ہے کیونکہ بعد میں اس نے ان شروط کا اقرار کیا ہے ان دونوں جملوں میں جو چیز فرق کرتی ہے یہ وہ پہلو ہے جو عتیبی کے نص میں ہے کہ اصل خروج کا جائز نہ ہونا ہے جبکہ یہ درست نہیں کیونکہ اصل عتیبی کی ذکر کردہ لازمی شروط پائے جانے کے وقت اس جیسے حاکم کو زائل اور ختم کرنا ہے پھر بھی ہم عتیبی کی بیان کردہ دوسری شرط کہ ’’حاکم پر حجت قائم کی جائے‘‘ کی وضاحت کو ضروری سمجھتے ہیں کہ اس شرط کا مطلب ہے یہ شرط عتیبی کے اس قاعدے کے تحت ذکر کردہ نصوص سے تو ثابت نہیں ہوتی بلکہ ان تمام نصوص میں کسی استثناء کے بغیر قدرت کی شرط ہے کہ اس کے بدلے میں کسی مسلمان کو لایا جائے اور اس خروج میں کوئی بڑا فساد نہ ہو یہ سب درست ہیں لیکن عتیبی یہاں یہ شروط کہاں سے لایا یا یہ خود اس کی اضافہ کردہ ہے تاکہ اپنی تدلیس کے لئے ابتدائی بنیاد فراہم کرسکے۔پھر عتیبی کے نزدیک اقامت حجت کی کیا شروط ہیں کیا یہ کہ وہ خود کسی بھی حاکم کے مقابل جا کھڑا ہو اور اس کے سامنے اسلام اور توحید کی تشریح کرے پھر اگر وہ تکبر کرے اور نہ مانے تو اقامت حجت درست ہو گی یا یہی کافی ہے کہ کوئی بھی کھڑا ہو جائے یا یہ کہ جہالت کے منافی علم منتشر ہو کہ لوگوں پر اللہ کے حکم کو قائم کرنے کا مطالبہ کرنے والے لوگوں کی جانب سے جاری کردہ کتب و لٹریچر اس بارے میں گفتگو کرتا ہو جن میں دلائل و براہین بھی موجود ہوں کیونکہ حجت کو سمجھنا یا قبول کرنا حجت کو قائم کرنے اور پہنچانے سے الگ ہے (ملاحظہ ہو الجواب المفید صفحہ 118بحوالہ ’’رسالۃ الکفر الذی یعذر صاحبہ بالجھل والذی لایعذر‘‘ از علامہ ابوبطینؒ)بسا اوقات حجت ڈائریکٹ پہنچانے یا جہالت کے منافی علم کے منتشر ہونے سے بھی قائم ہو جاتی ہے رسول اللہﷺ نے ہر حربی و مقاتل کافر کو انفرادی طور پر حجت قائم نہیں کی بلکہ جس علم کی طرف آپ کی دعوت تھی اس کے منتشر و عام ہونے کو ہی اقامت حجت کے لئے کافی جانا(عتیبی نے اپنی کتاب میں ’’وجادلھم بالتی ھی احسن‘‘ کے عنوان کے تحت حکام سے متعلق مسئلے کی طرف راہنما ایک علمی مناقشے کا اضافہ بھی کیا ہے اور اپنے موقف کے لئے درج ذیل قول سے دلیل لی ہے:شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اپنے فتاویٰ :434/16میں فرماتے ہیں کہ :’’ہر مخطی کافر نہیں ہوسکتا خصوصاً ان باریک مسائل میں جن میں امت کے مابین بہت اختلاف ہے‘‘ نیز فتاویٰ :466/12میں فرماتے ہیں :کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کی تکفیر کرے اگرچہ وہ غلطی اور خطاء کرے حتی کہ اس پر حجت قائم کر دی جائے اور اس پر حجت واضح ہو جائے اور جس شخص کا ایمان یقین کے ساتھ ثابت ہو تو وہ شک کی بناء پر زائل نہیں ہو گا بلکہ اقامت حجت اور شبہے کو زائل کرنے کے بعد ہی زائل ہو گا ‘‘۔ہم بتا چکے ہیں کہ ابن تیمیہ خطاء کار اور گناہ گار کے متعلق محو گفتگو ہیں اور ہم اللہ کے نازل کردہ کے بغیر قانون سازی کی صورت میں حکم کرنے کو گناہ تسلیم نہیں کرتے لہٰذا اس اختلاف پر یہاں سے دلیل لینا درست نہیں اور باریک مسائل سے ابن تیمیہؒ کی مراد وہ مسائل ہیں جو صفات باری تعالیٰ سے متعلق ہوں جیسا کہ صفت قدرت کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ایک حدیث پیش کی ہے جس میں ایک شخص نے اپنی راکھ کو بکھیرنے کی وصیت کی تھی اس موقع پر ابن تیمیہؒ نے یہ بات لکھی ہے ملاحظہ ہو ہماری کتاب ’’الجواب المفید‘‘ یعنی یہ اس شخص کے متعلق ہے جس سے مخفی مسائل میں لاعلمی کی بنیاد پر کفر صادر ہو نہ کہ کتاب وسنت اور معتبر علماء کے اجماع سے ثابت شدہ مسائل کے متعلق )۔
4	چوتھا قاعدہ کہ :
اعمال میں اصل میں عدم تکفیر ہے اور اسی اصل پر ہی تکفیر طاری ہے اور اس سے منتقل کر دیتی ہے ‘‘ قاعدے کی ظاہری وضع باطنی ارجائیت کا پتہ دیتی ہے کیونکہ اعمال کی کوئی اصل نہیں ہوتی بلکہ وہ علتوں یا بنیادوں کے ماتحت ہوتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ عتیبی یہ قاعدہ کہاں سے لے کر آیا ہے اگر وہ یہ کہتا کہ کچھ اعمال ایسے بھی ہیں کہ بظاہر ان کے مرتکب کی تکفیر نہیں کی جاتی تب یہ درست ہوتا لیکن تمام اعمال کے متعلق عموماً یہ کہنا کہ ان میں اصل عدم تکفیر ہے یہ کہیں سے ثابت نہیں اور وہ شخص جس کا اسلام ثابت ہو پھر وہ گناہ کر بیٹھے یا کوئی تاویل کرے تو علماء نے اس کے اسلام سے خارج ہونے میں اختلاف کیا ہے جیسا کہ ابن عبدالبرؒ سے منقول ہے ابن عبدالبرؒ  کا کلام صریح واضح ہے کہ وہ اس شخص کے متعلق ہے جو گناہ کرے یا تاویل کرے نہ کہ مطلقاً ہر فعل کے متعلق اور اگر ہم عتیبی کا تحریفانہ وتدلیسانہ انداز اختیار کر لییں تب ہم بھی ابن عبدالبرؒ کے کلام کو اس شخص کے متعلق قرار دیں گے جو گناہ کرے (ا سے مراد فعل ہے جیسا کہ عتیبی کااستدلال ہے )یا تاویل کرے(تاویل اعتقاد میں ہوتی ہے فعل میں نہیں )یعنی کوئی بھی فعل کرے یا اعتقاد رکھے اصل یہی ہے کہ اس میں اس کی تکفیر نہ کی جائے خواہ فعل یا اعتقاد کیسا ہی ہو ایسی بات سلف و خلف میں سے کوئی نہیں کہتا لیکن اللہ کی اپنی مخلوق میں مختلف عادات ہیں۔
5	پانچواں قاعدہ :
اس بات کی دلیل کہ عتیبی توحید سے بالکل واقف نہیں اور اس بات کی بھی کہ وہ خوارج کے دلائل کو جس طرح چاہتا ہے مرجئہ کے دلائل کے ساتھ خلط ملط کر دیتا ہے اس نے جو قاعدہ بنایا ہے وہ یہ ہے کہ :’’اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم کرنے کامسئلہ کسی خاص شخص کے ساتھ خاص نہیں ہے‘‘ پھر یہ کہتا ہے کہ جو بھی کوئی حکم کرے خواہ اپنے بارے میں یا دو شخصوں کے مابین حتی کے باپ اپنی اولاد کے متعلق اور استاد اپنے طلباء کے متعلق تو وہ بھی اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے والا ہوا جو لوگ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حاکم کی تکفیر کے قائل ہیں وہ ان بھی تکفیر کریں پھر اس پر ابن تیمیہؒ کا ایک قول پیش کیا ہے جس میں کوئی ایسی دلالت نہیں ہے ابن تیمیہؒ کا فرمان قاضی کے متعلق ہے جو دو شخصوں کے مابین فیصلہ کرے تو وہ اس معنی میں حاکم ہی ہوا ابن تیمیہ نے کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو اولاد کے مابین حکم کرے وہ ان کے مابین اللہ کے نازل کردہ کے بغیر کیسے فیصلہ کرسکتا ہے اور ابن تیمیہؒ کے متعلق یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس کلام سے ان کا مقصد وہی ہے جو عتیبی اپنے قاعدے میں ثابت کرنا چاہتا ہے حالانکہ ابن تیمیہؒ کی اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے اور توحید عبودیت اور عبادت کو اطاعت قرار دینے ایسے ہی دیگر موضوعات پر گفتگو معروف ہے۔
خوارج یہ کہتے ہیں کہ جو بھی دو افراد کے مابین فیصلہ کرے تو وہ حاکم ہوا بالکل اس شخص کی طرح جو عام قانون سازی کرے اور لوگوں کو اس کا پابند بنائے اسی بناء پر وہ گناہ گار کی تکفیر کر دیتے ہیں کہ اس نے اپنی خواہش کے مطابق حکم کیا اور اس آیت کا مصداق بن گیا کہ :
{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْن}(المائدہ:۴۴)
یعنی:جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ کریں تو یہی لوگ کا فر ہیں۔
لہٰذا جو باپ اپنے اور اپنے خاندان کے متعلق اللہ کی نافرمانی کرے وہ کافر ہوا ایسے ہی استاد اور وہ شخص جس کے متعلق خوارج یا عتیبی سے سوال کیا جائے پاک وہ ذات جس نے دو اختلافوں کو یکجا کر دیا۔ہر عقلمند و کم عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ابن تیمیہؒ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر قانون سازی کرنے والے کو بچوں کے معلم کے برابر قرار نہیں دے سکتے بلکہ ان کا یہ کلام (فتاوی:170/18)تین قاضیوں والی حدیث کے متعلق گفتگو کرتے وقت کا ہے۔جس میں اصلاً ہر ایک کو عدل کا حکم ہے خواہ قاضی ہو یا غیر قاضی حاکم ہو یا غیر حاکم تو اصل گفتگو عدل کے متعلق ہے جس کا تقاضا ہر ایک سے کیا گیا ہے خواہ دو افراد کے مابین فیصلہ کرنے والا ہو یا بچوں کے مابین اس بارے میں نہیں کہ دونوں برابر ہیں جیسا کہ عتیبی ثابت کرنا چاہتا ہے اور جس عدل کا ابن تیمیہؒ نے قصد کیا ہے وہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر قانون سازی کے مقابل نہیں بلکہ اس ظلم اور ناانصافی کے مقابل ہے جو کفر دون کفر ہے تو یہ کیسے سمجھا جا سکتا ہے کہ دو بچوں کے درمیان فیصلہ کرنا اس مطلق قانون سازی کے برابر ہے جو اللہ کے حکم کے خلاف ہو اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔
6	چھٹا قاعدہ:اجمال بہت سے اشکالات کا سبب بن جاتا ہے:
یہ بلاشبہ درست ہے مگر عتیبی کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف جاتا ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔
٭٭٭



بحث ثانی :اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے کے مسئلے کی تفصیل

عتیبی نے کفر اکبر کی چھ حالتیں بیان کی ہیں :استحلال،جحود،تکذیب،تفضیل،مساواۃ،تبدیل۔پھر تین حالتوں پر کفر اصغر کا اعتبار کیا ہے۔استبدال تقنین،عام قانون سازی۔ان حالتوں میں اور ان میں موجود مسائل پر ردّ کرنے سے پہلے ہم مجملاً یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عتیبی نے دلائل ذکر کرنے سے پہلے یہ فرض کر لیا  ہے کہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنا دیگر گناہوں کی طرح ایک گناہ ہے جیسے سود اور پھر ابن عثیمین کے ایک قول (ص:18)سے یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے اور ہم بھی ہر ایک کی طرح اہل السنہ ہی کی طرف منسوب ہوتے ہیں ہم اس کی ذکر کردہ کفر اکبر کی صورتوں سے اختلاف نہیں کرتے البتہ جو تفاصیل اس نے ذکر کی ہیں ان سے اختلاف کرتے ہیں کہ اس نے عام گناہ جس کے مرتکب کو اسی وقت کافر قرار دیا جاتا ہے جب وہ اسے حلال و جائز سمجھے اور اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے والی بنیاد جو کہ کفر میں داخل کر دیتی ہے ان دونوں کو آپس میں خلط ملط کر دیا ہے۔

پہلی صورت ’’استحلال‘‘ 

اس کے دلائل سے یہی واضح ہوتا ہے جو ہم نے ابھی ذکر کیا کہ وہ دلائل اس شخص کے متعلق ہیں جو گناہ کو حلال و جائز سمجھے اور ابن تیمیہؒ نے اپنے استشہادات میں اسی علت کا ذکر کیا ہے اور ہم کہہ چکے ہیں کہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنا قانون بنانے یا مطلق قانون سازی کی صورت میں ہم اس کو گناہ میں تسلیم نہیں کرتے (بلکہ یہ کفر اکبر ہے )لہٰذا ان دلائل سے اختلاف میں دلیل لینا درست نہیں دیگر صورتوں میں ہمیں اختلاف نہیں ہے۔نیز استحلال کفر اکبر ہے خواہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے کو حلال و جائز سمجھا جائے یا کسی اجنبی عورت کا چہرہ دیکھنے کو حلال و جائز سمجھا جائے۔اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے کے کفر ہونے کے لئے اسے استحلال کے ساتھ خاص کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ عتیبی دلائل کو زبردستی اس رخ پر لانا چاہتا ہے کہ اس کی تمام صورتیں کفر اکبر نہیں ہیں ایسے ابن تیمیہؒ کے قول سے دلیل لینا بھی درست نہیں ہے جسے عتیبی نے صفحہ 18پرنقل کیا ہے کہ :’’جب انسان متفق علیہ حلال کو حرام سمجھے یا متفق علیہ حرام کو حلال سمجھے یا متفق علیہ قانون کو بدل ڈالے وہ تمام فقہاء کے اتفاق سے کافر اور مرتد ہو گیا اور دو قولوں میں سے ایک قول کی بناء پر ایسے ہی شخص کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ :
{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْن}(المائدہ:۴۴)
یعنی :جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ کریں تو یہی لوگ کافر ہیں۔
’’یعنی وہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کو حلال سمجھتا ہو‘‘ ہم اس بات کا انکار نہیں کر رہے ہیں کہ ابن تیمیہؒ نے یہاں بطور استشہاد اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم کرنے کی جن صورتوں کے متعلق گفتگو کی ہے ان میں ایک یہ بھی ہے جو ابھی ذکر ہوئی یعنی کوئی حاکم قاضی کے کسی فیصلے کو اپنے کسی مفاد کے پیش نظر ردّ کر دے تو اس کا حکم نافذ نہ ہو گا(مجموع الفتاوی:267/3ومابعد)۔اس طرح یہ ایک الگ موضوع ہوا اس کا ہمارے موضوع سے کوئی تعلق نہیں جو کہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے کی سب سے بڑی صورت ہے یعنی مطلق قانون سازی اور اللہ کے قانون کے مقابل قانون کو حلال جان کر اس کے ذریعے لوگوں کے اموال،جانوں ،عزتوں میں فیصلے کرنا۔عتیبی کو چاہیئے کہ ائمہ کے اقوال کو غور و خوض اور ان کی حقیقی مراد جان لینے کے بعد لایا کرے۔اس صورت کادوسرا مسئلہ کہ بقول عتیبی ’’استحلال دل کا فعل ہے‘‘ یہ صحیح بات ہے اس پر کوئی اشکال نہیں اس کا انکار کوئی خارجی ہی کرسکتا ہے جو شریعت مخالف مطلق فعل کی بناء پر ہی تکفیر کر دیتا ہو مگر اس بات کی ہم پھر تاکید کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ عتیبی تمام امور کو گناہوں کے ضمن میں بیان کرتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے باپ کی بیوی (اپنی سوتیلی ماں )سے نکاح کر لیے یہ گناہ ہیں ہمارا اس میں اختلاف نہیں لیکن مطلق قانون سازی اور اللہ کے قانون کے مقابل قانون کو حلال سمجھ کر اس کے ذریعے لوگوں کی جانوں ،مالوں ،عزتوں کا فیصلہ کرنا الگ مسئلہ ہے اس مسئلے میں ہمارا اس گروہ سے شدید اختلاف ہے اور عتیبی نے شیخ بن باز کے قول کو بطور شاہد پیش کیا ہے جبکہ ان کے قول کو مطلق قانون ساز کے متعلق پیش کرنادرست نہیں کیونکہ یہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے کی کفر اصغر والی دیگر صورتوں کے متعلق ہے یہ بات ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ شیخ بن باز کا یہ قول ان کے دیگر اقوال سے معارض نہ ہو جائے فرماتے ہیں :’’اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے والے حکام مختلف قسم کے ہیں جن کے احکام ان کے اعتقادات اور اعمال کے اعتبار سے مختلف ہیں تو جو اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرے اسے اللہ کے قانون سے بہتر سمجھ کر تو یہ تمام مسلمانوں کے نزدیک کافر ہے اور ایسے ہی وہ شخص ہے جو وضعی قوانین کو اللہ کے قانون کا متبادل قرار دے اور اسے جائز سمجھے خواہ اس طرح کہے کہ شریعت کو حاکم بنانا ہی افضل ہے یہ بھی کافر ہے کیونکہ جسے اللہ نے حرام کیا اسے حلال سمجھ رہا ہے یعنی جو اللہ کے نازل کردہ کے علاوہ وضعی قوانین سے حکومت کرنے کو جائز قرار دے اگرچہ یوں کہے کہ شریعت کو حاکم بنانا ہی افضل ہے (اس کی ہی طرح ہے جس کا ہم نے ابھی تذکرہ کیا)بالکل اس طرح جیسے کوئی کہے کہ میں جانتا ہوں کہ دین محمدﷺ مخلوق کے تمام ادیان سے بہتر دین ہے ‘‘ نیز فرماتے ہیں :اگر کوئی کہے کہ شریعت کو حاکم بنانا ہی افضل ہے یہ کافر ہے کیونکہ جسے اللہ نے حرام کیا اسے حلال سمجھ رہا ہے البتہ جو نفس پرستی،رشوت یا رعایا سے عداوت کی بنا پر اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرے یا کچھ اور اسباب کی بناء پراور یہ جانتا ہو کہ وہ اس طرح اللہ کی نافرمانی کر رہا ہے اور اس پر واجب یہ ہے کہ اللہ کے قانون کے مطابق حکم کرے تو یہ معصیت اور کبیرہ کا مرتکب ہو گا(مجلۃ الدعوۃ نمبر:963 ،1405/2/5ہجری)۔ توہم شیخ بن باز کے دونوں اقوال کو ایک ہی کس طرح مان لیں جیسا کہ عتیبی اور اس کے ہمنوا شیخ بن باز ودیگر ائمہ امت کے اقوال کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔اور ہمارے لئے یہی کافی نہیں کہ صرف فضیلۃ الشیخ بن باز،محدث البانی اور علامہ ابن عثیمین Sپر اکتفاء کر لیں عتیبی محض انہی پر اکتفاء کیوں کرتا ہے کیا تمام علماء امت محض انہی پر اکتفاء کرتے ہیں ؟کیا اس دور میں اور کوئی بھی عالم اس قابل نہیں کہ ان کے اقوال،فتاویٰ نقل کئے جائیں کیا یہ امت بالکل بانجھ ہو گئی ہے ؟علامہ شیخ محمد بن ابراہیم،شیخ دوسری،محدث احمد شاکر،علامہ محمود شاکر،اور پاکستانی علامہ ابوالاعلیٰ مودودیؓ یہ سب کہاں جائیں گے جیسا کہ ان کے اقوال ہم ثابت کر چکے ہیں (ملاحظہ ہو ’’ادعیاء السلفیہ‘‘ )جس سے ان کا مقصود بلاشبہ واضح ہے اللہ کی قسم جو امت اپنے علماء کو چھوڑ دے ان کے اقوال ردّ کر دے اور محض ان تین پر ہی انحصار کرے وہ نقصان میں رہے گی خواہ وہ علم کے کسی مقام پر پہنچ جائیں کیونکہ لغزش و خطا سے کوئی مبرا نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ عتیبی نے یہی راہ کیوں اختیار کی ہے اور شیخ بن باز،عثیمین کے ایسے اقوال اختیار کئے ہیں جو مجمل،مطلق،عام اور مشابہ کے قبیل سے ہیں جنہیں ان کے ایسے اقوال سے ملائے بغیر پوری وضاحت حاصل نہیں ہوسکتی اور ان کے ایسے اقوال کو چھوڑ دیا جو واضح اور مفسر ہیں اور ایک سے زیادہ معانی کا احتمال نہیں رکھتے کیونکہ اگر ایسا کریں تو پھر غلطی کے اعتراف سے فرار کا کوئی راستہ نہیں بچتا البتہ البانیؒ کے اقوال سے اس کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ ایمان اور عمل سے متعلق ان کے اقوال اسی طرز کے ہیں۔پاک ہے وہ جو نہ خطاء کرتا ہے نہ لغزش۔
عتیبی نے مسئلہ جحود میں شیخ محمد بن ابراہیمؒ کے ایک قول کو جھوٹ کے رنگ میں پیش کیا ہے۔فرماتے ہیں :’’اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں اور ان کے مابین یہ اصول مقرر و متفق علیہ ہے کہ جو دین کی کسی متفق علیہ اصل یا فرع کا اصلاً جحد (یعنی انکار)کر دے یا رسول اللہﷺ سے قطعی طور پر ثابت شدہ کسی ایک حرف کا بھی انکار کر دے تو وہ کافر ہے اس کا کفر ملت سے خارج کر دینے والا ہے ‘‘ تعجب کی بات یہ ہے کہ عتیبی نے شریعت کے بغیر حکم کرنے والے کے متعلق شیخ کی رائے ذکر نہیں کی جسے وہ کفر اکبر اور ملت سے خارج کر دینے والا کفر قرار دیتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ہم شیخ محمد بن ابراہیمؒ کے کتابچے ’’رسالۃ القوانین ‘‘ کے متعلق یہ بتا دیں کہ عتیبی نے ملت سے خارج کر دینے والے کفر کی انواع کی تقسیم اس کتابچے سے اخذ کی ہیں اور قاری کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ یہ اس کی اپنی سوچ اور فہم ہے جبکہ کسی طالب علم کو بھی زیب نہیں کہ وہ حوالہ معلوم ہونے کے باوجود اسے ذکر نہ کرے حوالہ صرف نصوص میں ضروری نہیں بلکہ تقسیمات اور ترکیبات میں بھی اہم ہے کیونکہ یہ عقل کو حسن فہم اور مکمل تصور کی طرف راہنمائی دیتی ہیں۔
جاحد یعنی انکار کرنے والا اور  مفضل یعنی راحج قرار دینے والا اور مکذب یعنی جھٹلانے والا اور مساوی یعنی بشر کے حکم کو اللہ کے حکم کے برابر قرار دینے والا ان کے حکم میں جو کچھ عتیبی نے لکھا ہے ہمیں اس سے اختلاف نہیں البتہ مفضل اور مساوی ان دو صورتوں میں ایک اضافہ کرنا چاہیں گے اور وہ ’’ظاہر پر حکم لگانا‘‘ اس قاعدے کا استعمال ہے مثلاً وہ عمل جو بظاہر گناہ ہو غیر مکفر یعنی کفر میں داخل نہ کرتا ہو اسے گناہ ہی سمجھنا چاہیئے جب تک استحلال واضح نہ ہو جائے حدیث اسامہ کا بھی یہی تقاضا ہے کیونکہ اس شخص کا آخری عمل اس کے اسلام پر دلیل تھا اور اس نے قتل سے پہلے اس کے ناقض بھی کوئی عمل (یعنی ایسا عمل جو اسلام کے اعتبار کو ختم کر دیتا ہو)نہیں کیا تھا یہاں تک کہ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔یہاں پر قرائن کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ عتیبی نے بھی تسلیم کیا ہے ایسے ہی اللہ کے حکم کو اور بشر کے حکم کو برابر قرار دینا اس کا ظاہر مساواۃ ہے یعنی برابر قرار دینا اور جو اللہ کے قانون کے علاوہ قانون کے ذریعے حکم کرے لوگوں کو اس مجبور کرے اور مخالف کو قتل کرے اس پر کم از کم مساواۃ کا شبہ قائم ہوتا ہے بلکہ اللہ کے قانون پر غیر کے قانون کو راحج قرار دینے کا شبہ لہٰذا اس صورت میں حاکم پر واجب ہے کہ وہ صراحت کرے کہ وہ اپنے وضعی حکم کو اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر ترجیح نہیں دے رہا اور نہ ہی انہیں برابر سمجھتا ہے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں  تو کیا ہماری طرح آپ بھی ہر اس شخص سے جو اللہ کے قانون کے علاوہ کو حاکم بنائے اس طرح کی تصریح کے قائل ہیں ؟اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔
اب ہم صورت ’’تبدیل‘‘ کی طرف آتے ہیں عتیبی نے اس میں اور ’’استبدال ‘‘ میں فرق کیا ہے یہ شاذ ہے کیونکہ دونوں کامادہ ’’بدل‘‘ ہے جو تبدیل اور استبدال میں برابرہ ے نیز تبدیل الشی کا معنی ہے کہ اسے بدل ڈالنا اگرچہ متبادل نہ ہو(لسان العرب:176/1)ایسے ہی جو کسی چیز کو تبدیل کر دے اس نے اسے تحریف یعنی پھیر دیا بدل دیا (ایضاً)تو تبدیل استبدال اور تحریف ہی کی مانند ہوااس سے یہ لازم نہیں آتا کہ متبادل ثابت کرے۔یہود کے ہاں واقعہ زنا میں یہی کچھ ہوا امام طبریؒ سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ کے فرمان:{ وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَہُمُ التَّوْراٰۃَ}یعنی وہ آپ کوکیسے حاکم بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :یعنی ان کے پاس تورات ہے جو میں نے موسیٰ پر نازل کی اور جسے وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ حق ہے اور میری کتاب ہے جو میں نے اپنے ایک نبی پر اتاری اور اس میں موجود ہر حکم میرا ہی حکم ہے وہ یہ بات جانتے ہیں اس کا انکار یا ردّ نہیں کرتے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس میں زانی سے متعلق میرا حکم ’’رجم‘‘ ہے وہ اپنے اس علم کے باوجود اعراض کرتے ہیں۔فرمایا:وہ میرے حکم کا علم ہونے کے باوجود اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے یہ ان کی مجھ پر جرأت  اور میری نافرمانی ہے(طبری:247/6)۔اور امام بخاری کی روایت میں ہے کہ ’’نفضھم ویجلدون‘‘ یعنی ہم انہیں رسوا کرتے ہیں اور انہیں کوڑے مارے جاتے ہیں۔اور ایک روایت کے الفاظ کے مطابق :’’لا نجد فیھا شیئا‘‘ یعنی ہم تورات میں کوئی حکم نہیں پاتے۔عتیبی کے مطابق یہود نے یہاں تبدیل کیا جیساکہ اس نے ہی استبدال اور تبدیل میں فرق کرنے کی بدعت نکالی ہے یعنی انہوں نے تورات میں تبدیلی نہ کی تھی کیونکہ آیت رجم اس میں بدستور موجود تھی بقول طبری ’’وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ حق ہے‘‘ اور میری کتاب ہے جسے میں نے اپنے ایک نبی پر اتارا اور اس میں جو بھی حکم ہے وہ میرا حکم ہے وہ یہ جانتے ہیں اس کا انکار نہیں کرتے اور نہ اسے ردّ کرتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ زانی سے متعلق اس میں میرا حکم ’’رجم‘‘ ہے مگر وہ اپنے اس علم کے باوجود اعراض کرتے ہیں فرمایا:’’وہ میرے حکم کو جاننے کے باوجود اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے یہ ان کی مجھ پر جرأت  اور میری نافرمانی ہے‘‘۔تو یہ معاملہ نافرمانی اور جرأت  کا تھا کیونکہ وہ اعراض کر رہے تھے یعنی اس کے مطابق فیصلہ نہیں کر رہے تھے توعتیبی کا امام طبری کے برعکس اس کو بلا ضرورت اس معنی میں لینا کہ انہوں نے تبدیلی کی درحقیقت نص سے وہ ثابت کرنے کی کوشش ہے جو اس سے ثابت نہیں ہوتا کیا جو صرف زبانی اللہ کی کتاب میں تبدیلی کرے اور اصل کتاب میں تغیر نہ کرے بلکہ بقول طبری جب معاملہ گھمبیر ہو گیا تو اس کا اعتراف کرے اور اسے اللہ کا حکم قرار دے یہ شخص اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو اللہ کے قانون کو مکمل طور پر مخالف قانون سے بدل ڈالے اور لوگوں کو اس کا غلام بنا دے اور جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت دیں انہیں قتل کر ڈالے اگرچہ اس پر معاملہ بھی گمبھیر بھی نہ ہو ؟اگر تم سچے ہو تو دلیل لاؤ۔اور پانچویں مسئلے کی پہلی صورت میں امام بخاریؒ کے الفاظ پر عتیبی کی تعلیق کہ :’’میں کہتا ہوں کہ یہود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کا جحد (یعنی دل سے انکار)کیا اور اس کے علاوہ کا حکم لائے اور اس کو اللہ کاہی حکم گمان کیا ‘‘ عتیبی کا یہ قول امام طبری کے فیصلے سے میل نہیں کھاتا اور دونوں کے علم میں زمین تا آسمان کا فرق ہے۔چھٹا مسئلہ اس میں عتیبی کا ابن حجرؒ سے دلیل لینا اس کے اپنے ردّ میں ہے کیونکہ قاضی عیاضؒ کا قول مرتدین کی تیسری قسم سے متعلق ہے (جیسا کہ عتیبی بھی انہیں مرتد ہی اعتبار کرتا ہے )اس لئے کہ ان کے اعتقاد میں یہ تبدیلی دین کا حصہ تھی فرماتے ہیں :’’لیکن انہوں نے زکاۃ کا جحد (دل سے انکار)کیا (یعنی زکاۃ کی ادائیگی سے انکار کیا اور ادائیگی سے رکے رہے)اور یہ تاویل کی کہ زکاۃ نبیﷺ کے زمانے کے ساتھ خاص ہے‘‘ اللہ کی قسم اگر اس کی یہ تاویل ان کے عہد رسالت سے قربت کی بناء پر جائز ہوتی تو صحابہ کرام ؓ اور علماء امت جیسے قاضی عیاض اور ابن حجرؒ وغیرہ مرتدین کی اس تاویل کا اعتبار ضرور کرتے (مگر انہوں نے اس تاویل کا اعتبار نہیں کیا اور مرتد قرار دیا )تو پھر جو شریعت کو تبدیل (عتیبی اسے تبدیلی کہے یا استبدال )کر دیں اور نئی شریعت (قانون)بنا کر لوگوں کو اس کا پابند کر دیں ان کے متعلق وہ کیا کچھ کہتے ہیں ؟اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔
ساتواں مسئلہ استبدال کے متعلق ہے جو بڑا ہی مضحکہ خیز ہے عتیبی نے ایک ایسی نئی بات ایجاد کی ہے جو عربی سے معمولی واقفیت رکھنے والا بھی تسلیم نہ کرے پھر اس پر بس نہیں بلکہ اس پر دلیل لاتا ہے تاکہ یہ وہم دے سکے کہ یہ صورت مستقل موجود ہے۔جب کومن سینس(معمولی عقل) رکھنے والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ تبدیل اور استبدال میں عملی کوئی فرق نہیں ہے۔پھر اس کی صورت بیان کرتا ہے کہ اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کا’’استبدال‘‘،تکذیب،استحلال،جحود،تفضیل،مساواۃکے بغیر اور اس بات کا اعلان کئے بغیر کہ وہ اسے حلال نہیں سمجھتا نہ برابر قرار دیتا ہے اور نہ راحج جانتا ہے اور نہ ہی انکار کرتا ہے ممکن ہے ظاہر ہے جو تبدیلی کرے (یا استبدال کرے اگر عتیبی کو  برا نہ لگے )اس سے یہ مطالبہ نہیں کیا جائے گا کہ وہ اعلان کرے کہ وہ شریعت پر اس کے علاوہ کو راحج قرار نہیں دیتا اور نہ ہی برابر قرار دیتا ہے۔پھر اسے کفر اصغر کا حکم دیتا ہے ایسی ہی اپنی دیگر خرافات۔ہم اللہ کے نازل کردہ کے بغیر عام حکم کرنے کو کفر اکبر نہیں سمجھتے اس میں ہمار ا اختلاف نہیں لیکن اللہ کے نازل کردہ کے بغیر مطلق حکم کرنا یا مطلق قانون سازی کرنا یہ الگ مسئلہ ہے سلفیت کے دعویداروں میں سے کوئی ایک بھی اس بات کی دلیل نہیں دے سکتا کہ یہ گنا ہ ہے تمباکو نوشی یا اجنبی عورت کو دیکھنے کے برابر ہے۔

عتیبی کے دلائل

پہلی دلیل :’’جائر یعنی ظالم حاکم کی تکفیر نہ کرنے پر اجماع ہے‘‘ سبحان اللہ موصوف علم جدل واستدلال کی مبادیات تک سے واقف نہیں اختلاف میں دلیل بھی مختلف پیش اور اگر ہم یہ مان لیں کہ مبدل یعنی شریعت کو تبدیل کرنے والا (یا مستبدل )گناہ گار یا ظالم ہوتا ہے تو ہرگز اختلاف واقع ہی نہ ہوتا ہم جائر کی تکفیر نہ کرنے کے اجماع اور اس بارے میں ابن عبدالبرؒ کے قول سے اختلاف نہیں کرتے لیکن ہم ان دونوں صورتوں میں فرق کرتے ہیں ایک صورت تو یہی جس پر اجماع ہے اور دوسری صورت مطلق قانون سازی کی اور سمع و بصر اور غور و فکر کی صلاحیت رکھنے والا دونوں کے مابین فرق کو اچھی طرح جانتا ہے۔
دوسری دلیل :اس صورت یعنی مطلق قانون سازی کے ملت سے خارج کر دینے والے کفر اکبر ہونے پر وافر دلائل کا موجود نہ ہونا۔ہم کہتے ہیں کہ سورۃ المائدہ کی آیت اور اس جیسی دیگر آیات جو قرآن میں بار بار آتی ہیں اور حکم اور قانون کو توحید سے قرار دیتی ہیں جو شخص ان آیات کو ان کے ظاہر اور اصل موضوع سے پھیر دے اور یہ گمان کرے کہ یہ آیات ظاہر پر اسی وقت حمل کی جا سکتی ہیں جب استحلال کی شرط لگائی جائے اور پھر اس طرح مطلق قانون سازی اور گناہ کو برابر قرار دے تو ایسے شخص اور اس کے ہمنواؤں کو دلیل کی ضرورت ہی کیا ہے وہ تو اطاعت کے معنی اور توحید کے مفہوم اور اس بارے میں اہل السنہ کے اقوال تک سے بے خبر ہیں جیسا کہ ہم وضاحت کریں گے اور ایسے ہی انہیں قواعد عامہ اور تبدیل یا استبدال سے متعلق اپنے موقف کے متعلق شارع کا مقصود معلوم کرنے کے لئے مختلف ادلہ کے اطراف کو جمع کرنے کی ہی خبر نہیں۔اللہ اس کی اور اس کے مقلدین کی بخشش فرمائے۔
اس صورت کے مسائل میں سے دوسرا مسئلہ :کہ جو مستبدل کی تکفیر کرے گویا اس نے مجرد تارک (یعنی جو اللہ کے حکم کو خواہش وغیرہ کی بناء پر ترک کر دے)کی تکفیر کی۔ہم کہتے ہیں کہ عتیبی کو یہ صورت ہی کہاں سے مل گئی چہ جائیکہ وہ اس پر دلائل پیش کرے کیونکہ مبدّل ہو یا مستبدل دونوں ہی بہرحال ایک نئی شریعت قانون بناتے ہیں ان دونوں میں سے کوئی ایسانہیں کہ حکم کو چھوڑ چھاڑ کر اپنے گھر میں بے کار بیٹھا رہے تو عتیبی نے ترک کی جو صورت ذکر کی ہے اس کا کوئی وجود نہیں یہی وجہ ہے کہ اس صورت کے لوازم بھی نہیں۔عتیبی بار بار مروزی کے اقوال پیش کرتا ہے جو ہمارے موقف کی ہی تائید کرتے ہیں وہ ایک ایسی بات کے ثابت کرنے میں خود کو تھکائے جا رہا ہے جس کا انکار اس کا مخالف بھی نہیں کرتا کہ اعمال میں صرف نماز ہی ایسا عمل ہے جس کا تارک کافر ہے (اس پر بھی فقہ میں اختلاف ہے)جبکہ اس موضوع کا ہمارے مابین اختلاف سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ معاملہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم جو ترک کا نہیں بلکہ مخالف قانون کو حاکم بنانے اور اسے لوگوں کے لئے دین ضابطہ بنانے کا ہے (دین وہ ہوتا ہے جسے لوگ بطور ضابطہ مانیں یعنی دل سے اسے تسلیم کریں اگر عتیبی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرے )پھر عتیبی نے حروری خوارج کے متعلق ائمہ اہل السنہ کے جو اقوال نقل کئے ہیں کہ وہ آیت کے ظاہر کی رو سے تکفیر کرنے کے قائل تھے اس کا دلیل کے اعتبار سے اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ کلام کو اس کے اصل معنی سے بطور تحریف پھیر دینا ہے لہٰذا آجری کا خوارج کے متعلق یہ قول کہ :’’جب وہ (خوارج )یہ دیکھتے کہ امام حق کے بغیر حکم کرتا ہے تو وہ کافر ہو گیا اور جس نے کفرکیا اس نے اپنے رب کے ساتھ شرک کیا چنانچہ یہ امراء مشرک ہوئے ‘‘ اس قول سے دلیل لینا درست نہیں کیونکہ وہ امام اور حق کے بغیر حکم کرنے کے متعلق بحث کر رہے ہیں اور یہ دونوں صورتیں ہمارے مابین اختلاف سے الگ ہیں کیونکہ ہمارے مابین اختلاف اس امام کے متعلق نہیں ہے جو حق کے بغیر فیصلہ دے جیسے بنی امیہ اور بنی عباس کے امراء کرتے رہے ان کے ادوار میں ائمہ اسلام کے اقوال مشہور ومعروف ہیں اور ابن عبدالبر،قرطبی،ابوحیان وغیرہ کے اقوال بھی اسی کے متعلق ہیں۔تیسرے اور چوتھے مسئلے کی بنیاد کس دلیل پر ہے ہمیں نہیں معلوم تیسرے مسئلے میں عتیبی بیان کرتا ہے کہ جواستبدال کی بنیاد پر تکفیر کرتا ہو تو اس سے اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے کی تمام صورتوں کی تکفیر لازم آتی ہے یہ ایسی بات کو لازم قرار دینا ہے جو لازم نہیں آتی اور ہم ایسی بات کہتے ہی نہیں جیسا کہ گزر چکا ہے۔
چوتھا مسئلہ کہ :جواستدلال کی بنیاد پر تکفیر کرے اس کے لئے لازم ہے کہ گناہوں کی بنیاد پر بھی تکفیر کرے۔سبحان اللہ العظیم۔عتیبی پہلے بھی یہ بات بیان کر چکا ہے ہمارے قول سے یہ لازم نہیں آتا کیونکہ جس صورت کے مرتکب کی اہل السنہ تکفیر کرتے ہیں وہ معاصی اور گناہوں کی صورت سے مختلف ہے لہٰذا یہ دلیل بھی درست نہ ہوئی۔
پانچواں مسئلہ (صفحہ:39):معلوم نہیں عتیبی کی عقل نے اسے لکھنا کیسے گوارا کر لیا  کہ تبدیلی شرع کی کوئی حد مقرر نہیں ہے مکمل شرع یا تہائی یا چوتھائی (کہ اس پر حکم لگایا جائے )سبحان اللہ العظیم بلکہ معاملہ اس سے زیادہ گھمبیر ہے اس دستور اعلیٰ کا معاملہ ہے جسے حاکم اپنے شہروں میں پارلیمنٹ کی موافقت و اجازت کے بعد نافذ کرتا ہے جس دستور میں صراحتاً لکھا ہے کہ اللہ کا قانون ’’قانون سازی کے دیگر مصادر کی طرح ایک مصدر ہے ‘‘ یا اگر زیادہ ہی اہمیت دے دی تو ’’قانون سازی کا بنیادی مصدر ہے ‘‘ (یعنی مطلقاً پھر بھی نہیں )اور پھر وہ حاکم لوگوں کو اسی کا پابند کرتا ہے اگرچہ بعض قوانین میں شریعت کے کچھ پہلوؤں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے پر اس سے شریعت کے کلی طور پر تبدیل یا استبدال کر دیئے جانے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
چھٹا مسئلہ(ص:40): عتیبی ظاہر اور باطن کے ایک دوسرے سے لازم ہونے کے متعلق ایک قاعدے سے بحث کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ اس کا اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں اور پھر چور اور زانی کی ایک مثال بلکہ دلیل پیش کرتا ہے جبکہ ان کے ظاہری عمل کی بناء پر ان کے ایمان کو بالکل ہی ختم کر دینا درست نہیں ہے (عمل ظاہر اور ایمان باطن ہے)یہ بات ہم پہلے بھی بارہا ذکر کر چکے ہیں کہ ہمارا اس مسئلے میں اختلاف نہیں ہے لہٰذا اس میں الجھنے کی ضرورت ہی نہیں بلکہ اس طرح کا انداز ہمارے اس خیال کو مزید تقویت پہنچاتا ہے کہ عتیبی گناہ اور کفر کی صورتوں میں فرق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
آٹھویں حالت : قانون بنانا:اس میں عتیبی اضطراب کا شکار ہے اور ہمارے نظریے کو ہی ثابت کر رہا ہے پہلی حالت کے دوسرے مسئلے میں صفحہ 43پر لکھتا ہے:’’عمل کر کے دکھائے اور صراحت کرے کہ اسے قانون سازی کا حق ہے صرف اپنے عمل سے ایسا ظاہر نہ کرے تو بلاشبہ یہ کفر اکبر کا مرتکب ہے ‘‘ سبحان اللہ کہ جس نے اس کی زبان پر حق کو جاری کر دیا پر اس کی عقل اس کو سمجھ نہ سکی اور اسے ہمارے خلاف سمجھ بیٹھا حالانکہ دوسری حالت میں اسی کا دعویدار ہے ہم عتیبی سے پوچھتے ہیں کیا مسلمان کو اتنی عقل نہیں ہے کہ اپنے ماحول اور لوگوں کی اغراض و مقاصد کو جان اور سمجھ سکے ؟عتیبی کا صراحت سے کیا مطلب ہے کیا حاکم بالتکرار صراحت کرے کہ وہ دستور جو بلاشبہ شریعت اسلامیہ کو دیگر مغرب اور قانون ساز اسمبلی سے وارد شدہ وضعی شریعتوں قوانین کو بالکل برابر ایک جیسا قرار دیتا یہی وہ قانون ہے جس کا وہ لوگوں کو پابند کرتا ہے اور اس پر عمل درآمد کرنے والوں کو انعام اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دیتا ہے کیونکہ اسلامی قانون بھی دیگر مصادر کی طرح ایک مصدر ہی ہے ؟کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسلامی قانون کو دیگر قوانین کے برابر قرار دیتا ہے اور کون سے الفاظ ہوں گے کہ عتیبی کے نزدیک حاکم ان سے صراحت کرے کہ اسلامی قانون وضعی قانون کے برابر ہے اور وہ الفاظ کہاں سے آئیں گے؟یہ کہاں کا فیصلہ ہے کیا حاکم کی یہ تصریح اس بات کے لئے کافی نہیں کہ تمام شہروں میں دستوری قانون اعلیٰ ہے اور یہ تصریح نہیں ہے کہ اسلامی قانون ان کے لئے دیگر قوانین کی مانند ہے یا عتیبی کے نزدیک یہ قول کا لازم معنی ہے اصل مراد نہیں ابن قیمؒاس مقام پر فرماتے ہیں : ’’مانع نہ ہونے کے باوجود عمل کا بظاہر پیچھے رہ جانا ہی باطن کے فساد اور اس کے ایمان سے خالی ہونے کی دلیل ہے اور عمل کا ناقص ہونا (باطن اور ایمان )کے ناقص ہونے کی دلیل ہے (الفوائد لابن القیم)۔رسول اللہﷺ نے سچ فرمایا:’’الحیاء من الایمان‘‘ یعنی حیاء ایمان کا حصہ ہے(متفق علیہ)۔اور بعض فضلاء یہ دلیل دیتے ہیں کہ جس نے قانون بنایا وہ طاغوت بن گیا اور اسی وجہ سے کافر ہوا یہ عجب اختلاط ہے کیونکہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر شریعت ساز اور قانون ساز کا کفر وصف طاغوت میں اشتراک کی بناء پر نہیں بلکہ طاغوت ہونے سے پہلے بھی کفر ہے جیسے وہ صورتیں جن کے کفر ہونے پر اتفاق ہے ان کے متعلق کوئی کہے کہ وہ کفر نہیں بلکہ گناہ ہیں اور اس کی دلیل صحیح بخاری ابوبکرہؓ سے مروی یہ حدیث ہے نبیﷺ نے فرمایا:’’اکبر الکبائر الاشراک باﷲ وعقوق الوالدین وشھادۃ الزور وشھادۃ الزور ثلاثاً یقول الزور فما زال یکررھا حتی قلنا لیتہ سکت‘‘ یعنی :کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے اور والدین کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی ہے تین مرتبہ ایسا فرمایا یا کہا جھوٹ پھر آپ اسے مسلسل کہتے ہی رہے حتی کہ ہم نے کہا کاش آپ خاموش ہو جائیں۔تو کیا یہ حدیث اس بات کی دلیل بن سکتی ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کبیرہ گناہ ہے کفر نہیں ؟حقیقت میں شرک کفر ہے اس سے پہلے کہ وہ کبیرہ ہو باوجودیکہ وہ کبیرہ ہو بلکہ کبیرہ سے بھی بڑا اور شرک کا کفر ہونا دیگر متعدد دلائل سے ثابت ہے بالکل اسی طرح قانون ساز یا قانون دان کا کفر بھی ہے جو شریعت میں طاغوت کے وصف سے پہلے ہی متعدد مقامات پر ثابت ہے بلکہ جب قانون ساز نے کفر کیا اس وقت وہ طاغوت کی بڑی صورتوں کے ساتھ متصف ہو گیا یعنی اللہ کی الوہیت جو حکم کے ساتھ خاص ہے اس میں شرک کرنا جیسے اس کی ربوبیت اس کی مخلوق کے ساتھ خاص ہے۔
نویں حالت : عام قانون سازی کے متعلق عتیبی نے پھر وہی بات لکھی جو اس سے قبل بارہا لکھ چکا ہے کہ قانون ساز جب تک اسے حلال نہ سمجھے یا تکذیب یا انکار نہ کرے یا اللہ کے حکم کے خلاف اپنے قانون کو اس کے برابر یا راحج قرار نہ دے اس وقت تک یہ تمام صورتیں کفر اصغر ہوں گی اور ہم اس کے جواب میں وہی کہیں گے جو اس سے پہلے متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ عتیبی معصیت کے مرتکب پر عدم تکفیر کے دلائل دیتا ہے لیکن اس صورت کے ابتداءً معصیت ہونے کی دلیل نہیں دیتا اور رہی سورۃ المائدہ کی آیت تو عتیبی بارہا کہہ چکا ہے کہ یہود نے تورات میں اللہ کے ثابت شدہ حکم کو تبدیل کر ڈالا تھا جبکہ یہ حقیقت کے مطابق نہیں کیونکہ اللہ کا حکم ’’رجم‘‘ اس تورات میں بدستور موجود تھا جو وہ اللہ کے رسولﷺ کے سامنے لائے جیسا کہ حدیث کا نص دلیل ہے لیکن معاملہ رسول اللہﷺ کے سامنے اس وقت غلط بیانی کا تھا وہ رجم کے مسئلے میں اللہ کے قانون کے علاوہ کے مطابق حکم کرتے تھے اور اس بات کے بھی معترف تھے کہ رجم اللہ کا حکم ہے جیسا کہ امام طبریؒ نے اس آیت کی تفسیر میں صراحت کی ہے جو کہ ہم نقل کر آئے ہیں لیکن عتیبی اس ذکر کو گول کر گئے جو امام طبریؒ نے کیا اور اپنے خاص فہم کو بیان کرنے لگے تو امام طبریؒ اور عتیبی کے اس مسئلے میں کس کی بات قابل اتباع ہے آپ خود فیصلہ کر لیں۔اگر سچے ہو تو دلیل لاؤ۔

تیسری بحث :اختتامی فصول

اس بحث میں ہم عتیبی کی کتاب کی چھٹی اور ساتویں فصل میں ابن عباسؓ سے مروی ایک قول کے متعلق بحث کریں گے پھر اس کی اور اس کے ہمنواؤں کی طرف چند اتہامات جن کا اس نے خود ردّ کیا ہے کے متعلق بحث کریں گے۔عتیبی نے چھٹی اور ساتویں فصل میں خود کو پھر سے مجتہد کی ناکام کوشش کی ہے اور جس کا جواب دینا اور ردّ کرنا ضروری تھا اس سے چشم پوشی کی بشرطیکہ اس کے لئے ردّ کرنا ممکن ہو۔عتیبی نے ابن عباسؓ اور ان کے تلامذہ طاؤس،عطائؒ وغیرہ سے منقول مشہور قول ’’کفردون کفر‘‘ کے دلائل میں تفصیل سے کام لیا ہے ہم اس قول کے مطلقاً مخالف نہیں البتہ اس قول کو سورۃ المائدہ کی آیت کی تفسیر ہونے میں اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خوارج نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے جب بنو امیہ کے ظالم حکمرانوں کو کافر قرار دینا چاہا اس وقت ابن عباسؓ وغیرہ نے یہ فتویٰ جاری کیا علامہ احمد شاکرؒ تفسیر طبری کی تحقیق میں یہ بات ثابت کر چکے ہیں جو عنقریب ہم نقل کریں گے جب اس حق کا پرچار کریں گے جس سے عتیبی غافل ہے۔

دور حاضر کے تین امام 

دور حاضر کے اہل السنہ کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ائمہ ثلاثہ عبدالعزیز بن باز،ابن عثیمین،البانی امت کے بزرگ اور تمام علماء سے بڑھ کر ہیں ولا نزکی علی اﷲ احد۔البتہ اس مقام پر چند باتیں کہنا چاہتے ہیں :
1	رسول اللہﷺ کے سوا کوئی ایسانہیں جو خطا سے بری ہو اکثر لوگ اس اصول کو مانتے ہیں لیکن عملی طور پر اپنے بزرگوں کو خطاکار نہیں مانتے آج کل اسلامی جماعتوں کا اپنے امراء اور مرشدین کے ساتھ یہی رویہ ہے ہمارا یہ انداز نہیں بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اس جال میں وہ شخص پھنستا ہے جسے اہل السنۃ و الجماعۃ کے مذہب پر مکمل یقین و اعتماد نہ ہو اور نہ ہی اس کے پاس اس قدر علم ہو جو اسے اس شر سے بچاسکے۔
2	امام ابن باز سے اس بارے میں مختلف اقوال منقول ہیں جو ہمارے خیال میں معاملے کی حقیقت سے عدم واقفیت کی بناء پر نہیں بلکہ انداز سوال کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہیں سوال کی کیفیت کے مطابق ہی جواب دیا جاتا ہے اور اکثر سوال کرنے والے گھما پھرا کر اور کسی صورت کو پوشیدہ اور کسی کو بنیاد بنا کر اور جسے ان کے نزدیک اہمیت حاصل نہ ہو اسے سرسری طور پر ذکر کر کے سوالات کرتے ہیں اور مفتی بھی اسی طرز پر جواب دیتا ہے۔ہم اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کرنے والے کے متعلق شیخ کا قول نقل کر چکے ہیں جسے عتیبی بھی قبول اور تسلیم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے (ص:8)۔اور ہمارے خیال میں شیخ بن باز جیسی شخصیت اپنے ہی اقوال کے خلاف نہیں کہہ سکتی جیسا کہ عتیبی اور اس کے ہمنواؤں کے دعوے سے لازم آتا ہے ہمارا یہ طریقہ نہیں بلکہ ہم اہل السنہ کے خالص طریق پر چلتے ہوئے دلائل کے تمام اطراف کو جمع کرتے ہیں کیونکہ بہرحال جمع کرنا ممکن ہے بلکہ علم،موضوع اور منطق میں اضافے کا سبب ہے۔
3	شیخ ابن عثیمینؒ کا اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حاکم کے متعلق فتویٰ کافی ہے اس کے بعد ایک ان کا ایک اور فتویٰ جاری ہوا جو بظاہر ان کے پہلے فتوے کے خلاف ہے عتیبی جو ائمہ ثلاثہ کی بزرگی کا مدعی ہے ان کے دوسرے فتوے کو ان کے پہلے فتوے پر برتر قرار دیتا ہے اور دوسرے کو ردّ کر دیتا ہے گویا شیخ ابن عثیمین نے جب اللہ کے نازل کردہ کے بغیر قانون ساز حاکم کے متعلق فتویٰ دیا تو وہ دور طالب علمی میں تھے اپنے اس فتوے میں فرماتے ہیں :’’انہوں (حکام)نے اسلامی قوانین کے مخالف قوانین بنائے ہی اس لئے ہیں کہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ یہ قوانین مخلوق کے لئے زیادہ بہتر اور سود مند ہیں۔عتیبی ٹیلیفون پر کی گئی گفتگو کی بناء جسے خود عتیبی نے ہی پھیلایا ہے شیخ ابن عثیمین کے متعلق کہتا ہے کہ انہوں نے اپنے پہلے فتوے سے رجوع کر لیا  ہے۔یہ ہے ائمہ ثلاثہ کا احترام جبکہ اہل السنہ کا درست طریقہ یہ ہے کہ وہ دلائل کے تمام اطراف کو جمع کرتے ہیں اور کسی اہل علم امام کا تعاقب کرنے سے قبل دو فتووں کی صورت میں اختلاف کے امکان پر غور کرتے ہیں جو کہ ہمیں ابن عثیمین کے دونوں اقوال کے مابین نظر نہیں آتا ہم نے جو ملاحظہ کیا وہ یہ ہے کہ ابن عثیمین نے اپنے پہلے فتوے میں تبدیلی کی کسی بھی صورت کا معمولی سابھی اشارہ نہیں دیا لیکن عتیبی ہی کیوں پہلے فتوے کو اپنے مفاد کی خاطر ردّ کرنے پر مصر ہے ؟یہ کام تو ابن عثیمین کا تھا عتیبی کا علمیت میں ابن عثیمین سے کیا مقابلہ کہ وہ ابن عثیمین کے متعلق یوں کہے کہ انہوں نے غلطی کی پھر اس سے رجوع کر لیا  اور اب اللہ کے نازل کردہ کے بغیر قانون ساز کے متعلق ان کی وہی رائے ہے جو عتیبی کی ہے اور ان کے محبان اور مریدوں اور کثیر تلامذہ کو تنبیہ کرے کہ وہ ان کے پہلے قول کو چھوڑ کر دوسرا قول اختیار کر لیں ؟کیا یہ ممکن ہے کہ شیخ ابن عثیمین انتظار کریں کہ عتیبی جیسے لوگ ان کے اقوال کی تصحیح کریں اور جسے مٹانا چاہیں اسے مٹا دیں اسے مکمل طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے پہلے شیخ اس طرح کا اہم معاملہ کسی کے لئے اس طرح نہیں چھوڑ سکتے کہ وہ اسے مشکوک بنا دے اور خاص طور پر عتیبی جیسے لوگوں کے لئے تو بالکل نہیں جو اسے کھیل بنا لیتے ہوں۔اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔
4	محدث امام محمد ناصر الدین البانی اور ان کے موقف کے متعلق گفتگو بہت سی رکاوٹوں سے بھری پڑی ہے کیونکہ ان کے محبان اور پیروکاروں کے دلوں میں علم حدیث اور علم فقہ و عقیدہ کے حوالے سے ان کی جلالت موجود ہے اور بلاشبہ وہ ان دونوں میں اس مقام پر فائز ہیں ا س بارے میں دو افراد بھی اختلاف نہیں رکھتے۔البتہ اگر ہم یہ بات کہیں کہ فقہ اور عقیدہ کے بڑے بڑے علماء جیسے امام محمد بن ابراہیمؒ اور علامہ دوسریؒ کے اقوال اگر البانی کے قول کے متعارض ہوں تو بلا شبہ ان دونوں کے اقوال کو البانی کے قول پر ترجیح دی جائے گی ایسے صحت اور سقم حدیث سے متعلق البانی کے اقوال کو ان دونوں کے اقوال پر سبقت دی جائے گی تو ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے یہی علم،حق اور تقویٰ سے قریب تر ہے۔اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔
البانیؒ نے کئی مقامات پر ایمان کے موضوع کے متعلق تصریح کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان قول اور فعل کا نام ہے زبان کا قول اور دل کا قول و فعل اور جوارح یعنی اعضاء کا فعل ایمان کے ارکان سے نہیں ہے بلکہ ایمان کے کمال کا ذریعہ ہے (سلف کے اس قول کہ ’’ایمان دل کے اعتقاد،زبان کے اقرار،اعضاء کے عمل کا نام ہے ‘‘ پر ابن حجرؒ کی فتح الباری میں تعلیق سے حلبی (جو کہ دور حاضر کے مرجئہ میں سے ایک ہے )کے استشہاد کو البانی نے قبول کیا ہے وہ سلف کے اس قول سے یہ مراد لیتے ہیں کہ اعمال شرط کمال ہیں اسی لئے وہ ایمان کی کمی زیادتی کے قائل ہیں اس کا یہ معنی نہیں کہ البانی کے مذہب میں اعمال ایمان کا رکن ہیں۔ملاحظہ ہو ’’حقیقۃ الایمان عندا لشیخ الالبانی ‘‘ از ڈاکٹر محمد بن رحیم معمولی تصرف کے ساتھ۔نیز ہماری کتاب ’’حقیقۃ الایمان‘‘)البانی رکن اور شرط کے فرق کو بیان کرنے میں مضطرب ہیں ایسے ہی ایمان کے اور عمل کے مابین تعلق کی تحدید میں مضطرب ہیں اہل السنہ کے ساتھ الفاظ میں اور حنفیہ کے ساتھ حقیقت میں موافق ہیں۔اور اس سے واللہ البانی کی قدر و منزلت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی وہ بدستور محدث محقق عالم ہی ہیں بلکہ ہمیں ہر ایک سے بڑھ کر عزیز ہیں پھر بھی اس مقام پر انہوں نے ٹھوکر کھائی ہے جیسے ان سے پہلے دیگر اکابر بھی ٹھوکر کھا چکے ہیں جیسے ابن حجر عسقلانیؒ جن مقام و مرتبہ عالی ہے۔میں اپنی آنکھوں سے عتیبی کو البانی کے متعلق اس طرح کی باتیں پھیلاتا دیکھتا ہوں کہتا ہے کہ :’’عالم امت البانی کے متعلق اللہ کاخوف کرو جس نے ان پر مرجئہ ہونے کا الزام لگایا اس نے ان کا مرتبہ گھٹایا ان کی عزت کو حلال سمجھا مدد کیجئے اے محبان البانی‘‘ عتیبی سے پھر ہم کہیں گے کہ الزامات لگانے سے کچھ حاصل نہ ہو گا میں البانی کے متعلق یہی کہتا ہوں کہ انہوں نے اس امت کی بڑی خدمت کی خاص کے حدیث کی تحقیق اور تصنیف و تالیف کے حوالے سے ان کی یہ خدمات ان کے رب کے حضور عمدہ گواہی دیں گی ان شاء اللہ لیکن حق بہرحال حق ہے ہم مدخلی کی طرح نہیں جو داعیان اسلام کے خلاف بغض و عناد سے بھرا پڑا ہے کہ سید قطب شہیدؒ کو کافر قرار دیتا ہے اور ان پر الزامات کی بارش کرتا ہے اللہ جانتا ہے کہ مدخلی کا بڑے سے بڑا کارنامہ بھی سید قطب کی تصانیف کے ٹخنے تک بھی نہیں پہنچ سکتا علاوہ چند ایک ادیبانہ زلات کے اور آسمان و زمین کے مابین کا فاصلہ کس قدر ہے۔
اب ہم آٹھویں فصل کی طرف آتے ہیں عتیبی نے جو جوابات مجمل انداز میں دیئے ہیں ان سے صر ف نظر کرتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی نتیجہ حاصل نہ ہو گا اور  عتیبی نے خود پر کئے جانے والے اعتراضات کا جو ردّ کیا ہے اور ان لوگوں کا جو اس کے نظریے کو مرجئہ کے موافق قرار دیتے ہیں ان کی طرف آتے ہیں چنانچہ ہم کہتے ہیں :
1	بدعتیوں کے ہاں اہل السنہ کے ساتھ بعض اقوال میں موافق ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان سے صفت بدعت کی نفی کر دی جائے ایک ادنی طالب علم بھی جانتا ہے کہ بدعتیوں کے بعض اقوال اہل السنہ کے موافق ہوتے ہیں اور ان کے فرقے کے بنیادی نظریات و اصول سے متعلق اقوال اہل السنہ کے مخالف ہوتے ہیں۔
2	کسی بھی فرقے کے اقوال ایک دوسرے سے متعلق نہیں ہوتے مثلاً مرجئہ کے بیس سے زیادہ فرقے ہیں اور ہر ایک کے مختلف اقوال ہیں۔
3	بدعات آخر وقت تک مسلمانوں کے مابین موجود رہیں گی اور یہ گروہ جو مرجئہ کے ہی عقیدے کا حامل ہے اس کی شکل مقلدین مرجئہ سے اگرچہ مختلف ہے لیکن منبع وسرچشمہ ایک ہے یعنی ایمان اور محل ایمان یعنی عمل سے متعلق غلط فہم اور عملی طور پر یہ صوفیہ ہیں کہ یہ اپنے پیروکاروں کی تربیت ہی اسی طرز پر کرتے ہیں اور باطن میں یہ سیکولر اور لادین ہیں کہ عملی طور پر دین اور سیاست دونوں کو الگ الگ کرتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو امراء و حکام کے متعلق گفتگو کرنے سے ڈراتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ عام طور پر تاریخ اسلامی و تاریخ عقائد میں اس فرقے کی نشوونما کوئی انوکھی یا نئی بات نہیں ہے۔
4	اور خاص طور پر یہ کہ مرجئہ کی بدعت سے کلی طور پر خارج ہونے کے لئے صرف یہ اقرار کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے کافی نہیں اور ائمہ میں سے جس کسی نے ایسا کہا ہے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ اس اقرار اور اس کے محل کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ یہ اپنی شروط کے ساتھ اہل السنہ کا عقیدہ ہے اس کی دلیل رسول اللہﷺ کا یہ فرمان ہے :’’من قال لاالٰہ الااﷲ خالصا من قلبہ دخل الجنۃ‘‘ یعنی جس نے خلوص دل سے لاالٰہ الااللہ کہا وہ جنت میں داخل ہوا۔مرجئہ کے برخلاف اہل السنہ میں سے کسی نے بھی اسے عموم پر نہیں لیا کیونکہ یہاں عموم کی مکملات،لوازم و مقتضیات شہادت کے ذریعے تخصیص کی جائے گی یہی صورت حال ان ائمہ کے کلام کی بھی ہے جو کہتے ہیں کہ جس نے اس طرح کہا وہ ارجاء سے خارج ہو گیا اس طرح کے دیگر عام اقوال کہ عتیبی اسی طرح کے اقوال ہی بطور دلیل پیش کرتا ہے حالانکہ اسے چاہیئے کہ عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کو بھی پیش نظر رکھے۔
5	اسی بناء پر یہ اقرار کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس با ت کا ہی قائل ہو کہ عمل ایمان کی ماہیت اور حقیقت اور رکن بھی ہے بلکہ ان کے نزدیک جیسا کہ علامہ البانی کا مذہب ہے عمل ایمان کے کمالات میں سے ہے جو کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں اور اس قول اور سلف کے قول میں بڑا واضح فرق ہے ہے سلف ایمان کی کوئی ایسی تعریف نہیں کرتے جو ایمان کی زیادتی اور کمی قبول نہ کرے بلکہ ان کے نزدیک کمی زیادتی ایمان کے تمام مرکبات جیسے علم،تصدیق،التزام،انشاء،تنفیذ اور انقیاد میں واقع ہوتی ہے حق تو یہ ہے کہہ سلف کے اقوال و کلمات سے ان باریک امتیازات و فروق کا ادراک اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب ان میں خوب تحقیق وجستجو کی جائے نہ کہ صرف اقوال کو جمع اور مرتب کر لینے سے۔اور محققین کی پیش کردہ تحقیق میں غور و فکر کرنے والوں کی اکثریت محقق کی ذہنی استعداد سے بے خبر ہوتی ہے جبکہ یہی استعداد نصوص کی تحقیق اور معانی کے استنباط میں بڑی نازک حیثیت رکھتی ہے نیز ہر انسان میں صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں کیونکہ تمام انسان فہم،تجزیہ و ادراک کی صلاحیتوں میں مساوی ہیں اور مشکل امور وہ ہوتے ہیں کہ انسانی نفس ان کے ادراک سے عاجز ہونے کا اقرار کر لیے۔اللہ تعالیٰ پاک ہے کہ جس نے صلاحیتوں اور افہام کو تقسیم کیا ہے۔
6	ہماری اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ کمی و زیادتی کا قول اہل السنہ ہونے کی دلیل نہیں اِلَّا یہ کہ وہ اس بات کا قائل ہو کہ یہ کمی و زیادتی ایمان کی اس ماہیت میں بھی واقع ہوتی ہے عمل جس کا ایک رکن ہے نہ کہ شرط اور رکن کی تعریف سے واضح ہے جو کہ اصول فقہ میں موجود ہے۔
7	جنس عمل کی ایک امتیازی خاصیت ہے (جنس عمل ایمان کا حصہ ہے اس کے ثبوت میں ہماری کتاب ’’حقیقۃ الایمان‘‘ 1978ملاحظہ ہو اس میں ہم نے ایمان اوسط سے متعلق ابن تیمیہ و دیگر سلف کے اقوال و نظریات کی اچھی طرح وضاحت کی ہے اور اہل السنہ کے خلاف اس گروہ کا بھی ردّ کیا ہے)جس سے اس گروہ کے افراد غافل ہیں اس کی وجہ ایمان کے فہم سے متعلق ان کا خبط ہے کہ ایک تو عمل کو ایمان کا حصہ نہیں مانتے اور پھر اصول فقہ سے ناکافی واقفیت کی بناء پر نظر عمیق سے محروم ہیں جیسا کہ موجودہ مرجئہ کی طرف منسوب اس گروہ کا یہ امتیازی وصف ہے کیونکہ اس کی بنسبت علم حدیث کی طرف انتساب آسان ہے۔اور جنس عمل کے اجزاء کو ترک کر دینا عمل کو بالکل ترک کر دینے کی مانند نہیں عمل کو بالکل ترک کر دینے سے ایمان معیوب ہو جاتا ہے جبکہ جزئی عمل ترک کرنے سے معصیت اور گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے۔

چوتھی بحث:عتیبی کے مخالفین کے دلائل

اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم کہتے ہیں :
1	عتیبی نے اپنے مخالفین کے جن دلائل کا ذکر کیا ہے ان کی معنوی قوت ان کی انفرادی قوت سے بڑھ کر ہے اور وہ اجماع معنوی و تواتر معنوی ہے لیکن عتیبی اس حقیقت سے نابلد ہے چنانچہ ایک ایک کر کے دلائل ردّ کئے جا رہا ہے اور اس بات سے بے پرواہ ہے کہ یہ دلائل معنوی اعتبار سے متواتر ہیں ان سب کا ایک ہی معنی ہے اور وہ ہے معنی تحقیق جیسا کہ امام شاطبیؒ نے (الموافقات:268/3)میں عام و خاص کی بحث میں اس بات کی اچھی طرح وضاحت کی ہے۔
2	ابن عباسؓ کے قول کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے علامہ احمد شاکر کی تنبیہ ’’کہ قول کفر دون کفر سورۃ المائدہ کی آیت کی تفسیرنہیں بلکہ خوارج کے خلاف فتویٰ ہے جو ابن عباسؓ نے اس وقت جاری کیا جب خوارج نے بنوامیہ کے امراء کے ظلم و جور کی بناء پر ان کی تکفیر کرنی چاہی ‘‘ اس تنبیہ سے عتیبی غافل ہے اور شیخؒ کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اگر کوئی ان کے فتوے کو غلط طور پر اپنے مفاد میں استعمال کرے اور ہمیں بھی عتیبی کی ناسمجھی سے کوئی سروکار نہیں کہ ہم شیخ احمد شاکرؒ کے اس قول کو اچھی طرح سمجھتے ہیں بلکہ ہم ابن عباسؓ کے اس قول کی درست قراء ت یعنی ’’لیس بالکفرالذی تذھبون الیہ‘‘ یعنی یہ وہ کفر نہیں جو تم سمجھ رہے ہو‘‘ نیز اس اثر سے بھی واقف ہیں جو ہمیں شیخ احمد شاکرؒ کے ذریعے معلوم ہوا جس میں اباضیہ کے کچھ لوگ ابومجلز لاحق بن حمید الشیبانی السدوسی کے پاس آ کر چند سوالات کرتے ہیں یہ بڑا بہترین دقیق النظر نص ہے کہ عتیبی اور اس کے ہمنوا اس دقیق نظری تک نہیں پہنچ سکتے۔شیخ احمد شاکرؒ فرماتے ہیں :’’(ابن عباسؓ )سے مروی آثار جن کے ذریعے ہمارے دور کے کچھ علم سے منسوب گمراہ لوگ کھیلتے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے دین پر اس قدر جرأت  کی کہ انہوں نے ان آثار کو بہانہ بنا لیا وہ ان کے ذریعے اسلامی ممالک پر مسلط کردہ طاغوتی وضعی قوانین کو جائز قرار دیتے ہیں۔ابومجلز سے ایک اثر مروی ہے جو اباضیہ خوارج کے اسی اختلاف سے متعلق ہے کہ بعض امراء نے ظلم کرتے ہوئے بعض معاملات میں نفس پرستی اور حکم سے جہالت کی بناء پر خلاف شریعت فیصلے دے دیئے اور خوارج کا مذہب ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب بھی کافر ہے تو وہ ابومجلز کے پاس آ کر جھگڑا کرنے لگے اور یہ مطالبہ کرنے لگے کہ وہ امراء کو کافر قرار دینے میں ان کے موافق ہو جائیں تاکہ ان کے خلاف مسلح خروج کے لئے ان کے ہاتھ بہانہ آ جائے یہ دونوں آثار امام طبریؒ نے روایت کئے ہیں اور ان پر میرے بھائی سید محمود شاکرؒ نے بڑی ہی نفیس تعلیق لکھی ہے میرا خیال ہے کہ میں طبری کی پہلی روایت اور اس پر اپنے بھائی کی تعلیق نقل کر دوں۔
طبری نے عمران بن حیدر سے روایت کی ہے ا س نے کہا کہ :ابومجلز کے پاس بنو عمرو بن سدوس کے کچھ لوگ آئے کہنے لگے اے ابومجلز آپ اللہ کے اس فرمان کے متعلق کیا کہتے ہیں :یعنی جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ کریں تو یہی لوگ کافر ہیں۔کیا یہ حق ہے؟فرمانے لگے :ہاں۔وہ کہنے لگے :یعنی جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ کریں تو یہی لوگ ظالم ہیں۔کیا یہ حق ہے؟فرمانے لگے :ہاں۔وہ کہنے لگے:یعنی جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ دیں تو یہی لو گ فاسق ہیں۔کیا یہ حق ہے؟فرمانے لگے :ہاں۔پھر وہ کہنے لگے ابومجلز کیا یہ لوگ (یعنی بنوامیہ کے ظالم امراء )اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم کرتے ہیں فرمانے لگے :یہ ان کا دین ہے وہ اسے دین مانتے ہیں اور اسی کے مطابق کہتے ہیں اور اسی کی طرف بلاتے ہیں پھر اگر اس میں سے کچھ چھوڑ دیں تو اسے گناہ سمجھتے ہیں۔وہ کہنے لگے ایسا نہیں ہے اللہ کی قسم تم فرق کر رہے ہو۔فرمانے لگے:تم مجھ سے زیادہ اس کے حق دار ہو(یعنی میں خارجی نہیں بلکہ تم خارجی ہو)میرا یہ خیال نہیں تمہارا یہ خیال ہے اور تم کوئی حرج بھی محسوس نہیں کرتے۔
میرے بھائی سید محمودؒ ان دونوں نصوص کے بارے میں لکھتے ہیں :
یا اللہ میں اس گمراہی سے تیری طرف اظہار برأت کرتا ہوں وبعد۔
ہمارے اس دور کے شک گزیدہ اور فتنہ پرور لوگ جو بڑی باتیں بناتے ہیں اور حاکموں کے لئے اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم چھوڑنے،اموال،دماء،اعراض میں اللہ کی اپنی کتاب میں نازل کردہ شریعت کے بغیر فیصلے کرنے،کافر کے قانون کو اسلامی ممالک میں نافذ کرنے کو جواز کا رنگ دینے کے لئے عذر تراشتے ہیں پھر جب انہیں ان دو احادیث کا پتہ چلتا ہے تو اسے ابومجلز کی رائے قرار دیتے ہیں کہ ان کے نزدیک اللہ کے نازل کردہ کے بغیر دماء اور اموال اور اعراض میں فیصلے کرنا درست ہے اور عام فیصلے میں شریعت کی مخالفت اُسے کافر قرار نہیں دیتی جو اس پر راضی یا عامل ہو۔حالانکہ غور و فکر کرنے والوں کے نزدیک ان دونوں حدیثوں میں سائل اور مسئول کی اس معرفت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ابومجلز لاحق بن حمید الشیبانی السدوسیؒ ثقہ تابعی ہیں علیؓ  سے محبت کرتے تھے اور ان کی قوم بنو شیبان جنگ جمل اور صفین کے دن شیعان علی میں شامل تھی پھر جب صفین کے دن ’’دو حَکَموں ‘‘ (یعنی دونوں جانب سے ایک ایک حَکَم فیصلہ کرنے والا)والا معاملہ ہوا اور خوارج الگ ہو گئے تو علیؓ کے خلاف بنو شیبان اور بنوسدوس بن شیبان بن ذہل کے کچھ لوگ شامل ہو گئے۔وہ لوگ جنہوں نے ابومجلز سے سوالات کئے وہ بنو عمرو بن سدوس سے ہیں جو اباضیہ خوارج کا حصہ ہیں اور عبداللہ بن اباض حروری خارجی کے پیروکار ہیں اس کا کہنا تھا کہ جو خوارج کی مخالفت کرے وہ کافر ہے نہ کہ مشرک اس طرح اس نے اپنے اصحاب کی مخالفت کی۔یہ واضح ہے کہ جن لوگوں نے ابومجلز سے سوالات کئے وہ اباضیہ تھے اور حکام کی تکفیر کے سلسلے میں ان پر حجت قائم کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ( حکام )مسلکان کے معسکر میں تھے اور بسا اوقات اللہ کی نافرمانی کر گزرتے اور جن امورسے اللہ نے منع کیا ہے ان کا ارتکاب کر بیٹھتے اسی لئے ابومجلز نے جواب دیتے وقت کیا کہ ’’اگر وہ اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیں تو اسے گناہ سمجھتے ہیں ‘‘ (پہلی روایت کے مطابق)اور (دوسری روایت کے مطابق )وہ جو بھی عمل کریں انہیں علم ہے کہ وہ گناہ کر رہے ہیں۔تو اس صورت ان کا سوال اس کے متعلق نہیں تھا جس سے ہمارے دور کے بدعتی حجت پکڑتے ہیں یعنی دماء،اموال اور اعراض میں شریعت اسلامیہ کے بغیر ا سکے مخالف قانون کے ذریعے فیصلہ کرنا اور نہ ہی وہ سوال کسی ایسے قانون کے اجراء کے متعلق تھا جو اہل اسلام کو اللہ کی اپنے کتاب اور اپنے نبیﷺ کی زبانی بیان کردہ شریعت کے علاوہ حکم کا پابند کرتا ہو یہ فعل اللہ کے حکم اور دین سے اعراض ہے اور احکام کفر کو اللہ کے حکم پر ترجیح دینا ہے اور یہ کفر ہے اہل قبلہ اس کے قائل اور داعی کی تکفیر میں اختلاف کے باوجود اس میں شک نہیں کرسکتے۔اور ہم جن حالات میں ہیں ان میں اللہ کے احکام کو کسی استثناء یا اس کے احکام پر اس کے غیر کے احکام کو ترجیح دئیے بناء عموماً چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ کی شریعت کو ناکارہ کر دیا جاتا ہے پوری تاریخ اسلام میں کبھی ایسانہیں ہوا کہ کسی حاکم نے ایسا حکم جاری کیا ہو جو پابند کرتا ہو کہ اسی کے مطابق فیصلے کئے جائیں ابومجلز کا زمانہ ہو یا اس سے پہلے یا بعد کا کبھی ایسا حاکم نہیں آیا جس نے اللہ کے حکم کا انکار کر کے اہل کفر کے احکام کو اسلام پر ترجیح دی دے کہ (جیسا کہ موجودہ حالات میں احکام کفر کو احکام اسلام پر ترجیح دی جاتی ہے )کوئی فیصلہ کیا ہوایسا کبھی نہیں ہوا اور ابومجلز اور اباضیہ کے مابین گفتگو سے یہ سمجھنا کسی طرح درست نہیں تو جو ان دونوں آثار یا ان جیسے دیگر آثار سے حجت پکڑے اور ان کے غلط معانی لے تاکہ ان کے ذریعے حاکم کی مدد کرے اور اللہ کے نازل کردہ اور اپنے بندوں پر فرض کردہ شریعت کے ذریعے حکم کو محال بناسکے تو شریعت میں یہ منکر کے حکم میں ہوا جو اللہ کے احکام کا انکار کرتا ہے اس سے توبہ کرائی جائے گی پھر بھی اگر مصر رہا اور خود کو درست سمجھتا رہا اور اللہ کے حکم کو ٹھکرا کر اس کے متبادل احکام پر راضی رہا تو ایسے ڈھیٹ کافر کا حکم اہل اسلام جانتے ہی ہیں (یعنی اس پر حد ارتداد قائم کی جائے گی )۔
3	تاتاریوں کا ’’یاسق‘‘ کو حاکم بنانا اس موضوع پر عتیبی کا ابن کثیرؒ کے کلام کو بنیاد بنانا بڑی مضحکہ خیز بات ہے جو اس بات کی مزید تاکید کرتی ہے کہ نفس پرست نصوص کو عقل کی نہیں بلکہ خواہش کی نگاہوں سے دیکھتا ہے عتیبی کہتا ہے کہ :’’تاتاریوں نے اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کو حلال و جائز کر لیا  تھا‘‘ اور ’’غیر اللہ کے حکم کو اللہ کے حکم پر ترجیح دیتے تھے ‘‘ ہم عتیبی سے پوچھتے ہیں کیا ان میں سے کسی نے استحلال کی صراحت کی تھی کیا کوئی ایک دلیل بھی ایسی ہے جس میں صراحت ہو کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ صراحت کی ہو کہ وہ اللہ کے نازل کردہ کے بغیر حکم کو جائز سمجھتا ہے اور اسے اللہ کے حکم پر ترجیح دیتا ہے ‘‘۔تاکہ عتیبی ان کے قول صریح لاالٰہ الااللہ اور ان کی نمازوں ،روزوں کے باوجود ان کی تکفیر کرسکے ؟ دیکھ لیجئے عتیبی نے اس معاملے میں کس قدر جرأت  دکھائی ہے ابن تیمیہؒ نے واضح طور پر فرمایا کہ :’’(تاتاری)دین اسلام کو یہود و نصاریٰ کے دین کی طرح قرار دیتے تھے ‘‘ لیکن ہم عتیبی سے پوچھتے ہیں :کیا ابن تیمیہؒ کے یہ الفاظ ان کا انتہائی تجزیہ اور ان کی تصریح کے بغیر ہی محض ان کے فعل کے متعلق عالمانہ بیان نہیں ہیں بلکہ صاحب نظر سمجھ سکتا ہے کہ ابن تیمیہؒ کے اس حکم کی بنیاد کچھ اور ہے نہ کہ استحلال یا تفضیل کی تصریح جیسا کہ عتیبی اسے ’’دور حاضر کے اللہ کے نازل کردہ کے بغیر قانون سازوں کی ‘‘ تکفیر میں شرط قرار دینے پر مصر ہے اور وہ بنیاد توحید ہے جس کی بناء پر ابن تیمیہؒ نے ان پر حکم مذکور لگایا۔کیا ابن تیمیہؒ اس پائے کے عالم نہیں کہ عتیبی بجائے ان کے کلام سے وہ کچھ ثابت کرے کے جو ثابت نہ ہوتا ہو ان کے منہج کو اختیار کرے عتیبی کے اس طرز کی دلیل وہ قول ہے جو اس نے ابن کثیرؒسے نقل کیا فرماتے ہیں :’’وہ (تاتاری)اسے (یاسق کو)کتاب اللہ کے حکم پر مقدم رکھتے تھے ‘‘ اس میں الفاظ ’’مقدم رکھتے تھے ‘‘ کو عتیبی نے اس بات کی دلیل بنایا ہے کہ وہ تصریح کئے بغیر یاسق کو کتاب اللہ کے حکم پر ترجیح دیتے تھے۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
ہم ذکر کر چکے ہیں کہ انہوں نے تفضیل یعنی ترجیح کی کبھی صراحت نہیں کی لہٰذا ابن کثیرؒ کے ان الفاظ کا مقصد یہ ہے کہ وہ غیر اللہ کے قانون کو اللہ کے قانون کے مقابلے میں جائز قرار دیتے تھے نافذ کرتے تھے نہ کہ یہ معنی کہ وہ تصریح کئے بغیر ترجیح دیتے تھے۔
عتیبی کی کتاب کا ردّ کرنے کے بعد ہم آخر میں ایک بار پھر تاکید کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم کسی حاکم یا حکومت کو کافر قرار نہیں دے رہے بلکہ ہماری کتاب کااصل مقصد توحید کی حمایت کلمہ اخلاص کا دفاع اور رسالت محمدیہﷺ کی حرص و شوق ہے اس سے پہلے کہ قدیم و جدید مرجئہ اور خوارج وغیرہ میں سے کوئی اس کی حدود کو روند ڈالے اور اسے عبث و لغو قرار دے۔
ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ اسے جو اس طرف متوجہ ہو ہدایت سے نوازے یقیناً وہ سننے قبول کرنے والا ہے۔

ڈاکٹر طارق عبدالحلیم 
کنیڈا
٭٭٭
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
