﻿

دکھوں کی کتاب


سفیر کشیری

جمع و ترتیب: اعجاز عبید







نظمیں


وضاحت


مجھے تم سے محبت ہے
مجھے تم سے محبت ہے
مگر یہ یاد رکھنا کہ
تمہارے پاؤں میں بجتی ہوئی پائل نہیں ہوں میں
محبت  میں غلامی کا کوئی قائل نہیں ہوں میں
تمہیں مجھ سے محبت ہے
تو اچھی بات ہے ورنہ
میں تم سے بھیک کا طالب نہیں جاناں
کوئی سائل نہیں ہوں میں
محبت میں غلامی کا کوئی قائل نہیں ہوں میں
مگر یہ بھی بجا ہے کہ
مجھے تم سے محبت ہے
مجھے تم سے محبت ہے
(یکم اپریل ۱۹۹۹ء)
٭٭٭



سمجھوتا

ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ
اک سمجھوتا کر لینے میں
شاید کوئی حرج نہیں ہے
لیکن یارو!
اک سمجھوتا، اک سمجھوتا کب رہتا ہے
اک سمجھوتا کر لیں تو پھر
کئی سمجھوتے اور بھی کرنا پڑ جاتے ہیں
(۳ اپریل ۲۰۰۲ء)
٭٭٭



ترقی

چلو تم کو دکھاؤں صدیوں پہلے کا کوئی منظر
یہ دیکھو یہ کھنڈر ہے ایک معبد کا
یہاں پسماندہ آدم نے
کیئے سجدے کئی پتھر خداؤں کو
کئی انسان ان کی بھینٹ چڑھائے
پھر آدم نے ترقی کی
ترقی کی تو بُت توڑے
جو بُت توڑے تو کتنے ہی خدا ایجاد کر ڈالے
اُجاڑا کعبہ اور دل کے حرم آباد کر ڈالے
اُجاڑا کعبہ اور دل کے حرم آباد کر ڈالے
٭٭٭



جیون ڈور

ہائے یہ جیون ڈور
سلجھاؤ تو الجھے اور
ڈر سا ہے کہ ٹوٹ نہ جائے
یا پھر ہاتھ سے چھوٹ نہ جائے
ڈر تو اور بھی کتنے سارے
 پھن پھیلائے گھور رہے ہیں
دوزخ کا ڈر، رب کا خوف
اِس کا ، اُس کا ، سب کا خوف
وہ دوزخ تو کل کی بات ہے
پیٹ کا دوزخ آج بھی ساتھ ہے
اس کا ایندھن پُورا کر یا
خود ہی اِس کا ایندھن ہو جا
خالی پیٹ ہی سو جا
ویسے بھی گر ہمت کر کے
پیٹ کا دوزخ پال لیا تو
یاد دلا دوں
پالنے والے تیرا کیا ہے
پلنے والی سب چیزیں تو
 لاٹھی والے کی ہوتی ہیں
لاٹھی والوں کی دنیا میں
ڈر کے جینا، جی کے ڈرنا
موت سے پہلے اکثر مرنا
جیون ہے اِس طور
ہائے یہ جیون ڈور
سلجھاتے سلجھاتے اس کو
تھک گئی اک اک پور
ہائے یہ جیون ڈور
٭٭٭



چلو مانا کہ ہم تم اجنبی ہیں

چلو مانا کہ ہم تم اجنبی ہیں
مگر یہ بھی تو سوچو
اجنبی کو دوست ہونے میں بھلا کیا دیر لگتی ہے
 
چلو مانا کہ ہم تم اجنبی ہیں
مگر سوچو اگر ہم زندگی کے کھیل کے کردار ہیں دونوں
تو ہم کو سامنے آنے پہ آخر کچھ تو کہنا ہے
کوئی دو لفظ ، دو جملے
مگر تم نے تو آنکھیں بند کر لی ہیں
لبوں کو سی لیا شاید
 
چلو مانا کہ ہم تم اجنبی ہیں
مگر جب شہر اپنی آخری حدیں مٹا ڈالے
تو انسانوں کا اک جنگل جنم لیتا ہے ایسے میں
اور اس جنگل کے آپس میں الجھتے راستوں پر
کئی انسان پھرتے ہیں
جو اتنی بھیڑ میں رہ کر بھی تنہا ہیں
اور اُن کے پاس اتنا وقت بھی باقی نہیں بچتا
کہ اپنی روح کی سچی طلب پہچان لیں وہ لوگ
 
چلو مانو کہ تم بھی ایسے ہی جنگل کے باسی ہو
اور اپنی روح کی گہرائیوں میں جھانک کر دیکھو
جو اپنی روح کی سچی طلب پہچان جاؤ تو
مجھے پہچان جاؤ گے
یقیناً مان جاؤ گے
کہ آخر اجنبی کو دوست ہونے میں بھلا کیا دیر لگتی ہے
۱۲ اپریل ۱۹۹۷
٭٭٭



ادا

وہ میرے پاس آتی ہے
تو کس معصومیت سے مجھ سے کہتی ہے
سراپا التجا بن کر 
’تو مجھ پہ نظم لکھو نا‘
میں اس کے ہنستے چہرے کو
نظر بھر دیکھتا ہوں تو 
شکستہ مسکراہٹ خود بخود میرے لبوں پہ رینگ جاتی ہے
مری اس مسکراہٹ کو 
وہ گو پہچان جاتی ہے
مگر تھوڑے دنوں میں پھر
وہ میرے پاس آتی ہے
اسی معصومیت سے مجھ سے کہتی ہے
سراپا التجا بن کر
’تو مجھ پہ نظم لکھو نا‘
٭٭٭



آخری ملاقات

یہ وقت اپنی دھن میں بہا جا رہا ہے
جدائی کا لمحہ قریب آ رہا ہے
یہ شامِ فسردہ کہ پل پل گزرتی چلی جا رہی ہے
یہ ہونٹوں کی لرزش، یہ پلکوں کا بند ٹوٹتا ٹوٹتا سا
ان آنکھوں میں اب کے شرارت نہیں ہے
نہ کوئی گلہ ہے
بس اِک التجا ہے
’مجھے اپنے دل سے اترنے نہ دینا
کبھی میری یادوں کو مرنے نہ دینا
کہ وقت اپنی دھُن میں بہا جا رہا ہے۔۔۔۔‘
٭٭٭



چلو ان پرندوں کو آزاد کر دیں


[لاہور کے جناح پارک (جسے لارنس گارڈن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) میں کسی بنچ پر بیٹھے پرندوں کا شور سن کر لکھی تھی]

چلو ان پرندوں کا آزاد کر دیں
کہ ہم تو شکنجوں  میں جکڑے ہوئے ہیں
مگر یہ پرندے
کہ پنجرے کی تاروں کے بعد ان پہ کوئی رکاوٹ نہیں ہے
رواجوں کے قیدی نہ رسموں کے قیدی
نہ اِس کی غلامی، نہ اُس کی غلامی
نہ مجبوریاں ہیں، نہ خوف اور لالچ
جو پنجرے سے نکلیں تو دنیا میں ان کی حدیں ہی نہیں ہیں
چلو ان پرندوں کو آزاد کر دیں
ہواؤں میں اُڑتا ہوا ان کو دیکھیں
فضاؤں میں گاتا ہوا اِن کو دیکھیں
چلو ان پرندوں کو آزاد کریں
(اپریل ۱۹۹۸ء)
٭٭٭



لاہور سے

(یہ نظم دسمبر ۱۹۹۷ء میں لکھی گئی تھی۔ اگرچہ میں اپنے بچپن میں لاہور میں کچھ عرصہ قیام کر چکا تھا اور بعد میں بھی ایک دو بار لاہور جا چکا تھا۔ تاہم دسمبر ۱۹۹۷ء میں لاہور جانا اس لحاظ سے کافی مختلف تجربہ تھا کہ اُس وقت میری آنکھوں میں بہت سے خواب تھے، امنگیں تھیں، تمنائیں تھیں۔ اُس وقت میں بی اے کر چکا تھا اور ایم کرنے کا ارادہ لئے جا رہا تھا۔ لہٰذا اُس مرتبہ لاہور جانا بہت اہم تھا۔ جانے سے ایک دو دن پہلے یہ آمد ہو ئی تھی)

تو شہر زندہ دلاں اب تُو میری منزل ہے
سفر ہے تیری طرف اور وقت حائل ہے
جو لمحہ لمحہ تری سمت ٹرین بڑھتی ہے
تو ایک سوچ مرے ذہن میں اترتی ہے
تری کشادہ دلی کا جہاں میں چرچا ہے
تُو سارے چھوٹے بڑوں کو پناہ دیتا ہے
بہت سے لوگ کہ دامن میں تیرے آئے جب
تو زندگی کے دُکھوں سے ڈرے بھی لگتے تھے
تو ناامید بھی، ہارے ہوئے بھی لگتے تھے
تری پناہ میں آئے تو جیسے جی اُٹھے
سو تیری گلیوں میں اب سر اُٹھا کے چلتے ہیں
زمانہ رُک کے انہیں دیکھتا ہے حیرت سے
کچھ اس طرح سے، کچھ ایسی ادا سے چلتے ہیں
یہ ڈھنگ جینے کا تُو نے سکھا دیا اُن کو
ذرا ذرا سے تھے شمعوں کی لاٹ کی مانند
تری ہواؤں نے شعلے بنا دیا اُن کو
سو تیرے در پہ مسافر اک اور آتا ہے
اور اپنی آنکھوں میں سپنے ہزار لاتا ہے
تری نشیلی فضاؤں میں نغمہ خواں ہو گا
مگر ہمیشہ ترے ساتھ بھی کہاں ہوگا
٭٭٭



ابھی نہ رکنا

ابھی نہ رُکنا
ابھی پڑاؤ کا سوچنا مت
ابھی تو کافی سفر پڑا ہے
ابھی تو پیروں میں کوئی کانٹا چبھا نہیں ہے
کوئی بھی چھالا پڑا نہیں ہے
ابھی نہ رکنا
ابھی دار و رسن کے قصے چھڑے نہیں ہیں
ابھی تو پتھر پڑے نہیں ہیں
ابھی نہ رکنا
ابھی نہ رکنا
ابھی تو سورج کو ڈھونڈنا ہے
اور اُس خدا کو تلاش کرنا ہے جو ترازو لئے ہوئے ہے
اور عدل و انصاف کے حوالے سے ہم پہ آیت اُتارتا ہے
تو جان رکھو
یہ راستہ جو چنا ہے تم نے
بہت کٹھن ہے
کٹھن سفر پہ نکل پڑے ہو تو اب پڑاؤ کا سوچنا مت
جو سوئے کربل ہی چل پڑے ہو تو اب پڑاؤ کا سوچنا مت
بس اب تو دائم سفر میں رہنا
ہر اک بگولے کے ساتھ چلنا
ہر ایک بنتے بھنور میں رہنا
بس تو دائم سفر میں رہنا
(۲۳ جولائی ۱۹۹۸)
٭٭٭


غزلیں

پاکستان کی نصف صدی مکمل ہونے پر


نصف شب تک عذاب کافی ہے
    بس دکھوں کی کتاب کافی ہے

    بڑھ گئے دکھ ہماری خوشیوں سے
    بس یہیں تک حساب کافی ہے

    ہم نے دیکھا تھا کوئی خواب مگر
    کیا وہی ایک خواب کافی ہے…؟

    چونکہ تقسیم اپنی عادت ہے
    سو یہ آدھا گلاب کافی ہے
۲۹ اگست ۱۹۹۷
٭٭٭





شام کو دوستوں کی محفل میں
لے کے میں چشم تر نہیں جاتا

یوں بچھڑنے سے کچھ نہیں ہوتا
اِس طرح کوئی مر نہیں جاتا

آنکھ سے تو وہ کب سے اوجھل ہے
دل سے پھر کیوں اتر نہیں جاتا

وہ جو اک روز ماں کے بن سویا
میرے دل سے وہ ڈر نہیں جاتا

دن کو مزدور کام کرتا ہے
شام ہوتی ہے گھر نہیں جاتا

اپنے ورثے سے بھاگ آیا ہوں
گاؤں کو لوٹ کر نہیں جاتا
٭٭٭





سب گناہوں سے الگ آنسو بہا کے ہو گئے
لوگ سارے کام کر کے پھر خدا کے ہو گئے

اُس نے بے معنی سی باتوں کو بھی معنی دے دیئے
لفظ جب ہونٹوں سے نکلے تو ہوا کے ہو گئے

ہم کہ تیرے عشق میں ٹوٹے بھی تھے بکھرے بھی تھے
تجھ سے نہ سمٹے تو تجھ سے بھی سوا کے ہو گئے

سب کی قسمت میں کہاں گر کر سنبھلنے کا عمل
وہ جو توبہ کے نہ ہو پائے خطا کے ہو گئے

بندگی کا تو قرینہ ہی نہیں آیا  ہمیں
اُس خدا کو توڑ ڈالا جس خدا کے ہو گئے

اُن کی مجبوری تھی کہ اُن کو انا کا پاس تھا
ہم بھی تو کچھ کم نہ تھے، ہم بھی انا کے ہو گئے
٭٭٭


چپکے چپکے رو لیتا ہوں
پھر میں چین سے سو لیتا ہوں

صحرا صحرا جیون میں بھی
خواب سہانے بو  لیتا ہوں

آنسو آنسو بہہ جاتا ہوں
دل کا دامن دھو لیتا ہوں

جس کو تنہا جاتا دیکھوں
اس کے ساتھ ہی ہو لیتا ہوں

جلدی سے لوٹا دیتا ہوں
جس سے جتنا جو لیتا ہوں
٭٭٭





سبھی محاذوں پہ ڈٹ گیا ہوں
پہ تیرے آگے سے ہٹ گیا ہوں

میں ساری بستی کا سوچتا تھا
میں ساری بستی سے کٹ گیا ہوں

نمو تو پائی ہے میں نے لیکن
یہ کتنی شاخوں میں بٹ گیا ہوں

میں زندگی سے خفا ہوا بھی
تو زندگی سے لپٹ گیا ہوں

تمہارے گھر کی طرف چلا تھا
سو راستے سے پلٹ گیا ہوں

تم آ کے پھر سے بکھیر جاؤ 
میں پھر سے شاید سمٹ گیا ہوں
٭٭٭




(یہ غزل کسی دوست کی طرف سے دیے گئے طرحی مصرع پر لکھی گئی تھی۔ ’برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے‘ غالباً فرحت عباس شاہ کا ہے)


سرد رُت کے ٹلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
’برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے‘

آج تو وہ میرا ہے، کل کی کیا خبر یارو
آنکھ کے بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

اس قدر نہیں کرتے اعتبار موسم کا
آندھیوں کے چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

آپ حق پہ ہوں تب بھی احتیاط بہتر ہے
پگڑیاں اچھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

ہر طرف اندھیرا ہے *شوق حوصلہ کیجے
اک دیے کے جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
دسمبر 1996
(کسی زمانے میں ہم ’شوق‘ تخلص کیا کرتے تھے)
٭٭٭





اس آگ کو نہ بجھاتا تو اور کیا کرتا
میں اس کو بھول نہ جاتا تو اور کیا کرتا

وہ مجھ کو دیکھ کے اکثر اُلجھ سا جا تا تھا
میں شہر چھوڑ نہ آتا تو اور کیا کرتا

اُسے بچانا تھا میں نے کڑی ندامت سے 
نہ ایسے ہنستا نہ گاتا تو اور کیا کرتا

وہ شخص جس کو قسم تھی کسی سے کُچھ نہ کہے
وہ شعر بھی نہ سناتا تو اور کیا کرتا

یہ دل بھی اُس کا طرف دار میں اکیلا تھا
میں جنگ ہار نہ جاتا تو اور کیا کرتا

جو اتنے مان سے وہ چال چل رہا تھا کوئی
تو میں فریب نہ کھاتا تو اور کیا کرتا

وہ کر رہا تھا نفی میری، میں ثبات اس کا
حساب یوں نہ چکاتا تو اور کیا کرتا

اُسے خبر تھی کہ سچ بولنے لگا تھا میں
وہ اپنا سر نہ جھکاتا تو اور کیا کرتا
٭٭٭




مجھ کو وہ کسی طور سنبھلنے نہیں دیتا
وہ خود تو بدلتا ہے، بدلنے نہیں دیتا

وہ شخص مری طرزِ فغاں کو نہیں سمجھا
میں آنکھ سے آنسو کبھی ڈھلنے نہیں دیتا

کوشش تھی کہ پتھر سے مجھے موم بنا لے
اب موم ہوا ہوں تو پگھلنے نہیں دیتا

بنجر کئے رکھتا ہے مری آنکھ کو ہر دم
اس میں تو کوئی خواب بھی پلنے نہیں دیتا
(۲ نومبر ۱۹۹۹)
٭٭٭


یہ قید بھی تو نہیں، اختیار بھی تو نہیں
تمہارے عشق سے ہم کو فرار بھی تو نہیں

گلہ ہی کرتے کبھی تجھ سے بے رخی کا تری
پہ تجھ کو پاسِ دلِ بے قرار بھی تو نہیں

خزاں کے ساتھ کبھی میں بھی لوٹ آتا مگر
تری نظر کو مرا انتظار بھی تو نہیں

مرے نصیب میں کچھ بھی نہیں، چلو نہ سہی
مرے نصیب میں تمہارا پیار بھی نہیں

جو بات میں نے تمہیں بار بار کہنی تھی
وہ کہہ سکا میں فقط ایک بار بھی تو نہیں
٭٭٭





اب تو اتنا میں تجھے یوں میں تجھے سوچتا ہوں
جب بھی کچھ سوچنے بیٹھوں میں تجھے سوچتا ہوں

تجھ سے مل کر میں اسی سوچ میں پڑ جاتا ہوں
تجھ سے یہ کیسے چھپاؤں میں تجھے سوچتا ہوں

ہاں کبھی سوچتا تھا ، سوچ سمجھ کر بھی تجھے
اب تو چاہوں کہ نہ چاہوں میں تجھے سوچتا ہوں

میں نے کچھ اتنا تراشا ہے تجھے سوچوں میں
کہ اگر چاہوں کہ دیکھوں، میں تجھے سوچتا ہوں

تُو ہے ان بوجھی پہیلی کی طرح میرے لئے
تجھ کو بوجھوں کہ نہ بوجھوں میں تجھے سوچتا ہوں

مری ہستی کو سنبھالے ہوئے ہے تیرا خیال
جب بھی میں جتنا بھی بکھروں میں تجھے سوچتا ہوں

تو بھی شاید ہو مجھے سوچتی فرصت میں کہیں
میں تو جس رنگ میں بھی ہوں، میں تجھے سوچتا ہوں

میں ہوں بے کار سا شاعر بڑا آوارہ مزاج
پھر بھی جیسا ہوں ترا ہوں میں تجھے سوچتا ہوں
٭٭٭

ماخذ:
http://safeerkishairi.wordpress.com/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
