﻿

دل سے دار تک 


کہانیوں کا مجموعہ


فریدہ زین








انتساب


اپنے رفیق و رہنما، محسن و کرم فرما
محمد زین العابدین سعید ایڈوکیٹ
کے نام
جن کی شخصیت زندگی کی تیز دھوپ میں گھنی چھاؤں کا احساس دلاتی ہے
اور
جن کی رفاقت نے میرے قلم کو زندگی بخشی،

فراہم کر کے میرے دل کے اجزائے پریشاں کو
مری بکھری ہوئی ہستی کو صورت بخش دی تو نے
کہاں باقی رہا تھا زندگی کا حوصلہ مجھ میں 
مجھے اک بار پھر جینے کی ہمت بخش دی تو نے
وہ غم ہو یا مسرت ہو، وہ مرنا ہو کہ جینا ہو 
مجھے ہر حال میں اپنی ضرورت بخش دی تو نے
(جاں نثار اختر)


فریدہ زین.....تخلیقی کہانی کی علامت

ڈاکٹر عنوان چشتی، قائم مقام صدر شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی 



فریدہ زین اردو کی ان مخلص افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جنہوں نے صلہ و ستائش کی تمنا سے بے نیاز ہو کر نگار خانہ فکر و فن میں اپنے خونِ دل سے چراغاں کیا ہے۔ اس کے کئی وجوہ ہیں، ایک تو ان کی طبعی بے نیازی دوسرے ارباب فن کی بے توجہی، اس لئے انہوں نے بستر گل سے زیادہ قفس کے گوشے میں آرام محسوس کیا۔ لیکن اس واضح احتیاط سے ان کے فکر و فن کو نئی توانائی ملی، جو ان کے افسانوں میں رومانی، سماجی اور نفسیاتی سطحوں پر جلوہ گر ہے۔ جہاں تک ان کے افسانوں کی رومانی فضا کا تعلق ہے اس میں رنگ افشاں جذبات مجروح تمناؤں، سسکتی آرزوؤں اور متصادم کیفیات کے وہ سارے رنگ ملتے ہیں جو ان کے فن کو ایک اثر انگیز جذباتی اور رومانی طاقت عطا کرتے ہیں۔ اس رومانی وفور میں اگر ان کے جذباتی المیے کے سیاہ رنگ کو شامل کر لیں تو ان کی رومانیت کا رشتہ زندگی کی ان تلخ حقیقتوں میں پیوست ہو جاتا ہے جس کے بغیر فن میں تاثیر اور توانائی نہیں آسکتی۔ ان کہانیوں کو پڑھتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے کردار بیک وقت کئی سطحوں پر جی رہے ہیں۔ اور ایک شدید جذباتی بحران کا شکار ہیں اس دور میں جب کہ انسان سیاسی، سماجی اور اقتصاد ی عذاب میں مبتلا ہے، ان کے کرداروں کی نفسیاتی پیچیدگی کا راز سمجھ میں آ جاتا ہے۔ یہی نفسیاتی کشمکش، تضاد اور تصادم ان کی کہانیوں میں زندگی کی سچی معنویت اور فن کارانہ بصیرت پیدا کرتی ہے۔
جہاں تک سماجی مسائل کا تعلق ہے فریدہ زین نے ایک احساس اور با شعور فن کار کی حیثیت سے اس دور کے عام انسان کے مسائل کو اپنا موضوع سخن بنایا ہے۔ بنیادی طور پر انہوں نے اپنی کہانیوں میں ان غریبوں، مزدوروں اور مفلوک الحال کرداروں کے واقعات کو صحیح مناظر میں پیش کیا ہے۔ جن کی کوششوں سے زندگی کے رخ پر نور ہیں۔ لیکن خود ان کے چہروں کا رنگ اڑ چکا ہے۔ ان کی کہانیوں میں سماجی شعور کا وہ رنگ بھی ملتا ہے جو فن کو زندگی سے وابستہ کر دیتا ہے۔
فریدہ زین اس نکتہ نگاہ سے آگاہ ہیں کہ افسانہ میں کہانی پن اور تخلیقی زبان کو اہمیت حاصل ہے۔ ان کی کوئی کہانی پڑھیئے اس میں کہانی پن کی وہ بنیادی خصوصیت ملے گی جس کے بغیر کہانی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ان کی کہانیوں میں تسلسل، روانی، ترسیل فضا نیز دلکشی کے سارے رنگ اپنی پوری تابانی کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنے جمالیاتی تجربوں کو جو زبان عطا کی ہے وہ ایک ایسی تخلیقی زبان ہے جس میں حُسن ہی حُسن ہے۔ انہوں نے الفاظ کو جادو بنا دیا ہے۔ ان کو لغت سے اٹھا کر زندگی کا مظہر بنایا ہے۔ ان کی ترکیبوں میں فنکارانہ حُسن ہے۔ تشبیہوں اور استعاروں کی فضا میں وہ رنگ سامانی ہے جو ذہن پر مشک نافے کی طرح اپنے معانی کے ساتھ "آنند" اور "جمالیاتی کیفیت" کے لیے امکانات کا انکشاف کرتی ہیں۔ اسلوب کی نرمی، دل گدازی، شگفتگی اور سادگی اس کو سحر ہلال بنا دیتی ہے جس کی حدیں نثری شاعری سے مل جاتی ہیں۔
فریدہ زین کی پہلی کتاب "سسکتی چاندنی" کی رسم اجرا کے موقع پر میں نے کہا تھا کہ فریدہ زین کا فنی سفر ابھی رومان کے دھند لکوں میں جاری ہے۔ لیکن " دل سے دار تک" کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اب ان میں رومان کے دھندلکوں سے نکلنے کا حوصلہ پیدا ہو گیا ہے۔ اور وہ حقائق کی تیز دھوپ میں سنگلاخ زمینوں کے سفر کو اپنا نقطہ آغاز بنا چکی ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ ان کی کہانیوں کا دوسرا مجموعہ "دل سے دار تک" ارباب ذوق میں مقبول ہو گا اور وہ اپنا فنکارانہ سفر پورے خلوص، انہماک اور لگن سے جاری رکھیں گی، جس کا کریڈٹ ہمیشہ کی طرح جناب زین العابدین سعید ایڈوکیٹ کو ملے گا۔

بتاریخ ۶ ستمبر ۱۹۸۲ء
ڈاکٹر عنوان چشتی

قائم مقام صدر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ
٭٭٭






دل سے دار تک


صحن کے بیچوں بیچ خالو ابا کرسی پر بیٹھے معموں کے حل تلاش کر رہے تھے۔ جاوید بھائی ورانڈے میں بیٹھے ریڈیو سن رہے تھے۔ بھابی قریب ہی بیٹھی سوئیٹر بن رہی تھیں۔ شاید کسی نئے مہمان کی آمد تھی۔سیما اور نیاز آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ نائلہ آم کے درخت سے ٹیک لگائے گنگنا رہی تھی۔ صحن میں پھیلی ہوئی ٹیوب لائٹ کی رو شنی پر چاندنی اتر آنے کا گماں ہو رہا تھا۔
ہندو پاک کے درمیان مُراسلت تو شروع ہو گئی تھی۔ اب خیر سے آمدورفت بھی شروع ہو جائے گی۔
خالہ امی تسبیح ڈھالتی ورانڈے سے اتر کر یہ کہتی ہوئی خالو ابا کے قریب کرسی پر جا بیٹھیں۔ ٹھیک اُسی وقت کال بیل بج اٹھی۔ جاوید بھائی بادل ناخواستہ اٹھ کھڑے ہوئے، باہر کا دروازہ کھولا اور چند لمحوں کے لیے جیسے کھو سے گئے۔
ارے امان۔۔۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ آنے والے سے لپٹ گئے۔
امی دیکھو تو کون آیا ہے۔۔۔۔۔ انہوں نے اندر آتے ہوئے کہا۔
کون۔۔۔۔۔!! ارے امان۔۔۔۔۔۔ تم ! اور امان نے بزرگوں کے آگے سر نیاز جھکا دیا۔
جیتے رہو سدا سکھی رہو۔ خالا امی نے بلائیں لے ڈالیں۔
اچانک غیر متوقع اتنے سال بعد کیسے آ گئے بیٹا۔ کہاں رہ گئے تھے اتنے سال ؟ خالو ابا نے سینے سے لگا کر کہا۔
بس مت پوچھئے۔ زندگی میں بہت سی مشکلیں اٹھائیں۔ انسان بننے کی کوشش کی اور کافی جدو جہد کے بعد آج اس قابل ہوا آپ کے پاس آسکوں۔
امان نے جواب دیا۔
آخر کیا کرتے رہے اتنے سال؟ کہاں رہ گئے تھے؟
خالا امی نے سوال کیا۔
"جب یہاں سے چلا تو صرف میٹرک ہی نکال سکا تھا مگر جانے کراچی کا کمال تھا یا تقدیر کا انقلاب۔ مجھ میں ایک نیا جذبہ اور جوش پیدا ہو گیا۔ محنت کی اور آپ کی دعا سے اب انجینئر ہوں۔ ایک سال ہوا امریکہ میں مقیم ہوں۔" امان نے کہا۔
"تم انجینئر ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! امریکہ چلے گئے۔"
خالہ امی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ بات تعجب ہی کی توتھی کون سوچ سکتا تھا کہ امان جیسا لاابالی اور شرارتی لڑکا کچھ بن سکے گا۔
یہاں تو سب اچھے ہوں گے نا۔۔۔ امان کی نظریں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔
"بیٹی نائلہ یہاں آؤ۔" خالو ابا نے آواز دی۔ سفید کپڑوں میں ملبوس وہ چلی آئی۔
" آداب عرض ہے امان بھائی۔" اس نے کہا۔
" خوش رہو۔ کہو کیسی ہو۔ بڑی تبدیلی آ گئی تم میں۔"
امان نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ اُسی وقت باورچی خانے میں چھن کی آواز آئی۔
" کیا ٹوٹ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ "خالہ امی نے پکار کر پوچھا۔
"جی۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " باورچی خانے سے مدھر تان سنائی دی۔
" کیا کر رہی ہو نائلہ آج کل ؟ "
" بے کار ہوں۔ گریجویشن تو کر لیا۔ "
اچھا۔۔۔۔۔! وہ لمبی سانس لے کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
" ٹیبل پر کھانا لگ چکا ہے۔" اندر سے پھر وہی سریلی تان گونجی۔ جیسے ویرانے میں کوئل کوک اٹھی ہو۔ ہاتھ دھو کر جیسے ہی امان ٹیبل کے قریب پہنچا، اس کی نگاہ تھم گئی۔ ہلکے زرد رنگ کی ساڑھی میں وہ دہکتا شعلہ بنی کھڑی تھی۔ زلفیں دو ش پر بکھری ہوئی تھیں۔ نظریں جھکی جھکی، لب بند، ماتھے پر پسینے کے چمکتے قطرے اور گال شفق کے رنگ میں ڈوبے ہوئے۔ قوس قزح کے ساتوں رنگ سمیٹے اس پیکر کو دیکھ کر امان فرطِ مسرت سے بے قابو ہو گیا۔
"د لبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم۔ِ میں کتنی دیر سے انتظار کر رہا تھا تمہارا۔ "
" آداب۔۔۔۔۔۔" انگلیوں کو جنبش ہوئی اور لب گویا ہوئے۔
" کیسی ہو۔۔۔؟ "
" اچھی ہوں۔" ساز دھیمے سروں میں بج رہا تھا۔
" اور سناؤ بیٹا وہاں کے حالات۔۔۔۔۔۔" خالو ابا نے موضوع بدل دیا۔ امان مجبوراً اپنی توجہ ہٹا پایا۔ کھانا ختم ہوا تو سب اٹھ گئے۔
تنہا د لبر ٹیبل صاف کرتی رہی اور تصور میں رنگ حنا کے گل بوٹے دیکھتی رہی۔
"د لبر۔۔۔۔۔۔" خالو ابا کی آواز پر وہ چونک گئی۔
" یہاں آؤ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے آواز دی وہ ان کے کمرے میں پہنچی۔ وہاں صرف خالو ابا اور خالہ امی ہی تھے۔
بیٹھو بیٹی۔ خالو ابا کا یہ پیار بھرا لہجہ اسے عجیب سا دکھائی دیا۔
" بیٹی۔ میں جانتا ہوں تمہاری ماں نے تمہیں امان سے منسوب کیا تھا۔ اور مرتے وقت ہم سے کہا تھا کہ جب تک تمہارا بیاہ امان سے نہ ہو جائے ہم نائلہ کے بارے میں نہ سوچیں۔ تمہاری ماں کے مرنے کے بعد ہم نے تم کو بیٹی کی طرح پالا۔"
وہ رک گئے اور د لبر سوچنے لگی۔ بیٹی اور باندی میں کیا فرق ہوتا ہے۔
امان کی فطرت بڑی لا ابالی تھی۔ اس نے زندگی کو کبھی سنجیدگی سے نہیں دیکھا ہم چاہتے تھے کہ تمہاری شادی جلد سے جلد امان سے کر دیں، مگر وہ اس قابل ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر وہ اچانک ایک دن کہیں چلا گیا۔ اس کے انتظار میں ہم نے تمہارا بیاہ نہ کیا اور نائلہ کی عمر تمہارے لیے برباد ہوتی رہی۔ رفتہ رفتہ اچھے پیامات ختم ہو گئے۔ مطالبات بڑھ گئے۔ نائلہ جیسی تعلیم یافتہ لڑکی کے لیے تو ایسا لڑکا چاہیے جیسا۔۔۔۔ جیسا کہ امان ہے۔"
وہ رک گئے۔ خالا امی کی تسبیح زور زور سے ہلنے لگی۔ اور دلبر کی تیز نبض چلتے چلتے رکنے کے قریب آ گئی۔ اس نے کھوئی کھوئی نظروں سے خالو ابا کی طرف دیکھا۔
" امان انجینئر ہے امریکہ میں رہتا ہے۔ اسے کوئی سوشیل تعلیم یافتہ لڑکی چاہیے۔ 
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم تو صرف ساتویں تک ہی تعلیم حاصل کرسکی ہو۔"
خالو ابا رکے رکے لہجے میں کہہ رہے تھے اور د لبر سوچنے لگی کہ وہ ساتویں سے آگے کیوں نہیں پڑھ سکی تھی۔
اب اسے پڑھا کر نائلہ کو چولھے کے پاس بھجواؤ گے گیا۔ آخر گھر کے خرچ میں کچھ تو بچت چاہیے۔ یہ لڑکی بلا مصرف یہاں کیا کرے گی۔ لگا دو اسے چولھے پر۔
خالو ابا نے ساتویں درجے کی رپورٹ اس کے ہاتھ سے چھین کر پھینکتے ہوئے کہا تھا، ایک سرد آہ اس کے دل سے نکل گئی۔
تم تو ایک یتیم لڑکی تھیں۔ ہم نے تم پر ترس کھا کر سہارا نہ دیا ہوتا تو کیا ہوتا۔۔
ویسے میں احسان گنوانے والا نہیں،صرف بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔
خالو ابا کہے جا رہے تھے۔ اور وہ بت بنی سنی جا رہی تھی۔
میں چاہتا ہوں نائلہ امان سے بیاہی جائے۔ تمہارے لئے اس کی عمر خراب ہوئی۔ اچھے پیغامات نامنظور ہوئے اس غلطی کی یہی تلافی ہے۔ نائلہ کے لیے امان سے بہتر کوئی اور نہیں۔ تم نائلہ کی بہن ہو، سگی نہ سہی، خالا زاد سہی۔ کیا تم اس کی خوشی کے لیے اس بات کو قبول نہیں کرو گی۔
خالو ابا نے سوال کیا اور دلبر نے گردن جھکا لی بالکل ایسے ہی جیسے دار پر چڑھنے سے پہلے ملزم کا سر خم ہو جاتا ہے۔
اب رہا تمہاری شادی کا معاملہ تو نائلہ کی شادی کے بعد کسی بھی جگہ تمہارا رشتہ طے کر دیں گے۔ خالو ابا نے تسلی دی۔ جیسے معصوم بچے کے ٹوٹے کھلونے کو دیکھ کر کوئی اس سے دوسرا کھلونا لانے کا وعدہ کر لے۔
تم چپ کیوں ہوں ؟ جواب دو۔ خالا امی نے زبان کھولی۔
میں۔۔۔۔ میں کیا کہوں۔ اس نے کہا۔ بڑی دیر تک تھاما ہوا کبوتر اڑ چکا تھا۔
اس کے لیے تمہیں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا۔ خالا امی نے سرگوشی کی۔
وہ کیسے۔۔۔؟
ہم امان سے کہہ دیں گے کہ تمہاری شادی ہو چکی ہے اور تم۔۔۔ تم بیوہ ہو گئی ہو۔ خالو ابا کے دل کی جگہ پتھر آ چکا تھا۔
نہیں۔۔۔ ایسا نہ کہیے۔ اتنا منحوس لفظ مجھ سے وابستہ نہ کیجئے۔ کیونکہ۔۔۔ کیونکہ میں چند لمحوں پہلے بھی ان سے منسوب رہی ہوں۔ دلبر تڑپ گئی۔
کیا ہماری ہمدردیوں کا یہی معاوضہ دے رہی ہو۔
خالا امی نے تیوری چڑھا کر کہا۔
معاوضہ۔۔۔ ہونہہ۔ وہ بے دلی سے مسکرا پڑی۔ جیسے کوئی بہادر سپاہی موت کو سامنے دیکھ کر بھی ہنس دیتا ہے۔
آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میری شادی ہو چکی ہے۔ اور میرا شریک حیات تلاش روزگار میں کہیں گیا ہوا ہے۔ دلبر نے قصہ مکمل کر دیا۔
خوش رہو بیٹی۔ اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔ ہر ماں اپنی بیٹی کا بھلا ہی چاہتی ہے۔ خالا امی نے بلائیں لے ڈالیں۔ دلبر دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی کمرے سے نکل گئی۔ کاش اس کی ماں ہوتی۔ یہ سوچتی ہوئی وہ اندھیرے میں کسی چیز سے ٹکرا گئی۔
دلبر۔۔۔۔ یہ سرگوشی امان کی تھی۔
آپ۔۔۔ اس کے جسم پر چیونٹیاں رینگنے لگیں۔ خالو ابا سے کیا ہوا وعدہ یاد آ گیا۔
ہٹئے مجھے راستہ دیجئے۔ دل پر قابو رکھتے ہوئے اس نے کہا۔
اتنی بے رخی، اس قدر خفگی, ناراض ہو مجھ سے؟ لیکن دلبر اتنی دور رہ کر بھی تم سے ایک پل کے لیے دور نہ ہوسکا۔ امان کے لہجے میں درد سمٹ آیا۔
بہت دیر کر دی آپ نے کوئی کسی کا انتظار اتنے سالوں نہیں کرتا۔
میں بھی مجبور تھی۔ میں نے بھی۔۔۔ ساتھی ڈھونڈ لیا۔ تھرتھراتے لبوں سے نکلے ہوئے ان جملوں نے تصور کا سرخ گھونگھٹ تار تار کر دیا۔
اوہ۔۔۔ تو تم۔۔۔ میرا انتظار نہ کرسکیں اور میں دس سال سے تمہاری تصویر کو دل کے فریم میں سجا کر پوجتا رہا۔
میں کیا کرتی کب تک راہ تکتی۔۔۔َ؟ دلبر بمشکل تمام کہہ سکی، اور تیزی سے اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا۔ گویا امان کے لیے اپنا در دل بند کر ڈالا۔
صبح سویرے سب نے دلبر میں ایک عجیب سی تبدیلی دیکھی۔ اس کے جسم پر گلابی چم چماتی ساڑھی تھی۔ ہاتھوں میں سرخ چوڑیاں آنکھوں میں کاجل ہونٹوں پر سرخی اور اس سب سے ہٹ کو وہ روایتی سیاہ موتیوں کی مالا جو سہاگن کی نشانی ہے۔
اس کی گردن کو چوم رہی تھی۔ خالو ابا نہال ہو گئے۔ امان اداس ہو گیا۔
دلبر کی شادی پر ہم تمہیں کارڈ بجھوا نہ سکے، تمہارا پتہ ہی نہیں معلوم تھا۔
خالا امی نے درد بھرے تاروں کو چھیڑ دیا۔ امان نے دلبر کی جانب دیکھا۔ گویا پوچھنا چاہتا ہو کیا وہ اس کے قفس دل سے پرواز کر گیا ہے۔ دلبر نے سر جھکا لیا جیسے کوئی بے گناہ ملزم بے چارگی سے اپنا فیصلہ سن لیتا ہے۔
دلبر کے لیے پیامات کی کمی ہی نہ تھی۔ لوگوں کے بڑھتے تقاضوں پر دلبر کی ایما سے ہی ہم نے اس کا رشتہ طے کر دیا۔ خالو ابا کہنے لگے۔
خالو ابا پلیز! اس بحث کو رہنے دیجئے۔ آئیے جاوید بھائی کہیں باہر چلیں۔ امان مزید ٹھہرنے کی تاب نہ رکھتا تھا۔
بیٹے جاوید۔ نائلہ کو بھی ساتھ لے جاؤ۔ وہ گھر میں پڑی بور ہو جاتی ہے۔
خالو ابا راستہ ہموار کر رہے تھے۔ دلبر بہت دیر تک سب کو جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔ 
پھر دلبر نے محسوس کیا امان کی نگاہوں میں اس کے لیے نفرت گہری ہوتی جا رہی ہے اور نائلہ کے ساتھ اس کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر شام وہ ایک ساتھ تفریح کو نکلتے دن بھر کمرے میں گپیں ہانکتے۔ کبھی قہقہے کبھی سرگوشیاں ابھرتیں۔ دلبر کو یوں لگتا جیسے وہ دلدل میں دھنسی جا رہی ہے۔ 
اور پھر ایک دن۔۔۔ امان اور نائلہ راہ زیست کے ہمسفر ہو گئے۔ ازدواجی بندھن میں بندھ جانے کے بعد امان اسے جلد سے جلد امریکہ لے جانا چاہتا تھا۔ خالو ابا کا تیر نشانے پر بیٹھ گیا۔ دلبر کی تنہائیاں لا متناہی ہو گئیں۔
آخر کار وہ دن بھی آیا جب امان نائلہ کے ہمراہ پرواز کرنے والا تھا۔ دلبر ریلنگ کو تھامے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں شکایت اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ دفعتاً امان کی آواز پر وہ چونک گئی۔
دلبر۔۔۔۔ اس آواز پر وہ یوں پلٹ گئی جیسے اس کی ساری خوشی یہیں آ کر تھم گئی ہو اور وہ اسے بڑھ کر لے لینا چاہتی ہو۔ 
نام جتنا دلکش ہے کردار اتنا ہی پر فریب۔ 
نفرت میں ڈوبا ہوا پہلا تیر امان کی زبان سے چھوٹا۔
تم خود کو جانے کیا سمجھتی ہو۔ شاید دنیا کا سب سے حسین پیکر تھیں۔ شاید یہ پتہ نہیں میں نے تم سے بھی زیادہ حسین بت دیکھے لیکن سجدہ کرنے کو جی نہیں چاہا۔ اس لیے کہ میں ایسے صنم کی پوجا کرتا تھا جو پتھر کا بنا تھا۔ اچھا ہوا کہ میرے اس زخم کو نائلہ مرہم کی شکل میں مل گئی۔ تم نے میرے پیار، میری چاہت، میری محبت کو کھیل سمجھا۔ ریت کے گھروندے کی طرح ڈھا دیا۔ پانی کے بلبلے کی طرح پھونک دیا۔ شمع کی لو کی طرح بجھا دیا۔ تم عورت کے نام پر ایک داغ ہو۔ میں نے دس سال کا ہر لمحہ تمہاری یاد سے وابستہ رکھا۔ جدائی کے درد کو تمہارے پیار کے نام پر امرت سمجھ کر پیتا رہا۔ لیکن اب میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔ وفائیں کھیل نہیں ہوتیں۔مر مر کے جینے کا نام ہی وفا ہے، اور تم۔۔۔ تم صرف بے وفا ہو۔ صرف بے وفا۔ 
کسی مہیب طوفان کی طرح گرج کر، برس کر، تیز تیز قدم اٹھاتا، وہ رن وے کی جانب بڑھ گیا، جہاں نائلہ اس کا انتظار کر رہی تھی۔ دلبر آنکھیں بند کیے سب کچھ سنتی رہی جب امان نے اسے بے وفا کہا تو یوں لگا جیسے کسی نے دل دینے کی سزا میں اسے دار پر چڑھا دیا ہے۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر گلے میں پڑی سیاہ موتیوں کی روایتی مالا کھینچ ڈالی۔ کلائیوں کو اس زور سے دبایا کہ چوڑیاں ٹوٹ کر خون رسنے لگا۔وہ ڈبڈباتی آنکھوں سے پرواز کرتے جہاز کو دیکھتی رہی اور آپ ہی آپ کہتی رہی، کیا میں بے وفا ہوں۔ کیا میں بے وفا ہوں۔
٭٭٭



خوابوں کے کھنڈر


حمید کے پیر پیڈل پر تیز تیز چلنے لگے، وہ پھر خوابوں کے سفر کی طرف رواں تھا۔ یہ اس کا معمول ہی تھا جب کبھی وہ رکشا پر کوئی دور کے محلے کی سواری بٹھاتا اس کے قدم پیڈل پر تیزی سے گھومنے لگتے۔ اور اس کا دماغ خوابوں کے تانے بانے میں الجھنے لگتا۔ دن کے خواب وہ ہمیشہ ہی دیکھا کرتا۔ رات کو نیند ہی کہاں آتی جو خواب دیکھ سکے۔ رات کو بارہ، ایک بجے سیکنڈ شو پکچر چھوٹنے کے بعد سواری کر کے جب واپس گزرتا تو اس کا انگ انگ ٹوٹتا محسوس ہوتا۔ پسینے کی بوندیں جسم سے چپکی رہتیں۔ پیٹ اندر کی طرف دھنسا ہوا ہوتا۔ کون تھا اس گھر میں اس کا ہمدرد جو اس کے آتے ہی ہاتھ منھ دھونے کو پانی دیتا اور گرم گرم روٹی اس کے آگے رکھتا چھوٹے سے گھر میں وہ تھا اور اس کا بیٹا وحید۔
وحید کی پیدائش پر ہی اس کی ماں نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ محض اس لیے کہ وہ اسے وقت پر دوائیں اور خون کی بوتل مہیا نہ کر سکا تھا۔ بڑے ڈاکٹر صاحب نے ۸۰ روپے کی دوائیں لکھ دیں اور خون دلوانے کا کہا اس کا بس چلتا تو اپنی ایک ایک رگ کاٹ کر جمیلہ کے جسم میں اپنا خون پہونچا دیتا۔ مگر اس کا خون بھی اسے  دھوکہ دے گیا تھا۔ ٹیسٹ پر پتہ چلا کہ یہ خون جمیلہ کے گروپ کا نہیں اس نے خود کو کوسا،اور قبل اس کے کہ وہ جمیلہ کے گلے میں پڑی سونے کی کالی پوت کو بکوا کر بلڈ بنک سے خون لا سکے،جمیلہ بہت دور جا چکی تھی۔اپنا سہاگ اس نے بکنے نہ دیا بلکہ اپنے خون جگر کو حمید کی آغوش میں ڈال دیا۔ گوشت کے اس ٹکڑے کو دیکھ کر حمید بلک بلک کر رو پڑا مگر جب اس نے چاندی کے کٹورے جیسی دو آنکھوں کو دیکھا تو یوں لگا،جمیلہ جاتے جاتے اپنی نظر بچے کو دے گئی۔ ہو بہو جمیلہ کا عکس تھا ننھا۔۔۔ اس نے بڑے پیار سے اس کا نام وحید رکھا۔ ننھا وحید باپ کی شفقت کے سائے میں پروان چڑھتا رہا۔ حمید ہر وقت خوابوں کی دنیا میں کھویا رہتا۔ وہ دیکھتا وحید بڑا ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر بن گیا ہے بہت بڑے اسپتال میں ہے۔ سفید کوٹ پہنے۔ اسٹیتھسکوپ گلے میں ڈالے گھوم رہا ہے۔ اس کے آگے پیچھے مریضوں کا تانتا بندھا ہوا ہے اور پھر کسی کار کے ہارن یا لاری کی آواز پر اس کے خواب بکھر جاتے۔ خوابوں سے اسے ہمیشہ ہی پیار رہا۔ تنگ دستی اور مفلسی نے کبھی اس کے خوابوں پر دیوار نہیں ڈھائی۔ وہ بھوکا رہتا مگر خواب دیکھتا اس کے پیر رکشہ چلاتے چلاتے اکڑ جاتے لیکن وہ خواب دیکھتا۔ رات کے سناٹے میں سردی سے اکڑتا ہوا وہ سواری کرتا مگر خواب ضرور دیکھتا۔ گویا خواب ہی زندگی ہوں۔
وحید نے جب میٹرک کا امتحان پاس کیا تو حمید کے خوابوں کی بستی پھر سے آباد ہو گئی۔ سڑک کی دودھیا روشنی میں کھمبوں کے سہارے کھڑا ہو کر پڑھنے والا وحید امتحان میں فرسٹ کلاس کامیاب ہو چکا تھا۔ اس دن حمید خوشی سے پاگل ہو اُٹھا۔ آسمان کے ستارے اس کے آنگن میں رقص کرتے نظر آئے۔چاند اس کی آغوش میں جگمگانے لگا۔ ہوائیں مبارک باد گانے لگیں۔ پھولوں نے رنگ برسایا۔ بادل جھومنے لگے،بجلی نے روشنی جلائی،بارش نے موتی کے قطرے لٹا دیے۔
حمید فضا میں اڑتا رہا۔۔۔۔۔اڑتا رہا۔۔۔۔۔
اور پھر حمید خوابوں کی دنیا سے لوٹ گیا۔
"بابا مجھے آگے پڑھنا ہے۔ مجھے انٹر میں داخلہ چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وحید کی آواز نے حقیقت کا پردہ چاک کیا۔
"ہاں میرے بچے،تو پڑھے گا۔ تجھے بہت بڑا ڈاکٹر بننا ہے۔"
اس نے وحید کو گلے لگا لیا۔
" بابا اتنی بڑی پڑھائی کے لیے پیسہ بھی تو چاہیے۔"وحید کا ننھا ذہن بھی پیسے کی اہمیت کو سمجھنے لگا تھا۔
یہ سوچنے ولا تو کون ہے۔ تیرا باپ جو بیٹھا ہے۔ بس تو پڑھے جا بیٹا،یہی تیرا کام ہے۔ میرے خواب بکھرے ہوے ہیں انھیں سمیٹ کر تعبیر دے دے۔"
حمید کی آواز خلا میں بھٹک گئی،وہ پھر خوابوں کی سیڑھیاں طے کرنے لگا۔
وحید کو بڑی مشکل سے انٹر میں جگہ مل سکی۔ وہ پہروں انتظار کرتا،مگر لسٹ میں اس کا نام نہ ملتا۔آخر تھک ہار کر اس نے ایک پرائیویٹ کالج میں 500 روپے کی رقم دے کر داخلہ لے لیا۔ وہ جانتا تھا کہ ماں کی آخری نشانی جوہری کے ہاتھوں میں بیچ کر بابا نے یہ رقم اس کے حوالے کی تھی۔ دو سال پلک جھپکنے میں گزر گئے وحید انٹر بھی پاس کر چکا۔اب حمید کے خوابوں کی تعبیر قریب آ رہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ اڑن کھٹولے پہ بیٹھا دنیا کی سیر کرتا رہا۔انٹر کی کامیابی پر اس نے ایک چھوٹی موٹی تقریب کر ڈالی۔ محلے کے چند لوگ جمع ہوئے۔ جمن خالہ نے کھانا بنایا۔ افضل بھائی نے پھولوں کے ہار گوندھوائے اور امام صاحب نے مٹھائی فاتحہ دلوا کر بچوں میں تقسیم کروائی۔
چھوٹا سا سفالی مکان غریبی کے قہقہوں سے گونج اٹھا۔حیدر چاچا کی لڑکیوں نے ڈھولک پر تھاپ دینی شروع کی تو گویا محلے میں نقارے سے بچ اٹھے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ نہ وسیع ہال تھے، نہ ٹیبل، نہ کرسیاں، نہ لوازمات، نہ برقی قمقمے، نہ شادیانے مفلس کے گھر کی تقریب ہی کیا، بس اتنا ضرور ہے کہ بے بسی اور تنگ دستی کی اس دعوت میں یگانگت اور خلوص غریبی کے دستر کے لوازمات ہوتے ہیں۔
وحید یہ سب کچھ دیکھ کر خوش نہ ہوسکا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا باپ رات رات بھر جاگتا رہتا ہے، کھانستا رہتا ہے۔ یہی وہ عمر تھی جب شعور پختگی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ احساسات کی چادر اپنی لپیٹ میں لینے لگتی ہے۔ خوشی کے چہرے پر غم کا نقاب ہوتا ہے۔ قہقہوں کی آواز میں سسکیوں کی بازگشت بھی ہوتی ہے۔ مسرت کی اس محفل میں کرب بھی بسیرا کر لیتا ہے۔ اجالوں کی اس بستی میں کہیں کہیں اندھیرے بھی چھپے رہتے ہیں۔ وحید کا ذہن بھٹک رہا تھا۔ وہ خواب نہیں دیکھ سکتا تھا۔ حقیقت اس کے آگے تھی۔ یاس، نا امیدی، بے بسی، مجبوری، محرومی، نارسائی، اور بیکسی اسے کسی کانٹے دار جھاڑیوں کی طرح لپٹے ہوئے تھے۔ وہ ان سے دامن چھڑانے کی کوشش کرتا تو اس کے انگ انگ سے خون رسنے لگتا اور یہی خون آنکھوں کی راہ آنسو بن کر بہہ جاتا۔کتنے بے ضرر تھے یہ موتی۔۔۔ کوئی خریدار نہ تھا کوئی بولی لگانے والا نہ تھا۔ وقت مسکرا رہا تھا۔
مگر حمید نے کبھی ان باتوں کی پرواہ نہیں کی۔ وہ امیدوں کی دنیا میں جیتا، اس کے ساغر میں ڈوبا رہتا، تمناؤں کے چراغ جلاتا رہتا۔ آرزوؤں کے پھول سجائے رکھتا۔ انتظار اور وقت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا۔ بوڑھی اور کمزور نگاہوں میں خوشیوں کے اجالے تھے۔ معصوم اور تیز نگاہوں میں سہمی ہوئی حسرتوں کے اندھیرے پھیلے ہوئے تھے۔ خوابوں کے باغات کی آبیاری کرتے کرتے حمید کانٹوں میں الجھ کر رہ گیا۔ جب اس نے یہ سنا کہ وحید کو میڈیسن میں جگہ نہ مل سکی، اس کے ہاتھ شل ہو گئے۔ پاؤں زمین سے بندھ گئے۔ دل کی دھڑکنیں دھیمی ہونے لگیں۔ خوابوں کا تاج محل ریت کے گھروندے میں ڈھلنے لگا۔
بابا میں میڈیسن نہیں کروں گا۔۔۔۔ !!
قبل اس کے کہ وحید پوری بات کر سکتا۔ حمید کی انگلیوں نے اس کے گالوں پر اپنا نشان چھوڑ دیا۔
بابا۔۔۔۔۔۔۔۔ "
وہ بلک پڑا۔ حمید نے محسوس کیا جیسے اس کا دل چٹخ گیا ہو۔ اس نے درد سے بے تاب ہو کر وحید کو لپٹا لیا۔ وحید کے آنسو حمید کے میلے قمیص پر دائرے بناتے رہے۔ 
" وحید۔۔۔! میرے خوابوں کو چکنا چور نہ کر میرے بچے۔ میری تمناؤں کو یوں برباد نہ کر۔ میری آرزوؤں کو یوں دفن نہ کر۔ میری حسرتوں کا گلا چاک نہ کر۔ میری امیدوں کے سورج کو اس طرح ڈوبنے نہ دے۔ آس کی کرن کو یوں بادلوں میں نہ چھپنے دے۔ زندگی کی پچپن سالہ راتیں میں نے تیرے لیے کاٹیں۔ اپنی عمر کا ایک ایک حصہ تیرے لیے وقف کر دیا۔ خوابوں کی اونچی چوٹی سے مجھے حقیقت کی وادی میں نہ پھینک، میں بکھر جاؤں گا۔ ریزہ ریزہ ہو جاؤں گا۔ 
وہ سچ مچ بلک پڑا۔ پارے کی طرح بکھر گیا۔ 
میں نے جب سے ہوش سنبھالا، بابا ! تمہیں مصیبت اٹھاتے دیکھا۔ محنت کرتے دیکھا۔ دو وقت کی روٹی تمہیں بنا محنت نہ مل سکی تمہاری آنکھوں کا نور ہو کر بھی میں تمہیں اجالا نہ دے سکا۔ تم نہیں جانتے بابا آج کل دنیا کتنی سنگ دل ہے۔ تمہارے خواب میری تعبیریں، تمہارے آنسو میری حسرتیں زمانےکو بدل نہیں سکتیں۔ یہاں قدم قدم پر روپے چاہیے، پیسے چاہیے، کاغذ کے یہ ٹکڑے تمہارے خوابوں کے دشمن ہیں بابا"۔ وحید نے سچائی بیان کی۔ 
" میں اس دشمن کو تیرے قدموں میں ڈال دوں گا۔ میری ہمت میرے حوصلے کو للکارنے والے اس موذی کو میں کچل دوں گا، بتا کتنا روپیہ چاہیے" حمید کے حوصلے جاگ پڑے۔
میڈیسن میں داخلہ عطیوں کے عوض مل سکتا ہے۔ تم کیا دے سکو گے۔ 
تو صرف بتا دے تیرا کام پڑھنا ہے میرے خوابوں کو تعبیر دینا ہے۔ یہ نہ پوچھ کہ یہ کیسے ہو گا۔
تم کرا سکتے ہو انتظام تین ہزار روپوں کا؟۔ 
وحید کی آواز حلق میں پھنس گئی، وہ گھٹی گھٹی آواز سے بولا۔ اپنے بچے کو ڈاکٹر بنانے کے لیے تمہیں تین ہزار روپے لانے ہوں گے۔ اتنی بڑی رقم دے کر ایک معمولی رکشا ران اپنے بچے کو کیسے ڈاکٹر بنا سکے گا۔؟ تم نے ایسے خواب کیوں دیکھے، جن کی تعبیر دھوئیں کی لکیر کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ بھول جاؤ بابا!ان خوابوں کو، خوابوں نے فریب دیا ہے، دھوکا دیا ہے، یہ غریب کی کشکول میں بسنے والے نہیں۔ انہیں بھول جاؤ۔۔۔ " وحید نے سمجھایا۔ 
انتظام ہو جائے گا۔، ضرور ہو جائے گا۔ 
حمید نے وحید کی گرفت چھوڑ دی اور گھر سے نکل گیا۔ 
قدرت اس کے لیے پیغام لے آئی۔ گھپ اندھیرے میں سورج کی پہلی کرن کی طرح یہ اعلان اس نے دیکھا۔ شہر میں رکشاؤں کی ریسیں، جو رکشا ران مقابلے میں اول آئے گا۔ اسے چار ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔
اس اعلان نے آس کی ننھی کلی پر آب حیات چھڑک دیا۔ وہ جی اٹھا،اس کے سوئے قدم جاگے۔ اس کی تھکی ہوئی آنکھیں بیدار ہوئیں۔ مقررہ تاریخ پر وہ جلسہ گاہ کی جانب اپنی رکشا لے کر آگے بڑھا، بہتوں نے سمجھایا کہ اب عمر اس قابل نہیں، مقابلے میں سارے جوان شریک ہیں۔ اس نے صاف جواب دے دیا۔ 
" جس کا عزم جواں ہے وہ کبھی بوڑھا نہیں ہوتا، جس کا حوصلہ مضبوط ہے وہ کمزور نہیں ہوتا۔ ہمت اٹل ہے، اسے کوئی روک نہیں سکتا"
وحید نے ہاتھ جوڑ دیے۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا باپ اس مقابلے میں کیوں جا رہا ہے۔ اس نے التجا کی، منت کی سماجت کی مگر خوابوں کا دیوانہ رک نہ سکا۔ چار مینار کی پر شکوہ عمارت کے نیچے کھڑے ہو کر اس نے ایک بار اوپر نظر اٹھائی، بلند و بالا عمارت کے مینار اپنی اہمیت منوا رہے تھے۔ حمید نے دیکھا کہ وحید ان میناروں کو چھو رہا ہے۔ تبھی مقابلے کے آغاز کا اعلان ہوا۔ اس کے قدم پیڈل پر تیز گھومنے لگے۔ اس کا رکشا ہوا سے باتیں کر رہا تھا۔ چار مینار سے کٹہ حسین ساگر تک جانا تھا۔ راستے میں ٹریفک رکی ہوئی تھی۔ سڑکوں کے دونوں جانب عوام قطاروں میں کھڑے تھے۔تالیوں کی گونج فضا کو دہلا رہی تھی۔ نعرے لگائے جا رہے تھے۔ بچے چیخ رہے تھے۔ اس کی نگاہ سڑک پر تھی دل کامیابی کی امید سے دھڑک رہا تھا۔ اس کے پیر پیڈل پر لٹو کی طرح گھوم رہے تھے۔ وہ پسینے سے شرابور تھا سانس تیز چل رہی تھی۔ آنکھیں پھڑ پھڑا رہی تھیں اور اس کا ذہن خوابوں میں بھٹک رہا تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا وحید ڈاکٹر بن چکا ہے ایک عالی شان بلڈنگ کے گیٹ پر اس کا نام جلی حروف میں لکھا ہے۔ لوگ قطار در قطار اندر جا رہے ہیں۔ گیٹ پر وردی پہنے چوکیدار ٹھیرا ہے۔ وحید اسٹریچر پر جھکا مریض کو دیکھ رہا ہے۔ فون پر فون آ رہے ہیں۔ وہ ایک ہاتھ سے رسیو کر رہا ہے اور دوسرے ہاتھ سے مریض کو دیکھ رہا ہے۔
پھر حمید نے دیکھا بادلوں کی اوٹ  سے جمیلہ جھانکتی ہوئی مسکرا رہی ہے۔ اس کے ہاتھ ہینڈل پر تھم گئے۔ پیر تیزی سے چلنے لگا۔ فضاؤں میں چیخ و پکار تھی۔ تالیوں کی گونج تھی۔ وہ خوابوں کے سفر پر رواں تھا۔ جمیلہ بادلوں کی اوٹ سے باہر آ چکی تھی، اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھ کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ موتی جیسے دانت چمک اٹھے اور فضاؤں میں پھول ہی پھول بکھر گئے۔ وہ ان پھولوں کو چننے کے لیے جھک گیا۔ وہ پھول سمیٹتا رہا۔ سمیٹتا رہا۔۔۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا وہ بستر کی چادر سمیٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ پیر پٹیوں سے جکڑے ہوئے تھے اس کے انگ انگ میں شدید کرب تھا۔ اس کا جسم چھلنی ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ سیسٹرس اس کے ہاتھوں کو پکڑے ہوئے تھے۔ وہ چلانے کی کوشش میں تھا کہ دفعتاً اس کو محسوس ہوا کہ اس کے بازو میں کوئی نوکیلی سی چیز دھنس گئی ہے اور پھر وہ خوابوں کے سمندر میں غوطے لگانے لگا۔
صبح کی پہلی کرن جب اس کے چہرے پر پڑی تو اس نے دیکھا کہ وحید ٹیبل پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔
وحید دبی ہوئی آواز اس کے زخمی لبوں سے نکلی۔
بابا وہ اس کے قریب جھک گیا۔ 
وحید، مقابلے کا کیا ہوا۔؟ حمید ابھی دنیا میں ہی سانس لے رہا تھا۔ 
مقابلہ ہو چکا بابا۔۔۔۔۔! وحید اٹھ کھڑا ہوا۔ 
جیتنے والے کو چار ہزار مل گئے اور تمہارے حصے میں یہ آئے ہیں۔ اپنے ہاتھ میں دو بیساکھیاں لیے وہ حمید کے روبرو کھڑا تھا۔ 
نہیں۔۔۔ حمید نے اپنی پوری قوت گویائی استعمال کر لی۔ اس کے کانوں میں سیٹیاں سی بجنے لگیں، اس نے زخمی ہاتھ کانوں پر رکھ لیے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ زمین و آسمان باہم ہوتے محسوس ہوئے۔ دل کی دھڑکن تیز تھی، نبض کی رفتار بھی تیز ہو گئی۔ تب اسے یاد آیا۔ پیڈل پر تیزی سے پیر گھماتے ہوئے انجانے میں وہ نیچے کی طرف جھک گیا، پھر اسے یاد آیا۔ جمیلہ پھول بکھیر رہی تھی اور وہ ان پھولوں کو سمیٹنے کی کوشش میں زمین پر جھک گیا، پھر اس کے بعد اس کے ہاتھ اور پیروں پر سے نہ جانے کتنے رکشا کچلتے ہوئے نکل گئے وہ پھول سمیٹنے میں رہا اور نصیب میں خار آئے۔
میں نے بار بار کہا تھا بابا خواب نہ دیکھیے۔ یہ خواب ہمارے دشمن ہیں یہ فریب ہیں۔ مفلسوں اور محتاجوں کی پیاسی روح کو گھائل کرنے والے پتھر ہیں۔ غریبی کے ماتھے پر خوابوں کے چاند نہیں جگمگا سکتے۔ وہاں حقیقت کے جھلس دینے والے سورج چمکتے ہیں ایک مفلس کی آنکھوں میں خواب نہیں پلتے بلکہ آنسو بہتے ہیں۔ یہی ہمارا مقدر ہے۔ ایک غریب انسان اپنی تمام تر آرزوؤں اور تمناؤں کو سمیٹ کر سنگ مر مر کا حسین تاج محل تو نہیں بنا سکتا۔ مٹی کا ڈھیر یکجا کر کے آنسوؤں کے چراغ جلا سکتا ہے، اور حسرت کے پھول برسا سکتا ہے بدنصیبی کا کتبہ لگا سکتا ہے۔۔۔ اس بار وحید کے گال بھیگ گئے۔
چلو بابا واپس چلو، ! خوابوں کی اس دنیا سے جس نے تمہیں لوٹ لیا۔ تمہارے پیر چھین لیے۔۔۔۔
وحید نے بیساکھیاں حمید کے بازوؤں میں لگا دیں اور سہارا دے کر رکشا تک لے آیا۔ حمید بہ مشکل تمام رکشا میں بیٹھ سکا اور وحید کے پیر رکشا کے پیڈل پر تیز گھومنے لگے اپنے خوابوں کی اس بھیانک تعبیر کو دیکھ کر حمید جیسے گونگا ہو کر رہ گیا۔
٭٭٭



چندا کی چاندنی


لاجو نے پہلی بار شہر دیکھا تھا۔اونچی اونچی عمارتیں، چوڑی چوڑی سڑکیں، کاروں کا قافلہ، لوگوں کا ہجوم اسے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ نہ ہرے بھرے کھیت تھے نہ چھوتی موٹی پگڈنڈیاں نہ پنگھٹ نہ چوپال، گاؤں کی کوئی بات بھی نہ تھی یہاں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی اسے یہ شہر بہت اچھا لگا۔ کیوں کہ اس کا پریم اس کے ساتھ تھا۔ شہر آتے ہی لاجو نے سب سے پہلے چم چم کرتی چوڑیاں اور جھن جھن بجنے والے پازیب خریدے گاؤں میں اس کی سکھیوں اور بڑی بوڑھیوں نے بتایا تھا کہ سہاگن کے ہاتھ کھنکتے ہیں اور پیر بجتے ہیں، ہونٹوں پر لالی جمتی ہے، بندیا ماتھے پر جگمگاتی ہے، اور لال چنری گورے انگ سے لپٹی رہتی ہے۔ پریم سے بیاہ ہونے کے بعد لاجو نے بھی یہی سنگھار اپنا لیا۔ ہر لمحہ ہر پل وہ دلہن بنی رہتی۔ شہر کے ایک چھوتے سے محلے میں ایک چھوٹا سا مکان کرایے پر لیے وہ دونوں خوشیوں کے گہوارے میں جھول رہے تھے۔ پریم ایک فیکٹری میں ملازم تھا۔ صبح سویرے وہ جاتا اور شام چھے بجے لوٹتا، دروازے پر لاجو کو سولا سنگھار کئے اپنا منتظر پاتا۔ لاجو کے اس سنگھار کو دیکھ کر بستی کی اور دوسری عورتیں بڑا رشک کرتیں، ایک دوسرے کو کہنی مار کر یا آنکھ کے اشارے سے بتایا کرتیں۔ دن کا اجالا ہو یا رات کی تاریکی چھم چھم کی آواز اور کھن کھن کی آواز بستی میں گونجتی ہی رہتی۔نل سے پانی بھرنے جب وہ صبح نکلتی تو کاندھے پر گاگر ہوتی اور چھما چھم کی گونج۔ بستی کے لڑکے جیسے جیسے وہ گزرتی تالیاں پٹتے، فقرے کستے، مرد ٹھنڈی آہیں بھرتے۔ عورتیں نفرت سے گردن کو جھٹک دیتیں۔ وہ یہ محسوس کرتیں کہ لاجو کوئی چور ہے جو ان کا کچھ چھین لے جائے گی۔ مگر لاجو ان سب باتوں سے بے نیاز اپنی دنیا میں مگن تھی صبح سویرے اور شام ڈھلے وہ بندیا لگانا، پان کی لالی ہونٹوں پر جمانا، چنری اوڑھنا پازیب باندھنا اور چوڑیاں پہننا کبھی نہ بھولتی۔ پریم کو دور سے آتا دیکھتی تو اس کے گالوں میں ننھے ننھے بھنور پڑ جاتے۔ اور پریم اس بھنور میں ڈوب جاتا۔ زندگی کی ہر خوشی ان کے آنگن میں رقص کرتی نظر آتی۔ شادی کو ایک سال گزرا اور لاجو دو جڑواں بچوں کی ماں بن گئی۔
ونئے اور وجئے دونوں اس کی آنکھوں کے تارے تھے۔ دونوں ہی اپنے باپ پر گئے تھے۔ ایک ہی پالنے میں وہ دونوں کو لٹا کر لوری گاتی تو یوں لگتا جیسے جھرنے بہہ رہے ہوں۔چڑیاں چہچہا رہی ہوں۔ کوئل کوک رہی ہو۔ وقت کا سورج ابھرتا ڈوبتا رہا۔ دو بچوں کی ماں بن کر بھی وہ اپنا سنگھار نہ بھول سکتی تھی۔ننھے بچے چوڑیوں کی کھنک اور پازیب کی چم چم کو خوب پہچانتے تھے،دور سے ہی آواز سن کر مچل جاتے۔ اسی طرح بہاروں کے دن گزارتے رہے۔ ننھی ننھی گل کاریاں توتلی باتوں میں بدل گئیں۔ ونئے اور وجئے رینگتے رینگتے اب باقاعدہ چلنے لگے۔ ماں اور بچے جب آنکھ مچولی کھیلتے تو لاجو آسانی سے پکڑی جاتی۔ کبھی چم چم کبھی کھن کھن کبھی لال چنری اس کا پتہ بتا دیتی۔ پھر سب جی بھر کر ہنس پڑتے۔ جیسے خوشی کے فوارے چھوٹ گئے ہوں۔ خوشیوں کے چڑھتے سورج کو بھی آخر گہن لگ ہی گیا سیاہ  بدلی امڈ کر آ ئی اور لاجو کے سنگھار پر برس گئی۔ پریم فیکٹری میں ایک حادثے کے دوران ملبے کے نیچے آ کر ختم ہو گیا۔ لاجو کی زندگی جیسے سو گئی۔ اس کے لیے یہ حادثہ جان لیوا ہی تھا مگر ونئے اور وجئے کے معصوم چہروں نے اس سے وعدہ لیا کہ وہ جیئے۔ وہ زندہ تو رہی مگر مردہ سے بدتر۔ آنکھوں میں اداسی ماتھا ویران، کلائیاں سونی۔ قدم بے آواز۔ لال چنری کی جگہ سفید اوڑھنی ہونٹوں کی لالی پریم کے خوان کی سرخی کے ساتھ بہہ گئی۔
ایک دن دو دن تین دن گزر گئے۔ لاجو ساکت ہو کر رہ گئی۔ ونئے اور وجئے بوکھلائے پھر رہے تھے۔ ان کے کانوں نے، وہ آواز نہیں سنی۔ جس کے وہ عادی تھے۔ وہ لاجو کے قریب آتے، اسے جی بھر کر دیکھتے اور پھر خالی خالی نظروں سے ایک دوسرے کو تکتے محلے والوں نے اسے سمجھایا کہ بچے نادان ہیں انھیں سنبھالو۔وہ خود تو فاقہ کر سکتی تھے اس کی بھوک اور پیاس تو پریم لے کر چلا گیا تھا مگر بچے۔۔۔۔۔۔تب اس نے سوئی ہو ئی زندگی کو جگایا۔
"ونئے وجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آؤ کھانا کھا لو۔"
اس آواز کو سن کر وہ ماں کے قریب پہونچے۔ اسے غور سے دیکھا اور پھر ونئے نے کہا۔
"تم ہماری ماں نہیں ہو۔"
"ہاں تم ہماری ماں نہیں ہو۔"
اب وجئے بھی اس کے ساتھ تھا۔
"نہیں ایسا نہ کہو، میں ہی تمھاری ماں ہوں "
لاجو نے محسوس کیا کہ پریم سے بندھن ٹوٹنے پر بچے بھی شاید اسے اپنی ماں تسلیم نہیں کرتے۔
"چھوڑو ہمیں،تم ہماری ماں نہیں ہو۔"
دونوں نے ایک ساتھ کہا۔
"نہیں --- میں ہی تمہاری ماں ہوں لو کھانا کھالو-"
اس نے لقمہ ان کے منھ کی طرف لے جانا چاہا لیکن دونوں ہاتھ جھٹک کر اُٹھ گئے-
"ہماری ماہ کی کلائیاں خالی نہیں تھیں -"- ونئے نے کہا-
"چم چم کرتی چوڑیاں پہنتی تھی وہ-" وجئے بولا-
"ہماری ماں کے پاؤں میں گھونگھرو بجتے تھے-" ونئے نے کہا-
"ہمارے ماں لال چنری اوڑھتی تھی-" وجئے بولا-
"ہماری ماہ کے ہونٹوں پر لالی پر لالی رہتی تھی-" ونئے نے کہا-
"اور ہمارے ماں لوریاں گا کر ہمیں سُلاتی تھی-" وجئے نے کہا-
"تم ہمارے ماں نہیں ہو- جب ہمارے ماں آ جائے گی تبھی ہم کھائیں گے-"
دونوں نے کہا اور ایک کوٹھری میں جا کر اندر سے دروازہ بند کر لیا-
لاجو چیختی رہی، سمجھاتی ہری، مناتی رہی، مگر وہ مانے نہیں - شام ڈھل گئی رات آئی، چاروں طرف سناٹا تھا-
بچے دو دن سے بھوکے تھے- لاجو کی ممتا تڑپ اُٹھی، اس نے کوٹھری کے سوراخ سے جھانک کر دیکھا- دونوں بے سدھ پڑے تھے- اب اس سے برداشت نہ ہوسکا- وہ دوسری کوٹھری میں چلی گئی-
رات کا پچھلا پہر تھا، ہوائیں سائیں سائیں کرتی چل رہی تھی- فضا میں تاریکی کے سوا کچھ نہ تھا- تبھی جیسے آسمان شق ہوا اور بجلی تڑپ کر باہر نکلی- چھم چھم چھم چھم کی آواز نے فضا کا سکوت چھین لیا- لاجو کوٹھری کے دروازے پر کھڑی ہو گئی- مکمل سنگھار سے آراستہ وہ ای ایسی دُلہن لگ رہی تھی جس کا دُلہا ابھی آنے کو تھا- اس نے دھیرے دھیرے گانا شروع کیا-
میا کی آنکھوں کے تارے
جگ جگ جیو میرے پیارے
سپنوں کی رانی آئی
گیت سہانے لائی
دور ہوئے اندھیارے،
جگ جگ جیو میرے پیارے
گیت ختم بھی نہ ہوا کہ بچے باہر نکل آئے اور دوڑ کر لاجو سے لپٹ گئے-
لاجو نے محسوس کیا، پریم زندہ ہے اور ونئے اور وجئے کے روپ میں  ڈھل گیا ہے- وہ دونوں کو بٹھا کر کھانا کھلاتی ہوئی گاتی رہی- سناٹے میں اس کی آواز بستی والوں تک پہونچ چکی- جس گھر میں غم نے قدم رکھے وہاں خوشیوں کا آلاپ، کتنی بے معنی سی بات تھی- سبھی اپنے گھروں سے اس سکھ اور دکھ کی برکھا کو دیکھنے نکل آئے لاجو کو سولاسنگھار کئے بچوں کو بٹھائے گیت گاتے دیکھا تو جیسے بستی والوں کے سینوں میں بم کے دھماکے ہو گئے-
لعنت ہے ایسی عورت پر" مولوی صاحب نے کہا-
"کلموہی- جنم جلی شاید پتی کے مرنے کی راہ دیکھ رہی تھی-" ٹکھرائن نے کہا-
"بے چارہ مر کر دو دن بھی نہیں ہوئے وار یہ دلہن بن گئی، پاپن کہیں کی-" امام صاحب کی بیوی نے پھٹکارا-
"رام رام کلجگ ہے بھیا ایسی عورت کا تو منھ بھی نہ دیکھنا چاہئے-" پنڈت جی نے کہا-
"نکالو اس بدمعاش کو اس محلے سے-" فضلو دادا نے پکار کر کہا-
"یہ بستی شریفوں کی ہے- ذلیلوں کا اس بستی میں کام نہیں -" جگو نے پکار کر کہا-
"نکالو اسے دھکے دے کر لاحول ولاقوۃ" امام صاحب جوش میں بولے-
لاجو باتوں کے یہ تازیانے چپ چاپ سہتی رہی اس نے کوئی جواب نہیں دیا- جگو اور فضلو اندر آئے اور اس کا سامان باہر پھینک دیا-
"نکل جا ہماری بستی سے یہاں آوارہ اور بد چلن عورتوں کا ٹھکانہ نہیں -"
اور پھر سامان باہر پھینکا جانے لگا- بچے سہم کر رو پڑے- لاجو نے انہیں سنبھالا اور رات کے اندھیرے میں سب کچھ وہیں چھوڑ کر صرف ونئے اور وجئے کا بازو تھامے بستی سے دور نکل پڑی-
ایک طرف حسن جوانی اور تنہائی تھی، دوسری طرف ہوس- تیز نگاہیں اور سودے بازی وہ کس کس سے نپٹتی- لاکھوں کی بھیڑ میں وہ تنہا تھی- اس نے ہمت نہ ہاری ونئے اور وجئے کو سینے سے لگائے آگے بڑھ گئی- جہاں چیونٹی کو رزق مل جاتا ہے وہاں انسان کی کیا بات ہے- بس محنت لگن اور حوصلہ چاہئے- لاجو اسی کے بل پر نکل پڑی تھی--- اس نے اسلم میاں کے پاس کی نوکری کر لی- جو ایک اسکول کے ریٹائرڈ ہیڈماسٹر تھے- ونئے اور وجئے کو انہوں نے اپنے دوست رام دیال کی نگرانی میں دے دیا- اسلم خدا پرست انسان تھے اور رام دیال انسانیت نواز دونوں کی دوستی برسوں سے تھی- رمضان ہو یا بقر عید، دسہرہ ہو یا دیپاولی، ہر ہر عید و تہوار دونوں اسی جوش و خروش سے مناتے- محرم کا سوگ رام دیال کے یہاں منایا جاتا اور ہولی کی بہار اسلم میاں کے پاس ملتی- اس گنگا جمنی ماحول میں ونئے اور وجئے پر کندن کا رنگ چھا گیا- بڑھتی ہوئی عمر نے اچھی باتیں سیکھ لیں - مذہب سے لے کر انسانیت تک کے ہر مکتب کی تعلیم سے وہ آراستہ ہو کر نکھر گئے کبھی کبھار لاجو بیتی ہوئی باتوں کو یاد کر کے جب چُپ سی ہو جاتی تو ونئے اور وجئے اپنی ماں کی آغوش میں پڑ جاتے-
"ماں تیرا چہرہ گدلا گدلا سا کیوں ہے۔۔۔؟"
"میں نے نمکین پانی سے منہ دھویا ہے نا اس لیے۔"
وہ انھیں بتاتی۔ بچے ناسمجھ نہیں تھے۔ خوب جانتے تھے۔ تب وہ جواب دیتے۔
"ہم دونوں کے ہوتے تو نمکین پانی سے کیوں منھ دھوتی ہے۔ ماں ہم تیرے لیے چاندنی جیسا دودھیا پانی لے آئیں گے تو اس سے نہا کر چندا جیسی ہو جائے گی"
اور لاجو انھیں سینے سے لگا کر اپنے سرخ ہونٹوں سے وہی گیت دہرانے لگتی۔ اتنے بڑے ہو کر بھی ونئے اور وجئے ماں کی چوڑیوں اور پازیب کا خیال برابر رکھتے تھے۔
"ماں تو سنگیت کی دیوی ہے۔ تو اگر ساز نہ بجا۴ے گی تو مندر کی گھنٹیوں اور مسجد کی اذانوں میں زندگی نہ رہے گی۔ تیری سرگم کے تانوں پر ہمارے قدم رقص کرتے ہیں ماں "
اور لاجو کے دھیرے دھیرے چلتے قدم تیز تیز ہو جاتے۔فضاؤں میں گھونگھرؤں کی بازگشت ہونے لگتی۔ وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ لاجو ضعیفی میں بھی سولہ سنگھارکئے رہتی۔ پہلے وہ پریم کی راہ تکتی تھی، اپنی آنکھوں میں پیار کی جوت جگائے اور اب بچوں کی راہ دیکھتی ہے۔ اپنے ہونٹوں پر ممتا کے گیتسجائے۔وہ خود کو سدا سہاگن سمجھتی۔ اس کی چوڑیوں میں ونئے کا دل تھا اور اس کی پازیب میں وجئے کا دل۔وہ ان دونوں کی نگہبان تھی۔ کہیں ہلکی سی ٹھیس بھی نہ پہنچے اور وہ ٹوٹ نہ جائے۔ زندگی کی ڈور دراز ہوتی گئی۔ پھر شہر میں ایک قیامت آ گئی۔ حشر برپا ہوا فساد پھوٹ پڑا۔ چیخ و پکار آہ و زاری بچاؤ کی صدائیں گونجنے لگیں آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ عمارتیں جلتی رہیں۔ تہذیب و تمدّن کو آگ لگ گئ۔مندر ٹوٹ گئے۔ مسجدیں ڈھا دی گئیں۔ پنڈت قتل ہوئے،امام کچلوا دیئے گئے۔
صدیوں کا میل ملاپ، بھائی چارگی اخوت سب کچھ پلک جھپکتے میں نفرت میں بدل گئے، لبوں پر مہر و وفا کے بدلے گالیاں تھیں۔ ہاتھوں میں دوستی کے پر خلوص جام نہیں بلکہ دشمنی کے زہر بھرے پیالے تھے۔آنکھوں میں مروت کی جگہ بیگانگی تھی۔ دلوں میں صداقت کی جگہ عداوت تھی۔ بستیاں اجڑ گئیں، لوگ پناہ گاہیں ڈھونڈنے لگے۔ونئے اور وجئے نے اپنے گھر میں تمام مسلمانوں کو پناہ دی۔ اپنے دروازے کے آگے وہ سینہ تان کے کھرے ہو گئے۔ لاجو نے نوجوان لڑکیوں کو اپنے آنچل میں چھپا لیا۔ ونئے اور وجئے نے چھاتی تان کر بوڑھوں کو پیٹھ پیچھے چھپا لیا۔ امام صاحب ان کی بیوی، فضلو، مولوی صاحب اور بستی کے نجانے وہ کون کون لوگ تھے۔ جو لوجو کے گھر میں پناہ لے رہے تھے۔ سن نے اسے پہچان لیا۔ چوں کہ لاجو بوڑھی ہو کر بھی سہاگن تھی۔ وہ سونچ رہی تھی کہ کہیں یہ لوگ اس کے پناہ سے نکل نہ جائیں اور باہر جا کر کاٹ نہ دیئے جائیں کیوں کہ کبھی انھوں نے اسے بستی سے نکالا تھا۔ بدمعاش اور ذلیل لا خطاب دیا تھا۔ اس نے صاف صاف کہا
"پتہ نہیں، تم لوگوں نے مجھے یاد رکھا یا نہیں پر میں تمھیں بھلا نہ سکوں گی۔ کیوں کہ تم اس بستی کے رہنے والے ہو جہاں میرا پریم ریا کرتا تھا میں بدمعاش آوارہ اور ذلیل سہی مگر یہ وقت ایسا ہے کہ تمھیں میرے یہاں پناہ لینی پڑے گی۔ میں اپنے بچوں کی قسم کھا کر کہتی ہوں، یہاں تمہیں کوئی تکلیف نہ ہو گی۔ میرے بچے تمھاری حفاظت کریں گے۔ بھگوان کے لیے بس رکے رہو، جب یہ طوفان تھم جائے گا تب چلے جانا"
لاجو کہہ رہی تھی، تبھی فضا میں گولیوں کی آواز شروع ہو گئی۔ پولیس نے فائرنگ شروع کر دی تھی۔ آہ و بکا کا طوفان مچ گیا۔لاجو بے اختیار نکل پڑی دروازے کی دہلیز پر ہی کسی چیز سے ٹھوکر کھا کر گر گئی۔ چوڑیاں ٹوٹ کر ادھر ادھر بکھر گئیں۔ پازیب کھل کر گھنگرو پھیل گئے۔ ایک انجانا سا خوف اس کے دل میں پیدا ہوا۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو دروازے کے پاس ہی اس کے دل کے دو ٹکڑے خون میں لہو لہان پڑے تھے۔
"ونئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"مگر مردہ جسم حرکت نہ کر سکے۔ گولی سینے کے آر پار ہو چکی تھی۔ وجئے اور ونئے دونوں نے انسانیت پر وجئے پالی تھی۔ وہ مر کر بھی امر تھے۔ اور لاجو بکھری ہوئی چوڑیوں اور بکھرے ہوئے گھنگروں کو سمیٹ رہی تھی۔
اس دن کے بعد سے لاجو بستی کے آس پاس سفید چادر اوڑھے گھومتی نظر آتی۔ اس کے سر کے بال ایک دم دودھ جیسے اجلے ہو گئے تھے وہ ہر آنے جانے والے کا راستہ روکتی اور کہتی۔
" دیکھو ونئے اور وجئے نے مجھے چندا کی چاندنی بنا دیا میں چندا کی چاندنی ہوں۔" وہ کھل کھلا کر ہنس دیتی، اگرچہ کہ اس کی آنکھوں کے گوشے نم ناک ہو جاتے۔ 



دل ایک سجدہ گاہ



"نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے کہہ دیا نا ایسا نہیں ہو سکتا۔" نگار کے لہجے میں غصّہ تھا۔
"لیکن ممی! میری خوشیوں کا کیا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔" ثمر نے امید کا دیا بجھتے دیکھ کر پوچھا
"خوشیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا خوشیاں اسی منزل پر جا ٹھہرتی ہیں جسے تم اپنا رہے ہو۔"نگار نے سوال کیا۔
"میں شیبا کے بغیر جینے کا تصوّر نہیں کر سکتا۔"وہ آبدیدہ ہو رہا تھا۔
"سمجھ میں نہیں آتا کہ تم جیسا ڈاکٹر بھی ایسے جنون کا شکار کیسے پو گیا۔"نگار کت لہجے میں طنطنہ تھا۔
"ممی۔کیا ڈاکٹر انسان نہیں ہوتے۔ ان کے دل میں کوئی جذبات نہیں ہوتے۔ ممی پلیز اتنی سنگ دل نہ بنیے۔" ثمر نے نگار کے ہاتھ تھام لیے۔
"بے کار بحث میں الجھ کر زندگی کے انمول لمحے برباد نہ کرو۔ میرا بھی تم پر کچھ فرض ہے۔"نگار نے جواب دیا۔
"بے شک آپ میرے جسم کا ہر عضو لے لیں، میری رگوں میں دوڑتا ہوا سارا خون لے لیں مگر ایک خوشی صدقے میں دیدیں۔"ثمر کسی سچے عاشق کی طرح نگار کے زانوں پر جھک گیا۔
"مجھے دکھ ہو رہا ہے کہ میں ایک نامور ڈاکٹر کی ماں نہیں بلکہ ایک کمزور عاشق کی ماں ہوں۔ اٹھو ثمر یہ وقت ایسی سطحی باتوں میں گنوانے کا نہیں ہے۔ شیبا میں کوئی ہیرے نہیں جڑے ہیں، تمھیں کوئی بھی لڑکی مل سکتی ہے۔ اپنی نظر کو محدود اور اپنے دل کو مجبور نہ ہونے دو۔ جاؤ اور وہ شمع روشن کرو جس کی لو سے دنیا کو اجالا دکھائے۔"۔ اور وہ اٹھ کھڑی ہو گئی۔ ثمر مجبور ہو گیا۔
"شینا۔ممی انکار کر رہی ہیں۔"ثمر نے کہا۔
"اور تمھارے وعدے۔۔۔" شینا نے یاد دلایا۔
"مجھے الزام نہ دو۔ میری مجبوری کو سمجھو۔"
"اپنے دل سے پوچھو۔۔۔۔!!"
"میرا دل تو تمھارے قدموں میں پڑا ہے یہ اور بات ہے کہ تم اسے بڑھ کر اٹھا نہیں سکتے۔"
"میں خود بھکاری بنا، ممی کے آگے کشکول لیے کھڑا ہوں۔"
"ماں تو موم کی گڑیا ہوتی ہے اولاد کی ہر خواہش پر پگھل جاتی ہے۔لیکن تمھاری ممی وہ۔۔۔۔۔۔ وہ اتنی بے درد کیوں ہیں۔۔۔۔۔؟" شیبا نے پوچھا۔
"نا۔ انھیں ایسا نہ کہو وہ تو میرے لیے سایہ ابر ہیں زندگی کی اس کڑی دھوپ میں "
"تو پھر تمھاری اس خوشی کی مخالف کیوں ہیں۔"
"پتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں خود حیران ہوں کہ انھیں تمھارے نام سے اتنی دوری کیوں ہے۔ حالانکہ انھوں نے کئی بار تمھیں دیکھا لیکن وہ تمھیں بہو کے ناطے قبول کرنا نہیں چاہتیں "
"شائد میرے نصیب میں تمہارا ساتھ نہیں لیکن ثمر- یہ دل جو تمہارے لئے دھڑکتا ہے تمہارے بغیر اپنے دھڑکن بھول جائے گا- یہ آنکھیں جو کائنات میں صرف تمہیں کو دیکھتی ہیں تمہارے بغیر بے نور ہو جائیں گی- یہ پیکر جو صرف اور صرف تمہارے لئے زندہ ہے تمہارے بغیر مٹی کا ڈھیر بن جائے گا-" شیبا کی آواز شدّت جذبات سے مغلوب ہو گئی-
"ایسا نہ کہو شیبا- تم ہی تو میرا عنوان حیات ہو- تمہارے بغیر میں کیا ہوں - ایک بے نام سی شئے-" ثمر نے اس کے بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا-
"تو کیا ہم کبھی ایک دوسرے کے نہ ہوسکیں گے-"
"حوصلہ اور عزم مایوسی اور نا اُمیدی کی دُنیا کے چاند اور سورج ہیں - بس انہیں کے اُجالے کو اپنا لو" ثمر نے ہمّت بندھائی- شیبا کی تیز سسکیاں آہستہ آہستہ تھمنے لگیں -
"ڈیڈی- ثمر کی ممی انکار کر رہی ہیں -" شیبا اپنے باپ سے مخاطب تھی-
"انکار- اور تمہارے لئے-" ڈاکٹر الیاس حیران رہ گئے-
"ہاں - اور میں ثمر کے بغیر نہیں رہ سکتے ڈیڈی" شیبا پھر پھُوٹ گئی-
"نہیں بیٹی، میرے سامنے اپنے آنسوؤں کو نہ بہنے دو- تم نہیں جانتیں کہ تمہارے پسینے کے ایک ایک بُوند میں نے موتیوں سے تولی ہے-" ڈاکٹر الیاس نے کہا-
"لیکن ڈیڈی اب شاید آنسو ہی میرا مقدّر ہیں -"
"میرے جیتے جی یہ نہیں ہوسکتا- لیکن میرے سمجھ میں نہیں آیا کہ ثمر میں ایسی کیا بات ہے جو تم اسی کے لئے باؤلی ہوئی جا رہی ہو-"
"ڈیڈی ثمر میرا دل کا مکیں بن گیا ہے- وہ کیسے دبے پاؤں میرے دل میں داخل ہو گیا مجھے کچھ یاد نہیں مگر اب یہ بات ہے کہ وہ دل ایک مندر بن گیا اور میں پُجارن-"
شیبا جذبات میں ڈاب کر بولی۔
"واہیات۔۔۔۔ بکواس۔ مجھے افسوس ہے کہ تم ایک ڈاکٹر ہو کر بھی دل کے بارے میں ایسے خیالات رکھتی ہو۔"
"ڈیڈی ! آپ نے دل کو بس انسان کے جسم کا ایک حصّہ سمجھا، شاید اسی لی ایسا سونچا۔"
"میں نے محبت جیسی بے کار اور لغو شئے کو اپنی ذہن اور عقل کی ڈکشنری سے نکال دیا ہے۔یہ ان لوگوں کا کام ہے جنھیں دنیا میں بے مصرف بھیجا گیا ہو۔ یہ اور بات ہے کہ میں تمھیں بے پناہ چاہت کے سبب ہر قسم کی آزادی دے دیتا ہوں۔ورنہ میرے اصول اور میرے مزاج کے خلاف میں نے کوئی کام نہیں کیا نہ جانے وہ کونسا جذبہ ہے جو مجھے تمھارے آگے مجبور کر دیتا ہے۔"ڈاکٹر الیاس نے سمجھایا۔
"اسی لیے تو مجھے ناز ہے آپ پر۔ پتہ نہیں ثمر کی ممی کس مٹی کی بنی ہوئی ہیں جو اپنے بیٹے کی خوشی پر راضی نہیں۔۔۔"
"ہوسکتا ہے ان کے اپنے اصول بھی ہوں۔ اس کے کچھ تقاضے بھی ہوں اور وہ اپنے اصولوں کو اولاد کی محبت پر قربان کرنے کے خلاف ہوں۔"
"لیکن ڈیڈی، محبت کوئی جرم تو نہیں، پیار کوئی خطا تو نہیں، سچ پوچھئے تو اس کائنات کی بنیاد ہی محب ہے۔"شیبا جیسے گہرائی میں ڈوب گئی۔
"نان سنس،کائنات کے وجود کا محبت سے کیا تعلق ہے۔۔۔؟ یہ دراصل بیماری ہے جو آغاز جونی سے لگ جاتی ہے۔ شاید یہ پتہ نہیں کہ ہم نے کیسے کیسے مرحلے پر خود کو بچا لیا۔ ہماری زندگی میں بھی ایک ایسا وقت آیا تھا جب کسی نے آنچل پھیلا کر ہم سے سودا کرنا چاہا۔پیار کے بدلے پیار مانگا لیکن ہم جو ان باتوں کے خلاف ہیں اس آنچل کو جھٹک کر نکل گئے۔ نہ پیار لیا اور نہ پیار دیا۔ شادی کو زندگی کی ضرورت سمجھا۔تمہاری ماں بیاہ کر آئیں، تمہاری پیدائش کے بعد جب وہ گزر گئیں،تب ہمیں ان کی جدائی کا احساس محض اس لئے ہوا کہ ہم اپنی ضرورتوں کے لئے اوروں کے محتاج ہو گئے۔
ورنہ تمہاری ماں نے ہمیں ہر  آرام بہم پہنچایا تھا۔اب رہی جدائی یا ہجر کی بات تو ہم اس کے قائل نہیں۔جس عورت کو ہم نے ٹھکرایا تھا وہ بہت ہی دل برداشتہ ہو کر ہم سے دور چلی گئی۔
ہم نے اطمینان کی سانس لی اور کبھی اپنے دل میں کسی قسم کی کوئی کسک محسوس نہیں کی۔ ڈاکٹر الیاس نے شیبا کے آگے ماضی کے اوراق الٹ دیئے۔
ڈیڈی یہیں آپ بھول رہے ہیں، شاید اسی بد نصیب عورت کی آہیں ہوں گی جس نے مجھے ماں سے محروم کیا اور اب میری زندگی کا سب سے بڑا سکھ بھی دکھ میں بدل رہا ہے۔ شیبا کہیں دور جا کر کہہ رہی تھی۔
ایک ڈاکٹر کے لئے ایسی تو ہم پرستی اس کی سند پر داغ ہے۔ بھلا آہیں کس ٹھوس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں۔ ڈاکٹر الیاس نے سوال کیا۔
ڈیڈی ہر بات کو مادیت سے تعبیر مت کیجئے۔ انسان کے جسم میں روح نام کی بھی کوئی شی ہو تی ہے یہ اسی کا ایک حصہ ہیں۔! سونچے آپ چاند کو دیکھتے ہیں اس کی چاندنی کو محسوس نہیں کر پاتے تو یہ آپ کی زندگی میں کتنی بڑی کمی ہے۔!
پھول کو دیکھتے ہیں اس کی خوشبو سے سرشار نہیں ہو پاتے، شفق کو دیکھتے ہیں مگر اس کے رنگ میں ڈوب نہیں جاتے، بادلوں کو دیکھتے ہیں اور ان کی مست خرامی کو سمجھ نہیں پاتے۔
بجلی کو دیکھتے ہیں اس کی تڑپ کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔
تاریکی کو دیکھتے ہیں اور کوئی خوف محسو س نہیں کر پاتے۔اجالے کو دیکھتے ہیں اور کوئی خوشی محسوس نہیں کر پاتے۔ ستاروں کو دیکھتے ہیں اور ان کی ضیا سے پر نو ر نہیں ہو پاتے۔ سونچئے کتنی بڑی محرومی ہے۔ گویا جسم تو ہو پر جان نہ ہو، آنکھ تو ہو پر نور نہ ہو، دل تو ہو مگر دھڑکن نہ ہو شیبا  کی یہ  باتیں کسی فلسفےسے کم نہ تھیں۔ڈاکٹر الیاس نے بھی محسوس کیا کہ وہ سب کچھ رکھتے ہوئے بھی جیسے خالی خالی سےہوں۔ یکبارگی ان کے دل ان کے دل نے دھڑک کر اس لمحہ کو یاد کیا جب وہ جوان تھے۔ اور کسی حسین لڑکی کے معصوم اور محبت سے سرشار دل کو اپنی ٹھوکر کا نشانہ بنایا تھا۔ اسی لمحہ انھوں نے کوئی کسک اپنے دل میں محسوس کی شاید یہ اسی کی یاد تھی۔
گھبراؤ نہیں شیبا، ہم تمہارے لئے ثمر کی ممی سے بھی مل ہی لیں گے۔ انہوں نے آخر کار مان لیا۔ 
سچ ڈیڈی۔۔۔۔۔۔۔۔ شیبا ان سے لپٹ گئی۔
آئیے ڈاکٹر صاحب، اندر تشریف لے آئیے، ثمر نے ڈاکٹر الیاس کو اپنے دروازے پر پایا تو کہہ اٹھا۔
تمہاری ممی تو ہیں نا ! انہوں نے کہا
جی ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ اندر آ گئے بید کے بنے صوفے پر بیٹھ کر انہوں نے پائپ سلگا یا اور ماحول دھویں میں جیسے ڈوب گیا۔
آئیے ممی ثمر نے پردہ ہٹایا۔ نگار کمرے میں داخل ہوئی۔ ایک لمحے کے لئے ڈاکٹر الیاس اور نگار کی آنکھیں ملیں اور دونوں ایک ساتھ گویا ہوئے تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر جیسے اس آواز کی بازگشت ہونے لگی چند ثانیے ایسے ہی گزر گئے۔
تشریف رکھئے۔ نگار نے الیاس سے کہا جو اسے دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے آپ ثمر کی ماں ہیں۔ الیاس سے حیرانی سے پوچھا۔
آپ کو کچھ شک ہے۔ نگار نے جواب دیا۔
میں اگر غلطی پر نہیں ہوں تو پھر یہ سمجھ لوں کہ تم نگار ہو۔
تمہارا حافظہ تیز ہے۔ ماشاء اللہ نظر بھی تیز پائی۔بیک وقت نام اور شکل  یاد رہتی ہے۔نگار کا لہجہ طنز آمیز تھا۔
عجیب اتفاق ہے۔۔۔۔۔ الیاس سے صوفے کی پشت پر سر ٹیک کر کہا۔اسی کا نام ہی زندگی ہے۔ نگار بولی
سمجھ میں نہیں آتا کہ بات کہاں سے شروع کروں۔ الیاس نے کہا 
شاید آپ شیبا اور ثمر کے بارے میں کچھ پوچھنے آئے ہیں تو میں پہلے ثمر سے کہہ چکی ہوں۔ مزید وقت برباد کرنا مجھے اچھا نہیں لگتا ہے۔ مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں، بے کار باتوں میں وقت ضائع کرنا میرے اصولوں کے خلاف ہے۔ نگار سے لہجے مین بے مروتی تھی۔
تم تو ایسے مل رہی ہو جیسے میں کوئی اجنبی ہوں۔ الیاس نے کہا۔
اجنبی نہیں تو شناسابھی نہیں۔ نگار سے سپاٹ لہجے میں کہا۔
واہ تم تو بھو ل ہی گئیں۔الیاس نے کہا 
یاد کسے رکھوں۔؟
مجھے نہ سہی اس وقت کو تو یاد کر سکتی ہونا،جب میں نے تمہارے پوجا کے پھول قبول کرنے سے انکار کریا تھا۔الیاس مطلب پر آ چکے تھے۔
اوہ۔۔ تو آپ مجھے صر ف یہی یاد دلانے آ گئے تھے۔
نہیں نہیں۔میں تو اپنی بچی کی خوشی کے لئے تمہارے پاس چلا آیا۔ سنا ہے تم نے اس کے لئے درِ دل بند کر رکھا ہے !۔
ٹھیک سنا آپ نے، مین کوئی بھی فیصلہ دل سے نہیں عقل سے کرتی ہوں،دل جیسی بے کار شے کا میرے نزدیک کوئی مقام نہیں۔
"میرے کہے ہوئے جملے دہرا کر مجھے شرمندہ کر رہی ہو، گویا میرا تازیانہ مجھی پر" الیاس نے کہا-
"خوب سمجھا آپ نے-" نگار اب بھی سپاٹ سی تھی-
"چھوڑو ان باتوں کو- داستان پارینہ کا اس محفل میں کیا ذکر- بس اتنا کہہ دو کہ تم نے شیبا کو ثمر کے لئے قبول کر لیا-"
"کیوں - کیا یہ ضروری ہے- مجھے شیبا سے انکار نہیں لفظ محبّت سے انکار ہے- میں ایسے لغویات کو جذبات کا سطحی پن سمجھتی ہوں - ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے ثمر کا وقت ایسے بکواس کاموں میں گنوانا نہیں پسند کرتی- مجھے محبت سے نفرت ہے اور محبت کرنے والوں سے بھی-" نگار اب کچھ تیز ہو گئی تھی-
"یہ تم کہہ رہی ہو جس کے نزدیک محبت زندگی کی سب سے بڑی ضرورت تھی-" الیاس نے حیرانی سے سوال کیا-
"وہ وقت اور تھا، اور یہ وقت اور ہے-" نگار نے جواب دیا-
"مگر ہم نے تو سُنا تھا کہ محبت کرنے والے دل بڑے حساس ہوتے ہیں - دوسروں کے درد کو خوب سمجھتے ہیں -" الیاس نے کہا-
"ہو گا- مگر میں ان بے کار باتوں میں دھیان دینا پسند نہیں کرتی-"
"نگار- اب مذاق چھوڑو، اور کہہ دو کہ شیبا تمہاری ہے-" الیاس نے دوسرا راستہ اختیار کیا-
"مسٹر الیاس، مذاق تو آپ نے کیا تھا میرے ساتھ- یاد کیجئے وہ وقت جب آپ نے اپنی انا اور اپنے اصولوں کے آگے میرے پیار کو ٹھکرا دیا تھا- میرے آنسوؤں کی پرواہ نہ کی تھی- مجھے دھتکار دیا تھا- یہ بھی نہ سوچا کہ اُمنگوں اور حسرتوں سے لبریز دل کا یہ پیمانہ انکار کے پتھر سے چکنا چور ہو جائے گا- محبت کو ہوس گندگی اور نہ جانے کیا کیا سمجھنے والے آج اسی محبت کی خاطر میرے آگے ہاتھ پسارے کھڑے کیوں ہو گئے-؟" نگار اُبل پڑی-
"بس کرو نگار، وہ بھول تھی- مجھے معاف کر دو مگر میرا بدلہ میری بچی سے تو نہ لو- اولاد کی خوشی سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے- آج میں اپنی پچی کے لئے تم سے تمہاری محبت مانگ رہا ہوں - خدارا مجھے دے دو ورنہ میری معصوم بچی سسک سسک کر مر جائے گی-" الیاس نے اپنی زیادتیوں کو محسوس کر کے کہا-
"معاف کیجئے گا- محبت کوئی بکنے والی شئے نہیں کہ آپ جب چاہیں قیمت دے کر اسے خرید لیں - یہ سیپ میں بند وہ موتی ہے جوہر غوطہ زن کے ہاتھ نہیں آتا- میرا دل اب ایسے جذبات سے خالی ہو چکا ہے- آپ نے جو سبق مجھے پڑھایا میں آج بھی اسی کے نقش قدم پر چل رہی ہوں - آپ کی منّت سماجت میرے دل میں کوئی رحم کا جذبہ پیدا نہیں کرسکتے-" نگار نے بڑی بیزاری سے کہا-
"نگار - تم بدلے کی آگ میں جل رہی ہو اس کے لئے میری بچی کو الاؤ میں نہ ڈالو- چاہو تو مجھ سے بدلہ لے سکتی ہو، مگر اس کی معصومیت پر ترس کھاؤ"- الیاس نے ہاتھ جوڑ دئیے-
"الیاس صاحب، میں کوئی بُت نہیں ہوں کہ ہاتھ جوڑ کر مجھ سے کچھ مانگا جائے- آپ کی یہ التجا خالی جائے گی، آپ جا سکتے ہیں -" اور نگار کرسی چھوڑ کر خود ہی اندر چلی گئی- الیاس کچھ دیر تو بیٹھے رہے پھر کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح دروازے سے نکل گئے-
اگلی صبح الیاس کے گھر پر کسی نے دستک دی- دروازہ کھولا گیا تو نگار ثمر کو ساتھ لئے کھڑی تھی-
"تم-؟" الیاس نے حیرانی سے پوچھا-
"ہاں میں۔۔۔۔۔"اور وہ اندر چلی آئی۔
"اتنی صبح اور بلا علم و اطلاع کیسے چلی آئیں۔ الیاس نے پوچھا۔"
"اپنی بہو کے پاس مجھے اطلاع دے کر آنا چاہیے۔!!"
"بہو۔۔۔میں سمجھا نہیں۔" الیاس نے سوال کیا۔
"یہ لیجیئے۔ یہ انگوٹھی شیبا کو پہنا دیجئے۔ کل میں اسے دینا بھول گئی تھی۔"
نگار نے پرس کھول کر ایک ڈبیا نکالی اور الیاس کے حوالے کی۔ الیاس منھ کھولے اسے دیکھتے رہے۔
"میں حیران ہوں، کل کا انکار آج کے اقرار میں کیسے بدل گیا۔"انھوں نے پوچھا۔
"کاش آپ نے سمجھنے کوشش کی ہوتی۔ ڈاکٹر صاحب ! نشتر اور چھری سے کھیلتے کھیلتے آپ یہ بھول گئے کہ آپ صرف ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ ایک انسان بھی ہیں گوشت کا وہ ٹکڑا جو سینے کے حصار میں بند رہتا ہے اسے آپ دل کا نام دیتے ہیں اور ہم سجدہ گاہ کہتے ہیں کیونکہ یہی تو وہ مقام ہے جہاں محبوب کو بٹھا کر اس کی پرستش کی جاتی ہے۔ آپ نے پیار کو فریب، محبت کو دھوکا، چاہت کو ڈھونگ سمجھا۔ کاش آپ جان سکتے کہ دل کی دھڑکن صرف محبت کے لئے مخصوس ہوتی ہے۔ پیار کا پودا ہر د ل میں پھلتا پھولتا ہے، یہ اور بات ہے کہ کوئی اس کے سائے میں پناہ لیتا ہے اور کوئی اسے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ تم نے یہ سمجھ لیا کہ میں اب تم سے نفرت کرنے لگی ہوں، اور بدلے کی آگ میں تمھاری بچی کو لے لیا ہے۔ کاش تم جان سکتے کہ یہ دل جسے تم نے بے دردی سے ٹھوکر لگائی، آج بھی تمھاری عبادت کرتا ہے۔"نگار چپ سی ہو گئی۔
"نگار۔۔۔تم نے ایک پتھر کو صنم بنا لیا مگر نتیجہ کیا ہوا۔ تمھارے حصّہ میں تڑپ ہی آئی۔ مجھے معاف کر دینا، میں سچ مچ آج دنیا کا سب سے بڑا مفلس ہوں،
جس کے پاس دل نام کی شئے نہیں کوئی سجدہ گاہ نہیں۔" اور پشیمانی کے دو آنسو الیاس کی آنکھوں سے ڈھلک گئے۔
"خدارا میری عبادت گاہ کو نہ ڈھایئے، بڑے جتن سے اسے سنوارا ہے میں نے آپ کی اطلاع کے لیے کہہ دوں کہ ثمر میرا بیٹا نہیں اسے میں نے گود لیا ہے۔ " نگار نے کہا۔
"اور تم نے کسے شریک زندگی بنایا" الیاس نے سوال کیا۔ وہ ہنس پڑی۔
"جس کی زندگی محبت ہو اور جو محبت ہی کو عبادت بنا لے، اسے شریک زندگی کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔" نگار کے اس جملے پر الیاس کے دل میں جیسے کوئی تازہ زخم ابھر آیا، اور ایک سرد آہ اس کے لبوں سے نکل گئی۔ گویا آج وہ ڈاکٹر نہیں ایک انسان تھا، گوشت و پوست کا پیکر جس میں روح نام کی کوئی شئے ہوتی ہے جو دل کی دھڑکن کو محسوس کر سکتا ہے۔
٭٭٭




پلکوں کی چھاؤں 


وہ سکون کا متلاشی تھا ! اس کا دل مضطرب تھا۔ اس کی روح بے چین تھی۔ دن کے ہنگامے اور رات کے سنّاٹے دونوں ہی اس کے غم کا مداوا نہ بن سکے، ہر لمحے وہ یہ محسوس کرتا کہ جیسے وہ صلیب پر لٹکا ہو، جیسے اس کی گردن پر تلوار رکھ دی گئی ہو۔ جیسے اس کی کنپٹی پر پستول کی نالی لگی ہو۔ ایک انجانا خوف اس کے اطراف ہالہ کیے ہوئے تھا۔ وہ راہ زیست کا تنہا مسافر تھا۔اس نے شادی نہیں کی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ دل کا مریض ہے اور اس کا آپریشن ہو چکا ہے۔ کب سانس کی ڈور ٹوٹے کب دل کی دھڑکن رکے۔ کب خون منجمد ہو جائے۔ کب اجالے کو اندھیرا اپنی لپیٹ میں لے لے۔ کب چاند بادلوں میں چھپ جائے۔ کب آئینہ دھندلا جائے۔ کن امڈتے بادل برس جائیں۔ کب وہ زندگی سے ہار مان لے۔ کب موت اسے اپنی آغوش میں لے لے۔ یہی اندیشے اس کے دماغ پر مسلّط رہتے۔ وہ موت اور زندگی کے بیچ میں لٹکا رہا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے کسی اپنا شریک زندگی نہ بنایا۔ اپنا ہم رفیق مہ بنایا۔ وہ نہ چاہتا تھا کہ کوئی پل بھر خوشیاں پا کر غموں کے ساگر میں ڈوب جائے۔ افشاں سے جگمگاتی ہوئی مانگ اجڑ جا۴ے۔ زندگی کی آرزو کسے نہیں ہوتی۔ وہ بھی گلشن  زیست کی رنگینیاں چاہتا تھا- مگر حالات نے اس سے سمجھوتہ نہیں کیا- اس کا باپ اس کے لئے لاکھوں کی دولت چھوڑ کر مرا تھا- مگر دل کے جان لیوا مرض نے اتنی دولت دے کر، اس کا سکون چھین لیا- وہ صبح کی پہلی کرن کو دیکھتا تو اس کے لبوں سے سرد آہ نکل جاتی- وہ شام کو سورج کو دیکھتا تو اُسے اپنا انجام نظر آتا- شاداب غنچوں کو دیکھ کر اس کا دل مچل جاتا، مگر سوکھے ہوئے پھولوں پر نگاہ پڑتے ہی اس کی چشمِ نم ہو جاتی- وہ کچھ ایسی اذیت سے دوچار تھا، جس میں ہر لمحہ خون میں رہا تھا- 
سکون کی تلاش میں اس نے اپنی دولت کو خرچ کرنا شروع کیا- اُس نے اپنے دُور کے عزیز و اقربا کو اپنے پاس رکھ لیا- کسی کے تعلیمی اخراجات، کسی کی بیماری کا علاج، کسی کی شادی بیاہ، وہ کسی نہ کسی طرح مالی امداد کر کے سکون خریدنا چاہتا تھا- اس کے عزیز اس کے اطراف تھے، اس کے اشارے پر سب کچھ ہوسکتا تھا- پھر بھی وہ اُداس تھا- افسردہ تھا- اس نے قلم کا سہارا لیا، اپنا درد اوراق پر بکھیر دیا- کاغذ کے صفحات اس کے ساتھی بن گئے- وہ لکھتا گیا- کتابیں چھپتی رہیں پھر وہ ایک نامور ادیب بن گیا- اس کے مداحوں کی کمی نہ رہی- اپنا دکھ درد، غم و الم کسک تڑپ، بے چینی و اضطرابی، محرومی اور نارسائی سب کچھ اس نے قلم کو بخش دیں - لوگ اس کی تحریر پڑھتے- آنسوؤں سے عبارت کو چومتے- وہ اپنی ہر کتاب کسی نہ کسی کے لئے وقف کر دیتا-
" خون دل" اندھوں کے لئے وقف تھی-
"زخم دل" بیواؤں اور یتیموں،
"درد دل" خیراتی ہسپتالوں کے لئے-
ہر کتاب کے کئی ایڈیشن چھپ چکے تھے- رائلٹی اس نے لی نہیں بلکہ اپنے خرچ پر چھپی کتاب فروخت کروا کر امدادی کاموں میں صرف کر دی- پورا ایک کمرہ الماریوں سے بھرا پڑا تھا- جس میں اس کی تصنیفات رکھی تھیں - وہ بیشتر اوقات سوچا کرتا کہ اس کے بعد اس کی تخلیقات کا کیا ہو گا- ان تحریروں کا کیا بنے گا- کیا وہ دیمک کی نذر ہو جائیں گی- اس ذہنی انتشار نے اس کا رہا سہا سکون بھی چھین لیا- اگر چہ کہ جو عزیز اس کے قریب تھے اسے ہر طرح کا آرام دیتے- مگر بیمار ذہن کو سکون بخشنے والا مسیحانہ مل سکا- وہ مُسکراتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے گہری دھوپ میں برسات ہو رہی ہو- وہ بولتا تو یو لگتا جیسے صحراؤں میں کوئی گنگنا رہا ہو- درد ہی درد تھی اس کی زندگی- عالی شان مکان، قیمتی فرنیچر، بنک بیالنس، کار، کیا نہ تھا، اس کے پاس مگر پھر بھی وہ کتنا پیاسا تھا- اس کی پیاس وقت کے ساتھ بڑھتی رہی- اس کی بیمار روح ابتر ہوتی رہی- ماں کی ممتا، باپ کی شفقت، بھائی بہنوں کا پیار، محبوبہ کی چاہت بھی تو اس کے حصے میں نہ تھی- جب اس کا دل بھر آتا تو وہ چاہتا اُسے کوئی لوریاں دے کر سلائے- جب اس کے آنسو چھلک پڑتے تو وہ چاہتا کہ کوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھے، جب وہ اکیلا ہوتا تو چاہتا کہ کوئی اس سے لڑے جھگڑے- کچھ مانگے، دے دے- جب وہ اپنے سراپے کو دیکھتا تو اس کا دل چاہتا کہ کوئی اس کے سینے میں چھپ جائے- اس کے آنکھوں میں بس جائے- اس کی رُوح میں ڈھل جائے- زندگی کی کمی کا اُسے شدّت سے احساس رہا- اس احساس نے ایک نئے ناول کا روپ دھارا- آج صبح سے وہ غیر معمولی طور پر خوش تھا-"شمع دل" کا رسمِ اجرا تھا یہ کتاب اسی کی اپنی کہانی تھی- وہ یہ محسوس کر رہا تھا کہ آج اس نے اپنا غم کاغذ کے صفحات کو بخش دیا ہے-درد کو لٹا دیا ہے، ہال میں بھرے اس کے مداحوں اور شائقین کو دیکھ کر اُسے جانے کیوں آج بے پناہ خوشی ہو رہی تھی- سارے لوگ اسے اپنے مونس و غم خوار، ہمدرد و غم گسار محسوس ہو رہے تھے- تقریب کا آغاز ہوا- اس کے افسانوں پر تبصرہ کیا گیا۔ ڈائس کے دائیں جانب ٹیبل پر اس کی نئی تخلیق کی ڈیروں کتابیں رکھی ہوئی تھیں وہ انھیں گھور رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ کتابیں بولنے لگی ہیں اور پھر اس کے قریب آ گئی ہیں، تبھی اس کے سینے میں کوئی چیز چٹخ گئی۔ جیسے کوئی شیشہ پتھر پر گرا ہو یہ اس کا دل تھا جو خوشیوں کے پتھر کا سہہ نہ سکا۔ وہ تیورا کر گر پڑا بھکاری کی کشکول خالی رہ گئی۔ سکون کے متلاشی کی نگاہیں ساکت ہو گئیں۔ مضطرب دل کو جیسے قرار آ گیا، وہ مر چکا تھا۔ 
مگر کون کہتا کہ وہ مر گیا ہے۔ وہ زندہ تھا اپنی تحقیقات میں اپنے مداحوں کے دلوں کی دھڑکن میں، مرتے مرتے اس نے اپنا درد و غم، اضطراب و کسک اپنی کہانیوں کو بخش دیا۔ اس کی کتابوں کے کمرے کو تالا لگ گیا۔ کتابوں کے اوراق الماری میں پھڑپھڑاتے رہے۔ کسی نے ان کی تڑپ کی طرف توجہ نہ کی۔ اس کا مکان نیلام پر لگایا جا رہا تھا۔ اس کے قیمتی فرنیچر اس کا بنک بیلنس اس کے عزیزوں نے لوٹ لیا۔ رات کو چوری کرنے والا چور کہلاتا ہے اور دن دھاڑے کسی کے مال پر ناجائز قبضہ کرنے والے کو کون سا نام دیا جائے۔ اس کے سامان کا بٹوارہ ہوا، اس کی دولت کا بٹوارہ ہوا، گدھ اور چیلوں کی طرح اس کا سارا اثاثہ اس کے عزیزوں نے نوچ کھسوٹ لیا۔
کیا سچ مچ دولت زندگی سے پیاری ہے۔ وقت گزرتا گیا۔ الماری میں رکھی کتابیں سسکتی رہیں۔ اور فن کار کی روح تڑپتی رہی۔ پھر چانل اس مکان میں ایک دوشیزہ نے قدم رکھا۔ ماحول پر سناٹا چھا گیا، رشتہ دار دم بہ خود رہ گئے اپنے ہاتھ لگے مال غنیمت کا پانے دامن میں چھپانے کی سعی ناکام کرنے لگے۔
"تم کون ہو۔۔۔۔۔۔۔ تم کون ہو۔۔۔۔۔۔۔؟" سبھی نے ایک ساتھ آنے والی سے سوال کیا-
"میں کون ہوں ؟" یہ بتانا مشکل ہے مگر مرنے والے کی چھوڑی ہوئی چیزوں پر میرا بھی حق ہے؟" اس نے کہا
"یہ کیسے ممکن ہے، تم کو ہم نے پہے کہیں نہ دیکھا - اس نے کبھی تمہارے بارے میں نہیں بتایا، تمہارا اس کا رشتہ کیا ہے-"
سوالات بارش کی بوچھار کی طرح اس پر برس پڑے-
اس نے ایک نظر گھر کے درو دیوار پر ڈالی، فرنیچر کی طرف نظر کی- قیمتی اشیاء سازوسامان ٹیبل پر رکھی، بنک پاس بک سبھی کچھ تھا- وہ ایک معنی خیز انداز سے مسکرائی-
"اگر یہی سوال میں آپ سے کروں تو ---"
" ہم اس کے عزیز ہیں "- سب نے مل کر کہا-
"وہ میرا بھائی تھا-" ایک آواز آئی-
"وہ میرا بھانجا تھا-" دوسری آواز آئی-
"وہ میرا بھتیجا تھا- تیسری آواز آئی-
کشادہ اور وسیع ہال میں ان جملوں کی بازگشت ہونے لگی- وہ ہنس پڑی-
"مرنے والے نے کیا چھوڑا ہے اپنے پیچھے-: اس نے سوال کیا-
"یہ سب کچھ جو کچھ تم دیکھ رہی ہو-"
"بس اتنا ہی-"اس نے سوالیہ انداز سے پوچھا-
"ہاں -"
"اس کی دولت پر تم لوگوں کا حق کیسے ہو گیا-" وہ کہہ اٹھی-
"اس کا سوائے ہمارے تھا ہی کون-" سب نے کہا-
"میں جو ہوں "- اس نے اپنی اہمیت بتائی-
"مگر تم- تمہارا اس کا کیا رشتہ ہے- کیا ثبوت ہے-"
"میں اس کے بہت قریب ہوں - اس کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب مجھے اپنا حق چاہئے-"
"کیسا حق- کس رشتے کا حق-" سبھی نے آواز بلند کی-
"تم رشتہ پوچھ رہے ہو نا- تو سنو!"
اس دنیا میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں رشتے ہیں - ماں باپ کا رشتہ، بھائی بہن کا رشتہ، بیٹی بیٹے کا رشتہ، میاں بیوی کا رشتہ، غلام و آقا کا رشتہ، بیمار اور ڈاکٹر کا رشتہ- لیکن چند رشتے ان رشتوں سے الگ ہوتے ہیں - ہر جذبے کو رشتوں کے دھاگے میں باندھنا ضروری تو نہیں - بعض جذبے صرف محسوس کیے جاتے ہیں - ان کا کوئی نام نہیں ہوتا-
"جیسے بادل اور بجلی کا رشتہ، پھول اور خوشبو کا، آنکھ اور کاجل کا، کلائی اور کنگن کا، دل اور دھڑکن کا، ساز اور آواز کا، روح اور جسم کا- میرا اور فن کار کا رشتہ بھی ایک ایسا ہی رشتہ ہے، غرض و بے لوث-"
میں فن کار کی پرستش کرتی ہوں - اس کے فن کو پوجتی ہوں - اس لئے عقیدت کا پیرہن پہنے میں اپنے فن کار کے زخموں کے پھول چُننے آئی ہوں - انہیں میرے دامن میں ڈال دیجئے- وہ میری نگاہوں کا اُجالا، میری روح کی تازگی ہیں - ان کی زخم خوردہ تحریریں میری پلکوں کی چھاؤں میں رہیں گی- شاید اسی چھاؤں میں اس کا مضطرب دل سکون پالے- مجھے اس کی دولت نہیں چاہیے- یہ سب آپ لوگوں کو مبارک ہو- مجھے تو صرف وہ سرمایہ دے دیجئے، جو ان سکّوں سے زیادہ قیمتی اور ہیروں سے زیادہ نایاب ہے- میں اُسے اپنی پلکوں کی چھاؤں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھپاؤں گی وہ بلک بلک کر رو پڑی۔
عزیزو اقربا نے اطمینان کی سانس لی۔ان کا خوف دور ہو چکا تھا۔انھوں نے خوشی خوشی کمرے کو کھلوایا، جہاں اس کی تحریریں الماری میں پھڑ پھڑا رہی تھیں، وہ تیزی سے اندر پہنچی۔ الماریاں کھولیں، ساری کتابیں جو گردو غبار سے اٹ رہی تھیں اپنے آنچل سے صاف کر کے بڑی عقیدت سے اپنی آنکھوں سے لگایا اور پھر صندوق میں رکھ لیں۔نوکر کی مدد سے صندوق ٹیکسی میں رکھوایا اور چل پڑی۔ فنکار کو سکون  مل چکا تھا۔ اس کا تڑپتا دل اور زخمی روح اب کسی کے آنچل تلے آرام پا چکے تھے، وہ مر کر بھی زندہ تھا کسی کی پلکوں کی چھاؤں میں۔
٭٭٭


منزل


اس نے ساڑھی کا آنچل سنبھالا اور کار میں سوار ہو گئی۔ کار ایک جھٹکے سے اسٹارٹ ہوئی اور چند ہی لمحوں بعد وہ ایک کشادہ سڑک پر کسی بطخ کی طرح تیرنے لگی۔دس منٹ بعد ہی کالج آ گیا۔ڈرائیور نے دروازہ کھولا اور وہ کار سے اتر پڑی۔گویا چاند بادلوں کی اوٹ سے نکل آیا۔ ہلکے زرد رنگ کی ساڑھی میں وہ شعلہ نور بنی دہک رہی تھی۔ طلباء اپنی اپنی جگہ چپ کھڑے تھے، جیسے جیسے وہ آگے بڑھتی گئی سلاموں کا سلسلہ شروع ہوتا گیا۔ کسی نے گڈ مارننگ میڈم کہہ دیا۔کسی نے ہاتھ پیشانی پر رکھ لی۔کسی نے جھک کر تسلیم بجائی، وہ دل آویز مسکراہٹ سے ان سب کا جواب دیتی رہی۔گردن کی ہر جنبش پر ڈلی کے لچکنے کا گمان ہو رہا تھا۔ سیاہ چشموں کے پیچھے اس کی بڑی بڑی آنکھیں ماحول کا جائزہ لے رہی تھیں۔ کھٹاک کیساتھ وہ آ فس میں چلی گئی۔پرنسپل صاحب سنبھل گئے۔
"گڈ مارننگ میڈم " انھوں نے اسے دیکھتے ہی کہا۔
گڈ مارننگ" اور وہ کرسی پر بیٹھ گئی۔
"مسٹر داس میں آج اس لئے یہاں آئی ہوں کہ کالج کے سالانہ فنکشن کے بارے میں decideکر لیں "۔اس نے چشمہ اتارتے ہوئے کہا۔
مسٹڑداس اس کی ادا پر مرتے مرتے بچے۔ 
"اوکے میڈم۔میں ابھی سٹاف کو نوٹس بھیج دیتا ہوں تاکہ میٹنگ میں سب آ جائیں "۔انھوں نے کال بیک بجاتے ہوئے کہا۔
"از اٹ آل رائٹ"وہ اخبار اٹھاتے ہوئے بولی۔ مسٹر داس نے چپڑاسی کو نوٹس حوالے کر دی۔
"میڈم اس بار چیف گیسٹ کیلئے آپ کی رائے میں کون موزوں رہے گا" مسٹر داس اس کے چہرے کو پڑھنا چاہتے تھے اور اخبار درمیان میں تھا۔ اس لئے انھوں نے سوال کیا۔
"مسٹر اس بارے میں میٹنگ میں بات ہو جائے گی " وہ میز پر رکھے پیپر ویٹ کو گھماتے ہوئے بولی۔ داس لاجواب ہو گئے کچھ لمحے یوں ہی گزرے ان سے رہا نہ گیا۔ 
"میڈم کافی یا ٹھنڈا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟"
"نو تھینکس۔ ہاں میٹنگ کے وقت چائے منگوا دیجئے گا"  وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
"میں ایک نظر کلاس رومز کو دیکھ لینا چاہتی ہوں۔ بہت دن بعد ادھر نکلی ہوں، پتا نہیں کلاسز کا کیا حال ہے" اور وہ باہر نکل آئی۔
طلبا کی سرگوشیاں پھر سے جاری ہو گئی۔ خوشبوؤں کا سیلاب امڈ تے وہ ہر کلاس گھومتی رہی۔ مسٹڑ داس ہاتھ باندھے اس کے پیچھے تھے۔ دبی دبی سرگوشیاں جاری تھیں۔
"ہائے ہائے کیا قیامت ہے"
"خدا کی قسم، اگر بادشاہت بھی ملے تو اس ادائے حُسن پر قربان کر دیں "
" بہت فرصت سے بنایا ہے بھگوان نے"
"نشہ ہی نشہ ہے بس پئے جاؤ-"
"اے کاش، نگاہِ ناز کبھی اِدھر بھی اُٹھ جاتی -"
وہ سب کچھ سنتی رہی، لبوں پر پوشیدہ ہنسی تھی، سیاہ چشمے کے اندر دو بڑی بڑی آنکھیں مسرت سے سرشار تھیں اس کا انداز اور بھی دلکش ہو گیا-خراماں خراماں وہ ان سرگوشیوں کو سُنتی ہوئی آگے بڑھتی رہی- اسٹاف روم میں لکچررس خوش گپیوں میں مصرف تھے جیسے ہی خوش بُو کا جھونکا ان کی سانسوں کو معطر کر گیا وہ چونک پڑے- ستیش کے ہاتھ سے کتاب چھوٹ کر گر گئی- احسن نے ٹائی کی گرہ ٹھیک کر لی- ارون نے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کی- جیکب نے سر کی جنبش سے ماتھے پر پڑے بالوں کو پیچھے ہٹایا- ہر شخص اپنے تیئں اُسے جیتنے کی ناکام کوشش میں تھا- اس نے ایک طائرانہ نگاہ سب پر ڈالی، سیاہ چشمہ ہٹایا تو زمین وہ آسمان باہم ہو گئے- آب نشاط حلق کو تر کرتا ہوا محسوس ہوا-
"یہ ہمارے کالج کے فاؤنڈر مسٹر عمران بیگ کی صاحب زادی مس آفرین ہیں -"
مسٹر داس نے اس کا تعارف نئے لکچررس سے کروایا- ارون نے تو بے ساختہ مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھا دیا، اور اس نے "ہیلو" کہہ کر بات ختم کر دی- سینوں کے اندر دھڑکتے دل ایک پل کو رُک گئے- روشن آنکھیں لمحہ بھر کو بند سی ہو گئیں - وہ چلی گئی اور اس کے جاتے ہی جیسے تیز ہوا کے جھونکوں سے کتاب کے اوراق پھڑپھڑانے لگتے ہیں - کالج کی فضا میں اسی کے متعلق تیز تیز باتیں ہونے لگیں -
وہ گھر پہونچی پرس کو میز پر پھینک دیا- سینڈل اچھال دی اور گدّے دار بستر پر پیٹ کے بل گر پڑی- سرہانے رکھے اسٹیریو کو آن کیا- انگلش دھن بجنے لگی- وہ ایک ادائے ناز سے اٹھی اور فلور پر اس کے پیر تھرکنے لگے- کسی جنگل کی مورنی کی طرح وہ رقص کرتی رہی، کتی رہی، کرتی رہی --- پسینے کا آبشار بہہ نکلا سانس پھولنے لگی اور وہ تھک کر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی- اپنے سراپے پر نگاہ ڈالی جسم کے سارے خطوط اب بھی دل آویز تھے- کہیں کوئی بد نمائی بھی نہ تھی- کتنی محنتوں سے اس نے اپنے آپ کو سنبھالے رکھا، اس کے نزدیک عورت کی انا اس کا لازوال حسن میں پوشیدہ تھی- وہ سمجھتی تھی کہ حُسن میں وہ طاقت ہے جو بادشاہ سے لے کر ایک فقیر تک کو بھی سجدہ گزار بنا سکتا ہے- یہی وہ تھی کہ اُس نے دلوں کو کھلونا سمجھا- محبت کو ڈھونگ اور وفا کو پاگل پن جانا- اس کی تمام تر توجہ حسن و جمال کی آرائش پر گزرتی- اس لئے عمر کی چالیس منزلیں کھو کر بھی وہ کنواری اور دلکش تھی- بیگ صاحب نے آخری سانس تک اسے نصیحت کی کہ وہ کسی کو اپنا لے- مگر آفرین ----- وہ یہ سمجھتی تھی کہ کل کو اگر وہ کسی کی بیوی بے گی تو پھر خود بخود ایک دن وہ بھی آئے گا جب وہ ماں بن جائے گی- تب اس کے حسن و جمال کا کیا ہو گا- اس کے لب ورخسار کے جلوؤں کا کون دیوانہ ہو گا، وہ اس تصور سے ہی کانپ جاتی اور پھر اس نے روش کے سچے پیار کو اپنی انا سے کچل کر رکھ دیا-
"میں نہیں چاہتی کہ میرا رنگ و روپ اجڑے- مجھے کھلی فضاؤں سے پیار ہے، گوشہ قفس سے نہیں - پیار و وفا کی باتیں محض جذبات کا بے ڈھنگا پن ہے- صبا کے جھونکے مقید نہیں ہوسکتے، ہاں پل بھر کو خوشبو دے کر گذر سکتے ہیں - مجھ سے کوئی آس نہ رکھو تو بہتر ہے-"
اور پھر وہ اس کی زندگی سے دُور چلا گیا- بیگ صاحب آہ بھر کر رہ گئے مگر آفرین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو دریا کے ایک تند و تیز موج کی طرح آگے بڑھ گئی تھی۔ وہ اس قدر خود پسند ہو گئی کہ اپنی تعریف سننا اس کے لیے ہابی بن گیا۔کلبوں میں ہوٹلوں میں پکچرس میں وہ جگہ وہ اپنے حسن کی پوری آرائش کے ساتھ موجود ہوتی۔ تاکہ تیر نگاہ کے گھائل بس تڑپ کر رہ جائیں۔یہی وجہ تھی کہ شہر کا ہر نوجوان اس سے واقف تھا۔ جن لوگ اسے دیکھ کر سرد آہ بھرتے تو اس کے ساے جسم میں خنکی سی دوڑ جاتی کوئی جب اس کو محبت بھرے خط لکھتا تو اس کے لئے مذاق کا موضوع بن جاتا کوئی اس کے حسن کی تعریف کرتا تو وہ اس کے سامنے ایسی قاتل بن کر جاتی کہ اس کا پرستار آہ بھرنے کی مہلت کے بغیر ہی جان دیدے۔زندگی نے اسے حسن و دولت کے ساتھ ساتھ آزادی بھی دیدی تھی۔ وہ خود پسندی کا شکار تھی۔اسے دیکھ کر کوئی یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ ابھی زندگی کی پچیس بہاریں دیکھی ہیں۔ اس کے متناسب اعضاء اور پھر اس کا آرائش جمال گویا کریلا اور نیم چڑھا۔ اسے ناز تھا کہ قدرت نے اسے شباب کی دولت تا حیات بخش دی ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد آرائش حسن تھا، اور وی اسی محور کے گرد رقص کر رہی تھی۔
آج اسکول میں سالانہ جلسہ تھا، آج وہ کچھ زیادہ ہی بنی سنوری تھی۔ اس کے اسٹیج پر آتے ہی لاکھوں دلوں میں انار چھوٹ گئے۔ آج وہ خود کو مصر کی قلوپطرہ سمجھ رہی تھی۔ کلچرل پروگرام کے بعد انعامات کی تقسیم کا سلسلہ چلا۔ کالج کے ذہین طلباء کو انعام اول دیا جا رہا تھا۔ ایک لڑکا آگے بڑھا، جوانی کی طرف ابھی ابھی رواں دواں تھا۔ چہرے پر تازہ گلاب کی کشش تھی اور مردانہ وجاہت نے کچھ اور بھی خوب رو کر دیا تھا۔ گلابی ہاتھوں پر کالے کالے گھنے بال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انعام دیتے ہوئے وہ کچھ چونک سی گئی۔ نگاہ اٹھا کر دیکھا تو اس غنچہ شاداب پر پیار
آ  گیا- پہلی بار اس کے دل میں ہلکی سی کسک محسوس ہوئی- دل کے آس پاس کوئی چیز ٹوٹ کر بکھرتی دکھائی دی- وہ انعام لے کر اُتر گیا- یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نوجوان نے اسے بھرپور نظروں سے نہیں  دیکھا، اس کے حُسن کا جائزہ نہیں لیا- یکبارگی اس کے چہرے پر ہزاروں بل پڑ گئے- مگر اس نے خود کو سنبھالا اور فنکشن کے اختتام سے پہلے سردرد کا بہانہ کر کے اُٹھ گئی- چلتے چلتے اس نے پرنسپل صاحب سے کہہ دیا کہ وہ کالج میں اول آنے والے اس طالب علم کو اس کے ہمراہ بھیج دیں، کیوں کہ رات زیادہ ہو چکی تھی تنہا جانے سے وہ گھبرا رہی تھی- مسٹر داس نے اُسے آواز دی-
"شنید، میڈم کے ساتھ گھر جاؤ رات بہت ہو گئی ہے، وہ تنہا جاتے ہوئے گھبراتی ہے-"
داس تو چاہتے تھے کہ کاش قربت کا یہ ساتھ انہیں مل جاتا مگر----
شنید نے ایک بار نگاہ اٹھا کر اس کو دیکھا یہ نگاہ پہلی بار آفرین کو گھائل کر گئی، وہ تڑپ کر رہ گئی اور کچھ ایسی نظروں سے اُس نے شنید کو دیکھا کہ وہ تاب نہ لا سکا- نگاہ جھُکا کر بس اتنا کہہ سکا-
"چلئے-" اور پھر دونوں کار میں بیٹھ گئے-
وہ ڈرائیو کرتی رہی- شنید چپ چاپ اس کے بازو بیٹھا رہا- چند لمحوں کے سکوت کے بعد آفرین نے سوال کیا-
"لگتا ہے تم نے چوری کی ہے-"
"جی----" وہ حیرانی سے پوچھا-
"ہاں اور نہیں تو کیا- تم تو یوں چپ چاپ بیٹھے ہو، لگتا ہے، پولیس آفیسر کے ہمراہ جیل کو جا رہے ہو-"
"اچھا-----" اس بار وہ ہنس پڑا موتیوں کی قطار جگمگا گئی-
"تم کب سے اس کالج میں ہو۔ ؟" آفرین نے پوچھا۔
"بس اسی سال جوائن کیا ہے۔" اس نے جواب دیا۔
"اس سال کا شیلڈ تم نے جیت لیا۔ مٹھائی نہیں کھلاؤ گے۔"
آفرین کی نگاہ میں کئی سوال تھے۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا اور پھر سر جھکا لیا۔
"جواب نہیں دو گے۔" آفرین نے اصرار کیا۔
"جی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ بوکھلا گیا۔
"بڑے شرمیلے ہو۔ چلو ہم خود تمھیں مٹھائی کھلا دیں گے۔"
آفرین کا گھر آ چکا تھا۔ جبرا وہ اتر گیا۔ شرمایا شرمایاسا سہما سہما سا وہ اس کے پیچھے چل پڑا۔ ڈرائنگ روم کے دبیز صوفوں پر بیٹھ گیا اس کی نگاہیں کمرے کا جائزہ لے رہی تھیں۔ تبھی کسی نے اس کے منھ کے قریب مٹھائی لا کر رکھ دی۔
" آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تکلف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ رک گیا کچھ نہ کہہ سکا۔
" شنید تم تو بڑے شرمیلے ہو، اب چھوڑو یہ تکلف اسے اپنا ہی گھر سمجھو مٹھائی کھا لو۔"
اس نے حلوہ سوہن کا ٹکڑا اٹھا کر کہا۔
" نہیں پہلے آپ لیجئے نا آنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
اس نے مٹھائی آفرین کے منھ میں رکھ دی اور ٹھیک اسی لمحے آفرین کو محسوس ہوا جیسے وہ زمین میں میلوں اندر دھنسی جا رہی ہے۔جیسے ویرانے میں ایک ہی صدا گونج اٹھی ہے۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا پھیل گیا۔ دھوئیں کے بادلوں میں جیسے وہ گھر گئی۔ وہ خود کو میلوں پیچھے محسوس کرنے لگی۔ وہ بے جان سی صوفے پر سر کو ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
" آنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو کیا ہو گیا۔"
شنید نے اس کا شانہ ہلا کر پوچھا۔ وہ کچھ جواب نہ دے سکی، بس اتنا کہا۔
"تم گھر واپس جاؤ۔ میں کل تم سے کالج میں مل لوں گی۔ اب مجھے اکیلا چھوڑ دو"
"لیکن آپ کی طبیعت۔۔۔۔" وہ جانا نہیں چاہتا تھا۔
"نہیں مجھے کچھ نہیں ہوا۔ تم چھلے جاؤ رات بہت ہو گئی۔"
اور شنید دروازے سے باہر نکل گیا۔ شنید کے جاتے ہی آہستہ سے وہ صوفے
سے اٹھی، آئینے کے رُو بہ رو کھڑے ہو کر یس نے خود کو دیکھنا شروع کیا۔ پسینے سے اس کا میک یپ نکل چکا تھا۔ چہرے کی دلکشی تو تھی۔مگر وہ تازگی نہیں، اداس پھولوں جیسے اس کے گال نظر آرہے تھے۔آنکھوں میں چمک تو ضرور تھی مگر آنکھوں کے حلقے سیاہ تھے اور یہ ڈوبتی شام کی اُداسی کے غماز تھے۔ہونٹوں کا خم اب بھی دلکش تھا، مگر رسیلاپن اب باقی نہ رہا بلکہ پپڑیاں سی جم گئیں۔اس کا چہرہ یوں لگ رہا تھا جیسے چاندی کی ورق میں لپٹی گولی سے ورق چھوٹ جائے۔تب ہی اس نے سر پر ہاتھ پھیرا۔ سیدھی جانب کو چاندی کے باریک باریک تار چمک رہے تھے، اُسے یاد آیا کہ آج وہ "مرائیکل" نہ جا سکی۔اس کی اس بھول نے حقیقت کو بےنقاب کر دیا۔ 
شنید کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے۔آنٹی آنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سسک پڑی۔
کالج کے صدر دروازے پر آفرین کو اترتا دیکھ کر طلباء سے لے کر اسٹاف کے سارے لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔بہتوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا، لوگ پلکیں  جھپکا جھپکا کر دیکھنے لگے، سب حیران تھے کہ آج مِس آفرین کو کیا ہو گیا وہ ایک شگفتہ نوخیز کلی سے مُرجھایا ہوا پھول کیسے بن گئیں۔وہ ایک الّھڑ حسینہ سے پُر وقار دوشیزہ کیسے بن گئی۔سفید ساڑی کے کنارے گہرے نیلے تھے۔اس نے ساڑی کو اپنے اطراف یوں لپیٹ لیا تھا، مبادا کوئی خطوط بکھرنے نہ پائے۔
چہرہ میک اپ سے عاری تھا۔ اب کالج میں نہ دبی دبی سرگوشیاں تھیں، نہ فقرے بازیاں اور نہ ٹھنڈی آہوں کا دھواں۔ وہ بڑے وقار سے چلتی ہوئی آفس میں گئی۔ داس صاحب اسے دیکھ کر حیران تھے۔
"مجھے شنید سےء ملنا ہے۔‘
اس نے آتے ہی کہا اور پھر کچھ ہی دیر بعد دروازہ کھلا۔ اس کی پیٹھ دروازے کی جانب تھی وہ آنے والوں کو دیکھ نہ سکی، صرف قدموں کی چاپ اس نے سنی۔ 
"محترمہ آپ نے شنید کو مٹھائی کھلانے کہا تھا۔ اس لیے میں خود اسے لیے حاضر ہوا ہوں۔"
اس آواز پر اس نے گھوم کر دیکھا تو بس دیکھتی رہ گئی۔ روش اس کے سامنے تھا۔ "دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو" کے مصداق وہ بہت پیچھے چلی گئی۔بائیس سال کا طویل وقفہ گزر چکا تھا۔بہار آ کر رخصت ہو چکی تھی۔
"روش۔۔۔۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " وہ تھم سی گئی۔
"شنید میرا بیٹا ہے، اور یہ میری بیوی شہلا "
اس نے اپنے بازو میں ٹھہری ایک خوب صورت سی عورت کی جانب اشارہ کر کے کہا۔
آفرین نے دیکھا کہ وہ آج دنیا کی سب سے حسین عورت کو دیکھ رہی ہے جس کا یہ انداز اسے انوکھا لگا، کیوں کہ ان آنکھوں میں ممتائی چمک تھی۔ پیشانی پہ حوروں کا تقدس، لبوں پر دعائیں۔ یوں لگا جیسے وہ جنت میں گم ہو، وہ مبہوت سی کھڑی ہو گئی۔ اپنی اس شکست پر نہ وہ رنجیدہ ہو سکی اور نہ خوش۔۔۔۔۔ ہار کے پیچھے جیت کا یہ انداز اس کے دل کو بھا گیا۔
" آفرین شنید تمھارے سامنے کھڑا ہے۔"
وہ چونگ گئی اس نے دیکھا شنید ہاتھوں میں مٹھائی کا ڈبہ لئے مسکراتا اسے دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لئے آفرین جنت میں آ گئی۔ بے اختیار ممتا کا جذبہ پیار بن کر شنید کی پیشانی پر جم گیا۔ اس نے شنید کو گلے لگا لیا۔ ان گنت بوسے اس کی پیشانی پر ثبت کر دیے۔ آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ اس نے محسوس کیا کہ برسوں کی کھوئی ہوئی جنت آج اسے مل گئی تھی۔ سب کچھ کھو کر اس نے بہت کچھ پا لیا تھا۔ اس جنت کو حاصل کرنے کے لیے اس نے کئی جہنموں کی آگ برداشت کی تھی۔ لیکن پھر بھی وہ مطمئن تھی پر سکون تھی۔ گویا طویل مسافت طے کر نے والے راہی کو منزل مل گئی ہو۔
٭٭٭




بسیرا


"بسیرا کامپلیکس" کا آج افتتاح تھا۔ پوری عمارت نور کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی اور لاوڈ اسپیکر پر گیتوں کا شور تھا۔ رنگ برنگی جھنڈیاں گلی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک منڈوے کی شکل میں لگی ہوئی تھیں۔آہنی گیٹ کے اوپرWelcome کا بورڈ جگمگا رہا تھا۔محلے کے نوجوان بچے بوڑھے سبھی یہاں جمع تھے۔ اس محلے میں یہی تو ایک عمارت تھی جو آسمان سے باتیں کر رہی تھی۔ چار سال کی محنتوں اور کاوشوں کا صلہ آج ایک عالی شان عمارت کی شکل میں موجود تھا۔اس بلڈنگ کت فینانسرس، آرکیٹیکس، سپر وائزرس، مستری اور مزدور سبھی شاداں و فرحان تھے۔ منسٹر کے ہاتھوں اس بلڈنگ کا افتتاح ہونے والا تھا۔ ابھی منسٹر لے آنے میں دیر تھی۔ انتظار کے یہ لمحے عرق گلاب میں معطر تھے۔ اگر بتی کی خوشبو فضا میں مہک رہی تھی۔ پھولوں کے گجرے ہر فلیٹ کے دروازے پر لٹک رہے تھے۔ گیٹ کے دائیں بائیں سے بندھا ریشمی فیتہ اپنے کٹنے کا منتظر تھا۔ مالکین فلیٹ اپنے اپنے بسیرے میں پناہ لینے کے منتظر تھے اور ان لوگوں نے کامپلیکس کے آغاز کے ساتھ ہی فلیٹ بک کروا لئے تھے، اب افتتاحی تقریب کے منتظر تھے۔
رحمت بھی ان سب میں شریک تھا۔اپنے کھردرے ہاتھوں کو دیکھتا ہوا وہ پھُولا نہ سماتا تھا۔کتنی جانفشانی اور لگن سے اس نے اس کی ایک ایک اینٹ کو ڈھویا تھا۔سیمنٹ اور ریت میں کتنی بار ان ہاتھوں کو بھگویا تھا۔اپنے ان میلے کچیلے ہاتھوں کے کرشمے سے وہ خود حیران تھا۔اپنے ان ہاتھوں کی لکیروں کو گھورتا ہوا وہ ماضی کی دھندلکوں میں جیسے کھو گیا۔
جس وقت وہ اپنے گاؤں سے نکلا تب اس کے بدن پر کپڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔
"رحمت بیٹا ! زندگی پہاڑ جیسی ہے اس کی چوٹی تک پہونچنے کن کمزور راستوں کا سہارا لے رہے ہو۔یہ اُجڑے ہوئے کھیت کی پگڈنڈیاں اب تمہیں سکون نہیں دے پائیں گے۔پچھلے دو برسوں سے خشک سالی نے پریشان کر رکھا ہے۔کب تک ان پتھروں سے دودھ نکالنے کی کوشش کرو گے۔تمہاری تقدیر تمہارے ہاتھوں میں ہی یے۔اپنے ہاتھوں کی ان لکیروں میں ہی اپنا راستہ تمہیں مل جائے گا۔میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔نازو عمر کی سیڑھیاں تیزی سے طے کرنے لگی ہے۔میرے کمزور کاندھے اسے کب کت سنبھالیں گے۔بیٹا۔اپنی امانت جتنی جلدی ہوسکے،میرے پاس سے لے جاؤ۔غریب کا سہارا اس کی جوان بیٹی ہے۔خطرہ قدم قدم پر ہے۔لٹیرے ہر جگہ بستے ہیں۔چہروں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔بہتر یہی ہو گا کہ تم شہر جا کر کچھ کمانے لگ جاؤ اور نازو کو اپنا لو۔"
جمن چاچا کی مایوس آواز میں التجا تھی۔وہ رو نہ کرسکا۔حقیقت بھی تو تھی۔فصل کٹنے کا انتظار تو اس وقت ہوسکتا تھا،جب بیج بوئے گئے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تو بنجر ہی بنجر تھا۔پھر شجر کی کیسے آرزو کرسکتا تھا وہ۔اپنے ہاتھوں کی لکیروں پر بھروسہ کرتا ہوا وہ شہر جانے تیار ہو گیا۔
جانے سے پہلے وہ نازو کہ پاس جا پہنچا۔وہ پیپل کے پیڑ تلے بیٹھی اپنی ہتھیلیوں پر مہندی رچا رہی تھی۔
"نازو۔۔۔" اس نے پکارا وہ چونک کر ادھر ادھر دیکھنے لگی، کسی کو نا پا کر وہ پھر سے اپنے کام میں منہمک ہو گئی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ اس کا باؤلا دل ہے۔ جو اکثر رحمت کی آواز میں اس کا نام پکارتا رہتا ہے مگر پھر ایک بار شوشو کی آواز پر اس نے گھوم کع پیچھے دیکھا، وہ دور کھڑا ہاتھ سے اسے بلا رہا تھا۔نازو ادھوری مہندی ہتھیلی پر لگائے اس کی طرف بڑھی چلی آئی۔
"کیوں آئے ہو۔۔۔۔ ؟ " اس نے انگوٹھے سے زمین کریدتے ہوئے پوچھا۔
"میں شہر جا رہا ہوں۔ !!" وہ ایک پل رک گیا۔ نازو کے چہرے پر آئے ہوئے تاثرات جاننے لگا۔
"کیوں۔۔۔۔" نازو کی آواز بھیگتی ہوئی محسوس ہوئی۔
"تیری اس ادھوری مہندی کو پورا کرنے۔ نازو گاؤں میں اب کچھ نہیں، جب کما نہ سکوں گا تو تو تجھے اپناؤں گا کیسے۔" ساری عمر یونہی تو نہیں چل سکتی۔ مجھے کچھ تو کرنا ہے۔ شہر میں روزی کا مسئلہ حل ہو ہی جائے گا۔"
"کب لوٹو گے۔۔۔۔ ؟" اس نے معصومانہ سوال کیا۔"
سنا ہے شہر میں بڑی بڑی بلڈنگیں بنتی ہیں۔ ان کا کام چار پانچ سال سے پہلے ختم نہیں ہوتا۔ایسا ہی کوئی کام مل جائے تو بے فکری سے چند سال گذر جائیں گے۔ پھر آئندہ کوئی نہ کوئی ذریعہ نکل ہی جائے گا۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں تو غم کاہے کا۔ جمن چاچا کہتے ہیں کہ ہاتھ کی لکیروں میں ہماری منزل چھپی ہوئی ہے۔" اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر کہا۔
"تم مزدوری کرو گے۔۔۔ " اس نے اس کے ہاتھ تھام لئے۔
"اور نہیں تو کیا۔۔۔ ؟" یہاں ہل چلاتا رہا وہاں اینٹیں ڈھونڈوں گا۔ مرد ہو ں کام سے عار کیا " اس کے لہجے میں عزم تھا حوصلہ تھا۔
"اللہ تم کو حفاظت سے رکھے، جلدی لوٹ آنا، میں تمہارے لئے دعا کرتی رہوں گی- تم جب لوٹ کر آؤ گے تو پیر صاحب کی مزار پر فاتحہ دلواؤں گی-" نازو بھی جیسے امیدوں کی تلاش میں نکل گئی-
"تو میں چلتا ہوں - خدا حافظ" اور وہ خاموشی سے سنسان پگڈنڈی کے راستے چل پڑا- ناز بڑی دیر تک اُسے دیکھتی رہی، یہاں تک کہ اس کا ہیولا ایک نقطہ بن گیا او ریہ نقطہ نازو کی آنکھ میں سمٹ کر رہ گیا-
رحمت کو شہر آتے ہی مشکلوں کا سامنا تو کرنا پڑا مگر اس نے ہمت نہ ہاری وہ جگہ جگہ مزدوری کے لئے پھرتا رہا، اڈے پر بیٹھتا تو کوئی یومیہ کام لے کر چلتا کر دیتا اس طرح تو زندگی بے فکری سے گذر نہ سکتی تھی- آخر کار ایک ایسا موقع آ گیا جب اس نے دکھا کہ ریڈ ہلز کے ایک مقام پر پرانی عمارت کو ڈھایا جا رہا تھا وہ بڑی آس لے کر وہاں پہونچا-
"بھائی- یہ بلڈنگ کیوں توڑ رہے ہیں -" اس نے کسی مزدور سے پوچھا-
"یہاں ایک بڑی بلڈنگ بننے والی ہے- اگلے ماہ کام شروع ہو جائے گا-" اس نے جواب دیا-
"کیا مجھے یہاں کام مل سکتا ہے-" اُمید سے بھرا سوال تھا-
"کیوں نہیں وہاں بڑے بابو بیٹھے ہیں جا کر ان سے پوچھ لینا-" وہ سیدھے بڑے بابو کے پاس پہونچا-
"بابو صاحب - ہم کو مزدوری لگا دیجئے، بھوکوں مر رہے ہیں ہم" اس نے ہاتھ جوڑ دیئے-
بابو صاحب نے چشمے کی اوٹ سے اس کا جائزہ لیا- لما قد، صحت مند جسم، صورت شکل بھی اپنے اندر جاذبیت رکھتی تھی- ہاتھوں سے محنت کا اندازہ کیا جا سکتا تھا-
"اگلے ماہ سے اس کامپلکس کا کام شروع ہو گا- پورے چار سال اس کام کو لگ جائیں گے- تمہیں ہم سے کنٹراکٹ کرنا ہو گا-
اس کنٹراکٹ کے تحت تم صرف اسی کامپلکس پر کام کرو گے- یومیہ اجرت کے بدلے ہفتہ وار اجرت ملا کرے گی، کام کے دوران کوئی بہانہ بازی اور بی ایمانی سے بات نہیں بنے گی-" بابو صاحب نے تفصیل سمجھا دی-
وہ بخوشی راضی ہو گیا- چار سال تک کے لئے بے فکری ہو چکی تھی- کنٹراکٹ پر دستخط کر کے وہ گاؤں واپس چلا آیا- اب کام شروع ہونے میں چند ہی دن رہ گئے تھے- اس نے سوچ لیا کہ کچھ پیسے جمع کرنے کے بعد ہی وہ نازو سے بیاہ کر لے گا- کیونکہ شہر لے جا کر نازو کو رکھنے کا مسئلہ بھی تو بڑا اہم تھا-
آخر کار کامپلکس کا کام شروع ہوا- رحمت پوری دل جوئی اور لگن سے کام کرنے لگا- دن بھر کی تھکن کے بعد راجو بھیا کی دوکان پر بنے چبوترے پر وہ سوجاتا کبھی نیند اس پر غالب آ جاتی اور کبھی خواب نیند پر-
عمارت بنتے رہی، سمنٹ اور چونے کی شکل بدلنے لگی- اور ادھر رحمت کے ہاتھوں کی لکیریں بھی بدلنے لگی تھیں - بلڈنگ کا گراونڈ فلور مکمل ہو چکا تھا- نچلا حصہ گیرج کے لئے مخصوص تھا- بڑے بابو نے اسے اجازت دے دی تھی کہ وہ راجو بھیا کے دوکان کے چبوترے پر سونے کے بجائے اس تعمیر شدہ گیرج میں مکین رہے- رحمت کو اس سے زیادہ کیا چاہیئے تھا- وہ بڑے آرام سے رہنے لگا-
پھر اچانک عمارت کی تعمیر روک دینی پڑی- بازار میں سمنٹ کا اخراج ہو گیا تھا سمنٹ نہ مل سکی تو کام بند کر دینا پڑا- بابو صاحب نے مزدوروں سے چھٹی کا اعلان کر دیا- رحمت کو تو جیسے پر لگ گئے وہ بابو صاحب کے پاس جا پہونچا-
"بابو صاحب میں اپنے گاؤں جا کر آؤں گا- اس نے شرماتے ہوئے کہا-
"ضرور جاؤ مگر کام شروع ہونے سے پہلے آ جانا-"
"بابو صاحب- میں شادی کرنے جا رہا ہوں -"
"یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے-"
"میں اپنی نازو کو لا کر کہاں رکھوں -؟" رحمت کچھ رُک رُک کر بولا-
"اس میں پریشانی کی کیا بات ہے- اب جس زیر تعمیر گیرج میں تم ہو اس میں رہ لینا، کوئی پردہ وغیرہ باند کر کمرے کی شکل دے دو اسے" - بابو صاحب نے مشورہ دیا اور رحمت کے تصور میں انار چھوٹنے لگے-
جب وہ ایک شہری بابو بنا، گاوں پہنچا تو بچے تالیاں پیٹنے لگے اور پھر یہ تالیاں ڈھولک کے تھاپ میں بدل گئیں -
نازو کے ہاتھوں کی مہندی مسکرانے لگی اور چہرے کا چند جگمگانے لگا- نازو بری آب و تاب کے ساتھ اس کے گھر میں جلوہ گر ہوئی-
چھٹیاں ختم ہوئیں تو وہ نازو کو لے کر شہر پہنچا- گیرج رحمت اور نازو کے ملے جلے قہقہوں اور دبی دبی سرگوشیوں سے آباد ہو گیا- کامپلکس کا کام بھی شروع ہو چکا تھا، مزدوروں کے ہاتھ مشین بن گئے- ان کے ہاتھوں کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا-
اب بلڈنگ پانچویں منزل میں داخل ہو چکی تھی- یوں سمجھیئے کہ یہ اس کے عنفوان شباب کا زمانہ تھا- اس عالم میں اس کے حُسن کا جادو ایک مزدور گردھاری پر چل گیا- بیچارہ پانچویں منزل سے کام کرتے ہوئے پھسل کر گر پڑا- رحمت کو اس کی موت کا بڑا صدمہ ہوا- ایک عدد انسانی جان کا خون اس بلڈنگ میں پانی کے طرح استعمال میں آ گیا، رحمت جنتا تھا کہ گردھاری کا کنبہ بڑا ہے- اور مزدوری ناکافی، اکثر وہ فاقے کرتا تھا-
شاید اس دن بھی بھوک کی دیوی اس پر مہربان تھی اور اس کی آتما تن کے قید سے آزاد ہو گئی -گردھاری کی موت نے رحمت کو جھنجھوڑ دیا تھا، کیونکہ نازو بھی اب ماں بننے والی تھی---- وہ جانتا تھا کہ پیٹ کے ایندھن میں کوئلہ ڈالنا بڑے جوکھم کا کام ہے اپنا اور نازو کا گذارا تو ہو جاتا تھا مگر اب ایک نئے مہمان کی آمد سے وہ فکر مند رہنے لگا اس نے اپنے سارے ضروریات سمیٹ لئے اور پائی پائی جمع کرنے لگا، اپنے بچے کے لئے-
"بسیرا---" کی چھٹی منزل کا آغاز ہوا اور اس نئے مہمان نے گیرج میں اپنا بسیرا لیا- منّے کی پیدائش پر رحمت جھم اُٹھا- سارے مزدوروں میں وہ مٹھائی بانٹتا پھرتا رہا- وہ محسوس کرتا تھا کہ اب وہ ایک بڑی ذمہ داری سنبھالنے لگا ہے- نازو جب اُسے مُنّے کے بابا کہہ کر بلاتی تو وہ خود کو بہت بڑا آدمی سمجھتا- گویا اس کامپلکس کا ملک ہو- اس نے سوچ رکھا تھا کہ جب بسیرا مکمل ہو گئی ہو تو وہ اپنے لئے کوئی نہ کوئی کمرہ لے ہی لے گا- آخر چار سال خون اور پسینہ اسی مقام پر تو ٹپکا تھا- گرمی کے جھلسے لمحے، سردی کے ٹھٹرتے دن اور بارش کی بھیگتی راتیں اس نے اسی مقام پر تو گذاری تھیں - اُس کا تو بہت حق تھا اس پر- اور پھر مُنّا تو یہیں پیدا ہوا تھا جو جگہ پیدائش کی ہو وہ تو جائے عبادت ہے وہ اس کعبہ کو چھوڑ کر کہاں جاتا بھلا جس ماں کی کوکھ سے جنم لے اس کو کیسے بھول سکتا تھا وہ-
وقت کو پرواز مل گئی، آخری منزل بھی مکمل ہو گئی مُنّا پاؤں پاؤں چلنے لگا تھا کبھی پہلی منزل کبھی دوسری منزل گویا یہ اس کی ملکیت تھی- مُنّے کو اس طرح گھومتا پھرتا دیکھ کر رحمت کہتا-
"ارے چھوڑ دے اسے کیوں پکڑ رہی ہے، اسی کا ہی گھر ہے یہ تو - اسے حق ہے جہاں چاہے گھومے پھرے-" اور مُنّا پھر ایک بار نظروں سے اوجھل ہو جاتا-
؂اسی آنکھ مچولی میں دن گذر گئے اور بسیرا کامپلکس کی افتتاحی تقریب کا آغاز ہوا-
اس رات اچانک ہی منا کو بہت بخار آ گیا- ڈاکٹر کو دکھانے پر اس نے نمونیہ کا شبہ بتلایا-رحمت اور نازو دونوں ہی اس کے لئے پریشان تھے- دوا دے کر وہ افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے جا پہونچا- رہ رہ کر اسے ایک گمان ایک خدشہ ستارہا تھا، کہیں ایسا نہ ہو-
"بسیرا اس سے چھن جائے تب وہ کہاں جائے گا؟" لیکن ایک خیال دل کو ڈھارس دیتا رہا کہ منسٹر صاحب آئیں گے تو وہ اپنے لئے بسیرے سے بسیرا مانگ لے گا-
آخر کار بڑے انتظار کے بعد منسٹر صاحب کی آمد ہوئی، بینڈ باجوں سے استقبال کیا گیا اور پھولوں کے گجرے پہنائے گئے، پھر انہوں نے با آواز بلند اپنی تقریر شروع کی-
"----ہمارے شہر میں ایسی ہی عمارتوں سے رونق بڑھے گی- مکانوں کی قلت کا مسئلہ بھی خود بخود حل ہو جائے گا----- ایسے کامپلکس سے آپس میں اتفاق و اتحاد بھی بڑھتا رہے گا- لوگ مل جل کر رہنے کو ہی اپنا نصب العین سمجھیں گے----- میں ان تمام منتظمین کو مبارک باد دیتا ہوں - جنہوں نے بڑے عزم بڑے حوصلے کے ساتھ اس عمارت کی تکمیل کی-----ہمیں ناز ہے ان مزدور بھائیوں پر جسن کے ہاتھوں نے مٹی اور پتھر کا جادو جگا دیا- دنیا کی جتنی عالی شان عمارتیں ہیں سبھی ان مزدوروں کی رہین منّت ہیں - یہ نہ ہوتے تو آج قطب مینار نہ ہوتا، تاج محل نہ ہوتا، لال قلعہ نہ ہوتا، چار مینار نہ ہوتا، اور نہ کوئی عمارت ہوتی جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جائے اور ہوش گم ہو جائیں - اس لئے میں خاص طور پر اپنے مزدور بھائیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں "----- اور پھر تالیوں کی گونج میں ان کی تقریر اختتام کو پہونچی- رحمت کی تالیاں سب سےتیز تر تھی- وہ ہجوم کو چیرتا ہوا آگے بڑھنے لگا، تاکہ منسٹر صاحب تک رسائی پا سکے اور اپنے لئے بسیرا مانگ سکے لیکن منسٹر صاحب کی کار اس جم غفیر کو چیرتی ہوئی نکل گئی اور وہ صرف دھُول کو دیکھتا رہ گیا- ڈوبتے قدموں سے جب وہ اپنے گیرج کی طرف جانے لگا تب وہاں کے متعیّن گورکھے نے اُسے روک دیا-
"بابو- اندر جانا منع ہے"- اس کے قدم ٹھٹھک کر رہ گئے-
"مگر میری بیوی بچہ تو اندر ہیں -" وہ آگے بڑھنے لگا-
"اندر کوئی نہیں یہ گیرج ہے- ملہوترہ صاحب کے نام پر بُک کیا گیا ہے، تمہارا سامان اور بیوی بچے باہر ہیں -" گورکھے نے جواب دیا- اُسے یوں لگا جیسے اس کی بیوی اور بچہ کوئی انتہائی غیر اہم چیز ہیں، جسے باہر کر دینا بالکل معمولی سی بات ہو-
"ارے واہ، یہ بھی خوب زبردستی ہے، ہم نے چار سال یہاں اپنا پسینہ ٹپکایا اور آج تم ہمیں اس طرح بے سہارا کر رہے ہو-"رحمت کو جوش آ گیا-
"دیکھو بابو- زیادہ ٹرٹر مت کرو، ہمارا کام یہاں کی نگرانی کرنا ہے، سامنے سے ہٹ جاؤ، ملہوترہ صاحب کی گاڑی آرہی ہے-" گورکھے نے اس کا شانہ پکڑ کر ڈھکیل دیا تبھی ایک فییٹ کار تیزی سے آ کر گیرج میں رُک گئی، ملہوترہ صاحب کار سے اُترے--
گورکھے نے سلام بجالایا- ایک کھنکتا سکہ انھوں نے گورکھے کی ہتھیلی پر رکھ دیا-
"شٹر بند کر دو-" اور اتنا کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے، شٹر کے بند ہوتے ہی رحمت کو یوں لگا جیسے زندگی کے تمام راستے اس پر بند کر دیئے گئے ہیں - وہ مرے ہوئے قدموں سے گیٹ کے باہر نکل گیا، جہاں نازو منّا کو گود میں لئے کھڑے تھی- مُنّے کا جسم بخار سے پھنک رہا تھا-
"ایسی حالت میں ہم منا کو لے کر کہاں جائیں گے-" نازو نے پریشانی کے عالم میں کہا
میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔" " اور پھر ایک بار رحمت امید کا دامن تھامے بسیرا کی گیٹ پر پہنچا۔ "بھیا میرا بچہ بیمار ہے ہمیں کہیں سر چھپانے کی جگہ نہیں، اس کڑاکے کی سردی میں ہم کہاں جائیں گے۔ آج ایک رات ہم کو پناہ لینے دو۔" "میں نے کہ دیا نا تنگ نہ کرو۔ دیکھو ہم اس کامپلیکس کا باڈی گارڈ ہے، ہمارا کام اس کی حفاظت کرنا ہے ہم تو کو اس کے اندر کیسے آنے دے گا۔" گورکھے نے سمجھانے کی کوشش کی۔ "بھیا جس بلڈنگ کی تم حفاظت کر رہے ہو آج اس کے بنانے والے محفوظ نہیں، جن ہاتھوں نے سب کو پناہ دی آج وہی پناہ کی تلاش میں ہیں، جس بسیرے کو ہم نے بنایا وہی آج بے آسرا ہیں۔ جس چیز کی حفاظت کے لئے گیرج بنے ہیں وہ تو لوہے کی بنی ہے مگر جن ہاتھوں نے یہ حفاظت گاہیں اور پناہ گاہیں بنائی ہیں وہ ہاتھ آج آسرا مانگ رہے ہیں۔ یہ کیسی دنیا ہے، جہاں چیزوں کے لئے ٹھکانہ تو موجود ہے مگر جان دار کے لئے کھلے چھت اور زمین کے لئے کھلے چھت اور زمین کے سوا کچھ نہیں۔" وہ مایوس لوٹ آیا۔ "نازو، ہم غریبوں کے لیے یہی زمین فرش اور یہی آسمان چھت ہے۔ یہی ہمارا ٹھکانہ ہے اور یہی ہمارا بسیرا ہے۔ پھر اس نے ایک چادر فٹ پاتھ پر بچھا کر منا کو لٹا دیا۔ رات آہستہ آہستہ بھیگنے لگی، بسیرا کی گیٹ پر پڑا بڑا سا تالہ اس کی زندگی کا مذاق اُڑا رہا تھا۔ جانے وہ کب تک اسی طرح بیٹھا بسیرا کی پر شکوہ عمارت کو تکتا رہا۔ صبح کی اولین ساعتوں میں جب بسیرا کا آہنی پھاٹک کھلا تو اس کی نیند بھی کھل گئی۔ اس نے فوراً ہی منے کے جسم کو دیکھا برف کی سل کی طرح اس کا جسم ٹھنڈا تھا، بجلی کا سا کوندا اس کی آنکھوں کے آگے لپک گیا، اس نے منا کو ہلا کر دیکھا مگر وہ ربڑ کے گڈے کی طرح اکڑ کر سخت ہو چکا تھا۔ اب اس کو سب کچھ سمجھ آ گیا، گویا بسیرا نے ایک اور ننھی جان کی قربانی بھی لے لی تھی۔ نازو کی چیخوں سے ماحول لرزنے لگا، رحمت منا کی لاش کو دونوں ہاتھوں پر اٹھائے بسیرا کی پُر شکوہ عمارت کو دیکھ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، یہ نفرت کے تھے یا غم کے اسے کوئی نہ جان سکا، البتہ بسیرا سے نکلنے والا ہر مکین چندسکے زمین پر بچھی چادر پر ڈال رہا تھا، اور گذر رہا تھا، شاید یہی رحمت کی محنت کا ثمرہ تھا۔
٭٭٭


گھُونگھٹ کی آنچ


ڈھولک کی تھاپ تیز ہو گئی تھی۔ فضا میں بابل کے درد بھرے گیتوں سے دھُواں اٹھنے لگا تھا۔ لڑکیاں لہکتی آوازوں میں گا رہی تھیں۔
اپنے بابل سے بچھڑ کے
گھر کا آنگن سونا کر کے
گوری کہاں چلی گھونگھٹ میں چاند چھپائے۔۔۔۔"
دلہن کو سنگھار کر کے مسند پر بٹھایا گیا تھا۔ آرسی مصحف رسم ہونے کو تھی۔ دلہا باہر سے پھولوں سے لدا پھندا اندر آیا۔ ایک ہنگامہ سا مچ گیا، بچے بوڑھے جوان سبھی نے دلہا دلہن کے گرد ہالہ سا بنا لیا۔ صبا بھی گلابی چم چماتے غرارے کے پائنچے سنبھالتی آگے بڑھی۔ دولہے کی بہن نے دلہا دلہن کے سروں پر سرخ جھلملاتا دوپٹہ ڈالا اور درمیان میں شفاف آئینہ رکھ کر رُونمائی کی رسم انجام دی۔ صبا پورے اشتیاق سے یہ سب کچھ دیکھتی رہی۔ دلہا نے دلہن کو انگوٹھی پہنا دی۔ جھلملاتا دوپٹہ اتار لیا گیا لیکن صبا پتھر کا بت بنی نہ جانے تصور میں کیا کیا دیکھتی رہی یہاں تک کہ دلہن رخصت ہو گئی۔ باجے کے شور و غل سے ماحول بھی تھرا رہا تھا۔ کچھ دیر وہ سیڑھیوں پر کھڑی رہی، پھر نہ جانے کیا سوچ کر کمرے میں آ گئی۔ اس نے اپنا گلابی دوپٹہ اوڑھ لیا اور اسے گھونگھٹ کی طرح تھوڑا سا آگے کھینچ لیا۔ وہ آنکھیں بند کئے کھڑی رہی۔ کسی نے اس کا دوپٹہ آہستہ سے اٹھایا اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ "لیجئے یہ ہم آپ کو رونمائی میں دیتے ہیں۔" احمر نے جوہی کے سفید پھولوں کا گجرا اس کے ہاتھ میں پہناتے ہوئے کہا۔
"آپ۔۔۔آ۔۔۔آپ۔۔۔" وہ بدحواس ہو گئی
"کک۔۔۔ کسی نے۔۔۔۔ دیکھ لیا تو" وہ سہم گئی۔
"وہ سارے لوگ دلہن کو رخصت کر رہے ہیں۔ یہاں یہ دلہن ہماری منتظر تھی۔ اس لئے ہم چلے آئے۔" احمر کی نگاہوں میں شرارت تھی۔
"ہائے اللہ۔۔۔ کتنے وہ ہیں آپ۔۔۔!! اور وہ شرم سے بل کھا کر بھاگ گئی۔
"اری چپ رہ تو تو بنتی ہے۔ بھیا نے خود کہا کہ وہ تیری رونمائی دے چکے ہیں " فوزیہ نے صبا کو چٹکی لے کر کہا۔
"ہائے اللہ کیسی باتیں کرتی ہے تو کسی نے سن لیا تو غضب ہو جائے گا۔"وہ سہمی آواز میں کہہ رہی تھی۔
"ہائے میری بنو، دل دھک دھک کر رہا ہے، مارے خوشی کے اور ہمارے سامنے ایکٹنگ کرتی ہے۔" فوزیہ ستانے پر تلی تھی۔
"قسم لے لے جو میں نے انہیں بلایا۔ میں تو یونہی اکیلی کمرے میں تھی کہ وہ اچانک چلے آئے کسی بلا کی طرح۔" وہ صفائی پیش کر رہی تھی۔
"اچھا بابا جانے دو، اب مجھے اس بلا کو تیرے ہی سر منڈھنا ہے، سمجھی ! اور فوزیہ صبا کے دل میں جگ مگ کرنے کے لئے ایک ستارہ چھوڑ گئی۔
صبا جانتی تھی کہ ابھی مہندی کے گل بوٹے اس کے نصیب میں نہیں ہیں۔ وہ اپنے بابا کی حالت سے خوب واقف تھی۔ دولت کی فراوانی نشاط کو دعوت دیتی ہے۔ آبا و اجداد کی جائیداد اور پیسے کا غلط استعمال کرنا ان کا روزمرہ کا اصول تھا۔ خیر سے تین شادیاں تو کر چکے تھے۔ صبا کی اپنی امی کے مرنے کے بعد سے دو دلہنوں کو زیور سے آراستہ دیکھا جن سے ملاتے ہوئے اس کے بابا نے کہا تھا۔
"یہ تمہاری نئی امی ہیں۔" اس کا ذہن تب معصوم تھا وہ سوچتی تھی کیا ہر ایک کو نئی ماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ننھا ذہن اس سوال کا جواب تو نہ دے سکتا تھا لیکن اس نے ہ ضرور محسوس کیا تھا کہ نئی ماں پیار کے بدلے جھڑکتی ہے تب اسے لفظ ماں سے نفرت ہو گئی تھی۔
شراب و شباب نواب حشمت خاں کی آن بان کا مظہر تھے۔ دولت چاہے کتنی ہی مدفون کیوں نہ ہو خرچ کی جائے تو ختم ہوہی جاتی ہے۔ جیسے کسی کرنے کا کوئی ٹانکا کھل جائے تو سارے سارے کا کرتہ آہستہ آہستہ ہی کھل جاتا ہے۔ اپنی اکلوتی لڑکی کے مستقبل کو انہوں نے زبانی باتوں، تصوراتی خاکوں، تخیلاتی حسن سے سنوارنے کی کوشش کی، یہ سب ان کا دھوکا تھا۔ زندگی کے لمحے تیزی سے گذرتے رہے۔ اور وہ پرانی وضعداری پر اٹل رہے۔
صبا شعور کی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا گھر میں اکثر ڈھولک کی تھاپ، پازیب کی جھنک، چوڑیوں کی کھنک،عروسی جوڑے کی جھلملاہٹ،عود و عنبر کی خوشبو برقی قمقموں کی جگمگاہٹ اور پھولوں کی سیج دیکھی تھی لیکن یہ سب اس کی نئی امی کے لئے ہوتا۔ وہ گنتی رہی۔ ایک دو تین چار پانچ چھے۔۔۔۔۔ اب اسے ان تمام چیزوں سے جیسے گھن سی آ گئی۔ اپنے بابا کا یہ شوق اسے بہت برا لگنے لگا مگر مجال نہ تھی کہ وہ مشورہ بھی دے سکے۔
وہ سارا دن اپنے کمرے میں بند پڑی رہتی۔ کھانا وقت پر آ جاتا دو لقمے زہر مار کرتی کبھی ناول کبھی پکچر کبھی باغ کی سیر اور کبھی فوزیہ کے گھر وہ اکثر اپنے پلنگ پر پڑی اپنے بارے میں سوچتی رہتی۔ سرخ جھلملاتا گھونگھٹ اس کے حواس پر چھایا رہتا۔ احمر کی شوخ نظروں کا تصور کر کے وہ آپ ہی آپ شرما جاتی۔ آج جب فوزیہ نے احمر سے اس کے رشتے کی بات چھیڑی تو جیسے کنول کی بند کلی جات اٹھی۔ وہ مسرت کے دوش پر سوار ہو گئی، وہ دروازے کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے فوزیہ کی باتیں سن رہی تھی، جو وہ اس کے بابا سے کر رہی تھی۔
"چچا جان! ممی کی بڑی آرزو ہے کہ صبا ہمارے گھر بہو بن کر آئے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس رشتے کو ضرور قبول کریں گے۔"
"بیٹی فوزیہ، رشتے سے مجھے انکار نہیں میں اسے دل سے قبول کرتا ہوں لیکن ابھی صبا کی عمر ہی کیا ہے۔ اور پھر احمر اعلیٰ تعلیم کے لئے باہر بھی تو جا رہا ہے۔ وہ تعلیم ختم کر کے آ جائے تو پھر یہ کام انجام دیں۔"
نواب حشمت نے بڑی وضع داری اور وقار سے کہا
"مگر چچا جان! کیا ہی اچھا ہوتا اگر شادی ہو جاتی اور دونوں ساتھ ہی باہر چلے جاتے۔ فوزیہ نے کہا
"ایسی بھی کیا جلدی ہے ابھی صبا کی عمر بہت کم ہے اسے شعور تو آ جانے دو، ہم زبان کے پابند ہیں، صبا تمہاری رہے گی بس ٹھیک ہے نا!" نواب صاحب نے بات ختم کر دی۔
"جی بہتر"، کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ صبا دروازے کے پاس ہی اسے مل گئی۔ "دیکھ لے گڑیا تیرے بابا تجھے اب بچی سمجھتے ہیں۔ جب تو سمجھدار ہو جائے گی تبھی تیرے ہاتھ پیلے ہوں گے۔"
فوزیہ نے اسے چھیڑ کر کہا۔ وہ چپ ہو گئی۔ فوزیہ کے جاتے ہی وہ آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اس نے دیکھا اس کی آنکھوں میں ستاروں سی چمک ہے۔ گالوں  پر شفق ابھر آئی ہے۔ ہونٹوں پر شراب مچل رہی ہے۔ جبیں عرق آلود ہو رہی ہے۔ زلفیں ناگن بنی کسی کو ڈسنے کا انتظار کر رہی ہیں ابرو خنجر کی طرح چمک رہے ہیں۔ پلکوں کی چلمن بار حیا سے جھُک رہی ہے۔ سانسوں کا زیرو بم تیز ہو گیا ہے۔ دل کی دھڑکن میں عجیب سی اضطرابی کیفیت محسوس ہو رہی ہے۔ سر سے قدم تک وہ چھلکتی ہوئے مئے، بل کھاتا ہوا دریا، بہتا ہوا جھرنا، انگڑائی لیتی ہوئی سورج کی پہلی کرن، چودھویں کا پورا چاند نظر آ رہی تھی۔
"کیا میں بچی ہوں۔؟ میری عمر ابھی اس قابل نہیں کہ میں جھلملاتے آنچل کی آرزو کروں۔" وہ خود سے سوال کرتی رہی لیکن کسی نے جواب نہ دیا۔ بہت دیر تک کمرے میں سکوت رہا، پھر اس سکوت کو چھیڑتی نواب صاحب کی آواز آئی
"جمن! ہمارے کمرے کو آراستہ کر دینا۔ دیوان خانہ سجا دینا۔ قاضی صاحب کو وقت پر آنے کا کہہ دینا۔ آج تمہاری نئی مالکن آئیں گی۔" ان جملوں سے اسے پہلی بار نفرت سی محسوس ہوئی۔
"کیا یہ عمر اس قابل ہے کہ سہرے کی ضرورت ہو۔؟ وہ نفرت سے گردن جھٹک کر اپنے پلنگ پر گر پڑی۔ تکیے کے نیچے رکھے جُوہی کے گجرے کو اس نے نکالا، پھول تو مرجھا چکے تھے خوشبو باقی تھی، اور وہ دھاگا جس میں پھول پروئے گئے تے، اب بھی مضبوط تھا۔ وہ تصور کے اُڑن کھٹولے پر اڑنے لگی۔
احمر جا چکا تھا۔ صبا انتظار کی صلیب پر جھولتی رہی۔ سورج ڈوبتا اُبھرتا رہا۔ چاند مستیاں بکھیرتا رہا۔ ستارے سرگوشیاں کرتے رہے اور وقت بگولے کی طرح اڑنے لگا۔ نواب حشمت خاں کی آن بان میں فرق نہ آسکا۔ دولت پچرتے مٹکے کی طرح ختم ہو رہی تھی اور وہ اپنی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ صبا کو گھونگھٹ کی تلاش تھی لیکن اس کے گھر میں نئی ماں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ بات کی شفقت سے وہ بہت دور تھی۔
کبھی کبھار وہ اگر محبت کرتے تو صبا محسوس کرتی یہ دکھاوا ہے، ڈھونگ ہے۔
کانٹوں کی سیج پر اس نے یہ دن گذارے اس کا ہر لمحہ بہار کو خزاں، اجالے کو تاریکی سمجھ کر گزرتا رہا۔ نواب صاحب کی حشمت جا رہی تھی۔ دولت ختم ہوئی اور قرض نے دروازے پر دستک دی۔ ساہو کار نے منہ کھولا۔ قرض داروں نے تقاضہ کیا، مجبوراً "شاد ولا"نیلام چڑھ گیا۔ کرائے کے گھر میں رہنے کے باوجود نواب صاحب کا ٹوٹا ہوا وقار ابھی مچل رہا تھا۔ صبا مقامی اسکول میں ٹیچر ہو گئی آمدنی کا پورا حصہ اپنے باپ کی قدموں میں ڈال کر صرف چھ روپے وہ بچاتی رہی۔ چھ سال پورے ہوئے وہ اپنی کمائی کے کل144روپے اس کے پاس موجود تھے۔ بہت دیر تک وہ سوچتی رہی کہ ان روپوں کو کس کام میں لایا جائے۔ تبھی فوزیہ نے اطلاع دی کہ احمر  آرہا ہے۔ سرخ گھونگھٹ اس کی نگاہوں کے آگے مچل گیا اس نے بازار سے گھونگھٹ خرید لیا۔ اندر سے کمرہ بند کر کے گھونگھٹ چہرے پر ڈال لیا۔ بہت دیر تک آنکھیں بند کئے وہ احمر کا تصور کرتی رہی۔ پھولوں میں لدا پھندا وہ چلا آ رہا تھا قریب آ کر اس نے گھونگھٹ الٹ دیا مگر۔۔۔ یہ تو اس کا تصور تھا۔ کمرے میں دور دور تک کسی کا پتہ نہیں تھا۔ وہ تھی اور آئینے میں اس کا عکس۔ اسی وقت کسی کی آواز اس نے سنی۔ اس آواز کا انتظار اس نے چھ سال سے کیا تھا وہ دوڑتی ہوئی باہر آئی۔ لیکن حیا نے اور کچھ باپ کی موجودگی نے قدم پکڑ لئے۔ وہ پردے سے جھانکنے لگی۔ کتنے حسین ہو گئے ہیں۔ وہ ہائے اللہ۔ آنکھوں میں تو ابھی وہی شوخی ہے، روپ تو یوں نکھرا ہے جیسے چاندنی میں نہا کر آئے ہوں۔ بالوں کی دلکشی اب بھی ویسی کی ویسی ہے۔ ہونٹوں پر شریر مسکراہٹ اب بھی کھیل رہی ہے وہ نظروں سے بلائیں لینے لگی۔
"بڑی خوشی کی بات ہے کہ تم بخیر و عافیت واپس آ گئے" نواب صاحب کہہ رہے تھے۔
"مجھے خود صبا کی شادی کی فکر ہے لیکن شادی کے لئے تمہیں انتظار کرنا ہو گا۔ تم تو جانتے ہو ہم بڑی آن بان والے ہیں۔اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی ایسی ویسی نہ ہونے دیں گے، اس کی ماں جس دھوم دھام سے دولت میں تلتی یہاں آئی تھی ہم اسے بھی ویسے ہی رخصت کریں گے اس کے لئے وقت چاہئے۔ ہم کوشش میں ہیں، ہم نے زبان سے کہہ دیا صبا تمہاری ہے وہ تمہاری لئے ہی رہے گی۔ اگر اسے پانا چاہتے تو انتظار کرو"
شان و شوکت کی یہ رسی جل کر ختم ہو چکی تھی مگر بل ابھی باقی تھا۔ صبا دیوار سے سر ٹیک کر سوچنے لگی انتظار کا لفظ کس نے ایجاد کیا۔۔۔ احمر چلا گیا۔ صبا نے سرخ گھونگھٹ کپڑوں کی تہہ میں چھپا دیا۔ وقت کسی بیمار کے سانسوں کی طرح چل رہا تھا۔ صبا میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ خود اپنے باپ سے کہہ دے مجھے کچھ نہ چاہئے بس سرخ گھونگھٹ اوڑھا کر مجھے رخصت کر دیں۔
نواب صاحب اب کھلے بندوں نہیں چوری چھپے شراب و شباب کی رنگینیاں سمیٹے۔ صبا ان کی نظروں میں ابھی "بچی" تھی جس کی شادی کی کوئی جلدی نہ تھی۔ صبا نے اپنے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا۔ لیکن سرخ گھونگھٹ اس کی نگاہوں میں مچلتا ہی رہا جُوہی کے سوکھے گجرے کو جس کی پتیاں جھر چکیں تھیں لیکن دھاگا باقی تھا وہ اب بھی سونگھتی رہی۔ دن گذرتے رہے لیکن اس نے دیکھا ابھی گھر میں اس کے جہیز کی کوئی چیز نہ آئی، نہ زیور نہ کپڑا، نہ فرنیچر، اس کا کون شریک تھا، کون راز دار تھا جس سے وہ پوچھ سکے، اپنے گھر میں وہ اجنبی تھی۔ نواب صاحب دالان میں مصاحبوں کے ساتھ رہتے۔ نوکر کام میں رہتے جو نئی ماں آئی وہ اپنے کمرے میں ہی رہتی۔ نواب صاحب نے اب صبا سے نئی ماں کا تعارف کروانا چھوڑ دیا تھا۔
ایک دن جب وہ اسکول سے گھر آئی تو اس نے دیکھا ایک گلابی لفافہ نواب صاحب کے ہاتھ میں تھا اور وہ پریشان ٹہل رہے تھے۔ وہ کسی انجانے خوف سے سہمی سہمی آئی۔ "صبا اس کم ظرف نے ہمارا مذاق اڑایا ہے۔ لیکن ہم بھی اس کا بدلہ لے کر رہیں گے تم فکر نہ کرنا۔" نواب صاحب نے کہا اور لفافہ اس کے آگے پھینک دیا۔ وہ لفافہ لے کر اندر چلی آئی۔ کمرہ بند کیا اور دھڑکتے دل سے اسے کھولا یہ احمر کی شادی کا دعوت نامہ تھا اور اس میں خط بھی تحریر تھا جس میں تحریر تھا۔
"میں مزید انتظار نہیں کر سکتا، ممی بیمار ہیں، ان کا دل رکھنے کے لئے میں اپنی خالی زاد بہن سے شادی کر رہا ہوں، اپنی ماں کو دُکھ نہیں دے سکتا ہو سکے تو مجھے معاف کر دیں۔"
صبا کی آنکھوں کے سامنے جیسے بجلی کوند سی کوند گئی، چوڑیاں ٹوٹتی نظر آئیں۔ سنگھار اجڑتا نظر آیا سرخ گھونگھٹ میں آگ لگ گئی اور وہ انتظار کی صلیب پر زندگی کے آخری لمحے گننے لگی۔
اس واقعہ کو دو سال گذر گئے۔ احمر اپنی دلہن کے ساتھ واپس چلا گیا نواب صاحب کی آنکھیں کھل رہی تھیں۔ آہستہ آہستہ جہیز جمع ہو رہا تھا۔ لیکن وہ بت بن گئی۔ آنکھیں ویران ہو گئیں لب سوکھ گئے، چہرہ اداسی کی سیاہی میں ڈوبنے لگا۔ گال زرد پڑ گئے، اور زلفوں میں چاندنی بکھرنے لگی۔ اپنی لٹتی ہوئی عزت کو جمع کر کے نواب صاحب نے مختصر سا سامان تیار کر لیا اور صبا کے لئے ایک کلرک کا رشتہ منظور کر لیا۔
"صبا سب کچھ جان کر بھی چپ تھی، نواب صاحب کے پیش نظر انتقام تھا، اپنی بے عزتی کا بدلی تھا۔ اس رات وہ طیش میں کئی جام چڑھا گئے، نشے نے تلخ یادیں تو بھلا دیں لیکن ان کی نگاہوں میں پھولوں کی سیج پھر ایک بار آ گئی انہوں نے جمن کو آواز دی۔
"جمن میرے کمرے میں سیج سجا دینا میں نئی مالکن کو لے کر آ رہا ہوں۔"
لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے وہ باہر نکل گئے۔ صبا نے یہ سب سن لیا۔ ایک مسکراہٹ
اس کے روکے لبوں پر پھیل گئی وہ طنزیہ تھی۔ یا تلخ یا پُرمسرت۔ اسے کوئی دیکھ نہ سکا۔
بہت رات گئے نواب صاحب لوٹے۔ نشے سے سرشار ایک نئی نویلی دلہن کے ساتھ وہ اپنی خوابگاہ کے دروازے پر پہنچے۔
"دیکھو ہم نے تمہارے لئے کتنی شان دار سیج سجائی ہے۔" یہ کہہ کر انہوں نے دورازہ کھول دیا۔ جیسے ہی دورازہ کھُلا ان کی نگاہوں میں بجلی سی چمک گئی۔ سارا نشہ کافور ہو گیا۔ وہ اندر پہنچے۔ پھولوں کی سیج پر ایک دلہن محو خواب تھی۔ سرخ گھونگھٹ چہرے پر ڈالے۔ انہوں نے تیزی سے گھونگھٹ الٹ دیا۔
"صبا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" ان کی زبان سے چیخ نکل گئی۔ "تم۔۔۔ تم یہاں کک۔۔۔ کیوں آ گئیں۔۔۔۔ ؟" انہوں نے اس کے شانے جھنجھوڑ کر کہا لیکن گھونگھٹ میں منہ چھپائے دلہن کی گردن شرم سے ڈھلک گئی اس کی کھلی ہوئی آنکھوں میں انتظار تھا مرجھائے ہوئے لب و رخسار سراپا سوال تھا۔ اس کی ہتھیلی میں ایک خط تھا۔
بابا! اس گستاخی کی معافی چاہتی ہوں۔ زندگی کے اٹھائیس برس گزارنے کے بعد نہ جانے کیوں میں بے اختیار ہو گئی۔ یہ سرخ گھونگھٹ جسے میں نے اوڑھ رکھا ہے، برسوں سے میرا قاتل بن گیا۔ نہ جانے اس میں کیا بات تھی جس نے مجھے دیوانہ بنا دیا۔ ہر پل ہر لمحہ اسے اوڑھنے کی آرزو دل میں مچلتی رہی۔ میری پلکوں پر مچلنے والا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ احمر سے آپ نے وعدہ کیا تھا کہ صبا تمہاری اور تمہاری ہی رہے گی۔
کیا تھا نا بابا۔۔۔۔ !! اسی وعدے کی لاج نبھا رہی ہوں، احمر نے اپنی ماں کا دل رکھنے کے لئے انتظار کا آشیانہ پھونک ڈالا۔ کیا مجھ پر واجب نہیں کہ میں اپنے باپ کے وعدے کا پاس رکھوں۔ میں یقیناً احمر کی ہوں اور احمر کی رہوں گی۔
آپ کے اس وعدے کو پورا کرتے ہوئے میں اپنی زندگی کے دیرینہ خواہش کی تکمیل پر مجبور ہو گئی۔
پھولوں کی سیج اور سرخ گھونگھٹ کی تمنا بیج بن کر پھیل گئی۔
میں جانتی ہوں یہ سیج میری نئی ماں کی ہے لیکن میرے دل نے مجھے بے قابو کر دیا اور میں یہ گستاخی کی جرات کر بیٹھی۔
میں نے زہر تو کھا لیا کیونکہ اس گستاخی کی یہی سزا تھی، خدارا مجھے معاف کر دیجئے اور ہاں اگر ہو سکے تو مجھے اسی سرخ گھونگھٹ سے سجا کر میری آخری آرام گاہ تک پہنچا دیں۔
معافی کی طلب گار 
صبا 
نواب حشمت خاں کے ہاتھ سے کاغذ چھوٹ گیا۔ دالان میں رکھے پنجرے کی مقید بلبل پھر سے اڑ چکی تھی۔ فضا اس کے درد بھرے نغموں سے اداسی میں ڈوب گئی۔	٭٭٭



لہو کے رنگ


اس نئے گھر میں آئے اسے صرف چار ہی دن ہوئے تھے، وہ کمروں نکی آراستگی میں مصروف تھی۔ آفاق نے کمپنی سے مکان کی تلاش کے لئے باقاعدہ چھٹی لے رکھی تھی،پندرہ دن کی انتھک کوششوں کے بعد مسز خان کو یہ مکان مل سکا تھا۔ ویسے جو مکان اس کمپنی سے الاٹ ہوا تھا وہ شہر سے دور تھا۔ یہاں خاموشی اور سناٹے کا راج تھا، دور دور تک پھیلی ہوئی خاموشی انجم کی زندگی کے راز کھول رہی تھی۔
اس کی اپنی زندگی بھی تو ایسی ہی ویران تھی، جیسے کوئی بنجر دھرتی، جیسے کوئی خالی کنواں، جیسے کوئی سوکھا درخت، گھر کاکونہ کونہ وہ سلیقے سے آراستہ کرتی مگر اسے محسوس ہوتا جیسے کچھ کمی سی رہ گئی ہو، جیسے باغ ہو بہار نہ ہو، پھول ہو خوشبو نہ ہو، پیمانہ ہو بادہ نہ ہو، آنکھ ہو کاجل نہ ہو، دل ہو دھڑکن نہ ہو، چشم ہو نور نہ ہو، جسم ہو جان نہ ہو۔ کتنا اکیلا محسوس کرتی وہ خود کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لاکھ مصروفیت سہی دکھ تو دبے پاؤں کہیں نہ کہیں سے چلا ہی آتا ہے کہ رقص کرتی زندگی کو ساکت کر دے۔ وہ بظاہر خوش رہتی مگر دل کے نہاں خانے میں غم کا الاؤ ہمیشہ سلگتا ہی رہتا۔
آفاق نے بڑی کوشش کی کہ وہ زندگی کی اس محرومی کو محسوس نہ کرے، زخم کو ناسور نہ بنا لے مگر وہ ناکام رہا، اس وارفتگی میں کوئی کمی نہ آئی اس کا دیوانہ پن باقی رہا۔ تنہائی میں وہ سپنے دیکھتی۔ بادلوں کے پار سے وہ گول مٹول ننھے کو اترتا دیکھتی اسے پالنے میں جھلاتی لوریاں گاتی۔ جب وہ پاؤں پاؤں چلنے لگتا تو اس کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی، ایسے ہی موقع پر آفاق چلا آتا۔ اس کی یہ وارفتگی دیکھتا تو مایوسی کے گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتا۔ اس کا بس چلتا تو انجم کی یہ خوشی وہ کہیں سے ادھار لے لیتا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کار مز خان کا یہ فلیٹ اسی لئے لیا کہ انجم یہاں بہلی رہے۔ آج آفاق کے جانے کے بعد جب انجم کمرے کی صفائی کر رہی تھی تو ایک کوئل کی کوک فضا میں گونج اٹھی۔
"آنٹی۔۔ آنٹی " اس نے مڑ کر دیکھا تو دروازے میں چار سال کے ایک بےحد معصوم چہرے والی پیاری سی لڑکی کھڑی تھی۔
" آنٹی ہم اندر آئیں۔" اس نے پھر ساز بجایا۔
"آؤ آؤ" انجم خواب سے بیدار ہوئی۔
"آپ ہماری نئی آنٹی ہیں نا ! " اس نے اپنی آنکھیں گما کر پوچھا۔
" ہاں ہاں، لیکن تمہیں کس نے بتایا۔" انجم نے سوال کیا۔
" ان کمروں میں جو بھی آتا ہے ہم انہیں آنٹی اور انکل ہی* کہتے ہیں۔ آپ نہیں جانتیں میں جوہی ہوں، نیچے ہی تو میرا گھر ہے۔" اس نے اپنا تعارف کروایا۔
" جوہی۔۔!! اچھا تو اسی لئے مہکتی پھرتی ہو۔ " انجم نے پوچھا۔
" لیکن ممی تو کہتی ہے میں سب کو تنگ کرتی ہوں، دیکھئے میں تو آپ سے ملنے چلی آئی۔"
" بہت اچھا کیا، بڑی پیاری باتیں کرتی ہو تم تو۔۔۔۔" انجم نے اس کے گال پر چٹکی بھرتے ہوئے کہا۔
" آپ کو میری باتیں اچھی لگتی ہیں * تو میں آپ سے بار بار باتیں کرتی رہوں گی۔ اور پھر یہ سلسلہ چل پڑا۔ وہ پہروں باتیں کرتی اور انجم چپ چاپ سنتی رہتی۔ چاہت یہ رنگ دن بدن نکھرتا گیا۔ انجم کے دل کی دھڑکن جوئی کے لئے وقف ہو گئی۔ اور جوہی کا پیار انجم کے حصے میں آیا۔ مسز خان کی جوہی اب رات دن انجم کی بانہوں میں جھولنے لگی۔
آفاق کو سکون مل گیا، جس درد کی دوا کا وہ متلاشی تھا، جوہی کی شکل میں وہ اس کے سامنے تھی۔ سمندر اور بوند کا یہ سنگم، سیپ اور موتی کا یہ ملن،ڈالی اور کلی کا یہ رشتہ، ممتا اور معصومیت کا یہ دل نشین ملاپ قدرت کا انوکھا کرشمہ تھا۔
مسافر وقت تیزی سے قدم بڑھاتا رہا، چاہت کا بیج محبت کے پودے میں تبدیل ہو کر وارفتگی اور سپردگی کے پھولوں سے بھر چکا تھا۔ جوہی آنکھ کھولتی تو انجم کی گود میں، انجم سانس لیتی تو جوہی کو دیکھ کر۔ مسز خان محسوس کر رہی تھی کہ ان کے آنگن کا گلاب انجم کے گلدان کی زینت بن رہا ہے۔اس دن تو سچ مچ خار ہی کھا گئی، جب جوہی نے ان کے ساتھ اپنی خالہ کی شادی میں دہلی جانے سے انکار کرتے ہوئے انجم کے پاس رہنا گوارا کر لیا۔ مسز خان نے لاکھ سمجھایا پر وہ نہ مانی، مچل ہی گئی، معصوم صورت فریادی بن گئی، ملتجی نگاہوں سے اس نے انجم کو دیکھا، انجم کہہ اٹھی۔
" جوہی کو چھوڑ دیجئے وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے، اسے خود سے ایک پل کے لئے بھی الگ نہ کروں گی۔ میری دھڑکن مجھ سے دور ہوسکتی ہے، میری نبض تھم سکتی ہے مگر جوہی میرا سایہ بن کر میرے ساتھ رہے گی۔ "
مسز خان مجبور ہو کر چلی گئیں۔ جو ہی انجم اور آفاق کی نگاہوں کا سرمہ بن گئی۔ دو دن تو آرام سے گذر گئے، لیکن تیسرے دن آنکھ مچولی کھیلتے کھیلتے جو ہی سیڑھیوں پر سے پھسل کر گر پڑی۔ انجم کی روح گھائل ہو ئی اور آفاق درد سے کراہ اٹھا۔ خون میں لت پت جوہی کو ہسپتال لے جا یا گیا وہاں اس کے سر کو ٹانکے دئیے گئے اور خون کی ضرورت در پیش ہو ئی۔ انجم کا بلڈ گروپ جیسے جوہی کے لئے ہی تھا۔ وہ خون دینے تیار ہو گئی۔انجم کا خون بوتل کے سہارے جوہی کے جسم میں دوڑنے لگا۔ انجم محسوس کر رہی تھی جیسے وہ ماں بن گئی ہو اور خون کی شکل میں اس کا دودھ جوہی کے حلق کو تر کر رہا تھا۔ 
اس نے محسوس کیا کہ آج و ہ بنجر دھرتی نہیں بلکہ زرخیز زمین بن گئی ہو۔ اس نے جانا کہ وہ تخلیق کے کرب سے آشنا ہو چکی ہے۔ اب وہ ایک ایسی ہستی بن گئی ہے، جسے ماں کہا جاتا ہے۔ وہ اس نام کے تقدس او ر آفاقیت میں ڈوب گئی۔ 
ماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ عظیم ہستی جس کے وجود سے دنیا میں پاکیزگی کا جلوہ ہے، جس کے قدموں پر بادشاہ اور فقیر دونوں ہی کے سر جھکتے ہیں جس کی آنکھوں میں چھپے مہر و وفا کی چمک سے قاتل بھی کانپ جاتا ہے جس کے دست شفقت کے سایے میں گناہ گار بھی پناہ لیتا ہے، یہ سوچ کر انجم کو سکول قلبی مل گیا۔ 
جو ہی ٹھیک ہو کر گھر آنے کے چار دن بعد ہی مسز خاں دہلی سے واپس آ گئیں انجم کا دل ایک انجانے خوف سے دھڑک اٹھا۔ جوہی کے سر کا زخم اور کمزور چہرہ مسز خان سے پوشیدہ نہ رہ سکا۔ ان کی تیز نظروں نے ایک پل میں سب کچھ بھانپ لیا وہ سیدھے انجم کے کمرے میں چلی آئیں، جوہی اس سے لپٹ کر سو رہی تھی۔ ایک جھٹکے سے انہوں نے جوہی کو انجم سے الگ کر دیا۔ جیسے تنکے تنکے جوڑ کر بنائے گئ آشیاں پر برق گر پڑی ہو۔ جیسے کنارے کر لگتی ہوئی کشتی طوفان میں ڈوب گئی ہو۔ جیسے صحت یاب ہوتے مریض کا گلا کھونٹ دیا گیا ہو۔ انجم اس غیر متوقع حملے کے لئے تیار نہ تھی وہ بوکھلا گئی۔
’’میں نے کہا تھا نا کہ جوہی کو سنبھالنا تمہارے بس کا روگ نہیں۔ آخر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ تمہاری بے پناہ چاہت اور وارفتگی سے میں خوف زدہ ہی تھی۔ آخر کار تمہاری نظر بد نے میری بچی کے چاند سے چہرے پر داغ لگا ہی دیا۔ پیار کے دو میٹھے بول بول کر ہر عورت ماں نہیں بن سکتی۔ مسز آفاق۔ تم کیا جانو ماں کسے کہتے ہیں۔ محبت کے دو جملے تمہیں ماں نہیں بنا سکتے۔ تم اگر سچ مچ جوہی کی ماں ہوتیں تو شاید اس کے سر سے بہتے خون کو دیکھ کر تمہارا لہو پانی بن کر بہہ جاتا۔ تم نے کونسا اسے نو ماہ اپنی کوکھ میں رکھا۔ کونسی تخلیق کا کرب برداشت کیا۔ کونسی جاگ جاگ کر راتیں کاٹیں، کونسا اپنا لہو دے کر پالا۔ میں اس کی ماں ہوں، میں نے اسے جنم دیا ہے، اپنا لہو پلا کر اسے پالا۔ بس یہی فرق ہے، تم میں اور مجھ میں۔ تمہیں کیا پتہ ماں کیسی ہوتی ہے۔۔۔۔ جب لہو کا رنگ دودھ میں بدلتا ہے تبھی ایک عورت ماں بنتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ صبح کی پہلی کرن کی آمد سے پہلے ہی میرے گھر سے چلی جاؤ۔’’
مسز خاں کسی بادل کی طرح گرج کر برس کر چلی گئیں، اور انجم محسوس کر رہی تھی کہ وہ خون جو بوتل کے سہارے جوہی کی رگوں میں پہونچایا گیا تھا صرف پانی تھا صرف پانی، وہ دودھ نہ بن سکا۔ وہ سسک سسک کر رو پڑی۔ شاید مندمل ہوتا زخم پھر سے رسنے لگا تھا۔



چشم نم


"اللہ کیا سچ مچ وہ آ جائیں گے۔!!" مایوسیوں کے کہر میں ڈوبی، مدھم سی سورج کی کرن کی طرح اس کی آواز ابھری۔
"ہاں ہم نے پڑھا بھی ہے کہ دونوں ملکوں کے اسیرانِ جنگ کا جلد ہی تبادلہ عمل میں آئے گا۔" شازیہ اس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے کہہ رہی تھی۔
"لیکن۔۔۔ لیکن اگر ان کے آنے سے پہلے ہی" وہ رک گئی جیسے اس کے آگے خوں خوار درندہ منھ کھولے کھڑا ہو۔
"چل ہت، ایسی باتیں نہیں سوچا کرتے ہمیشہ نیک خیالات رکھا کر۔" شازیہ نے اس کے رخسار تھپتپاتے ہوئے کہا۔
"میں کیا کروں شازیہ، میری نگاہیں خلا میں صرف اندھیرا دیکھتی ہیں۔ اجالوں کی پہنچ مجھ سے دور ہے۔ جانے وہ کونسا سویرا آئے گا، جو میرے آنچل خوشیوں کی کرنیں بکھرے گا۔ تم جانتی ہو نا میں عدنان کی محبت کو عبادت سمجھنے لگی ہوں۔ کیا میرے سجدے قبولیت کبھی بھی حاصل کر پائیں گے یا پھر نشان ہی رہ جائیں گے۔ یری جبیں پر ان سجدوں کو"۔ اس نے نازک انگلیاں جبیں پر رکھ لیں، یوں لگا جیسے سنگ مرمر کے فرش پر ایک ساتھ شمعیں جلنے لگی ہوں۔
"میری جان، تم اتی طویل جدائی کی وجہ سے اس قدر مایوسں ہو۔ تم نے عدنان کے لئے غم کو اپنا مستقبل سرمایہ بنا لیا۔ لیکن یار رکھو روحا شب کی سیاہی دراصل دن کے اجالے کے لئے ہی پھیلتی ہے۔ عدنان کو تم سے کوئی چھین نہیں سکے گا، وہ روحا کے لئے ہے اور روحا کے لئے رہے گا۔" شازیہ نے روحا کو سینے سے لگا لیا۔
"ایک تُو تو ہے جو میرے دکھ کے موتی روح میں پرو لیتی ہے ورنہ اس گھر میں سوائے نشتر کی چبھن اور آگ کی تپش کے مجھے ملا ہی کیا۔۔۔" روح کی گیلی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔
"روح، کہاں مر جاتی ہے آخر چولہے چکی کا بھی کبھی خیال کیا ہے۔ مہارانی کالم میں تو کیا پڑھتی ہے خود کو رئیس اعظم سمجھ لیا ہے۔ مرنے والی نے کوئی ماما تو نہیں رکھ چھوڑی تھی جو اس قدر بے پرواہ ہے۔" یہ روحا کی سوتیلی ماں کی آواز تھی۔ روحا نے لرزتی نگاہوں سے شازیہ کو دیکھا اور اس لمحے کو شازیہ کو بھی محسوس ہوا کہ وہ درخت جس اپی ایک پتہ بھی نہ ہو خود کو کتنا بے بس اور اکیلا سمجھتا ہے۔
"روحا یہ صبر کا وقت ہے جا تو اپنا کام کر میں بھی چلتی ہوں۔"
شازیہ کے ڈبڈبائی آنکھوں سے الوداع کہا ور گھر سے باہر نکل گئی۔ زندگی درد سے کتنی معمور ہے، روحا یہ سوچتی ہوئی باہر آئی۔
"شازیہ آ گئی تھی۔ اس سے کچھ دیر باتیں کرنے میں وقت لگ گیا امی۔"
"ہونہہ امی! جانے کس منحوس کی کوکھ سے پیدا ہوئی تھی اور چلی ہے مجھے ماں بنانے۔ خبردار جو زبان درازی کی" میدان جنگ کی گولیاں یہیں برسنے لگی تھی۔
"جی۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ گھونٹ نگل گئی۔ کتنا عجیب مزہ تھا پتہ نہیں وہ خون تھا یا آنسو جو اس کے حلق کو تر کر گیا۔
روحا۔ وہ دیکھو آفتاب کی کرنوں کی ہلکی سی تمازت کس قدر دل فریب ہے، جی میں آتا ہے کہ دھوپ کی اس چاندی کو تم پر نثار کر دوں "۔ وہ چھت پر کپڑے سکھانے آئی تو عدنان اس کے چہرے کو دیکھتا ہوا کہتا۔
"روحا۔ اس ماہتاب کو دیکھ رہی ہو کس قدر جگمگاہٹ ہے، اس میں مگر تم تو اپنے آپ میں ہزاروں ستارے سمیٹے ہوئے ہو۔ یہ ہر پل میرے نہاں خانے میں جگمگاتے رہتے ہیں۔" وہ رات کو بستر کی سلوٹیں درست کرنے آتی تو عدنان کہتا۔
"روحا۔ تم نے یہ کیوں چرا لیا سب کچھ۔"
"میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کیا چرا لیا۔" اس نے گردن اٹھا کر پوچھا۔ "آفتاب کی چمک، ماہتاب جگمگاہٹ، شبنم کی خنکی، سرو کا قد، بادلوں کی سیاہی، پھولوں کی خوشنمائی، دھنک کے رنگ، کلیوں کا دہن، ستاروں کی ضیا، اجالوں کا خمار، جھرنوں کی موسیقی، کہساروں کی دل آویزی، آسماں سے لے کر زمین تک پھیلے ہوئے ہر نظارے کا حسن مجموعی طور پر تم نے چرا لیا، ایسے صنم تو قابل پرستش ہو جاتے ہیں۔" وہ روحا کی زلفوں میں گم ہو کر رہ گیا۔
آئینے کے روبرو کھڑی روحا اپنے عکس کو دیکھتے جاتے کہاں پہنچ گئی۔ اس نے گوندھی ہوئی زلفوں کو جھٹک دیا۔ سیاہ آبشار شانوں سے بہتا ہوا، کمر کو چھونے لگا۔
"عدنان۔۔۔۔" دل کے کسی گوشے سے دبی ہوئی آواز آئی اور روحا کو محسوس ہوا جیسے وہ اس نام سے ڈھک گئی ہو۔
"تم نے کیا جواب دیا ہاشم رضا کو۔۔۔؟" اس کی سوتیلی ماں نے پوچھا۔ "تم ہی کہو کیا جواب دوں۔ روحا کا رشتہ تو عدنان سے طے ہو چکا ہے مگر۔۔۔ " اس کے باپ کی آواز یہیں تھم گئی۔
"عدنان کا انتظار کرو گے تو یہ ساری زندگی ہماری چھاتی پر بیٹھی مونگ دلتی رہے گی۔ کیا پتہ عدنان زندہ بھی ہے یا نہیں۔" ماں کے جملے پر وہ یوں بکھر گئی جیسے پاری کی بنی ہو۔
"تو پھر ہاشم رضا سے کہہ دوں کہ ہم راضی ہیں۔" اس کے باپ نے سوال کیا۔
"اور نہیں تو کیا۔۔۔۔۔۔۔ کوئی ایسا بڑھاپا تو ان پر نہیں ٹوٹ پڑا کہ تمھاری روحا کا ہی کندھا تھام لیں۔ بال ہی تو سفید ہوئے ہیں ورنہ گھر تو سونے سے پیلا ہے۔ تمھاری بیٹی رانی بن کر جائے گی۔ وہاں جا کر، پھر اس کے علاوہ ہمیں قرض سے نجات مل جائے گی۔ وہ تو روحا کے بدلے میں ساری رقم بخش رہے ہیں، ایسے کاموں میں دیر ٹھیک نہیں۔"
اس کی ماں نے سرگوشی کی، ان کے ہاتھ میں سروتہ تھا اور چھالیہ کتر رہی تھی ادھر روحا کو یوں لگا جیسے اس کے دل کے ٹکڑے الگ الگ ہو کر گر رہے ہوں۔ 
"نہیں۔۔۔۔۔" چیخ کر کہنے اس کا حلق تھرایا، مگر جانے کیوں لب جنبش ہی نہ کھا سکے، اس رات وہ پلنگ پر پڑی بڑی دیر تک ماضی کے جھروکوں میں گھومتی رہی۔ کتنی حسین دنیا تھی وہ جب اس کی ماں زندہ تھی۔ جب وہ اپنے ماموں زاد بھائی عدنان کے ساتھ دن بھر تتلیاں پکڑا کرتی اور شام کو اس کا ہاتھ تھامے ڈوبتے سورج کو دیکھنے اس پہاڑی کے جانب جاتی جو اس کے گھر کے پچھلے حصے پر تھا۔
"مجھے ڈوبتے سورج کو دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کیونکہ جب یہ ڈوبتا ہے نا! پورے آسماں پر لالی بکھیرتا ہے۔ ایسی لالی جو خون کی ہوتی ہے، کیا سورج کا بھی کوئی قتل کرتا ہو گا۔۔۔۔؟" وہ معصومیت سے پوچھتی۔
"ہاں اس کا قتل ہی تو ہوتا ہے شام اس کی قاتل ہے، بے چارہ دن بھر تو اجالا دیتا ہے لیکن شام جانے کیوں اس کی دشمن ہے، جو ہر روز اسے قتل کرتی ہے "
عدنان جواب دیتا۔
’’ میرا بس چلے تو میں شام کر پکڑ ہی لوں۔’’ وہ کہتی۔ 
’’ روحا تم تو پاگل ہو۔ کیا صبح دوپہر شام بھی کوئی تتلیاں ہیں جنہیں ہم پکڑ لیں۔’’ وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیتا ہے۔ 
ہنستے کیوں ہو۔ چلو میرے ساتھ، ہم وہاں تک چلے جائیں گے جہاں یہ سورج لالی بکھیر رہا ہے۔ دیکھیں گے شام وہاں کیسے آتی ہے۔ ’’ روحا نے اس کا ہاتھ تھاما۔ 
’’ اتنی دور۔ چل تو تو پگلی ہے۔ یہ راستہ ختم نہیں ہو گا۔ ’’
’’ تو کیا ہوا ہماری عمر جنتی بھی رہے گی ہم اتنی دیر تک ساتھ چلتے رہیں گے۔ اور اسی وقت دم لیں گے، جب شام سورج کا قتل کرنا چھوڑ دے گی۔ ’’ پھر ایک نادان سا جملہ اس نے کہہ دیا۔ 
’’ نہ ہم اتنی دور جا سکیں گے، اور نہ یہ شام سورج کو قتل کرنا بند کرے گی۔ چلو اب کھر چلیں بہت دیر ہو گئی۔ عدنان اس کا ہاتھ تھامے واپس لے آتا۔ 
سچ مچ سورج کا ہر روز قتل ہوتا رہا اور شام آتی رہی وہ دونوں کبھی اس منزل تک پہونچ نہ سکے۔ پھر وہ کرخت صبح آئی جب اس کی ماں کا وجود برف بن گیا تھا۔ مٹی کے ڈھیر کے نیچے اس کی ماں سو چکی تھی۔ وہ سوچنے لگی لوگ اتنا جھوٹ کیوں کہتے ہیں کہ انسان مٹی سے بنا ہے۔ اگر مٹی اسے بناتی ہے تو پھر یہ منہ کھولے واپس کیوں بلا لیتی ہے۔ دور کسی پیڑ پر کوئی پرندہ پھڑ پھڑ کر اڑ گیا۔ روحا چونگ اٹھی گھڑیال نے دو بجنے کا اعلان کیا۔ وہ کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔ آنکھیں بند ہوئیں تو پھر ایک بار ماضی کی فلم چل پڑی۔ 
’’روحا۔ یہ تمہاری نئی امی ہیں۔’’ اس کے ابا نے گرجنے بادلوں کے دن اعلان کیا
اور اسے یوں محسوس ہوا کہ یہ گرجتے بادل کسی طوفان کا پیش خیمہ ہیں۔ دفعتاً بجلی چمکی اور اس نے نئی ماں کو دیکھا ان آنکھوں میں اسے وہ چمک نظر آئی جو بلی کی آنکھوں میں اپنے شکار کو دیکھ کر آ جاتی ہے۔
’’ عدنان نئی ماں کیوں آئی ہے۔’’ یہ دنیا ہے روحا یہاں ایک جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا آتا ہے۔’’ عدنان نے سمجھانے کی کوشش کی۔ 
’’ تم جھوٹ کہتے ہو۔ اگر تم یہاں سے چلے گئے اور تمہاری جگہ کوئی اور عدنان بن کر آئے تو کیا میں یہ مان لوں گی۔۔۔۔نہیں۔’’
اس نے گردن جھٹک کر کہا، چند ہی دن میں نقشہ بدل گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عدنان بھی نئی ماں کے ظلم کا نشا نہ بنا۔ معصوم اور مظلوم بچپن، حسین اور ستم رسیدہ، جوانی میں بدلا۔ نئی کلیوں کی شگفتگی کی جگہ اس کے چہرے پر خزاں کا سایہ رہا۔ 
’’ میں اس کنول کو کیچڑ سے نکال کر ہی رہوں گا۔ عدنان اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے اٹھائے کہتا۔ 
’’مگر۔۔۔۔ مگر عدنان وہ تو کیچڑ میں ہی زندہ رہتا ہے تم نے نکالنے کی کوشش کی تو وہ مرجھا جائے گا اور تمہارے کپڑے بھی داغدار ہو جائیں گے۔ روحا لرزتی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی کہتی۔ 
’’ ہش۔۔۔۔ مایوسی کفر ہے۔ آؤ ہم ان لمحوں کو خواب کے لئے وقف کر دیں وہ اسے سینے سے لگا لیتا، اور سچ مچ وہ رنگین سپنوں میں کھو جاتی پھر یہ سپنے اس کی ماں کی آواز پر بکھر جاتے۔ 
’’ آخر کب تک روٹیاں توڑتے رہو گے اپنے پھوپھا کے۔ اب تو سینہ تان کر چلتے ہو۔ بازو برابر کے ہو گئے ہو۔ کچھ تو خیال کرو۔" نئی ماں عدنان کو نوازتیں۔
’ میں خود کوشش میں ہوں آپ ہی کہئے بھلا گریجویشن کرنے کے بعد میں صرف ٹیوشن ہی کیوں کرتا نوکری ملتی نہیں، لوگ منہ مانگی رقم مانگتے ہیں۔ اس میں میرا کیا قصور۔۔۔۔ ’’ عدنان اپنی مجبوری بیان کرتا۔ 
’’ تو فوج میں ہی بھرتی ہو جاؤ ’’۔۔۔۔ یہ تیر نشانے پر بیٹھا۔ 
’’ روحا میں ملٹری جوائن کر رہا ہوں۔ تم میرے لئے تو منسوب ہی ہو لیکن پھر بھی ایک وعدہ تم سے لینا چاہتا ہوں میرا انتظار کرنا۔۔۔۔’’ عدنان یہ کہہ کر چلا گیا۔ 
’’ آہ ’’ ایک سرد آہ اس دل سے نکل گئی، کھڑکی سے زرد چاند جھانکنے لگا تھا۔ شاید سویرا قریب تھا۔ ہند پاک جنگ چھڑ گئی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی وہ روحا کے پاس چلا آیا۔ 
’’ میں جا رہا ہوں۔۔۔۔ اس جدائی کو عارضی سمجھو۔ یہ میری محبت کا پہلا امتحان ہے۔ خدارا آنسوؤں کے چراغ جلا کر مجھے وداع نہ کرو۔ تمہاری مسکراہٹ میرے لئے ڈھال رہے گی زندہ بچ گیا تو تمہاری مانگ سجا دوں گا، اور اگر واپس نہ آسکا تو مجھے بے وفا نہ سمجھنا۔ اس نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ 
’’ للہ ایسی دل شکن باتیں نہ کرو۔ تمہاری کامیاب آمد کے لئے میرے لب ہر وقت دعا کرتے رہیں گے۔ میری چشم نم تمہاری جدائی کے باوجود امید پر مسکراتی رہے گی۔ اور سچ مچ روحا کی پلکیں گیلی ہونے کے باوجود اس کے ہونٹ مسکرا رہے تھے۔ عدنان وداع ہو گیا۔ نئی ماں نے سکھ کا سانس لیا۔ اس کے ابا نے خیر سمجھی اور وہ اس پانی کی طرح مضطرب ہو کر جینے لگی جو پہاڑوں کو کاٹتا دھرتی سے ملنے تیزی کے ساتھ اوپر سے نیچے کی جانب آنے لگتا ہے۔ ہر روز ریڈیو سے خبریں سننا اور اخبارات کا مطالعہ کرنا اس کی زندگی کا اہم مریضہ بن گیا۔ ماں کی پھٹکار، باپ کی بے توجہی کے باوجود وہ صرف اپنی سہیلی شازیہ اور اپنی روح کے مالک عدنان کے لئے جی رہی تھی۔ عدنان کی غیر موجودگی میں ایک شازیہ ہی تو تھی جو اس کے زخموں پر مرہم لگاتی۔ ادھر چند دن سے ہاشم رضا نے اس کے والد کو تنگ کرنا شروع کیا تھا۔ روحا سے اتنی ہی تو بھول ہوئی تھی کہ وہ ماں کے کہنے پر انہیں چائے دینے کے لئے دیوان خانے میں چلی آئی۔ کہاں تو وہ گرج رہے تھے پیسوں کے لئے، اور کہاں اسے دیکھتے ہی تھم گئے۔ 
’’ یہ کون ہے۔۔’’؟ بوڑھی لیکن حریص نظریں روحا کا جائزہ لینے لگیں۔ 
’’ یہ روحا ہے میری بینی۔۔ ’’ اس کے ابا نے کہا۔ 
’’ روحا۔۔۔۔ ’’ اور اس لفظ کے ساتھ ان کے سارے جسم میں چیونٹیاں رینگنے لگیں۔ 
’’ کہیں شادی وادی کی بات ہوئی ہے کیا۔۔’’ انہوں نے نادیدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ 
’’ بات تو کہیں نہیں ہوئی، البتہ ارادہ ہے کہ عدنان سے نکاح کر دوں وہی جو فوج میں ہے۔ اس کی شادی کے لئے ہم رقم کہاں سے لائیں گے۔ عدنان گھر کا بچہ ہے بنا لین دین اور جہیز کے شادی ہو جائے گی۔ اس کے ابا نے تفصیل سمجھائی اور اس لمحے روحا کا وجود تڑپ کر رہ گئی۔ اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔ 
’’ اجی تمہاری لڑکی تو حور ہے کون نہیں ملے گا اسے۔’’ ہاشم رضا کے گنے چنے دانت باہر آئے۔ 
نئی ماں قیامت کی نظر رکھتی تھی اس نے تاڑ لیا کہ بوڑھے ساہو کار کی نظریں سود اور اصل کے بدلے میں صرف ایک عدد نوجوان لڑکی پر ہیں جو بے وجہ بے مصرف بوجھ بن کر ان کے گھر میں پڑی تھی اور جسے بلا سمجھ کر وہ جلد سے جلد ٹالنا چاہتے تھے۔
ات چھیڑنے کی دیر تھی کہ ہاشم رضا بے صبر ہو گئے، انہوں نے قرض میں دی ہوئی رقم معہ سود کے معاف کر دی اور اس کے بدلے نوخیز کلی کو سہاگن کے روپ میں قبول کرنا چاہا۔ 
روحا زرد پتے کی طرح لرز کر رہ گئی۔ 
’’ ہائے اللہ! یہ کیا مذاق ہے میرے ساتھ۔ کیا انتظار کی لذت بھی میرے نصیب میں نہیں۔ عدنان کے بنا تو موت کا تصور محال ہے۔ پھر جینا کس شمار میں اتنے سنگ دل کیوں ہو گئے یہ دنیا والے۔ ’’ اس کی آنکھیں قطرہ قطرہ ٹپکانے لگیں، دل سمند ر بن گیا اور ہر قطرہ وہ سیپ بنا جس میں عدنان کے نام کا موتی چھپا تھا۔ 
جنگ ختم ہوئی اور اس کا رشتہ ہاشم رضا سے طے ہو گیا۔ 
’’ جنگ تو ختم ہو چکی شاید عدنان آ جائیں۔ ’’ بہ مشکل تمام اس نے لب کھولے۔ ’’ جہنم میں گیا عدنان۔ ضروری نہیں کہ اس سے تمہاری شادی کی جائے۔ ہاشم رضا سے شادی ہو گی تو خود بھی مزے میں رہو گی۔ اور تمہارے ابا بھی سر اٹھا کر جی سکیں گے۔ تم کیا اپنے ابا کے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتیں، لڑکیاں تو خاندان کی عزت کے لئے زہر بھی پی لیتی ہیں۔ ’’ ماں نے کھلم کھلا کہہ دیا۔ 
’’ آپ بھی تو مجھے وہ زہر پلا رہی ہیں۔ جس کے اثر سے نہ میں مر سکوں گی اور نہ جی سکوں گی۔ بلکہ ساری زندگی صرف تڑپ تڑپ کر گذار دوں گی۔ ’’ اس کے دماغ میں یہ جملہ کلبلا گیا کہنے  زبان کھلی نہیں اور وقت چپکے سے نکل گیا۔ 
اس کی ماں نے منگنی کا اعلان کر دیا اور جب اسے مہندی لگائی جا رہی تھی تو اسے یاد آیا کہ سورج کا قتل کیوں ہوتا ہے۔ آسماں پر لالی کیوں بکھر جاتی ہے۔ شام کیوں سورج کی قاتل ہے۔

منگنی کے دوسرے ہی دن شازیہ نے خبر دی کہ اسیران جنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے، وہ کانپ گئی، اگر عدنان آ جائیں تو۔۔۔ اندیشوں نے پکارا، کیا بے وفا کا خطاب میرے نصیب میں ہے۔ وہ بڑ بڑائی اور پھر سچ مچ آنکھوں کی سیپ سے بے شمار موتی بہہ نکلے۔ اس کی حالت ایسے زاہد کی ہو گئی جیسے ساری زندگی کی سجدہ ریزی کے بعد کسی نے کافر کہہ دیا ہو۔ 
اسیران جنگ تو آئے لیکن عدنان کا پتہ نہیں تھا۔ اسی امروز و فروا میں وہ دن بھی آیا جب وہ اپنی تمام تر آرزوؤں اور ارمانوں کو اپنے سرخ آنچل میں لپیٹ کر ان کا خون کر چکی تھی، سرخ جوڑا پہنتے ہوئے بھی اسے سورج کا قتل اور آسمان کی لالی یاد آ گئی۔ 
’’ آخر عدنان میرے ہمسفر بن نہ سکے، تم نے میرا ساتھ ہی نہ دیا نہ سورج کو بچانے اور نہ شام کو بھگانے، جو سورج کی قاتل ہے۔ ’’ وہ گھونگھٹ کی آڑ میں خود سے بولتی رہی۔ رات گہری ہوئی تو اسے مقدر کی سیاہی کا احساس ہوا۔ روحا دلہن تو بنی مگر اس کے چہرے پر سہاگن کے رنگ کے بدلے بیوگی کا زنگ تھا۔ یہ احساس اسے بار بار کچو کے لگا تا کہ اس نے عدنان کو دھوکا دیا۔ کیا کمی تھی اسے، ہاشم رضا نے اس کے پیروں تلے مخمل بچھایا تو گردن تلے نگینے جڑ دئیے، لیکن چاہے کنول کو سونے کے گلدان میں ہی کیوں نہ سجا دو، بنا پانی کے وہ مرجھا جاتا ہے۔ یہی حال روحا کا ہوا۔ 
اس شام جیسے اس کے میدان دل پر گولیوں کی بوچھار ہو گئی۔ جب اس نے شازیہ سے یہ سنا کہ عدنان آیا ہے اور اس سے ملنے بے قرار ہے۔ 
عدنان، عدنان، عدنان، جسم کا ہر رواں گویا ہوا، اب کیا ہو گا۔۔۔؟’’اس کا چہرہ زرد ہو گیا، کسی پکے ہوئے پھل کی طرح۔’’ ان وعدوں کا کیا کروں، اس چشم نم کو کیسے چھپاؤں ؟ آئینے کے روبرو کھڑی وہ اپنے آپ سے کہہ رہی تھی
’’ بے وفا، سنگ دل، دغا باز، فریبی، خود غرض، بزدل، مکار، دولت پرست جیسے آئینے کو زبان مل گئی۔ 
’’ نہیں۔ نہیں۔ !’’ اس نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے، ماتھے پر ہزاروں شکنیں ابھر آئیں۔ وہ پلنگ پر گر پڑی۔ 
دور پہاڑی کے پیچھے سورج ڈوب رہا تھا۔ آسمان پر گہری سرخی پھیل چکی تھی۔ پرند اس سرخ شام سے گھبرا کر اپنی پناہ گاہوں کی جانب پرواز کرنے لگے تھے۔ روحا گلابی ساڑھی باندھے سیاہ اونی شال کاندھوں پر ڈالے زلفوں کو آوارہ چھوڑے اس پہاڑی کی جانب جا رہی تھی۔ بچپن کی وہ بات اسے رہ رہ کر یاد آنے لگی۔ 
’’ عدنان سورج کا قتل کیوں ہوتا ہے۔ ؟ شام کیوں اس کی دشمن ہے؟’’ اس کے قدم آگے بڑھتے رہے۔ پہاڑی کے اوپری حصے تک پہنچنے کے بعد اس نے نظر اٹھائی، آسمان اب اداس ہونے لگا تھا۔ چاندی کی گول ٹکیہ اس اداس آسمان کے ماتھے پر چمکنے کے لئے دھیرے دھیرے آ رہی تھی۔ شاید اس کے غم کو اپنی بانہوں میں لے لینا چاہتی ہو۔ 
’’ تم آ گئیں۔’’ عدنان کی آواز پر اس کے خیالات کا دھارا ٹوٹ گیا۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہ اس کے بہت قریب تھا۔ خود اس کے دل کی دھڑکن بھی عدنان کے مقابلے میں اس سے دور ہو گئی مگر۔۔۔۔۔
’’ کیا فائدہ۔’’ وہ بے دلی سے مسکرا پڑی۔ 
’’ میں نے تم سے اپنے وعدوں کا حساب طلب کرنے یا تمہاری امید سے پر چشم نم کو دیکھنے یہاں نہیں آیا بلکہ زندگی کی نامکمل تصویر کو مکمل دیکھنے کے لئے بلوایا ہے۔ کہو کیسے گذرے تمہارے شب و روز۔ ’’ عدنان نے پوچھا۔
’’ میری اڑتی ہوئی زلفیں میرے شب تاریک کی گواہ ہیں، اور میری آنکھوں کی یہ اداسی روز سیاہ کی غماز ہیں۔’’ وہ سراپا درد بن گئی۔ ’’ میں نے کتنی راتیں اشک میں ڈبوئیں، اور کتنے دن آہوں کے دھوئیں میں گذارے کہہ نہ سکوں گا۔ ’’ عدنان کا غم بھی ابلنے کو تھا۔ 
’’ خدارا، ایسے لمحات کو اب بھول جاؤ۔ آج تم نے مجھے بلایا میں خطاوار کھڑی ہوں جو کچھ ہو گیا اس کے بارے میں کچھ نہ پوچھو، سزا تجویز کرو مجرم تمہارے آگے ہے۔ ’’ اس نے سر جھکا لیا۔ 
’’ روحا، تم نے کبھی شمع کو اپنی لو بجھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ محبت کرنے والے اتنے بے درد تو نہیں ہوتے۔’’
’’ نہیں عدنان، مجھے اور بکھرنے نہ دو۔ یہ تمہارا ظرف ہے کہ تم بخش رہے ہو، مگر سچ پوچھو تو میں نے تمہارے ارمانوں کے مزار پر اپنی ازدواجی زندگی کی بنیاد کھڑی کی لی۔ زندگی بڑی تیز رفتار ہے، ہم اور تم اس بہاؤ میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ کل ہمارے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں تھے، اور آج ہماری آنکھیں بھی ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پا رہی ہیں۔ خیر! کچھ ہو میں ناقابل معافی ہوں۔ مجھے آج سزا سے محروم نہ کرو۔ گھونٹ دو میرا گلا۔ رکا دو میری سانسوں کو، بند کر دون میری نگاہوں کو۔ خاموش کر دو میرے لبوں کو۔ آگے بڑھو،عدنان آگے بڑھو۔‘‘ روحا نے سچ مچ عدنان کے ہاتھ اپنی گردن پر رکھ لئے، اور عدنان کو محسوس ہوا جیسے کسی پیاسے رند کے آگے کسی نے جام تو رکھا لیکن خالی۔ 
’’ روحا ‘‘۔ اس ندے روحا کو سنبھال لیا۔ ‘‘ یہ حادثات ہے زمانے کے۔ تم میرا انتظار نہ کر سکیں اور خود کو اس کے لئے خطاوار سمجھا، لیکن میں بھی تمہارا مجرم ہوں۔ 
اب روحا کی گیلی پلکیں اوپر اٹھیں۔
 روحا۔ میں تم سے جھوٹ نہیں کہہ سکتا، عجیب اتفاق ہے کہ تم ادھر مجبوری حالات سے ہاشم رضا کی ہو گئیں اور میں نا دانستہ سحر کا۔ ‘‘
’’ سحر۔۔۔!!‘‘ روحا نے پھر ایک بار آسمان کی طرف دیکھا، وہاں سحر کا پتہ نہیں تھا بلکہ آسمان تاروں کے بن میں بدل چکا تھا۔ 
’’ یہ سحر ہے۔‘‘ عدنان نے گوشت پوست کے سانچے میں ڈھلی ایک معصوم شکل کو روحا کے آگے کھڑا کیا۔ سچ مچ وہ سحر ہی تھی۔ عدنان کہہ رہا تھا اور روحان سحر کو تکے جا رہی تھی۔ 
’’ تم سے ملنے کی بے تاب تمنا نے مجھے فرار پر اکسایا۔ اور میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ قید خانے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ مگر شوئی قسمت کے ہمارے اس فرار کا علم دشمنوں کو ہو گیا اور ہم گولیوں کی زد میں آ گئے۔ میرے دیگر ساتھیوں نے تو زندگی سے فرار حاصل کر لی مگر میں شدید زخمی حالت میں بچتے بچاتے ایک سنسان مقام پر جا کر بے ہو ش ہو گیا۔ آٹھ دن بعد آنکھ کھلی تو سحر میرے سامنے تھی۔ یہ وہی لڑی ہے جس نے مجھے نئی زندگی دی، اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں۔ صرف ایک اپاہج باپ تھا۔ جب میں نے بوقت رخصت ان کی اس خدمت کے معاوضے میں انسانیت کے ناطے یہ پوچھا کہ میں ان کی کیا مدد کر سکتا ہوں تو انہوں نے سحر کر میرے سامنے لا کھڑا کیا۔ ‘‘
یہ سحر ہے مگر سچ پوچھو تو شب تاریک، نہ بول سکتی ہے اور نہ سن سکتی ہے میری زندگی کی کل پونجی یہی ہے۔ جب سے اپاہج ہو گیا ہوں۔اس ویرانے میں بس گیا ہوں سحر میری لاٹھی ہے۔ یہ ہر روز شہر جا کر ترکاریاں بیچ آتی ہے جو میں نے گھر کے پچھواڑے میں اگائی ہیں۔ آج تین سال سے ہم اس ویرانے میں آباد ہیں اور میری بوڑھی نظریں ایسے ہی انسان کی تلاش میں ککھی ہیں جو میری بچی کا ہاتھ تھام سکے۔ تم اتفاق سے ہمیں مل گئے۔ اگر تم نے سحر کو اپنا لیا تو میں سکون سے مر سکوں گا۔ یہ ساری زندگی صرف تمہاری خدمتمیں گذرا دے گی، مگر حرف شکایت اس کی زبان پر نہ آئے گا۔ ‘‘
’’ میرے لئے عجیب کشمکش تھی، ادھر تمہاری چشم نم کا خیال آتا اور ادھر سحر کی بے کسی کا ان کے کئے ہوئے احسانوں کا۔ میں سوچ میں پڑ گیا۔ رات کی تاریکی میں سحر کی سسکیاں مجھے جگاتی رہیں، اور دوسرے ہی دن میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کا اپاہج باپ اس خوشی کی تاب نہ لا سکا اور اس کا اس دنیا میں سوائے میرے اور کوئی نہ رہا۔ میں ہاتھ تھامے اسے تمہارے پاس لے آیا ہوں۔ تم اوروں کا غم سہنے کی صلاحیت رکھتی ہو، تمہارے دل میں بھی درد کی تپش ہے۔ میری مجبوری اور اس کی بے کسی کو سمجھو گی تو خود ہی مجھے بخش دو گی۔ ‘‘
عدنان کے اس انکشاف پروہ بہبوت ہو گئی۔ اس کے ماتھے پر موتیوں کی لڑیاں چمک رہی تھیں۔ سانس کا اتار چڑھاؤ تیز ہو رہا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر سحر کو گلے لگا لیا، مگر دوسرے ہی پل اس کی گردن جھولنے لگی۔ 
’’ روحا۔‘‘ پہاڑی کا گوشہ گوشہ عدنان کی آواز پر لرز گیا۔ عدنان نے اسے سنبھالا۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں، آنکھوں میں دو آبدار موتی چمک رہے تھے، شاید بوقت رخصت ساغر چھلکنے کو آ گئے ہوں۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ 
’’ روحا۔ یہ کیا ہو گیا تمہیں۔‘‘ عدنان نے اسے لِٹا دیا۔ 
’’ عدنان۔ سحر کو اپنا کر تم نے محبت کو عبادت کا درجہ دے دیا اور مجھے دیکھو میں نے۔۔۔۔۔ میں نے محبت کو رسوا کر دیا۔۔۔۔۔ نہ اپنے لئے جی سکی، نہ اوروں کے لئے۔ یہ شیشی دیکھ رہے ہو، روحا نے اپنی شال ہٹا کر زہر کی خالی شیشی نکالی۔ 
’’ یہ تم نے کیا کر دیا  روحا۔ کیا کر دیا۔۔۔۔۔‘‘ عدنان یوں پھوٹ گیا جیسے کوئی پکا ہوا زخم نشتر لگتے ہی بہنے لگتا ہے۔
’’۔۔۔۔۔ عدنان۔۔۔۔۔ مجھے تم سے آنکھ ملانے کی ہمت نہیں تھی۔ اس لئے۔۔۔۔ اس لئے میں نے۔۔۔۔۔ میں نے۔۔۔۔۔ خیر چھوڑو، مگر میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔ بہت خوش۔۔۔۔۔ میری چشم نم ہو کر بھی مسکرا رہی ہے۔ ‘‘ اور سچ مچ عدنان نے دیکھا۔ سر مژگاں چراغ جل رہے تھے۔ 
دفعتاً یہ چراغ بوند بن کر ڈھلک گئے۔ دور آسماں سے کوئی تارہ ٹوٹا اور زمین کی پنہائیوں میں گم ہو گیا۔ 
’’ روحا۔۔۔۔۔ !‘‘ عدنان کی آواز نے کہساروں کو دہلا دیا۔ سحر نے اپنا آنچل روحا کے بے جان جسم پر ڈال دیا۔ کائنات گہری تاریکی میں ڈوب چکی تھی۔
٭٭٭


’’۔۔۔۔۔ اور ہم اکیلے ہیں ‘‘


میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو زندگی بڑی تیز رفتاری سے آگے بڑھ چکی تھی اور میں۔۔۔ جہاں کا وہیں تھا۔ وہی سڑکیں وہی شور و غل وہی پھول کی دوکان اور وہی گلاب۔۔۔ گلابوں کے اس انبار میں تمہارا صبیح چہرہ مسکرا رہا تھا اور میں آنکھیں بند کئے ان لمحات کو واپس بلانے لگا جو میری زندگی کا انمول سرمایہ ہیں۔ 
یہ ان دنوں کی بات تھی جب تم اپنی کار میں کالج جاتے ہوئے ایک پل کے لئے رکتیں۔ گلاب خریدتیں اور پھر تمہاری کار فراٹے بھرتی آگے نکل جاتی۔ میں ہر روز مقررہ وقت پر اپنی دوکان میں ہوتا۔ آنکھیں تمہاری راہ تکتیں۔ گلاب تمہارےرخساروں کا رنگ چرانے بے قرار رہتے۔ تم ایک پل کے لئے رکتیں گلاب خریدتیں اور گذر جاتیں اور میری زندگی اس خاص وقت کی بانہوں میں کس کر رہ گئی۔ وہ لمحہ وہ ابدی لمحہ میرے لئے زندگی بن جاتا اور میں حسین سپنوں کے جال میں الجھ کر خوش ہو جاتا۔ ایک مفلس انسان اپنے تصور کے تئیں خوشی پا سکتا ہے کیوں کہ خواب اور تعبیر بیک وقت اس کے حصے میں نہیں آسکتے۔ ہر چھٹی کا دن میرے لئے مصیبت جاتا۔ دل چاہتا دوکان ہی بند رکھوں مگر چا چا کا دھندا میں کیسے بگاڑتا۔ بہر کیف میری زندگی کا بس ایک ہی معمول تھا صبح تمہارا انتظار کرنا، گلاب تمہارے ہاتھ تھما دینا اور دور تک جاتی ہو ئی کا رزاس کے بعد اس کے پیچھے اڑتی ہوئی دھول کو تکتا۔ 
کہاں میں اور کہاں تم۔۔۔۔۔ فلک کا گوشہ دھرتی کی بانہوں میں کیسے آسکتا تھا۔ یہ یک طرفہ سلگتی آگ تھی جس میں میں لمحہ لمحہ جل رہا تھا۔ مگر اس تپش میں بھی ٹھنڈک تھی۔ میں اسے کوئی نام نہیں دے سکتا تھا۔ 
زندگی سرکتی رہی۔ گردش لیل و نہار میں کوئی فرق نہیں آیا۔ تمہارے انداز نہ بدلے میرا دیوانہ پن نہ گیا۔ دل میں امنگیں آنکھوں میں حسرت دیدار لئے ہیں دوکان چلا جاتا کہیں ایسا نہ ہو کہ میں دیر سے پہنچوں اور تم گذر جاؤ پھر میرے لئے صرف دھول ہی دھول رہے۔ زندگی اسی معمول پر چل رہی تھی۔ پھر اچانک جیسے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا۔ میرا چاند گہنا گیا۔ دیدار حسن کا پروانہ جیسے جلنے لگا۔ تم نے اچانک آنا جانا بند کر دیا۔ میری دوکان میں سجے گلاب مرجھا گئے۔ ان کی شگفتگی رخصت ہو گئی۔ سفیدگلاب جنہیں میں بڑے چاؤ سے تمہارے لئے لے تا دنوں اس انتظار میں رہ کر سوکھ گئے کہ تمہارے ہاتھوں کا لمس انہیں ملتا۔ آخر صبر کا دامن چھوٹا تو میں بڑی ہمت کر کے تمہارے عالی شان بنگلے کے روبرو آ ہی گیا۔ وہاں خوشیوں کے سورج نے آنکھ کھول رکھی تھی۔ ماحول شہنائیوں میں ڈوبا ہوا تھا شامیانے لگ رہے تھے اور میں اس جشن طرب میں جیسے پاگل ہو گیا۔’’ کون ہو تم۔ یہاں کیا کام ہے۔ کس سے ملنے آئے ہو۔ ‘‘۔ کسی کے تحکمانہ لہجے نے چونکا دیا۔ جو اب بن نہ پڑا تب میں نے سفید گلابوں کو یکجا کر کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔ 
’’ یہ میم صاحب کے لئے لایا ہوں۔۔۔۔۔‘‘ پھر یہ گلاب اندر پہنچا دئیے گئے۔ میں واپس مڑنے ہی کو تھا کہ بلاوا آ یا۔ 
’’ میم صاحب تمہیں بلا رہی ہیں۔ ‘‘ میں شدت خوشی سے گویا پاگل ہو گیا۔ سرشار قدموں سے اندر کی طرف چل پڑا۔ ابٹن مہندی کی خوشبو سے معطر ایک دل کش کمرے میں داخل ہوا۔ شان دار مسہری پر تم زرد گلاب بنی بیٹھی تھیں۔ میں نے ایک لمحے کے لئے محسوس کیا کہ یہ بھی باغ کا ایک گوشہ ہی ہے جن میں میں زرد گلاب تلاش کر رہا ہوں۔ چوڑیوں سے کھنکتی تمہاری کلائی نے جنبش کھائی۔ تمہارے میخانوں نے آواز دی بند کلیاں چٹکیں۔ 
’’ یہاں آؤ‘‘۔۔۔۔۔ میرے کانوں میں گویا بہ تک وقت مسجد کی اذان، مندر کی ناقوس اور چرچ کے گھنٹے بج اٹھے۔ میں ایک لمحہ کے لئے بت پرست بن گیا۔ مگر وہ لمحہ بھی ابدی نہ ہو سکا۔ سنو۔ کل شام کار تمہاری دوکان پر آ جائے گی۔ اسے صرف سفید گلابوں سے سجا دینا ‘‘ تم نے شرما کر جھکی جھکی نظروں سے کہا۔ 
’’ جی ‘‘۔۔۔۔۔ میں بس اتنا کہہ سکا۔ 
چندا۔ انہیں مٹھائی لا کر دو۔ تم نے آواز دی۔ میرے لئے سفید گلاب رکھو گے نا۔۔۔۔۔! پہلی بار تم نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔ میں کیا کہہ سکتا تھا کیوں کہ اس وقت تو میں باغ بہشت کی گلگشت میں مصروف ہو چکا تھا یک بہ یک جیسے میں نے چونک کر پوچھا۔ 
’’ میم صاحب۔ اب میرے گلابوں کا کون خریدار رہے گا۔‘‘
وہ شرمیلی سی ہنس پڑی ماحول میں انار چھوٹ گئے۔ سخت دھوپ میں گویا سایہ ابر چھا گیا۔ میں خود کو شبنم میں بھیگتا محسوس کر رہا تھا۔ ’’ خریداروں کی جہا ں میں کمی نہیں دوکان سجاے رکھو خریدار آتے رہیں گے۔‘‘ اتنا کہہ کر تم نے گھونگھٹ سر کا لیا۔ شاید کوئی آ رہا تھا۔ اور میں بدلی کے اس چاند کو اپنی نگاہوں میں بھرتا ہوا نکل گیا۔ 
میرا دل عجیب سے جذبات کا ر تھا۔ کچھ خوشی بھی اور کچھ غم بھی۔ یہ کیسی محبت تھی یہ کیسی دیوانگی تھی۔ یہ کیسا شعلہ تھا جو صرف مجھ کو جلائے جاتا تھا۔ اس جلن میں کیسی خنکی تھی کہ زخم رس رس کر بھی بھر رہا تھا۔ اس جنون کا میں کیا نام دوں۔
نہ محبت، نہ پیار، نہ الفت، نہ چاہت، تو پھر یہ کیا ہے۔۔۔۔۔ ؟ کیا اسی سعی لاحاصل طلب فضول، ذوقِ بے فیض اور شوقِ نامرادی کا نام ہی عبادت تو نہیں، پرستش تو نہیں، پوجا تو نہیں۔۔۔۔۔!! میرا ذہن نارسا ہو گیا۔ تمہاری نگاہ میرے جینے کا مقصد بن گئی۔ بس میں اسی میں خوش تھا کہ ان آنکھوں نے جیتے جی جنت دیکھی۔ دودھ اور شہد کی نہریں ہونٹوں سے بہتے دیکھی۔۔۔۔۔ چاند کی آب و تاب، بجلی کی تڑپ، شبنم کی نمی، شفق کی گل رنگیاں گویا قدرت پیکر انسانی میں ڈھل گئی۔ میں خود سے بے خبر ہو گیا۔ 
سرخ رنگ کی امپالہ کو سفید گلابوں سے سجاتے ہوئے میں تصور میں ہزار جان سے تمہارا صدقہ اتارتا رہا۔ رات کے پچھلے پہر میں نے بارات دیکھی گلابوں کی بارات۔۔۔۔۔ دل تڑپ اٹھا۔ نظریں طواف کر کے رہ گئیں۔ لب جنبش نہ کھا سکے۔ قدم اٹھ نہ سکے۔ اب تم کسی کی میراث بن چکی تھیں۔ میں نے سانسوں کے اتار چڑھاؤ میں ہی تم کو وداع کر دیا۔ بے شمار دعائیں دل سے نکل گئیں۔ وقت میرے لئے ساکت ہو گیا۔ 
دن گذرا، رات آئی۔ شوق دیدار کی جو شمع میری نگاہوں میں جلتی تھی، اس کی لو بجھی نہیں بلکہ اور تیز تر ہو گئی۔ میری دوکان میں گلاب تو تھے مگر جیسے زندگی سے محروم ان کی ساری شگفتگی تم لوٹ کر لے گئیں۔ بہاروں میں یہ کیسی خزاں آ گئی میں سمجھ نہ سکا۔ 
تم کون ہو میرے لئے۔۔۔۔۔ ؟ ہم دونوں کے بیچ یہ کونسا رشتہ ہے۔ لاکھ کوشش پر بھی اس گونگے رشتے کا میں پتہ نہیں لگا سکا۔ 
میری تنہائی اور مایوسی کو دیکھ کر چاچا نے میرے لئے ہم سفر کی تلاش شروع کی مگر میں نے انکار کر دیا۔ بس اتنی بات پر کہ میں تصورات کے وہ قیمتی لمحے تنہائی کی وجہ حسین یادیں کسی اور کو دے کر اپنے بیش بہا سرمائے کو لٹانا نہیں چاہتا تھا۔
پکے چپکے کی جانے والی اس عبادت میں عجیب سا نشہ تھا۔ میں سرشار ہوتا ہی گیا۔ 
تبھی ایک روز۔۔۔۔۔ خزاؤں میں بہار چلی آئی۔ تم نے کار روک دی۔ میں خوابوں کا دیوانہ اپنی تعبیر دیکھ کر جی اٹھا۔ سفید گلاب ہاتھوں میں لئے ہیں دوڑا دوڑا تمہاری کار کے قریب پہنچا۔ 
’’ میم صاحب یہ آپ کے لئے۔۔۔۔ ‘‘ خوشی میں الفاظ بھی ساتھ چھوٹ گئے۔ تم مسکرا پڑیں گویا قوس و قزح رقص کر گئی ہوتی جیسے دانت چمک اٹھے۔ 
’’ بھئی کمال ہے۔ ہم نے مانگا بھی نہیں اور تم نے دے دیا۔ ‘‘ تمہارے شریک سفر نے مجھ سے سوال کیا۔ 
’’ میم صاحب کی پسند ہم جانتے ہیں۔‘‘
’’ خوب ‘‘۔۔۔ اور پھر کار آگے بڑھ گئی۔ دیر آئے درست آئے کے مصداق میں تمہیں دیکھ کر گویا دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ پڑا۔ پھر چند ماہ یوں ہی بیت گئے۔ روح تسکین پاتی رہی۔ ذوقِ دیدار بھی مطمئن تھا۔ جس آگ میں میں جل رہا تھا وہ اپنی تپش میں بھی خنکی رکھتی تھی اور میں اسی میں خوش تھا۔ میرا جذبہ شوق لا حاصل نہ رہا۔ تم میری نگاہوں کو روشنی عطا کرتی گئیں۔ میں جانتا تھا کہ تم آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرنے والا ایسا طائر ہو جس کو پکڑنا میرے بس کی بات نہیں مگر جس کو دیکھ کر خوش ہو جانا یہی میرے لئے بہت کچھ تھا۔ تم جب بھی اپنے جیون ساتھی کے ہمراہ کار سے گذرتیں گویا مجھے ایک طرح کا سکون بخش جاتیں۔ نہ حسد، نہ جلن، نہ رشک، نہ رقابت ایسا کوئی جذبہ میرے دل میں پیدا ہی نہ ہو سکا۔ بس میں صرف اتنا جانتا تھا کہ میں عبادت کر رہا ہوں، پوجا کر رہا ہوں۔ سفید گلاب پھر سے شگفتہ ہو گئے۔ تمہیں مسکراتا دیکھتا۔ تمہیں خوش دیکھتا تو لگتا جیسے کائنات رنگ و نور میں ڈوب گئی ہو۔ تمہاری خوشی میری زندگی اور تمہارا دیدار میری حیات کا حاصل تھا۔ 
خوشیوں کی رو پیلی کرنوں میں کہیں سے اندھیرے کا کوئی پر تو پڑ گیا۔ تم اداس ہو گئیں۔ تمہارے مسکراتے لب مرجھا گئے۔ آنکھوں کی چمک ماند پڑ گئی۔ چہرے کا چاند بدلیوں میں ڈوبتا دکھائی دینے لگا۔ اب تم نے کار روکنی بھی چھوڑ دی تھی۔ یوں خاموشی سے گذر جاتیں کہ میرے اطراف موت کا سناٹا سا پھیل جاتا۔ میری دوکان کے گلاب پھر ایک بار اپنی تازگی کھونے لگے۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور ایک دن میں تمہاری کار کے آگے کھڑا ہو گیا۔ 
’’ میم صاحب میرے گلاب مرجھا رہے ہیں۔ ‘‘ آخر کار میں نے کہہ دیا۔ 
تم بے دلی سے مسکرا پڑیں۔ ’’ کب تک تمہارے گلابوں سے خود کو سنوارتی رہوں۔ میرے اپنے چمن میں تو ایک گلاب بھی نہ کھل سکا۔۔۔۔۔ ‘‘ اور پھر تمہاری کار تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ میں نے حساب لگایا۔ پانچ سال گذر چکے تھے اور میرے نزدیک یہ پانچ برس گویا پانچ ہی دن تھے۔ کیا وقت اس طرح پر لگا کر اڑ جاتا ہے۔ 
مگر نہیں میرے لئے تو یہ تھما ہوا ہے۔ میں کل بھی وہی تھا آج بھی وہی ہوں۔ تم کل بھی وہی تھیں اور آج بھی وہی ہو۔۔۔۔۔ پھر یہ تبدیلی یہ اچانک خاموشی اداسی، کیا سبب ہے اس کا۔ اس گرہ کو بھی میں کھول نہ سکا۔ 
آخر کار جب کئی دن لگاتار تمہارا دیدار نہ ہو سکا تب میں پھر ایک بار سفید گلابوں کو ہاتھوں میں سجائے تمہارے گھر کے سامنے آ گیا۔ 
’’ کیوں آئے ہو۔۔۔۔۔؟‘‘ تمہارے تیور بدلے ہوئے تھے۔ لبوں میں شہد کی مٹھاس نہ تھی۔ 
’’ میم صاحب۔ یہ پھول آپ کے۔۔۔۔۔ ’’ قبل اس کے میں کچھ اور کہتا تم برس پڑیں۔ 
’’ پھر گلاب۔ گلاب۔ گلاب۔ تنگ آ چکی میں اس سوغات سے۔ مجھے نہیں چاہئے پھول لے جاؤ اسے واپس، پھینک دو کہیں اور سنو آئندہ پھر کبھی ان گلابوں کو لے کر میرے پاس مت آنا۔ کیوں جلاتے ہو مجھے۔ کیوں دل دکھاتے ہو میرا۔ کیا ملتا ہے تمہیں مجھے اس طرح دکھ دے کر جاؤ انہیں میرے سامنے سے لے کر جاؤ مجھے ان سے نفرت ہے نفرت ہے۔۔۔۔۔‘‘ تم پھپھک پھپھک کر رو پڑیں۔ میں سر جھکائے سنتا رہا۔ ایک قدم بھی ہلا یا نہ جا سکا مجھ سے۔ ایک پل کے لیے تم نے آنسو پونچھ دئیے اور مجھ سے کہا۔ 
’’ تم مجھے گلاب دے کو خوش کرنا چاہتے ہونا۔ تو جاؤ۔ کوئی ایسا گلاب لے آؤ جو میرے دل کے آنگن میں کھلا رہے۔ جس میں معصومیت کی خوشبو ہو، بچپن کا رنگ ہو۔ اور جس کی ہر پتی بس ایک ہی بات دھر اے ماں۔۔۔۔۔ ماں۔۔۔۔۔ ماں۔۔۔۔۔‘‘ تم پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی اندر چلی گئیں۔ میں اب تمہارے غم کو سمجھ چکا تھا۔ اپنے ہاتھ میں رکھے سارے پھول میں نے تمہارے گھر کے آنگن میں ہی توڑ کر پھینک دئیے۔ بھلا تمہاری آنکھ میں آنسو دیکھنے کی مجھ میں ہمت تھی۔ میں دیوانہ وار گھر سے نکل پڑا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہی گلاب اب مجھے کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے ہیں۔ 
اس رات میں نے پہلی بار دعا مانگی۔ گڑ گڑا کر بھیک مانگی۔ رو رو کر طلب کیا۔ آہ و زاری میں شب گذار دی۔ بس ایک ہی دعا لبوں سے نکلی۔ ’’ یا اللہ۔ میری جنت کو مجھ سے چھین نہ لے۔ اس باغ بہشت میں گل کھلا دے۔ تجھے پاکیزگیِ مریم کا واسطہ۔ ایک گلاب اس کے دامن میں بھی ڈال دے۔ میری دعا کو بے اثر نہ کر۔ اسے تخلیق کا کرب عطا کر۔ اس کے وجود کی تکمیل کر۔ اگر اس کے مقدر میں یہ سکھ نہیں تو پھر اس دکھ سے پہلے مجھے اٹھا لے۔ اگر کسی کی آمد کے لئے یہ شرط تو نے اور رکھ دی کہ موت کا خراج ہی لے تو اس کے لئے میرا وجود حاضر ہے۔ للہ ! مجھ گناہ گار کی فریاد سن لے۔۔۔۔۔‘‘
میں نے تڑپ کر سچے دل سے دعا مانگی تھی اور یہ حقیقت ہے کہ دل سے مانگی ہوئی چیز مل جاتی ہے۔ کچھ ہی دن بعد اس حقیقت کا مجھ پر انکشاف ہوا کہ تم ماں بننے والی ہو۔ 
میں نہال ہو گیا۔ میرا رواں دواں خوشی سے جھوم اٹھا۔ میرے اللہ نے میری سن لی تھی۔ چلو یہ تو اعتبار آیا کہ مجبوروں کی بھی وہ سن لیتا ہے بے شک کرم والا ہے۔ پھر میں سپنے سجانے شروع کئے۔ اپنی دوکان میں سجے ہوئے گلابوں کے بیچ تمہارا مسکراتا چہرہ دکھائی دیتا اور پھر دوسرے ہی پل کسی معصوم کی صورت نگاہوں میں گھوم جاتی وہ بھی تو ایسا ہی سفید گلاب تھا روئی کے گالے کی طرح۔۔۔۔۔۔
جس دن تمہارا آپریشن ہونے والا تھا۔ میں سویرے ہی سے اسپتال کے گیٹ کے قریب ٹھہر گیا۔ میرے ہاتھوں میں سفید گلاب سے سجائے ہوئے دو خوبصورت گہنے تھے جنہیں میں تمہیں پہنانے آیا تھا۔ میری اتنی ہمت کہاں تھی کہ میں تم تک رسائی پاتا۔ پھر بھی قدرت کو مجھ پر رحم آ ہی گیا۔ تمہارا نوکر میری تلاش میں دوکان گیا تھا اور وہاں سے واپس لوٹ رہا تھا کہ مجھے اسپتال کے گیٹ کے قریب موجود پا کر چلا آیا۔ 
’’ میں تمہارے لئے کہاں کہاں جا کر آیا ہوں۔ چلو تمہیں میم صاحب بلا رہی ہیں ‘‘ اس نے کہا اور میں دیوی کے درشن کو چل پرا۔ تم اسٹریچر پر سفید چادر اوڑھے لیٹی ہوئی تھیں۔ مسکرا کر مجھے دیکھا اور اشارے سے اپنے پاس بلایا۔
’’ میم صاحب ‘‘ میں اس کے آگے کچھ کہہ نہ سکا۔ 
’’ مجھے تمہارا انتظار تھا یاد ہے کہ ایک بار میں نے تمہارے گلابوں سے
نفرت کی تھی مگر اب پھر سے پیار کرنے لگی ہوں۔ اب تمہارے گلابوں کے دو خریدار ہوں گے ایک میں اور دوسرا آنے والا ننھا گاہک۔ اب ہر روز اس کے پالنے کو سجانے ان گلابوں کو لے کر آنا۔ ‘‘ تم نے مجھ سے کہا۔
’’ میم صاحب میں تو آج ہی انہیں لے آیا ہوں ایک آپ کے لئے اور دوسرا اپنے ننھے مالک کے لئے۔ ‘‘ میں بہ مشکل تمام کہہ سکا۔ قبل اس کے کہ میں پھولوں کا گہنا تمہارے گلے میں ڈال کر اپنی دیرینہ حسرت کی تکمیل کر لیتا تمہیں آپریشن تھیٹر کی طرف لے جایا گیا میں امید و بیم کا دامن تھامے، خوش آئند مستقبل کے سپنے سجائے انتظار کرنے لگا۔ وقت گذرا۔ ڈاکٹر باہر آئے۔ سفید کپڑوں میں لپٹی ہوئی کوئی کلبلاتی سی چیز ان کی گود میں تھی۔ میں نے نظر بھر کر دیکھا۔ ان گلابوں سے کہیں حسین گلاب تم نے کھلا دیا تھا۔ تمہارا آنگن مہک اٹھا اور میں بارگاہ خداوندی میں سجدہ ریز ہو گیا۔ تبھی کسی کے چیخنے کی آواز پر میرا دل دھڑک کر جیسے رگ گیا۔ 
’’ ہم نے بہت کوشش کی مگر۔۔۔۔۔ خدا کی مرضی کے آگے بندے کو جھکنا ہی پڑتا ہے۔ ‘‘ ڈاکٹر کہہ رہا تھا۔ میری آنکھیں گویا پتھر گئیں۔ میں نے دیکھا تمہارا چہرہ سفید چادر سے ڈھانک دیا گیا تھا۔ ‘’ نہیں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔‘‘ میں دیوانہ وار چیخ اٹھا۔ ’’ میم صاحب۔ تم نہیں جا سکتیں۔ تم نہیں مر سکتیں۔‘‘ میں نے تمہارے چہرے سے چادر کھینچ دی۔ تم مسکراتی ہوئی آنکھیں بند کئے پڑی تھیں۔ پھولوں کا وہ گہنا جو میں لے آیا تھا تمہاری گردن کے اطراف ہالہ کئے پڑا ہوا تھا۔ گویا آج پتہ چلا کہ ہر پھول سہرے کے لئے نہیں کھلتا، چند میت پر چڑھانے کے لئے بھی کھلتے ہیں۔ مجھے یوں لگا جیسے بھری بہار کو خزاؤں نے لوٹ لیا ہو۔ میری ہر حس مر چکی تھی۔ 
جب ہوش آیا تو میری دنیا لٹ چکی تھی۔ موت کے مہیب سائے میرے اطراف منڈلا رہے تھے۔ میری جنت لوٹ لی گئی تھی۔ میں خانماں برباد تھا۔ دور کہیں دل کے کس شے سے تمہاری آواز آئی۔ 
’’ آج میرے لئے پھول نہیں لاؤ گے۔۔۔۔۔‘‘ اور میں اٹھ کھڑا ہو گیا۔ ٹوکرے میں گلاب رکھے اور قبرستان کا رخ کیا۔ کچی مٹی کی، نئی نویلی قبر مجھے اپنے پاس بلا رہی تھی۔ میں نے گلابوں کی چادر سے قبر ڈھانک دی۔ کچھ دیر آنسو ٹپکا کر چراغ جلاتا رہا، پھر واپس چلا آیا۔ اس گلاب کے پاس جو خزاؤں میں کھلا تھا۔ ہاں اب یہی تو میرا مقصد تھا تمہارے اس گلاب کو سینے سے لگا لیتا تو محسوس ہوتا کہ میری جنت لٹ کر بھی میری ہی ہے۔ 
اب میرا یہی معمول ہے۔۔۔۔۔ ہر روز تمہاری قبر کر گلابوں سے ڈھانک دینا اور پھر تمہارے آنگن میں کھلے اس گلاب کو سینے سے لگا لینا شاید عبادت ایسی بھی ہوتی ہے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو زندگی بڑی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم وہی اکیلے ہی اکیلے ہیں۔
٭٭٭

ٹائپنگ:
فہیم اسلم، حریم، اشتیاق علی، شاہد جاوید، محمد عمر، عظمت خان، راج، فرحان مصطفیٰ،منور چودھری، حسن نظامی
http://www.alqlm.org/qalam/threads/%D8%AF%D9%84-%D8%B3%DB%92-%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D8%AA%DA%A9-%D8%B5-%D9%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%B9%D9%84-%D9%BE%DB%8C%D8%AC.3707/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
