﻿


دو کہانیاں


ہوشنگ گلشیری
	-	
فارسی سے ترجمہ : اجمل کمال








تعارف

ہوشنگ گلشیری، جو فارسی کے جدید ادب میں افسانہ نگار، نقاد اور مدیر کی حیثیتوں سے معروف ہے، ۱۹۳۷ میں اصفہان میں پیدا ہوا اور ابادان میں عُسرت کے حالات میں پرورش پائی۔ بعد میں اس نے اصفہان یونیورسٹی سے فارسی کے مضمون میں تعلیم حاصل کر کے شہر اور اس کے گرد و نواح کے اسکولوں میں تدریس کا مشغلہ اختیار کیا۔ ہوشنگ گلشیری کی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۶۰ کی دہائی میں ہوا جب اس کی تحریریں "جُنگِ اصفہان" نامی جریدے میں شائع ہونی شروع ہوئیں۔ اس کا پہلا اور مشہور ناول "شازدہ احتجاب" ۱۹۶۸ میں شائع ہوا جس پر بننے والی فلم کے نتیجے میں ہوشنگ گلشیری کو قید کی سزا بھگتنی پڑی۔ اس کے بعد سے اس کے متعدد ناول اور کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اس شمارے میں اس کی دو کہانیوں "گرگ" اور "معصومِ سوّم" کے ترجمے شامل ہیں۔
٭٭٭



بھیڑیا


جمعرات کی دوپہر کو مجھے خبر ملی کہ ڈاکٹر لوٹ آیا ہے اور اب تک بیمار ہے۔ اس کے ساتھ مسئلہ کچھ نہ تھا۔ شفا  خانے کے دربان نے بتایا تھا کہ کل رات سے اب تک وہ متواتر سویا ہے اور جب سے اُٹھا ہے تب سے مسلسل رو رہا ہے۔ اس کا معمول تھا کہ بدھ یا جمعرات کو بعد دوپہر اپنی بیوی کے ساتھ شہر روانہ ہو جاتا۔ اس بار بھی وہ اپنی بیوی کے ساتھ گیا تھا۔ لیکن جو ٹرک ڈرائیور ڈاکٹر کو لے کر آیا تھا اس نے بتایا: "گاڑی میں صرف ڈاکٹر ہی تھا۔" لگتا تھا سخت سردی سے اکڑ گیا ہے۔ وہ ڈاکٹر کو قہوہ خانے تک پہنچا کر خود آگے روانہ ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر کی گاڑی تنگ درّے کے وسط میں ملی۔ پہلے انھوں نے سوچا کہ اسے کسی گاڑی کے پیچھے باندھ کر گاؤں تک لانا ہو گا۔ اسی خیال سے وہ شفا خانے کی جیپ ساتھ لے کر گئے تھے۔ لپٹکن جب ڈرائیور گاڑی میں بیٹھا اور چند لوگوں نے دھکا لگایا تو وہ چل پڑی۔ ڈرائیور نے کہا: "یہ بھی صرف کل رات کی سردی کی وجہ سے ہے، ورنہ گاڑی میں کوئی خرابی نہیں۔" گاڑی کے برف ہٹانے والے وائپر تک درست حالت میں تھے، اس لیے جس وقت ڈاکٹر نے کہا: "اختر؟ اختر کہاں ہے؟" تب تک کسی کو اس کی بیوی کا خیال نہ آیا۔
	ڈاکٹر کی بیوی کوتاہ قد اور لاغر تھی، اس قدر لاغر اور رنگ پریدہ کہ گویا ابھی نڈھال ہو کر گر پڑے گی۔ وہ دونوں شفا خانے ہی کی عمارت میں بنے دو کمروں میں رہتے تھے۔ شفا خانہ قبرستان کے اُس طرف ہے، یعنی آبادی سے ایک میدان کے فاصلے پر۔ اس کی بیوی انّیس سال سے زیادہ کی نہ تھی۔ کبھی کبھی وہ شفا خانے کی راہداری میں یا کھڑکی کے شیشوں کے پیچھے نمودار ہوتی۔ صرف جب دھوپ نکلی ہوتی، وہ قبرستان کے کنارے سے نکل کر آتی اور گاؤں کا چکر لگاتی۔ اکثر اس کے ہاتھ میں کوئی کتاب ہوتی یا کبھی کبھی میٹھی گولیاں یا چاکلیٹ بھی اس کے سفید بلاؤز کی جیب یا ہینڈ بیگ میں ہوتے۔ اسے بچوں سے بہت لگاؤ تھا۔ اُنھیں کی خاطر وہ اکثر مدرسے کی طرف نکل آتی۔ ایک بار میں نے اُس کو تجویز پیش کی کہ اگر وہ چاہے تو ایک کلاس اس کے حوالے کی جا سکتی ہے، لیکن اس نے کہا کہ اس میں بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے کا حوصلہ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس سے پہلے ڈاکٹر نے بھی یہی تجویز پیش کی تھی، تاکہ وہ خود کو مصروف رکھ سکے۔ کبھی کبھار وہ عورتوں کے ساتھ نہر کے کنارے بھی چلی جاتی۔
	جب پہلی برف پڑی تب سے وہ غائب ہو گئی۔ عورتوں نے اسے بخاری کے قریب بیٹھے کتاب پڑھتے یا اپنے لیے چائے بناتے دیکھا تھا۔ جب ڈاکٹر مریضوں کو دیکھنے کسی دوسرے دیہات میں گیا ہوتا تو ڈرائیور کی بیوی یا دربان خانم کے پاس رہتے۔ غالباً سب سے پہلے صدیقہ، ڈرائیور کی بیوی، کی سمجھ میں آیا۔ اس نے عورتوں سے کہا: "پہلے میں نے سوچا کہ اسے اپنے شوہر کی فکر ہے کہ اچانک اٹھ کر کھڑکی کے پاس جاتی ہے اور پردے کھول دیتی ہے۔" وہ کھڑکی کے پاس کھڑی ہو جاتی اور سفید اور روشن صحرا کو دیکھنے لگتی۔ صدیقہ کا کہنا تھا: "جب بھیڑیوں کے غرّانے کی آواز آتی ہے تو وہ کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوتی ہے۔"
	خیر، سردیوں میں جب برف پڑتی تو بھیڑیے آبادی کی طرف آ جاتے تھے۔ ہر سال اسی طرح ہوتا تھا۔ کبھی کبھی کوئی کتّا، بھیڑ بلکہ بچّہ بھی گم ہو جاتا، اور بعد میں گاؤں والوں کو ٹولی بنا کر جانا پڑتا کہ کتّے کا پٹّا یا بچے کا جوتا یا کوئی اور نشان مل سکے۔ لیکن صدیقہ بھیڑیے کی برّاق آنکھوں کو دیکھ چکی تھی اور یہ بھی دیکھ چکی تھی کہ ڈاکٹر کی بیوی کس طرح خیرہ ہو کر بھیڑیے کی آنکھوں کو دیکھتی رہ جاتی تھی۔ ایک بار تو اسے صدیقہ کے خود کو پکارنے تک کی آواز سنائی نہ دی تھی۔
	دوسری تیسری برف پڑنے کے بعد ڈاکٹر کے لیے اردگرد کے علاقوں میں مریضوں کو دیکھنے کے لیے جانا ممکن نہ رہتا۔ جب اسے محسوس ہوتا کہ ہفتے میں چار یا پانچ راتیں اسے گھر ہی میں گزارنی پڑیں گی تو وہ ہماری محفلوں میں شریک ہونے چلا آتا۔ ہماری محفل عورتوں کے لیے نہ تھی، لیکن خیر، اگر ڈاکٹر کی بیوی آتی تو وہ عورتوں کے پاس جا سکتی تھی۔ مگر اس نے کہہ دیا تھا: "میں گھر ہی میں رہوں گی۔" کسی شب اگر محفل ڈاکٹر کے گھر پر جمتی تو اس کی بیوی بخاری کے قریب بیٹھی کتاب پڑھا کرتی یا کھڑکی کے پاس کھڑی بیابان کو دیکھا کرتی یا قبرستان کی طرف والی کھڑکی سے غالباً گاؤں کی روشنیوں کو دیکھتی رہتی۔ ایک رات شاید ہمارے گھر پر تھے کہ ڈاکٹر نے کہا: "آج مجھے جلدی جانا ہے۔" کچھ ایسا تھا کہ اس نے سڑک پر ایک بڑا سا بھیڑیا دیکھ لیا تھا۔
	مرتضوی نے کہا: "شاید کتّا ہو۔"
	مگر میں نے خود ڈاکٹر سے کہا: "اس طرف بھیڑیے بہت دکھائی دیتے ہیں۔ احتیاط کرنی چاہیے۔ اور گاڑی سے باہر تو ہرگز نہیں نکلنا چاہیے۔"
	پھر شاید میری بیوی نے کہا: "ڈاکٹر صاحب، آپ کی خانم کہاں ہیں؟ اُسی گھر میں، قبرستان کے پاس؟"
	ڈاکٹر بولا: "اسی لیے تو مجھے جلدی چلا جانا چاہیے۔"
	پھر اس نے بتایا کہ اس کی بیوی بہت نڈر ہے۔ اور بیان کیا کہ ایک رات، نصف شب کو، اس کی آنکھ کھلی تو اسے کھڑکی کے پاس ایک کرسی پر بیٹھے دیکھا۔ جب ڈاکٹر نے اسے آواز دی تو بیوی نے کہا: "پتا نہیں کیوں یہ بھیڑیا ہمیشہ اس کھڑکی کے پاس آ جاتا ہے۔"
	ڈاکٹر نے دیکھا کہ وہ بھیڑیا کھڑکی کی سلاخوں کے ٹھیک باہر چاند کی دھندلی روشنی میں بیٹھا تھا اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد چاند کی طرف منھ کر کے غرّا رہا تھا۔
	خیر، کون سوچ سکتا تھا کہ ایک بڑے اور تنہا بھیڑیے کا یوں کھڑکی کے پاس بیٹھنا اور خیرہ ہونا ہوتے ہوتے ڈاکٹر کے لیے ایک مسئلہ بن جائے گا، بلکہ ہم سب کے لیے بھی۔ ایک شب وہ ہماری محفل میں شریک ہونے نہیں آیا۔ پہلے ہمیں خیال ہوا کہ ڈاکٹر کی بیوی بیمار ہو گئی ہو گی، یا شاید ڈاکٹر خود، لیکن اگلے روز اس کی بیوی خود سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر مدرسے آئی اور کہنے لگی کہ اگر اسے بچوں کی نقاشی کی کلاس دے دی جائے تو وہ مدد کرنے کو تیار ہے۔
	دراصل شاگرد اتنے کم ہو گئے تھے کہ اب اُس کی مدد کی ضرورت نہ رہی تھی۔ جب ہم ان سب کو ایک کلاس میں جمع کر لیتے تو ان کے لیے آقائے مرتضوی ہی کافی تھے۔ مگر خیر، نقاشی نہ میری اچھی تھی نہ مرتضوی کی۔ ہم نے اس کے لیے بدھ کی صبح کا وقت طے کیا۔ پھر میں نے بھیڑیے کی بات چھیڑی اور کہا کہ اسے ڈرنے کی ضرورت نہیں، کہ اگر دروازہ کھلا نہ چھوڑا جائے اور باہر نہ نکلا جائے تو کوئی خطرہ نہیں۔ میں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ چاہیں تو گاؤں میں مکان لے کر رہ سکتے ہیں۔
	کہنے لگی: "نہیں، شکریہ۔ کوئی مشکل نہیں ہے۔"
	اس کے بعد بتانے لگی کہ شروع شروع میں اسے ڈر لگتا تھا، یعنی ایک رات کو جب اس نے بھیڑیے کے غرانے کی آواز سنی تو اسے محسوس ہوا کہ وہ جنگلا پھلانگ کر اِس طرف آ گیا ہے اور مثلاً کھڑکی یا دروازے کے بالکل ساتھ لگا بیٹھا ہے۔ جب اس نے بتی جلائی تو اسے جنگلا پھلانگتے دیکھا اور پھر اس کی چمکتی ہوئی آنکھوں کو دیکھا۔ وہ بولی: "اس کی آنکھیں بالکل ایسی تھیں جیسے دو جلتے ہوے انگارے۔" پھر کہنے لگی: "میں خود بھی نہیں جانتی کہ جس وقت میں اُسے دیکھتی ہوں، اس کی آنکھوں کو، یا اس کے پُر سکون انداز کو... آپ کو پتا ہے وہ بالکل شکاری کتے کی طرح اپنی اگلی ٹانگوں پر بیٹھا گھنٹوں ہمارے کمرے کی کھڑکی پر نظریں جمائے رہتا ہے۔"
	میں نے پوچھا: "تو پھر آخر آپ کیوں...؟"
	وہ سمجھ گئی، بولی: "بتایا تو ہے، میں نہیں جانتی کیوں۔ یقین کیجیے، جب میں اسے دیکھتی ہوں، خاص طور پر اس کی آنکھوں کو، تو میرے لیے کھڑکی کے پاس سے ہٹنا ممکن ہی نہیں رہتا۔"
	پھر ہم شاید بھیڑیوں کے بارے میں باتیں کرنے لگے اور میں اسے بتانے لگا کہ کبھی جب بھیڑیے بھوکے ہو جاتے ہیں تو حلقہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگتے ہیں، ایک گھنٹا، دو گھنٹے، یعنی اس وقت تک جب ان میں سے کوئی ایک ضعف سے مغلوب ہو کر گر پڑے۔ تب وہ اس پر حملہ کر کے اسے کھا جاتے ہیں۔ پھر ان کتوں کا ذکر ہوا جو کبھی کبھار گم ہو جاتے ہیں اور بعد میں ان کا پٹّا کہیں پڑا ملتا ہے۔ ڈاکٹر کی خانم نے بھی باتیں کیں۔ لگتا تھا کہ وہ جیک لنڈن کی کتابیں پڑھ چکی ہے۔ کہتی تھی: "اب میں بھیڑیوں سے خوب واقف ہو گئی ہوں۔"
	اگلے ہفتے جب وہ آئی تو اس نے بچوں کے لیے پھول یا پتّے کی ڈرائنگ بنائی تھی۔ میں نے دیکھی نہیں، فقط اس کے بارے میں سنا تھا۔
	ایک سنیچر کے دن میں نے بچوں سے سنا کہ قبرستان میں شکنجہ لگایا گیا ہے۔ تیسری گھنٹی پر میں خود ایک بچے کے ساتھ گیا اور دیکھا۔ بڑا سا شکنجہ تھا۔ ڈاکٹر خود شہر سے خرید کر لایا تھا اور اس کے اندر گوشت کا پارچہ رکھا تھا۔ اس سہ پہر کو میری بیوی نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر کی بیوی سے ملنے گئی تھی۔ کہنے لگی: "اُس کی حالت اچھی نہیں ہے۔" کہنے لگی، ڈاکٹر کی بیوی بتا رہی تھی کہ اسے ڈر ہے اس کے بچہ نہیں ہو گا۔
	میری بیوی نے اُسے دلاسا دیا تھا۔ ان کی شادی کو سال بھر ہوا تھا۔ پھر میری بیوی شکنجے کی بات کرنے لگی اور اس سے بولی: "عموماً کھال یہیں اتار لیتے ہیں اور پھر شہر لے جاتے ہیں۔" میری بیوی نے بتایا: "یقین کرو، ایک بار تو اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور کپکپی طاری ہو گئی۔ بولی: سنتی ہو؟ یہ اُسی کی آواز ہے۔ میں نے کہا: خانم، اِس وقت؟ دن میں؟"
	پھر جیسے ڈاکٹر کی بیوی دوڑ کر کھڑکی کے پاس گئی۔ باہر برف پڑ رہی تھی۔ میری بیوی نے بتایا: "اس نے پردے کھول دیے اور کھڑکی سے لگ کر کھڑی ہو گئی۔ اسے خیال تک نہ رہا کہ کوئی اس سے ملنے آیا ہوا ہے۔"
	اگلی صبح ڈرائیور اور گاؤں کے چند لوگ شکنجے کے پاس گئے۔ اسے کسی نے نہ چھوا تھا۔ صَفر نے ڈاکٹر سے کہا: "یقیناً وہ رات میں نہیں آیا۔"
	ڈاکٹر نے کہا: "نہیں۔ آیا تھا۔ میں نے خود اس کی آواز سنی تھی۔"
	مجھ سے اس نے کہا: "یہ عورت پاگل ہوتی جا رہی ہے۔ رات کو پل بھر نہیں سوئی۔ تمام رات کھڑکی کے پاس بیٹھی بیابان کو تکتی رہی۔ آدھی رات کو جب بھیڑیے کی آواز سے میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ وہ دروازے کی چٹخنی کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں نے چیخ کر کہا: کیا کر رہی ہے، عورت؟"
	ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی بیوی کے ہاتھ میں فلیش لائٹ تھی، وہ بھی روشن۔ ڈاکٹر کا رنگ اُڑا ہوا تھا اور ہاتھ لرز رہے تھے۔ ہم دونوں ساتھ شکنجے کے پاس گئے۔ وہ سالم تھا۔ گوشت کا پارچہ بھی جوں کا توں رکھا تھا۔ پیروں کے نشان بتاتے تھے کہ بھیڑیا شکنجے کے پاس آیا تھا، یہاں تک کہ اس کے پاس بیٹھا بھی تھا۔ اس کے بعد بھیڑیے کے پیروں کے نشان سیدھے شفا خانے کے احاطے کے جنگلے کی طرف جاتے تھے۔ عورت کی شکل مجھے کھڑکی کے پاس دکھائی دی۔ وہ ہماری ہی طرف دیکھ رہی تھی۔ ڈاکٹر بولا: "میری سمجھ میں نہیں آتا۔ تم کم از کم کچھ تو اس عورت سے کہو۔"
	عورت کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کی زرد رنگت اَور بھی زرد ہو گئی تھی۔ اپنے سیاہ بال اس نے اکٹھے کر کے سینے پر ڈال رکھے تھے۔ صرف آنکھوں میں سرمہ لگا رکھا تھا۔ کاش وہ اپنے لبوں پر سرخی یا کوئی چیز لگا لیتی کہ اس قدر سفید نظر نہ آتے۔ میں نے کہا: "میں نے کبھی نہیں سنا کہ بھوکا بھیڑیا گوشت کے پاس سے یوں نکل جائے۔"
	میں نے اسے بھیڑیے کے پیروں کے نشانوں کے بارے میں بتایا۔ کہنے لگی: "ڈرائیور کہتا تھا کہ وہ بھوکا نہیں تھا۔ میں نہیں جانتی۔ شاید بہت ہوشیار ہے۔"
	اگلے روز خبر ملی کہ شکنجہ کھنچ گیا ہے۔ لوگ شکنجے کے گھسٹنے کے نشان کے ساتھ ساتھ گئے اور اُس تک پہنچ گئے۔ نیم جان تھا۔ پھاؤڑے کے پھل کے دو تین وار پڑے تو ٹھنڈا ہو گیا۔ ڈاکٹر نے اسے دیکھ کر کہا: "الحمد لله۔" مگر اس کی بیوی نے صدیقہ سے کہا: "صبح سویرے میں نے اُسے جنگلے کے اُس طرف بیٹھے دیکھا تھا۔ یہ جو پکڑا گیا ہے ضرور کوئی کتا یا گیدڑ یا کچھ اور ہو گا۔"
	شاید۔ بعید نہیں کہ یہی باتیں اس نے ڈاکٹر سے بھی کی ہوں، کہ ڈاکٹر کو ناچار پولیس کے پاس جانا پڑا۔ اس کے بعد دو ایک رات پولیس والے ڈاکٹر کے گھر میں ٹھہرے۔ تیسری رات تھی کہ ہمیں گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔ اگلے دن پولیس والے اور گاؤں کے کچھ لوگ شفا خانے کے ڈرائیور کے ساتھ خون کے نشانوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہوے آبادی کے دوسری طرف کی پہاڑی پر گئے۔ پہاڑی کے پیچھے وادی میں انھیں بھیڑیے کے پیروں کے نشان اور اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی برف نظر آئی۔ لیکن انھیں سفید ہڈی کا ٹکڑا تک نہ ملا۔ ڈرائیور بولا: "بد مذہب کہیں کے، اس کی ہڈیاں تک کھا گئے۔"
	مجھے یقین نہ آیا۔ میں نے نے صَفر آقا کو بھی بتایا۔ صفر نے کہا: "خانم نے بھی جب سنا تو فقط مسکرا دی۔ ڈاکٹر نے خود مجھ سے جا کر اسے خبر دینے کو کہا تھا۔ خانم بخاری کے پاس بیٹھی کوئی ڈرائنگ بنا رہی تھی۔ اسے دروازہ کھلنے کی آواز سنائی نہ دی۔ جب مجھے دیکھا تو کاغذوں کو الٹ دیا۔"
	خانم کی ڈرائنگوں میں کوئی خاص بات نہ تھی۔ فقط اُسی بھیڑیے کے خاکے بنائے تھے۔ سیاہ صفحے کے بیچ چمکتی ہوئی دو سُرخ آنکھیں، بیٹھے ہوے بھیڑیے کا سیاہ قلم سے بنایا ہوا خاکہ، اور ایک نقش میں بھیڑیا منھ اٹھا کر چاند پر غرّاتا ہوا۔ بھیڑیے کا سایہ بہت مبالغے کے ساتھ پھیلا ہوا تھا، اس طرح کہ اس نے تمام شفا خانے اور قبرستان کو چھپا لیا تھا۔ دو ایک خاکے بھیڑیے کی تھوتھنی کے تھے، جو زیادہ تر کتّے کی تھوتھنی معلوم ہوتی تھی، خاص طور پر اس کے دانت۔
	بدھ کی سہ پہر کو ڈاکٹر شہر چلا گیا۔ صدیقہ نے بتایا کہ اس کی بیوی کی طبیعت خراب تھی۔ ڈاکٹر نے خود اسے بتایا تھا۔ مجھے یقین نہ آیا۔ میں نے خود اسے بدھ کی صبح کو دیکھا تھا۔ وہ ٹھیک وقت پر بچوں کو نقاشی سکھانے پہنچی تھی۔ اس نے ویسی ہی ایک ڈرائنگ تختۂ سیاہ پر بنائی تھی۔ اس نے مجھے خود بتایا تھا۔
	جب میں نے اس سے پوچھا: "آخر بھیڑیا کیوں؟" تو کہنے لگی: "بہت چاہتی ہوں کہ کچھ اور بناؤں، مگر مجھ سے بنتا ہی نہیں۔ جیسے ہی چاک کو بورڈ پر رکھتی ہوں، خودبخود بھیڑیے کی ڈرائنگ بننے لگتی ہے۔"
	افسوس کہ بچوں نے کھیل کے گھنٹے میں اس ڈرائنگ کو مٹا دیا۔ بعد دوپہر جب میں نے ان میں سے ایک دو کی ڈرائنگ دیکھی تو سوچا کہ شاید بچے اسے ٹھیک طرح نہ بنا سکیں۔ لیکن بچوں کے بنائے ہوے سب خاکے بالکل ٹھیک شکاری کتے کی طرح تھے، کان لٹکے ہوے اور دُم پچھلے حصے کے گرد لپٹی ہوئی۔
	جمعرات کی دوپہر کو جب خبر ملی کہ ڈاکٹر واپس آ گیا ہے تو میں نے سوچا کہ یقیناً وہ اپنی بیوی کو رات بھر کے لیے شہر میں چھوڑ کر اپنے کام کی غرض سے لوٹ آیا ہے۔ مریض کوئی نہ تھا، یعنی اردگرد کے دیہاتوں سے کوئی نہ آیا تھا۔ مگر خیر، ڈاکٹر آدمی فرض شناس ہے۔ بعد میں جب وہ اختر کی تلاش میں نکلا تو سب لوگ ڈاکٹر کی گاڑی اور شفا خانے کی جیپ میں سوار ہو کر گئے۔ پولیس والے بھی ساتھ گئے۔ مگر انھیں کوئی پتا نشان نہ ملا۔
	مگر ڈاکٹر نے کوئی بات نہ کی۔ جب اسے ہوش آتا تو یا رونے لگتا یا ایک ٹک ہم سب کو باری باری دیکھتا رہتا، اور اس کی آنکھیں اس کی بیوی کی طرح پھیلی ہوئی ہوتیں۔ ناچار میں نے اسے عرق کے دو ایک گلاس پلائے تاکہ وہ بات کر سکے۔ شاید ایسا ہو کہ سب کے سامنے بات نہ کرنا چاہتا ہو۔ میرا خیال نہیں تھا کہ ان کا آپس میں کوئی جھگڑا ہوا ہو گا۔ مگر نہ جانے کیوں ڈاکٹر مسلسل یہی کہتا رہا: "یقین کرو، میرا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔"
	میں نے اپنی بیوی سے، بلکہ صدیقہ اور صَفر سے بھی پوچھا، کسی کو بھی یاد نہیں تھا کہ ان میاں بیوی نے کبھی ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کی ہو۔ مگر میں نے ڈاکٹر سے جانے کو منع کیا تھا۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ درّے میں برف بہت زیادہ ہے۔ شاید ڈاکٹر ہی کی بات درست تھی، پتا نہیں۔ آخر بولا: "اس کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ شاید یہاں رہنا برداشت نہ کر سکے۔ مگر یہ سب ڈرائنگیں کیوں؟"
	بعد میں میں نے ان خاکوں کو دیکھا۔ اس نے بھیڑیے کے پنجوں کی کئی ڈرائنگیں بنائی تھیں، ایک دو اس کے لٹکے ہوے کانوں کی بھی۔ میں نے کہا: "شاید..."
	ڈاکٹر ٹھیک طرح بات نہیں کر پا رہا تھا۔ لیکن میں نے اندازہ لگایا کہ درّے کے وسط میں برف شاید بہت زیادہ تھی، اتنی کہ گاڑی کے شیشے ڈھک گئے تھے۔ تب ڈاکٹر کو احساس ہوا کہ برف ہٹانے والے وائپر خراب ہو گئے ہیں۔ ناچار اسے گاڑی روکنی پڑی۔  کہنے لگا: "یقین کرو، میں نے خود دیکھا، اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔"
	اختر نے کہا: "کچھ کرو۔ یہاں تو ہم سردی سے اکڑ جائیں گے۔"
	ڈاکٹر نے کہا: "تم اسے نہیں دیکھتیں؟"
	ڈاکٹر نے ہاتھ باہر نکالا تاکہ ہاتھ شیشے پر پھیر کر برف صاف کرے، لیکن جان گیا کہ اس سے کچھ نہیں ہو گا۔  کہنے لگا: "تم جانتی ہو کہ یہاں سے واپس بھی نہیں لوٹ سکتے۔"
	وہ ٹھیک کہتا تھا۔ اس کے بعد گاڑی کا انجن بھی بند ہو گیا۔ جب اختر نے فلیش لائٹ جلائی تو دیکھا کہ بھیڑیا بالکل سڑک کے کنارے بیٹھا ہے۔ بولی: "وہی ہے۔ یقین کرو بالکل بے ضرر ہے۔ شاید اصل میں بھیڑیا نہ ہو، شکاری کتا یا کسی اور قسم کا کتا ہو۔ باہر جا کر دیکھو، شاید برف ہٹا سکو۔"
	ڈاکٹر نے کہا: "باہر جا کر؟ مگر تمھیں یہ نظر نہیں آتا؟"
	یہ کہتے ہوے بھی اس کے دانت بج رہے تھے۔ رنگ سفید پڑ گیا تھا، بالکل اُسی طرح جیسے اختر کی رنگت کھڑکی سے لگ کر بیابان کو یا کتے کو دیکھتے ہوے زرد پڑ جاتی تھی۔ اختر نے کہا: "اگر میں اس کے سامنے اپنا ہینڈ بیگ پھینک دوں تو؟"
	ڈاکٹر بولا: "اس سے کیا فائدہ ہو گا؟"
	بولی: "چمڑے کا ہے۔ ذرا دیر کو وہ اپنا سر اس میں ڈالے گا، اور اتنے میں تم اسے ٹھیک کر لو گے۔"
	ہینڈ بیگ کو باہر پھینکنے سے پہلے اس نے ڈاکٹر نے کہا: "کاش میں اپنا فر کا کوٹ ساتھ لے آئی ہوتی۔"
	ڈاکٹر نے مجھ سے کہا: "تم نے خود ہی تو بتایا تھا کہ دروازہ نہیں کھولنا چاہیے اور نہ باہر نکلنا چاہیے؟"
	اختر نے بیگ باہر پھینکا تب بھی ڈاکٹر باہر نہ نکلا۔ بولا: "بخدا، میں نے اس کی سیاہ پرچھائیں کو دیکھا۔ وہ سڑک کے کنارے بالکل بے حرکت بیٹھا تھا۔ نہ ہلتا تھا اور نہ غراتا تھا۔"
	پھر اختر نے فلیش لائٹ جلا کر اپنا بیگ ڈھونڈنا چاہا تو وہ اسے نظر نہ آیا۔ وہ بولی: "اچھا میں خود باہر جاتی ہوں۔"
	ڈاکٹر نے کہا: "تمھیں کیا پتا؟" یا شاید یہ کہ "تم سے ٹھیک نہیں ہو گا۔" مگر اسے اتنا یاد تھا کہ اس کو خبر ہونے سے پہلے ہی اختر باہر جا چکی تھی۔ ڈاکٹر نے اسے نہیں دیکھا، یعنی برف نے اسے باہر نہ دیکھنے دیا۔ اس نے اس کے چیخنے کی آواز بھی نہ سنی۔ پھر اس نے خوف کے مارے گاڑی کا دروازہ بند کر لیا، یا شاید اختر نے بند کیا۔ یہ اس نے نہیں بتایا۔
	جمعے کی صبح ہم گاؤں والے دوبارہ نکلے۔ ڈاکٹر نہیں آیا۔ وہ آ نہیں سکتا تھا۔ برف اب بھی پڑ رہی تھی۔ کسی کو توقع نہ تھی کہ کوئی سراغ ملے گا۔ ہر طرف سفیدی چھائی ہوئی تھی۔ ہم نے ہر اس جگہ جا کر دیکھا جو ہمارے گمان میں آئی۔ فقط ہمیں چمڑے کا وہ بیگ مل سکا۔ راستے میں میں نے صفر سے پوچھا تو اس نے کہا: "وائپر تو بالکل ٹھیک ہیں۔"
	میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ اس کے بعد جب صدیقہ مجھے وہ ڈرائنگیں دکھانے لائی تو میرا ذہن اور اُلجھ گیا۔ ان خاکوں کے ساتھ جلدی میں لکھا ہوا ایک نوٹ تھا کہ "اپنے اسکول کے لیے۔" جاتے وقت اس نے یہ چیزیں صدیقہ کو دی تھیں اور کہا تھا کہ اگر اس کی طبیعت ٹھیک نہ ہو سکے یا وہ بدھ کو نہ آ سکے تو یہ ڈرائنگیں مجھے پہنچا دے تاکہ میں انھیں ماڈل بنا کر استعمال کروں۔ میں صدیقہ کو نہ بتا سکا، اور نہ ڈاکٹر کو، کہ آخر کتوں کی، معمولی کتوں کی ان تصویروں سے گاؤں کے بچوں کو کیا دل چسپی ہو سکتی ہے؟
٭٭٭




معصومِ سوّم


شکار بانی پر مامور لوگوں نے اُسے دیکھا تھا کہ ایک پگڈنڈی پر سے اوپر جا رہا ہے۔ پہلے انھوں نے غالباً اُس کی موٹرسائیکل کو ایک سنگی تختے کے سائے میں کھڑا دیکھا تھا، اس کے بعد ڈھلان کی نرم زمین پر اس کے پیروں اور اس کے عصا کے نشانات کی مدد سے اس کا پتا لگانا مشکل نہ تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ نہیں جانتا کہ اس پہاڑ پر بھی شکار کرنا ممنوع ہے، اور چوٹی کی طرف اشارہ کیا تھا۔ چوٹی کہر کے پیچھے دھندلی دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی پشت پر دھرے تھیلے میں ایک کلھاڑی، گول کیے ہوے کچھ کاغذ، تھوڑا سا پلاسٹر اور موم، ایک ناپنے کا فیتہ اور ایک برتن میں شامی کباب اور پانچ چھ نان تھے جو فقط دو روز کے لیے کافی تھے۔
	وہ اس کے گھر بھی پہنچے تھے۔ اس کی بیوی کو کچھ خبر نہ تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ کسی کام سے دوسرے شہر گیا ہے۔ اس نے بتایا: "موٹرسائیکل بیچ دی، اوزار اٹھائے اور چلا گیا۔"
	شامی کباب اسے اس کی بیوی نے بنا کر دیے تھے۔ یہ ہمیں بعد میں معلوم ہوا۔ دو ایک روز بعد، جب اس کے بچوں کے نالہ و شیون کی آوازیں بلند ہوئیں اور پڑوس کے لوگ اس کے پاس پہنچے تو بولی: "انھوں نے اس کے صندوق کو توڑ کر کھول لیا اور سب کچھ جو اس نے رکھا تھا لے گئے۔"
	اس نے عورتوں کو وہ صندوق دکھایا۔ وہ پرانی وضع کا برف دان تھا جس میں پیتل کی میخیں اور سفید لوہے کے واشر لگے ہوے تھے۔ قفل پہلے کی طرح بند تھا لیکن کنڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس نے بتایا: "اس کی چابی وہ ہمیشہ اپنی بغل میں رکھتا تھا۔ اس نے کبھی اس صندوق کو میرے سامنے نہیں کھولا۔"
	انھیں اس کے کام کے اوزار بھی مل گئے۔ وہ تہہ خانے میں کاٹھ کباڑ کے ڈھیر کے پیچھے تھے۔ میری بیوی نے کہا: "اُن چیزوں کے نقشے تھے جو وہ پلاسٹر سے بناتا تھا: پیچیدہ نقش، گل بوٹے، اور ایک لاغر آدمی جس نے فقط لنگی باندھ رکھی تھی۔ کچھ پرندے اور ہرن بھی تھے۔"
	راج مزدور کے کام کے اوزار، ڈوری اور ایک تولیا بھی تھا۔
	میں اُسے دیکھ چکا تھا۔ وہ دبلا اور لمبا تھا، ٹھوڑی نازک تھی، رخساروں کی ہڈیاں قدرے اٹھی ہوئی اور آنکھیں ایسی جو آدمی کی طرف سیدھے کبھی نہ دیکھتیں۔ اس کے کپڑے ہمیشہ پلاسٹر کے تھکّوں سے ڈھکے ہوتے۔ اس کی موٹرسائیکل کے پیچھے لگا ہوا تھیلا قالین کے ٹکڑوں سے ملا کر بنایا گیا تھا اور اس پر کسی مجلس کا نقش بنا ہوا تھا جو پوری طرح سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا ہے۔ وہ سر ہلا کر سلام کرتا تھا۔ پڑوس میں رہنے والی عورت نے بتایا: "جب وہ ہمارے گھر میں کام کر رہا تھا، ہمیشہ شعر پڑھتا رہتا تھا۔"
	زور زور سے کچھ پڑھتا رہتا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ کیا پڑھتا ہے۔ اسے اس لیے بلوایا گیا تھا کہ ان کے مہمان خانے کی چھت اور بخاری کے پاس والے حاشیے پر نقش کاری کرے۔ کام اس کا اچھا تھا۔ دونوں طرف کی پٹیوں پر اس نے پیچیدہ نقوش بنائے اور ان کے بیچ کی جگہ کو ہرنوں، گوزنوں، خرگوشوں، پرندوں اور پھولوں کے خاکوں سے پُر کیا۔ ان سب کے بیچ وہی لنگی والا لاغر آدمی ہے جس کا ذکر میری بیوی نے کیا تھا۔ وہ زمین پر بیٹھا ہے اور بائیں ہاتھ پر ٹھوڑی ٹکا رکھی ہے۔
	اس نے بخاری کے اوپر دیوار پر پوری مجلس کی نقاشی کرنے پر اصرار کیا۔ اس کا نقشہ بھی وہ لے کر آیا تھا۔ انھیں یہ نقاشی نہیں چاہیے تھی۔ بعد میں انھوں نے اس نقاشی کے سامنے لکڑی کے تختوں سے ایک الماری بنوا دی اور اس پر دستے والا شیشے کا دروازہ لگوا دیا۔ شیشے کے پیچھے الماری پر انھوں نے اپنی چھوٹی موٹی چیزیں چُن دیں: رنگ برنگی گڑیاں، لمبی پلکوں والی، سوتی اور جاگتی ہوئی، کچھ چینی کے ہرن اور دو ایک خرگوش، دو چوبی گھوڑے جن میں سے ایک سیاہ اور ایک بھورا۔ اور ایسی ہی کچھ اور چیزیں۔
	اس کے شاگردوں کو بھی خبر ہو گئی۔ وہ دو تھے، اور ان کے کپڑوں پر بھی پلاسٹر کے تھکّے لگے ہوے تھے۔ وہ جمعے کی صبح کو آئے تھے۔ انھوں نے اپنی سائیکل دیوار سے ٹکا کر کھڑی کر دی تھی۔ زنجیر کھڑکنے کی آواز پر ہم باہر نکلے۔ ابھی کسی نے دروازہ نہیں کھولا تھا۔ میری بیوی نے کہا: "شاید گھر میں کوئی نہیں ہے۔"
	مجھے معلوم نہ ہوا کہ ان میں سے کس نے کہا: "نہیں۔ گھر میں ہیں۔ ان کی آواز آ رہی ہے۔"
	میری بیوی نے بھی کھٹکھٹایا، مگر دروازہ نہ کھلا۔ پہلے اس نے زنجیر کھڑکائی، پھر مٹّھیوں سے دروازہ پیٹا۔ اس کے شاگرد ایک ہی قد کے تھے اور بڑی بڑی سیاہ آنکھوں والے۔ ان کی ٹوپیوں کے نیچے سے بالوں کی ایک لٹ نکل کر ان کی پیشانی پر آ گئی تھی۔ فقط ان میں سے ایک کے بائیں رخسار کو دیکھ کر پتا چلتا تھا کہ دونوں ایک جیسے نہیں ہیں۔ ایک جس کے بائیں رخسار پر پلاسٹر نہیں تھا، بولا: "ہم اس لیے آئے ہیں کہ شاید انھیں کسی مدد کی ضرورت ہو۔ روپیہ پیسہ، کوئی اور چیز چاہیے ہو تو ہم دیں۔"
	میری بیوی نے کہا: "اس کے بچے رو رہے ہیں۔ دروازے کے پیچھے بیٹھے ہیں اور رو رہے ہیں۔"
	میں نے کہا: "اس کی بیوی کہاں ہے؟"
	بولی: "نہیں ہے شاید۔"
	وہ جس کے رخسار پر پلاسٹر تھا، بولا: "میں نے خود اسے کنجی کے سوراخ میں سے دیکھا ہے۔"
	دوسرے نے کہا: "وہ ہمیں پسند نہیں کرتی، اسی لیے دروازہ نہیں کھول رہی۔ اس نے اپنے بچوں سے کہہ دیا ہے کہ بابا نہیں ہیں، فقط اصغر اور اکبر ہیں۔ دیکھا نہیں تھا؟"
	پڑوس میں رہنے والے شخص نے پوچھا: "تمھارا استاد اب کہاں ہے؟"
	جواب میں دونوں ایک ساتھ بول پڑے: "ہم نے ابھی سنا ہے..."
	اور اس کے بعد ایک چپ ہو گیا اور دوسرا بولتا رہا: "ہم نے قہوہ خانے میں سنا تھا۔  ہمیں یقین نہیں آیا۔"
	پھر اس نے اپنی جیب سے پیسے نکالے۔ مٹھی بھر مڑے تڑے نوٹ تھے، پسینے میں بھیگے ہوے۔ دوسرا بولا: "جب دروازہ کھلے تو استاد کی بیوی کو دے دینا۔ ہم تو تھک گئے۔" پھر اس نے ہاتھ بڑھا کر پہلے شاگرد کے رخسار پر سے پلاسٹر صاف کر دیا۔ جب ایک سائیکل پر سوار ہو گیا اور پیڈل پر پیر رکھ کر دوسرے کے پیچھے بیٹھنے کا انتظار کر رہا تھا، میری بیوی بولی: "اب کیا کرو گے؟"
	پیچھے بیٹھنے والے نے کہا: "پتا نہیں۔"
	پڑوس والی عورت کہنے لگی: "تم لوگوں کو معلوم ہے وہ پہاڑ پر کیوں گیا ہے، کلھاڑی اور فیتہ اور وہ سب چیزیں لے کر؟"
	دوسرے شاگرد نے کہا: "نہیں، مگر بخدا ہمارا کوئی قصور نہیں۔ استاد کی بیوی سے کہنا کہ ہم نے بہت کہا مت جاؤ، مگر استاد نہ مانے۔"
	یہ بات اس نے بلند آواز میں کہی تاکہ استاد کی بیوی اگر دروازے کے پیچھے کھڑی ہو تو سن لے۔ پھر اس نے پیڈل مارا۔ ابھی گلی کے کونے تک نہ پہنچے تھے کہ پڑوس والے آدمی نے چلّا کر کہا: "اگر کچھ خبر ملے تو ہمیں بتانا مت بھولنا۔"
	پیچھے بیٹھے ہوے شاگرد نے ہاتھ ہلایا۔ پیسے میری بیوی کی مٹھی میں تھے اور شاید وہ دروازہ کھٹکھٹانے کو تھی کہ دروازہ کھل گیا۔ پہلے اُس کی ایک آنکھ دکھائی دی، اس کی پلکیں لمبی اور سیاہ تھیں اور ان کا سایہ اس کے رخسار پر پڑ رہا تھا۔ جب اس نے پیسے لینے کو ہاتھ باہر نکالا تو ہمیں اس کے چہرے کا ایک حصہ نظر آیا۔ اس کا دہانہ سرخ اور تنگ تھا، اس قدر چھوٹا کہ لگتا تھا اس کے ہونٹ ایک دوسرے سے چپکے ہوے تھے یا کلی کی طرح بند ہو گئے تھے۔ اس کے ہونٹوں کے پاس والا تِل میں نے بعد میں دیکھا، مجھے اس کا یقین ہے۔ لیکن اس کا نام میں نے اُسی دن سن لیا، اپنی بیوی سے۔ اب بھول چکا ہوں۔ شاید مجھے اہم نہیں لگا تھا، اس لیے ذہن سے اتر گیا۔
	میری بیوی نے پوچھا: "دروازہ کیوں نہیں کھولا تھا؟"
	کہنے لگی: "آپ نے سن تو لیا تھا۔ وہ جانتے تھے۔ مگر انھوں نے مجھے نہیں بتایا۔ میں ان کی خالہ تھی۔ انھیں میں نے ہی پالا ہے۔ میں کوئی اجنبی نہیں تھی۔"
	میں نے کہا: "وہ کیا کرنا چاہتا تھا؟"
	بولی: "بس پہاڑ پر جانا چاہتا تھا۔"
	اس نے سر پر چادر اوڑھ لی تھی۔ اور اب صرف اس کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ میں نے کہا: "آپ کو نہیں معلوم کہاں ہے؟"
	بولی: "انھوں نے بتایا ہی نہیں۔ پھر مجھے کیا معلوم؟ مگر ضرور بہت دور گیا ہو گا۔ موٹرسائیکل ساتھ لے گیا تھا۔ یہاں آس پاس تو کوئی اونچا پہاڑ ہے نہیں۔"
	اس کے دروازہ بند کر لینے کے بعد پڑوس والے مرد نے مجھ سے کہا: "اس پہاڑ پر تو نہیں جا سکتا ہو گا!"
	اور کوہِ صفّہ کی طرف اشارہ کیا۔ وہاں سے دکھائی نہیں دیتا تھا۔ عمارتوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا، مگر تھا اُُسی سمت میں، دُور، جدھر اس نے اشارہ کیا تھا۔ بولا: "میں جا چکا ہوں۔ اب نہیں، پہلے۔ چوٹی تک پہنچنے میں دو گھنٹے سے زیادہ نہیں لگتے، یعنی اگر سیڑھیوں سے چڑھ کر جائیں، دیکھی ہیں نا؟ پہاڑ کو کاٹ کر سیڑھیاں بنا دی ہیں تاکہ گھوڑے پر سوار ہو کر اوپر چوٹی تک پہنچ سکیں۔ ایک چھوٹا راستا بھی ہے، اس سے اور بھی جلدی پہنچ سکتے ہیں۔ مگر اب اُدھر سے جانا منع ہے۔ میرا خیال ہے چوٹی کے قریب ایک کتبہ لکھ کر لگا دیا ہے۔"
	پھر اس نے اور بھی دور، جنوب مغرب کی سمت اشارہ کیا۔ "شاہ کوہ کی سب سے اونچی چوٹیاں اُس طرف ہیں۔ میں گیا تو نہیں، مگر میرا خیال ہے موٹرسائیکل سے اس کے دامن تک پہنچنے میں تین گھنٹے لگیں گے۔"
	میں نے کہا: "شاید وہیں گیا ہو۔ وہاں بھی شکار پر پابندی لگ گئی ہے۔ کوہ نوردی بھی ممنوع ہے۔"
	بولا: "کوہ نوردی بھلا کیوں؟"
	میں نے کہا: "میں وہاں گیا نہیں۔"
	تبھی عورت نے دروازہ کھولا۔ چادر اُسی طرح اوڑھ رکھی تھی۔ ایک سیاہ لٹ، کسی نازک بیل کی طرح مگر اس سے زیادہ نازک اور کشیدہ، اس کی پیشانی کی سفید زمین پر پڑی تھی۔ جب اس نے دروازہ بند کر کے کنڈی چڑھائی تو اس کے بچوں کے رونے کی آواز آئی۔ اس نے کنجی کے سوراخ میں سے کہا: "میں ابھی تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔"
	میری بیوی بولی: "چاہو تو انھیں ہمارے گھر چھوڑ دو۔ بچوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ ان کا کیا قصور ہے!"
	بولی: "ڈرتے نہیں ہیں۔ عادت ہو گئی ہے۔"
	عورت قد کی اونچی ہے، استاد سے بھی اونچی۔ اس کے دوسری طرف والی بوڑھی ہمسائی کہنے لگی: "ہم پڑوسی ہیں۔ کم از کم ہمیں سے کہا ہوتا۔ شاید میرے بیٹے اس کے لیے کچھ کر سکتے۔"
	وہ اپنے مکان کے در میں بیٹھی تھی۔ اسے میں نے اب دیکھا۔ جیسے منتظر بیٹھی تھی کہ کوئی بات، کچھ بھی، پیش آنے والی ہے۔ عورت نے جواب دیا: "مجھے نہیں معلوم ۔ کچھ نہیں معلوم۔ آپ نے تو سب خود سنا ہے۔"
	بوڑھی ہمسائی نے کچھ کہا۔ مجھے سنائی نہیں دیا۔ میری نگاہ عورت پر جمی ہوئی تھی۔ میں نے کبھی کسی آہو کو چلتے نہیں دیکھا، نرم اور چست چال، سبزے اور جوئبار اور ہر چیز پر سے گزرتے ہوے چھوٹے چھوٹے تیز قدم، جیسے پرانے شاعر اپنے شعروں میں بیان کرتے ہیں، مگر میرا خیال ہے وہ چال ایسی ہی ہوتی ہو گی جیسی اس عورت کی چال تھی۔ اس کے شانے آہستہ آہستہ جھوم رہے تھے اور جب وہ قدم اٹھاتی تو چادر اس کے گھومتے کولھوں اور تنگ کمر پر لپٹ لپٹ جاتی تھی۔
	اگلے روز شام کو مجھے خبر ملی کہ وہ واپس آ گیا ہے۔ ہمیں آقائے مقصودی نے بتایا۔ بولا: "چلو اس کے پاس چلتے ہیں۔"
	میں نے کہا: "میرا خیال ہے اسے اچھا نہیں لگے گا۔"
	کہنے لگا: "کوئی بہانہ پیدا کرتے ہیں۔ اگر تم چاہو تو... مگر نہیں، میں اس سے کہتا ہوں کہ ہمارے نشیمن کے کمرے میں بخاری کے اوپر دیوار پر مجلس کا نقش بنا دے۔ ویسا ہی جیسا وہ خود بنانا چاہتا تھا۔"
	میں نے کہا: "یہ بہتر نہ ہو گا کہ پہلے عورتوں کو بھیجیں اور کہلوا دیں کہ ہم آنا چاہتے ہیں؟"
	جب میری بیوی واپس آئی تو کہنے لگی: "اس کی بیوی کہہ رہی تھی اسے بخار ہے۔ تپ میں ہذیان بک رہا تھا۔ ابھی ابھی سویا ہے۔ اصغر اس کے لیے ڈاکٹر کو بلانے گیا ہے۔"
	میں نے پوچھا: "تم نے اسے دیکھا؟"
	بولی: "نہیں، اس کی آواز سنی تھی۔ زور زور سے چیخ رہا تھا۔ اس کی بیوی نے کہا: سنا آپ نے؟ اٹھ گیا ہے۔ شاید ہذیان بک رہا ہے۔ تمام بدن پر نیل پڑے ہیں، جیسے کسی چٹان کے نیچے آ کر کچل گیا ہو۔"
	آقائے مقصودی نے پوچھا: "کیا کہہ رہا تھا؟"
	میری بیوی بولی: "صاف سمجھ میں نہیں آیا۔ مگر میرا خیال ہے کہہ رہا تھا: میں کر سکتا ہوں، دکھا دوں گا کہ میں کر سکتا ہوں۔"
	میری بیوی کو پتا نہیں چلا کہ کیا بات تھی۔ ہماری بھی سمجھ میں نہ آیا۔ اگلے روز میں نے اسے دیکھا۔ گلی میں چلتے ہوے میں اس کے پاس آیا۔ اس کی بغل میں ایک بڑا سا تربوز تھا، اور اس ہاتھ میں، داہنے ہاتھ میں، نان۔ اس کا سر مُنڈا ہوا تھا۔ میں نے کہا: "شکر ہے سب خیریت رہی۔"
	بولا: "کوئی بات نہیں۔ پھر آ جائیں گے۔"
	میں نے کہا: "کیا؟"
	اس نے اپنے داہنے ہاتھ میں تھامے نان سے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے ہاتھوں کے ناخن بالکل صحیح سلامت تھے۔
	میں نے کہا: "اگر وقت ملے تو چاہتا ہوں کہ میرے ہاں بھی مجلس کا نقش بنا دو۔"
	بولا: "ویسا جیسا آقائے مقصودی کو پسند نہیں آیا؟"
	میں نے کہا: "وہ تو مجھے معلوم نہیں کیسا تھا۔ مگر مجھے وہ مجلس چاہیے جس میں چشمہ دکھایا جاتا ہے، وہیں جہاں..." اور میں نے اسے شعر پڑھ کر سنائے:
زرنجِ راہ بو اندام خستہ
غبار از پای تا سر بر نشستہ
بہ گرد چشمہ جولان زد زمانی
دہ اندر دہ ندید از کس نشانی
فرود آمد بہ یک سو بارگی بست
رہِ اندیشہ بر نظّارگی بست
چو قصدِ چشمہ کرد آن چشمۂ نور
فلک را آب در چشم آمد از دُور
 اور پھر:
پرندی آسمان گون بر میان زد
شد اندر آب و آتش بر جہان زد
	آگے کے شعر اُس وقت مجھے یاد نہ آئے، یا شاید اس خیال سے یاد نہ آئے کہ اس کا دھیان کہیں اور ہے۔ وہ مبہوت ہو کر ایک طرف نظر جمائے ہوے تھا، مجھ پر نہیں، نہ میری آنکھوں پر، بلکہ اس طرح کہ اگر وہاں میں نہ ہوتا یا میری جگہ کوئی اور ہوتا تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا۔ میں نے کہا: "تو پھر ٹھیک ہے؟"
	بولا: "کیا؟"
	وہ کسی ایسے شخص کی طرح پلکیں جھپک رہا تھا جسے اچانک نیند سے جگا دیا گیا ہو۔ میں بولا: "تم نے سنا نہیں؟"
	کہنے لگا: "میں نے یہ شعر پہلے نہیں سنے۔ لیکن اس سے ملتاجلتا ایک نقش ہے۔ میرے پاس اس کا خاکہ نہیں ہے۔ مگر کہیں سے لا سکتا ہوں۔ اگر آپ چاہیں گے تو لے آؤں گا۔"
	رات کو میں نے یہ سب حال اپنی بیوی کو سنایا۔ بولی: "اصغر آیا تھا تو استاد نے کہا: یہ کتاب صرف ایک رات کے لیے مجھے دے دو۔"
	میں نے کہا: "اصغر تھا یا اکبر؟"
	بولی: "کیا پتا۔ کلمہ سن رہے ہو کیا؟ کتاب اسے دو گے یا نہیں؟"
	میں نے کہا: "تم نے خود کیوں نہ دے دی؟"
	بولی: "مجھے کیا پتا کون سی کتاب دینی ہے؟"
	میں نے کہا: "اُس نے بتایا نہیں؟"
	بولی" نہیں۔ کہہ رہا تھا، انھیں خود پتا ہے کون سی کتاب ہے۔"
	خمسۂ نظامی کا جو نسخہ میرے پاس ہے وہ بہت پرانا ہے، چرمی جِلد، سنگی چھپائی، وزیری تقطیع اور قاجار زمانے کے نقاشوں کا مصوّر کیا ہوا۔ مجھے خیال ہوا کہ کتاب اسے انھیں تصویروں کے لیے درکار ہے۔ میں نے شیریں کے چشمے میں غسل کرنے کے سفید و سیاہ خاکے کے پاس کاغذ سے نشانی لگا دی جس میں اس کا چہرہ بالکل گول دکھایا گیا ہے، ماہ کی طرح، بالکل اُسی طرح جیسے قدیم شاعر تشبیہوں اور استعاروں میں بیان کرتے ہیں، گول ٹھوڑی اور کمان کی طرح کھنچی ہوئی بھنویں۔ اس کی دراز زلفیں گردن کے پیچھے سے گھوم کر سامنے آتی اور اس کے سینے کو چھپاتی ہوئی، مگر اس طرح نہیں کہ سب کچھ چھپ جائے، یا شاید خاکہ ہی اس طرح کھینچا گیا ہے کہ شیریں کے بائیں پستان کا نصف حصہ دکھائی دے رہا ہے، جیسے چوتھائی مہینے کا چاند۔ خسرو کا فقط سر، کیانی کلاہ سے ڈھکا ہوا، شاخوں کے پیچھے نظر آتا ہے۔ میں نے اپنے لڑکے کے ہاتھ کتاب بھجوا دی۔ اس کے بعد پوری بات میرے ذہن سے اتر گئی۔ بالکل بھول گیا۔ یہاں تک کہ دو ہفتے ہو گئے اور کتاب واپس نہ آئی۔ مجھے صبح جلدی اٹھنا پڑتا، جلدی جلدی ڈاڑھی بناتا، دانت مانجھتا اور دفتر کو روانہ ہو جاتا۔ پیدل کا راستا نہیں تھا۔ اور اگر گاڑی بھی ہوتی تو وقت پر پہنچنے کے لیے جلدی کرنی پڑتی۔ میں جتنا بھی ارادہ کرتا کہ اب جلدی اٹھوں گا، بلکہ سویڈش ورزشیں بھی کروں گا، یا کم سے کم جھک کر چند بار اپنے پیر کے انگوٹھوں کو چھوؤں گا، مگر آنکھ ہی نہیں کھلتی۔ لہذا ہر دو تین مہینے بعد کمر کی پیٹی کا دندانہ اگلے سوراخ میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اور اب فقط دو سوراخ باقی رہ گئے ہیں۔ اگر کبھی آنکھ جلدی کھل بھی جاتی ہے اور ورزش کرنے کا ارادہ یاد بھی آ جاتا ہے تو دو چار بار حرکت کرنے ہی میں تھک جاتا ہوں اور سانس پھول جاتی ہے۔ مگر کیا میں سگریٹ نوشی چھوڑ سکتا ہوں؟ چھوڑنا تو خیر، فقط اتنا ہی کر سکتا ہوں کہ صبح کے وقت نہ پیوں؟ میرے دانت بالکل زرد ہو گئے ہیں۔ ایک میں کیڑا لگ گیا ہے۔ اسے ٹھیک کرانے کا وقت کس کے پاس ہے؟ سامنے کے دانتوں کے دونوں طرف ایک ایک دانت کا خلا ہے۔ کھانا کھاتے وقت مجھے اپنے سامنے کے دانتوں سے چبانا پڑتا ہے۔ بے خوابی کا حال ہر رات بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ میری بیوی کہتی ہے: "خدا کے لیے اب بس کرو۔ تم نے کہا نہیں تھا کہ بس ایک سگریٹ اور پیوں گا؟"
	جب اس سے بات کرنا چاہتا ہوں تو وہ سو چکی ہوتی ہے، آنکھیں کھول کر سوتی ہے اور سوتے میں بولتی رہتی ہے۔ اس نے اپنے بال چھوٹے کروا لیے ہیں اور انھیں رنگتی ہے۔ کئی برسوں سے رنگ رہی ہے۔ ہر دفعہ ایک نیا رنگ جس کے بارے میں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ سیاہ نہیں ہے۔ سیاہ، اور لمبے اور خم اندر خم اور دو ایک لٹیں پیشانی پر یا کانوں کے پیچھے پڑی ہوئی۔ اس کے پیٹ کی جِلد پر سفید لمبے لمبے نشان پڑے ہیں۔ ہر بار پیٹ سے ہونے پر دو تین لکیروں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ شب خوابی کی دھندلی روشنی میں بھی صاف دکھائی دیتے ہیں۔ اور اسے اپنے ہاتھ صابن سے دھونا کبھی یاد نہیں رہتا۔ جانتی ہے کہ مجھے تلی ہوئی پیاز کی یا جس چیز کی بھی بُو ہے وہ اچھی نہیں لگتی، مگر پھر بھی بھول جاتی ہے۔ کہتی ہے: "بھول گئی۔" اس کی نیند بھی اس قدر ہلکی ہے کہ پتا نہیں چلتا سو رہی ہے یا فقط چھت کو گھور رہی ہے۔ کبھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ آدمی ماچس جلا سکے۔ اور پھر ہر وقت خاموشی سے کتاب پڑھنا بھی تو ناگوار گزرتا ہے۔ کبھی کبھی اونچی آواز میں بھی پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ کچھ ایسے مقامات آتے ہیں کہ آدمی انھیں بلند آواز میں پڑھے جیسے راوی شاعر کے شعر پڑھ رہا ہو اور شاعر خود صدرِ مجلس میں نقرئی کرسی پر بیٹھا سن رہا ہو۔ اگر کوئی شام یا رات گھر پر گزارنے کا موقع ملتا ہے، کہ آدمی کمرے میں بیٹھا عرق کی چسکیاں لے اور کچھ پڑھے، تو بچوں کا شور کہیں ایسا کرنے دیتا ہے، یا پھر ٹیلی وژن کی آوازیں، یا برتنوں کی کھنکھناہٹ، یا پانی کے بوند بوند ٹپکنے کی آواز، یا بیوی کا کوئی طول طویل قصہ سنانے کی آواز کہ کوئی شخص ہے کہ کسی پر عاشق ہے جبکہ معشوقہ اس کی بہن اور عاشق __ پتا نہیں کیا __ نہیں جانتا کہ وہ خود اپنی معشوقہ کا بھائی ہے اور معشوقہ کے بال بھی (کیسے ہو سکتا ہے کہ آدمی کا تجسس بیدار نہ ہو اور وہ آگے کا حال نہ جانے؟) کٹے ہوے ہیں اور آنکھیں بڑی بڑی ہیں اور حیرت سے پھیلی ہوئی ہیں، اور بدن شل اور سویا ہوا ہے جیسے ہمیشہ گاڑی میں بیٹھی رہتی ہو۔ اور اس کا بھائی __ وہی عاشق جس کے بارے میں آخر پتا چلتا ہے کہ بھائی ہے __ اس قدر بدصورت ہے کہ... اگر میں کہوں کہ آواز دھیمی کر لو تو کہیں کوئی سنتا ہے! اس وقت آدمی کو یہ تک یاد نہیں رہتا کہ کتاب کی پچھلی فصل میں کیا پڑھا تھا۔ اور عرق بھی دل کو نہیں بھاتا اور سگریٹ محض ایک دھواں نکالنے والا تنکا معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ آدمی کھانس سکے۔ پھر آپ کسی کو کتاب ادھار دیں کہ شاید کل، یا ہفتہ بھر بعد وہ آ کر آپ سے اس کے بارے میں بات کرے گا یا ممکن ہوا تو دونوں بیٹھ کر آہستہ آہستہ عرق پئیں گے اور مل کر کچھ صفحے پڑھیں گے، مگر وہ شخص اتنے دن لگا دیتا ہے کہ آپ بھول جاتے ہیں یا وہ کتاب پڑھنا ہی بھول جاتا ہے اور جب واپس لے کر آتا ہے، یا کسی کے ہاتھ بھجواتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کتاب کی جِلد پر بلکہ صفحوں پر بھی شوربہ گر گیا ہے، یا صرف پہلے چند صفحات پر اس کے انگوٹھے کے نشان پڑے ہیں اور باقی صفحے پہلے کی طرح صاف ہیں۔ پھر جب میری بیوی نے کہا: "استاد دروازے پر ہے، کہتا ہے آقا کی خدمت میں آنا چاہتا ہوں۔" مجھے خیال ہوا... مجھے یاد نہیں رہا یہ کب کی بات ہے۔ اس کی کوئی اہمیت بھی نہیں۔ فقط اتنا یاد ہے کہ میں نے سوچا وہ مجھ سے قرض مانگنے آیا ہے یا کوئی سفارش کرانی ہو گی یا کوئی اور کام ہو گا... میری بیوی بولی: "سنا نہیں؟"
	میں نے کہا: "ٹھیک ہے۔ اسے اندر بھیج دو۔"
	اس کے بال اب لمبے ہو گئے تھے، زیادہ نہیں، بس ایک انگل بھر۔ اتنے نہیں کہ سر کا سامنے کا حصہ ڈھک جائے، اب بھی اتنے لمبے نہیں ہوے۔ اُس رات میری سمجھ میں آیا۔ وہ کمرے کی دہلیز پر کھڑا تھا۔ کتاب بغل میں دبی تھی۔ خمسۂ نظامی ہی تھی۔ میں نے کہا: "اندر آ جاؤ۔ خود کیوں زحمت کی؟ کسی بچے کے ہاتھ بھجوا دی ہوتی۔"
	وہ کمرے کے وسط میں آ کھڑا ہوا۔ کتاب کو دونوں ہاتھوں میں سینی کی طرح پکڑے ہوے تھا جیسے کوئی چیز پیش کر رہا ہو۔ میں نے کہا: "اسے میز پر رکھ دو۔"
	کہنے لگا: "میری سمجھ میں نہیں آیا۔ کسی طرح سمجھ میں نہیں آیا۔ بہت سی چیزیں تو میرے لیے بہت مشکل ہیں۔"
	خیر، اب اگر میرا ہاتھ عرق کے گلاس کو جا لگا اور وہ گر کر ٹوٹ گیا تو اس میں کسی کا کیا قصور، مگر وہ تو بری طرح گھبرا گیا۔ جھک کر شیشے کے ٹکڑے جمع کرنے لگا اور میرا جی چاہتا تھا کہ وہ چھوٹے چھوٹے ریزوں کو جمع کرنا چھوڑ دے یا اتنی دیر نہ لگائے اور جلدی کسی جگہ بیٹھ جائے، میز کے پاس رکھی کرسی پر یا زمین پر میرے برابر تکیے سے ٹیک لگا کر۔ آخر یہی ہوا۔ ہم دونوں ایک تخت پر ساتھ ساتھ تکیوں سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ ہم نے پہلے صفحے سے پڑھنا شروع کیا۔ جو جو سطر اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی اس کے حاشیے پر اس نے پنسل سے ہلکا سا نشان لگا دیا تھا۔ ہم ساتھ ساتھ ورق الٹتے اور پڑھتے رہے اور مجھے بات کو سمجھنے یا دوبارہ ذہن میں لانے کی غرض سے پورا پورا صفحہ یا پوری پوری فصل پڑھنی پڑتی۔ بعض مقامات میری سمجھ میں بھی نہیں آئے چناں چہ مجھے جا کر بُرہانِ قاطع اور فرہنگِ نفیسی لانی پڑیں۔ بیوی نے کہا: "تم لوگوں نے اپنی چائے کیوں نہیں پی؟" مجھے اچانک ایک خیال آیا۔ میں نے کہا: "دو گلاس لا دو اور ایک پلیٹ میں دہی اور ککڑیاں۔ اس میں تھوڑی سی الائچی اور خشک ریحان وغیرہ بھی ڈال دینا خوشبو کے لیے۔ برف بھی دے دینا۔"
	استاد نے کہا: "ایک، بس ایک لائیے۔"
	بیوی نے کہا: "ایک کیا؟"
	اس نے کچھ نہ کہا۔ بیوی کے جانے کے بعد میں نے کہا: "تم نے دیکھا نہیں خسرو کس طرح ایک کے بعد ایک قدح پیتا چلا جاتا تھا؟"
	میں خود جا کر الماری میں سے فیروزی رنگ کے دو بلّوریں جام نکال لایا۔ اس نے کہا: "فرہاد نہیں پیتا تھا۔ مجھے پتا ہے فرہاد نہیں پیتا تھا۔"
	پھر ہم عشق کے بارے میں بات کرنے لگے۔ میں نشے میں آ چکا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اسے شیریں کی موت کا حال پڑھ کر سناؤں، جب وہ خسرو کے مینارِ سکوت کے پاس جا کر اس کے جگر سے دشنہ کھینچ کر اپنے جگر میں پیوست کر لیتی ہے اور اس کے برابر میں لیٹ کر جان دے دیتی ہے۔ مگر استاد یہی کہتا رہا: "میں ابھی وہاں تک نہیں پہنچا۔ پہلے یہ حصہ پورا کر لیں۔ آپ پڑھیے، میں سنتا ہوں۔ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔"
	اس نے کتاب میں کاغذ کی نشانی لگا رکھی تھی۔ میرے خیال سے وہ یہی حصہ دوبارہ پڑھنا یا کسی سے پڑھوا کر سننا چاہتا تھا۔ جب میں فرہاد کی کوہ کنی تک پہنچا، تو وہ بولا: "اگر فرہاد اُس جھوٹے پیغام رساں کی بات پر کان نہ دھرتا اور نہر کھود نکالتا تو کیا شیریں اُس کی ہو جاتی؟"
	میں نے کہا: "نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تب وہ اس کے ساتھ کوئی اور کھیل کھیلتے۔ دوسرے یہ کہ شیریں خسرو سے محبت کرتی تھی۔"
	وہ بولا: "مگر خسرو تو پہلے مریم سے محبت کرتا تھا، پھر شکر اصفہانی سے۔ ان کے علاوہ ہر رات اس کے پاس ایک نئی مادہ، نئی کنواری ہوتی تھی۔ یہ تو کوئی عشق نہ ہوا۔ پھر اس نے فرہاد کو قول دے رکھا تھا کہ اگر پہاڑ کاٹ لائے تو شیریں اس کی ہو جائے گی۔"
	مجھے یاد نہ آیا کہ خسرو نے ایسا کوئی قول دیا تھا۔ میں آگے پڑھنے لگا۔ میرا خیال ہے میں فرہاد کی موت پر پہنچا تھا کہ وہ رونے لگا۔ مجھے بھی رونا آ گیا۔ پھر میں نے استاد کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔ استاد نے کہا: "مجھے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دینا چاہیے۔ آپ میرے استاد ہیں۔"
	صبح میری سمجھ میں آیا کہ میری آنکھ لگ گئی تھی، نشے میں تھا کہ آنکھ لگ گئی۔ بیوی نے کہا: "استاد کہہ رہا تھا، پتا نہیں مجھے دوبارہ کتاب لے جانے کی اجازت ہے یا نہیں؟"
	میں نے کہا: "دے کیوں نہ دی؟"
	بولی: "وہ خود ہی نہیں لے گیا۔ کہتا تھا، خود اجازت دیں گے تو لے جاؤں گا۔"
	میرا سر درد کر رہا تھا۔ یہ عرق کی یا ان باتوں کی وجہ سے نہ تھا۔ یہ میرے لیے کوئی نئی باتیں نہ تھیں۔ ہم اپنی ہفتہ وار نشستوں میں اس سے کہیں زیادہ پی لیا کرتے تھے۔ مگر اس بار، اگلی صبح، مجھ پر اس قدر تھکن طاری تھی جیسے سالہا سال اسی طرح چلتا رہا ہوں اور تمام راستے سر پر ایک بہت بڑا پتھر اٹھائے رہا ہوں۔ پھر مجھے یاد بھی نہ آ رہا تھا کہ ہم نے اَور کیا کیا باتیں کیں۔ شاید اس نے اپنے صندوق کی بات کی تھی اور اس میں جو خاکے رکھے تھے ان کی۔ کہتا تھا: "میرے باپ کے تھے۔ اب ایسے نقشے نہیں ملتے۔ یہ چیزیں قالین کے نقوش کی طرح ہیں۔"
	اس نے یہ بھی کہا تھا کہ انھوں نے اس کے نقشے چھین لیے۔ اس نے ایک نقشِ مجلس کے بارے میں بھی بتایا تھا جس میں اس نے مرد پیغام رساں کے بجائے ایک بوڑھی عورت کو شیریں کی موت کی جھوٹی خبر لاتے دکھایا تھا۔ یہ میں نے بھی سن رکھا تھا۔ مگر نظامی کی روایت میں مرد ہی ہے۔ یہ میں نے اس کو پڑھ کر سنایا تھا اور بتایا تھا کہ اس کا سبب کیا ہے، یعنی یہ کہ نظامی نے کیوں فرہاد کا دفاع نہ کیا اور اس کے قتل کا گناہ ہمیشہ کے لیے خسرو کی گردن پر ڈال دیا۔ وہی مقام جہاں کہا گیا ہے:
کہ می داند کہ این دیر کہن سال
چو مدت دارد و چون بودش احوال
بہ ہر صد سال دوری گیرد از سر
چو آن دوران شد آرد دور دیگر
نماند کس کہ بیند دورِ اُو را
بدان تا در نیابد غورِ او را
	وہاں تک جہاں یہ آتا ہے:
ز جور و عدل در ہر دور سازی است
در او دانندہ را پوشیدہ رازی است
نمی خواہی کہ بینی جور بر جور
نباید گفت راز دور با دور 
	اس کی سمجھ میں نہ آیا۔ مجبوراً مجھے وضاحت کرنی پڑی کہ جابر حکمران نظامی کے دور میں بھی ہوتے تھے اور یہ کہ نظامی خود فرہاد تھا جو بجائے تیشے کے اپنی دس انگلیوں سے کوہ کنی کرتا تھا۔ اور میں نے اسے آفاق کے بارے میں بھی بتایا جو نظامی کی بیوی تھی اور یہ کہ نظامی نے شیریں کی صورت اُس کی صورت پر ڈھالی تھی اور یہ کہ شاید نظامی کو آفاق کے پہلو میں دفن کیا گیا تھا۔ تب مجھے یاد آیا کہ نظامی نے جھوٹی خبر لانے والے شخص کے بارے میں ایک بیت کہی تھی __ اور اپنے دور کے جابروں کے خوف کے باوجود __ اور یہی بیت بعد میں خسرو کے قاتل شیرویہ کے بارے میں بھی دُہرائی گئی ہے:
چو قصاب از غضب خونی نشانی
چو نقاط از بروت آتش فشانی	
	اس کے بعد شاید میری آنکھ لگ گئی تھی، یعنی اُس وقت جب استاد نے اپنے بارے میں بات کرنی شروع کی تھی۔ فقط اتنا یاد ہے کہ چاندنی راتوں اور پورے چاند کے گول قرص کی بات کر رہا تھا۔ کہتا تھا اسے خوف ہے کہ آخرکار ایسی ہی چاندنی رات میں، جب چاند کا قرص مکمل ہو گا، وہ اپنے ساتھ کچھ کر بیٹھے گا۔ کیوں؟ یہ اسے پتا نہیں تھا۔
	میری بیوی بولی: "استاد کہہ رہا تھا، اگر فرصت ہو تو اس سے ملنے آئیں۔"
	میں نے کہا: "سب؟ بچے بھی؟"
	بولی: "اور کیا۔"
	میں جانا تو چاہتا تھا، مگر بیوی بچوں کے بغیر۔ نہ ہوا۔ اگلی رات کو ہماری مجلس تھی، وہی ہفتہ وار نشست۔ میرے ہم کار جمع ہوتے ہیں۔ عرق نوشی کی محفل ہے۔ ہر شخص کوشش کر کے نئے نئے لطیفے سناتا ہے، پھر پوکر کی دوستانہ بازی ہوتی ہے۔ اور پھر کبھی کبھار یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی کے لبوں کے پاس تل دکھائی دے جاتا ہے اور آدمی یہ بات بھولنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس نے اپنے بالوں کو رنگ کر بھورا کر رکھا ہے اور اس کے ابرو اس قدر نازک ہیں کہ جیسے کسی نے غلطی سے اس کی پیشانی اور آنکھوں کے درمیان لکیر سی کھینچ دی ہے اور لب ایسے سُرخ کہ آدمی کو خوف ہونے لگتا ہے کہ ان بھرے بھرے سرخ لبوں کا نشان ہمیشہ کے لیے گردن یا رخسار پر رہ جائے گا۔ تو پھر یہ کافی ہوتا ہے کہ میز کے نیچے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے یا اتفاقاً راہداری سے گزرتے ہوے یا کسی دوسرے کمرے میں اس کے تل کا بوسہ لے لیا۔ ایسے ہی وقت کے لیے آدمی چاہتا ہے کہ اس کی کمر کی پیٹی قابو میں رہے، اور ڈاڑھی کو دو دو بار مونڈتا ہے اور آئینے کے سامنے کھڑا اپنی ٹائی کی گرہ درست کیا کرتا ہے۔ ایسا ہی ایک موقع تھا جب میں ایسی ایک چیز سے آشنا ہوا۔ وہ میرے دفتر میں سیکرٹری ہے۔ ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ میں نے اس سے کہہ دیا: "مجھے تم سے محبت ہے۔" یہ کہنا اب بہت آسان ہو گیا ہے، بالکل اس طرح جیسے کوئی کہے، "یہ گلاس تو دینا۔" پھر بات یہاں تک پہنچی کہ ہم دونوں سفر پر جانے کا بہانہ کر کے ایک دوست کے گھر چلے گئے۔ کنواری تھی۔ خود کہتی تھی۔ اور گو یوں مجھے لڑکوں سے کوئی رغبت نہیں، مگر اُس رات میں نے اسے لڑکا ہی فرض کیا اور وہ صبح ہونے پر بھی کنواری ہی رہی۔ اس کا تل صاف ہو چکا تھا اور میرے سر میں درد تھا اور منھ میں تلخ ذائقہ تھا اور دانتوں میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ لڑکی نے اپنے بازو میری گردن میں حمائل کر رکھے تھے اور شانوں تک آتے ہوے بال بکھیر رکھے تھے اور کہہ رہی تھی: "پھر کہو، میری شیریں!"
	مجھے یاد نہیں میں نے اُسے شیریں کیوں کہا تھا۔ مگر کہا ضرور تھا، اور کئی بار۔ مگر اس کے تل کی جگہ کو چومتے ہوے مجھے یاد نہ آیا۔ جب اٹھ کر گھر لوٹا تو اس قدر غافل تھا کہ یہ خیال تک نہ آیا کہ میں تین دن کے لیے سفر پر جانے کا کہہ کر نکلا تھا۔ جب یاد آیا تو اس کی کوئی اہمیت نہ رہی تھی، یعنی میری بیوی کے لیے۔ اس نے کہا: "کل رات اسے لے آئے ہیں۔"
	میں نے پوچھا: "کسے؟"
	بولی: "استاد کو۔ پہاڑ پر چلا گیا تھا۔"
	میں نے کہا: "تیشہ لے کر؟"
	بولی: "تیشہ کیوں لے جاتا؟"
	میں نے کہا: "اچھا، معلوم ہے۔ جب وہ جھوٹا پیغام رساں، یا بوڑھی عورت، اس کے پاس شیریں کے مرنے کی خبر لے کر آتی ہے تو اسے اپنا تیشہ پہاڑ کے اوپر پھینک دینا ہوتا ہے۔ تیشے کا پھل دستے تک نرم زمین میں دھنس جاتا ہے۔ پھر دستہ سبز ہو کر معجزاتی درخت بن جاتا ہے۔ یاد نہیں ورنہ میں تمھیں پورا قصہ سناتا۔"
	بیوی نے کہا: "لگتا ہے تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔"
	مجھے بخار تھا۔ پھر مجھے نیند آ گئی۔ بیوی نے پوچھا: "تمھیں مجبوراً آدھی رات کو واپس لوٹنا پڑا تھا؟"
	میں نے پوچھا: "کیا میں نے سوتے میں کچھ کہا تھا؟"
	بولی: "مجھے کیا پتا؟ یہی لڑکوں اور لڑکیوں کی باتیں کر رہے تھے اور شیریں شیریں پکار رہے تھے۔ پھر سسکیاں لینے لگے۔"
	میں نے کہا: "ضرور استاد کو خواب میں دیکھا ہو گا۔ تمھیں وہ رات یاد نہیں؟"
	استاد کی لاش لائی گئی تھی۔ اس کا چہرہ مسخ ہو گیا تھا۔ پہچان میں نہ آتا تھا۔ کہتے تھے: "پہاڑ پر سے گر گیا۔"
	جب تک میں نے اٹھ کر لباس پہنا اور خود کو قبرستان تک پہنچایا، تب تک محلے کے لوگ اسے کندھوں پر اٹھا کر غسّال خانے سے لا رہے تھے۔ اسے غسل نہیں دیا جا سکا تھا۔ اس کے خون آلود کپڑوں کے اوپر ہی کفن لپیٹ دیا گیا تھا۔ کہتے تھے کہ خون رس کر کفن تک پہنچ گیا تھا۔ دونوں جڑواں بھائی باری باری تابوت کو کندھا دیتے چل رہے تھے، اس طرح کہ تمام راستے ایک تابوت کے سامنے کی طرف ہوتا تو ایک پیچھے کی طرف۔ دونوں رو رہے تھے۔
	اس کی بیوی اس کی قبر کے پاس بیٹھی بَین کر رہی تھی۔ کہتی تھی: "کتنا کہا تھا، مت جاؤ۔ کتنا کہا تھا، کل رات چلے جانا۔ خود دیکھا تھا کہ چاند کتنا بڑا ہے، کس قدر سفید ہے۔"
	میری بیوی نے اس کے بازوؤں کے نیچے ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھایا۔ کہہ رہی تھی: "آفاق خانم، اٹھو، بچوں کی فکر کرو۔"
	اس کی چادر گر کر شانوں پر آ گئی تھی اور اس کے لمبے سیاہ بال سینے پر بکھرے ہوے تھے۔ اس کے تل پر میری تبھی نظر پڑی۔ اس کے بائیں رخسار کے اُبھار کے بالکل نیچے تھا۔ بائیں کلائی میں اس نے پانچ چھ چوڑیاں پہن رکھی تھیں۔ کہہ رہی تھی: "یہ میں نے کیا ہے، میرا ہی قصور ہے۔ اس نے بار بار کہا، میری منتیں کیں، اور میں نے دروازہ کھول دیا۔"
	اس نے میری بیوی کو بتایا تھا: "اس نے کہا تھا کہ دروازے پر قفل ڈال دو۔ اور پھر قسم دے کر کہا تھا کہ میں کچھ بھی کروں دروازہ مت کھولنا۔ پچھلے ایک ہفتے سے وہ شام کے وقت گھر کے مہمان خانے میں مجلس کے نقش پر کام کرتا رہا تھا۔ پرسوں رات نصف شب کے وقت وہ میری منّتیں کرنے لگا کہ دیکھو چودھویں کا چاند کس طرح کھڑکی کے بالکل سامنے دکھائی دے رہا ہے۔ دروازہ کھول دو، خدا کے لیے دروازہ کھول دو۔ اگر نہیں کھولو گی تو یہی تیشہ اپنے سر میں مار لوں گا۔"
	میری بیوی نے اُس سے پوچھا تھا: "کیا تم نے دروازے میں قفل لگا رکّھا تھا؟"
	کہنے لگی: "ہاں، میں نے بتایا تو ہے۔ وہ خود چاہتا تھا۔ بولا: آج چودھویں کی رات ہے۔ ڈرتا ہوں آج پھر چاند کے اثر سے کچھ کر نہ بیٹھوں۔ یہ قفل لو اور دروازہ میں ڈال دو۔ میں کتنی بھی منّتیں کروں، ہرگز دروازہ مت کھولنا۔"
	میں نے پوچھا: "کون اُسے کچھ کرنے پر مجبور کر رہا تھا؟"
	بولی: "مجھے کیا پتا۔ اس نے بتایا ہی نہیں۔"
	دونوں جڑواں بھائیوں کو بھی کچھ پتا نہ تھا۔ وہ قبر کے دونوں طرف زمین پر بیٹھے انگلیوں سے خاک پر لکیریں کھینچ رہے تھے۔ میں بھی وہیں بیٹھ گیا اور بولا: "شہید بہشت میں جاتا ہے۔"
	اصغر نے اکبر سے کہا: "وہ خود جانتے تھے کہ ایسا ہی ہو گا۔ مگر کچھ کرنا ان کے بس میں نہ تھا۔ ان کے خواب میں آیا تھا۔ یا شاید بیداری میں۔ ان کو خیال ہوا کہ اگر یہاں سے چلے جائیں، اگر... پتا نہیں... اگر ہمّت کریں تو ممکن ہے یہ طلسم توڑ سکیں۔ کہتے تھے: ہر سَو سال بعد یہی ہوتا ہے۔ کسی ایک کو جانا پڑتا ہے۔"
	میں نے پوچھا: "کہاں؟"
	اکبر بولا: "پہاڑ پر، اور کہاں۔"
	پھر دونوں ایک ساتھ بولے: "وہ کوہِ صفّہ پر گئے تھے۔"
	اور ان میں سے ایک نے چوٹی کی طرف اشارہ کیا، یا شاید اُس کتبے کی طرف جو حال ہی میں لگایا گیا تھا۔ میں نے کہا: "آخر کس لیے؟"
	بولا: "ان کا تیشہ بھی نہیں ہے۔ ان کے اوزاروں میں نہیں ملا۔ بہت ڈھونڈا۔"
	میں نے کہا: "وہ سنگ تراش تو نہیں تھا۔ پہاڑ کی چٹانوں پر تو نقاشی نہیں کر سکتا تھا۔"
	ان میں سے ایک بولا: "انھوں نے کی تھی۔ پہلے۔ پھر اسے پلاسٹر سے بھی بنایا تھا۔ آپ دیکھیے گا۔"
	میں نے دیکھا۔ اس میں پورے چاند کے قرص یا جھوٹی خبر لانے والی بڑھیا کا کہیں نشان نہ تھا۔ اس کے مرنے کے ساتویں دن جب میں اس کی قبر سے لوٹ کر پُرسے کے لیے اس کے گھر گیا تھا، تب دیکھا۔ اُس کی قبر پر انھوں نے ایک پتھر لگا دیا تھا جس پر  تیشے کی علامت بنی ہوئی تھی اور اس کے اردگرد بیل بوٹے تھے۔
	مگر ان کے مہمان خانے میں بخاری کے گرم پانی کے پائپوں کے اوپر بنا ہوا مجلس کا نقش __ وہ بزمِ خسرو کا نقش تھا۔ میرا خیال ہے وہ نامکمل ہے، پورا نہیں ہو سکا، اس لیے کہ خسرو کا چہرہ محض پلاسٹر کی ایک تہہ ہے۔ شیریں کی صورت البتہ مکمل ہے، اس کے لمبے ، تابدار گیسو اس کی گردن کے گرد گھوم کر اس کے سینے کو چھپائے ہوے ہیں اور اس کے چھوٹے، گول پستانوں پر لپٹے ہوے ہیں۔ وہ تخت پر خسرو کے برابر میں بیٹھی ہے۔ تخت کے سامنے مطربائیں نیم دائرے میں بیٹھی ہیں۔ ایک چنگ نواز اپنے گھنگھریالے بال شانوں تک لٹکائے اور کانوں میں آویزے پہنے نیم دائرے کے بائیں سرے پر بیٹھی ہے۔ اس کا نیم رُخ دکھائی دے رہا ہے۔ دو اور عورتیں بھی تخت کی طرف منھ کیے بیٹھی ہیں۔ ان کی چمکیلی زلفوں کا خرمن ان کی پشت کو چھپائے ہوے ہے۔ ان کے شانے، بازو اور کلائیاں نامکمل ہیں، شاید عمداً، اس طرح کہ لگتا ہے انھیں سفید پولک سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ صرف ان کے ساز، تنبک اور سنتور، نظر آ رہے ہیں۔ نیم دائرے کے داہنے سرے پر ایک مغنّیہ کھڑی ہے، اس کا بھی نیم رُخ دکھائی دے رہا ہے۔ اس کا چہرہ بالکل چنگ نواز کے چہرے کی طرح ہے۔ مگر اس کا دہن کھلا ہوا ہے۔ چنگ نواز کا دہن چھوٹا ہے، غنچے کی طرح، مگر سفید۔ نیم دائرے کے مرکز میں رقاصہ ہے، تخت کے قریب اور نیم عریاں۔ اس کے پستان دو لیموؤں کی طرح ہیں اور خم دار زلفیں بائیں شانے پر گری ہوئی ہیں۔ وہ دو زانو زمین پر بیٹھی ہے اور دونوں ہاتھ اس نے اپنے سر کے اوپر اٹھا کر ملا رکھے ہیں۔ اس کی بھری بھری رانیں عریاں ہیں۔ اور اس کا گول چہرہ شیریں کے چہرے سے مشابہ ہے: بادامی آنکھیں، کمان جیسی بھنویں اور بائیں رخسار پر ایک سیاہ تِل۔ پیچھے، بہت دور، پہاڑ دکھائی دیتا ہے، اور اس سے گرتا ہوا باریک نیلا چشمہ بھی نظر آتا ہے۔ فرہاد، نیم رخ اور قامت میں خسرو کے برابر، مگر بے پولک اور بے تاج، تیشہ در دست، یوں لگتا ہے جیسے پہاڑ پر نہیں بلکہ اس بزم کے قریب بیٹھا ہے اور اس کی کھینچی ہوئی جوئے شِیر صاف دکھائی نہیں دیتی۔ دو ایک چٹانیں پہاڑ سے ٹوٹ کر لڑھکتی ہوئی تخت کے قریب آ گئی ہیں اور فرہاد کے بازو اور کلائیاں اور ہاتھ میں اٹھایا ہوا تیشہ دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ اب بھی کوہ کنی میں مصروف ہو، یا جیسے ابھی ایک اَور ضرب لگا کر پورے پہاڑ کو سامنے سے ہٹا دینے والا ہو۔
٭٭٭

ماخذ:
آج، مدیر : اجمل کمال کے شمارہ ۲۷ سے
http://pakdata.com/aaj/aaj26/hoshang.htm
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
