﻿

دوریاں مقدر ہیں 

عاطف سعید
 

 

عادتیں 

لاکھ چاہو بدل نہیں سکتیں 
زندگی سے نکل نہیں سکتیں 

عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں 
٭٭٭
 


عجب پاگل سی لڑکی ہے


عجب پاگل سی لڑکی ہے
مجھے ہر خط میں لکھتی ہے
مجھے تم یاد کرتے ہو؟ تمھیں میں یاد آتی ہوں ؟
مری باتیں ستاتی ہیں 
مری نیندیں جگاتی ہیں 
مری آنکھیں رلاتی ہیں 
دسمبر کی سنہری دھوپ میں اب بھی ٹہلتے ہو
کسی خاموش رستے سے کوئی آواز آتی ہے؟
ٹھٹھرتی سرد راتوں میں تم اب بھی چھت پہ جاتے ہو
فلک کے سب ستاروں کو مری باتیں سناتے ہو
کتابوں سے تمھارے عشق میں کوئی کمی آئی
یا میری یاد کی شدت سے آنکھوں میں نمی آئی
عجب پاگل سی لڑکی ہے
مجھے ہر خط میں لکھتی ہے
جواباً اس کو لکھتا ہوں 
مری مصروفیت دیکھو
سحر سے شام آفس میں چراغ عمر جلتا ہے
پھر اس کے بعد دنیا کی کئی مجبوریاں پاؤں میں بیڑی ڈال رکھتی ہیں 
مجھے بے فکر، چاہت سے بھرے سپنے نہیں دکھتے
ٹہلنے، جاگنے، رونے کی فرصت ہی نہیں ملتی
ستاروں سے ملے عرصہ ہوا ناراض ہوں شاید
کتابوں سے شغف میرا ابھی ویسے ہی قائم ہے
بس اب اتنا ہوا ہے میں انھیں عرصہ میں پڑھتا ہوں 
تمھیں کس نے کہا پگلی تمھیں میں یاد کرتا ہوں ؟
کہ میں خود کو بھلانے کی مسلسل جستجو میں ہوں 
تمھیں نہ یاد آنے کی مسلسل جستجو میں ہوں 
مگر یہ جستجو میری بہت ناکام رہتی ہے
مرے دن رات میں اب بھی تمھاری شام رہتی ہے
مرے لفظوں کی ہر مالا تمھارے نام رہتی ہے
تمھیں کس نے کہا پگلی مجھے تم یاد آتی ہو؟
پرانی بات ہو جو لوگ اکثر گنگناتے ہیں 
انھیں ہم یاد کرتے ہیں جنھیں ہم بھول جاتے ہیں 
عجب پاگل سی لڑکی ہو
مری مصروفیت دیکھو
تمھیں دل سے بھلاؤں تو تمھاری یاد آئے نا!
تمھیں دل سے بھلانے کی مجھے فرصت نہیں ملتی
اور اس مصروف جیون میں 
تمھارے خط کا اک جملہ
تمھیں میں یاد آتی ہوں 
مری چاہت کی شدت میں کمی ہونے نہیں دیتا
بہت راتیں جگاتا ہے مجھے سونے نہیں دیتا
سو اگلی بار اپنے خط میں یہ جملہ نہیں لکھنا!
عجب پاگل سی لڑکی ہے، مجھے پھر بھی یہ کہتی ہے
مجھے تم یاد کرتے ہو؟ تمھیں میں یاد آتی ہوں ؟
٭٭٭
 
ماں

ماں کی ممتا، چھاؤں گھنیری ،ٹھاٹھیں مارتی رحمت
ماں اک ایسی ہستی جس کے پاؤں تلے ہے جنت
ماں کی نظر میں چمکے ہر دم چاہت کا اک نور
خوش قسمت انسان وہی ہے ملی یہ جس کو راحت
ماں کی دعا سے ٹل جائے ہر ایک بلائے جان
ہاتھ دعا کو اٹھ جائیں تو مٹ جائے ہر وحشت
دنیا بھر کی خوشیوں سے بھر جائے اس کا دامن
جس نے دل سے کی ہو اپنی پیاری ماں کی خدمت
ماں زندہ تو قدم قدم پر اس کی دعائیں ساتھ
اس کے دم سے گھر کے کونے کونے میں اک برکت
بعد خدا کے ہستی یہ وہ جو ٹھہری رحمن
انسانی رشتوں میں سب سے بڑھ کر ماں کی عظمت
ماں کا سایہ رہے سلامت مجھ پر اے عاطف
روز نظر یہ دیکھنا چاہے ماں کی پیاری صورت



وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی ۔۔۔

    وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
    کبھی جب بات کرتی ہے
    تو اس کے لفظ خوشبو کی طرح محسوس ہوتے ہیں 
    وہ ہنستی ہے تو جیسے سارا عالم اس ہنسی میں ڈوب جاتا ہے
    وہ لب اس کے، وہ آنکھیں اور وہ چہرے کی شادابی
    کہ جیسے اپسرا کوئی
    وہ میرا نام لیتی ہے تو میری روح میں جیسے نشہ سا اک اُترتا ہے
    مرا مَن جھوم اٹھتا ہے
    وہ رنگوں میں ‌ڈھلی لڑکی
    جھکائے اپنی پلکوں کو کبھی مجھ سے جو کہتی ہے
    مجھے تم سے محبت ہے
    تو اس کا شرمگیں لہجہ، یقیں مجھ کو دلاتا ہے کہ دُنیا خوبصورت ہے
    وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
    اُداسی کے گھنے سایوں کو جب بھی اوڑھ لیتی ہے
    مرا دل خون روتا ہے
    میں اس کی شربتی آنکھوں کے نم سے بھیگ جاتا ہوں 
    وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
    جسے مجھ سے محبت ہے
    مرا اظہار سنتی ہے تو پھر سب بھول جاتی ہے
    جھکائے اپنی پلکوں کو وہ ایسے مسکراتی ہے
    کہ جیسے اپسرا کوئی
    وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
    مرے لفظوں میں رہتی ہے
    مجھے اکثر یہ کہتی ہے
    مجھے تم سے محبت ہے
٭٭٭
 

مجھے تم کیا بتاؤ گی ؟

کہ جب سے مجھ سے بچھڑی ہو
بہت بےچین رہتی ہو
مری باتیں ستاتی ہیں 
مرے لفظوں کے جگنو!
ایک پل اوجھل نہیں ہوتے
مری نظمیں رُلاتی ہیں 
مری آنکھیں جگاتی ہیں 

مجھے تم کیا بتاؤ گی ۔۔

کہ تم نے بارہا اُن اجنبی چہروں کے جنگل میں 
مرے چہرے کو ڈھونڈا ہے
کسی مانوس لہجے پر
کسی مانوس آہٹ پر
پلٹ کر ایسے دیکھا ہے
کہ جیسے تم میری موجودگی محسوس کرتی ہو!

مجھے تم کیا بتاؤ گی!

کہ کتنی شبنمی شامیں 
ٹہلتے، سوچتے گزریں 
کہ کتنی چاندنی راتیں 
دُعائیں مانگتے گزریں 
کہ کتنے اشک ایسے تھے
جو گِرتے ہی رہے دل میں 

مجھے تم کیا بتاؤ گی ۔۔

مری جاں ! میں سمجھتا ہوں 
تمھاری اَن کہی باتیں 
کہ میں ان موسموں کے ایک اک رستے سے گزرا ہوں 
میں اب بھی لفظ چُنتا ہوں 
میں اب بھی اشک بُنتا ہوں 
کہ جب سے تم سے بچھڑا ہوں 
تمھاری ذات پر گزرے
میں ہر موسم میں رہتا ہوں 
تو پھر تم کیا سناؤ گی؟؟؟
مجھے تم کیا بتاؤ گی؟؟؟
٭٭٭
 

مری بیاری بجو آپ ہیں 


کچھ لوگ بہت ہی پیارے ہوتے ہیں 
زندگی سے بڑھ کر پیارے ہوتے ہیں 
جن کو سوچنے سے خیال مہکتے ہیں 
جب کو دیکھنے سے آنکھوں میں ٹھنڈک اُترتی ہے
جب سے بات کرنے سے لفظ قیمتی ہو جاتے ہیں 
جب کو چاہنے سے دل کی پیاس مٹ جاتی ہے
روح سرشار ہو جاتی ہے
جب کی باتیں سرمایۂ حیات بن جاتی ہیں 
جن کی پسند میں ڈھلنے کو دل چاہتا ہے
جن کی مرضی پہ چلنے کو جی چاہتا ہے
جن کی مسکراہٹ، ہزار غموں کو دھو دیتی ہے
جن کا ایک آنسو کائناتِ دل میں طوفان برپا کر دیتا ہے
جن کو سُکھ دینے کو دل چاہتا ہے
جن کی دُکھ لینے کو جی چاہتا ہے
جن کا فراق بہت رُلاتا ہے
جن سے ملنا اچھا لگتا ہے، بہت اچھا لگتا ہے
کچھ لوگ بہت ہی پیارے ہوتے ہیں 
وہ کچھ نہیں کہتے مگر سُنائی دیتے ہیں 
وہ سامنے نہیں آتے مگر دکھائی دیتے ہیں 
دل ہر موسم میں اُن کا ساتھ چاہتا ہے
وہ زندگی کی ہر خوبصورتی سے خوبصورت ہوتے ہیں 
کبھی یوں چونکا دیتے ہیں 
جیسے یونہی بے ارادہ مانگی دُعا پوری ہو جائے
یا یونہی بے ارادہ بولا جملہ شعر بن جائے
یا یونہی بے ارادہ کھنچی لکیر تصویر میں ڈھل جائے
صبح کی پہلی کرن کی طرح،
کبھی وہ سارا دن چمکا دیتے ہیں 
اور کبھی چودہ کے چاند کی طرح
راتیں جگمگا دیتے ہیں 
کبھی ڈوبتے دل کا سہارا بن جاتے ہیں 
اور کبھی !
انجانے میں اَگنت خوشیاں جھولی میں بھرتے ہیں 
لبوں پہ مسکان سجا کر،
آنسو اپنی پلکوں سے پونچھ لیتے ہیں 
کچھ لوگ بہت ہی پیارے ہوتے ہیں 
اپنوں سے بڑھ کر اپنے ہوتے ہیں 
ہر انسان کو اپنے جیون میں 
ایسا کوئی نہ کوئی ملتا ہے،
جو اپنوں سے بڑھ کے اپنا ہوتا ہے
اور میرے لیے!
مری بیاری بجو آپ ہیں 
جو ہر دم دُعاؤں کی طرح میرے ساتھ ہیں 
٭٭٭
 
کہا تھا نہ !

مجھے تم اس طرح سوتے ہوئے مت چھوڑ کے جانا
مجھے بیشک جگا دینا
بتا دینا
محبت کے سفر میں ساتھ میرے چل نہیں سکتیں 
جدائی میں ، ہجر میں ، ساتھ میرے جل نہیں سکتیں 
تمہیں رستہ بدلنا ہے
مری حد سے نکلنا ہے
تمہیں کس بات کا ڈر تھا
تمہیں جانے نہیں دیتا
کہیں پہ قید کر لیتا
ارے پگلی ! محبت کی طبیعت میں 
زبردستی نہیں ہوتی
جسے رستہ بدلنا ہو ، اسے رستہ بدلنے سے
جسے حد سے نکلنا ہو ، اسے حد سے نکلنے سے
نہ کوئی روک پایا ہے
نہ کوئی روک پائے گا
تمہیں کس بات کا ڈر تھا
مجھے بیشک جگا دیتے
میں تم کو دیکھ ہی لیتا
تمہیں کوئی دعا دیتا
کم از کم یوں تو نہ ہوتا
مرے ساتھی حقیقت ہے
تمہارے بعد کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں باقی
مگر کھونے سے ڈرتا ہوں 
میں اب سونے سے ڈرتا ہوں 
٭٭٭
 

محبت کچھ نہیں ہوتی


    مجھے اکثر یہ کہتی تھی محبت کچھ نہیں ہوتی
    ہجر کا خوف بے مطلب‘ وصل کے خواب بے معنی
    کوئی صورت نگاہوں میں کہاں دن رات رہتی ہے
    اسے کیوں خامشی کہیے کہ جس میں بات رہتی ہے
    یہ آنسو بے زباں آنسو بھلا کیا بول سکتے ہیں 
    کہاں دل میں کسی کی یاد سے طوفان اٹھتے ہیں 
    کہاں پلکوں کے سائے میں نمی دن رات رہتی ہے
    کہاں ہوتی ہیں وہ آنکھیں جہاں برسات رہتی ہے
    مجھے اکثر یہ کہتی تھی محبت کچھ نہیں ہوتی!
    مگر جب آج برسوں بعد میں نے اُس کو دیکھا ہے
    کہ اُس کی جھیل آنکھوں میں ہجر کا خوف رہتا ہے
    وصل کے خواب رہتے ہیں وہاں برسات رہتی ہے
    یوں لگتا ہے کئی راتوں سے وہ سوئی نہیں شاید
    یوں لگتا ہے کسی کی یاد اب دن رات رہتی ہے
    اور اس کی نرم پلکوں کے حسیں سائے بھی گیلے ہیں 
    اور اُس کی خامشی ایسی کہ جس میں بات رہتی ہے
    مجھے اب وہ نہیں کہتی محبت کچھ نہیں ہوتی
    کہ اب شاید محبت کی وہ سب رمزیں سمجھتی ہے
٭٭٭ 

گزارش

سنو
اتنی گزارش ہے
کہ جب یہ نام تیرا نام میرا جڑ نہیں سکتا
تو اپنے نام کے سنگ نام جوڑا مت کر کوئی
٭٭٭
 
اپنا دل تھام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
’’آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ!‘‘

دیکھ آتے ہیں نظر تجھ کو مناظر کیسے
لے میرا نام کسی یاد کی دہلیز پہ آ

اب تو ہر گام ضرورت ہے تیری یادوں کی
اب تُو ہر گام کسی یاد کی دہلیز پہ آ

غمِ دنیا نہ کہیں چھین لے تجھ کو مجھ سے

چھوڑ سب کام کسی یاد کی دہلیز پہ آ

آج کی شام منانا ہے تیرے غم کو مجھے
آج کی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
٭٭٭
 

وعدہ

مرا وعدہ یہ ہے تم سے
تمہیں اتنا میں چاہوں گا
کہ دنیا میں کہیں پر بھی!
محبت کے حوالے سے
کبھی جو بات نکلے گی
٭٭٭
 

محبتوں کا بھرم کھولتے ہیں سناٹے
ہجر کی شب میں بہت بولتے ہیں سناٹے
کسی کسی کو یہ اتنا نواز دیتے ہیں 
کسی کسی کو بہت رولتے ہیں سناٹے
٭٭٭

غموں سے اس قدر ہے دوستی اب
خوشی کی بھی نہیں مجھ کو خوشی اب
خدا جانے اسے کیا ہو گیا ہے
بہت ہی بولتی ہے خامشی اب
٭٭٭
 

یہی ہوا ناں 


یہی ہوا ناں 
کہ تم نے مجھ کو بھلا دیا ہے
جو نقشِ الفت تمہارے دل پہ کھدا ہوا تھا
اُسے کھرچ کے مٹا دیا ہے
مجھے خبر ہے
٭٭٭
 

اُس کی پلکوں پہ کوئی خواب سجا رہنے دے
حبس بڑھ جائے گا اِس در کو کھلا رہنے دے
میرے مالک تو بھلے چھین لے گویائی میری
میرے ہونٹوں پہ فقط ایک دعا رہنے دے
٭٭٭

جو سمجھو پیار محبت کا اتنا افسانہ ہوتا ہے
کچھ آنکھیں پاگل ہوتی ہیں کچھ دل دیوانہ ہوتا ہے
کیوں آنکھیں چوکھٹ پر رکھ کر تم دنیا بھول کے بیٹھے ہو
کب چھوڑ کے جانے والے کو پھر واپس آنا ہوتا ہے
٭٭٭
 

ہوا کے ہاتھ ایک پیغام

اُسے کہنا
ابھی تک دل دھڑکتا ہے
ابھی تک سانس چلتی ہے
ابھی تک یہ میری آنکھیں 
سہانے خواب بنتی ہیں 
میرے ہونٹوں کی جنبش میں 
تمہارا نام رہتا ہے
٭٭٭
 



دوست جیسی کبھی دشمن کی طرح لگتی ہے
زندگی تو کسی اُلجھن کی طرح لگتی ہے
ایک لمحے میں میرے من کو بھگو دیتی ہے
اُس کی ہر بات ہی ساون کی طرح لگتی ہے
٭٭٭


نجانے کیوں مجھے لگتا ہے ایسا
کہ وہ کچھ مجھ سے کہنا چاہتا ہے
اے میرے کم سخن ساتھی
میری بنجر سی آنکھوں سے
٭٭٭
 
    کسی موسم میں بھی جاناں 

    کسی موسم میں بھی جاناں 
    ہماری یاد کا دل سے
    اگر جو رابطہ ٹوٹے
    تو دل کو دوش مت دینا
    سمجھ لینا
کہ جو تم سے یہ کہتا تھا
’’تمہارا پیار جیون ہے‘‘
وہ اب ایسا نہیں کہتا
٭٭٭
 
نجانے کیوں مجھے لگتا ہے ایسا


نجانے کیوں مجھے لگتا ہے ایسا
کہ وہ کچھ مجھ سے کہنا چاہتا ہے
اے میرے کم سخن ساتھی
میری بنجر سی آنکھوں سے
کوئی دھوکا نہیں کھاؤ
کہ تم کب دیکھ سکتی ہو
٭٭٭
 

میرے اندر سانس لینا چھوڑ دے
اے اداسی! میرا پیچھا چھوڑ دے
چاند کیا آنگن میں اترا ہے کبھی
سن مری جاں یہ تمنا چھوڑ دے
٭٭٭

تمناؤں کے سب دَر کھولتا ہے
’’تری آنکھوں کا لہجہ بولتا ہے‘‘
چھپانے کی کوئی صورت نہیں ہے
کوئی اوپر سے سب کچھ دیکھتا ہے
٭٭٭
 


اس طرح کے حادثے مجھ کو ستانے لگ گئے
بھول بیٹھا تھا جنہیں وہ یاد آنے لگ گئے

بس یہ کہنا تھا ’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘ مگر!
یہ بتانے میں مجھے کتنے زمانے لگ گئے

کچھ پرانی دوستی کو یاد کیا میں نے کیا!!
مسکرائے ہونٹ آنسو جھلملانے لگ گئے

رت جگے، تیری محبت کی بدولت مل گئے
دیکھ میرے ہاتھ میں کیسے خزانے لگ گئے

ہم نے اکثر اس طرح اپنا اڑایا ہے مذاق
بے بسی حد سے بڑھی تو مسکرانے لگ گئے

کون روکے گا بکھرنے سے انہیں اب دوستو
آندھیوں کے ہاتھ پھر سے آشیانے لگ گئے
٭٭٭


مجھے لکھنے کی خواہش ہے

مجھے لکھنے کی خواہش ہے
مگر لکھا نہیں جاتا
مرے الفاظ دل کی آہنی دیوار سے سر پھوڑتے ہیں 
اور انہیں اظہار کا
رستہ نہیں ملتا
٭٭٭
 

مری آنکھیں 


تری آنکھوں سی آنکھیں ‘‘
تری آنکھوں سی آنکھیں 
آج اک چہرے پہ دیکھی ہیں 
وہی رنگت بناوٹ
اور ویسی بے رُخی اُن میں 
بچھڑتے وقت جو میں نے

٭٭٭
 

مجھے خود سے مُکرنا پڑ گیا ہے
ترے سانچے میں ڈھلنا پڑ گیا ہے
یہ آنکھیں اس لیے خوں رنگ ہوئی ہیں 
مجھے آنسو نگلنا پڑ گیا ہے
٭٭٭

بے بسی

کس قدر بے بسی تھی لہجے میں 
تو نے جب مجھ سے کہا تھا اک دن
’’میں تمہیں سوچتی کیوں رہتی ہوں ‘‘
٭٭٭
 

بے بسی پر ایک اور نظم

عجیب سی بے بسی ہے یہ
تمہیں کہہ بھی نہیں سکتا
مجھے تم سے محبت ہے
٭٭٭
 

آج تک میں نہیں سمجھا تیری دنیا کیا ہے
اے خدا تو ہی بتا دے یہ تماشا کیا ہے
یہ سنا ہے لکیروں کی زباں ہوتی ہے
بول دیتی ہیں کہ اِس ہاتھ میں لکھا کیا ہے
٭٭٭


    لہو رونے سے ڈرتا ہوں جدا ہونے سے ڈرتا ہوں 
    مری آنکھیں بتاتی ہیں کہ میں سونے سے ڈرتا ہوں 
    مری انگلی پکڑ لینا مجھے تنہا نہیں کرنا
    یہ دنیا ایک میلہ ہے تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں 
٭٭٭
 
ابھی اک موڑ آیا ہے

ابھی اک موڑ آیا ہے
ابھی منزل نہیں آئی
ابھی اپنے دیے سے
اور کتنے ہی دیے مجھ کو جلانے ہیں 
ابھی تو اِس سفر میں 
اور کتنے موڑ آنے ہیں 
ابھی میں تازہ دم ہوں 
٭٭٭
 

جیت


تم سے ملنے کا وعدہ تھا
جی کرتا تھا
جیسے مجھ کو تڑپاتی ہو
ویسے ہی تم کو تڑپاؤں 
٭٭٭
 

مجھے تم سے محبت ہے


مری جاں ٹھیک کہتی ہو
ہماری اس محبت کا
بھلا کیا فائدہ ہو گا
ہمارے درمیاں جو دوریاں ہیں 
کم نہیں ہوں گی
٭٭٭
 


محبت کی طبیعت میں اگرچہ غم نہیں ہوتا
مگر خدشہ جدائی کا غموں سے کم نہیں ہوتا
کوئی جگنو کوئی تارا کہیں سے ڈھونڈ کر لاؤ
گھروں کو پھونک دینے سے اندھیرا کم نہیں ہوتا
٭٭٭

ایک SMS

جس دن تجھ سے بات نہیں ہوتی
یوں لگتا ہے دن نہیں چڑھتا
یوں لگتا ہے رات نہیں ہوتی
٭٭٭
 
ابھی تو رات باقی ہے

ابھی تارے چمکتے ہیں 
ابھی سورج نکلنے میں 
ذرا تاخیر باقی ہے
ابھی تیری کہی باتیں 
مری پلکوں پہ بیٹھی ہیں 
ابھی منظر جدائی کا
مری آنکھوں میں ٹھہرا ہے
ابھی اک آس کا دیپک
مری آنکھوں میں جلتا ہے
ابھی جو خود سے کہنی ہے
وہ مشکل بات باقی ہے
ابھی کچھ دیر رونا ہے
ابھی تو رات باقی ہے
٭٭٭
 

مجھے کچھ دیر سونے دے


سنو!
میں تھک گیا ہوں
مری پلکوں پہ اب تک کچھ ادھورے خواب جلتے ہیں
مری نیندوں میں تیرے وصل کا ریشم الجھتا ہے
مرے آنسو‘ مرے چہرے پہ تیرے غم کو لکھتے ہیں
مرے اندر کئی صدیوں کے سناٹوں کا ڈیرہ ہے
مرے الفاظ بانہیں وا کیے مجھ کو بلاتے ہیں
مگر میں تھک گیا ہوں
اور میں نے خامشی کی گود میں سر رکھ دیا ہے
میں بالوں میں تمہارے ہجر کی نرم انگلیاں محسوس کرتا ہوں
مری پلکوں پہ جلتے خواب ہیں اب راکھ کی صورت
تمہارے وصل کا ریشم بھی اب نیندیں نہیں بنتیں
مری آنکھوں میں جیسے تھر کے موسم کا بسیرا ہے
مجھے اندر کے سناٹوں میں گہری نیند آئی ہے
سنو!
اِس یاد سے کہہ دو
مجھے کچھ دیر سونے دے
٭٭٭

زمانے سے جدا لگنے لگا ہے
وہ کتنا با وفا لگنے لگا ہے
یہ کیسے دور میں ہم جی رہے ہیں 
بشر بھی اب خدا لگنے لگا ہے
٭٭٭
 

Difference

بچھڑنے اور جدائی میں ذرا سا فرق ہوتا ہے
جدا ہو کر کسی سے پھر کبھی کوئی نہیں ملتا
بچھڑ جائیں تو ملنے کا کوئی امکان رہتا ہے
جدا ہو کر کسی کی یاد دل میں رہ نہیں سکتی
٭٭٭

کون کہتا ہے محبت نام ہے رسوائی کا
کب سنا ہے پھول کو شبنم نے میلا کر دیا
ڈھونڈتا پھرتا ہے اب وہ دوستوں کو ہر طرف
دوستی کے شوق نے اُس کو اکیلا کر دیا
٭٭٭
 

’خود فریبی

    ابھی تک تو ہم خود فریبی کی دھند میں 
    یوں ہاتھوں کو تھامے
    جدائی کے خدشوں کو دل سے نکالے
    چلے جا رہے ہیں 
    مگر دھند چھٹے گی
٭٭٭
 

مجھے تم کیا بتاؤ گی‘‘

مجھے تم کیا بتاؤ گی؟
کہ جب سے مجھ سے بچھڑی ہو
بہت بے چین رہتی ہو
مری باتیں ستاتی ہیں 
٭٭٭


کبھی قیاس کبھی وہ گمان بدلے گا
میں جانتا تھا وہ اپنا بیان بدلے گا
مری آنکھوں میں بھی رہنا تجھے قبول نہیں 
بتا کہ اور تو کتنے مکان بدلے گا
٭٭٭
 

کسی کی یاد کی پرچھائیوں میں چھوڑ گیا
یہ کون پھر سے مجھے آندھیوں میں چھوڑ گیا
مہک رہا ہوں صبح و شام تیری یادوں میں 
ترا وجود مجھے خوشبوؤں میں چھوڑ گیا
٭٭٭

کچھ اس طرح سے تمہارا خیال رکھا ہے
تمہارے واسطے خود کو سنبھال رکھا ہے
یوں لگ رہا ہے کہ بارش میں دھوپ نکلی ہے
خوشی میں اس طرح تم نے ملال رکھا ہے
٭٭٭
 
اور کچھ نہیں بدلا

آج بعد مدت کے
میں نے اُس کو دیکھا ہے
وہ ذرا نہیں بدلی!
اب بھی اپنی آنکھوں میں 
سو سوال رکھتی ہے
چھوٹی چھوٹی باتوں پہ
٭٭٭

محبت کو بھلانا چاہیے تھا
مجھے جی کر دکھانا چاہیے تھا
مجھے تو ساتھ اس کا بھی بہت تھا
اسے سارا زمانہ چاہیے تھا
٭٭٭


میں خواب بہت دیکھتا ہوں 

میں خواب بہت دیکھتا ہوں 
ایسے خواب
جن میں کوئی دکھ کوئی پریشانی نہیں ہوتی
جن میں وصل کے رستے ہجر کی وادی سے ہو کر نہیں گزرتے
جن میں محبت ہمیشہ ادھ کھلے پھول کی طرح خوبصورت
اور بچے کی مسکان کی طرح پاکیزہ ہوتی ہے
٭٭٭
 
’آج پھر شام ڈھلے۔ ۔ ۔ 

    پھر وہی درد سا جاگا ہے رگوں میں میری
    پھر وہی آہ سے نکلی ہے میرے سینے سے
    پھر وہی خواب سے ٹوٹے ہیں میری آنکھوں میں 
    پھر وہی درد کی تلخی ہے میری باتوں میں 
٭٭٭

کب ملے غیر کی پناہوں سے
درد ملتے ہیں آشناؤں سے
خشک پتوں کو ناچتے دیکھا
گیت سنتا رہا ہواؤں سے
٭٭٭
 
ابھی اک آس باقی ہے

بہت دن سے
مجھے کچھ اَن کہے الفاظ نے بے چین کر رکھا ہے
مجھے سونے نہیں دیتے
مجھے ہنسنے نہیں دیتے
مجھے رونے نہیں دیتے
٭٭٭


میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوں 
کبھی دعاؤں کبھی سازشوں میں رہتا ہوں 
جو تم ذرا سا بھی بدلے تو جان لے لو گے
میں کچھ دنوں سے عجب واہموں میں رہتا ہوں 
٭٭٭



ہاتھ ہاتھوں میں جب تمہارا تھا
خواب وہ زندگی سے پیارا تھا
میں نے دیکھے تھے خواب میں آنسو
یہ بھی شاید کوئی اشارہ تھا
٭٭٭


    آج سارا دن تمہاری یاد کے بادل رہے
    آج ساری رات اپنی دھڑکنیں گنتا رہا
    کون سے موقع پہ تم نے یاد کس طرح رکھا
    شیلف میں رکھی ہوئی سب خوشبوئیں گنتا رہا
٭٭٭
 

ذرا سی بے سکونی ہے

    مجھے اس زندگانی سے
    کوئی شکوہ نہیں لیکن
    ذرا سی بے سکونی ہے
    نجانے کیوں میرے دل میں 
    عجب اک خوف رہتا ہے
    مجھے محسوس ہوتا ہے
کہ میرے دل کے دروازے پہ
تیری یاد کی دستک میں وہ شدت نہیں باقی
بہت سی خاص باتیں ہیں
جو مجھ کو عام لگتی ہیں
مرے دل میں انہیں سن کر کوئی طوفاں نہیں اُٹھتا
تری آنکھیںС ترا چہرہ
تری آواز کی رم جھم
سبھی کچھ خواب لگتا ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
سنہری تتلیوں جیسے
وہ سب خوش رنگ سے سپنے
مرے لفظوں کے پھولوں پر
بہت دن سے نہیں بیٹھے
مجھے محسوس ہوتا ہے
سمے کی تیز لہروں نے
ہمارے ریت کے کچے گھروندے توڑ ڈالے ہیں
مجھے اُن تیز لہروں سے
سنہری تتلیوں جیسے
سبھی خوش رنگ سپنوں سے
کوئی شکوہ نہیں لیکن
ذرا سی بے سکونی ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
تمہارے دل کے دروازے پہ میری یاد کی دستک
مری جاں اب نہیں ہوتی
مری جاں اب نہیں ہوتا
کہ میری یاد آئے تو
تمہاری آنکھ بھر آئے
دعائیں مانگتے لمحے
مجھے تم بھول جاتی ہو
مگر پھر مجھے تم سے
کوئی شکوہ نہیں لیکن
عجب سی بے سکونی ہے
عجب اک خوف ہے دل میں
میں تم کو بھول جاؤں گا
٭٭٭
 

محبت کی ایک نظم



چھپانا راز اس دل کے
اگر تم چھوڑ دو جاناں 
تمہیں مجھ سے محبت ہے
اگر تم بول دو جاناں 
تو جیون کے سفر میں 
راستہ آسان ہو جائے
ہمارے پاس بھی جینے کا
کچھ سامان ہو جائے

وگرنہ ہم
تمہارے دل کے دروازے کے باہر
آس میں بیٹھے رہیں گے
تم کبھی تو بند دروازے کو کھولو گی
مرے شانے پہ سر رکھ کر
کبھی دھیرے سے بولو گی
مجھے تم سے محبت ہے
٭٭٭

مجھے جو آنکھ سے اوجھل دکھائی دیتا ہے
وہ چپ رہے بھی تو مجھ کو سنائی دیتا ہے
تمہارے پاؤں میں رکھ دی ہے شاعری اپنی
کسی کو کون یوں اپنی کمائی دیتا ہے
٭٭٭
 

کہیں ایسا کبھی دیکھا نہیں ہے
وہ میرا ہو کے بھی میرا نہیں ہے
سمندر بانٹتا پھرتا ہے پانی
مگر اب کوئی بھی پیاسا نہیں ہے
٭٭٭


    بدل گئی ہے یہ زندگی اب سبھی نظارے بدل گئے ہیں 
    کہیں پہ موجیں بدل گئی ہیں کہیں کنارے بدل گئے ہیں 
    بدل گیا ہے اب اس کا لہجہ اب اُس کی آنکھیں بدل گئی ہیں 
    وہ چاند چہرہ ہے اب بھی ویسا میرے ستارے بدل گئے ہیں 
٭٭٭
 
کچھ دیر پہلے نیند سے

    کل رات جانے کیا ہوا
    کچھ دیر پہلے نیند سے
    کچھ اشک ملنے آ گئے
    کچھ خواب بھی ٹوٹے ہوئے
    کچھ لوگ بھی بھولے ہوئے
٭٭٭

    کچھ خوشی کے سائے میں اور کچھ غموں کے ساتھ ساتھ
    زندگی کٹ ہی گئی ہے الجھنوں کے ساتھ ساتھ
    آج تک اُس کی تھکن سے دُکھ رہا ہے یہ بدن
    اک سفر میں نے کیا تھا خواہشوں کے ساتھ ساتھ
٭٭٭
 
میں شام یادوں کے جنگلوں میں گزارتا ہوں , کہ کچھ لکھوں گا
یہ شہر سارا ہی سو چکا ہے میں جاگتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا
بہار رُت کے وہ خواب سارے جو میری پلکوں پہ آ سجے تھے
وہ خواب آنکھوں میں جل چکے ہیں میں جل رہا ہوں کہ کچھ لکھوں گا
٭٭٭

ہجر اُگنے لگا ہے پوروں پر
دل میں کیا بیج بو گئی ہو تم
ایک لمحے کو سوچتی بھی نہیں 
کتنی مصروف ہو گئی ہو تم
٭٭٭
http://forum.urduworld.com/f904/
پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید 