﻿

دولتِ بے زوال
و
برکتِ حال و مآل

-: تصنیف لطیف :-
سیدالخلفا مفتی سید عبد الفتاح حسینی قادری گلشن آبادی(م۱۳۲۳ھ)

-: تسہیل  و ترتیب :-
محمد افروز قادری چریاکوٹی
جامعۃ المصطفیٰ/دلاص یونیورسٹی، کیپ ٹاؤن، ساؤتھ افریقہ








انتساب

دکھی اُمت مسلمہ
کے نام

اِس آرزوئے دیرینہ کے ساتھ کہ اُس کے سارے غم غلط ہو جائیں 
اُس کی عظمت رفتہ پلٹ آئے،اور کشتِ اُخوت و محبت لہلہا اُٹھے۔
 

-:  دعاگو  و  دعا جو  :-
محمد افروز قادری چریاکوٹی


ِ 	
عرضِ مرتب

بر صغیر ہند و پاک میں گزشتہ چند ایک صدیوں کے اندر علمائے اہلسنّت نے جو زندہ علمی خدمات انجام دی ہیں وہ آبِ زرّیں سے رقم کرنے کے لائق ہیں۔  حیرت ہوتی ہے کہ وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود وہ کرشماتی طور پر اِتنا کچھ کر گئے کہ آج وسائل کی ہزار فراہمی کے با وصف ہم سے اُس کا عشر عشیر بھی نہیں ہو پاتھا-خدا اُن کی خدمتوں کا بھرپور صلا عطا فرمائے-
سچے پیروکار ہونے کا حق تو یہ تھا کہ ہم اُن شہ پاروں کی عصر حاضر کے طباعتی تقاضوں کے مطابق اِشاعت کر کے خلق خدا کے اِستفادے کا سامان کرتے،  مگر ہماری غفلت کوشی اور عدم دلچسپی نے نہ خود کچھ کام کرنے دیا اور نہ اَکابر اُمت کے کارناموں کو اُجاگر کرنے کا موقع عطا کیا۔ بالآخر وہ ہیرے موتی گردشِ زمانہ کی نذر ہو کر رہ گئے،  مگر یہ ہیرے موتی ایسے نہ تھے جنھیں گردِ خمول اپنے اندر چھپا لیتی۔ پھر کیا ہوا کہ اُن کی تب و تاب نے غواصوں کو اپنی طرف متوجہ کیا،اور اُن کی بازیافت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔
جماعت اہل سنت کی کم ہی خوش نصیب شخصیات ہیں جن کی خدمات کو خاطر خواہ انداز میں منظر عام پر لانے کا جماعتی فریضہ سرانجام دیا گیا،  ورنہ بیشتر ہماری بے توجہی کے عتاب کا شکار ہو کر رہ گئیں۔ اور آج اُن کے کام تو ایک طرف رہے نام سے بھی نسلِ نو واقف نہیں۔  
اِحیائے تراثِ اہل سنت کی اِسی فکر کے تحت ہم نے ۱۴۳۳ھ/۲۰۱۲ء میں ’تحریک تحفظ و ترویج اثاثۂ  علمائے اہلسنّت کی بنیاد رکھی، اور بہت سی فراموش شدہ شخصیات پر جنگی پیمانے پر کام کا آغاز کر دیا۔ اِس پلیٹ فارم سے مولانا حسن رضا بریلوی کی نثری و شعری خدمات بشکل ’کلیاتِ حسن اور’رسائل حسن ہماری اوّلین پیش کش ہے۔ قریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل یہ کام ’رضا اکیڈمی ممبئی کی معاونت سے منظر عام پر آ چکا ہے۔ اور اسی طرز پر جماعت کی دیگر سربرآوردہ شخصیات کے کارناموں کی شیرازہ بندی اور ترتیب و تہذیب بھی حسب مقدور جاری وساری ہے۔ و ما توفیقی الا باللہ۔
اِس میں اپنے لہو کا ضیاع ہی سہی	   ٭     لَو چراغوں کی ہم تیز کر جائیں گے
یہ کتاب ’دولت بے زوال ‘بھی دراصل اسی سلسلہ زرّیں کی ایک کڑی ہے۔ میرے دوست علامہ سیدرضوان احمد الرفاعی-حفظہ اللہ ورعاہ- اس سلسلے میں کافی تحقیق و تفحص کر رہے ہیں،  اور قریب ہی ہم -اِن شاء اللہ- مفتی سیدعبدالفتاح گلشن آبادی علیہ الرحمہ کے جملہ علمی و فقہی شہ پاروں کو ایک نئی سج دھج کے ساتھ پیش کریں گے۔ 
کوئی ایک سال ہوئے ہوں گے کہ میں دیگر مصروفیات کے ساتھ فقیہ ابواللیث سمرقندی علیہ الرحمہ کی نایاب کتاب ’بستان العارفین‘ کے ترجمے میں جٹا ہوا ہوں،  اب بس مکمل ہوئی چاہتی ہے۔ کسی دور میں یہ ’تنبیہ الغافلین کے حاشیے پر شائع ہوتی رہی تھی،  لیکن کسی مصلحت کے پیش نظر ہمارے مخالفین نے اس کی طباعت موقوف کر دی،  تاہم اس کے دو ایک نسخے ہمیں کہیں سے مل گئے، اور ہم نے اپنا کام چلا لیا۔فالحمدللہ۔
اب اُس کتاب کا اِس کتاب سے تعلق دیکھیے کہ علامہ سیدرضوان احمد الرفاعی نے مجھ سے ’دولت بے زوال کی تسہیل و تخریج کے تعلق سے بات کی۔ میں نے اپنی عدیم الفرصتی اور’بستان العارفین‘ کی نقد مصروفیت سنائی تو انھوں نے اِس کتاب کی اہمیت و افادیت اور اپنی دینی و علمی مصروفیت بیان کرنا شروع کر دی، بالآخر میں نے خیالِ خاطر احباب کے پیش نظر اس پر کام کرنے کی حامی بھر لی۔ 
حسن اتقاق دیکھیے کہ جب کتاب کھولی تو پتا چلا کہ ’دولت بے زوال‘ لکھنے کا باعث دراصل ’بستان العارفین‘ ہی کی ایک حدیث بنی تھی، جس کا اعتراف مولف نے بالکل آغازِ باب میں کیا ہے۔گویا اس کتاب پر کام کرنا میرے نوشتہ تقدیر میں تھا!۔
’دولت بے زوال و برکت حال و مآل‘  میں کیا کچھ پنہاں ہے، یہ تو آپ کو پڑھنے کے بعد ہی معلوم ہو گا۔ یہاں میں صرف اتنا عرض کر دینا کافی سمجھتا ہوں کہ اس رنگ و آہنگ کی کم کتابیں بزبانِ اردو حیطہ تحریر میں آئی ہیں۔  اور مؤلف کے اسلوبِ بیان تو پر قربان جانے کو جی کرتا ہے کہ انھوں نے ’ایک تیر دو شکار نہیں بلکہ ’ایک تیر صد شکار‘ کا کارنامہ انجام دیا ہے۔
بادی النظر میں تو یہ اوراد و وظائف کی ایک کتاب معلوم ہوتی ہے جس کی قرأت و مداومت آپ کو مفلسی کے مہیب سائے سے پناہ عطا کر دے گی اور تونگری کے بادل آپ پر سدا سایہ فگن رہیں گے،  لیکن درحقیقت اس میں علامہ نے وہ فراموش شدہ مسائل و معمولات بڑی چابکدستی سے مندرج فرما دیے ہیں جن سے عوام تو عوام خواص بھی بے اعتنائی برتتے نظر آتے ہیں،  اور جن کی ہماری نگاہوں میں کوئی وقعت نہیں رہی۔ جبکہ اللہ ورسول کے یہاں وہ بڑے اہم اور معرکہ آرا ہیں۔ 
بہت عجلت کے باعث سردست اس کتاب کی اُورہالنگ اور تسہیل و تجدید ہی پر اکتفا کیا گیا ہے۔ زندگی نے مہلت دی تو اگلا ایڈیشن زیورِ تخریج سے آراستہ وپیراستہ شائع ہو گا۔
کتاب کے مطالعے سے بآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے کہ علامہ گلشن آبادی کتنے حساس دل واقع ہوئے تھے، اور دکھی اُمت مسلمہ کی فکری بہتری اور معاشی بحالی کے کس قدر آرزومند و فکر مند تھے۔ خدا انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔
ضرورت ہے کہ علامہ کے علمی و فکری باقیات صالحات کو از جلد منظر عام پر لایا جائے تاکہ بیش از بیش لوگ ان سے استفادہ کر کے سعادتِ دارین کا پروانہ حاصل کریں۔  خدا کرے ہمارا یہ عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہو اور ہمیں سدا توفیق خیر ملتی رہے۔
محمد افروز قادری چریاکوٹی…یکم شعبان ۱۴۳۴ھ/ ۱۰/جون ۲۰۱۳ء
٭٭٭




صاحب کتاب

سرزمین ناسک صدیوں سے علم پرور اور علم دوست حضرات کا گہوارہ رہی ہے۔ اس کی کیمیائی خاک سے بہت سے ذرّے آفتاب ہوئے ہیں،  جن کی فیض بخش کرنوں نے برصغیر کے اطراف و اکناف کو نور بداماں کیا۔ اسی خاک کے ایک سپوت مفتی سید عبد الفتاح عرف سیداشرف علی گلشن آبادی بھی ہیں،  جن کی گراں قدر تالیفات و تصنیفات نے واقعتاً گلشن اسلام کو شاداب و آباد کر دیا ہے۔
علامہ برصغیر کے اُن مایۂ  ناز علما میں تھے جن کے وجود سے چودہویں صدی کو فخر و اِعزاز حاصل تھا۔ آپ امام اہلسنّت بھی ہیں،  اور مجاہد سنیت بھی۔ آپ کے دم قدم سے ناسک اور اس کے اطراف میں عقیدۂ  اہل سنت خوب پھلا پھولا، اور آپ جیتے جی اس کی آبیاری کا مؤمنانہ فریضہ سرانجام دیتے رہے۔
نام ونسب:  آپ کا اسم گرامی عبد الفتاح اور عرفیت سیداشرف علی ہے۔ خانوادۂ  نبوت کے گل سرسبد ہیں۔  سلسلہ نسب یوں ہے  :
سید عبدالفتاح بن سید عبد اللہ حسینی قادری پیرزادہ گلشن آبادی، بن سید شمس الدین، بن زین العابدین، سید محی الدین، بن سید عبدالفتاح، بن سید شیر محمد، بن سید محمد صادق شاہ حسینی الخ، قدس اللہ اسرارہم۔آپ مذہباً حنفی اور مشرباً قادری ہیں۔ 
ولادت:  آپ کی ولادت ۱۲۳۴ھ میں ہوئی۔ ایک دین دار گھرانے اور علم و فضل کے گہوارے میں آپ نے آنکھیں کھولیں۔  سادات حسینی ہونے کے باعث آپ کا خانوادہ شروع ہی سے دکن کے علاقے میں ’پیرزادہ خاندان  کہلاتا تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر کے روحانی اور علمی ماحول میں ہوئی۔ تحصیل علم کا آپ نے فطری ذوق پایا تھا،  اس لیے شوقِ علم نے آپ کو کبھی گھر بیٹھنے نہیں دیا۔ جب بھی موقع ملتا علاقے کے علما و مشائخ سے اکتسابِ علم و فیض کے لیے نکل جاتے۔ نیز آپ نے حصولِ علم و فقہ کے سلسلے میں دور دراز کا سفر بھی اختیار فرمایا۔ آپ کے معروف اساتذہ میں کچھ کے اسماے گرامی یہ ہیں  :
اَساتذہ:   حضرت سید میاں سورتی، مولوی شاہ عالم بڑودوی، مولوی بشارت اللہ کابلی، مولوی عبد القیوم کابلی، مولوی بدرالدین کابلی، محمد عمر پشاوری، مولوی اشرف آخونزادہ، مولوی محمد صالح بخاری، مولوی محمد اسحق محدث دہلوی، مفتی عبدالقادر تھانوی، مولانا خلیل الرحمن مصطفیٰ آبادی، مولانا فضل رسول عثمانی بدایونی، مولوی محمد اکبر کشمیری، اور حضرت مولانا معلم ابراہیم باعکظہ وغیرہ -رحمہم اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ-(۱)
۔۔۔۔۔
(۱)	کیفیۃ العارفین، سیدعبدالرزاق ابوالعلائی:۶… نزہۃ الخواطر، شیخ عبدالحئی لکھنوی:۱۲۸۶۔ مطبوعہ دار ابن حزم… تذکرہ علمائے ہند مترجم:۲۷۲،۲۷۳۔
۔۔۔۔۔۔۔
میدانِ تعلیم:  ان عظیم و جلیل بارگاہوں سے آپ نے کتب درسیہ کا فیض لیا۔ معقول و منقول میں مہارت و حذاقت پیدا کی۔ خصوصاً علوم فقیہ اور صرف و نحو میں تبحر حاصل کیا۔ ۱۲۶۴ھ/۱۸۴۸ء میں امتحان سے فارغ ہوئے اور مفتی کی سند حاصل کی۔ پھر ۱۲۷۱ھ/۱۸۵۶ھ میں عدالت دھولیہ ضلع خاندیس میں منصب افتا پر فائز ہوئے، جہاں صاحبان جج و منصفان و صدر امین و قاضی وغیرہ کے محکموں اور عدالتوں سے ہر سال خصومات و نکاح و طلاق و میراث و ہبہ و وصیت وغیرہ کے تعلق سے سینکڑوں سوال واستفتا آتے رہے، جن کے شافی و کافی جوابات فقہی متون کی روشنی میں علامہ دیتے رہے۔ ان مسائل واستفتا کے مسودوں سے کئی دفتر تیار ہوئے۔
منصب تدریس:   جذبۂ  خدمت خلق اور فروغِ علم کی لگن آپ کو مسند تدریس تک کھینچ لائی، اور ایک کامیاب مدرس کے طور پر آپ نے کئی دہائیوں تک تشنگانِ علوم و فنون کو سیراب کیا۔ ۱۲۸۴ھ میں سرکاری الفنسٹن 
کالج و ہائی اسکول بمبئی میں عربی وفارسی کے اُستاد مقرر ہوئے، اور یہاں بھی آپ نے اوقاتِ درس کے علاوہ جم کے خدمت دین انجام دی۔(۱)
آپ کے تلامذہ ومستفیدین کی تعداد خاصی ہے، جن میں بعض ممتاز یہ ہیں : مولوی سید نظام الدین، شیخ قطب الدین، قاضی سید بچو میاں خاندیسی وغیرہ۔
اعزاز و اِفتخار:  آپ کی خدماتِ جلیلہ کے اِعتراف میں حکومت انکلیشیہ نے آپ کو’جسٹس آف پیس (Justice of Peace)اور خان بہار کے خطاب و اعزاز سے نوازا۔(۲) حکومت کی یہ مہربانی آپ برداشت نہیں کرسکے اور سارے مراتب و مناصب سے مستعفی ہو کر گلشن آباد (ناسک) میں آ کر فروکش ہو گئے،اور یکسو ہو کر خدمت دین متین میں جٹ گئے۔ 
اِزدواج و اولاد:  آپ نے دو شادیاں کیں : پہلی پیرزادہ خاندان کی ایک بی بی شرف النساء سے ہوئی۔پھر ان کی وفات کے بعد دوسری شادی  ۱۲۵۶ھ میں عائشہ بی بی سے کی۔ اور مولوی سیدامام الدین احمد،و سید سراج الدین محمد دو سعادت مند بیٹے اپنے پیچھے یادگار چھوڑے۔ (۳)
۔۔۔۔۔
(۱)	جامع الفتاویٰ (۱۳۰۳ھ) جلد اول، دیباچہ،بتغیرقلیل۔مطبوعہ فتح الکریم، بمبئی۔
(۲)	نزہۃ الخواطر، شیخ عبدالحئی لکھنوی:۱۲۸۶۔ مطبوعہ دارابن حزم…تذکرہ علمائے ہند مترجم:۲۷۲،۲۷۳۔
(۳)	مولانا عبدالحلیم ساحلؔ کی تحقیق کے مطابق میر عبداللہ نامی آپ کے ایک تیسرے صاحبزادے بھی تھے۔ نیز مولانا نے جامع الفتاویٰ جلد اول کے حوالے سے دو بیٹوں کے نام یہ بتائے ہیں : سید محی الدین، اور سید زین العابدین، حالانکہ ہمارے پاس موجود جامع الفتاویٰ کی جلد اول ان تفصیلات پر کوئی روشنی نہیں ڈالتی۔ پھر چند پیراگراف کے بعد مولانا نے ’ازدواجی زندگی کے تحت آپ کی اولاد کا ذکر کیا تو اس میں دونوں بیویوں سے دو دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے،  مگر ان چاروں ناموں میں کہیں محی الدین اور زین العابدین کا ذکر نہیں کیا۔ خیر! ہماری تحقیق کے مطابق معتبر تاریخی ماخذ تطییب الاخوان، تذکرۂ  علمائے ہند اور نزہۃ الخواطر میں صرف دو بیٹوں ہی کا ذکر آیا ہے، اور ان دونوں کے نام وہی تھے جو اوپر متن میں مذکور ہوئے۔اللہ ورسولہ اعلم۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں : ماہنامہ سنی دعوتِ اسلامی:اپریل۲۰۱۳ء)   	    -چریاکوٹی-
۔۔۔۔۔۔
اخلاق و عادات:  آپ خوش خوراک، خوش پوشاک، با مروّت، با وضع، اور پیکر اخلاق  ووفا تھے۔ چھوٹے بڑے ہر کسی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے۔ بزرگوں کے ساتھ آپ کی عقیدت دیدنی تھی۔ تقویٰ و طہارت، اور لطافت و نظافت آپ کی گھٹی میں پڑی تھی۔خداترسی، ہم دردی اور منکسر المزاجی کے پیکرمجسم تھے۔ حق گوئی و بے باکی آپ کا نشانِ امتیاز تھا۔حق کے معاملے میں آپ نے کبھی کسی مداہنت سے کام نہیں لیا۔ اور اس سلسلے میں لومۃ لائم کو کبھی آڑے نہ آنے دیا۔ 
فقہی خدمات:  آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ جامع الفتاویٰ پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے معمولات اہل سنت کے فروغ میں کیا قربانیاں پیش کی ہیں،  اور ان پر اٹھنے والے اعتراضات کے تار و پود کس طرح بکھیر دیے ہیں۔  اور صحیح معنوں میں یہ وہ مسائل ہیں جن کی بابت آج ہمارے مخالفین ہم سے دست  و گریباں ہیں۔  خدا ان کی آنکھیں کھولے اور وہ دیکھیں کہ علامہ اہل سنت کے کتنے بڑے محسن اور امام ہو گزرے ہیں۔ صاحب نزہۃ الخواطر شیخ عبدالحئی لکھنوی رائے بریلوی نے آپ کی سوانح کا آغاز یوں کیا ہے  :
الشیخ العالم الفقیہ … أحد الفقہاء المشہورین۔ (۱)
۔۔۔۔۔
(۱)	نزہۃ الخواطر، شیخ عبدالحئی لکھنوی:۱۲۸۶۔ مطبوعہ دارابن حزم۔
۔۔۔۔
آپ کی کتب و فتاویٰ دیکھنے کے بعد آپ کی شانِ فقاہت کا اندازہ ہوتا ہے، نیز یہ بھی کہ اکابر اہل سنت اور علمائے اعلام کے ساتھ آپ کے تعلقات ومراسم کتنے گہرے تھے۔ چوٹی کے علما نے آپ کے فتاویٰ پر مہر تصدیق ثبت کی ہے، اور آپ کی تحقیق بلیغ کو سراہنے کے ساتھ آپ کو امام اہل سنت اور مجاہد سنیت کے لقب سے یاد کیا ہے۔ تفصیل کے لیے جامع الفتاویٰ کی جلدیں ملاحظہ فرمائیں۔ 
	تائید حق:   آپ کے فتاویٰ میں مندرجہ ذیل مسائل کے جواز پر مدلل روشنی ڈالی گئی ہے: ایصالِ ثواب،زیارت کی نیت سے سفر کرنا،اولیا سے استمداد و اعانت و ندا، میلاد خوانی، سلام مع القیام،روحِ اطہر کا محفل میلاد میں حاضر ہونا، موئے کی زیارت و تعظیم اور اس سے برکت حاصل کرنا، تقلید ائمہ اربعہ، مشائخ کے ہاتھوں پر داخل بیعت ہونا، علم غیب رسول، مردوں کو سمع و بصر و ادراک کی قوت حاصل ہونا، تدفین کے بعد اذان کہنا، قبر پر پھول چڑھانا، نمازِ فجر و عصر کے بعد مصافحہ کرنا، تیجہ، دسواں،  بیسواں اور چہلم منانا، اعراسِ اولیا کا بیان، نذر و نیاز اور منت اولیا، بیانِ حیلہ واسقاط، سوادِ اعظم اہل سنت و جماعت کی حقیقت اور بہتر فرقوں کا رد وغیرہ۔(۱)
۔۔۔۔۔
(۱)	یاد رہے کہ یہ تفصیلات صرف جامع الفتاویٰ جلد اول کی روشنی میں فراہم کی گئی ہیں،  جلد ثانی سردست ہماری تحویل میں نہیں ہے۔ 									    -چریاکوٹی-
۔۔۔۔۔
ر دو ابطال:  عقائد و افکارِ اہل سنت کے موضوع پر آپ نے جاء الحق کے انداز کی ایک مبسوط و بے مثال کتاب ’تحفہ محمدیہ در ردِ فرقہ مرتدیہ‘ کے نام سے تحریر فرمائی، جس میں یہی سب مباحث کثیر دلائل و براہین کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں،  نیز اس میں نو پید فرقہ وہابیہ کی ولادت و خباثت کا بھرپور نقشہ کھینچا ہے۔نیز غیر مقلدوں اور نام نہاد سلفیوں کی بھی جا بجا گوشمالی کی ہے۔
مولانا عبدالحلیم ساحلؔ کی شہادت کے مطابق جن دنوں مفتی عبدالفتاح ممبئی میں قیام پذیر تھے، وہ زمانہ ممبئی کے مسلمانوں کے لیے بڑا ہی پر آشوب تھا۔ مسلمانوں کے درمیان اعتقادی بحثوں،  مناظروں اور معرکہ آرائیوں کا خوب دار دورہ تھا۔ فرقہ وہابیہ کے مقابل اہل سنت و جماعت کے علما و فضلا نبرد آزما تھے جن کے سرخیل و قافلہ سالار مفتی سید عبدالفتاح گلشن آبادی تھے،  کیوں کہ آپ اس وقت مرجع علما تصور کیے جاتے تھے۔ اور شاید اسی زمانے میں آپ نے مذکورۃ الصدر کتاب تصنیف فرمائی جس میں فرقہ وہابیہ کا رد بلیغ کیا ہے۔
	ندوہ سے رجوع:  جس وقت تحریک ندوہ کا طوفانِ بلا خیز اُٹھا، تو بیشتر لوگ اس کے اَغراض و مقاصد جانے بغیر دین کی ایک تحریک سمجھ کر اس کے دست و بازو بن گئے،  لیکن جب علمائے اہل سنت نے اس تحریک کا گہرائی و گیرائی سے جائزہ لیا اور اس کے نقصانات ومفاسد پر مطلع ہوئے تو فوراً دامن جھاڑ کر اس سے یک طرف ہو گئے۔ ایسے ہی خوش بختوں میں ایک امام اہلسنّت،  مجاہد سنیّت، محدثِ ناسک، حضرت علامہ مفتی سید عبدالفتاح حسینی گلشن آبادی بھی تھے، جو اِبتداء ً ’ندوۃ العلما کے خاص اَراکین میں تھے،  لیکن شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا محدث بریلوی کی تنبیہ اور کشفِ حقائق کے بعد وہ ندوہ سے یک لخت بے تعلق ہو گئے۔ بقول مولانا اُستاد زمن حسن رضا بریلوی  :
نیز بتوفیق الٰہی جناب مفتی مولوی سید عبدالفتاح صاحب حسینی گلشن آبادی، ساکن ناسک، درگاہ محلہ، رکنِ جلیلِ ندوہ نے بھی اس صریح و جلیل فتویٰ پر مہر ثبت فرمائی، اور اقوالِ ندوہ پر ضلالت و گمراہی و الحاد وغیرہ جملہ مراتب مندرجہ فتوی کے نسبت صاف لکھ دیا کہ المجیب مصیب فیما قال۔ مجیب نے جو کچھ بیان کیا سب حق ہے۔ والحمد للہ رب العالمین۔
ایک مولانا سید عبدالفتاح گلشن آبادی ہی نہیں،  ندوہ کا اصل چہرہ سامنے آنے اوراس کی قلعی کھل جانے کے بعد کتنی کثیر تعداد میں علما  و مشائخ اس سے الگ ہو گئے۔ اس کی تفصیلات جاننی ہو تو استاذ زمن مولانا حسن رضا بریلوی کا مایۂ  ناز کارنامہ ’اشتہاراتِ خمسہ‘ کا مطالعہ فرمائیں۔  یہ کتاب اب نایاب نہیں رہی، ہم نے ’رسائل حسنمیں اسے شامل کر دیا ہے۔لہٰذا تحقیق و تفصیل کے لیے اس کا مطالعہ فرمائیں۔ 
خدماتِ جلیلہ:   آپ کی پوری زندگی درس وتدریس اور وعظ و خطابت کی نذر ہو گئی۔ علم  و فضل کے لحاظ سے آپ کا مقام معاصرین میں امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔ کامیاب مدرس و فقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ بے مثال خطیب اور زود رقم مصنف و محقق بھی تھے۔ عربی وفارسی اور اُردو میں کئی درجن کتابیں آپ کے نوکِ قلم سے نکلیں۔  ان میں سے بعض یہ ہیں  :
تحفہ محمدیہ،  تاریخ الاولیاء(دو جلدیں )، جامع الفتاوی (چار جلدیں )، دولت بے زوال و برکت حال  ومآل، کلید دانش(فارسی)، کلید دانش (اُردو)، مرغوب الشعراء، تاریخ انگلستان، تاریخ افغانستان، تاریخ روم، الباقیات الصالحات فی مولد اشرف المخلوقات، رحمۃ للعالمین، فیض عام، اشرف المجالس،صد حکایات… مجامع الاسماء، فارسی آموز(دو حصہ)، تشریح الحروف، تعلیم اللسان، خزانۃ العلوم (دو جلدیں )، اشرف القوانین، خزانۂ  دانش، تحفۃ المقال، اشرف الانشاء، خلاصہ علم جغرافیہ، جغرافیہ عالم، مصادر الافعال۔ تحفۃ المقال، عربی بول چال… مناظرۂ  مرشد آباد، تحفۃ الموحدین، اظہار الحق، تحفہ عطرین، تائید الحق… دیوان اشرف الاشعار، توشہ عاقبت، ترجمہ قصیدہ بردہ۔(۱)
۔۔۔۔
(۱)	جامع الفتاویٰ، دیباچہ… تذکرہ علمائے ہند مترجم:۲۷۳۔
۔۔۔۔۔
وفات:   آپ کی وفات ۱۵/صفر۱۳۲۳ء کو ممبئی میں ہوئی، اور وہیں مشہور و معروف مینارہ مسجد کے بیس منٹ (Basement)کے سمت مغرب میں سپردِخاک کیے گئے۔ ’خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را۔

ناکارۂ جہاں 
محمد افروز قادری چریاکوٹی
جامعۃ المصطفیٰ/ دلاص یونیورسٹی، کیپ ٹاؤن، ساؤتھ افریقہ
دوشنبہ،۲/شعبان المعظم ۱۴۳۴ھ… ۱۱/جون ۲۰۱۳ء
٭٭٭




پیش لفظ

الحمد للّٰہ رب العالمین،  والعاقبۃ للمتقین،  والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ وحبیبہ سیدنا محمد وعلی آلہ وأصحابہ وأتباعہ أجمعین۔  أما بعد !

فقیر حقیر سراپا تقصیر مفتی سیدعبد الفتاح الحسینی القادری عرف سید اشرف علی گلشن آ با دی برادران اسلامیہ کی خدمت میں التماس کرتا ہے کہ ایک روز جناب عمدۃ العلما والسا لکین حضرت استاد نا و مرشد نا مو لو ی عبدالقیوم نقشبندی مجددی کابلی رحمۃاللہ علیہ کی خدمت میں فقیہ ابو اللیث سمر قندی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب ’بستان العارفین کا مطالعہ کر رہا تھا، ا س میں یہ حدیث شریف پڑھنے میں آئی  :
من احتَجَتم یوم الأربعاء والسّبت فأصابہ الألم فلا یلومن إلا نفسَہ۔ 
یعنی جس نے بدھ اورسنیچرکے دن پچھنے لگوائے، پھر درد پیدا ہو گیا تو اپنی جان کو روئے، یعنی خود کو ملامت کرے۔
بندے نے عرض کی :  الیوم یوم اللّٰہ۔  یعنی سب دن خدا کے بنائے ہوئے ہیں،  یہ تخصیص کس سبب سے ہوتی ہے؟۔
حضرت نے فرمایا: سعدونحس اور نیک و بد سب حق تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں،   لیکن خیر و شر کا اِختلاف بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہی بتایا ہے، اور بحکم  مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوَی بغیر وحی و اِلہام حضر ت رسول مقبول  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اولیائے کرام کچھ نہیں فرماتے۔  
چنانچہ حکایت ہے کہ ایک تونگر تاجر کی عادت تھی کہ ہمیشہ بدھ کے روز سال میں دو تین مرتبہ پچھنا لگواتا تھا۔ کسی طالبِ  علم نے اس کو اس کام سے منع کیا،توتا جر نے کہا: یہ فقط وہم ہے، خدا نے سب دن پیدا کیے ہیں،   الغرض !چند روز کے بعد اس کی دولت میں زوال آیا، اور ایک ایسا مرضِ شدید لا حق ہو ا کہ حکما سے علاج دشوار ہوا۔
اس تا جر نے شب و روز درودِ شفا کا ورد کر نا شروع کیا، خواب میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کو دیکھا کہ اس سے منھ پھیر لیا ہے۔ تا جر نے عرض کی کہ مجھ سے کیا تقصیر ہوئی جو آپ خفا ہیں۔ 
حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے دین اسلام کے علما و اولیا نے جو عمل کرنے یا نہ کرنے کو فرمایا اور اس کی تاثیر بیان کی، وہ سچ ہے۔ تو محض اپنی ضد سے اس پر عمل نہیں کرتا ہے، تو یہ تیرے افعال کی شامت ہے کہ دولت وتندرستی کو زوال آیا اور مفلسی و بیماری نے منہ دکھا یا۔ فجر کو تاجر اٹھا توبہ کی اور درود شریف کی برکت سے ہدایت کی راہ ملی۔ 
جب یہ حکایت حضرت مولو ی صاحب علیہ الرحمہ نے بیان کی، آبِ دیدہ ہو گئے، راقم کے اندر بھی رقت پیدا ہوئی، پھر فرمایا: کتاب ’إظہا ر الدیسار والأعسار دیکھو کہ اس میں جملہ آدابِ اسلام احادیث کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں۔ 
راقم نے کئی مسائل احادیث اور اقوالِ بزرگانِ دین کے ساتھ اس میں سے لکھ لیے، معلوم ہوا کہ ہر شخص دارین کی تونگری چاہتا ہے، اور درویشی ومفلسی سے بیزار ہو تا ہے،  لیکن بحکمِ الإنسان حریصٌ فیما مُنِعَ(۱) کام ایسا کرتا ہے جس کے سبب تونگری کی برکت جاتی ہے، اور مفلسی کی شامت در پیش آتی ہے۔ نیز اس شخص کو معلوم نہیں ہوتا کہ بدبختی کدھر سے آئی اور نیک بختی کہاں گئی۔
۔۔۔۔
(۱)	یعنی انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ وہ منع کردہ چیزوں کو کرنے کا حریص ہوتا ہے۔
۔۔۔۔
اُمید ہے کہ اس کے پڑھنے اور عمل کرنے سے درویش تونگر ہو جائے گا اور تونگر اپنی دولت بچائے گا، اور وہ کام نہ کرے گا جس سے مفلسی آئے، اور تونگری جائے۔ تُعْرَفُ الأشْیَآءُ بِأضْدَادِھَا(۲) کی رو سے دارین کی تونگر ی بر کت و اقبال ہے، اور دارین کی مفلسی نکالِ جنجال (یعنی وبال کا جال) ہے۔
اس لیے راقم نے مسلمان بھائیوں کے فائدے کے واسطے بوقت مطالعہ تفسیرو حدیث اور فقہ و وعظ کی کتب سے سعادت و  شقاوت پہچاننے کے اقوال و اعمال استنباط (چھانٹ) کر کے یہ رسالہ لکھا، اور (تفسیر و حدیث و فقہ وغیرہ ہر قسم کی) عربی عبارت و اشعار کو ایک سو مسائل اور ایک سو فوائد میں بالترتیب جمع کیا۔ اور دوسرے باب میں برکت کے وہ عمل و فوائد رقم کیے جن سے حال ومستقبل میں تونگری حاصل ہو جائے۔ اس کتاب کا نام میں نے ’دولت بے زوال و برکتِ حال و مآل‘ رکھا۔  وھوحسبي ونعم الوکیل، نعم المولی ونعم النصیر۔ 




باب اوّل:  سو مسائل کے بیان میں 


اگر ا س میں سے عربی عبارت مع ترجمہ زبانی یاد کر لے تو عربی کلام سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ اس میں اکثر حدیثیں ہیں۔  (اور حدیث میں آتا ہے کہ) جو چالیس حدیثیں یاد کرے گا قیامت کے دن اس کا حشر علما کے ساتھ ہو گا۔(۲)
۔۔۔۔۔
(۱)	یعنی ہر شے کی قدر و قیمت کا اندازہ اس کی ضد سے لگایا جاتا ہے۔
(۲)	چالیس احادیث یاد کرنے کی بہت سی فضیلتیں آئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں : شعب الایمان بیہقی:۴/۲۴۷ حدیث:۱۶۸۴… کنزالعمال:۱۰/۲۲۴حدیث: ۲۹۱۸۲۔
۔۔۔۔۔
مسئلہ -۱
’قوۃ القلوب میں لکھا ہے کہ عمل صالح کرنے سے دنیا و آخرت کی تونگری حاصل ہوتی ہے، اور نہ کرنے سے دنیا و آخرت کی مفلسی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح اس کی ضد کہ عمل طالح یعنی بد کام کرنے سے تونگری اور دنیا و آخرت کا اقبال جاتا ہے اور اس کے نہ کرنے سے دنیا و آخرت کی دولت و برکت آتی ہے۔ یہ چار قسمیں ہو گئیں:
 قسم اوّل:  بہترین انسان شریعت کے نیک عمل کر تے ہیں،  اور ممنوعاتِ شرعیہ سے بچتے اور احتراز رکھتے ہیں۔ 
قسم دوم:  شریعت کے نیک عمل کر تے ہیں،  اور بد عمل منہیات سے احتراز اور پرہیز نہیں کرتے۔ 
قسم سوم:  نیک اور بد دونوں عمل نہیں کرتے۔
قسم چہارم:  بد عمل کرتے ہیں اور نیک عمل نہیں کرتے۔
ہر ایک شخص کو اپنے دل (میں جھانک کر دیکھنا چاہیے) کہ ہم کون سی قسم کے انسان ہیں،  نیز ہم  ہر روز اپنے کاموں کا حساب رکھیں کہ نیکی زیادہ ہوتی ہے یا بدی۔ کیوں کہ اسی کے مطابق انھیں دنیا و آخرت میں رنج و راحت حاصل ہونے والی ہے۔
مسئلہ -۲
طہارت۔ الطھارۃ برکۃٌ فی الدنیا والاٰخرۃ۔ 
یعنی (لباس و بدن کو) پاک رکھنا کہ اس سے دنیا و آخرت میں برکت نصیب ہوتی ہے۔
نیز تونگری و دولت بڑھتی ہے۔ ساتھ ہی آخرت کا رزق- جو ثواب اور اعمالِ حسنہ کا نتیجہ ہے- اس میں بھی برکت و زیادتی ہوتی ہے۔
’احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ دنیا کی مفلسی اور درویشی سے جتنا آدمی خوف کرتا ہے اگر اس کا آدھا پاؤ آخرت کے افلاس سے خوف کرے تو کبھی دوزخ میں نہ جائے گا،  کیونکہ دنیا کی بھوک اور پیاس کی مفلسی میں گداگری سے عمر گزر جاتی ہے،  مگر آخرت کی مفلسی -معاذاللہ- (یہ ہو گی کہ) بھائی بھائی سے، باپ بیٹے سے اور بیوی خاوند سے دور بھاگیں گے۔ مانگے بھیک نہ ملے گی۔ اغنیا اپنی بدکاری، جہالت اور بے دینی کے سبب بھکا ری بنیں گے۔ اور جو فقرا ہیں وہ آخرت میں اپنی قناعت و عبادت، صبر و تحمل اور ریاضت کے سبب تونگر اور امیر الامراء بن کر بیٹھیں گے۔
مسئلہ -۳
 الصّلوٰۃ مع الجماعۃ۔ 
یعنی ہمیشہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا۔ 
اس سے نیک بختی اور تونگر ی کی برکت حاصل ہوتی ہے، بدبختی ومفلسی دور بھاگتی ہے۔ اور جماعت کو ترک کرنے نیز بالکل نماز نہ پڑھنے سے برکت ختم ہو جاتی ہے، اور آفت ومفلسی گھیر لیتی ہے۔ منہاج العابدین میں مرقوم ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے :
اطلعت لیلۃ المعراج علی النّار فرأیت أکثر أھلھا الفقراء قا لوا یارسول اللّٰہ من المال قال لا من العلم ۔ 
یعنی معراج کی شب میں نے دوز خ کی سیر کی۔ دیکھا کہ اس میں اکثر فقرا ہیں۔  صحابہ نے عرض کی: یارسول اللہ! کیا مال کی وجہ سے؟۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں علم سے مفلس (ہونے کے باعث)۔
حجۃ الاسلام امام غزالی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے  :
فمن لّم یتعلَّم لایتاتی لہٗ أحکام العبا دۃ والقیام بحقوقھا۔
 یعنی جس شخص نے علم حاصل نہیں کیا وہ عبادت کے احکام اور اس کے آداب کو برابر بجا نہیں لا سکتا۔
یہاں سے معلوم ہوا جو بے علم مال و زر کے دھنی ہیں درحقیقت وہ فقیر ہیں،  اور اگر آخرت کی پونچی جمع نہ کر سکے تو آخرت کے بھی فقیر ہیں۔  
مسئلہ - ۴
’مشارق الانوار میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے  :
أ تدرون من المفلس؟ قالوا المفلس فینا من لا درھم لہٗ ولا متاع۔  قال إنّ المفلس من أمتی من یأتی یوم القیمٰہ بصلوۃ وصیام و زکوٰۃ ویأتی قد شتم ھذا وقذف ھٰذا واَکَلَ مال ھٰذا وسفک ھٰذا وضرب ھٰذا، فیأتی ھٰذا مِن حسناتہ قبل أن تقضی ما علیہ أخذ من خطایاھم فطرحت علیہ ثم یطرح فی النار۔ 
یعنی ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو مفلس آدمی کون ہے۔ صحابہ نے عرض کی: جس کے پاس مال و دولت نہیں اس کو ہم مفلس اور درویش کہتے ہیں۔  فرمایا: میری امت کے مفلس قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ کا ثواب لے کر آئیں گے، پھر اس کے حقدار مدعی جن کو اس نے گالی دی ہے، برا کہا ہے، اِن کا مال کھایا ہے، قتل کیا ہے، اور مارا ہے، اس کی نیکیاں اس کے عوض میں ان کودے دی جائیں گی۔ اگراس سے بھی تقاضا پورا نہ ہوا تو آخر ان کے گناہ کا بوجھ اس کے سر پر رکھا جائے گا اور دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ 
 مسئلہ - ۵
إن موجبات الفقر تکویر العمامۃ جالسا ولبس السراویل قائما۔ 
 یعنی عمامہ شریف بیٹھ کر باندھنا اور پائجامہ کھڑے ہو کر پہننا نحس ہے، فقیری اور بدبختی لاتا ہے۔
 دوسری روایت میں   :
من تسرول قائما وتعمّم قاعدا ابتلاء ہُ اللّٰہ تعالیٰ ببَلا ءِ  لا دواء لہٗ۔  
یعنی جو شخص پائجامہ کھڑ ے ہو کر پہنے اور عمامہ بیٹھ کر باندھے تو خدائے تعالیٰ اس کو ایک ایسی بلا میں گرفتار کرے گا کہ جس کی کوئی دوا نہیں۔ 
کپڑا قبلہ کی طرف منہ کر کے پہننا چاہیے سوائے پائجامہ کے،  کیونکہ پیروں کو قبلہ کی طرف لمبا کرنا بے ادبی ہے۔ اگر عمامہ شریف لمبا ہے تو بیٹھ کر باندھے،  مگر دوچار پیچ کھڑے رہ کر ہی باندھے۔
 مسئلہ -۶
أکل الطّعام عند  المیت۔ 
یعنی میت کے نزدیک بیٹھ کر کھانا کھانا درویشی لاتا ہے۔
 ایک روایت میں ہے  :
الأکل والشرب في المقابر من النفاق ویقسي القلب۔ 
یعنی قبرستان میں کھانا پینا نفاق پیدا کرتا ہے، اور دل کوسخت بنا دیتا ہے۔
 مسئلہ -۷
والبول عریانا۔ 
یعنی برہنہ ہو کر پیشاب کرنا تنگدستی لاتا ہے۔
اسی طرح راستے اور لوگوں کے مجمع میں بھی پیشاب کرنا منع ہے۔
 مسئلہ -۸
اتیان النساء عریانا بالوطیٗ۔
یعنی عورتوں سے بالکل برہنہ ہو کر صحبت نہیں کرنا چاہیے اس میں نحوست ہے۔
اگر حمل رہا اور فرزند ہوا تو بے حیا ہو گا۔ 
دوسری حدیث میں ہے  :
إذا أتی أحدکم أھلہٗ فلیلق علی ظہرہ وعجزہ أو علی ظھرھا وعجزھا ثوبا ولا یتجردان کتجرد العیرین۔ 
 یعنی اگر کوئی تم میں سے اپنی بی بی کے ساتھ صحبت کرے تو اپنی پشت و سرین پر کپڑا ڈھانپے اور اس کے بھی بدن پر  کپڑا ڈھانپے، اونٹ کی طرح بالکل برہنہ نہ ہو۔
مسئلہ -۹
ابتیاع الخبزمن الفقرآء۔ 
یعنی فقیروں کے پاس سے بھیک کی روٹیاں خرید نا نحس ہے۔
ایسا کرنے سے درویشی آتی ہے، اور تونگری جاتی ہے۔ اسی طرح ان کے پاس کا بھیک کا اناج خریدنا بھی منع ہے۔
مسئلہ -۱۰
الأکل ما خرج من الأسنان۔ 
یعنی جو دانتوں میں سے خلال کرتے وقت نکلے اس کا کھانا منع ہے بلکہ اسے تھوک دینا چاہیے۔
 مسئلہ -۱۱
تخلیل الأسنان من کل خشبۃ۔ 
یعنی ہر ایک طرح کی لکڑی سے خلال کرنا منع ہے۔
 اور یہ از راہِ شفقت فرمایا ہے۔ہری ڈالی  سے خلال کرنے سے منہ سے گندی بو آئے گی، با نس کی لکڑی سے خون آئے گا، انار کی لکڑ ی سے خارش ہو گی، دوپ کے تنکے سے چہرے پر سیاہ دھبے پیدا ہوں گے، دھنیا کی لکڑی سے بینائی کمزور ہو گی، اور پنکھا وغیرہ کی لکڑ ی سے دانتوں میں درد پیدا ہو گا، زیرہ کی لکڑی سے دردسیہ پیدا ہو گا، گلاب کے تنکے سے دماغ کمزور ہو گا، گاجر کے تنکے سے تنگدستی پیدا ہو گی،  لہٰذا خلال کے لیے بہترین لکڑی نیم کی ہے، یا زیتون، شفتالو، یا بادام وغیرہ کی لکڑی۔ مسلمان بھائی کو خلال کر نے کے لیے تنکا دینا بڑا ثواب ہے۔ 
مسئلہ -۱۲
ترک غسل القدر والقصعۃ غیر مغسولۃ۔ 
یعنی رات بھر ہانڈی اور پیالے (برتن وغیرہ) کو بغیر دھوئے رکھنا منحوس ہے۔
و من السنۃ أن یلعق أصابعہٗ قبل أن یمسح بالمندیل ومن السنۃ أن یلمس القمعۃ۔ 
یعنی اور سنت یہ  ہے کہ کھانے کے بعد انگلیاں رومال سے پوچھنے سے پہلے چاٹنی چاہیے چاٹنا کپڑے سے پوچھنے قبل اور سنت ہے کہ پیالہ سالن کا چاٹ لینا یعنی انگلی سے صاف کر لینا۔
إذا لعق الرجل القصعۃ فقالت القصعۃ اللّٰھمّ اعتقہ من النارکما أعتقنی من ید الشیطان۔ 
یعنی جب آدمی پیالہ چاٹ لیتا ہے تو پیالہ دعا دیتا ہے کہ اے خدا! اس کو جہنم کی آتش سے آزاد کر جیسا کہ اس نے مجھ کو شیطان کے ہاتھ سے آزاد کیا ہے۔
خصوصاً دودھ کا برتن فیرنی شیر بریخ وغیرہ صاف کرنا جھوٹا لگا ہوا نہیں چھوڑنا۔
مسئلہ -۱۳
ترک الإناء غیرمحموء ۃ أوغیرالمغطي ۔ 
یعنی کھانے اور پینے کا برتن بغیر سر ڈھکی ڈھانپے کھلا منھ رکھنا درویشی لاتا ہے۔
’ مشارق الانوار میں ہے   :
غطؤا الإناء وأوکؤا السقاء فإن فی السنۃ لیلۃ ینزل فیھا وباء لائم بإناء لیس علیہ غطاء أو سقاء لیس علیہ وکاء لا ینزل فیہ من ذالک الوباء ۔ 
یعنی برتنوں کو ڈھانپ کر اور مشک کا منھ باندھ کر رکھو،  کیونکہ برس میں ایک رات ایسی آتی ہے کہ اس میں آسمان سے وبا نازل ہوتی ہے جس بر تن پر سر پوش نہیں اور جس مشک کا منھ بندھا ہو ا نہیں ہوتا اس کے اندر اُترتی ہے۔
اور ایسا بھی وارد ہے کہ جو برتن شب کو کھلا رہتا ہے شیطان اس میں اپنا لعابِ  دہن ڈالتا ہے جو شخص اس میں سے کھائے یا پیے بیمار ہو جاتا ہے۔
مسئلہ -۱۴
خیاطۃ الثوب علی نفسہ أو بدنہ۔ 
یعنی کپڑے کا اپنے بدن ہی پرسینا اُتارے بغیر شامت لاتا ہے۔ 
مسئلہ -۱۵
قرض العانۃ بالمقراض۔ 
یعنی قینچی سے زیر ناف کے بال کاٹنا نحس ہے۔
 چاہیے کہ استرے سے یا نورہ سے پاک صاف کرے۔
مسئلہ -۱۶
قص الشعر والظفر بأسنانہ۔ 
یعنی بال اور ناخن کو دانتوں سے کترنا درویشی لاتا ہے۔
 حدیث شریف میں ہے  :
لا تقلموا الأظفار بأسنانکم فانہ یورث البرص ولٰکن قلموا بالمقراض فانہ فیہ شفاء۔ 
یعنی تم اپنے دانتوں سے اپنے ناخن مت کترو،  کیوں کہ ایسا کرنے سے برص کی بیماری ہوتی ہے، ہاں قینچی سے کترو کہ اس میں شفا ہے۔
مسئلہ -۱۷
إطفاء السراج بالنفخ  أوبالنفس۔ 
یعنی چراغ پھونک کر بجھا نا ممنوع ہے۔ 
مسئلہ -۱۸
التھاون بالصلوٰۃ۔ 
یعنی نماز پڑھنے میں سستی کرتا درویشی لاتا ہے۔
جیساکہ آدمی کسی کام میں مشغول ہے نماز کا وقت ہوا اذان سنی،  مگر نہیں اٹھا یہاں تک کہ وقت تنگ ہو گیا تو اسے تہاون کہتے ہیں،   کیونکہ ابتدا ے وقت میں صلوٰۃ طلائے خالص کی مانند ہے، ایک گھڑی کے بعد روپے کی طرح ہے، اور گھڑی بعد تانبے کے سکے کی طرح ہے۔ پھر جو آخری وقت ہے وہ لوہے،پتھر اور مٹی کی مانند ہے۔  جب وقت چلا گیا اور اس شخص نے نماز نہ پڑھی تو گویا (نہ صرف) سونا روپیہ کھویا بلکہ تانبا لوہا بھی کھو دیا، اور مٹی پتھر بھی نہ ملا۔
 فرشتے اس پر افسوس کرتے ہیں۔  اگر کھیلنے کے کام میں یا گانا بجانا سننے میں بیٹھ کر نماز کا وقت کھویا تب تو فرشتے لعنت کرتے ہیں کہ تو نے اپنے مالک کا حکم توڑا، اب اس کا دیا ہوا رزق کیسے کھاتا ہے۔ مت کھا،  اسی لیے شطرنج، گنجفہ، تختہ نرد، چو سر، قمار وغیرہ کھیلنے والوں پر سلام کرنے کا حکم نہیں ہے،  کیونکہ وہ شیطان کے تابع میں گئے، خدا کے سلام اور دین اِسلام کی تحیت و رحمت سے محروم ہیں۔  
نفس شیطان ہمیشہ بندے کو خدا کی نافرمانی کی طرف دوڑاتا ہے تاکہ دوزخ میں ڈالے، اور بنی آدم کا دشمن ابلیس خوش ہو۔ (خواہ) بنی آدم کے دوست حبیبِ  خدا سید الانبیا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آزردہ اور ناخوش ہوں۔  ’تحفت النصایح میں لکھا ہے     ؎ 
درنردیا شطرنج کس دستی زندبازی کند
درلحم خوکان خون شان گویا کند اودست تر 
مسئلہ -۱۹
 ذھاب السّوق بکرۃ والرجعۃ أخیرا۔ 
یعنی سب سے پہلے بازار جانا اور سب سے اخیر میں واپس آنا۔
 کیونکہ یہ حکم خاص مسجد کے واسطے ہے کہ سب کے اوّل داخل ہو نا، نماز کے انتظار میں بیٹھنا، اور جب سب دعا مانگ کر چلے گئے تواس کے بعد مسجد سے باہر آتا کہ رحمت کے فر شتے اس کا اِستقبا ل کر تے ہیں،   مگر تجارت پیشہ دوکاندار چونکہ ناچار ہے تو صبح سے شام تک بازار میں رہنا پڑتا ہے،  مگر نماز ترک نہ کرے۔ 
مسئلہ -۲۰
 النظر إلیٰ أسفل النعل ۔ 
یعنی جوتے کا تلوہ دیکھتا یعنی اوندھے پڑے ہوئے جوتے کو دیکھتے رہنا اور اسے سیدھا نہ کرنا بد ہے۔
اگر رات بھر جوتا اوندھا پڑا رہا تو شیطان اس پر آ کر بیٹھتا ہے کہ اس کا تخت ہے۔
 مسئلہ -۲۱
شرب الماء من عروۃ الأناء۔ 
یعنی  لوٹے کی ٹونٹی سے پانی پینا بد ہے۔
 پیالے میں نکال کر پینا چاہیے۔
 مسئلہ -۲۲
مسح الوجہ با لذّیل اوبالکمّ۔ 
یعنی دامن یا آستین سے منھ پونچھا بد ہے۔
 رومال دست رومال سے صاف کرنا ادبِ اسلام ہے۔
 مسئلہ -۲۳
 المشي بین الأغنام ۔ 
یعنی بکریوں کے ٹولے میں گھس کر چلنا بد ہے۔
خصوصاً شام کے وقت کہ اس دم ریوڑ میں ایک شیطان جو بلائے مارد ہے بکر ے کے سینگ پر سوار ہو کر جنگل سے شہر میں آتا ہے اس کی ایذا کا خطرہ ہے،چونکہ اس سے بچانا لازم ہے۔
 مسئلہ - ۲۴
غسل الیدین بالطین۔ 
یعنی مٹی مل کر ہاتھ دھوتا درویشی لاتا ہے۔
ددغ ترش جغرات برگ اشنان سے سرد ریش کا میل دھوتے ہیں۔  گیہوں یا چنے کے آٹے سے بھی ہاتھ دھونا منع ہے کہ اس میں اناج کی بے ادبی ہے۔ صابون وغیرہ سے جائز ہے بعض نے مٹی اور آٹے سے ہاتھ دھونا جائز مع الکراہت لکھا ہے،  سو بہت چیزیں اور احکام شرعیہ جائز مع الکراہت ہیں چنانچہ ’عمدۃ الابرار میں جنب اور بے وضو کا اذان دینا، بندۂ  فاسق نابینا، سود خور، اور شرابی کی امامت کرنا جائز مع الکراہت ہے۔ 
بلی اور چوہے کا جھوٹا پانی پینا یا وضو کرنا جائز مع الکراہت ہے۔ غرض! تقویٰ اور فتویٰ میں کچھ فرق رہنا چاہیے۔ 
مسئلہ -۲۵
 الشّتم واللّعن علی الأولاد یورث الفقر ۔ 
یعنی گالی دینا اور لعنت کرنا اپنی اولاد کو درویشی لاتا ہے۔
اسی طرح فقیر و سائل کو جھڑکنا تونگر کو فقیر بناتا ہے۔ اگر ایک دن میں دس مرتبہ گالی کا لفظ یا شرمگاہ کا نام زبان سے نکلا تو رحمت کے فرشتے اس سے الگ ہو جاتے ہیں۔  اولاد کو نیک نام سے پکارنا، نرمی سے نصیحت کرنا علم دین کی ترتیب کرنا کہ وہ خدا کی امانت ہے، پرورش کے واسطے تمہارے ہاتھ میں دیے گئے ہیں،  حلال روزی پیدا کرنے کا ہنر اور حرام سے بچنے کا طریق ان کو سکھانا تم فرض ہے    ؎
بیا موز پروردہ رادست رنج 
اگر دست داری چوقاروں بگنج
یعنی اپنے بچوں کی پرورش کرو۔ ان کو روٹی کمانے کا کچھ ہنر سکھاؤ، اگرچہ تمہارے پاس قارون کا خزانہ اور مال و زر ہے تو اس کا کیا اعتبار، نہ معلوم ان کو ملے گایا نہیں،  اور اگر ہنر آتا ہے تو کسی کا محتاج نہ ہو گا۔
 مسئلہ -۲۶
 الإبتداء بالیمین۔ 
یعنی سیدھے ہاتھ سے ابتدا کرنا۔
سیدھے ہاتھ سے کپڑا پہننا، سیدھا پاؤں پہلے پائجامہ میں ڈالنا، گھر پہلے سیدھا پاؤں بسم اللہ بول کر دروازے کے اندر رکھنا خصوصاً مسجد میں داخل ہونے کے وقت سیدھا پاؤں پہلے داخل کرنا بڑی برکت رزق کی علامت ہے، اور الٹا اس سے کرنا یعنی بایاں پاؤں پہلے پائیجامہ میں ڈالنا، یا بائیں ہاتھ کی آستین اوّل پہننا درویشی اور شامت بد کی علامت ہے۔ 
مسئلہ -۲۷
 الضحک في المقابر۔ 
یعنی قبرستان میں ہنسنادرویشی کی علامت اور کمالِ غفلت ہے۔
وہ تو خوف اور غیرت کی جگہ ہے۔ کیسے کیسے بادشاہ، امیر، تونگر، عالم، فاضل وہاں آسودہ ہوئے۔ (نہ جانے) کیا حا ل ہو گا!۔ یہ خیال کرتے ہوئے اپنی موت کو یاد رکھے۔ حدیث شریف میں ہے کہ صاحب ایمان جب ہر روز چالیس مرتبہ توبہ کرتا ہے اور چالیس مرتبہ اپنی موت یاد کرتا ہے، تو اس کی عمر و رزق میں برکت ہوتی ہے، وہ کبھی مفلس،  ننگا بھوکا نہ رہے گا۔
مسئلہ -۲۸
 التقدم علی المشایخ۔ 
یعنی بطور فخر و حقارت بزرگوں کے آگے آگے چلنا مفلسی لاتا ہے۔
’بستان العارفین میں ہے  کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں کسی شخص نے اپنی بد حالی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا  :
لعلّک قدّمت علی من ھو أسنّ منک۔ 
یعنی شاید تو راہ میں کسی بزرگ آدمی کے آگے آگے بے ادبی سے چلا ہے، اس بے ادبی کے باعث رزق کی برکت ختم ہو جاتی ہے، اور شامت مفلسی آ تی ہے۔ یہ چھوٹی سی بے اد بی کتنی بڑی تاثیر و اَثر رکھتی ہے کہ آدمی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ وہ کبھی اپنی تدبیر پر ہنستا ہے اور کبھی اپنی تدبیر پر روتا ہے۔
’صلوٰۃ مسعودی میں لکھا ہے کہ ایک روز حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ اپنے گھر سے ایک مسئلہ دریافت کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف چل دیے، راہ میں ایک بوڑھا یہودی ملا جو چلتے چلتے آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا، آپ اس کو جواب دیتے رہے اور چلتے رہے۔
 یہودی آپ کی سرعت رفتار کے سبب آپ کے ہمراہ نہ چل سکا اور پیچھے رہ گیا۔ جب آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں تشریف لائے تومسئلہ کی صورت پوچھنا ہی بھول گئے۔ بہت پریشان ہوئے بالآخر سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کی کہ ایک مسئلہ کی صورت پوچھنے کی خاطر آپ کے حضور میں جلد چل کر گھر سے آیا ہوں،   مگر وہ صورت فراموش ہو گئی، اور فراموشی ایک بڑی بلا ہے خصوصاً عالم شخص کے لیے۔
حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: راہ میں شاید کسی پیر مرد کے ساتھ چلنے میں سبقت کر کے آئے ہو۔ آپ نے کہا: ہاں ایک یہودی کا فر ملا تھا اور مجھے مسئلہ دریافت کرنے کی جلدی تھی۔ 
حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اس بوڑھے سے معافی مانگو، اس کا دل شکستہ ہوا ہے، جب وہ خوش ہو گا تب یہ بلا فراموشی کی خدا تمہارے دل سے اٹھا لے گا۔
چنانچہ اسی وقت حضرت علی اس بوڑھے یہودی کے پاس آئے، عذر خواہی کی، اس بزرگ آدمی نے اہل اسلام کی تواضع وانکساری دیکھی تو فوراً مسلمان ہو گیا اور آپ کے ہمراہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضری سے مشرف ہوا اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بھی مسئلہ کی صورت یاد آ گئی۔خلاصۃ الحقایق میں لکھا ہے  :
روی عن بعض السلف أنہٗ کان فی بنی إسرائیل إذا تقدم الصغیر قدام الکبیر أوالجاھل قدام العالم إن شقّت الأرض فابتلعت الصغیر والجاھل۔ 
یعنی بعض علمائے سلف سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک لڑکا کسی بڑے بوڑھے کے آگے چلا، یا کوئی جاہل کسی عالم دین کے آگے سبقت کر گیا تو زمین شق ہو گئی، اور اس جوان یا جاہل کو اس کی بے ادبی کے باعث نگل گئی۔ 
ادنیٰ بے ادبی کے باعث خدا کا یہ غضب نازل ہوا۔اللّٰہم عافنا من کل بلاء الدنیا وعذاب الآخرۃ ؎
چند روز ے کہ دریں خانۂ  تن مہمانی
 با ادب باش کہ خاصیت مہما ں ادبست
یعنی تو چند روز اس جسد خاکی میں مہمان ہے۔ تو خبردار اَدب سے رہ کہ مہمان کی خاصیت اَدب ہے۔
دین اسلام،اور شریعت و طریقت یہ سب ادب کی راہیں ہیں۔  گھر کا مالک سب دیکھتا اور سنتا ہے۔ یہ بے اَدبیاں اس کے حضور میں کر ر ہے ہیں۔  سنت اللہ کے قاعد ے کے حکم میں اپنی نفسانی حیوانی عقل کے سبب زور سے رخنہ وسوراخ کرتے ہیں اور اس کو توڑ تے ہیں،  آخر ایک دم اصل نتیجہ ملنے والا ہے!۔ 
مسئلہ -۲۹
إلقاء القمّل حیّا۔
یعنی جوں کو زندہ چھوڑنا فقیری کی نشانی ہے۔
اگر کپڑوں یا جسم پر جوں نظر آئے تو اسی وقت مار دینا چاہیے۔ اگر اسے زندہ چھوڑ دیا جائے تو وہ چالیس روز تک بغیر کھائے پیے حالت سکرات میں جیتی رہتی ہے، اور اس شخص کے حق میں حالت سکرات میں بد دعا کرتی ہے۔ اگر مار ڈالا تو گو یا اس کو اذیت سے آزاد کر دیا۔
مسئلہ -۳۰
ترک نسج العنکبوت في البیت یورث الفقر۔ 
یعنی مکڑی کے جالے گھر میں رہنے دینا درویشی لاتا ہے اور بہت نحس ہے۔
اگر گھوڑے کے طویلے میں جالے ہیں تو جانور دبلے لاغر ہو جائیں گے، ا ور یہ ویرانی کی علامت ہے جس طرح بوم یعنی اُلّو کا گھر کی چھت پر بیٹھنا بھی ویرانی کی نشانی ہے۔
مسئلہ -۳۱
التمشط فی القیام یورث الفقر۔ 
یعنی کھڑے رہ کر داڑھی یاسر کے بالوں میں کنگھی کرنا درویشی لاتا ہے۔
 ’خلاصہ الحقایق میں لکھا ہے  :
من تمشط قائما رکبہُ الدین فی الدنیا۔ 
یعنی جو کھڑ ارہ کر شانہ کرے گا دنیا میں قرضدار ہو جائے گا۔
اسی طر ح ٹوٹی ہو ئی کنگھی یا دوسرے کی کنگھی کی اپنے بالوں میں ہر گز نہیں پھرانا چاہیے۔
مسئلہ -۳۲
ترک الاکیاء والکناسۃ فی البیت یورث الفقر۔ 
یعنی کچرا، خاشاک جھاڑا ہوا گھر میں اکٹھا کر کے رکھنا درویشی لاتا ہے۔
صلوۃ مسعودی میں اس بابت حدیث بیان کی ہے  :
إن اللّٰہ طیب یحب الطیب، نظیف یحب النظافۃ، کریم یحب الکرم، فتنظفوا أفناء کم وساحاتکم ولا تشبھوا بالیھود فإنھم یجمعون الکناسۃ فی دورھم ۔ 
یعنی اللہ پاک ہے پاکیزہ کو دوست رکھتا ہے۔ کریم ہے کرم کو دوست رکھتا ہے۔ تو اپنے گھر کا صحن اور ڈیوڑھی پاک صاف رکھو۔ یہود کی مانند کو ڑا جمع کر کے گھر میں مت رکھو۔
مسئلہ -۳۳
الیمین الفاجرۃ یورث الفقر۔ 
یعنی جھوٹی قسم کھانے سے شامت آتی ہے۔
 دوسری حدیث  :
الیمین الفاجرۃ یخرب ا لدیار وینقص الأعمار۔ 
یعنی جھوٹی قسم ملک کو ویران کرتی ہے اور عمر کو گھٹا دیتی ہے۔
إظھار الحرص یورث الفقر۔ 
یعنی حرص ظاہر کرنا بھی درویشی کی نشانی ہے۔
حدیث میں وارد ہے  :
من أصبح والدنیا أکثر ھمّہٗ ألزم اللّٰہ فقرا لا یبلغ غناء ہٗ۔ 
یعنی جو شخص فجر ہوتے ہی دنیا جمع کرنے کی فکر میں پڑتا ہے تو خدا اس پر درویشی کو بھیجتا ہے کہ وہ شخص ہرگز تونگری پر نہیں پہنچ سکتا۔
 مسئلہ -۳۴
 النوم بین العشائین یورث الفقر ۔ 
یعنی مغرب اور عشا کے درمیان سونا درویشی لاتا ہے۔
یعنی عشا کی نماز پڑھنے سے پہلے سوجانا۔ 
یکرہ النوم فی اوَّل النھار وفی مابین المغرب والعشاء۔ 
یعنی دن کے شروع میں سونا نیز مغرب و عشا کے درمیان سونا مکروہ ہے۔
حدیث کا مضمون یہ ہے  :
من نام ولم یصلّ صلوٰۃ العشیۃ فیقول الملائکۃ ما نامت عیناک وما قرت عیناک، حبسک اللّٰہ بین الجنّۃ والنّار کما حبستنا بین السماء والأرض۔ 
یعنی جو شخص سوتا رہے اور نماز عشا ادانہ کرے تو فرشتے اسے بددعا دے کے کہتے ہیں : نہ تیری آنکھیں کبھی سوئیں نہ ٹھنڈک پائیں۔  خدا تجھ کو قید رکھے جنت اور دوزخ کے درمیان جس طرح تو نے ہم کو آسمان اور زمین کے درمیان مقید رکھا ہے۔
اعمال نامہ لکھنے والے فرشتے عشا کی نماز پڑھنے کے بعد عمل نامہ ختم کرتے ہیں،  اور اس مصلی سلطان اللَّیل کا خطاب دے کر چلے جاتے ہیں،  اور جب عشا کی نماز نہ پڑھی اور سوگیا ہے تو شاید پھر اُٹھے گا چونکہ عشا کا وقت آخر شب تک ہے، اس عرصہ میں اٹھ کر نماز اَدا کرے گا بس اسی انتظار میں فرشتے اٹکے رہتے ہیں،  اور بددعا کرتے ہیں۔ 
مسئلہ -۳۵
کثرۃ الاستماع للغناء یورث الفقر لعن اللّٰہ المغنّینّ والمغنیات۔ 
یعنی گانا بجانا زیادہ سننا بھی آخر کو درویشی لاتا ہے۔ خدا لعنت کرتا ہے گانے والے مردوں اور گانے والی عورتوں پر۔
کیوں کہ وہ شیطان کے پھانسے اور جال ہیں۔  وہ اچھے دانا اس میں پھنسا کر اپنی طرف کھینچتا ہے۔ 
مسئلہ -۳۶
رد السائل الذي یطوف باللّیل یورث الفقر۔ 
یعنی سائل و منگتے کو لوٹانا جو رات کے وقت روٹی مانگنے کے لیے نکلتے ہیں درویشی لاتا ہے۔ 
’شرعۃ الاسلام میں ہے  :
من انتھر سائلا عن یابہ یعذب فی النّار ألف سنۃ۔ 
یعنی جس نے فقیر کو اپنے دروازے سے جھڑکا کر ہانک دیا تو ہزار برس تک دوزخ کے عذاب میں رہے گا۔
فائدہ: روایت ہے کہ مصر کا ایک مالدار تاجر دستر خوان پر بیٹھا ہوا اپنی بی بی کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا، اور مرغِ بریاں اور میدے کی روٹیاں موجود تھیں۔  ایک فقیر نے پکارا۔ اس بخیل تاجر نے اسے جھڑک دیا۔ اور بی بی سے کہا کہ دروازہ بند کر لے۔ نیز غلام کو تا کید کر کہ کوئی یہاں آنے نہ پائے۔
فقیر شکستہ دل ہو کر چلا گیا۔ تھوڑے دنوں میں تاجر کو شامت آئی، مال برباد گیا، تجارت میں بڑا نقصان ہوا، گھر بار بک گیا، زوجہ مطلقہ ہو گئی، تاجر در بدر گدائی کرنے لگا، چند روز بعد زوجۂ  مذکورہ نے ایک مالدار شخص سے نکاح کیا۔
ایک روز مرغِ بریاں اور میدے کی روٹیاں دسترخوان میں دھری ہوئی تھیں اور اپنے شوہر ثانی کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی۔ یکایک فقیر نے دروازے پر پکارا۔ اس مالدار نے ایک روٹی اور مرغِ بریاں توڑ کر بی بی کو دیا کہ جا کر فقیر کو دے آ۔ بی بی گئی اور جا کر فقیر کودی اور ادھر سے روتی ہوئی آئی۔
شوہر ثانی نے پوچھا: کیا حال ہے۔ بولی یہ فقیر میرا پہلا شوہر ہے۔ بڑا مالدار تاجر تھا، زمانے کی گردش نے اس کو در بدر مانگنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شوہر ثانی نے کہا: یہ زمانے کی گردش نہیں بلکہ انصاف ہے۔ میں وہی فقیر ہوں جس کو اس نے جھڑک کر دروازے سے ہانک دیا تھا، اور تجھے دروازہ بند کرنے بھیجا تھا۔ اس کا سارا مال خدا نے میرے قبضے میں دیا اور تجھے بھی میرے پاس پہنچا یا،  لہٰذا خدا سے ہر دم خوف رکھنا چاہیے، اور کبھی بھی آداب شریعت کو چھوڑ نا نہیں چاہیے۔
مسئلہ -۳۷
ترک التقدیرفی المعیشۃ یورث الفقر۔ 
یعنی تقدیر کو معیشت میں چھوڑنا درویشی لاتا ہے۔
یعنی یوں خیال کرنا کہ ہم اپنی عقل اور تدبیر و محنت سے کماتے ہیں اور اڑاتے ہیں۔  یہ بری بات ہے۔ دوسرے معنی تقدیر کو اندازۂ  معیشت میں چھوڑنے کے یہ ہیں کہ آمدنی سے زیادہ خرچ کر ڈالنا درویشی لاتا ہے۔ 
جب آیت: وَ اَقرضُوا اللّٰہَ قَرَضاً حَسَنًا نازل ہوئی یعنی قرض دو اللہ کو قرضِ حسنہ، کہ ایک کے بدلے میں تم کو ستر ملے گا تب ابو د حداح رضی اللہ عنہ کے دو باغ تھے۔ آپ نے رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کی کہ میری املاک میں دو باغ ہیں سومیں اللہ کو قرض دیتا ہوں۔  حضوراقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تقدیر اور تدبیر دونوں بر حق ہیں۔  معیشت کے اسباب میں ایک باغ اپنی عیال و اطفال کے خرچِ سالانہ کے واسطے رکھو،اور ایک باغ اللہ کے نام پر وقف کر دو  :
اجعل إحدٰھما للّٰہ والأخری معیشۃ لک ولعیالک۔ 
بعضے مقام تونگر کو تر جیح ہے۔    رباعی 
تونگر آں راوقف است ونذر ومہمانی		زکوۃ وفطرہ واعتاق وہد یہ قربانی 
توکَے بدولتِ ایشاں رسی کہ نتوانی		جزایں دورکعت وآں ہم بصدپریشانی 
اور بعض مقام میں فقیران صابر کو ترجیح ہے۔   قطعہ
گر غنی زربد امن افشاند			تانظردرثوابِ اونہ کنی 
ازبزرگان شیندہ ام بسیار			صبر درویش بہ زبذل غنی 
مسئلہ -۳۸
 قطعیۃ الرحم یورث الفقر۔ 
یعنی رشتے داروں سے قطع رحمی اور ان پر احسان نہ کرنا درویشی لاتا ہے۔
بعض لالچی مالدار خدا کو بھول کر ایسا کرتے ہیں اور غریب دکھیوں سے الگ ہو جاتے ہیں۔  ’تم روٹھے ہم چھوٹے۔ ایسا کرنا بہت برا ہے۔ بعض جوان لڑکے جب کچھ دنیا کمانے لگے، تو اپنی جورو کے تا بعدار بن جاتے ہیں اور الگ گھر بنا کر رہتے ہیں۔  اپنے ضعیف ماں باپ اور رشتوں کو بھول جاتے ہیں۔  یہ کم بختی کی نشانی ہے۔ فرزند کا گوشت پوست اور اس کی سب کمائی ماں اور باپ کا مال ہے،  مگر جوانی کی غفلت کے سبب سوجھتا نہیں۔ 
مسئلہ -۳۹
التعود علی الکذب یورث الفقر۔ 
یعنی جھوٹ بولنے کی عادت رکھنا درویشی لاتا ہے۔
نیز رزق اور عمر گھٹاتا ہے اور خدا کی لعنت میں گرفتار کرتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے  :
 برالوالدین یزید فی العمر والکذ ب ینقص الرزق۔ 
یعنی ماں باپ کے ساتھ نیکی کر نے میں عمر زیادہ ہوتی ہے اور جھوٹ بولنا رزق کو گھٹاتا ہے۔
مسئلہ -۴۰
اپنے فرزندوں کو بد دعا کرنے سے درویشی آتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے  :
  لاتدعوا أولادکم بالموت فإنّ الدعاء علی الأولاد بالموت یورث الفقر۔ 
یعنی اپنی اولاد کے حق میں موت کی دعا نہ کرو، اس سے درویشی آتی ہے۔
بلکہ ان کے حق میں دعائے خیر کرتے رہو۔ حدیث شریف میں ہے   :
دعاء الوالد لولدہ کدعاء النبّی لأمتہ۔ 
یعنی باپ کی دعا اپنے فرزند کے حق میں ایسے ہی ہے جیسے پیغمبر کی دعا اس کی امت کے حق میں یعنی جلد قبول ہوتی ہے۔
مسئلہ -۴۱
 دعاء الأبوین باسمھا یورث الفقر۔ 
یعنی ماں باپ کو ان کا نام لے کر پکارنا اولاد کے حق میں برا ہے درویشی لاتا ہے۔
نیز بے ادبی اور نحسیت ہے۔ مگر شوہر کا اپنی زوجہ کو اور زوجہ کا اپنے شوہر کو نام لے کر پکارنا نحسیت نہیں ہے۔
مسئلہ -۴۲
اولاد پر واجب ہے کہ ہمیشہ اپنے والدین کے حق میں دعا ے خیر کرتے رہیں۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے التحیات کے بعد اس دعا کو پڑھنے کی تاکید فرمائی  :
 اللھمَّ اغفرلی ولوالدي ولأستاذي۔  الخ 
اس کے پڑھنے میں برکت ہے۔ ترک کر دینا درویشی اور منحوسی کی علامت ہے۔
إذا ترک العبد الدعاء للوالدین فانہ ینقطع عنہٗ الرزق۔ 
یعنی جب بندہ اپنے ماں باپ کے حق میں دعائے خیر کرنا ترک کر دے تو بارگاہِ خداوندی سے اس کا رزق منقطع ہو جاتا ہے۔
مسئلہ -۴۳
 فتاوی خانی میں لکھا ہے  :
من کان ظفرہ طویلا کان رزقہٗ ضیقا۔ 
یعنی جس کے ناخن لمبے ہوں تو اس کا رزق تنگ ہو جاتا ہے۔ 
’احیا ء العلوم میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے  :
 یا أبا ھریرۃ قلِّم أظفارک فإن الشیطان یقعد علی ما طال منھا۔ 
یعنی اے ابو ہریر ہ! اپنے ناخن کتر ا کرو کہ اگر لمبے ہوئے تو شیطان اس پر بیٹھتا ہے۔
 فائد ہ:  کفائیہ شعبی میں ہے کہ جنابت کی حالت میں ناخن کترنا نہ چاہیے،  کیونکہ قیامت کے روز اللہ کے نزدیک ناخن عرض کرے گا کہ ناپاکی حالت میں اس بندے نے مجھ کو جدا کیا اور لعنت کے فرشتوں نے مجھے عذاب میں رکھا۔ اگر غسل کر لیتا اور بعد میں جدا کرتا تو رحمت کے فرشتے مجھے آسودہ رکھتے۔ تب بندے سے (اس کے متعلق) پوچھا جائے گا۔
اسی طرح حجامت کر نا یعنی سر منڈانا بھی،  کیونکہ جنابت کی حالت میں ناپاک جدا ہوں گے، اور غسل کے بعد پاک جدا ہو ں گے۔ حجامت کا معنی اصل میں پچھنا لگانا یعنی خون نکالنا ہوتا ہے، اور حجام خون نکالنے والے کو کہتے ہیں عربی اصطلاح میں۔ 
مسئلہ -۴۴
البخل فی الزکوٰۃ والصدقات الواجبات یورث الفقر۔ 
یعنی زکوۃ صدقات اور واجبات اَدا کرنے میں بخیلی کرنا درویشی کا سبب ہے۔
صدقاتِ واجبات میں فطرۂ  قربانی، اور کفارۂ صوم و یمین وغیرہ داخل ہے۔
بشر البخلاء فی المال بوارث اوحادث۔ 
یعنی بخیلوں کو مال کے بارے میں بشارت دے دوکہ  اسے یا تو وارث لے جائیں گے یا کسی حادثے میں تلف ہو جائے گا۔
اور خدا کا حق تمہاری گردن پر اسی طرح باقی رہے گا۔
مسئلہ -۴۵
المسئلۃ بلا احتیاج، من فتح علی نفسہ باب المسئلۃ فتح اللّٰہ علیہ باب الفقر۔ 
یعنی بلا ضرورت سوال کرنا درویشی کاسبب ہے۔ جس نے اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھول لیا اللہ تعالیٰ اس کے لیے درویشی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ 
مسئلہ -۴۶
الخیانۃ فی الأمانات یورث الفقر الأمانۃ تجر الرزق والخیانۃ تجر الفقر۔ 
یعنی امانتوں میں خیانت کرنا درویشی کاسبب ہے،  کیونکہ امانت رزق کو بڑ ھاتا ہے اور خیانت درویشی کو۔
مسئلہ -۴۷
الزنا یخرب البناء۔ 
یعنی زنا کاری تمام بنیاد خراب کر دیتی ہے۔
 اثنان لا یجتمعان الزنا والغناء۔ 
یعنی دو چیزیں ہر گز جمع نہیں ہو سکتیں بدکاری اور تونگری۔ 
یعنی اگر بدکاری شروع کرے گا تو جلد ہی فقیر بن جائے گا۔
 اثنان لا یجتمعان صلوۃ الضحیٰ والفقر۔ 
یعنی دو چیز ہر گز جمع نہ ہوں گی نماز چاشت اور مفلسی۔ 
یعنی جو شخص نماز چاشت پر مداومت کرے گا  افلاس کے سبب کبھی ننگا بھوکا نہ رہے گا۔
مسئلہ -۴۸
 الأکل فی الظلمۃ۔ 
یعنی اندھیرے میں بیٹھ کر کھانا خوئے بد ہے۔
إنہ لایقعد فی بیت مظلمۃ حتی یضاء فیھا السراج۔ 
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کبھی بھی اندھیرے میں نہیں بیٹھتے تھے،  یہاں تک کہ وہاں چراغ روشن کیا جائے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ  کھانے کی ابتدا نمک سے کرو اور ختم بھی نمک پر کرو کہ اس میں چالیس بیماریوں سے شفا اور رزق میں برکت ہو گی۔
مسئلہ -۴۹
من بذل بجارہ مثقالاً من الخمیر کان جبلا فی میزانہ یوم القیمۃ۔ 
یعنی جو اپنے ہمسایہ کو ایک مثقال بھر خمیر دے تو اس کا ثواب کل قیامت کے دن اس کے میزانِ عمل میں پہاڑ کے برابر ہو جائے گا۔
 ملک عرب میں مثقال ساڑے چار ماشے کا ہوتا ہے۔
مسئلہ -۵۰
دعاء السوء علی الوالدین یورث الفقر۔ 
یعنی ماں باپ کو برا کہنا اور بددعا کرنا یا ان سے رنجش رکھنا درویشی پیدا کرتا ہے۔
 اگر والدین بچوں کے حق میں بددعا کریں گے تو درویش بنیں گے۔ اگر اولاد اپنے والدین کے حق میں بد دعا کرے گی تو وہ مفلس بن جائے گی۔ 
مسئلہ -۵۱
النوم وقت الصبح یورث الفقر۔ 
یعنی صبح کے وقت سونا درویش ومفلس کر دیتا ہے۔
 إیاک والنوم قبل العشاء بعد الصبح ۔ 
یعنی خبردار! عشا سے قبل اور صبح ہو نے کے بعد کبھی نہ سونا۔
کیوں کہ رحمت کے فرشتے ان وقتوں میں نزول فرماتے ہیں۔  جب آدمی اس وقت بیدار رہتا ہے تو ملائکۂ رحمت سے بر کتیں پاتا ہے۔ جب سو یا رہتا ہے تو رحمت سے محروم ہو جا تا ہے۔ 
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے کسی فرزند کو صبح کی نماز کے وقت سویا دیکھا تو خفا ہو کر اسے جگا دیا اور فرمایا  :
 لا أنام اللّٰہ عینیک أ تنام فی الساعۃ التی تقسم الرزق۔ 
یعنی خدا تیری آنکھوں میں نیند نہ دے۔ کیا تو ایسے وقت میں سوتا ہے جو رزق بٹنے کا وقت ہے۔
 من السنۃ أن یقوم من منامہ قبل الصح۔ 
یعنی نماز فجر سے پہلے نیند سے بیدار ہو نا سنت ہے    ؎
صبح صادق مرہم کا فور دار در بغل
گر علاجِ زخم عصیاں می کنی بیدار باش
روایت ہے کہ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  مسجد سے صبح کی نماز پڑ ھ کر بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان پر گئے، دیکھا تو بی بی فاطمہ اپنے بچھونے میں چادر اوڑھے لیٹی ہوئی تھیں۔  سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے خفا ہو کر فرما یا  :
 کیا تو میری بیٹی ہو کر صبح کی نماز کے وقت سوتی ہے۔ اس وقت ہر روز خدا کی بارگاہ سے تین چیز تقسیم ہوتی ہے: ایک تندرستی۔ دوسری خوش خوئی۔ تیسری برکت رزق و روزی۔ پھر ناراض ہو کر فرمایا:تو ان برکتوں سے خود کو محروم کیوں کرتی ہے۔
بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اُٹھ بیٹھیں۔  عذر خواہی کی اور نرمی سے عرض کی: نماز فجر ادا کر رہی تھی کہ چھوٹے شہزادے حسین نے مجھے بستر پر نہ پایا تو اچانک رونے لگا،  اس لیے اس کی دلداری کے لیے بچھونے پر چادر اوڑھ کر اس کے برابر آ کر لیٹ گئی ہو ں۔ 
اتنے میں جبرئیل علیہ السلام آئے اور گواہی دی کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سچ کہتی ہیں۔  تب سرکا راقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناراضگی دور ہوئی۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: دنیا میں شرعی معاملات میں فرشتوں کی گواہی مقبول نہیں۔  احکامِ شرعیہ میں اولادِ آدم کے مقدموں میں بنی آدم ہی گواہی دیں جن یا فر شتے کی گواہی قاضی ہرگز قبول نہ کرے۔
 مسئلہ -۵۲
لاَ یَمَسُّہٗ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَo (سورۂ  الواقعہ:۵۶/۷۹)
یعنی قرآن شریف کو بے وضو ہاتھ لگانا نہیں چاہیے۔
یہ سخت بدی کا باعث بلکہ گناہِ کبیرہ ہے۔ اور جو شخص ہمیشہ بے وضو کلام مجید کو ہا تھ لگاتا ہے وہ ہمیشہ مفلس رہتا ہے، کبھی تونگری ان کو نہیں ملتی،  مگر سمجھیں،  تو بہ کر یں اور صبح کی نماز کے بعد تلاوت قرآن کریں،  بے شک مفلسی جائے گی اور تونگری آئے گی، اگر چہ ایک رکوع تلاوت کریں۔ 
مسئلہ -۵۳
فقیہ ابو اللیث رحمتہ اللہ علیہ کی ’تنبیہ الغافلین میں لکھا ہے  :
إنہٗ قال لعلي واحذر اٰخر یوم الأربعاء من کل شھر فانھا  یوم نحس وما خسف اللّٰہ تعالٰی بقوم ولا مسخ إلا اٰخر الأربعاء من کل شھر۔ 
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے فرمایا: ہر ماہ کے آخری بدھ سے بچو کہ وہ دن نحس ہے۔ اللہ کی طرف سے بنی اسرائیل پر زمین میں دھنس جانے کا عذاب اسی دن نازل ہوا تھا اور گناہ گاروں کے چہر ے اسی دن مسخ ہوئے۔ 
اسی طرح بدھ اور اتوار کی شب جماع کرنا بھی ممنوع ہے کہ یہ بھی درویشی کا سبب ہے، اور اگر اس دوران حمل رہ جائے تو مولود بے حیا پیدا ہو گا اور ہمیشہ مفلس رہے گا۔
مسئلہ -۵۴
من احتکر علی الناس بطعام عماہ اللّٰہ با فلاس وجذام۔ 
یعنی جو کوئی گراں قیمت ہونے کی امید پر غلّہ اناج بند کر کے آدمیوں میں قحط کی نیت سے جمع رکھے، خدا اس کو افلاس اور مرضِ جذام میں گرفتار کر دے گا۔
 من احتکر الطعام أربعین یوما یطلب القحط فعلیہ لعنۃ اللّٰہ والملٰئکۃ والناس أجمعین ولا یقبل منہ فرضا ولا نفلاً۔ 
یعنی جس نے اناج چھپا کر چالیس دن رکھا، بیچنا بند کیا اور گراں ہونے کی خواہش رکھی تواس پر لعنت ہے خدا کی اور سب فر شتوں کی اور سب آدمیوں کی۔ خدا اس کی فرض  و نفل عبادت ہر گز قبول نہیں کرتا۔
مسئلہ -۵۵
قمار بازی کے اسباب اور آلاتِ مزا میر گھر میں لا کر رکھنا۔ اس سے برکت جاتی ہے اور مفلسی آتی ہے، اگر چہ خود نہیں کھیلتا ہے  :
لا تدخل الملٰئکۃ بیتا فیہ خمرا وطنبورا ونردا لا یستجاب دعاء ھم ویرفع اللّٰہ عنھم البرکۃ۔ 
یعنی فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جہاں شراب رکھی ہو یا دف یا طنبورہ یا  نرد چوسر دھری ہو، اس گھر میں رہنے والوں کی دعا قبول نہیں ہوتی اور خدا ان سے برکت اٹھا لیتا ہے۔
لہو و لعب کی اشیا گھر میں رکھنے سے بھی آدمی گنہگار ہوتا ہے، اگر چہ خود اس کا استعمال نہیں کرتا۔ اور اس کا بر عکس یہ مسئلہ ہے کہ قرآن شریف کسی شخص نے اپنے گھر لا کر رکھا اور کبھی پڑھتا نہیں گنہگار ہوتا ہے،  مگر نیت کرے کہ اس کا گھر میں رکھنا خیر و برکت ہے تو پھر گنہگار نہ ہو گا بلکہ اس نیت میں ثواب کی اُمید ہے۔
مسئلہ -۵۶
 والبول في الطریق یورث الفقر۔ 
یعنی راستے میں پیشاب کرنا سبب افلاس ہے۔
نیز شرع شریف میں اس شخص کی عدالت شہادت ساقط ہوتی ہے۔ اسی طرح راستے میں کسی نے کچھ طعام یا میوہ کھایا یا برہنہ سر بازار میں گیا اس کی گواہی بھی نا مقبول ہو گی یعنی وہ شاہد عادل نہ رہا، اور مفلسی اس پر حملہ کرے گی،  (لہٰذا جب تک وہ ) توبہ واستغفار نہ کرے تب تک  تونگری اس کی طرف نہ آئے گی۔ جس طرح راستہ و بازار کھانا پینا اور پیشاب کرنا منع ہے، اسی طرح قبرستان میں بھی کھانا پینا اور پیشاب کرنا منع ہے  :
من بال فی الطریق کأنما بال علی قبر۔ 
یعنی جس نے راہ میں استنجا کیا گویا اس نے قبر پر استنجاکیا۔یعنی گناہ دونوں کا برابر ہے۔ 
مسئلہ -۵۷
ہمیشہ بیہودہ گوئی، مسخری کرنا اور ہز لیات کہنا مفلسی لاتا ہے  :
فاجتنبوا من الھزل۔ 
یعنی ہزل سے پر ہیز کرو۔
مسئلہ -۵۸
برہنہ سر کھانا باعث درویشی ہے، اور عورت اگر اپنا سر برہنہ کرے تو فرشتہ دور بھاگ جاتا ہے۔ سر برہنہ قضائے حاجت کو جانا یا بازار میں پھرنا ایماندار کو منع اور نحس ہے،  کیونکہ الحیاء من الإیمان یعنی حیا اور ادب ایمان کا جز ہیں۔ 
من لا أدب لہٗ لا دین لہٗ۔ 
یعنی جس کے پاس ادب نہیں اس کے پاس دین نہیں۔ 
با  ادب  باش  بادشاہی  کن
بے ادب باش ہرچہ خواہی کن 
یعنی با اَدب بادشاہی کرتا ہے، اور بے ادب ہر من چاہی کر کے(رسوا ہوتا ہے)۔
مسئلہ -۵۹
سجدۂ تلاوت نہ کرنا یا قراء ت کرنے میں سجدے کی آیت کو چھوڑ دینا یعنی نہ پڑھنا کہ سجدہ کرنا پڑے گا بے ادبی اور مفلسی کا باعث ہے،  اس لیے کہ آیت سجدہ چودہ مقام پر کلامِ مجید میں ہے۔ اس آیت کو نہ پڑھنا صرف شیطانیہ فرقہ میں جائز ہے۔ 
یہ مسائل جو بیان ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں اہل سنت و جماعت کی علاماتِ آداب اسلام، نشانِ ایمان اورحسن عادات سے ہیں۔  اور حکم شرع کے خلاف کرنے سے افلاس کی شامت آتی ہے، اور برکت جاتی ہے۔
مسئلہ -۶۰
کسی شخص کی کنگھی عاریتاً مانگنا اور اپنی ڈاڑھی میں کرنا درویشی لاتا ہے  :
ثلاث لیس فیھا اشتراک المشط والخلال والمسواک۔ 
یعنی تین چیزوں میں شراکت کرنا جائز نہیں : شانہ، خلال اور مسواک۔
مسئلہ -۶۱
البول فی الماء الدایم ممنوع وفی الماء الجاري مکروہ۔ 
یعنی حوض و تالاب یا بہتے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا ممنوع و مکروہ ہے۔
پانچ چیزیں ایسی ہیں جو انسان کو سہوونسیان جیسے موذی مرض میں مبتلا کر دیتی ہیں بالخصوص کسی عالم و فقیہ کے لیے سہوونسیان بڑی آفت ہے۔ 
اول حوض یا تالاب میں پیشاب کر نا۔دوم خاکستر یا راکھ پر پیشاب کرنا۔  سوم چوہے کا جھوٹا کھانا، یعنی اگر کسی برتن میں چوہے نے منھ ڈالا ہو تو اس میں سے کچھ کھانا نسیان پیدا کرتا ہے۔ چہارم قبلہ رخ ہو کر پیشاب کرنا۔ پنچم زندگی حرام خوری میں کھونا۔
مسئلہ -۶۲
لنگی باندھے بغیر نہانا یا تالاب اور حوض میں برہنہ اُترنا باعث مفلسی ہے۔ برہنہ غسل یا وضو کرنا نہایت بد اور منحوس ہے  :
إن اللّٰہ تعالیٰ حیٌّ ستیر، یحب الحیاء والستر فإذا اغتسل أحدکم فلیستتر۔ 
یعنی بے شک اللہ حی و ستار ہے، حیا اور ستر کو محبوب رکھتا ہے،  لہٰذا تم میں سے جو کوئی غسل کرے تو اسے چاہیے کہ وہ ستر کرے۔
یعنی تہبند وغیرہ باندھے، گر چہ تنہا ہو،  کیوں کہ رحمت کے فرشتے موجود رہتے ہیں جو برہنہ شخص کو دیکھ کر چلے جاتے ہیں،  اور لعنت کرنے والے فرشتہ اس پر لعنت بھیجتے ہیں یہاں تک کہ وہ شخص کپڑا پہن لے۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے  :
نھی عن التعری والبول فی المغسل، وقال من فعل ذلک فاصابہ الوسواس فلا یلومن إلانفسہٗ۔ 
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برہنہ ہو کر غسل کرنے اور حمام میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے، اگر کوئی ایسا کرے اور وسوسوں اور شکوک و شبہات کی بیماریوں میں مبتلا ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو ملامت کرے۔
کیوں کہ اس نے اپنے ہاتھوں خود کو ایسے امراض میں مبتلا کر دیا ہے جن کا علاج نہ ہو پائے گا۔
مسئلہ -۶۳
برہنہ ہو کر بستر پر برہنہ حالت میں سونا بھی نحوست ومفلسی کا سبب ہے۔ ایساشخص جن یا شیطان کے سایہ میں گرفتار ہو گا، اور مفلس بن جائے گا۔
مسئلہ -۶۴
سوتے وقت پائیجامہ یا لنگی کو اُتار کر سرہانہ بنانا بھی منحوس اور خوفناک خواب دیکھنے کا سبب ہے۔
مسئلہ -۶۵
بعض لوگ اپنے بستر سے قریب خواب گاہ میں پیشاب کرنے کے لیے لوٹا یا مٹی کا طشت یا سلائچی رکھتے ہیں،  اور بارش تاریکی اور سردی کی وجہ سے کمرہ کے باہر جا کر استنجا کرنے سے غفلت کرتے ہیں،  انھیں جاننا چاہیے کہ پیشاب کی بدبو کی وجہ سے رحمت و برکت کے فرشتے ایسی جگہ داخل نہیں ہوتے، نیز ایسے مقامات عفریت و شیاطین کے اَثرات سے خالی نہیں رہتے، نیز یہ خوئے بد ویرانی ونحوست کا سبب ہے۔
مسئلہ -۶۶
مولانا ضیاء الدین سنائی نے اس قطعہ میں دس منحوس اشیا کا ذکر فرمایا ہے   ؎
عشر منعت دخول بیت ملکا		آلات قمار کشفت مستورۃ
خمروجرس وکناسۃ ومزمار		 کلب جنب مجمع بول وصورۃ
یعنی دس چیزیں ایسی ہیں کہ جو رحمت و برکت والے فرشتوں کو گھر میں آنے سے منع کرتی ہیں (یعنی جس گھر میں یہ چیزیں ہیں وہاں فرشتے نہیں آتے) قمار بازی، جوا بازی، شطرنج گنجفہ، نرد  وغیر ہ،مستورشے کھولی جائے یعنی برہنگی، شراب،گھنٹی بجانا جسے رنگولہ بھی،گھرکا کچرا جھاڑ کر کسی کونے میں جمع کر کے رکھنا، پومگی شہنائی توتاری قرنا وغیرہ، کتا، جنب یعنی غسل جنابت نہ کرنا اور ناپاک بیٹھے رہنا، پیشاب برتن میں جمع کر کے رکھنا، حیوان یا انسان کی تصویر۔
حضور پیغمبراسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام اور علمائے کرام و اولیائے عظام نے مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے کتابوں میں ایسی تمام چیزیں ظاہر فرما دی ہیں کہ فلاں کام نحوست کا باعث ہے مت کرو، برکت جائے گی، مفلسی آئے گی۔ فلاں کام باعث سعادت ہیں،  جن کے کرنے سے رحمت و مالداری آئے گی اور مفلسی دور ہو گی۔ 
تو معلوم ہونا چاہیے کہ جو کام کرنے سے برکت جاتی ہے وہ کام نہ کرنے سے برکت آئے گی اور مفلسی دور ہو گی۔ یوں ہی جو کام کرنے سے رحمت و برکت آتی ہے وہ کا م نہ کرنے سے مفلسی آئے گی اور برکت ختم ہو گی۔ اس الٹ پھیر کو سمجھ کر جس نے دنیا میں اسی کے موافق زندگی گذاری وہ دنیا و آخرت میں بھی تونگر ہو گا۔دنیا کی فانی ہے اور آخرت کی تونگری باقی ہے۔ 
مسئلہ -۶۷
ترک الصلوٰۃ یورث الفقر۔ 
یعنی نماز ترک کرنا مفلسی کا وارث بناتی ہے۔
’زاد الارواح میں لکھا ہے کہ حجر اسود کعبۃ اللہ کے کونے میں نصب ہے جسے بوسہ دے کر طواف کا آغاز ہوتا ہے۔ وہ ایک سیاہ پتھر ہے کہ فرشتہ کی خاصیت خداسے پایا ہے۔ بروزِ میثاق ارواح سے عہد نامہ لیا گیا تھا، سو تمام بنی آدم کے نام اس میں مرقوم ہیں۔  اس پتھر کو بلا کر خدا نے فرمایا: اپنا منھ کھول، اس نے کھول دیا تب وہ عہد نامہ لپیٹ کر اس کے منھ میں  رکھ دیا۔ حکم ہوا نگل جا، نگل گیا۔ پھر حکم ہوا جو بنی آدم تجھ کو ہا تھ لگائے، بوسہ لے، اس کے گناہ تو سلب کرے، اس کو پاک بنا دے۔ کہا: اچھا۔ 
اس کے بعد تین سطر یں روحوں کو یا د دلانے کے واسطے اس پر لکھ دیں۔  پہلی سطر میں خدا کا کلمۂ  توحید ہے۔ اور دوسری وتیسری سطرمیں فعل بد کرنے اور فعل نیک نہ کرنے کی سزا یا د دلائی گئی ہے  :
إنی أنا اللّٰہ لاإلٰہ إلاأنا، أفقر الزانی وأعرّی تارک الصلوۃ۔
یعنی بے شک میں اللہ ہوں،  میرے سوا کوئی خدا نہیں۔  میں زنا کرنے والوں کو مفلس بناتا ہوں اور نماز نہ پڑھنے والوں کو برہنہ رکھتا ہوں ( یعنی ان پر مفلسی کو مسلط کر دیتا ہوں )۔
شیطاں ہزار مرتبہ بہتر ز بے نماز 
آں سجدہ پیش آدم وایں پیش حق نکرد
الغرض! یہ حجر اسود ایک فرشتہ کی صورت میں کل قیامت کے روز بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہو گا، اور حاجیوں کے طواف، عمرہ، سعی اور اعمال کی گواہی دے گا اور نمازی انسان کو پہچان کر جنت کی راہ دکھائے گا۔
مسئلہ -۶۸
سرعۃ الخروج من المسجد بعد الصلوٰۃ بلا دعوۃ۔ 
یعنی نماز کے بعد مسجد سے بغیر دعا مانگے جلدی سے نکل جانا۔ 
یعنی ابھی امام نے دعا فاتحہ نہیں کی کہ خود اس سے پہلے مسجد سے نکل آیا، یہ مفلسی کا باعث ہے۔ حکم تو یوں ہے کہ تمام نماز یوں سے پہلے مسجد میں آنا اور سب کے بعد جانا نیک بختی کی علامت ہے۔
بعد کل فریضۃ دعوۃ مستجابۃ ومن لم یشاء فاللّٰہ یغضب علیہ۔ 
یعنی ہر فرض نماز کے بعد دعا کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے جو بندہ دعا نہیں کرتا رب تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے۔
کہ یہ بندہ مجھ سے بے پرواہ ہو گیا ہے، اسے مجھ سے کوئی حاجت نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ کی یہی ناراضگی انسان کو ہزاروں رنج و بد اور مفلسی میں مبتلا کر دیتی ہے۔
مسئلہ -۶۹
کلام الدنیا في المسجد یورث الفقر۔ 
یعنی مسجد میں دنیا وی باتیں کرنا درویشی کا سبب ہے۔
حدیث پاک میں ہے کہ جب کوئی مسجد میں کلام کرتا ہے تو پوری مسجد میں اس کے منہ سے ایک بدبو پھیلتی ہے جس کی وجہ سے رحمت کے فرشتہ مسجد سے نکل کر بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہو کر فریا د کرتے ہیں (کہ مولا!) تیرے بندوں نے ہمیں تیرے گھر سے باہر نکال دیا ہے۔ تب خدا فرماتا ہے، پھر جاؤ ہم نے تمھیں ان کو ہلاک کرڈالنے کا اختیار دیا ہے۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے  :
فبعزتي وجلالي لأسلطنھم أقواماً من جانب المشرق یخرجوھم من بیوتھم کما أخرجوکم من بیتی۔ 
یعنی مجھے میری عزت و جلال کی قسم! میں ان پر ایک ایسی قوم کو مسلط و غالب کر دوں گا جو مشرق سے آئے گی اور ان کو ان کے گھروں سے باہر نکال دے گی جس طرح کہ انھوں نے تم کو ہمارے گھر سے نکال دیا ہے۔
الغرض! خدا کا کتنا غضب اس سبب سے نازل ہونے والا ہے جس کا کچھ شمار نہیں ہو سکتا۔ مشرق کی جانب سے جو قوم آنے والی ہے، وہ یاجوج و ماجوج کی قوم ہے جو تمام بنی آدم کو ہلاک کر دیں گے، اناج و درخت کھا جائیں گے، اور ندی کنووں کا پانی پی جائیں گے، یہ جانوروں کو بھی کھا جائیں گے۔ اللّٰھم عافنا من کل بلاء الدنیا وعذاب الاٰخرۃ۔ 
مسئلہ -۷۰
التکلم فی حالۃ التوضی مکروہ، وفی الاغتسال أشد الکراھۃ۔ 
یعنی وضوکرتے وقت بات کرنا مکروہ ہے مگر غسل کی حالت میں سخت کراہت ہے۔
اعضائے وضو کو دھوتے وقت دعائیں پڑھیں۔  بعض فقہا ان دعاؤں کو مستحب کہتے ہیں،  کارِ مستحب کو چھوڑ کر مکروہ میں مشغول ہونا شیطان کا ایک فریب ہے۔ بڑے بڑے عقلمند و ہوشیار نمازی شیطان کے اس فریب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ 
مسئلہ -۷۱
من رد الفتوح اُبتُلی بالسوال۔ 
یعنی جس شخص نے فتوح یعنی ہدیہ و تحفہ رد کیا اور نہ لیا وہ بالآخر مانگنے کی بلا میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
یعنی بغیر مانگے جب کوئی کچھ دے تو اسے قبول کر لینا چاہیے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے، ہرگز اسے رد نہ کرے  :
إذا اعطیت بغیر مسألۃ فتقبل وکل وتصد ق فإنھا ھدیۃ وکرامۃ من اللّٰہ تعالٰی۔ 
یعنی اگر بن مانگے تجھے کچھ عطا کر دیا جائے تو تو اسے قبول کر اور کھا اور دوسروں کو کھلا کہ یہ اللہ کی طرف سے عطا و بخشش ہے۔
’صلوٰۃ مسعودی میں مرقوم ہے کہ غنی اور فقیر دونوں کو ہدیہ قبول کرنا چاہیے۔ اگر ان میں سے کوئی قبول کرنے سے انکار کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے محتاج بنا دے گا    ؎
چیز ے کہ بے سوال رسد دادۂ خداست 
آں را تورد مکن کہ فرستادۂ خداست 
مسئلہ -۷۲
عشا سے پہلے سوجانا اور فجر کے بعد اٹھنا درویشی لاتا ہے۔ ’خلاصۃ الحقائق میں لکھا ہے  :
قالت أم سلیمان علیہ السلام لابنھا سلیمان یا بنی لا تکثر النوم باللیل فإن کثرۃ النوم باللیل ینزع العید فقیرا یوم القیامۃ۔ 
یعنی سلیمان علیہ السلام کی والدہ سلیمان علیہ السلام سے فرماتی ہیں کہ میرے بیٹے رات کو زیادہ نہ سو کہ کثرتِ نیند بندے کو بروز قیامت فقیر بنا دے گی۔
یعنی جب رات بھر سوتا رہے گا، تو عبادت نہ کرسکے گا اور جب عبادت نہ کرے گا تو قیامت کے دن نامہ اعمال کی مفلسی میں گرفتار رہے گا۔
مسئلہ -۷۳
کنسُ البیت لیلا یورث الفقر۔ 
یعنی رات کے وقت گھر میں جھاڑو دیتا مفلس بناتا ہے۔ 
مسئلہ -۷۴
من کنس بیتہٗ بخرقۃٍ فانہٗ یورث الفقر۔ 
یعنی جس نے گھر کو کپڑے کی چندیوں سے جھاڑا تو اس نے درویشی کو بلایا۔ یعنی کپڑے کے جاروب سے فرش کو جھاڑنا نحس ہے۔
مسئلہ -۷۵
إذا أکل أوشرب أحدکم بشمالہ، قل یأکل ویشرب بیمینہ، فإن الشیطان یأکل بشمالہ۔ 
یعنی جب تم میں سے کوئی دائیں یا بائیں ہاتھ سے کھائے پیے تو اسے دائیں سے کھانے پینے کا حکم دو،  کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا ہے۔
مسئلہ -۷۶
إحراق قشر البصل والسیر۔ 
یعنی پیاز اور لہسن کے چھلکے بے سبب جلانا نحس ہے۔
نیزاس کا دھواں ارواحِ علوی کے لیے تکلیف کا سبب ہے، یعنی پاک مؤکل فرشتے اس کی بد بوسے بھاگ جاتے ہیں،  اور سفلی ارواح یعنی جنات و شیاطین وغیرہ کے لیے مرغوب ہے۔
مسئلہ -۷۷
 لا تحقروا کسرۃ الخبزوکلوا مما یسقط من یدی فإن ذاک مھور حورالعین، ومن أکلہ یصرف الجنون والجذام عنہٗ وعن ولدہ وولد ولدہ۔ 
یعنی روٹی کا جو ٹکڑا نیچے گر جائے تو اس کی تحقیر نہ کرو بلکہ دسترخوان پر ہاتھ سے جو ٹکڑا گرا ہے اسے اٹھا کر کھاؤ کیونکہ اس کا ثواب حور العین کے مہر کے مثل ہے۔ جس نے گرے ہوئے روٹی کے ٹکڑے اٹھائے اور کھائے اس کی برکت سے امراضِ جنون و جذام اس کے بدن سے اور اس کی اولاد کے اور اولاد کی اولاد کے بدن سے خدا دور کر دے گا۔
تفسیر درالمعانی میں لکھا ہے کہ ایک وقت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما راہ سے گذر رہے تھے، روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا پایا چونکہ روزہ دار تھے اس لیے اسی وقت اس کو دھلو ا کر نہ کھا سکے اور غلام کے حوالے کر دیے۔ جب افطار کا وقت ہو گیا تو غلام سے وہ روٹی کا ٹکڑا مانگا۔ غلام نے کہا: جب راستے میں سے اٹھا کر آپ نے مجھے دیا میں نے اس کو دھوکر کھا لیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اسی وقت اس غلام کو آزاد کر دیا اور کہا:
اذھب فأنت حرٌ۔ 
یعنی جا تو آزاد ہے۔
حاضرین مجلس نے آزاد کرنے کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو  فرماتے ہوئے سنا ہے  :
من وجد کسرۃ خبز فغسلھا ثم أکلھا ثم تصل إلی جوفہ حتی یغفراللّٰہ لہٗ۔ 
یعنی جس نے روٹی کا ٹکڑا پڑا پایا اور اسے دھوکر کھا لیا۔ تو ابھی وہ اس کے بدن کے درمیان ٹھیک سے پہنچتا بھی نہیں کہ خدائے تعالیٰ اس بندے کو بخش دیتا ہے۔
الوضوء قبل الطعام ینفی الفقر وبعد الطعام ینفی الھمّ۔ 
یعنی کھانے سے قبل ہاتھ دھونا افلاس کو دور کرتا ہے۔ اور بعد طعام ہاتھ دھونا غم کو دور کرتا ہے۔ 
مسئلہ -۷۸
’تنبیہ ابواللیث میں مرقوم ہے  :
ما استخف قوم بالخبز إلا ابتلاہ اللّٰہ بالجوع۔ 
یعنی جو قوم بھی روٹی کی ناقدری کرتی ہے اللہ اس کو بھوک کی بلا میں ضرور گرفتار کرتا ہے۔
یعنی روٹی کو خوار رکھنے کی شامت سے ہر طرح کی مفلسی درویشی ساری قوم پر آتی ہے۔ ’شرعۃ الاسلام میں لکھا ہے کہ صحنک یا کا سہ کو روٹی کے ٹکڑے کا ٹیکا نہ لگائے، یا روٹی کے اوپر نمکدان یا قلیہ کا پیالہ نہ رکھے بلکہ روٹی کو قلیہ کے پیالے کے اوپر رکھے۔ یعنی جس میں روٹی کی تعظیم و ادب ہو وہ کرے، اورجس میں تحقیر ہو نہ کرے۔
مسئلہ -۷۹
جس جگہ وضو کرتے ہیں وہاں پیشاب نہ کرے،  کیونکہ وضو کرنے کی جگہ پر وضو کرنے والے کے حق میں فرشتے استغفار و اذکار کرتے ہیں۔  تو پیشاب کی بدبو ونجاست کے سبب وہ وہاں سے نکل جائیں گے۔ یوں ہی اس کے برعکس پیشاب کرنے کی جگہ وضو نہ کرے کہ بے حاصل ہے۔ 
مسئلہ -۸۰
التوضی عند مقام الاستنجاء یورث الفقر۔ 
یعنی استنجا کرنے کی جگہ پر وضو کرنا درویشی لاتا ہے۔
’فتاوی حجت میں مرقوم ہے کہ لفظ استنجا کبھی پیشاب کرنے کے معنی میں آتا ہے اور کبھی کلوخ کے بعد پانی سے آبدست لینے کے معنی میں آتا ہے،  کیوں کہ اس کی جگہ الگ بنی رہتی ہے۔ اور کبھی استبر او استنجا ایک معنی میں بھی مروج ہوتے ہیں۔  اصل یہ ہے کہ ناپاک جگہ پر پاک پانی اور پاک جگہ پر ناپاک پانی ڈالنا منع ہے۔ 
مسئلہ -۸۱
وضو کے بعد ہاتھ اور منھ کپڑے سے پونچھنے سے برکت جاتی ہے۔جو قطرے وضو کے پانی کے داڑھی کے بالوں سے ٹپکتے ہیں اور، نیز بندہ جب تکبیر تحریمہ کہتا ہے تو انگلیوں سے بھی پانی کے قطرے جھڑتے ہیں تو ہر قطرے میں خدائے تعالیٰ برکت کا ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو قیامت تک اس وضو کرنے والے کے حق میں دعائے خیر کرتا ہے۔ 
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وضو کرنے والے کی بابت دریافت کیا کہ کیا اسے اپنے چہرے کا پانی پونچھ لینا چاہیے؟۔ آپ نے فرمایا  :
أ تمسح عن وجہک الخیرات لک بکل قطرۃ اثبات حسنۃٍ وکفارۃ سیئۃٍ وترفع درجۃ۔ 
یعنی کیا تو خیرات اپنے منہ سے پونچھ کر نکال ڈالتا ہے۔ ہر ایک قطرے کے بدلے تیرے لیے ایک نیکی ہے، گناہ کا کفارہ ہے اور اس کے سبب جنت میں ایک درجہ بلند ہونے والا ہے۔
امام اجل شمس الائمہ سرخسی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ وضو کے بعد کپڑے سے منھ پونچھنا دین میں درویشی لاتا ہے۔
خلاصۃ الحائق میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کل قیامت کے دن ایک شخص کی نیکی بدی میزان میں تولی جائے گی۔ نیکی ہلکی ہو جائے گی اور بدی بھاری۔ تو وہ شخص گھبرائے گا۔ اتنے میں ایک شخص رومال کا کپڑا لائے گا جس سے وہ شخص وضو کر کے ہاتھ  پاؤں پونچھا کرتا تھا جب وہ نیکی کی جانب رکھ دے گا تو نیکی بھاری ہو جائے گی اور بندے کو جنت میں جانے کا حکم مل جائے گا۔ تب وہ بندہ پوچھے گا کہ یہ کپڑا کیا چیز ہے؟۔ وہ فرشتہ کہے گا کہ یہ کپڑا وہ ہے کہ کبھی کبھی وضو کے بعد تو اس میں ہاتھ پاؤں پونچھ لیا کرتا تھا۔
اس تعلق سے امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ کھانا کھانے سے قبل ہاتھوں کو دھونا سنت ہے،  مگر اس کا پانی کپڑے سے پونچھنا مکروہ ہے۔ اور کھانے کے بعد ہاتھ دھویا جاتا ہے مگر اب اس کا کپڑے سے پونچھنا مکروہ نہیں۔ ہاں ! وضو کے بعد منھ کا پانی پونچھنا مکروہ ہے،  لیکن ہاتھ پاؤں کا پونچھنا مکروہ نہیں،   کیوں کہ جیسے منھ تر رکھنے میں قطرے ٹپکتے ہیں اور موجب ثواب ہوتے ہیں اسی طرح ہاتھ پاؤں پونچھنے سے بھی وہ کپڑا ثواب کا موجب ہو جاتا ہے۔اور یہ اہل سنت و جماعت کی نشانیاں ہیں۔  دیکھنے میں تو یہ چھوٹے کام ہیں مگر اللہ کے نزدیک بڑے کام کے کام ہیں اور ہر ناکام کے حق میں بہتر ہیں۔ 
مسئلہ - ۸۲
جنابت کی حالت میں کچھ کھانا درویشی لاتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو پہلے وضو کر لے پھر کھانے پینے میں کچھ مضائقہ نہیں۔  اسی طرح ایک بار صحبت کرنے کے بعد بغیر غسل دوسری بار صحبت کرنا منع ہے، مگر یہ کہ وضو کر لے تو کوئی مضائقہ نہیں کہ غسل کے دو فرض وضو کرنے میں ادا ہو جاتے ہیں۔ 
إذا کان جنبا فإذا أراد أن یأکل أو ینام توضأ وضوء الصلوٰۃ۔ 
یعنی اگر کوئی جنبی ہے اور کچھ کھانے یا سونے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ وضو کر لے جیسے نماز کے لیے کیا جاتا ہے۔
مسئلہ - ۸۳
دروازے کی دہلیز پر بیٹھنا یا وہاں کچھ کھانا یا پانی پینا درویشی لاتا ہے۔ ’صلوٰۃ مسعودی میں ہے  :
من جلس علیٰ اسکنت الباب فلینتظر الہم إلی سبعۃ أیام۔ 
یعنی جو کوئی دروازے کی دہلیز پر بیٹھے تو ایک ہفتہ تک غم و پریشانی کے آنے کا انتظار کرے۔
 یعنی اس ہفتہ میں ضرور کسی نہ کسی طرح اس پر غم وپریشانی کا حملہ ہو گا۔
مسئلہ - ۸۴
استادوں یا عالموں کی اہانت یا حقارت کرنا درویشی لاتا ہے۔حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا  :
من استخف أستاذہ ابتلاء ہ اللّٰہ تعالیٰ في بلیات نسي ما حفظہ وکل طبعہ ویفتقر في آخر عمرہ۔ 
یعنی جس نے اپنے استاد کی ناقدری اور تحقیر کی تو اسے سخت بلاؤں میں گرفتار کرتا ہے کہ وہ ساراسیکھا سکھایا بھول جاتا ہے، اور اس کی طبیعت کند ہو جاتی ہے، نیز آخر عمر میں وہ مفلس و نادار ہو جائے گا۔
’روضۃ العلما میں لکھا ہے کہ شاگرد کو استاد کا پانچ چیزوں میں نہایت لحاظ و ادب رکھنا ضروری ہے، تاکہ علم کا فائدہ اسے دین و دنیا میں پورے طور پر حاصل ہو۔
اول یہ کہ استاد کے حضور میں خود بہت باتیں نہ کرے۔ اگر کسی نے استاد سے مسئلہ پوچھا تو استاد جو بیان کرے اسے سن لے۔ اور اگر اس وقت استاد کی طبیعت میں اصل مسئلہ کا استحضار نہیں ہے تو خود استاد سے عرض کرے کہ مجھے اس طرح یاد ہے اگر مناسب ہے تو عرض کروں،  اور پھر بطور معونت یا مشورت کے استاد کی صلاح لے کر بیان کرے۔
دوم صدر مجلس میں جہاں ہمیشہ استاد کی نشست گاہ ہے استاد کی غیبت میں بھی ہرگز نہ بیٹھے   ؎
دلاتا بزرگی نیاری بدست	     ٭	   بجائے بزرگاں نباید نشست
سوم اگر استاد نے بیان کرنے میں کچھ سخن ایسا اختیار کیا جو مفہوم وقیاس سے بعید ہے تو بالمشافہ اس کو غلط نہ کہہ دے اور دل شکنی نہ کرے   ؎
بفہم گر  نرسد معنی  مگو کہ  خطا  ست
سخن شناس نئی صائبا خطا ایں جاست
چہارم راستہ چلنے میں استاد پر پیش روی نہ کرے،  ہاں راہ دکھانے کی غرض سے یا استاد کی اجازت حاصل ہو تو کوئی حرج نہیں۔ 
پنجم استاد کی موجودگی میں بآواز بلند بات کرنا کمالِ بے ادبی ہے۔ اسی طرح جاہل کو بھی عالم کے ساتھ ان پانچوں باتوں کی حفاظت ضرور ہے۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ اگر عالم کے سامنے کسی جاہل نے زور سے بات کی یا اپنے مال پر فخر جتلایا اور اس عالم کو حقارت کی نظر سے دیکھا تو گنہ گار ہوا،اور ایسا کہ جیسے اپنی ماں سے تین بار زنا کیا۔اور دوسری روایت کے مطابق گویا اس نے ستر گناہِ کبیرہ کیا۔
فائدہ:  اسی طرح اگر کسی عالم شخص نے دولت مند جاہل کو اس کی مالداری کے سبب سلام میں پہل کیا تو گویا اس نے اپنا نصف اسلام کھو دیا۔اسی سبب سے سلام علیک مابین المسلمین اس ملک میں متروک ہو رہا ہے، اور اتفاق کی جگہ نفاق بڑھتا جا رہا ہے،  کیوں کہ چند عالموں نے مالدار جاہلوں کو پہلے سلام کرنا شروع کیا کہ انھیں دنیا کی منفعت ملے،  مگر نصف اسلام کھو کر ذلیل و خوار بنے اور خدا کے غضب میں گرفتار ہوئے۔ 
نیز ان مالداروں میں مزاج نخوت پیدا ہوئی کہ ایسے بڑے عالم ہمیں سلام کرتے ہیں،  ہماری تعریف اپنی زبان سے کرتے ہیں،  شاعر ہماری تعریف و توصیف کے قصیدے بناتے ہیں،  بخیل قارونی کو حاتم دوراں کا خطاب دیتے ہیں۔  ایک ظالم بے عقل کو مال کے سبب عادلِ زماں اور ثانی لقماں کہتے ہیں،  وہ تونگر بیچارے ایسی تعریف سن کر غرور و تکبر میں گرفتار ہوتے ہیں اور بے علمی کے باعث دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑتے ہیں۔ 
دوسری جانب کچھ عالم قناعت و صبر کے باعث علم کی حقارت و بے قدری نہیں کرتے، اور تونگرانِ بے علم کو خود پہلے سلام نہیں کرتے۔ اُن تونگروں کو چند خوشامدی  شخصوں نے دنیا کا حاتم و لقمان بنا دیا اور آخرت کی جنت و رضوان بخش دیا،  بس اسی لیے ان کی عادت بگڑ گئی۔ اور اپنی کم ظرفی کے باعث یہ لوگ تمام سادات و مشائخ کو اپنے دروازے کا منگتا سمجھنے لگے۔ تو بھلا اب وہ کس واسطے کسی عالم کو سلام کریں گے!۔ 
عادت ہی نہی رہی۔اس حال میں بھی دونوں طرف والے اِفادہ واستفادہ سے بے نصیب رہے۔ وعظ و نصیحت کا اثر بے اثر ہو گیا،اور خوشامد ہمہ را خوش آمد کا بازار گرم ہو گیا۔
مسئلہ - ۸۵
’صلوٰۃ مسعودی ہی میں ہے کہ علم دین کے کمال حاصل کرنے کے واسطے ہیں اور دنیا کے حاصل کرنے کو تجارت ہنر پیشہ سیکڑوں تیار ہیں۔  سعدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں   :
بہر دین پروردن است نہ از بہر دنیا خوردن۔
اگر شاگرد نے استاد کے آداب بجا لائے، اور ان کی دعائے خیراس کو ملی ہے تو بے شک اسے دین و دنیا کی برکت نصیب ہو گی۔ آداب اول: ماں باپ سے زیادہ استاد کا حق ہوتا ہے۔ ایسا خیال کر کے ان کی محبت و تعظیم سب سے زیادہ کرے۔ 
ادب دوم: اگر ایک حرف بھی کسی سے سیکھا ہے تو اس کا ادب اوراس کی اولاد کا ادب بجا لائے۔
ادب سوم: اپنے استاد کی ایسی مدح وسیایش کرے جس کا وہ اہل ہو۔
ادب چہارم: استاد کی موجودگی و غیر حاضری میں خفیہ و اعلانیہ اس کی تواضع کرے، اور دعائے خیر میں ہمیشہ یاد کرتا رہے۔
ادب پنجم: ایسے کام کرے کہ جس سے اُستاد کا اور والدین کا نام روشن ہو اور وہ سن کر راضی و خوش ہوں۔  جو شخص یہ آداب بجا لائے سمجھیں اس نے دین و دنیا کی دولت کمالی۔
مسئلہ - ۸۶
مٹی یا چینی کا ٹوٹا شکستہ برتن کوزہ گھر میں استعمال میں رکھنا درویشی لاتا ہے۔
مسئلہ - ۸۷
شکستہ یا گرہ دار قلم سے لکھنا درویشی لاتا ہے۔ چنانچہ ایک ہی روایت میں یہ تین چیزیں آئی ہیں  :
من تمشط بمشط مکسورۃ أو یکتب بقلم معقودۃ أو یشرب بإنائٍ مکسورۃ فإنہ یورث الفقر۔ 
یعنی جس نے ٹوٹی ہوئی کنگھی سے اپنے سر کے یا داڑھی کے بالوں میں شانہ کیا یا گرہ دار قلم سے لکھا،  یا لب شکستہ کوزے سے پانی پیا تو وہ سعادت کو دور بھگاتا اور شقاوت کو نزدیک بلاتا ہے۔
مسئلہ - ۸۸
تنبیہ الغافلین فقیہ ابواللیث سمرقندی میں لکھا ہے کہ مہمان کو حقیر جاننا اور اس کے آنے سے ناخوش ہونا درویشی لاتا ہے،  کیوں شہر انطاکیہ کے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا جو غضب نازل ہوا تھا تو اس کا سبب یہی تھا کہ انھوں نے موسیٰ اور خضر علیہما السلام کی مہمان نوازی نہیں کی تھی،اور ان کی ضیافت سے انکار کر دیا تھا۔ چنانچہ قرآن مجید میں آتا ہے  :
فاَبَوا اَنْ یُّضَیِفُوہُما۔ 
یعنی انھوں نے ان دونوں مہمانوں کی ضیافت کرنے سے انکار کیا۔
شکر  بجا  آر کہ  مہمانِ  تو	     ٭	  روزیِ خود می خورد از خوانِ تو
یعنی خدا کا شکر ادا کرو اور مہمان کا احسان مانو کہ اس نے تمہاری ضیافت و مہمان داری قبول کی اور اپنی قسمت کی روزی تمہارے دسترخوان پر بیٹھ کر کھاتا ہے۔ تمہاری قسمت کی روزی اس نے کچھ بھی نہ کھائی۔ یعنی جب مہمان تمہارے گھر میں آتا ہے تو اپنی روزی قسمت اپنے ساتھ لاتا ہے۔ اور برکت کے فرشتے صاحب خانہ کے یہاں دس حصے برکت لے کر آتے ہیں۔ 
یہود و نصاریٰ کا طریقہ تھا کہ وہ نامدار امیر کی ضیافت کرتے اور غریب کے واسطے دروازہ بند رکھتے۔تو اہل اسلام پر ان کے برعکس غریب مسافر کی ضیافت کرنا اور مالدار امیر کی نہ کرنا لازم ہوا۔
خلاصۃ الحقائق میں لکھا ہے  :
من أنفق علیٰ ضیفہ درہماً فکأنما أنفق ألف دینار ومن لم یکرم ضیفہ فلیس منا۔ 
یعنی جس نے مہمان کے واسطے ایک درہم کے برابر خرچ کیا تو گویا اس نے ہزار دینار خرچ کیے،(یعنی اس کو ہزار دینار خرچ کرنے کا ثواب ملے گا)۔ اور اگر صاحب خانہ نے اکرامِ ضیف اور مہمان کی بزرگی کی قدر نہ کی تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
اکرموا الضیف۔ (یعنی ہر طرح سے مہمان کی تکریم کرو) کے حکم کے مطابق مہمان نوازی اس پر لازم ہوئی۔ اس کے آنے سے خوش ہونے پر خدا رزق میں زیادہ برکت دیتا ہے۔ اس دنیا میں ہر کوئی چند روز کا مہمان ہے۔ اور سب کا مہمان دار خدائے تعالیٰ ہے کہ سب کو وہی روزی پہنچاتا ہے   ؎
ادیم  زمیں  سفرۂ   عام  اوست
بریں خوانِ یغماچہ دشمن چہ دوست
فائدہ:  درہم کو ساڑھے چار آنے کی چاندی کی قیمت شمار کرتے ہیں تو دو سو درہم کے ستاون روپے کا اندازہ ہوتا ہے جو نصابِ شرعی زکوٰۃ کے واسطے مقر ر ہے اور اہل بخارا نے چون روپے یا اس سے قدرے کم و بیش نصاب کا درجہ مقر ر کیا ہے۔ چاندی کا نرخ کم زیادہ ہر ملک میں اور ہر وقت میں ہوتا ہے، اس سبب ستاون یا چون روپے مقرر ہوئے جس کے پاس چون روپے نقد ہیں اور ایک برس گذر گیا تو چالیسواں حصہ زکوٰۃ حق اللہ ادا کرنا لازم آتا ہے۔ یعنی دو سودرہم میں پانچ درہم کا حساب لگایا جائے۔
لفظ درہم کی تحقیق
درہم کا لفظ درم کا معرب ہے۔ صراح وغیرہ لغات کی کتابوں میں ایسا ہی لکھا ہے کہ ایک درم کا وزن ساڑھے تین ماشے۔ اور بعضوں نے طب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک درم کا وزن دوجو کے برابر ہے،  لیکن درہم شرعی فقہا کی اصطلاح میں با عتبار پہنائے کفِ دست کے ہے۔ یعنی کفِ دست کو چوڑا کر کے اس میں پانی ڈالیں جتنا پانی لمبا چوڑا ہتھیلی کے درمیان گڑھے میں سمایے اتنی مقدار نجاست مثلاً پیشاب کپڑے کو لگی ہے تو دھونا فرض ہے۔ اس سے کم نجاست ہے تو دھونا مستحب ہے۔
یا قطرہ قطرہ دس پانچ جگہ دامن پر نجاست کے لگے ہیں اگر ان سب کو ایک جگہ قیاس سے جمع کریں اور بقدر درہم شرعی ہو جائے تو دھونا فرض ہے، نہیں تو دھونا مستحب ہے۔
لیکن سراج اللغات سے غیاث میں منقول ہے کہ درم مخفف درہم کا ہے اور لفظ درہم اصل عربی ہے، درم کا معرب نہیں۔  چنانچہ بعض علما کا محض ایسا گمان ہے کہ درم لفظ فارسی ہے اور اس کا معرب درہم ہے جس کی جمع دراہم ہے۔جیسا کہ صاحب صراح نے لکھا ہے۔
یہاں سے معلوم ہو ا کہ کلام مجید میں سورۂ  یوسف کے اندر دراہم جمع درہم کا لفظ آیا ہے، اور جملہ مفسر، محقق لغاتِ قرآنی اور علمائے رباّنی نے تمام لغات معرب واسما کی تحقیق کی ہے،  لیکن لفظ درہم کو درم کا معرب نہیں لکھا ہے، پس ثابت ہو گیا کہ درہم عربی لفظ ہے اور درم اہل عجم نے تصرف کر کے تخفیف کیا ہے، تب درم کو معجم کہنا چاہیے نہ کہ درہم کو معرب۔
لفظ دینار کی تحقیق
لفظ دینار کی تحقیق یہ ہے کہ یہ در اصل دِناّر تھا نون پر تشدید اور دال پر زیر کے ساتھ۔ نونِ اول کو حرفِ یاسے کسرۂ  ماقبل کی  موافقت کے مطابق بدل دیا دینا ر ہو گیا، تاکہ ان مصادر سے التباس نہ ہو جو فعال کے وزن پر آتے ہیں،   چنانچہ حق سبحانہ و تعالی ٰ فرماتا ہے: وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰاتِنَا کِذَّاباً۔ اور اس تبدیلِ نون بحرف یا کا ثبوت اس کے جمع لفظ دنا نیر سے معلوم ہوتا ہے کہ جمع کے لفظ میں اصلی نون جو یا سے بدل گئی تھی پھر آ کر موجود ہوئی ہے۔ 
دینا ر سونے کا سکّہ اشرفی کی مانند بیس روپے قیمت کا، اور خالی دینا ر دس روپے کا گینی کے مانند ہوتا ہے۔ اہل طب کی اصطلاح میں خیار شبز وتخم کشوت کا شربت مسہلہ زرد رنگ کا بناتے ہیں اس کو شربت دینار کہتے ہے۔
مسئلہ - ۸۹
التکلم فی بیت الخلاء أوعند الاستنجاء یورث الفقر۔ 
یعنی بیت الخلا میں یا استنجا کے وقت بات کرنا منع ہے اور مفلسی پیدا کرتا ہے۔
نیز  کلوخ ہاتھ میں خشک کرتے وقت کچھ بولنا بلکہ سلام کا جواب بھی دینا منع ہے اور بے حیائی ہے و مفلسی پیدا کرنے کا سبب ہے۔ ہر آدمی مفلسی سے بہت خوف کرتا ہے اور بھاگتا ہے اور تونگر ہونے کو بڑی خواہش اور کوشش کرتا ہے،  لیکن جو باتیں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اولیا ے کرام یا علما و حکما نے لکھا ہے اس پر عمل اور اعتقاد نہیں۔  اپنی نادانی اور بے علمی سے ایسے کام کرتے ہیں جس سے تونگری بھاگتی ہے، اور مفلسی جلد دوڑ کر آتی ہے۔ خدا اپنی پناہ میں رکھے۔
مسئلہ -۹۰
وضع الساّق علی السّاق یمنع الرزق۔ 
یعنی پاؤں پر پاؤں رکھ کر بیٹھنا برکت رزق کو مانع ہوتا ہے۔
مسئلہ -۹۱ 
من أتی طعاما لم یدع إلیہ تملأ  بطنہ نارا۔ 
یعنی جو بغیر بلائے کہیں کھانے کو گیا تو گویا اس نے اپنے شکم میں آتش دوزخ بھری۔
 من مشی إلی طعام ولم یدع مشی فاسقا وأکل حراما۔ 
یعنی بن بلائے کسی کے یہاں کھانے کو چل کر گیا تو چلنا اس کا فاسق کا چلنا ہوا اور کھانا حرام ہوا۔
یعنی بے اذن کھانے کو جانا نحوسیت، سبکی،اورمفلسی کا باعث ہوتا ہے۔
مسئلہ -۹۲
لاینبغی لہ أن یأکل مالم یوذن وأن ینظر أنھم یقولون عن المحبۃ والمساعدۃ فلیساعد۔ 
یعنی کسی کو زیب نہیں دیتا کہ بغیر اذن کے کسی کے یہاں کھانا کھائے اگرچہ وہ بلاتے ہیں مگر ہاں غور کرے کہ محبت سے بلاتے ہیں یا فقط رسمی طور پر۔ ورنہ راضی نہ ہوں تو نہ جاوے، اور اگر دل میں راضی ہیں تو جائے اور کھائے۔
  رجل دخل دارا ولم یجد صاحب الدار فإن کان واققا بصداقتہ عالما بفرحتہ إذا أکل من طعامہ فلہ أن یأکل بغیر إذنہ والمر اد بالإذن الرضاء وھوراض عنہ۔ 
یعنی کوئی شخص کسی کے مکان میں گیا اور صاحب خانہ گھر میں نہیں ہے اور کھانا تیار ہے اور وہ صاحب خانہ اس کا دوست صاحب اعتماد ہے اور یہ جانتا ہے کہ اگر میں کھانا کھا لوں گا تو صاحب خانہ خوش ہو گا تو بغیر اذن کے کھانا کھا لے۔ اور اذن سے مراد صاحب خانہ کی رضا مندی ہے۔ 
ایسا صحابہ میں باہم اتفاق ہوا ہے، اور دلوں میں ان کے کسی طرح کی جدائی نہ تھی۔
 فائدہ: حکما کہتے میں کہ دوستی چار قسم کی ہے  :
پہلی قسم: یہ کہ باہم تعارفات رسمی ہے۔ پنج وقتہ مسجدمیں ملاقات ہوتی ہے، یا ہر ہفتہ جمعہ کو ملاقات ہوتی ہے، محبت کے ساتھ باہم گفتگو کرتے ہیں۔  
دوسری قسم: خویش ہم پیشہ ہیں،  کاروبارِ دنیوی میں مددگار ہم دیگر ہیں،  دوست کو نفع پہنچا تو خوش ہوتے ہیں،  نقصان ہوا تو غمگین ہوتے ہیں،  اپنی ذات سے دوست کے واسطے محنت کرتے ہیں اور احسان کا بار اس پر نہیں رکھتے، اللہ کے واسطے کو کیے سوکیے، زبان پر نہیں لاتے، اپنے احسان کو بھول جاتے ہیں اور دوست کے احسان کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔  یہ درجہ قسم اول سے اعلی ہے۔ 
تیسری قسم: یہ ہے کہ دوست کو اپنے گھر میں اکثر کھانا کھلائیں اور خود بھی دوست کے یہاں بروقت کھانا کھالیں بلکہ کہلا بھیجیں کہ ہم فلانے وقت تمہارے یہاں کھانے کو آئیں گے کسی طرح کا حجاب نہ کریں،  دوست کے واسطے بن مانگے مال اپنا خرچ کریں پھر اس کی طلب نہ رکھیں،  حسابِ دوستاں در دل سمجھیں،  اگر اس نے عوض لا دیا تو لے لیں،  اگر کسی نے مجلس میں دوست کی غیبت کی تو اس کو منع کریں،   کیونکہ حق دوستی و برادری اہل اسلام یہ نہیں ہے کہ بھائی کا گوشت بھائی کھائے بحکم: أنْ یَّأکُلَ لَحْمَ أخِیْہِ آیا ہے، اور یہ اخوتِ اسلام ہے۔
غیبت کہنا اور غیبت سننا دو نون ممنوع ہیں جو بات کہ روبرو بالمشافہ نہیں کہہ سکتے ہیں ویسی بات اس شخص کے پس پشت کہیں اس کو غیبت کہتے ہیں،  اگر چہ وہ عیب اس شخص کی ذات میں ہو، اور جو عیب کہ اس کی ذات میں نہ ہو اس کو بیان کرنا تو بہتان و تہمت ہے، اور غیبت سے بد تر۔ 
چوتھی قسم: دوستی اور محبت کامل ہے کہ دوست کا حکم بجا لانے کے واسطے اپنا کام چھوڑ دے اور اپنی خوشی پر دوست کی خوشی اور رضامندی مقدم سمجھے   ؎
قصد من سوے وصال و قصداو سوے فراق 
ترکِ کام خود گرفتم تا بر آید کامِ دوست 
یہ دوستی جانی ہے، جو دوستی زبانی ودوستی نانی سے نہایت افضل واعلی ہے۔ ایک شاعرنے خوب کہا ہے    ؎
دلا یارانِ سہ قسم اندار بدانی			زبانی اندونانی اندوجانی
بنانی نان بدہ از در بدرکن			تواضع کن  بیا رانِ  زبانی
دلِ یارانِ جانی را بدست آر			بقصدش جاں بدہ گرمی توانی
ابھی ہمارے بھائی اہل اسلام :المُؤمنُونَ اِخْوَۃٌ کو سمجھیں،  یعنی سب مسلمان آپس میں بھائی ہیں،  نماز میں ہمیشہ سب مسلمان اپنے بھائیوں کے واسطے دعا مانگتے ہیں،  اس برادری کا حق ادا کریں۔ 
لفظ انسان اْنس سے مشتق ہے بنی نوع انسان باہم دیگر اتفاق ومحبت سے نہ رہیں تو حیوان سے بد تر ہیں۔  دیکھو حیوان ہر قسم کے پرندے چرندے گروہ کے گروہ اپنی جنس کے ساتھ اتفاق سے جنگلوں میں زندگانی بسرکرتے ہیں۔  اور اولادِ آدم دو بھائی ایک مکان میں نہیں رہ سکتے، یہ کمالِ جہالت و شیطنت ہے۔   قطعہ
شنیدم کہ  مردانِ  راہِ  خدا		٭	   دلِ  دشمناں ہم نکردند  تنگ
ترا  کے  میسر شود ایں مقام		٭	   کہ بادوستانت خلافست وجنگ
کتنی کم ظرفی اور کو تاہ بینی خود عرضی اور حق فراموشی ہے کہ اپنی قسمت پر قانع نہ ہو کر غیر کا مال بھی چکھ جانے کو ڈرتے نہیں۔  جتنا تم کو تمہارا مال و فرزند پیارا ہے اتنا دوسرے کو بھی اس کا مال و فرزند پیارا ہے۔ خدا نے ہر ایک کے لیے حد باندھی ہے اس کے باہر قدم رکھنا بڑی نافرمانی اور مخالفت عقل و نقل ہے۔ جب حرص نے اندھا بنا دیا پھر سیدھا راستہ کہاں سوجھتا ہے۔   قطعہ
 اے  قناعت تونگرم گرداں 		٭		کہ وراے تو ہیچ نعمت نیست
گنج صبر اختیار لقمان است		٭		ہر کرا صبر نیست حکمت نیست
مسئلہ - ۹۳
لیس منا من وسع اللّٰہ علیہ ثم قتر علی عیالہ۔ 
یعنی وہ ہم اہل اسلام میں سے نہیں کہ جس کو  اللہ تعالی نے وسعت رزق دی ہے اور وہ اپنی عیال پر جو رو بچوں پر کھانے پینے میں تنگی کرتا ہے۔
 ایسی بخالت کرنے سے روزی کی برکت جائے گی بحکم: احسَنَ اللّٰہ اِلیک۔ احسان کر خویشوں پر دوستوں پر جیسا کہ احسان کیا  خدائے تعالی  نے تجھ پر۔
مسئلہ -۹۴
أکل الطعام علی السریر یورث الفقر۔ 
یعنی تخت پر بیٹھ کر کھانا کھانا اور دستر خوان نہ بچھانا درویشی لاتا ہے۔ 
مسئلہ - ۹۵
قطع الخبر بالأسنان عند الأکل یورث الفقر۔ 
یعنی کھاتے وقت دانت سے روٹی کترنا منحوس ہے درویشی لاتا ہے۔
مسئلہ -۹۶
مسح الأسنان بالثوب یورث الفقر۔ 
 یعنی دانتوں کو کپڑے سے ملنا جیسا کہ مسواک کرتے ہیں نہایت منحوس ہے۔
مسئلہ -۹۷
لوگوں پر ظلم کرنا باعث درویشی ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے  :
	فَتِلْکَ بُیُوْتُھُمْ خَاوِیَۃٌ بِمَا ظَلَمُوْا -أي خالیۃ بسبب الظلم -
یعنی ظلم کرنے کے سبب وہ گھر ویران اور خالی پڑے ہیں۔  
الظالم لایموت إلا حقیرا ولایحشر إلا فقیرا۔ 
یعنی ظالم شخص حقارت کی حالت میں مرتا ہے اور فقیری کی حالت میں حشر کے میدان میں آئے گا۔
روایت ہے کہ بادشاہ نے ایک امیر کو کسی شہر کا حاکم بنا کر بھیجا۔ وہ امیر شہر میں مسند حکومت پر بیٹھا اور بے انتہا ظلم کا آغاز کیا۔ شہر کے رہنے والے عاجز ہو گئے۔ رات کو کسی شخص نے اس حاکم ظالم کے دروازے پر لکھ دیا  :
خانۂ  ظالم خراب شود۔ 
 جب فجر کو حاکم نے یہ لکھا ہوا دیکھا تو ایک سطر اس کے نیچے اپنے ہاتھ سے لکھ دی:
بعد از  خرابي ہزار خانہ۔ 
 یعنی ظالم کا گھر ویران ہوتا ہے،  مگر ہزار گھر ویران کرنے کے بعد۔ اور منادی شہر میں پھر ادی کہ جس نے یہ سطر اول لکھی ہے، حاضر آئے اور اپنے لکھے کا جواب پائے، میں نے اس کو معاف کیا۔ 
بالآخر سطر اول کا لکھنے والا شخص حاضر ہوا ا ور اعتراف کیا کہ میں نے لکھا ہے۔ کہا کہ جواب بھی اس کا پڑھ لے، اور یوں کہا کہ میں ظالم نہیں ہوں بلکہ تمہارے اعمال کی شامت کا بدلا لینے والا ہوں   ؎
بقومے کہ نیکی پسند دخدائے			دہد حاکم عادل و نیک رائے
 چو خواہد کہ ویران کند عالمے			 نہد ملک درپنجۂ  ظالمے
 مسئلہ -۹۸
الإصرار علی المعصیۃ بلاندامۃ یورث الفقر۔ 
یعنی گناہ کے کاموں پر ضد کرنا اور ندامت نہ کرنا درویشی اور مفلسی کا باعث ہے۔ 
یعنی گنا ہ کرتا ہے، اگر کسی نے منع کیا تو اور زیادہ ضد کرتا ہے پشیمان نہیں ہوتا بلکہ منع کرنے والے کو دشمن سمجھتا ہے،تو آخر کو مفلس ہو جا تا ہے    ؎
بخت و دولت بکار دانی نیست
جز   بتائید  آسمانی   نیست
یعنی نیک بختی اور دولت کچھ عقل و ہنر سے نہیں آتی جب تک خدائے تعالی کی مدد نہ ہو۔ 
جب دولت ملی او ر اس نے منعم حقیقی کی تابعداری نہ کی بلکہ اس کی نافرمانی میں مستعد ہوا اب دولت کو زوال آیا۔ جو کام نہ کرنے کے تھے وہ کیا تومفلس دو جہان کا بن گیا۔ سچ ہے داتا کے تین گن دیوے، دلاوے، چھین لیوے۔ 
پانچ شخص ہمیشہ مفلس رہیں گے، ان کو خیر و برکت کبھی نہ ہو گی  :
ایک  قاطع الشجر کہ جس کا روزگار ہری جھاڑ کانٹا اور لکڑی بیچنا ہے۔ 
دوسرا  ذایج البقر گاؤ ذبح کرنے کا دھندا کرنے والا۔
 تیسرا  بایع البشر بردہ فروش۔ 
چوتھا  شارب الخمر شراب پینے والا کبھی برکت نہ دیکھے گا۔
پانچواں  النائم عن صلوٰۃ العشاء والفجر  نمازِ عشا و فجر سونے میں کھو دینے  والا۔ نعوذ باللہ منہا۔ 
مسئلہ -۹۹
جس برتن میں کھانا کھایا ہے، اسی برتن میں ہاتھ دھونا منحوس ہے۔
لاتغسل یدیک فی إناء أکلت منہ لا توسد عتینۃ الباب ولاتجلس علیھا ولاتضع یدیک تحت خدک وأنت قاعد ولاأصابعک حول رکبتک ولا تقرعھا۔ 
یعنی جس باسن میں کھانا کھایا اسی میں ہاتھ نہ دھونا۔ دروازہ کی دہلیز پر تکیہ نہ لگانا اس پر سر رکھ کر سونانہیں۔  اس پر بیٹھنا نہیں۔  ہاتھ گال کے نیچے رکھ کر بیٹھنا نہیں۔  انگلیاں گھنٹوں پر رکھنا اور ان کو پھوڑنا نہیں۔  
مسئلہ - ۱۰۰
قرآن شریف گھر میں موجو د ہے اور کبھی اس کی تلاوت نہ کرنا درویشی لاتا ہے۔ لازم ہے کہ ہر روز فجر میں کچھ بھی اس میں سے پڑھا کر ے۔ 
مسئلہ -۱۰۱
ماں باپ اُستاد و مرشد کی نافرمانی کرنا درویشی کا باعث ہوتا ہے۔ لازم ہے کہ ان کی تابعداری اور ادب کرے۔ وہ جو نصیحت کرتے ہیں (ان پر عمل کرے کہ اسی میں ) بہتری ہے۔ 
٭٭٭




باب دوم:  سو فوائد 

جن پر عمل کرنے سے بر کت اور تونگری کا  فائدہ دونوں جہان میں حاصل ہوتا ہے 

اس باب میں کئی حدیث شریف، اقوال بزرگان دین اور وظائف و اوراد لکھے گئے ہیں۔  نیک اعتقاد سے عمل کر ے تودو جہان کی مراد پائے۔ فقر و غنا کی افضلیت کو بغور دیکھنا چاہیے کہ چار قسم کے انسان پہلے بیان ہو چکے۔ قسم اول دنیا و آخرت میں تونگر ہیں۔  قسم دویم دنیا میں مفلس اور آخرت میں تونگر ہیں۔  قسم سوم دنیا میں تونگر اور آخرت میں مفلس ہیں۔  قسم چہارم دنیا و آخرت میں دونوں میں مفلس ہیں۔ 
فائدہ-۱
 لیس الغني عن کثرۃ المال والعرض إنما الغني عن النفس۔
یعنی کسی کے پاس بہت سا مال واسباب ہے تو وہ غنی نہیں بلکہ غنی وہ ہے کہ جس کی ذات میں قناعت اور دل بھر ا ہوا ہے۔
 تونگری بدل است نہ بمال
 بزرگی بہ عقل ست نہ بسال 
فائدہ-۲
ملوک الجنۃ من أمتیی القانعون بالقوت یوما بیوم۔ 
یعنی (حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما یا:) میری امت میں سے جنت میں وہ لوگ بادشاہ بن جائیں گے جو دنیا میں قناعت کرتے ہیں،  اور ’یومٌ جدیدٌ ورزقٌ جدیدٌ پر عمل پیرا ہیں۔ 
فائدہ-۳
الحریص مع کثرۃ المال فقیر وصغیر
والقانع  مع  قلۃ المال غنی وکبیر
یعنی حرص کرنے والا فقیر اور ادنی شخص ہے اگر چہ بڑا مالدار ہے۔ اور قناعت کرنے والا غنی اور بزرگ ہے اگر چہ کم مال دار ہو۔
 فائدہ-۴
رکعتان من مؤمن فقیر صابر أحب إلی اللّٰہ من سبعین رکعۃ من غنی شاکر۔ 
یعنی (حضوراقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما یا:) ایماندار فقیر صابر کی پڑھی ہوئی دو رکعتیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک غنی شاکر کی ستر رکعتوں سے بہتر ہے۔
 فائدہ-۵
نعم الأمیر علی باب الفقیر وبئس الفقیر علی باب الأمیر۔ 
 یعنی کتنا اچھا ہے وہ امیر جو فقیر کے دروازے پر (خدمت کرنے اور دعا لینے کو) جاتا ہے او ر کیا برا ہے وہ فقیر جو امیر کے دروازے پر (دنیا مانگنے کو) جاتا ہے۔
 فائدہ-۶
المرء مع من أحب۔ 
یعنی آدمی اُسی کے ساتھ حشر میں اٹھے گا جس کو وہ دنیا میں دوست رکھتا ہے۔
فائدہ-۷
الکاسب حبیب اللّٰہ۔ 
یعنی کسب کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔
نیز روزگار،پیشہ، تجارت، ہنر، مزدوری تونگر ہونے کا بڑا سبب ہے۔ ہنر مند کبھی بھوکھا ننگا فقیر نہ رہے گا اس کا ہنر روز پانی کا جھرنا جاری رکھتا ہے۔
 فائدہ-۸
عمل الأبرار من الرجال الخیاطۃ ومن النساء الغزل۔ 
یعنی(حضوراقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما یا:) نیک  بخت مردوں کا کام درزی کا ہوتا ہے، اور نیک بخت عورتوں کا کام دھاگا بانٹنے کا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر اوقات گھر میں بیٹھ کر کپڑا سیتے تھے۔ حضرات ادریس علیہ السلام اور لقمان حکیم کا پیشہ درزی کا تھا۔
 الغزل بمعنی دسیدن یعنی چرخے پر روئی کاتنا، دھاگا بانٹنا۔اور الغزل کے دوسرے معنی عورت کے ساتھ بازی کرنا، جوانی کی حکایت اور عورتوں کا عشق بیان کرنا ہوتا ہے۔ شاعروں کے نزدیک غزل اس کو کہتے ہیں جس میں عورتوں کے حسن کی تعریف، عشق اور ہجر و وصال کا بیان ہو۔
 فائدہ-۹
حکما نے لکھا ہے کہ وقت اور محنت دولت کے ماں باپ ہیں جو شخص ہر وقت محنت و کام وکسب کرتا رہے گا، بے فائدہ سستی میں کھیل میں وقت نہ کھوئے گا بیشک تونگر بنے گا: 
الوقت سیفٌ قاطعٌ۔ 
یعنی وقت ایک کاٹنے والی تلوار کا نام ہے۔(جس کے ہاتھ میں رہے وہ امیر ہے)۔
فائدہ-۱۰
امیرالمومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ جب کسی آدمی کو دیکھتے تو یوں پوچھتے  :
ھل حرفۃٍ فإن قالوا لا لأسقط من عینی۔ 
یعنی کیا یہ شخص کچھ روزگار کرتا ہے۔ اگر کہا نہیں تو میں اپنی چشم اعتبار سے اس کو گرا دیتا ہوں۔ 
 فائدہ-۱۱
مر داؤد علیہ السلام بأسکاف فقال لہ یا ھذا اِعمل وکل فإن اللّٰہ یحب من یعمل ویأکل ولا یحب من یأکل ولا یعمل۔ 
یعنی نبی داؤد علیہ السلام کسی چمار کی دکان پر سے گذرے، تو فرمایا:اے فلاں !  کام کرو اور کھاؤ،  کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس کو دوست رکھتا ہے جو اپنی محنت کی روٹی کھاتا ہے۔مگراس کو دوست نہیں رکھتا جو کھاتا ہے اور کام کچھ نہیں کرتا۔
 فائدہ-۱۲
معدن الحدید أفضل من معدن الذھب والفضۃ۔ 
یعنی لوہے کی کھان سونے روپے کی کھان سے افضل ہے۔
اس کا مطلب یہسمجھ میں آتا ہے کہ جن ملکوں میں سونے روپے کی کھان تھی اس ملک کے لوگ مغرور بنے، عیش و عشرت میں سست ہو گئے، اور محنت کرنا چھوڑ دیا۔ اور جس ملک میں بلادِ غربی کی طرف لوہے کی کھان تھی، وہاں گے لوگوں نے محنت اور ہنر سے چاقو، قینچی، سوئی وغیرہ ہتھیار بنا کر علم و ہنر کی قوت سے ملکوں میں تجارت شروع کر دی، اور سونے روپے کی کھان کے مالک بن گئے، اور محنت کے زور سے اپنا لوہا سونے روپے سے بہتر کر دکھایا اور سب ملکوں کو اپنا تابعدار  بنا لیا۔ گویا ہنر اور محنت سے ان کا لوہا سونے سے بھی زیادہ افضل بن گیا۔ 
فائدہ-۱۳
کسب الحلال والنفقۃ علی العیال من أعمال الأبدال۔ 
یعنی کسب حلال سے روزی پیدا کرنا اور اپنے عیال و خویش کی پرورش کرنا ابدال اولیا کا کام ہے۔ 
فائدہ- ۱۴
من رزق من شییٗ فلیلزمہ۔ 
یعنی جس کو خدا نے رزق دیا جس کا م اور حرفت میں تو اس کو لازم ہے کہ تمام عمر و ہی کام کرے۔ ایسا نہیں کہ حرص کر کے اپنا کام چھوڑ دے اوردوسرے کام کے پیچھے لگ جائے کہ مجھے زیادہ ملے گا۔ آخر ہاتھ میں کا بھی روزگار کھودے گا، اور زیادہ کی امید پر کم بھی جاتا رہے گا۔ آدھی کو چھوڑ کر ساری کو دوڑنا اچھا نہیں   ؎
گر زمیں رابآسماں دوزی
نشودجز زیادہ ازروزی 
فائدہ-۱۵
خیر رأ س المال الدیانۃ سبحان من جعل غفلۃ التجار وحرصُھُم لطيِّ البلاد سببا لمصالح العباد۔ 
یعنی بہتر پونجی آدمی کی دین داری ہے۔ شکر وسپاس ہے خدا کے لیے جس نے تاجروں کو غفلت میں گرفتا ر کیا اور شہر بہ شہر پھرنے کا شوق دیا کہ یہ سبب ہوا بندوں کی مصلحت معیشت کا۔
چنانچہ علما کی روزی شہر بہ شہر پھیلا دیا تھا کہ وہ ملک میں جائیں اور وہاں کے باشندوں کو ان سے علم کا فیض پہنچے۔
فائدہ-۱۶
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں   ؎
لقد طفت فی شرق البلاد وغربھا
وجربت ھذا الدھر بالیسر والعسر
						فلم أربعد الدین خیرا من الغنی
						ولم أر بعد الکفر شرا من الفقر 
 یعنی میں نے مشرق و مغرب کے ملکوں میں بہت سیاحت کے۔ اور زمانہ کی تنگی و فراخی کا بہت تجربہ حاصل ہوا۔ تو مجھے دین کے بعد کوئی چیر تونگری سے بہتر نظر نہیں آئی۔ یوں ہی میں نے کفر کے بعد کوئی چیز فقیری سے بدتر نہیں دیکھا۔
یہاں فقر و درویشی کے معنی زیادہ مفلسی و تنگ دستی کے ہیں۔ 
فائدہ-۱۷
المال فی ھذا الزمان عز للمؤمنین وسلاح لصیانۃ الایمان۔ 
یعنی اس زمانے میں مال سے مسلمانوں کی عزت ہے۔ اور وہ ایمان بچانے کا ایک ہتھیا ر ہے۔
اگلے زمانے میں زہد و تقوی سے مسلمان کی عزت ہوتی تھی۔ امیر و بادشاہ اس کے پاس آتے اور خدمت کرتے تھے،  لیکن اب معاملہ اس کے برعکس ہے۔ کیسا بھی عالم ربانی اور عارفِ حقانی ہوا گر مفلس ہے تو لوگوں کی آنکھوں میں ذلیل ہے۔ کسی کو اس سے فائدہ نہ ملے گا   ؎
مرا  بتجربہ معلوم  شد  زپنجاہ سال
کہ قدرِ مرد بعلم ست وقدرِ علم بمال
تونگروں کو دین سے غرض نہیں رہی،  اس لیے علماو مشائخ سے ملنا اور ان کی خدمت کرنا بالکل موقوف ہو گیا۔ مگر علما و مشائخ کو دنیا کی اور کھانے کپڑے کی غرض موجود ہے،  اس لیے تونگر کے دروازے پر بروقت ضرورت جانا پڑتا ہے۔
فائدہ-۱۸
لابد للمرء من مال یعیش بہ
وداخل القبر محتاج إلی الکفن
یعنی آدمی کو مال کمانا اور اپنی زندگی بسر کرنا ضرور ہے بلکہ مرے بعد بھی قبر میں کفن کی حاجت رہتی ہے۔
 لطیفہ:  کسی نے گائے اور بکری سے پوچھا کہ تم ہمیشہ دودھ گھی سے بنی آدم پر احسان کرتی ہو وہ بھی تم پر احسان کا بدلہ کفن وغیرہ دیتے ہیں یا نہیں۔  انھوں نے روکر افسوس کے ساتھ کہا کہ بنی آدم بڑے احسان فراموش ہیں۔  جس نے جان و ایمان دیا، اور رزق و مکان بخشا، اس کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تو احسان مانتے ہی نہیں اور ان کی  قدر تو بوجھتے نہیں،  وہ ہم کو کفن کیا دیں گے!۔ بلکہ جو پوست خدا نے ہم کو بخشا ہے وہ بھی مرنے کے بعد اُتار لیتے ہیں۔  اپنے جوتے بناتے ہیں۔   ہڈیوں کو بھی توڑ کر اپنے کام میں لگاتے ہیں اور اس سے دنیا کا مال پیدا کرتے ہیں۔  
فائدہ-۱۹
تفتازانی فرماتے ہیں   ؎
طویت بإحراز الفنون وکسبہا
وداء شبابي  والجنون فنون
						وحین تعاطیت الفنون ونلتہا
						تبین  لي  أن  الفنون جنونٌ
یعنی جب میں نے بڑی سعی و کوشش کی اور تمام علوم و فنون حاصل کر لیے، جوانی ساری کھودی اور علم کے پیچھے دیوانہ بنا پھرتا رہا،  کیوں کہ جنون بھی ایک فن ہے۔ لیکن جب تمام علم و ہنر کی مجھے بخشش مل گئی تب معلوم ہوا کہ تحقیق فنون بھی جنون ہے۔
یعنی علم و ہنر دین و دنیا کے حاصل کرنے کے لیے ہتھیار کی مانند ہے،  مگر عمل کرنا گویا ان ہتھیاروں کو کام میں لانا اور ان سے فائدے اٹھانا ہے۔
ایک گاڑی بھر کر ہم نے کتابیں پڑھیں۔  (پھر کیا ہوا کہ) مٹھی بھر اناج کی اِحتیاج دوسرے شخص کی طرف لے گئی۔ تو گویا تمام علم و ہنر سیکھنا ہمارا دیوانہ پنا تھا۔ بحکم
عز من قنع وذل من طمع۔ 
یعنیجس نے قناعت وصبر اختیار کیا علم و عقل کا پھل پایا او رجس نے حرص میں دل ڈالا ذلت اٹھایا۔
دو ہاتھ اور ایک پیٹ خدا نے دیا ہے ۔ اگر عقل ہے تو محنت کرو، کماؤ کھاؤ اور کھلاؤ۔ دوسروں کا بوجھا اٹھاؤ،  لیکن اپنا بوجھ دوسروں پر مت ڈالو۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں : جب تک آدمی زندہ ہے اُمید سے زیادہ خوف رکھے،   مگر جب موت آ جائے تو خوف سے زیادہ اُمید رکھے۔
فائدہ-۲۰
الأکل حرام بلا ریاضۃ۔ 
یعنی بغیر محنت کیے روٹی کھانا حرام ہے۔
 اس کے معنی علما نے کئی قسم سے کیے ہیں : اوّل یہ کہ رزق خدا کا دیا ہوا ہے جب اس کی عبادت و ریاضت اور فرماں برداری نہیں کرتے تو اس کا رزق مت کھاؤ۔ یعنی حرام خور مت بن۔
دویم یہ کہ جب رزق کھایا تو چلو پھرو اور محنت کرو تاکہ وہ کھانا ہضم ہو جائے۔ اگر محنت و ریاضت نہ کی تو کھانا ہضم نہ ہو گا۔ اب جب دوسرا کھانا کھائے گا تو بیمار ہو جائے گا،  کیوں کہ غیر من ہضم کھانا سم ّ قاتل ہے۔ اس لیے بغیر محنت کیے حکما کے نزدیک کھانا ہرگز جائز نہیں۔ 
 سویم یہ کہ ہر ایک شخص اپنی روزی محنت و مشقت کر کے پیدا کرے اور کھائے، دوسرے کی محنت کا پھل آپ نہ کھائے بلکہ اپنی محنت کا پھل دوسروں کو کھلائے اسی میں عقلمندی ہے۔ ایک شیر محنت کر کے شکار پکڑتا ہے، اور دس گیدڑ بھی اس کا جھوٹا کھا کر پیٹ بھرتے ہیں   ؎
چواستادۂ  دست اُفتادہ گیر
نہ خود رابیفگن کہ دستم بگیر
یعنی جب تو کھڑا ہے تو گرے ہوئے شخصوں کا ہاتھ پکڑ کر اُن کو اٹھا۔ ان کی مدد کر، خود کو زمیں پر مت ڈال دے۔ نیز لوگوں سے یوں حاجت مت مانگ کہ ’میری دستگیری کرو بلکہ خود کما کر کھا۔ غیر کی کمائی پر دانت تیز مت کر،  کیونکہ بغیر محنت کیے کھانا حرام ہے۔
حکایت:   ایک شخص جنگل میں لکڑیاں کاٹنے کے واسطے گیا تاکہ اسے شہر میں لا کر بیچے اور اپنی روزی حاصل کرے۔ یکایک ایک درخت پر نظر پڑی اندھا کو ابے پر و بال نظر آیا۔ خیال کیا کہ اس کو یہاں روزی کس طرح پہنچے گی۔ اتنے میں ایک باز نے فاختہ کا شکار کیا اپنے پنجے میں پکڑا اور اسی جھاڑ پر کوے کے قریب بیٹھ کر کھانے لگا، باقی وہاں چھوڑ کر چلا گیا۔ 
چنانچہ کوے نے اس کا فضلہ کھایا اور اپنا پیٹ بھرا۔ جب اس شخص نے رزاقِ مطلق کی قدرت کو دیکھا تو کہا: افسوس میں کس لیے بے صبر بن کر پھرتا ہوں،  میرا روزی رساں مالک موجود ہے۔ اگر جان دیا تو نان بھی دے گا۔ 
اب وہ اسی جنگل میں ایک پہاڑ کی غار میں جا بیٹھا۔ ایک دن گذر گیا فاقہ سے بے طاقت ہو ا۔ دوسرا دن جب گذرا تو اٹھ کر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ رہی۔ ہوش جاتا رہا۔ ایک بکریاں چرانے والا وہاں آیا۔ اس کا حال دیکھ کر اسے رحم آیا، کچھ روٹی بکری کے دودھ میں چور کر مل کر اس کے منھ میں ڈالا، قدرے پانی پلایا۔ 
جب اس شخص کو ہوش آیا، اور آنکھیں کھولا تو اٹھ کر بیٹھ گیا۔ چرواہے نے پوچھا: تو کون ہے، یہاں غار میں کس لیے آ کر پڑا ہے؟۔ اس شخص نے حقیقت بیان کی، اور باز و کوّے کا حال سنایا تو چرواہے نے ملامت کر کے کہا: تو تندرست جوان شخص ہے، تو نے باز کی طرح ہونا کیوں نہ پسند کیا، اور دیوانگی سے غار میں آ کر بیٹھ گیا ہے۔ اب تو کوّے کے جیسا بن گیا۔ خدا نے مجھ کو باز بنا کر تیزی زندگانی کا سبب کر دیا۔ جا دھندا مزدوری کر، دیوانہ مت بن۔ 
فائدہ- ۲۱
عناصر اربعہ سے انسان کا وجود قائم ہے۔ یعنی خاک سردو خشک ہے۔ پانی سردوتر ہے۔ آتش گرم و خشک ہے۔ اور ہو ا گرم وتر ہے۔ سب ایک دوسرے کے ضد ہیں۔  چند روز بصورتِ اعتدال جسم کی تندرستی اور زندگی قائم ہے۔ اگر ایک شے ان چار میں سے کم زیادہ ہو جائے تو آدمی ہلاک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جہان کا وجود چار قسم کے لوگوں سے قائم ہے۔ اوّل بادشاہ امیر حاکم سپاہی آتش کی مثال ہیں کہ رعیت پر سیاست کا رعب رکھتے ہیں۔  دویم علما فضلا پیشہ ور پانی کی مانند ہیں کہ دین دنیا کا انتظام صفائی و نرمی سے اور انصاف و دانائی کے ساتھ تراوت قائم رکھتے ہیں۔ 
تیسرے سوداگر اہل تجارت ہوا کی مانند ہیں۔  ایک ملک کا مال اور پیدائش کے اجناس دوسرے ملک کو لے جاتے ہیں،  خود بھی نفع پاتے ہیں اور تمام رعیت کو آسایش دیتے ہیں۔  چوتھے دہقان کھیتی باڑی کرنے والے بمنزلۂ  خاک کے ہیں کہ تمام جہان کی خوراک مٹی میں سے پیدا کرتے ہیں۔  شب و روز محنت کر کے اپنے واسطے غذا نکال کر دوسرے ہزاروں مخلوق کی غذا ہر سال تازہ بتازہ تیار کرتے ہیں۔  اگر سبھی آدمی لکھنے پڑھنے والے عالم فاضل بن جائیں،  یا امیر تجار مالدار ہو جائیں تو کھیتی مزدوری وغیرہ اناج پیدا کرنے کا کام کون کرے گا۔ 
جب تک چاروں قسم کے لوگوں کا وجود موجو د ہے تب تک جہان قائم ہے،  اس لیے خدا نے اپنی حکمت کاملہ سے ہر ایک شے کی تقدیر و اندازہ مقرر کر دیا۔ اسی لیے کاروبارِہستی چلا جا رہا ہے۔ مفلس  و غنی اور تونگر و فقیر دونوں قسم کے لوگ ہر شہر میں ضرور ہونا چاہیے۔ اگر سب تونگر اور غنی ہو جائیں یا سب مفلس وفقیر بن جائیں تو اس میں جہان کی خرابی ہے۔
 فائدہ-۲۲
قال علی لابنہ الحنفیۃ یابنی إني أخاف علیک الفقر فاستعذ باللّٰہ منہ فإن الفقر منقصۃ فی الدین مدھشۃ للعقل داعیۃ للمقت والفقر موت الأکبر۔ 
یعنی علی رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند محمدالحنفیہ سے فرمایا:اے فرزند! میں تجھ پر درویشی کا خوف رکھتا ہوں،   سو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ کہ وہ تجھیمفلسی سے بچائے،  کیونکہ مفلسی دین میں نقصان کرتی ہے، عقل کو زائل کر دیتی ہے، خرابی سامنے بلاتی ہے اور فقر واقعتاً ایک بڑی موت ہے۔ خدا پناہ میں رکھے۔
 فائدہ-۲۳
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا  :
أشقی الأشقیاء من جمع علیہ فقر الدنیا وعذاب الاٰخرۃ۔ 
یعنی بدترین شخص وہ ہے جو دنیا میں بھی بے زر و بے پر ہو، اور آخرت میں بھی (گناہ کے باعث) عذاب پائے۔ 
فائدہ-۲۴
المال الصالح لرجل الصالح۔ 
یعنی مالِ صالح مردِ صالح کے ہاتھ میں نہایت کام کا ہے۔
اسی لیے سونے چاندی کے برتنوں میں پانی پینا اور استعمال کرنا منع ہوا ہے کہ اس مال کو اٹکا کر رکھنا اور لوگوں کے معاملوں میں خلل ڈالنا گناہ عظیم ہے۔ دست گرداں رہنے سے ہزاروں کا کام نکلتا ہے۔ 
فائدہ-۲۵
قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم إن الذی یشرب فی آنیۃ فضۃ إنما یجرجر في جوفہ نارجھنم لأنہ یؤدی إلی منع الناس عن تصریفھا فی معاملاتھم ولعظم منافعہ۔ قال اللّٰہ تعالی: وَلاَ تُؤتُوْا السُّفَھَآءَ أمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیَامًا۔ 
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک جو کوئی چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ درحقیقت  جہنم کی آتش اپنے پیٹ میں بھرتا ہے۔کیوں کہ اس نے لوگوں کو معاملات میں پھیر بدل کرنے سے اور اس کا نفع سبھوں کو حاصل ہونے سے روک رکھا ہے۔ حق سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: سفیہ نادانوں کو تم اپنا مال مت دو جو تمہارے برتنے اور زندگانی قائم رکھنے کے واسطے اللہ نے بنایا ہے، اور نادان اس کو خراب کر ڈالیں گے، اور ضائع کر دیں گے۔
 ولھذا أعظم وعید احتبسہ وکنزہ فانہ کمن احتبس حاکما للناس تمشی بہ أمور معاشھم۔ 
یعنی اسی لیے ایسے شخص پر بڑے عذاب کا وعدہ ہے کہ جس نے اس کو روک رکھا ہے اور گاڑ دیا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے  جیسے کسی حاکم کو قید کر دیا جائے جو آدمیوں کی معاش کے کاموں کا انتظام اور درستی رکھتا تھا۔
کیونکہ سوناچاندی جیسے قاضی مفتی ہیں آدمیوں کے بہت کام آتے ہیں جس نے ان کی مزاحمت اور اٹکاؤ کی گویا سب آدمیوں کے کام میں خلل ڈالا۔
 معتوہ (بے عقل و بیہوش)میں،  سفیہ(نادان و کم عقل) میں،  اور مجنون میں فقہا نے حکم کیا ہے کہ ان کو اپنے خود کے مال کا بھی مختار نہ کرنا چاہیے بلکہ ضروری خرچ ان کو دے اور باقی پر قاضی یا حاکم نے نظر کھے تاکہ وہ ضائع نہ کر دیں۔  
چاندی سونا بنی آدم کی حاجت روائی کا ہتھیا ر ہے۔ جب اس کو کسی نے قید کر رکھا، اور دفن کیا، تو وہ پھیر بدل ہونے اور نفع پہنچانے سے باز رہا۔ اور اگر توڑ کر چاندی سونے کے برتن کا استعمال کرے تو اس کی قوم کے لوگ اس پرحسد کریں گے بلکہ اس کو ہلاک کر ڈالیں گے،  اس لیے مردوں کو سونے کی انگشتری انگلی میں رکھنا حرام ہے۔ قیامت کے دن سانپ بچھو اس کی انگلیوں میں لپٹیں گے، اور عذاب کریں گے،  کیونکہ مردوں کی زینت مردمی اور کمالِ عقل و دین میں ہے، چونکہ عورتوں کا عقل و دین ناقص ہے،  اس لیے ان کو زینت کے واسطے سونا چاندی پہننا جائز ہوا ہے۔
فائدہ- ۲۶
وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الاَرْضِ۔ 
یعنی اگر حق تعالیٰ اپنے بندوں پر رزق کشادہ کر دے تو وہ  باغی ہو جائیں گے زمیں پر۔ 
اس لیے اپنی حکومت ازلی سے ہر ایک کو ہر ایک کی قدر اور احتیاج کے مطابق رزق پہنچاتا ہے۔ علما کی نصیحت ہر زمانے میں ہر وقت جیسی اُس وقت کے لوگوں کو ضرور ہے ویسی اپنی تالیفات میں لکھ دینا لازم ہے تاکہ دیکھنے پڑھنے سے لوگوں کو فائدہ ہو،  کیونکہ علوم و حکمت کے خزانہ دار علما ہیں۔  تمام عمر عزیز اپنی علم کے جمع کرنے میں خرچ کر دیتے ہیں۔  اگر تجارت دکانداری وغیرہ کانوں میں خرچ کرتے تو وہ بھی مالدار بن کر بیٹھتے،  مگر خدا نے ان کو علم پڑھنے کا شوق دیا،  مال دینا جمع کرنے کا شوق نہیں۔  تواس سبب سے وہ غریب ومفلس رہ گئے۔ اب مالداروں پر ان کی خدمت کرنا واجب ہے۔
 فائدہ-۲۷
عن النبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم التجار ھم الفجار فقیل الیس اللّٰہ احل البیع وحرم الربوا۔  فقال بلی ولکنھم یحدثون فیکذبون ویحلفون فیحنثون۔  
یعنی بنی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سوداگر بدکار ہیں۔  صحابہ نے عرض کی:کیا اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام نہیں کیا۔ فرمایا: سچ ہے، لیکن وہ لوگ باتوں بات میں جھوٹ بولتے ہیں اور قسم کھاتے ہیں تو اس میں حانث ہو جاتے ہیں۔  
یعنی اپنی قسم کے مطابق عمل نہیں کرتے۔ اور پھر قسم توڑنے کا کفارۂ  یمین نہیں دیتے۔ یعنی تین روزے رکھنا، یا دس ۱۰ مسکین کو کھانا کھلانا، سو وہ نہیں کرتے۔ 
فائدہ-۲۸
عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہے  :
المال فیہ داء کثیر فقیل یا روح اللّٰہ ما داوہ قال یمنع صاحبہ حق اللّٰہ فقیل فان ادی حق اللّٰہ قال لاینجو من الکبر والخلیلاء فقیل فان نجی قال یشغلہ اصلاحہ عن ذکر اللّٰہ۔ 
یعنی مال میں بہت طرح کا دکھ ہے۔ پوچھا گیا کہ مال میں وہ دکھ کیا ہے۔  فرمایا: جب مال بہت جمع ہو جائے تو وہ خدا کا حق ادا نہیں کرتا۔ پھر کہا گیا کہ اگر اس نے خدا کا حق ادا کر دیا تب۔ فرمایا: تکبر اور بڑائی خودبخود مزاج میں پیدا ہو جاتی ہے جس سے نجات مشکل ہے۔پوچھا گیا کہ اگر تونگر نے تکبر و غرور چھوڑ دیا تو۔ فرمایا: مال کی درستی اور نگہبانی اور بڑھانے کی فکر میں وہ ہمیشہ مشغول رہتا ہے اور خدا کے ذکر سے غافل بنتا ہے۔
فائدہ- ۲۹
یا ابن ادم ماکسبت فوق قوتک فانت فیہ خازن لغیرک۔
 یعنی اے ابن آدم! جو مال تو نے کمایا اور اپنی خوراک و خرچ سے زیادہ کمایا تو تو اس کا نگہبان ہے اور تو غیر کے واسطے سنبھال کر رکھتا ہے۔ 
فائدہ-۳۰
عامر بن ربیع کا قول ہے   :
 أحب الناس الی اللّٰہ الفقرآء فکان أحب خلقہ إلیہ الأنبیاء علیھم السلام فابتلاء ھم بالفقر۔ 
یعنی لوگوں میں اللہ کے دوست فقرا ہیں کیونکہ بہترین مخلوق اللہ کی انبیا علیہم السلام ہیں اور وہ سب فقر میں رہتے تھے، محنت کر کے اپنی روزی پیدا کرتے تھے۔
فائدہ- ۳۱
انس بن مالک سے روایت ہے  :
یقول اللّٰہ عزوجل للملائکۃ ادنوا من أحبائی فیقول الملائکۃ من أحباوک فیقول ادنوا من فقراء المسلمین۔ 
یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرے دوستوں کے پاس جاؤ۔ فرشتے کہتے ہیں : خداوندا! تیرے دوست کون ہیں۔  فرمایا: فقرائے مسلمین کے پاس جاؤ۔
کیوں کہ وہ ہمیشہ صبر و رضا کے مقام میں متوکل گذران کرتے ہیں۔  کبھی اپنے فقر و فاقہ کی شکایت کسی آدمی کے سامنے نہیں بیان کرتے،  کیونکہ دوست کی شکایت غیر سے بیان کرنا دوستی میں خلل ڈالتا ہے۔ مالک الملک کی شکایت بندے محتاج کے آگے پیش کرنا بڑی شرم کی بات ہے۔   ؎
جہد رزق ارکنی وگرنہ کنی		 برساند خدای عزوجل
 گرروی دردہان شیر وپلنگ		 نہ خورندت مگر بروزاجل
 فائدہ-۳۲
الفقر فخري والفقر مني۔ 
یعنی (بنی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:) مجھے فقر سے اور فقر کو مجھ سے فخر ہے۔
روایت ہے کہ ایک روز تمام دنیا کے خزانوں کی کنجیاں جبرئیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لائے اور کہا کہ اگر آپ اس کو قبول کر لیں تو تمام خزانے آپ کے تابع ہو جائیں گے۔ 
آپ نے قبول نہ فرمایا، اور مالک کی رضا اختیار کی۔ ورنہ تمام جہان کی تونگری اور  اہل بیت کو ملتی، اور آپ کی تمام اُمت غنی مالدار ہو جاتی،  مگر غفلت دنیا اور محبت زر میں گرفتار ہوتی۔ 
دیکھو مفلسی اور مصیبت میں جو خدا کو یاد کرتے ہیں ویسا تونگری اورتندرستی میں کہاں ہو سکتی ہے۔ بعض علما نے فقر کو اسی لیے تونگری سے افضل قرار دیا ہے۔ جب کہ بعضوں نے تونگری کو بہتر کہا ہے۔ 
فائدہ-۳۳
روایت ہے کہ جبرئیل علیہ السلام تابوتِ سکینہ کو بنی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور میں لائے۔جس میں اگلے پیغمبروں کی نشانیاں ہیں،   چنانچہ ابراہیم علیہ السلام  گلیم، سلیمان علیہ السلام کی انگشتری، موسی علیہ السلام کا عصا، ہارون علیہ السلام کی کفش وغیرہ کپڑے بہت سے اس میں تھے جس کی برکت کے سبب بنی اسرائیل فتحیاب ہوتے تھے۔ جب اس کی بے ادبی کی تو فرشتوں نے اسے آسمان پر لے جا کر معلق کر دیا۔ 
حکم ہو ا میر ے حبیب  علیہ السلام کو جو چیزپسند ہو اس میں سے لے لیں۔  آپ نے گلیم فقر اختیار کیا جس کی برکت سے رسول مقبول علیہ السلام کی اُمت میں ہزاروں اولیا پیدا ہوئے، او ریہ سلسلہ ولایت قیامت تک جاری رہے گا۔ 
یہ اولیائے اُمت فقیر الی اللہ ایسے صاحب مرتبہ ہوئے ہیں کہ جس کو چاہا بادشاہ بنا دیا۔ چنانچہ تاریخ الاولیا میں ان کے تذکرے بالتفصیل موجود و مرقوم ہیں۔  ایسے فقر کے مقابل تونگری اور بادشاہی کی کچھ حقیقت باقی نہ رہی۔ فقر کے سامنے تونگری کیا مال ہے؟
نہیں دینا کی نعمت پر نظر ان پاکبازوں کی
نبی نے جن کو خوانِ فقر سے لقمہ کھلایا ہے 
رضینا قسمۃ الجبار فینا		لنا علم وللأغیار مال
فان المال یفنی عن قریب	و لکن علم باق لایزال
یعنی ہم اس پر راضی ہوئے جو خدا نے ہمارے حصے میں قسمت کر دیا۔ ہم کو علم دیا اور غیروں کو مال دیا۔ اور مال یقیناً جلدی فنا ہونے والا ہے، اور علم ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اس کو کوئی زوال نہیں۔ قبر میں بھی ساتھ اور حشر میں بھی ساتھ۔
 فائدہ- ۳۴
امیر المومنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  :
لاتحقرن أحدا من المسلمین فان صغیرھم عنداللّٰہ کبیر۔
یعنی کسی مسلمان کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھو کہ(ممکن ہے) ان کا ادنیٰ اللہ کی نگاہ میں اعلیٰ ہو۔
روایت ہے کہ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک روز اپنے خادم سے پوچھا کہ کچھ کھانے پینے کی چیز گھر میں ہے؟۔ اس نے کہا: کچھ نہیں۔  (یہ سن کر ) مولانا نے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا : بوئے خانۂ  اہل بیت مصطفوی در خانۂ  من می آید۔
یعنی میرے گھرسے اہل بیت نبوت کے گھرانے کی خوشبو آ رہی ہے۔
 ایک روز پھر شب کو خادم سے پوچھا تو اس نے کہا: نقدوجنس اور ماکولات بہت موجود ہیں۔  مولانا افسوس کر کے فرمایا :بوئے فرعون در خانۂ  من می آید۔
یعنی میرے گھر سے فرعون کے گھر کی بو آ رہی ہے۔
چنانچہ آپ نے سب اسی وقت فقرا ومساکین کو تقسیم کر دیے۔ کہتے ہیں کہ مسکین وہ ہے جس کے پاس تین روز کی خوراک ہو۔ اور فقیر وہ جو ایک روز کی بھی خوراک نہ رکھتا ہو۔
فائدہ-۳۵
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
یا معشر الفقراء ألا أبشرکم بأن فقراء المسلمین یدخلون الجنۃ قبل أغنیاء ھم بنصف یوم وھوخمس مائۃ عام ۔ 
یعنی اے گروہِ فقرائے مسلمین! کیا میں تمہیں اس بات کی خوشخبری نہ دوں کہ میری اُمت کے فقیر تونگروں سے نصف روز پیشتر جنت میں داخل ہوں گے، اور آخرت کا نصف روز پانچ سوبرس کا ہو گا۔
 فائدہ-۳۶
سلطان ابراہیم ادہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں  :
طلبنا الفقر استقبلنا الغنٰی وطلب الناس الغنٰی استقبلھم الفقر۔ 
یعنی ہم فقر کو طلب کرتے ہیں تو تونگری ہمارے سامنے آ جاتی ہے، اور دوسرے لوگ تونگری طلب کرتے ہیں تو فقر ان کے سامنے آ جاتا ہے۔
 الدنیا طلب الھارب وتھرب من الطالب۔ 
یعنی دنیا طلب کرتی ہے اس کو جو اس سے بھاگتا ہے، اور بھاگتی ہے اس سے جو اس کو طلب کرتا ہے۔
 ہر دو قول کا مطلب یکساں ہے۔
فائدہ- ۳۷
امیرالمومنین علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  :
إن اللّٰہ فرض فی أموال الأغنیاء أقوات الفقراء فما جاء فقیر إلا بما منع غنی واللّٰہ سائلھم عن ذلک۔ 
یعنی بے شک اللہ تعالیٰ نے تونگروں کے مال میں فقیروں کا حصۂ  خوراک فرض کیا ہے، تو اگر کوئی فقیر بھوکا رہا تواس لیے کہ تونگر نے اس کو کچھ نہ دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے متعلق ان سے پوچھنے والا ہے۔
 یعنی میں نے تجھ کو اتنا بہت مال دیا تھا پھر  اس فقیر کو کس لیے بھوکھا رہنے دیا۔
حکایت:  ایک وقت (کی بات ہے کہ) شہر خراسان میں دو فقیر مسافر شام کو مقام کئے کہنہ مسجد میں پہنچے، مگر ان کے پاس نہ بچھونا تھا نہ خوراک۔ خستہ گرسنہ وہاں رہے۔ ٹھنڈی کا موسم تھا۔ سردی کے باعث انھیں کافی تکلیف پہنچی اور رنج و غصے میں باہم دیگر کہنے لگے: یہاں کا بادشاہ اس وقت اپنے حرمِ خاص میں گرم و نرم بچھونا پر سوتا ہو گا، شکم اس کا نان و کبابِ مرغ مسّمن سے بھرا ہوا ہو گا۔ عود ساز سامنے رکھی ہوئی ہو گی، آرامِ تمام سے بالین ناز پر سر رکھ کر خوابِ شیریں کے مزے لے رہا ہو گا۔ اور ہم مسافر اس کے شہر میں بھوکے خستہ رنج و تعب میں پڑے ہیں۔  اگر کل قیامت کے دن ہم فقرائے اُمت تونگروں سے پانچ سو برس قبل جنت میں داخل ہوئیں گے،تو اس کو بہشت میں نہ آنے دیں گے،  کیونکہ دنیا میں اس نے آسایش و آرام پایا ہے، اور ہم نے سوقسم کی مصیبت و تکلیف اُٹھائی ہے۔ 
یہاں ہماری کسی نے خبر نہ لی تو خدا کے پاس کل انصاف طلب کریں گے۔ بادشاہِ خراسان کا نام ملک صالح تھا اور وہ اسم بامسمی تھا۔ فقیروں کو خوراک و پوشاک تقسیم کرتا ہوا  اس مسجد کے قریب پہنچا، اور ان کی تمام سخت وسست باتیں سن لیں۔  اور غلام سے کہا کہ یہ خوراک وپوستین بچھونا وغیرہ ان کودے دو۔ 
فجر میں بادشاہ نے ان دونوں فقیروں کو بلوایا۔ خلعت و نعمت وافر عنایت کیا۔ اپنے ساتھ خاصہ کھلوایا یہاں تک کہ دونوں فقیر نہایت خوش ہوئے اور عرض کی: اے بادشاہ! ہمارا کیا کام یا خوبی و ہنر تجھ کوپسند آیا جو اس طرح کی نوازش فرمائی، اور نعمت و دولت سے سرفراز کیا۔ بادشاہ سن کر خوش ہوا، اور کہا کہ میں نے آج تم سے اس لیے صلح کی ہے تاکہ کل جنت کے دروازے سے داخل ہوتے وقت مجھے نہ روکنا۔
فائدہ-۳۸
موتُ الأغنیاء حسرۃ وموت الفقراء راحۃ۔ 
یعنی تونگروں کی موت حسرت ہے (کہ مال و دولت میں ان کی جان اٹکی رہتی ہے) اور فقیروں کی موت راحت ہے کہ پیٹ کی فکر سے چھوٹ گئے۔
ایک فقیر کو کسی بادشاہ نے بنظر حقارت دیکھا۔ فقیر بولا: اے بادشاہ! دنیا میں خزانہ و لشکر و حکومت میں ہم تجھ سے کمتر ہیں لیکن زندگانی میں برابر ہیں۔  اور موت کے وقت تجھ سے خوشتر ہیں اور قیامت میں تجھ سے بہتر ہیں۔  
فائدہ-۳۹
جمع المال کاعلاء الحجر العظیم إلی ذروۃ الجبل الشامخ وخروجہ کإلقاۂ منھا۔ 
یعنی مال جمع کرنا مشکل ہے جیسا کہ ایک بھار ی پتھر پہاڑ کے اوپر لے جانا اور خرچ آسان ہے جیسا کہ اس پتھر کو اوپر سے نیچے گرا دینا۔
فائدہ- ۴۰
لاخیر في من لا یحب المال لیصل بہ رحِمہ ویؤدی بہ أمانۃ ویستغنی بہ خلق ربہ۔ 
یعنی جو کوئی مالِ دنیا کو نہیں چاہتا سواچھا نہیں،   کیونکہ مالدار اپنے رشتہ داروں سے سلوک کرتا ہے، امانت کو اَدا کرتا ہے اور مخلوق خدا سے حاجتمند نہیں ہوتا۔ 
فائدہ-۴۱
الشھرۃ آفۃ وکل الناس یتولاھا والخمول راحۃ وکل یتوقاھا۔ 
یعنی مالداری کی شہرت ہونا ایک آفت ہے اور لوگ اس کو چاہتے ہیں اور گوشہ نشینی راحت ہے اور لوگ اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ 
فائدہ-۴۲
قال علی رضی اللّٰہ عنہ من اتی غنیا فتواضع لہ لغناۂ تذھب ثلثا دینہ۔ 
یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے غنی کو دیکھا اور مالداری کے سبب اس کی تواضع کی تو اس کے دین کا تیسرا حصہ چلا گیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ تونگر کو مال کے سبب کوئی سلام کرے تو اپنا آدھا دین کھو دیتا ہے۔ 
فائدہ-۴۳
قال رجل لإبراھیم ابن أدھم إقبل منی ھذہ الجبۃ فقال إن کنت غنیا قبلتھا منک فقال أنا غنی فقال کم مالک فقال ألفان فقال أیسرک أن یکون أربعہ آلاف قال نعم قال أنت فقیر لا أقبلھا منک ۔ 
یعنی ایک شخص نے ابراہیم بن ادہم سے کہا کہ یہ جبہ میں آپ کو دیتا ہوں قبول کر لیں۔  آپ نے فرمایا: اگر تو غنی ہے میں تجھ سے قبول کروں گا۔ اس نے کہا:  ہاں !میں غنی ہوں۔  آپ ے فرمایا: کتنا مال تیرے پاس ہے؟ اس نے کہا: دو ہزار۔ آپ نے پوچھا: اگر چار ہزار ہو جائیں تو خوش ہو گا؟۔ اس نے کہا: ہاں۔  آپ نے فرمایا: تو فقیر ہے۔ میں تجھ سے یہ قبول نہیں کرتا۔ یعنی تو چار ہزار کا حاجتمند ہے۔
فائدہ-۴۴
سئل بعض العار فین العلم أفضل أم المال قال العلم قال فما مال الناس یرون أھل العلم علی أبواب أصحاب المال من غیر عکس۔ قال العلماء عارفون منفعۃ المال وھم جاھلون منفعۃ العلم۔ 
یعنی بعض عارفین سے پوچھا گیا کہ علم بہتر ہے یا مال۔ کہا علم بہتر ہے۔ پھر پوچھا گیا کہ اگر یہی بات ہے تو پھر اکثر اہل علم صاحبانِ مال کے دروازے پر کیوں دکھائی پڑتے ہیں ؟حالانکہ اس کا عکس نہیں ہوتا۔یعنی اگر علم بہتر ہے تو مالدار کو عالم کے دروازے پر دکھائی پڑنا چاہیے۔ جواب دیا کہ عالم چونکہ منفعت مال کی قدر و قیمت جانتے ہیں، مگر مالدار منفعت علم کو نہیں جانتے، اس واسطے عالم کے دروازے پر نہیں آتے۔ 
فائدہ-۴۵
محمد بن عبدالوہاب فرماتے ہیں  :
مارأیت أذل من الأغنیاء فی مجلس سفیان الثوری رحمۃ اللّٰہ علیہ،  وما رأیت أعز من الفقراء فی مجلسہ الفقراء فی مجلس سفیان أمراء۔ 
یعنی میں نے سفیان ثوری کی مجلس میں تونگروں سے زیادہ کسی کو ذلیل و خوار نہیں دیکھا۔ یوں ہی میں نے ان کی مجلس میں فقیروں سے زیادہ کسی کو عزت مند نہیں دیکھا۔ یعنی تونگروں کی اتنی عزت حضرت نہیں کرتے تھے جتنی فقیروں کی کرتے تھے۔
فائدہ-۴۶
اللّٰھم أحینی مسکینا وأمتنی مسکینا واحشرني فی زمرۃ المساکین۔ 
یعنی اے خدا! مجھ کو مسکین بنا کر زندہ رکھ،مسکینی کی حالت میں موت دے، اور قیامت کے دن مسکینون کی صف میں اُٹھا۔
مسکینون کو دوست رکھنا اور مسکینی کی طبیعت اختیار کرنا ایماندار کی علامت ہے۔
فائدہ-۴۷
غنی النفس ما یکفیک عن سد حاجۃ  فان زاد شیئا زاد ذلک الغنی فقرا۔ 
یعنی تونگری نفس کی وہ ہے جو تیری حاجت کو کفایت کرے۔ پھر حاجت سے زیادہ اگر کچھ جمع کیا تو وہ تونگری تیری حاجتمندی کو بھی زیادہ کرتی ہے۔
ع:   آنا نکہ غنی تراند محتاج تراند
لوگ راحت و آرام کے واسطے تونگری طلب کرتے ہیں،   مگر یہ ان کی بھول ہے کیونکہ جتنا کارخانہ بڑھتا جائے گا اتنا غم و غصہ، رنج و فکر، اورحساب و عتاب زیادہ ہوتا جائے گا۔ اگر حلال کی کمائی کا ہے تو ایسا ہے،  لیکن اگر حرام کی کمائی کا مال جمع کیا ہے تو خدا پناہ میں رکھے دنیا کی بھی خرابی، اولاد کی بے حیائی، اور آخرت کا عذاب موجود ہے۔ سو حقدار دعویدار سامنے کھڑے ہیں،  آخرت کی فضیحتیں دنیا کی فقیر ی ومفلسی سے بدتر ہے۔ تونگر کی اولاد اس کی بڑی دشمن ہے۔ 
لطیفہ :  ایک سوداگر مالدار کا لڑکا جوان ہوا تھا۔ خدا کا کرنا کہ ا س کا باپ بیمار ہو گیا۔ کسی دوست نے اس لڑکے سے کہا: اگر تیرا باپ گذر جائے تو ایک لاکھ روپے تیرے ہاتھ میں آئیں گے، اور مزے کی زندگی گزارو گے۔ اس لڑکے نے کہا: اگر کوئی میرے باپ کو مار ڈالے تو بہتر ہے۔ اس کے خون بہا کا روپیہ بھی مجھے ملے گا۔ 
اپنے بزرگوں کی بد خواہی کرنا باعث زوال دولت و مآل ہے، اور اپنے رشتہ دار و قوم کی خیر خواہی موجب ترقی و اقبال ہے۔ 
فائدہ-۴۸
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  :
إن الرجل لیحرم الرزق بالذنب یصیبہ أ لا تری أن آدم علیہ السلام کان فی الجنۃ فی عیش رغد فاخرج منھا إلی الدنیا بالمعصیۃ التی کانت منہ۔ 
یعنی بے شک آدمی گناہ کرنے کے باعث رزق سے محروم اور بے نصیب ہوتا ہے۔ کیا ویسا رنج اس کو ہوتا ہے بیماری مفلسی وغیرہ کا۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ آدم علیہ السلام جنت میں کس طرح عیش و آرام میں تھے، بس ایک نافرمانی و خطا کے سبب جنت سے نکالے گئے اور دنیا کی مصیبتوں میں گرفتار ہوئے۔ 
یعنی زمیں کھیڑنا، تخم بونا، برسات کا انتظار کرنا، دانہ نکالنا، پیسنا پکانا، تب روٹی ملتی ہے۔ جیسی گناہوں کی شامت ہو ویسے ہی آدمی پر غم ہوتا ہے۔ اور یہ سب اس کے عمل کا نتیجہ ہے۔ ’اس ہاتھ دواُس ہاتھ لو پر اعتقاد رکھنا چاہیے کہ سب پیغمبر معصوم و بے گناہ ہیں اگر ان سے ایسی خطا ہو گئی تواس کو زلات یعنی لغزشِ قدم کہتے ہیں،  گناہ نہیں کہتے او ر اس کا ذکر ادب سے کرنا چاہیے کہ اس میں حکمت الٰہی ہے۔ 
فائدہ-۴۹
ما من عمل أفضل من طلب العلم إذا  صحت فیہ النیۃ یعنی ترید بہ الدار الاٰخرۃ۔ 
یعنی کوئی عمل اور کام علم سیکھنے سے زیادہ بہتر نہیں۔  اگر اس میں خیر کی نیت اور آخرت کی نعمت حاصل کرنے کا اِرادہ ہو۔ 
دنیا کی دولت اس کی دلالی میں خود بخود ملتی ہے۔ اگر کچھ نہ ملا تو آخر جہالت کا عیب تو تجھ سے نکل جائے گا۔ 
فائدہ-۵۰
الغنی ضد السفلۃ۔ 
یعنی غنی وہ ہے جو سفلہ کی ضد ہے۔
 سئل أبوحنیفۃ عن السفلۃ فقال ھم کفار النعمۃ۔ 
امام ابو حنیفہ سے سفلہ کے معنی لوگوں نے پوچھا توآپ نے فرمایا: سفلہ اسے کہتے ہیں جو کفرانِ نعمت کرے۔ یعنی حق انسان کا فراموش کرے۔ ابویوسف نے کہا: سفلہ وہ جو دنیا کے واسطے دین بیچے۔ محمد بن حسن نے کہا: سفلہ وہ جو رستوں میں کھانا کھائے۔ اصمعی نے کہا: سفلہ وہ ہے جو کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ اور ہے۔ ابومعانی نے کہا: جو لوگوں نے اسے نصیحت کی ہے اس موافق عمل نہیں کرتا۔ ابن اعرابی نے کہا: سفلہ وہ جو لوگوں کے پاس دوسروں کی غیبت کرے، اور گواہ تیار کرے۔ عبداللہ بن مبارک نے کہا: سفلہ وہ جو دین کے پردے میں دنیا کمائے اور اپنے عیب کو ہنر سمجھے۔
فائدہ-۵۱
زیر سے غِناء بمعنی گانا بجانا، اور زبر سے غَنا بغیر ہمزہ تونگری کو کہتے ہیں۔  اور غنا بمعنی انبوہ مردم درویہ وباغِ بسیار درخت،  چنانچہ ایک بزرگ نے کہا ہے  :
إیاکم والغناء فانہ یسقط المروۃ وینقض الحیاء ویبدی العورۃ ویزید فی الشھوات وانہ ینوب عن الخمر ویصنع بالعقل مایصنح السکر ولا بد فجنبوہ النساء فانہ داع الی الزنا۔ 
یعنی پرہیز کرو گانے بجانے سے،  کیوں کہ  گانا مروّت کو ساقط کرتا ہے، بے حیا بنا دیتا ہے، بے شرمی کا اس سے آغاز ہوتا ہے۔ شہوت زیادہ ہوتی ہے۔ نیز یہ شراب کا نائب ہے۔ عقل کو زائل کرتا ہے۔ نشہ کی حالت لاتا ہے۔ اور عورتوں کا اس سے پرہیز کرنا بہرحال ضروری ہے،  کیوں کہ یہ زنا کی طرف بلاتا ہے۔
جیساکہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا  :
 جنبوھن الکتابۃ ولاتسکنوھن الغرف۔ 
یعنی عورتوں کو لکھنے لکھانے سے پرہیز کرو، اور انھیں دریچوں میں نہ بیٹھنے دو۔
 کیوں کہ جس طرح مردوں کا بے گانی عورت کو نظر بدسے دیکھنا حرام ہے اسی طرح عورتوں کو بھی بے گانے مرد کو بری نظر سے دیکھنا حرام ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول روضہ الاخیار منتخب ربیع الابرار میں لکھا ہے۔ اور صحابۂ  کبار کا فرمان سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مانند ہے۔ فتادی برہنہ میں منقول ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا  :
لا تعلموھن الکتابۃ۔ 
یعنی عورتوں کو لکھنا مت سکھاؤ۔
واللہ اعلم بالصواب۔ یہ سچ ہے کہ عورتوں کا گوشہ پردہ عصمت و تونگری کا نشان ہے۔ ظاہر ہے جب شوہر غیر عورت کی طرف حرام کا خیال کرے گا تو اس کی زوجہ بھی غیر مرد کی طرف دھیان کرے گی، اور (اس میں دونوں کے) ناموس کی خرابی ہے۔ 
فائدہ- ۵۲
سئل رجل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم عن أفضل الأعمال فقال العلم باللّٰہ والفقہ فی دینہ وکدَّرھما علیہ۔ فقال یا رسول اللّٰہ اسئلک عن العمل فتخبرنی عن العلم فقال إن العلم ینفعک معہ قلیل العمل وأن الجھل لاینفعک معہ کثیر العمل المتعبد بغیر علم کحمار الطاحونۃ یدور ولایقطع المسافۃ۔ 
یعنی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ بہتر عمل کیا ہے؟۔ تو فرمایا: اللہ کے واسطے علم سیکھو اور دین سدھار نے کے واسطے فقہ پڑھو۔ اور آپ نے ایسا دو بار فرمایا۔ تب اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ سے افضل عمل پوچھتا ہوں اور آپ مجھے علم کی خبر دے رہے ہیں۔  پھر آپ نے فرمایا: بے شک اگر تیرے پاس تھوڑاسا علم ہوا اور تو نے اس پر عمل کیا تو وہ تجھ کو بہت نفع دے گا۔ اور بے علم اگر بہت عمل کرے گا تو بھی اس کو کچھ نفع نہیں ہو گا۔ بے علم عابد کی مثال چکی کے گدھے کی سی ہے کہ تمام روز چلتا ہے مگر منزل قطع نہیں ہوتی۔
 تونگری اس لیے بہتر ہوئی کہ مال خرچ کر کے بچوں کو علم سکھائے۔ غریب مفلس کیا سیکھے گا اور بچوں کو کس طر ح سکھائے گا۔ وہ تو شب و روز شکم پروری میں گرفتار رہتا ہے   ؎   
اے گرفتا رِ پاے بند عیال			دگر آسودگی بلند خیال
کہ بشب باخداے پردازم			شب چو عقد نماز می بندم
چہ خور دبامداد فرزندم
فائدہ- ۵۳
امام ایو یوسف رحمۃ اللہ علیہ قاضی بغداد تھے۔ کسی نے ایک مسئلہ آپ سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا: میں نہیں جانتا۔ تو بعض اہل مجلس نے کہا: آپ قاضی ہیں۔  خلیفہ بغداد ہارون الرشید ہر مقدمے میں آپ سے فتویٰ طلب کرتا ہے۔ آپ کے فرمانے پر انصاف و عدالت کا کام چلتا ہے۔ اتنے ہزار درہم خزانہ بیت المال سے آپ کو ملتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ میں نہیں جانتا!۔
آپ نے جواب دیا: جس امر میں مجھے جتنا علم ہے اس کے مطابق مجھے بیت المال سے ملتا ہے، تو یہ تو جاننے کا بدلا ہے۔ اور جن امور کا علم مجھے نہیں اگر اس کا بدلہ تمام جہان کا خزانہ بھی ملے تو مجھے کفایت نہ کرے گا۔ یعنی میرا جاننا کم ہے اور نہ جاننا زیادہ ہے۔
 فائدہ- ۵۴
إذا غضب اللّٰہ علی أمۃ غلت أسعارھا ولم تربح تجارھا ولم تنزل ثمارھا ولم تغزر أنھارھا وحبس عنھا أمطارھا وغلبھا شرارھا وأقل علماء ھا۔ 
 یعنی جس وقت اللہ کا غضب کسی قوم پر آتا ہے تو اس ملک میں ہر چیز کا دام گراں ہو جاتا ہے، اس کے تاجروں کے ہاتھوں برکت اُٹھ جاتی ہے، خوب پھل نہیں ہوتے، نہریں پھیل کر نہیں بہتیں،  بارش روک لی جاتی ہے، اوباشوں کا دور دورہ ہوتا ہے اور علما گھٹتے چلے جاتے ہیں۔ 
یعنی جس قوم پر حق تعالیٰ غضب فرماتا ہے تو وہاں جاہل لوگ زیادہ پیدا ہوتے ہیں اور دانا عالم کم ہوتے ہیں یعنی عالم دانا اگر ہوئے بھی تو خاموش رہتے ہیں،  علم کو چھپاتے ہیں،  اپنی جان  و آبرو کو بچاتے ہیں،  جیسی ہوا چلی ویسی پیٹھ دیتے ہیں،  اگر شریعت کا حکم ظاہر بھی کریں تو کون سنتا ہے اور کون ان کی بات مانتا ہے بلکہ ان کے مقابلے میں خلاف شرع باتیں ہونے لگتی ہیں۔  
تو بہت لوگ ہیں جو جہالت کو قوت دیتے ہیں اور دنیا کمانے کے واسطے افتخار کرتے ہیں،  اور ہزاروں غریب مسلمانوں کو گمراہ کر کے دو جہان کے عذاب میں گرفتار ہوتے ہیں،   کیونکہ دنیا کمانے کا ہنر اور پیشہ وری کا رستہ ان کو آتا نہیں سوائے اس کے کہ لوگوں کا مال جھوٹ بول کر کھائیں کہ احمقوں کا مال عاقلوں کی غذا ہے۔ حق بولنے کا وقت نہیں رہا۔ ناحق بول کر اپنا شکم پُر کرنا ضرور ہے۔ نعوذ باللہ منہا۔
ناحق نے یہاں تک زور پکڑا کہ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کی تقلید چھوڑ دی۔ لامذہب غیر مقلّد ہو گئے، اور بہتوں کو لامذہب بنا ڈالے، اور قید تقلید مذہبی سے فارغ ہو کر شتر بے مہار کی طرح خواہش نفسانی کے تابعدار بن گئے، اور ر اسلام کے پٹے کو ارادت کی گردن سے نکال کر اہل ہوا کے مقلد ہو گئے۔ 
اگر ان سے کہا جائے کہ تمہارے باپ دادا حنفی کے مقلد تھے، ان کے مرشد استاد سبھی حنفی مذہب رکھتے تھے،  تم کس واسطے غیر مقلد بن گئے اور لامذہب ہو گئے تو جواب دیتے ہیں کہ اِس زمانے میں ایک مذہب کی تقلید کرنا ہم سے نہیں ہو سکتا،  اس لیے کھانے پینے  اور عبادات و معاملات میں آسانی کے واسطے غیر مقلد لامذہب ہو گئے۔ نہیں اب سب کاموں میں آزادی حاصل ہے۔ اللّٰھم عافنا من کل بلاء الدنیا وعذاب الاٰخرۃ۔
آخر زمانے کے لوگ خصوصاً علما پہلے زمانے کے علما کو برا بھلا کہنے لگے اور ناحق ان کے اوپر بہتان دھرنے لگے۔ یہ بھی قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے۔ مسلمانوں میں تخم نفاق بویا گیا، دین میں فسا د علما کے نفاق سے پیدا ہوا، اور افلاس کا بڑا سبب اہل اسلام میں یہی ہوا   ع :  ماہی ازسر گندہ گرددنے زوم۔
آج تک اہل سنت و جماعت کے علما و فضلا مقلدین ائمہ اربعہ نے علم فقہ، حدیث، تفسیر، فرائض، اور تصوف وغیرہ کی کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں۔  تقلید مذہب چھوڑ کر لامذہب نہیں بنے۔ کتاب مؤطا امام محمد، مشکوٰۃ شریف، مشارق الانوار، تیسیرالوصول، جامع صغیر و جامع کبیر، علم حدیث کی کتابیں لکھی گئیں۔  یہ لاکھوں حدیثوں کے حافظ تھے لیکن ان میں اکثر حنفی یا شافعی مذہب کے مقلد تھے اور یہ لوگ اس زمانے میں مشکوٰۃ شریف اور مشارق الانوار پڑھ کر محدثِ غیر مقلد بنے۔ جن کی کتابوں سے فیضانِ علم پایا ان کا مذہب چھوڑ کر خود اپنے استادوں ہی  سے منکر ہو گئے۔ بے شک ایسوں کے لیے عذابِ دارین ضرور موجود ہے۔
تیرھویں صدی تک دین کا جو علم پہنچا وہ مقلدین علما و فضلا، اولیا و مرشد ین اور معلّمین کے ذریعہ سے پہنچا جس کا خلاصہ جامع الفتادی میں مع دلائل مذکورہ ہوا ہے۔ ان غیر مقلدین لامذہب کو جن علما و فضلا کے ذریعہ سے دینی علوم پہنچا وہ اہل سنت و جماعت سلف و خلف کے زمانے کے تھے۔ سفلہ و  کافر نعمت دہی شخص ہوتا ہے کہ جن استادوں کی تالیفات و تصنیفات سے اس نے تعلیم پائی پھر ان کو کا فر، مشرک یا بدعتی کے لفظ سے متہم کرے۔ خدا ایسوں کو ہدایت دے اور توبہ نصیب کرے۔
فائدہ-۵۶   ؎
شکوت إلی وکیع سوء حفظي
فأرشدني إلی ترک المعاصي
				فإن العلم نور من الہ
				ونور اللّٰہ لا یعطیٰ لعاصي
ابوالمعانی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اُستاد وکیع رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں شکایت کی کہ میں قوتِ حافظہ اور ذہن کامل کم رکھتا ہوں۔  آپ نے ارشاد فرمایا کہ گناہ کے کاموں کو بالکل ترک کر دو،   کیوں کہ علم اللہ کے فضل سے نور ہے اور اللہ کا نور گنہگار کو نہیں دیا جاتا۔
اس کے بعد انھوں نے توبہ واستغفار کیا تب سبق یاد رہنے لگا۔
کتاب معیارالحق میں فلاں مولوی دہلوی نے ائمہ اربعہ خصوصاً امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر کیسی تہمت باندھی ہے۔ پھر مکہ معظمہ میں اپنے لکھے سے توبہ کیا، علما کے حضور میں استغفار پڑھا، جب ہندوستان میں آیا سب بھول گیا اور کہا کہ فقط تعزیر شرعی سے خود کو بچانے کے واسطے عذر استغفار کیا تھا۔ چند مدت کے بعد جب کلکتہ کو گئے وہاں اپنا قول بھول گئے جیسے تھے ویسے بنے۔ سچ ہے : دروغ گورا حافظہ نباشد۔
 مولوی قطب الدین دہلوی نے بحکم لکل فرعون موسٰی کتابِ مذکور کا خوب ردیہ لکھا۔ چنانچہ ’اظہار الحق وایضاح الحق کے نام سے اس کا مبسوط بیان چھپا ہے۔ اس طرح کے لامذہب مولویوں نے تمام ہندوستان کے علما کا نام بد نام کر دیا ہے اور سخن پروری ونفاست کے سبب دونوں طرف والے افراط و تفریط میں پڑے ہیں۔  حق بات چھوٹ گئی۔ اور عوام مسلمین کے ایمان میں شبہہ واقع ہونے لگا کہ حق پر کون ہے۔ ہم ان کا کہنا مانیں یا ان کا مغالطہ بڑا ہو گیا۔  خدا پناہ میں رکھے۔
 فائدہ-۵۷
قال النبی صلی اللّٰہ و آلہ وسلم زین اللّٰہ السمآء بثلاث بالشمس والقمر والکواکب وزین اللّٰہ الأرض بثلاث بالعلماء والمطر وسلطان العادل۔ 
یعنی خدائے تعالیٰ نے آسمان کو تین چیزوں سے زینت دیا:آفتاب، ماہتاب اور ستاروں سے۔ اور زمین کو بھی خدائے تعالیٰ نے تین چیزوں سے زینت دیا:علما سے بارانِ رحمت سے اور سلطانِ عادل سے۔
مولانا عبدالرحمن جامی فرماتے ہیں   ؎
فلک را  انجم  افروز  زانجم 			زمیں رازیب دہ انجم بمردم
 فائدہ-۵۸
العلم قائد والعمل سائق والنفس حرون فإذا کان قائد بلا سائق بلدت وإذا کان سائق بلاقائد عدلت یمینا وشمالا۔
 یعنی علم نفس کو آگے کھینچنے ولا ا ہے معاد کی طرف، اور عمل پیچھے سے ہانکنے والا ہے۔ اور نفس سرکش بیل کی مانند حیوان ہے۔ اگر آگے کھینچے والا ہوا اور پیچھے ہانکنے والا نہ ہو تو وہ حیوان سستی کرے گا، رفتار میں اَڑتا جائے گا۔ اور اگر پیچھے ہانکنے والا ہے اور آگے کھنچنے والا نہیں تو وہ حیوان کھانے پینے میں کبھی سیدھی طرف دوڑے گا اور کبھی بائیں طرف کو جائے گا، راہ راست پر ہر گز نہ چلے گا۔
الغرض! دونوں علاقے یعنی آگے کھنچنے والا علم اور پیچھے سے ہانکنے والا عمل اس سرکش حیوان کے واسطے سیدھے رستے پر چلانے کے لیے ضرور چاہئیں۔  عقلمند علما نے تقلید کی رسی نفس کی گردن میں صراطِ مستقیم پر برابر چلنے کے واسطے باندھی ہے۔ جب رسی گردن سے نکال ڈا لی اب نہ قائد کا زور چلتا ہے نہ سائق کا، جدھر نفس سرکش کو مزہ چرنے میں معلوم ہوا شتر بے مہار کی طرح چل دیا، دین داری کہاں رہی، جو لباس جی چاہا پہنے، جو کھانا جی چاہا کھا لیے، اپنا دوزخ ہر طرح سے بھرنے لگے، نہ بزرگوں کا ادب رہا، نہ مسلمانوں سے شرم باقی رہی۔ مہذب باخلاقِ حمیدہ و اوصافِ پسندیدہ ہو گئے۔ ننگے نہانا، کھڑے ہو کر پیشاب کرنا، کانٹے چھری سے کھانا اختیار کر لیا، آزاد منش بنے   ؎
قرار درکف آزاد گاں نہ گیردمال
نہ صبر دردلِ عاشق نہ آب درغربال
کسی شخص کی نصیحت بھی قبول نہیں کرتے۔ مولوی کا لفظ مانع ہوتا ہے۔ اگر قبول کریں تو عام کی نظر میں ہلکے ہو جائیں گے۔ ناصح کا احسان ماننے کے عوض اس سے جھگڑنے کو تیار ہو جائیں گے۔ یہ علما حق پوش ہیں خود بھی ڈوبتے ہیں اور ہزاروں کو ڈبوتے ہیں۔  اور دنیا کے واسطے اپنا ایمان کھوتے ہیں نعوذ باللہ منہا۔
مفتی صدرعدالت علاقۂ  مدراس سیدارتضا علی خان صاحب نے ایسے لوگوں کی شان میں لکھا ہے :  ظاھرھم أزین من الطاؤس وباطنھم أنتن من الناؤس فافھم ولاتکن من الغافلین۔  
فائدہ- ۵۹
قال موسی علیہ السلام فی مناجاتہ: لم ترزق الأحمق و تحرم العاقل فقال لیعلم العاقل أنہ لیس فی الرزق حیلۃ المحتال۔ 
یعنی موسی علیہ السلام نے حق تعالیٰ سے مناجات کرتے وقت پوچھا: کیا سبب ہے کہ نادان کو بہت رزق دیتا ہے اور عقلمند کو محروم رکھتا ہے۔ حکم آیا تاکہ عقلمند سمجھے کہ زور و حیلہ یا فریب و مکر سے رزق نہیں ملتا۔   ؎
	اگر روزی بدانش برفزودی 
	زنادان تنگ ترروزی نہ بودی
						نبادان آن چناں روزی رساند
						کہ دانا اندران حیران بماند
فائدہ-۶۰
قولہ تعالٰی: فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا۔ 
یعنی خدائے تعالی نے فرمایا: بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے کہ عین اس سختی میں آسانی خدا بھیج دیتا ہے۔ یقیناً اس مشکل کے ساتھ دوسری آسانی بھی ہے کہ اس مصیبت کا بوجھ اٹھا لیتی ہے اس واسطے ہر مصیبت میں صبر کرنا اور حق تعالی کی رضا مندی رکھنا حق تعالی کی درگاہ میں مرتبوں اور درجوں کی بلندی کا سبب ہوتا ہے۔ مفلسی میں جب شکایت نہ کیا تو جلد خدا تونگری بھیج کر مشکل آسان کر دیتا ہے۔ دیکھو کہ بندے پر اپنی خدمت اور مشقت اٹھانے کا حق ثابت کرنے کے واسطے نوکر آقا کی خدمت میں بھوکھا پیاسا جان تک بھی دریغ نہیں کرتا تاکہ دنیا کا منصب امارت کا بڑھتا چلے اور جاہ و منزلت حاصل کرنے کی اُمید میں سپاہی سردار کے حکم پر جان دینے کو تیار ہو جاتا ہے اور ضرور بادشاہ اس جاں فشانی کے بدلے میں اس کو عالی جاہ بناتا ہے۔ خدا کی خدمت میں جو محنت مصیبت گذرے گی اس کا حق کبھی آئندہ ضائع نہ جائے گا۔ بے شک مرتبہ عالی پائے گا   ؎
إذا اشتدت لک البلوی  ففکرفی الم نشرح
فعسر  بین  یسرین  إذا فکر تہ فافرح
یعنی جب تجھ پر سخت بلا آ پڑے تو سورۂ  الم نشرح کے معنی میں فکر کر کے دیکھ کہ عسر یعنی سختی کا لفظ دو یسر یعنی آسانی کے درمیان ہے جب تو غور کرے گا تو خوش ہو جائے گا یعنی جب کشادگی کے ساتھ تنگی ملی تو تنگی کے بعد کشادگی بیشک ملے گی۔ مشکل اور آسانی تنگی اور کشادگی آپس میں ضد ہیں۔  ع:  گنج وماروگل و خاروغم وشادی بہم اند
رات اندھیری آئی مگر ضرور اس کے ساتھ صبح کی روشنی لگی ہوئی ہے۔ بہت خوشی میں غم سے غافل نہ ہونا اور بہت غم میں خوشی کی اُمید نہ چھوڑنا۔ مزاج کتنا بھی قوی تندرست ہے مگر موت سے غفلت نہیں کرنا اور بیماری کتنی بھی سخت ہے مگر تندرستی سے نا امید نہ ہونا اسی واسطے العسر کو الف لام لگا کر معرفہ خاص کیا اور لفظ یسر کو نکرہ اسم عام رکھا تاکہ حالت غم میں رضا مندیِ مالک پر بندہ خوش رہے۔
 فائدہ- ۶۱  ؎
یرزق ذا الجھل علی جھلہ
وذا الحجار من حذقہ یحرم
شمس المعالی فرماتے ہیں : نادان شخص اپنی نادانی سے اتنی بہت فکر معیشت نہیں کرتا ہے،  مگر خدائے تعالی اس کو بخوبی رزق مہیا کر دیتا ہے اور صاحب ہنر اپنی دانائی کے سبب فکر کر کے محروم رہتا ہے۔
 فائدہ-۶۲
قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم من أخد أموال الناس یرید أداء ھا  أدی اللّٰہ عنہ ومن أخذھا اتلافھا اتلفہ اللّٰہ۔ 
یعنی بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کچھ لوگوں سے مال قرض لیا اور ارادہ ادا کرنے کا رکھا تو اللہ تعالی اس کی مدد کرتا ہے ادا کرنے میں او ر جس نے کچھ لوگوں سے مال لیا اور ارادہ کیا ڈبونے کا یعنی بدنیتی کی تو اللہ تعالی اسی کو ڈبا دیتا ہے۔ 
یعنی کسی کا قرض لینا پھر ادا کرنے کی نیت پھرا دینا خدا کو بہت ناپسند ہے۔
 فائدہ-۶۳
شھد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم جنازۃ رجل من الانصار فقال أ علیہ دین قالوا نعم فرجع فقال علی رضی اللہ عنہ أنا ضامن یا رسول اللہ فقال یا علی فک اللہ رقبتک کما فککت عن أخیک المسلم ما من رجل یفک عن رجل دینہ إلا فک اللّٰہ رھانہ یوم القیمۃ۔ 
یعنی ابو سعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک انصاری کے جنازے پر تشریف لے گئے۔ آپ نے پوچھا: کیا اس پر کچھ قرض ہے؟۔  لوگوں نے کہا:ہاں۔  یہ سن کر آپ پیچھے پھرے۔ تو حضرت علی نے عرض کی: یارسول اللہ! میں اس کے قرض کا ضامن ہوں۔  آپ نے فرمایا: اے علی خدا تمہاری گردن کو آزاد کرے جس طرح تم نے اپنے مسلمان بھائی کی گردن قرض سے آزاد کی ہے۔ جو کوئی کسی دوسرے شخص کو قرض سے چھڑاتا ہے،  اللہ قیامت کے دن اس کو عذاب کے قید سے آزاد کرے گا۔
اگر آدمی کو عقل ہے تو آمدنی سے زیادہ خرچ نہ کرے، کبھی قرض دار نہ ہو گا۔ قرض ایسی بری چیز ہے کہ نہ دنیا میں چھوٹے گا نہ آخرت میں۔  بغیر ادا کیے کوئی علاج نہیں۔  قبح نقلی و قبح عقلی دونوں قرض میں موجود ہیں یعنی ازروئے دین بھی بد ہے اور از روئے عقل بھی بد ہے۔ جتنا بچھونا ہے اتنا پاؤں پھیلا نا کافی ہے۔ 
فائدہ- ۶۴
أتی جبرئیل آدم علیھما السلام بثلاث خصال: الحیاء والدین والعقل، فقال اختر واحدۃ منھا، فاختار العقل،  فقال الحیاء والدین أمرنا أن لانفارق العقل حیث کان۔ 
یعنی جبرئیل آدم علیہما السلام کے پاس تین نیک خصلتیں لے کر آئے:حیا، دین اور عقل۔ اور کہا کہ ان میں سے ایک چیز قبول کر لیجیے۔ آدم علیہ السلام نے عقل کو قبول کر لیا۔ تو حیا و دین نے کہا کہ ہم کو حکم ہے کہ جہاں عقل رہے وہاں ہم بھی رہیں۔  
فائدہ-۶۵
الناس کلھم عیال أبی حنیفۃ فی الفقہ۔ 
یعنی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تمام آدمی علم فقہ میں ابوحنیفہ کی تابعداری و پیروی کرنے والے ہیں۔  
یعنی سب سے آگے فقہ میں امام ابو حنیفہؒ نے کلام کیا ہے اور سراج الامۃ کا خطاب پایا ہے۔ چنانچہ ایک روز اپنے اصحاب سے فرمایا: تم سے میرا دل خوش ہوا کہ مجھ سے جو علم فقہ تم نے سیکھا ہے اس کو میرے بعد اچھی طرح زینت دے رہے ہو۔جو لوگ طالب بن کر آئیں اور تم سے پوچھیں تو ان کو ضرور اچھی طرح سمجھانا اور علم کی عزت بڑھانا اور قضا یعنی قاضی بننے سے پرہیز کرنا۔ 
حکایت ابو سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کو خلیفہ بغداد مامون الرشید نے بلوایا اور کہا کہ تم بڑے عالم پرہیز گار ہو، قاضی کا منصب تم کو دیتا ہوں۔  انھوں نے فرمایا: میں اس عہدے کے لائق نہیں۔  خلیفہ نے کہا تم جھوٹ کہتے ہو، تم قاضی کے منصب کے لائق ہو، قبول کر لو ورنہ قید میں بھیج دیے جاؤ گے۔
ابو سلیمان نے جواب دیا: اگر میں نے سچ کہا ہے تو میں قاضی کے عہدے کے لائق نہیں ہوں اور اگر جھوٹ بولا ہے تو جھوٹا شخص بھی ہرگز قاضی کے عہد ے کے لائق نہیں ہو سکتا۔   ؎
پند اگر بشنوی  اے  پادشاہ			درہمہ دفتر بہ ازایں پند نیست
جز  بخردمند  مفر  ما  عمل			گرچہ عمل کار خرد مند نیست
فائدہ- ۶۶
قوام الدنیا والدین العلم والکسب، فمن رفضھما وابتغی الزھد لا العلم والتوکل لا الکسب وقع فی الجھل والطمع فی مال المسلمیں۔  
یعنی دنیا اور دین کسب اور علم سے قائم رہتے ہیں۔  اگر کسی نے زہد کی خواہش کی، علم کی رغبت نہ کی،توکل پر نظر رکھا اورکسب کرنے سے باز رہا تو و ہ یقیناً جہل و طمع میں گرفتار ہوا، اور مسلمانوں کے مال پر ہمیشہ دانت تیز کرتا رہے گا۔
فائدہ-۶۷
بذل البحہد فی طلب الحلال وقلۃ الحوائج إلی الناس أفضل العبادۃ۔ 
یعنی حلال کی طلب میں سعی و کوشش کرنا، اور اپنی حاجت لوگوں کی طرف کم لے جانا افضل عبادت ہے۔   ؎
	رزق ہر چند بے گمان برسد
	شرطِ عقل ست جستن  از  درہا
						گر چہ کس بے اجل نہ خواہد مرد
						 تو  مرو  در  دہانِ  اژدہا
فائدہ- ۶۸
محم دبن کعب رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ بغداد سلیمان بن عبدالملک کی مجلس میں پیوند لگے موٹے کپڑے پہنے ہوئے تشریف لے گئے۔ خلیفہ نے بسبب علم ان کی تعظیم کی، نزدیک بٹھایا اور کپڑوں کو دیکھ کر کہا  : 
ما ھذا الثیاب الرثۃ۔ 
یعنی کیا آپ موٹے اور بوسیدہ کپڑے پہن کر دربارِ شاہی میں آ گئے؟۔
آپ نے جواب دیا  :
أکرہ أن أقول لزھد فأطری نفسی اوأقول لفقر فاشکو ربی۔ 
یعنی مجھے ناپسند معلوم ہوتا ہے اگر کہوں کہ زہد اور ترک دنیا کے سبب یہ حال ہے کہ میرا نفس اس پر پھولتا ہے۔ یا اگر یہ کہوں کہ مفلسی اور فقر کے باعث یہ حال ہے تو پھر میرے پروردگار کی شکایت ہوتی ہے۔
 خلیفہ یہ جواب سن کر بہت خوش ہوا اور ایک ہزار دینا ر اور دس طاقے عمدہ کپڑے آپ کے مکان پر بھجوا دیے۔
 فائدہ-۶۹
العلم والمال یستران کل العیوب والجھل والفقر یکشفان کل العیوب۔ 
یعنی علم اور مال آدمی کے تمام عیبوں کو ڈھانپ دیتے ہیں اور جہل ومفلسی سارے عیبوں کو کھول دیتے ہیں۔ 
فائدہ-۷۰
قال الثوری لإن أخلف عشرۃ آلاف یحاسبنی علیھا أحب إلی من أن أحتاج إلی الناس۔ 
یعنی حضرت ابوسفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر میں دس ہزار درہم پیچھے چھوڑ جاؤں اور اس کا مجھے حساب دینا پڑے تو یہ میرے حق میں اس سے بہتر ہو گا کہ میں لوگوں کا محتاج بنوں۔ 
 فائدہ- ۷۱
نزل جبرئیل علیہ السلام علی لقمان وخیرہ بین النبوۃ والحکمۃ فاختار الحکمۃ فمسح بجناحہ علی صدرہ فنطق بھا فلماودَّعہ قال أوصیک بوصیۃ فاحفظھا یا لقمان لأن تدخل یدک إلی مرفقک فی فم تنِّین خیر لک من أن تسئل فقیرا۔  
یعنی جبرئیل علیہ السلام لقمان حکیم کے پاس نبوت اور حکمت لے کر آئے اور کہا کہ ان میں سے ایک قبول کر لیجیے تو آپ نے حکمت کو قبول کیا۔ جبرئیل نے اپنا پَر ان کے سینے پر پھرا دیا  تو علم حکمت کشف ہو گیا (یعنی خواص اشیا اور خواص اسما تمام معلوم ہو گئے) اور بیان کرنے لگے۔ پھر رخصت ہوتے وقت کہا کہ اے لقمان! میں تجھ کو ایک وصیت کرتا ہوں اسے ہمیشہ یاد رکھنا: اگر تمہارا اپنے ہاتھ کو کہنی تک اژدہا کے منھ میں ڈالنا اس سے بہتر ہے کہ تم کسی محتاج کے سامنے اپنا دست سوال دراز کرو۔
 فائدہ-۷۲
لوکان بالحیل الغنی لوجد تنی
بنجوم أقطار السماء تعلقی
			لکنَّ من رزق الحجا حرم الغنی
			ضدَّا ن مفترقان أیُّ تفرُّق
					ومن الدلیل علی القضاء وکونہ
					بؤس اللَّبیب وطیب عیش الأحمق
یعنی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر حیلوں کے سبب سے تونگری حاصل ہو جاتی پھر تو آسمان کے ستاروں کے ساتھ میرا تعلق ہو جاتا،  لیکن جس کو خدا نے علم و عقل دیا وہ مالِ دنیا کی تونگری سے محروم رہا،  کیونکہ دونوں میں بڑا فرق ہے، یہ باہم ضد رکھتے ہیں۔  اور اس بات کی دلیل قضا و قدر کا جاری ہونا ہے کہ دانا ہمیشہ فکر میں غمگین رہتا ہے اور دیوانہ احمق خوشی سے عیش کرتا ہے۔
 فائدہ-۷۳
ألا إنما الدنیا کظل سحابۃ
أظلتک یوما ثم عنک اضمحلت
					فلا تک فرحانا بھا حین اقبلت
					ولاتک محزونا بھا حین ولت 
یعنی ابوالمعالی فرماتے ہیں : ہوشیار رہنا کہ دنیا اَبر کے سایہ کی مانند ہے، جو ایک روز تجھ پر سایہ کرتی ہے اور پھر نکل جاتی ہے،  لہٰذا جب وقت اقبال آئے تو اس سے بہت خوش نہ ہو، یوں ہی جب وقت اِدبار آئے اور دنیا تجھ سے پیٹھ پھیر لے تو ہرگز غمگین مت ہو۔
فائدہ- ۷۴
رضیت من الدنیا بلقمۃ یابس
و لبس عباء لاأرید سواھما
					لأنی رأیت الدھر لیس بدائم
					ودھري وعمري فانیان کلاھما
یعنی ابوالمعز فرماتے ہیں : میں دنیا سے بس اتنے پر راضی ہوں کہ روٹی کا ایک سوکھا لقمہ مل جائے اور پہننے کے لیے ایک گدڑی بس ہے۔ان کے سوا مجھے کچھ نہ چاہیے۔ کیوں کہ میں نے زمانے کو ہمیشہ رہنے والا نہیں پایا، اور میری عمر اور زمانہ دونوں فنا ہونے والے ہیں۔ 
فائدہ- ۷۵
إذا ضاق الزمان علیک فاصبر	
و لا تیأس  من الفرج القریب
						و طب نفسا فإن اللیل حبلی
						عسی تأتیک بالولد النجیب
یعنی علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تجھ پر زمانہ تنگ ہو گیا ہے تو صبر کر،نا اُمید نہ ہو کہ خوشی جلدی ہی آئے گی۔ اپنی خاطر جمع رکھ رات حاملہ ہے خدا چاہے تو نجیب لڑکا تیرے واسطے لائے گی۔ 
فائدہ-۷۶
وإنی رأیت الدھر منذ صحبتہ
محاسنہ مقرونہ بمعائبہ
						إذ أسرنی فی أول الأمر لم أزل
						علی حذر من غمہ فی عواقبہ
یعنی میں نے زمانے کو جب سے کہ میں یہاں ہوں اچھی طرح سے دیکھا ہے کہ اس کی نیکی اس کے عیبوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ اس نے انسان کو اول امر میں خوش کر دیا لیکن جب خوشی گذر گئی تو غم کے دن اس کے آخر میں آئے۔ خدا اس سے پناہ میں رکھے۔
 فائدہ- ۷۷
سل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الأیام فقال یوم السبت یوم مکر وخدیعۃ، لأن قریشا مکرت فیہ فی دارالندوۃ۔ ویوم الأحد یوم غرس وعمارۃ، لأن اللّٰہ تعالی ابتدء فیہ خلق الدنیا۔ ویوم الاثنین یوم سفروتجارۃ لان شعیبا علیہ السلام سافر فیہ وإتجر فربح۔ ویوم الثلا ثاء یوم دم لأن حواء حاضت فیہ أولا وأراق ابن آدم دم أخیہ فیہ۔ ویوم الأربعاء یوم نحس مستمر لأن اللّٰہ تعالی أغرق فیہ فرعون وأھلک عادا وثمودا۔ و یوم الخمیس یوم قضاء الحوائج والدخول علی السلاطین لأن إبراھیم علیہ السلام دخل فیہ علی الملک فأکر مہ وقضی حوائجہ وأھدی لہ ھاجرۃ۔ ویوم الجمعۃ یوم خطبۃ ونکاح لأن الأنکحۃ کانت تعقد فیہ۔ 
یعنی  انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہکسی صحابی  نے رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم سے دنوں کی بابت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: سنیچر کا دن مکر و فریب کا ہے کہ قوم قریش دارا لندوہ میں جمع ہوئے) اور حضور اقدس علیہ السلام کو ہلاک کرنے کی مشاورت کی۔ اس وقت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو اطلاع دی اور مدینہ کی جانب ہجرت کر جانے کا حکم دیا۔ وہ روز زحل سے منسوب ہے جو آسمانِ ہفتم پر مقام رکھتا ہے)۔ اتوار کا دن جھاڑ بونے اور تعمیر کرنے کا ہے کہ حق تعالی نے دنیا پیدا کرنے کا آغازاسی روز سے کیا۔ (یہ روز آفتاب سے منسوب ہے جو آسمان چہارم پر مقام رکھتا ہے)۔ پیر کا دن سفر و تجارت کے لیے مبارک ہے۔ شعیب علیہ السلام نے اسی روز تجارت کے لیے سفر کیا اور نفع کثیر حاصل ہوا۔ (یہ چاند سے متعلق ہے، اور ماہتاب کا مقام آسمان اوّل پر ہے)۔ منگل کا روز (مریخ کے ستارے سے منسوب ہے) خونریزی سے متعلق ہے۔ قابیل بن آدم نے اسی روز اپنے برادر ہابیل کو قتل کیا۔ (اس  کا علاقہ آسمانِ پنجم سے ہے)۔ بدھ کا دن (عطارد کا ستارہ نحس ہے کہ) خدانے فرعون کو اسی روز غرق کیا اور قوم عاد و ثمود کو ہلاک کر دیا۔ (اس کا مقام آسمانِ دویم پر ہے)۔ جمعرات کا دن (مشتری سے متعلق ہے جس کا مقام فلک ششم پر ہے) حاجت روائی کے لیے نہایت مبارک،  اور بادشاہوں کی ملاقات کے واسطے مبروک ہے۔ ابراہیم علیہ السلام اس روز جب بادشاہ کے پاس گئے تو تعظیم کیا اور بی بی ہاجرہ کو تحفے میں دیا۔ جمعہ کا دن نکاح شادی اور نیک کاموں کے لیے مخصوص ہے۔(اس کا تعلق زہرہ سے ہے جس کا مقام فلک سویم پر ہے)۔
 فائدہ-۷۸
عن النبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ألا أدلکم علی ساعۃ من ساعات الجنۃ الظل فیھا ممدود والرزق فیھا مقسوم والرحمۃ فیھا مبسوطۃ والدعاء فیھا مستجاب۔ قالوا بلی یا رسول اللّٰہ قال ما بین طلوع الفجر إلی طلوع الشمس۔ 
روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو جنت کی ساعتوں میں سے ایک ساعت کا پتا نہ دے دوں کہ اس میں سایہ پھیلا ہوا ہے، رزق تقسیم کیا ہوا ہے، رحمت الٰہی پھیلی ہوئی ہے،اورجس میں دعا قبول کی جاتی ہے۔ صحابہ نے عرض کی: ہاں یا رسول اللہ! ہمیں ضرور بتلائیں۔  آپ نے فرمایا: طلوع فجر اور طلوع آفتاب کے درمیان وہ ساعت ہوتی ہے۔
چنانچہ شیطان اس وقت آدمی کو خواب غفلت میں ڈالتا ہے تاکہ اس کو رزق کی رحمت و برکت نہ ملے، مفلس ومنحوس بنے اور افلاس کے باعث امورِ شیطانی میں گرفتار ہو جائے،  کیونکہ مفلسوں کو جلد گناہوں میں گرفتار ہونا آسان ہوتا ہے۔ 
فائدہ-۷۹
من أسرج فی مسجد سراجا لاتزال الملائکۃ تستغفرلہ ما دام فی المسجد ضوء من ذلک السراج۔  
یعنی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:)  جس نے مسجد میں ایک چراغ روشن کر دیا تو ہمیشہ فرشتے اس شخص کے واسطے مغفرت طلب کرتے ہیں جب تک اس چراغ کی روشنی مسجد میں ہے۔
دوسری حدیث شریف میں وارد ہے   :
من بنی مسجدا کمفحص قطاۃ أو أصغر منہ بنی اللّٰہ لہ بیتا فی الجنۃ۔ 
یعنی جس نے چڑیا کے آشیانے کے مانند ایک چھوٹی مسجد بنائی تو حق تعالی اس کے واسطے ایک محل جنت میں بناتا ہے۔
 فائدہ-۸۰
سبعۃ للعبد تجری بعد موتہ: من علم علما أو أجری نھرا أوحفر بئرا أوبنی مسجد ا أو أورث مصحفا أو ترک ولدا صالحا یدعوا لہ أوصدقۃ جاریۃ تجری لہ بعد موتہ۔ 
یعنی انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: سات چیزیں ایسی ہیں کہ بندے کو مرنے کے بعد اس کا ثواب پہنچا کرتا ہے: پہلا وہ شخص جس نے شاگردوں کو علم سکھایا، اور اس نے دوسروں کو سکھایا جب تک سلسلہ سیکھنے کا جاری ہے وہاں تک سکھانے والے کو ثواب ملا کرے گا۔ دوسرا نہر بنوایا ہو تاکہ لوگ اس میں سے پانی پیتے رہیں۔  تیسرا کنواں کھدوایا ہو۔ چوتھا مسجد بنوایا ہو۔ پانچواں قرآن شریف اپنی میراث میں چھوڑ گیا ہو۔ چھٹواں ایک تربیت یافتہ نیک لڑکا اپنے پیچھے چھوڑا ہو کہ وہ اس کے واسطے ہمیشہ دعا کرتا رہے۔ ساتواں صدقہ جاریہ تو ان سب کا ثواب اسے مرنے کے بعد بھی ملے گا۔
تربیت پانا تونگری کی علامت ہے اور بے تربیت رہنا مفلسی کی نشانی ہے۔ حکما نے لکھا ہے کہ انسان کی طبیعت موثر و متاثر ہے۔ تربیت حاصل کرنے کی قابلیت رکھتی ہے۔ سکھانے سے، نصیحت کرنے سے، علم سے، تجربہ سے اس میں تغیر و تبدل ہوتا ہے۔ بد خصلت نیک ہو جاتی ہے اور بے تربیتی، بے علمی، بدصحت سے نیک خصلت بد ہو جاتی ہے۔
بعضے حکیم کہتے ہیں : طبعی خاصیت نہیں بدلتی۔ اور غیر طبعی اخلاق اسبابِ حمیدہ درذیلہ پر موقوف ہیں۔  اگر اسبا ب کو پہلے بدلیں تو  طبیعت میں تغیر ہو گا،   ورنہ نہیں۔  حقیقت میں بچہ جو طفولیت کی حالت میں ہے اس کو مہذب یا غیر مہذب نہیں کہہ سکتے، جب جوان ہو گا اگر نیک ہے تو مہذب کہلائے گا، اگر بد ہے تو غیر مہذب کہلائے گا۔ چھوٹی عمر میں جو دین، مذہب، عمل، قول اس کو ماں باپ سکھائیں گے وہ ویسا ہی بنے گا۔ وہ دراصل تربیت کا محتاج ہے۔ 
دہقان کے بچے خداقتِ طبع کے باعث عالم و فاضل اور وزیر و بادشاہ بن گئے ہیں۔  اور وزیر و بادشاہ کی اولاد بلادتِ طبع کے سبب مفلس جاہل فقیر ہو گئے ہیں۔  
تہذیب اخلاق حاصل کرنے کو نسلِ اصیل و طبع ذکی اور تربیت کامل و صحبت عاقل نیز ضربِ پدر و ماور بھی ضرور ہے۔ اگر بے علم مالدار بھی ہو گیا تو بھی غیر مہذب رہے گا اور تربیت یافتہ مفلس بھی ہو گا مگر مہذب کہلائے گا۔
فقط مال طبیعت کو مہذب نہیں کرسکتا مگر علم و عقل کی چاشنی اس کو ضرور ہے اور قدرتی قواعد کو پہچاننا لازم۔ تب ظاہر بصلاح آراستہ اور باطن بفلاح پیراستہ ہو گا۔   ؎
علم ومال وگوہر وتیغ براں 		 فتنہ آمد درکف بدگوہراں 
فائدہ-۸۱
یحییٰ بن معاذالر ازی فرماتے ہیں  :
 فی الدنیا جنۃ من دخلھا لم یشتق إلی الجنہ قیل وما ھی قال معرفۃ اللّٰہ تعالی۔ 
یعنی اس دنیا میں ایک جنت معنوی ہے جو اس کو پالے پھر اسے جنت موعود کا شوق نہیں رہ جاتا۔ وہ بہرحال رضائے الٰہی کو مقدم رکھے گا۔ پوچھا گیا وہ کیا شے ہے؟ فرمایا: وہ اللہ تعالی کی معرفت ہے (کہ غیر اللہ سے دل سیر ہو جاتا ہے)۔
 فائدہ- ۸۲
الدنیا سبحن المومن وجنۃ الکافر۔ 
یعنی دنیا مومن کے واسطے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔ 
ان نعمت ہائے آخروی کے اعتبار سے مومن اگرچہ یہاں ساری دنیا کا شہنشاہ ہوا تو بھی اللہ کی سرمدی نعمتوں کے مقابلے میں زندان میں ہے۔ او ر دنیا کافر کے واسطے جنت ہے اس معنی کر کہ اگرچہ وہ کتنا بھی مفلس اور مصیبت میں گرفتار ہوا مگر آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں وہ یہاں جنت میں ہے۔
 فائدہ-۸۳
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  :
من علق قند یلا فی المسجد صلی علیہ سبعون ألف ملک حتی ینکسر ذالک القند یل، ومن بسط فیہ حصیرا صلی علیہ سبعون ألف ملک حتی ینقطع ذلک الحصیر ۔ 
یعنی جس نے مسجد میں قندیل لٹکایا تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے خیر کریں یہاں تک کہ وہ قندیل ٹوٹ جائے۔ یوں ہی اگر کسی نے مسجد میں ایک چٹائی بچھائی  تو سترہزار فرشتے وہاں عبادت کریں جب تک کہ اس چٹائی کے ٹکڑے ہو جائیں۔ 
 فائدہ-۸۴
وفی الحدیث المرفوع من سعادۃ رجل أن یقدر رزقہ فی بلدہ وحال سکونہ، ومن شقارتہ أن یجعل رزقہ فی غیر بلدہ أو فی سیاحتہ۔ 
یعنی حدیث مرفوع میں وارد ہے کہ آدمی کی سعادت اس میں ہے کہ اس کا رزقِ مقدر اسی کے شہر میں اسے ملتا ہو اور وہ اپنے گھر میں رہتا ہو۔ اور اس شخص کی بدبختی ہے کہ اس کا رزق غیر شہر میں مقدر ہو یا حالت مسافرت میں ہو۔
 فائدہ- ۸۵
من سعادۃ الرجل المسکن الواسع و الجار الصالح والمرکب الھُنٰی والشوم فی المرء ۃ والفرس والدار۔ 
 یعنی یہ آدمی کی نیک بختی کی علامت ہے کہ گھر وسیع و کشادہ ہو۔ پڑوسی نیک ہو، اور سواری کا گھوڑا اچھا ہو۔ نحوست فقط تین چیزوں میں دیکھنا ہے: عورت، گھوڑا اور گھر۔ 
فائدہ- ۸۶
سئل عن الغنی فقال سعۃ البیوت و دوام القوت۔ 
یعنی ایک بزرگ سے  پوچھا گیا کہ غنی کو ن ہے؟ کہا: جس کا گھر کشادہ ہے، اور ہمیشہ خوراک تیار ہے۔
صاحب نصاب تونگر ہے۔ جس کے پاس دو سو درہم یعنی چون روپے نقد دھرے ہوں اور اس پر ایک برس گذر گیا، چالیسواں حصہ پانچ درہم صدقۂ  زکوٰۃ دینا لازم ہوئے۔اور اگر زیادہ روپیہ دھرا ہے تو سو ۱۰۰ کو ڈھائی روپے کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔ 
فائدہ- ۸۷
عن عمر رضی اللّٰہ عنہ ثلاث یثبتن الود فی صدرأخیک أن تبدأہ بالسلام وأن توسع لہ فی المجلس وتدعوہ باحب اسماۂ إلیہ۔ 
یعنی عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تین چیزیں تمہارے بھائی کے دل میں تمہاری محبت ثابت کرتی ہیں : اوّل سلام کی ابتدا تم کرو۔ دویم مجلس میں اگر وہ دوست آیا تو اس کے واسطے جگہ وسیع کر دو۔ سویم جو نام اس کو بھاتا ہے اس نام سے اس کو پکارو۔
 فائدہ- ۸۸
وکل الناس قد مالوا إلی من عندہ مال
ومن لم عندہ مال فعنہ الناس قد مالوا
یعنی جس کے پاس مال ہو اس کی طرف ہر کوئی جھکتا ہے،  لیکن جس کے پاس مال نہیں تو لوگ اس سے بیزار ہوتے ہیں۔  
یعنی مال سب آدمیوں کا معشوق اور تمام بنی آدم اس کے عاشق ہیں -الا ماشاء اللہ- جس کی بغل میں وہ معشوق جا کر بیٹھتا ہے سبھوں کی آنکھیں اس کی طرف لگی رہتی ہیں اگرچہ وہ کسی کو ایک کوڑی بھی نہ دے۔
 فائدہ- ۸۹
روی أنہ شداد بن حکیم خرج من المسجد الجامع ببلخ فرأی غلاما یمسک دابۃ فرکب الدابۃ وذھب إلی بیتہ والغلام وافقہ فخرج صاحب الدابۃ فلم یجدھا فذ ھب إلی بیتہ ماشیا ولما رجع الغلام أخبر سیدہ بما وقع فقال یا غلام إن صدقت فأنت حرلو جہ اللّٰہ تعالی۔ 
روایت ہے کہ شداد بن حکیم بڑے دیندار حاکم تھے، بلخ کی جمعہ مسجد سے نماز پڑھ کر باہر نکلے۔ دیکھا کہ ایک غلام سواری کا گھوڑا لے کر کھڑا ہے، اور وہ غلام اور گھوڑا ان کا نہ تھا۔ الغرض! بھول سے اس پر سوار ہو گئے اور اپنے گھر کو پہنچے۔ غلام بھی ان کے ساتھ تھا مگر از روئے ادب ان کو سوار ہونے سے اور ساتھ چلنے سے مانع نہ ہوا۔ غلام کا مالک جب مسجد سے باہر آیا تو اپنا غلام اور سواری کا جانور نہ پایا، لاچار پیادہ اپنے گھر کو گیا۔ جب غلام جانور لے کر واپس آیا اور میاں سے اپنی حقیقت کہی کہ فلان عالم آپ کے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے گھر گئے، میں ساتھ تھا یوں سمجھا کہ شاید آپ نے سوار ہونے کی اجازت دی ہو گی۔ گھوڑے کے مالک نے کہا: اگر تو سچ کہتا ہے تو میں نے تجھ کو خدا کے واسطے آزاد کیا۔
 فائدہ- ۹۰
کان إبراھیم علیہ السلام إذا ذکر ذلتہ غشی علیہ وسمع اضطرابہ من میل،  فقال لہ جبرئیل یا خلیل اللّٰہ، الجلیل یقرء ک السلام ویقول ھل رأیت خلیلا یخاف خلیلہ۔  فقال یاجبرئیل کلما ذکرت الزلۃ نسیت الخلۃ۔ 
 یعنی ابراہیم علیہ السلام کے دل میں خوف خدا ایسا تھا کہ جب اپنی لغزشِ قدم کو یاد کرتے بے ہوش ہو جاتے اور رونے کی آواز ایک میل تک جاتی۔ جبرئیل علیہ السلام نے ان کو کہا کہ حق تعالیٰ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: کیا دوست اپنے دوست سے کبھی ڈرتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: جب مجھ کو میری خطا یاد آتی ہے اتنا خوف ہوتا ہے کہ دوستی بھول جاتا ہوں۔ 
فائدہ- ۹۱
’عیون المجالس میں لکھا ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: جو شخص فجر کی سنت نما ز کے بعد یہ تسبیح ملائکہ ایک سو مرتبہ پڑھے، پھر فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرے،  تو دولت دنیا اس کو بہت ملے گی، اور تونگر ہو جائے گا۔ تسبیح یہ ہے  :
سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم وبحمدہ استغفراللّٰہ من کل ذنب وخطیئۃ وأتوب إلیہ ۔ 
اور دنیا و آخرت میں تونگری حاصل کرنے کی نیت رکھے۔ فقط دنیا کی دولت کی نیت نہ رکھے، یہ تو چاہے یا نہ چاہے ملے گی ہی۔
فائدہ- ۹۲
من تختم بعقیق لم یزل فی برکۃ وسرور۔ 
یعنی جس نے عقیق کی انگشتری پہنی ہمیشہ برکت و خوشی کے ساتھ رہے گا۔ 
فائدہ- ۹۳
من صلی سنۃ الفجر فی بیتہ یوسع لہ رزقہ ویقل المنازعۃ بینہ وبین أھلہ ویختم لہ بالإیمان۔ 
یعنی حدیث شریف میں آیاکہ جس نے فجر کی سنت اپنے گھر میں پڑھی، حق تعالیٰ اس کا رزق کشادہ کرتا ہے، اس کے خویشوں کا جھگڑا اس کے ساتھ کم ہو جاتا ہے، اور اس کا خاتمہ ایمان کے ساتھ ہوتا ہے۔
 فائدہ- ۹۴
حصن حصین کی شرح میں لکھا ہے کہ جس شخص کو تنگی معاش ہوئے تو فجر کی نماز کے بعد یک شنبہ کے روز: یا حی یا قیوم ہزار بار پڑھا کرے۔ د و شنبہ کے روز :لاحول ولاقوۃ إلاباللّٰہ العلی العظیم ہزار بار پڑھے۔ سہ شنبہ کے روز درود شریف: اللّٰھم صل وسلم وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما تحب وترضی ہزار بار پڑھے۔ چہار شنبہ کے روز: استغراللّٰہ ربی من کل ذنب وأتوب إلیہ ہزار بار پڑھے۔ پنج شنبہ کے روز: اللّٰہ مغنی ہزار بار پڑھے۔ جمعہ کے روز: سبحان اللّٰہ والحمدللّٰہ ولا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر ہزار پڑھے۔ اور نیت ثوابِ آخرت کی رکھے، جلد دنیا میں تونگر ہو جائے گا یا دونوں جہان کی مراد حاصل ہوئے ایسی نیت کرے۔ فقط دنیا کے حاصل ہونے کی نیت ہر گز کسی عمل میں نہ رکھے،  کیونکہ خدا سے مانگنا تو عمدہ نعمت دارین کی مانگنا چاہیے۔ یہ فانی دنیا فقط مانگنا بڑی شرم کی بات ہے۔
 فائدہ-۹۵
سورۃ واقعہ، والمزمل، واللیل، والم نشرح بعد مغرب ایک بار پڑھے۔ یا ہر شب جمعہ کو بعد عشا با وضو پڑھے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آپ سے فقر کی شکایت کی، تو آپ نے یہ عمل اس کو سکھایا۔ دوسرے برس وہ شخص آیا او ر اچھے ہزار درہم لائے، اور کہا کہ یہ زکوٰۃ کا مال حق اللہ ہے، مساکین کو آپ تقسیم کر دیں اور کہا کہ آپ نے جو وظیفہ بتلایا تھا بس اس کی برکت سے خدا نے ایک برس میں مجھ کو تونگر بنا دیا۔ 
فائدہ-۹۶
تفسیر زاہدی میں ہے کہ اگر کوئی افلاس  و تنگ دستی سے عاجز ہو گیا یا مشکل کام درپیش آیا تو پنج وقت نماز کے بعد ہفتاد و پنج (۷۵) بار رو بہ قبلہ ہو کر یہ دعا پڑھے، بے شک اس کی روزی فراخ ہو گی اور مشکل کام آسان ہو جائے گا،  مگر اول و آخر اس دعا کے پنجاہ ویک بار درود شریف پڑھا کرے  : 
یاشفیق یارفیق نجنی من کل ضیق برحمتک یا اللّٰہ۔ 
 فائدہ- ۹۷
وسعت رزق و قرض داری کے واسطے عمل مجرب راقم کے مرشدوں سے خاندانی اجازت ہے۔ ہر روز نماز چاشت کے بعد چار رکعات صلوۃ قضاء الحاجات کی نیت سے پڑھے، اور ہر رکعت میں الحمد کے بعد دس مرتبہ اس آیت کو پڑھے، چالیس دن کے اندر حاجت روائی ہو جائے گی   :
وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَیحْتَسِبْ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَحَسْبُہٗ اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْیٍ قَدْرًا۔ 
فائدہ-۹۸
ہر نماز کے بعد ایک سو بار پڑھے، اور جمعہ کے روز بعد صلوٰۃ الجمعہ پانچ سو بار اس دعا کو پڑھے یقیناً تونگر ہو جائے گا اور جس مراد کے واسطے پڑھے وہ مراد حاصل ہو گی۔ اول و آخر سو مرتبے درود پڑھے،  کیونکہ درود شریف دعا کے واسطے دو پَر ہیں،  جلد محل اجابت کو پہنچتی ہے  :
اللّٰھم اکفنی بحلالک عن حرامک وأغننی بفضلک عمن سواک برحمتک یا أرحم الراحمین۔  
فائدہ- ۹۹
حدیث شریف میں وارد ہے  :
 الشاۃ برکۃ والشاتھان برکتان وثلاث شیاۃٍ غنًا۔ 
یعنی جس کے گھر میں ایک بکری ہے، ایک برکت ہے، اگر دو بکریاں ہیں دو برکت ہیں،  اگر تین بکریاں ہیں وہ تونگر ہے۔ 
فائدہ- ۱۰۰
ابو طالب مکی سے روایت ہے کہ نماز کے واسطے تازہ وضو کرے اور بعد وضو سیدالاستغفار پڑھے، اور ہمیشہ ایسی عادت معمول رکھے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا کے غم و فکر سے نجات دے گا  :
اللّٰہُمَّ أنتَ رَبِّي لاَ إلٰہَ إلاَّ أنْتَ خَلَقْتَنِي وَ أنَا عَبْدُکَ وَ أنَا عَلیٰ عَہْدِکَ وَ وَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، أعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أبُوئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَيَّ وَ أبُوئُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلاَّ أنْتَ o 
٭٭٭




خاتمہ


ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے، اور ۳۳ مرتبہ سبحان اللّٰہ۔ ۳۳ مرتبہ الحمد للّٰہ۔ ۳۳ مرتبہ اللّٰہ أکبر اور ایک مرتبہ کلمہ توحید و تحمید لا إلہ إلا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ، لہ  الملک ولہ الحمد یحیی ویمیت وھو حی لایموت أبدا أبدا ذوالجلال والإکرام بیدہ الخیر وھو علی کل شییٔ قدیر پڑھا کرے، دو جہان کا مقصد حاصل ہو گا۔
من کثر صلوتہ باللیل کثر رزقہ بالنھار۔ 
یعنی جو شخص شب کو بہت نماز نقل پڑھتا ہے دن کو اس کا رزق زیادہ ہوتا ہے۔
جتنا کام جو کرے گا اس کو اتنی مزدوری ملے گی۔ خدا کا خزانہ معمور ہے۔ 
-ایضاً- صلوۃ مسعودی میں مرقوم ہے  :
من واظب علی سنتی أکرمہ اللّٰہ تعالی بأریع کرامۃ: المحبۃ فی قلوب البررۃ والھیبۃ فی قلوب الفجرۃ والسعۃ فی العیش والتفقۃ فی الدین۔ 
 یعنی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: جو کوئی ہمیشہ میری سنت پر عمل کرے گا حق تعالی اس کو چار کر امتوں سے عزت بخشے گا۔ نیک لوگوں کے دل میں اس کی محبت پید ا ہو گی۔ بدکاروں کے دل میں اس کی ہیبت اور رعب پیدا ہو گا۔ عیش و آرام میں وسعت ہو گی، اور دین کے علوم میں سمجھ پیدا ہو گی۔
-ایضاً- فتوح الاور اد وغیرہ اکثر کتابوں میں منقول ہے کہ استغفار بہت پڑھا کرے، رزق وسیع ہو گا۔
-ایضاً- او را دفتحیہ و دعائے گنج العرش ہمیشہ پڑھا کرے۔
-ایضاً- مفتاح الرشاد میں ہے  :
 الاستکثار فی الصدقۃ یزید فی الرزق۔ 
یعنی بہت صدقہ خیرات دینے سے رزق زیادہ ہوتا ہے۔
 -ایضاً-  إجابۃ المؤذن یزید فی الرزق۔ 
یعنی موذن جب اذان دے تواس کے جیسے لفظ سن کر آہستہ خود بھی کہے، اس کو ’اجابت مؤذن کہتے ہیں،  ایسا کرنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے۔
-ایضاً- اوراد رحمانی میں خواجہ محمد پارساسے منقول ہے  :
یاحیی یا قیوم برحمتک أستغیث۔ 
ہر نماز کے بعد ایک سو مرتبہ اول و آخر درود گیارہ مرتبہ پڑھا کرے، دو جہان میں رحمت و برکت حاصل ہو گی۔ اس میں شک نہ لائے۔
خواص الاسماء حق وخواص الاشیاء حق۔ 
یعنی مراسم کی اور ہر شے کی خاصیت برحق ہے۔
-ایضاً- ہر جمعہ کے روز بعد از نماز پانچ سو مرتبہ یہ دعا پڑھے، اول  وآخر درود ایک سو بار پڑھے، مجرب ہے  :
 اللّٰھُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔ 
رباعی 
اے کہ ہستی طالب راہ صواب		رومگر داں زیں کتاب مستطاب
خوبیش بنگر دلیل از من مخواہ		آفتاب آمد  دلیل آفتاب
تمام شد
٭٭٭




خاتمۃ الطبع

دنیا کیا چیز ہے ؟

حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں : دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔
حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کسی نے سوال کیا کہ بتائیے دنیا کیا چیز ہے؟۔ آپ نے فرمایا: اس گھر کی کیا حالت بتاؤں جس کی ابتدا ذلت ہے، خاتمہ فنا پر ہے، جس کی حلال چیزوں کا محاسبہ ہو گا، حرام چیزوں پر عذاب ہو گا، جو اس میں غنی ہوا فتنے میں مبتلا رہا اور جو  محتاج ہوا غمزدہ رہا۔
بکر بن عبداللہ مزنی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے دنیا کا حال پوچھا تو جواب دیا کہ جو حصہ گذر چکا خواب تھا، اور جو باقی ہے وہ خواہشات ہیں۔ 
حضرت مسیح علیہ السلام کا قول ہے کہ دنیا شیطان کی کھیتی ہے اور دنیا دار اس کے کسان ہیں۔  
ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے: خدا نے دنیا کو حکم دے رکھا ہے کہ جو میری خدمت کرے تواس کی خدمت کیا کر۔ اور جو تیری خدمت کرے اس سے تو خدمت لیا کر۔
محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جسے خود اپنی قدر ہو گی اس کی نظر میں دنیا ضرور ذلیل و خوار ہو گی۔ نیز یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ بادشاہوں نے حکمت تمہارے لیے چھوڑ دی ہے لہٰذا تم دنیا کو ان کے لیے چھوڑ دو۔ 
مولانا روم فرماتے ہیں   ؎
چیست دنیا از خدا غافل بدن	    ٭ 	نے قماش ونقرہ وفرزند وزن
یہی مضمون حدیث شریف میں آیا ہے اس وضع سے کہ دنیا ہر ی بھری اور شیریں ہے جو اسے اس کا حق ادا کرنے کے لیے لے گا اسے تو اس میں برکت ہو گی،  مگر جو بغیر اس خیال کے لے گا اس کی حالت اس شخص کی سی رہے گی جو کھانے کی حرص میں غذا تو کھاتا چلا جاتا ہو،  مگر پیٹ کسی طرح نہ بھرتا ہو    ؎
حالِ دنیا رابہ پرسیدم من از فرزانۂ 
گفت یا خوابے است یابادیست یا افسانۂ 
							یا مشالِ تودۂ  برف است درفصل بہار
							ہیچ عاقل درچنیں جاے نہ ساز دخانۂ 
بازگفتم حال آں کس گو کہ دروی دل بہ بست
گفت یا غولیست یا دیویست یا دیوانۂ
							ہر حریص ناسزاے ترک دنیا کے کند
							شیر مردے باید ودر یا دلے مردانۂ 
٭
ترک دنیا گیر تا سلطاں شوی		ورنہ ہمچو چرخ سرگرداں شوی
آنچہ باتو درنیا یدز یر خاک		آں ہمہ دنیا بودنے دین پاک 
ہزار ہزار شکر خدا ند ذوالجلال کہ یہ کتاب دولت بے زوال و برکت حال و مآل، مؤلفہ جناب مفتی سید عبدالفتاح الحینی القادری عرف مولوی سید اشرف علی صاحب پیر زادہ گلشن آبادی مطبع کریمی بمبئی بائیکلہ ڈلائل روڈ قاضی بلڈنگ نمبر ۸۔۱۔ ۱۱۰ میں چھپ کر ۱۳۵۰؁ھ کو شائع ہوئی۔
٭٭٭

تشکر: ڈاکٹر مشاہد رضوی جنہوں نے فائل فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
