﻿



دھواں اور پھول



صابر ظفر

جمع و ترتیب: اعجاز عبید






خزاں کی رت ہے جنم دن ہے دھواں اور پھول
ہوا بکھیر گئی موم بتیاں اور پھول

وہ لوگ آج خود ایک داستان کا حصہ ہیں
جنہیں عزیز تھے قصے کہانیاں اور پھول

یہ سب تیرے میرے پیار کی علامتیں ہیں
شفق کے رنگ میں شعلہ، لہو، زباں اور پھول

یقین کر کہ یہی ہے بجھے دلوں کا علاج
تیری وفا تیری چاہت تیرا گماں اور پھول

ظفر میں صورت خوشبو قیام کرتا ہوں
سو ایک سے لگتے ہیں مجھے سب مکاں اور پھول




نہ ترا خدا کوئی اور ہے نہ مرا خدا کوئی اور ہے
یہ جو قسمتیں ہیں جدا جدا یہ معاملہ کوئی اور ہے

ترا جبر ہے مرا صبر ہے تری موت ہے مری زندگی
مرے درجہ وار شہید ہیں ، مری کربلا کوئی اور ہے

کئی لوگ تھے جو بچھڑ گئے کئی نقش تھے جو بگڑ گئے
کئی شہر تھے جو اجڑ گئے ابھی ظلم کیا کوئی اور ہے

نہ تھا جس کو خانہ خاک یاد ہوا نذر آتش و ابر و باد
کہ ہر ایک دن دن سے الگ ہے دن جو حساب کا کوئی اور ہے

ہوئے خاک دھول تو پھر کھلا یہی با مراد ہے قافلہ
وہ کہاں گئے جنہیں زعم تھا کہ راہ وفا کوئی اور ہے

یہ ہے ربط اصل سے اصل کا نہیں ختم سلسلہ وصل کا
جو گرا ہے شاخ سے گل کہیں تو وہیں کھلا کوئی اور ہے

وہ عجیب منظر خواب تھا کہ وجود تھا نہ سراب تھا
کبھی یوں لگا نہیں کوئی اور ،کبھی یوں لگا کوئی اور ہے

کوئی ہے تو سامنے لائیے ، کوئی ہے تو شکل دکھائیے
ظفر آپ خود ہی بتائیے ، مرے یار سا کوئی اور ہے
٭٭٭



گُریز پا ہے جو مجھ سے اُسی کے پاس بہت ہوں
میں اپنے وعدے پہ قائم ہوں اور اُداس بہت ہوں

یہ قید وہ ہے کہ زنجیر بھی نظر نہیں آتی
یہ پیرہن ہے کچھ ایسا کہ بے لباس بہت ہوں

نہیں شریکِ  سفر وہ مگر ملال بہت ہے
کہ جس مقام پہ بھی ہوں میں اُس کی آس بہت ہوں

خموش اس لیئے رہتا ہوں میرے سامنے تُو ہے
میں کم سخن سہی لیکن نظر شناس بہت ہوں

کٹا ہے وقت فقط،زندگی نہیں کہ ظفر میں
طلب سے اور تغافل سے روشناس بہت ہوں
٭٭٭




رات کو خواب ہو گئ ، دن کو خیال ہو گئ
اپنے لیے تو زندگی ، ایک سوال ہو گئ

ڈال کے خاک چاک پر ، چل دیا ایسے کوزہ گر
جیسے نمود خشک و تر ، رو بہ زوال ہو گئ

پھول نے پھول کو چھوا ، جشن وصال تو ہوا
یعنی کوئی نباہ کی رسم بحال ہو گئ

تجھ کو کہاں سے کھوجتا ، جسم زمین پہ بوجھ تھا
آخر اس تکان سے ، روح نڈھال ہو گئ

کون تھا ایسا ہمسفر ، کون بچھڑ گیا ظفر
موج نشاط رہ گزر ، وقف ملال ہو گئ
٭٭٭




یہ پہلی پہل لگن کا معاملہ ہے عجیب
کہ بیل اس سے لپٹتی ہے جو شجر ہو قریب

یہ دل بھی طاق پہ رکھ دو بجھے دیے کی طرح
کسی بھی چیز کی گھر میں اگر نہیں ترتیب

ظفر جو لوگ تھے شفاف آئینوں کی طرح
انہی کے بارے میں باتیں ہوئیں عجیب و غریب
٭٭٭



وجود کیا ہے عدم کیا ہے کچھ نہ تھا معلوم
میں رُو برو تھا کسی کے ’تھا کون‘ کیا معلوم

یہ کائنات ہے اُس کی تو پھر ہے اپنا کیا
وہ ساتھ رہ کے بھی کیوں ہو علاحدہ معلوم

کسی سے کچھ نہ کہوں اپنے آپ ہی میں رہوں
یہ عشق ہی کا ہو سارا کیا دھرا معلوم

اگر خیال میں تشکیک اور تضاد نہ ہو
خدا نہیں کہ خدا ہے، ہو یہ ذرا معلوم

تری حیات وہی ہو تری نجات وہی
اگر تجھے ہو کبھی غم شہید کا معلوم

بہائے پیاسوں کی جانب جو پانیوں کو ظفر
روانیوں سے ہو خاص‘ اُس کا رابطہ معلوم
٭٭٭




کہاں کوئی بدن کا بوجھ اتارے
سمندر کیا ہوئے تیرے کنارے

یہ پانی اب مقدر ہو چکا ہے
مگر جو ساحلوں پر دن گذارے

یہاں تو دوسرا کوئی نہیں ہے
کوئی اپنے سوا کس کو پکارے

رواں ہیں آخِر شب کے مسافر
مگر اب ڈوبتے جاتے ہیں تارے

ظفر یہ بادباں ہی جانتا ہے
ہواؤں نے کیے ہیں کیا اشارے
٭٭٭




ہم سفر کوئی نہیں تو شور و شر کس کے لیے
اے مسافر! یہ صدائے رہ گذر کس کے لیے

خُود کُشی سے باز رکھا میں نے اپنے آپ کو
مر تو جانا تھا مجھے، مرتا مگر کس کے لیے

کون آتا ہے مرے پیچھے، یہ کیسا وہم ہے
میں ٹھہر جاتا ہوں ہر اک موڑ پر، کس کے لیے

یہ جو رنگِ نامرادی کھل رہا ہے چار سُو
اے خزاں اس کا سبب کیا ہے یہ زر، کس کے لیے

چین باہر بھی نہیں ہے پھر نجانے کیوں ظفر
دکھ سا ہوتا ہے کہ لوٹ آیا ہوں گھر کس کے لیے
٭٭٭




اک ساتھ ہم اور کوئی پل ہیں
پھر تو تنہائیاں اٹل ہیں

مٹی میں ملی ہوئی محبت
کہتی ہے ہم آج ہیں نہ کل ہیں

خود مفلسی اوڑھ لی ہو جیسے
ہم آپ مسائل، آپ حل ہیں

پتھر کی طرح پڑے ہیں در پر
ہم لوگ ازل سے بے عمل ہیں
٭٭٭



تاب نہ تب بال و پَر میں اور پرندہ
خوف نمایاں سفر میں اور پرندہ

ایک پرندہ ابھی اڑان میں انجان
اُس کو رکھے گا نظر میں اور پرندہ

جو بھی تنا کھوکھلا ہے سانپوں کا گھر ہے
موت کا ساماں شجر میں اور پرندہ

تیر کماں کی طرح ہیں پیڑ کی شاخیں
خون رواں چشمِ تر میں اور پرندہ

کس کی ظفر ہے مجال، مار سکے پَر
ایک خلا رہ گذر میں اور پرندہ
٭٭٭




جسے بھی دھُوپ بار آور لگی تھی
اُسے اک بانجھ پرچھائیں ملی تھی

تھکن کوئی مجھے کیا رنج دیتی
سڑک خود خستہ خستہ چل رہی تھی

میں اپنے آپ کو بھی چاہتا کیا
جہاں میں تھا وہاں بیگانگی تھی

عیاں تھی رہ گذر سے بھی جُدائی
مسافر کی جگہ دھُول اڑ رہی تھی

ظفر میں اِس لیے نغمہ سرا ہوں
مری ایجاد رونے سے ہوئی تھی
٭٭٭



بے خبر ہوں کہ ستارے بھی سفیروں میں نہیں
میری قسمت مرے ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں

میں کسی تیر سے کس طرح بچا، حیراں ہوں
یا ہدف میں نہیں یا جان ہی تیروں میں نہیں

دل دھڑکتا ہے ابھی عشق میں جی لگتا ہے
آج بھی فرق کوئی اپنے وتیروں میں نہیں

ہم فقیر اپنی طبعیت کے شہنشہ ہیں ظفر
کوئی خوبی بھی تو ہم جیسی امیروں میں نہیں
٭٭٭



آخر تمام کاغذِ تنہائی جل گیا
کیا لکھ دیا کہ شہرِ شکیبائی جل گیا

پہلے جلا میَں اُس کے تماشے کے واسطے
پھر یوں ہوا کہ میرا تماشائی جل گیا

کہنے کو اک شرارہ تھی وہ آتشِ خموش
لیکن اُسی سے تارِ شناسائی جل گیا

جس کو قصیدہ گوئی سے فرصت نہ تھی ظفر
وہ دیکھ کر غزل کی پذیرائی جل گیا
٭٭٭



دل درد سے ہو چلا تھا خالی
تُو نے مری زندگی بچا لی

جاگے ہیں نصیب اس طرح بھی
دہلیز پہ سو گیا سوالی

دیکھو مرے پیار کا کرشمہ
اک ہاتھ سے بج رہی ہے تالی

بے رنگ ہے کینوس تو کیا ہے
تصویر تو بن گئی خیالی

ملنا نہ بھلا کمال ہوتا؟
جب تیرا وداع تھا مثالی

کچھ اور بڑھا گئی تجسس
اک بات سمجھ میں آنے والی

تکتے رہے چاند یا ستارے
ہم نے یونہی رات کی ہے کالی

سبزے کو نصیب تک نہ ہوگی
جو دل کی ہوئی ہے پائمالی
٭٭٭




اب خیالوں میں بھی مشکل ہے رفاقت اُس کی
میری آنکھوں میں ٹھہرتی نہیں صورت اُس کی

ایک سا اُس پہ اثر کرنے لگے ہجر و وصال
زرد پڑتی ہی چلی جاتی ہے رنگت اُس کی

موت کی آنچ کو تم آتشِ دل مت جانو
دُور ہونے لگی اب اُس سے حرارت اُس کی

گئے لمحوں میں دعا کرنے چلا جاتا ہوں
میرے ماضی میں ہے مدفون محبت اُس کی
٭٭٭



میں ہمکلام ہوا تو سوال تک پہنچا
یہی معاملہ آخر وصال تک پہنچا

ترا کرم ہے کہ ہے روح تک رسائی مری
زمانہ صرف ترے خد و خال تک پہنچا

وہ درد ہی نہیں ،جس نے دوا کی مہلت دی
وہ زخم ہی نہیں، جو اندمال تک پہنچا

نہیں ہے وصل اگر تو کوئی وسیلہ کر
نہیں ہے اصل اگر تو مثال تک پہنچا
٭٭٭




یہاں میرا کوئی بھی گھر نہیں ہے
زمیں میرے لیے بستر نہیں ہے

قلندر آج کے بھوکے ہیں لیکن
کسی کے پیٹ پر پتھر نہیں ہے

یہاں آزاد و خود مختار انساں
سب اندر ہیں کوئی باہر نہیں ہے

ظفر میں وہ حقیقت ہوں کہ میری
نظر میں خواب کا منظر نہیں ہے
٭٭٭



میں گریز کیا کرتا، اُس کے ساتھ چلنے سے
زخم تو نہیں بھرتا، راستہ بدلنے سے

عشرتِ شبانہ تو یار کی رضا سے ہے
یہ خوشی نہیں ملتی، صرف شام ڈھلنے سے

آرزُو کی چنگاری، کب تلک سُلگ سکتی
بُجھ گیا ہے دل آخر، بار بار جلنے سے

زندگی کا ہر مُہرہ، بے رُخی کے رُخ پر ہے
یہ بساط الٹے گی، ایک چال چلنے سے

ڈوبتا ہوا سُورج، کیا مجھے اُجالے گا
میں چمک اٹھوں شاید، چاند کے نکلنے سے
٭٭٭





خدا کا ذکر نہ کر اِن اداس لوگوں سے
یہ اہلِ دہر ہیں، رکھتے ہیں آس لوگوں سے

زمیں سفر میں ہے اپنی جگہ ہے کون یہاں
سہارا مانگنا کیا، بے اساس لوگوں سے

ستارے ٹوٹے رہتے ہیں ، بجھتے رہتے ہیں
تو کیا امید، ستارہ شناس لوگوں سے

یہ تیرے ہاتھ بہت نرم بھی ہیں، گرم بھی ہیں
انہیں ملایا نہ کر، بد حواس لوگوں سے

وصال کے لیے قائل نہیں وسیلے کے
سو ہم ہیں دور ترے آس پاس لوگوں سے

پرانے لوگ ہیں ہم، عیب ڈھانپنے والے
چُرا رہے ہیں نظر، بے لباس لوگوں سے

عوام سے مرا رشتہ سدا رہے گا ظفر
ادراک تعلقِ خاص اپنے خاص لوگوں سے
٭٭٭




بدن صحرا ہے اور پاگل ہوا ہے
گھروندا خود بکھرتا جا رہا ہے

نجانے بند ہو جائیں کب آنکھیں
تری جانب مسلسل دیکھنا ہے

اجل کے اِس قدر اسباب رکھنا
مجھے سرمایۂ ہستی لگا ہے

بہت نازک ہے اُس کا قرب لیکن
وہ مجھ پر بوجھ بنتا جا رہا ہے

کسی نے پھر اُسے زندہ نہ دیکھا
یہاں جو مر گیا، وہ مر گیا ہے
٭٭٭



کلام کرتا ہوا، راستہ بناتا ہوا
گزر رہا ہوں میں اپنی فضا بناتا ہوا

مجھے نہ ڈھانپ سکی عُمر بھر کی بخیہ گری
برہنہ رہ گیا میں تو قبَا بناتا ہوا

یہی بہار ہے میری کہ میں گزرتا ہوں
ہر ایک خشک شجر کو ہرا بناتا ہوا

ہر ایک شاخ بدستور لہلہاتی رہی
پرندہ سُوکھ گیا گھونسلا بناتا ہوا

اب اور کیا ہو ظفر انتہا مشقت کی
شکستہ ہو گیا میں آئنہ بناتا ہوا
٭٭٭



عشق سے سچ کو آنچ کیا آتی
ایک بھی تجربہ نہ تھا ذاتی

کیسے معیارِ زندگی طے ہو
جسم شہری ہے، دل ہے دیہاتی

مسکراہٹ تو حسن کی ہے ادا
آپ کیوں ہو رہے ہیں جذباتی

جا گری گمرہی کی دلدل میں
اک سڑک گرتی پڑتی، بل کھاتی

حسن بھی چین سے نہیں ہے ظفر
میں نے دیکھی ہے کُونج کُرلاتی
٭٭٭




کب ضرورت ہمیں تمہاری نہ تھی
عرض ہم نے مگر گزاری نہ تھی

سو دریچے تھے دل کے، پر تم نے
کوئی سیڑھی ادھر اتاری نہ تھی

تمہیں ملنا، تمہیں نہیں ملنا!
کوئی حالت بھی اختیاری نہ تھی

نین وہ دل کا چین ہو جاتے
اور تو کوئی بے قراری نہ تھی

ہم تیری آن پر نثار نہ ہوں
زندگی ہم کو اتنی پیاری نہ تھی
٭٭٭




تمہاری راہ کی دیوار تو ہونا نہیں ہم کو
اگر ہم بوجھ بن جائیں تو پھر ڈھونا نہیں ہم کو

ہماری خوش نصیبی ہے تمہاری آن پر مرنا
اگر ہم مر گئے تو دیکھنا رونا نہیں ہم کو

اگر نذرِ زمیں ہوں گے، یونہی اُجلے رہیں گے ہم
شہیدِ عشق کا ملبوس ہیں، دھونا نہیں ہم کو

دوبارہ جو اُگاؤ گے، دوبارہ فصل دیں گے ہم
مگر پتھر دلوں کے شہر میں بونا نہیں ہم کو

ظفر ہم زندگی ہیں، زندگی اک بار ملتی ہے
اگر مل جائیں ہم تم کو تو پھر کھونا نہیں ہم کو
٭٭٭



آنکھ نے بات کی لب سے پہلے
اور چاہا تجھے سب سے پہلے

اب تو حاصل کے سوا کچھ بھی نہیں
ورنہ کیا حسن تھا اب سے پہلے

کون بے وجہ نمو پاتا ہے
کیا مسّبب تھا سبب سے پہلے

منہ لگایا تو وہ گستاخ ہُوا
ورنہ ملتا تھا ادب سے پہلے

کون سے رنگ میں شدّت تھی ظفر
اُس کے چہرے پہ غضب سے پہلے
٭٭٭


وہ صرف ہم سفر ہے مرا ہم نفس نہیں
رستہ بدل تو لُوں مگر اپنے بس میں نہیں

یہ قید ماہ و سال تو ہے عمر بھر کا روگ
کب ہوگا وصال، اگر اس برس نہیں

اس سر زمین سے ہے فلک تک کھلی فضا
اُڑنے کی تاب ہو تو کہیں بھی قفس نہیں

جی چاہتا ہے ایک نئی زندگی ملے
اپنی غرض ملاپ سے بس رنگ رس نہیں

اغیار بھی ہیں اُس کی گلی میں تو کیا گلہ
وہ گلستاں ہی کیا ہے جہاں خار و خس نہیں

قربت نصیب ہوتی ہے قربانیوں کے بعد
جاں وار دوں میں اُس پہ ظفر تو عبس نہیں
٭٭٭



معبودِ  جاں، خیال کا پیکر نہ ہو کہیں
تم جس کو پوجتے ہو وہ پتّھر نہ ہو کہیں

قبل از نظارا اے نگہِ زندگی نما
یہ دیکھنا کہ موت کا منظر نہ ہو کہیں

اِک حشر، روزِ  حشر سے پہلے بھی ہے تو پھر
یہ روزِ  ہجر ، وقفۂ محشر نہ ہو کہیں

صابر کہاں نصیب تجھے بوئے جسمِ یار
تُو اپنی ہی مہک سے معطّر نہ ہو کہیں
٭٭٭



اسی لیے تو اجل نے دیا ہے جینے مجھے
بہت قریب سے دیکھا ہے زندگی نے مجھے

زمیں پہ تیرنے لگتا ہوں صورتِ گرداب
کبھی جو لگتے ہیں سات آسماں سفینے مجھے

امید اب ہی عبث مجھ سے نیک خوئی کی
برے عمل پہ تو ٹوکا نہ تھا کسی نے مجھے

وگرنہ عشق میں جاں سے گذر چکا ہوتا
ظفر! نباہ کے، آئے نہیں قرینے مجھے
٭٭٭



محبتیں تھیں کچھ ایسی، وصال ہوکے رہا
وہ خوش خیال میرا ہم خیال ہوکے رہا

ہر ایک پردے میں دریافت اُس کا حسن کیا
پھر اُس خزانے سے میں مالا مال ہوکے رہا

لہو کی لہر میں شادابیوں کی شدت سے
مزاج اُس کا میرے حسبِ حال ہوکے رہا

کرم کا سلسلہ جو منقطع تھا غفلت سے
بحال کیسے نہ ہوتا، بحال ہوکے رہا!

ہم اتنا چاہتے تھے ایک دوسرے کو ظفر
میں اس کی اور وہ میری مثال ہوکے رہا
٭٭٭



روز یہ وقت آ جاتا ہے
سچ مجھے جھٹلا جاتا ہے

دل میں ہلچل یوں ہی نہیں
کوئی تو آتا جاتا ہے

جیسے پھر نہیں ملنا اُسے
یوں مجھے تکتا جاتا ہے

میں اگر اس کو جانے دوں
چین آنکھوں کا جاتا ہے

آنسو راستہ روکتے ہیں
چہرہ دھندلا جاتا ہے
٭٭٭




رات کو خواب ہو گئی ، دن کو خیال ہو گئی
اپنے لیے تو زندگی ، ایک سوال ہو گئی

ڈال کے خاک چاک پر ، چل دیا ایسے کوزہ گر
جیسے نمودِ خشک و تر ، رو بہ زوال ہو گئی

پھول نے پھول کو چھُوا ، جشنِ وصال تو ہوا
یعنی کوئی نباہ کی رسم بحال ہو گئی

تجھ کو کہاں سے کھوجتا ، جسم زمین پہ بوجھ تھا
آخر اس تھکان سے ، روح نڈھال ہو گئی

کون تھا ایسا ہمسفر ، کون بچھڑ گیا ظفر
موجِ نشاط رہ گزر ، وقفِ ملال ہو گئی
٭٭٭



جب وہ صورت عجب بنائی گئی
زندگی بے سبب بنائی گئی

دی گئی تابِ دید آنکھوں کو
دل میں شکلِ طلب بنائی گئی

دیکھ کر دن کی بے لباسی کو
مثلِ ملبوس شب بنائی گئی

بعد میں بحرِ غم بنایا گیا
پہلے موجِ طرب بنائی گئی

تھی نہ اس ہاتھ میں لکیر کوئی
میری تقدیر جب بنائی گئی

تیرگی تھی ابد کی صورت میں
روشنی جانے کب بنائی گئی

کوئی بوسے کا رنگ بھی ہو گا
جب وہ تصویرِ لب بنائی گئی

سخت حیراں ہوں محفلِ عشق
کس قدر با ادب بنائی گئی
٭٭٭



اس پہ ظاہر مرا احوال نہیں ہو سکتا
وہ کنارا کبھی پاتال نہیں ہو سکتا

فکر کرنے سے ہی ملتی ہے سخن کی دولت
جو نہیں سوچتا، خوشحال نہیں ہو سکتا

لکھنے والا جو اسے اپنے لہو سے لکھے
کوئی مضمون بھی پامال نہیں ہو سکتا

آب و ماہی کا تعلق ہے فقط آزادی
ان کا ہمدرد کوئی جال نہیں ہو سکتا

شہر اپنا ہے وہی پہلی محبت ہے جہاں
کہ کراچی تو ظفر وال نہیں ہو سکتا
٭٭٭


وہ کیوں نہ روٹھتا ، میں نے بھی تو خطا کی تھی
بہت خیال رکھا تھا ، بہت وفا کی تھی

سنا ہے ان دنوں ہم رنگ ہیں بہار اور آگ
یہ آگ پھول ہو میں نے بہت دعا کی تھی

نہیں تھا قرب میں بھی کچھ مگر یہ دل ، مرا دل
مجھے نہ چھوڑ ، بہت التجا کی تھی

سفر میں کشمکش مرگ و زیست کے دوران
نجانے کس نے مجھے زندگی عطا کی تھی

سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
یہ اور بات کہ اک خلق اشتراکی تھی

یہ ابتدا تھی کہ میں نے اسے پکارا تھا
وہ آ گیا تھا ظفر، اس نے انتہا کی تھی
٭٭٭





کوئی تو ترکِ مراسم پہ واسطہ رہ جائے
وہ ہم نوا نہ رہے صورت آشنا رہ جائے

عجب نہیں کہ مِرا بوجھ بھی نہ مُجھ سے اُٹھے
جہاں پڑا ہے زرِ جاں وہیں پڑا رہ جائے

میں سوچتا ہوں مجھے انتظار کس کا ہے
کواڑ رات کو گھر کا اگر کھُلا رہ جائے

کسے خبر کہ اسی فرشِ  سنگ پر سو جاؤں
مِرے مکاں میں بستر مرا بچھا رہ جائے

ظفر ہے بہتری اس میں کہ میں خموش رہوں
کھُلے زبان تو عزت کسی کی کیا رہ جائے
٭٭٭




تم اپنے گرد حصاروں کا سلسلہ رکھنا
مگر ہمارے لیے کوئی راستہ رکھنا

ہزار سانحے پردیس میں گزرتے ہیں
جو ہو سکے تو ذرا ہم سے رابطہ رکھنا

خزاں رکھے گی درختوں کو بے ثمر کب تک
گذر ہی جائے گی یہ رُت بھی، حوصلہ رکھنا

تمہارے ساتھ سدا رہ سکیں ، ضروری نہیں
اکیلے پن میں کوئی دوست دوسرا رکھنا

زیادہ دیر ظفر ظلم رہ نہیں سکتا
اگر اب آئیں دن کڑے تو جی بڑا رکھنا
٭٭٭



بکھرتا پھول جیسے شاخ پر اچھا نہیں لگتا
محبت میں کوئی بھی عمر بھر اچھا نہیں لگتا

بکھرنے اور بھٹکنے کے لیے تنہائی کافی ہے
کوئی منزل نہ ہو تو ہمسفر اچھا نہیں لگتا

میں اس کو سوچتا کیوں ہوں اگر ندرت نہیں اس میں
میں اس کو دیکھتا کیوں ہوں اگر اچھا نہیں لگتا

اسی باعث میں تیری یادوں میں مصروف رہتا ہوں
مجھے بے دھیان رہنے کا ہنر اچھا نہیں لگتا

وہ جس کی دلکشی میں غرق ہونا چاہتا ہوں میں
وہی منظر مجھے بارِ دگر اچھا نہیں لگتا

کسی صورت تعلق کی مسافت طے تو کرنی ہے
مجھے معلوم ہے تجھ کو سفر اچھا نہیں لگتا

مرا دکھ بانٹنے والے بہت احباب ہیں میرے
رکھوں میں ساتھ کوئی نوحہ گر، اچھا نہیں لگتا

نکل کے جب میں ویرانے سے آبادی میں آیا ہوں
رہوں بے گانۂ دیوار در اچھا نہیں لگتا

ہزار آوارگی ہو، بے ٹھکانہ زندگی کیا ہے
وہ انساں ہی نہیں ہے جس کو گھر اچھا نہیں لگتا

نئی تخلیق سے باقی جہاں میں حسن ہے سارا
شجر چاہے کوئی ہو، بے ثمر اچھا نہیں لگتا

وہ چاہے فصل پک جانے پہ سارے کھیت چگ جائیں
پرندوں کو کروں بے بال و پر، اچھا نہیں لگتا

ستم جو ہو رہا ہے در حقیقت وہ خدا جانے
مگر کوئی سرے سے بے خبر اچھا نہیں لگتا

وہ اک اسم مبارک دل پہ لکھنا چاہیئے جس کو
وہ پیشانی پہ لکھ تو لوں مگر اچھا نہیں لگتا

وسیلہ راستے کا چھوڑ کر منزل نہیں ملتی
خدا اچھا لگے کیا ، جب بشر اچھا نہیں لگتا
٭٭٭



کیا ہے یہ زندگی، یہ سخن ذات ہی سے ہے
اپنا معاملہ تو خیالات ہی سے ہے

دن بھر تو مجھ کو رونقِ دنیا رکھے بحال
دل جو بُجھا ہوا ہے، فقط رات ہی سے ہے

مضمون باندھنے کا بہت شوق ہے مجھے
اور اس کا واسطہ میرے جذبات ہی سے ہے

اِس برتری میں کوئی تکبر ہو ،کیا مجال!
اپنی غرض تو صرف تیری مات ہی سے ہے

ہم جو ظفر کسی نہ کسی کے اثر میں ہیں
وابستگی ہماری طلسمات ہی سے ہے
٭٭٭




میں جس کے ساتھ ظفر عمر بھر اٹھا بیٹھا
وہ جانے آج ہے کیوں اجنبی بنا بیٹھا

شکایت اس سے نہیں اپنے آپ سے ہے مجھے
وہ بے وفا تھا تو میں آس کیوں لگا بیٹھا

جو میرے واسطے بنیاد تھا محبت کی!
میں اس خیال کی دیوار ہی گِرا بیٹھا

ملا وہ رات مجھے محفلِ مسرت میں
تو میں ادب سے نہیں ، دکھ سے دُور جا بیٹھا

ظفر بتاؤ اسے ہاتھ کیا لگا سکتا!
جسے میں دیکھ کے بینائی ہی گنوا بیٹھا
٭٭٭



٭٭٭
ماخذ:
http://www.freeurdupoetry.com/?q=taxonomy/term/64
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
