﻿

دیدۂ گریاں


عبد اللہ ناظر

غیر مطبوعہ کلام سے






گردشِ موجِ بلا کس کے مقابل میں نہیں 
تیرا جس پر ہے کرم وہ کسی مشکل میں نہیں

اپنی دزدیدہ نگاہی سے  نہ مجروح کرو
سوزشِ جامِ  نظر  زہرِ ہلاہل میں نہیں

حاصلِ  سعیِ  مسلسل  کی  تمنا  کیسی
جبکہ کوئی بھی قدم جادۂ منزل میں نہیں

نغمہ  آزاد ہے  محبوسِ قفس  ہو کر  بھی
اس  کی  تاثیر کسی  قیدِ سلاسل میں نہیں

جان دینے کا یہ مطلب ہے مری جاں لو گے 
 ایسا وعدہ نہ کرو  جس کی جگہ دل میں نہیں

موج در موج ہَوا کرتی ہے یہ راز عیاں 
زندگی نرغۂ طوفاں میں ہے ساحل میں نہیں

چاک کر دے مرا  فولاد کا  سینہ  ناظرؔ
کاٹ ایسی  تو  کسی  دَشنۂ قاتل میں نہیں
٭٭٭




 
عشرت وصل نہ  دو  گریہ کناں رہنے دو
میں جہاں ہوں شب فرقت مری جاں رہنے دو

راز دل کہہ کے بھی حیراں ہوں کہ تم کو شک ہے
مجھ کو  جھوٹا نہ  کہو  ، وہم  و  گماں رہنے دو

عالم  جور و  ستم  سے  ہو  توقع کیسی
کوئی  شکوہ نہ کرو آہ  و  فغاں رہنے دو

اپنے  خوابوں  کی  تباہی  نہیں  دیکھی  جاتی
میری  امید  کو در  پردۂ  جاں رہنے دو

غور  کرنا ہے کرو اپنی رواداری  پر
میرے اشکوں  کے سمندر  کو  رواں رہنے دو

بعد از مرگ تمنا کوئی  رستہ  نہ  رہا 
بھول جاؤ  مجھے  ،  اقرار زباں رہنے دو

التفات نگہ  یار  ہے  دھوکہ ناظرؔ 
کھل  گیا  بھید  مگر  بات  نہاں  رہنے  دو
٭٭٭





زندگی  کیا  ہے  بجز ایک سفر کچھ بھی نہیں 
گھر ملا  ایسا کہ  دیوار  نہ  در کچھ بھی نہیں 

حال کچھ  ایسا ہے درماندگی صحرا  میں 
سایۂ  گل  ہے  نہ  امید شجر کچھ بھی نہیں 

تم جو کہتے ہو کہ  دنیا  ہے حسیں تو ہو گی 
مجھ سے کہتا ہے  مرا دیدۂ  تر کچھ بھی نہیں 

یاد  جاناں  ہے محبت  کی فراوانی بھی 
جیسے اب مشغلۂ  شام  و  سحر کچھ بھی نہیں 

کیا کہوں گا میں بھلا تم  سے  مخاطب ہو کر 
نہ  تبسم ہے نہ ایمائے  نظر کچھ بھی نہیں 

راز کی بات جو تھی راز میں  رہنے دو اسے 
جان من کچھ بھی نہیں جان جگر کچھ بھی نہیں 

پردۂ  ظلمت  شب کیسے  اٹھاؤں  ناظرؔ 
جلوہ گر  ہے  تو سہی  کون خبر کچھ بھی نہیں 
 ٭٭٭





سنو میری ، اپنی سنا کر  تو دیکھو 
مرے  دل  کی  دنیا بسا کر  تو دیکھو 

توجہ  طلب  ہے مری  نارسائی
ذرا میرے  نزدیک  آ کر  تو دیکھو

نگاہ  کرم  ہے ہمیشہ  فلک  پر
ادھر  بھی  کبھی مسکرا کر تو دیکھو

نہ ہوں  گے  کبھی  زندگی  بھر  جدا ہم 
مجھے  اپنا  سایہ  بنا کر  تو  دیکھو 

گرا  ہوں  میں قدموں پہ کب سے تمہارے 
ستایا  ہوا  ہوں  اٹھا کر  تو دیکھو 

شب  فرقت یار کیسے سہوں گا
پتنگا  سمجھ کر  جلا کر تو دیکھو

کہیں  کا  نہیں  دشت  غربت  میں  ناظرؔ
زمانے سے  نظریں بچا کر تو دیکھو
٭٭٭



مری  وفا  سے تمہاری جفا سے قطعِ نظر
کہیں  ملو  تو  سہی مدعا سے قطعِ نظر
 
وہ  ایک صدمۂ جانکاہ  تھا محبت میں 
جو دل  کا حال ہوا  ابتلا سے قطعِ نظر

میں  ڈھونڈتا  رہا  آفاق میں مسیحا کو
جنونِ  دستِ  دعا سے دوا سے قطعِ نظر

مری سرشت میں معیارِ دوستی ہے خلوص
غرورِ یار  سے  اور  کبریا سے قطعِ نظر

بلائے دشت نوردی  عذاب ہے لیکن
سزائے دہر  و  عطائے خدا سے قطعِ نظر
 
کبھی  نزاعِ  سخن  اور  سر خمیدہ کبھی
وہ  بھا گیا  مجھے  ناز  و  ادا سے قطعِ نظر
 
ہمارے خیمۂ ہستی میں کیوں اندھیرا ہے 
دیئے  بجھا دیئے کس نے ہوا سے قطعِ نظر
 
کہاں ہے منزل  مقصود  کیا  کہے  ناظرؔ
مری جبیں سے ترے نقشِ پا سے قطعِ نظر
٭٭٭





منظرِ عالم  نظر کا رخ  بدل کر دیکھئے
اپنی  خوش فہمی  کی چادر  سے نکل کر دیکھئے

دفترِ  پند  و  نصیحت  کھولنا کس  کام  کا
آدمیّت  کے  اصولوں  پر  عمل کر دیکھئے

زندگانی پر سکوں  ہے کس قدر ہم کیا کہیں
ریگِ صحرا  پر ہمارے ساتھ  چل کر دیکھئے

اِختلافاتِ نظر وجہِ  تباین  ہی سہی
دوستی  میں  اپنی  جانب سے پہل کر دیکھئے

خود  کو  پروانہ  سمجھ  لینا تو آساں ہے مگر
شمع کی  مانند  ساری  رات  جل کر دیکھئے

صبحِ  عشرت آئی  ہے  یا آتشِ درد  و  الم
خوابِ غفلت میں نہ رہئیے آنکھ مل کر دیکھئے

کوئی جاں لیوا حسیں چہرہ  پسِ شیشہ نہ ہو
ہر نئی تصویر  کو  ناظرؔ سنبھل کر دیکھئے 
٭٭٭





کوئی  شکوہ نہیں  گرد رہ منزل سے مجھے
تو ہمیشہ  کی  طرح  چاہے  اگر دل سے مجھے

یہ سمجھ لوں  گا  کہ  آئینہ  تھا  میں  ٹوٹ گیا
وہ  ہٹا دے گا اگر  اپنے مقابل سے مجھے 

کس  طرح  کاکل  پیچاں  کو  تری سلجھاتا
جب  کہ  فرصت نہ  ملی اپنے مسائل سے مجھے

بد  دعا  دوں  اسے یا رو کہ  دعا  دوں  اس کو 
جس نے  محروم  کیا  اپنی  ہی محفل سے مجھے 

ایک  دن  اور  گزرتا  ہے  گزر  جانے  دو 
خوں بہا  لینا ہے بے شک مرے قاتل سے مجھے 

وہ  بھی قبضہ میں ترے یہ بھی ترے ہاتھوں میں
کسی طوفان سے مطلب ہے  نہ ساحل سے مجھے

کیوں سہے  جاتا  ہوں  اپنوں کے ستم اے ناظرؔ
کیا شفا ہونے  لگی زہر ہلاہل سے مجھے 
٭٭٭


 
اپنے  زخموں کو  پیہم  چھپاتے ہوئے 
سب سے ملتے رہے مسکراتے ہوئے 

  سانپ کہہ کر وہ  گیسو  دکھاتے ہوئے 
ڈر گئے خود بھی مجھ کو ڈراتے ہوئے 

اپنی دیوانگی  پر  ترس آ گیا 
داستانِ محبت  سناتے ہوئے 

کس نے کی پرسشِ حالِ دل وقت پر 
کتنے رشتے ہوئے کتنے ناتے ہوئے 

میرا سیلِ  سرشکِ  الم تو  نہیں 
یاد کرتے  ہو جس  کو نہاتے ہوئے 

داغِ فرقت کی تم  سے شکایت ہو کیوں 
زندگی  کٹ گئی  غم اٹھاتے ہوئے 

آسرا کیا  دیا  بے اماں کر دیا 
آؤ دیکھو مجھے جاں سے جاتے ہوئے 

بھول جاؤ گے  اک دن محبت کی دھن 
میری لے  کا  تمسخر اڑاتے ہوئے 

بھیج  دوں  کیوں نہ ٹوٹا ہوا دل تمہیں 
دیر ہو جائے گی  تم کو  آتے ہوئے 

میری  جانب  سے کوئی کمی کب ہوئی 
تم نے سوچا نہ احساں جتاتے ہوئے 

چاند  کی  طرح  وہ  فخر  کرتا  رہا 
آسمانوں  سے  مجھ کو گرانے ہوئے 

آ گیا  ہوں  میں  ناظرؔ یہ کس موڑ پر
اپنے سینے  سے اس کو لگاتے ہوئے
٭٭٭





دشتِ  وفا میں جب قدم  بہر قیام رکھ دیا
میں  نے  جفائے  یار کا  ، تجربہ  نام رکھ دیا

خاکِ  رہِ طلب وہی  ،  میرے خلاف ہو گئی
میں نے خلوصِ دل جہاں ، گام  بہ گام رکھ دیا

ساقی کی اک  نگاہ  نے ،  مستی عمر بخش دی
جانے کدھر کو رند نے ،  بادہ  و  جام رکھ دیا

سلسلے ربطِ خاص کے ، ٹوٹ کے سب بکھر گئے 
تم نے ہوا کی زد پہ کیوں  ، میرا مقام رکھ دیا

گیسوئے یار کی طرح پھیل رہی تھیں ظلمتیں 
"ْمیں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا "

لذّت کشِ  جمال  اب  میرا وجود ہی نہیں 
تو نے بھی  کوئی آئینہ  کیا لب بام رکھ دیا

میری نگاہِ  آشنا  ،  سحر جہاں سے ہٹ گئی
اہلِ  ہوس نے  سامنے ،  حلقۂ  دام رکھ دیا

ناظرؔ  دشت گرد سے ،  پوچھا گیا جو حال دل
اس نے درِ حبیب پر  ،  اپنا  کلام رکھ دیا
٭٭٭





بھیجا  ہے  تو  یہ  سوچ  کے  پیغام  محبت
ممکن ہے  عطا کر دے وہ  انعام محبت 

ٹھگنے کے لیئے خواب سکوں کس نے دکھائے
 اور کس نے  بچھائے ہیں یہاں دام محبت

میں بھی نہیں  اک  رند خرابات سے  کچھ کم
للہ  پلا دے  مجھے اک جام محبت

ہر  وقت  رہ  شوق  میں ہوتا  ہے  تغیر
گہ  صبح  محبت  ہے  تو  گہ شام محبت 

 اقرار  جلی  ہیں مری  ثابت  قدمی  کا
آتے  ہیں  بہر گام جو الزام محبت

مشکل ہے  بہت دل کی حقیقت  کو  پہنچنا
آساں ہے  تلفظ کے  لیئے  نام محبت 

ناظرؔ  کے  لیئے دونوں  مراحل  ہیں حقیقی
آغاز محبت ہو کہ  انجام محبت
٭٭٭





بعد  مدت  جو  میسر ہوئی اک پیار کی رات
 آؤ لگ  جاؤ  گلے  آ گئی اقرار کی رات

فرقت  یار میں کٹتی  ہے  تو یوں  مشکل سے
 جیسے غربت  میں  کسی  رہرو  نادار کی رات

آنے والا ہے  کوئی آئے گا  خوشیاں لے کر
  اس توقع پہ  گزرتی  ہے  دل زار کی رات

رنگ گل ـ،  نغمۂ دل ، حسن بیاں سب کچھ ہے
  دن  سے بہتر ہے مجھے آپ کے دربار کی رات

عرصۂ  عہد  گزشتہ  کی  حکایت کیا ہے
 دامن شوق  تھا اور  وادی  پر خار کی رات

کتنی  دلکش ہے  سر  محفل  ارباب  وفا
  کیف  میں  ڈوبی  ہوئی بادۂ  اشعار کی رات

مجھ کو جس چاند کے آنے کی  ہے حسرت ناظرؔ
  چھپ نہ جائے کہیں بادل میں وہ دیدار کی رات
  ٭٭٭۰





کون منزل کو  بھلا  سمجھے  گا  منزل کی طرح
تو مجسم  دل ہے میرا کیوں کہوں دل کی طرح

مضطرب امواج  ہستی  نے  مجھے بخشی تڑپ
ورنہ میں بے جان تھا  مہجور  ساحل کی طرح

بے اماں ہے کعبۂ دل ، شہر جاں سب کچھ وہاں
شیوۂ  جاناں جہاں ہے  رقص قاتل کی طرح

سوچتا ہوں کیا قیامت  آ گئی  یا  آئے گی
بام  پر آتا  ہے  جب  وہ  ماہ کامل کی طرح

کس قدر  دنیا کو  اپنی  دوستی  سے  بیر  ہے
بن گئی ہے درمیاں  اک  حد فاصل کی طرح

عین اس  لمحہ  کہاں  سوجھی  مجھے  راہ مفر
اس کی پایل بج رہی تھی جب سلاسل کی طرح

عقدۂ گیسوئے پیچاں میں  ہے  تو  الجھا ہوا
زندگی  ناظرؔ کی ہے  ویسی ہی مشکل کی طرح
٭٭٭



 
احساسِ  فریبِ  ذوقِ  نظر  لے  آیا ہے اس منزل پر
دنیا  پہ  بھروسہ  مجھ کو  نہیں  دنیا  کو  نہیں  میرے دل پر

ہر اشک ہے اک تابندہ گہر جب تک ہے ترے دامن کے لیئے
ورنہ ہے  یہ  پانی  جیسے کوئی  برسات کا قطرہ ساحل پر

کتنی  ہی  امیدوں  کی شمعیں پروانوں  کا  دم  بھرتی  ہیں
میں  قرباں  تیری خلوت پر میں  صدقے  تیری  محفل پر

میرے  پژمردہ  چہرہ  پر  پھیلا دیئے  کیا  اس  نے  گیسو 
ایک  اور پریشانی آئی  برسوں  کی پرانی مشکل پر 

کیا  ان کو حقیقت بیں سمجھیں  کیا  ان  کا  یقیں  کر لیں ناظرؔ
جو  نام  مٹا کر  قاتل کا  الزام  لگائیں  بسمل پر
٭٭٭

 
یہ  راز  راز ہی  رہنے دو من میں رہنے تک 
جدا  نہ  ہوں گے کبھی روح تن میں رہنے تک

سرور و  بے خودی جانِ خوش گماں  توبہ 
میں  بے زباں  تھا  تری انجمن میں رہنے تک

عذابِ فرقتِ جاناں میں آنکھ  نم  تو ہوئی 
گھٹا  برس  نہ  سکی بانکپن میں رہنے تک

جنونِ  دشت نوردی نے رہنمائی کی 
کسے  خبر تھی جہاں کی  ،  وطن میں رہنے تک

رہا نہ ہوش  خود  اپنا  سمومِ صحرا  میں 
خیالِ جلوۂ گل  تھا  چمن میں رہنے تک

وہ جسم  ہو گیا  عاری  تمام رشتوں سے 
جو  اجنبی تھا  کسی پیرہن میں رہنے تک

نہ  میں رہوں گا  نہ  میرے خلوص کی دنیا 
گماں تھا قریۂ زورِ فتن میں رہنے تک

کسی بہشت  شمائل  کی  یاد  کیا کم  تھی 
فضائے دائرۂ حسنِ ظن میں رہنے تک

سراغِ  منزلِ  مقصود  ہم  کو  مل نہ سکا 
غبارِ شورشِ  رنج  و  محن میں رہنے تک

پرندے اپنے  پروں کو ہی نوچ  لیتے ہیں 
کہ مر  نہ  جائیں قفس کی گھٹن میں رہنے تک

*(ستم  اور  اس  پہ  خموشی  کا حکم اے صیّاد 
زباں  تڑپتی رہے  گی  دہن میں رہنے تک ) 

کوئی  سنائے  گا  کیا  اپنا  حالِ دل ناظرؔ 
اسیر پنجۂ دار و رسن میں رہنے تک
/*( میری ایک پرانی غزل کا شعر )  ناظرؔ 
٭٭٭


قیدِ الفت سے ہے ناممکن  رہائی دیکھیئے 
آپ کی زنجیر  ہے  میری کلائی دیکھیئے 

تابِ سوزِ اجنبیّت  ہے نہ خواب  سرخوشی 
ہو گئی  صحرا  میں  اپنی  جگ  ہنسائی دیکھیئے 

گو  بظاہر جی رہا ہوں  مثلِ  شمعِ  بزمِ شب 
سانس بھی  میری وگرنہ  ہے پرائی دیکھیئے 

درمیاں  دنیا  اٹھا دیتی  ہے دیواریں کئی 
خواہش وُصلت میں  قہر  نارسائی دیکھیئے 

بے  خودی میں بھی  خرد مندی  کا  دعوی  ہے مجھے 
اس  سے  بڑھ کر  اور کیا ہو  خود نمائی دیکھیئے 

خون  کی سرخی ہے ناظرؔ صفحۂ  قرطاس پر
اب  کہاں  باقی  بچی ہے  روشنائی دیکھیئے
٭٭٭



تم نے سمجھا  ہے جو  منجملۂ اغیار مجھے 
کاٹ کھانے لگے گھر کے در  و  دیوار مجھے 

اپنے اشکوں کے سمندر کو کہاں لے جاؤں 
جب نظر آئیں نہ غمخوار  بھی  غمخوار مجھے 

خود کو میں بھول چکا  ، ہوش ہے پھر بھی باقی
اور دیوانہ  بنا  اے  نگہِ  یار مجھے 

سرخی مئے کے تصور میں  شب  ہجر  کٹی
یاد  آتے رہے  تیرے لب و رخسار مجھے 

 عقدہ ہائے غم  دوراں  سے رہا  ہوتے ہی
کر لیا  کاکل  پیچاں نے  گرفتار مجھے 

تجھ کو  رکھ لوں گا میں گہرائی میں اپنے دل کی
ہو  میسر  جو  کبھی فرصت  دیدار مجھے 

میں  تڑپتا  رہا مذبوح  پرندہ  کی  طرح
تو  سمجھتا رہا لذت  کش  آزار مجھے 

چھڑ گیا  بھولے سے جب ذکر گلستاں  ناظرؔ
آ گئے یاد محبت بھرے  اشعار مجھے 
٭٭٭





بحر  الفت میں سفینہ  ہے  نہ ساحل میرا
ایک طوفان ہے اور ٹوٹا  ہوا دل میرا
 
التفات نگہ  یار  کی  ہے آس مجھے
کس  نے دیکھا  ہے ترسنا سر محفل میرا
 
زندگی  بھر  نہ ہوئی  مجھ  کو  ہوس  دنیا کی
خوں  بہا دے  نہ  سکے  گا  کبھی  قاتل میرا
 
پیچ  در  پیچ کیئے جاتا  ہے  تو  زلفوں  کو
کام  کچھ اور ہوا جاتا ہے  مشکل میرا
 
ایک اک شعر ہے مرقوم در زنداں پر
گیت  رو رو  کے  سناتی ہیں  سلاسل میرا
 
آگے بڑھتا ہوں تو ہٹ جاتی ہے پیچھے کی طرف
کیا  کبھی  ساتھ  نبھائے  گی  نہ  منزل میرا
 
جانا پہچانا سا  چہرہ  ہے  نظر  میں ناظرؔ
آئینہ رہ گیا کیا میرے  مقابل میرا
٭٭٭





مداوائے د رد  جگر چاہیئے 
محبت  میں اک  ہمسفر چاہیئے 

نہ دنیا  نہ  اموال  و  زر چاہیئے 
تمہارے کرم  کی  نظر چاہیئے 

جہاں  ابر رحمت  ہے  چھایا  ہوا
مجھے  سیلی چشم  تر چاہیئے 

کہاں تک  بیاباں  میں  آوارگی 
بہت  ہو چکا ایک  گھر چاہیئے 

بھرا  دل کہاں چشم  بدمست سے 
خرابات  شام و  سحر چاہیئے 

نہیں چاہیئے  جھوٹ  کی  دوستی 
محبت بھری رہگزر چاہیئے

میں ناظرؔ کبھی جھوٹ  کہتا  نہیں
اسے ایک پیغامبر چاہیئے
٭٭٭





 کب  سکوں مجھ  کو  ملا  ہے مسکرانے کے لیئے 
چشم  گریاں  ہے فقط  آنسو  بہانے کے لیئے 

زندگی  بھر کی تگ  و  دو کا نتیجہ کیا ہوا
چند  تنکے  بھی  نہیں  ہیں  آشیانے کے لیئے 

آسماں سے  مانگ  لے  بھیگی گھٹا کی اوڑھنی 
سر نہیں  میرا مناسب  تیرے شانے کے لیئے 

نازش  خود آگہی ہو یا غرور  حسن  ہو 
یوں بھی کیا ملتا  ہے  کوئی بھول جانے کے لیئے 

زیب  دیتا ہے حسینوں کو  ہمیشہ  روٹھنا 
کون آئے  گا  بھلا مجھ  کو  منانے کے لیئے 

میں شب فرقت ہوں تنہا میرے بس میں کچھ نہیں 
شمع  محفل رہ گئی  ہے جی  جلانے کے لیئے 

میری  جانب  تیر زن اپنے بھی ہیں اغیار بھی 
جیسے ناظرؔ  میں کھلونا ہوں  زمانے کے لیئے 
٭٭٭



مانا وہ بھول کر  بھی کبھی گھر نہ آئے گا
لیکن کوئی گلہ مرے لب پر نہ آئے گا 

کافی  ہے چشمِ ناز کا  اقرار  ساقیا
میری بلا  سے گر  کوئی  ساغر نہ آئے گا 

ٹوٹے گا کیا نہ  سحر  سرِ  پر غرور  کا
آئینہ گھر پہ  کیا  کوئی  پتھر نہ آئے گا 

بڑھتا ہوں اہلِ علم کی جانب بصد نیاز
پیاسے کی سمت  چل کے سمندر نہ آئے گا 

میں ہوں , ترا جمال ہے , فصلِ بہار ہے 
یہ  لمحۂ وصال  مکرر نہ آئے گا 

سچ ہے کہ اہل مکر کے  جادو کا کھیل ہے 
لیکن زمانے  والوں  کو  باور نہ آئے گا 

اک گردشِ مدام سے ممکن ہے کب مفر
جب  تک  خیالِ  داورِ محشر نہ آئے گا 

اشعار کا سہارا  بھی  کافی  نہیں مجھے 
جو  دل  میں غم کا شعلہ ہے باہر نہ آئے گا 

کیوں تجھ کو فکر ہے ترا ناظرؔ گزر نہ جائے 
ہے کون جس  پہ  وقتِ مقرر نہ آئے گا 
٭٭٭



تماشہ گاہِ بساطِ عالم  کی دل کشی  ہے  خود آگہی سے
وگرنہ  کیا آسماں زمیں  کیا  نہیں ہے  آسودگی کسی سے

خمارِ  عہد  وفا سلامت ،  گزر رہی  ہے  ہنسی خوشی سے
مری  جبینِ نیاز  کو  ہے  عجب  تعلّق  تری گلی سے

نہ  چل سکے گی کبھی محبت  میں  خو ش  کلامی  ہما ہمی سے
سلیقۂ  ارتباطِ  باہم  کی دل  پذیری  ہے دوستی سے

وجودِ لطفِ حبیب ہے تو مجھے  زمانے  سے  کیا ہے لینا
نہ غمگساری کی ہی  توقّع  نہ  ہے  امیدِ کرم کسی سے 

نہ جانے اس گل کو صحنِ گل  میں خبر بھی ہے میرے امتحاں کی 
زباں  پہ  کانٹے پڑے  ہوئے ہیں سموم صحرا میں تشنگی سے 

حقوق سے اپنے اقربا میں  ،  کچھ ایسے محروم ہو چکا ہوں
کہ  جیسے  کوئی  قبیلہ  والا  نکل گیا ہو برادری سے

خزاں  میں  بھی جیسے دے رہے ہیں پیام فصلِ بہار مجھ کو 
وہ تیرے  دو گال  پھول جیسے وہ تیرے دو نین سرمئی سے

نوازشِ اہلِ  شہر الفت  کو  بھولنا  کھیل  تو نہیں ہے
 یہ کیا قیامت کہ ہم ہیں زندہ خود اپنے گھر میں ہی اجنبی سے

تعلّقاتِ  بہم  نے  بخشی  ہے  طرز  صبرِ  جمیل  ایسی
نہ ہو گی مجھ کو  کوئی شکایت ،  ہزار  پیش آؤ بے رخی سے

بہشتِ  گلہائے  آرزو کو کرے  گا  سیراب  زندگی  بھر 
دلوں میں جو نور ہے اجاگر  ہمارے الفاظِ  سرمدی سے

خرابی  بخت  پر  نہ  رونا  ہے  اپنی  راہِ  فرار  ناظرؔ 
سبق ملا  دن  گزار لینے کا  دشتِ غربت کی جاں کنی سے
٭٭٭





 سبزہ و  گل نہ  خیاباں نہ گلستاں  اپنا
حال  ایسا  تو کبھی  تھا  نہ  پریشاں  اپنا

چن لیئے اس نے تو بڑھ کے مرے اشکوں کے گہر
میں دکھاتا  ہی رہا چاک گریباں  اپنا

یہ بھی  کیا کم ہے  کہ  ہوں  عہد وفا  پر  قائم
اٹ گیا ہے  تو بلا سے  سر و ساماں  اپنا

ماند  پڑ جاتی  ہے جب  رونق  ماہ و  انجم
رنگ دکھلاتی ہے  تب محفل جاناں  اپنا

صورت  یار تھی خوں جیسی  مری  رگ  رگ میں
خانۂ  دل  نہ  ہوا خانۂ  ویراں  اپنا

مسئلے  کتنے ہی مشکل ہوں  سلجھتے  ہیں  یہاں
شامیانہ  ہیں ترے گیسوئے پیچاں  اپنا

کب  کھلی  راز  محبت کی  حقیقت ناظرؔ
کس کو  معلوم ہے  سوز غم  پنہاں  اپنا
٭٭٭





آ گیا تھا میں  فقط  آنکھ  بھگونے کے لیئے 
کہیئے  کیا حکم  ہے  سرکار کھلونے کے لیئے 

کون تھا  مجھ  کو کنارے  سے  لگانے والا 
گو بہت سارے تھے قزاق ڈبونے کے لیئے 

چھوڑ کر  جاؤں کہاں  نصف صدی کا مسکن 
بس  یہی قبر ہے کافی مرے سونے کے لیئے 

سچ  ہے  دنیا  میں  محبت کا  بھروسہ  نہ رہا
کوئی  ہمراہ  نہیں  آئے گا  رونے کے لیئے 

مار دے  مجھ  کو بچھڑنا ہے  بچھڑ  جا  ظالم 
پاس کچھ بھی  تو نہیں  رہ گیا کھونے کے لیئے 

دشت بے آب ہو  یا  گلشن  کم  سبزہ  ہو 
یاس کے بیج نہ کام آئیں گے بونے کے لیئے 

شعر بے  ساختہ  آتے گئے  لب  پر  ناظرؔ
ورنہ  الفاظ  کے موتی تھے پرونے کے لیئے 
٭٭٭





 
 یاد  تم  اپنے احساں دلانے لگے 
شکریہ , ہوش میرے ٹھکانے لگے

گو کہ میں ہوں جہاں دیدہ انساں مگر
خود کو  پہچاننے میں  زمانے لگے

ساری دنیا کی باتوں  سے کیا واسطہ
آپ بھی مجھ پہ تہمت لگانے لگے

وہ  جو  برہم ہوئے زلزلہ  آ گیا
ہر قدم  پر  قدم ڈگمگانے لگے

 شامِ  غم  مجھ  سے  ملنا گوارا نہ تھا
صبح دم کس  لیئے منہ چھپانے لگے

آمدِ فصلِ  گل  کا  یقیں  آ گیا
شاخ  در شاخ جب آشیانے لگے

دشتِ غربت میں گزری سو گزری مگر 
چارہ گر بھی عجب  گل کھلانے لگے

تم نے کیا دی بشارت ملاقات کی
راستے میں ہم آنکھیں بچھانے لگے

ہائے  وہ قمقمے  محفلِ  یار  کے 
ماہ  و  انجم کے جلوے پرانے لگے

لے لیا میں نے بوسہ اگر پھول کا 
تیرے لب جانے کیوں خار کھانے لگے

اپنی  صحرا نوردی کی  حد ہو گئی
آبلے  خود  بخود  پھوٹ جانے لگے

میری دیوانگی  کا  جو چرچا  ہوا
ہنسنے  والے  بھی  آنسو بہانے لگے

چشمِ  ناظرؔ  کا  ان پر  اثر یہ ہوا
عارضِ گل  نما  تمتمانے لگے
٭٭٭



زندگی میں  جو  ملی  نعمتِ  نسیاں مجھ کو
کوئی مشکل ہو نظر آتی ہے آساں مجھ کو 

راس  آئی  نہ  جہاں  سیرِ  گلستاں مجھ کو
قابلِ شکر ہے لعلِ لبِ جاناں مجھ کو 

کیوں اپج لوں میں نئی تان سنانے کے لیئے 
میرا نغمہ ہے  مری جاں مرا ایماں مجھ کو 

میری دیوانگی  اک  طرزِ کرم ہے  ان کی
دی گئی  خِلعتِ صد چاک گریباں مجھ کو 

ترکِ آزردگی  میں ممکن ہے کہاں غربت میں 
آسرا دے  نہ اگر لذتِ حرماں مجھ کو 

چاک  جب پردۂ ظلمت  ہوا  یہ  بھید  کھلا
تیری زلفوں نے کیا کتنا پریشاں مجھ کو 

ڈوب جاؤں نہ  کہیں  سیلِ سرشکِ غم میں 
اس قدر بھی  نہ ستا  دیدۂ گریاں مجھ کو 

دیکھ پایا نہ  میں  دیکھی  ہوئی  اپنی  صورت
آئینہ  کر گیا کچھ اور بھی حیراں مجھ کو 

موند  لوں آنکھیں بھلا کس لیئے اپنی ناظرؔ
شمع جل جائے اگر دیکھ کے شاداں مجھ کو 
٭٭٭





دیکھنے پائے نہ ہم  روزنِ در سے باہر
"کر دیا  مادرِ ا  یام نے گھر سے باہر " 

رخنہ انداز تھے یوں خار بچھانے والے 
ہٹ گئے  میرے قدم راہِ سفر سے باہر 

مانگنے کو تجھے دل  کھول کے  مانگا لیکن
کب دعا تھی نہ مرے زورِ اثر سے باہر 

روشنی اوڑھ کے سورج کی , وہ سو جاتا ہے 
چاند رہتا ہے کہاں  میری نظر سے باہر 

ضبطِ غم کی تجھے اب اور شہادت کیا دوں 
ایک  آنسو  نہ گرا  دامنِ تر سے باہر 

داستاں اپنے  نشیمن  کی سناؤں کیسے 
جو نہیں  دسترسِ  برق و شرر سے باہر 

حسنِ تدبیر بھی  منصوبۂ  تقدیر میں ہے 
کون جیتا ہے قضا  اور  قدر سے باہر 

جتنے اوصاف گنوں کم ہیں وضاحت کے لیئے 
 حسن ہے دائرۂ  فکر  و  نظر سے باہر 

ان  کو  ناظرؔ  کا  یہ پیغام کوئی پہنچا دے
ہو گئی  حالتِ دل  خوف  و  خطر سے باہر
٭٭٭





جادۂ  شوق میں  بے چارگی جاں کب تک
غفلتِ یار کہاں تک , شبِ ہجراں کب تک 

جسمِ  کاہیدہ  و  بوسیدہ  گریباں کب تک
کب  تک آخر  گلۂ تنگی داماں کب تک 

کر بھی دے فیصلہ  یارب  مری نومیدی کا
کنجِ تنہائی  میں کربِ دلِ سوزاں کب تک 

جور کے بعد  یہ  تشہیرِ ستم  کیا  معنی
دستِ محبوب میں عاشق کا گریباں کب تک 

اف رے یہ عقرب ابرو کی ترے ,  نیش زنی
چیخ اٹھے  نہ  تڑپتا ہوا  انساں کب تک 

چین  لینے دے کسی پیڑ کے سائے میں  ذرا
ناز برداری خورشیدِ  درخشاں کب تک 

لالہ  و  گل نہ سہی  گردِ سفر کیا کم ہے 
دشتِ غربت میں رہوں بے سر و ساماں کب تک 

ڈوبنے دے مجھے  یا پار  اتر جانے دے 
ہر گھڑی یورشِ اندیشۂ طوفاں کب تک 

کوئی ہمدرد  نہ  غمخوار ہے پرسش کے لیئے 
خوں بہائے گا  مرے دیدۂ گریاں کب تک 

 چاندنی سے مرے گھر کو بھی فروزاں کر دے 
دور  ہی  دور  سے ہنسنا  مہِ تاباں کب تک 

بعد  از  مرگ تو  بدنام  نہ  کر  ناظرؔ کو
اس کے چہرہ پہ تری زلفِ پریشاں کب تک
٭٭٭





درد و  غم  بڑھتے گئے اس  طرح ہجرِ  یار میں 
یاس  و  حرماں جس  طرح  میرے  دلِ  بیمار میں 

اک جھلک ہی کیوں  نہ  ہو بالائے  بام  آ کر دکھا 
مر نہیں  جاؤں کہیں  میں حسرتِ  دیدار میں 

دشتِ  غربت نے  مجھے  آوارہ  کر کے  رکھ  دیا 
اب  کہاں وہ زندگی  گھر کے  در  و  دیوار میں 

تھا  کچھ اندیشہ مگر  ایسی  توقع  تو  نہ  تھی 
قتل  کر دے  گا  مجھے  ظالم  بھرے  دربار میں 

میری آنکھوں  کے  لیئے بینائی  ہے  کس کام کی 
فرق جب  کوئی  نہیں  اپنوں میں ا ور  اغیار میں 

مثلِ یوسف بھائیوں کے ساتھ جانے میں ہوں کیوں 
ڈر  ہے  مجھ کو  بیچ دیں گے مصر  کے  بازار میں

اپنے  ناظرؔ  کے  لیئے  دامن  کی  خوشبو بھیج دے
فصلِ گل آتی  نہیں ہے  کیا ترے  گلزار میں
٭٭٭




 راہ  وفا میں برق و شرر  کس شمار میں
لو کیا ہے  اور  گرد سفر کس شمار میں 

غرقاب گر ہو شہر تو گھر کس شمار میں
دیوار کس حساب  میں در کس شمار میں 

پیش نظر  ہے جلوۂ  جاناں  کی روشنی
دشت جنوں کے شام و سحر  کس شمار میں 

آنکھوں سے دور ہو تو خیالی ہے واقعہ
پہنچے  نہ  کان تک  تو خبر  کس شمار میں 

ناظرؔ نگاہ کے لیئے  اک شمع  ہے بہت
ظلمت کا راج ہو تو  نظر کس شمار میں 
  ٭٭٭





نام  دینا اسے  مشکل  ہے  بہت رہبر کا
مثل صیاد  جو  دشمن  ہوا بال  و  پر کا

دشت گردی  میں  سجھائی  نہیں دیتا کچھ بھی 
ڈر رہا ہوں کہ پتہ  بھول نہ جاؤں گھر کا

سنگ در میں وہ کشش ہے کہ جبیں سائی سے 
غیر ممکن  ہے  کسی  طرح اٹھانا سر کا 

زور جس کا  نہ چلا  وقت کی  بے  مہری  پر
جائزہ لیتا  رہا  شہر  کے  پس  منظر کا

ہے  فقط حسن تعاون  میں بھلائی سب کی
ورنہ  طاقت  کا بھروسہ ہے نہ مال و زر کا

سر زمیں  ہو گئی  اک  ناز  اٹھانے کی جگہ
روز  ہوتا ہے تماشہ  کسی  جادوگر کا

آنکھ  بھر آئی دھڑکنے لگا دل  کیوں ناظرؔ
خواب  میں دیکھ  لیا  ہو  نہ سماں  محشر کا
٭٭٭





شوقِ جمالِ جلوہ  گہِ یار  دیکھیئے 
جوشِ نگاہِ تشنۂ  دیدار دیکھیئے 

کچھ تو  خیال پرسشِ  بیمارِ ہجر ہو 
بے تاب کس قدر ہے دلِ زار دیکھیئے 

آتا ہے حسبِ وعدہ  شبِ وصل یا نہیں 
"چلتا  ہے  یار  کونسی  رفتار دیکھیئے "

وحشت کا کیا علاج بھلا دشتِ یاس میں 
ملتا نہیں ہے  کوئی بھی غمخوار دیکھیئے 

دنیا کی  کیا خبر  جسے  اپنا  پتہ  نہیں 
کیفِ  طوافِ  کوچۂ دلدار دیکھیئے 

جھوٹی انا  کا رنگ چڑھا  خاص  و  عام پر 
ملتے ہیں ہر  گلی میں اداکار دیکھیئے 

فرخندہ  بخت ماہ  سا چہرہ دکھائیے 
کٹتی نہیں  ہے غم کی شبِ تار دیکھیئے 

آوارگی  دشت  میں  کب تک  فسردگی 
ہو گا  کہیں  تو  سایۂ دیوار دیکھیئے 

 قدرت  نہیں کسی کو عروج  و  زوال پر 
سر سے نہ گر پڑے کہیں دستار دیکھئے 

راس آ سکی  نہ  دامنِ جاناں کی آرزو 
آزردگی  چشم  گہر بار دیکھیئے 

رکھنا ہے پھونک پھونک کے ناظرؔ ہر اک قدم 
دنیا ہے ایک وادی پر خار دیکھیئے 
٭٭٭
 



ملے ہیں غم  کچھ  اتنے  زندگی سے 
کہا  جاتا  نہیں اے دل کسی سے

دعا دے دے کے ہر ظالم کو جی سے 
گزارا  کر رہے  ہیں اجنبی سے

نہ  کر ویران میرا خانۂ  دل 
کہاں جاؤں گا میں تیری گلی سے

سبق ہوش  و خرد  کا  دے  رہے ہو 
مجھے فرصت  کہاں دیوانگی سے

کم  از  کم  راہ  کا  پتھر  سمجھ  لو  
نہ پیش آؤ خدارا  بے رخی سے

ترا  ناراض ہونا ہے  قیامت  
زمانہ کچھ بھی کہہ  لے دشمنی سے

قناعت  میری  ہے کنز  دو  عالم 
مجھے کیا  کام  دریوزہ گری سے

مرا  ان  سے  ہے  ویسا  ہی تعلق  
تبسم کا جو  رشتہ  ہے کلی سے

نظر  انداز کر دے میری  لے  کو  
خطا ہوتی  ہے ہر اک آدمی سے

وہ  ڈرتے ہیں کہ دنیا  کیا کہے گی 
مگر  نالاں ہیں اپنی ان کہی سے

میں غرق  ریگ  صحرا  ہو چکا  تھا  
ابھر آیا  ہوں تیری ہمسری سے

خدایا اور کچھ  ہمت  عطا کر  
کہ اس کو عمر بھر  چاہوں خوشی سے

ہے وہ اک معدن  الماس  و  جوہر  
پتہ چلتا  ہے  ہیرے کی کنی سے

مرے نغمات رقصاں ہیں فضا  میں  
پپیہا  کب ہوا  بیزار پی سے

پڑی ہیں پپڑیاں میرے  لبوں پر  
گلا  سوکھا ہوا  ہے  تشنگی سے

میں  سر تا پا  محبت ہوں جہاں میں 
پتہ چل جائے گا  پوچھو کسی سے

فرشتہ ہو گا وہ ناظرؔ  خدا  کا 
بچایا  جس نے مجھ کو  خود کشی سے
٭٭٭


بے وفا تیرا  ستم  شام  و  سحر یاد آئے گا
دشتِ غربت میں مجھے جب اپنا گھر یاد آئے گا

دل شکن ہو کر بھی مجھ  کو  بھولنا  آساں نہیں 
میرا دل  یاد آئے گا میرا  جگر یاد آئے گا

ٹوٹ کر پتے  بکھر  جاتے  ہیں  یہ معلوم تھا
دوستوں  کا منتشر  ہونا مگر یاد آئے گا

تم  سمجھتے ہو کہ میں تم سے مخاطب ہی نہیں 
جانے  کب اپنی محبت کا  سفر یاد آئے گا

ناگہاں وہ  چوم لے گا میرے ہونٹوں کے سخن
جب  اسے میرا  خلوصِ  چشمِ تر یاد آئے گا

وقت کے سیلاب میں ارمان سارے بہہ گئے 
زندگی بھر مجھ  کو  اک  بے داد کر یاد آئے گا
  ٭٭٭





 آتا  اگر نہ  ہم کو اس کا  خیال  ہر شب
 ہوتا  نہ  سہل سہنا  دل  کا  ملال ہر شب

پروانہ وار  دن کی  گھڑیاں گزر رہی ہیں 
بے شمع کٹ رہی ہے  آزردہ  حال ہر شب

راحت کی ساعتیں بھی  تقسیم  ہو گئی ہیں 
 آغاز  رتجگہ  ہے  سونا مآل ہر شب

کیوں ماہ سر گراں ہے انجم ہیں منتشر کیوں 
آتے ہیں میرے لب پر  کتنے سوال ہر شب

خوشبوئے دامن گل  بے آسرا  جو کر دے 
 ہو جائے  سانس  لینا شاید محال ہر شب

یکتا ہے وہ جہاں میں اس کا نہیں ہے ثانی
 میری نگاہ  میں  ہے جس کا جمال ہر شب

نکلے ہے یوں کہ جیسے  ہو چاند بادلوں میں 
دیدار  ہو گیا  ہے ناظرؔ  محال ہر شب
 ٭٭٭





 خود بخود قالب نو میں نہیں ڈھلتا ہے سماج 
 لوگ جب طور بدلتے  ہیں  بدلتا ہے سماج

رسم  آداب  محبت  کا  اگر  پاس رہے
کون  کہتا ہے کسی  آگ میں  جلتا ہے سماج

فکر کی  زلف پریشاں کو  سنوارو  تو سہی
 بات کھل جائے گی کس طرح سنبھلتا  ہے سماج

تربیت کے لیئے بڑھتے نہیں دنیا کے قدم
طفل مکتب کی طرح  کب سے مچلتا  ہے سماج

چیرہ دستی  کا ہر اک  باب  مقفل کر دو
دیکھو  تہذیب کے چنگل سے نکلتا  ہے سماج

غفلت خواب کے آثار بھی  باقی نہ رہے
 اب وہ عالم ہے کہ ٹالے نہیں  ٹلتا  ہے سماج

آنکھ  حیران ہے  ناظرؔ نہیں  دیکھا جاتا
کتنے بے رنگ  سے ماحول میں پلتا  ہے سماج
٭٭٭





کوچۂ  یار میں  مجروحِ دل  و  جاں ہو کر
سانس لیتا  ہوں  میں دنیا سے پشیماں ہو کر

زیرِ  آوارگئی  گردشِ دوراں ہو کر
خود کو سمجھا  ہوں مگر چاک گریباں ہو کر

دستِ قدرت سے سنورنے کی توقع رکھوں
یا  بکھر جاؤں  تری  زلفِ پریشاں ہو کر

شعلۂ  آتشِ قربت  کی  ضرورت کیا تھی
پیار  جب  تم کو  جتانا  تھا  گریزاں ہو کر

رشتۂ  عہدِ  وفا  کا  یہ  نتیجہ  نکلا
اک تماشہ ہوں میں گرویدۂ  جاناں ہو کر

جان  لینا  ہے  تو  لے  لو  نہ  بتاؤ  مجھ کو
مر  نہ  جاؤں کہیں  شرمندۂ  احساں ہو کر

ہائے کس منہ سے کہوں میں ہی ترا ناظرؔ ہوں
آہ  بر  لب  ہوں  جو  با دیدۂ گریاں ہو کر
٭٭٭





زندگی  کا مجھ  پہ جب احساں سمجھ میں آ گیا
ماجرائے تنگی  داماں سمجھ میں آ گیا

آئینہ  دیکھا تو  آدم  کی  خطا  یاد  آ گئی
ہے  پسِ  پردہ کوئی  انساں سمجھ میں آ گیا

دولتِ  دل  کو  لٹانا  میری فطرت ہی سہی
ضعفِ  اِفراطِ دلِ  ناداں سمجھ میں آ گیا

اک اشارے نے تمہارے کر دیا پاگل ہمیں 
پڑھ چکے  افسانہ تو  عنواں سمجھ میں آ گیا

شامِ غم  یا صبحِ عشرت دونوں یکساں ہیں مجھے 
امتحانِ گردشِ دوراں سمجھ میں آ گیا

رو کشِ  خورشیدِ عالم تاب تھی چشمِ طلب
نیند  کیا  آئی  مجھے  امکاں سمجھ میں آ گیا

دوری  منزل کا ناظرؔ  آ گیا  مجھ  کو  یقیں 
جب کوئی  مثلِ  مہِ  تاباں سمجھ میں آ گیا
٭٭٭



یوں  بر انگیختہ ہیں  گردشِ ایّام سے ہم
مطمئن صبح سے ہیں  اور نہ ہی  شام سے ہم

مہر انگیزی سِحرِ  نگہ ناز  نہ پوچھ
بے تعلّق  ہوئے  ترغیبِ لبِ جام سے ہم

ہائے کیفیّتِ  ایمائے  تبسّم  جاناں 
کیا تماشا ہوا , جاتے رہے کیوں کام سے ہم

خواہشِ وصل  پہ  یہ حسن کا  پروانہ ملا
کنجِ  تنہائی میں  بیٹھے رہیں  آرام سے ہم

آسماں پھٹنے دو  ,  آتی ہے قیامت آئے 
خوب مانوس  ہیں سوزِ  غم و  آلام سے ہم

شرم کر  گردِ سفر حدِّ ادب  سے نہ گزر
تنگ آ جائیں نہ  اِیذائے  بہر گام سے ہم

راہِ  الفت  میں  تجاذب کا سلیقہ  نہ رہا
وہ بھی رسوا ہوئے  اور ہو گئے بدنام سے ہم

صید افگن کو ہے  یہ فکر  بھی  لاحق  پیہم
چھوٹ جائیں نہ کہیں حبسِ تہِ دام سے ہم

کچھ  تو  ہو  فیصلۂ کشمکشِ شام  و  سحر
ہم  سے ناراض ہو تم , حسرتِ ناکام سے ہم

دیدۂ شوق کو رکھتے ہیں جہاں سے غافل
ہر طرح سے ہیں بری حسن کے الزام سے ہم

جو مقدّر میں ہے ,  ہو کر ہی رہے گا ناظرؔ
کون کہتا ہے کہ  واقف نہیں انجام سے ہم
٭٭٭





کوچۂ  یار  میں  کیا اے  دل ناشاد کروں 
کس کو  الزام  دوں کس طرح سے فریاد کروں 

دشت غربت  میں ہے  پابندی عہد الفت 
کوئی  سنتا نہیں  ،  کیا شکوۂ افتاد کروں 

چین لینے نہ  دیا  گردش  دوراں نے مجھے 
تم یہ کہتے ہو کہ گزرے  ہوئے دن یاد کروں 

پا شکستہ  ہوں  کہاں  جاؤں سکوں کی خاطر
سوچتا ہوں  کہ  یہیں  زندگی  برباد کروں 

بال و پر  نوچ  لیئے  اپنے  ہی  توبہ  توبہ 
بول کیا تیرے  لیئے  اور  میں  صیاد کروں 

نیند آتی ہی نہیں ہے  کسی کروٹ  مجھ  کو 
رات کس طرح  بسر  اے  ستم ایجاد کروں 

دل بھی اس کاہے  مری جان بھی اس کی ناظرؔ
میں کسے قید کروں اور  کسے  آزاد کروں 
٭٭٭






تذکرہ  تھا  صبحِ  خنداں  کا  ترا  نام آ گیا
زخمِ دل تازہ ہوا  ،  آنکھوں کو آرام آ گیا

گرمی صحرا  میں  خوشیوں کے شجر مفقود ہیں 
توبہ توبہ  سایۂ لطفِ بیاں  کام آ گیا

دستِ قسمت  میں تھا کارِ انقلابِ روز و شب
اور  مجھ  پر  بے سر و پائی کا  الزام آ گیا

طے نہ کر پائے تھے رسوائی  کی راہِ دل شکن
پھر خیالِ حسرتِ ماضی بہر گام آ گیا

جنت ارضی  کو فردوسِ  بریں  کہنا  پڑا
جب  قیامت  کی طرح کوئی لبِ بام آ گیا

بادہ  الفت  سمجھ  کر زہرِ غم  پیتے رہے 
جام  اک  خالی  ہوا  تو  دوسرا جام آ گیا

میں گزر جاؤں تو  شاید تجھ کو مل جائے سکوں 
کیا یہی  کافی نہ تھا  ناظرؔ  تہِ  دام آ گیا
٭٭٭





وفا کا  عہد  کیا دوستی نبھا نہ سکے
عجیب  لوگ تھے دو گام ساتھ آ نہ سکے

ہمارا کیا  ہے گزر جائے  کی  کسی  صورت
مگر  وہ  چاند  ستارے جو مسکرا نہ سکے

یہ  کیا  زمانہ  ہے توبہ یہ کیا  رواداری
میں جس  کو  چاہوں  مرا  حوصلہ بڑھا نہ سکے

اسی کے  دل کو  ہے معلوم  اس  کی مجبوری
سنے  جو  آپ  کی ہر  بات  کچھ سنا نہ سکے

کچھ  اور  جستجو  کرتے تو دم  نکل جاتا
بہت ثقیل  تھا  اس  کا  دیا ، اٹھا نہ سکے

ہوائے  تند  نے  گو  کر دیا ہمیں بے گھر 
قدم ہمارے ، محبت  میں  ڈگمگا نہ سکے 

رہے جو  کوشش  ناکام کا  گلہ  تو  رہے 
ہمارے ہاتھ  سے  دامن  مگر  چھڑا نہ سکے 

دکھا رہے  تھے  وہ  آنکھیں غیاب میں میرے 
جو دو بدو  کبھی آئے نظر  چرا نہ سکے 

نفس  نفس میں رواں  میرا  نام  تھا  ناظرؔ
مٹانے والے کسی  طرح  سے  مٹا نہ سکے
٭٭٭


 
پروازِ  فکر  تشنہ دیدِ  جمال ہے 
"عالم  تمام  حلقۂ دامِ خیال ہے "

غفلت شعار  آپ  وہ  اپنی مثال ہے 
اس پر بھی مجھ کو حسرتِ شامِ وصال ہے 

کس بات کاہے غم تجھے اے میری زندگی
دنیا میں ہر کسی کو  عروج  و  زوال ہے 

احبابِ عہدِ رفتہ  کا  اب ذکر کیا کریں 
اس دور میں  خلوصِ بہم خال خال ہے 

  جاں اختیار میں ہے نہ دل پر ہی اپنا بس  
میں خود سے کوئی کام کروں کیا مجال ہے 

دامن دریدہ ,بکھرے ہوئے بال, چشمِ نم
اللہ  کیا تباہی آشفتہ  حال ہے 

جوشِ جنوں کی زد میں ہیں اطرافِ کائنات 
آگے حدودِ عشق سے  دامِ خیال ہے 

خلقِ خدا  سے بن نہ پڑا آج تک جواب
آئینہ  زمانہ  مجسم  سوال ہے 

 ناظرؔ ہوں مطمئن , مجھے خوفِ اجل ہو کیوں
جب فکرِ زادِ  راہ  میں حسن مآل ہے 
٭٭٭





 
کیسے بھولیں گے تجھے اے جلوۂ جانانہ ہم
 شمع  کی مانند تو ہے  صورتِ پروانہ ہم 

دے چکے دل کی امانت ، جان کا نذرانہ ہم 
 چھوڑ کر جائیں کہاں  ساقی ترا میخانہ ہم 

زیرِ  تاثیرِ محبّت  ہے ہماری  زندگی
 "رونقِ آبادگی  اور وحشتِ ویرانہ ہم "

فیض پر آمادہ  ہے دلکش  فضا فردوس کی
 "جام  کا  بوسہ  لیں  یا  چومیں لبِ جانانہ ہم "

راہ  و  رسمِ  اہلِ دنیا  سے تعلق کس کو ہے 
 خود سری سے  نابلد ہیں  ہوش  سے بیگانہ ہم 

حالِ  دل کیا  پوچھتے ہو تم باندازِ عتاب
 اپنی حد سے آگے بڑھ جائیں نہ بے باکانہ ہم 

 سیلِ گریہ میں نہ بہہ جائے کہیں قصرِ وفا
 دشتِ غربت میں ہیں سر گرداں بنا کاشانہ ہم 

لیجیئے  لے جائیے اسبابِ عنوانِ طرب
 بھیک  میں کب مانگتے ہیں  بادہ  و  پیمانہ ہم 

 پھر محبّت میں ہماری حسرتوں کا خوں ہوا
 پھر  تری محفل میں  آ کر بن  گئے افسانہ ہم 

گاہ قربت کی تمنّا  گاہ  فرقت کی طلب
 کیا کریں  اس بے وفا کو  اے دلِ دیوانہ ہم 

 چپ رہیں ناظرؔ تو چیخ اٹھتی ہے اپنی بے بسی 
 ہو گئے مہمان اپنے گھر میں  صاحب خانہ ہم 
٭٭٭






عشرت وصل نہ  دو  گریہ کناں رہنے دو
میں جہاں ہوں شب فرقت مری جاں رہنے دو

راز دل کہہ کے بھی حیراں ہوں کہ تم کو شک ہے
مجھ کو  جھوٹا نہ  کہو  ، وہم  و  گماں رہنے دو

عالم  جور و  ستم  سے  ہو  توقع کیسی
کوئی  شکوہ نہ کرو آہ  و  فغاں رہنے دو

اپنے  خوابوں  کی  تباہی  نہیں  دیکھی  جاتی
میری  امید  کو در  پردۂ  جاں رہنے دو

غور  کرنا ہے کرو اپنی رواداری  پر
میرے اشکوں  کے سمندر  کو  رواں رہنے دو

بعد از مرگ تمنا کوئی  رستہ  نہ  رہا 
بھول جاؤ  مجھے  ،  اقرار زباں رہنے دو

التفات نگہ  یار  ہے  دھوکہ ناظرؔ 
کھل  گیا  بھید  مگر  بات  نہاں  رہنے  دو
٭٭٭



سوئے  ہوئے  فتنوں کو جگا دیتی ہیں اکثر
"کافر تری آنکھوں کی شرارت نہیں جاتی "
دیوانگیِ شوق  میں ہوں  رنج سے خو گر 
بے لوث ہوں ناظرؔ مری فطرت نہیں جاتی
٭٭٭

ادائے  حسن  جاناں  کی  شرارت کم نہیں ہوتی
 مگر اس پر بھی میرے دل کی وحشت کم نہیں ہوتی

 امیروں سے مراسم  کا  تو  شیوہ  عام ہے  لیکن 
 غریبی میں کسی  کی  قدر  و  قیمت کم نہیں ہوتی

سنا جب اس نے  میں دلگیر ہوں لکھا ہے  یہ  مجھ کو
 جلا  پاتی  ہے  فرقت  میں  محبت کم نہیں ہوتی

گزر جاتا ہے بے شک راستہ باتوں ہی باتوں میں 
  ’’کسی کے  ساتھ چلنے سے مسافت کم نہیں ہوتی"

خدا تجھ کو  ہمیشہ  دے  زیادہ  سے  زیادہ  دے 
 ضرورتمند  کو  دینے سے  دولت کم نہیں ہوتی

  کہیں قسمت میں ہوتا ہے کہ الجھیں خارزاروں میں 
  کہیں  تو رنگ  سوسن  کی  اذیت کم نہیں ہوتی

خدا جانے  بدل جاتی ہیں  نظریں  کیسے لوگوں کی
 شریفوں میں تو آپس کی مروت کم نہیں ہوتی

اسی کے دل سے پوچھو جس کے گھر پر َآئی بربادی
  زبانی  باز  پرسی سے  مصیبت کم نہیں ہوتی

نچھاور کر دو  چند  اشعار  ناظرؔ  بزم  جاناں  پر
 غم دوراں  سے مل جائے جو فرصت کم نہیں ہوتی ا
٭٭٭


 
عشق  ہے  تو  وفا کرنا
کیوں  بھلا  دل  برا کرنا

مسکراہٹ  لبوں  پر ہو
اس  طرح  سے  ملا کرنا

زندگی  ہے  بہت مشکل
تم  نہ  ہرگز جفا کرنا

ڈس نہ لے آپ کی دوری
ساتھ  میرے  رہا کرنا

درد  و غم سے مفر کب ہے 
کیوں  کسی کا  گلا کرنا

رات بھر  کی رفاقت ہے 
شمع  سے  کیا  جلا کرنا

جی رہے  ہیں بلا رغبت
دشت میں اور  کیا کرنا

آبلے  پھوٹ کر  روئے 
اور  کب تک  چلا کرنا

ناظرؔ اب ہے کہاں ممکن
اس کو خود سے جدا کرنا
٭٭٭





محبت دل میں باقی ہے جوانی آنکھ سے اوجھل 
 نگاہوں میں اجل ہے زندگانی آنکھ سے اوجھل

اسی کا نام ہے شاید  سفر میں دوری منزل
سرابوں پر گماں پانی کا پانی آنکھ سے اوجھل

تسلی دے رہا ہے چارہ گر  کیوں  نا امیدی میں 
نہیں ہے جب کسی کی جاں ستانی آنکھ سے اوجھل 

نہ اس  کا  لا اُبالی پن  کوئی  پارینہ قصہ ہے
نہ اپنے  دشمنوں کی بدگمانی آنکھ سے اوجھل

ستمگر  تیغ زن  پہچان  لے  گا اپنے ناظرؔ کو 
بھلا  کیسے رہے گی سخت جانی آنکھ سے اوجھل 
٭٭٭






شیوۂ تغافل  کیوں  اپنے ہی  دوانے سے 
روٹھ جائے گی دنیا تیرے روٹھ جانے سے 

گھر کھنڈر کی صورت ہے بام و در پرانے سے 
تیرا  کیا  بھلا ہو گا میرے لوٹ آنے سے 

چاند کی  طرح  تم کو  دو گھڑی نہیں فرصت 
دن تمام  سونے سے ، رات بھر جگانے سے 

سر کہاں چھپائیں گے  ،  بجلیاں کڑکتی ہیں 
جائیں  تو کہاں جائیں اپنے آشیانے سے 

دل  محیطِ گریہ  ہے  قہرِ دشت گردی میں 
ہم  کو  آ گیا جینا  رنج  و  غم اٹھانے سے 

جنبشِ  لبِ جاناں  کاش  رمزِ الفت ہو 
آس  ہو گئی  مجھ  کو  اُن کے مسکرانے سے 

طاعتِ دل و جاں ہے بندگی حقیقت میں 
سجدہ ہو  نہیں سکتا  صرف  سر جھکانے سے 

بابِ  قصرِ الفت کو  تم  نے  بند رکھا تھا 
ورنہ  آ گئے  ہوتے  ہم  کسی بہانے سے 

صیدِ  قوسِ ابرو  کا تھا  فِرار  نا ممکن 
تیر  کیا  خطا ہوتا آپ  کا نشانے سے 

یادِ  عہدِ رفتہ  کاہے  غبار  سا  دل  پر 
ہے پھوار کا امکاں  بادلوں  کے چھانے سے 

چشم پوشی  خوباں  راس  آ گئی  مجھ کو 
میری بے نیازی بھی  لگ  گئی ٹھکانے سے 

رحمتِ  خدا  دیکھو  کیسے جوش میں آئی 
کھل  گیا درِ  توبہ میرے کھٹکھٹانے سے 

کاروانِ اہلِ دل رک نہ جائے رستے میں 
رہ  گیا  ہوں میں پیچھے پاؤں لڑکھڑانے سے 

وحشتِ  بیاباں میں  لو لگائے بیٹھا ہوں 
کچھ  خبر  نہیں  آئی  جانِ جاں زمانے سے 

اُن  سے کیا توقّع ہو  بخت آزمائی  کی 
جن  پہ  آئے  ہوں  پتھر  پیڑ کو ہلانے سے 

تا  اجل ،  تمنّا ہے ، بے قرار  دنیا میں 
بانٹتا رہوں  خوشیاں  میں  ترے خزانے سے 

تلخی غمِ  ہجراں ہے عذابِ  جاں ناظرؔ 
جانے  کیا  ملا  اس کو  میرا  دل دُکھانے سے 
٭٭٭






کھائی  ہیں ٹھوکریں  وہ  محبت  کی راہ میں
دنیا  کا  کچھ حساب  نہیں ہے نگاہ میں

کرتا ہوں  پیار میں ترے قدموں میں لوٹ کر
کیا فرق  ورنہ مجھ  میں  کسی  سنگ راہ میں

یارب عزیز  دوست  کا  اب اعتبار کیا
خود بھائی جب  دھکیل دیں یوسف کو چاہ میں

ہم کو  جلا کے  پائے  گی دنیا  کہاں سکوں
کتنا  اثر  ہے  دیکھو  غریبوں  کی  آہ میں

تجھ سے کوئی  گلہ نہیں  دنیا سے ہے  گلہ
کیا کچھ  نہیں  ملا  ہے  تری بارگاہ میں

روتے ہوئے گھروں میں مسرت بکھیر دے
 ہو جا وگرنہ غرق تمنائے جاہ میں

لذت کشی بقدر ہوس چاہیئے مجھے
منظور  زندگی نہیں  ناظرؔ  گناہ میں
٭٭٭

 



بیزار  ہو گیا  ہوں  میں  خود ہی زندگی سے 
تہمت  نہیں  کسی پر  شکوہ نہیں کسی سے 

مجبور  ہیں کہ پوچھیں ہم لوگ  عاجزی سے 
پیش  آؤ گے کہاں تک بیجا  ہماہمی سے 

شاکی  ہے اک زمانہ  جس کی قلندری سے 
وہ  بے زباں مسافر زندہ ہے کب خوشی سے 

اب تک نواحِ  جاں میں کچھ زخم ہیں پرانے 
جو تازہ ہو رہے ہیں اپنوں کی بے رخی سے 

غربت  میں دھوپ نے کیا جھلسا دیا بدن کو 
نفرت  سی ہو گئی ہے سورج کی روشنی سے 

تیرے بغیر  میرا  ہونا بھی  ہے عدم  سا 
جیسے  نکل  گیا  ہوں  اپنی برادری سے 

میرا  قصور  کیا  ہے  الزام دے نہ مجھ پر 
چہرہ  ہے سرخ  تیرا  زلفوں کی برہمی سے 

وعدہ  وفا  نہ  کرنا  ہو گی  سرشت  لیکن 
تم جھوٹ بولتے ہو  کس خوبصورتی سے 

سیلِ سرشکِ  غم سے دامن  ہے  تر  ہمارا 
مدہوش کب  ہوئے ہیں افراطِ میکشی سے 

رو  رو کے ہم نے کی ہے  گلشن کی آبیاری 
ورنہ  یہ سوکھ  جاتا برسات کی کمی سے 

ناظرؔ  غزل سرائی  اب  مانگتی ہے ہم سے 
نغمات غیر  فانی  اشعار سرمدی سے 
٭٭٭





 
رو رہے  ہیں کب سے ہم  اپنے  گھر کی یاد میں 
صحن  گل کی یاد  میں بام و  در کی یاد میں 

ہائے دل  کو کیا کروں  جو سنبھلتا  ہی نہیں 
ہو گیا  بیمار  میں  چارہ گر کی یاد میں 

ہم اسیران قفس  کیا کریں بیداد گر 
نیند بھی آتی نہیں بال و  پر کی یاد میں 

لاکھ بہتر مجھ  سے ہے وہ مری شمع  امل 
رات  بھر  جلتی  رہی جو  سحر کی یاد میں 

دشت گردی نے کیا گو  کہ  آزردہ مجھے 
جھک گئی  میری  جبیں تیرے در کی یاد میں 

زندگی کی  فکر  کیا بے خطر کٹ جائے گی 
 دن غموں کی دھوپ میں شب قمر کی یاد میں 

مرگیا ناظرؔ  کہیں تم کو آرام  آ گیا 
ہاتھ اب  ملتے  رہو  ہمسفر کی یاد میں 
٭٭٭

٭٭٭
مرحوم عبد اللہ ناظر کی اجازت اور سلیم باشوار کے تشکر کے ساتھ
ماخذ: سلیم باشوار کی مہیا کردہ فائلیں اور 
http://abdullahnazir.com

