﻿

دیوان منصور آفاق






منصور آفاق







ردیف الف


جتنے موتی گرے آنکھ سے جتنا تیرا خسارا ہوا
دست بستہ تجھے کہہ رہے ہیں وہ سارا ہمارا ہوا

آ گرا زندہ شمشان میں لکڑیوں کا دھواں دیکھ کر
اک مسافر پرندہ کئی سرد راتوں کا مارا ہوا

ہم نے دیکھا اسے بہتے سپنے کے عرشے پہ کچھ دیر تک
پھر اچانک چہکتے سمندر کا خالی کنارا ہوا

جا رہا ہے یونہی بس یونہی منزلیں پشت پر باندھ کر
اک سفرزاد اپنے ہی نقشِ قدم پر اتارا ہوا

زندگی اک جوا خانہ ہے جسکی فٹ پاتھ پر اپنا دل
اک پرانا جواری مسلسل کئی دن کا ہارا ہوا

تم جسے چاند کا چاند کہتے ہو منصور آفاق وہ
ایک لمحہ ہے کتنے مصیبت زدوں کا پکارا ہوا
٭٭٭



بدن کے قفل چٹختے تھے اسم ایسا تھا
نگار خانۂ جاں کا طلسم ایسا تھا

دہکتے ہونٹ اسے چھونے کو مچلتے تھے
سیہ گلابوں کی جیسی ہے قسم ایسا تھا

لبوں پہ جیسے دراڑیں ، کٹے پھٹے رخسار
کسی فراق کے پانی کا رِسم ایسا تھا

کسی کا پاؤں اٹھا رہ گیا کسی کا ہاتھ
تمام شہر تھا ساکت ، طلسم ایسا تھا

رکا تھا وقت کا ناقوس بھی تحیر سے
بریدِ چاک سے مٹی کا بسم ایسا تھا

یہ اور بات کہ شیشہ تھا درمیاں منصور
چراغ ہوتا ہے جیسے وہ جسم ایسا تھا
٭٭٭




اسے بھی ربطِ رہائش تمام کرنا تھا
مجھے بھی اپنا کوئی انتظام کرنا تھا

نگار خانے سے اس نے بھی رنگ لینے تھے
مجھے بھی شام کا کچھ اہتمام کر نا تھا

بس ایک لنچ ہی ممکن تھا جلدی جلدی میں 
اسے بھی جانا تھا میں نے بھی کام کرنا تھا

چراغ جلتے تھے جس کے اک ایک آسن میں 
اُس ایک رات کا کیا اختتام کرنا تھا

بس ایک رات بھی گزری نہیں وہاں منصور
تمام عمر جہاں پر قیام کرنا تھا


(جس دوست کو جہاں کے بعد ’’پر‘‘ کے استعمال اعتراض ہو وہ مصرعہ یوں پڑھ لیں ۔۔۔
جہاں جہاں مجھے برسوں قیام کرنا تھا)
٭٭٭




یہ الگ اس مرتبہ بھی پشت پر خنجر لگا
یہ الگ پھر زخم پچھلے زخم کے اندر لگا

مجھ سے لپٹی جا رہی ہے بیل جیسی کوئی شام
یاد کے برسوں پرانے پیڑ کو کینسر لگا

موت کی ٹھنڈی گلی سے بھاگ کر آیا ہوں میں 
کھڑکیوں کو بند کر ، جلدی سے اور ہیٹر لگا

بند کر دے روشنی کا آخری امکان بھی
روزنِ دیوار کو مٹی سے بھر ، پتھر لگا

ایک لمحے کی عبادت کیا بلندی دے گئی
جیسے ہی سجدے سے اٹھا ، آسماں سے سر لگا

پھیر مردہ بالوں میں اب اپنی نازک انگلیاں 
یہ ملائم ہاتھ میرے سرد چہرے پر لگا

ہجر ہے برداشت سے باہر تو بہتر ہے یہی
چل کے کوئے یار کے فٹ پاتھ پر بستر لگا

لگ رہا ہے غم ، اداسی کھل رہی ہے شاخ شاخ
باغِ ہجراں کو نہ اتنا آبِ چشمِ تر لگا


اتنی ویراں شاٹ میں تتلی کہاں سے آئے گی
پھول کی تصویر کے پیچھے کوئی منظر لگا
 
اک قیامت خیز بوسہ اس نے بخشا ہے تجھے
آج دن ہے ، لاٹری کے آج چل نمبر لگا
٭٭٭



ہم میں رہتا ہے کوئی شخص ہمارے جیسا
آئینہ دیکھیں تو لگتا ہے تمہارے جیسا

بجھ بجھا جاتا ہے یہ بجھتی ہوئی رات کے ساتھ
دل ہمارا بھی ہے قسمت کے ستارے جیسا

کچھ کہیں ٹوٹ گیا ٹوٹ گیا ہے ہم میں 
اپنا چہرہ ہے کسی درد کے مارے جیسا

لے گئی ساتھ اڑا کر جسے ساحل کی ہوا
ایک دن تھا کسی بچے کے غبارے جیسا

جا رہا ہے کسی دلہن کا جنازہ شاید
جھیل میں بہتے ہوئے سرخ شکارے جیسا

کشتیاں بیچ میں چلتی ہی نہیں ہیں منصور
اک تعلق ہے کنارے سے کنارے جیسا
٭٭٭





پابجولاں کیا مرا سورج گیا تھا
صبح کے ماتھے پہ آ کر سج گیا تھا

وہ بھی تھی لپٹی ہوئی کچھ واہموں میں 
رات کا پھر ایک بھی تو بج گیا تھا

کوئی آیا تھا مجھے ملنے ملانے
شہر اپنے آپ ہی سج دھج گیا تھا

پہلے پہلے لوٹ جاتا تھا گلی سے
رفتہ رفتہ بانکپن کا کج گیا تھا

مکہ کی ویران گلیاں ہو گئی تھیں 
کربلا کیا موسمِ  ذوالحج گیا تھا

تُو اسے بھی چھوڑ آیا ہے اسے بھی
تیری خاطر وہ جو مذہب تج گیا تھا

وہ مرے سینے میں شاید مر رہا ہے 
جو مجھے دے کر بڑی دھیرج گیا تھا

کتنی آوازوں کے رستوں سے گزر کر
گیت نیلی بار سے ستلج گیا تھا


پاؤں بڑھ بڑھ چومتے تھے اڑتے پتے
تازہ تازہ باغ میں اسوج گیا تھا

وہ جہاں چاہے کرے منتج ، گیا تھا
رات کی محفل میں کل سورج گیا تھا
٭٭٭




میں بدنصیب تھا احمق تھا پیش و پس میں رہا
تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا

میں ایک شیش محل میں قیام رکھتے ہوئے
کسی فقیر کی کٹیا کے خاروخس میں رہا

سمندروں کے اُدھر بھی تری حکومت تھی
سمندروں کے اِدھر بھی میں تیرے بس میں رہا

کسی کے لمس کی آتی ہے ایک شب جس میں 
کئی برس میں مسلسل اسی برس میں رہا

گنہ نہیں ہے فروغ بدن کہ جنت سے
یہ آبِ زندگی ، سر چشمۂ ہوس میں رہا

مرے افق پہ رکی ہے زوال کی ساعت
یونہی ستارہ مرا ، حرکت ِ عبث میں رہا

کنارے ٹوٹ گرتے رہے ہیں پانی میں 
عجب فشار مرے موجۂ نفس میں رہا

وہی جو نکھرا ہوا ہے ہر ایک موسم میں 
وہی برش میں وہی میرے کینوس میں رہا

قدم قدم پہ کہانی تھی حسن کی لیکن
ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے قصص میں رہا

جسے مزاج جہاں گرد کا ملا منصور
تمام عمر پرندہ وہی قفس میں رہا
٭٭٭



موجوں کے آس پاس کوئی گھر بنا لیا
بچے نے اپنے خواب کا منظر بنا لیا

اپنی سیاہ بختی کا اتنا رکھا لحاظ
گوہر ملا تو اس کو بھی کنکر بنا لیا 

بدلی رُتوں کو دیکھ کے اک سرخ سا نشاں 
ہر فاختہ نے اپنے پروں پر بنا لیا 

شفاف پانیوں کے اجالوں میں تیرا روپ 
دیکھا تو میں نے آنکھ کر پتھر بنا لیا 

ہر شام بامِ دل پہ فروزاں کئے چراغ
اپنا مزار اپنے ہی اندر بنا لیا

پیچھے جو چل دیا میرے سائے کی شکل میں 
میں نے اُس ایک فرد کو لشکر بنا لیا

اس کی گلی تھی جاں سے گزرنا تھا زندگی
سو موت کو حیات سے بہتر بنا لیا 

شاید ہر اک جبیں کا مقدر ہے بندگی
مسجد اگر گرائی تو مندر بنا لیا

کھینچی پلک پلک کے برش سے سیہ لکیر
اک دوپہر میں رات کا منظر بنا لیا

پھر عرصۂ دراز گزارا اسی کے بیچ
اک واہموں کا جال سا اکثر بنا لیا

بس ایک بازگشت سنی ہے تمام عمر
اپنا دماغ گنبدِ  بے در بنا لیا

باہر نکل رہے ہیں ستم کی سرنگ سے
لوگوں نے اپنا راستہ مل کر بنا لیا

گم کربِ  ذات میں کیا یوں کربِ  کائنات
آنکھوں کے کینوس پہ سمندر بنا لیا 

منصور بام و در پہ جلا کر چراغِ دل
ہجراں کو میں نے کوچۂ دلبر بنا لیا
٭٭٭




اِس جا نمازِ خاک کے اوپر بنا ہوا
ہوتا تھا آسماں کا کوئی در بنا ہوا

دیوار بڑھ رہی ہے مسلسل مری طرف
اور ہے وبالِ دوش مرا سر بنا ہوا

آگے نہ جا کہ دل کا بھروسہ نہیں کوئی
اس وقت بھی ہے غم کا سمندر بنا ہوا 

اک زخم نوچتا ہوا بگلا کنارِ آب
تمثیل میں تھا میرا مقدر بنا ہوا 

ممکن ہے کوئی جنتِ فرضی کہیں پہ ہو
دیکھا نہیں ہے شہر ہوا پر بنا ہوا

گربہ صفت گلی میں کسی کھونسلے کے بیچ
میں رہ رہا ہوں کوئی کبوتر بنا ہوا

ہر لمحہ ہو رہا ہے کوئی اجنبی نزول
لگتا ہے آسماں کا ہوں دلبر بنا ہوا

پردوں پہ جھولتے ہوئے سُر ہیں گٹار کے
کمرے میں ہے میڈونا کا بستربنا ہوا


یادوں کے سبز لان میں پھولوں کے اس طرف
اب بھی ہے آبشار کا منظر بنا ہوا

ٹینس کا کھیل اور وہ بھیگی ہوئی شعاع
تھا انگ انگ جسم کا محشر بنا ہوا
٭٭٭




 دیواروں پر تمام دروں پر بنا ہوا
ہے موت کا نشان گھروں پر بنا ہوا

بس زندگی ہے آخری لمحوں کے آس پاس
محشر کوئی ہے چارہ گروں پر بنا ہوا

آتا ہے ذہن میں یہی دستار دیکھ کر
اک سانپ کاہے نقش سروں پر بنا ہوا

ناقابلِ بیاں ہوئے کیوں اس کے خد و خال
یہ مسئلہ ہے دیدہ وروں پر بنا ہوا

کیا جانے کیا لکھا ہے کسی نے زمین کو
اک خط ہے بوجھ نامہ بروں پر بنا ہوا

اک نقش رہ گیا ہے مری انگلیوں کے بیچ
منصور تتلیوں کے پروں پر بنا ہوا
٭٭٭




آئے نظر جو روحِ مناظر بنا ہوا
ہو گا کسی کے ہاتھ سے آخر بنا ہوا

یہ کون جا رہا ہے مدینے سے دشت میں 
ہے شہر سارا حامی و ناصر بنا ہوا

پر تولنے لگا ہے مرے کینوس پہ کیوں 
امکان کے درخت پہ طائر بنا ہوا

یہ اور بات کھلتا نہیں ہے کسی طرف
ہے ذہن میں دریچہ بظاہر بنا ہوا

آغوش خاک میں جسے صدیاں گزر گئیں 
وہ پھر رہا ہے جگ میں مسافر بنا ہوا

فتوی دو میرے قتل کا فوراً جنابِ شیخ
میں ہوں کسی کے عشق میں کافر بنا ہوا

کیا قریۂ کلام میں قحط الرجال ہے
منصور بھی ہے دوستو شاعر بنا ہوا
٭٭٭



ہاتھ سے ہنگامِ محشر رکھ دیا
گردشِ دوراں پہ ساغر رکھ دیا

اک نظر دیکھا کسی نے کیا مجھے
بوجھ کہساروں کا دل پر رکھ دیا

پانیوں میں ڈوبتا جاتا ہوں میں 
آنکھ میں کس نے سمندر رکھ دیا

اور پھر تازہ ہوا کے واسطے
ذہن کی دیوار میں در رکھ دیا

ٹھوکروں کی دلربائی دیکھ کر
پاؤں میں اس کے مقدر رکھ دیا

دیکھ کر افسوس تارے کی چمک
اس نے گوہر کو اٹھا کر رکھ دیا

ایک ہی آواز پہنی کان میں 
ایک ہی مژگاں میں منظر رکھ دیا

نیند آور گولیاں کچھ پھانک کر
خواب کو بسترسے باہر رکھ دیا

دیدۂ تر میں سمندر دیکھ کر
اس نے صحرا میرے اندر رکھ دیا

میں نے اپنا استعارہ جان کر 
ریل کی پٹڑی پہ پتھر رکھ دیا

رکھتے رکھتے شہر میں عزت کا پاس
ہم نے گروی ایک دن گھر رکھ دیا

میری مٹی کا دیا تھا سو اسے 
میں نے سورج کے برابر رکھ دیا

خانۂ دل سے اٹھا کر وقت نے
بے سرو ساماں ،سڑک پر رکھ دیا


جو پہن کو آتی ہے زخموں کے پھول
نام اس رُت کا بھی چیتر رکھ دیا

کچھ کہا منصور اس نے اور پھر
میز پر لا کے دسمبر رکھ دیا
٭٭٭



ہجر میں شوقِ نظارہ رکھ دیا
رات پر اپنا اجارہ رکھ دیا

خاک پر بھیجا مجھے اور چاند پر
میری قسمت کا ستارہ رکھ دیا

بچ بچا کر کوزہ گر کی آنکھ سے
چاک پر خود کو دوبارہ رکھ دیا

دیکھ کر بارود صحنِ ذات میں 
اس نے خواہش کا شرارہ رکھ دیا

ریل گاڑی سے نکلتی کوک کو
غم نے اپنا استعارہ رکھ دیا

دور تک نیلا سمندر دیکھ کر
میں نے کشتی میں کنارہ رکھ دیا
٭٭٭



تری طلب نے ترے اشتیاق نے کیا کیا
فروزاں خواب کئے شمعِ طاق نے کیا کیا

میں جا رہا تھا کہیں اور عمر بھر کیلئے
بدل دیا ہے بس اک اتفاق نے کیا کیا

عشائے غم کی تلاوت رہے تہجد تک
سکھا دیا ہے یہ دینِ فراق نے کیا کیا

تباہ حال ہیں عاشق مزاج آنکھیں بھی
دکھائے غم ہیں دلِ چست و چاق نے کیا کیا

وہ لب کھلے تو فسانہ بنا لیا دل نے
گماں دئیے ترے حسنِ  مذاق نے کیا کیا

مقامِ خوک ہوئے دونوں آستانِ وفا
ستم کیے ہیں دلوں پر نفاق نے کیا کیا

ہر ایک دور میں چنگیزیت مقابل تھی
لہو کے دیپ جلائے عراق نے کیا کیا

ہر اک مکاں ہے کسی قبر پر کھڑا منصور
چھپا رکھا ہے زمیں کے طباق نے کیا کیا
٭٭٭




خوابِ  وصال میں بھی خرابہ اتر گیا
گالی لہک اٹھی کبھی جوتا اتر گیا

میں نے شبِ  فراق کی تصویر پینٹ کی
کاغذ پہ انتظار کا چہرہ اتر گیا

کوئی بہشتِ دید ہوا اور دفعتاً
افسوس اپنے شوق کا دریا اتر گیا

رش اتنا تھا کہ سرخ لبوں کے دباؤ سے
اندر سفید شرٹ کے بوسہ اتر گیا

اس نرس کے مساج کی وحشت کا کیا کہوں 
سارا بخار روح و بدن کا اتر گیا

کچھ تیز رو گلاب تھے کھائی میں جا گرے
ڈھلوان سے بہار کا پہیہ اتر گیا

منصور جس میں سمت کی مبہم نوید تھی
پھر آسماں سے وہ بھی ستارہ اتر گیا
٭٭٭




زمیں پلٹی تو الٹا گر پڑا تھا
فلک پر اس کا ملبہ گر پڑا تھا

میں تشنہ لب پلٹ آیا کہیں سے
کنویں میں کوئی کتا گر پڑا تھا

سُکھانا چاہتا تھا خواب لیکن 
ٹشو پیپر پہ آنسو گر پڑا تھا

مری رفتار کی وحشت سے ڈر کر
کسی کھائی میں رستہ گر پڑا تھا

رکابی تھی ذرا سی ، اور اس پر 
کوئی چاول کا دانہ گر پڑا تھا

مرے کردار کی آنکھیں کھلی تھیں 
اور اس کے بعد پردہ گر پڑا تھا

مری سچائی میں دہشت بڑی تھی
کسی چہرے سے چہرہ گر پڑا تھا

بس اک موجِ سبک سر کی نمو سے
ندی میں پھر کنارہ گر پڑا تھا


مرے چاروں طرف بس کرچیاں تھیں 
نظر سے اک کھلونا گر پڑا تھا

اٹھا کر ہی گیا تھا اپنی چیزیں 
بس اس کے بعد کمرہ گر پڑا تھا

اٹھایا میں نے پلکوں سے تھا سپنا
اٹھاتے ہی دوبارہ گر پڑا تھا

نظر منصور گولی بن گئی تھی
ہوا میں ہی پرندہ گر پڑا تھا
٭٭٭



اتنا تو تعلق نبھاتے ہوئے کہتا
میں لوٹ کے آؤں گا وہ جاتے ہوئے کہتا

پہچانو مجھے ۔میں وہی سورج ہوں تمہارا
کیسے بھلا لوگوں کو جگاتے ہوئے کہتا

یہ صرف پرندوں کے بسیرے کیلئے ہے
انگن میں کوئی پیڑ لگاتے ہوئے کہتا

ہر شخص مرے ساتھ اناالحق سرِ منزل
آواز سے آواز ملاتے ہوئے کہتا

اک موجِ مسلسل کی طرح نقش ہیں میرے
پتھر پہ میں اشکال بناتے ہوئے کہتا

اتنا بھی بہت تھا مری مایوس نظر کو
وہ دور سے کچھ ہاتھ ہلاتے ہوئے کہتا

یہ تیرے عطا کردہ تحائف ہیں میں کیسے
تفصیل مصائب کی بتاتے ہوئے کہتا

موسم کے علاوہ بھی ہو موجوں میں روانی
دریا میں کوئی نظم بہاتے ہوئے کہتا

عادت ہے چراغ اپنے بجھانے کی ہوا کو
کیا اس سے کوئی شمع جلاتے ہوئے کہتا

میں اپنی محبت کا فسانہ اسے منصور
محفل میں کہاں ہاتھ ملاتے ہوئے کہتا
٭٭٭



تمہیں یہ پاؤں سہلانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا
سفر رستہ رہے گا بس ، کبھی منزل نہیں ہو گا 

مجھے لگتا ہے میری آخری حد آنے والی ہے
جہاں آنکھیں نہیں ہوں گی دھڑکتا دل نہیں ہو گا

محبت کے سفر میں تیرے وحشی کو عجب ضد ہے 
وہاں کشتی سے اترے گا جہاں ساحل نہیں ہو گا 

مری جاں  ویری سوری  اب کبھی چشمِ  تمنا سے
یہ اظہارِ  محبت بھی سرِمحفل نہیں ہو گا 

سکوتِ  دشت میں کچھ اجنبی سے نقشِ  پا ہوں گے
کوئی ناقہ نہیں ہو گا کہیں محمل نہیں ہو گا 

ذرا تکلیف تو ہو گی مگر اے جانِ تنہائی
تجھے دل سے بھلا دینا بہت مشکل نہیں ہو گا

یہی لگتا ہے بس وہ شورشِ  دل کا سبب منصور
کبھی ہنگامۂ تخلیق میں شامل نہیں ہو گا 
٭٭٭




یہی پیام مکاں کی پلیٹ پر لکھا
یہ منتظر ہے تمہارا ، یہ گیٹ پر لکھا 

پھر ایک تازہ تعلق کو خواب حاضر ہیں 
مٹا دیا ہے جو پہلے سلیٹ پر لکھا

میں دستیاب ہوں ، اک بیس سالہ لڑکی نے
جوارِ ناف میں ہیروں سے پیٹ پر لکھا

لکھا ہوا نے کہ بس میری آخری حد ہے
’اب اس اڑان سے اپنے سمیٹ پر‘ لکھا

جہانِ برف پگھلنے کے بین لکھے ہیں 
ہے نوحہ آگ کی بڑھتی لپیٹ پر لکھا

جنابِ  شیخ کے فرمان قیمتی تھے بہت
سو میں نے تبصرہ ہونٹوں کے ریٹ پر لکھا

ہے کائنات تصرف میں خاک کے منصور
یہی فلک نے زمیں کی پلیٹ پر لکھا 
٭٭٭



آنکھیں مری تھیں جھیل سا سپنا کہیں کا تھا
مرغابیوں کا سرمئی جوڑا کہیں کا تھا

اے دھوپ گھیر لائی ہے میری ہوا جسے
وہ آسماں پہ ابر کا ٹکرا کہیں کا تھا

کچھ میں بھی تھک گیا تھا طوالت سے شام کی
کچھ اس کا انتظار کمینہ کہیں کا تھا

جلنا کہاں تھا دامنِ شب میں چراغِ غم
پھیلا ہوا گلی میں اجالا کہیں کا تھا

حیرت ہے جا رہا ہے ترے شہر کی طرف
کل تک یہی تو تھا کہ یہ رستہ کہیں کا تھا

پڑھنے لگا تھا کوئی کتابِ وفا مگر
تحریر تھی کہیں کی ، حوالہ کہیں کا تھا

چہرہ بھی اپنا تھا ، مری آنکھیں بھی اپنی تھیں 
شیشے میں عنکبوت کا جالا کہیں کا تھا

آخر خبر ہوئی وہی میرا مکان ہے
منظر جو آنکھ کو نظر آتا کہیں کا تھا
    
کھلتی کسی چراغ پہ کیسے شبِ فراق
آنکھیں کہیں لگی تھیں دریچہ کہیں کا تھا

کیا پوچھتے ہو کتنی کشش ہے گناہ میں 
آیا کہیں ہوں اور ارادہ کہیں کا تھا

اتری کہیں پہ اور مرے وصل کی اڑان
منصور پاسپورٹ پہ ویزہ کہیں کا تھا
٭٭٭



جب قریۂ فراق مری سرزمیں ہوا
برق تجلٰی اوڑھ لی سورج نشیں ہوا

جا کر تمام زندگی خدمت میں پیش کی
اک شخص ایک رات میں اتنا حسیں ہوا

میں نے کسی کے جسم سے گاڑی گزار دی
اور حادثہ بھی روح کے اندر کہیں ہوا

ڈر ہے کہ بہہ نہ جائیں در و بام آنکھ کے
اک اشک کے مکاں میں سمندر مکیں ہوا

ہمت ہے میرے خانۂ دل کی کہ بار بار
لٹنے کے باوجود بھی خالی نہیں ہوا

منظر جدا نہیں ہوا اپنے مقام سے
ہونا جہاں تھا واقعہ بالکل وہیں ہوا

کھڑکی سے آ رہا تھا ابھی تو نظر مجھے
یہ خانماں خراب کہاں جاگزیں ہوا

سینے کے بال چھونے لگی ہے دھکتی سانس
منصور کون یاد کے اتنے قریں ہوا
٭٭٭




اس نے پہلے مارشل لاء مرے آنگن میں رکھا 
میری پیدائش کا لمحہ پھر اسی سن میں رکھا

صحن میں پھیلی ہوئی ہے گوشت جلنے کی سڑاند
جیسے سینے میں نہیں کچھ اس نے اوون میں رکھا 

جب سوئمنگ پول کے شفاف پانی سے ملی
موتیوں والا فقط اک ہار گردن میں رکھا 

ہونٹ ہیٹر پہ رکھے تھے اس کے ہونٹوں پر نہیں 
تھا جہنم خیز موسم اس کے جوبن میں رکھا

سانپ کو اس نے اجازت ہی نہیں دی وصل کی
گھر کے دروازے سے باہر دودھ برتن میں رکھا 

میں اسے منصور بھیجوں کس لئے چیتر کے پھول
جس نے سارا سال مجھ کو غم کے ساون میں رکھا
٭٭٭




پیڑ پر شعر لگے ، شاخ سے ہجراں نکلا
اور اس ہجر سے پھر میرا دبستاں نکلا

رات نکلی ہیں پرانی کئی چیزیں اس کی
اور کچھ خواب کے کمرے سے بھی ساماں نکلا

نقش پا دشت میں ہیں میرے علاوہ کس کے
کیا کوئی شہر سے پھر چاک گریباں نکلا

خال و خد اتنے مکمل تھے کسی چہرے کے
رنگ بھی پیکرِ تصویر سے حیراں نکلا

لے گیا چھین کے ہر شخص کا ملبوس مگر
والی ِ شہر پناہ ، بام پہ عریاں نکلا

صبح ہوتے ہی نکل آئے گھروں سے پھر لوگ
جانے کس کھوج میں پھر شہرِ  پریشاں نکلا

وہ جسے رکھا ہے سینے میں چھپا کر میں نے
اک وہی آدمی بس مجھ سے گریزاں نکلا

زخمِ  دل بھرنے کی صورت نہیں کوئی لیکن
چاکِ دامن کے رفو کا ذرا امکاں نکلا


ترے آنے سے کوئی شہر بسا ہے دل میں 
یہ خرابہ تو مری جان ! گلستاں نکلا

زخم کیا داد وہاں تنگی ِ دل کی دیتا
تیر خود دامنِ ترکش سے پُر افشاں نکلا

رتجگے اوڑھ کے گلیوں کو پہن کے منصور
جو شبِ  تار سے نکلا وہ فروزاں نکلا
٭٭٭



آپ کا غم ہی علاجِ غم دوراں نکلا
ورنہ ہر زخم نصیب سر مژگاں نکلا

اور کیا چیز مرے نامۂ اعمال میں تھی 
آپ کا نام تھا بخشش کا جو ساماں نکلا

محشرِ نور کی طلعت ہے ،ذرا حشر ٹھہر
آج مغرب سے مرا مہر درخشاں نکلا

آپ کی جنبشِ لب دھر کی تقدیر بنی
چشم و ابرو کا چلن زیست کا عنواں نکلا

ظن و تخمینِ  خرد اور مقاماتِ حضور؟
شیخ عالم تھا مگر بخت میں ناداں نکلا

جب بھی اٹھی کہیں تحریک سحر کی منصور
 غور کرنے پہ وہی آپ کا احساں نکلا
٭٭٭



درد مرا شہباز قلندر ، دکھ ہے میرا داتا
شام ہے لالی شگنوں والی ، رات ہے کالی ماتا

اک پگلی مٹیار نے قطرہ قطرہ سرخ پلک سے
ہجر کے کالے چرخِ کہن پر شب بھرسورج کاتا

پچھلی گلی میں چھوڑ آیا ہوں کروٹ کروٹ یادیں 
اک بستر کی سندر شکنیں کون اٹھا کر لاتا

شہرِ تعلق میں اپنے دو ناممکن رستے تھے 
بھول اسے میں جاتا یا پھر یاد اسے میں آتا


ہجرت کر آیا ہے ایک دھڑکتا دل شاعر کا
پاکستان میں کب تک خوف کو لکھتا موت کو گاتا

مادھو لال حسین مرا دل ، ہر دھڑکن منصوری
ایک اضافی چیز ہوں میں یہ کون مجھے سمجھاتا

وارث شاہ کا وہ رانجھا ہوں ہیر نہیں ہے جس کی
کیسے دوہے بُنتا کیسے میں تصویر بناتا

ہار گیا میں بھولا بھالا ایک ٹھگوں کے ٹھگ سے
بلھے شاہ سا ایک شرابی شہر کو کیا بہکاتا


میری سمجھ میں آ جاتا گر حرف الف سے پہلا
باہو کی میں بے کا نقطہ بن بن کر مٹ جاتا

ذات محمد بخش ہے میری۔۔شجرہ شعر ہے میرا
اذن نہیں ہے ورنہ ڈیرہ قبرستان لگاتا

میں ہوں موہجوداڑو۔مجھ میں تہذیبوں کی چیخیں 
ظلم بھری تاریخیں مجھ میں ، مجھ سے وقت کا ناطہ

ایک اکیلا میں منصور آفاق کہاں تک آخر
شہرِ وفا کے ہر کونے میں تیری یاد بچھاتا
٭٭٭



پیر فرید کی روہی میں ہوں ، مجھ میں پیاس کا دریا
ڈوب گیا ہے تھل مارو میں میری آس کا دریا

عمرِ رواں کے ساحل پر اوقات یہی ہیں دل کے
صبح طلب کی بہتی کشتی ، شب وسواس کا دریا

سورج ڈھالے جاسکتے تھے ہر قطرے سے لیکن
یوں ہی بہایا میں نے اشکوں کے الماس کا دریا

جس کے اک اک لمحے میں ہے صدیوں کی خاموشی
میرے اندر بہتا جائے اس بن باس کا دریا

لوگ ہیں آبِ چاہ شباں کے لوگ حمام سگاں کے
شہر میں پانی ڈھونڈھ رہے ہو چھوڑ کے پاس کا دریا

تیری طلب میں رفتہ رفتہ میرے رخساروں پر
سوکھ رہا ہے قطرہ قطرہ تیز حواس کا دریا

سورج اک امید بھرا منصور نگر ہے لیکن
رات کو بہتا دیکھوں اکثر خود میں یاس کا دریا
٭٭٭


ایک حیرت کدہ ہے نگر رات کا
آسمانوں سے آگے سفر رات کا

بام و در تک گریزاں سویروں سے ہیں 
میرے گھر سے ہوا کیا گزر رات کا

صبح نو تیرے چہرے کے جیسی سہی
جسم ہے برگزیدہ مگر رات کا

چل رہا ہوں یونہی کب کڑی دھوپ میں 
آ رہا ہے ستارہ نظر رات کا

پوچھ منصور کی چشمِ بے خواب سے
کتنا احسان ہے شہر پر رات کا
٭٭٭


میں جنابِ صدر ملازمت نہیں چاہتا
مگر اب فریب کی سلطنت نہیں چاہتا 

مرا دین صبح کی روشنی مری موت تک
میں شبوں سے کوئی مصالحت نہیں چاہتا

میں حریصِ جاہ و حشم نہیں اِسے پاس رکھ
یہ ضمیر زر سے مباشرت نہیں چاہتا

کرے آ کے گفت و  شنید مجھ سے چراغ بس
کسی شب زدہ کی مشاورت نہیں چاہتا

میں کنارِ آب رواں نہیں شبِ یاد میں 
کسی چاندنی سے مناسبت نہیں چاہتا

مجھے موت تیرے محاصرے میں قبول ہے 
میں عدو سے کوئی مفاہمت نہیں چاہتا 

شبِ ظلم سے میں لڑوں گا آخری وار تک
کوئی ظالموں سے مطابقت نہیں چاہتا

مجھے جلتی کشتیاں دیکھنے کی طلب نہیں 
میں مزاحمت میں مراجعت نہیں چاہتا

مرے پاس اب کوئی راستہ نہیں صلح کا
مجھے علم ہے تُو مخالفت نہیں چاہتا

انہیں ’بھوربن‘ کی شکار گاہ عزیز ہے
ترا لشکری کوئی پانی پت نہیں چاہتا 
٭٭٭




تری ہر پرت میں کوئی پرت نہیں چاہتا 
میں پیاز ایسی کہیں صفت نہیں چاہتا 

اسے رقص گاہ میں دیکھنا کبھی مست مست 
مرے دوستو میں اسے غلط نہیں چاہتا 

کسی ذہن میں ، کسی خاک پر یا کتاب میں 
میں یزید کی کہیں سلطنت نہیں چاہتا

مرے چشم و لب میں کرختگی ہے شعور کی 
میں سدھارتھا، ترے خال و خط نہیں چاہتا

فقط ایک جام پہ گفتگو مری شان میں 
سرِ شام ایسی منافقت نہیں چاہتا

مرے ساتھ شہر نے جو کیا مجھے یاد ہے
میں کسی کی کوئی بھی معذرت نہیں چاہتا
٭٭٭



شکستِ جاں سے حصارِ الم کو توڑ دیا
ہزار ٹوٹ کے بھی طاقِ غم کو توڑ دیا

یہ   احتجاج  کا لہجہ  نہیں  بغاوت  ہے 
لکھے  کو آگ  لگا  دی  قلم کو  توڑ  دیا 

قریب تر کسی پب کے مری رہائش تھی 
اسی  قرابتِ  مے  نے  قسم کو  توڑ  دیا

قدم قدم پہ دلِ مصلحت زدہ رکھ کر
کسی نے راہِ  وفا کے بھرم کو توڑ دیا

ہزار بار کہانی میں میرے ہیرو نے 
دعا کی ضرب سے دستِ ستم کو توڑ دیا

سلام اس کی صلیبوں بھری جوانی پر
وہ جس نے موت کے جاہ و حشم کو توڑ دیا

یہ انتہائے کمالِ شعور ہے منصور
یہی کہ کعبۂ دل کے صنم کو توڑ دیا
٭٭٭



وہ بات نہیں کرتا، دشنام نہیں دیتا
کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا

بندوق کے دستے پر تحریر تھا امریکا
میں قتل کا بھائی کو الزام نہیں دیتا

کچھ ایسے بھی اندھے ہیں کہتے ہیں خدا اپنا
پیشانی پہ سورج کی کیوں نام نہیں دیتا

رستے پہ بقا کے بس قائم ہے منافع بخش
اُس پیڑ نے کٹنا ہے جو آم نہیں دیتا

اب سامنے سورج کے یہ اشکِ مسلسل کی
برسات نہیں چلتی ،غم کام نہیں دیتا

جو پہلے پہل مجھ کو بازار میں ملتے تھے
کوئی بھی خریدار اب وہ دام نہیں دیتا

بیڈ اپنا بدل لینا منصور ضروری ہے 
یہ خواب دکھاتا ہے ، آرام نہیں دیتا
٭٭٭



کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا
نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا

خواہشیں خالی گھڑے سر پہ اٹھا لائی ہیں 
کوئی دریا کوئی تالاب دکھائی دیتا 

ڈوبنے کو نہ سمندر نہ کوئی چشمِ  سیہ 
جام ہی میں کوئی گرداب دکھائی دتیا 

توُ وہ ریشم کہ مرا ٹاٹ کا معمولی بدن 
تیرے پیوند سے کمخواب دکھائی دیتا 

دوستو آگ بھری رات کہاں لے جاؤں 
کوئی خس خانہ و برفاب دکھائی دیتا

دل میں چونا پھری قبروں کے اِمیج ہیں منصور
کیسے میں زندہ و شاداب دکھائی دیتا
٭٭٭



گھر سے سفید داڑھی حاجی پہن کے نکلا
پھر سود خور کیسی نیکی پہن کے نکلا

خوشبو پہن کے نکلا میں دل کے موسموں میں 
اور جنگ کے رُتوں میں وردی پہن کے نکلا

کیسا یہ ’’گے ادب ‘‘کا افتی مباحثہ تھا
ہر مرد گفتگو میں تلخی پہن کے نکلا

لندن کے اک کلب سے بلی کی کج روی پر
ساقی کے ساتھ میں بھی وسکی پہن کے نکلا

 شہوت عروج پر تھی آنکھوں میں ڈاکیے کی
چلمن سے ہاتھ کیا وہ مہندی پہن کے نکلا

بازارِ جسم و جاں میں کہرا جما ہوا تھا
میں لمس کی دکاں سے گرمی پہن کے نکلا

کہتے ہیں چشم و لب کی بارش میں وسوسے ہیں 
منصور دوپہر میں چھتری پہن کے نکلا
٭٭٭



موسموں کا رزق دونوں پر بہم نازل ہوا
پھول اترا شاخ  پراور مجھ پہ غم نازل ہوا

اپنے اپنے وقت پر دونوں ثمر آور ہوئے
پیڑ  کو  ٹہنی  ملی  مجھ  پر قلم  نازل ہوا 

اوس کی مانند اُترا رات بھر مژگاں پہ میں 
پھر کرن کا دکھ پہن کر صبح دم نازل ہوا

میں نے مٹی سے نکالے چند آوارہ خیال
آسمانوں سے کلامِ محترم نازل ہوا

یوں ہوا منصور کمرہ بھر گیا کرنوں کے ساتھ
مجھ پہ سورج رات کو الٹے قدم نازل ہوا

میری آنکھوں پر مرا حسن نظر نازل ہوا
دیکھنا کیا ہے مگر یہ سوچ کر نازل ہوا

اس پہ اترا بات کو خوشبو بنا دینے کا فن
مجھ پہ اس کو نظم کرنے کا ہنر نازل ہوا

کوئی رانجھے کی خبردیتی نہیں تھی لالٹین
ایک بیلے کا اندھیرا ہیر پر نازل ہوا

اس محبت میں تعلق کی طوالت کا نہ پوچھ
اک گلی میں زندگی بھر کا سفر نازل ہوا

 وقت کی اسٹیج پر بے شکل ہو جانے کا خوف
مختلف شکلیں بدل کر عمر بھر نازل ہوا

جاتی کیوں ہے ہر گلی منصور قبرستان تک
یہ خیالِ زخم خوردہ دربدر نازل ہوا
٭٭٭



کیا خواب تھا ، پیکر مرا ہونٹوں سے بھرا تھا
انگ انگ محبت بھرے بوسوں سے بھرا تھا

کل رات جو کمرے کا بجھایا نہیں ہیٹر
اٹھا تو افق آگ کے شعلوں سے بھرا تھا

ہلکی سی بھی آواز کہیں دل کی نہیں تھی
مسجد کا سپیکر تھا صداؤں سے بھرا تھا

اونچائی سے یک لخت کوئی لفٹ گری تھی
اور لوہے کا کمرہ بھی امنگوں سے بھرا تھا

اک ،پاؤں کسی جنگ میں کام آئے ہوئے تھے
اک راستہ بارودی سرنگوں سے بھرا تھا

آوارہ محبت میں وہ لڑکی بھی بہت تھی
منصور مرا شہر بھی کتوں سے بھرا تھا 
٭٭٭



یاد کچھ بھی نہیں کہ کیا کچھ تھا 
نیند کی نوٹ بک میں تھا ، کچھ تھا

میں ہی کچھ سوچ کر چلا آیا
ورنہ کہنے کو تھا ، بڑا کچھ تھا 

چاند کچھ اور کہہ رہا تھا کچھ
دلِ  وحشی پکارتا کچھ تھا

اس کی پاؤں کی چاپ تھی شاید
یہ یونہی کان میں بجا کچھ تھا

میں لپٹتا تھا ہجر کی شب سے
میرے سینے میں ٹوٹتا کچھ تھا

کُن سے پہلے کی بات ہے کوئی
یاد پڑتا ہے کچھ ، کہا کچھ تھا

آنکھ کیوں سوگوار ہے منصور
خواب میں تو معاملہ کچھ تھا
٭٭٭



سیاہ رنگ کا امن و سکوں تباہ ہوا 
سفید رنگ کا دستور کج کلاہ ہوا

زمیں سے کیڑے مکوڑے نکلتے آتے ہیں 
ہمارے ملک میں یہ کون بادشاہ ہوا 

کئی دنوں سے زمیں دھل رہا ہے بارش سے 
امیرِ شہر سے کیسا یہ پھر گناہ ہوا 

شرارِ خاک نکلتا گرفت سے کیسے
دیارِ خاک ازل سے جنازگاہ ہوا

وہ شہر تھا کسی قربان گاہ پر آباد 
سو داستان میں بغداد پھر تباہ ہوا 

جلے جو خیمے تو اتنا اٹھا دھواں منصور 
ہمیشہ کے لئے رنگِ علم سیاہ ہوا 
٭٭٭



دائروں کی آنکھ دی ، بھونچال کا تحفہ دیا 
پانیوں کو چاند نے اشکال کا تحفہ دیا
 
رفتہ رفتہ اجنبی لڑکی لپٹتی ہی گئی
برف کی رت نے بدن کی شال کا تحفہ دیا

سوچتا ہوں وقت نے کیوں زندگی کے کھیل میں 
پاؤں میرے چھین کر فٹ بال کا تحفہ دیا 

’’آگ جلتی ہے بدن میں ‘‘بس کہا تھا کار میں 
ہم سفر نے برف کے چترال کا تحفہ دیا

رات ساحل کے کلب میں مچھلیوں کو دیر تک
ساتھیوں نے اپنے اپنے جال کا تحفہ دیا 

کچھ تو پتھر پر ابھر آیا ہے موسم کے طفیل
کچھ مجھے اشکوں نے خدوخال کا تحفہ دیا

پانیوں پر چل رہے تھے عکس میرے ساتھ دو
دھوپ کو اچھا لگا تمثال کا تحفہ دیا

وقت آگے تو نہیں پھر بڑھ گیا منصور سے
یہ کسی نے کیوں مجھے گھڑیال کا تحفہ دیا 
٭٭٭



پہلے سورج کو سرِ راہ گزر باندھ دیا
اور پھر شہر کے پاؤں میں سفر باندھ دیا

چند لکڑی کے کواڑوں کو لگا کر پہیے
وقت نے کار کے پیچھے مرا گھر باندھ دیا

وہ بھی آندھی کے مقابل میں اکیلا نہ رہے
میں نے خیمے کی طنابوں سے شجر باندھ دیا

میری پیشانی پہ انگارے لبوں کے رکھ کے
اپنے رومال سے اس نے مرا سر باندھ دیا

لفظ کو توڑتا تھا میری ریاضت کا ثمر
وسعتِ  اجر تھی اتنی کہ اجر باندھ دیا

چلنے سے پہلے قیامت کے سفر پر منصور
آنکھ کی پوٹلی میں دیدۂ تر باندھ دیا
٭٭٭



کھینچ لی میرے پاؤں سے کس نے زمیں ،میں نہیں جانتا
میرے سر پہ کوئی آسماں کیوں نہیں ، میں نہیں جانتا

کیوں نہیں کانپتابے یقینی سے پانی پہ چلتے ہوئے 
کس لئے تجھ پہ اتنا ہے میرا یقیں ، میں نہیں جانتا 

ایک خنجر تو تھا میرے ٹوٹے ہوئے خواب کے ہاتھ میں 
خون میں تر ہوئی کس طرح آستیں ، میں نہیں جانتا

کچھ بتاتی ہیں بندوقیں سڑکوں پہ چلتی ہوئی شہر میں 
کس طرح ، کب ہوا ، کون مسند نشیں ، میں نہیں جانتا 

لمحہ بھر کی رفاقت میں ہم لمس ہونے کی کوشش نہ کر
تیرے بستر کا ماضی ہے کیا میں نہیں ، میں نہیں جانتا 

کیا مرے ساتھ منصور چلتے ہوئے راستے تھک گئے
کس لئے ایک گھر چاہتا ہوں کہیں ، میں نہیں جانتا
٭٭٭



پندارِ  غم سے ربطِ مسلسل نہیں ہوا
شاید مرا جمال مکمل نہیں ہوا 

پھر ہو گی تجھ تلک مری اپروچ بزم میں 
مایوس جانِ من ترا پاگل نہیں ہوا

ممکن نہیں ہے جس کا ذرا سا مشاہدہ 
میری نظر سے وہ کبھی اوجھل نہیں ہوا

لاء ڈسٹ بن میں پھینک دیا ہست کا مگر
قانونِ بود ہم سے معطل نہیں ہوا

دستِ  اجل نے کی ہے تگ و دو بڑی مگر
دروازۂ حیات مقفل نہیں ہوا

منصور اپنی ذات شکستہ کئے بغیر
پانی کا بلبلہ کبھی بادل نہیں ہوا
٭٭٭


مری بد لحاظ نگاہ نے مجھے عرشِ جاں سے گرا دیا
وہ جو مرتبت میں مثال ہے اسی آستاں سے گرا دیا

مجھے کچھ بھی اس نے کہا نہیں مگر اپنی رت ہی بدل گئی
مجھے دیکھتے ہوئے برف کو ذرا سائباں سے گرا دیا

مجھے دیکھ کر کہ میں زد پہ ہوں سرِ چشم آخری تیر کو
کسی نے کماں پہ چڑھا لیا کسی نے کماں سے گرا دیا

ہے عجب مزاج کی وہ کوئی کبھی ہم نفس کبھی اجنبی
کبھی چاند اس نے کہا مجھے کبھی آسماں سے گرا دیا

میں وہ خستہ حال مکان تھا جسے خوفِ  جاں کے خیال سے
کسی نے یہاں سے گرا دیا کسی نے وہاں سے گرا دیا
٭٭٭

وہ چشم سراپا حیرت تھی کیا میں نے کیا
وہ اس کا مکاں تھا اپنا پتہ جا میں نے کیا

ہے فکر مجھے انجام مرے ہاتھوں سے نہ ہو
آغاز کا کیا ہے اس نے کیا یا میں نے کیا 

کچھ زخم گلی کے بلب تلے تحریر کئے
پھر اپنے لہوسے اپنا تماشا میں نے کیا

صد شکر دئیے کی آخری لو محفوظ ہوئی
ہے فخر مجھے دربند ہوا کا میں نے کیا 

منصور وہ میری آنکھ کو اچھی لگتی تھی
سو ہجر کی کالی رات سے رشتہ میں نے کیا
٭٭٭



خود اپنے آپ سے شرمندہ رہنا
قیامت ہے مسلسل زندہ رہنا

یہاں روبوٹ کم ہیں آسماں سے 
یہ دنیا ہے یہاں آئندہ رہنا

مجھے دکھ کی قیامت خیز رت میں 
محبت نے کہا ’’پائندہ رہنا‘‘

سمٹ آئی ہے جب مٹھی میں دنیا 
کسی بستی کا کیا باشندہ رہنا

سکھاتا ہے مجھے ہر شام سورج
لہو میں ڈوب کر تابندہ رہنا

یہی منصور حاصل زندگی کا
خود اپنا آپ ہی کارندہ رہنا
٭٭٭



مدت کے بعد گاؤں میں آیا ہے ڈاکیا
لیکن اٹھی نہیں کوئی چشمِ  سوالیا

رہنے کو آئی تھی کوئی زہرہ جبیں مگر
دل کا مکان درد نے خالی نہیں کیا

جو زندگی کی آخری ہچکی پہ گل ہوئی 
اک شخص انتظار کی اس رات تک جیا

پوچھی گئی کسی سے جب اس کی کوئی پسند
آہستگی سے اس نے مرا نام لے لیا

تارے بجھے تمام ، ہوئی رات راکھ راکھ
لیکن مزارِ چشم پہ جلتا رہا دیا

تکیے پہ بُن رہا ہے ترا شاعرِ فراق
منصور موتیوں سے محبت کا مرثیا
٭٭٭



ہوا سینے میں کوئی تھا اسے کہنا
میں سنگ صفت تو نہیں رویا اسے کہنا

اک آگ لگا دیتے ہیں برسات کے دل میں 
ہم لوگ سلگتے نہیں تنہا اسے کہنا

دروازے پہ پہرے سہی گھر والوں کے لیکن
کھڑکی بھی بنا سکتی ہے رستہ اسے کہنا

اے بجھتی ہوئی شام ! محبت کے سفرمیں 
اک لوٹ کے آیا تھا ستارہ اسے کہنا

نازل ہوں مکمل لب و عارض کے صحیفے
ہر شخص کا چہرہ ہے ادھورا اسے کہنا

شہ رگ سے زیادہ ہے قریں میرا محمد
لولاک سے آگے ہے مدنیہ اسے کہنا

منصور مزاجوں میں بڑا فرق ہے لیکن 
اچھا مجھے لگتا ہے بس اپنا اسے کہنا
٭٭٭



عرش تک میانوالی بے کنار لگتا تھا 
دیکھتا جسے بھی تھا کوہسار لگتا تھا

بارشوں کے موسم میں جب ہوا اترتی تھی
اپنے گھر کا پرنالہ آبشار لگتا تھا 

دوستوں کی گلیوں میں رات جب مچلتی تھی
کوچۂ رقیباں بھی کوئے یار لگتا تھا

ایک چائے خانہ تھا یاد کے سٹیشن پر
بھیگتے اندھیرے میں غمگسار لگتا تھا

ایک نہر پانی کی شہر سے گزرتی تھی
اس کا یخ رویہ بھی دل بہار لگتا تھا

ادھ جلے سے سگریٹ کے ایک ایک ٹکڑے میں 
لاکھ لاکھ سالوں کا انتظار لگتا تھا

قید اک رگ و پے میں روشنی کی دیوی تھی
جسم کوئی شیشے کا جار وار لگتا تھا 

باتھ روم میں کوئی بوند سی ٹپکتی تھی
ذہن پر ہتھوڑا سا بار بار لگتا تھا

ہمسفر جوانی تھی ہم سخن خدا منصور
اپنا ہی زمانے پر اقتدار لگتا تھا	٭٭٭



شہد ٹپکا ، ذرا سپاس ملا
اپنے لہجے میں کچھ مٹھاس ملا

سوکھ جائیں گی اسکی آنکھیں بھی
جا کے دریا میں میری پیاس ملا

خشک پتے مرا قبیلہ ہیں 
دل جلوں میں نہ سبز گھاس ملا

آخری حد پہ ہوں ذرا سا اور
بس مرے خوف میں ہراس ملا

آ ، مرے راستے معطر کر
آ ، ہوا میں تُو اپنی باس ملا

نسخۂ دل بنا مگر پہلے
اس میں امید ڈال آس ملا

ہے لبِ تلخ کیلئے منصور
سو غزل میں ذرا سپاس ملا
٭٭٭


خاک کا ایک اقتباس ملا
آسماں کے مگر ہے پاس ملا

اپنی تاریخ کے وہ ہیرو ہیں 
جن کو وکٹوریہ کراس ملا

دیکھتے کیا ہو زر کہ یہ مجھ کو
اپنے ہی قتل کا قصاص ملا

جلوہ بس آئینے نے دیکھا ہے
ہم کو تو حسنِ انعکاس ملا

میز پر اہلِ علم و دانش کی
اپنے بھائی کا صرف ماس ملا

کتنے جلدی پلٹ کے آئے ہو
کیا نگر کا نگر خلاص ملا

اس میں خود میں سما نہیں سکتا
کیسا یہ دامنِ حواس ملا

چاند پر رات بھی بسر کی ہے
ہر طرف آسمانِ یاس ملا

گھر میں صحرا دکھائی دیتا ہے
شیلف سے کیا ابونواس ملا

زخم چنگاریوں بھرا منصور
وہ جو چنتے ہوئے کپاس ملا
٭٭٭


جب مجھے حسنِ التماس ملا
تیرا فیضان بے قیاس ملا

جب بھی کعبہ کو ڈھونڈنا چاہا
تیرے قدموں کے آس پاس ملا

تیری رحمت تڑپ تڑپ اٹھی
جب کہیں کوئی بھی اداس ملا

تیری توصیف رب پہ چھوڑی ہے
بس وہی مرتبہ شناس ملا

یوں بدن میں سلام لہرایا
جیسے کوثر کا اک گلاس ملا

تیری کملی کی روشنائی سے
زندگی کو حسیں لباس ملا

ابن عربی کی بزم میں منصور
کیوں مجھے احترامِ خاص ملا
٭٭٭




ردیف ب


ایک شرابی ہاتھ کی دستک اور شراب
جنت کے بنگلے کا پھاٹک اور شراب

پیاس ہوائے شام میں اپنے بین کرے
ابر ہے بامِ ذات کی حد تک اور شراب

مجھ سے تیری یادیں چھین نہیں سکتے
اُس بازار کے سارے گاہک اور شراب

سات سمندر پار کا ایک پرانا کوٹ
بیچ سڑک کے ٹوٹی عینک اور شراب

سناٹوں کی آوازوں کا ایک ہجوم 
شور میں گم ہو جانے کا شک اور شراب

تیری گلی آوازِ  سگاں ،مجذوب ضمیر
ڈوب رہی ہے رات کی کالک اور شراب

عمر ہوئی میخانے کے دروازے پر
دست و گریباں میرا مسلک اور شراب

رات کے پچھلے پہر لہو کی صورت تھے 
میری رگوں میں گھنگھرو ڈھولک اور شراب

کھلتا سرخ سا فیتہ ، دوشیزہ فائل
انٹر کام کی بجتی دستک اور شراب

دیکھ کے موسم خود ہی بچھتے جاتے ہیں 
صحرا کی سہ پہر میں اجرک اور شراب

 اک منصور گلی میں دو دیواریں ہیں 
ساتھ مری بے مقصد بک بک اور شراب
٭٭٭



غیب کا مدفن عینک اور کتاب
میرے کاہن عینک اور کتاب

ایک بہکتے حرف کے پہلو میں 
رکھ دی فوراً عینک اور کتاب

ٹیرس پر تنہائی کی رم جھم
بھیگا ساون عینک اور کتاب

میر و غالب پھر مہمان ہوئے
چائے کے برتن عینک اور کتاب

یاد کی لائبریری زندہ باد
اپنا جیون عینک اور کتاب

برف بھری تنہائی میں منصور
یار کا درشن عینک اور کتاب
٭٭٭



بہتی بہار سپنا ، چلتی ندی ہے خواب
شاید یہ زندگی کی جادو گری ہے خواب

ایسا نہ ہو کہ کوئی دروازہ توڑ دے
رکھ آؤ گھر سے باہر بہتر یہی ہے خواب

تُو نے بدل لیا ہے چہرہ تو کیا کروں 
میری وہی ہیں آنکھیں میرا وہی ہے خواب

میں لکھ رہا ہوں جس کی کرنوں کے سبز گیت
وہ خوبرو زمانہ شاید ابھی ہے خواب

ہر سمت سے وہ آئے قوسِ قزح کے ساتھ
لگتا ہے آسماں کی بارہ دری ہے خواب

اس کے لئے ہیں آنکھیں اس کیلئے ہے نیند
جس میں دکھائی دے تُو وہ روشنی ہے خواب 

دل نے مکانِ جاں تو دھکا دیا مگر
اُس لمسِ اخگری کی آتش زنی ہے خواب

اک شخص جا رہا ہے اپنے خدا کے پاس
دیکھو زمانے والو! کیا دیدنی ہے خواب

تجھ سے فراق کیسا ، تجھ سے ملال کیا
تیرا مکان دل ہے تیری گلی ہے خواب

سورج ہیں مانتا ہوں اس کی نگاہ میں 
لیکن شبِ سیہ کی چارہ گری ہے خواب

امکان کا دریچہ میں بند کیا کروں 
چشمِ فریب خوردہ پھر بُن رہی ہے خواب

رک جا یہیں گلی میں پیچھے درخت کے
تجھ میں کسی مکان کی کھڑکی کھلی ہے خواب

منصور وہ خزاں ہے عہدِ بہار میں 
ہنستی ہوئی کلی کی تصویر بھی ہے خواب
٭٭٭



لگتے ہیں خوبصورت گزری ہوئی کے خواب
کیا ہے جو دیکھتا ہوں پچھلی گلی کے خواب

ہیں بے چراغ دل کے جگنو قطار میں 
پلکوں سے چُن رہا ہوں لا حاصلی کے خواب

آنسو بہا رہی ہیں آنکھیں فرات کی
پتھرا گئے ہیں جیسے تشنہ لبی کے خواب

ہے اجتماعی وحشت چشمِ شعور میں 
اپنے خمیر میں ہیں کیا کیا کجی کے خواب

مجبور دل الگ ہے دل کی طلب الگ
بستر کسی کا بے شک دیکھے کسی کے خواب

منصور موتیوں سے جس کی بھری ہے جیب
تاریخ لکھ رہی ہے اک بس اسی کے خواب
٭٭٭



شاید وہ چاہتی ہے وفا کے نئے سبب
ناراض پھر رہی ہے یونہی مجھ سے بے سبب

بس رہ گئی ہے یاد میں بجھتی سی ریل کار
میں لیٹ ہو گیا تھا کسی کام کے سبب

کچھ اپنے کارِ ہائے نمایاں بھی خوب ہیں 
قسمت نے کچھ بگاڑے ہیں بنتے ہوئے سبب

میں جانتا نہیں تھا مقامِ خیال و خواب
جب چل پڑا تو راہ میں بننے لگے سبب

کیا کیا نکالتی ہے بہانے لڑائی کے
آنسو کبھی وجہ تو کبھی قہقہے سبب

منصور اتفاق سے ملتی ہیں منزلیں 
بے سمتیاں کبھی تو کبھی راستے سبب
٭٭٭


ردیف پ

کچھ تلاش آپ ہی کئے ہیں سانپ
کچھ نصیبوں نے بھی دئیے ہیں سانپ

گفتگو زہر سے بھری ہی نہیں 
سر پہ دستار بھی لئے ہیں سانپ

چھاؤں کو ڈس رہے ہیں شاخوں سے
دھوپ کے سرخ زاویے ہیں سانپ

شام ہوتے ہی چاٹتے ہیں دل
بس وہ دوچار ثانیے ہیں سانپ

پھر کہا خواب سے سپیرے نے
اور اب کتنے چاہیے ہیں سانپ

بھر گیا زہرِ غم سے اپنا دل
یعنی یادوں کے بھی دئیے ہیں سانپ
٭٭٭



یہ جو پندار کے پڑے ہیں سانپ
یہ ابھی جسم سے جھڑے ہیں سانپ

کیا خزانہ تلاش کرتے ہو
اس کنویں میں بڑے بڑے ہیں سانپ

ہر قدم پر خدا کی بستی میں 
یہ مسائل ہیں یا کھڑے ہیں سانپ

کم ہوئی کیا مٹھاس پانی کی
کتنے دریاؤں کو لڑے ہیں سانپ

اب بھی ڈرتا ہے آدمی ان سے
وہ جو تاریخ میں گڑے ہیں سانپ

ایک فوسل کی شکل میں منصور
کچھ مزاروں پہ بھی جڑے ہیں سانپ
٭٭٭



آستیں سے نکل پڑے ہیں سانپ
کچھ پرانے ہیں کچھ نئے ہیں سانپ

آتی راہیں تو اونی بھیڑیں ہیں 
جاتے ہیں جو وہ راستے ہیں سانپ

ہم لکیروں کو پیٹنے والے
جا رہے ہیں جہاں گئے ہیں سانپ

آسماں سے پہن کے تیرا روپ
دیکھ قوسِ قزح گرے ہیں سانپ

میرے پہلو میں جو پنپتے ہیں 
یہ ترے انتظار کے ہیں سانپ

چل رہے ہیں سنپولئے ہمراہ
ہم بھی محسوس ہو رہے ہیں سانپ

شہر میں محترم نہیں ہم لوگ
صاحبِ عز و جاہ ہوئے ہیں سانپ

اپنے جیون کی شاخِ جنت پر
موسم آیا تو کھل اٹھے ہیں سانپ

لالہ و گل کے روپ میں منصور
زندگی میں کئی ملے ہیں سانپ	٭٭٭



گزرا ہے مجھ میں ایک زمانہ بھی اپنے آپ
میں موت کی طرف ہوں روانہ بھی اپنے آپ

بے شکل صورتوں کا ٹھکانہ بھی اپنے آپ
بننے لگا ہے آئینہ خانہ بھی اپنے آپ

جب دھوپ سے ہنسی ترے آنچل کی شوخ تار
روٹھا بھی اپنے آپ میں ۔۔ مانا بھی اپنے آپ

جاری ہے جس کے مرکزی کردار کی تلاش
لوگوں نے لکھ دیا وہ فسانہ بھی اپنے آپ

صرفِ  نظر بھی آپ کیا بزم میں مگر
اس دلنواز شخص نے جانا بھی اپنے آپ

کتنا ابھی ابھی ترو تازہ تھا شاخ پر
یہ کیا کہ ہو گیا ہے پرانا بھی اپنے آپ

منصور کائنات کا ہم رقص کون ہے
یہ گھومنا بھی اور گھمانا بھی اپنے آپ
٭٭٭



ردیف ت


کر کے آنکھوں سے بادہ خواری دوست
ہم نے تیری نظر اتاری دوست

اک تعلق ہے خواب کا اس سے
وہ زیادہ نہیں ہماری دوست

زد میں آیا ہوا نہیں نکلا
شور کرتے رہے شکاری دوست

اس کی اک اک نظر میں لکھا تھا
میں تمہاری ہوں بس تمہاری دوست

کیوں مہکتی ہے تیز بارش میں 
اک دہکتی ہوئی کنواری دوست

راہ بنتے ہیں آنے جانے سے
اور بناتے ہیں باری باری دوست

کچھ عجب ہے تمہارے کپڑوں میں 
بڑھتی جاتی ہے بے قراری دوست

بس اداسی پہن کے پھرتے ہیں 
کچھ ہماری بھی غم گساری دوست

ہم اکیلے ہیں اپنے پہلو میں 
ایسی ہوتی ہے دوست داری دوست

رات بھر بیچتے تھے جو سورج
اب کہاں ہیں وہ کاروباری دوست

کیا ہیں کٹھ پتلیوں قیامت کی
برگزیدہ ہوئے مداری دوست

حق ہمارا تھا جس کے رنگوں پر
تم نے وہ زندگی گزاری دوست

ہر طرف ہجرتیں ہیں بستی میں 
کیا تمہاری ہے شہریاری دوست

دشتِ دل میں تمہاری ایڑی سے
ہو گیا چشمہ ایک جاری دوست

ہجر کی بالکونی کی شاید
میلوں لمبی ہے راہداری دوست

زندگی نام کی کہیں منصور
ایک ہے دوجہاں سے پیاری دوست
٭٭٭



چل رہے ہیں ایک ساتھ 
میں خدا اور کائنات 

عرش پر بس بیٹھ کر 
کن فکاں کا چرخہ کات

مرد و زن کا اجتماع
بیچ صدیوں کی قنات

دو وجودوں میں جلی 
سردیوں کی ایک رات 

بند ذرے میں کوئی
کائناتی واردات

آسیا میں قطب کی
سو گئیں سولہ جہات

پانیوں پر قرض ہے 
فدیۂ نہر فرات

تُو پگھلتی تارکول
میں سڑک کا خشک پات

تیرا چہرہ جاوداں 
تیری زلفوں کو ثبات

رحمتِ کن کا فروغ
جشن ہائے شب برات

شب تھی خالی چاند سے
دل رہا اندیشوں وات

نت نئے مفہوم دے
تیری آنکھوں کی لغات

آنکھ سے لکھا گیا 
قصۂ نا ممکنات

گر پڑی ہے آنکھ سے
اک قیامت خیز بات

تیرے میرے درد کا
ایک شجرہ ،ایک ذات

کٹ گئے ہیں حبس میں 
دو ہوا بازوں کے ہاتھ

موت تک محدود ہیں 
ڈائری کے واقعات

دو گھروں کے درمیاں 
تیغ تیور پل صراط
٭٭٭



ردیف ٹ


اپنے ہی کناروں کو میرے دیدۂ تر کاٹ
اڑنے کا وسیلہ ہیں امیدوں کے نہ پر کاٹ

اک بنک کے لا کر میں تری عمر پڑی ہے
شب کاٹ اگر لی ہے تو بے مہر سحر کاٹ

ہر سمت دماغوں کے شجر اگنے لگے ہیں 
اس مرتبہ پودوں کے ذرا سوچ کے سر کاٹ

اُس شہرِ سیہ پوش کی تسخیر سے پہلے
آ خانۂ درویش میں بس ایک پہر کاٹ

منصور نکلنا تو ہے مٹی کی گلی سے
لیکن ابھی کچھ اور یہ سورج کا سفر کاٹ
٭٭٭



ردیف ث


خانقاہِ غم کا سجادہ نشیں ہوں میر کا وارث
ہے کوئی میرے علاوہ حرف کی جاگیر کا وارث

نظم تلوارِ علی ہے اور مصرعہ لہجۂ زینب
کربلائے لفظ ! میں ہوں خیمۂ شبیر کا وارث

چشمِ دانش کی طرح گنتا نہیں ہوں ڈوبتے سورج
میں ابد آباد تک ہوں شام کی تحریر کا وارث

کنٹرول اتنا ہے روز و شب پہ سرمایہ پرستی کا
کہ مرا بیٹا ہے میرے پاؤں کی زنجیر کا وارث

نقش جس کے بولتے ہیں ، رنگ جس کے خواب جیسے ہیں 
حضرتِ غالب وہی ہے پیکرِ تصویر کا وارث
٭٭٭


ردیف ج


کسی نے کچھ کہا ہے کیا ، کہاں یہ چل دیا سورج
ابھی دیکھا تھا اپنی روشنی کے ساتھ تھا سورج

اسے معلوم تھی شاید مری راتوں کی برفابی
مری آنکھوں کے بالکل سامنے دن بھر رہا سورج

چپک جاتا ہے خاموشی سے میرے ساتھ بستر میں 
یہ نم دیدہ دسمبر کی اداسی سے بھرا سورج

برہنہ پانیوں پر شام کی کرنیں ٹپکتی تھیں 
مگر پھر یوں ہوا نیلا سمندر ہو گیا سورج

مرے دریا کے پانی کو ہوا ہونے نہیں دیتا
کہیں برفیلے کہساروں کو پگھلاتا ہوا سورج

یہ کافی دیر سے کھڑکی کھلی ہے میرے کمرے کی
ابھی نکلا نہیں ہے اِس گلی میں صبح کا سورج

ابھی کچھ دیر رہنا چاہتا ہوں میں اجالوں میں 
بلاتا ہے مجھے اپنی طرف پھر ڈوبتا سورج

مجھے دل کی گلی میں بھی تپش محسوس ہوتی ہے
خود اپنے ہجر میں اتنا زیادہ جل بجھا سورج

اُدھر پوری طرح اترا نہیں وہ روشنی کا تھال
نکلتا آ رہا ہے یہ کدھر سے دوسرا سورج

رکھا ہے ایک ہی چہرہ بدن کے بام پر میں نے
کوئی کہتا ہے یوں ہی ہے کسی کا تبصرہ سورج

نگاہوں کو شعاعوں کی ضرورت تھی بہت لیکن 
کہاں تک میری گلیوں میں مسلسل جاگتا سورج

جہاں اس وقت روشن ہے تبسم تیرے چہرے کا
انہی راتوں میں برسوں تک یہ آوارہ پھرا سورج

اسے اچھے نہیں لگتے سلگتے رتجگے شاید
اکیلا چھوڑ جاتا ہے ہمیشہ بے وفا سورج

اجالے کا کفن بُننا کوئی آساں نہیں ہوتا
نظر آتا ہے شب کے پیرہن سے جا بجا سورج

ابھرنا ہی نہیں میں نے نکلنا ہی نہیں میں نے
اتر کر عرش کے نیچے یہی ہے سوچتا سورج

افق پر اک ذرا آندھی چلی تھی شام کی منصور
کہیں ٹوٹی ہوئی ٹہنی کی صورت گر پڑا سورج
٭٭٭



ردیف چ


دل کی بستی سوچتی ہے جاگتے رازوں کے بیچ
ایک ہی کیوں آدمی ہے سارے دروازوں کے بیچ

کھو گئیں میری سخن بستہ نوائیں درد میں 
رہ گیا آہوں کا رقصِ مشتعل سازوں کے بیچ

ایک چڑیا سے تقاضائے وفا اچھا نہیں 
جانثاری کی سعادت قرض شہبازوں کے بیچ

تم جسے کہتے تھے چرخ نیلگوں اک وہم تھا
گم ہوئی اس کی بلندی میری پروازوں کے بیچ

اپنے شانوں پر اٹھا رکھی تھی خود میں نے صلیب
ہے مگر تاریخ کا الزام ہمرازوں کے بیچ

ہر قدم پر کھینچ لیتا تھا کوئی اندھا کنواں 
سو بسا لی اپنی بستی اپنے خمیازوں کے بیچ

شہر ہوتا چاہئے تھا اس سڑک کے آس پاس
کوئی غلطی رہ گئی ہے میرے اندازوں کے بیج

سن رہا ہوں یاد کے پچھلے پہر کی ہچکیاں 
دور سے آتی ہوئی منصور آوازوں کے بیچ	٭٭٭



ڈھونڈتی ہے آسماں پر در کوئی تاروں کے بیچ
نیند سے بولائی دستک تری دیواروں کے بیچ

گفتگو کیا ہو مقابل جب ہیں خالی پگڑیاں 
پہلے تو سر بھی ہوا کرتے تھے دستاروں کے بیچ

اے خدا میرا بھرم رکھنا ، فراتِ  وقت پر
اک انا کا بانکپن ہے کتنی تلواروں کے بیچ

ریل کی پٹڑی بچھائی جا رہی ہے اس کے ساتھ
ایک کاٹج کیا بنایا میں نے گلزاروں کے بیچ

جانتی تھی اور سب کو ایک بس میرے سوا
وہ کہیں بیٹھی ہوئی تھی چند فنکاروں کے بیچ

دھوپ بھی ہے برف تیری سرد مہری کے طفیل
رات بھی پھنکارتی ہے تیرے آزاروں کے بیچ
٭٭٭



ٹکڑے تھے کچھ نیل پالش کے مری آنکھوں کے بیچ
اور کچھ ٹوٹے ہوئے ناخن بھی تھے زخموں کے بیچ

راکھ کے گرنے کی بھی آواز آتی تھی مجھے
مر رہا تھا آخری سگریٹ مرے ہونٹوں کے بیچ

ہاتھ میں تو لالہ و گل تھے مرے حالات کے
پشت پر کاڑھی ہوئی تھی کھوپڑی سانپوں کے بیچ

کون گزرا ہے نگار چشم سے کچھ تو کہو 
پھر گئی ہے کونسی شے یاد کی گلیوں کے بیچ

دو ملاقاتوں کے دن تھے آدمی کے پاس بس
اور کن کا فاصلہ تھا دونوں تاریخوں کے بیچ

گوشت کے جلنے کی بو تھی قریۂ منصور میں 
کھال اتری تھی ہرن کی ، جسم تھا شعلوں کے بیچ
٭٭٭


ردیف ح


برف کی شال میں لپٹی ہوئی صرصر کی طرح
زندگی مجھ سے ملی پچھلے دسمبر کی طرح

کس طرح دیکھنا ممکن تھا کسی اور طرف
میں نے دیکھا تھا اُسے آخری منظر کی طرح

ہاتھ رکھ لمس بھری تیز نظر کے آگے
چیرتی جاتی ہے سینہ مرا خنجر کی طرح


بارشیں اس کا لب و لہجہ پہن لیتی تھیں 
شور کرتی تھی وہ برسات میں جھانجھر کی طرح

کچی مٹی کی مہک اوڑھ کے اِتراتی تھی
میں پہنتا تھا گرم سمندر کی طرح

پلو گرتا ہوا ساڑھی کا اٹھا کر منصور
چلتی ہے چھلکی ہوئی دودھ کی گاگر کی طرح
٭٭٭



ردیف خ


فلک سے بھی پرانی خاک کی تاریخ
ہے میری سرزمینِ پاک کی تاریخ

مکمل ہو گئی ہے آخرش مجھ پر
جنوں کے دامن صد چاک کی تاریخ

ابھی معلوم کرتا پھر رہا ہوں میں 
تری دستار کے پیچاک کی تاریخ

مری آنکھوں میں اڑتی راکھ کی صورت
پڑی ہے سوختہ املاک کی تاریخ

رگِ جاں میں اتر کر عمر بھر میں نے
پڑھی ہے خیمۂ افلاک کی تاریخ

سرِ صحرا ہوا نے نرم ریشوں سے
پھٹا کویا تو لکھ دی آک کی تاریخ

مسلسل ہے یہ کیلنڈر پہ میرے
جدائی کی شبِ سفاک کی تاریخ

پہن کر پھرتی ہے جس کو محبت
مرتب کر تُو اُس پوشاک کی تاریخ

ہوائے گل سناتی ہے بچشمِ کُن
جہاں کو صاحبِ لولاک کی تاریخ

کھجوروں کے سروں کو کاٹنے والو
دکھائی دی تمہیں ادراک کی تاریخ

ہے ماضی کے مزاروں میں لکھی منصور
بگولوں نے خس و خاشاک کی تاریخ
٭٭٭



ردیف د


زندہ ہوں پر زندگانی ختم شد
فلم جاری ہے کہانی ختم شد

رو لیا ہے جتنا رو سکتا تھا میں 
آنکھ میں جو تھا وہ پانی ختم شد

کر رہا ہوں شام سے فکرِ سخن
یعنی عہدِ رائیگانی ختم شد

میں بھی ہوں موجود اب افلاک پر
لامکاں کی لامکانی ختم شد

رک گیا میں بھی کنارہ دیکھ کر
پانیوں کی بھی روانی ختم شد

پیچھے چھوڑ آیا ہوں شورِ ناتمام
گاڑیوں کی سرگرانی ختم شد

اور باقی ہیں مگر آسیب کی
اک بلائے ناگہانی ختم شد

آنے سے پہلے بتاتی ہیں مجھے
بارشوں کی بے زبانی ختم شد

دیکھتے ہیں آسماں کے کیمرے
اب گلی کی پاسبانی ختم شد

آ گئے جب تم تو کیا پھر رہ گیا
جو تھا سوچا جو ہے ٹھانی ختم شد

بھیج غالب آتشِ دوزخ مجھے
سوزِ غم ہائے نہانی ختم شد

اڑ رہی ہے راکھ آتش دان میں 
یار کی بھی مہربانی ختم شد

کچھ بچا ہی اب نہیں ہے آس پاس
ایک ہی تھی خوش گمانی ختم شد

وہ سمندر بھی بیاباں ہو گیا
وہ جو کشتی تھی دخانی ختم شد

اک تکلم اک تبسم کے طفیل
میرا شوقِ جاودانی ختم شد

آہٹیں سن کر خدا کی پچھلی رات
میرے دل کی بیکرانی ختم شد

اک مجسم آئینے کے سامنے
آرزو کی خوش بیانی ختم شد

لفظ کو کیا کر دیا ہے آنکھ نے
چیختے روتے معانی ختم شد

ایسا ہی کچھ ہے ہوا کے ساتھ بھی
جس طرح میری جوانی ختم شد

اہم تھا کتنا کوئی میرے لئے
اعتمادِ غیر فانی ختم شد

دشت کی وسعت جنوں کو چاہئے
اس چمن کی باغبانی ختم شد

ذہن میں منصور ہے تازہ محاذ
سرد جنگ اپنی پرانی ختم شد
٭٭٭



ردیف   ڈ


اس کیلئے تھا باعثِ آزار عید کارڈ
بھیجا نہیں سو یار کو اس بار عید کارڈ

ایسا نہیں کہ بھول گیا ہے تمام شہر
آئے ہیں اپنے پاس بھی دوچار عید کارڈ

تیرہ برس کے بعد بھی اک یاد کے طفیل
میں نے اٹھایا تو لگا انگار عید کارڈ

ہر سال بھیجتا ہوں جسے اپنے آپ کو
اک ہے مری کہانی کا کردار عید کارڈ

کرنا ہے کب تلک شبِ انکار میں قیام
پچھلے برس کا آخری اقرار عید کارڈ

منصور سرورق پہ ہے تصویر شام کی
آیا ہے کیسا آئینہ بردار عید کارڈ
٭٭٭



ردیف   ذ


پڑے ہیں جو قلم کے ساتھ کاغذ
یہی ہیں ہر دھرم کے ساتھ کاغذ

جلا آیا جلوسِ دانشِ دیں 
شعورِ محترم کے ساتھ کاغذ

جڑے بس رہ گئے ہیں داستاں میں 
ترے عہدِ ستم کے ساتھ کاغذ

یہی بس التماسِ دل کہ رکھنا
یہ دیوارِ حرم کے ساتھ کاغذ

پرندے بنتے جاتے ہیں مسلسل
ترے فضل و کرم کے ساتھ کاغذ

میانوالی میں آئے ہیں فلک سے
یہ امکانِ عدم کے ساتھ کاغذ
خود اپنے قتل نامے کا کسی کو
دیا پورے بھرم کے ساتھ کاغذ

کسی مبہم سی انجانی زباں میں 
پڑے ہیں ہر قدم کے ساتھ کاغذ

الٹنے ہیں پلٹنے ہیں لحد تک
خیالِ بیش و کم کے ساتھ کاغذ

یہ وہ تہذیب ہے جو بیچتی ہے
ابھی دام و درم کے ساتھ کاغذ

کسی کو دستخط کر کے دئیے ہیں 
سرِ تسلیم خم کے ساتھ کاغذ

درازوں میں چھپانے پڑ رہے ہیں 
کلامِ چشمِ نم کے ساتھ کاغذ

کسی عباس نے لکھا ہے خوں سے
یہ چپکا دے علم کے ساتھ کاغذ

چمکتے پھر رہے ہیں آسماں کے
چراغِ ذی حشم کے ساتھ کاغذ

بدل جاتے ہیں اکثر دیکھتا ہوں 
مری تاریخِ غم کے ساتھ کاغذ

ابد کے قہوہ خانے میں ملے ہیں 
کسی تازہ صنم کے ساتھ کاغذ

ہوئے ہیں کس قدر منصور کالے
یہ شب ہائے الم کے ساتھ کاغذ
٭٭٭


ردیف  ر



کچھ زخم دھنک خیز ہیں کچھ زخم لہو بار
دیکھا نہ مگر اس نے ہمارا گل و گلزار

کیا مانگنے آ سکتے ہیں پھر تیری گلی میں 
ہم آخرِ شب ،آخری سگریٹ کے طلب گار

یہ فلسفہ ہے یا کہ خرابی ہے خرد کی
ہونے سے بھی انکار نہ ہونے سے بھی انکار

اک زاویہ در زاویہ جذبوں کی ریاضی
اک لمس بھری قوسِ قزح۔۔ بسترِ بیدار

رکھ ہاتھ نہ زانو پہ اے دھکے ہوئے موسم
اس وقت زیادہ ہے بہت کار کی رفتار

نازک ہے بہت، داغ نہ پڑ جائیں بدن پر
اُس حسنِ گنہ خیز کو مسواک سے مت مار

آنکھوں سے لپکتے ہیں یہاں برف کا طوفاں 
ہرچند کہ مصنوعی نہیں گرمی ِ بازار

بنیاد میں رکھا گیا تھا جس کو مکاں کی
منصور ہوا پھر اسی بھونچال سے مسمار
ق

وحدت کے ازل زار یہ کثرت کے ابد زار
ہم ہی سے دھنک رنگ ہیں ہم ہی سے کرم بار

ہم عالمِ لاہوت کی خوش بخت سحر ہیں 
ہم حرکتِ  افلاک ہیں ہم ثابت وسیار

ہم حسنِ نزاکت کی چہکتی ہوئی تاریخ 
ہم قرطبہ اور تاج محل کے درو دیوار

ہم کاسۂ مجذوب ہیں ہم دھجیاں دھج کی
ہم روند کے پاؤں سے نکل آئے ہیں دستار

ہم کُن کی صدا ہیں ہمی لولاک کا نغمہ 
ہم وقت کے گنبد ہمی بازیچہ ِ  اسرار

ہم لوگ سراپا ہیں کرامت کوئی منصور
ہم قربِ خداوندی کے احساس کا اظہار 
٭٭٭



اب کوئی ایسا ستم ایجاد کر
اس کو بھی اپنی طرح برباد کر

روند کر رکھ دوں ترے سات آسماں 
اک ذرا بس موت سے آزاد کر

اب مجھے تسخیر کرنے کیلئے 
اسم اعظم روح میں آباد کر

میری باتیں میری آنکھیں میرے ہاتھ
بیٹھ کر اب رو مجھے اور یاد کر

قریۂ تشکیک کی سرحد پہ ہوں 
صاحبِ لوح و قلم امداد کر

خالق و مخلوق میں دے
ہم خدا زادوں کو آدم زاد کر

خشک سالی آ گئی آنکھوں تلک
پانیوں کے واسطے فریاد کر

ہے رکا کوئی یہاں برسوں کے بعد
بس دعائے عمرِ ابر و باد کر

پھر قیامت سے نکل آیا ہوں میں 
اب کوئی نازل نئی افتاد کر

ہیں ہمہ تن گوش ساتوں آسماں 
بول کچھ منصور کچھ ارشاد کر
٭٭٭



یہ خار نگاراں ہے ، ثمر کوٹ کہیں اور
کیکر پہ لگا کرتے ہیں اخروٹ کہیں اور

دیوار پہ تقسیم کی اشکال بنا دیں 
اقرارِ محبت کا لکھا نوٹ کہیں اور

چلتے تھے پسینے کے مری جلد پہ قطرے
بم جیسے مرے پاؤں میں ، ریموٹ کہیں اور

ٹوٹا مرا دل تھا ، جھڑی آنکھوں میں لگی تھی
احساس کہیں اور تھا اور چوٹ کہیں اور

ہے اپنے مراسم میں کوئی اور بھی شامل
ہم ٹھیک ہی سمجھے تھے کہ ہے کھوٹ کہیں اور

منصور اڑا تھا میں بڑی تیز ہوا میں 
ٹائی کہیں جاتی تھی مری ، کوٹ کہیں اور
٭٭٭



ہر دم بھوک بھری مایوس سڑک پر
میلوں لمبا ایک جلوس سڑک پر

دیکھ کے پہلی بار دہکتا سورج
اس نے پھینک دیا ملبوس سڑک پر

برسوں پہلے میرا گھر ہوتا تھا 
شہرِ فسوں کی اس مانوس سڑک پر

صرف یہ رستہ جانے والوں کا ہے
پہلی بار ہوا محسوس سڑک پر


میں نے آگ بھری بوتل کھولی تھی
اس نے پیا تھا اورنج جوس سڑک پر

چاند دکھائی دیتا تھا کھڑکی سے
دور لٹکتا اک فانوس سڑک پر
٭٭٭



ابھی دھیان کہاں وصل کے فریضوں پر
ابھی وہ کاڑھتی پھرتی ہے دل قمیضوں پر

قیام کرتا ہوں اکثر میں دل کے کمرے میں 
کہ جم نہ جائے کہیں گرد اس کی چیزوں پر

یہی تو لوگ مسیحا ہیں زندگانی کے
ہزار رحمتیں ہوں عشق کے مریضوں پر

کسی انار کلی کے خیال میں اب تک
غلام گردشیں ماتم کناں کنیزوں پر

جلا رہی ہے مرے بادلوں کے پیراہن
پھوار گرتی ہوئی ململیں شمیضوں پر

غزل کہی ہے کسی بے چراغ لمحے میں 
شبِ فراق کے کاجل زدہ عزیزوں پر

وہ غور کرتی رہی ہے تمام دن منصور
مرے لباس کی الجھی ہوئی کریزوں پر
٭٭٭


ردیف ز



مٹی مرا وجود ، زمیں میری جا نماز
پڑھتی ہے جن کو چوم کے بادِ صبا نماز

اک دلنواز شخص نے دیکھا مجھے تو میں 
قوسِ قزح پہ عصر کی پڑھنے لگا نماز

پڑھتے ہیں سر پہ دھوپ کی دستارباندھ کر
سایہ بچھا کے اپنا ہم اہلِ صفا نماز

لات و منات اپنے بغل میں لئے ہوئے
کعبہ کی سمت پڑھتی ہے خلقِ خدا نماز

تیرا ہے کوئی اور تعین مرا میں آپ
تیری جدا نماز ہے میری جدا نماز

جانے کب آئے پھر یہ پلٹ کر شبِ وصال
ہو جائے گی ادا تو عشاء کی قضا نماز

میں نے کہا کہ صبح ہے اب تو افق کے پاس
اس نے کہا تو کیجئے اٹھ کر ادا نماز

مت پوچھ کیسی خواہشِ دیدار تھی مجھے
برسوں میں کوہِ طور پہ پڑھتا رہا نماز

قرباں خیالِ گنبدِ خضرا پہ ہیں سجود
میری دعا مدنیہ مقامِ حرا نماز

اس مختصر قیام میں کافی یہی مجھے
میرا مکاں درود ہے میرا دیا نماز

پندارِ جاں میں آئی ہیں تجھ سے ملاحتیں 
تجھ سے ہوئے دراز یہ دستِ دعا نماز

اے خواجۂ فراق ! ملاقات کیلئے
پھر پڑھ کنارِ چشمۂ حمد و ثنا نماز

اے شیخ شاہِ وقت کے دربار سے نکل
دروازہ کر رہی ہے بغاوت کا وا نماز

اس کا خیال مجھ سے قضا ہی نہیں ہوا
لگتا ہے میرے واسطے منصور تھا نماز
٭٭٭



ردیف ڑ



ساعتِ دیدۂ انکار کے سینے میں دراڑ
دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ

ایک ہی لفظ سے بھونچال نکل آیا ہے
پڑ گئی ہے کسی کہسار کے سینے میں دراڑ

کوئی شے ٹوٹ گئی ہے مرے اندر شاید
آ گئی ہے مرے پندار کے سینے میں دراڑ

چاٹتی جاتی ہے رستے کی طوالت کیا کیا
ایک بنتی ہوئی دلدار کے سینے میں دراڑ

کون ڈالے گا مرے شاہسوارو! تم میں 
موت کی وادی ِ اسرار کے سینے میں دراڑ

ایک ہنستی ہوئی پھر چشمِ سیہ نے ڈالی
آ مری صحبتِ آزار کے سینے میں دراڑ

رو پڑا خود ہی لپٹ کر شبِ غم میں مجھ سے
تھی کہانی ترے کردار کے سینے میں دراڑ


روندنے والے پہاڑوں کو پلٹ آئے ہیں 
دیکھ کر قافلہ سالار کے سینے میں دراڑ

صبح کی پہلی کرن ! تجھ پہ تباہی آئے
ڈال دی طالعِ  بیدار کے سینے میں دراڑ

کل شبِ ہجر میں طوفان کوئی آیا تھا
دیدۂ نم سے پڑی یار کے سینے میں دراڑ

غم کے ملبے سے نکلتی ہوئی پہلی کوپنل
دیکھ باغیچۂ مسمار کے سینے میں دراڑ

لفظ کی نوکِ سناں سے بھی کہاں ممکن ہے
وقت کے خانۂ زنگار کے سینے میں دراڑ

بس قفس سے یہ پرندہ ہے نکلنے والا
نہ بڑھا اپنے گرفتار کے سینے میں دراڑ

شام تک ڈال ہی لیتے ہیں اندھیرے منصور
صبح کے جلوۂ زرتار کے سینے میں دراڑ
٭٭٭


ردیف  ژ



اک راکھ کے بدن کو ہوا کی رپورتاژ
لکھ کر بکھیرنی ہے وفا کی رپورتاژ

میں کھڑکیوں سے صبح کی پہلی کرن کے ساتھ
پڑھتا ہوں روز باد صبا کی رپورتاژ

تشکیل کائنات کی رودادِ گم شدہ
ہو گی کہاں پہ لوحِ خدا کی رپورتاژ

شاید ہے مانگنے کی جبلت وجود میں 
لمبی بہت ہے دستِ دعا کی رپورتاژ

تقسیم کیا کرو گے وسائل زمین کے
لکھتے رہو گے جرم و سزا کی رپورتاژ

لکھتے ہیں روز خونِ جگر کو نچوڑ کے
سورج کے ہاتھ شامِ فنا کی رپورتاژ

لاشوں بھری سرائے سے نکلے گی کب تلک
جانِ جہاں کے ناز و ادا کی رپورتاژ

پڑھتے بنام علم ہیں بچے سکول میں 
بالِ ہما کے بختِ رسا کی رپورتاژ

شاید لبِ فرات پہ خوں سے لکھی گئی
اس زندگی کی نشو و نما کی رپورتاژ

برسوں سے نیکیوں کا فرشتہ رقم کرے
منصور صرف آہ و بکا کی رپورتاژ
٭٭٭


ردیف  س



روشنی کے خواب ، خوشبو کے دئیے تھے آس پاس
گہری کالی رات کے دو المیے تھے آس پاس

آ گئے ، اچھا کیا ، بھیگی ہوئی اِس شام میں 
ایسی رت میں آپ ہی بس چاہیے تھے آس پاس

اک رندھی آواز تھی میرے گلے میں ہجر کی
درد کے روتے ہوئے کچھ ماہیے تھے آس پاس

ہونٹ میرے رات بھر، یہ سوچئے، ہونٹوں پہ تھے
ہاتھ میرے ، آپ اتنا جانئیے ، تھے آس پاس

جب بدن میں بادلوں کا شور تھا تم تھے کہاں 
جب چمکتے بجلیوں کے زاویے تھے آس پاس

دیکھتی تھیں اسکی آنکھیں میرے چہرے کے نقوش
زندگی کے آخری جب ثانیے تھے آس پاس

اک فریبِ  ذات تھا پھیلا ہوا صدیوں کے بیچ
چاند جیسے ناموں والے کالئے تھے آس پاس

رات کی دیوار پر پینٹنگ لگی تھی چاند کی
اور کالے بادلوں کے حاشیے تھے آس پاس

نظم کی میت کوئی لٹکا رہا تھا پیڑ سے
اور پریشاں حال کچھ بالشتیے تھے آس پاس

اک سفر میں نے کیا تھا وادی ِ تاریخ میں 
بین تھے چیخوں بھرے اور مرثیے تھے آس پاس

جب مرا سر کٹ رہا تھا کربلائے وقت میں 
اہل کوفہ اپنی دستاریں لئے تھے آس پاس

ہفتہ بھرسے کوئی بھی ’اطلا‘ نہیں منصور کی
فون پر کچھ رابطے میں نے کئے تھے آس پاس
٭٭٭



سوچ کا ثانیہ دم بھر کو گیا یار کے پاس
پاؤں بے ساختہ لے آئے مجھے کار کے پاس

ایک پتھر ہے کہ بس سرخ ہوا جاتا ہے 
کوئی پہروں سے کھڑا ہے کسی دیوار کے پاس

گھنٹیاں شور مچاتی ہیں مرے کانوں میں 
فون مردہ ہے مگر بسترِبیدار کے پاس

کس طرح برف بھری رات گزاری ہو گی
میں بھی موجود نہ تھا یارِ طرح دار کے پاس

عبرت آموز ہے دربارِ شب و روز کا تاج
طشتِ تاریخ میں سر رکھے ہیں دستارکے پاس

چشمِ لالہ پہ سیہ پٹیاں باندھیں منصور
سولیاں گاڑنے والے گل و گلزار کے پاس
٭٭٭



وہی رنگ رنگ کی اجرکیں ، وہی خوشبوئیں نہیں آس پاس
وہ جو بولتی تھی سرائیکی بھری اردوئیں نہیں آس پاس

کہیں خشک سالی وصال کی کہیں آبِ لمس کا قحط ہے
وہ جو پیاس میری بجھاتے تھے وہی اب کنوئیں نہیں آس پاس

مرے دھوپ روپ دیار کے سبھی برف پوش مکان ہیں 
وہ جو چمنیوں سے نکلتے تھے کبھی، وہ دھوئیں نہیں آس پاس

یہاں گرم ہاتھ کو پھیر مت ، یہاں لمس لمس بکھیر مت 
جو مچلتے تھے ترے قرب سے وہی اب روئیں نہیں آس پاس

سبھی شوخ و شنگ لباس ہیں کوئی لازوال بدن نہیں 
جنہیں آنکھیں چومیں خیال میں جنہیں لب چھوئیں نہیں آس پاس

کوئی رات اجلی وصال کی کوئی گیت گاتی سی بالیاں 
میرے سانس سے جو دہک اٹھیں وہی اب لویں نہیں آس پاس
٭٭٭



کس بھیانک زندگی کا رنج میرے آس پاس
اک سمندر میں بدلتی ہنج میرے آس پاس

کھوجتا پھرتا ہوں میں اسرار اپنی ذات کے
اور ان گلیوں میں داتا گنج میرے آس پاس

تھے مخالف بس مرے دونوں طرف کے لشکری
کیا عجب کھیلی گئی شطرنج میرے آس پاس

بہہ رہی تھی یاد کی سکرین پر دریا کے ساتھ
ناچتی گاتی ہوئی اک جنج میرے آس پاس

میرے ہونٹوں سے گرے جملے اٹھانے کیلئے
رہ رہے ہیں کتنے بدلہ سنج میرے آس پاس

آئینے کو دیکھ کر رویا تو از راہِ مذاق
وقت نے پھیلا دیا اسفنج میرے آس پاس
٭٭٭




میرے سوا کسی کو بھی میسج ہوا تو بس
کردار ہم میں تیسرا حارج ہوا تو بس

آسیب سرسرائیں سمندر کی چاپ میں 
لہروں سے ہمکلام یہ کاٹج ہوا تو بس

پانی میں بہہ گئے ہیں غریبوں کے صبح و شام
پھر آسماں زمیں کا معالج ہوا تو بس

تھوڑا سا دم چراغ کی بس لو میں رہ گیا
اس مرتبہ بھی صبح کو فالج ہوا تو بس

میں لکھ رہا ہوں گم شدہ قبروں کی ڈائری
ابدال ایسا کشفِ مدارج ہوا تو بس

برسوں پھر اس کے بعد مجھے جاگنا پڑے
اک خواب میری نیند سے خارج ہوا تو بس

یہ روشنی ، یہ پھول ، یہ خوشبو ، یہ سات رنگ
جب بند لڑکیوں کا یہ کالج ہوا تو بس

میں جا رہا ہوں آپ کے کہنے پہ اس کے پاس
میرا خراب دوستو امیج ہوا تو بس

منصور گفتگو ہے یہ پہلی کسی کے ساتھ
تجھ سے غلط حروفِ مخارج ہوا تو بس	٭٭٭



ردیف ش


تحیر خیز موسم کی ہوئی وجدان پر بارش
نظر دیوار سے گزری ،  رکی ڈھلوان پر بارش

ترے پاگل کی باتیں اتفاقاتِ جہاں ہیں کیا
ہوئی ہے یوں ہی برسوں بعد ریگستان پر بارش

سراپا آگ !دم بھر کو مرے چہرے پہ نظریں رکھ
تری آنکھوں سے ہو گی تیرے آتش دان پر بارش

گرے تو پھول بن جائے ترے چہرے پہ مہتابی
پڑے تو آگ بن جائے ترے دامان پر بارش

کتابِ غم کو کتنی بار برساتوں میں رکھا ہے
نہیں پڑتی جنابِ میر کے دیوان پر بارش

وہ برساتیں پہن کر گاؤں میں پھرتی ہوئی لڑکی
مجھے یاد آتی ہے اس سے مہکتی دھان پر بارش

محبت جاگتی ہے جب تو پھر ہوتی ہے سپنوں کی
مقام یاد پر بارش ، شبِ پیمان پر بارش

عدم آباد سے آگے خدا کی آخری حد تک
رہی ہے زندگی کی قریۂ امکان پر بارش

گئے گزرے زمانے ڈھونڈتی بدلی کی آنکھوں سے
یونہی ہے اِس کھنڈر جیسے دلِ ویران پر بارش

کئی برسوں سے پانی کو ترستی تھی مری مٹی
کسی کا پاؤں پڑتے ہی ہوئی دلان پر بارش

بڑی مشکل سے بادل گھیر لایا تھا کہیں سے میں 
اتر آئی ہے اب لیکن مرے نقصان پر بارش

 بہا کر لے گئی جو شہر کے کچے گھروندوں کو
نہیں ویسی نہیں ہے قصرِ عالی شان پر بارش

کہے ہے بادلو! یہ ڈوبتے سورج کی تنہائی
ذرا سی اہتمامِ شام کے سامان پر بارش

بدن کو ڈھانپ لیتی ہیں سنہری بھاپ کی لہریں 
اثر انداز کیا ہو لمس کے طوفان پر بارش

جلایا کس گنہ گارہ کو معصوموں کی بستی نے
کہ اتری بال بکھرائے ہوئے شمشان پر بارش

کسی مشہور نٹ کا رقص تھا اونچی حویلی میں 
ہوئی اچھی بھلی نوٹوں کی پاکستان پر بارش

مجھے مرجھاتے پھولوں کا ذرا سا دکھ ہوا منصور
مسلسل ہو رہی ہے کانچ کے گلدان پر بارش
٭٭٭



ردیف ص


فردوس سے آگے ہے وہ سرچشمۂ مخصوص
جاتا ہے مدنیہ سے بس اک رستۂ مخصوص

اپنی تو رسائی نہیں اس بامِ فلک تک
معلوم کیا جائے کوئی بندۂ مخصوص

اے شہرِ گداگر ترے والی کیلئے کیا
بنوانا ضروری ہے کوئی کاسۂ مخصوص

انکارِ مسلسل کی فصیلیں ہیں جہاں پر
تسخیر کروں گا میں وہی رشتۂ مخصوص

اک نرم سے ریشے کی کسی نس کے نگر میں 
بس دیکھتا پھرتا ہوں ترا چہرۂ مخصوص

کہتے ہیں کہ آسیب وہاں رہنے لگے ہیں 
ہوتا تھا کسی گھر میں مرا کمرۂ مخصوص

سنتے ہیں نکلتا ہے فقط دل کی گلی سے
منزل پہ پہنچ جاتا ہے جو جادۂ مخصوص

لوگوں سے ابوزر کے روابط ہیں خطرناک
صحرا میں لگایا گیا پھر خیمۂ مخصوص

ہنستے ہوئے پانی میں نیا زہر ملا کر
بھیجا ہے کسی دوست نے مشکیزۂ مخصوص

آواز مجھے دیتا ہے گرداب کے جیسا
منصور سمندر میں کوئی دیدۂ مخصوص
٭٭٭


ردیف ض



مٹی ذرا سی قریۂ لولاک کے عوض
دو گز زمین چاہئے افلاک کے عوض

جاگیر بھی حویلی بھی چاہت بھی جسم بھی
تم مانگتے ہو دامن ِ صد چاک کے عوض

اِس شہر میں تو ایک خریدار بھی نہیں 
سورج کہاں فروخت کروں خاک کے عوض

وہ پیٹ برگزیدہ ہیں میری نگاہ میں 
جو بیچتے ہیں عزتیں خوراک کے عوض 

مثلِ غبار پھرتا ہوں آنکھوں میں جھانکتا
اپنے بدن کی اڑتی ہوئی راکھ کے عوض

دے سکتا ہوں تمام سمندر شراب کے
اک جوش سے نکلتے ہوئے کاک کے عوض

بھونچال آئے تو کوئی دو روٹیاں نہ دے
میلوں تلک پڑی ہوئی املاک کے عوض

غالب کا ہم پیالہ نہیں ہوں ، نہیں نہیں 
جنت کہاں ملے خس و خاشاک کے عوض

ہر روز بھیجنا مجھے پڑتا ہے ایک خط
پچھلے برس کی آئی ہوئی ڈاک کے عوض

جاں مانگ لی ہے مجھ سے سرِاشتیاقِ لمس
بندِ قبا نے سینۂ بیباک کے عوض

کام آ گئی ہیں بزم میں غم کی نمائشیں 
وعدہ ملا ہے دیدۂ نمناک کے عوض

آیا عجب ہے مرحلہ شوقِ شکار میں 
نخچیر مانگتا ہے وہ فتراک کے عوض


نظارۂ جمال ملا ہے تمام تر
تصویر میں تنی ہوئی پوشاک کے عوض

منصور ایک  چہرۂ معشوق رہ گیا
پہنچا کہاں نہیں ہوں میں ادراک کے عوض
٭٭٭



ردیف ط


آنسوؤں کے عکس دیواروں پہ بکھرانا غلط
یہ دیئے بے فائدہ یہ آئینہ خانہ غلط

وہ پرندوں کے پروں سے نرم ، بادل سے لطیف
یہ چراغِ طور کے جلووں سے سنولانا غلط

جاگ پڑتے ہیں دریچے اور بھی کچھ چاپ سے
اس گلی میں رات کے پچھلے پہر جانا غلط

درد کے آتش فشاں تھم ، کانپتی ہیں دھڑکنیں 
یہ مسلسل دل کے کہساروں کا پگھلانا غلط

کون واشنگٹن کو دے گا ایک شاعر کا پیام
قیدیوں کو بے وجہ پنجروں میں تڑپانا غلط

ان دنوں غم ہائے جاناں سے مجھے فرصت نہیں 
اے غمِ دوراں ترا فی الحال افسانہ غلط

ایک دل اور ہر قدم پر لاکھ پیمانِ وفا
اپنے ماتھے کو ہر اک پتھرسے ٹکرانا غلط

ایک تجریدی تصور ہے یہ ساری کائنات
ایسے الجھے مسئلے بے کار۔ سلجھانا غلط

وقت کا صدیوں پرانا فلسفہ بالکل درست
یہ لب و عارض غلط ،یہ جام و پیمانہ غلط

کیا بگڑتا اوڑھ لیتا جو کسی تتلی کی شال
شاخ پر کھلنے سے پہلے پھول مرجھانا غلط

کچھ بھروسہ ہی نہیں کالے سمندر پر مجھے
چاند کا بہتی ہوئی کشتی میں کاشانہ غلط

زندگی کیا ہے۔ ٹریفک کا مسلسل اژدہام
اس سڑک پر سست رفتاری کا جرمانہ غلط

جس کے ہونے اور نہ ہونے کی کہانی ایک ہے
اُس طلسماتی فضا سے دل کو بہلانا غلط

منہ اندھیرے چن کے باغیچے سے کچھ نرگس کے پھول 
یار بے پروا کے دروازے پہ دھر آنا غلط

پھر کسی بے فیض سے کر لی توقع فیض کی
پھر کسی کو ایسا لگتا ہے کہ پہچانا غلط

زندگی جس کیلئے میں نے لگا دی داؤ پر
وہ تعلق واہمہ تھا ، وہ تھا یارانہ غلط

میں انالحق کہہ رہا ہوں اور خود منصور ہوں 
مجھ سے اہل معرفت کو بات سمجھانا غلط
٭٭٭




ردیف ظ

ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ
راکھ ہوئے ارمان ، خدا حافظ
پیارے پاکستان! خدا حافظ

ایک بجا ہے رات کے چہرے پر
اچھا ، میری جان!  خدا حافظ

رختِ  سفر میں باندھ نہیں سکتا
تتلی اور گلدان! خدا حافظ

جوشِ قدح سے آنکھیں بھر لی ہیں 
اشکوں کے طوفان! خدا حافظ

رات کا خالی شہر بلاتا ہے
دہکے آتش دان! خدا حافظ

میں کیا جانوں میں کس اور گیا 
اے دل اے انجان خدا حافظ

مان نہیں سکتا میں ہجر کی فال
حافظ کے دیوان خدا حافظ

تیرا قصبہ میں ہوں چھوڑ چلا 
ساونت پوش مکان خدا حافظ

کالی رات سے میں مانوس ہوا
سورج کے امکان خدا حافظ

رات شرابی ہوتی جاتی ہے
اے میرے وجدان خدا حافظ

 میں ہوں شہر سخن کا آوارہ
علم و قلم کی شان خدا حافظ

خود کو مان لیا پہچان لیا
اے چشمِ حیران خدا حافظ

دل منصور چراغِ طور ہوا
موسیٰ کے ارمان خدا حافظ		٭٭٭




ردیف ع


صبح مانگی تو ملا تاریکیوں کا اجتماع
اور ان میں بھی کڑکتی بجلیوں کا اجتماع

میں ، میانوالی ، نظر کی جھیل ، جاں کا ریگزار
یار کی تصویر میں تھا منظروں کا اجتماع

گفتگو میں گمشدہ اقدار کا دن بھر ملال
ذہن میں شب بھر برہنہ لڑکیوں کا اجتماع 

جمع ہیں حکمت بھری دنیا کے سارے پیشہ ور
کابل و قندھار میں ہے قاتلوں کا اجتماع

یاد کی مرغابیاں ، بگلے خیال و خواب کے
پانیوں پر دور تک اڑتے پروں کا اجتماع

ایک کافر کی زباں بہکی ہے میرے شہر میں 
ہر گلی ہر موڑ پر ہے پاگلوں کا اجتماع

بس تمہی سے تھاپ پر بجتے دھڑکتے ہال میں 
روشنی کے رقص کرتے دائروں کا اجتماع

جانتا ہوں دھوپ سے میرے تعلق کے سبب
آسماں پر ہے ابھی تک بادلوں کا اجتماع

بارشیں برساتِ غم کی ، میری آنکھیں اور میں 
کوچۂ جاں میں عجب ہے رحمتوں کا اجتماع

مجلسِ کرب و بلا کے آج زیر اہتمام
ہو رہا ہے شہر دل میں آنسوؤں کا اجتماع

شہر میں بیساکھیوں کے کارخانے کیلئے
رات بھر ہوتا رہا بالشتیوں کا اجتماع

ہاتھ کی الجھی لکیریں کس گلی تک آ گئیں 
ذہن کے دیوار پر ہے زاویوں کا اجتماع

چل پہن مایا لگا جوڑا ، چمکتی کھڑیاں 
دشمنوں کے شہر میں ہے دوستوں کا اجتماع

ایک پاگل ایک جاہل اک سخن نا آشنا
مانگتا ہے حرف میں خوش بختیوں کا اجتماع

ہیں کسی کے پاس گروی اپنی آنکھیں اپنے خواب
کیا کروں جو شہر میں ہے سورجوں کا اجتماع

رات کا رستہ ہے شاید پاؤں میں منصور پھر
کر رہا ہے پھر تعاقب جگنوؤں کا اجتماع
٭٭٭




ردیف غ


اتنی جمیل صبحِ شگفتن پہ ایسا داغ
ظلم عظیم ۔۔یار کے دامن پہ ایسا داغ

توبہ یہ وارداتِ فلسطین ، کیا کہوں 
اس عہدِ با شعور کے جوبن پہ ایسا داغ

ابھرا ہے آئینہ سے جو تیرے سلوک پر
لگتا ہے چشم مہر میں پھاگن پہ ایسا داغ

ایسا تو کچھ نہیں مرے دل کے مکان میں 
کیسے لگا ہے دستِ نقب زن  پہ ایسا داغ

حیرت ہے بارشوں کے مسلسل فروغ میں 
رہ جائے آنسوؤں بھرے ساون پہ ایسا داغ

لگتا ہے انتظار کے چپکے ہیں خد و خال
دیکھا نہیں کبھی کسی چلمن پہ ایسا داغ

جس میں دھڑکتے لمس دکھائی دیں دور سے
اس نے بنا دیا میری گردن پہ ایسا داغ

ہونٹوں کے یہ نشان مٹا دو زبان سے
اچھا نہیں ہے دودھ کے برتن پہ ایسا داغ

جیسے پڑا ہوا ہے لہو میرا روڈ پر
کیسے لگا ہے رات کے مدفن پہ ایسا داغ

جس میں مجھے اترنا پڑے اپنی سطح سے
کیسے لگاؤں دوستو دشمن پہ ایسا داغ

یہ کیا پرو دیا ہے پرندے کو شاخ میں 
زیتون کے سفید سلوگن پہ ایسا داغ

بعد از بہار دیکھا ہے میں نے بغور دل
پہلے نہ تھا صحیفۂ گلشن پہ ایسا داغ


اب تو تمام شہر ہے نیلا پڑا ہوا
پہلے تھا صرف چہرۂ سوسن پہ ایسا داغ

شاید ہے بددعا کسی مجذوب لمس کی
منصور میرے سینۂ روشن پہ ایسا داغ
٭٭٭



ردیف    ف


شبِ وصال پہ لعنت شبِ قرار پہ تف
ترے خیال پہ تھو تیرے انتظار پہ تف

وہ پاؤں سوگئے جو بے ارادہ اٹھتے تھے
طواف کوچۂ جاناں پہ ، کوئے یار پہ تف

تجھ ایسے پھول کی خواہش پہ بار ہا لعنت
بجائے خون کے رکھتاہوں نوکِ خار پہ تف

دلِ تباہ کو تجھ سے بڑی شکایت ہے
اے میرے حسنِ نظر ! تیرے اعتبار پہ تف

پہنچ سکا نہیں اس تک جو میرے زخم کا نور
چراغ خون پہ تھو سینۂ فگار پہ تف

ہیں برگِ خشک سی شکنیں خزاں بکف بستر
مرے مکان میں ٹھہری ہوئی بہار پہ تف

کسی فریب سے نکلا ہے جا مٹھائی بانٹ
 ترے ملالِ تری چشم اشکبار پہ تف

تجھے خبر ہی نہیں ہے کہ مرگیا ہوں میں 
اے میرے دوست ترے جیسے غمگسار پہ تف

یونہی بکھیرتا رہتا ہے دھول آنکھوں میں 
ہوائے تیز کے اڑتے ہوئے غبار پہ تف

خود آپ چل کے مرے پاس آئے گا کعبہ
مقامِ فیض پہ بنتی ہوئی قطار پہ تف

حیات قیمتی ہے خواب کے دریچوں سے
رہِ صلیب پہ لعنت ، فراز دار پہ تف

صدا ہو صوتِ سرافیل تو مزہ بھی ہے
گلے کے بیچ میں اٹکی ہوئی پکار پہ تف

جسے خبر ہی نہیں ہے پڑوسی کیسے ہیں 
نمازِ شام کی اُس عاقبت سنوار پہ تف

مری گلی میں اندھیرا ہے کتنے برسوں سے
امیرِ شہر! تیرے عہدِ اقتدار پہ تف

ترے سفید محل سے جو پے بہ پے ابھرے
ہزار بار انہی زلزلوں کی مار پہ تف

ترے لباس نے دنیا برہنہ تن کر دی
 ترے ضمیر پہ تھو،تیرے اختیار پہ تف

سنا ہے چادرِ زہرا کو بیچ آیا ہے
جناب شیخ کی دستارِِ بد قمار پہ تف

تُو ماں کی لاش سے اونچا دکھائی دیتا ہے
ترے مقام پہ لعنت ترے وقار پہ تف

مرے گھرانے کی سنت یہی غریبی ہے
ترے خزانے پہ تھو مالِ بے شمار پہ تف

یہی دعا ہے ترا سانپ پر قدم آئے
ہزار ہا ترے کردارِ داغ دار پہ تف

کسی بھی اسم سے یہ ٹوٹتا نہیں منصور
فسردگی کے سلگتے ہوئے حصار پہ تف
٭٭٭




ردیف   ق


قیام دار سہی آسمان پر آفاق
ملا ہوا ہے زمیں سے بھی یہ مگر آفاق

کسی نے آنا تھا لیکن بڑے مسائل تھے
بھرا ہوا تھا اجالوں سے رات بھر آفاق

کرن کی قوس افق در افق ملائے اسے
ہے آج اپنے ہی پہلو میں جلوہ گر آفاق

صراطِ سمت پہ رکھی ہوئی بصارت سے
تمام کیسے دکھائے مری نظر آفاق

بس اتنا ہے کہ بلندی پہ ہیں ذرا لیکن
ہمیشہ کھول کے رکھتا ہے اپنے در آفاق

نکالتا ہے مسلسل اسی کو دامن سے
ترے چراغ سے کرتا رہا سحر آفاق

یہ اور بات کہ سورج پہن کے رہتا ہے
مرے لئے میرا چھتنار سا شجر آفاق
٭٭٭


ابھی بچھڑنے کی ساعت نہیں ڈیئر آفاق
ابھی تو پب میں پڑی ہے بہت بیئر آفاق

بس اس لئے کہ اسے دیکھنے کی عادت ہے
جلاتا روز ہے سورج کا لائیٹر آفاق

بدن نے آگ ابھی لمس کی نہیں پکڑی
ابھی کچھ اور کسی کا مساج کر آفاق

خدا سے کیوں نہ تعلق خراب میرا ہو
ہے ایک چھتری کی صورت اِدھر اُدھر آفاق

اُدھر پتہ ہی نہیں کچھ بہشت کا منصور
اِدھر زمیں کے نظاروں سے بے خبر آفاق
٭٭٭


ردیف  ک



ہونٹوں بھری رکھ دی درِ انکارِ پہ دستک
دی میں نے زبردستی لبِ یار پہ دستک

گلشن میں پلٹ آئے ہیں یہ بات الگ ہے
دی پاؤں نے برسوں رہِ پُرخار پہ دستک

پھر رات کی رانی کا محل سامنے مہکے
پھر صبح کی چڑیوں بھری چہکار پہ دستک

کچھ ہاتھ کہیں اور سے آیا ہی نہیں ہے
دینا پڑی پھر عرشِ کرم بار پہ دستک

کاندھے پہ کوئی بھیدوں بھری پوٹلی رکھ کر
دیتا ہے پھر امکان ، ابد زار پہ دستک

دم بھر کو نئی صبح کا اعلانیہ سن کر
دی اہلِ قفس نے گل و گلزار پہ دستک

بازار سے گزرا تو چہکتی ہوئی رت کی
تصویر نے دی جیبِ خریدار پہ دستک

ممکن ہے ملاقات ہو آسیبِ بدن سے
اچھی طرح دے کمرۂ اسرار پہ دستک

ہے فرض یہی تجھ پہ ، یہی تیری عبادت
اے خاک نسب ! خانۂ سیار پہ دستک

درویش فقیری ہی کہیں بھول نہ جائے
ہے کون یہ دیتا ہے جو پندار پہ دستک

وہ دیکھئے دینے لگا پھر اپنے بدن سے
اک تازہ گنہ ، چشم گنہگار پہ دستک

اٹھ دیکھ کوئی درد نیا آیا ہوا ہے
وہ پھر ہوئی دروازۂ آزار پہ دستک

دشنام گلابوں کی طرح ہونٹوں پہ مہکیں 
درشن کے لئے دے درِ دلدار پہ دستک

برسوں سے کھڑا شخص زمیں بوس ہوا ہے
یہ کیسی سمندر کی تھی کہسار پہ دستک

پانی مجھے مٹی کی خبر دینے لگے ہیں 
اک سبز جزیرے کی ہے پتوار پہ دستک

افسوس ضروری ہے مرا بولنا دو لفظ
پھر وقت نے دی حجرۂ اظہار پہ دستک

مایوسی کے عالم میں محبت کا مسافر
در چھوڑ کے دینے لگا دیوار پہ دستک

دی جائے سلگتی ہوئی پُر شوق نظر سے
کچھ دیر تو اس کے لب و رخسار پہ دستک

اب اور گنی جاتی نہیں مجھ سے یہ قبریں 
اب دینی ضروری ہے کسی غار پہ دستک

منصور بلایا ہے مجھے خواب میں اس نے
دی نیند نے پھر دیدۂ بیدار پہ دستک
٭٭٭


ردیف  گ


شب زندہ دار خواب ، عشائے نماز لوگ
آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ

کھلنے لگے تھے پھول گریباں کے چاک سے
لوٹ آئے دشتِ یاد سے ہم بے نیاز لوگ

دونوں کا ایک بیج ہے دونوں کی ایک شاخ
یونہی یہ خار و گل میں کریں امتیاز لوگ

کیسی عجیب شے ہیں یہ چہرے کے خال و خد
دل میں بسے ہوئے ہیں کئی بد لحاظ لوگ

پہلے پہل تھا میرا اجالا وجہِ نزاع
کرتے ہیں آفتاب پہ اب اعتراض لوگ

ہر شخص بانس باندھ کے پھرتا ہے پاؤں سے
نکلیں گھروں سے کس طرح قامت دراز لوگ

صبحوں کو ڈھانپتے پھریں خوفِ صلیب سے
کالک پرست عہد میں سورج نواز لوگ

پتھر نژاد شہر! غنیمت سمجھ ہمیں 
ملتے کہاں ہیں ہم سے سراپا گداز لوگ

منصور اب کہاں ہیں ہم ایسے ، زمین پر
غالب مثال آدمی ، احمد فراز لوگ	٭٭٭



ردیف ل


بڑی سست رفتاریوں سے بھلے چل
محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل

وہاں گھر ہے دریا جہاں ختم ہو گا
چلے چل کنارے کنارے چلے چل

خدا جانے کب پھر ملاقات ہو گی
ٹھہر مجھ سے جاتے ہوئے تو ملے چل

میں تیرے سہارے چلا جا رہا ہوں 
ذرا اور ٹوٹے ہوئے حوصلے چل

نئے ساحلوں کے مسائل بڑے ہیں 
تُو پچھلی زمیں کی دعا ساتھ لے چل

اکیلا نہ منصور رہ کیرواں میں 
محبت کے چلنے لگے قافلے چل
٭٭٭



یہ تیرا خار بھی ہے محوِ خواب شاخِ  گل
ذرا سمیٹ بدن کے گلاب شاخِ  گل 

مرے نصیب میں کانٹوں کی فصل آئی تھی
نہ مانگ مجھ سے گلوں کا حساب شاخِ  گل

مری بہار کے بارے نہ پوچھا کر مجھ سے
ہے جھوٹ بولنا مجھ پہ عذاب شاخِ  گل

کنارِ آب رواں ہمسفر زمانوں سے
خرامِ زندگی ، موجِ کتاب ، شاخِ  گل

ورق ورق پہ پڑی ہیں شعاعیں خوشبو کی
کتاب زیست کا ہے انتساب شاخِ  گل

خزاں کی شام ملی ہے مجھے تو گلشن میں 
کہاں پہ آتا ہے تجھ پہ شباب شاخِ گل

تلاش میں ہیں ہوائیں بہار کی منصور
کہاں لہکتی ہے خانہ خراب شاخ گل
٭٭٭



ردیف  م



اب آسماں نژاد بلاؤں کا خوف ختم
بجلی کے ہیں چراغ ، ہواؤں کا خوف ختم

تلوؤں تلے لگا لئے سیارے وقت نے 
ہر لمحہ سوچتے ہوئے پاؤں کا خوف ختم

 بادل بڑے گرجتے ہیں باراں بکف مگر
سینہ نہیں دھڑکتا، خداؤں کا خوف ختم

اک چشمۂ شعور پہ اپنی رگوں کے بیچ
ہم شیر مار آئے ہیں ، گاؤں کا خوف ختم

سورج تراش لائے ہیں صحنِ علوم سے
سہمی ہوئی سیاہ فضاؤں کا خوف ختم

ہم نے طلسم توڑ لیا ہے نصیب کا
جادو نگر کی زرد دعاؤں کا خوف ختم

اب شرم سار ہوتی نہیں ہے سنہری دھوپ
پلکوں پہ سرسراتی گھٹاؤں کا خوف ختم

دروازۂ وصال کے قبضے اکھڑ گئے
شامِ  فراق والی سزاؤں کا خوف ختم

کوہ ندا کے کھل گئے اسرار آنکھ پر
آسیبِ  آسماں کی صداؤں کا خوف ختم

اپنا لی اپنے عہد نے تہذیب جین کی
اکڑی ہوئی قدیم قباؤں کا خوف ختم

ہم رقص کائنات ہے منصور ذات سے
اندر کے بے کنار خلاؤں کا خوف ختم
٭٭٭




ردیف  ن


چل پڑے دار و رسن کو ہستے ہستے سینکڑوں 
دل شکستے جاں الستے سبز مستے سینکڑوں 

یہ پہنچ جاتے ہیں کیسے خاکِ طیبہ کے غلام
آسمانوں تک بیک براق جستے سینکڑوں 

روک سکتی ہیں یہ کانٹے دار باڑیں کیا مجھے
چلنے والے کیلئے ہوتے ہیں رستے سینکڑوں 

میرے صحرا تک پہنچ پائی نہ بدلی آنکھ کی
تیرے دریا پر رہے بادل برستے سینکڑوں 

دل کی ویرانی میں اڑتا ہے فقط گرد و غبار
کیسے ممکن تھا یہاں بھی لوگ بستے سینکڑوں 

میں لگا دوں آئینے گلیوں میں کیسے سینکڑوں 
عکس ابھریں گے وہاں ہر ایک شے سے سینکڑوں 

کم نہیں دکھ تیرے جانے کا مگر جانِ بہار
زخم میرے دل میں پہلے بھی ہیں ایسے سینکڑوں 

اس کی آنکھوں نے کسے لوٹا ہے اس کو کیا خبر
اس کو رستے میں ملیں گے میرے جیسے سینکڑوں 

روح کی حیرت زدہ آواز آتی ہی نہیں 
وائلن کے تار لرزاں مجھ میں ویسے سینکڑوں 

اک اکیلا تشنہ لب ہوں میں کنویں کے آس پاس
پھرتے ہیں سرشار و بے خود تیری مے سے سینکڑوں 
٭٭٭


روشنی کے ، رنگ و بو کے آستانے سینکڑوں 
میری جاں ترکِ تعلق کے بہانے سینکڑوں 

اک ترے بالوں کی وہ دو چار میٹر لمبی لٹ
اک ترے شاداب جوبن کے فسانے سینکڑوں 

صبح تازہ دودھ جیسی رات قہوے کی طرح
روٹی جیسے چاند پر گزرے زمانے سینکڑوں 

 چھین کے گل کر دئیے بامِ خیال و خواب سے 
تیری یادوں کے دئیے پاگل ہوا نے سینکڑوں 

صرف تیرے قرب کا پل دسترس سے دور ہے
زندگی میں آئے ہیں لمحے سہانے سینکڑوں 
٭٭٭

میرے ساتھی میرے پیارے میرے اپنے سینکڑوں 
مجھ میں پھر بھی دکھ کسی کے ہیں پنپنے سینکڑوں 

اور کیا حاصل ہوا ہے روز و شب کی نیند سے
چند تعبیریں غلط سی اور سپنے سینکڑوں 

یہ بھی میرا مسئلہ ہے لوگ اچھے کیوں نہیں 
دکھ دئیے ہیں خواب پروردہ تڑپ نے سینکڑوں 

گل کئے پھر اپنے آسودہ گھروندوں کے چراغ
دو ممالک کی کسی تازہ جھڑپ نے سینکڑوں 

رات کے دل میں لکھیں نظمیں بیاضِ صبح پر
بھاپ اٹھتی چائے کے بس ایک کپ نے سینکڑوں 	٭٭٭


پل صراطِ آسماں پر چل رہے تھے سینکڑوں 
ایک چہرے کے پسِ  منظر میں چہرے سینکڑوں 

جمع ہیں نازل شدہ انوار کتنے شیلف میں 
معجزے حاصل ہوئے لا حاصلی کے سینکڑوں 

چاند پہ ٹھہرو ، کرو اپنے ستارے پر قیام
رات رہنے کیلئے سورج پہ خیمے سینکڑوں 

صفر سے پہلا عدد معلوم ہونا ہے ابھی
ہیں ریاضی میں ابھی موجود ہندسے سینکڑوں 

میں کہاں لاہور بھر میں ڈھونڈنے جاؤں اسے
لال جیکٹ میں حسین ملبوس ہونگے سینکڑوں 

شہر کی ویراں سڑک پر میں اکیلا رتجگا
سورہے ہیں اپنی شب گاہوں میں جوڑے سینکڑوں 

مال و زر ، نام و نسب ، قاتل ادا ، دوشیزگی 
میں بڑا بے نام سا ، تیرے حوالے سینکڑوں 

کیوں بھٹکتی پھر رہی ہے میرے پتواروں کی چاپ 
خامشی ! تیرے سمندر کے کنارے سینکڑوں 

کوئی بھی آیا نہیں چل کر گلی کے موڑ تک 
دیکھنے والوں نے کھولے ہیں دریچے سینکڑوں 	٭٭٭



مرے نہیں تو کسی کے ملال گھٹ جائیں 
کہیں تو بلب جلے اور اندھیرے چھٹ جائیں 

تمہارے ظرف سے ساتھی گلہ نہیں کوئی 
پہاڑ  مجھ  سے  محبت  کریں  تو  پھٹ  جائیں 

ترے بدن پر لکھوں نظم کوئی شیلے کی
یہ زندگی کے مسائل اگر نمٹ جائیں 

میں رہ گیا تھا سٹیشن پہ ہاتھ ملتے ہوئے
مگر یہ کیسے کہانی سے دو منٹ جائیں 

اے ٹینک بان یہ گولان کی پہاڑی ہے
یہاں سے گزریں تو دریا سمٹ سمٹ جائیں 

زمینیں روندتا جاتا ہے لفظ کا لشکر
نئے زمانے مری گرد سے نہ اٹ جائیں 

چرا لوں آنکھ سے نیندیں مگر یہ خطرہ ہے
کہ میرے خواب مرے سامنے نہ ڈٹ جائیں 

گھروں سے لوگ نکل آئیں چیر کے دامن
جو اہل شہر کی آپس میں آنکھیں بٹ جائیں 

اب اس کے بعد دہانہ ہے بس جہنم کا
جنہیں عزیز ہے جاں صاحبو پلٹ جائیں 

ہزار زلزلے تجھ میں سہی مگر اے دل
یہ کوہسار ہیں کیسے جگہ سے ہٹ جائیں 

مرا  تو  مشورہ   اتنا  ہے   صاحبان ِ  قلم 
قصیدہ  لکھنے سے بہتر ہے ہاتھ کٹ جائیں 

وہ اپنی زلف سنبھالے تو اس طرف منصور 
کھلی کتاب کے صفحے الٹ الٹ جائیں 
٭٭٭



مسلسل چاک کے محور پہ میں ہوں 
مسلسل کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں 

تُو مجھ کو دیکھ یا صرفِ  نظر کر
مثالِ گل ترے کالر پہ میں ہوں 

سبھی کردار واپس جا چکے ہیں 
اکیلا وقت کے تھیٹر پہ میں ہوں 

صلائے عام ہے تنہائیوں کو
محبت کیلئے منظر پہ میں ہوں 

پھر اس کے بعد لمبا راستہ ہے
ابھی تو شام تک دفتر پہ میں ہوں 

اٹھو بیڈ سے چلو گاڑی نکالو
 فقط دو سو کلو میٹر پہ میں ہوں 

مجھے تم رنگ کر لینا کسی دن 
ابھی کچھ دن اسی نمبر پہ میں ہوں 

 بجا  تو دی ہے بیل میں نے مگر اب
کہوں کیسے کہ تیرے در پہ میں ہوں 

ازل سے تیز رو بچے کے پیچھے
کسی چابی بھری موٹر پہ میں ہوں 

پڑا تمثیل سے باہر ہوں لیکن
 کسی کردار کی ٹھوکر پہ میں ہوں 

کہے مجھ سے شبِ شہر نگاراں 
ابھی تک کس لئے بستر پہ میں ہوں 

یہی ہر دور میں سوچا ہے میں نے
زمیں کے آخری پتھر پہ میں ہوں 

ہلا منصور مت اپنی جگہ سے
پہاڑ ایسا خود اپنے سر پہ میں ہوں 
٭٭٭



ڈال دی اس نے محبت کی نئی سم مجھ میں 
ایک ہی رابطہ رہنے لگا قائم مجھ میں 

اس کی آنکھوں سے مجھے ہوتا ہے کیا کیا معلوم
کون کرتا ہے یہ جذبوں کے تراجم مجھ میں 

روح تک جکڑی ہوئی ہے میری زنجیروں میں 
کم نہیں ایک تعلق کے مظالم مجھ میں 

گھونٹ دیتا ہے گلہ روز مرے خوابوں کا
کوئی رہتا ہے خطرناک سا مجرم مجھ میں 

بخش کے مجھ کو تہی دامنی دنیا بھر کی
رکھ دیا درد بھرا سینۂ حاتم مجھ میں 

چھو کے دیکھوں تو مرے ہاتھ پہ رہ جاتی ہیں 
اس قدر خواہشیں ہیں نرم و ملائم مجھ میں 

جانے کب آتا ہے ہونٹوں پہ کرامت بن کر
کروٹیں لیتا ہے اک نغمۂ خاتم مجھ میں 

اس کے آنسو مری بخشش کیلئے کافی ہیں 
وہ جو بہتا ہے کوئی چشمۂ نادم مجھ میں 

میں نے چپکائی ہے کاغذ پہ سنہری تتلی
اب بھی پوشیدہ ہے شاید کوئی ظالم مجھ میں 

کتنی قبروں پہ کروں فاتحہ خوانی منصور
مر گئے پھر مرے کچھ اور مراسم مجھ میں 
٭٭٭



جمع ہو جاتے ہیں سورج کا جہاں سنتے ہیں 
برف کے لوگ کوئی بات کہاں سنتے ہیں 

ایک آسیب ہے اس شخص کی رعنائی بھی
خوشبوئیں بولتی ہیں رنگ وہاں سنتے ہیں 

ایک ویرانہ ہے ، قبریں ہیں ، خموشی ہے مگر
دل یہ کہتا ہے کہ کچھ لوگ یہاں سنتے ہیں 

زندگی ان کی شہیدوں کی طرح ہے شاید
آنکھ رکھتے ہیں شجر ، بات بھی ، ہاں ! سنتے ہیں 

تخت گرتے ہیں تو یاد آتی ہے اپنی ورنہ
ہم فقیروں کی کہاں شاہ جہاں سنتے ہیں 

بیٹھ کر ہم بھی ذرا غارِ حرا میں منصور
وہ جو آواز ہے سینے میں نہاں ، سنتے ہیں 
٭٭٭



رات کا شور ، اندھیروں کی زباں سنتے ہیں 
نور کے گیت کہاں تیرہ شباں سنتے ہیں 

ایک سقراط نے زنجیر بپا آنا ہے
دوستو آؤ عدالت میں بیاں سنتے ہیں 

کیوں پلٹتی ہی نہیں کوئی صدا کوئی پکار
یہ تو طے تھا کہ مرے چارہ گراں سنتے ہیں 

اب بدلنی ہے شب و روز کی تقویم کہ لوگ 
شام کے وقت سویرے کی اذاں سنتے ہیں 

ایسے منفی تو لب و دیدہ نہیں ہیں اس کے 
کچھ زیادہ ہی مرے وہم گماں سنتے ہیں 

بات کرتی ہے ہوا مری نگہ سے منصور
اور رک رک کے مجھے آبِ رواں سنتے ہیں 
٭٭٭



کسی کے جسم سے مل کر کبھی بہے نہ کہیں 
تری گلی سے جو نکلے تو پھر رہے نہ کہیں 

عجیب رابطہ اپنے وجود رکھتے تھے
نکل کے تجھ سے تو خود میں بھی ہم رہے نہ کہیں 

اسے تو پردے کے پیچھے بھی خوف ہے کہ مری
نظر نقاب پہ چہرہ لکیر لے نہ کہیں 

بس اس خیال سے منزل پہن لی پاؤں نے
ہمارے غم میں زمانہ سفر کرے نہ کہیں 


تمام عمر نہ دیکھا بری نظر سے اسے
یہ سوچتے ہوئے دنیا برا کہے نہ کہیں 

اے آسمان! ذرا دیکھنا کہ دوزخ میں 
گرے پڑے ہوں زمیں کے مراسلے نہ کہیں 

ڈرا دیا کسی خود کُش خیال نے اتنا
ٹکٹ خرید رکھے تھے مگر گئے نہ کہیں 

کئی دنوں سے اداسی ہے اپنے پہلو میں 
ہمارے بیچ چلے آئیں دوسرے نہ کہیں 

ہر اک مقام پہ بہکی ضرور ہیں نظریں 
تری گلی کے علاوہ قدم رکے نہ کہیں 

ہم اپنی اپنی جگہ پر سہی اکائی ہیں 
ندی کے دونوں کنارے کبھی ملے نہ کہیں 

ترے جمال پہ حق ہی نہیں تھا سو ہم نے
کئے گلاب کے پھولوں پہ تبصرے نہ کہیں 

کبھی کبھار ملاقات خود سے ہوتی ہے
تعلقات کے پہلے سے سلسلے نہ کہیں 

ہر ایک آنکھ ہمیں کھینچتی تھی پانی میں 
بھلا یہ کیسے تھا ممکن کہ ڈوبتے نہ کہیں 

اداس چاندنی ہم سے کہیں زیادہ تھی
کھلے دریچے ترے انتظار کے نہ کہیں 

بس ایک زندہ سخن کی ہمیں تمنا ہے
بنائے ہم نے کتابوں کے مقبرے نہ کہیں 

بدن کو راس کچھ اتنی ہے بے گھری اپنی
کئی رہائشیں آئیں مگر رہے نہ کہیں 

دھواں اتار بدن میں حشیش کا منصور
یہ غم کا بھیڑیا سینہ ہی چیر دے نہ کہیں 
٭٭٭



پھر وہی بھول کر رہا ہوں میں 
پھر کہیں اور مر رہا ہوں میں 

جانتا ہوں منافقت کے گُر
شہر میں معتبر رہا ہوں میں 

رابطے سانپ بنتے جاتے تھے
رخنے مٹی سے بھر رہا ہوں 

رات کچھ اور انتظار مرا
آسماں پر ابھر رہا ہوں میں 

ایک اندھا کنواں ہے چاروں اور
زینہ زینہ اتر رہا ہوں میں 

آخری بس بھی جانے والی ہے 
اور تاخیر کر رہا ہوں میں 

ساتھ چھوڑا تھا جس جگہ توُ نے
بس اسی موڑ پر رہا ہوں میں 

تجھ کو معلوم میری وحشت بھی
تیرے زیرِ اثر رہا ہوں میں 

تتلیاں ہیں مرے تعاقب میں 
کیسا گرمِ سفر رہا ہوں میں 

کچھ بدلنے کو ہے کہیں مجھ میں 
خود سے منصور ڈر رہا ہوں میں 
٭٭٭


ہم چوک چوک سرخ اشاروں میں قید ہیں 
قانون کے قدیم دیاروں میں قید ہیں 

جنگل میں لومڑی کی شہنشاہی ان دنوں 
بیچارے شیر اپنے کچھاروں میں قید ہیں 

یہ سبز میز پوش پہ بکھرے ہوئے خیال
دراصل چند فرضی بہاروں میں قید ہیں 

بے حد و بے کراں کا تصور بجا مگر
سارے سمندر اپنے کناروں میں قید ہیں 

منصور زر پرست ہیں فالج زدہ سے جسم 
یہ لوگ زرق برق سی کاروں میں قید ہیں 	٭٭٭




آخرِ شب کی بے کلی اور میں 
تیرا وعدہ تری گلی اور میں 

دل سے اٹھتے ہوئے دھوئیں کے قریب
ایک لکڑی سی ادھ جلی اور میں 

منتظر ہیں جنابِ جبرائیل
گفتگو میں مگن علی اور میں 

رات کو کاٹتے ہیں چاقو سے
شہر کی ایک باولی اور میں 

شام کے ساتھ ساتھ بہتے تھے
ایک سپنے میں سانولی اور میں 

عارض و لب کی دلکشی اور لوگ
ایک تصویر داخلی اور میں 

حاشیوں سے نکلتا اک چہرہ
چند ریکھائیں کاجلی اور میں 
٭٭٭



مائی بھاگی کی گائیکی اور میں 
رو رہے ہیں سرائیکی اور میں 

مسکراہٹ سے کانپ جاتے ہیں 
میری افسردہ سائیکی اور میں 

آم کے پیڑ لے کے پھرتا ہوں 
ایک کوٹھی کرائے کی اور میں 

کتنے کپڑوں کے جوڑے لے آیا
اس نے دعوت دی چائے کی اور میں 

زلف کی دوپہر کے سائے میں 
شام عبرت سرائے کی اور میں 

کتنی صدیوں سے ہوں تعاقب میں 
ایک آواز سائے کی اور میں 
٭٭٭



آسماں کی برابری اور میں 
رو پڑے میری کافری اور میں 

چار سو ہیں دعا کے گلدستے
بیچ میں آخری جری اور میں 

لفظ کی بے بسی کی بستی میں 
چشم و لب کی سخن وری اور میں 

اپنی اپنی تلاش میں گم ہیں 
عمر بھر کی مسافری اور میں 

مر گیا اختتام سے پہلے
اک کہانی تھی متھ بھری اور میں 

کچھ نہیں بانٹتے تناسب سے
میرا احساس برتری اور میں 

ایک فیری کے خالی عرشے پر 
رقص کرتی تھی جل پری اور میں 

فہمِ منصور سے تو بالا ہے
یہ تری بندہ پروری اور میں 
٭٭٭




ریگِ صحرا کی سنسنی اور میں 
اک تھکی ہاری اونٹنی اور میں 

تیرے نقش قدم کی کھوج میں ہیں 
آج بھی تھل میں چاندنی اور میں 

تیرا کمرہ ، دہکتی انگیٹھی
برف پروردہ روشنی اور میں 

چند فوٹو گراف آنکھوں کے
دیکھتے ہیں شگفتنی اور میں 


لائٹیں آف ، لائنیں انگیج
ایک کمرے میں کامنی اور میں 

گنگ بیٹھا ہوا ہوں پہروں سے
ایک تصویر گفتنی اور میں 
٭٭٭



اک لباسِ نمائشی اور میں 
تازہ چھلکوں کی دلکشی اور میں 

ایک اجڑی ہوئی گلی میں چپ
کچھ پرانے رہائشی اور میں 

جانے کس سمت چلتے جاتے ہیں 
قبر سی رات ، خامشی اور میں 

خاک کی جستجو میں پھرتے ہیں 
ایک اڑتا ہوا رشی اور میں 

نامراد آئے کوچۂ جاں سے
میرا ہر اک سفارشی اور میں 

اپنے اپنے محاذ پر منصور
ایک ملعون سازشی اور میں 
٭٭٭



تاریخ ساز ’’لوٹ‘‘ کوئی دیکھتا نہیں 
بندوق کے سلوٹ کوئی دیکھتا نہیں 

رقصاں ہیں ایڑیوں کی دھنوں پر تمام لوگ
کالے سیاہ بوٹ کوئی دیکھتا نہیں 

انصاف گاہ ! تیرے ترازو کے آس پاس
اتنا سفید جھوٹ کوئی دیکھتا نہیں 

چکلالہ چھاونی کی طرف ہے تمام رش
اسلام آباد روٹ کوئی دیکھتا نہیں 

طاقت کے آس پاس حسیناؤں کا ہجوم
میرا عوامی سوٹ کوئی دیکھتا نہیں 

سب دیکھتے ہیں میری نئی کار کی طرف
چہرے کی ٹوٹ پھوٹ کوئی دیکھتا نہیں 
٭٭٭




وہ آنجہانی پاؤں وہ مرحوم ایڑیاں 
رقاصہ کی دکھائی دیں منظوم ایڑیاں 

ہر انچ دکھ پڑے ہیں گئی گزری دھول کے
ہر فٹ زمیں کے ماتھے کا مقسوم ایڑیاں 

ہر روز تارکول کی سڑکیں بناتی ہیں 
ہاری ہوئی پھٹی ہوئی محروم ایڑیاں 

غالب تھا ہمسفر سو اذیت بہت ہوئی
کہتی ہیں دو اٹھی ہوئی مظلوم ایڑیاں 

سنگیت کے بہاؤ پہ شاید صدا کا رقص
گو گوش کی سٹیج پہ مرقوم ایڑیاں 

پیاسا کہیں فرات کا ساحل پڑا رہے 
چشمہ نکال دیں کہیں معصوم ایڑیاں 

چلنے لگے ہیں پنکھے ہواؤں کے دشت میں 
ہونے لگی ہیں ریت پہ معدوم ایڑیاں 

پاتال کتنے پاؤں ابھی اور دور ہیں 
ہر روز مجھ سے کرتی ہیں معلوم ایڑیاں 


لکھنے ہیں نقشِ  پا کسی دشتِ  خیال میں 
تانبا تپی زمین ! مری چوم ایڑیاں 

منصور میرے گھر میں پہنچتی ہیں پچھلی رات 
اڑتی ہے جن سے دھوپ وہ مخدوم ایڑیاں 
٭٭٭




اِدھر نہ آئیں ہواؤں سے کہہ رہا ہوں میں 
کہ راکھ راکھ تعلق میں رہ رہا ہوں میں 

طلوعِ وصل کی خواہش بھی تیرہ بخت ہوئی
فراقِ یار کے پہلو میں گہہ رہا ہوں میں 

مرا مزاج اذیت پسند ہے اتنا
ابھی جو ہونے ہیں وہ ظلم سہہ رہا ہوں میں 

یہ لگ رہا ہے کئی دن سے اپنے گھر میں مجھے
کسی کے ساتھ کہیں اور رہ رہا ہوں میں 

مجھے بھلانے کی کوشش میں بھولتے کیوں ہو
کہ لاشعور میں بھی تہہ بہ تہہ رہا ہوں میں 

گھروں کے بیچ اٹھائی تھی جو بزرگوں نے 
کئی برس سے وہ دیوار ڈھ رہا ہوں میں 

کنارِ اشکِ رواں توڑ پھوڑ کر منصور
خود آپ اپنی نگاہوں سے بہہ رہا ہوں میں 
٭٭٭


بارش سے سائیکی کے سخن دھو رہا ہوں میں 
بادل کے ساتھ ساتھ یونہی رو رہا ہوں میں 
 
دیکھا ہے آج میں نے بڑا دلربا سا خواب
شاید تری نظر سے رہا ہو رہا ہوں میں 

اچھے دنوں کی آس میں کتنے برس ہوئے
خوابوں کے آس پاس کہیں سو رہا ہوں میں 

میں ہی رہا ہوں صبح کی تحریک کا سبب
ہر دور میں رہینِ  ستم گو رہا ہوں میں 


لایا ہے کوئی آمدِ دلدار کی نوید
اور بار بار چوم کسی کو رہا ہوں میں 

ابھرے ہیں میرے آنکھ سے فرہنگِ جاں کے رنگ
تصویر کہہ رہی ہے پکاسو رہا ہوں میں 
٭٭٭



سرکا دیا نقاب کو کھڑکی نے خواب میں 
سورج دکھائی دے شبِ خانہ خراب میں 

تجھ ایسی نرم گرم کئی لڑکیوں کے ساتھ 
میں نے شبِ فراق ڈبو دی شراب میں 

آنکھیں ، خیال ، خواب ، جوانی ،یقین، سانس
کیا کیا نکل رہا ہے کسی کے حساب میں 

قیدی بنا لیا ہے کسی حور نے مجھے
یوں ہی میں پھر رہا تھا دیار ثواب میں 

مایوس آسماں ابھی ہم سے نہیں ہوا
امید کا نزول ہے کھلتے گلاب میں 
 
دیکھوں ورق ورق پہ خدوخال نور کے
سورج صفت رسول ہیں صبحِ کتاب میں 

سیسہ بھری سماعتیں بے شک مگر بڑا
شورِ برہنگی ہے سکوتِ نقاب میں 
٭٭٭



جسم پر نقش گئے وقت کے آئے ہوئے ہیں 
عمر کی جیپ کے ٹائر تلے آئے ہوئے ہیں 

ہم سمجھتے ہیں بہت ، لہجے کی تلخی کو مگر
تیرے کمرے میں کسی کام سے آئے ہوئے ہیں 

دیکھ مت بھیج یہ میسج ہمیں موبائل پر 
ہم کہیں دور بہت روٹھ کے آئے ہوئے ہیں 

ہم نہیں جانتے روبوٹ سے کچھ وصل وصال
ہم ترے چاند پہ شاید نئے آئے ہوئے ہیں 

پھر پگھلنے کو ہے بستی کوئی ایٹم بم سے
وقت کی آنکھ میں کچھ سانحے آئے ہوئے ہیں 

ڈھونڈنے کے لئے گلیوں میں کوئی عرش نشیں 
تیرے جیسے تو فلک سے بڑے آئے ہوئے ہیں 

ہم سے چرواہوں کو تہذیب سکھانے کیلئے
دشت میں شہر سے کچھ بھیڑے آئے ہوئے ہیں 

ہم محبت کے کھلاڑی ہیں سنوکر کے نہیں 
کھیل منصور یونہی کھیلنے آئے ہوئے ہیں 
٭٭٭



ترے دن جو مری دہلیز پہ آنے لگ جائیں 
ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں 

سچ نکلتا ہی نہیں لفظ کے گھر سے ورنہ 
چوک میں لوگ کتابوں کو جلانے لگ جائیں 

یہ عجب ہے کہ مرے بلب بجھانے کے لئے
آسماں تیرے ستاروں کے خزانے لگ جائیں 

خوبصورت بھی ، اکیلی بھی ، پڑوسن بھی ہے 
لیکن اک غیرسے کیا ملنے ملانے لگ جائیں 

نیک پروین ! تری چشمِ غلط اٹھتے ہی
مجھ میں کیوں فلم کے سنسر شدہ گانے لگ جائیں 

پل کی ریلنگ پکڑ رکھی ہے میں نے منصور
بہتے پانی مجھے دیکھیں تو بلانے لگ جائیں 
٭٭٭



کھلا گیا کوئی آسیب زار کمرے میں 
سنائی دیتا ہے اب تک گٹار کمرے میں 

یہ شیمپین یہ کینڈل یہ بے شکن بستر
پڑا ہوا ہے ترا انتظار کمرے میں 

یہ رات کتنے نصیبوں کے بعد آئی ہے 
ذرا ذرا اسے دن بھر گزار کمرے میں 

دکھائی دی تھی مجھے ایک بار پرچھائیں 
پلٹ پلٹ کے گیا بار بار کمرے میں 

جو میں نے کروٹیں قالین پر بچھائی تھیں 
وہ کر رہی ہے انہیں بھی شمار کمرے میں 

تمام رات تعاقب کریں گی دیواریں 
نہیں ہے قید سے ممکن فرار کمرے میں 

چھپا رہا تھا کسی سے دھوئیں میں اپنا آپ
میں پی رہا تھا مسلسل سگار کمرے میں 
٭٭٭



کون ٹینس کھیلتی جاتی تھی وجد و حال میں 
کورٹ سمٹا جا رہا تھا اک ذرا سی بال میں 

جانے کس نے رات کا خاکہ اڑایا اس طرح
چاند کا پیوند ٹانکا اس کی کالی شال میں 

ایک کوا پھڑ پھڑا کر جھاڑتا تھا اپنے پر
تھان لٹھے کے بچھے تھے دور تک چترال میں 

لوگ مرتے جا رہے تھے ساحلوں کی آس پر
ناؤ آتی جا رہی تھی پانیوں کے جال میں 

کوئی پتھر کوئی ٹہنی ہاتھ آتی ہی نہیں 
گر رہا ہوں اپنے اندر کے کسی پاتال میں 

جن گناہوں کی تمنا تنگ کرتی تھی مجھے
وہ بھی ہیں تحریر میرے نامۂ اعمال میں 

میں نے یہ منصوردیکھااس سے مل لینے کے بعد
اپنی آنکھیں بچھ رہی تھیں اپنے استقبال میں 
٭٭٭


باقی سب چیزیں تو رکھی ہیں اٹیچی کیس میں 
میں جوانی بھول آیا ہوں کہیں پردیس میں 

زندگی کی دوڑ ہے اور دوڑنا ہے عمر بھر 
شرط گھوڑا جیت سکتا ہی نہیں ہے ریس میں 

رقص کرتی لڑکیاں میوزک میں تیزی اور شراب
نیکیاں ملتی ہیں مجھ سے کیوں بدی کے بھیس میں 

میں برہنہ گھومتا تھا ہجر کی فٹ پاتھ پر
رات جاڑے کی اکیلی سو گئی تھی کھیس میں 

کیوں بدلتا جا رہا ہے روح کا جغرافیہ
کون سرحد پار سے آیا بدن کے دیس میں 	٭٭٭


بلا کا ضبط تھا دریا نے کھو دیا مجھ میں 
مجھے جو ولولے دیتا تھا رو دیا مجھ میں 

شبِ  سیاہ کہاں سے رگوں میں آئی ہے
تڑپ رہا ہے کوئی آج تو دیا مجھ میں 

عجیب کیف تھا ساقی کی چشم رحمت میں 
شراب خانہ ہی سارا سمو دیا مجھ میں 

رکھا ہے گنبدِ خضرا کے طاق میں شاید
بلا کی روشنی کرتا ہے جو دیا مجھ میں 

ہزار درد کے اگتے رہے شجر منصور
کسی نے بیج جو خواہش کا بو دیا مجھ میں 
٭٭٭



من و سلویٰ لیے ا فلاک سے بم گرتے ہیں 
شہر میں گندم و بارود بہم گرتے ہیں 
 
فتح مندی کی خبر آتی ہے واشنگٹن سے 
اور اسا مہ ترے ہر روز علم گرتے ہیں 

زرد پتے کی کہانی تو ہے موسم پہ محیط
ٹوٹ کے روز کہیں شاخ سے ہم گرتے ہیں 

رقص ویک اینڈ پہ جتنا بھی رہے تیز مگر
طے شدہ وقت پہ لوگوں کے قدم گرتے ہیں 

شہر کی آخری خاموش سڑک پر جیسے
میرے مژگاں سے سیہ رات کے غم گرتے ہیں 

جانے کیا گزری ہے اس دل کے صدف پر منصور
ایسے موتی  تو مری  آنکھ سے کم گرتے ہیں 
٭٭٭



اور جینے کا سبب کوئی نہیں 
پہلے تُو تھا مگر اب کوئی نہیں 

صرف اک جاں سے گزرنا ہے مجھے 
مجھ سا بھی سہل طلب کوئی نہیں 

خواہشِ  زرق درندوں کی طرح 
جیسے اس شہر کا رب کوئی نہیں 

وقت کیفیتِ  برزخ میں ہے 
کوئی سورج ، کوئی شب ، کوئی نہیں 

ایک تعزیتی خاموشی ہے 
شہر میں مہر بلب کوئی نہیں 

کیوں گزرتا ہوں وہاں سے منصور
اس گلی میں مرا جب کوئی نہیں 
٭٭٭


تیرا چہرہ کیسا ہے میرے دھیان کیسے ہیں 
یہ بغیر تاروں کے بلب آن کیسے ہیں 

خواب میں اسے ملنے کھیت میں گئے تھے ہم 
کارپٹ پہ جوتوں کے یہ نشان کیسے ہیں 

بولتی نہیں ہے جو وہ زبان کیسی ہے 
 یہ جوسنتے رہتے ہیں میرے کان کیسے ہیں 

روکتے ہیں دنیا کو میری بات سننے سے
لوگ میرے بارے میں بد گمان کیسے ہیں 
ق
کیا ابھی نکلتا ہے ماہ تاب گلیوں میں 
کچھ کہو میانوالی آسمان کیسے ہیں 

کیا ابھی محبت کے گیت ریت گاتی ہے 
تھل کی سسی کیسی ہے پنوں خان کیسے ہیں 

کیا قطار اونٹوں کی چل رہی ہے صحرا میں 
گھنٹیاں سی بجتی ہیں ، ساربان کیسے ہیں 

چمنیوں کے ہونٹوں سے کیا دھواں نکلتا ہے 
خالی خالی برسوں کے وہ مکان کیسے ہیں 

دیکھتا تھا رم جھم سی  بیٹھ کر جہاں تنہا
لان میں وہ رنگوں کے سائبان کیسے ہیں 

اب بھی وہ پرندوں کو کیا ڈراتے  ہیں منصور
کھیت کھیت لکڑی کے بے زبان کیسے ہیں 
٭٭٭



میں اپنی فیملی کے ساتھ کچھ دن ۔۔۔پُر سکوں کچھ دن 
سمندر کے کنارے ایک کاٹج میں رہوں کچھ دن 

کہیں ڈھلتی ہوئی شب کو بھی ورزش کی ضرورت ہے
میں اپنے دوستوں کے ساتھ جاگنگ چھوڑ دوں کچھ دن 

ابھی کچھ دن پلیٹوں میں رکھوں جذبے قیامت کے
سلاخوں میں دہکتے گوشت پر نظمیں لکھوں کچھ دن

مرے ہم عصر پیرس اب اداسی چھوڑ دے اپنی
جدا ہونا تو ہے لیکن ابھی میں اور ہوں کچھ دن

ابھی اس لمس تک شاید کئی ہفتوں کا رستہ ہے
رگوں میں تیز رہنی ہے ابھی رفتارِ خوں کچھ دن

بدن کے شہر کو جاتی سڑک پہ کوئی خطرہ ہے ؟
مجھے حیرت سرائے روح میں رہنا ہے کیوں کچھ دن 

بہت ہی سست ہیں نبضیں مرے شہرِ نگاراں کی 
اضافہ خود سری میں کچھ ، چلے رسمِ جنوں کچھ دن
٭٭٭


ایٹمی آگ میں سوختہ خواب تسخیر کے ہیں 
خوف دونوں طرف ایک لمحے کی تا خیر کے ہیں 

وقت کی گیلری میں مکمل ہزاروں کی شکلیں 
صرف ٹوٹے ہوئے خال و خد میری تصویر کے ہیں 

شہر بمبار طیارے مسمار کرتے رہیں گے
شوق دنیا کو تازہ مکانوں کی تعمیر کے ہیں 

ایک مقصد بھری زندگی وقت کی قید میں ہے
پاؤں پابند صدیوں سے منزل کی زنجیر کے ہیں 

ایک آواز منصور کاغذ پہ پھیلی ہوئی ہے 
میرے سناٹے میں شور خاموش تحریر کے ہیں 	٭٭٭

سبز سر چھیڑ خشک سالی میں 
چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں 

کوئی دریا گرا تھا پچھلی شب
تیری کچی گلی کی نالی میں 

لمس ہے تیرے گرم ہونٹوں کا
ویٹرس۔۔چائے کی پیالی میں 

جو ابھی ہونا ہے پڑوسن نے
واقعہ لکھ دیا ہے گالی میں 

اپنے دانتوں سے کس لئے ناخن
کاٹتا ہوں میں بے خیالی میں 	٭٭٭


اوڑھ لیتی ہیں ستاروں کا لبادہ آنکھیں 
اب تو کرتیں ہی نہیں خواب کا وعدہ آنکھیں 

کوئی گستاخ اشارہ نہ کوئی شوخ نگہ
اپنے چہرے پہ لئے پھرتا ہوں سادہ آنکھیں 

دھوپ کا کرب لئے کوئی افق پر ابھرا
اپنی پلکوں میں سمٹ آئیں کشادہ آنکھیں 

ایک دہلیز پہ رکھا ہے ازل سے ماتھا
ایک کھڑکی میں زمانوں سے ستادہ آنکھیں 

آنکھ بھر کے تجھے دیکھیں گے کبھی سوچا تھا
اب بدلتی ہی نہیں اپنا ارادہ آنکھیں 

شہر کا شہر مجھے دیکھ رہا ہے منصور 
کم تماشا ہے بہت اور زیادہ آنکھیں 
٭٭٭


ترے مکان کا رستہ تو چھوڑ دیتا ہوں 
مگر میں ساتھ گلی کو بھی موڑ دیتا ہوں 

میں اس مقام پہ پہنچا ہوں عشق میں کہ جہاں 
فراق و وصل کو آپس میں جوڑ دیتا ہوں 

مجھے مزاج کی وحشت نے فتح مند رکھا 
کہ ہار جاؤں تو سر اپنا پھوڑ دیتا ہوں 

ابھی دھڑکتا ہے دل بھیڑیے کے سینے میں 
ابھی غزال پکڑتا ہوں ، چھوڑ دیتا ہوں 

ڈرا ہوا ہوں میں اپنے مزاج سے منصور
جو میری ہو نہ سکے ، شے وہ توڑ دیتا ہوں 	٭٭٭


ریت کے ٹرک میں دو اجنبی مسافر ہیں 
میرے ساتھ خوشبو اور روشنی مسافرہیں 

گھر میں کم پیوٹر کی صرف ایک کھڑکی ہے
ورنہ قیدیوں کے دل ہر گھڑی مسافر ہیں 

چند ٹن بیئر کے ہیں چند چپس کے پیکٹ
رات کی سڑک ہے اور ہم یونہی مسافرہیں 

کون ریل کو سنگنل لالٹین سے دے گا
گاؤں کے سٹیشن پر اک ہمی مسافر ہیں 

نیند کے جزیرے پر ، آنکھ کی عمارت میں 
اجنبی سے لگتے ہیں ، یہ کوئی مسافر ہیں 

شب پناہ گیروں کے ساتھ ساتھ رہتی ہے
روشنی کی بستی میں ہم ابھی مسافر ہیں 

اور اک سمندر سا پھر عبور کرنا ہے
خاروخس کی کشتی ہے کاغذی مسافر ہیں 

چند اور رہتے ہیں دھوپ کے قدم منصور
شام کی گلی کے ہم آخری مسافر ہیں 
٭٭٭



گھلی تھی ایک ویراں چرچ کی گھمبیر تا رب میں 
مگر دو ہاتھ پیچھے دیویوں کا رقص تھا پب میں 

خدا جانے کہانی کار کتنا دلربا ہو گا
عجب رومان پرور لمس کی دھڑکن ہے مذہب میں 

مجھے اکثر وہ ہجراں کی سیاہی میں دکھائی دی
سلگتے گھاؤ کی صورت ہے کوئی سینۂ شب میں 

خدا کے قید خانے سے کوئی باہر نہیں نکلا
اگرچہ ہے بلا کی قوتِ  پرواز ہم سب میں 

ازل کی شام سے آنکھیں کسی کی خوبصورت ہیں 
رکاہے وقت صدیوں سے کسی کے عارض و لب میں 

تیز چلنے کے لئے کب راستے موجود ہیں 
وقت کی ہراک سڑک پر کیمرے موجود ہیں 

کھل نہیں سکتے اگر بابِ نبوت کے کواڑ
سینکڑوں جبریل مجھ میں کس لئے موجود ہیں 

بس صدا ڈی کوڈ کرنی ہے خموشی کی مجھے 
کتنے سگنل عرش سے آئے ہوئے موجود ہیں 

چاند شاید پیڑ کی شاخوں میں الجھا ہے کہیں 
صحن میں کچھ روشنی کے شیڈ سے موجود ہیں 

قیمتی سوٹوں کی جلسہ گاہ میں خاموش رہ
کرسیوں پر کیسے کیسے نابغے موجود ہیں 

کھول کر اپنے گریباں کے بٹن ہم سرفروش
موت کی بندوق کے پھرسامنے موجود ہیں 
٭٭٭


ذہن میں جمع ڈر کئے جائیں 
آسماں معتبر کئے جائیں 

جتنے لمحے بھی ہو سکیں ممکن 
روشنی میں بسر کئے جائیں 

اس سے آٹو گراف بک پہ نہیں 
دستخط ہاتھ پر لئے جائیں 

موسم آنے پہ باغ میں روشن 
قمقموں سے شجر کئے جائیں 


آسمانوں کو جاننے کے لئے
اپنے پاتال سر کئے جائیں 

وقت کے سائیکل پہ ہم منصور
اک کنویں میں سفر کئے جائیں 
٭٭٭


ہر ایک طاق پہ رکھے ہوئے چراغ میں ہوں 
میں آفتاب صفت رات کے دماغ میں ہوں 

میں جاودانی کا چشمہ ، مثالِ آبِ  حیات
کسی فقیر کے ٹوٹے ہوئے ایاغ میں ہوں 

مجھے تلاش نہ کر خال و خد میں خوشبو کے
کہیں پہ زخم میں ہوں میں کہیں پہ داغ میں ہوں 

اکیلا روز سلگتا ہوں چھاؤں میں اپنی
یہ اور بات کہ شادابیوں کے باغ میں ہوں 

میں دوپہر کے تسلسل کا سوختہ منصور
چراغ لے کے کسی رات کے سراغ میں ہوں 
٭٭٭

دستکوں کی دہشت سے در بدلتے رہتے ہیں 
اک اجاڑ بستی میں گھر بدلتے رہتے ہیں 

موسموں کی تبدیلی معجزے دکھاتی ہے 
جسم ایک رہتا ہے سر بدلتے رہتے ہیں 

وہ بچھڑ بھی سکتا ہے ، میں بدل بھی سکتا ہوں 
راہ میں محبت کی ، ڈر بدلتے رہتے ہیں 

کائنات کا پنجرہ کوئی در نہیں رکھتا
اور ہم پرندوں کے پر بدلتے رہتے ہیں 

ارتقاء کے پردے میں کیا فریب ہے منصور
ہم نہیں بدل سکتے ، پر، بدلتے رہتے ہیں 
٭٭٭


یونہی ہم بستیوں کو خوبصورت تر بناتے ہیں 
جہاں رہنا نہیں ہوتا وہاں پر گھر بناتے ہیں 

بنا کر فرش سے بستر تلک ٹوٹی ہوئی چوڑی
گذشتہ رات کا تصویر میں منظر بناتے ہیں 

لکھا ہے اس نے لکھ بھیجو شب ِ  ہجراں کی کیفیت
چلو ٹھہرے ہوئے دریا کو کاغذ پر بناتے ہیں 

سمندر کے بدن جیسا ہے عورت کا تعلق بھی
لہو کی آب دوزوں کے سفر گوہر بناتے ہیں 

مکمل تجربہ کرتے ہیں ہم اپنی تباہی کا
کسی آوارہ دوشیزہ کو اب دلبر بناتے ہیں 

شرابوں نے دیا سچ بولنے کا حوصلہ منصور
غلط موسم مجھے کردار میں بہتر بناتے ہیں 
٭٭٭



ابھی تو شاخ سے اپنی ، جدا ہوا ہوں میں 
’’مرے شجر نہ ابھی رو ‘‘ابھی ہرا ہوں میں 

یہ لگ رہا ہے کئی دن سے اپنے گھر میں مجھے 
کسی کے ساتھ کہیں اور رہ رہا ہوں میں 

وصالِ  زانوئے جاناں کے انتظار میں پھر 
خود اپنے ہاتھ پہ سر رکھ کے سو گیا ہوں میں 

لہو میں دوڑتی پھرتی ہے لمس کی خوشبو
تیر ے خیال سے شاید گلے ملا ہوں میں 

ستم کہ جس کی جدائی میں بجھ رہا ہے بدن 
اسی چراغ کی مانگی ہوئی دعا ہوں میں 

یہ المیہ نہیں سورج مقابلے پر ہے 
یہ المیہ ہے کہ بجھتا ہوا دیا ہوں میں 

پڑے ہوئے ہیں زمانوں کے آبلے منصور
بس ایک رات کسی جسم پر چلا ہوں میں 
٭٭٭



میرا خیال ہے کوئی پردہ اٹھا ہی دوں 
اک مستقل فراق کے پہلو میں کیوں رہوں 

مے خانۂ حیات میں محرم کوئی نہیں 
شاید میں کائنات کا پہلا شعور ہوں 

دن بھر تلاش کرتا ہوں تعبیر کس لئے
ہر رات ایک خواب کے ہوتا ہوں ساتھ کیوں 

بستی سے جا رہی ہے پرندوں بھری ٹرام
تُو ساتھ دے اگر تو کہیں میں بھی چل پڑوں 

کیوں آنکھ میں بچھا کے سمندر کے آئنے
حیرت سے دیکھتا ہے کسی چاند کو جنوں 

کوئی نشانی میری کسی ہاتھ میں تو ہو 
منصور کس کو جا کے میں سونے کا  رِنگ دوں 
٭٭٭



یزید زاد الگ ، کربلا علیحدہ ہیں 
ہمارے اور تمہارے خدا علیحدہ ہیں 

نمازِ جسم میں کعبہ کی سمت لازم ہے 
نمازِ عشق کے قبلہ نما علیحدہ ہیں 

مرے فراق کے جلتے ہوئے سیہ موسم
تمہی کہو مری جاں ! تم سے کیا علیحدہ ہیں 

سمجھ رہی ہو محبت میں وصل کو تعبیر
ہمارے خواب میں کہتا نہ تھا ، علیحدہ ہیں 

ہماری دھج کو نظر بھر کے دیکھتے ہیں لوگ
ہجوم شہر میں ہم کج ادا علیحدہ ہیں 

سیاہ بختی ٹپکتی ہے ایک تو چھت سے 
ترے ستم مری جانِ وفا علیحدہ ہیں 
٭٭٭



ٹوٹنے والے تارے پر رک جاتے ہیں 
آنکھ کے ایک کنارے پر رک جاتے ہیں 

وقت کی تیز ٹریفک چلتی رہتی ہے
ہم ہی سرخ اشارے پر رک جاتے ہیں 

جب میں سطحِ  آب پہ چلتا پھرتا ہوں 
دیکھ کے لوگ کنارے پر رک جاتے ہیں 

ہم ایسوں کے کون مقابل آئے گا 
ہم طوفان کے دھارے پر رک جاتے ہیں 

روز نکلتے ہیں مہتاب نگر میں ہم 
لیکن ایک ستارے پر رک جاتے ہیں 

اڑتے اڑتے گر پڑتے ہیں آگ کے بیچ
شام کے وقت ہمارے پر رک جاتے ہیں 
٭٭٭



باہر کھڑا ہوں کون و مکاں کے قفس سے میں 
دیکھا نکل گیا ناٰ ۔۔۔تری دسترس سے میں 

دیکھو یہ پھڑپھڑاتے ہوئے زخم زخم پر
لڑتا رہا ہوں عمر بھر اپنے قفس سے میں 

اے دوست جاگنے کی کوئی رات دے مجھے
تنگ آ گیا ہوں نیند کے کارِ  عبث سے میں 

بے وزن لگ رہا ہے مجھے کیوں مرا وجود
بالکل صحیح چاند پہ اترا ہوں بس سے میں 

اک سوختہ دیار کے ملبے پہ بیٹھ کر
انگار ڈھانپ سکتا نہیں خاروخس سے میں 

جذبوں کی عمر میں نے مجرد گزار دی 
منصور روزہ دار ہوں چودہ برس سے میں
٭٭٭

 

در کوئی جنتِ  پندار کا وا کرتا ہوں 
آئینہ دیکھ کے میں حمد و ثنا کرتا ہوں 

رات اور دن کے کناروں کے تعلق کی قسم 
وقت ملتے ہیں تو ملنے کی دعا کرتا ہوں 

وہ ترا ، اونچی حویلی کے قفس میں رہنا
یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں 

ایک لڑکی کے تعاقب میں کئی برسوں سے
نت نئی ذات کے ہوٹل میں رہا کرتا ہوں 

پوچھتا رہتا ہوں موجوں سے گہر کی خبریں 
اشکِ گم گشتہ کا دریا سے پتہ کرتا ہوں 

مجھ سے منصور کسی نے تو یہ پوچھا ہوتا 
ننگے پاؤں میں ترے شہر میں کیا کرتا ہوں 
٭٭٭



نیند کے پار کہیں ایک جہاں ہے کہ نہیں 
سوچتا ہوں کوئی موجود وہاں ہے کہ نہیں 

اس خلا باز کی آواز میں سناٹے تھے
چاند پر جس نے کہا ’کوئی یہاں ہے کہ نہیں ‘

ذہن وحدت کے تصور میں بھٹکتا ہے ابھی
یہ سوال اور ہے ذرہ میں کہاں ہے کہ نہیں 

ایک حیرت کدہ وا رہتا ہے ہر دم مجھ پر
کیسے بتلاؤں کوئی مجھ میں نہاں ہے کہ نہیں 

سو گئی تھی جو زرِ فاحشہ کے بستر میں 
وہ سپہ آج کفِ شعلہ دہاں ہے کہ نہیں 

جس سے گزرے گا ابھی قافلۂ صدرِ وطن
وہ سڑک مثل رہِ بادشہاں ہے کہ نہیں 

پھر نکل عرشِ محبت کے سفر پر منصور
پہلے یہ دیکھ وہاں جان جہاں ہے کہ نہیں 
٭٭٭



ردیف     و


ہوائے نرم خُو کو اپنی عادت کم نہ ہونے دو
شجر ایسے تعلق کی ضرورت کم نہ ہونے دو

ابھی گلدان میں رہنے دو یہ بکھری ہوئی کلیاں 
ابھی اس کے بچھڑنے کی اذیت کم نہ ہونے دو

دئیوں کی لو رکھو اونچی دیارِ درد میں منصور
اندھیروں کے خلاف اپنی بغاوت کم نہ ہونے دو

ق
مرے دھکے ہوئے جذبوں کی شدت کم نہ ہونے دو
تعلق چاہے کم رکھو ، محبت کم نہ ہونے دو

ذرا رکھو خیال اپنے نشاط انگیز پیکر کا
 مری خاطر لب و رخ کی صباحت کم نہ ہونے دو

مسلسل چلتے رہنا ہو طلسمِ  جسم میں مجھ کو
رہو آغوش میں چاہے مسافت کم نہ ہونے دو

مجھے جو کھینچ لاتی ہے تری پُر لمس گلیوں میں 
وہ رخساروں کی پاکیزہ ملاحت کم نہ ہونے دو

رکھو موجِ صبا کی وحشتیں جذبوں کے پہلو میں 
تلاطم خیز دھڑکن کی لطافت کم نہ ہونے دو		٭٭٭


اجنبی ہے کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو
یہ تو منصور کا چہرہ نہیں لگتا مجھ کو

اتنے ناپاک خیالات سے لتھڑی ہے فضا
حرفِ حق کہنا بھی اچھا نہیں لگتا مجھ کو

قتل تو میں نے کیا رات کے کمرے میں اسے
اور یہ واقعہ سپنا نہیں لگتا مجھ کو

پھر قدم وقت کے مقتل کی طرف اٹھے ہیں 
یہ کوئی آخری نوحہ نہیں لگتا مجھ کو

وقت نے سمت کو بھی نوچ لیا گھاس کے ساتھ
چل رہا ہوں جہاں رستہ نہیں لگتا مجھ کو

کیسی تنہائی سی آنکھوں میں اتر آئی ہے
میں ہی کیا کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو

موت کا کوئی پیالہ تھا کہ وہ آبِ  حیات
جسم سقراط کا مردہ نہیں لگتا مجھ کو

اب تو آنکھیں بھی ہیں سورج کی طنابیں تھامے
اب تو بادل بھی برستا نہیں لگتا مجھ کو

ٹین کی چھت پہ گرا ہے کوئی کنکر منصور
شور ٹوٹے ہوئے دل کا نہیں لگتا مجھ کو	٭٭٭



ردیف   ہ


یہی تیرے غم کا کِتھارسز ، یونہی چشمِ نم سے ٹپک کے پڑھ
یونہی رات رات غزل میں رو ، یونہی شعر شعر سسک کے پڑھ

جو اکائی میں نہیں ذہن کی اسے سوچنے کا کمال کر
یہ شعور نامۂ خاک سن ، یہ درود لوحِ  فلک کے پڑھ 

یہی رتجگوں کی امانتیں ہیں بیاضِ جاں میں رکھی ہوئی
جو لکھے نہیں ہیں نصیب میں وہ ملن پلک سے پلک کے پڑھ

مرے کینوس پہ شفق بھری نہ لکیریں کھینچ ملال کی
کوئی نظم قوسِ قزح کی لکھ کوئی رنگ ونگ دھنک کے پڑھ

ترے نرم سر کا خرام ہو مری روح کے کسی راگ میں 
مجھے انگ انگ میں گنگنا ، مرا لمس لمس لہک کے پڑھ

یہ بجھادے بلب امید کے ، یہ بہشتِ دیدِ سعید کے
ابھی آسمان کے بورڈ پر وہی زخم اپنی کسک کے پڑھ

او ڈرائیور مرے دیس کے او جہاں نما مری سمت کے
یہ پہنچ گئے ہیں کہاں پہ ہم ،ذرا سنگ میل سڑک کے پڑھ

کوئی پرفیوم خرید لا ، کوئی پہن گجرا کلائی میں 
نئے موسموں کا مشاعرہ کسی مشکبو میں مہک کے پڑھ

 ہے کتابِ  جاں کا ربن کھلا کسی ووڈکا بھری شام میں 
یہی افتتاحیہ رات ہے ذرا لڑکھڑا کے ، بہک کے پڑھ

یہ ہے ایک رات کا ناولٹ ، یہ ہے ایک شام کی سرگزست
یہ فسانہ تیرے کرم کا ہے ، اسے اتنا بھی نہ اٹک کے پڑھ

کئی فاختاؤں کی ہڈیاں تُو گلے میں اپنے پہن کے جا 
وہ جو عہد نامۂ امن تھا اسے بزم شب میں کھنک کے پڑھ
٭٭٭



عالمی بنک کے اک وفد کی تجویز پہ وہ
بم گراتا رہا خود اپنی ہی دہلیز پہ وہ

کیا بتاتا کہ مرا اس سے تعلق کیا تھا
رو بھی سکتا نہ تھا تکفین پہ تجہیز پہ وہ

کھوجنی پڑتی ہے ماتھے سے وہ قیمت لیکن
ایک لیبل سا لگا دیتا ہے ہر چیز پہ وہ

ہو نہیں سکتا شب و روز کا مالک کوئی
عمر ہر شخص کو دیتا ہے فقط لیز پہ وہ

اس نئے دور کا منصور عجب عامل ہے
نام خود اپنا ہی لکھ دیتا ہے تعویذ پہ وہ	٭٭٭


یا بدن کے سرخ گجروں کی مہک محدود رکھ
یا مجھے اپنے ڈرائنگ روم تک محدود رکھ

دھن کوئی کومل سی بس ترتیب کے لمحے میں ہے
اے محافظ کالے بوٹوں کی دھمک محدود رکھ

سو رہا ہے تیرے پہلو میں کوئی غمگین شخص
چوڑیوں کی رنگ پروردہ کھنک محدود رکھ

باغباں ہر شاخ سے لپٹے ہوئے ہیں زرد سانپ
گھونسلوں تک اپنی چڑیوں کی چہک محدود رکھ

جاگنے لگتے ہیں گلیوں میں غلط فہمی کے خواب
آئینے تک اپنی آنکھوں کی چمک محدود رکھ

لوگ چلنے لگتے ہیں قوسِ قزح کی شال پر
اپنے آسودہ تبسم کی دھنک محدود رکھ
٭٭٭



چل رہی ہے زندگی کی اک بھیانک رات ساتھ
پھر بھی میں ہوں جلتی بجھتی روشنی کے ساتھ ساتھ 

میں نے سوچا کیا کہیں گے میرے بچپن کے رفیق
اور پھر رختِ سفر میں رکھ لئے حالات ساتھ 

میں اکیلا رونے والا تو نہیں ہوں دھوپ میں 
دے رہی ہے کتنے برسوں سے مرا برسات ساتھ

چاہئے تھا صرف تعویذ ِ  فروغ ِ کُن مجھے
دے دیا درویش نے اذنِ شعورِ ذات ساتھ

یہ خزاں زادے کہیں کیا گل رتوں کے مرثیے
یونہی بے مقصد ہواؤں کے ہیں سوکھے پات ساتھ

ایک بچھڑے یار کی پرسوز یادوں میں مگن 
کوئی بگلا چل رہا تھا پانیوں کے ساتھ ساتھ
٭٭٭



اور اب تو میرے چہرے سے ابھر آتا ہے وہ
آئینہ میں دیکھتا ہوں اور نظر آتا ہے وہ

حالِ دل کہنے کو بارش کی ضرورت ہے مجھے
اور میرے گھر ہوا کے دوش پر آتا ہے وہ

رات بھر دل سے کوئی آواز آتی ہے مجھے
جسم کی دیوار سے کیسے گزر آتا ہے وہ

وقت کا احساس کھو جاتا تھا میری بزم میں 
اپنے بازو پر گھڑی اب باندھ کر آتا ہے وہ

میں ہوا کی گفتگو لکھتا ہوں برگِ شام پر
جو کسی کو بھی نہیں آتا ہنر آتا ہے وہ

سر بریدوں کو تنک کر رات سورج نے کہا 
اور جب شانوں پہ رکھ کر اپنا سر آتا ہے وہ
٭٭٭


مل جاؤ تھوڑی دیر تو آ کر کسی جگہ
میں جا رہا ہوں شہر سے باہر کسی جگہ

میں روزنامچہ ہوں تری صبح و شام کا 
مجھ کو چھپا دے شلِف کے اندر کسی جگہ

جادو گری حواس کی پھیلی ہوئی ہے بس 
ہوتا نہیں ہے کوئی بھی منظر کسی جگہ 

کچھ دن گزارتا ہوں پرندوں کے آس پاس
جنگل میں چھت بناتا ہوں  جا کر کسی جگہ

منصور اس گلی میں تو آتی نہیں ہے دھوپ 
گھر ڈھونڈھ کوئی مین سڑک پر کسی جگہ	٭٭٭


پاؤں کی وحشت بچھاتی جا رہی ہے راستہ
جیپ جنگل میں بناتی جا رہی ہے راستہ

احتراماً چل رہا ہوں میں سڑک کے ساتھ ساتھ
اور سڑک ہے کہ بڑھاتی جا رہی ہے راستہ

اک بڑی اونچی پہاڑی رفتہ رفتہ ہاتھ سے
میرے پاؤں میں گراتی جا رہی ہے راستہ

سوچتا ہوں میری پُر آشوب بستی کس لئے 
اپنا دریا سے ملاتی جا رہی ہے راستہ

پیچھے پیچھے پاؤں اٹھتے جا رہے ہیں شوق میں 
آگے آگے وہ بتاتی جا رہی ہے راستہ

رہ بناتا جا رہا ہوں وقت میں منصور میں 
عمر کی آندھی اڑاتی جا رہی ہے راستہ
٭٭٭



ردیف ی


چراغ ہو گیا بدنام کچھ زیادہ ہی
کہ جل رہا تھا سرِ بام کچھ زیادہ ہی 

ترے بھلانے میں میرا قصور اتنا ہے 
کہ پڑ گئے تھے مجھے کام کچھ زیادہ ہی 

میں کتنے ہاتھ سے گزرا یہاں تک آتے ہوئے
مجھے کیا گیا نیلام کچھ زیادہ ہی

ملال تری جدائی کا بے پنہ لیکن
فسردہ ہے یہ مری شام کچھ زیادہ ہی 

تمام عمر کی آوارگی بجا لیکن
لگا ہے عشق کا الزام کچھ زیادہ ہی 

بس ایک رات سے کیسے تھکن اترتی ہے
بدن کو چاہئے آرام کچھ زیادہ ہی 

سنبھال اپنی بہکتی ہوئی زباں منصور
تُو لے رہا ہے کوئی نام کچھ زیادہ ہی
٭٭٭


تم کیسے اجالوں کا گزر بند کرو گی
کس چیز میں سورج کو نظر بند کرو گی

یہ کیا کہ چہکتے ہوئے رازوں کی گلی میں 
ٹوٹی ہوئی بوتل کو بھی سر بند کرو گی

چھپ جاؤ گی تم ذات کے تہہ خانے میں لیکن
کیسے کسی احساس کا در بند کرو گی

یہ تیرے مکان کا کوئی دروازہ نہیں ہیں 
کیسے مرے جذبوں کا سفر بند کرو گی

منصور پلٹ جائے گا دستک نہیں دیگا
تم ذات کا دروازہ اگر بند کرو گی	٭٭٭

اک شخص نے ہونٹوں سے کوئی نظم کہی تھی
ہے یاد مجھے بوسوں بھری سات مئی تھی

میں انگلیاں بالوں میں یونہی پھیر رہا تھا
وہ کمرے کی کھڑکی سے مجھے دیکھ رہی تھی

اس شخص کے گھر وہی حالت تھی مگر اب
بِڈ روم کی دیوار پہ تصور نئی تھی

آئی ہے پلٹ کر کئی صدیوں کے سفر سے
اس گیٹ کے اندر جو ابھی کار گئی تھی

موسم کے تغیر نے لکھا مرثیہ اس کا
منصور ندی مل کے جو دریا سے بہی تھی	٭٭٭


عشق میں مبتلا ہوں ویسے ہی
میں کسی سے ملا ہوں ویسے ہی 

آج میرا بہت برا دن تھا
یار سے لڑ پڑا ہوں ویسے ہی 

اس لئے آنکھ میں تھکاوٹ ہے
ہر طرف دیکھتا ہوں ویسے ہی

بارشِ سنگ ہوتی رہتی ہے
آسماں لیپتا ہوں ویسے ہی 

مجھ کو لا حاصلی میں رہنا ہے
میں تجھے سوچتا ہوں ویسے ہی 

ایک رہرو سے پوچھتے کیا ہو
اک ذرا رک گیا ہوں ویسے ہی

مجھ کو جانا نہیں کہیں منصور
تار پر چل رہا ہوں ویسے ہی
٭٭٭



آشنا سا لگتا ہے اپنی پُر خواب چاپ سے کوئی
ہے مرے تعاقب میں ،نیند کے بس سٹاپ سے کوئی

موسمِ جدائی کی تنگ تھا زرد سی طوالت سے
رُت خرید لایا ہے وصل کی ، لمس شاپ سے کوئی

قوس قوس آوازیں دور تک دائرے بناتی تھیں 
لکھ رہا تھا کمرے میں گیت سا کیا الاپ سے کوئی

رقص کے الاؤ میں ڈوب کر پاؤں سے کلائی تک
جل اٹھا تھا ڈھولک کی نرم سی تیز تھاپ سے کوئی

سردیوں کی برفانی صبح میں گرم گرم سے بوسے
پھینکتا تھا ہونٹوں کی برف سی سرد بھاپ سے کوئی

جو کہیں نہیں موجود ، روح کے آس پاس میں منصور
پوچھتا رہا اس کا ، دیر تک اپنے آپ سے کوئی
٭٭٭


کلی لبادۂ تزئین سے نکل آئی
سفید آگ سیہ جین سے نکل آئی

دکھائی فلم کسی نے وصال کی پہلے
پھر اس کے بعد وہ سکرین سے نکل آئی

بلا کا دکھ تھا کسی قبر کا مجھے لیکن
بہار پھول کی تدفین سے نکل آئی

اسے خرید لیا مولوی کفایت نے
جو نیکی سیٹھ کرم دین سے نکل آئی

گزر ہوا ہے جہاں سے بھی فوج کا منصور
زمین گھاس کے قالین سے نکل آئی		٭٭٭

ساری پوشاک خون سے تر تھی ، دور سے بھی دکھائی دیتی تھی
جانے کیوں میری بے گناہی کی پھر بھی بستی گواہی دیتی تھی

دن نکلتے ہی بجنے لگتا تھا ایک ڈھولک کا کیروا مجھ میں 
رات بھر وائلن کے ہونٹوں سے بھیرویں سی سنائی دیتی تھی

ایک ہوتی تھی تجھ سی شہزادی ا لف لیلیٰ کی داستانوں میں 
جو گرفتاریوں کے موسم میں قیدیوں کو رہائی دیتی تھی

ایک امید مجھ میں ہوتی تھی ، خواب بوتی تھی پھول کھلتے تھے
تیلیاں توڑتی قفس کی تھی آسماں تک رسائی دیتی تھی

ایک ٹوٹے ہوئے کواٹر میں وہ تمنا بھی مر گئی آخر
وہ جو منصور کے تخیل کو شوقِ عالم پناہی دیتی تھی

کیا کہوں کھو گئی کہاں مجھ سے شام ہوتے ہی جو بڑے دل سے
موتیے کے سفید گجروں کو اپنی نازک کلائی دیتی تھی

ایک کیفیتِ عدم جس میں جنتِ  خواب کے خزانے تھے
روح کل کی شراب سے بھر کر وہ بدن کی صراحی دیتی تھی
٭٭٭



عمر دھوئیں سے پیلی ہو گی
یہ لکڑی بھی گیلی ہو گی

موت مرا معمول رہے گا
کوئی کہاں تبدیلی ہو گی

پھیل رہا ہے سرد رویہ 
رات بڑی برفیلی ہو گی

ہجر کا اپنا ایک نشہ ہے
غم کی شام نشیلی ہو گی

میں نے سگریٹ سلگانا ہے
ماچس میں اک تیلی ہو گی

غالب کے قہوہ خانے میں 
بات ذرا تفصیلی ہو گی

اچھی طرح سے بال سکھا لے
تیز ہوا سردیلی ہو گی

ہفتوں بعد ہے نکلا سورج
دھوپ بہت نوکیلی ہو گی

کال آئی ہے امریکہ سے 
موسم میں تبدیلی ہو گی

گرم دسمبر کے پہلو میں 
جسم کی آگ لجیلی ہو گی

نوٹ پیانو کے سُن سُن کر
رم جھم اور سریلی ہو گی

دن بھی ہو گا آگ بلولا
رات بھی کالی نیلی ہو گی

اک اتوار ملے گی مجھ سے
اور بڑی شرمیلی ہو گی

شعر بنانا چھوڑ دے لیکن
یہ منصور بخیلی ہو گی	٭٭٭


اتاریں اب بدن کی شرم تھوڑی سی
محبت ہے تو ہو کنفرم تھوڑی سی

ضروری ہے لہو میں آگ بھی لیکن
سبک اندام تھوڑی ، نرم تھوڑی سی

چل اپنے سادہ و معصوم سے دل پر
چڑھا لے بھیڑے کی چرم تھوڑی سی

اب اپنا قتل کرنا چاہتا ہوں میں 
اجازت دے مجھے اے دھرم تھوڑی سی

’’بیا جاناں ‘‘ ’’بصد سامانِ رسوائی‘‘
خموشی ہے ، خبر ہو گرم تھوڑی سی

کسی کے نرم و نازک جسم سے مل کر
ہوئی ہے آتما بھی پرم تھوڑی سی

سکوتِ شام جیسی ایک دوشیزہ
 محبت میں ہوئی سرگرم تھوڑی سی
٭٭٭



بس کسی اعتراض میں رکھ دی
جاں لباس مجاز میں رکھ دی

رات کھولے تھے کچھ پرانے خط
پھر محبت دراز میں رکھ دی

یادِ یاراں نے پھر وہ چنگاری
ایک مردہ محاذ میں رکھ دی

یوں تو سب کچھ کہا مگر اس نے
راز کی بات راز میں رکھ دی

تان لی تھی رقیب پر بندوق
ربطِ جاں کے لحاظ میں رکھ دی

کس نے تیرے خیال کی دھڑکن 
دست طبلہ نواز میں رکھ دی

شرٹ ہینگر پہ ٹانک دی میں نے 
اور لڑکی بیاض میں رکھ دی

اس نے پستی گناہ کی لیکن
ساعتِ سرفراز میں رکھ دی

مرنے والا نشے میں لگتا تھا
کیسی مستی نماز رکھ دی

رات آتش فشاں پہاڑوں کی
اپنے سوز و گداز میں رکھ دی

کس نے سورج مثال تنہائی
میری چشم نیاز میں رکھ دی

داستاں اور اک نئی اس نے
میرے غم کے جواز میں رکھ دی

مسجدوں میں دھمال پڑتی ہے
کیفیت ایسی ساز میں رکھ دی


پھر ترے شاعرِ عجم نے اسد
نظم صحنِ عکاظ میں رکھ دی

کس نے پہچان حسن کی منصور
دیدۂ عشق باز میں رکھ دی
٭٭٭



بڑی اداس بڑی بے قرار تنہائی
ذرا سے شہر میں ہے بے شمار تنہائی

مجھے اداسیاں بچپن سے اچھی لگتی ہیں 
مجھے عزیز مری اشکبار تنہائی

فراق یہ کہ وہ آغوش سے نکل جائے
وصال یہ کرے بوس و کنار تنہائی

پلٹ پلٹ کے مرے پاس آئی وحشت سے
کسی کو دیکھتے ہی بار بار تنہائی

مرے مزاج سے اس کا مزاج ملتا ہے
میں سوگوار۔۔۔ تو ہے سوگوار تنہائی

کوئی قریب سے گزرے تو جاگ اٹھتی ہے
شبِ سیہ میں مری جاں نثار تنہائی

مجھے ہے خوف کہیں قتل ہی نہ ہو جائے
یہ میرے غم کی فسانہ نگار تنہائی

نواح جاں میں ہمیشہ قیام اس کا تھا
دیارِ غم میں رہی غمگسار تنہائی

ترے علاوہ کوئی اور ہم نفس ہی نہیں 
ذرا ذرا مجھے گھر میں گزار تنہائی

یونہی یہ شہر میں کیا سائیں سائیں کرتی ہے
ذرا سے دھیمے سروں میں پکار تنہائی

نہ کوئی نام نہ چہرہ نہ رابطہ نہ فراق
کسی کا پھر بھی مجھے انتظار ، تنہائی
٭٭٭



جو وجہ وصل ہوئی سنگسار تنہائی
تھی برگزیدہ ، تہجد گزار تنہائی

مری طرح کوئی تنہا اُدھر بھی رہتا ہے
بڑی جمیل ، افق کے بھی پار تنہائی

کسی سوار کی آمد کا خوف ہے ،کیا ہے
بڑی سکوت بھری، کوئے دار، تنہائی

دکھا رہی ہے تماشے خیال میں کیا کیا
یہ اضطراب و خلل کا شکار تنہائی

بفیضِ خلق یہی زندگی کی دیوی ہے
کہ آفتاب کا بھی انحصار تنہائی

اگرچہ زعم ہے منصور کو مگر کیسا
تمام تجھ پہ ہے پروردگار تنہائی
٭٭٭



سونی سونی پورٹ کی جھلمل چھوڑ گئی تھی
آنکھ کھلی تو فیری ساحل چھوڑ گئی تھی

فلم کا ہیرو دیکھ کے بھولی بھالی لڑکی 
سینما ہال کی کرسی پر دل چھوڑ گئی تھی

شاید ملک سے باہر ننگ زیادہ تھا  کچھ
 مزدوروں کو کپڑے کی مل چھوڑ گئی تھی

اس نے میرے  ہاتھ پہ رکھا تھا اک وعدہ
جاتے ہوئے کچھ اور مسائل چھوڑ گئی تھی

میں نے اپنے جسم سے پردہ کھنچ لیا تھا
اور مجھے پھر ساری محفل چھوڑ گئی تھی

گھر لوٹنے  میں اک ذرا تاخیر کیا ہوئی
سب کچھ بدل کے رہ گیا تقصیر کیا ہوئی 

کمرے میں سن رہا ہوں کوئی اجنبی سی چاپ
دروازے پر لگی ہوئی زنجیر کیا ہوئی 

وہ درد کیا ہوئے جنہیں رکھا تھا دل کے پاس
وہ میز پر پڑی ہوئی تصویر کیا ہوئی

جو گیت لا زوال  تھے وہ گیت کیا ہوئے 
وہ ریت پر وصال کی تحریر کیا ہوئی

ہر صبح دیکھتا ہوں میں کھڑکی سے موت کو
گرتے ہوئے مکان کی تعمیر کیا ہوئی

منصور اختیار کی وحشت کے سامنے
یہ جبرِ کائنات یہ تقدیر کیا ہوئی
٭٭٭


ایک ٹوٹی ہوئی مسجد میں رہائش کیا تھی
مجھ سے موسیٰ کو ملاقات کی خواہش کیا تھی 

شامیانوں سے نگر ڈھانپ رہی تھی دنیا
حاکمِ شہر کی جادو بھری بارش کیا تھی

اپنے خالق کی بھی تفہیم وہ رکھ سکتا تھا
مجھ سے مت پوچھ کہ روبوٹ کی دانش کیا تھی

ناچتی پھرتی تھی اک نیم برہنہ ماڈل
خالی بوتیک تھا کپڑوں کی نمائش کیا تھی

جل گئی تھی مری آغوش گلوں سے منصور
رات وہ بوسہِِ سرگرم کی سازش کیا تھی 	٭٭٭


پہلو میں آ کہ اپنا ہو عرفان سائیکی
یہ رات چاند رات ہے کم آن سائیکی

میرے سگار میں رہے جلتے تمام عمر
احساس ، خواب ، آگہی ، وجدان ، سائیکی

اٹکا ہوا ہے خوف کے دھڑمیں مرا دماغ
وحشت زدہ خیال ، پریشان سائیکی

باہر مرے  حریمِ حرم سے نکل کے آ
اپنے چراغِ  طور کو پہچان سائیکی

رستہ نجات کا ترے لاکٹ میں بند ہے
باہر کہیں نہیں کوئی نروان سائیکی

لاکھوں بلیک ہول ہیں مجھ میں چھپے ہوئے
میری خلاؤں سے بھی ہے سنسان سائیکی

کیا توُ برہنہ پھرتی ہے میری رگوں کے بیچ
میرے بدن میں کیسا ہے ہیجان سائیکی

یہ حسرتیں یہ روگ یہ ارماں یہ درد و غم
کرتی ہو جمع میر کا دیوان ، سائیکی
٭٭٭


گرا کے پھول اٹھائے کوئی کڑی تھل کی 
کھلے گلے کی پہن کر قمیض ململ کی

ابھی تو پاؤں میں باقی ہے ہجر کا ہفتہ
پڑی ہے راہ ابھی ایک اور منگل کی 

حنائی ہاتھ پہ شاید پلیٹ رکھی تھی 
ہوا کے جسم سے خوشبو اٹھی تھی چاول کی 

بچھی ہوئی ہیں سحر خیزیوں تلک آنکھیں 
ملی ہوئی ہے شبوں سے لکیر کاجل کی 

لیا ہے شام کا شاور ابھی ابھی کس نے 
گلی میں آئی ہے خوشبو کہاں سے جل تھل کی 

شفق کے لان میں صدیوں سے شام کی لڑکی 
بجا رہی ہے مسلسل پرات پیتل کی 

نکھر نکھر گیا کمرے میں رنگ کا موسم 
ذرا جو شال بدن کے گلاب سے ڈھلکی

کسی کو فتح کیا میں نے پیاس کی رت میں 
اڑے جو کارک تو شمپین جسم پر چھلکی

چھتوں پہ لوگ اٹھائے ہوئے تھے بندوقیں 
تمام شہر پہ اتری تھی رات جنگل کی

جھلس گیا تھا دسمبر کی رات میں منصور
وہ سرسراتی ہوئی آگ تیرے کمبل کی
٭٭٭


وہ بر گزیدہ خطا رات عاصیوں سے ہوئی
کہ اوس اوس کلی بے لباسیوں سے ہوئی

ہر ایک صبح منور ہوئی ترے غم سے
ہر ایک شام فروزاں اداسیوں سے ہوئی

میں کھوجنے کے عمل میں شکار اپنا ہوا 
مری اکیلگی چہرہ شناسیوں سے ہوئی

لپک کے بھاگ بھری نے کسی کو چوم لیا
گھٹا کی بات جو روہی کی پیاسیوں سے ہوئی

بہت سے داغ اجالوں کے رہ گئے منصور
جہاں میں رات عجب بدحواسیوں سے ہوئی		٭٭٭


وہ بوند بوند گلِ  ناف کر رہا ہے کوئی
شبِ فراق کا اصراف کر رہا ہے کوئی

نکھرتی جاتی ہے شبنم اداس آنکھوں میں 
کسی گلاب کو سی آف کر رہا ہے کوئی

گرا رہے ہیں در و بام چند بلڈوزر
سنا ہے شہر مرا ، صاف کر رہا ہے کوئی

بتا رہا ہے بدن کی نزاکتوں کا ناپ 
بیان حسن کے اوصاف کر رہا ہے کوئی

بڑھا رہا ہے سرِشام وصل کی خواہش
وہ روشنی کا سوئچ آف کر رہا ہے کوئی

بڑھا رہا ہے محبت کے وائرس منصور
شبِ  وصال سے انصاف کر رہا ہے کوئی
٭٭٭


ہر قدم پر کوئی دیوار کھڑی ہونی تھی 
میں بڑا تھا میری مشکل بھی بڑی ہونی تھی 

اس نے رکھنی ہی تھیں ہر گام پہ برفاب شبیں 
میں مسافر تھا مسافت تو کڑی ہونی تھی

ہجر کی سالگرہ اور مسلسل سورج
آج تو دس تھی دسمبر کی جھڑی ہونی تھی

صبحِ  تقریب! ذرا دیر ہوئی ہے ورنہ 
یہ گھڑی اپنے تعارف کی گھڑی ہونی تھی

اور کیا ہونا تھا دروازے سے باہر منصور 
دن رکھا ہونا تھا یا رات پڑی ہونی تھی	٭٭٭


ردیف ے


وہ شب و روز خیالوں میں تماشا نہ کرے 
آ نہیں سکتا تو پھر یاد بھی آیا نہ کرے 

ایک  امید  کی کھڑکی  سی کھلی رہتی ہے 
اپنے کمرے کا کوئی ، بلب بجھایا نہ کرے

روز ای میل کرے سرخ اِمج ہونٹوں کے 
میں کسی اور ستارے پہ ہوں ، سوچا نہ کرے

حافظہ ایک امانت ہے کسی کی لیکن
یاد  کی  سرد  ہو ا  شام  کو  رویا  نہ کرے 

چاند کے حسن پہ ہر شخص کا حق ہے منصور 
میں اسے کیسے کہوں رات کو نکلا نہ کرے
٭٭٭


دل کو کچھ دن اور بھی برباد رکھنا چاہئے
اور کچھ اس بے وفا کو یاد رکھنا چاہئے

کونج کی سسکاریاں کانوں میں اتریں تو کھلا
گھر بڑی شے ہے اسے آباد رکھنا چاہئے 

ریل میں جس سے ہوئی تھی یونہی دم بھر گفتگو
خوبصورت آدمی تھا ، یاد رکھنا چاہئے 

موسم گل ہے کہیں بھی لڑکھڑا سکتا ہے دل 
ہر گھڑی اندیشۂ افتاد رکھنا چاہئے 

مت پکڑ منصور پتوں میں یہ چھپتی تیتری
ایسی نازک چیز کو آزاد رکھنا چاہئے		٭٭٭


میں خود پہلو میں ہوں اپنے بدن اپنا مکمل ہے 
اسے کہنا بغیر اس کے مری دنیا مکمل ہے 

گلی کی برف پر کھنچیں لکیریں بے خیالی میں 
ادھورے نقش ہیں کچھ کچھ مگر چہرہ مکمل ہے 

ابھی تیرے بدن سے میری خوشبو ہی نہیں آتی 
ادھوری ہے وفا ، اپنی محبت نامکمل ہے

لکیر اپنے لہو کی ہے مگر ان دونوں ٹکڑوں میں 
خزانے تک پہنچنے کا تو اب نقشہ مکمل ہے 

کسی کی سرخ فائل کا پڑھا ہے ایک اک صفحہ
مجھے دفتر میں جتنا کام کرنا تھا مکمل ہے

 بلا کی خوبصورت ہے کہیں صدیوں کی خاموشی
ہے بے مفہوم سا چہرہ مگر کتنا مکمل ہے

محبت کا سفر بھی کیا کرشمہ ساز ہے منصور
ادھر منزل نہیں آئی ادھر رستہ مکمل ہے
٭٭٭



بھر گئی تھی بیسمنٹ نیکیوں کے شور سے 
کہہ رہا تھا کون کیا ساتویں فلور سے 

نیم گرم دودھ کے ٹب میں میرے جسم کا 
روشنی مساج کر اپنی پور پور سے 

زاویہ وصال کا رہ نہ جائے ایک بھی 
شاد کام جسم ہو لمس کے سکور سے

فاختہ کے خون سے ہونٹ اپنے سرخ رکھ 
فائروں کے گیت سن اپنی بارہ بور سے

بام بام روشنی پول پول لائٹیں 
رابطے رہے نہیں چاند کے چکور سے
 
وحشتِ گناہ سے نوچ لے لباس کو 
نیکیوں کی پوٹلی کھول زور زورسے

واعظوں کی ناف پر کسبیوں کے ہاتھ ہیں 
کوتوالِ شہر کی دوستی ہے چور سے

شیر کے شکار پر جانے والی توپ کی
رات بھر بڑی رہی بات چیت مور سے
٭٭٭


گھونٹ بھرا چائے کا تیرے گھر کچھ دیر رکے 
جیسے موٹر وے کی سروس پر کچھ دیر رکے 

حیرانی سے لوگ بھی دیکھیں میری آنکھ کے ساتھ 
کیمرہ لے کے آتا ہوں ۔۔ منظر کچھ دیر رکے 

  اتنی رات گئے تک کس ماں کے پہلو میں تھا
 کتے کا بچہ  اور اب باہر کچھ دیر رکے

کیسی کیسی منزل ہجرت کرتی آتی ہے
دیس سے آنے والی راہ گزر کچھ دیر رکے

وہ منصور کبھی تو اتنی دیر میسر ہو
اس کی جانب اٹھے اور نظر کچھ دیر رکے	٭٭٭


فراق بیچتے کیسے ، پلان کیا کرتے
 بدن کے شہر میں دل کی دکان کیا کرتے

ہمیں خبر ہی نہ تھی رات کے اترنے کی
سو اپنے کمرے کا ہم بلب آن کیا کرتے

نکل رہی تھی قیامت کی دھوپ ایٹم سے
یہ کنکریٹ بھرے سائبان کیا کرتے

تھلوں کی ریت پہ ٹھہرے ہوئے سفینے پر
ہوا تو تھی ہی نہیں بادبان کیا کرتے

بدن کا روح سے تھا اختلاف لیکن ہم
خیال و واقعہ کے درمیان کیا کرتے 

دکھائی دیتا تو تشکیک کیوں جنم لیتی
یقین ہوتا ہمیں تو گمان کیا کرتے
٭٭٭



یہ سچ کی آگ پرے رکھ مرے خیالوں سے 
بھرا ہوا ہوں سلگتے ہوئے سوالوں سے

مکانِ ذات کے دیمک زدہ کواڑ کھلے
بھری ہوئی ہیں چھتیں مکڑیوں کے جالوں سے

مجھے پسند ہے عورت ، نماز اور خوشبو
انہی کو چھینا گیا ہے مرے حوالوں سے

عمل کے اسم سے بابِ طلسم کھلنا ہے 
اتار رینگتی صدیوں کا زنگ تالوں سے

بھٹک رہا ہے سرابوں کی شکل میں پانی 
قضا ہوا کوئی چشمہ کہیں غزالوں سے

نہ مانگ وقت کی باریش چھاؤں سے دانش
لٹکتے کب ہیں ثمر برگدوں کے بالوں سے 

ق

بدل رہی ہے کچھ ایسے گلوب کی گردش
ڈرے ہوئے ہیں ستارے خود اپنی چالوں سے

مکاں بھی اپنے مکینوں سے اب گریزاں ہیں 
گلی بھی خود کو چھپاتی ہے چلنے والوں سے

وہ تیرگی کہ لرزتے ہیں بام و در شب کے
وہ روشنی ہے کہ سورج ڈرے اجالوں سے

یہ روز و شب ہیں تسلسل سے منحرف منصور
یہ ساعتیں کہ الگ ہو گئی ہیں سالوں سے
٭٭٭


فروغِ کُن کو صوتِ صورِاسرافیل ہونا ہے
پہاڑوں کا بھی اب جغرافیہ تبدیل ہونا ہے 

زمیں پر خیر و شر کے آخری ٹکراؤ تک مجھ کو
کبھی ہابیل ہونا ہے کبھی قابیل ہونا ہے 

کہاں معلوم ہوتا ہے تماشا ہونے سے پہلے
کسے پردے میں رہنا ہے کسے تمثیل ہونا ہے

ابھی تعلیم لینی ہے محبت کی ، ابھی میں نے 
بدن کے مدرسے سے فارغ التحصیل ہونا ہے

کوئی ہے نوری سالوں کی طوالت پر کہیں منصور
مجھے رفتار سر کرتی ہوئی قندیل ہونا ہے	٭٭٭

رک گئے پیر فرید اور وارث باہو چلتے چلتے
لفظ کے در پر جب آئے ہم سادھو چلتے چلتے

یاد تھکن ہے ایک سڑک کی ،یاد ہے دکھ کا رستہ
بیٹھ گیا تھا میرے کاندھوں پر توُ چلتے چلتے

تیرا میرا نام بھی شاید لافانی کر جائے 
برگد کے مضبوط تنے پر چاقو چلتے چلتے

وار قیامت خیز ہوئے دو دھاری تلواروں کے
رخساروں کو چیر گئے ہیں آنسو چلتے چلتے 
 
ایک محل کے بند کواڑوں سے منصور نکل کر
میرے صحن تلک آئی ہے خوشبو چلتے چلتے		٭٭٭


وہ چوک میں کھڑا ہے پھریرا لئے ہوئے
یہ اور بات فوج ہے گھیرا لئے ہوئے 

آنکھیں کہ رتجگوں کے سفر پر نکل پڑیں 
اک دلنواز خواب سا تیرا لئے ہوئے

اللہ کے سپرد ہے خانہ بدوش دوست
وہ اونٹ جا رہے ہیں ’’ بسیرا ‘‘لئے ہوئے

اندر کا حبس دیکھ کے سوچا ہے بار بار
مدت ہوئی ہے شہر کا پھیرا لئے ہوئے

چلتے رہے ہیں ظلم کی راتوں کے ساتھ ساتھ
آنکھوں میں مصلحت کا اندھیرا لئے ہوئے

رہنا نہیں ہے ٹھیک کناروں کے آس پاس
پھرتا ہے اپنا جال مچھیرا لئے ہوئے

گردن تک آ گئے ہیں ترے انتظار کے
لمبے سے ہاتھ ، جسم چھریرا لئے ہوئے

لوگوں نے ڈھانپ ڈھانپ لیا درز درز کو
منصور پھر رہا تھا سویرا لئے ہوئے
٭٭٭




ساتھ نہ تھا کوئی اپنے ساتھ سے پہلے
دھند تھی دنیا شعورِ ذات سے پہلے

بزمِ سخن میں اک تارہ بول پڑا تھا
غم کی تلاوت تھی ، حمد و نعت سے پہلے

نیند بھری رات ! انتظار کسی کا
ہوتا تھا ترکِ تعلقات سے پہلے

کہتے ہیں خالی نگر میں رہتی ہیں روحیں 
لوٹ ہی جائیں آ گھر کو ، رات سے پہلے

کیسا تھا سناٹا تیرے عہدِ  عدم میں 
کیسی خموشی تھی پہلی بات سے پہلے

خواب تھے پنہاں شکستِ  زعم میں شاید
فتح کی باتیں کہاں تھیں مات سے پہلے
٭٭٭


تیرے کرنوں والے ہٹ میں رات کرنا چاہتی ہے 
ساحلوں پر زندگی سن باتھ کرنا چاہتی ہے 

اپنے بنگلوں کے سوئمنگ پول کی تیراک لڑکی 
میرے دریا میں بسر اوقات کرنا چاہتی ہے 

وقت کی رو میں فراغت کا نہیں ہے کوئی لمحہ
اور اک بڑھیا کسی سے بات کرنا چاہتی ہے 

چاہتا ہوں میں بھی بوسے کچھ لبوں کی لاٹری کے 
وہ بھی ملین پونڈ کی برسات کرنا چاہتی ہے 

مانگتا پھرتا ہوں میں بھی لمس کا موسم کہیں سے 
وہ بھی اپنے جسم کی خیرات کرنا چاہتی ہے	٭٭٭

کتاب ہاتھ میں ہے اور کج ، کلاہ میں ہے
مگر دماغ ابو جہل کی سپاہ میں ہے

بلند بام عمارت ! تری  ہر اک منزل
مقام ِ صفر کی بے رحم بارگاہ  میں  ہے 

پڑی ہے ایش ٹرے میں سلگتے لمس کی راکھ
ملن کی رات ابھی عرصۂ گناہ میں ہے

بھٹکتا پھرتا ہوں ظلمات کے جزیرے میں 
بلا کی رات کسی دیدۂ سیاہ میں ہے

رکا نہیں ہوں کسی ڈاٹ کا م پر منصور 
گلوب پاؤں تلے تو خلا نگاہ میں ہے		٭٭٭

کوئی نرم نرم سی آگ رکھ مرے بند بند کے سامنے
چلے فلم کوئی وصال کی دلِ ہجر مند کے سامنے

یہ عمل ومل کے کمال چپ ، یہ ہنروری کے جمال چپ 
یہ ہزار گن سے بھرے ہیں کیا ، ترے بھاگ وند کے سامنے

کھلی کھڑکیوں کے فلیٹ سے ذرا جھانک شام کو روڈ پر
ترے انتظار کی منزلیں ہیں مری کمند کے سامنے

کئی ڈاٹ کام نصیب تھے جسے زینہ زینہ معاش کے
وہ منارہ ریت کا دیوتا تھا اجل پسند کے سامنے

ابھی اور پھینک ہزار بم ، مرے زخم زخم پہاڑ پر 
کوئی حیثیت نہیں موت کی ، کسی سر بلند کے سامنے		٭٭٭

ہجر کو تاپتے تاپتے جسم سڑنے لگا ہے
اس لِونگ روم کا وال پیپر اکھڑنے لگا ہے

گھر کے باہر گلی میں بھی بکھرے ہیں پتے خزاں کے
کیسا تنہائی کے پیڑ سے درد جھڑنے لگا ہے 

خواب جیسے دریچے میں آتی ہے دوشیزہ کوئی 
کچھ دنوں سے مرا چاند پر ہاتھ پڑنے لگا ہے

اک توبالشتیے ہم ، پلازوں کی اونچائی میں ہیں 
دوسرا شہر میں آسماں بھی سکڑنے لگا ہے

آندھیاں اور بھی تیز رفتار ہونے لگی ہیں 
اب تو یہ لگ رہا ہے کہ خیمہ اکھڑنے لگا ہے		٭٭٭


آسماں کے حرا پہ اترا ہے
اک محمد خدا پہ اترا ہے

بول ! زنجیر ریل گاڑی کی
کون کیسی جگہ پہ اترا ہے

سوچتا ہوں کہ رحم کا بادل
کب کسی کربلا پہ اترا ہے

کس کے جوتے کا کھردرا تلوا
سدرۃالمنتہیٰ پہ اترا ہے

خیر کی آرزو نہ راس آئی 
قہر دستِ  دعا پہ اترا ہے

جھونک دے گی ہر آنکھ میں منصور
راکھ کا دکھ ہوا پہ اترا ہے 
٭٭٭


گنبدوں سی کچھ اٹھانیں یاد آتی ہیں مجھے
گفتگو کرتی چٹانیں یاد آتی ہیں مجھے

میرے گھر میں تو کوئی پتیل کا برتن بھی نہیں 
کس لئے سونے کی کانیں یاد آتی ہیں مجھے 

ان نئی تعمیر کردہ مسجدوں کو دیکھ کر
کیوں شرابوں کی دکانیں یاد آتی ہیں مجھے

یاد آتی ہے مجھے اک شیرنی سے رسم و راہ 
اور دریچوں کی مچانیں یاد آتی ہیں مجھے

سیکھتی تھی کوئی اردو رات بھر منصور سے
ایک ہوتی دو زبانیں یاد آتی ہیں مجھے	٭٭٭

وہ لپیٹ کر نکلی تولیے میں بال اپنے 
بوند بوند بکھرے تھے ہر طرف خیال اپنے 

درد کے پرندوں کو آنکھ سے رہائی دے
دیکھ دل کے پنجرے میں رو پڑے ملال اپنے

یہ صدا سنائی دے کوئلے کی کانوں سے 
زندگی کے چولہے میں جل رہے ہیں سال اپنے

کسِ نے بند کرنے اور کھولنے کی خواہش میں 
جنیز کے اٹیچی میں بھر دئیے جمال اپنے 

قتل تو ڈرامے کا ایکٹ تھا کوئی منصور
کس لئے لہو سے ہیں دونوں ہاتھ لال اپنے		٭٭٭


حرکت ہر ایک شے کی معطل دکھائی دے 
جاگا ہوا نگر بھی مجھے شل دکھائی دے

آتے ہوئے منٹ کی طوالت کا کیا کہوں 
گزری ہوئی صدی تو مجھے پل دکھائی دے

پلکوں کے ساتھ ساتھ فلک پر کہیں کہیں 
مجھ کو کوئی ستارہ مسلسل دکھائی دے

برسات کی پھوار برہنہ کرے تجھے 
تیرے بدن پہ ڈھاکہ کی ململ دکھائی دے

پیچھے زمین ٹوٹ کے کھائی  میں گر پڑی
آگے تمام راستہ دلدل دکھائی دے

ہجراں کی رات نرم ملائم کچھ اتنی ہے
مجھ کو ترا خیال بھی بوجھل دکھائی دے
٭٭٭



زیادہ بے لباسی کے سخن اچھے نہیں ہوتے
جو آسانی سے کھلتے ہیں بٹن اچھے نہیں ہوتے

کئی اجڑے ورق خوشبو پسِ  ملبوس رکھتے ہیں 
کئی اچھی کتابوں کے بدن اچھے نہیں ہوتے 

کبھی ناموں کے پڑتے ہیں غلط اثراتٰ قسمت پر
کبھی لوگوں کی پیدائش کے سن اچھے نہیں ہوتے 

غزالوں کے لئے اپنی زمینیں ٹھیک رہتی ہیں 
جو گلیوں میں نکل آئیں ہرن اچھے نہیں ہوتے

محبت کے سفر میں چھوڑ دے تقسیم خوابوں کی 
کسی بھی اک بدن کے دو وطن اچھے نہیں ہوتے

بڑی خوش چہرہ خوشبو سے مراسم ٹھیک ہیں لیکن
گلابوں کے بسا اوقات من اچھے نہیں ہوتے
٭٭٭



اک سین دیکھتے ہیں زمیں پر پڑے پڑے
پتھرا گئے ہیں فلم میں منظر پڑے پڑے

کیسا ہے کائنات کی تہذیبِ کُن کا آرٹ
شکلیں بدلتے رہتے ہیں پتھر پڑے پڑے

اے زلفِ  سایہ دار تری دوپہر کی خیر 
جلتا رہا ہوں چھاؤں میں دن بھر پڑے پڑے

ویراں کدے میں جھانکتے کیا ہو نگاہ کے 
صحرا سا ہو گیا ہے سمندر پڑے پڑے 

سوچا تھا منتظر ہے مرا کون شہر میں 
دیکھا تو شام ہو گئی گھر پر، پڑے پڑے

شکنوں کے انتظار میں اے کھڑکیوں کی یار
بوسیدہ ہو گیا مرا بستر پڑے پڑے 

منصور کوئی ذات کا تابوت کھول دے 
میں مر رہا ہوں اپنے ہی اندر پڑے پڑے
٭٭٭


کسی لحاف کے موسم کو اوڑھنا ہے مجھے 
 بدن کی برف کا کچھ زور توڑنا ہے مجھے

کسی سے میلوں پرے بیٹھ کرکسی کے ساتھ
تعلق اپنی نگاہوں کا جوڑنا ہے مجھے

نکالنا ہے غلاظت کو بوٹ کے منہ سے
یہ اپنے ملک کا ناسور پھوڑنا ہے مجھے 

کسی کا لمس قیامت کا چارم رکھتا ہے 
مگر یہ روز کا معمول توڑنا ہے مجھے

 فش اینڈ چپس سے اکتا گیا ہوں اب منصور
بس ایک ذائقے کا وصل چھوڑنا ہے مجھے	٭٭٭

اچھے بزنس  مین کی  پہچان ہے
ایک بزنس جس میں بس نقصان ہے

دوڑتی پھرتی ہوئی بچی کے پاس 
دور تک اک گھاس کا میدان ہے 

صبح  کی روشن اذاں کے واسطے 
میرے کمرے میں بھی روشن دان ہے

پتھروں سے مل نہ پتھر کی طرح 
سنگ میں بھی روح کا امکان ہے 

موت آفاقی حقیقت ہے مگر 
زندگی پر بھی مرا ایمان ہے 	٭٭٭


یہ عمر جیل کے اندر گزار سکتے تھے 
جو چاہتے تو اسے جاں سے مار سکتے تھے 

یہ اور بات کہ راتیں رہی ہیں ہم بستر 
ہم اپنے ہاتھ پہ سورج اتار سکتے تھے 

بہت تھے کام کسی ڈاٹ کام پر ورنہ 
غزل کی زلفِ  پریشاں سنوار سکتے تھے

وہ ایک کام جو ممکن تھا رہ گیا افسوس 
جو ایک جاں تھی اسے تجھ پہ وار سکتے تھے

ہمیشہ ربط کے پندار کا بھرم رکھا 
صباحتِ  لب و رخ تو وسار سکتے تھے 

یہ بار بند نہ ہوتا تو ہم شرابی لوگ 
تمام رات کسینو میں ہار سکتے تھے 

کسی سے کی تھی محبت کی بات کیا منصور
کہ ایک مصرعے میں جیسے ہزار سکتے تھے
٭٭٭


کچھ ہڈیاں پڑی ہوئی ، کچھ ڈھیر ماس کے
کچھ گھوم پھر رہے ہیں سٹیچو لباس کے 

فٹ پاتھ بھی درست نہیں مال روڈ کا 
ٹوٹے ہوئے ہیں بلب بھی چیرنگ کراس کے

پھر ہینگ اوور ایک تجھے رات سے ملا
پھر پاؤں میں سفر وہی صحرا کی پیاس کے

ہنگامۂ شراب کی صبحِ  خراب سے
اچھے تعلقات ہیں ٹوٹے گلاس کے 

کیوں شور ہو رہا ہے مرے گرد و پیش میں 
کیا لوگ کہہ رہے ہیں مرے آس پاس کے		٭٭٭


ننگ کا بھی لباس اگ آئے
کچھ بدن پر کپاس اگ آئے

ہم نفس کیا ہوا سوئمنگ پول
پانیوں میں حواس اگ آئے

آتے جاتے رہو کہ رستے میں 
یوں نہ ہو پھر سے گھاس اگ آئے

سوچ کر کیا شجر قطاروں  میں 
پارک کے آس پاس اگ آئے

گاؤں بوئے نہیں اگر آنسو
شہر میں بھوک پیاس اگ آئے

کوئی ایسی بہار ہو منصور
استخوانوں پہ ماس اگ آئے
٭٭٭


باہر نکل لباس سے کچھ اور دھوم سے
میں آشنا نہیں ہوں بدن کے علوم سے

لگتا ہے تو بھی پارک میں موجود ہے کہیں 
مہکی ہوئی ہے شام ترے پرفیوم سے

میں چاہتا ہوں تیرے ستارے پہ ایک شام
ای میل اور بھیج نہ شہرِ  نجوم سے

کس نے بنایا وقت کا پہلا کلوز شارٹ
آنکھوں کے کیمرے کے فسوں کار زوم سے

نکلا ہی تھا دماغ سے اک شخص کا خیال
منصور بھر گئیں مری آنکھیں ہجوم سے	٭٭٭


حصارِ جبہ و دستار سے نکل آئے 
فقیر ظلم کے دربار سے نکل آئے 

دکھائی کیا دیا اک خطِ مستقیم مجھے
کہ دائرے مری پر کار سے نکل آئے

خبر ہو نغمۂ گل کو ، سکوت کیا شے ہے
کبھی جو رنگ کے بازار سے نکل آئے

پہن لے چھاؤں جو میرے بدن کی تنہائی
تو دھوپ سایۂ دیوار سے نکل آئے 

ادھر سے نیم برہنہ بدن کے آتے ہی 
امامِ  وقت ۔ اِ دھر، کار سے نکل آئے

ذرا ہوئی تھی مری دوستی اندھیروں سے
چراغ کتنے ہی اس پار سے نکل آئے

کبھی ہوا بھی نہیں اور ہو بھی ہو سکتا ہے
اچانک آدمی آزار نکل سے آئے

یہ چاہتی ہے حکومت ہزار صدیوں سے
عوام درہم و دینار سے نکل آئے 

دبی تھی کوئی خیالوں میں سلطنت منصور
زمین چٹخی تو آثار سے نکل آئے	٭٭٭


لکھنے والوں میں محترم کیا ہے
چیک پہ چلتا ہوا قلم کیا ہے

ہے بلندی کا فوبیا ورنہ
یہ حریم ِ حرم ورم کیا ہے

مسئلے تو ہزار ہیں لیکن 
تیری موجودگی میں غم کیا ہے

روز پانی میں ڈوب جاتا ہوں 
ایک دریا مجھے بہم کیا ہے 

اے سٹیچو بشیر بابا کے
بول کیا ؟ دید کیا ؟ قدم کیا ہے ؟

مرہمِ  لمس بے کنار سہی
صحبتِ  انتظار کم کیا ہے
٭٭٭



آنکھوں سے منصور شباہت گر جاتی ہے 
ٹوٹے جو شیشہ تو صورت گر جاتی ہے 

روز کسی بے انت خزاں کے زرد افق میں 
ٹوٹ کے مجھ سے شاخِ تمازت گر جاتی ہے

باندھ کے رکھتا ہوں مضبوط گرہ میں لیکن
پاکستانی نوٹ کی قیمت گر جاتی ہے 

اک میری خوش وقتی ہے جس کے دامن میں 
صرف وہی گھڑیال سے ساعت گر جاتی ہے 

لیپ کے سوتا ہوں مٹی سے نیل گگن کو
اٹھتا ہوں تو کمرے کی چھت گر جاتی ہے

ہجر کی لمبی گلیاں ہوں یا وصل کے بستر
کہتے ہیں کہ عشق میں صحت گر جاتی ہے

برسوں ظلِ  الہی تخت نشیں رہتے ہیں 
خلقِ  خدا کی روز حکومت گر جاتی ہے
٭٭٭



پھر شام دشت روح و بدن تک اتار کے
اس نے بچھا دی ریت پہ اجرک اتار کے

کس نے نمازیوں کو بلانے سے پیش تر
رکھا زمیں پہ عرش کا پھاٹک اتار کے

پھرتی ہے رات ایک دئیے کی تلاش میں 
باہر نہ جانا چہرے سے کالک اتار کے

کرتی ہیں مجھ سے اگلے جہاں کا مکالمہ
آنکھیں میرے دماغ میں اک شک اتار کے

صدیوں سے دیکھ دیکھ کے شامِ زوال کو
رکھ دی ہے میں نے میز پہ عینک اتار کے

بے رحم انتظار نے آنکھوں میں ڈال دی
دروازے پر جمی ہوئی دستک اتار کے

دیوار پہ لگی ہوئی تصویر یار کی
اک لے گیا دوکان سے گاہک اتار کے

منصور کیا ہوا ہے تعلق کے شہر کی
دل نے پہن  لی خامشی ڈھولک اتار کے
٭٭٭



پتھر کے رتجگے میری پلکوں میں گاڑ کے
رکھ دیں ترے فراق نے آنکھیں اجاڑ کے

اتنی کوئی زیادہ مسافت نہیں مگر
مشکل مزاج ہوتے ہیں رستے پہاڑ کے

آنکھوں سے خدو خال نکالے نہ جا سکے
ہر چند پھینک دی تری تصویر پھاڑ کے

یہ پھولپن نہیں ہے کہ سورج کے آس پاس
رکھے گئے ہیں دائرے کانٹوں کی باڑ کے

مٹی میں مل گئی ہے تمنا ملاپ کی 
کچھ اور گر پڑے ہیں کنارے دراڑ کے

بے مہر موسموں کو نہیں جانتا ابھی
خوش ہے جو سائباں سے تعلق بگاڑ کے

دو چار دن لکھی تھی جدائی کی سرگزشت
منصور ڈھیر لگ گئے گھر میں کباڑ کے
٭٭٭



دیکھتا ہوں خواب میں تیرے محل کے آئینے
یہ کہاں تک آ گئے ہیں ساتھ چل کے آئینے

میں نے دیواروں پہ تیری شکل کیا تصویر کی
آ گئے کمرے میں آنکھوں سے نکل کے آئینے

آدمی نے اپنی صورت پر تراشے دیوتا
آپ اپنی ہی عبادت کی ، بدل کے آئینے

ساڑھی کے شیشوں میں میرا لمسِ  تازہ دیکھ کر
تیرے شانوں سے نظر کے ساتھ ڈھلکے آئینے

آخری نقطے تلک دیکھا تھا اپنی آنکھ میں 
اور پھر دھندلا گئے تھے ہلکے ہلکے آئینے

ایک سورج ہے ترے مد مقابل آج رات
دیکھ اس کو دیکھ لیکن کچھ سنبھل کے آئینے

سینۂ شب میں حرارت تھی کچھ اتنی چاند کی
پارہ پارہ ہو گئے ہیں دو پگھل کے آئینے

پھر برہنہ شخصیت ہونے لگی دونوں طرف
جب شرابوں سے بھرے کچھ دیر چھلکے آئینے
٭٭٭


مراسلے دیارِ غیب کے قلی کے دوش پر پڑے رہے 
بڑے بڑے بریف کیس شانۂ سروش پر پڑے رہے

پیانو پہ مچلتی انگلیوں کے بولتے سروں کی یاد میں 
تمام عمرسمفنی کے ہاتھ چشم و گوش پر پڑے رہے

ہزار ہا کلائیاں بہار سے بھری رہیں ہری رہیں 
نصیب زرد موسموں کے دستِ گل فروش پر پڑے رہے

برہنہ رقص میں تھی موت کی کوئی گھڑی ہزار شکر ہے
کہ سات پردے میرے دیدۂ شراب نوش پر پڑے رہے

اٹھا کے لے گئی خزاں تمام رنگ صحن سے حیات کے
کسی نے جو بنائے تھے وہ پھول میز پوش پر پڑے رہے	٭٭٭

یہ مارکر سے لکھا گیٹ پر بڑا کر کے
میں جا رہا ہوں گلی سے معانقہ کر کے

تُو زود رنج ہے دل کا برا نہیں لیکن 
فریب دینا ہے خود کو ترا گلہ کر کے

میں کیا بتاؤں شبِ التفات کا قصہ
گلی میں چھوڑ دیا اس نے باولہ کر کے

میں فلم کا کوئی ہیرو نہیں مگر اس کو
بھلا دیا ہے قیامت کا حوصلہ کر کے

سپیڈ میں نے بڑھا دی ہے کار کی منصور
قریب ہونے لگی تھی وہ فاصلہ کر کے	٭٭٭


بزمِ مے نوشاں کے ممبر تو کئی تھے
آئینہ خانے میں سوبر تو کئی تھے

دل ہی کچھ کرنے پہ آمادہ نہیں تھا
ڈائری میں فون نمبر تو کئی تھے

میں نے بچپن میں کوئی وعدہ کیا تھا
ورنہ گاؤں میں حسیں بر تو کئی تھے

صبح تنہائی تھی اور خالی گلاس
ہم زباں ہم رقص شب بھر تو کئی تھے

تیرے آتش دان کی رُت ہی نہیں تھی
لمس کے دھکے دسمبر تو کئی تھے

ایک اک کمرے میں بستر موت کا تھا
آس کی بلڈنگ میں چیمبر تو کئی تھے

گیسوؤں کے آبشار آنکھوں کی جھیلیں 
ہم پکھی واسوں کے امبر تو کئی تھے

خاک کا الہام تنہا ایک تُو تھا
آسمانوں کے پیمبر تو کئی تھے

شہر میں منصور بس کوئی نہیں تھا
رونقِ ِ محراب و منبر تو کئی تھے	٭٭٭


یہ چاند یہ چراغ مہیا ہے کس لئے
یہ میری دسترس میں ثریا ہے کس لئے

چلتی ہوئی سڑک پہ زمانہ کہے مجھے
چوکور تیری کار کا پہیہ ہے کس لئے

مجھ سے تو ایک پھول خریدا نہ جا سکا
یہ میرے پاس اتنا روپیہ ہے کس لئے

ہیٹر تو بالکونی کا بھی آن ہے مگر
اس درجہ سرد گھر کا رویہ ہے کس لئے 

دنیا میں بے شمار ہیں اُس جیسے اور لوگ
ممکن نہیں ملن تو تہیہ ہے کس لئے

کیا سیکھتے ہو پانی پہ چلنے کا معجزہ
اس پار جانے والے یہ نیا ہے کس لئے
٭٭٭



شہر کی فتح بابِ شک پر ہے
منحصر لوگوں کی کمک پر ہے

کلمہ کا ورد کر رہے ہیں لوگ
آخری شو کا رش سڑک پر ہے

فیملی جا رہی ہے لے کے اسے
گھر کا سامان بھی ٹرک پر ہے

پڑھ رہا ہوں ہزار صدیوں سے
کیا کسی نے لکھا دھنک پر ہے

بھیج مت پرفیوم جانِ جاں 
حق مرا جسم کی مہک پر ہے

چاند ہے محوِ خواب پہلو میں 
یعنی بستر مرا فلک پر ہے

میری پلکوں کی ساری رعنائی
موتیوں کی چمک دمک پر ہے

آس کا شہر ہے سمندر میں 
اور بنایا گیا نمک پر ہے

دل کی موجودگی کا افسانہ
بادلوں کی گرج چمک پر ہے

چاند کی ہاتھ تک رسائی بھی
دلِ معصوم کی ہمک پر ہے

کس نے ہونا ہے شہر کا حاکم
 فیصلہ بوٹ پر دھمک پر ہے

کون قاتل ہے فیصلہ، منصور
فائروں کی فقط لپک پر ہے
٭٭٭



آنکھ کے قطرۂ عرق پر ہے
علم بس عشق کے سبق پر ہے

منزلِ ہجر سے ذرا آگے
اپنا گھر چشمۂ قلق پر ہے

کوئی آیا ہے میرے انگن میں 
ابر صحرائے لق و دق پر ہے

ایک ہی نام ایک ہی تاریخ
ڈائری کے ورق ورق پر ہے

شامِ غم کے نگار خانے میں 
زخم پھیلا ہوا شفق پر ہے

سن رہا ہوں کہ میرے ہونے کی
روشنی چودھویں طبق پر ہے

دیکھ کر کارِ امت شبیر
لگ رہا ہے یزید حق پر ہے
٭٭٭



یہ کیا چراغِ تمنا کی روشنی ہوئی ہے
ہر ایک چشمِ تماشا سے دشمنی ہوئی ہے

تُو چشمِ ہجر کی رنگت پہ تبصرہ مت کر
یہ انتظار کے جاڑے میں جامنی ہوئی ہے

نہ پوچھ مجھ سے طوالت اک ایک لکنت کی
یہ گفتگو کئی برسوں میں گفتنی ہوئی ہے

چمکتی ہے کبھی بجلی تو لگتا ہے شاید
یہیں کہیں کوئی تصویر سی بنی ہوئی ہے

ابھی سے کس لئے رکھتے ہو بام پر آنکھیں 
ابھی تو رات کی مہتاب سے ٹھنی ہوئی ہے

ابھی نکال نہ کچھ انگلیوں کی پوروں سے
ابھی یہ تارِ رگ جاں ذرا تنی ہوئی ہے

شراب خانے سے کھلنے لگے ہیں آنکھوں میں 
شعاعِ شام سیہ ، ابر سے چھنی ہوئی ہے

نظر کے ساتھ سنبھلتا ہوا گرا پلو
مری نگاہ سے بے باک اوڑھنی ہوئی ہے

کچھ اور درد کے بادل اٹھے ترے در سے
کچھ اور بھادوں بھری تیرگی گھنی ہوئی ہے

کلی کلی کی پلک پر ہیں رات کے آنسو
یہ میرے باغ میں کیسی شفگتنی ہوئی ہے

اک ایک انگ میں برقِ رواں دکھائی دے
کسی کے قرب سے پیدا وہ سنسنی ہوئی ہے

جنوں نواز بہت دشتِ غم سہی لیکن
مرے علاوہ کہاں چاک دامنی ہوئی ہے

میں رنگ رنگ ہوا ہوں دیارِ خوشبو میں 
لٹاتی پھرتی ہے کیا کیا ، ہوا غنی ہوئی ہے

سکوتِ دل میں عجب ارتعاش ہے منصور
یہ لگ رہا ہے دوبارہ نقب زنی ہوئی ہے	٭٭٭


عشق میں کوئی کہاں معشوق ہے
دل مزاجاً میری جاں معشوق  ہے

جس سے گزرا ہی نہیں ہوں عمر بھر
وہ گلی وہ آستاں معشوق ہے

رفتہ رفتہ کیسی تبدیلی ہوئی
میں جہاں تھا اب وہاں معشوق ہے

ہے رقیبِ  دلربا اک ایک آنکھ
کہ مرا یہ آسماں معشوق ہے

مشورہ جا کے زلیخا سے کروں 
کیا کروں نا مہرباں معشوق ہے

صبحِ ہجراں سے نشیبِ خاک کا
جلوۂ آب رواں معشوق ہے

ہیں مقابل ہر جگہ دو طاقتیں 
اور ان کے درمیاں معشوق ہے

گھنٹیاں کہتی ہیں دشتِ یاد کی
اونٹنی کا سارباں معشوق ہے

وہ علاقہ کیا زمیں پر ہے کہیں 
ان دنوں میرا جہاں معشوق ہے

میں جہاں دیدہ سمندر کی طرح
اور ندی سی نوجواں معشوق ہے

ہر طرف موجودگی منصور کی
کس قدر یہ بے کراں معشوق ہے
٭٭٭



ہجراں کے بے کنار جہنم میں ڈال کے
پلکیں سفید کر گئے دو پل ملال کے

میں آنکھ کی دراز میں کرتا ہوں کچھ تلاش
گہرے سیاہ بلب سے منظر اجال کے

دفنا نہیں سکا میں ابھی تک زمین میں 
کچھ روڈ پر مرے ہوئے دن پچھلے سال کے

بستر پہ کروٹوں بھری شکنوں کے درمیاں 
موتی گرے پڑے ہیں تری سرخ شال کے

تصویر میں نے اپنی سجا دی ہے میز پر 
باہر فریم سے ترا فوٹو نکال کے

پا زیبِ کے خرام کی قوسیں تھیں پاؤں میں 
کتھک کیا تھا اس نے کناروں پہ تھال کے

اڑنے دے ریت چشمِ تمنا میں دشت کی
رکھا ہوا ہے دل میں سمندر سنبھال کے

سر پہ سجا لئے ہیں پرندوں کے بال و پر
جوتے پہن لئے ہیں درندوں کی کھال کے

آنکھوں تلک پہنچ گئی ، دلدل تو کیا کروں 
رکھا تھا پاؤں میں نے بہت دیکھ بھال کے

حیرت فزا سکوت ہے دریائے ذات پر
آبِ رواں پہ اترے پرندے کمال کے

میں سن رہا ہوں زرد اداسی کی تیز چاپ
جھڑنے لگے ہیں پیڑ سے پتے وصال کے

منصور راکھ ہونے سے پہلے فراق میں 
سورج بجھانے والا ہوں پانی اچھال کے
٭٭٭


تھی کہاں اپنے میانوالی سے بیزاری اسے
لے گئی ہے اِک سڑک کی تیز رفتاری اسے

نہر کے پل پر ٹھہر جا اور تھوڑی دیر ، رات
روک سکتی ہے کہاں اِک چار دیواری اسے

کوئی پہلے بھی یہاں پر لاش ہے لٹکی ہوئی
کہہ رہی ہے دل کے تہہ خانے کی الماری اسے

پوچھتی پھرتی ہے قیمت رات سے مہتاب کی
تازہ تازہ ہے ابھی شوقِ خریداری اسے

جو طلسم حرف میں اترا ہے اسمِ نعت سے
قریۂ شعر و سخن کی بخش سرداری اسے	٭٭٭

نیم عریاں کر گئی تھی رقص کی مستی اسے
دیکھنے کو جمع ہے ترسی ہوئی بستی اسے

جیسے حرکت کا بہاؤ ، جیسے پانی کا مزاج
کھینچتی ہے اپنی جانب اس طرح پستی اسے

ایک ہی بیڈ روم میں رہتے ہوئے اتنا فراق
چوم لینا چاہئے اب تو زبردستی اسے

کھینچ لایا میرے پہلو کی سنہری دھوپ میں 
شامِ شالا مار کا باغیچۂ وسطی اسے

اس سیہ پاتال میں ہیں سورجوں کی بستیاں 
زینہ در زینہ کہے ، بجھتی ہوئی ہستی اسے	٭٭٭

جاگتے دل کی تڑپ یا شب کی تنہائی اسے
کونسی شے میرے کمرے کی طرف لائی اسے

اس قدر آنکھوں کو رکھنا کھول کر اچھا نہیں 
لے گئی تاریکیوں میں اس کی بینائی اسے

ڈوبنا اس کے مقدر میں لکھا ہے کیا کروں 
اچھی لگتی ہے مری آنکھوں کی گہرائی اسے

بجھ گیا تھا چاند گہرے پانیوں میں پچھلی رات
ڈھانپتی اب پھر رہی ہے دور تک کائی اسے

جو برہنہ کر گیا ہے ساری بستی میں مجھے
میں نے اپنے ہاتھ سے پوشاک پہنائی اسے		٭٭٭

لے گئی ہے دور اتنا ، ایک ہی غلطی اسے
سوچتا ہوں کیا کروں کیسے کہوں سوری اسے

رفتہ رفتہ نیم عریاں ہو گئی کمرے میں رات
لگ رہی تھی آگ کی تصویر سے گرمی اسے

ایک بستر میں اکیلی کروٹیں اچھی نہیں 
بھول جانی چاہئے اب شام کی تلخی اسے

لوگ کتنے جگمگاتے پھر رہے ہیں آس پاس
ہے یہی بہتر بھلا دو تم ذرا جلدی اسے

اُتنا ہی مشکل ہے یہ کارِ محبت جانِ من
تم سمجھتے پھر رہے ہو جس قدر ایزی اسے	٭٭٭


تری تعمیر کی بنیاد اپنی بے گھری پر ہے
مگر اب احتجاج جاں فصیلِ آخری پر ہے

جسے حاصل کیا ہے تُو نے اپنی بیچ کر لاشیں 
مرا تھو ایسی صدرِ مملکت کی نوکری پر ہے

فقط میری طرف سے ہی نہیں یہ پھولوں کا تحفہ
خدا کی لعنتِ  پیہم بھی تیری قیصری ہے

جلوس اپنا ابھی نکلے گا کالی کالی قبروں سے
نظر اپنی بھی زر آباد کی خوش منظری پر ہے

ترے آسیب کا سایہ شجر ایسا سہی لیکن
ترا اب انحصار اپنی ہوائے سر پھری پر ہے

قسم مجھ کو بدلتے موسموں کے سرخ رنگوں کی
ترا انجام اب لوگوں کی آشفتہ سری پر ہے

نظامِ زر !مجھے سونے کے برتن دے نہ تحفے میں 
مرا ایمان تو خالی شکم کی بوزری پر ہے

زیادہ حیثیت رکھتی ہے پانی پت کی جنگوں سے
ہ اک تصویر بابر کی جو تزکِ بابری پر ہے

فرشتے منتظر ہیں بس سجا کر جنتیں اپنی
مرا اگلا پڑاؤ اب مریخ و مشتری پر ہے

وہ جو موج سبک سر ناچتی ہے میری سانسوں میں 
سمندر کا تماشا بھی اسی بس جل پری پر ہے

اسے صرفِ نظر کرنے کی عادت ہی سہی لیکن
توقع ، بزم میں اپنی مسلسل حاضری پر ہے

یقیناً موڑ آئیں گے مرے کردار میں لیکن
ابھی تو دل کا افسانہ نگاہِ سرسری پر ہے

عجب تھیٹر لگا ہے عرسِ حوا پر کہ آدم کی
توجہ صرف اعضائے بدن کی شاعری پر ہے

وفا کے برف پروردہ زمانے یاد ہیں لیکن
یقیں منصور جذبوں کی دہکتی جنوری پر ہے	٭٭٭


مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادوگری پر ہے
تری توصیف اک احسان میری شاعری پر ہے

ترے دربار سے کچھ مانگنا گر کفر ٹھہرا ہت
تو میں کافر ہوں مجھ کو ناز اپنی کافری  پر ہے

تری رفعت تفکر کی حدودِ فہم سے بالا
ترا عرفان طنزِ مستقل دانشوری پر ہے

سراپا ناز ہو کر بھی نیازِ عشق کے سجدے
خدا کو فخر بس تیرے خلوصِ دلبری پر ہے

صلائے عام ہے وہ نبضِ  ہستی تھام لے آ کر
جو کوئی معترض آقا تری چارہ گری پر ہے

مجھے تسخیرِ یزداں کا عمل معلوم ہے منصور
کرم خاکِ مدنیہ کا مری دیدہ وری پر ہے
٭٭٭



مان لیا وہ بھی میرا یار نہیں ہے
اب کسی پر کوئی اعتبار نہیں ہے

جاگ رہا ہوں میں کتنے سال ہوئے ہیں 
کیسے کہوں اس کا انتظار نہیں ہے

ٹوٹ گئے ہیں دو پھر امید بھرے دل
ٹکڑے ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں ہے

میرا بدن برف ہے یا تیرِ  نظر میں 
پہلے پہل والی اب کے مار نہیں ہے

عہدِ خزاں میں ہے میرا باغ کہ جیسے
دامن ِ تقدیر میں بہار نہیں ہے

سنگ اچھالے ہیں اس نے بام سے مجھ پر
جیسے گلی اس کی رہگزار نہیں ہے

ایک دعا ہے بس میرے پاس عشاء کی
رات! مرا کوئی غمگسار نہیں ہے

صرف گھٹا ہے جو دل بہلائے برس کے
اور کوئی چشمِ اشکبار نہیں ہے

سرخ ہے بے شک نمود چہرۂ تاریخ
دامن ِ تہذیب داغ دار نہیں ہے

سنگ زدہ اس کے رنگ ڈھنگ ہیں لیکن
آدمی ہے کوئی کوہسار نہیں ہے

پار کروں گا میں اپنی آگ کا دریا
دیکھ رہا ہوں یہ بے کنار نہیں ہے

وقت نہیں آج اس کے پاس ذرا بھی
اور یہاں رنگِ اختصار نہیں ہے

مست ہوائیں بھی ماہتاب بھی لیکن
رات بھری زلفِ آبشار نہیں ہے

گھوم رہا ہوں فصیلِ ذات کے باہر
کوئی بھی دروازۂ دیار نہیں ہے

ایک نہیں قحط عشق صرف یہاں پر
شہر میں کوئی بھی کاروبار نہیں ہے

پھیر ہی جا مجھ پہ اپنا دستِ کرامت
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے

درج ہے نیلی بہشتِ خواب کا منظر
آنکھ میں منصور کی غبار نہیں ہے
٭٭٭



کون درزوں سے آئے رس رس کے
میرا کمرہ کرے سخن کس کے

میں گلی میں سلگتا پھرتا ہوں 
جل رہے ہیں چراغ مجلس کے

بازوؤں پر طلوع ہوتے ہی
کٹ گئے دونوں ہاتھ مفلس کے

کیا ہے میک اپ زدہ طوائف میں 
جز ترے کیا ہیں رنگ پیرس کے

میں بھی شاید موہنجو داڑو ہوں 
اب بھی سر بند راز ہیں جس کے

متحرک ہیں غم کی تصویریں 
چل رہے ہیں بدن حوادث کے

دیکھ چھو کے مجھے ذرا اے دوست
دیکھنا پھر کرشمے پارس کے

وقت کے ساتھ میرے سینے پر
بڑھتے جاتے ہیں داغ نرگس کے

تم سمجھ ہی کہاں سکے منصور
مسئلے عشق میں ملوث کے		٭٭٭


میں نے ذرا جو دھوپ سے پردے اٹھا دئیے
پانی میں رنگ اس نے شفق کے ملا دئیے

پوچھی پسند یار کی میں نے فراق سے
آہستگی سے رات نے مجھ کو کہا ، دئیے

کہہ دو شبِ سیاہ سے  لے آئے کالکیں 
ہاتھوں پہ رکھ کے نکلی ہے خلقِ خدا دئیے

ہر دل چراغ خانہ ہے ہر آنکھ آفتاب
کتنے بجھا سکے گی زمیں پر ،ہوا ،دئیے

ہونا تھا ایک شور مراسم کے دشت میں 
دریا کے میں نے دونوں کنارے ملا دئیے

بالوں میں میرے پھیر کے کچھ دیر انگلیاں 
کیا نقش دل کی ریت پہ اس نے بنا دئیے

بھادوں کی رات روتی ہے جب زلفِ یار میں 
ہوتے ہیں میری قبر پہ نوحہ سرا دئیے

کافی پڑی ہے رات ابھی انتظار کی
میری یقین چاند ، مرا حوصلہ دئیے

اتنا تو سوچتے کہ دیا تک نہیں ہے پاس
مٹی میں کیسے قیمتی موتی گنوا دئیے

کچھ پل ستم شعار گلیوں میں گھوم لے
عرصہ گزر گیا ہے کسی کو دعا دئیے

 میں نے بھی اپنے عشق کا اعلان کر دیا
فوٹو گراف شیلف پہ اس کے سجا دئیے

منصور سو گئے ہیں اجالے بکھیر کر
گلیوں میں گھومتے ہوئے سورج نما دئیے
٭٭٭


دل میں پڑی کچھ ایسی گرہ بولتے ہوئے
ناخن اکھڑ گئے ہیں اسے کھولتے ہوئے

سارے نکل پڑے تھے اسی کے حساب میں 
بچوں کی طرح رو پڑی دکھ تولتے ہوئے

میں کیا کروں کہ آنکھیں اسے بھولتی نہیں 
دل تو سنبھل گیا تھا کہیں ڈولتے ہوئے

کہنے لگی ہے آنکھ میں پھر مجھ کو شب بخیر
پانی میں شام اپنی شفق گھولتے ہوئے

کنکر سمیت لائے ہمیشہ مرا نصیب
منصور موتیوں کو یونہی رولتے ہوئے	٭٭٭


یہ کائناتِ  روح  و بدن چھانتے ہوئے 
میں تھک گیا ہوں تجھ کو خدا مانتے ہوئے

اک دو گھڑی کا تیرا تعلق کہے مجھے 
صدیاں گزر گئی ہیں تجھے جانتے ہوئے

پھرتا ہوں لے کے آنکھ میں ذرے کی وسعتیں 
صحرا سمٹ گئے ہیں مجھے چھانتے ہوئے

برکھا کے شامیانے سے باہر ندی کے پاس 
اچھا لگا ہے دھوپ مجھے تانتے ہوئے 

کچھ یاد اب نہیں ہے کہ میرا کیا تھا نام
ہر وقت نام یار کا گردانتے ہوئے 

اس کے کمال ِ  ضبط کی منصور خیر ہو
صرفِ  نظر کیا مجھے پہچانتے ہوئے
٭٭٭

شاعر کی اجازت اور تشکر کے ساتھ، جنہوں نے فائل فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
