﻿


دامن پری کا



ریحان اعظمی

جمع و ترتیب: حسان خان











ہم نے برسوں میں یہ ہنر جانا
خواہشِ زندگی ہے مر جانا

جلدی جلدی بہت سے کام کیے
زیست کو جب سے مختصر جانا

کتنا سادہ مزاج ہوں میں بھی
میں نے صحرا کو اپنا گھر جانا

بے تعلق کسی کی چاہت میں
سوچنا کس طرف کدھر جانا

شعر کہنا بصورتِ آیات
اور تفسیر سے مُکر جانا

روشنی کی تلاش میں رہنا
تیرگی اوڑھ کر گذر جانا

اک مسلسل سفر میں رہنے سے
سانس لینے کو بھی سفر جانا

جانے وہ انتظار کس کا تھا
جس میں لازم تھا دار پر جانا

رات بھر کروٹیں بدلنے سے
نیند اور خواب کا اثر جانا

آج کی شام، شامِ وحشت ہے
شام سے پہلے آج گھر جانا

کیا بلا ہے سخن شناسی بھی
خود کو ریحان بے ثمر جانا
٭٭٭




تھی ہم کلام شجر سے دعا کے لہجے میں
عجیب کرب تھا بادِ صبا کے لہجے میں

وہ شامِ ہجر وہ دھڑکن دلِ شکستہ کی
چراغ کرتا تھا باتیں ہوا کے لہجے میں

مری انا کا سفینہ ڈبو کے ساحل پر
بلا کا طنز تھا سیلِ بلا کے لہجے میں

وہ میری پرسشِ احوال کو تو آئے مگر
جوازِ ترکِ تعلق چھپا کے لہجے میں

وہ کم سخن تھا دمِ گفتگو بکھیر گیا
ہزار رنگ دھنک کے سجا کے لہجے میں

نظامِ عدل کی باتوں میں تب اثر ہو گا
کوئی تو بات کرے کربلا کے لہجے میں

قیامِ امن ہے ریحان ایک روز کی بات
کلام کوئی کرے گُل کھلا کے لہجے میں
٭٭٭



کشتی و بادبان ڈوب گئے
یا زمیں آسمان ڈوب گئے

سب نے برسات کی دعا مانگی
پھر سبھی کے مکان ڈوب گئے

صرف اک آدمی کی غفلت سے
انگنت خاندان ڈوب گئے

عشق کے بیکراں سمندر میں
ہم بصد آن بان ڈوب گئے

اب کے سیلابِ کم نگاہی میں
منزلوں کے نشان ڈوب گئے

ہم بلندی پہ آ گئے لیکن
کتنے ہی بے زبان ڈوب گئے

ڈوب کر پار ہم کو جانا ہے
وہ یہ دے کر بیان ڈوب گئے

اب کے بارش میں بچ گئیں فصلیں
لیکن اب کے کسان ڈوب گئے

فرقہ و نسل کی وباء جو چلی
کس قدر نوجوان ڈوب گئے

قرض ہم پر زمیں کا تھا ریحان
ہم بھی دے کر لگان ڈوب گئے
٭٭٭



عشق کا زخم جو منت کشِ مرہم ہوتا
عید کے روز بھی ہر گھر میں محرم ہوتا

ڈر نہ ہوتا جو کہیں عشق میں رسوائی کا
ساتھ عشاق کے اک حلقۂ ماتم ہوتا

آتشِ عشق میں جلنے کا مزا اپنا ہے
تم نہ ہوتے تو یہ شعلہ ہمیں شبنم ہوتا

ہم تو مر جاتے تڑپ کر غمِ تنہائی سے
سلسلہ آپ کی یادوں کا اگر کم ہوتا

صبر، ایثار، محبت، غمِ دنیا، غمِ دل
سوچتا ہوں کہ مرا کوئی تو ہمدم ہوتا

مار دیتے غمِ دنیا مجھے اک لمحے میں
کربلا قد میں اگر چھوٹا تیرا غم ہوتا

لشکرِ رنج و مصائب کے مقابل تنہا
کون ہوتا جو نہ مجھ میں کہیں دم خم ہوتا

ہجر آثار ہواؤں سے فراغت کے لیے
کوئی لمحہ کوئی رُت کوئی تو موسم ہوتا

شاعری سے جو الگ ہوتا تعارف ریحان
نامکمل یہ تعارف بڑا مبہم ہوتا
٭٭٭






صدا بہ صحرا ہوئی ہر صدا تو ہم سمجھے
چراغ جلنے سے پہلے بجھا تو ہم سمجھے

رِدا میں اور حیا میں ہے ربطِ باہم کیا
چھنی جو سر سے ہمارے ردا تو ہم سمجھے

دعا میں بے اثری کا ہے اور کیا مفہوم
چھڑا کے ہاتھ وہ ہم سے چلا تو ہم سمجھے

حباب کیوں کہا جاتا ہے زندگانی کو
شجر سے ٹوٹ کے پتہ گرا تو ہم سمجھے

نصیب کیسے بگڑتا ہے ایک لمحے میں
ذرا چلی جو مخالف ہوا تو ہم سمجھے

دو روزہ زیست حیاتِ دوام کیا شے ہے
نظر گئی جو سرِ کربلا تو ہم سمجھے

قصوروار تو ہم ہیں برا نہیں پتھر
اُسے تراش کے اپنا خدا تو ہم سمجھے

ہنسی اڑاتے تھے پہلے پہل معالج کی
وہ زخمِ عشق ہوا لادوا تو ہم سمجھے

کوئی تو ہے جو تنفس بحال رکھتا ہے
ہوئے بلند جو دستِ دعا تو ہم سمجھے

وجودِ کاتبِ تقدیر کے تھے منکر ہم
پڑھا نصیب کا اپنے لکھا تو ہم سمجھے

ریحان حلقۂ یارا‌ں میں ہیں عدو کتنے
منافقون کا سورہ پڑھا تو ہم سمجھے
٭٭٭



چراغِ شب کی طرح تا سحر جلا میں بھی
بجھا جو دل تو اسی رنج میں بجھا میں بھی

قدم قدم پہ شکستہ دلوں کے ساتھ رہا
مثالِ آئینہ بکھرا ہوں بارہا میں بھی

میں شاعری میں فقط میر کا مقلد ہوں
لگا رہا ہوں فقیرانہ اک صدا میں بھی

سماعتوں کو نئی صوتِ زندگی دے کر
لبوں کو سی کے ہُوا آج بے نوا میں بھی

میں شب گزیدہ و آشفتہ سر دریدہ بدن
چلا خمارِ ندامت میں جھومتا میں بھی

بہار مجھ پہ بھی آئی تھی میں بھی مہکا تھا
خزاں کی آنکھ کا کانٹا بنا رہا میں بھی

میں اُس سے خواب میں ملنے کی کر چکا تھا دعا
وگرنہ ہجر میں اُس کے تو جاگتا میں بھی

ادب لکھو گے تو فاقے ستائیں گے ریحان
ہوا ہوا لکھو تم بھی ہوا ہوا میں بھی
٭٭٭



اک فائدہ یہ بھی تو ہے آشفتہ سری کا
احساس ہی ہوتا نہیں کچھ دربدری کا

ہم تو اسی شخص نے بخشی ہے جراحت
اک شور تھا جس شخص کی مرہم نظری کا

وہ عشق کے مفہوم سے واقف بھی نہیں ہیں
دعویٰ ہے اُنہیں عشق میں کیوں جادوگری کا

معلوم ہے سب کچھ انہیں انجان ہیں پھر بھی
دانستہ یہ انداز ہے کیوں بے خبری کا

یہ تم ہو مرے پاس کہ یہ وہم ہے میرا
یا خواب میں ہاتھ آیا ہے دامن یہ پری کا

ہوں بجھنے کے نزدیک ہواؤں سے بچا لو
بھڑکا ہوا شعلہ ہوں چراغِ سحری کا

شامل ہوا وہ شخص بھی اب کوزہ گروں میں
کل تک جو نمونہ تھا مری کوزہ گری کا

تو نے مجھے تنہا کسی منزل پہ نہ چھوڑا
ممنون ہوں غربت میں تری ہمسفری کا

تکیہ میرے بازو ہیں تو بستر یہ زمیں ہے
کیا پوچھتے ہو حال مری شب بسری کا

کیوں ہاتھ دعاؤں کے لیے کوئی اٹھائے
پہرہ ہو دعاؤں پہ اگر بے اثری کا

ٹکسال میں لفظوں کی کوئی بات نہ ڈھالو
ہوتا ہے تصادم یہاں کھوٹی سے کھری کا

ریحان مرے زخموں کا باعث ہے مسیحا
راس آیا نہ ماحول ہمیں چارہ گری کا
٭٭٭



حرفِ افسوس زباں تک کبھی آنے نہ دیا
دامنِ صبر تجھے ہاتھ سے جانے نہ دیا

خواب منت کشِ تعبیر کہاں سے ہوتا
چشمِ بے خواب تلک نیند کو آنے نہ دیا

مجھ کو تسلیم کہ پندارِ انا نے میرے
کسی روٹھے ہوئے انساں کو منانے نہ دیا

زخمِ دل نے بڑا ماحول بنائے رکھا
درد کو اٹھ کے مرے پاس سے جانے نہ دیا

ہجر میں قرض تھے کچھ اشک مری آنکھوں پر
میرے احباب نے وہ قرض چکانے نہ دیا

لاکھ مفلس سہی اک دیپ جلا سکتا تھا
پر ہوا نے مجھے اک دیپ جلانے نہ دیا

شکریہ اے غمِ جاناں کہ مرے ہونٹوں کو
دو گھڑی بارِ تبسم بھی اٹھانے نہ دیا

خود تو وہ بچھڑا مگر چھوڑ گیا ہے یادیں
جشنِ تنہائی بھی جی بھر کے منانے نہ دیا

غمِ جاناں، غمِ ہجراں تو کبھی فکرِ معاش
چین ریحان کو تُو نے بھی زمانے نہ دیا
٭٭٭



یہ کس نے کہا اب کوئی دلگیر نہ ہوگا
یہ خواب ہے شرمندۂ تعبیر نہ ہو گا

نسخہ جو سیاست کا ہمیں اس نے دیا ہے
نسخہ یہ کسی طور بھی اکسیر نہ ہو گا

اے کاش ہو آئین میں اس کی بھی ضمانت
یہ ملک کسی ایک کی جاگیر نہ ہو گا

اس ملک کی چاہت میں جو دکھ جھیلے ہیں ہم نے
وہ درد کسی اور سے تحریر نہ ہو گا

یہ وقت اگر کھو دیا پچھتانا پڑے گا!
یہ وقت ہے اور وقت تو زنجیر نہ ہو گا

مخلص نہ ہو جو قوم سے اور ارضِ وطن سے
وہ کوئی بھی ہو لائقِ توقیر نہ ہو گا

لفظوں کی صداقت کا بھرم جس نے رکھا ہے
شاعر وہ کبھی لائقِ تعزیر نہ ہو گا

جو منظرِ غمناک مری آنکھوں نے دیکھے
منظر وہ کسی اور سے تصویر نہ ہو گا

ہم اہلِ قلم ظلم جو سہتے رہے ریحان
وہ ظلم کسی اور کی تقدیر نہ ہو گا
٭٭٭



بے ہنر شہر میں کیا کوئی سخنور ابھرے
جب زباں کھولی تو تنقید کے خنجر ابھرے

داد کے دوش پہ ابھرے تو کوئی بات نہیں
حرف تو وہ ہے جو قرطاس کے اوپر ابھرے

تشنہ لب رہ کے کیا ارض و سما کو سیراب
ہم وہ خورشید کہ جو نوکِ سناں پر ابھرے

جو تھے ناواقفِ امواجِ سخن ڈوب گئے
ہم کہ دریائے سخن کے تھے شناور ابھرے

میری آنکھوں میں کبھی اشک نہ آتے لیکن
تیری خواہش تھی کہ صحرا سے سمندر ابھرے

ایک پیاسے کی مصیبت پہ گرے تھے آنسو
مثلِ گوہر وہی آنسو لبِ کوثر ابھرے

جتنے حق گو تھے ترے شہر میں معتوب ہوئے
جتنے کم ظرف تھے سب بر سرِ منبر ابھرے

جب درِ آلِ محمد پہ قلم کو رکھا
ملک میں تب کہیں ریحان کے جوہر ابھرے
٭٭٭



بھلا لگتا ہوں میں سب کو مجھے تم اچھی لگتی ہو
جو ہونا ہے سو اب وہ ہو مجھے تم اچھی لگتی ہو

کبھی بھی جاگتے فتنے مجھے اچھے نہیں لگتے
مگر تم سوؤ یا جاگو مجھے تم اچھی لگتی ہو

تمہارے گھر جو آئے ہیں تمہارا مانگنے رشتہ
ذرا تم ہی انہیں کہہ دو مجھے تم اچھی لگتی ہو

زباں کھولی اگر میں نے تو رسوائی کا خدشہ ہے
تمہی دنیا کو بتلا دو مجھے تم اچھی لگتی ہو

یہ مانا غیر ممکن ہے ملن تیرا مرا جاناں
مگر میں کیا کروں بولو مجھے تم اچھی لگتی ہو

نہیں ہے گر یقیں تم کو مری باتوں کا میری جاں
میرے احباب سے پوچھو مجھے تم اچھی لگتی ہو

اگر میری صداقت کا یقیں پھر بھی نہیں آئے
مرا دل چیر کے دیکھو مجھے تم اچھی لگتی ہو

مرے خوابوں میں خیالوں میں تمہاری ہی ادائیں ہیں
کوئی رُت کوئی موسم ہو مجھے تم اچھی لگتی ہو

زباں سے کہہ نہیں سکتے اگر ریحان تو اک دن
کبھی خط میں اُسے لکھو مجھے تم اچھی لگتی ہو
٭٭٭



ہماری زیست کا جو کارواں ہے
مسلسل موت کی جانب رواں ہے

تمہیں حکمِ زباں بندی، مبارک
خدا رکھے قلم میری زباں ہے

مری بستی میں یہ موسم ہے کیسا
لہو ہے، آگ ہے، میں ہوں دھواں ہے

مرے گلشن کی بربادی پہ دیکھو
برائے تعزیت آئی خزاں ہے

جہاں ہر لب تبسم آشنا تھا
وہاں ہر شخص اب نوحہ کناں ہے

میانِ دیدہ و دل آج روشن
نفاق و بغض کا آتش فشاں ہے

بجز تیرے کسی کی یاد آئے
اب اس دل میں وہ گنجائش کہاں ہے

میں دھوکہ دوں بھلا ریحان کیسے
مرے ماتھے پہ سجدے کا نشاں ہے
٭٭٭



دل جلوں سے دل جلوں کا رابطہ اچھا لگا
دو گھڑی مل بیٹھنے کا سلسلہ اچھا لگا

کوئی خوبی تو نہ تھی مجھ میں کہ چاہا جاؤں میں
پھر نجانے کیوں اسے چہرہ مرا اچھا لگا

رات ساری جاگنے کے بعد مجھ کو صبح دم
نیم باز آنکھوں سے اس کا دیکھنا اچھا لگا

بات میری اور مخاطب اس کا ہونا غیر سے
اس کا یہ طرزِ تکلم بھی بڑا اچھا لگا!

سر مرے سینے پہ رکھ کے اس نے شرماتے ہوئے
ساتھ جینے مرنے کا وعدہ کیا، اچھا لگا

اپنے چہرے پر جو دیکھے اسکے ہونٹوں کے نقوش
مدتوں کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا

عمر بھر جاگے مگر ریحان اُس شب کی قسم
ساتھ ان کو بھی جگا کر جاگنا اچھا لگا
٭٭٭



رنگ کیسا ہے یہ سیاست کا!
نشّہ ہر اک کو ہے حکومت کا

روز ہوتا ہے انتخاب یہاں
ایسا فقدان ہے قیادت کا

جنگ ہے اقتدار کی جاری
خون ہوتا ہے ملک و ملت کا

شوق ہے 'لمبے مارچ' کا ان کو
'چھوٹا رستہ' ہے یہ حکومت کا

جھنڈے امن و اماں کے پست ہوئے
سب سے اونچا علم ہے نفرت کا

ہے کسی کو غرورِ کج کلہی
زعم ہے کچھ کو اپنی دولت کا

پِس رہے ہیں عوام چکی میں
لمحہ لمحہ ہے اک قیامت کا

جو حقیقت کی بات کرتے ہیں
ان پہ الزام ہے بغاوت کا

وہ گھروں میں خموش بیٹھے ہیں
دھیان جن کو ہے اپنی عزت کا

ہر مرض کا علاج ہے لیکن
کوئی مرہم ہے زخمِ غربت کا؟

اپنے ہی ملک میں پرایا ہوں
شہر اک آئینہ ہے حیرت کا

حرف کی سربلندیاں ریحان
یہ بھی اک سلسلہ ہے قامت کا
٭٭٭



تختی مرے مکاں پہ مرے نام کی لگی
پھر ایسی بھیڑ گردشِ ایام کی لگی

اُس کی نگاہِ برق سے بھڑکی جو سینے میں
وہ آگ صبح تک نہ بجھی شام کی لگی

مجھ کو کوئی بلاتا نہیں میرے نام سے
تہمت عجیب مجھ پہ ترے نام کی لگی

اُس شخص سے بچھڑ کے کئی روز تک مجھے
صورت عجیب اپنے در و بام کی لگی

دینا نہ دل کسی کو، کہ جاں سے بھی جاؤ گے
درویش کی یہ بات بڑے کام کی لگی

جو چاہے جب، خرید لے دل ایسا ہو گیا
یہ جنس بھی ہمیں یہاں نیلام کی لگی

ہے ترک کچھ دنوں سے جو کارِ سخنوری
ریحان تم کو لت ہے یہ آرام کی لگی
٭٭٭





دن گذارے نہ گئے عشق کی بیتابی میں
رات آئی تو رہے عالمِ بے خوابی میں

ٹوٹتا جاتا ہے ہر خواب امیدوں کی طرح
وصل کی تند ہوا ہجر کی سیلابی میں

روک لیتا ہے مجھے کس کی محبت کا فسوں
گھر میں رہنے کے لیے ہر شبِ مہتابی میں

کوچہ گردی مری قسمت میں بہت تھی اس پر
عشق نے رنگ بھرا فطرتِ سیمابی میں

عشق بھی ایسا کہ رکھتا ہے مسلسل مجھ کو
خدشۂ فرقتِ محبوب کی گردابی میں

وائے تقدیر کسی شخص کی چاہت میں رہی
شجرِ جاں پہ خزاں عرصۂ شادابی میں

اب مری آنکھ پہ ریحان وہی عالم ہے
جھیل پہ ہوتا ہے جو موسمِ پایابی میں
٭٭٭





کس کس سے دل لگاؤں کہاں تک وفا کروں
سب ہی مریضِ عشق ہیں کتنی دوا کروں

آسودۂ وصال ہوں یہ جانتے ہیں سب
پہلو سے کوئی پھر بھی نہ جائے تو کیا کروں

ہے میری خوش مزاجی بھی میرے لیے عذاب
محبوب بن کے کیسے ہر اک سے ملا کروں

میرا بھی میرے گھر میں کسی کو ہے انتظار
تا دیر کیسے ساتھ کسی کے رہا کروں

ہر شام کھینچتی ہے در و بام کی طرف
آوارگیِ فکر نہ چاہے تو کیا کروں

بے ظرف بے ضمیر زمانے کے سامنے
ممکن نہیں کہ پیش کوئی مدّعا کروں

ریحان لب کشائی کی طاقت نہیں رہی
لیکن جو بات کہہ نہیں سکتا لکھا کروں
٭٭٭





جسے بھی دیکھیے سینہ فگار شہر میں ہے
قدم قدم پہ لہو کی بہار شہر میں ہے

دھواں دھواں ہوئے جاتے ہیں مسجد و محراب
فقیہِ شہر یہ کیا انتشار شہر میں ہے

نکل کے دل سے محبت کہاں گئی سوچو
ہر ایک گام یہ کس کا مزار شہر میں ہے

جدھر بھی دیکھیے دریائے خوں کی موجیں ہیں
تعصبات کا اک آبشار شہر میں ہے

وہ جس نے شہر کی بنیاد خوں سے رکھی تھی
وہ شخص آج غریب الدیار شہر میں ہے

سکون، چین، محبت، خلوص سب موقوف
نفاق و بغض فقط برقرار شہر میں ہے

خبر کسی کو نہیں ہے یہ مقتلِ جاں میں!
کہ اُس کا قتل کسی پر اُدھار شہر میں ہے

اگرچہ بے گھری ریحان کو ملی ہے مگر
فقط یہی تو مگر شہریار، شہر میں ہے
٭٭٭






جو میرا ہے طبیب اُسی سے خطاب ہے
آ دیکھ مجھ کو میری طبیعت خراب ہے

سرطان پھیلنے لگا پھر تیری یاد کا
اک پل گذارنا بھی ترے بِن عذاب ہے

ترکِ تعلقات کا اک خار دل میں ہے
نسبت سے اُس کی مجھ کو وہ کانٹا گلاب ہے

نشہ کسی کی یاد کا اُترے تو کچھ کہوں
معدوم لب کشائی کی اس وقت تاب ہے

دل مطمئن ہے ہجرِ مسلسل کے باوجود
تیری کمی ہنوز مگر تیرا خواب ہے

مجھ خلوتی کو اس سے سروکار کچھ نہیں
باہر ہے تیرگی کہ شبِ ماہتاب ہے

آنسو تو اپنی راہ بناتے ہیں خود بخود
روکے سے کب رُکا ہے اگر سیلِ آب ہے

میری رگوں میں زہرِ جدائی اُتار کے
چہرہ کسی کا صورتِ رنگِ عناب ہے

بستر پہ اُس کے سنتا ہوں کچھ دن سے روز و شب
تصویر ہے مری جو درونِ کتاب ہے

ہر ایک کے سوال کا اُس نے دیا جواب
میرا سوال تشنۂ حرفِ جواب ہے

ریحان اعظمی تو بکھرنے پہ آ گیا
سمٹا ہوا کوئی پسِ گردِ حجاب ہے
٭٭٭



پہنچے کہاں سے کوئی تیرے خد و خال تک
روشن نہ ہو سکے جہاں شمعِ خیال تک

ہم وہ الم نصیب کہ خواہش کے باوجود
خوشیاں تو کیا ملا نہیں حرفِ ملال تک

اب طائرِ خیال قفس سے نکل پڑا
باقی اڑان اور ہے اُس خوش جمال تک

صحرائے آرزو میں کہاں تک سفر کریں
لے آئے خود کو کھینچ کر حدِّ وصال تک

کچھ لوگ یوں چراغِ انا سے جھلس گئے
باقی رہی نہ جسمِ تکبر پہ کھال تک

ہم وہ بلند قد ہیں کہ سولی گواہ ہے
بامِ عروج پر ہی رہے ارتحال تک

ریحان کیسے صید کرو گے غزل کو تم
جب تک نہ حرف آئیں گے دامِ خیال تک
٭٭٭



کچھ تو دعائے نیم شبی کا اثر ہوا
روشن کسی کے آنے سے دل کا نگر ہوا

فرقت کی شب نے جس کو جلایا تھا ایک عمر
وہ اک دیا بھی آج سپردِ سحر ہوا

جس کو یہ زعم تھا کہ بھلا دے گا وہ مجھے
اک پل مرے بغیر نہ اُس سے بسر ہوا

میں بھی تو اس کے ہجر میں روتا رہا بہت
اس دل کا حال اُس کے ہی غم میں دِگر ہوا

منہ پھیر کے گذر گئے اک دوسرے سے ہم
طے اس طرح بھی زیست کا اکثر سفر ہوا

کس سے لپٹ کے روئیں سنائیں کسے یہ بات
اس شہر میں جو عیب ہے کارِ ہنر ہوا

فکرِ معاش لے گئی ریحان کُو بہ کو
میں گوشہ گیر شخص بھی کیا در بدر ہوا 
٭٭٭



اکبر کا لاشہ اٹھ نہیں سکتا حسین سے


کڑیل جواں کی لاش پہ آئے حسین جب
قلبِ حسین چاک ہوا درد کے سبب
کہتے تھے بے وطن کا سہارا نہیں ہے اب
دیکھا سوئے فرات پکارے یہ شہ کے لب
عباس سوتے کیا ہو ترائی میں چین سے
اکبر کا لاشہ اٹھ نہیں سکتا حسین سے

اے بھائی میری آنکھ سے جاتا رہا ہے نور
غم سے الم سے ہو چکا شبیر چور چور
مارا ہے میرے لال کو اعدا نے بے قصور
اُس پہ ستم یہ ہے کہ ہوئے تم بھی ہم سے دور
عباس سوتے کیا ہو ترائی میں چین سے
اکبر کا لاشہ اٹھ نہیں سکتا حسین سے

آؤ ضعیف بھائی کی آ کر مدد کرو
اے کربلا کے دشت کے حیدر مدد کرو
جاگو مرے دلیر برادر مدد کرو
خیمے میں لاؤ لاشۂ اکبر مدد کرو
عباس سوتے کیا ہو ترائی میں چین سے
اکبر کا لاشہ اٹھ نہیں سکتا حسین سے

تم تو مرے بلانے سے پہلے ہی آتے تھے
میری ہر ایک بات پہ سر کو جھکاتے تھے
پلکوں کو اپنی پیروں پہ میرے بچھاتے تھے
سوتے میں سن کے میری صدا جاگ جاتے تھے
عباس سوتے کیا ہو ترائی میں چین سے
اکبر کا لاشہ اٹھ نہیں سکتا حسین سے

لاشِ پسر پہ سیدِ مظلوم نے کہا
کس وقت میں یہ داغِ جدائی ہمیں دیا
تنہا ترا پدر ہے ہزاروں ہیں اشقیا
اے لال تم ہی دو ذرا عباس کو صدا
عباس سوتے کیا ہو ترائی میں چین سے
اکبر کا لاشہ اٹھ نہیں سکتا حسین سے

ڈرتا ہوں ساتھ برچھی کے دل نہ نکل پڑے
مقتل کی سمت زینبِ مضطر نہ چل پڑے
سن کر خبر جبیں پہ نہ عابد کی بل پڑے
تم سوؤ شوق سے تمہیں اک پل جو کل پڑے
عباس سوتے کیا ہو ترائی میں چین سے
اکبر کا لاشہ اٹھ نہیں سکتا حسین سے

پانی کہاں سے دوں علی اکبر کو مرتے دم
تم لے گئے تھے ساتھ میں مشکیزہ و علم
پانی کے انتظار میں کب تک رہیں گے ہم
جلد آؤ تم کو زینبِ مضطر کی ہے قسم
عباس سوتے کیا ہو ترائی میں چین سے
اکبر کا لاشہ اٹھ نہیں سکتا حسین سے

ریحاں غمِ حسین جو غربت میں سہہ گئے
وہ غم تو انبیاء و فرشتوں سے نہ اٹھے
عباس کیسے آئے وہ بے دست ہو چکے
آخر حسین تنہا یہ کہتے ہوئے چلے
عباس سوتے کیا ہو ترائی میں چین سے
اکبر کا لاشہ اٹھ نہیں سکتا حسین سے
٭٭٭



سلام


پیاسے پہ عجب وقت قیامت کا پڑا ہے
اک لاش ابھی لایا ہے اک لینے چلا ہے

یہ حُر کا ہے، وہ بھائی کا، یہ بیٹے کا لاشہ
زہرا کا پسر گنجِ شہیداں میں کھڑا ہے

زینب تری چادر کا خدا حافظ و ناصر
لشکر نہ علم اور نہ علمدار بچا ہے

یہ آخری ہدیہ تھا حسین ابنِ علی کا
یہ بچہ ابھی تیر سے جو مارا گیا ہے

منہ ڈھانپ لو اماں کہ نظر آئیں نہ نیزے
نیزوں سے یہی عون و محمد کی صدا ہے

چھپ چھپ کے اسے روئے گی اک رات کی بیاہی
وہ دولہا جو بے گور و کفن رن میں پڑا ہے

لیلیٰ ترے اکبر نے نہیں کھایا ہے نیزہ
یہ نیزہ دلِ سبطِ پیمبر میں لگا ہے

ماں جھولا جھلاتی ہے خیالوں میں ابھی تک
اب جھولنے والا نہیں باقی یہ پتا ہے

جس خاک پہ خوں بہہ گیا زہرا کے پسر کا
وہ خاک فقط خاک نہیں خاکِ شفا ہے

ہے مجلسِ شبیر میں عباس کا ماتم
ریحان یہ غازی کی وفاؤں کا صلہ ہے
٭٭٭

٭٭٭
ٹائپنگ: حسان خان
ماخذ: اردو محفل
http://urduweb.org/mehfil
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
