﻿


زمین کا عذاب




عوض سعید


مرتّب
اوصاف سعید










گڑیا

کل جب اسکول کی گھنٹی بجی
تو میں  نے  یوں  ہی شاہراہ پر  رک کر دیکھا
کئی چھوٹی چھوٹی ننھی منی بچیاں 
ہاتھوں  میں کتابوں  کے  رنگ برنگ بستے  دبائے 
شاداں  و فرحاں 
مگر ایک بچی
سوچ میں  غلطاں 
آسمان کی طرف ۔ ۔ ۔ حدِ نظر سے  دور
خلاؤں  میں  نہ جانے  دیر تک کیا دیکھتی رہی
’’ کیا سوچ رہی  ہو بیٹی ؟ ‘‘
جب میں  نے  اس کے  کندھے  پر ہاتھ رکھ کر
شفقت سے  پوچھا
تو اس نے  کپکپاتے  ہونٹوں  سے  صرف اتنا کہا
’’ آپ میرے  بابا نہیں  ہیں  ‘‘
 ***
تسخیر

تیرگی کے  نشاں  ثبت ہیں 
ہر طرف
در و بام پر گرد سی اڑ رہی ہے  
پرندے 
درختوں  کی جلتی ہوئی ٹہنیوں  سے 
اُڑے 
فضا میں  بکھر گئے 
بادلوں  کے  دھوئیں 
سے  
گرا 
ایک پنچھی
بہت نیچے 
دھرتی پہ
لاشوں  کے  انبار کے  درمیان
چپ کھڑا ہوں 
مرے  ہاتھ میں  ایک تلوار ہے 
 ***

موت کی راہ میں 

تم اس قتل گہ سے  نکل کر
کہاں  تک چھپو گے۔ ۔ ۔ بچو گے 
چپ و راست جنگل
درندوں  کا اک قافلہ ہے 
کہ مشعل بہ کف
دور تک
صف بہ صف
تمھارے  تعاقب میں  ہے 
توڑ دو
اپنے  سائے  کی زنجیر
باندھے  ہوئے 
زندگی اپنے  کاندھے  پہ لادے  ہوئے 
چل سکو گے 
ادھر دیکھتے  ہو
کہ مصلوب سورج سمندر میں  لٹکا ہوا ہے 
چلو تیز
اور تیز
قدموں  سے 
روندے  ہوئے  چند لمحوں  کو محسوب کر لو
 ***



شب و روز

سرخیاں 
اخبار کی پڑھ لو
آج
اتنا ہی کافی ہے 
کون متن کا زہر پیے  گا
کس کو اتنی فرصت ہے 
یہ تو روز کا رونا ٹھہرا
اک سرخی پر
نظر ٹھہری تو میں  نے  دیکھا
سیاہ حاشیے  کے  اک کونے  میں 
شاعر کے  مرنے  کی خبر تھی
آڑی ترچھی دو ہی لکیریں 
یہ بھی کیا کچھ کم ہے  یارو
چلتی بس میں جگہ ملی
 ***



            نیا شہر، پرانا گوتم

گیان کی باتیں  مجھ سے  نہ چھیڑو
اس میں  اب کچھ نہیں  دھرا ہے 
ٹیڑھی میڑھی راہ پہ چل کر
میں  تو کندن بن ہی چکا ہوں 
پھر بھی مجھے  لگتا ہے  جیسے 
دھرتی کے  اس چڑیا گھر میں 
سب  پاگل  ہیں 
اور گوتم صحرا میں  بھٹک کر
پھر سے  شہر میں  آن بسا ہے 
 ***


سائے  کا سفر

میں  مٹی کے  ڈھیر کے  نیچے 
اب بھی پڑا یہ سوچ رہا ہوں 
میرا سایہ کدھر گیا ہے 
جس کی انگلی تھامے  میں  نے 
اس کمرے  میں  قدم رکھا تھا
 ***



زمین کا عذاب

لہو کی بوندیں 
گورے  کالے 
نیلے  پیلے  چہروں  کی تفسیریں 
عقاب کے  نکیلے  پنجے 
سڑی بسی نعشوں  پر
بھوکے  گدھوں  کا اژدحام
کیا یہی وہ عذاب ہے 
جس کے  لیے  ہمیں  زمین ملی تھی
آؤ  !  اک بار پھر
اپنی قبروں  کے  دروازے 
مقفل کر لیں 
 ***

          انتظار

مرے  بیتے  ہوئے  لمحو مجھے  تم یوں  نہ ڈسو
یہی بہتر ہے  کہ واپس جاؤ
آرزوؤں  کا حصار
گِر چکا کب کا
ایک بوسیدہ محل
سلسلہ یادوں  کی تنہائی کا
یوں  نہ جھانکو کہ دریچے  ہیں  لہو سے  رنگیں 
کوئی شیشہ کہیں  کرچی بن کر
آنے  والے  کسی کل کے  دل میں 
چبھ کے  رہ جائے  کہیں 
کانچ کی آنکھ لگائے  ہوئے 
چپ چاپ کھڑا
منتظر ہوں  میں  اسی چاپ
اسی آہٹ کا
 ***

          سجدہ

وہ رت شاید تمھیں  یاد نہ ہو
جب ہرے  سبزے  کے  تختوں  پر
پھولوں  کی بارش ہوتی تھی
چھتناروں  کی اوٹ میں  چھپ کر
کوئی
آنکھوں  سے  اشارے  کرتا تھا
جب چھم چھم کرتی بارش میں 
دل کی کلیاں  کھل اٹھتی تھیں 
محسوس یہ اب کیوں  ہوتا ہے 
جیسے 
رات کی چوکھٹ پر کوئی
سجدہ کر کے  چلا گیا ہے 
 ***

          کتبہ

ایک سبک رو  نازک لڑکی
راج ہنس کے  پروں  پہ بیٹھی
خوابوں  میں  اکثر آیا کرتی تھی
جانے  اب وہ لڑکی
وہ جھرنا
مسکان کہاں  ہے 
اب تو
اک بے  کتبہ قبر کے  نیچے 
سایہ لہراتا ہے 
 ***


          تعاقب

کون ہے  میرے  تعاقب میں   ؟
زینہ زینہ
نیل گگن سے  نیچے  اتر کر
سیلی زمیں  کے  زخمی دل پر
رقصاں  ہے 
خون کی بوندیں 
قطرہ قطرہ
بہتے  پانی کے  سینے  میں 
جم جاتی ہیں 
میرا جسم ہے  خون کا چشمہ
آؤ
تم بھی اس میں  نہا لو
 ***

          بیڈ  نمبر  ۱۴

یہ اونچی سنگین عمارت
سیڑھیاں  جس کی
چڑھتے  چڑھتے 
میرا دم گھٹ جاتا ہے 
بستر کی مغموم قطاریں 
دبلی پتلی ننگی ٹانگیں 
اب بیڈ نمبر  ۱۴    پر
پہنچ کر
اکثر میں  یہ سوچتا ہوں 
یہ بستر کب خالی ہو گا
 ***


          خدا کا انصاف

جانے  وہ کون سی رات تھی
جستجو اپنے  بے  نام چہروں  کی تھی
ساتھیوں  کے  قدم
بار کی سمت اٹھنے  لگے 
چیز، وہسکی، برانڈی
احتجاج
اس پیگ میں  کم ہے  کیوں   ؟
میں  خدا ہوں 
خدا کا یہ انصاف ہے 
 ***



ایک نظم

کوئی رک کر
مڑ گیا
اس گلی میں 
گرم سانسوں  کی موسیقی
اُترتی گئی
زینہ زینہ
کھڑکیاں  یک بہ یک بند ہو جائیں 
اور پھر
کھل گئیں 
سایہ بڑھتا گیا
آسماں 
رو  پڑا
 ***


          کنج  اور تنہائی

کنج میں  دھنسی
لوہے  کی کرسی
آج خالی پڑی ہے 
کل کسی نے  
اس کرسی پر
خون کے  قے  کر ڈالی تھی
شاید
وہ مریل کتّا
کنج کی تنہائی سے 
گھبرا کر
اپنا لہو بھی پی جائے 
 ***


          ہمزاد

ایک بے  نام آرزو۔ ۔ ۔  سایہ
ہم قدم جیسے  مدتوں  سے  ہے 
جانے  کس موڑ پر نظر آئے 
مجھ سے  پوچھے  کہ تم وہی ہو نا
جس کو اک عمر، میں  نے  سوچا تھا
گونجتی وادیوں  میں  دیکھا تھا
اس سے  پہلے  کہ مجھ سے  وہ پوچھے 
اپنے  چہرے  کی سلوٹوں  پر میں 
اس طرح دونوں  ہاتھ رکھ لوں  گا
کہ مجھے  کوئی بھی نہ پہچانے 
 ***


          المیہ

اسے  اک المیہ ہی سمجھو
کہ میں  نے  تمھیں 
سر کٹے  آدمیوں  کے  درمیاں 
آواز دی تھی
مگر 
آواز کے  پنکھ
ٹوٹنے  سے  پہلے 
تم جا چکے  تھے 
 ***


          کرفیو

وہ یہ سوچ کر گھر سے  نکلا
کہ رات ابھی
پوری طرح بھیگی نہیں  ہے 
کوئی پان کی دُکان
کھلی تو ہو گی
جہاں  سے 
وہ سگریٹ کی ایک ڈبیہ خرید کر
جلد گھر لوٹ سکے  گا
مگر 
راستے  میں 
اس نے  دیکھا کہ ساری دُکانیں  کھلی تھیں 
وہ حیران پریشان
یوں  ہی کھڑا تھا
 ***

سالگرہ

پھر آج اس نے 
گئے  برس کی طرح
چپکے  سے  کہا تھا
’’ کل مری سالگرہ ہے 
ضرور آنا ‘‘
مگر یہ سوچ کر چپ رہا
کہ یہ لڑکی
اپنے  بیتے  دنوں  کا انتقال لے  کر
مجھے  رسوا کرے  گی
مگر
سب کچھ جانتے  ہوئے  بھی
میں  جب اس کے  گھر پہنچا
تو
راستے  کی دیوار بن کر ہواؤں  نے  روکا
’’  تم
اس طرح یہ زہر 
کب تک پیا کرو گے 
وہ تو
                   کبھی کی ماں  بن چکی ہے  ‘‘ 
***
حقیقت

تم مر جاؤ گے  اک دن
یہی کہتے  ہوئے 
کہ		تم بہت بڑے  آدمی ہو
تمھاری باتیں 
ذہن کے  زنگ خوردہ دریچوں  کو
وا کرتی رہیں  گی
تمھارے  ذہن سے 
نکلا ہوا ایک اک جملہ
لوحِ محفوظ کی طرح
ذہنوں  سے  چمٹا رہے  گا
لیکن
ایسا کبھی ہوا ہے  اور نہ ہو گا
تم تو وقت کے  تیز دھارے  پر
چل کر
صدیوں  پہلے 
مر چکے  ہو
لیکن
میں  تمھارے  سامنے  کھڑا ہوں 
                      ابھی تک زندہ ہوں     
***


          سات سُروں  کا جادو

یہ کون سا راگ ہے 
جس کے  دھیمے  سروں  سے 
ہوا چلتے  چلتے  رک سی گئی ہے 
کوئی دیکھے 
یہ سات سروں  کا جادو
جیسے 
پھیلے  پھیلے  پہاڑوں  کے  بیچ
کسی سبک خرام جھرنے  کا پانی
قطرہ قطرہ
موتیوں  کی شکل میں 
زیست کا بیج بو رہا ہو
جیسے  ملوں  کی چمنیوں  سے  نکلتا ہوا گاڑھا دھواں 
شور و غل ۔ ۔ ۔ دھام دم ۔ ۔ ۔ بے  ربط تانیں 
بولیاں۔ ۔ ۔ لاکھوں۔ ۔ ۔ ہزاروں 
گیت
اب گویا چیخ بن کر
سازوں  میں  کھو چکا ہے 
گلے  کا پھندا بن چکا ہے 
 ***


تماشہ

اونچے  رسّے  کی لمبی ڈور پر
دھیرے  دھیرے  قدم ناپتا
انسان نما اک بھورا بندر
آہستہ آہستہ چل رہا تھا
اوپر آسمان
نیچے  دھرتی
ننھے  بالک
جوان 
بوڑھے 
یہ تماشا دیکھ رہے  تھے 
چہروں  پر سب کے  ہنسی اُگی تھی
دفعتاً
جب رسّی ٹوٹی
سب چہرے  لٹکائے 
جیسے  اک دوسرے  کو تک رہے  تھے 
اور 
بھورا بندر
خون میں  نہائے 
پلکوں  میں  آنسو پروئے 
مٹی کے  سینے  پر لیٹا
یہ تماشا دیکھ رہا تھا 			***
          وعدہ

پھر ملنے  کا وعدہ کر کے 
جب سے  تم جدا ہوئی ہو
کھڑا ہوں  اب تک
اسی جگہ پر
مجھ سے 
’’  کچھ  ‘‘
تم نے 
آنکھوں  ہی آنکھوں  میں  کہا تھا
 ***


          فاصلے 

کل بھی تم
مایوس لوٹے  تھے 
آج کی شام
دھواں  دھواں  ہے 
آنے  والے  پل کے  تخت پر
ناگ
کنڈلی مارے  بیٹھا ہے 
یہ تماشہ
کب ختم ہو گا
کب  ؟
میں  تم سے  ملوں  گا
کب  ؟
میں  تم سے  پوچھ سکوں  گا
تم نے  ادھر کیا کیا لکھا ہے 
 ***


          نیا سال

وہ وعدہ تمھیں  یاد ہے 
نئے  سال کی مسرت میں 
’’ تھری  ایسس    ۱ ؂   
مگر نیا سال تو ابھی آیا نہیں 
یہ بھی خوب چال ہے 
شاید پیسوں  کی کمی ہے 
یہ آج کی بات نہیں  ہے 
ہر سال یہی ہوتا آیا ہے 
 ***

۱ ؂        بار کا نام ۔ 


          آگہی

سمندر رو رہا ہے 
ہوا سرسراتی لمحہ لمحہ اُڑ رہی ہے 
میں  زمین اور آسمان کے  بیچ معلق کھڑا ہوں 
روشنی گل کرو
میں  رات میں  سلگنے  والا پرندہ ہوں 
جگنو ہوں 
میں  نے  رات ہی کے  بطن سے  جنم لیا ہے 
مجھے  خوب بھٹکنے  دو
جہاں برسہا برس سے 
نیلے  پانی کے  مچھیروں  نے 
اپنے  جال پھیلا دئیے  ہیں 
شاید انھیں  کچھ ہاتھ نہ آئے 
ذات کی بھٹی میں  جل کر
بکھرے  موتی چن لیے  ہیں 
 ***


          بوجھ

میں  ڈوبتی ڈولتی کشتی کے  مانند
’’ مرینا  ‘‘ ساحل پر
مدت سے  یہ سوچ رہا ہوں 
کہ دھرتی کے  سینے  سے  کوئی چاند ابھرے 
جو مرے  دامن کے  دھبوں  کو چاٹ جائے 
نہ چاند ہی دھرتی پر ابھرا
نہ سورج نہ تارے 
اور میں 
’’ مرینا  ‘‘ ساحل پر
جانے  کب سے 
بوجھ بنا کھڑا ہوں 
 ***

          اثاثہ

یوں  ہی روز کی طرح جب اُس کے  گھر پہنچا
تو میں  نے  دیکھا
ایک کالا بھجنگ آدمی
’’ بیلف‘‘ کے  رو بہ رو کھڑا ہے 
لمبے  رجسٹر میں 
جانے  کیا لکھتا جا رہا تھا
گھر کا اثاثہ
کرسیاں 
میزیں 
کتابیں 
باہر پھینکی جا رہی تھیں 
میں  نے  یہ بدقتِ تمام اس منظر کو دیکھا
بھگونے ، کٹورے 
ملگجے  پردے 
جب یہ سامان باہر نکالا گیا
تو کسی نے  آگے  بڑھ کر پوچھا
کہیں  اور کچھ باقی تو نہیں  ہے 
ہاں  ایک کتاب ہے 
جو طاق پر دھری ہے 
پھر جب دیوانِ غالبؔ کو باہر پھینکا گیا
تو اس کی لرزتی آواز گونجی 
 ***


          نظم

ایک اجنبی سے 
سرِ راہ مل کر
میں نے  پوچھا کہ بھائی
اس قدر تیز قدموں  کو ناپے 
کہاں  جا رہے  ہو
کوئی  منزل  ؟  کوئی  ٹھکانہ  ؟
تمھارے  چہرے  کی سلوٹیں 
گرد آلود کپڑے 
کیا تم
ان لوگوں  میں سے  نہیں  ہو
جنھیں  دیکھنے  کی آرزو میں 
میں  نے 
دو جہاں  کی خاک چھانی تھی
تو پھر
سن لو
تم جس صبح کے  پیچھے  بھاگ رہے  ہو
وہ
رات کی چوکھٹ پر آ کر
برسوں  پہلے 
مر چکی ہے  
***


          نظم

باتوں  باتوں  میں  اس نے 
جب مجھ سے  یہ پوچھا تھا
کس شہر کے  باسی ہو
کس ہوٹل میں  ٹھہرے  ہو
اس سے  پہلے  بھی مجھ سے 
کئی نازنینوں  نے 
یہی سب کچھ پوچھا تھا
کاٹھ کا اُلّو  ہوں  میں 
عقل کی پوری ہو تم
 ***



          ایک نظم

کوئی رک کر
مڑ گیا
اس گلی میں 
گرم سانسوں  کی موسیقی
زینہ زینہ
کھڑکیاں  یک بہ یک بند ہوئیں 
اور پھر
کھل گئیں 
سایہ بڑھتا گیا
آسماں 
رو پڑا
 ***



            ایک نظم
(  سلیمان اریبؔ کی یاد میں   )

کیا ہم پیدا  اِس لیے  ہوئے  تھے 
کہ
اپنے  ہی ساتھیوں  کی زندگی کے 
بال  و  پر  نوچیں 
اور انھیں 
دور سیلی مٹی کے  ڈربوں  میں  پھینک آئیں 
مگر وہ تیرا  شاعر
جو  ستمبر  کی مٹیالی صبح کو
ہم سے  جدا ہوا تھا
کہاں  ہے 
آخر  وہ کہاں  ہے   ؟
 ***

          نظم

سر سراتے  پردوں  سے 
کس کا عکس نمایاں  ہے 
آج سے  پہلے  بھی
ان پردوں  کے  پیچھے 
اک سایہ منڈلاتا تھا
مدت ہوئی جسے  دیکھے 
اب  تو پیاس کا چشمہ
دن اور رات کے  گگرے  پر
حسرتوں  کی وادی میں 
بوند بوند ٹپکتا ہے 
 ***



          ریس

وہ لگاتار  دو  برس تک
چار سو پھیلے  نیلگوں  سمندر میں 
غوطے  لگاتا رہا
بند صدف میں  چھپے  قیمتی موتی
اس کے  ہاتھوں  میں 
سنہری مچھلیوں  کی طرح
پھسلتے  رہے 
وہ چپ چاپ پاتال میں  دھنستا گیا
 ***


          رات اور سمندر

رات کے  سمندر میں 
آنسوؤں  کی قندیلیں 
سطحِ آبِ لرزاں  پر
ڈگمگاتی جاتی ہیں 
جب بھی رات روتی ہے 
یاد کے  جھروکوں  سے  کوئی مجھ سے  کہتا ہے 
’’ چاند ہم نے  دیکھا تھا 
اب نظر نہیں  آتا ‘‘
 ***



   ۔ ۔ ۔ کا خط نہ آنے  پر

آج بھی نہ کوئی خط، نہ پیام
ڈاکیہ روز  یوں  ہی چلا جاتا ہے 
کاش کوئی چٹھی آ جائے 
مداوا بن کر
تب کہیں  بات بنے  جینے  کی
تب کہیں  جاگ اٹھیں 
اُمنگوں  کے  محل
ایک وقت شاید وہ بھی آئے 
جب مجھے  اپنے  نام کے  خط
اپنے  ہی گھر کے  ایڈریس پر
جا کے  پھینکنے  ہوں  گے 
آج بھی نہ کوئی خط، نہ پیام
ڈاکیہ روز یوں  ہی چلا جاتا ہے 
 ***

          رات کی موت

رات رو رو کے 
کہہ رہی ہے 
صبح کے  اُجالے  سے  پہلے 
مجھے  تم کسی کھنڈر میں  پھینک آنا
تا کہ میں 
مرنے  سے  پہلے 
پھر ایک بار جی لوں 
 ***
  دوسرا آدمی
وہ دوسرا آدمی کہاں  ہے 
جو مرے  سامنے  بیٹھا
بڑی دیر سے  مجھے  تک رہا تھا
اس کے  ہونٹوں  پر مہر سی لگی تھی
مگر وہ مسلسل بولے  جا رہا تھا
وہ آدمی کہاں  ہے 
وہ آدمی شاید کوئی نہ تھا
کوئی نہ تھا
 ***

          مداوا

تم کہاں  ہو مری ہم سفر
دیکھ رہی ہو ۔ ۔ ۔ 
بجھی رات کے  بے  نام سائے 
مرے  جسم سے  لپٹ گئے  ہیں 
دور  دور تک سناٹا ہے 
صحرا  صحرا، جنگل جنگل
کرب کی پرچھائیوں  کا
شاید کوئی مداوا  نہیں  ہے 
 ***



بیتے  لمحوں  کی شکایت

بیتے  ہوئے  لمحوں  کی شکایت
آخر
کب تک تم کرتے  رہو گے 
دیکھ نہیں  رہے  ہو
کہ لوگ
تم سے  بور ہو چکے  ہیں 
اس سے  پہلے  کہ لوگ
تمھارے  منہ پر چانٹے  لگائیں 
تم اس بوریت کو
ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے 
ختم کر دو
اور دفع ہو جاؤ
 ***


          تاکید

میں  نے  بارہا تم سے  کہا تھا
کہ
مجھ سے  ہرگز ہرگز نہ ملنا
مگر تم کچھ اتنے  بے  حس ہو
کہ  میری ہر بات
ہوا میں  اُڑا دیتے  ہو
اب آخری صورت یہی ہے 
کہ
میں  تمھارے  منہ پر تھوک دوں 
اور
ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے  چپ ہو جاؤں 
 ***



          پہلی سیڑھی

پہلی سیڑھی پر
قدم رکھ کر
یہ سوچ لینا کہ
ہم منزل کو پا ہی لیں  گے 
یہ بڑی نادانی ہے 
اور بڑی بھول ہے 
اس دوسری سیڑھی پر
جو آدمی لٹک رہا ہے 
وہ  سرکس کا کوئی جوکر نہیں 
میں  ہوں 
اور  میرا سایہ
 ***



زندگی خود اک طوفان ہے 

میں  نے  گجر د م اُٹھ کر
اچانک یہ دیکھا
ساری فضا دھندلی دھندلی سی تھی
شاید رات کے  پچھلے  پہر
آندھی کے  جھکڑ چلے  ہوں 
مگر یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں  ہے 
اس طوفان سے 
بھلا کون بچا ہے 
 ***




          تلاش

کہتے  ہیں  ڈھونڈنے  پر خدا بھی مل جاتا ہے 
لیکن میں 
اس سعیِ رائیگاں  میں 
در  بہ  در  ٹھوکریں  کھا رہا ہوں 
مگر یہ تلاش اور کھوج
آج بھی جاری ہے 
پتہ نہیں  یہ سلسلہ
ختم ہو گا بھی کہ نہیں 
 ***



پہلا جنم

اپنا پہلا جنم مجھے  یاد ہے 
جب میں  دھرتی پر اترا تھا
اس کے  بعد
جو بھی میں  نے  دیکھا
وہ محض اک سراب تھا
اس سراب سے  
ایک زہریلا ناگ
پھن اُٹھائے 
مجھے  تک رہا تھا
اور میں 
دھرتی کے  اس پاتال میں 
دھنستا جا رہا ہوں 
 ***



میں  نے  اک خواب سا دیکھا تھا کبھی

میں  نے  اک خواب سا
دیکھا تھا کبھی
کہ سمندر کے 
پانی میں 
غوطہ لگا کر
تہ در تہ
چھپے  صدف کو ہاتھ میں  لیے 
فخر و تمکنت سے 
یوں  لبِ ساحل
ابھروں  کہ
لوگ مجھے  دیکھ کر
حیرت سے  تکتے  رہیں 
مگر
سمندر
اور یہ لڑکی
 ***


٭٭٭

تشکر: جناب اوصاف سعید جس کے توسط سے ان پیج فائل کی فراہمی ہوئی،  اور اجازت بھی۔
ان پیج سے تبدیلی، تدوین، پروف ریڈنگ، ای بک: اعجاز عبید





