بچوں والی بیوہ کی شادی مشکل کیوں
M
Muhammadi
November 4, 2026 • 7h ago
9 views
0 comments
بچوں والی بیوہ کی شادی مشکل کیوں؟
رشتہ گروپس میں، میں نے دیکھا ہے کہ خواتین اور مرد، دونوں ہی چوںبغیر بچوں والے رشتے چاہتے ہیں۔ چاہے ان کے اپنے بھی بچے ہوں۔ بچوں کو اپنانے کے لیے اکثریت تیار نہیں ہوتی۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچوں والی خواتین کو ساری زندگی بیوگی میں تنہا گزارنی پڑتی ہے۔
ایک طرف شوہر کے انتقال کا غم، اس کی کمی اور تنہائی، دوسری طرف بچوں کے سوالات، ان کی ضروریات اور خواہشات، پھر معاشی فکریں، بچوں کی تعلیم و علاج اور اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کی فکر۔
اکثر اوقات خواتین کی کمائی اتنی نہیں ہوتی کہ وہ بغیر کسی کی مدد کے اپنے اخراجات خود پورے کر سکیں۔ نتیجتاً دوسروں کے صدقات و خیرات پر خوددار خواتین روز و شب اندر ہی اندر گھٹتی رہتی ہیں۔
ایسی خواتین سے عرض ہے کہ مال داروں کے مال میں آپ کا حق ہے۔
اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا
(سورۃ الذاريات 19)
یہ کوئی احسان نہیں ہے "دینے والا" اللہ کو "دیتا" ہے اپنی آخرت کے لیے کرتا ہے کسی شکریے یا احسان کی غرض سے نہیں کرتا
اور وہ اللہ کی محبت کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔
(اور ان سے کہتے ہیں کہ :) ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں، اور نہ کوئی شکریہ!
(سورۃ الانسان 8 تا 9)
مگر ہاں آپ شکریہ اور دعائیہ کلمات لازمی کہیں تاکہ حوصلہ افزائی ہوسکے اور اگر ہو سکے تو ضرور بتائیں ان کی سخاوت کی وجہ سے آپ کی کون سی مشکل آسان ہوئی یہ چیز انہیں مزید سخاوت پر آمادہ کرے گی۔
انسانی نفسیات ہی ایسی ہے کہ جب کوئی فار گرانٹڈ لے، قدر نہ کرے، یا بے نیازی شو کرے کہ اگلے کے دینے یا نہ دینے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑا، تو اکثر لوگوں کا دوبارہ دینے کو دل نہیں کرتا۔
مگر یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بے شک اللہ کو ہمارے شکر کی ضرورت نہیں، مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ نے شکر کو نعمتوں میں اضافے کا ذریعہ بنایا ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں:
"یقیناً اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں ضرور ہی زیادہ دوں گا"
(سورۃ ابراہیم: 7)
اور ساتھ ہی قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے:
ہر شکر کرنے والا اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے جو بھی ناشکری کرے وہ جان لے کہ اللہ تعالٰی بے نیاز اور تعریفوں والا ہے ۔
(سورۃ لقمان: 12)
یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے شکر کے محتاج نہیں؛ شکر کا فائدہ خود ہمیں ہی پہنچتا ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا ‘ وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا ۔‘‘
(سنن ابی داؤد: 4811)
ایک بوڑھے فقیر تھے جب میرے والد نے انہیں کچھ پیسے دیے تو انہوں نے فوراً خوش ہو کر کہا "یا اللہ تیرا شکر ہے" شاید کچھ اور بھی کہا اور میرے والد کا شکریہ ادا کیا اور بعد میں دعائیں دیں اور وہ پیسے بھی کوئی بہت زیادہ نہیں تھے میرے والد سمیت ہم سب حیران تھے پہلی بار ہم نے کسی فقیر کے منہ سے اللہ کا شکر سنا تھا ظاہر سی بات ہے وہ پیسے اسے اللہ نے ہی دئیے تھے اور ہم سب کو بھی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی دیتے ہیں اور ہمیں اسی طرح فوراً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے شکر کے بہت سے فائدے ہیں انسان مایوسی بچا رہتا ہے اندر خوش اور مطمئن رہتا ہے اور ہاں واقعی نعمتوں میں اضافہ بھی ہوتا ہے اس کے اس عمل سے میرے والد جب بھی اس راستے سے گزریں انہیں ضرور دیتے ہیں اور ایسے "لینے والے" کو دے کر "دینے والے" کا بھی دل خوش ہوتا ہے۔
بہرحال مال داروں سے عرض ہے کہ مستحقین کو ان کا حق دیجیے۔ صدقاتِ واجبہ، یعنی زکوٰۃ اور فطرانہ، تو مستحقین کا شرعی حق ہیں ہی، مگر (سورۃ الذاریات 19) کے مطابق متقی لوگ نفلی صدقات بھی اس احساس کے ساتھ دیتے ہیں کہ سائل اور محروم کا بھی ان کے مال میں حق ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے اگر وہ کوئی کام نہ بھی کرتی ہوں تو بعض اوقات فاقوں تک نوبت آ جاتی ہے، کیونکہ کبھی کوئی مدد کرتا ہے اور کبھی نہیں۔
زیادہ تر لوگ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالے رکھتے ہیں کہ اتنے بھائی ہیں، وہ کرتے ہوں گے، یا فلاں محلے دار زیادہ امیر ہیں، وہ کرتے ہوں گے۔ اس کے علاوہ شہروں کے تو حالات ہی بہت برے ہیں۔ اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ بھی ایک دوسرے سے تعلق رکھ کر، آ جا کر راضی نہیں۔ کسی کو ایک دوسرے کے حالات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ اور لوگ دینا بھی وہاں پسند کرتے ہیں جہاں فائدے کی امید ہو یتیم بچوں سے کسی کو کیا ملنا ہے (آخرت؟ وہ بعد میں آنے والی اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہمیں بہت دور لگتی ہے)
ایسے میں ضرورت ہے کہ صاحبِ حیثیت، کشادہ دل اور بلند ظرف افراد ان بیوہ خواتین سے، جن کے بچے ہیں، نکاح کریں تاکہ بیواؤں اور یتیم بچوں کی احسن طریقے سے مدد ہو سکے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی ۔
(صحیح بخاری 5304)
البتہ ہر بیوہ دوبارہ نکاح کرنا چاہے، یہ ضروری نہیں۔ بعض خواتین مختلف وجوہات کی بنا پر دوبارہ نکاح نہیں کرنا چاہتیں۔ ایسی صورت میں نکاح کو ہی حل سمجھنے کے بجائے ان کی اور ان کے بچوں کی مالی و معاشرتی مدد سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔
کسی کی تین چھوٹی بچیاں ہوں تو ایسے سمجھا جاتا ہے کہ اب اس عورت کی شادی ممکن ہی نہیں، کہ ان بچیوں کو کون اپنائے گا؟ لوگ دوسروں کی اولاد پر خرچ کرنا ہی نہیں چاہتے۔
(اگر یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو اتنا مشکل محسوس نہ ہو، بات ساری نیت کی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر چالان بھرنا تکلیف دیتا ہے، مگر یہی رقم اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کی جائے تو خوشی محسوس ہوتی ہے۔ رقم وہی ہوتی ہے، فرق صرف نیت کا ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ اپنی ذات پر خرچ کرتے ہوئے نہیں سوچتے، مگر صدقے کے لیے رقم نکالنی مشکل محسوس ہوتی ہے۔ رقم تو بہرحال خرچ ہونی تھی، اب یہ انسان پر ہے کہ وہ اسے آخرت کے اکاؤنٹ میں جمع کرتا ہے یا صرف دنیا میں خرچ کر دیتا ہے۔)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندہ کہتا ہے : میرا مال ، میرا مال ، اس کے لیے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں : جو اس نے کھایا اور فنا کر دیا ، یا جو پہنا اور بوسیدہ کر دیا ، یا جو کسی کو دے کر ( آخرت کے لیے ) ذخیرہ کر لیا ۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے تو وہ ( بندہ ) جانے والا اور اس ( مال ) کو لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے ۔‘‘
(صحیح مسلم 7422)
اور عورت بھی اپنی بچیوں کی حفاظت کے لیے دوبارہ نکاح نہیں کرتی کہ پتہ نہیں اس کا اگلا شوہر کیسا نکلے گا، میری بچیوں پر بری نظر نہ رکھے۔
ویسے عورت کا شوہر اس کی بیٹیوں کا محرم ہی ہوتا ہے، مگر کچھ بدکردار لوگوں کی حرکتوں نے اس رشتے کو بھی بدنام کر دیا ہے۔ حقیقت میں مسئلہ رشتے کا نہیں، کردار کا ہے۔ بعض بدکردار لوگوں کے لیے یہ بچیاں آسان شکار بن جاتی ہیں۔
بہرحال، بچوں والی خواتین کے ساتھ شادیوں کو فروغ دینا چاہیے۔ رشتوں میں مال و دولت سے زیادہ دین، کردار اور قابلِ اعتماد ہونے کو ترجیح دینی چاہیے۔
جب ہمارا کوئی پیارا اس دنیا سے جاتا ہے تو ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ صبر آ جاتا ہے۔ لیکن جب وہ پیارے اس دنیا سے جائیں جن کی کمی دن رات محسوس ہو، تو وہ زخم جلدی نہیں بھرتے۔ باپ یا شوہر انہی رشتوں میں سے ہیں۔
یتیمی اور بیوگی میں قدم قدم پر یہ احساس ہوتا ہے۔
مگر ہر گھر کی کہانی ایک جیسی نہیں ہوتی، دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے تھے کہ جب وہ فوت ہوئے تو ان کی بیویوں نے کہا: "اچھا ہوا مر گئے، پہلے بھی اپنا خود ہی پورا کرتے تھے، اب بھی اپنا خود ہی کرنا ہے۔ جو نشے پانی کا خرچہ ان پر آتا تھا، وہ بھی بچ جائے گا، اور بیوہ اور یتیم سمجھ کر کوئی مدد ہی کر دے گا۔"
یہ مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر بیوہ کے حالات مختلف ہوتے ہیں، مگر ایک چیز مشترک ہے: ایسے خاندانوں کو معاشرے کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر ہم بچوں والی بیوہ خواتین سے نکاح کو عام کریں۔ تو نہ صرف ایک عورت کو سہارا ملے گا بلکہ کئی یتیم بچوں کو باپ کی شفقت میسر آئے گی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیواؤں اور مسکینوں کے کام آنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے ، یا رات بھر عبادت اور دن کو روزے رکھنے والے کے برابر ہے ۔
(بخاری 5353)
نوٹ: تحریر کو بغیر بدلے جیسے مرضی کاپی کر کے شیئر کریں، کوئی اعتراض نہیں۔
جزاکم اللہ خیراً
تربیت ،اصلاح اور اہم فتاویٰ گروپ 03406554724
رشتہ گروپس میں، میں نے دیکھا ہے کہ خواتین اور مرد، دونوں ہی چوںبغیر بچوں والے رشتے چاہتے ہیں۔ چاہے ان کے اپنے بھی بچے ہوں۔ بچوں کو اپنانے کے لیے اکثریت تیار نہیں ہوتی۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچوں والی خواتین کو ساری زندگی بیوگی میں تنہا گزارنی پڑتی ہے۔
ایک طرف شوہر کے انتقال کا غم، اس کی کمی اور تنہائی، دوسری طرف بچوں کے سوالات، ان کی ضروریات اور خواہشات، پھر معاشی فکریں، بچوں کی تعلیم و علاج اور اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کی فکر۔
اکثر اوقات خواتین کی کمائی اتنی نہیں ہوتی کہ وہ بغیر کسی کی مدد کے اپنے اخراجات خود پورے کر سکیں۔ نتیجتاً دوسروں کے صدقات و خیرات پر خوددار خواتین روز و شب اندر ہی اندر گھٹتی رہتی ہیں۔
ایسی خواتین سے عرض ہے کہ مال داروں کے مال میں آپ کا حق ہے۔
اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا
(سورۃ الذاريات 19)
یہ کوئی احسان نہیں ہے "دینے والا" اللہ کو "دیتا" ہے اپنی آخرت کے لیے کرتا ہے کسی شکریے یا احسان کی غرض سے نہیں کرتا
اور وہ اللہ کی محبت کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔
(اور ان سے کہتے ہیں کہ :) ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں، اور نہ کوئی شکریہ!
(سورۃ الانسان 8 تا 9)
مگر ہاں آپ شکریہ اور دعائیہ کلمات لازمی کہیں تاکہ حوصلہ افزائی ہوسکے اور اگر ہو سکے تو ضرور بتائیں ان کی سخاوت کی وجہ سے آپ کی کون سی مشکل آسان ہوئی یہ چیز انہیں مزید سخاوت پر آمادہ کرے گی۔
انسانی نفسیات ہی ایسی ہے کہ جب کوئی فار گرانٹڈ لے، قدر نہ کرے، یا بے نیازی شو کرے کہ اگلے کے دینے یا نہ دینے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑا، تو اکثر لوگوں کا دوبارہ دینے کو دل نہیں کرتا۔
مگر یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بے شک اللہ کو ہمارے شکر کی ضرورت نہیں، مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ نے شکر کو نعمتوں میں اضافے کا ذریعہ بنایا ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں:
"یقیناً اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں ضرور ہی زیادہ دوں گا"
(سورۃ ابراہیم: 7)
اور ساتھ ہی قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے:
ہر شکر کرنے والا اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے جو بھی ناشکری کرے وہ جان لے کہ اللہ تعالٰی بے نیاز اور تعریفوں والا ہے ۔
(سورۃ لقمان: 12)
یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے شکر کے محتاج نہیں؛ شکر کا فائدہ خود ہمیں ہی پہنچتا ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا ‘ وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا ۔‘‘
(سنن ابی داؤد: 4811)
ایک بوڑھے فقیر تھے جب میرے والد نے انہیں کچھ پیسے دیے تو انہوں نے فوراً خوش ہو کر کہا "یا اللہ تیرا شکر ہے" شاید کچھ اور بھی کہا اور میرے والد کا شکریہ ادا کیا اور بعد میں دعائیں دیں اور وہ پیسے بھی کوئی بہت زیادہ نہیں تھے میرے والد سمیت ہم سب حیران تھے پہلی بار ہم نے کسی فقیر کے منہ سے اللہ کا شکر سنا تھا ظاہر سی بات ہے وہ پیسے اسے اللہ نے ہی دئیے تھے اور ہم سب کو بھی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی دیتے ہیں اور ہمیں اسی طرح فوراً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے شکر کے بہت سے فائدے ہیں انسان مایوسی بچا رہتا ہے اندر خوش اور مطمئن رہتا ہے اور ہاں واقعی نعمتوں میں اضافہ بھی ہوتا ہے اس کے اس عمل سے میرے والد جب بھی اس راستے سے گزریں انہیں ضرور دیتے ہیں اور ایسے "لینے والے" کو دے کر "دینے والے" کا بھی دل خوش ہوتا ہے۔
بہرحال مال داروں سے عرض ہے کہ مستحقین کو ان کا حق دیجیے۔ صدقاتِ واجبہ، یعنی زکوٰۃ اور فطرانہ، تو مستحقین کا شرعی حق ہیں ہی، مگر (سورۃ الذاریات 19) کے مطابق متقی لوگ نفلی صدقات بھی اس احساس کے ساتھ دیتے ہیں کہ سائل اور محروم کا بھی ان کے مال میں حق ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے اگر وہ کوئی کام نہ بھی کرتی ہوں تو بعض اوقات فاقوں تک نوبت آ جاتی ہے، کیونکہ کبھی کوئی مدد کرتا ہے اور کبھی نہیں۔
زیادہ تر لوگ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالے رکھتے ہیں کہ اتنے بھائی ہیں، وہ کرتے ہوں گے، یا فلاں محلے دار زیادہ امیر ہیں، وہ کرتے ہوں گے۔ اس کے علاوہ شہروں کے تو حالات ہی بہت برے ہیں۔ اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ بھی ایک دوسرے سے تعلق رکھ کر، آ جا کر راضی نہیں۔ کسی کو ایک دوسرے کے حالات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ اور لوگ دینا بھی وہاں پسند کرتے ہیں جہاں فائدے کی امید ہو یتیم بچوں سے کسی کو کیا ملنا ہے (آخرت؟ وہ بعد میں آنے والی اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہمیں بہت دور لگتی ہے)
ایسے میں ضرورت ہے کہ صاحبِ حیثیت، کشادہ دل اور بلند ظرف افراد ان بیوہ خواتین سے، جن کے بچے ہیں، نکاح کریں تاکہ بیواؤں اور یتیم بچوں کی احسن طریقے سے مدد ہو سکے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی ۔
(صحیح بخاری 5304)
البتہ ہر بیوہ دوبارہ نکاح کرنا چاہے، یہ ضروری نہیں۔ بعض خواتین مختلف وجوہات کی بنا پر دوبارہ نکاح نہیں کرنا چاہتیں۔ ایسی صورت میں نکاح کو ہی حل سمجھنے کے بجائے ان کی اور ان کے بچوں کی مالی و معاشرتی مدد سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔
کسی کی تین چھوٹی بچیاں ہوں تو ایسے سمجھا جاتا ہے کہ اب اس عورت کی شادی ممکن ہی نہیں، کہ ان بچیوں کو کون اپنائے گا؟ لوگ دوسروں کی اولاد پر خرچ کرنا ہی نہیں چاہتے۔
(اگر یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو اتنا مشکل محسوس نہ ہو، بات ساری نیت کی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر چالان بھرنا تکلیف دیتا ہے، مگر یہی رقم اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کی جائے تو خوشی محسوس ہوتی ہے۔ رقم وہی ہوتی ہے، فرق صرف نیت کا ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ اپنی ذات پر خرچ کرتے ہوئے نہیں سوچتے، مگر صدقے کے لیے رقم نکالنی مشکل محسوس ہوتی ہے۔ رقم تو بہرحال خرچ ہونی تھی، اب یہ انسان پر ہے کہ وہ اسے آخرت کے اکاؤنٹ میں جمع کرتا ہے یا صرف دنیا میں خرچ کر دیتا ہے۔)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندہ کہتا ہے : میرا مال ، میرا مال ، اس کے لیے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں : جو اس نے کھایا اور فنا کر دیا ، یا جو پہنا اور بوسیدہ کر دیا ، یا جو کسی کو دے کر ( آخرت کے لیے ) ذخیرہ کر لیا ۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے تو وہ ( بندہ ) جانے والا اور اس ( مال ) کو لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے ۔‘‘
(صحیح مسلم 7422)
اور عورت بھی اپنی بچیوں کی حفاظت کے لیے دوبارہ نکاح نہیں کرتی کہ پتہ نہیں اس کا اگلا شوہر کیسا نکلے گا، میری بچیوں پر بری نظر نہ رکھے۔
ویسے عورت کا شوہر اس کی بیٹیوں کا محرم ہی ہوتا ہے، مگر کچھ بدکردار لوگوں کی حرکتوں نے اس رشتے کو بھی بدنام کر دیا ہے۔ حقیقت میں مسئلہ رشتے کا نہیں، کردار کا ہے۔ بعض بدکردار لوگوں کے لیے یہ بچیاں آسان شکار بن جاتی ہیں۔
بہرحال، بچوں والی خواتین کے ساتھ شادیوں کو فروغ دینا چاہیے۔ رشتوں میں مال و دولت سے زیادہ دین، کردار اور قابلِ اعتماد ہونے کو ترجیح دینی چاہیے۔
جب ہمارا کوئی پیارا اس دنیا سے جاتا ہے تو ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ صبر آ جاتا ہے۔ لیکن جب وہ پیارے اس دنیا سے جائیں جن کی کمی دن رات محسوس ہو، تو وہ زخم جلدی نہیں بھرتے۔ باپ یا شوہر انہی رشتوں میں سے ہیں۔
یتیمی اور بیوگی میں قدم قدم پر یہ احساس ہوتا ہے۔
مگر ہر گھر کی کہانی ایک جیسی نہیں ہوتی، دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے تھے کہ جب وہ فوت ہوئے تو ان کی بیویوں نے کہا: "اچھا ہوا مر گئے، پہلے بھی اپنا خود ہی پورا کرتے تھے، اب بھی اپنا خود ہی کرنا ہے۔ جو نشے پانی کا خرچہ ان پر آتا تھا، وہ بھی بچ جائے گا، اور بیوہ اور یتیم سمجھ کر کوئی مدد ہی کر دے گا۔"
یہ مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر بیوہ کے حالات مختلف ہوتے ہیں، مگر ایک چیز مشترک ہے: ایسے خاندانوں کو معاشرے کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر ہم بچوں والی بیوہ خواتین سے نکاح کو عام کریں۔ تو نہ صرف ایک عورت کو سہارا ملے گا بلکہ کئی یتیم بچوں کو باپ کی شفقت میسر آئے گی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیواؤں اور مسکینوں کے کام آنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے ، یا رات بھر عبادت اور دن کو روزے رکھنے والے کے برابر ہے ۔
(بخاری 5353)
نوٹ: تحریر کو بغیر بدلے جیسے مرضی کاپی کر کے شیئر کریں، کوئی اعتراض نہیں۔
جزاکم اللہ خیراً
تربیت ،اصلاح اور اہم فتاویٰ گروپ 03406554724
Comments (0)
All submissions moderatedNo public comments approved yet. Be the first to share your perspective!
Leave a Comment
Your email address will not be published. Respectful and constructive discussions are encouraged.