اسلامی تعلیمات میں پردے کی اہمیت اور غیر محرم رشتہ دار
M
MuhammadiNovember 4, 2026 • 7h ago
26 views 0 comments
اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت کے لیے حیا، پردہ اور وقار اس کی شناخت کا بنیادی حصہ ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں پردہ نہ صرف عورت کی عزت کا محافظ ہے بلکہ معاشرے میں پاکیزگی اور اخلاقی حدود کو قائم رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
دی گئی تصویر (رہنمائے پردہ) کے مطابق، ان رشتہ داروں سے پردہ کرنا فرض ہے جو شرعی لحاظ سے محرم کی تعریف میں نہیں آتے (جنہیں غیر محرم کہا جاتا ہے)۔ ان رشتوں کی تفصیلی فہرست درج ذیل ہے:
تصویر کی وضاحت
اجنبی مرد: ہر وہ مرد جو کسی بھی قریبی یا خونی رشتے میں شامل نہ ہو.
چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد: کزن (چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ کے بیٹے) شریعت میں محرم نہیں ہیں، اس لیے ان سے پردہ کرنا لازمی ہے.
بہنوئی: بہن کا شوہر.
دیور اور جیٹھ: شوهر کے بھائی.
نندوئی: نند (شوہر کی بہن) کا شوہر.
پھوپھا: والد یا والدہ کا پھوپھا (یا پھوپھی کا شوہر).
شوہر کا چچا، ماموں، پھوپھا اور خالو: شوہر کے یہ تمام قریبی رشتہ دار عورت کے لیے غیر محرم ہیں.
شوہر کا بھائی (دیور/جیٹھ کے علاوہ دیگر بھائی)، بھتیجا اور بھانجا: شوہر کے خاندان کے یہ افراد بھی پردے کے احکام کے دائرے میں آتے ہیں. خلاصہ
حیا ایمان کا ایک اہم حصہ ہے۔ پردے کا مقصد معاشرے میں ایک ایسا صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں ہر فرد اپنی عزت اور حدود کے اندر محفوظ رہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے احکامات پر مکمل عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
اس مضمون کو شیئر کریں:
Comments (0)
All submissions moderated
No public comments approved yet. Be the first to share your perspective!
Leave a Comment
Your email address will not be published. Respectful and constructive discussions are encouraged.
Comments (0)
All submissions moderatedNo public comments approved yet. Be the first to share your perspective!
Leave a Comment
Your email address will not be published. Respectful and constructive discussions are encouraged.